Hijaab Feb 2019

شب ہائے ورانی دل

ڈاکٹر ہما جہانگیر

’’ایاز…‘‘ امی کی آواز پھر سے آئی تو ایاز نے ایک نظر گھڑی پر ڈال کر جلدی سے دوسرا جوتا پہنا۔
’’یار… آج پھر دیر ہوگئی۔‘‘ آرمی کی میرون رنگ کی کیپ سر پر جماتا وہ دو دو سیڑھیاں پھلانگتا، کھانے کے کمرے کی طرف دوڑا۔
’’بھائی… تم یقینا جلد ہی فوج سے نکال دیے جائو گے۔‘‘ عاطفہ اس کو دیکھ کر بولی۔ وہ اور مانی کالج کے لیے نکل رہی تھیں۔ اس نے ہلکی سی چپت عاطفہ کے لگائی۔ دونوں ہنستی ہوئی باہر نکل گئیں۔
’’یار امی… آپ نے دیر کروا دی‘ اب جلدی سے ناشتہ دیں۔‘‘
’’شرم کرو ایاز‘ روز خود دیر کرتے ہو اور نام میرا… پتا نہیں کیا مسئلہ ہے تمہارا‘ بھئی تمہارے ابو بھی آرمی میں تھے ایسی موجیں تو کبھی نہیں دیکھیں۔ عین وقت پر جاتے تھے‘ ایک تم ہو‘ کبھی جو وقت کی پابندی کی ہو؟‘‘ مسز افراز ناشتے کی پلیٹ میز پر رکھ کر ایاز کی طرف پلٹیں۔
آرمی کی خاکی وردی میرون ٹوپی اور شانوں پر لگے تین ستارے اس کے لامبے قد پر بے حد جچ رہے تھے۔ ماں کے دل نے جلدی سے ماشاء اللہ کہا۔ روز کی طرح انہوں نے جلدی جلدی نظر بد سے بچانے کی آیات پڑھ کر اپنے بیٹے پر پھونکیں۔
’’اوئے امی جی‘ نہیں لگتی آپ کے منڈے کو کسی کی نظر۔ یہ جو آپ روز روز مجھ پر پڑھ کر پھونک دیتی ہیں ناں تو کوئی نظر مجھ تک پہنچ ہی نہیں پاتی‘ چاہے اچھی ہو یا بری‘ یار امی… کم پھونکیں ماریں ناں۔‘‘ ماں کی مسلسل پھونکوں پہ اس کو ہنسی آگئی۔ ’’اس طرح تو مجھے کبھی کوئی لڑکی نہیں ملنے والی۔‘‘ ایاز نے ماں کا دوپٹا پکڑا… مسز افراز کو ہنسی آگئی۔
’’بہت فضول بولتے ہو‘ پہلے ڈاکٹری تو پوری کرلو پھر لڑکی بھی ڈھونڈ لیں گے۔‘‘
’’لو جی… ہائوس جاب کررہا ہوں‘ کپتان ہوں‘ اتنا خوبرو نوجوان ہوں‘ دنیا مرتی ہے مجھ پر۔‘‘ ایاز نے کالر جھاڑے۔
’’تو پھر غم کس بات کا ہے تجھے۔‘‘ مسز افراز جلدی جلدی اس کے لیے چائے بنانے لگیں۔
’’یہ جو آپ کی پھونکیں ہیں ناں‘ بس اس کی وجہ سے کام خراب ہوجاتا ہے‘ کوئی لڑکی دو باتیں تک نہیں کرتی۔‘‘ ایاز نے بے چاری کی شکل بنائی۔ مسز افراز کو پھر ہنسی آگئی۔
’’چلو جلدی کرو اور جائو ورنہ پھر اپنے سی او سے بے عزت ہوگے۔‘‘ ناشتہ ختم ہوتے ہی انہوں نے ایاز کو باہر دھکیلا۔ اس نے ماں کو سلیوٹ کیا اور باہر چل دیا۔
’’امی میرے خیال میں تو اس کے لیے لڑکی ڈھونڈنا شروع کردیں۔‘‘ ناشتے کے میز کے قریب آتی عرشہ بولی۔ وہ ایاز سے دو سال بڑی تھی۔ آج کل وہ امید سے تھی اور اپنی بیٹی کے ساتھ ماں باپ کے گھر آئی ہوئی تھی۔ اس کا آخری ماہ چل رہا تھا۔
’’نہیں عرشہ‘ ابھی ناسمجھ اور لاپروا ہے‘ ذرا ہائوس جاب ختم کرلے پھر سوچیں گے۔ تم آئو ناشتہ کرلو‘ ابھی گرم گرم لگایا ہے۔‘‘ وہ چیزیں عرشہ کے آگے رکھنے لگیں۔
’’عاشی سو رہی ہے ابھی تک؟‘‘ وہ بھی بیٹی کے پاس ہی بیٹھ گئیں۔
’’ساری رات تنگ کرتی رہی ہے‘ اب ذرا نیند گہری ہوئی تو میں نے اسے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔‘‘ عرشہ ناشتہ کرنے لگی۔
’’اچھا کیا۔‘‘ مسز افراز نے اپنی لیے بھی چائے بنائی۔ ان کے دن کا آغاز ہوچکا تھا۔
خ…خ…خ
’’ایاز۔‘‘ عامر کی آواز پر بھی اس نے سر نہ اٹھایا۔ مستقل مریضوں کے کاغذات مکمل کرتا رہا‘ صبح کی ڈانٹ کا اس نے کافی اثر لیا تھا۔
’’یار رات کو ذرا سیر وغیرہ کا پروگرام ہے‘ لبرٹی چلیں گے‘ چلے گا تو؟‘‘
’’اپنی ایسی قسمت کہاں‘ میری آج رات کی ڈیوٹی ہے‘ میں آج ڈی ایم او ہوں۔‘‘ ایاز نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ سر نے سزا کے طور پر اس کی رات کی ڈیوٹی لگادی تھی۔
’’اس میں کیا مسئلہ ہے‘ یہاں کی سب نرسیں تیرا کام کرنے کو تیار رہتی ہیں اور لیڈی ڈاکٹرز کا تو تو لاڈلا ہے‘ دو گھنٹے کی تو بات ہے‘ تو جلدی واپس آجانا۔‘‘ عامر نے تجویز دی۔
’’نہیں یار‘ صبح سی او نے کافی عزت افزائی کی ہے‘ تو جانتا ہے وہ ابو کے دوست ہیں‘ خوامخواہ ابو تک بات چلی جائے گی تو جوتے پڑ جائیں گے۔‘‘ افراز صاحب کافی سخت طبیعت کے مالک تھے۔ جدی پشتی زمیندار تھے ان کے کئی گائوں تھے۔ وڈیروں کی فیملی سے تعلق تھا‘ مگر ان کو فوج میں جانے کا خبط تھا‘ سو آرمی جوائن کرلی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ تر وقت زمینوں پر ہی گزارتے تھے۔
ایاز ان کا اکلوتا بیٹا تھا‘ تین بہنوں کا ایک بھائی‘ اس میں افراز صاحب کی جان تھی۔ اگرچہ وہ ایاز کی ہر بات مانتے تھے مگر اصولوں کے بہت سخت تھے۔ اس وجہ سے ایاز کی ان سے جان جاتی تھی۔ ابو سب کے سامنے ہی ذلیل کردیتے تھے۔
’’سوچ لے‘ آج ویک اینڈ ہے‘ لبرٹی کے گون اور حسین پریوں کا میلہ… تو مس کرے گا۔‘‘ عامر نے اسے لالچ دیا۔
’’نہیں یار آج نہیں‘ پھر کسی دن۔‘‘
’’جیسے تیری مرضی۔‘‘ عامر کندھے اچکا کر وارڈ کی طرف بڑھ گیا۔
’’کیا بکواس ہے۔‘‘ ایاز نے فائل اٹھا کر میز پر پٹخی اور زیرلب بڑبڑایا۔
’’سر کچھ کہا آپ نے؟‘‘ پاس کھڑی نرس نے مڑ کر ایاز کو دیکھا۔
’’ارے نہیں سسٹر‘ میری کیا مجال کہ آپ کو کچھ کہوں۔‘‘ ایاز جلدی سے معصوم سی مسکراہٹ چہرے پہ جما کر بولا۔
’’سر آپ بھی ناں…‘‘ نرس کو ہنسی آگئی۔ کیپٹن ایاز کی مذاق کی عادت سے سب واقف تھے مگر ایاز ان سب کو اتنی عزت دیتا تھا کہ کوئی بھی نرس اس کے مذاق کا برا نہیں مناتی تھی۔
’’سسٹر فاخزہ؟‘‘ کچھ سوچ کر ایاز نے سسٹر کو آواز دی۔
’’جی سر۔‘‘
’’رات کو اس وارڈ میں ڈیوٹی آپ کی ہے؟‘‘
’’نہیں سر‘ کیوں کوئی کام ہے؟‘‘ سسٹر نے پوچھا۔
’’وہ اصل میں مجھے رات کو دو گھنٹے کے لیے ضروری کام سے جانا تھا کہیں، چلیں چھوڑیں۔‘‘
’’سوری سر… میری آج شام کی ڈیوٹی ہے‘ ورنہ میں ضرور آپ کو کور دے دیتی۔‘‘ سسٹر نے معذرت سے کہا۔ ’’مجھے آپ کو انکار کرتے ہوئے برا لگ رہا ہے۔‘‘
’’ارے کوئی بات نہیں سسٹر‘ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں‘ البتہ اگر آپ مجھ سے شادی سے انکار کررہی ہوتیں تو مجھے دکھ ہوتا۔‘‘ ایاز نے مذاق کیا‘ سسٹر بلش ہوگئی۔
’’اوہ سر…‘‘ وہ ہنس دی۔
وہ مسکراتا ہوا کاغذات پر جھک گیا۔ دوپہر کو جلدی اٹھ گیا تھا تاکہ کھانا کھا کر واپس آسکے‘ اب مزے سے ڈیوٹی روم میں بیٹھا اپنے موبائل پر گیم کھیل رہا تھا۔ سارا وارڈ اس وقت خاموش تھا‘ مریض اپنی ادویات لینے کے بعد آرام کررہے تھے۔ اکا دکا نرسیں اور وارڈ بوائے ادھر ادھر کام کررہے تھے۔
’’سر؟‘‘ دروازہ کھٹکھٹا کر ڈیوٹی نرس اندر داخل ہوئی۔
’’جی سسٹر۔‘‘
’’سر ایک پیشنٹ آئی ہیں۔‘‘ وہ مؤدبانہ کھڑی تھی۔
’’کون ہیں؟‘‘ ایاز نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’سر کوئی نیوی کے کموڈور ہیں صدیقی صاحب وہ اپنی وائف اور بیٹی کے ساتھ آئے ہیں۔ بیٹی کے پیٹ میں شدید درد ہے۔‘‘ نرس ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اسے آگاہ کررہی تھی۔
’’چلو جی‘ رات کی مصیبت شروع۔‘‘ پہلے ہی عامر کے ساتھ پروگرام کینسل کرنے پر اس کا موڈ آف تھا۔ اب یہ کسی افسر صاحب کی بیٹی کے نخرے… اس کا بالکل موڈ نہیں تھا ایسا مریض دیکھنے کا۔
’’سر… اپینڈکس لگ رہا ہے۔‘‘ نرس نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
’’سسٹر… آپ سرجن کو کال بھیج دیں۔ میں مریض کو دیکھ لیتا ہوں۔‘‘
’’ڈاکٹر میری بیٹی کو بہت درد ہورہا ہے‘ بہت تکلیف میں ہے وہ۔‘‘ ایاز کے آفس میں داخل ہوتے ہی کموڈور صاحب تیزی سے ایاز کی جانب بڑھے۔ ایاز نے ان سب کو ایک نظر دیکھا اور سلام کیا… لڑکی کے ماں باپ سخت گھبرائے ہوئے تھے۔ لڑکی بھی درد سے تقریباً دہری ہورہی تھی مگر کمال ضبط تھا اس میں‘ منہ سے ایک آواز نہیں نکل رہی تھی۔
’’سر… آپ پلیز گھبرائیں نہیں‘ تشریف رکھیں… ابھی چیک کرلیتے ہیں ان کو۔‘‘ وہ انہیں تسلی دیتا لڑکی کی جانب بڑھا۔
’’آپ پلیز یہاں کائوچ پر آجائیں۔‘‘ اس نے مریضہ کو معائنہ کرنے کے لیے بلایا اور نرس کے ساتھ اس کے پاس کھڑا ہوگیا۔ بڑی باہمت لڑکی تھی‘ چہرے پر شدید درد کے آثار تھے مگر خود ہی چل کر بیڈ کے پاس آئی‘ اس کی والدہ نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر اس نے منع کردیا۔ کافی کیوٹ سی لڑکی تھی‘ کچھ جاپانی سی مکس شکل تھی‘ لمبا چہرہ‘ چھوٹی سی ناک اور گلابی لب اگرچہ گوری رنگت تھی پر‘ اس وقت تو درد سے اس کا چہرہ پیلا پڑ رہا تھا۔ لڑکی اپنی والدہ سے بے حد مشابہہ تھی جو کہ غالباً کورین تھیں۔
ایاز نے جلدی سے معائنہ کیا اور واپس میز پر آگیا۔ نرس مریضہ کو سہارا دے کر واپس کرسی پر بٹھا گئی تھی۔
’’کیا ہوا ہے میری بیٹی کو؟‘‘ کموڈور صدیقی بہت گھبرائے ہوئے تھے۔
’’سر اپنڈکس کا درد ہے۔ ان کو ایڈمٹ کرلیتا ہوں‘ میں نے سرجن کو کال کی ہے‘ جیسے ہی وہ معائنہ کرلیتے ہیں ہم ان کو آپریشن کے لیے لے جائیں گے۔‘‘ اس نے ایک اچٹتی سی نگاہ لڑکی پہ ڈالی۔ وہ مسلسل درد سے ہونٹ دبا رہی تھی۔ ایاز کو اس پر ترس آیا۔
’’سر… ہم ان کو درد کا انجکشن لگا دیتے ہیں‘ میں دوائیاں بھی لکھ رہا ہوں۔ پلیز اپنے کوائف لکھوا دیں۔‘‘ ایاز نے قلم اٹھایا۔
’’میں کموڈور صدیقی ہوں‘ ریٹائرڈ ہوں‘ یہ میری بیٹی ہے ندرت… انیس سال کی ہے۔‘‘ انہوں نے کوائف لکھوانے شروع کیے۔
’’پلیز ڈاکٹر… میری بیٹی کو پہلے درد کے لیے کچھ دیں۔‘‘ صدیقی صاحب کی بیگم انگلش میں بولیں۔ وہ ندرت کے لیے بے حد پریشان تھیں۔
’’میڈم… میں نے لکھ دیا ہے‘ جیسے ہی ان کو ہمارے سرجن دیکھ لیتے ہیں فوراً ان کو درد کے لیے انجکشن لگا دیا جائے گا فکر نہ کریں چند ہی منٹوں میں ان کے درد میں کمی آجائے گی۔‘‘ اس نے فارم مکمل کیا اور نرس کو ہدایات دیتا کمرے سے باہر نکل آیا۔ سامنے سے آتے سرجن کرنل وقار اس کو دیکھ کر رک گئے۔
’’ایاز… مریض دیکھ لیا؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’یس سر‘ اپنڈکس ہے… سرجری کرنا پڑے گی۔ آپ دیکھ لیں۔‘‘ دونوں واپس کمرے میں آگئے۔ اس نے ایڈمیشن فارم بنانے کے لیے بھیج دیا تھا۔
خ…خ…خ
صبح سے ایاز نے چائے کے لیے کمرے میں شور مچایا ہوا تھا‘ ابھی ابھی سب ٹی روم میں آئے تھے۔ وہ مستی کے موڈ میں تھا‘ اگرچہ ہمیشہ کی طرح آج بھی دیر سے آنے پہ ڈانٹ کھائی تھی مگر آج سی او نے اس کی تعریف بھی کی تھی۔ جب سے اس کی ہائوس جاب شروع ہوئی تھی اس نے لمبی سے لمبی ڈیوٹی بھی خوش دلی اور تمام تر ذمہ داری کے ساتھ ادا کی تھی اور یہ بھی سچ تھا کہ اتنی ذمہ داری اور محنت کے باوجود وہ اپنی بس اس ایک کمزوری سے مار کھا جاتا تھا‘ ایک تو یہ کہ اس سے صبح صبح اٹھا نہیں جاتا اور دوسرا وہ غلط بات برداشت نہیں کرتا اور لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتا تھا۔ اب بھی سب اس کو تنگ کررہے تھے کہ اسے فوج میں ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔
’’یار کیپٹن ایاز… وہ تمہاری مریضہ تو ٹھیک ہی نہیں ہورہی‘ لگتا ہے اس کا یہاں دل لگ گیا ہے۔‘‘ یک دم کرنل وقار نے ایاز سے کہا‘ وہ کب سے ان سب کی نوک جھونک سن رہے تھے۔
’’میری مریضہ… کون سی سر؟‘‘ اس نے استفہامیہ نگاہوں سے کرنل وقار کو دیکھا۔
’’یار… وہ جو نیوی کے کموڈور کی بیٹی ہے۔ اپنڈکس کے درد کے ساتھ ایڈمٹ کیا تھا تم نے۔‘‘
’’ارے سر، وہ ابھی تک ڈسچارج نہیں ہوئی۔‘‘
’’ڈسچارج تو ہم نے اسے کردیا تھا لیکن شاید وہ کالج وغیرہ جانے لگ گئیں یا پتا نہیں کیا کیا کہ زخم میں انفیکشن ہوگیا ہے‘ آج پھر چوبیس گھنٹوں کے لیے داخل کیا ہے‘ دو ٹانکے خراب ہوگئے ہیں۔‘‘
’’اوہ سر۔‘‘ ایاز نے مروتاً کہا کیونکہ اس کو کرنل صاحب کا یہ سب بتانے کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ ضرور کوئی ڈیوٹی لگنے والی تھی۔
’’سوچا تم کو بتادوں‘ شاید تم عیادت کرو تو وہ ٹھیک ہوجائیں‘ دیکھو ناں داخلے کی ضرورت نہیں تھی مگر ان کے والد نے اصرار کرکے کہ ایک دن کے لیے ایڈمٹ کروایا ہے۔‘‘ کرنل وقار نے ایاز کو چھیڑا۔
’’چھوڑیں سر‘ خوب صورت مریض ہو تو آپ ہمیں لفٹ ہی نہیں کراتے… البتہ نائٹ ڈیوٹی ہو تو سب کو خاکسار ہی نظر آتا ہے۔‘‘ ایاز معصوم سی شکل بنا کر بولا۔
ٹی روم میں موجود تمام ڈاکٹر ہنس دئیے‘ جانتے تھے کہ ایاز کی رات کی ڈیوٹیز بہت لگتی تھیں۔
’’اسی لیے تو بتا رہا ہوں‘ میرے ساتھ رائونڈ پر چلنا آج۔‘‘ ایاز کو پہلے ہی خدشہ تھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہونے والا ہے۔
’’سر یہ زیادتی ہے‘ آج میری باری نہیں ہے رائونڈ کی۔‘‘ ایاز رونے والا ہوگیا‘ آج تو صبح سے اس نے وارڈ کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی اور وی آئی پی کمروں میں تو وہ جاتا ہی کم تھا۔
’’سوچ لو‘ وہ بھی وہاں ہوگی۔‘‘ کرنل وقار نے کہا۔
’’سر چھوڑیں ناں‘ ویسے بھی بے چاری اتنی بیمار ہے‘ مجھے دیکھ کر دل کا مرض بھی نہ لگا بیٹھے۔‘‘ ایاز نے مذاق میں جان چھڑانا چاہی۔
’’اوئے ہوئے اتنا گمان… بس کہیں مر ہی نہ مٹے تجھ پر۔‘‘ عامر نے جل کر کہا۔
’’کوئی شک… تیرے یار کی پرسنالٹی ہی اتنی زبردست ہے۔‘‘
’’زیادہ اوور ایکٹنگ نہ کر‘ اتنا کوئی گلفام نہیں ہے تو۔‘‘ عامر بولا۔
کیپٹن بلال کو ہنسی آگئی۔ عامر‘ بلال اور ایاز میڈیکل کالج سے اکھٹے تھے‘ گہرے دوست تھے‘ ایک دوسرے کی رگ رگ سے واقف بھی تھے۔ ایاز نے کرنل وقار سے چھپ کر اسے آنکھ ماری‘ عامر کو تنگ کرنے میں ان دونوں کو بہت مزا آتا تھا۔
’’یار عامر اتنا جلا نہ کر‘ پہلے ہی تیرا رنگ کالا ہے‘ جل جل کر کالا توا ہوجائے گا‘ دیکھو میں کتنا اچھا ہوں‘ پتہ بھی ہے کہ لڑکی کی ایک نظر مجھ پر پڑی اور وہ دوبارہ ایڈمٹ ہی ہوگئی پھر بھی اس کے پاس نہیں جارہا… جانتا ہوں میرا دوست احساس کمتری کا شکار ہوجائے گا۔‘‘ بلال نے زور دار قہقہہ لگایا مگر ایاز سنجیدہ شکل بنا کر بولتا رہا۔ کرنل وقار کو ہنسی آگئی۔
’’وہ کوئی عام لڑکی نہیں‘ سنا نہیں سر نے کیا بتایا ہے کسی کموڈور یعنی بریگیڈیئر کی بیٹی ہے‘ تجھے جوتی پہ بھی نہیں رکھے گی۔‘‘ عامر کو آگ ہی لگ گئی۔
’’سر مجھے اگر رائونڈ سے فری کردیں تو تجھے اتنا جلنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔‘‘ کرنل وقار نے اس کی چالاکی پہ زور سے قہقہہ لگایا۔
’’آج تو پھر پتا چل ہی جائے کہ کیپٹن ایاز میں کتنی مقناطیسی کشش ہے۔‘‘ وہ بھی مذاق کرنے لگے۔
’’سر اتنی آسانی سے نہیں چھوٹ سکتا یہ‘ لڑکی پھنسا کر دکھائے تب مانوں‘ باتیں تو یہ بہت بڑی بڑی کرتا ہے۔‘‘ آج عامر اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
’’لگی شرط…؟‘‘ ایاز بھی موڈ میں آگیا۔
’’چھوڑ ناں یار‘ بڑی پرانی فلمی روٹین ہے‘ شرط لگا کر لڑکی پھنسائی پھر عشق ہوگیا‘ آج کل یہ سب نہیں چلتا۔‘‘ بلال نے بات ختم کرنا چاہی‘ جانتا تھا اگر ایاز کے دماغ میں کوئی بات آجائے تو کرکے ہی رہتا تھا۔ بلال کو کسی لڑکی کے بارے میں یوں بات کرنا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
’’کسی لڑکی کے بارے میں ایسی فضول ڈسکشن کرنے سے آپ دونوں بھی پرہیز کریں۔‘‘ کرنل وقار بھی سنجیدہ ہوئے۔
’’سر… چلیں اب تو رائونڈ ضروری ہوگیا ہے۔‘‘ ایاز اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ہنہ…‘‘ عامر نے ایاز کو چڑایا۔ خود وہ روز ایک نئی گرل فرینڈ کے ساتھ ہوتا تھا‘ جانتا تھا ایاز ایسا کچھ کبھی نہیں کرتا۔
’’بس سر یہ تو چیلنج ہوگیا‘ ایک ہفتہ صرف‘ نہ ایک دن کم نہ ایک دن زیادہ‘ لڑکی میری ہوگی۔‘‘ ایاز نے سنجیدہ لہجے میں کہا‘ کرنل وقار پریشان ہوگئے۔
’’میں نے کہا ناں کہ یہ سب مذاق تھا‘ کیپٹن ایاز… میں مزید اب اس پر اور کچھ نہ سنوں۔‘‘ کرنل وقار بات ختم کرکے اٹھ گئے۔
’’میرے آفس میں آئو۔‘‘ وہ ٹی روم سے نکل گئے۔
’’ایک ہفتے بعد اسی ٹی روم میں ملاقات ہوگی۔ اگر میں ہارا تو پی سی میں ڈنر کروائوں گا۔‘‘ اس نے سر کے جانے کے بعد عامر کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر شرط لگالی۔ بلال صرف سر ہلا کر رہ گیا تھا۔
خ…خ…خ
’’کرنل وقار رائونڈ پہ آرہے ہیں۔‘‘ نرس نے کموڈور صدیقی کی بیگم کو بتایا۔ ’’وہ مس ندرت کا زخم کمرے میں ہی چیک کریں گے۔‘‘
’’اوکے تھینکس۔‘‘ مسز صدیقی انگلش میں بولیں۔ وہ اردو سمجھ لیتی تھیں مگر بولنے میں آج بھی دقت ہوتی تھی۔ سسٹر آگے بڑھ کر ندرت کے پاس آگئی۔
’’آپ کی پٹی کھول دیتی ہوں‘ سر آنے ہی والے ہیں۔‘‘ وہ ندرت کا زخم صاف ہی کررہی تھی جب کرنل وقار اور کیپٹن ایاز کمرے میں داخل ہوئے۔
’’کیسی ہیں آپ ینگ گرل؟‘‘ کرنل وقار نے ندرت سے پوچھا۔
’’جی بہت بہتر ہوں ڈاکٹر۔‘‘ کافی پُراعتماد لڑکی تھی۔ وہ کرنل وقار کے ساتھ خاموشی سے کھڑا رہا۔
’’کیپٹن ایاز ہمارے جونیئر ڈاکٹر ہیں۔ یہ سرجری میں ہائوس جاب کررہے ہیں۔ آپ کو غالباً انہوں نے ہی ایڈمٹ کیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’جی۔‘‘ لڑکی نے ایک نظر ایاز پر ڈالی جو نہایت سنجیدہ کھڑا تھا۔ کرنل وقار ندرت کا معائنہ کررہے تھے۔
’’کیپٹن ایاز… آکر معائنہ کریں‘ ٹانکے خراب ہوگئے ہیں‘ آپ کی کیا رائے ہے ذرا دیکھ کر بتائیں۔‘‘ انہوں نے شرارتی نگاہوں سے ایاز کو دیکھا… ایاز بالکل سنجیدہ کھڑا تھا‘ شکل پر کوئی تاثر نہ تھا‘ کوئی اسے دیکھ کر کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اصل میں کتنا شریر ہے۔
’’جی سر۔‘‘ ایاز ایک قدم آگے بڑھ کر ندرت کے قریب آیا۔ نگاہیں صرف زخم پہ تھیں‘ مجال ہے جو اس نے ایک نظر بھی ندرت کے چہرے پر ڈالی ہو۔
’’سر میرے خیال میں تو ایک آدھ دن یہ مزید یہاں ایڈمٹ رہیں تو زیادہ بہتر ہے‘ زخم ابھی بھی خراب لگ رہا ہے۔‘‘ ایاز نے اپنی رائے دی۔
کرنل وقار نے چونک کر اسے دیکھا‘ اس کی آنکھوں میں چھپی شرارت ان سے پوشیدہ نہ تھی مگر وہ انتہائی سنجیدہ لگ رہا تھا۔ ان کے ہونٹ مسکرا اٹھے۔ ندرت نے پریشان ہوکر کرنل وقار کو دیکھا۔
’’کیا مجھے مزید رکنا پڑے گا؟ میرے امتحان ہونے والے ہیں۔‘‘ وہ پریشانی سے بولی۔
’’زخم کو ابھی علاج کی ضرورت ہے‘ مگر اس کے لیے آپ کو یہاں رہنے کی ضرورت نہیں… آج آپ کو ڈسچارج کردیتا ہوں‘ بس احتیاط سے کام لیں اور روزانہ پٹی کرواتی رہنا۔‘‘ کرنل وقار نے ایاز کی چال پلٹ دی‘ ایاز کا منہ بن گیا۔
’’سر یہ چیٹنگ ہے۔‘‘ اس نے بولتی نگاہوں سے کرنل وقار کو دیکھا اور احتجاج کیا جو انہوں نے مسکرا کر نظر انداز کردیا۔
’’ڈاکٹر… واٹ ابائوٹ دی میڈیسن۔‘‘ (دوائیوں کے بارے میں کیا ہدایت ہے) مسز صدیقی نے انگلش میں پوچھا۔
’’دوائیاں ڈسچارج سلپ پہ لکھ دیں گے‘ وہ جاری رکھنی ہیں۔‘‘
’’اپنا خیال رکھیے گا مس ندرت۔‘‘ کرنل وقار ان کو ہدایت دے کر کمرے سے باہر نکل آئے۔ ایاز نے ایک نظر ندرت پہ ڈالی اور ان کے پیچھے چل دیا۔
’’سر… یہ تو زیادتی ہے‘ آپ نے تو اس کو ڈسچارج ہی کردیا۔‘‘ ایاز نے رونی آواز نکال کر سر سے گلہ کیا۔
’’یہ شرط ورط کی بے وقوفی مجھے پسند نہیں‘ اچھا ہے اس کو بھول جائو۔‘‘ وہ اگلے کمرے کی طرف بڑھ گئے‘ کرنل وقار چاہتے تھے مذاق حد سے نہ بڑھے۔
’’شرط تو پوری ہوگی سر۔‘‘ ایاز دل میں سوچتا ہوا ان کے ساتھ اگلے وارڈ کی جانب بڑھ گیا تھا۔
خ…خ…خ
’’ممی میں جارہی ہوں۔‘‘ ندرت نے بیگ کندھے پر ڈالا۔
’’ناشتہ تو کرلو۔‘‘ مسز صدیقی جلدی سے کچن میں گھس گئیں۔
’’نو ممی… میں کالج میں کچھ کھالوں گی۔ اب لیٹ ہوگئی ہوں۔‘‘ وہ جلدی سے ماں کو اللہ حافظ کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔
’’مالی چاچا پلیز ذرا گیٹ کھول دیں۔‘‘ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس نے مالی کو آواز دی۔ مالی گیٹ پر کھڑا کسی سے بات کررہا تھا۔
’’کون ہے چاچا؟‘‘ ندرت نے آگے ہوکر آنے والے کو دیکھنے کی کوشش کی۔
’’بی بی… کوئی صاحب ہیں‘ دس منٹ سے یہاں کھڑے ہیں‘ کتنی دفعہ کہا ہے ان سے کہ آپ اندر آجائیں‘ میں اندر بتا دیتا ہوں مگر یہ نہیں مانے… آپ کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘ مالی نے بتایا۔ ’’آپ سے ملنا ہے۔‘‘
’’مجھ سے؟ بھلا مجھ سے کون ملنے آسکتا ہے وہ بھی اتنی صبح صبح۔‘‘ وہ سوچتی ہوئی گیٹ کی طرف بڑھی۔
’’آپ…‘‘ یونیفارم میں کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔
’’میں کیپٹن ایاز۔‘‘ ایاز نے اپنا تعارف کرایا۔
’’جی مجھے نام یاد رہتے ہیں۔‘‘ ندرت سمجھ نہیں پارہی تھی کہ وہ اتنی صبح یہاں کیا کررہا ہے۔
’’تھینکس۔‘‘
’’وہ کس چیز کے لیے۔‘‘ ندرت کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ آخر یہ آیا کیوں تھا۔
’’کیسے آنا ہوا کیپٹن ایاز… کوئی کام تھا مجھ سے؟‘‘ آخر ندرت نے پوچھا۔ وہ تو کچھ بول ہی نہیں رہا تھا۔
’’کام… نہیں کام تو کوئی نہیں تھا۔‘‘
’’تو پھر؟‘‘ ندرت نے اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔ ایاز سے بولا نہیں جارہا تھا۔ وہ خود کو بے وقوف محسوس کررہا تھا۔
’’حد ہوگئی ایاز… اتنی سی لڑکی کے آگے بولتی بند ہوگئی ہے۔‘‘ ایاز نے سوچا مگر کچھ تھا اس لڑکی میں جو وہ اتنا پُراعتماد ہونے کے باوجود اپنا مدعا بیان نہیں کر پارہا تھا۔
’’کیپٹن؟‘‘ ندرت کی آواز پر وہ اپنے خیالوں سے چونکا‘ اس نے ایک نظر لڑکی کے چہرے پر ڈالی‘ کیوٹ سی تھی۔ بنا کسی میک اپ کے کندھے پہ شاید کالج کا بیگ لٹکائے جینز اور عام سی ڈھیلی ٹی شرٹ میں ملبوس تھی۔
’’آپ سے ملنے آیا تھا۔‘‘ ایاز جلدی سے بولا۔
’’مجھ سے…! کس سلسلے میں؟‘‘ ندرت نے ساتھ ہی اپنی گھڑی دیکھی… اسے دیر ہورہی تھی۔ ایاز پھر خاموش رہا۔
’’دیکھیں کیپٹن ایاز‘ پلیز جو بھی بات ہے‘ جلدی کریں مجھے اب پریشانی ہورہی ہے۔‘‘ وہ واقعی اب گھبرا گئی تھی۔ یہ ڈاکٹر یوں ان کے گھر صرف اس سے ملنے کیوں آیا تھا اور اب کچھ بول بھی نہیں رہا تھا۔
’’کیا میری سرجری کے بارے میں کوئی بات ہے‘ کیا کوئی رپورٹ رہ گئی تھی جس کا رزلٹ اب آیا ہے؟‘‘ ندرت کے چہرے پر پریشانی چھا گئی تھی۔
’’ارے نہیں جی‘ آپ بالکل صحت یاب ہیں‘ میں آپ کی بیماری کے سلسلے میں نہیں آیا۔‘‘
’’تو پھر آخر کیوں آئے ہیں آپ؟‘‘ اس کو غصہ آنے لگا۔ خوامخواہ اس کا وقت ضائع ہورہا تھا۔
’’آپ شاید کہیں جارہی تھیں؟‘‘ ایاز نے بے تکی بات کی۔
’’دیکھیں مسٹر… اگر تو آپ کسی کام سے آئے ہیں تو صاف بات کریں ورنہ پلیز اپنا اور میرا وقت نہ ضائع کریں۔ میں پہلے ہی کالج سے لیٹ ہوگئی ہوں۔‘‘ ندرت اس عجیب وغریب ملاقات سے جھنجھلا گئی تھی۔
’’اصل میں سمجھ نہیں آرہا کہ آپ سے سچ کہوں کہ جھوٹ بولوں۔‘‘ ایاز اس کے چہرے کے تاثرات جانچنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’کیا مطلب… میں سمجھی نہیں۔‘‘ ندرت کو لگ رہا تھا کہ اس شخص کے ساتھ کوئی ذہنی مسئلہ ہے۔ اس نے ایاز کو گھورا اور ماتھے پہ آتی بالوں کی لٹ کو پیچھے کرکے اپنی پونی میں اڑسا۔
یک دم ایاز کو خیال آیا کہ اب تک تو اس نے لڑکی کو اس نظریے سے دیکھا ہی نہیں تھا کہ آیا وہ خوب صورت بھی ہے یا نہیں۔
’’ظاہر سی بات ہے سچ ہی بتائیں‘ جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ندرت نے جل کر کہا‘ اس کا سارا وقت ان فضول باتوں میں ضائع ہورہا تھا۔
’’دیکھیں مس… اصل میں سچ تو یہ ہے کہ جب آپ ہمارے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوئیں تو باتوں باتوں میں میری اپنے دوستوں سے شرط لگ گئی‘ قسم سے میرا مقصد تو ہرگز نہ تھا مگر انہوں نے مجھے اتنا زچ کیا کہ میں جوش میں آکر شرط لگا بیٹھا۔‘‘ وہ ذرا رک کر ندرت کا ردعمل دیکھنے لگا۔
’’کس قسم کی شرط… اور بھلا اس کا مجھ سے کیا تعلق؟‘‘
’’ہے ناں یار‘ آپ سے ہی تعلق ہے‘ شرط آپ پر ہی تو لگی ہے۔‘‘
’’مجھ پر؟‘‘ ندرت نے اسے گھورا۔
’’دیکھو ناں، وہ مجھے تنگ کررہے تھے کہ میں تمہیں پٹا نہیں سکتا۔‘‘ وہ معصومیت سے بولا۔
’’پٹا نہیں سکتا…!‘‘ ندرت کو اس بے سرو پا گفتگو پہ یقین نہیں آیا۔ وہ بس طوطے کی طرح اس کے بولے ہوئے جملے دہرا رہی تھی۔
’’اور کیا‘ تم دیکھو ناں ذرا یہ بھی کوئی بات ہوئی؟ میں نے کہا بھی کہ مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں تمہیں امپریس کرنے کی مگر وہ کہتے ہی رہے کہ ضرورت کی بات نہیں بس تم مجھے لفٹ کروائو گی ہی نہیں‘ اب یہ میری بے عزتی ہی ہوئی ناں…؟‘‘ ایاز نے اس سے ہی پوچھا۔
’’بے عزتی؟‘‘ وہ کچھ کہہ ہی نہ پائی۔
’’دیکھو ناں‘ آج تک یہ کبھی ہوا ہی نہیں کہ میں کسی لڑکی کو اپنی گرل فرینڈ بنانا چاہوں اور وہ نہ بنے‘ تو اگر یہ عامر اور بلال مجھے یوں تنگ کریں گے تو میری بے عزتی ہی ہے ناں؟‘‘ اس نے پوچھا‘ ندرت ہونق سی اس کی شکل دیکھ رہی تھی۔
’’یہ کیا بکواس کررہا ہے… کہیں پاگل تو نہیں؟‘‘
’’بتائو ہے ناں؟‘‘
’’ہاں شاید۔‘‘ اس نے بے چارگی سے کہا۔
’’بس دیکھا۔‘‘ ایاز نے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر کہا۔
’’اسی لیے میری ان سے شرط لگ گئی کہ میں ایک ہفتے کے اندر اندر تمہیں اپنی گرل فرینڈ بنا کر دیکھائوں گا۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ ندرت دم بخود رہ گئی۔ ایاز تھوڑا شرمندہ ہوا‘ ندرت کو یک دم ہوش آیا۔ ایاز کی اس فضول رام کہانی میں ندرت کو خیال ہی نہیں آیا کہ یہ سب اس کے بارے میں کہا جارہا ہے۔ اس کو یک دم شدید غصہ آیا۔
’’یہ کیسا بھونڈا مذاق ہے کیپٹن ایاز؟ میں تو آپ کو انتہائی ذمہ دار اور ڈیسنٹ ڈاکٹر سمجھی تھی‘ آرمی کے لوگوں کی بڑی عزت تھی میرے دل میں‘ آپ نے تو حد ہی کردی۔‘‘ اس نے ایاز کی طبیعت صاف کی۔
’’میں مانتا ہوں کہ یہ نہایت بھونڈی بات ہے مگر قسم سے مذاق ہرگز نہیں۔‘‘ ایاز شرمندہ ہوا مگر ڈھیٹ بنا رہا۔
’’اگر آپ کے پاس کچھ ٹائم ہو تو پلیز میں تفصیل سے آپ کو سب کچھ بتانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’دیکھیں کیپٹن ایاز… مجھے آپ کی اس فضول شرط میں کوئی دلچسپی نہیں‘ آپ پہلے ہی میرا کافی وقت ضائع کرچکے ہیں‘ میں کالج سے بہت لیٹ ہوگئی ہوں‘ اگر میں آپ کی رسپیکٹ نہ کرتی تو کھڑے کھڑے آپ کی وہ بے عزتی کرتی کہ آپ یاد رکھتے۔ آپ نے میرا علاج کیا ہے اور ہمارے پاکستان آرمی کے آفیسر ہیں اس لیے پلیز آپ چلے جائیں۔‘‘ ندرت کا خیال تھا کہ وہ اس سے مزید بحث کرے گا سو وہ مڑ کر اندر جانے لگی… گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز پر اس نے مڑ کر ایاز کی جانب دیکھا تو وہ جاچکا تھا۔
’’ہونہہ پاگل۔‘‘ ندرت نے بھی اپنی گاڑی نکالی اور کالج کی طرف چل دی۔
خ…خ…خ
’’پہلا دن…‘‘ عامر کی آواز پہ سموسوں پہ ہاتھ صاف کرتے ایاز کو بریک لگے۔
’’ناکامی کا سامنا۔‘‘ عامر نے پھر کہا۔
’’اوہو یار… بے چارے کا اسکیل تو نیچے جارہا ہے۔‘‘ بلال نے بھی لقمہ دیا‘ ایاز ان کو گھور رہا تھا۔
’’اب رہ گئے چھ دن۔‘‘ عامر نے چائے کا گھونٹ بھر کر کائونٹ ڈائون جاری رکھا۔
’’زیادہ بکواس نہ کر‘ چھ دن بہت ہوتے ہیں۔‘‘ ایاز کو تپ چڑھی۔
’’ہاں ہاں بچہ غصہ نہ کر… میری جان محنت کر۔‘‘ سب نے زور سے قہقہہ لگایا‘ ٹی روم میں سب ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ایاز کو بھی ہنسی آگئی۔
خ…خ…خ
’’او نو…‘‘ ایاز کو اپنے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھتے دیکھ کر ندرت کو کوفت ہوئی‘ وہ روز کی طرح آج بھی قائد اعظم لائبریری پڑھنے کے لیے آئی تھی۔
’’ہیلو… ندرت۔‘‘ ایاز نے ایسے کہا جیسے دونوں گہرے دوست ہوں۔ ندرت اسے نظر انداز کرکے اپنی کتاب پہ جھک گئی۔
’’تو پھر کیا سوچا آپ نے؟‘‘ کچھ دیر خاموشی کے بعد ایاز نے بات شروع کی۔ ندرت نے آنکھ اٹھا کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا۔
’’آپ نے جواب نہیں دیا۔‘‘ تھوڑی دیر اس کے جواب کا انتظار کرکے ایاز نے پھر پوچھا۔
’’دیکھیں مسٹر…‘‘ وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ ایاز نے اسے روک دیا۔
’’مجھے کیپٹن ایاز کہتے ہیں۔‘‘ وہ بولا۔
’’مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کیا کہتے ہیں۔‘‘ ندرت کو سخت غصہ آیا۔
’’ٹھیک ہے تو پھر بولیں، آپ کچھ کہہ رہی تھیں۔‘‘
’’کیپٹن ایاز… لگتا ہے آپ کے پاس فالتو وقت بہت ہے‘ مگر میں بہت بزی ہوں۔ مجھے پڑھائی کرنی ہے اور آپ مجھے ڈسٹرب کررہے ہیں۔‘‘
’’مگر مس ندرت میرے پاس تو وقت بہت کم ہے۔‘‘ ایاز نے بے چارگی سے کہا۔ وہ چاہ رہا تھا کہ ندرت اس صورت حال کو سمجھے۔
’’جی… کیا مطلب؟ میں سمجھی نہیں۔‘‘ ندرت نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔ دبلا پتلا سا لڑکا تھا مگر بیمار تو نہیں لگ رہا تھا ’’کوئی کینسر وینسر تو نہیں بے چارے کو؟‘‘ اس کو ترس آیا۔ ’’اتنا ینگ لڑکا اور اس بے چارے کے پاس زندگی کے دن ہی کم ہیں۔‘‘
’’میرے پاس سات دن تھے‘ ان میں سے بھی دو گزر گئے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’اف…‘‘
’’صرف پانچ دن…‘‘ اس کا دل پسیج گیا۔
’’دیکھیں کیپٹن ایاز… کتنے دن ہیں یہ تو صرف اللہ پاک ہی جانتا ہے‘ آپ اتنے بیمار تو نہیں لگ رہے۔‘‘ ندرت نے اسے حوصلہ دیا۔
’’بیمار…؟‘‘ ایاز ہولے سے بڑبڑایا… اس نے غور سے لڑکی کو دیکھا۔
’’یار یہ دماغی طور پر ٹھیک تو ہے ناں؟ کسی اور ہی مصیبت میں نہ پڑ جائوں۔‘‘ ایاز نے سوچا۔
’’دیکھیں آپ علاج تو کروا ہی رہے ہوں گے‘ یقین کریں‘ اللہ پاک ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ وہ اب بھی اسے سمجھا رہی تھی۔
’’ہیں…! آپ سے کس نے کہا کہ میں بیمار ہوں؟ یہ تو میرے خلاف سراسر سازش ہے… یقین کریں میں بالکل تندرست انسان ہوں‘ ضرور یہ عامر یا بلال کا کام ہوگا۔‘‘ ایاز کو دوستوں پہ شک ہوا۔
’’مگر ابھی تو آپ نے کہا کہ آپ کے پاس صرف پانچ دن ہیں۔‘‘ ندرت ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’وہ تو میں نے صحیح کہا مگر اس کا بیماری سے کیا تعلق؟‘‘ ایاز کی سمجھ میں ندرت کی بات نہیں آرہی تھی۔
’’اف میرے اللہ… آخر آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں‘ میرے کچھ پلے نہیں پڑ رہا۔‘‘ ندرت نے زچ ہوکر کتاب ہی بند کردی۔
’’مجھے بھی آپ کی باتیں سمجھ میں نہیں آرہی‘ یہ بیماری کا ذکر کیسے آگیا؟‘‘ اب ایاز بھی پریشان ہوا‘ یہ کیا بات چل نکلی تھی۔
’’آپ نے کہا آپ کے پاس صرف پانچ دن ہیں‘ کہا ناں؟‘‘
’’ہاں کہا… تو پھر؟‘‘ ایاز نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ ندرت کا دل کیا ایاز کا منہ توڑ دے مگر لائبریری کے خیال سے اس نے غصے پہ قابو پایا۔
’’کیپٹن ایاز‘ پانچ دن کس کام کے لیے ہیں آپ کے پاس؟‘‘ اس نے ہونٹ بھینچ کر ایاز سے پوچھا۔
’’اوہ ہو… وہ تو میری شرط جیتنے کے لیے ہیں‘ دیکھیں ناں پانچ دن میں اگر آپ کو نہ پٹا سکا تو ذلیل ہوجائوں گا۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولا۔
’’کیا…!‘‘ ندرت اتنے زور سے چیخی کہ سب لوگوں نے مڑ مڑ کر انہیں دیکھنا شروع کردیا۔ ایاز بھی ڈر گیا۔
’’کیپٹن ایاز… آپ کا دماغ بالکل خراب ہے‘ نائو گٹ آئوٹ۔‘‘ لائبریری کے خیال سے اس نے دانت کچکچا کر آہستہ آواز میں کہا۔
’’ارے آپ اتنا غصہ کیوں کررہی ہیں‘ میں نے تو پہلے دن ہی آپ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا۔‘‘ ایاز کو اس کے اتنے غصے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
’’مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ یہ سب سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔‘‘ ندرت نے سر ہلایا۔
’’ارے میڈم جی‘ میں بالکل سیریس ہوں‘ میری جیب کا سوال ہے بھئی۔‘‘ ایاز نے مسکین سی آواز نکالی‘ پہلے تو ندرت نے غصے سے اس شخص کو دیکھا پھر اس کی ہنسی نکل گئی‘ اتنی عجیب وغریب صورت حال سے اس کا کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔ کتنے ہی لڑکے اس کے دوست تھے مگر کیپٹن ایاز جیسا وہ آج پہلی بار دیکھ رہی تھی۔
’’حد ہوگئی کیپٹن ایاز… کیا آپ واقعی یہ سمجھ رہے ہیں کہ آپ اپنے دوستوں سے اتنی گری ہوئی شرط لگائیں گے میرے بارے میں اور میں مائنڈ بھی نہیں کروں گی؟‘‘
’’جی سوچا تو میں نے یہی تھا۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
’’آپ واقعی پاگل ہیں۔‘‘ ندرت کو یقین ہوگیا کہ وہ کریک ہے۔
’’نہیں جی میں بالکل ٹھیک ہوں بس ذرا سر پھرا ہوں اور ہاں میں کبھی جھوٹ بھہی نہیں بولتا۔‘‘
’’کیپٹن ایاز… ذرا اس پوری بات پر غور کریں… یہ کوئی فلم یا ٹی وی کا ڈراما نہیں کہ ایسی بات نارمل لی جائے… یہ اصل زندگی ہے۔‘‘ اس نے ایاز کو سمجھایا۔ ’’اس میں یہ سب نہیں ہوتا۔‘‘
’’میں بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں… دیکھو ناں اگر فلم ہوتی تو میں تمہارا علاج کرتا‘ دوستوں سے لگائی شرط چھپا کر رکھتا تم سے‘ تم کو روز بلاتا پٹی بدلنے کے لیے‘ پیار کے چکر میں پھنساتا اور پھر بعد میں جب شرط کی بات کھلتی تو ٹریجڈی شروع ہوجاتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ناں تو پھر بتائو یہ فلم کیسے ہوئی؟‘‘ اس نے تفصیل سے جواب دیا تو ندرت نے ایک بار پھر غور سے اسے یکھا۔
’’کیا یہ بندہ نارمل ہے؟‘‘ اگر اس نے خود اس کو اسپتال میں کام کرتے نہ دیکھا ہوتا تو وہ اس کو دماغی مریض سمجھتی مگر اب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ان سب باتوں کو وہ کیا سمجھے۔
’’دیکھیں کیپٹن ایاز آپ شاید میری (امی) مدر کو دیکھ کر سمجھ رہے ہوں گے کہ میں بھی فارنرز کی طرح کی سوچ رکھتی ہوں تو ایسا ہرگز نہیں‘ اگرچہ میری مدر ملیشین اور کرسچن ہیں‘ ہم آزاد خیال بھی ہیں مگر میں پرسنلی ان باتوں کو پسند نہیں کرتی۔‘‘
’’میڈم جی وہ، سب تو ٹھیک ہے مگر اب تو میں شرط لگا بیٹھا ہوں‘ آپ کو میری مدد کرنا ہی ہوگی‘ میری تنخواہ اتنی ہرگز نہیں کہ میں چار بندوں کو اتنے بڑے ہوٹل میں کھانا کھلا سکوں… ابو سے مانگے تو الگ جوتے پڑیں گے۔‘‘ اس نے بتایا۔ ندرت اس کے ہر جملے پر ایک نئی حیرت کا شکار ہورہی تھی۔
’’تو کیا یہ میری غلطی ہے کہ آپ نے اتنی فضول سی شرط لگائی؟‘‘
’’نہیں جی‘ غلطی تو میری ہی ہے مگر اب تو ہوگئی اور جب ہوگئی تو اس پر کیا رونا… آگے اب کچھ حل تو نکالنا ہے ناں۔‘‘ ندرت کو اب اس کی باتوں پہ ہنسی آنے لگی تھی۔
’’یار… ان سب نے مجھے اتنا غصہ دلایا تھا‘ تم سوچ نہیں سکتیں۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولا۔
’’پھر اب کیا کریں؟‘‘ ندرت نے مزا لے کر پوچھا‘ ایاز کی آنکھیں اس کے لہجے پہ چمک اٹھیں۔
’’دیکھو میں تم میں ہرگز انٹرسٹڈ نہیں اور مجھے پتا ہے کہ تم مجھے مشکل سے ہی برداشت کررہی ہو‘ کچھ دن ہی کی بات ہے‘ ایک دفعہ شرط جیت لوں بس پھر تم اپنی راہ اور میں اپنی راہ… وعدہ تم کو تنگ نہیں کروں گا۔‘‘
’’اچھا اور میں یہ سب کیوں کروں؟ میرا اس سب میں کیا فائدہ ہوگا؟‘‘
’’ہے ناں فائدہ تمہارا بھی‘ مفت میں پی سی کا کھانا اور ان کی شکلیں دیکھنا… قسم سے بہت مزا آئے گا۔‘‘ ایاز نے چٹخارہ لے کر کہا۔
’’یہ تو کوئی خاص وجہ نہیں ہوئی۔‘‘
’’یار کبھی کوئی شرط جیتی ہے؟‘‘ ایاز نے پوچھا۔
’’میں نے آج تک کبھی کوئی شرط لگائی ہی نہیں۔‘‘
’’تو پھر یہ تجربہ تو ضرور کرکے دیکھو… دیکھو میں نے تمہارا علاج کیا ہے‘ اس ناطے سے میں تمہارا ڈاکٹر ہوا‘ لوگ تو اپنے ڈاکٹرز کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں۔‘‘ ایاز ہر طرح سے اسے منانے کی کوشش کررہا تھا‘ ندرت مسکرادی۔
’’یہ تو آپ نے واقعی ٹھیک کہا مگر میں کسی اور مسئلے میں نہ پھنس جائوں۔‘‘ ندرت سوچ میں پڑگئی۔ اسے ایاز اتنا برا نہیں لگا تھا۔
’’ارے ڈرنے کی کوئی بات نہیں کچھ بھی نہیں کرنا تمہیں بس اس ہفتے کی ہی تو بات ہے بلکہ روز تم کو آئس کریم کھلائوں گا یا کوئی کافی وغیرہ۔‘‘ ایاز جلدی سے بے تکلف ہوکر بولا۔
’’ابھی تو کہہ رہے تھے پیسے نہیں ہیں تب ہی تو شرط جیتنی ہے۔‘‘ ندرت نے فوراً پکڑا۔
’’میں تم کو لبرٹی کی کون کھلائوں گا یا کافی، میں کون سا کسی مہنگی جگہ کی بات کررہا ہوں۔‘‘ ایاز کے کہنے پہ ندرت ہنس دی۔
’’اوکے…‘‘ وہ اچانک مان گئی۔
’’گڈ یار…‘‘ ایاز خوشی سے اچھل پڑا۔
’’کیپٹن ایاز پلیز‘ یہ لائبریری ہے۔‘‘ وہ اتنی زور سے بولا کہ ندرت نے اسے سرزنش کی۔
’’اوکے اوکے… تم پڑھو میں چلتا ہوں۔‘‘ وہ اسے سلیوٹ کرتا باہر نکل گیا۔
’’اوہ یار… فون نمبر تو کوئی لیا ہی نہیں۔‘‘ یک دم اسے خیال آیا تو وہ واپس اندر آیا۔
’’ہائے ندرت۔‘‘ دوبارہ ایاز کی آواز آئی تو ندرت نے سر اٹھایا۔
’’اب کیا ہے؟‘‘ اس کاخیال تھا کہ ایاز جو کچھ ابھی کہہ کر گیا تھا وہ فقط مذاق ہے، اس سے بات کرنے کا بہانہ‘ ورنہ یہ شرط وغیرہ کون لگاتاہے اس زمانے میں۔
’’وہ تم نے کوئی کانٹیکٹ نمبر ہی نہیں دیا… کیسے بات ہوگی۔‘‘
’’توبہ میرے اللہ… یہ لو اور جائو۔‘‘ اس نے ایک چٹ پر اپنا موبائل نمبر لکھ کر دے دیا۔
’’میرا بھی لے لو۔‘‘ اس کو نمبر دیتا وہ یہ جا وہ جا۔
خ…خ…خ
’’ویسے ندرت‘ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آرہی‘ آخر آپ نے ایاز کو ہی کیوں لفٹ کرائی؟‘‘ عامر سڑا بیٹھا تھا۔ اس کو کھانا کھلانا پڑ رہا تھا۔ بلال کا بھی حیرت سے برا حال تھا۔
’’اگر لفٹ نہ کرواتی تو اپ لوگوں سے آج ملاقات کیسے ہوتی۔‘‘ وہ مزے سے بولی‘ جب ایاز کے ساتھ آئی تھی تو اسے عجیب سا لگ رہا تھا مگر ان تینوں کے ساتھ مل کر وہ مطمئن سی تھی۔
’’یار… ویسے آپ کو غصہ نہیں آیا شرط والی بات پہ؟‘‘ عامر نے کریدا۔
’’کون سی شرط؟‘‘ ندرت انجان بن گئی۔
’’ہاہاہا… یہ تو یونہی مذاق کررہا تھا۔‘‘ بلال نے شرمندہ ہوکر بات سنبھالی اگر لڑکی کو شرط کا پتا چل جاتا تو ایاز سمیت تینوں لڑکی سے جوتے کھا رہے ہوتے۔
’’ویسے ایاز بہت سویٹ ہے۔‘‘ ندرت نے سچے دل سے کہا۔
ان چند دنوں میں ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے‘ یہ دن اس نے ایاز کے ساتھ بہت انجوائے کیے تھے‘ اس کے ساتھ ندرت کو ہمیشہ تحفظ کا احساس رہتا تھا۔
’’سویٹ…‘‘ بلال کو یقین نہیں آیا۔
’’ہاں… مطلب نائس۔‘‘ وہ بولی۔
’’نائس؟‘‘ عامر کو کھانسی آئی‘ وہ بری طرح کھانسنے لگا۔
’’اوہو… آپ ٹھیک تو ہیں؟ یہ لیں پانی پیئیں۔‘‘ ندرت پریشان ہوئی۔
’’اچھا ہوا‘ کافی فضول بول رہا تھا اس وقت سے۔‘‘ ایاز ہنس دیا۔
’’تو کب سے سویٹ یا نائس ہوگیا‘ ارے مس ندرت… نہایت کمینہ انسان ہے یہ۔‘‘ عامر کو سخت رنج ہورہا تھا۔ ایاز مسکراتا ہوا کھانا کھاتا رہا… عامر کو اس نے نظر انداز کردیا‘ وہ شرط جیت چکا تھا۔
خ…خ…خ
صبح سے وہ اور بلال مریضوں میں گھرے ہوئے تھے۔ سر اٹھانے کی لمحہ بھر کو بھی فرصت نہیں ملی تھی۔
’’چل ناں یار ٹی روم چلتے ہیں۔‘‘ ساڑھے گیارہ بجے مریضوں کا رش کم ہوا تو بلال نے ایاز سے کہا‘ اس کی بس ہوچکی تھی اتنے مریض دیکھ دیکھ کر۔
’’بس یار… دو منٹ یہ آخری مریض ہے۔‘‘ ایاز نے آخری ہسٹری فارم پکڑا‘ بلال نے برا سا منہ بنایا۔
’’عامر تو جا بھی چکا ہے اب اٹھ بھی جا۔‘‘ ایاز کو اگلے مریض کے لیے اشارہ کرتے دیکھ کر بلال پھر بولا‘ وہ پہلے ہی ایاز کی اتنا زیادہ کام کرنے کی عادت سے سخت تنگ تھا۔
’’بس آخری مریض۔‘‘
’’ایک مریض نہیں دیکھے گا تو تیری تنخواہ کٹ نہیں جائے گی۔ چل اب اٹھ۔‘‘ بلال نے اس کا اسٹیتھو اسکوپ اس کے ہاتھ سے چھین کر میز پر رکھ دیا۔
’’اچھا بابا اسٹیتھو اسکوپ تو واپس کر…‘‘ ایاز نے میل نرس کا اشارہ دیکھ لیا تھا کہ اب اور کوئی مریض نہیں تھا۔ وہ ہنستا ہوا اٹھ گیا۔
’’تجھے ناں کام کی لت لگ گئی ہے جیسے لوگوں کو ہیروئن کی لت لگتی ہے۔‘‘ بلال بڑبڑاتا ہوا آفس سے باہر نکلا۔
’’ٹائم کیا ہوگیا؟‘‘ اچانک ایاز نے بلال سے پوچھا۔
’’کوئی بارہ کے لگ بھگ… کیوں؟‘‘
’’تو جا‘ مجھے ایک ضروری کام کرنا ہے۔‘‘ ایاز یک دم رکا۔
’’مگر عامر انتظار کررہا ہوگا۔‘‘
’’بس میں یوں گیا اور یوں واپس آیا۔‘‘ ایاز تیزی سے پارکنگ کی طرف بھاگا‘ بلال دیکھتا ہی رہ گیا۔
’’گھٹیا انسان‘ اگر کام تھا تو مجھے پہلے بتا دیتا… خوامخواہ اتنا انتظار کروایا‘ جھوٹا شخص‘ ضرور اسی لڑکی کے چکر میں گیا ہوگا۔‘‘ بلال ایاز کا بچپن کا دوست تھا اسے خوب جانتا تھا۔ وہ جلدی جلدی عامر کے پاس ٹی روم چل دیا‘ ایاز کا یوں اچانک جانا بھی تو عامر کو بتانا تھا۔
ایاز نے لائبریری میں قدم رکھا تو ہمیشہ کی طرح وہاں خاموشی چھائی ہوئی تھی… ایاز ہر وقت شور میں رہنے کا عادی تھا‘ یہ خاموشی اسے عجیب سی لگتی تھی… اس نے متلاشی نگاہیں ادھر ادھر دوڑائیں۔
’’تم وہاں چھپی بیٹھی ہو۔‘‘ ندرت کو دور ایک کونے میں کتابوں کے ڈھیر کے درمیان بیٹھے دیکھ کر وہ وہاں سے ہی زور سے بولا‘ ارد گرد بیٹھے بہت سے لوگوں نے اس کے اس قدر اونچا بولنے پر ناگواری سے اسے دیکھا۔
’’پلیز مسٹر آہستہ بولیں‘ یہ لائبریری ہے۔‘‘ لائبریری انچارج کی تنبیہہ آواز پر معذرت کرتا ندرت کی میز پر آگیا۔
’’کس لیے آئے ہو؟‘‘ ندرت نے سرگوشی میں غصے سے پوچھا۔
’’تمہارا شکریہ نہیں ادا کیا تھا ناں۔‘‘ ایاز کرسی کھینچ کر اس کے بالکل قریب بیٹھ گیا۔
’’اچھا… تو جلدی کرو۔‘‘ ندرت نے ہاتھ میں پکڑی کتاب بند کی۔
’’یار… بہت بہت شکریہ‘ شرط جیت کر مزا آگیا‘ سخت جلے ہوئے ہیں بلال اور عامر۔‘‘ وہ مزید پھیل کر بیٹھ گیا۔
’’کرلیا آپ نے شکریہ ادا۔‘‘ اس نے طنزیہ پوچھا۔
’’جی بالکل۔‘‘ ایاز مسکرایا۔
’’اوکے تو پھر اب آپ جاسکتے ہیں۔‘‘ ندرت نے کتاب دوبارہ کھولی۔
’’مگر…‘‘ ایاز کچھ کہنے لگا۔
’’اگر مگر کچھ نہیں کیپٹن ایاز‘ میرے ایگزیمز ہونے والے ہیں‘ مذاق کی حد تک تو بات ٹھیک تھی مگر مزید ان باتوں کے لیے میرے پاس کوئی وقت نہیں۔‘‘ وہ کافی بولڈ اور صاف گو لڑکی تھی۔
’’میں نے بھی بالکل یہی سوچا‘ دیکھو میں خود ابھی کسی ریلیشن یا افیئر میں انٹرسٹڈ نہیں۔ مجھے بہت کم لڑکیاں اپیل کرتی ہیں‘ تم بالکل مختلف قسم کی لڑکی ہو۔ دوستی تو ہوسکتی ہے ناں یار؟‘‘
’’کیپٹن ایاز میں واقعی بہت مصروف ہوں۔‘‘ ندرت نے اپنی کتابوں کی طرف اشارہ کیا۔
’’ہاں واقعی‘ چلو تم اپنی اسٹڈی کرو۔‘‘ وہ فوراً ہی اٹھ کر باہر کی طرف چل دیا۔ ندرت دیکھتی ہی رہ گئی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ مزید بحث کرے گا مگر وہ تو چلا ہی گیا تھا۔
’’عجیب شخص ہے۔‘‘ اس نے ایاز کا خیال ذہن سے جھٹکا اور نظریں کتاب پر جما دیں مگر اب اس کی سوچیں الجھ گئی تھیں۔ ذہن ایاز کے بارے میں سوچنے لگا تھا‘ تھوڑی دیر پڑھنے کی کوشش کرنے کے بعد اس نے کتابیں سمیٹیں اور کالج چلی آئی مگر وہاں بھی ایاز کا خیال اس کے ذہن پہ حاوی رہا‘ گھر آکر وہ ایسا سوئی کہ رات کو ہی آنکھ کھلی‘ وہ ٹی وی لائونج میں آئی تو پاپا اور ممی دونوں ہی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کسلمندی سے پاس والے صوفے پر بیٹھ گئی‘ ابھی سو کر اٹھی تھی نیند کی سستی ابھی بھی اس پر حاوی تھی۔
’’ندرت۔‘‘ پاپا کی آواز پہ اس نے پاپا کو دیکھا۔
’’یہ لڑکا کون ہے؟‘‘ پاپا کے سوال پہ اس نے دھیان ہی نہ دیا اس کا پسندیدہ پروگرام چلنے والا تھا۔
’’ذرا ریموٹ پکڑائیں گے پاپا۔‘‘ وہ سستی سے بولی۔
’’میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔‘‘
’’کس کی بات کررہے ہیں‘ میں تو بہت سے لڑکوں کو جانتی ہوں۔‘‘ اس نے اپنا پسندیدہ چینل لگایا‘ ابھی اس کا پروگرام شروع نہیں ہوا تھا۔
’’وہ جو آرمی میں ڈاکٹر ہے۔‘‘ صدیقی صاحب کو ندرت کی بے نیازی پہ تھوڑا غصہ آیا۔ یک لخت ندرت کی ساری سستی ہوا ہوئی۔
’’کون کیپٹن ایاز؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
’’ہاں وہی… تم اس سے ملتی رہی ہو؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔
’’ملتی رہی سے کیا مراد ہے آپ کی‘ دو تین دفعہ ملاقات ہوئی ہے۔‘‘
’’کس سلسلے میں ملی ہو۔ تمہارا اس سے کیا لینا دینا؟‘‘
’’اس سے پہلے تو آپ نے کبھی کوئی روک ٹوک نہیں کی پاپا۔‘‘ اسے صدیقی صاحب کے سوالوں پر حیرت ہورہی تھی۔
’’ممی… آپ نے پاپا سے کچھ کہا ہے؟‘‘ اس نے ماں سے انگلش میں پوچھا۔
’’نو بے بی‘ وہ لڑکا آیا تھا کچھ دیر پہلے تمہارے لیے پھولوں کا گلدستہ دے گیا تھا ملازم کو اور اس نے آکر تمہارے پاپا کو دے دیا۔‘‘ مسز صدیقی مسکرا کر بولیں۔ ان کو بہت ہنسی آرہی تھی میاں کے ردعمل پہ مگر میاں کا موڈ دیکھ کر دبا گئیں۔
’’اوہ…‘‘ ندرت کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہے… اسے ایاز کی اس حرکت پہ سخت غصہ آیا۔
’’ندرت ان سب باتوں کا کیا مطلب ہے؟‘‘ صدیقی صاحب کا مزاج برہم ہوا۔
’’ایسا کچھ بھی نہیں ہے پاپا‘ یو نو دیٹ اس نے میرا ٹریٹمنٹ کیا تھا‘ کچھ دن پہلے اسے میری ہیلپ کی ضرورت تھی بس میں نے اس کی مدد کی‘ شاید اس نے شکریہ ادا کرنے کے لیے پھول بھیج دیے۔‘‘ وہ پاپا کے سامنے شرمندہ ہوئی۔
’’بالکل پاگل انسان ہے۔‘‘ اس نے جل کر سوچا بھلا پھول بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔
’’اور یہ کارڈ بھی؟‘‘ پاپا نے سنجیدگی سے پوچھا اور ایک گہرے لال رنگ کا کارڈ اس کے ہاتھ میں تھمایا۔ ندرت نے ڈرتے ڈرتے کارڈ لیا… دل ہی دل میں اس نے ایاز کو ہزار گالیاں دیں۔ کارڈ پر ایک چیپ قسم کا دل بنا ہوا تھا جس کے آر پار ایک تیر تھا۔ ندرت کا چہرہ شرمندگی سے سرخ پڑ گیا۔
اس نے خاموشی سے وہ کارڈ لیا اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔ دل تو کررہا تھا کہ ایاز کا منہ توڑ دے مگر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔ یک دم اسے ایاز کو فون کرنے کا خیال آیا… اس نے بھاگ کر اپنا موبائل اٹھایا کہ فون کرکے اس کو خوب سنائے… فون آن کرتے ہی ایاز کا میسج چمک اٹھا‘ ندرت کو آگ لگ گئی۔
’’خود کو سمجھتا کیا ہے یہ آخر؟ کوئی گلفام ہے جس پر میں مرمٹوں گی‘ ابھی دماغ ٹھکانے لگاتی ہوں حضرت کے۔‘‘ اس نے غصے سے ایاز کا نمبر ملایا۔
’’مجھے پتا تھا تمہاری ہی کال ہوگی۔‘‘ پہلی ہی گھنٹی پر ایاز نے فون اٹھا لیا تھا۔
’’دماغ ٹھکانے پر ہے تمہارا؟‘‘ ندرت تمام لحاظ بالائے طاق رکھ کر زور سے چیخی۔
’’اوئے ہوئے… اتنا غصہ؟ میرا تو خیال تھا کہ تم خوش ہو کر فون کروگی‘ قسم سے بڑے خوب صورت اور مہنگے پھول تھے۔‘‘ وہ مذاق میں بولا۔
’’اچھا… تو پھر تمہاری اماں کو بھجوا دیتی ہوں۔‘‘ ندرت جل کر بولی۔
’’نہیں یار… یہ ظلم نہ کرنا‘ امی بہت مائنڈ کریں گی۔ دیکھو ناں سیکنڈ ہینڈ پھول اچھے تو نہیں لگتے ناں۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’میرے ابو نے بھی مائنڈ کیا ہے مسٹر ایاز۔‘‘ وہ ایاز کے مذاق کو نظر انداز کرکے سنجیدگی سے بولی۔
’’تمہارے ابو نے…! اوہ ندرت یار‘ آئی ایم سوری۔‘‘ وہ واقعی شرمندہ ہوا۔
’’تمہاری باتوں سے مجھے لگا کہ تمہاری فیملی یہ سب مائنڈ نہیں کرتی اس لیے پھول گھر بھجوا دئیے‘ میں واقعی تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔‘‘ اس نے وضاحت کی۔
’’اور وہ کارڈ؟‘‘
’’وہ ہاہاہا… وہ تو چھوٹا سا مذاق تھا‘ ویسے ہی تمہیں تنگ کرنے کے لیے، تمہیں برا لگا؟‘‘
’’نہیں نہیں… بہت خوشی ہوئی‘ ایک نہایت چیپ دل کے آر پار تیر لگا ہوا کارڈ اپنے پاپا کے ہاتھ سے لے کر اپنے آپ پر بہت فخر محسوس ہوا…‘‘ وہ طنزیہ بولی۔
’’اف یار‘ یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔‘‘
’’لگتا ہے کچھ بھی کرنے سے پہلے تم سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔‘‘ ندرت اس کی آواز میں شرمندگی محسوس کرکے تھوڑی نرم ہوئی۔
’’رئیلی ندرت… مجھے افسوس ہے کہ میری وجہ سے تمہیں شرمندگی اٹھانا پڑی۔‘‘ اس نے نادم ہوکر ندرت سے معافی مانگی۔
’’چلو ٹھیک ہے۔‘‘ وہ زیادہ دیر کسی سے بھی ناراض نہیں رہ سکتی تھی۔ یہ اس کے مزاج میں ہی نہیں تھا۔
’’سچ ندرت آئندہ ایسا ہرگز نہ ہوگا‘ میں بہت دھیان رکھوں گا۔‘‘
’’ہیں…! یعنی آئندہ بھی کچھ بھیجنے کا پروگرام ہے؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’ہاں ناں اب دوستی کی ہے تو چھوڑنا تو نہیں ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’مگر یہ دوستی ہوئی کب؟‘‘ ندرت ہنس دی۔
’’یہ دوستی ہی تو ہے اور اگر نہیں ہے تو کرلو۔‘‘ وہ بڑی معصومیت سے بولا۔ ندرت کو وہ بہت معصوم سا لگا۔
’’سوچوں گی‘ مگر یہ پھول اور کارڈ بھیجنا بند کرنا ہوں گے۔‘‘
’’میری توبہ جو آئندہ کبھی تمہیں پھول دیے‘ دینے بھی ہوئے تو تمہاری امی کو دوں گا۔‘‘ وہ شرارت سے بولا۔
’’بکومت…‘‘ ندرت نے ہنس کر فون بند کردیا‘ ایاز کے لب مسکرا اٹھے۔ وہ گنگناتا ہوا کمرے سے نکل کر کچن کی طرف آگیا‘ چائے کی طلب ہورہی تھی۔ وہاں کوئی بھی نہیں تھا‘ سارے ملازم شاید سونے جاچکے تھے۔ ’’ابھی تو صرف دس ہی بجے ہیں۔‘‘ اس نے گھڑی دیکھی۔
’’مانی…‘‘ اس نے وہیں کھڑے کھڑے بہن کو آواز دی۔
’’جی بھائی؟‘‘
’’پلیز ایک کپ چائے بنا دو بہت طلب ہورہی ہے۔‘‘
’’بھائی آپ کو بھی ناں‘ آدھی رات کو ہی چائے چاہیے ہوتی ہے۔‘‘ ایاز عام طور پر اس سے یوں ہی رات کو چائے بنواتا تھا۔
’’کیا شور مچا رکھا ہے تم دونوں نے… تمہارے ابو ڈسٹرب ہورہے ہیں۔‘‘ ان کی آوازیں سن کر مسز افراز کمرے سے باہر آئیں۔
’’سوری امی‘ وہ بھائی کو چائے چاہیے۔‘‘ مانی جلدی سے کچن میں گھس گئی۔
’’اور ایاز… تم ذرا صبح اپنے ابو کو اپنے ساتھ ہاسپٹل لے جانا‘ کافی دن سے بہت کھانسی ہے ان کو‘ ابھی بھی بہت مشکل سے سوئے ہیں۔‘‘ مسز افراز کافی پریشان تھیں۔
’’آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا‘ میں صبح ہی ان کو لے جائوں گا چیک اپ کے لیے۔‘‘
’’وہ سگریٹ بہت پیتے ہیں ایاز… آئے دن کھانسی ہوجاتی ہے اور پچھلے کئی دن سے تو ان کی پوری رات ڈسٹرب گزرتی ہے۔‘‘
’’چلیں امی اب اتنی فکر نہ کریں‘ کل ہی ان کا چیک اپ کروالیں گے۔ اب آپ بھی جاکر آرام کریں۔‘‘ امی کو تسلی ہوئی‘ وہ اپنے کمرے میں چلی آئیں۔ مانی اس کو چائے کا مگ تھما کر جاچکی تھی۔ وہ بھی اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔
خ…خ…خ
’’السلام علیکم امی۔‘‘ آج وہ خلاف توقع صبح جلدی تیار ہوگیا تھا۔
’’جیتے رہو‘ آئو ناشتہ کرلو آرام سے‘ آج تو کافی وقت ہے تمہارے پاس۔‘‘
’’ابو تیار نہیں ہوئے کیا؟‘‘ وہ ناشتے کے لیے بیٹھ گیا۔ ٹوپی اس نے اتار کر پاس ہی رکھ لی تھی۔
’’میں تمہیں بتانے ہی لگی تھی وہ تو صبح صبح فجر کے وقت ہی گائوں چلے گئے تھے منشی آیا تھا کچھ مسئلہ تھا وہاں۔‘‘ مسز افراز ساتھ ساتھ اس کے لیے ناشتہ لگا رہی تھیں۔
’’مگر ان کی تو طبیعت خراب تھی۔‘‘ ایاز کو افسوس ہوا۔
’’میں نے تو بہت روکا مگر یہ جٹ لوگ عورتوں کی سنتے ہی کہاں ہیں۔‘‘ وہ خود بھی پریشان تھیں‘ میاں کی طبیعت دن بدن خراب رہتی تھی۔
’’میری پیاری امی یہ ذات پات نہیں یہ تو وڈیرہ ہونے کی وجہ سے ابو ایسا کرتے ہیں‘ آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں۔‘‘ اس نے جلدی جلدی چائے کے بڑے بڑے گھونٹ بھرے اور جانے کے لیے تیار ہوگیا۔
’’تو بھی اپنے باپ جیسے ہی ہوگا۔‘‘ انہوں نے ایاز کے کندھے پر چپت لگائی۔
’’کوئی شک؟‘‘ اس نے مسکرا کر ماں کے سر پر بوسا دیا اور سر پر ٹوپی رکھ کر باہر نکلنے لگا۔
’’رک تو سہی۔‘‘ مسز افراز نے بیٹے کا بازو تھام کر اسے روکا۔ جلدی جلدی آیتیں پڑھ کر اس پر پھونکیں۔ ’’چل اب جا۔‘‘ ان کی تسلی ہوگئی تھی۔
’’امی جی… میری پیاری ماں یہ جو پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہیں ناں آپ قسم سے میرا مستقبل خراب ہے۔ مجال ہے جو کسی کی بھی نظر مجھ پر پڑ جائے۔‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح ماں کو چھیڑتا ہوا باہر نکل گیا۔
’’اللہ کی امان میں۔‘‘ انہوں نے دعا دی۔
’’امی بھائی چلے بھی گئے؟‘‘ عاطفہ اور مانی ابھی ناشتے کے لیے آئی تھیں۔ مسز افراز نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’مانی ذرا دیکھنا، سورج کس سمت سے نکلا ہے آج جو امی کا لاڈلا وقت پہ آفس چلا گیا۔‘‘ عاطفہ نے ماں کو تنگ کیا۔
’’بھئی ایسا نہ کہو… ابھی کم عمر ہے‘ خود ہی سنبھل جائے گا۔‘‘ وہ لڑکیوں کے لیے کچن میں گھس گئیں۔
خ…خ…خ
’’چلو چلو جلدی اٹھو ورنہ وہ خوفناک لائبریرین آجائے گی ڈانٹنے کے لیے۔‘‘ وہ دھم سے اس کی ساتھ والی کرسی پہ تقریباً گرتے ہوئے قدرے بلند آواز میں بولا۔ کتابوں میں مگن ندرت کا دل دہل گیا۔ اس کو ایاز کے آنے کا پتا ہی نہ چلا تھا۔
’’تم…؟‘‘ وہ ڈر کر ادھر ادھر دیکھنے لگی‘ وہ جب آتا تھا اتنا شور کرتا کہ لوگوں نے اس کی شکایت کردی تھی۔ آخر یہاں سب سکون سے پڑھنے آتے تھے۔
’’مسئلہ کیا ہے آخر تمہارا… اتنا شور کیوں کرتے ہو؟‘‘ وہ اسے سرگوشی میں ڈانٹنے لگی۔
’’تم سے ملنے آتا ہوں اور شور کب کرتا ہوں۔‘‘ وہ ہنوز اونچی آواز میں بولا‘ پاس بیٹھے کچھ لوگ اسے گھور رہے تھے۔
’’ہاں ہاں مجھے معلوم ہے مگر آہستہ تو بول سکتے ہو ناں۔‘‘ وہ شرمندہ ہوئی۔
’’چلو باہر چلتے ہیں‘ مجھ سے آہستہ نہیں بولا جاتا۔‘‘
’’مجھے کہیں نہیں جانا‘ تمہیں نظر نہیں آرہا میں پڑھ رہی ہوں۔‘‘
’’آئس کریم کھا کر آتے ہیں پھر پڑھتی رہنا۔‘‘
’’میری ایک بجے کلاس بھی ہے۔‘‘
’’تو میں تمہیں کالج ڈراپ کردوں گا۔‘‘ وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہ تھا۔
’’مجھے نہیں جانا بھئی…‘‘ وہ زچ ہوئی، اس کے امتحان سر پہ تھے۔
’’مان جائو ناں۔‘‘ وہ اتنی تیز آواز میں بولا کہ لوگ پھر سے اس کو دیکھنے لگے۔ دور سے آتی لائبریرین کو دیکھ کر ندرت کی جان نکل گئی۔
’’چلو…‘‘ اس نے کتابیں سمیٹیں اور دانت پیستی ہوئی اٹھ گئی۔ مزید ذلیل ہونے کا اسے کوئی شوق نہ تھا۔
ایاز کیپ سر پر جماتا کھڑا ہوا‘ اس نے پاس آتی لائبریرین کو زور دار سلیوٹ کیا‘ بے چاری نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرادیں۔
’’گھٹیا انسان…‘‘ ندرت زیرلب بڑبڑائی۔
’’کافی اوچھے ہتھکنڈے آتے ہیں جناب کو۔‘‘ وہ باہر نکلتے ہی بولی‘ وہ مزے سے چلتا رہا۔
’’ایاز…‘‘ اس کو ایاز کی بے نیازی پہ غصہ آیا۔
’’جی جناب۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’آئندہ ایسی فضول حرکتیں کیں ناں تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔‘‘
’’تم جلدی سے اٹھ جایا کرو۔ میں تنگ نہیں کروں گا۔‘‘ ایاز ہنس دیا۔
’’چلو اب جلدی سے بیٹھ جائو‘ آئس کریم کے بعد تمہیں ڈراپ بھی کرنا ہے اور میری ٹی بریک ہرگز اتنی لمبی نہیں ہوتی۔‘‘ ندرت کو اس کی بے تکلفی پہ ہنسی آگئی۔ وہ بھی ہنس دیا۔
یہ لڑکا ندرت کے دل کو بھا گیا تھا۔
خ…خ…خ
’’ایاز…‘‘ عرشہ اسے ڈھونڈتی ہوئی ٹی وی لائونج میں آئی۔
’’جی۔‘‘ وہ کوئی پروگرام دیکھنے میں محو تھا‘ بڑے دنوں بعد اس کی آج نہ شام کی نہ رات کی ڈیوٹی تھی۔
’’ابو تمہیں بلا رہے ہیں۔‘‘ وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئی‘ اس کے آخری دن چل رہے تھے۔ تھوڑا سا بھی چلتی تو تھک جاتی تھی۔ ایاز نے فکر مندی سے اسے دیکھا۔
’’تم کچھ زیادہ ہی موٹی نہیں ہوگئی ہو اس دفعہ۔‘‘
’’فضول نہ بولو… جب اپنی اولاد ہوگی تب پوچھوں گی بیوی کتنی موٹی ہے۔‘‘ عرشہ پہلے ہی اپنے وزن سے تنگ تھی بھائی کے چھیڑنے پر چڑ گئی۔
’’جائو ابو بلا رہے ہیں کب سے، سارا دن وقت ضائع کرتے رہتے ہو۔‘‘ ایاز کو اس ڈانٹ پر ہنسی آگئی۔
’’خیر ہے ناں؟ تم نے کوئی شکایت تو نہیں لگائی۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔
’’ہاہاہا‘ فکر نہ کرو ڈانٹ نہیں پڑنے والی‘ ویسے تو پڑنی چاہیے تمہاری لاپروایوں پر مگر ابھی تو شاید کسی کام سے بلا رہے ہیں۔‘‘ وہ بھی ہنس دی۔
وہ ایاز کی لاابالی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھی۔ اس کی آوارہ گردی عرشہ سے پوشیدہ ہرگز نہ تھی‘ دونوں اوپر تلے کے جو تھے‘ ایاز اپنی تقریباً ہر بات عرشہ سے شیئر کرتا تھا۔
’’او یار… شریف سا بندہ ہوں۔ تم مجھے خوامخواہ بدنام کرتی ہو۔‘‘ وہ ہنستا ہوا ابو کے کمرے کی طرف چل دیا۔
’’اندر آجائوں ابو؟‘‘ اس نے افراز صاحب کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
’’ہاں ہاں… آجا پتر۔‘‘
’’آپ نے بلایا تھا ابو؟‘‘ وہ اندر داخل ہوکر بولا۔
’’ہاں یار بیٹھو۔‘‘ انہوں نے ایاز کو اپنے پاس کرسی پر بٹھا لیا۔
’’یار آج واجد کے گھر سیاسی لوگوں کا کھانا ہے تو جانتا ہے ناں واجد کو؟‘‘ انہوں نے بات شروع کی۔
’’جی ابو۔‘‘
’’اس دفعہ وہ کچھ کمزور جارہا ہے سیاسی سرگرمیوں میں‘ آج میں نے سب کو کہا تھا جمع ہونے کے لیے‘ کافی ڈسکشن کرنا تھیں‘ چلو وہ تو بعد میں بھی ہوسکتی ہیں مگر اچھا نہیں لگتا کہ میں ہی سب کو جمع کرنے کے لیے کہوں اور خود ہی نہ جائوں۔‘‘ وہ اتنا بولتے ہوئے بھی تھکے تھکے سے لگے ایاز کو۔
’’ابو آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ ایاز کو باپ کی فکر ہوئی۔
’’ہاں ہاں… بس ذرا طبیعت مائل نہیں ہورہی باہر نکلنے کو‘ تھکاوٹ سی محسوس ہورہی ہے‘ میرا دل تھا کہ تم میری جگہ چلے جاتے‘ ذرا حاضری لگ جاتی۔‘‘
’’اچھا ابو چلا جائوں گا مگر مجھے آپ کی طبیعت زیادہ خراب لگ رہی ہے۔‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں‘ آج ہی گائوں سے آیا ہوں نہ تو تھکن ہوگئی ہے اور یہ کھانسی بھی آرام نہیں کرنے دیتی۔‘‘ تھکن ان کے چہرے سے ہویدا تھی۔
’’ابو پہلے بھی آپ نے چیک اپ نہیں کروایا اور گائوں چلے گئے‘ آج بھی آپ یہی کررہے ہیں‘ لاپروائی سے بیماری بڑھ جاتی ہے‘ آپ ابھی اٹھیں، میں آپ کو ہوسپٹل لے جاتا ہوں۔‘‘
’’نہیں یار… ایسا کچھ بھی نہیں‘ بس جب وہاں جائو گے تو ہر بات کو نوٹ کرتے رہنا اور کچھ بولنے کی ضرورت نہیں‘ میں پوری رپورٹ لوں گا تم سے۔‘‘ انہوں نے ایاز کو چپ کروا دیا۔
’’ابو جانا کب ہے؟‘‘ ایاز سمجھ گیا تھا کہ ابو کے دماغ پر سیاست چڑھی ہوئی ہے اس وقت۔
’’آج ہی جانا ہے… رات کو نو بجے کے بعد۔‘‘ انہوں نے بتایا۔
’’آج… اوہ؟‘‘ وہ چپ ہوگیا۔
’’کیوں آج کوئی ڈیوٹی ہے تمہاری۔‘‘ افراز صاحب کو خیال ہی نہیں رہا تھا کہ اس کی ڈیوٹی بھی ہوسکتی تھی۔
’’نہیں ابو‘ ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘
’’تو پھر؟‘‘
’’کچھ نہیں ویسے ہی‘ میں چلا جائوں گا۔‘‘
’’نہیں کچھ تو ہے، بتائو…‘‘ وہ ایاز سے واقف تھے۔
’’وہ اصل میں بلال اور عامر کو کہا تھا کہ ساتھ کھانا کھائیں گے۔ آج کافی دن کے بعد ہماری شام کی چھٹی تھی۔‘‘ ایاز جھجکتے ہوئے بولا۔
’’تو ان دونوں کو بھی ساتھ لے جائو‘ بڑی کھلی ڈلی پارٹی ہے۔ بیورو کریٹس بھی آئے ہوئے ہوں گے… کافی کچھ ہوگا وہاں‘ ذرا تم لوگوں کو بھی تجربہ ہوجائے گا اس قسم کے ماحول کا مگر اوقات میں رہنا، زیادہ مستی نہ کرنا۔‘‘ افراز صاحب معنی خیز انداز میں بولے۔
ایاز کو ہنسی تو بہت آئی مگر دبا گیا۔ وہ خوب جانتا تھا ایسی محفلوں میں کیا ہوتا۔ بلال اور عامر کے ساتھ وہ بارہا ایسی محفلوں میں گیا تھا۔ کمرے میں آتے ہی اس نے بلال کو فون کھڑکا دیا۔
’’فوراً تیار ہوجا زبردستی پارٹی کا دعوت نامہ ہے میرے پاس۔‘‘
’’اچھا… چل ٹھیک ہے‘ عامر کو فون کردیا؟‘‘ بلال فوراً مان گیا۔
’’ابھی کرتا ہوں۔‘‘ ایاز بولا۔
’’جانا کب ہے؟‘‘ بلال شام کا سوچ رہا تھا۔
’’یار جانا ذرا دیر سے ہے‘ تو تو جانتا ہے ایسی محفلیں ذرا دیر سے ہی شروع ہوتی ہیں۔‘‘
’’اوکے ایاز مگر شاید عامر نہ جا پائے۔ اس نے شام ہمارے ساتھ گزار کر رات کو اسماء کو باہر لے کر جانا تھا۔‘‘ بلال نے اس کی گرل فرینڈ کا بتایا۔
’’تو کوئی بات نہیں اگر وہ چاہے تو اسماء سے بھی پوچھ لے۔‘‘
’’ہاں یہ ٹھیک ہے اچھا تو اپنی والی کو لارہا ہے؟‘‘ بلال نے ایاز سے پوچھا۔
’’میری والی…! وہ کون ہے بھئی؟‘‘ ایاز کی سمجھ میں نہیں آیا۔
’’وہی پی سی والی‘ وہ مریضہ جس پہ شرط لگائی تھی۔‘‘ بلال ہنس کر بولا۔
’’وہ… ندرت؟ ارے نہیں‘ اس سے ایسی کوئی بے تکلفی نہیں ہے بھائی۔‘‘ ایاز نے بہانہ کردیا‘ جانے کیوں وہ ندرت کے لیے کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں سننا چاہتا تھا۔
’’کیوں گرل فرینڈ نہیں ہے تیری؟‘‘ بلال کو تجسس ہوا۔ وہ جانتا تھا ایاز ندرت سے ملتا ہے مگر ایاز کبھی اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا تھا۔
’’نہیں یار‘ شرط کے بعد بس سلام دعا ہی رکھی ہے اس نے۔‘‘ ایاز کنی کترا کر رات کا پلان بنانے لگا۔
خ…خ…خ
ندرت نے ایک بار پھر گھڑی دیکھی‘ ساڑھے گیارہ کا وقت تو کب کا گزر چکا تھا‘ وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔
’’وہ آج آیا نہیں؟‘‘ لائبریرین مسز صفدر جانے کب اس کے پیچھے کی کتابوں کے ریک کے پاس کھڑی تھیں۔
’’یہ کب آئیں؟‘‘ ندرت نے سوچا۔
’’ویسے تو وہ روز تقریباً ساڑھے گیارہ کے لگ بھگ ہی آتا ہے۔‘‘ وہ پھر بولیں۔
’’کون میڈم؟‘‘ ندرت نے ظاہر کیا جیسے اس کو معلوم ہی نہ ہو کہ مسز صفدر کس کی بات کررہی ہیں۔
’’وہی تمہارا لال ٹوپی والا آرمی مین۔‘‘ وہ مسکرائیں۔
’’وہ روز تو نہیں آتا میڈم۔‘‘ ندرت شرمندہ ہوئی۔
’’ویسے مجھے تو روز سلیوٹ کرتا ہے بلا ناغہ۔‘‘ مسز صفدر مسکرا کر جانے ہی لگی تھیں کہ وہ آدھمکا۔
’’لڑکے… تم آج لیٹ ہو۔‘‘ اس کے سیلوٹ کے جواب میں مسز صفدر نے اسے سرزنش کی۔
’’کیا کوئی میرا انتظار کررہا تھا؟‘‘ ایاز نے شرارت سے چمکتی نگاہوں سے ندرت کی جانب دیکھا۔
’’جی نہیں… میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں کہ میں انتظار کرنے پہ ضائع کروں۔‘‘ ندرت کھسیا کر بولی۔
’’ارے میڈم… کیا میں نے ندرت سے پوچھا؟‘‘ ایاز نے مسز صفدر سے شرارت سے پوچھا۔ ’’میں تو آپ سے پوچھ رہا تھا۔‘‘ مسز صفدر کو اس کی شرارت پر ہنسی آگئی۔
’’سوچ کر کیپٹن، مزید تنگ کرو گے تو منانے میں زیادہ مشکل ہوگی۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے چلی گئیں۔ ایاز ندرت کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ ندرت برا سا منہ بنا کر اپنی کتابوں میں گھس گئی۔
’’اتنا بھی لیٹ نہیں ہوا۔‘‘ ایاز نے گھڑی والی کلائی اس کی آنکھوں کے سامنے کی۔
’’مجھے کیا پروا… میں کون سا انتظار میں بیٹھی تھی۔‘‘ اس نے جل کر ایاز کی کلائی پرے دھکیلی۔
’’قسم سے ندرت بہت مریض تھے‘ جلدی جلدی سب کو دیکھا‘ تم تو جانتی ہو میں مریضوں سے لاپروائی نہیں کرسکتا‘ تم تو میری اپنی ہو ناں؟‘‘ اس نے پیار سے ندرت کو سمجھایا۔
’’ہاں مگر میں کب سے ویٹ کررہی تھی۔‘‘ وہ فوراً ہی مان گئی۔ وہ زیادہ دیر ناراض نہیں رہتی تھی۔ ایاز کو اس کی معصومیت پہ پیار آگیا۔ انتظار نہ کرنے کا دعویٰ وہ بھول چکی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے ندرت کے قریب آتا جارہا تھا۔
’’سنو…‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔
’’تم اپنی ڈیوٹی کسی اور ڈپارٹمنٹ میں نہیں لگواسکتے‘ جہاں مریض نہ ہوں۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’مثلاً ایسا کون سا ڈپارٹمنٹ ہوتا ہے ڈاکٹرز کے لیے؟‘‘ ایاز ہنس دیا۔
’’کیوں بھئی؟ ہوتا ہی ہوگا‘ آخر ہاسپٹل کی منیجمنٹ بھی تو ہوتی ہوگی کوئی، ایم ایس جیسے ہوتے ہیں؟‘‘ اس نے سوچ کر کہا۔
’’ہاہاہا… ابھی تو میں ہائوس جاب کررہا ہوں پاگل‘ یہ تو بہت سنیئر لوگوں کی پوسٹ ہوتی ہے‘ میری تو ابھی پوسٹنگ ہوگی کسی دور دراز علاقے میں۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’تمہاری پوسٹنگ بھی ہوجائے گی؟‘‘ ندرت کا دل بیٹھ گیا۔
’’اوہو… شکل پہ بارہ کیوں بج گئے۔ ابھی تو بہت مہینے پڑے ہیں۔‘‘
’’مگر ہوگی تو سہی ناں؟‘‘ وہ اداس ہوئی۔
’’ہاں ہوگی مگر اداس ہونے کی ضرورت نہیں‘ جب ہوگی دیکھا جائے گا‘ تم اب پڑھو‘ میں چلتا ہوں‘ ایک ہجوم مریضوں کا بلال اور عامر کے سر پر چھوڑ کر آیا ہوں۔‘‘
’’اتنی جلدی… ابھی تو آئے ہو‘ جانے بھی لگے ہو؟‘‘ وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔
’’نہ جائوں؟‘‘ ایاز نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’پکا؟‘‘ ایاز نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
’’ہاں پکا۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’بس ٹھیک ہے۔‘‘ وہ بھی مسکرا دیا۔
’’لیکن اگر ضروری ہے تو…‘‘
’’پہلی دفعہ تم نے روکا ہے‘ اب کیسے جائوں۔‘‘ کرسی پر واپس پھیل کر بیٹھ گیا۔
’’لیکن…‘‘
’’بس اب تو جانا ہی نہیں۔‘‘ ایاز نے ندرت کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔ وہ خوشی سے ہنس دی… ایاز نے نہایت محبت سے اسے دیکھا۔
’’تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔‘‘ وہ یک دم بولا۔ ندرت کو شرم آگئی‘ وہ شرم سے سرخ ہوگئی۔
’’اور کیوٹ بھی۔‘‘ وہ اس کے شرمانے پہ ہنس دیا۔
’’نہ کرو ناں ایاز۔‘‘ اس کا چہرہ گلابی ہوا۔
’’اچھا بابا… نہیں کرتا‘ مزے کی بات سناتا ہوں۔‘‘ اس نے بات بدل دی۔
’’ہاں سنائو‘ باہر لان میں چلتے ہیں۔‘‘ دونوں کتابیں لے کر باہر آگئے۔
’’اب بتائو…‘‘ گھاس پر بیٹھ کر ندرت نے پوچھا۔
’’کل رات تمہارے پاپا سے ملاقات ہوئی۔‘‘ وہ مزے سے بولا۔
’’ہیں…! کب… کہاں؟‘‘ ندرت کو جھٹکا لگا۔ اس دن پھولوں اور کارڈ والے واقعے کے بعد پاپا کو ایاز کچھ پسند نہیں آیا تھا۔
’’ایک سیاسی فنکشن پہ گئے تھے بلال‘ عامر اور میں… جانا تو میرے ابو کو تھا مگر ان کی طبیعت خراب تھی تو میں ان کی جگہ گیا تھا۔ یار کیا پارٹی تھی‘ فل ٹائم عیاشی پروگرام‘ شراب شباب اور کھانا پینا بے بہا… ہم تو حیران ہی رہ گئے۔‘‘
’’ایاز تم شراب پیتے ہو؟‘‘ ندرت کو اور کچھ سنائی نہیں دیا۔
’’پیتا تو ہوں مگر…‘‘ ایاز نے وقفہ دیا… ندرت کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’کوک… ہاہاہاہا… پاگل لڑکی میں کوک پیتا ہوں‘ شراب نہیں۔‘‘ وہ ہنس دیا‘ ندرت کی جان میں جان آئی۔
’’بڑے بدتمیز ہو‘ جان ہی نکال دی…‘‘ ندرت نے اس کے بازو پہ مکا مارا۔
’’ویسے عامر اور بلال نے چکھی تھی تھوڑی تھوڑی… ہر چیز ٹرائی تو کرنا چاہیے ناں؟‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ ندرت ناراض ہوئی۔
’’عامر کی گرل فرینڈ بھی بہت ناراض ہوئی تھی۔‘‘ ایاز نے اسے بتایا۔
’’ان کی گرل فرینڈ بھی ہے کیا؟‘‘ ندرت نے پوچھا۔
’’ہاں ناں‘ وہ بھی آئی ہوئی تھی۔‘‘
’’تو کیا وہ اپنی گرل فرینڈ کو بھی ساتھ لے کر جاتے ہیں؟‘‘ ندرت کو تجسس ہوا۔
’’وہ کافی شوقین ہے اس طرح کی گید رنگ کے۔‘‘ ایاز بولا۔
’’ایاز مجھے بھی لے کر جانا ناںکبھی‘ میں کبھی نہیں گئی ایسی کسی جگہ۔‘‘ اس نے پُرشوق لہجے میں کہا۔
’’تم میری گرل فرینڈ ہو کیا؟‘‘ ایاز نے اسے غور سے دیکھا۔
’’نہیں ہوں؟‘‘ اس نے الٹا ایاز سے سوال کیا۔ یوں تو ندرت کے بہت سے دوست احباب تھے مگر ایاز اسے سب سے جدا لگتا تھا‘ وہ ندرت کے لیے بہت اہم ہوگیا تھا۔
’’نہیں… تم میری گرل فرینڈ نہیں ہو۔‘‘ اس نے دو ٹوک جواب دیا۔
’’تو پھر کیا ہوں اور یہ سب ملنا کیا ہے؟‘‘ ندرت دکھی ہوئی۔
’’یہ جو کچھ بھی ہے مگر افیئر ہرگز نہیں۔‘‘ اس لمحے ایاز سخت گیر سا لگا ندرت کو۔
’’تم مجھے کہیں بھی ساتھ نہیں لے کر جائو گے؟‘‘
’’ایسی جگہوں پر تو ہرگز نہیں لے کر جائوں گا‘ ہاں اگر گرل فرینڈ بنا لیا تو لے جائوں گا‘ اب سنو کیا بتا رہا ہوں۔‘‘ اس نے موضوع بدلا۔
’’ہاں بتائو۔‘‘ وہ سخت شرمندگی محسوس کررہی تھی‘ آخر ایاز اس سے کس حیثیت سے ملتا تھا؟ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
’’سن رہی ہو؟‘‘ ایاز کی آواز پر وہ چونکی۔
’’ہاں بولو، کیا بتا رہے تھے؟‘‘ اس نے توجہ ایاز کی باتوں پر لگائی۔
’’یار تمہارے پاپا آئے ہوئے تھے وہاں‘ میرا تو دم نکل گیا ان کو وہاں دیکھ کر۔‘‘ ایاز کی بات پر ندرت نے ڈر کر اسے دیکھا۔
’’کیا…پاپا… وہ وہاں کیوں تھے؟‘‘ وہ حیرت سے بولی۔
’’یہ تو پتا نہیں مگر سارا ٹائم ان سے چھپتا پھرا…‘‘ اسے اپنی رات کی حرکات یاد آئیں تو اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’پاگل انسان اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے‘ پاپا پہلے ہی تم پر خفا ہیں‘ برا امپریشن ہے تمہارا ان پر اب اور بھی برا ہو جائے گا‘ تمہیں دیکھا تو نہیں انہوں نے۔‘‘ ندرت کو فکر ہوئی۔
’’دیکھا تو تھا مگر میں وہاں سے غائب ہوگیا‘ بات نہیں کی۔‘‘ ایاز بھی سنجیدہ ہوگیا۔
’’اف ایاز… اگر دیکھ لیا تھا تو سلام تو کرلیتے‘ اب کیا سوچیں گے وہ تمہارے بارے میں۔‘‘ ندرت پریشان ہوئی۔
’’اوئے منہ نہ بنائو‘ کچھ نہیں ہوتا‘ کون سا مجھے ان سے روز ملنا ہے۔‘‘ ایاز کی باتوں پہ ندرت اسے دیکھتی رہ گئی۔ ’’پتا نہیں یہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔‘‘ اس کو ایاز کی باتیں عجیب سی لگیں مگر وہ چپ رہی‘ ایاز اس کو دعوت کے قصے سناتا رہا مگر ندرت کا دھیان ہی کب تھا اس کی باتوں پہ‘ دل تو اس الجھن میں تھا کہ کیا ایاز اس سے صرف ایک دوست کی حیثیت سے ملتا ہے کیونکہ وہ تو ایاز کو چاہنے لگی تھی۔
خ…خ…خ
’’ماما… ایاز آرہا ہے‘ میں اس کے ساتھ مووی دیکھنے جارہی ہوں۔‘‘ ندرت بالوں کی پونی بناتے ہوئے مسز صدیقی سے بولی۔
’’سوچ لو ندرت، تمہارے پاپا کو ایاز بالکل پسند نہیں‘ وہ مجھ سے کئی بار کہہ چکے ہیں۔‘‘ انہیں اپنے میاں کی بات یاد تھی اس لیے پیار سے اپنی گڑیا سی بیٹی کو سمجھایا۔
’’ماما پلیز… آپ پاپا کو سمجھائیں ناں‘ ماما آئی لو ایاز۔‘‘ وہ ماں کے گلے میں لاڈ سے جھول گئی۔
’’اچھا ڈارلنگ… تمہارے لیے میں ٹرائی کروں گی‘ تم تیار ہوجائو‘ ویسے واپس کب تک آئوگی؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’آٹھ بجے تک آجائوں گی‘ پاپا کے آنے سے پہلے۔‘‘ ہارن کی آواز پہ وہ ماں کا ماتھا چوم کر باہر بھاگ گئی۔
’’وائو…‘‘ ایاز نے اس کی کیوٹ سی شکل کو ستائشی نگاہوں سے دیکھا۔
’’اے مسٹر… نظر نہ لگا دینا۔‘‘ وہ ہنس دی۔
’’پیار کی نظر نہیں لگتی… چل آجا۔‘‘ ایاز نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
’’جناب پاپا کہتے ہیں پیار کی نظر زیادہ لگتی ہے۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔ ’’اور میں تو پیاری بھی بہت ہوں۔‘‘ وہ شوخ ہوئی۔
’’خیر اب اتنی بھی پیاری نہیں ہو۔‘‘ ایاز نے اسے چھیڑا۔ وہ کھل کھلا کر ہنس دی۔
’’تمہیں تو لگتی ہوں ناں؟‘‘ ایاز مسکرادیا۔
خ…خ…خ
’’افراز سنیں۔‘‘ سنبل نے میاں کو متوجہ کیا۔
’’جی جناب حکم۔‘‘ افراز صاحب نے مڑ کر بیوی کو دیکھا‘ وہ کمرے میں آکر ان کے پاس ہی بیٹھ گئیں۔
’’زیادہ اچھے نہ بنیں‘ بڑا جیسے میری ہر بات مانتے ہیں۔‘‘ وہ میاں کے انداز پہ ہنس دیں۔
’’ارے بات تو کرکے دیکھو‘ سب تو مانتا ہوں۔‘‘ وہ بھی مسکرا دیے۔
’’اچھا مذاق چھوڑیں‘ یہ جو ہماری عرشہ ہے ناں‘ دو تین بار باتوں باتوں میں اپنی نند کا ذکر کرچکی ہے۔‘‘ وہ میاں سے بولیں۔
’’کس بارے میں؟‘‘ افراز صاحب نے پوچھا۔
’’ایاز کے اور عرشہ کی نند کے رشتے کے بارے میں۔‘‘
’’عرشہ نے کچھ کہا ایسا؟‘‘ اب افراز صاحب مکمل طور پر متوجہ ہوئے۔ بات عرشہ کے سسرال کی تھی۔
’’مجھے تو لگتا ہے اس کی ساس اس پر زورڈال رہی ہیں۔ کل بھی عرشہ نے دبے دبے بات شروع کی تھی۔ ورنہ عرشہ ایسی باتوں کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتی۔‘‘ سنبل اپنے سب بچوں کی عادات جانتی تھیں۔
’’رشتہ تو برا نہیں‘ اپنی برادری کے لوگ ہیں‘ ہماری عرشہ خوش ہے وہاں اور وہ بچی بھی اچھی ہے مگر ایاز ابھی اتنا سمجھدار نہیں کہ شادی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔‘‘ افراز صاحب سوچ میں پڑگئے۔
’’آپ صحیح کہہ رہے ہیں‘ ابھی ایاز کی عمر ہی کیا ہے‘ بائیس تئیس سال کی عمر بھی کوئی عمر ہوتی ہے‘ لڑکوں کی شادی کی۔ ابھی تو وہ پڑھے گا مزید، ویسے بھی یہ وٹہ سٹہ ہوجائے گا۔‘‘ سنبل کے دل کو یہ رشتہ کچھ بھا نہیں رہا تھا۔
’’خیر وٹہ سٹہ تو اچھی بات ہے‘ داماد بھی کنٹرول میں رہے گا اور بیٹا بھی۔‘‘ وہ اس رشتے کے حق میں لگ رہے تھے۔
’’مجھے تو ڈر لگتا ہے ایسے رشتوں سے… ویسے تو لڑکی خوب صورت ہے اور اپنی عاطفہ کی ہم عمر ہے‘ ایاز سے جوڑ بھی صحیح ہے مگر پتہ نہیں کیوں میرا دل مائل نہیں ہورہا۔‘‘
’’خیرپر یشانی کی کوئی بات نہیں‘ اگر یہ رشتہ ہوجائے۔ ہماری زمینیں بھی سانجھی ہوجائیں گی لیکن ابھی اس بات کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ لڑکے کے عیاشی کرنے کے دن ہیں۔ موج میلہ کرلے کچھ عرصہ پھر کریں گے اس کی شادی۔‘‘
’’تو اب کیا کرنا ہے؟‘‘
’’تم ذرا ایاز سے بات کرو اور اس کی مرضی معلوم کرو اگر وہ مان جاتا ہے تو بات پکی کردیں گے۔‘‘
’’اللہ کرے عرشہ کو کوئی مسئلہ نہ ہو اگر ایاز نہ مانا تو‘ ابھی وہ شادی کرنے کے موڈ میں تو نہیں لگتا۔‘‘ دونوں میاں بیوی باتیں کرتے رہے۔ رات کو ہی سنبل نے ایاز سے بات کی۔
’’امی یار… یہ کیا دماغ میں آگیا ہے آپ کے۔‘‘ وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گیا۔
’’مجھے نہیں کرنی یہ شادی وادی… ابھی تو میری ہائوس جاب شروع ہوئی ہے‘ آپ نے یہ سوچا ہی کیوں؟‘‘
’’عرشہ نے دبے لفظوں میں کہا تو میں نے سوچا…‘‘ وہ بولیں۔
’’عرشہ کو تو میں صحیح کرتاہ وں ابھی۔ اپنی نند کو کسی اور کے سر منڈے۔‘‘ اس نے موڈ آف کرلیا تھا۔
’اچھا تمیز سے بات کرو‘ ہم کون سا ابھی کرنے جارہے ہیں تمہارا رشتہ‘ ایک بات ہی تو کی ہے۔‘‘ مسز افراز نے اسے ڈانٹا۔
’’امی پلیز… ابھی اس قسم کی کوئی بات نہ شروع کریں پلیز۔‘‘ اس نے ماں سے التجا کی۔
’’نہیں کرتی بھئی‘ تم تو خوامخواہ ہی موڈ آف کررہے ہو۔‘‘ وہ اٹھ گئیں۔ ایاز تیر کی طرح عرشہ کے کمرے کی طرف گیا۔
’’تم ناں ذرا اپنے پلانز کو کنٹرول کرو‘ اپنی نند کو کسی اور سے بیاہ دو اچھا‘ میں کوئی فالتو کا نہیں ہوں۔‘‘ وہ کمرے میں گھستے ہی عرشہ سے لڑنے لگا۔
’’اف اتنا غصہ… امی نے کچھ کہہ دیا۔‘‘ وہ ہنس دی۔
’’زیادہ چالاک نہ بنو‘ تم سب جانتی ہو‘ پلیز یار… یہ فضول کے چکر نہ شروع کردینا۔‘‘ اس نے منت کی۔
’’اچھا بابا‘ کچھ نہیں ہوگا‘ میں نے تو بائے ویسے ہی بات کی تھی۔‘‘ وہ عاشی کو گود سے اتار کر ایاز کے پاس آگئی۔
’’عرشہ تمہاری ساس مائنڈ کریں گی؟‘‘ وہ بہن کے لیے پریشان بھی ہوا مگر وہ اس رشتہ پہ کبھی راضی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ندرت کا چہرہ آگیا۔
’’پاگل میری فکر نہ کرو‘ یہ تو صرف ایک آئیڈیا تھا‘ میرا سسرال ایسا نہیں‘ تم پریشان نہ ہو نا۔‘‘ عرشہ کو بھائی کی فکر پر پیار آگیا‘ ان کا اکلوتا بھائی سب کا لاڈلا پھر بھی سب کے جذبات کی فکر کرتا تھا۔
’’پکا؟‘‘
’’بالکل…‘‘ اس نے عاشی کو ایاز کی گود میں دیا تو ایاز مطمئن ہوگیا۔
خ…خ…خ
’’ایاز…؟‘‘ ندرت نے کولڈ ڈرنک کا ایک گھونٹ بھرا اور پھر ایاز کی طرف دیکھا۔
’’ہوں۔‘‘ وہ ابھی بھی اپنے فون پر مصروف تھا۔
’’سنو ناں۔‘‘ اس نے ایاز کا کندھا ہلایا‘ وہ کب سے ایاز کی توجہ چاہ رہی تھی مگر وہ اپنے فون کے ساتھ لگا ہوا تھا۔
’’سن رہا ہوں… تم بولو۔‘‘ اس کا دھیان اب بھی فون پہ ہی تھا۔ ندرت نے اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا۔
’’یار… کیا کرتی ہو۔‘‘ ایاز نے فون واپس لینا چاہا۔
’’اب تو سنو گے ناں؟‘‘ ندرت نے فون پر گرفت سخت کرلی۔
’’اچھا بولو‘ کون سا مسئلہ کشمیر ہے جو تم اتنی بے تاب ہورہی ہو۔‘‘ ایاز نے جل کر پوچھا۔ ’’عامر کے اتنے مزے کے میسج آرہے تھے۔‘‘
’’تمہیں اپنے دوستوں کی پڑی ہوئی ہے میری جان پہ بنی ہوئی ہے۔‘‘ ایاز نے غور سے اسے دیکھا۔ وہ کچھ پریشان لگ رہی تھی۔ ایاز پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’کیا بات ہے ندرت… سب ٹھیک تو ہے؟‘‘
’’ایاز… کل پاپا ناراض ہورہے تھے۔‘‘
’’کس بات پہ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تم سے ملنے پہ… آج تک انہوں نے مجھے کبھی کسی سے ملنے پہ کوئی روک ٹوک نہیں کی مگر جب بھی تمہارا ذکر آتا ہے ان کا موڈ آف ہوجاتا ہے‘ کل ممی نے ان کو سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کریں مگر وہ تو باقاعدہ خفا ہوگئے‘ مجھے بلا کر ڈانٹ دیا۔‘‘ ندرت کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
’’مگر یار… میں نے تو آج تک کوئی غلط حرکت نہیں کی‘ ہم اچھے فرینڈز کی طرح ملتے ہیں‘ ان کو کس بات کا اعتراض ہے؟ تمہاری تو فیملی دوستی کو مائنڈ نہیں کرتی تم نے خود بتایا تھا۔ میں نے کبھی اپنی حد پار نہیں کی۔‘‘ ایاز کو صدیقی صاحب کا اعتراض سمجھ میں نہیں آیا۔
’’وہ کچھ بتاتے بھی نہیں‘ بس یہی کہتے رہے کہ ان کو میرا تم سے ملنا بالکل پسند نہیں۔‘‘ ندرت بولی۔
’’ارے کچھ نہیں ہوتا‘ خود ہی مان جائیں گے۔‘‘ ایاز لاپروائی سے بولا۔
’’اب دیکھو ناں‘ ان کی بیٹی ایک لڑکے کے ساتھ گھومے پھرے گی تو وہ برا تو مانیں گے ناں‘ ہم تھوڑی احتیاط برت لیں گے اوکے؟‘‘ ایاز نے حل بتایا۔
’’اور اگر وہ پھر بھی خفا رہے… یوں کب تک چلے گا؟‘‘
’’چل جائے گا‘ جب تک ہم چلائیں گے۔‘‘ ایاز مذاق میں ہنس دیا۔
’’پلیز ایاز… میں سیریس ہوں۔‘‘
’’یار ایک تو تم لڑکیوں کی یہ بڑی خراب عادت ہے‘ ہر بات کو سیریس لے لیتی ہو۔‘‘ ایاز مذاق کے موڈ میں تھا۔
’’اگر انہوں نے تم سے ملنے سے منع کردیا تو؟‘‘ وہ اپنی ہی پریشانی میں تھی۔ اس کو ایاز کا مذاق برا لگا۔
’’تو نہ ملنا مجھ سے… اور کیا۔‘‘ ایاز نے اسے چھیڑا۔
’’اچھا اگر تم سے ملنا چھوڑ دیا تو تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا؟‘‘ ندرت کو غصہ آنے لگا۔
’’فرق تو بہت پڑے گا‘ تم میری اکلوتی لڑکی دوست ہو‘ تم نے ملنا چھوڑ دیا تو مجبوراً کوئی اور ڈھونڈنا پڑے گی‘ دیکھو ناں تمہاری مجھے عادت ہوگئی ہے۔‘‘
’’میں تم کو جان سے مار دوں گی کیپٹن ایاز۔‘‘ ندرت کو آگ لگ گئی۔
’’ارے ارے… یہ تو سراسر زیادتی ہے‘ منع تمہارے پاپا کریں اور جان میری جائے۔‘‘ ایاز مسکین سا منہ بنا کر بولا۔
’’پلیز ایاز… سیریس ہوجائو‘ میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ بے بسی سے ندرت کی آنکھوں میں آنسو آگئے‘ اس کی نم آنکھیں دیکھ کر ایاز سنجیدہ ہوا۔
’’ایسا بھی کیا ہوگیا ندرت؟‘‘ اس نے ندرت کی ٹھوڑی اوپر کی۔
’’پاپا بہت سیریس تھے ایاز‘ میں نے انہیں کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا۔‘‘
’’ندرت اگر انہوں نے تمہیں منع کردیا تو تم مجھ سے ملنا چھوڑ دوگی کیا؟‘‘ اب ایاز بھی پریشان ہوگیا تھا۔ وہ تو اس بات کو مذاق ہی سمجھ رہا تھا۔
’’تم ہی بتائو میں کیا کروں؟‘‘ وہ رو دینے والی ہوئی۔
’’سنو ندرت… پچھلے دو مہینوں سے ہم اکثر ساتھ رہے ہیں اور تم سے دور رہنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا… اس لیے پلیز ایسی باتیں نہ کرو۔‘‘ ایاز کا یہ لہجہ ندرت نے پہلی بار سنا تھا۔ وہ سب کچھ بھول کر اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگی۔ کتنا بے چین ہوگیا تھا وہ ندرت کی باتوں سے۔ ندرت کو اس پر بہت پیار آیا۔ اس کا دل سکون پا گیا۔
’’اے مسٹر…‘‘ اس نے پیارے سے اس شخص کو پکارا۔
’’لگتا ہے تمہیں مجھ سے پیار ہوگیا ہے۔‘‘
’’تمہیں اب تک صرف لگتا ہے؟‘‘ اسے ندرت پہ غصہ آیا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’پیار ہے تو یوں ہر وقت تمہارے پیچھے پاگل ہوا پھرتا ہوں‘ ورنہ میرا دماغ خراب ہے جو یوں اس وقت پریشان بیٹھا ہوں اور جنابہ کو ابھی صرف لگتا ہی ہے۔‘‘ ندرت حیران رہ گئی۔
’’اتنی بڑی بات کوئی ایسے کہتے ہیں کسی لڑکی سے؟‘‘ ندرت نے اسے جھنجوڑا۔
’’تو اتنے دن سے تم کیا سمجھ کر میرے ساتھ رہی ہو۔‘‘ اس نے ندرت کو گھورا۔
’’تو اب تک کہا کیوں نہیں؟‘‘ ندرت کو اس پر غصہ آیا‘ کتنی پریشان تھی کہ جانے ایاز اس کو چاہتا بھی ہے کہ بس صرف دوست ہی سمجھتا ہے اور اب کتنے مزے سے کہہ رہا تھا پیار ہے۔
’’تم بہت برے ہو‘ اتنے دن سے کچھ بھی نہیں کہا۔‘‘ وہ ناراض ہوئی۔
’’اس میں کہنے کی کیا بات تھی؟ تمہیں پتا نہیں چلا تھا؟ اب دیکھو ناں مجھے تو پتا ہے کہ تم مجھ سے پیار کرتی ہو‘ تم نے بھی تو نہیں کہا مگر میں تو جانتا ہوں۔‘‘ وہ مزے سے بولا۔
’’بڑے پُراعتماد ہو‘ تمہیں کیسے یقین ہے کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں؟‘‘ ندرت کو اس کی خود اعتمادی پہ غصہ آیا۔
’’نہیں کرتیں کیا؟‘‘ ایاز نے الٹا اس سے سوال کیا۔
’’کرتی ہوں‘ بہت زیادہ۔‘‘ وہ فوراً مان گئی۔ یہی ادا تو ایاز کو پاگل کردیتی تھی… وہ بہت صاف گو اور سچی لڑکی تھی۔ ایاز نے اسے پیار لٹاتی نظروں سے دیکھا۔
’’تم فکر نہ کرو‘ وقت آنے پہ سب ٹھیک ہوجائے گا‘ جلدی سے اپنی ڈرنک ختم کرو… آٹھ بج رہے ہیں۔‘‘ اس نے ندرت کی ممی سے آٹھ بجے تک کی اجازت لی ہوئی تھی۔ مسز صدیقی سے ایاز کی بہت دوستی ہوگئی تھی۔ بس صدیقی صاحب کا مسئلہ تھا مگر ایاز کو پوری امید تھی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ندرت نے اپنی کولڈ ڈرنک ختم کی۔
’’ایاز اگر پاپا نہ مانے تو؟‘‘ اس نے پھر وہی بات شروع کردی۔
’’تو ابھی کون سا مانے ہوئے ہیں‘ ہم پھر بھی مل تو رہے ہیں۔ آنٹی کی اجازت تو ہے ناں۔‘‘ اس نے بل ادا کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
’’چلو اب جلدی کو‘ آج میری بھی نائٹ ڈیوٹی ہے۔‘‘
’’اچھا چلو۔‘‘ وہ گاڑی میں آکر بیٹھ گئی۔ تمام راستے وہ خاموش بیٹھی رہی… اس کے گھر کے باہر گاڑی روک کر ایاز نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
’’سنو ندرت… اتنی چھوٹی سی بات کو اتنا دل پر نہیں لیتے‘ ہم کون سا ابھی شادی کرنے لگے ہیں‘ تم ابھی پڑھ رہی ہو‘ میرا بھی ابھی کیریئر کا آغاز ہے‘ وقت آنے پہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میرا یقین کرو‘ تمہارے پاپا کی اجازت لے کر ہی تم سے شادی کروں گا… میں بڑوں کی بہت عزت کرتا ہوں۔‘‘ اس نے ندرت کا ہاتھ تھام لیا۔
’’ایاز سب ٹھیک ہوجائے گا ناں؟‘‘ اس کا معصوم دل پریشان تھا۔ اس نے اپنے پاپا کا کوئی حکم کبھی نہیں ٹالا تھا۔
’’ان شاء اللہ تم بے فکر ہوجائو‘ میں ہوں ناں سب کو منانے کے لیے‘ تم بس لائف انجوائے کرو یار۔ مجھے تمہاری ہنستی ہوئی صورت چاہیے یہ روتی شکل نہیں۔‘‘ ندرت ہولے سے مسکرادی۔
’’چل بھاگ اب… آنٹی کو میرا سلام کہنا۔‘‘ ایاز نے اس کا ہاتھ دبا کر کہا اور اسے ڈراپ کرکے سی ایم ایچ کی طرف چل دیا تھا۔
خ…خ…خ
’’یہ آج کل تم سارا وقت کہاں غائب رہتے ہو؟‘‘ مسز افراز کافی دن سے یہ بات نوٹ کررہی تھیں۔ جب گھر بھی آتا تھا تو اپنے کمرے میں گھسا فون پر لگا رہتا تھا۔ ’’کن چکروں میں پڑے ہوئے ہو آج کل، کسی کے لیے وقت ہی نہیں تمہارے پاس؟‘‘
’’آپ کا کیاخیال ہے امی؟‘‘ وہ ہنس دیا… امی کی شکل دیکھنے والی تھی۔ وہ ابھی ابھی ندرت سے مل کر آیا تھا‘ اس کا موڈ اچھا تھا۔
’’کیا چکر ہوسکتا ہے؟‘‘ اس نے ماں کو چھیڑا۔
’’میں اندازے نہیں لگاتی‘ صاف پوچھتی ہوں اور مجھے سیدھا جواب چاہیے ہوتا ہے۔‘‘ وہ چڑ کر بولیں۔
’’یار امی کچھ بھی چکر نہیں ہے‘ وہی روز کی روٹین‘ ہاسپٹل اور یار دوست۔‘‘ وہ ندرت کی بات چھپا گیا‘ ابھی ان سب باتوں کا وقت نہیں آیا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ذات پات کے چکروں میں اس رشتے پہ بہت جھگڑے ہونے تھے۔ اس پر ندرت کی والدہ غیر ملکی ہونے کے ساتھ ساتھ کرسچن بھی تھیں‘ جب بھی ایاز یہ بات شروع کرتا بڑی لڑائی ہوئی تھی مگر ابھی ان باتوں کا وقت نہیں آیا تھا‘ خوامخواہ ابھی سے یہ بات کیوں چھیڑتا… سو اس نے بات اپنے دوستوں کی طرف کردی۔
’’میں تمہیں اچھی طرح جانتی ہوں‘ چکر تو کچھ اور ہے مگر خیر، تم سمجھ دار لڑکے ہو‘ امید ہے کوئی فضول مسئلہ نہیں کھڑا کروگے۔‘‘
’’امی آپ تو مجھے جانتی ہیں‘ میں اپنے والدین کا سر کبھی نیچا نہیں کرسکتا…‘‘ وہ بھی سنجیدہ ہوا۔
’’اچھا وہ سب ٹھیک ہے مگر اس گھر کی بھی ایک روٹین ہے‘ اب تم ہوسٹل میں نہیں رہتے‘ گھر کے لیے بھی وقت نکالا کرو‘ بہنوں کے پاس بیٹھا کرو‘ ایک ہی تو بھائی ہے ان کا۔‘‘ انہوں نے ایاز کو اس کے فرائض سمجھائے۔
’’جی امی… ابھی جاتا ہوں ان کے پاس۔‘‘
’’وہ تینوں لائونج میں بیٹھی ہیں۔‘‘ ایاز اٹھ کر ٹی وی لائونج میں آگیا۔
’’ہائے گرلز۔‘‘ اس نے سب کو ایک ساتھ پکارا۔
’’تم ہوتے کہاں ہو؟ آج کل لفٹ ہی نہیں کراتے۔ میں تم سے ناراض ہوں۔‘‘ عرشہ نے ناراضی سے کہا۔
’’سوری یار۔‘‘ وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
’’مانی‘ عاشی کو میری گود میں دو۔‘‘ اس نے پاس بیٹھی مانی سے عاشی کو لے لیا۔
’’بھائی اس کو فیڈر دینا تھا۔‘‘ مانی بولی۔
’’مجھے دو۔‘‘ اس نے عاشی کو گود میں لے کر فیڈر بھی اسے پلانا شروع کردیا… عرشہ کو ایاز کی اس تابعداری پہ ہنسی آگئی۔
’’اس طرح معافی نہیں ملے گی جی۔‘‘ وہ ہنس کر بولی۔
’’اس دفعہ معاف کردو‘ پھر نہیں ہوگی ایسی لاپروائی۔‘‘ اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
’’سچ اتنے جھمیلوں میں پڑا ہوتا ہوں آج کل کہ ہوش ہی نہیں۔‘‘
’’میں سب سمجھتی ہوں‘ تمہاری ان آوارہ گردیوں کو ذراہوشیار رہنا‘ امی آج کل روز تمہاری شادی کا ذکر کرتی ہیں۔‘‘
’’اوہ اللہ کو مانو یار‘ یہ شادی کا چکر مجھ سے دور رکھو‘ اور ویسے بھی میں اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کروں گا۔‘‘ ایاز گھبرایا۔
’’ہاں تو بتادو ناں امی کو اپنی پسند۔‘‘ عاطفہ نے بھی لقمہ دیا۔
’’امی کو…! میں تمہیں پاگل نظر آتا ہوں۔‘‘ ایاز نے عاطفہ کو گھورا۔
’’تو بھائی ہمیں بتادو‘ کیا واقعی تمہیں کوئی پسند ہے؟‘‘ مانی کو بھی تجسس ہوا۔
’’نہیں بھئی‘ تم تینوں کیا میرے پیچھے پڑگئی ہو۔‘‘ ایاز بوکھلا گیا۔
’’عرشہ امی کہہ رہی تھیں کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘ اس نے بات کا رخ عرشہ کی طرف موڑا۔
’’امی گھبرا جاتی ہیں‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘
’’لائو اس کو امی کے پاس لٹا کر آتی ہوں۔‘‘ عرشہ نے ایاز کی طرف ہاتھ بڑھائے۔
’’رہنے دو… تم آرام سے ٹی وی دیکھو، میں خود اس کو امی کے پاس لٹا دیتا ہوں۔‘‘ اس نے پیار سے بھانجی کا ماتھا چوما اور گود میں اٹھا کر ماں کے کمرے میں لے گیا۔ عرشہ بہنوں کے ساتھ ٹی وی دیکھنے لگی۔
خ…خ…خ
گیٹ کے اندر قدم رکھتے ہی ایاز کے قدموں کو بریک لگ گئے۔ لان کے وسط میں کموڈور صدیقی بیٹھے ہوئے تھے۔
’’یہ کہاں سے آگئے؟‘‘ ایاز نے جھٹ کلائی پہ بندھی گھڑی پہ نظر ڈالی۔ شام کے پانچ بج رہے تھے۔
’’یہ تو سات آٹھ بجے کے بعد ہی گھر آتے ہیں‘ آج کہاں سے آگئے؟‘‘ ایاز جلدی سے واپس جانے کے لیے پلٹا۔
’’آجائیں کیپٹن ایاز… میں آپ کا ہی انتظار کررہا تھا۔‘‘ صدیقی صاحب کی آواز پہ چارو نا چار اسے واپس آنا پڑا۔
’’السلام علیکم!‘‘ اس نے ڈرتے ہوئے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘
’’بیٹھیں۔‘‘ انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
’’جی سر…‘‘ وہ شرافت سے بیٹھ گیا‘ دونوں خاموش تھے‘ ایاز جانتا تھا کہ یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ وہ اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگا۔
’’آپ کے آنے جانے کی مجھے گاہے بگاہے خبریں ملتی رہتی ہیں۔‘‘ صدیقی صاحب نے اپنا چشمہ صاف کرتے ہوئے بولنا شروع ہوئے۔
’’او یار مارے گئے… ایسی اردو میرے پلے کیسے پڑے گی۔‘‘ ایاز نے دل میں سوچا۔
’’لگتا ہے آپ کی تعطیلات چل رہی ہیں۔‘‘ وہ پھر بولے۔
’’یار… اتنی مشکل اردو۔‘‘ وہ گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔
’’سر… سوری مجھے جانا ہوگا… ایک بہت ضروری کام یاد آگیا۔‘‘ ایاز کا خون خشک ہوگیا تھا۔ اس نے وہاں سے بھاگنے میں عافیت سمجھی۔
’’بیٹھ جائیں کیپٹن ایاز۔‘‘ صدیقی صاحب تحمل سے بولے۔
’’نہیں سر مجھے واقعی ضروری کام ہے۔‘‘ وہ بھاگنا چاہ رہا تھا۔
’’بیٹھو۔‘‘ تحکمانہ آڈر پہ وہ جلدی سے واپس بیٹھ گیا۔
اس نے کن اکھیوں سے اردگرد دیکھا۔ شاید آنٹی نظر آجائیں‘ ایسے میں گھر کے اندر کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ندرت اسے نظر آگئی۔ وہ پریشانی میں اپنے ناخن کاٹ رہی تھی۔
’’بتانا تو چاہیے تھا ناں ندرت کو۔‘‘ ایاز کو اس پر تھوڑا سا غصہ آیا۔ یوں اچانک صدیقی صاحب کا حملہ اس کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔
’’آپ سے کچھ کہا ہے میں نے کیپٹن۔‘‘ صدیقی صاحب کی آواز پر اس نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
’’سوری سر… کیا کہہ رہے تھے آپ۔‘‘ اس نے پوری توجہ صدیقی صاحب کی طرف مبذول کی۔
’’دیکھو میاں… مجھے گھما پھرا کر بات کرنے کی عادت نہیں ہے‘ میں بہت صاف گو انسان ہوں۔ چند ماہ سے تمہارا ہمارے گھر میں کافی آنا جانا ہے‘ ندرت سے تمہاری جان پہچان کا مجھے خوب اندازہ ہے۔‘‘ وہ ذرا رکے۔
’’جی سر۔‘‘ اس نے ان کی بات کی تردید نہیں کی۔
’’آپ کی بیٹی بالکل آپ پر ہے۔ صاف گو۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔
’’یعنی کہ آپ مانتے ہیں؟‘‘ انہوں نے پوچھا‘ انکار کرنا فضول تھا۔ ایاز نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’تو پھر ندرت نے تمہیں میرے خیالات کے بارے میں بھی بتا دیا ہوگا۔‘‘ وہ بولے۔
’’جی سر… بتایا تھا اس نے۔‘‘
’’مگر آپ نے اس کو اہم نہیں جانا؟ مجھے آپ کی ان ملاقاتوں پر بلکہ اس تمام فرینڈ شپ پہ ہی سخت اعتراض ہے۔‘‘ وہ سختی سے بولے۔
’’سر… کیا میں اس اعتراض کی وجہ جان سکتا ہوں؟‘‘
’’اس لیے ہی تو آج تم سے ملنے کے لیے یہاں بیٹھا ہوا ہوں۔‘‘ صدیقی صاحب بولے۔
’’میں نے ندرت کو کئی بار تنبیہہ کی مگر اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کی ممی ملیشیا کی ہیں اور وہ اس بات کو بالکل برا نہیں سمجھتیں‘ اس لیے اب یہ معاملہ میں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔‘‘ صدیقی صاحب نے تمہید باندھی۔
’’بات سمجھ رہے ہو ناں؟‘‘ انہوں نے ایاز سے پوچھا۔
’’سر… میں سن رہا ہوں۔‘‘ ایاز سنجیدگی سے بولا‘ یہ اس کی زندگی کا معاملہ تھا۔
’’دیکھو ایاز… ندرت میری لاڈلی بیٹی ہے‘ ابھی نو عمر ہے‘ صرف انیس سال عمر ہے اس کی‘ میں نے اسے بہت لاڈ پیار سے پالا ہے کبھی اس کی کوئی خواہش رد نہیں کی…‘‘
’’تو پھر اب کیوں رد کررہے ہیں سر…‘‘ ایاز بیچ میں ہی بول پڑا۔
’’تحمل برخور دار… تحمل بتانے لگا ہوں… اچھا پہلے میرے سوال کا جواب دو۔‘‘ وہ رکے۔
’’کیا ندرت پہلی لڑکی ہے جس میں تم انوالو ہوئے ہو؟‘‘ انہوں نے سیدھا سوال کیا۔
’’نہیں سر… مگر اس سے پہلے میں کبھی اتنا انوالو نہیں ہوا۔‘‘ ایاز نے مکمل صاف گوئی سے جواب دیا۔
’’اور ندرت آج سے پہلے کبھی ایسے رشتے میں نہیں پڑی‘ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس کی کسی لڑکے سے دوستی نہیں مگر اس کا خیال ہے کہ وہ تم سے پیار کرتی ہے یہ اس سے پہلے اس نے کبھی نہیں کہا۔‘‘
’’سر… میں نے بھی اس سے پہلے کبھی کسی کے لیے ایسے جذبات محسوس نہیں کیے جیسے ندرت کے لیے کرتا ہوں۔‘‘ ایاز نے بنا کسی جھجک کے اعتراف کیا۔
’’بہرحال میرے اعتراض کی وجہ یہ نہیں کہ اس سے پہلے تم کیا کرتے رہے اصل وجہ ہے ہماری قدریں… ہماری سوشل ویلیوز…‘‘
’’میں سمجھا نہیں سر۔‘‘ ایاز واقعی سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے۔
’’تم غالباً گائوں سے تعلق رکھتے ہو۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’جی سر… مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ وہ حیران تھا گفتگو کے اس رخ سے… یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ ان کے طرز زندگی میں فرق ہے مگر یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہ تھی۔
’’فرق پڑتا ہے‘ تم لوگ ابھی کم عمر ہو‘ تمہارے خیال میں گھومنا پھرنا‘ موج میلا کرنا ہی زندگی ہے‘ مجھے پورا یقین ہے تمہارے گھر والوں کو ابھی ندرت کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوگا‘ صحیح کہہ رہا ہوں ناں میں۔‘‘ انہوں نے ایاز سے سوال کیا۔
’’جی سر… ابھی تو میں نے اپنے گھر میں ندرت کا ذکر نہیں کیا۔‘‘ ایاز نے اقرار کیا۔
’’تم تو ہمارے گھر کے طور طریقوں سے کافی حد تک واقف ہوچکے ہو لیکن کبھی یہ سوچا ہے کہ ندرت تمہارے لائف اسٹائل کے بارے میں بالکل کچھ نہیں جانتی۔‘‘ وہ کافی سوچ و بچار کرچکے تھے۔
’’مجھے یقین ہے کہ تم دونوں کا شادی کا ارادہ ہے؟‘‘ کچھ لمحہ سوچ کر صدیقی صاحب بولے۔
’’جی سر مگر…‘‘ ایاز سٹپٹایا۔
’’اوہ تو بات ابھی تک اگر مگر کے درمیان ہی ہے۔‘‘ انہوں نے ایاز کو گھورا۔
’’نہیں نہیں سر… میرا مطلب ہے ابھی تو میں ہائوس جاب کررہا ہوں‘ ندرت بھی تو پڑھ رہی ہے۔‘‘ ایاز جزبز ہوا۔ تب ہی اس کے ہاتھ میں پکڑا فون ہولے سے بجا… ندرت کا میسج تھا۔
’’سوری…‘‘ اس نے لکھا تھا۔
’’تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔‘‘ اس نے صدیقی صاحب سے نظر بچا کر ندرت کو واپس میسج کیا۔ ندرت نے جلدی سے اسے مسکراہٹ والا چہرہ (اسمائیلی فیس) بھیج دیا‘ ایاز کا غصہ مسکراہٹ میں بدل گیا… صدیقی صاحب سب نوٹ کررہے تھے مگر خاموش رہے… وہ جانتے تھے کہ ایاز کا خیال ہے کہ انہیں کچھ پتا نہیں چل رہا۔
’’تو پھر آگے بھی یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا؟‘‘ انہوں نے بات جاری رکھی۔
’’یعنی جب تک دونوں اپنی اپنی تعلیم مکمل نہیں کرلیتے ایسے ہی اکھٹے پھرتے رہوگے؟‘‘ صدیقی صاحب نے ناگواری سے پوچھا۔
’’سر… اصل میں ہم نے ابھی شادی کا سوچا نہیں مگر ایک بات تو طے ہے کہ میں ندرت کو بے حد پیار کرتا ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ کی رضا اس میں شامل ہوگی۔‘‘ ایاز اب سنبھل گیا تھا۔
’’اور اگر ہم یا تمہارے والدین راضی نہ ہوئے تو؟‘‘
’’تو سر ہم انتظارکریں گے جب تک آپ سب مان نہیں جاتے‘ شادی تو سب کی رضا سے ہی ہوگی۔‘‘ ایاز نے اعتماد سے جواب دیا۔
’’میں تو اب بھی مخالف ہوں اس شادی کا۔‘‘ صدیقی صاحب بولے۔
’’سر ہم آپ کو منالیں گے۔‘‘ ایاز کو پورا یقین تھا کہ وہ ان کے پیار کے آگے جھک جائیں گے۔
’’بہرحال میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا‘ تم دونوں ابھی شادی کی پوزیشن میں نہیں ہو اور مجھے خوشی ہے کہ اس بات کا تم دونوں کو پورا اندازہ ہے‘ تم دونوں کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ یہ میل ملاقاتیں ختم کرو… جب شادی کے بارے میں سوچو گے تب آنا ہمارے گھر اپنے والدین کو لے کر… تب تک ندرت کو بھی کچھ اس دنیا کی اونچ نیچ کا اندازہ ہوجائے گا۔‘‘ صدیقی صاحب نے بات ختم کردی۔
’’تم بیٹھو، میں ندرت کو بھیجتا ہوں۔ اس کو بھی اپنی زبان میں سمجھا دو۔‘‘ وہ اٹھ کر چلے گئے‘ ایاز اس عجیب سے انٹرویو کے بارے میں سوچتا ہی رہ گیا۔
’’ایاز آئی ایم سو سوری…‘‘ ندرت کی آواز پر وہ چونکا۔ وہ دھپ سے لان کی کرسی پر بیٹھی تھی۔
’’تم میرے ہاتھوں قتل ہوجائو گی ندرت۔‘‘ ایاز نے دانت پیس کر اسے گھورا۔
’’سوری ناں… مجھے کیا پتا تھا کہ پاپا جلدی آجائیں گے۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولی۔
’’میسج کرکے کم از کم بتا تو سکتی تھیں۔‘‘ اس نے غصہ کیا۔ ’’خوب جوتے کھائے ہیں تمہارے پاپا سے۔‘‘
’’سچ ایاز، پاپا نے پتا ہی نہیں چلنے دیا کہ وہ تم سے بات کرنے والے ہیں‘ اچھا جلدی سے بتائو کیا کہہ رہے تھے۔‘‘ ندرت نے بے تابی سے پوچھا۔
’’غالباً فرما رہے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بالکل بھی سوٹ ایبل نہیں ہیں… یار اردو اتنی مشکل تھی کہ کافی باتیں تو میرے اوپر سے ہی گزر گئیں…‘‘ ایاز کی بات پر ندرت کو ہنسی آئی۔
’’پاپا اردو اسپیکنگ ہیں ناں‘ بھوپال کے ہیں‘ ہمارے گھر میں صرف اس لیے انگلش بولتے ہیں کہ ممی کو اردو بولنا نہیں آتی‘ وہ سمجھ لیتی ہیں مگر بولنا ذرا ان کے لیے مشکل ہے۔‘‘
’’اچھا‘ ہمارے گھر میں تو پنجابی مکس اردو بولی جاتی ہے‘ ابو تو بلکہ زیادہ تر پنجابی ہی بولتے ہیں۔‘‘ وہ سوچ میں پڑ گیا‘ صدیقی صاحب کے جملے اس کے کانوں میں گونجنے لگے۔ اس پہلو سے تو اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا‘ جب وہ ندرت کے ساتھ ہوتا تھا تو اس میں گم ہوجاتا تھا‘ ایسی باتوں کے بارے میں تو دونوں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا مگر آج وہ یہ سب سوچنے پہ مجبور ہوگیا تھا۔
’’تو کیا ہوا؟‘‘ ندرت نے پوچھا۔ ’’تم کس سوچ میں پڑگئے ہو۔‘‘ اس نے ایاز کے سامنے چٹکی بجائی۔
’’ندرت…؟‘‘
’’ہوں؟‘‘
’’یار تمہارے پاپا پوچھ رہے تھے کہ ہم دونوں کا شادی کا بھی ارادہ ہے یا صرف یوں ہی ساتھ آوارہ گردی کرتے رہیں گے۔‘‘ ایاز بولا۔
’’تو تم نے کیا جواب دیا؟‘‘
’’یار کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا پہلے تو سوچا کیا کہوں بس یہ ضرور کہا کہ ابھی تو شادی کا سوچا نہیں‘ پر جب بھی کروں گا تم سے ہی کروں گا۔‘‘
’’سچ ایاز… تم نے پاپا کے سامنے کہہ دیا؟‘‘ اس کے چہرے پہ حیا کی لالی آگئی۔ آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
’’کہہ تو دیا مگر ان کی رائے میں ہماری فیملیز ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں‘ میں سوچ رہا ہوں کہ واقعی ندرت کیا تم میری فیملی کے ساتھ ایڈجسٹ کر پائوگی؟‘‘ ایاز نے اس کے معصوم چہرے کو غور سے دیکھا۔
اس کی شخصیت میں عجیب سی کشش تھی۔ یہ بات اس سے بلال اور عامر نے بھی کہی تھی‘ ایاز کو یقین تھا کہ اس کے گھر والے بھی ندرت کی شخصیت سے متاثر ہوجائیں گے مگر کیا ندرت اس کے گھر والوں کو اپناسکے گی؟
’’ایاز پلیز، تم نے ایسا سوچا بھی کیسے؟ تم سے جڑی ہر چیز میرے لیے پیار کے‘ احترام کے قابل ہے۔ دوبارہ ایسا کبھی سوچنا بھی مت۔ میں کوئی کمزور لڑکی نہیں کہ ذرا سی پرابلم سے گھبرا جائوں۔ تم ساتھ ہوگے تو ہر چیز قبول ہوگی۔‘‘ ایاز کی پریشانی یک دم ختم ہوئی۔ وہ مسکرا دیا۔
’’چل پھر کل اپنے پاپا سے ذرا دور رہنا‘ ہم لانگ ڈرائیو پر چلیں گے۔‘‘ وہ جانے کے لیے اٹھا تو ندرت مسکراتی ہوئی وہیں کرسی پر نیم دراز ہوگئی۔ کھڑکی سے انہیں دیکھتے صدیقی صاحب نے ایک لمبی سانس بھر کر پردہ چھوڑ دیا۔
’’ماریا لگتا ہے یہ دونوں نہیں سمجھیں گے۔‘‘ انہوں نے انگلش میں اپنی مسز سے کہا۔
’’کم آن صدیقی… اس میں اتنی پریشانی کی کیا بات ہے‘ ہم نے بھی تو لو میرج کی ہے‘ تمہیں کیوں اعتراض ہے؟ ایاز از اے گڈ بوائے۔‘‘ (ایاز ایک اچھا لڑکا ہے) انہوں نے پیار سے میا ںکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ انہیں ایاز بہت پسند تھا۔ اپنے میاں کے چہرے پہ فکر کے تاثرات دیکھ کر انہوں نے صدیقی صاحب کو سمجھانے کی کوشش کی۔
’’ہاں ہم نے کی تھی مگر پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ کون سا سکھ ملا تمہیں یا مجھے۔‘‘ وہ مڑ کر بیوی سے بولے۔
’’اب ایسا نہیں ہوگا صدیقی‘ ہمارا زمانہ اور تھا اور پھر دیکھو ناں میں کرسچن ہوں اور یہ بات آسانی سے ایکسیپٹ نہیں کی جاتی‘ ندرت تو مسلمان ہے‘ تمہاری بیٹی ہے‘ ان دونوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا… فکر کرنا چھوڑ دو‘ یہ نئی نسل بہت اسٹرانگ ہے‘ میں تمہارے لیے کافی لاتی ہوں۔‘‘ وہ میاں کو تسلی دیتی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
’’تم نہیں سمجھو گی ماریا… تمہیں پانے کے لیے میں نے کیا کیا قربان کیا… ماں باپ کی نافرمانی کرکے میں زندہ درگور ہوگیا یہ خلش مجھے مارے ڈالتی ہے‘ زندگی میں ہزار ایسے لمحے آئے جب میں نے تمہیں ہر تکلیف کے لیے مورد الزام ٹھہرایا‘ تم سے بے انتہا نفرت کی‘ ہماری زندگی میں موجود تلخیاں میرے احساس جرم سے جڑی ہوئی ہیں‘ تم کیا جانو مگر میں تو اس احساس سے واقف ہوں اور میں اپنی بچی کو اس احساس جرم کا شکار نہیں ہونے دوں گا۔ ایاز کے والدین ایک فارنر کرسچن عورت کی بیٹی کو کبھی دل سے نہیں اپنائیں گے… ایاز اپنے والدین اور بیوی کے درمیان بٹ جائے گا… میری بچی اس لڑکے کے ساتھ خوش نہیں رہ سکے گی… ایاز بھی میری طرح ایک ڈسٹرب اور بٹا ہوا شخص بن جائے گا‘ میں یہ کہانی دہرانے نہیں دوں گا۔‘‘ وہ فیصلہ کرچکے تھے۔
خ…خ…خ
’’ابو…‘‘ ایاز نے باپ کو پکارا۔
’’جی پتر…‘‘ بیٹے کو آتے دیکھ کر افراز صاحب نے اخبار ایک طرف رکھ دیا۔
’’آجا بیٹھ جا… کتھے ساں؟‘‘ وہ پیار سے ایاز سے پوچھ رہے تھے۔
’’اوہو ابو… اردو بولیں ناں۔‘‘ ایاز نے چھوٹے بچے کی طرح ضد کی‘ باپ نے غور سے اپنے کڑیل جوان بیٹے کو غور سے دیکھا۔ سادہ سے کلف لگے سفید شلوار کرتے میں اس کا قد اور بھی نمایاں لگ رہا تھا‘ چوڑے شانے‘ کشادہ چھاتی اور شاداب چہرہ‘ باپ کو فخر محسوس ہوا۔
’’اچھا میرے یار… اردو بول لیتے ہیں‘ ورنہ ہماری زبان تو پنجابی ہے۔‘‘
’’مگر ابو ہم تو گھر میں سب اردو ہی بولتے ہیں۔‘‘ وہ افراز صاحب کے پاس بیٹھ گیا۔
’’تو کیا آج اردو پر لیکچر دینے کا موڈ ہے؟‘‘ افراز صاحب نے ہنس کر اس سے پوچھا۔
’’ارے نہیں… میں نے تو ویسے ہی کہہ دیا اردو آخر ہماری قومی زبان ہے۔‘‘ ایاز نے بات ٹالی۔
’’کہیں وہ صرف اردو تو نہیں بولتی؟ کیا انگلش میں گٹ پٹ نہیں کرتی۔‘‘
’’کون…؟‘‘ ایاز بے ساختہ پوچھ بیٹھا۔
’’وہی جس کی وجہ سے آج اردو پر لیکچر مل رہا ہے۔‘‘ زمانہ شناس شخص تھے، ایاز شرمندہ ہوا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں‘ آپ تو ویسے ہی شرمندہ کردیتے ہیں۔‘‘
’’یار…باپ اتنے دنوں بعد زمینوں سے آیا ہے‘ گلے تو لگ… کچھ ٹھنڈ پڑے باپ کی چھاتی میں بھی۔‘‘ ایاز اٹھ کر باپ کے گلے لگ گیا۔ جب سے ندرت کے پاپا سے ملا تھا‘ بہت بے چین تھا‘ باپ کے سینے میں گھس کر ایک گو نہ سکون اس کے اندر اتر آیا۔ اتنے دن اس کو ہر ہر بات میں ندرت کے اور اپنے گھر کے ماحول کا فرق نظر آتا رہا تھا‘ ہزار پڑھے لکھے ہونے کے باوجود یہ گھرانہ تھا تو وڈیروں کا… ایاز کے خاندان میں مرد ہی سب کچھ تھے‘ عورت عزت کے قابل تھی مگر صنف نازک تھی اور ان کو ایسا ہی سمجھا جاتا تھا‘ گھر کی چار دیواری میں عورت ملکہ مگر گھر اور باہر کا ہر فیصلہ مرد کرتے تھے۔
’’کیا ندرت یہ سب قبول کرسکے گی؟‘‘ وہ بہت بولڈ اور خود مختار لڑکی تھی۔ ’’کیا صدیقی صاحب ٹھیک کہہ رہے تھے؟‘‘ اتنے دن سے یہ باتیں اسے بے چین کیے ہوئے تھیں۔
’’بڑی گہری سوچاں نے یار۔‘‘ افراز صاحب نے غور سے بیٹے کو دیکھا۔
’’خیر تے اے‘ یہ اتنا سوچنا کب سے شروع کردیا۔‘‘
’’ابو آپ تو میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔ جناب آپ کا بیٹا اب جوان ہے۔‘‘ اس نے ہنس کر مونچھوں کو تائو دیا۔
’’پتر جی… جب ہم اس جوانی کی عمر میں تھے تو سوچیں ہمیں بھی آتی تھیں اور نتیجے میں تیری ماں آگئی تھی اس گھر میں‘ کہیں ایسا تو کوئی چکر نہیں۔‘‘ افراز صاحب نے سنجیدہ سی بات مذاق کے پیرائے میں کی۔
’’اف ابو آپ پیچھے ہی پڑگئے ہیں‘ چلیں اٹھیں لان میں چائے لگ رہی ہے‘ امی اور عاطفہ باہر ہی بیٹھی ہیں سب مل کر چائے پیتے ہیں۔‘‘
’’ہاں ہاں چلو… عرشہ اور مانی کو بھی باہر بلا لو کافی دنوں سے مل کر چائے نہیں پی۔‘‘ افراز صاحب کھڑے ہوگئے۔
’’اور ہاں ایاز…‘‘ وہ ایاز کے ساتھ چلتے ہوئے بولے۔
’’ایک دو دن میں‘ میں نے دوبارہ گائوں جانا ہے‘ تم بھی کچھ دن کی چھٹی لے کر میرے ساتھ گائوں چلو۔ شہر میں رہتے رہتے تو بالکل شہری بن گیا ہے‘ فوج میں زندگی میں نے بھی گزاری ہے مگر جٹ تھا اور جٹ ہی رہا‘ تو تو بالکل شہر کا ہی ہوکر رہ گیا ہے۔ گائوں کو بھول ہی گیا ہے‘ یہ یاد رکھ کہ ہمارا خمیر گائوں ہی ہے۔‘‘ وہ اسے سمجھاتے ہوئے لان میں آگئے۔ فکر کی لکیریں ایاز کے ماتھے پہ ابھر آئی تھیں۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close