Aanchal Mar-17

شجر ذات

افشاں علی

آدمی کو خاک نے پیدا کیا

خاک کے ساتھ آدمی نے کیا کیا

ایک دنیا مجھ سے تھی روٹھی ہوئی

تو نے بھی ٹھکرا دیا اچھا کیا

نئے گھر میں شفٹنگ جہاں ایک پرشوق نئی دنیا سجانے و بسانے کے مترادف ہے وہیں ان گنت کاموں کا انبار بھی منہ کھولے کسی اژدھے کی مانند براجمان نظر آتا ہے۔ نئے گھر کی تعمیر وتکمیل کا کام مکمل ہوتے ہی میرے پیروں میں گویا پھرکی سی لگ گئی میں گھن چکر سی بنی کبھی سامان کی خریداری کے لیے بازاروں کا چکر لگاتی تو کبھی سامان کی پیکنگ میں مصروف ہوجاتی تو کبھی نئے گھر کی صفائی و دھلائی میں پورا دن صرف ہوجاتا۔ اکیلی جان اوپر سے ڈیڑھ سالہ روحان کا ساتھ‘ سسرال میں میرے شوہر کے سوا کوئی نہ تھا ان کے ماں باپ بھی یکے بعد دیگرے اس دار فانی سے کوچ کرگئے تھے۔

صد شکر کہ میرا میکہ آباد تھا اس لیے جھٹ مدد کے لیے اپنی بہن کو بلوالیا۔ ثمرین کے آجانے سے کافی مدد مل جاتی تھی‘ وہ کہتے ہیں نا ایک سے دو بھلے‘ خیر سے شفٹنگ و دیگر کام مکمل ہوتے ہی میں نے قرآن خوانی کروانے کا فیصلہ کیا۔

پرانے محلے میں تو آس پڑوس میں اچھی جان پہچان ہوچکی تھی ویسے بھی وہاں متوسط طبقہ رہائش پذیر تھا جبکہ یہاں نیو سوسائٹی میں اپر کلاس فیملیز آباد تھیں اب چونکہ رہنا اور بسنا یہیں تھا تو ان نئے پڑوسیوں سے بھی سلام دعا کرنی ہی تھی ویسے بھی بقول میری دادی جان کے شادی بیاہ‘ خوشی و غمی اور چھوٹی بڑی دعوتیں و تقاریب ہی آپس میں جان پہچان و میل ملاپ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اپنے پرانے محلے میں قرآن خوانی کی دعوت دینے کے بعد آج شام میرا ارادہ اپنے آس پڑوس کے نئے پڑوسیوں کی طرف جانے کا تھا جبکہ روحان کو اس کی خالہ کے سپرد کردیا تھا۔

ڈوبتی شام کے ملگجے سائے ہر سو پھیل چکے تھے۔ پرندوں کے غول اور ان کی چہچہاہٹ بھی گہرے سایوں میں اب گم ہوکر اپنے اپنے گھونسلوں کی طرف رواں دواں تھی۔ شفق پر نارنجی سرخی صبح کاذب کا سماں پیش کررہی تھی‘ دھوپ رخصت ہوئی تھی تو شام کی ٹھنڈ نے ماحول کو اپنا اسیر بنالیا اور اب رفتہ رفتہ شام پر اندھیرا غالب آرہا تھا۔ سرمئی آسمان کے سینے پر رات کی زلفوں کا روپ بکھرتا جارہا تھا۔ سی بلاک کے آس پاس کے گھروں میں سلام دعا اور قرآن خوانی کا بلاوا دینے کے بعد میں بی بلاک کی جانب مڑگئی۔ میرا گھر بارہ سو اسکوائر کے رقبے پر مشتمل ڈبل اسٹوری تھا‘ گھر کے دونوں جانب فیملی رہائش پذیر تھیں جبکہ گھر کے بالکل سامنے بچوں کے لیے فیملی پارک اور پلے ایریا بنا ہوا تھا۔ پارک کی دوسری طرف بی بلاک تھا جو میرے گھر کے گیٹ سے بخوبی نظر آتا تھا اس لیے میں نے بی بلاک کے کچھ گھروں کو بھی دعوت دینے کا سوچا۔ بی بلاک کی گلی میں مڑتے ہی رائٹ سائیڈ کے کارنر پر بھی بلیک اور گرے ٹائلز سے سجا ایک خوب صورت گھر مجھے منتظر ملا۔ لائٹ جانے کے سبب گھر میں چلتے جنریٹر کی آواز باہر گیٹ تک بخوبی سنائی دے رہی تھی۔ جنریٹر کی بدولت ڈور بیل کی آواز اندر تک گونجی تھی‘ تبھی تو فوراً ہی گیٹ کھولا گیا‘ گیٹ کو کھلتے دیکھ کر میں تیزی سے آگے بڑھی تھی مگر کسی خاتون کے بجائے سامنے کھڑے نوجوان لڑکے کو دیکھ کر میں دو قدم پیچھے ہٹی۔

’’اندر چلی جائیں‘ باجی اندر ہی ہیں۔‘‘ نوجوان نے سامنے نظر آتے دو کمروں میں سے ایک کی جانب اشارہ کیا‘ میں خاموشی سے نوجوان کے بتائے گئے کمرے کی طرف بڑھ گئی مگر اندر داخل ہوتے ہی اندر موجود خواتین کو دیکھ کر میں دنگ رہ گئی۔

’’میم رفعت… آپ…؟‘‘ حواس میں آتے ہی میں جھٹ سے آگے بڑھی۔

’’ارے درثمن تم… یہاں…‘‘ وہ بھی خوشی سے میرے گلے لگیں جبکہ میں اب تک حیرت وخوشی کے ملے جلے تاثرات لیے انہیں ہی دیکھے جارہی تھی جو کہ ماضی میں میری ٹیچر رہ چکی تھیں۔

/…ء…/

زیادہ نہیں تو آج سے تقریباً نو دس سال پہلے جب میں نائنتھ اسٹینڈر میں تھی‘ میم رفعت ہماری انگلش کی ٹیچر بن کر آئیں تھیں۔ اٹھائیس سالہ خوب صورت سی میم رفعت کافی ذہین و اسمارٹ سی تھی۔ ان کی فرینڈلی نیچر کے باعث وہ میری فیورٹ ٹیچر بن گئیں۔ رفتہ رفتہ میں انہیں آئیڈیلائز کرنے لگی‘ ان کا انداز گفتگو‘ لہجہ‘ اسٹائل حتیٰ کہ ان کی ڈریسنگ میں کاپی کرنے لگی۔ ان کی زیرک نگاہوں سے یہ چیزیں پوشیدہ نہیں تھی شاید تبھی تو اکثر وہ مجھے فری ٹائم میں اپنے پاس بلالیتی اور خوب ساری باتیں کرتیں۔ ہمارا رشتہ ایک ٹیچر و اسٹوڈنٹ سے کہیں زیادہ دوست کا سا تھا۔ شام میں ٹیوشن بھی میں انہی کے پاس جانے لگی کیونکہ ان کا گھر ہمارے محلے سے زیادہ دور نہیں تھا۔ وہ سنہرا دور یوں ہی بیت گیا‘ بے فکر و بے خبر‘ میٹرک کلیئر کرتے ہی جہاں مجھے اسکول کو خیر آباد کہہ کر کالج جوائن کرنا پڑا وہیں میم رفعت کی فیملی کافی دور دوسرے علاقے میں شفٹ ہوگئی اور یوں میم رفعت سے رابطہ برائے نام ہی رہ گیا پھر پڑھائی و دیگر مصروفیات اور میری دوسرے شہر شادی نے ہمیں بالکل ہی جدا کردیا اور وہ بے فکر سنہرا بچپن و لڑکپن بھولا بسرا قصہ بن گیا۔ وقت کے گھوڑے نے رفتار پکڑی اور سرپٹ دوڑے چلا گیا‘ کتنے برس بیت گئے اور آج… ایک بار پھر وقت کی مہربان دیوی نے بالآخر مجھے اور میم رفعت کو ملا دیا۔

آج کی میم رفعت میں اور پہلے کی میم رفعت میں کافی فرق آچکا تھا حالانکہ اب بھی وہی انداز گفتگو‘ میٹھا لہجہ اور باریک آواز تھی مگر آنکھوں کے گرد واضح ہوتے حلقے اور بالوں میں چاندنی کی چمک کا اضافہ ہوچکا تھا۔

’’میں آپ کو بتا نہیں سکتی میم کہ آپ کو اتنے برسوں بعد دیکھ کر اور مل کر میں کتنی خوش ہوئی ہوں‘ آپ جانتی ہیں نا اسکول لائف میں آپ میری آئیڈیل و فیورٹ ٹیچر رہی ہیں۔‘‘ میری پرجوش سی آواز میں خوشی چھلک رہی تھی۔

’’بالکل… میں جانتی ہوں اور یہ بھی کہ تم میری بہت ہی پیاری سی اسٹوڈنٹ رہی ہو اور ساتھ ہی اچھی دوست بھی۔‘‘ انہوں نے پیار سے میرا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔

’’اچھا بتائو‘ آج کیسے خیال آگیا کیسے یاد آئی؟‘‘

’’میم… ہم نے‘ آئی مین میرے شوہر نے اسی سوسائٹی کے بلاک سی میں پلاٹ بک کروایا تھا۔ کافی عرصہ سے کنسٹرکشن کا کام چل رہا تھا جو بالآخر اب جاکر مکمل ہوا تو سوچا پہلے قرآن خوانی کروالی جائے بس اسی سلسلے میں سب کو دعوت دینے نکلی تھی۔‘‘

’’ماشاء اللہ‘ بہت بہت مبارک ہو نئے گھر کی بھی اور شادی کی بھی۔‘‘ تبھی ان کی چھوٹی بہن عصمت چائے اور دیگر لوازمات سے سجی ٹرے اٹھائے چلی آئی۔

’’ارے عصمت بھی یہاں ہے‘ اچھا آپی کے گھر آئی ہوئی ہو۔ چلو اچھا ہے‘ میری آپ سے بھی ملاقات ہوگئی۔‘‘ میں نے خوشی سے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔

’’میم… ویسے مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس علاقے میں آپ کا سسرال ہوگا اور یوں اچانک آپ سے ملاقات ہوجائے گی ورنہ میں پہلے ہی آپ سے ملنے آجاتی۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔

’’چندا یہ میرا سسرال نہیں میکہ ہی ہے‘ میری ابھی شادی نہیں ہوئی۔‘‘ ان کے دھیمے لہجے میں کہی گئی اس بات نے میری مسکراہٹ ہی غائب کردی تھی۔

’’آپ کی شادی نہیں ہوئی؟‘‘ میرے لہجے میں حیرانگی در آئی‘ وہ ہولے سے مسکرا کر نفی میں سر ہلا گئیں۔ ان کی مسکراہٹ نے ان کا ساتھ نہیں دیا ایسا مجھے لگا یا پھر میرا وہم تھا شاید کیونکہ ان کی آنکھوں سے بھی ایک خالی پن نمایاں ہورہا تھا۔ میں نے ایک بار پھر ان کا جائزہ لیا‘ آنکھوں کے نیچے نمایاں ہوتے حلقے اور بالوں کی چاندنی کو چھپایا جائے تو وہ اب بھی کافی اسمارٹ و جاذب نظر تھیں۔ باریک آواز‘ میٹھا لہجہ‘ اسمارٹ و ذہین سی ٹیچر میں بظاہر ایسی کیا کمی تھی جو اٹھائیس بہاریں دیکھ لینے کے باوجود وہ اب تک کنواری تھیں۔

’’میں جانتی ہوں تم کیا سوچ رہی ہو؟ تمہارے ذہن و دل میں بھی یہی بات چل رہی ہوگی نا کہ بھلا مجھ میں ایسی کیا کمی ہے جو اب تک شادی نہیں ہوپائی؟‘‘ انہوں نے شاید میری آنکھوں سے جھلکتے سوال کو پڑھ لیا۔

’’میرا سید گھرانے میں پیدا ہونا اور سید ہونا ہی میری سب سے بڑی وجہ بن گیا۔‘‘ ان کا لہجہ خزاں رسیدہ سا تھا۔

’’تم جانتی ہو ہم سید ہیں اور سید گھرانوں میں لڑکیوں کو زیادہ آزادی نہیں دی جاتی حتیٰ کہ بعض دفعہ دنیاوی تعلیم بھی نہیں پر میرے ابو جی نے ہم سب بہنوں کو پڑھایا اور خوب پڑھنے کی آزادی بھی دی۔ اس لیے بڑی فرحت آپا نے ایم ایڈ کیا پھر کمیشن پاس کرکے سترہ اسکیل کی جاب حاصل کی۔ چھوٹی نزہت آپا نے پی ایچ ڈی کی‘ میں نے ایم فل کیا جبکہ عفت بی ایڈ اور عصمت آج کل بی ایس سی کررہی ہے۔ پڑھنے کی تو ہمیں بخوبی آزادی مل گئی مگر جب بات آئی شادی کی تو ہماری خوبیوں‘ ذہانت و تعلیم کو دیکھ کر جو بھی رشتے آئے وہ ایک ایک کرکے ریجکٹ کردیئے جاتے پتا ہے کیوں؟ صرف اس لیے کہ وہ سید گھرانوں و خاندان سے نہ تھے۔ اس لیے انہیں بنا پرکھے‘ بنا دیکھے ریجیکٹ کیا جاتا رہا نتیجتاً دن مہینے اور سال یونہی بیتتے چلے گئے۔ بڑی آپا کے لیے ان کے کولیگ کا رشتہ آیا جو انہیں بھی پسند تھا مگر ہوا کیا؟ اسے بھی ریجکٹ کرکے بڑی آپا پر خوب طعنہ زنی کی گئی ہمارے اپنوں نے‘ ہمارے ہی والدین نے…‘‘ وہ کچھ پل کے لیے رکیں‘ ان کا لہجہ اب آنسوئوں سے تر تھا۔

وقت ایک سیل رواں ہے‘ بہتا ہی چلا جاتا ہے اس بہائو میں کون بچھڑے‘ کون ٹوٹے‘ کون روٹھے‘ کون ملے اور کون کہاں جائے کچھ نہیں معلوم پڑتا۔

’’بہت سی دعائوں اور منتوں و مرادوں کے بعد بمشکل بڑی آپا اور چھوٹی آپا کے لیے کسی سید گھرانے سے رشتہ آہی گیا۔ والدین نے آئو دیکھا نہ تائو جھٹ منگنی پٹ بیاہ کرکے شادی رچادی۔ ان کی نظروں میں یہی غنیمت تھا کہ رشتہ سیدوں کے ہاں ہوا تھا‘ انہیں اس سے کوئی سروکار نہ تھا کہ دیہاتی اجڈ ماحول میں ان کی پڑھی لکھی پھول سی بیٹیاں کیسے رہ پائیں گی؟ ماں باپ کی آنکھ سے بہتے آنسو‘ جڑے ہاتھ اور ان کی مجبوریاں ہی ایسی ہوتی ہیں کہ ہونٹ سل جاتے ہیں‘ لبوں پر قفل لگ جاتے ہیں خاص کر بیٹیوں کے۔‘‘ وہ سر جھکائے اپنی ہتھیلی پر اپنے نصیب کی لکیر ڈھونڈتی‘ ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں بولے جارہی تھیں جبکہ میں بغور انہیں دیکھتی رہی۔

’’زندگی جو ملتی ہے ایک بار ہے مگر بعض دفعہ یہ ہی زندگی ہمیں اوروں کے لیے ان کے حساب سے ان کی خوشی‘ ان کی مرضی سے جینی پڑجاتی ہے جیسے دونوں آپا جی رہی ہیں‘ جیسے ہم جی رہے ہیں۔ جب تک والدین حیات رہے تب تک لوگوں کی آوازیں ہم تک پہنچنے سے روکتے رہے اب تو اردگرد ہر طرف دبی دبی سرگوشیاں و چہ مگوئیاں سنائی دیتی ہیں کہ بقول ان لوگوں کے زیادہ پڑھ لکھ کر ہمارے دماغ آسمانوں پر پہنچ گئے ہیں اس لیے ہمیں زمینی رشتے پسند نہیں آتے تبھی اب تک ہم نے شادی نہیں کی۔ پر درحقیقت پس پردہ کوئی نہیں جانتا اصل بات‘ اصل تلخ حقیقت کہ علم کی سیڑھی کے سہارے ہی ہمیں پہلے آسمانوں کی وسعتوں میں چڑھنے دیا گیا اور جب ہم نے چمکنا شروع کیا تو نیچے سے وہ سیڑھی ہی کھینچ لی گئی۔‘‘ وہ چپ ہوگئیں تو میں نے سوچا۔

’’ہمارے معاشرے میں کہنے کو لڑکیوں کو بہت آزادی ہے مگر دیکھا جائے تو آج بھی کہیں نہ کہیں ہر چیز کی ذمہ دار لڑکی ہی ٹھہرائی جاتی ہے۔ آج بھی قربانی لڑکی کے ہی حصے میں آتی ہے وہ اپنی پسند ظاہر کرے تو اس پر آوارگی و بدچلنی کا الزام‘ وہ چپ ہوکر ماں باپ کی پسند پر سر جھکائے تو گویا ایک خاموش سی قربانی‘ اپنی پسند کی‘ اپنی خوشی کی‘ اپنے ارمانوں کی… خیر اب تو زندگی یوں ہی گزرتی ہے‘ بس خدا جس حال میں رکھے اس ٹھہری ہوئی زندگی کو یونہی گزارنا ہے۔ وہی دن وہی رات اور وہی معمولات‘ اسکول پھر ٹیوشن اور گھر بس ایک مشینی زندگی گزر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے سرد آہ بھری۔

’’خیر چھوڑو درثمن… میں بھی نہ بس کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی اتنے سال بعد پھر سے ملی ہو نا تو بس خود پر قابو ہی نہ رکھ پائی‘ تم چائے تو پیو۔‘‘ انہوں نے پھیکی سی ہنسی ہنس کر ماحول کو بدلنا چاہا۔ عصمت کی لائی ہوئی چائے اب سرد ہوچکی تھی بالکل میم رفعت کے ارمانوں کی طرح۔

کمرے میں اب خاموشی کا راج تھا‘ میم رفعت کے چہرے پر صدیوں کی تھکن تھی۔ ایک رائیگاں سفر کی داستان رقم تھی‘ ماضی کا سفر بہت تکلیف دہ ہوتا ہے وہ اس مختصر سے وقت میں بہت سا سفر طے کر آئی تھیں۔

میرے سامنے بیٹھی اتنی پڑھی لکھی اعلیٰ ذہین و خوب صورت کنواری لڑکی جو کہ عمر کے لحاظ سے اب عورت میں شمار ہوتی کس قدر تہی داماں‘ تہی دست تھی۔ پڑھائی کے زیور سے آراستہ‘ علم کی دولت سے پور پور سجی مگر اس کو ایک نظر سراہنے کے لیے ایک نظر دیکھنے کے لیے کوئی ہمسفر نہ تھا۔ زندگی کے اتنے لمبے سفر پر ان کے ساتھ چلنے والا کوئی ہم قدم نہ تھا۔ صحیح کہتے ہیں لوگ… بعض دفعہ حالات لڑکیوں کو اپنی ڈگریاں چولہے میں ہی جھونک دینے پر مجبور کردیتے ہیں۔‘‘ ایک گہری و سرد آہ میرے اندر سے ابھری تھی‘ میری قوت گویائی سلب ہوچکی تھی بہت کچھ کہنا چاہتی تھی میں ایک لفظ تسلی کا۔ کوئی جملہ ہمت بڑھانے کو‘ کوئی شعر حوصلہ بخش مگر زبان ہی دغا دے گئی۔ نجانے کیوں زبان ساتھ چھوڑ گئی۔ میں نے خاموشی سے ٹھنڈی چائے کی پیالی ہونٹوں سے لگالی مگر اس ٹھنڈی چائے کا ذائقہ بالکل بدل چکا تھا اس میں تلخی تھی‘ ایک سیاہی کی تہہ سی جمی تھی‘ کچھ کڑواہٹ بھی تھی بالکل میم رفعت کی زندگی کی طرح‘ گرم چائے اور ٹھنڈی بوتل کی طرح۔

بعض چیزیں وقت پر ہی اچھی لگتی ہیں‘ تاخیر ہوجائے تو وہ چیزیں اپنا اصلی رنگ و روپ کھودیتی ہیں اور مثال میرے سامنے تھی چائے کی بھی اور میم کی بھی۔ کچھ دیر یونہی بیٹھ کر اور انہیں گھر آنے کی دعوت دے کر میں بہت مضطرب و مضمحل سی وہاں سے نکلی تھی باقی گھروں میں دعوت دینے کا ارادہ ملتوی کرتے میرے قدم اب اپنے ہی گھر کی جانب مڑچکے تھے۔ کتنا صحیح کہتے ہیں بڑے بوڑھے…

’’عمر کے کسی نہ کسی حصے میں آکر عورت کو سہارے کے لیے مرد کی ضرورت پڑتی ہی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے مرد عورت کے بنا نہیں رہ سکتا۔‘‘

میرے ذہن میں میم رفعت کی باتوں کی یلغار سی جاری تھی۔ کتنا کرب تھا‘ کتنا درد تھا‘ کیسا ادھورا پن سا تھا۔ ایک ان کہی تشنگی برسوں کی تلخ زندگی نے میم کو کیا سے کیا بنا دیا تھا‘ ان کی ساری خوب صورتی وقت کی دیمک کی نذر ہوکر قصہ پارینہ بن چکی تھی۔ ایک ادھورے پن کے احساس کے ساتھ وہ تنہا ہی اپنی زندگی کی گاڑی کو گھسیٹ رہی تھیں۔ وقت کی شوریدہ ہوائیں ان کے ارمانوں کے سوکھے پتوں اور خواہش کی ہری ٹہنیوں کو اڑا لے گئے تھے۔

کون کہتا ہے تعلیم سے شعور آگیا… لوگ بدل گئے… وقت بدل گیا؟ نہیں… کچھ بھی نہیں بدلا‘ سب کچھ تو ویسا ہی ہے۔ وقت بھی‘ معاشرہ بھی‘ لوگ بھی‘ ان کی سوچ بھی‘ ان کی ضد‘ ان کے رواج و روایات بھی۔ والدین چاہتے ہیں کہ علم کی عینک پہن کر ہم دنیا دیکھیں‘ جب ہم دیکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو پھر والدین کی ضد‘ جھوٹی انا و فضول رواجوں میں گھر کر ناصرف آنکھوں سے وہ علم کی عینک اتروا دی جاتی ہے بلکہ مجبوری و قربانی کے نام کی دیا سلائی سے ان آنکھوں کو ہی پھوڑ دیا جاتا ہے تو پھر کیا فائدہ ایسی تعلیم کی روشنی کا جو لڑکیوں کی زندگی کو روشن نہ بناسکے۔ ان کا حال و مستقبل ناسدھار سکے‘ ان کی آنکھوں کو اور زندگی کو روشنی عطا کرنے کے بجائے آنکھوں میں نیل کی سلائی پھیری جائے تو ایسی تعلیم نسواں لڑکیوں کے کس کام کی جس میں وہ کھل کر نہ سانس لے سکیں‘ نہ آزادی و اپنی خوشی سے جی سکیں بلکہ الٹا انہیں اپنی خواہشوں و خوشیوں سے دستبردار ہونا پڑے۔ اب وقت ہے بدلنے کا‘ آواز اٹھانے کا‘ ہم قدم ہوکر ساتھ چلنے کا کیونکہ ہمیں تعلیم نسواں اور اس کی ضرورت و اہمیت و افادیت کو شمع سحری نہیں بلکہ شمع عالم تاب کی مانند بنانا ہے۔

خود سے ایک مستحکم ارادہ کرتے ہوئے میں نے اپنے گھر کی ڈور بیل دی۔ گیٹ کھولنے والی بھی ایک لڑکی ہی تھی یعنی میری بہن۔ شروعات مجھے اپنے گھر سے کرنی تھی‘ جینے کا حق سب کو حاصل ہے اور خاص کر اپنی مرضی سے جینے کا کیونکہ زندگی ایک نعمت خداوندی ہے۔

یہ جو زندگی کی کتاب ہے

یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے

کہیں اک حسین سا خواب ہے

کہیں جان لیوا عذاب ہے

کہیں آنسوئوں کی ہے داستاں

کہیں مسکراہٹوں کا بیاں

کئی چہرے اس میں چھپے ہوئے 

اک عجیب سی یہ نقاب ہے

کہیں کھودیا کہیں پالیا

کہیں رولیا تو کہیں گالیا

کہیں چھین لیتی ہے ہر خوشی

کہیں مہرباں لاجواب ہے

کہیں چھائوں ہے کہیں دھوپ ہے

کہیں اور ہی کوئی روپ ہے

کہیں برکتوں کی ہے بارشیں

کہیں تشنگی بے حساب ہے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close