Aanchal Jan-17

شب ہجر کی پہلی بارش

نازیہ کنول نازی

رات بھر چاندنی گنگناتی رہی
رات بھر کوئی تنہا سسکتا رہا
اشک پلکوں پہ آکر بکھرتے رہے
نام لب پہ کسی کا لزرتا رہا

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

عائلہ دلہن بنی زاویار کی خواب گاہ میں ہوتی ہے تب زاویار اسے اپنے عتاب کا نشانہ بناتا ہے ساتھ ہی اسے دنیا کی نظر میں اس کاغذی رشتے کو نبھانے کا کہتا ہے جبکہ اسے بیوی کا مقام دینے سے انکاری ہوجاتا ہے عائلہ کو بہت عرصے بعد اپنی ماں یاد آتی ہے وہ بہت چھوٹی تھی جب اس نے اپنی ماں کو کھو دیا تھا عائلہ پہلی بار اپنا ملک و گھر چھوڑ کر جب آئی تھی تو اسے مریرہ رحمان اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اسے سدید جیسے حساس دوست کا ساتھ ملا ہوتا ہے وہ زندگی کی تلخی کا مقابلہ کرتی آگے بڑھنے لگی تھی لیکن وقت نے اسے اوندھے منہ گرا دیا تھا۔ دوسری طرف سارا بیگم عائلہ اور زاویار کی شادی کا یقین نہیں آتا سارا بیگم کو لگتا ہے کہ جیسے عائلہ کی صورت مریرہ رحمان اس گھر میں واپس آگئی ہو ایک عجیب سا خوف اور بے چینی انہیں ہراساں کیے ہوئے ہوتی ہے گزرے ہوئے وقت کے گڑھے مردے ان کی سانسوں کو بوجھل کردیتے ہیں۔ عائلہ آفس میں زاویار کو سدید کی تصویر دکھا کر اپنی منگنی اور سدید کی شہادت کا بتاتی ہے جس پر زاویار اسے اپنے عتاب کا نشانہ بناتا ہے۔ سدید کو بھارتی فوجی اپنی حراست میں لے لیتے ہیں جبکہ پاک سپاہی کی حیثیت سے اپنی چھ ماہ کی مشکل ترین ٹریننگ کے دوران ایک عہد جو اس نے سیکڑوں بار خود سے دہرایا ہوتا ہے کہ مر جانا راز اگل دینے سے بہتر ہے اپنے ملک اور ملک کے معصوم لوگوں کو نقصان پہنچانے اور ان کی بقا کو خطرے میں ڈالنے سے کہیں بہتر ہوتا کہ وہ دشمن کے ہاتھوں اپنی جان قربان کردیتا، سدید علوی دس سال کی عمر میں اپنے ماموں کے گھر سے فرار ہوتا ہے اس کے بعد کرنل شیر علی کی گاڑی سے ٹکرا جاتا ہے، کرنل شیر علی سدید کو اپنے گھر لے آتے ہیں، عائلہ بھی اسے ماضی بھلانے میں بہت ساتھ دیتی ہے سدید کے لیے ابھی تقدیر نے بہت امتحان لکھے تھے اس لیے وہ آنکھیں بند کرتا ماضی کے متعلق سوچتا رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف مریرہ عمر عباس کے ساتھ پاکستان پہنچ جاتی ہے وہ دونوں ائیر پورٹ سے باہر نکل رہے ہوتے ہیں تب زاویار انہیں دیکھ لیتا ہے اور زاویار کو اس وقت بے حد غصہ آتا ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو
مجھے تم مت پڑھو کیونکہ
اداسی ہوں‘ الم ہوں‘ غم زدہ تحریر ہوں میں تو
جسے لکھا گیا رنجیدہ عالم میں
مجھے تم مت سنو لوگو کہ میں تو کرب کے موسم کا نغمہ ہوں
دکھی بلبل کی آوازوں میں شامل ہیں
کسی ٹوٹے ہوئے دل سے نکلتی آہ ہوں میں تو
کئی روتی ہوئی آنکھوں کا آنسو ہوں
مجھے کیوں دیکھتے ہو تم؟
میں پتلی ہوں‘ تماشہ ہوں
میں لاشہ ہوں
غموں کو درد کو دل میں چھپائے پھر رہا ہوں میں
مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو؟
کہ مجھ کو اس گھڑی لکھا گیا
جب کاتب تحریر کی آنکھوں میں اشکوں کی روانی تھی
وہ خود حیران تھا‘ غمگین تھا اور دل گرفتہ تھا
مجھے پڑھتے ہوئے لوگو مجھے پڑھ کر کہیں تم
مبتلأ غم نہ ہو جائو
مجھے تم مت پڑھو لوگو

ہوزان کی آنکھیں دھواں دھواں ہورہی تھیں۔ سامنے کھڑی عائلہ علوی کا وجود آنسوئوں کی دھند کے اس پار جھلملا کر رہ گیا تھا۔ اس کی کانچ سی آنکھوں میں عجیب سی بے یقینی تھی۔ وہ خود کو سنبھالنے کے فن سے بھی واقف نہیں تھی تبھی اس نے اپنے آنسوئوں کو بہہ جانے دیا۔
نائس ٹو میٹ یو نم آنکھوں کے ساتھ اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھا کر اس نے عائلہ سے مصافحہ کیا تھا۔ سارا بیگم قریب چلی آئیں۔
پری نے تمہاری پاکستان آمد کے بارے میں بتایا تھا‘ مجھے تمہیں یہاں دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔
شکریہ۔ آہستہ سے بھیگی پلکیں صاف کرتے ہوئے وہ بمشکل مسکرادی۔
عائلہ کی آنکھوں میں ابھی بھی حیرانی تھی‘ سامنے کھڑی جاپانی گڑیا سی لڑکی کے آنسو بے سبب نہیں تھے۔ کیا اس کی ذات سے اس لڑکی کو کبھی تکلیف پہنچی تھی یا وہ اس کی شناسا تھی؟ وہ سمجھ نہ سکی‘ سارا بیگم اسے گھر کے اندر لے آتی ہیں۔ عائلہ پانی کا پائپ ہاتھ میں پکڑے وہیں کھڑی اسے الجھی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔

پرہیان نے ایلی کا آفس جوائن کرلیا تھا۔ اسے ایلی کے ساتھ کام کرتے ہوئے تیسرا دن تھا جب اس نے ساویز کو دیکھا۔ بلیک پینٹ کے ساتھ آف وائٹ ہائی میں ملبوس وہ پہلے سے زیادہ جاذب نظر ہوگیا تھا۔ اس کی آنکھیں بے ساختہ آنسوئوں سے بھر گئیں‘ اس شخص نے اسے اس جرم کی سزا سنائی تھی جو اس نے کیا ہی نہیں تھا۔
اس کے قدم جیسے من من بھاری ہوگئے تھے‘ ایلی جو سیل فون پر کسی کے ساتھ کال پر مصروف تھا اس کے اچانک رک جانے پر بے ساختہ پلٹ کر پیچھے دیکھا۔ وہ لفٹ کے دہانے پر کھڑی رو رہی تھی‘ تبھی وہ فوراً سے پیشتر کال ڈراپ کرتے ہوئے اس کے قریب آیا۔
کیا ہوا پری تم ٹھیک تو ہو ناں؟ پرہیان نے اس کے سوال کو ان سنا کردیا۔ وہ پلٹی اور پھر تیزی سے سیڑھیوں کی طرف لپکتے ہوئے نیچے بھاگ گئی۔ ایلی پیچھے آوازیں دیتا اس کے پیچھے لپکا تھا۔ پھولے سانسوں کے ساتھ بمشکل تمام سیڑھیوں عبور کرکے وہ پارکنگ میں پہنچی تھی جب اس نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔
میری بات سنو پری تم ایسے مجھے پریشان کرکے یہاں سے نہیں بھاگ سکتیں۔ وہ حقیقتاً بے حد متفکر تھا۔ پری نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کروا لینا چاہا مگر ناکام رہی۔
مجھے جانے دو ایلی پلیز میرا اس وقت یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔
مگر کیوں؟
کیونکہ میں فی الحال اس شخص کا سامنا نہیں کرسکتی اس لیے۔ تڑپ کر کہتے ہوئے وہ پھر سے رو پڑی‘ ایلی گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
تم پاگل ہو پری اور کچھ نہیں۔ سر جھٹک کر کہتے ہوئے اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور پرہیان کو اندر بیٹھنے کا حکم دے کر خود ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آگیا۔
میں تمہیں کم از کم اتنا بزدل نہیں سمجھتا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے پھر تاسف بھری نگاہ اس پر ڈالی‘ پرہیان رخ موڑے بیٹھی چپ چاپ آنسو بہاتی رہی۔
میں نے تمہیں بتایا تھا وہ شخص میرا بزنس پارٹنر ہے‘ تمہیں خود کو اس کا سامنا کرنے کے لیے پہلے سے تیار کرنا چاہیے تھا۔
میرے اندر اتنی ہمت نہیں ہے ایلی۔
کیوں کیا تم نے اس کا کوئی نقصان کیا ہے؟ کیا تم کوئی چور ہو‘ گناہ گار ہو‘ مجرم ہو۔ وہ چڑا پرہیان کے آنسو بہتے رہے۔
میں نہیں جانتی‘ مجھے صرف اتنا پتا ہے میں اس شخص کے سامنے بہت حقیر ہوگئی ہوں۔
یہ سب تمہاری فضول سوچ کا شاخسانہ ہے پری تم قدرت کی جائز پیداوار ہو‘ تم نے اپنے جنم سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ تمہاری ذات کی اس دنیا اور معاشرے میں اتنی ہی عزت اور توقیر ہے جتنی کسی بھی معزز معاشرے میں پیدا ہونے والی ایک شریف لڑکی کی ہوسکتی ہے۔
نہیں ایلی یہ سچ نہیں ہے۔
یہی سچ ہے‘ آج کے بعد تم کبھی اس شخص سے ڈر کر نہیں بھاگو گی اوکے۔
یہ بہت مشکل ہے ایلی۔
کوئی مشکل نہیں کیا تم میرے ادھڑے ہوئے زخموں سے واقف نہیں ہو۔ کیا میں نے ریجیکشن کا درد نہیں سہا‘ پھر بھی میں نے زندگی کی بے حسی میں خود کو پتھر نہیں ہونے دیا۔ پری یہ دنیا اسی کا نام ہے‘ یہاں گر جانے والوں کو لوگ روندھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں ہاتھ بڑھا کر انہیں اٹھانے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ مدلل لہجے میں کہتا وہ اس کی برین واشنگ کررہا تھا۔ پرہیان کے آنسو تھم گئے‘ اگلے بیس پچیس منٹ تک وہ بہت خاموشی سے اسے سنتی رہی‘ یہی وجہ تھی کہ ایک گھنٹے کے بعد جب وہ لوگ دوبارہ آفس آئے تو پرہیان کے قدموں کی لغزش ختم ہوچکی تھی۔
ساویز اب وہاں نہیں تھا لہٰذا وہ سکون سے اپنے فرائض سر انجام دیتی رہی تاہم اس رات کی سیاہی میں تنہائی کی آغوش میں بیٹھ کر یادوں کے پرانے آنچل پر‘ بہت سے آنسوئوں کے ستارے ٹانکے تھے۔

مہندی کی تقریب اپنے عروج پر تھی۔ صیام کی مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ سر کھجانے کو فرصت نصیب نہیں تھی مگر پھر بھی اس کی نگاہیں درمکنون کی منتظر تھیں۔ بے حد مصروف ہونے کے باوجود وہ اس کی طرف سے غافل نہیں رہ سکا تھا۔
درمکنون جانتی تھی کہ اسے بہت خلوص سے شگفتہ کی مہندی کی تقریب میں انوائٹ کیا گیا تھا مگر پھر بھی وہ مزے سے مریرہ کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی۔ مریرہ بیڈ کی پشت گاہ سے ٹیک لگائے کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی‘ ساتھ ساتھ وہ اس کی باتوں کا جواب بھی دے رہی تھی تبھی مریرہ نے پوچھا۔
شہرزاد کے سلسلے میں صیام کے گھر والوں سے بات کی تم نے؟
نہیں مما۔ آنکھیں موندے موندے اس نے مختصر جواب دیا۔ مریرہ نے کتاب بند کردی۔
کیوں؟
اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا اس لیے۔
کیا مطلب؟
صیام شہرزاد میں انٹرسٹڈ نہیں ہے مما۔ بغیر مریرہ کے چونکنے کا نوٹس لیے وہ پلکیں موندے لیٹی رہی تھی۔ مریرہ کو ازحد حیرت ہوئی۔
کمال ہے‘ اتنی اچھی بہترین لڑکی میں انٹرسٹڈ نہیں۔
میں کیا کہہ سکتی ہوں مما یہ ان دونوں کا ذاتی مسئلہ ہے۔
ہاں‘ تم بھلا کیا کرسکتی ہو۔ تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے اس نے دوبارہ کتاب کھول لی۔
صیام کو بتادیا تھا تم نے کہ تم اس کے ساتھ نیروبی جارہی ہو؟
میں اس کے ساتھ کہیں نہیں جارہی مما وہ میرا پرسنل سیکرٹری ہے‘ وہ میرے ساتھ نیروبی جائے گا۔
ہاں ہاں ایک ہی بات ہے۔
نہیں مما ایک ہی بات نہیں ہے آپ میری پوزیشن کو ڈائون کررہی ہیں۔
تم پاگل ہو دری اور کچھ نہیں‘ اچھے لوگ انسانیت کی درجہ بندی نہیں کرتے۔
میں درجہ بندی نہیں کررہی مما بس اپنی اور اس کی پوزیشن واضح کررہی ہوں۔
اوکے اوکے‘ میں بحث میں تم سے نہیں جیت سکتی۔
شکریہ۔ ان دونوں کے درمیان اکثر ایسی ہی چھوٹی موٹی نوک جھونک چلتی رہتی تھی‘ اب بھی درمکنون نے مزے سے مسکراتے ہوئے اپنا سر دوبارہ مریرہ رحمان کی گود میں رکھ دیا تھا۔

وقت جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا صیام کی بے چینی جھنجھلاہٹ کا روپ دھارتی جارہی تھی۔ دل جیسے کسی کام میں لگ ہی نہیں رہا تھا‘ ایک وہ نظر نہیں آرہی تھی تو دل جیسے کہیں کسی کام میں مطمئن نہیں تھا نہ ہی رسم متاثر کررہی تھی۔ حنان سے اس کی بے چینی اور جھنجھلاہٹ پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی تبھی وہ اپنے کام ادھورے چھوڑ کر اس کے قریب آیا۔
درمکنون میم نہیں آئیں؟
نہیں۔ بڑا روکھا جواب آیا تھا‘ وہ لب دبا کر بے ساختہ امڈ آنے والی ہنسی کا گلہ گھونٹ گیا۔
کیوں؟
مجھے کیا پتا‘ میں کوئی ان کا مشیر نہیں لگا ہوا جو وہ مجھے بتا کر کہیں بھی آئیں جائیں گی۔ وہ تپا حنان چاہنے کے باوجود اس بار خود کو ہنسنے سے باز نہ رکھ سکا۔
ٹھیک ہے مگر اس میں اتنا غصے ہونے والی کیا بات ہے۔
مجھے نہیں پتا‘ پلیز اس وقت میرا دماغ چاٹنے سے بہتر ہے تم اپنا کام کرو۔ وہ اس کے ہنسنے سے چڑ گیا تھا۔ حنان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔
تم کہو تو میں جاکر انہیں لے آئوں؟
کیوں؟
میرا یار جو اداس ہے اس لیے۔
میں کیوں اداس ہوں گا‘ مجھے ان کے مقام اور اپنی حیثیت کا بہت اچھی طرح سے پتا ہے۔ میں صرف ایک دل کی خوشی کے لیے اپنی عزت نفس کو مجروح ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ محلوں کی رانی ہے‘ اسے محلوں میں رہنا ہی سوٹ کرتا ہے حنان مجھ جیسے دو کوڑی کے ملازم کو زیادہ خوش فہم نہیں ہونا چاہیے۔
بُری بات اتنا ڈس ہارٹ نہیں ہوتے میری جان۔
ڈس ہارٹ نہیں ہورہا‘ حقیقت بیان کررہا ہوں۔ وہ مجھ میں کبھی انٹرسٹڈ نہیں ہوسکتی حنان کیونکہ انہوں نے سوائے ایک ملازم کے مجھے کبھی کچھ اور سمجھا ہی نہیں وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہیں۔
تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟
میں نے دیکھا ہے خود اپنی آنکھوں سے۔
کیا دیکھا ہے؟
اس شخص کو دیکھا ہے جس کا ساتھ انہیں خوشی دیتا ہے۔
یہ کیا کہہ رہے ہو؟
سچ کہہ رہا ہوں یار وہ شخص رشتے میں ان کا کیا لگتا ہے میں نہیں جانتا مگر اتنا ضرور جانتا ہوںکہ دری میڈم اس کے بہت قریب ہیں۔
کہیں تم ساویز شاہ کی بات تو نہیں کررہے۔
پتا نہیں شاید اس کا نام ساویز ہی ہے۔
ساویز ہی ہوگا‘ دری میم کے بچپن کا دوست ہے۔ اکثر آفس آتا رہتا ہے‘ آج کل ملک سے باہر ہوتا ہے تمہیں اس کو لے کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ان کا صرف دوست ہے بس۔
جو بھی ہے‘ مجھے اپنے دل کو سمجھانا ہوگا حنان چاند کو ہاتھ بڑھا کر چھونے کی خواہش رکھنے والوں کو دنیا پاگل کہتی ہے۔
میں یہاں تم سے اتفاق نہیں کروں گا‘ تمہیں اتنی جلدی کوئی بھی فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
میں فیصلہ نہیں کررہا بس خود کو لاحاصل خواہشوں کے پیچھے بھاگنے سے روکنا چاہ رہا ہوں۔
کیا یہ آسان ہوگا صیام؟
پتا نہیں‘ مگر کوشش تو کی جاسکتی ہے ناں۔ وہ مایوس لگ رہا تھا‘ حنان گہری سانس بھر کر رہ گیا۔ فی الوقت وہ اس کی کوئی بھی مدد کرنے سے قاصر تھا۔

شہرزاد کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی۔ درمکنون مریرہ کے کمرے سے نکلی تو شہرزاد کے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھ کر اسی طرف چلی آئی۔ شہرزاد بھی مریرہ کی طرح ۲ کتاب پڑھنے میں مصروف تھی‘ وہ دروازے پر ہلکی سی دستک کے بعد اندر چلی آئی تھی۔
تم سوئی نہیں ابھی تک؟
نہیں نیند نہیں آرہی تھی‘ تم یہاں کیا کررہی ہو؟
مطلب؟
مطلب تمہیں تو صیام کے گھر ہونا چاہیے تھا اس کی بہن کی مہندی کی تقریب ہے آج۔
تو کیا؟
بُری بات ہے دری کسی کے خلوص اور محبت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
میں کسی کے خلوص اور محبت کو نظر انداز نہیں کررہی‘ تم لوگ مجھے غلط لے رہے ہو۔ صیام صرف میرا پرسنل سیکرٹری ہے بس مجھے اس وقت وہاں جاکر اپنا تماشہ بنوانا پسند نہیں۔
تماشہ بننے والی کون سی بات ہے اس میں؟
تماشہ ہی ہے۔ وہاں سب ان کی اپنی برادری خاندان کے لوگ جمع ہوں گے‘ رسمیں ہوں گی۔ میں ایسے میں خوامخواہ ادھر جاکر سب کو اپنی طرف متوجہ کرتی پھروں۔
تمہیں لوگوں سے مطلب نہیں ہونا چاہیے دری صیام کو دکھ ہوگا۔
ہوتا رہے‘ تم اس پر مرمٹ سکتی ہو میں نہیں۔
تم ہو ہی پتھر‘ تم سے میں ایسی امید رکھ بھی نہیں سکتی۔ ڈپٹ کر کہتے ہوئے اس نے کتاب بند کی اور پھر تیار ہونے چل دی۔ اسے بھی اسپیشلی انوائٹ کیا گیا تھا مگر وہ درمکنون کی وجہ سے نہیں گئی تھی کہ ابھی دل کے زخم ہرے تھے۔ صیام کی آنکھوں میں درمکنون کے لیے دہکتے جگنوئوں کی روشنی دیکھنا اس کے بس سے باہر تھا مگر اب درمکنون نہیں جارہی تھی تو اس نے فوری جانے کا ارادہ باندھ لیا۔
وہ شخص اسے پسند نہیں کرتا تھا تو کیا ہوا‘ اس کی عزت تو کرتا تھا۔ اس کے ساتھ اپنے دکھ سکھ تو شیئر کرتا تھا اور اس کے لیے فی الحال یہی بہت تھا۔ درمکنون نے دیکھا شب کے ساڑھے گیارہ ہورہے تھی‘ شہرزاد ہلکی پھلکی تیاری کے ساتھ اسے ملامتی نگاہوں سے دیکھتی کمرے سے نکل گئی تھی۔ درمکنون دیر تک ٹیرس پر کھڑی اسے پورچ سے گاڑی نکالتے اور پھر اسٹارٹ کرتے دیکھتی رہی۔
باہر ٹھنڈی ہوائوں کا راج تھا وہ پروا کیے بغیر بے حس سی کھڑی رہی۔ دل اس کے فیصلے پر راضی نہیں تھا مگر اسے بھلا دل کی پروا ہی کہاں تھی؟

اپنی مجبور محبت کی خمیدہ بانہیں
گھرکے ویرانے کی گردن میں حمائل کرکے
درد کو دل میں دبائے ہوئے سونا چاہا
اپنی مجبور محبت کوبھلانا چاہا
ذہن کو تھپکیاں دے دے کے سلانا چاہا
لاکھ کوشش کی مگر رات گئے تک مجھ کو
کسی کروٹ بھی تیرے کرب نے سونے نہ دیا
ہجرکی رات سے دیرینہ تعلق تھا میرا
اس تعلق نے کسی اور کا ہونے نہ دیا

شب کے پونے بارہ ہورہے تھے جب شہرزاد کی گاڑی صیام کے گھر کے باہر رکی اندر مہندی کی تقریب اپنے عروج پر تھی۔ صیام جو حنان کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا اسے نہایت نفیس لباس میں ملبوس اپنی طرف آتے دیکھ کر چونک اٹھا۔ ہلکے پھلکے میک اپ کے ساتھ وہ بے حد خوب صورت دکھائی دے رہی تھی۔
السلام علیکم! بے حد معذرت میں قدرے لیٹ ہو گئی۔ نم نم سی آنکھوں کے ساتھ لبوں پر سادہ سی مسکراہٹ سجائے وہ اس سے معذرت کررہی تھی‘ صیام نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اٹس اوکے‘ آپ تشریف لے آئیں یہی بہت ہے۔
آپ شرمندہ کررہے ہیں صیام اصل میں دری کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘ اسی وجہ سے وہ نہیں آسکی‘ ابھی وہ دوائی لے کر سوئی تو میں ادھر آگئی۔ سادہ سے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اپنے ساتھ ساتھ درمکنون کا بھی بھرم رکھا تھا۔ صیام جو تھوڑی دیر پہلے خاصا دل برداشتہ ہورہا تھا اب ایک دم سے بے چین ہوگیا۔
کیا ہوا انہیں؟
بخار تھا‘ سر میں بھی شدید درد تھا۔
اوہ‘ میں سمجھا شاید وہ مصروف ہوں گی۔
نہیں‘ مصروف ہوتی تو لازمی آجاتی۔ ابھی بھی وہ بہت شرمندگی محسوس کررہی تھی کہ آپ لوگوں کے اتنے خلوص کے باوجود وہ نہیں آسکی‘ خیر میں ذرا آنٹی وغیرہ سے مل لوں۔ مختصر الفاظ میں درمکنون کا دفاع کرتی وہ آگے بڑھ گئی تھی۔ پیچھے صیام بے چین سا کھڑا رہا۔
دیکھا میں نے کہا تھا ناں کوئی مجبوری ہوگی‘ تم بھی ناں صیام بہت جلدی ہر کسی سے بدگمان ہوجاتے ہو۔ حنان کو اسے لتاڑنے کا موقع مل گیا تھا‘ وہ شرمندہ سا سر جھکا گیا۔
شہرزاد کی آمد نے عشرت اور شگفتہ کے ساتھ ساتھ‘ بی جی کو بھی دلی خوشی دی تھی۔ وہ ان میں گھل مل جاتی تھی‘ اپنے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھتی تھی اسی چیز نے صیام کے گھر والوں کے دلوں میں اس کا مقام بلند کردیا تھا۔
اگر انہیں معلوم ہوجاتا کہ شہرزاد صیام کو پسند کرتی ہے اور اس سے شادی کی خواہاں ہے تو شاید وہ ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر‘ شگفتہ کے ساتھ ہی صیام کی شادی کا فریضہ بھی سر انجام دے دیتے مگر ان کی نظر میں اسٹیٹس کا فرق تھا‘ وہ خود غرض ہوکر شہرزاد کی نگاہوں میں اپنا قد چھوٹا ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی خواہشات کے لبوں پر چپ کا قفل لگالیا تھا۔ صیام نے دیکھا شہرزاد اس کی ماں اور بہنوں کے ساتھ بے حد خوش اور مطمئن تھی یوں جیسے وہ اسی گھر اور ماحول کا حصہ ہو۔ وہ دیر تک اپنی سوچوں میں کھویا بے ارادہ ہی انہیں دیکھتا رہا تھا۔

کرنل صاحب کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔ چٹانوں سے مضبوط حوصلہ رکھنے والے ایک بے مثال کردار نے بناء کسی سے کچھ کہے چپ چاپ ہسپتال کے سرد کمرے میں‘ ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لی تھیں۔ صمید حسن آفس میں تھے جب انہیں ہسپتال کی طرف سے کال آئی۔
ایک لمحے کے لیے ان کے اندر جیسے دور تک سناٹا اترتا چلا گیا تھا‘ ان کی زندگی میں کرنل صاحب ایک مثالی کردار رکھتے تھے۔ وہ ان کے دکھ اور سکھ کے تمام موسموں کے ساتھی تھے‘ وہ زندہ تھے تو انہیں زندگی کی آخری سانس تک مریرہ رحمن کی واپسی کی امید تھی‘ آس تھی مگر کرنل صاحب کی سانسوں کی مالا کے ٹوٹتے ہی یہ آس بھی ٹوٹ گئی تھی۔ ماضی کے سارے باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگئے تھے۔ انہیں لگا وہ حقیقی معنوں میں یتیم اور لاوارث ہوگئے ہوں‘ سیل ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر کب میز پر گرا انہیں خبر ہی نہیں ہوسکی تھی۔ دماغ ایک دم سے سُن ہوگیا تھا‘ ان میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ میز پر گرا ہوا اپنا سیل ہی اٹھالیں۔ آنکھوں میں الائو کیسے دہکتا ہے اس لمحے انہیں خبر ہوئی تھی۔
عائلہ اس وقت کچن میں اپنے لیے چائے پکا رہی تھی جب اس کے سیل پر صمید حسن صاحب کی کال آئی۔ زاویا تکیے میں منہ چھپائے بے خبر سورہا تھا‘ سیل کی تیز بجنے والی رنگ نے اس کی نیند توڑ دی تھی۔ ایک کے بعد دوسری‘ تیسری رنگ پر مجبوراً اس نے تکیے میں منہ چھپائے ہاتھ بڑھا کر سیل اپنی تحویل میں لیا تھا۔
ہیلو۔ اسکرین پر صمید حسن صاحب کا نمبر دیکھ کر اس نے فوراً کال پک کی تھی۔
عائلہ کہاں ہے؟ بغیر کسی دعا سلام کے صمید صاحب نے خاصے بوجھل لہجے میں پوچھا تھا۔ زاویار پر نیند کا خمار نہ طاری ہوتا تو وہ ضرور ان کے لہجے کی شکستگی پر چونک اٹھتا۔
پتا نہیں پاپا شاید باہر مما کے پاس ہوگی۔ اس وقت اس نے ان کے سوال کو سرسری لیا تھا‘ صمید حسن نے کال کاٹ دی۔
اگلے تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہ کرنل صاحب کی ڈیڈی باڈی کو ہسپتال سے کلیئر کروا کر اپنے گھر لے آئے تھے۔
عائلہ آفس جانے کی تیاری کررہی تھی جب اپنے گھر کے لان میں ایمبولینس کو رکتے دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ سارا بیگم بھی فوراً اپنے کمرے سے نکل آئی تھیں۔ کرنل صاحب کی نعش کو ایمبولینس سے باہر لانے میں صمید حسن پیش پیش تھے۔ اندر لائونج سے بھاگ کر لان میں آتی عائلہ علوی کا وجود جیسے وہیں ساکت ہوگیا تھا‘ لان سے ملحقہ برآمدے کے ستون کا سہارا لیے کھڑی وہ جیسے لمحوں میں فنا ہوگئی تھی۔ ایک آخری رشتہ جو اس کی زندگی کی بقاء تھا‘ ختم ہوگیا تھا۔ اس کے لیے جیسے ساری دنیا ختم ہوگئی تھی‘ پورا وجود آندھیوں کی زد میں آگیا تھا۔
سر سے صرف آسمان نہیں ہٹا تھا بلکہ پائوں کے نیچے سے زمین بھی کھینچ لی گئی تھی۔ صمید حسن کرنل صاحب کے جسد خاکی کو سہارا دیئے گھر کے اندر لارہے تھے‘ عائلہ پتھر بنی ستون کا سہارا لیے کھڑی رہی۔ اس کے پائوں جیسے من من بھاری ہوگئے تھے سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ زور زور سے چیخے یا روئے پاس سے گزرتے ہوئے صمید حسن نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا‘ وہ ستون کو پکڑے پکڑے بے حد نڈھال سی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔

زاویار کی آنکھ صمید حسن کی کال سے کھلی تو پھر لاکھ کوشش کے باوجود وہ دوبارہ نہیں سوسکا۔ کچھ دیر یونہی بستر پر پڑے رہنے کے بعد اس نے باتھ لیا اور پھر بناء ناشتا کیے تیار ہوکر گھر سے نکل آیا‘ ارادہ مارکیٹ سے ہوکر آفس جانے کا تھا۔
ہوزان سے ابھی تک اس کا سامنا نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ جب سے آئی تھی اپنے کمرے میں مقید تھی۔ سارا بیگم کے علاوہ اس کی کسی سے بھی کھل کر بات نہیں ہوئی تھی۔ زاویار کو اپنے لیے کچھ شرٹس درکار تھیں‘ تبھی وہ گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرکے اپنے مطلوبہ بوتیک کی طرف آیا تھا جہاں ایک مرتبہ پھر تقدیر نے اسے مریرہ رحمان سے ملا دیا تھا۔
عمر عباس کے ساتھ کسی بات پر بحث کرتی وہ بوتیک سے باہر آرہی تھی‘ زاویار جو گاڑی لاک کرکے پلٹ رہا تھا وہیں ٹھٹک گیا۔ وہ عورت جس کی کوکھ سے اس کا جنم ہوا تھا‘ وہ عورت جو اس کے باپ کا عشق تھی کتنے سکون اور مزے کے ساتھ ایک غیر محرم مرد کو دم چھلہ بنائے بازاروں میں گھوم رہی تھی‘ اس کی کنپٹیاں سلگ اٹھیں۔
وہ عورت اس کی نظر میں ایک فرشتہ صفت انسان سے بے وفائی کی مرتکب ہوئی تھی‘ اس کی نظر میں معافی کے قابل نہیں تھی۔ بوتیک سے نکلنے کے بعد پارکنگ کی طرف بڑھتے ہوئے عمر نے مریرہ سے کچھ کہا تھا اور پھر ایک گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا شاید وہ دونوں اپنی الگ الگ گاڑیوں میں آئے تھے۔ مریرہ اسے رخصت کرنے کے بعد ابھی اپنی گاڑی میں بیٹھی ہی تھی جب اس کے سیل پر حمنہ حسین کی کال آگئی۔ مریرہ نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس کی کال پک کی تھی۔
ہاں حمنہ بولو‘ میں کل تمہاری طرف ہی آرہی تھی۔ گاڑی اب پارکنگ ایریا سے نکل آئی تھی‘ زاویار نے اپنی شاپنگ موقوف کردی۔ گاڑی کا لاک کھولتے ہوئے اس نے مریرہ کے پیچھے ہی پارکنگ ایریا چھوڑ دیا تھا۔ حمنہ حسین اب مریرہ سے کہہ رہی تھی۔
تمہارے لیے ایک بُری خبر ہے میرو اس کا لہجہ بے حد سپاٹ تھا۔ مریرہ نے فل اسپیڈ میں دوڑتی گاڑی کی رفتار دھیمی کردی۔ اس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ اٹھا تھا۔
سب خیر تو ہے؟
سب خیر نہیں ہے۔ حمنہ کے یاسیت میں ڈوبے لہجے نے اسے بے چین کردیا تھا تبھی وہ بولی۔
ہوا کیا ہے؟
کرنل صاحب کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔ حمنہ کا لہجہ بے حد ٹھہرا ہوا تھا۔ مریرہ کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل چیر کر رکھ دیا ہو۔
وہاٹ؟ اس کا پائوں سیدھا بریک پر جا پڑا تھا۔
ہاں میرو گزشتہ شب کے آخری پہر میں کرنل صاحب تیسرے ہارٹ اٹیک کا شکار ہوکر چل بسے‘ مجھے ابھی خبر ملی تو فوراً تمہیں مطلع کردیا۔ وہ بتا رہی تھی۔ مریرہ کے لرزتے ہاتھوں سے سیل چھوٹ کر نیچے جاگرا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے جیسے ایک دم سے اندھیرا چھا گیا تھا۔
یہی وہ وقت تھا جب زاویار کی گاڑی اچانک بریک سے اس کے برابر میں آرکی۔ قدرے سن اعصاب کے ساتھ اس نے چونک کر برابر میں دیکھا تھا جہاں زاویار اپنی گاڑی سے باہر نکل کر اب اس کی گاڑی کی ونڈو پر کہنیاں ٹکائے ذرا سا جھکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اس وقت مریرہ رحمان کے لیے اتنی نفرت تھی کہ وہ کنگ سی دیکھتی رہ گئی تھی۔
تو پاکستان آگئیں آپ‘ اسی ذلیل کمینے شخص کے ساتھ جس کے عشق میں پاگل ہوکر کبھی مجھے اور میرے باپ کو چھوڑ گئی تھیں آپ کتنی دلچسپ بات ہے کہ اتنا وقت گزر جانے کے باوجود آپ نے اسے نہیں چھوڑا‘ آخر کیوں؟ کیا خاص ہے اس شخص میں ایسا جو میرے باپ میں نہیں تھا؟ وہ زہر اگل رہا تھا۔ مریرہ پتھر کی مورت بنی شاکڈ نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔
ذہن تو پہلے ہی مفلوج ہورہا تھا اس پر زاویار کے چبھتے الفاظ نے اسے مزید چکرا کر رکھ دیا تھا۔
نفرت ہے مجھے عورت کے کردار سے‘ آپ سے‘ آپ کے تصور سے۔ کتنا بدنصیب ہوں میں کہ جس نے آپ جیسی بدچلن عورت کی کوکھ سے جنم لیا۔ کاش میں اتنا بہادر ہوتا کہ آپ کو اپنے ہاتھوں سے موت کی آغوش میں سلا سکتا تاکہ دنیا کی ساری عورتیں غلط راہ پر چلنے سے پہلے ایک بار آپ کا انجام دیکھ کر عبرت پکڑ لیتیں۔ کوئی حق نہیں ہے آپ جیسی گری ہوئی عورتوں کو عزت سے جینے کا‘ سمجھی آپ۔ وہ دل کا غبار نکال رہا تھا۔ مریرہ دماغ سنسنا اٹھا۔
بکواس بند کرو اپنی۔
کیوں سچ برداشت نہیں ہوا ناں؟ وہ اب لبوں پر زہریلی مسکان لیے اسے تمسخرانہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ مریرہ کے سارے بدن پر لرزا طاری ہوگیا‘ وہ بولی تو اس کے لہجے میں کانچ کے ٹکڑوں کے بکھرنے جیسی آمیزش تھی۔
کاش تم میرے بیٹے نہ ہوتے زوایار تو میں اپنی ذات پر اتنے گھٹیا الزام لگانے والے کا منہ نوچ لیتی۔
اچھا؟ وہ پھر تمسخرانہ ہنسا۔
ایک لمحے کے لیے آپ بھول جائیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں پھر منہ نوچیں میرا تاکہ میں پھر آپ کو بتاسکوں کہ میری نظر میں آپ جیسی سفاک‘ بے حس و بدکردار عورت کی کیا حیثیت ہے۔ وہ انگارے چبا رہا تھا‘ مریرہ کے منہ پر جیسے زور کا تھپڑ لگا۔
صمید حسن اور سارہ مینر حسین دونوں مل کر اس کے بیٹے کی ایسی تربیت کریں گے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ یقینا اس وقت وہاں ہوتا تو ضرور اس کا گریبان پکڑ کر اسے تین چار تھپڑ لگا دیتا۔ مریرہ کی آنکھیں آنسوئوں سے بھرائی تھیں۔
اس کا جوان بیٹا جو اس کی زیست کا حاصل تھا اس کے منہ کو آرہا تھا‘ بھلا اس سے زیادہ اس کی شکست اور کیا ہونی تھی۔ زندگی نے اسے صرف ہرایا نہیں تھا اوندھے منہ گرا کر دھول چٹادی تھی۔ دل تھا کہ جیسے دردکی شدت سے پھٹا جارہا تھا‘ ڈبڈبائی آنکھوں سے زاویار صمید حسن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی زاویار صمید حسن یہ یاد رکھنا تم‘ اللہ بڑا منصف ہے‘ آج نہیں تو کل میرے کردار کی سچائی تمہارے سامنے آجائے گی۔ جان جائو گے تم کہ تمہارے باپ نے سارا مینر حسین کے ساتھ مل کر برسوں پہلے مجھ پر کیسے قہر کے پہاڑ توڑے تھے۔ مجھے اپنے اللہ پر بھروسہ ہے وہ میری قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گا مگر میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی‘ یہ یاد رکھنا۔ موتیوں کی طرح اس کے ٹوٹ کر بکھرتے آنسوئوں کو زاویار نے سر جھٹکتے ہوئے دیکھا تھا جیسے اس پر اس کے الفاظ اور آنسوئوں نے کوئی اثر نہ کیا ہو۔ مریرہ نے دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے آنسو صاف کیے۔
آج مجھے اس بچے کو کھونے کا کوئی دکھ نہیں رہا جسے صمید حسن نے زبردستی مجھ سے چھین کر الگ کردیا تھا۔ پچیس سال جو آنسو میں نے اس وجود کے لیے بہائے آج ان تمام آنسوئون پر ندامت ہے مجھے‘ اب جائو یہاں سے آج کے بعد میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ قطعی کھردرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔
زاویار مائی فٹ کہتا پیچھے ہٹ گیا۔
مریرہ نے گاڑی پھر فل اسپیڈ میں آگے بڑھائی تھی زاویار نے یو ٹرن لے لیا، اسے ابھی اپنے لیے شاپنگ کرنی تھی اور آفس بھی پہنچنا تھا۔

شفاف کشادہ سڑک پر گاڑی فل اسپیڈ کے ساتھ بھاگتی جا رہی تھی۔ مریرہ کی آنکھوں میں جیسے ساون کی جھڑی لگ گئی، بالکل سن اعصاب کے ساتھ فاسٹ ڈرائیو کرتی وہ بچوں کی طرح ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔ اسے اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں اپنی تذلیل سے زیادہ کرنل صاحب کی اچانک موت کا صدمہ پہنچا تھا۔
کرنل شیر علی جو رشتے میں اس کے سگے تایا تھے مگر جنہوں نے اس کے ماں باپ کی حادثاتی موت کے بعد اسے سگے ماں باپ سے بڑھ کر پیار دیا تھا۔
مریرہ رحمان کی زندگی میں ان کا کردار ایک چھائوں دار گھنے درخت کی مانند تھا اس کی ذات پر ان کے بہت سے احسانات تھے یہی وجہ تھی کہ ان سے قطع تعلق کے باوجود وہ کبھی ایک دن کے لیے بھی ان کی ذات سے غافل نہیں رہ سکی تھی۔ حمنہ حسین کے توسط سے دیار غیر میں بھی اسے ان کے پل پل کی خبر ملتی رہی تھی مگر کرنل صاحب کو اس کی یہ ادا پسند نہیں آئی تھی تبھی تو جیسے وہ ان کی زندگی سے چپ چاپ نکل آئی تھی وہ اس کی زندگی سے چپ چاپ نکل گئے تھے۔ یوں کہ اسے پچھتانے کا موقع بھی نہ مل سکا تھا۔ معافی مانگ کر ان کے ساتھ زیست کے آخری لمحوں میں ماضی کی چند یادیں چند باتیں شیئر کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا تھا۔ جانے آخری لمحوں میں انہوں نے اسے یاد بھی کیا ہوگا کہ نہیں؟ نجانے دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوتے وقت انہوں نے اسے دیکھنے اس سے ملنے کی خواہش بھی کی ہوگی کہ نہیں؟ وہ اسے معاف کرکے بھی گئے ہوں گے کہ نہیں؟ آنسو تھے کہ کسی جھرنے کی مانند بہتے چلے جا رہے تھے، ارد گرد سے گزرتے ٹریفک کا شور اسے سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔
نگاہوں میں اگر کوئی چیز سمائی تھی تو کرنل شیر علی کا بارعب پُر شفیق چہرہ تھا سماعتوں میں اگر کوئی چیز گونج رہی تھی تو زاویار صمید حسن کے الفاظ تھے جن کی کڑواہٹ نے اسے محض چند لمحوں میں بھسم کردیا تھا۔ آج وہ حقیقی معنوں میں یتیم اور لاوارث ہوگئی تھی۔ گاڑی ہنوز فل اسپیڈ کے ساتھ بھاگتی جا رہی تھی مگر وہ جا کہاں رہی تھی یہ گاڑی ڈرائیو کرنے والی کو بھی نہیں پتا تھا۔
کتنی بار اس نے اوور ٹیک کیا کتنی بار لوگوں نے غیر ذمہ دارانہ ڈرائیو پر اسے رک رک کر باتیں سنائیں کتنی بار اسے ہارن دے کر راستہ لیا گیا اسے کچھ خبر نہیں تھی، برف ہوئی انگلیاں اسٹیرنگ سے چپکی ضرور تھیں مگر کام نہیں کررہی تھیں۔
اپنی دانست میں وہ جلد از جلد حمنہ حسین کے گھر پہنچ کر کرنل صاحب کی لاش کو اسپتال سے وصول کرنے جارہی تھی کیونکہ وہ ان کی اکلوتی وارث تھی مگر راستہ تھا کہ کٹنے میں ہی نہیں آرہا تھا۔ تار کول سے بنی شفاف سڑک طویل سے طویل تر ہوتی جارہی تھی۔
اس کا سیل پھر بج رہا تھا اسکرین پر حمنہ حسین کے روشن ہوتے نام کو دیکھ کر اس نے غائب دماغی کے باوجود کال ریسیو کرلی۔
کیا خبر کرنل صاحب کی رحلت کی خبر جھوٹی ہو۔ کیا خبر حمنہ حسین کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو کیا خبر اسپتال میں تیسرے ہارٹ اٹیک سے مرنے والا وہ شخص جسے کرنل شیر علی سمجھ لیا گیا تھا وہ کوئی اور ہو دل خوش فہمیوں کی لے پر دھڑک رہا تھا جب اس کے کال ریسیو کرنے کے بعد حمنہ حسین نے اسے بتایا۔
تم کہاں ہو میرو، صمید حسن کرنل صاحب کی لاش کو اپنے گھر لے گیا تھا وہی ان کی آخری رسومات ادا کرے گا۔
وہ کون ہوتا ہے ان کی آخری رسومات اد اکرنے والا اسی دھوکے باز شخص کی وجہ سے تو میں اتنے سال ان کی شفقت سے محروم رہی وہ میرے تایا ابو ہیں میں ان کی وارث ہوں، صمید حسن نہیں۔ آنسوئوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ وہ چلائی تھی۔ حمنہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔
ہاں تم ان کی وارث ہو مگر ان کے پاس نہیں ہو، وہ ان کے پاس ہے ان کی پوتی کو بھی اس شخص نے اپنی بہو بنا لیا ہے۔
ایک نئی اطلاع ایک نیا زخم مریرہ کے وجود میں رہی سہی جان بھی جیسے ختم ہوگئی وہ بولی تو اس کا لہجہ بے حد شکستہ تھا۔
مجھے اس شخص سے نفرت ہے حمنہ اس شخص نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا کچھ بھی نہیں رہنے دیا میرے پاس۔ وہ رو رہی تھی اور حمنہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے اسے چپ کرائے۔ تبھی وہ بولی۔
یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں ہے میرو، تم جلد از جلد میرے گھر پہنچ جائو پلیز، پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔
ٹھیک ہے۔ پھنسی پھنسی سی آواز کے ساتھ بمشکل کہتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی تھی، یہی وہ لمحہ تھا جب اس کی گاڑی سامنے سے آتی فل اسپیڈ کی پجارو سے ٹکرائی تھی۔
مریرہ کے ساتھ ساتھ پجارو میں بیٹھے شخص کے پاس بھی سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں تھا تبھی دونوں کی گاڑیاں ہَوا میں کئی فٹ بلند ہوئیں تھیں۔
مریرہ کا ذہن گمبھیر تاریکی میں ڈوبتا جا رہا تھا اسے سمجھ میں ہی نہیں آیا تھا کہ اچانک کیا ہوا ہے۔ آخری بات جو زندگی کی اسے یاد رہی تھی وہ اس کے دماغ میں گونجتے زاویار صمید حسن کے یہ الفاظ تھے۔
نفرت ہے مجھے عورت کے کردار سے آپ سے آپ کے تصور سے کتنا بدنصیب ہوں میں کہ جس نے آپ جیسی بدچلن عورت کی کوکھ سے جنم لیا کاش میں اتنا بہادر ہوتا کہ آپ کو اپنے ہاتھوں سے موت کی آغوش میں سلا سکتا تاکہ دنیا کی ساری عورتیں غلط راہ پر چلنے سے پہلے ایک بار آپ کا انجام دیکھ کر عبرت پکڑ لیتیں کوئی حق نہیں ہے آپ جیسی گری ہوئی عورتوں کو عزت سے جینے کا سمجھی آپ۔ اس کی آنکھیں سڑک کے اس پار بے یارو مددگار پڑے وجود کے ساتھ مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبتی چلی گئی تھیں صرف آنکھیں ہی کیا اس کا دماغ بھی مکمل طور پر اندھیرے کی نذر ہوگیا تھا۔

شگفتہ کی برات آپہنچی تھی صیام نے شگفتہ کی رخصتی کے لیے ہوٹل ارینج کیا تھا۔ مصروفیت اتنی تھی کہ سر کھجانے کو وقت نہیں تھا مگر دھیان کے پنچھی تھے کہ مسلسل درمکنون کے تصور کے آسمان پر اڑ رہے تھے۔ شہرزاد صبح صبح ہی گائوں روانہ ہوگئی تھی مجبوراً در مکنون کو تقریب میں شرکت کرنی پڑی۔
نیوی بلو کلر کے قدرے رف شلوار سوٹ میں ملبوس صیام، ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ نظر لگ جانے کی حد تک خوب صورت دکھائی دے رہا تھا مگر اسے بھلا اپنی خبر ہی کہاں تھی۔ اس کا اداس دل تو کل رات سے مسلسل درمکنون کے لیے بے چین ہورہا تھا کسی کام میں دل نہ لگنے کے باوجود اسے تمام فرائض اکیلے ہی سر انجام دینے تھے، شگفتہ عشرت کے ساتھ پارلر چلی گئی تھی۔
درمکنون سی گرین کریپ کے نہایت خوب صورت سوٹ میں ملبوس، ہلکے ہلکے میک اپ کے ساتھ جس وقت وہاں پہنچی نکاح ہوچکا تھا۔ صیام کا کہیں کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں تھا تبھی وہ ارد گرد اطراف میں نگاہ دوڑاتی بے جی کے پاس چلی آئی۔
بے جی جو برات کے ساتھ آنے والی مہمان خواتین کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں اس کے سلام پر جی جان سے نہال ہوگئیں۔
وعلیکم السلام ماں صدقے جائے اب کیسی طبیعت ہے میری دھی کی۔
شاید شہرزاد نے اس کی کل رات کی غیر حاضری کی وجہ اس کی خراب طبیعت بتائی تھی تبھی وہ دل ہی دل میں ان کے خلوص کو داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔
اب ٹھیک ہوں الحمدللہ، ایم سوری میں کل رات چاہنے کے باوجود نہیں آسکی۔
کوئی بات نہیں میری دھی اللہ آپ کو زندگی اور صحت دے باقی سارا کچھ چلتا رہتا ہے۔
صیام کی طرح اس کی ماں جی بھی بے حد سادہ مزاج خاتون تھیں۔ درمکنون کی نظریں جھک گئیں۔
سب کچھ ٹھیک ہوگیا ناں آنٹی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک کہہ سکتی ہیں آپ۔
نہیں چندا، اللہ کا بڑا کرم ہے سب کچھ بہت اچھا ہوگیا ہے اللہ ہر ماں کو صیام جیسا اچھا اور نیک بیٹا دے تمہارے بھی بڑے احسان ہیں پتر۔
نہیں آنٹی میں نے ایسا تو کچھ نہیں کیا جسے آپ میرا احسان کہہ سکیں۔ دھیمے سے مسکرا کر اس نے کہا تھا تبھی صیام جو کسی کام سے اسی طرف آرہا تھا اسے دیکھ کر ایک دم سے ٹھٹک گیا۔
اس لمحے اس کی آنکھوں میں جو تشنگی تھی درمکنون سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی تبھی اس نے بے ساختہ نظریں چرائی تھیں۔
السلام علیکم۔ نیوی بلو رف سوٹ میں بھی اس کی وجاہت نظر لگ جانے کی حد تک پُرکشش دکھائی دے رہی تھی۔ درمکنون کے لیے ایسے مواقع پر اکثر اپنا بھرم رکھنا دشوار ہوجاتا تھا۔
وعلیکم السلام، کیسے ہیں آپ؟
صیام کا دل چاہا کہہ دے تمہیں کیسا دکھائی دے رہا ہوں مگر ماں کی موجودگی میں اس نے دل کو ڈپٹ کر چپ کرا دیا تھا۔
ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں اب۔
میں بھی ٹھیک ہوں، شہرزاد کو گائوں میں تھوڑا کام تھا وہ صبح ہی گائوں کے لیے نکل گئی تھی معذرت کررہی تھی آپ سے۔
کوئی بات نہیں، آپ تشریف لے آئیں یہی بہت ہے۔ دل دل سے کہہ رہا تھا درمکنون نے نظریں چرالیں۔
رخصتی کب تک ہوجائے گی۔ اس نے بے جی سے پوچھا تھا صیام اس کے نظریں چرانے پر مسکرا کر رہ گیا۔
ان شاء اللہ تین بجے سے پہلے پہلے کردیں گے ویسے بھی دور کا سفر ہے کیا آپ رخصتی تک نہیں رکیں گی۔ بے جی کے بجائے صیام نے اس کے سوال کا جواب دیا تھا۔ وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے اصل میں مما شہر سے باہر ہیں میرا ان سے رابطہ نہیں ہورہا تو تھوڑی سی پریشانی ہورہی ہے ویسے عمر انکل نے تسلی دے دی ہے میں رخصتی کے بعد ہی جائوں گی آپ بے فکر رہیں۔ اس کی دمکتی شفاف رنگت پر موتیوں کی طرح چمکتے سفید دانت بے حد بھلے لگتے تھے صیام نے اس کے تفصیلی جواب پر بے ساختہ گہری سانس خارج کی۔
شکریہ۔ اس کی روح تک سرشار کر گئی ایک دم سے ارد گرد کی ہر چیز بے حد حسین لگنے لگی تھی۔
اسی وقت دفعتاً کسی نے اسے پکارا تو اسے ہوش آیا کہ اس کے پاس تو سر کھجانے کو بھی ٹائم نہیں تھا مگر وہ پچھلے تیس منٹ سے وہاں جم کر کھڑا تھا اپنی بے اختیاری پر سر دھنتا وہ پلٹا تھا۔
ایکسکیوزمی میں تھوڑا کام نپٹالوں آپ تقریب انجوائے کریں پلیز۔
جی ضرور۔
دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا پھر بے جی کو شگفتہ کی سسرالی خواتین کے ساتھ محو گفتگو پاکر وہ ایک سائیڈ پر پھولوں کی خوب صورت بیل کے قریب آکھڑی ہوئی۔
صیام نے اپنی بہن کی رخصتی کے لیے واقعی بہت خوب صورت ہوٹل کا انتظام کیا تھا وہ پھولوں کی خوب صورت بیل کے قریب دھری کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گئی پاس ہی صیام کی کچھ رشتہ دار خواتین بیٹھی تھیں مگر اس نے ان پر توجہ نہیں دی۔
پرسوں اسے نیروبی کے لیے روانہ ہونا تھا، جانے وہاں کتنے دن لگنے تھے مریرہ نے اسے کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ ابھی اسی بارے میں سوچ رہی تھی جب اس کی سماعتوں میں کسی لڑکی کی کڑک آواز گونجی۔
یہ جو سی گرین کپڑوں میں باربی ڈول سی لڑکی بیٹھی ہے ناں، یہی تمہارے صیام کی باس ہے نگی۔ وہ چونکی تھی مگر اس نے پلٹ کر قریب بیٹھی اس لڑکی کو نہیں دیکھا تھا، تبھی اس نے دوسری لڑکی کی آواز سنی۔
اچھا پہلے تو نظر نہیں آئی یہ۔
نظر کیسے آتی بیچاری کو فرصت ہی آج ملی ہوگی ادھر آنے کی۔ پہلی لڑکی نے کہا تھا اور پھر دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑی تھیں۔ درمکنون کو اپنی ذات کا موضوع گفتگو بننا سخت گراں گزر رہا تھا مگر وہ چپ سادھے بیٹھی رہی، جانے وہ لڑکیاں کون تھیں اور اسے کیوں ڈسکس کررہی تھیں۔ ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی جب اس نے دوسری لڑکی کو نخوت سے کہتے سنا۔
باس ہو یا باربی ڈول صیام میرا تھا اور میرا ہی رہے گا دس سال کی تھی میں جب میری اس کے ساتھ بات پکی ہوئی تھی اللہ بخشے چاچا فقیر حسین کی روح‘ جنہوں نے ہمارا رشتہ پکا کیا، ایسے کیسے کوئی ہتھیا سکتا ہے اسے مجھ سے جان نہ لے لوں میں ایسی کوشش کرنے والی کی۔
جان لینے سے بات نہیں بنے گی یار، اس کے پاس حسن بھی ہے اور دولت بھی سنا ہے‘ اسی کے بخشے ہوئے گھر میں رہ رہا ہے صیام آج کل میری مانو تو تم خالہ سے کہہ کر جلد اپنے ہاتھ پیلے کروالو نہیں تو یہ حسین چڑیل لے اڑے گی تمہارے شہزادے کو۔ وہ دونوں شاید اسے بھی سنانے کے لیے تیز تیز بول رہی تھیں۔
درمکنون کے اندر ایک دم سے ڈھیر سارا دھواں بھر گیا، وہ جانتی تھی کہ صیام بچپن سے انگیج ہے تبھی اس نے اس کی تشنگی کو رسپانس نہیں دیا تھا مگر اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ دنیا ان دونوں کے تعلق کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ صیام کی فیانسی کی نگاہوں میں اس کا کیا کردار ہے، اب جو آگاہی ہوئی تھی تو اندر جیسے الائو دہک اٹھے تھے۔ ایک جھٹکے سے وہ اٹھی اور بے جی کے پاس چلی آئی تھی۔
آنٹی میں گھر جارہی ہوں، میرے سر میں بہت درد ہے۔ بے جی جو بے حد مصروف تھیں اس کی بات سن کر پریشان ہوگئیں۔
رب سوہنا خیر کرے کہیں نظر نہ ہوگئی ہو میری دھی کو‘ ماں صدقے جائے کھانا کھا کر چلی جانا پتر، ایسے تو صیام کو برا لگے گا۔
نہیں آنٹی بھوک نہیں ہے، بس گھر جا کر آرام کروں گی۔
ٹھیک ہے پتر، جیسی تیری مرضی۔ بے جی شاید بہت کچھ کہنا چاہتی تھیں مگر وہ ناراض نہ ہوجائے اس لیے چپ سادھ گئیں درمکنون پلٹی تھی اور قطعی غیر دانستگی میں اپنے پیچھے آتے صیام سے بری طرح ٹکرا گئی اس کی مومی ناک صیام کے کشادہ سینے سے بری طرح ٹکرائی تھی تبھی جیسے اسے چکر آگیا تھا۔
ایم سوری، مجھے اندازہ نہیں تھا آپ اچانک پلٹ جائیں گی۔ درمکنون کو ناک پکڑے دیکھ کر وہ شرمندہ ہوا تھا تبھی بے جی بولیں۔
اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پتر‘ گھر جانے کا کہہ رہی ہے تھوڑا ٹائم ہے تیرے پاس تو خود جا کر چھوڑ آ بچے۔
نہیں میں چلی جائوں گی۔ درمکنون نے فوراً مداخلت ضروری سمجھی تھی تبھی وہ بولا۔
آپ شگفتہ کی رخصتی سے پہلے کہیں نہیں جارہیں۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
طبیعت ٹھیک ہوجائے گی آپ میرے ساتھ آئیں پلیز۔ وہ اتنی جرأت کرسکتا ہے درمکنون کو پہلی بار اندازہ ہوا تھا۔ تاہم وہ اس وقت کسی صورت وہاں ٹھہرنا نہیں چاہتی تھی تبھی صیام کی ریکوئیسٹ پر اس کے ساتھ چل پڑی۔ فنکشن نیچے ہال میں تھا وہ درمکنون کو اوپر فرسٹ فلور پر لے آیا۔
یہاں لانے کا مقصد۔ وہ برہم ہوئی تھی صیام نے مائنڈ نہیں کیا۔
چند ضروری باتیں شیئر کرنی تھیں آپ کے ساتھ۔
کہیے۔ دونوں بازو سینے پر باندھے وہ قدرے خفا خفا سی تھی۔ صیام چند لمحے خاموشی سے سامنے دیکھنے کے بعد بمشکل ہمت متجمع کرتے ہوئے بولا۔
میں جانتا ہوں آپ بہت اچھے اخلاق و کردار کی مالک ہیں میں ہی کیا سارا اسٹاف اس بات کا گواہ ہے مگر اتنے اچھے اخلاق و کردار کی مالک ہونے کے باوجود کبھی کبھی آپ کا بی ہیو بہت تلخ ہوجاتا ہے کیوں؟
آپ کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں ہے۔ رخ پھیرے پھیرے وہ قدرے یاسیت سے بولی تھی۔ صیام ہونٹ دبا کر رہ گیا۔
ایک بات کہوں اگر آپ ناراض نہ ہونے کا وعدہ کریں۔ وہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا درمکنون ٹکٹکی باندھے سامنے دیکھتی رہی۔
کہیے۔
ساویز حسن آپ کے قابل نہیں ہے۔
تو؟ اس بار اس نے تیکھے چتونوں سے اس کی طرف دیکھا تھا وہ نگاہ پھیر گیا۔
میں آپ کو پسند کرتا ہوں جیسے کسی جاندار کے زندہ رہنے کے لیے ہوا‘ پانی‘ خوراک ضروری ہوتی ہے بالکل ویسے ہی میری زندگی کے لیے آپ ضروری ہیں بنا کسی لالچ، کسی غرض کسی مفاد کے میں آپ کو
ایک منٹ پلیز۔ ہاتھ اٹھا کر صیام کی بات کاٹتے ہوئے اس نے اپنا لہجہ حتی المقدور خشک رکھا۔
میں آپ سے اتنی فضول اور قطعی غیر متوقع بات کی امید نہیں رکھتی تھی صیام‘ میں آپ کی عزت کرتی ہوں کیونکہ آپ میرے بہت اچھے قابل ورکر ہیں، مگر منگنی شدہ ہوتے ہوئے آپ مجھ سے یعنی اپنی باس سے اتنی فضول بات کہیں گے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
میں نے کوئی فضول بات نہیں کی نہ ہی زندگی میں کبھی دولت اور اسٹیٹس کو کوئی اہمیت دی ہے جہاں تک منگنی شدہ ہونے کی بات ہے تو میں نے اس منگنی کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا، یہ رشتہ صرف میرے بابا کی پسند تھا مگر وقت کے ساتھ وہ بھی اس جلد بازی پر نادم تھے۔
جو بھی ہے یہ آپ کا پرسنل میٹر ہے۔ میں صرف اپنی ذات کی بات کروں گی میرے لیے آپ صرف ایک ورکر ہیں بس میں ایک ورکر کو شوہر کا درجہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی ایم سوری۔ وہ سنجیدہ تھی صیام کے دل کا کانچ جیسے ٹکڑوں میں بٹ کر بکھر گیا۔
ایم سوری۔ لب بھینچتے ہوئے وہ محض یہی کہہ سکا تھا درمکنون آہستہ سے اثبات میں سر ہلاتی پیچھے پلٹ گئی تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کا سانس جیسے سینے میں رک رہا تھا۔ مگر اس نے پروا کیے بغیر باہر پارکنگ میں آکر ہی سانس لیا۔ آنسو تھے کہ بہتے جارہے تھے درمکنون کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے ڈرائیور کرکے گھر پہنچے۔
اوپر ٹیرس پر کھڑا صیام اس کے آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا درمکنون سوچ رہی تھی کاش کل کی طرح وہ آج بھی وہاں نہ آئی ہوتی تو دل اور بھرم دونوں بچ جاتے۔ لزرتے کانپتے ہاتھوں سے گاڑی کا لاک کھولتے ہوئے وہ بار بار اپنے وہاں آنے پر پچھتائی تھی صیام نے دیکھا گاڑی پارکنگ ایریا سے نکالنے کے بعد اس نے خاصی تیز اسپیڈ کے ساتھ گاڑی مین سڑک کے حوالے کی تھی وہ اداس آنکھوں سے اسے دیکھتا اپنے ٹوٹے ہوئے دل اور بھرم کی کرچیاں چنتا رہا۔

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
اپنے ہونے کی خبر تجھ کو بھلا دیں بھی تو کیوں
ہم کو ہونا ہی نہیں، تم کو خبر ہونے تک

سورج ڈھل رہا تھا۔ شہر کی طرف جاتی کچی سڑک پر چند دیہاتی خواتین سروں پر بالن کے گٹھڑ لادے اپنے اپنے گھروں کی طرف جارہی تھیں۔ تبھی شہرزاد نے آواز دے کر ایک سادہ سے حلیے والی نوجوان لڑکی کو روک لیا۔
ہیلو ایکسکیوز می پلیز بات سنیں۔ لڑکی اس پکار پر چونک کر حیران ہوتی فوراً رک گئی تھی بالن کا بڑا سا گٹھڑ ہنوز اس کے سر پر لدا تھا۔
ہاں جی۔
میرا نام شہرزاد ہے مجھے مائی جیراں کی تلاش ہے مگر وہ مل نہیں رہیں کیا آپ بتا سکتی ہیں اس وقت وہ کہاں ملیں گی؟ شہرزاد نے جلدی سے اس کے قریب آکر اپنا مدعا بیان کیا تھا، لڑکی کچھ سوچتے ہوئے بولی۔
آہو جی بتا تو سکتی ہوں مگر پکا نہیں پتا کہ وہ وہاں ہوگی بھی یا نہیں۔
کہاں؟
خود اپنے گھر میں جی آج کل اس کی بھانجی آئی ہوئی ہے ساتھ والے پنڈ سے وہی سنبھال رہی ہے اسے۔
اوہ کیا آپ بتا سکتی ہیں ان کا گھر کہاں ہے۔
ہاں جی یہ سیدھی سڑک بائیں طرف مڑیں تو پرانا کھو آجاتا ہے سنا ہے ہندوستان کی تقسیم کے وقت اس کھو میں سیکڑوں نوجوان مسلمان لڑکیوں نے کود کر اپنی عزت بچانے کی خاطر جان دے دی تھی، اسی کھوکے پرلی طرف چھوٹا سا کچا مکان ہے مائی جیراں کا۔
ٹھیک ہے بہت شکریہ۔ لڑکی تھوڑی باتونی تھی شہرزاد نے اجازت لینے میں ہی عافیت جانی۔
دن چھپتا جارہا تھا وہ شام ہونے سے پہلے پہلے گائوں سے نکل جانا چاہتی تھی کیونکہ اگر عمر عباس کو جو ان دنوں پاکستان تھا اس کی گائوں میں موجودگی کی اطلاع مل جاتی تو اس کی خیر نہیں تھی۔ انہی خیالوں میں گم تیز تیز قدم اٹھاتی وہ پرانے کھو کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جب اچانک ایک نیو پجارو اس کے بالکل قریب آ رکی۔
شہرزاد اگر اچھل کر سائیڈ پر نہ ہوجاتی تو اس کا کچلے جانا لازمی تھا۔ اس نے ابھی اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ پجارو سے ایک رائفل بردار شخص نے سرعت سے نکل کر اس کا منہ دبوچ لیا۔ شہرزاد کی چیخیں اس کے حلق میں ہی دم توڑ گئی تھیں۔ رائفل بردار شخص بہت طاقت ور تھا تبھی چند لمحے کسی تتلی کی مانند پھڑپھڑانے کے بعد اس نے بے بس ہوکر اپنا وجود ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔ بے ہوش ہونے سے پہلے جو آخری تصور اس کے ذہن کے پردے پر
لہرایا، وہ اس کی ماں کا تھا جنہوں نے ہمیشہ اسے گائوں میں آزادانہ پھرنے کی سختی سے ممانعت کی تھی مگر اب کیا ہوسکتا تھا چڑیاں کھیت چگ کر اڑ چکی تھیں۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close