Aanchal Dec-18

عشقِ سفر کی دھول قسط ۴

نازیہ کنول نازی

گرم ہے ہنگامۂ شام و سحر میرے لیے
رات دن گردش میں ہیں شمس و قمر میرے لیے
میں ہوں وحشی‘ آہ! کِس صحرائے آفت خیز کا؟
ہے گلِ ویرانہ بھی‘ بیگانہ تر میرے لیے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

حسن بانو اور سعید کی پسند کی شادی نے سعید کی محبت میں اپنا گھر چھوڑ دیا تھا اب وہ دونوں اپنے بیٹے ایزد غربت کی زندگی گزار رہے تھے۔ سعید کو جوئے کی لت لگ جاتی ہے اور جوئے میں وہ حسن بانو کا سودہ کردیتا ہے۔
حمزہ سعید کا دوست تھا اور سعید کے گھر اس کا آنا جانا ہوتا ہے وہ سعید کی ہر بات سے با خبر ہوتا ہے تب ہی حسن بانو کے سودے والی بات سے اسے با خبر کرتا ہے اور گھر سے بھاگ جانے کا مشورہ دیتا ہے جس پر حسن بانو پریشان ہوجاتی ہے اور سعید سے اس حوالے سے بات کرتی ہے۔ سعید نے جوئے میں ہارنے کے بعد ان لوگوں سے رقم کے لیے چند دن کی مہلت مانگی تھی تاکہ وہ رقم کا بندوبست کرسکے سعید کا رات کے اندھیرے میں اس شہر سے فرار کا منصوبہ تھا پر وہ لوگ عین وقت پر پہنچ کر حسن بانو کو اپنے ساتھ لے جانے کی بات کرتے ہیں۔ حسن بانو کمرے میں ایزد کے ساتھ بند ہو جاتی ہے اور اسے کوئی راہ فرار دکھائی نہیں دیتی تو وہ خود کشی کرلیتی ہے ایزد کے کچے ذہن میں ماں کی پنکھے سے لٹکتی لاش ہمیشہ کے لیے رہ جاتی ہے۔
سعید ایزد کو لے کر دوسرے شہر آجاتا ہے اور وہاں نوکری کرنے لگتا ہے لیکن ایک روز اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ وہ بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہے گا تب وہ ایزد کو حمزہ کے ساتھ بھیج دیتا ہے۔
حمزہ عباسی کے گھر میں ان کی بیوی اور بچوں کے علاوہ ایک بہن بھی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہے۔ حمزہ عباسی ایزد کی حقیقت اپنی بیوی سلمیٰ سے نہیں چھپاتے حمزہ عباسی کے دونوں بچے عماد اور عائشہ بھی ایزد سے دوستی کرلیتے ہیں جبکہ حمزہ عباسی کی بہن زہرہ بیگم کی دونوں بیٹیاں ماں کے کہنے پر ایزد سے دور رہتی ہیں جبکہ نوال رویہ ایزد کے ساتھ بے حد خراب ہوتا ہے۔
شفا اور امرحہ دو بہنیں تھیں شفا شادی شدہ اور امرحہ ابھی زیر تعلیم ہوتی ہے۔ عماد شفا سے محبت کرتا ہے لیکن شفا محبت میں پاگل پن کی حد تک جنونی ہوتی ہے اس سے یہ بات برداشت نہیں کہ عماد اس کے علاوہ کسی کو اہمیت دے جب ہی ایک ذرا سی بات پر شفا خود کشی کی کوشش کرتی ہے جس پر عماد پریشان ہوتا دوبارہ اس سے کبھی خود کشی نہ کرنے کا عہد لیتا ہے امرحہ شفا کو سمجھاتی ہے لیکن وہ سمجھنے کے بجائے اپنی محبت کی شدت کی بات کرتی امرحہ کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔
عماد کا رشتہ بچپن میں اس کی پھوپی زاد سے طے تھا لیکن اس نے صرف شفا کی وجہ سے اس رشتے کو ٹھکرا دیا تھا اور اس کو ٹھکرانے کے ساتھ ہی تمام خونی رشتوں کو بھی چھوڑ دیا تھا۔ وہ شفا کی خود کشی کے عمل سے خائف ہو کر اسے طلاق دے دیتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی ذرا سی بے پروائی کی وجہ سے شفا پھر کبھی خود کشی کرلے۔
امرحہ کی یونیورسٹی میں عمر سعید اور فاطمہ سے دوستی تھی جبکہ عمر سعید اور ایزد حسن ایک دوسرے کے دشمن ہیں عمر سعید امرحہ کو اکساتا ہے کہ وہ ایزد حسن سے بدلہ لے لیکن وہ خود کو کمزور ظاہر کرتی ہے جس پر عمر سعید اسے اعتماد میں لے کر منصوبہ بناتا ہے امرحہ عمر سعید کے منصوبہ پر عمل کرتی ایزد حسن کو یونیورسٹی میں بدنام کردیتی ہے۔
پروفیسرز ایزد حسن کو قصور وار سمجھتے ہوئے اسے یونیورسٹی سے نکال دیتے ہیں میرب ایزد کی دوست ہے وہ اس سے اس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہے لیکن ایزد حسن اس وقت کسی سے بھی بات کرنا نہیں چاہتا۔
حمزہ عباسی ایزد حسن سے اس معاملہ کی پوچھ گچھ کرتے اسے گھر سے نکال دیتے ہیں ایزد سلمیٰ بیگم کے سامنے اپنی بے گناہی کا ذکر کرتا ہے وہ سلمیٰ بیگم کو ماں کو درجہ دیتا تھا لیکن سلمیٰ بیگم اس کی بات پر خاموش رہتی ہیں۔
فاطمہ امرحہ کو سمجھاتی ہے لیکن امرحہ بدلے کی خوشی میں اپنی عزت کی پروا بھی نہیں کرتی اور فاطمہ کی بات ان سنی کردیتی ہے، امرحہ ساری بات شفا کو بتا کر اس سے داد چاہتی ہے جبکہ شفا غصہ میں اسے حقیقت کا آئینہ دکھاتی حیران کرجاتی ہے امرحہ کو بھی سمجھ آجاتا ہے کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔
عائشہ اور ایزد ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور دونوں نے اپنے طور پر منگنی بھی کرلی تھی عائشہ منگنی کی انگوٹھی واپس کرنے آتی ہے تو ایزد اسے اپنی بے گناہی کا یقین دلانا چاہتا ہے لیکن عائشہ بھی خاموشی سے پلٹ جاتی ہے جس پر ایزد دل برداشتہ ہو کر گھر سے نکل جاتا ہے۔
امرحہ پروفیسر صاحب کے سامنے ساری حقیقت بیان کرنا چاہتی ہے لیکن وہ چھٹی پر ہوتے ہیں تب امرحہ فاطمہ سے مدد مانگتی ہے اور فاطمہ اسے موبائل فون کے ذریعے پروفیسر کو ساری بات بتانے کا مشورہ دیتی ہے امرحہ فاطمہ کے مشورے پر عمل پروفیسر صاحب کو سب بتا دیتی ہے۔
عمر سعید امرحہ کو دھمکی دیتا ہے کہ وہ ایزدکی سچائی میں کچھ نہیں کہے گی اس طرح عمر سعید اور امرحہ دونوں بدنام ہوجاتے لیکن امرحہ اس کی دھمکی میںنہیں آتی۔
پروفیسر تمام بات جان کر حمزہ عباسی کو ایزد کے بے گناہ ہونے کا بتاتے ہیں اور اسے دوبارہ سے یونیورسٹی آنے کا کہتے ہیں مگر ایزد گھر پر نہیں ہوتا۔
امرحہ یونیورسٹی جانے کے لیے بس اسٹاپ پر کھڑی ہوتی ہے تب ایک کار اس کے قریب آکر رکتی ہے اور اس میں سے ایک آدمی نکل کر امرحہ کو اغوا کر لیتا ہے۔
امرحہ قید میں ہوتی ہے اور اپنی قید کی وجہ سے بے خبر ہوتی ہے۔ اسے گھر والے بھی یاد آرہے ہوتے ہیں تب وہی کھڑکی سے آواز دیتی مود کے لیے صدا بلند کرتی ہے لیکن اس کی مدد کو کوئی نہیں آتا بھوک اور پیاس سے اس کا براحال ہوجاتا ہے۔ تب ایزد کو گھر میں دیکھ کر وہ حیران ہوتی ہے اور اس سے معافی مانگتی ہے۔
شفا کا احد کی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے۔ اس کو معمولی چوٹ آتی ہے۔ احد اس کو اسپتال لے جانا چاہتا ہے لیکن شفا معذرت کرلیتی ہے۔ اس کو فوراً پولیس اسٹیشن پہنچنا ہوتا ہے۔ احد یہ جان کر ششدر رہ جاتا ہے۔ اور شفا کے پیچھے پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس کی وہاں آمد کی وجہ جان کر اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
حسین صاحب‘ امرحہ کو گھر میں نہ پاکر صدمے کا شکار ہوتے ہیں۔ اب تک شفا اس کی غیر موجودگی پر پردہ ڈال رہی تھی۔
احد پولیس افسر بن کر شفا کے گھر آتا ہے اور اس کے حالات جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ ساتھ ہی وہ امرحہ کے حوالے سے بھی سوال کرتا ہے۔ شفا اسے سب بتا دیتی ہے۔ تب احد اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس پر شفا معذرت کرلیتی ہے۔ احد اپنا کارڈ شفا کو دے کر چلا جاتا ہے۔
حسین صاحب کا انتقال ہوجاتا ہے۔ شفا دنیا میں تنہا رہ جاتی ہے۔ امرحہ کو باپ کے انتقال کی خبر نہیں ہوتی عشرت آپا (ہمسائی) شفا سے کسی عزیز کے گھر جانے کی بات کرتی ہیں شفا انکار کردیتی ہے۔ ویسے بھی کوئی قریبی رشتے دار نہیں تھا۔ شفا گھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ شفا کو گھر میں تنہا جان کر محلے کا لوفر لڑکا آجاتا ہے۔ تب شفا ہوش سے کام لیتی ہے اور اسے اس کے ارادوںمیں ناکام کردیتی ہے۔
عشرت آپا شفا کی طرف سے پریشان ہوکر اپنے شوہر سے بات کرتی ہیں تب ان کے شوہر اپنے قریبی عزیز کا بتا کر شفا کی شادی کی بات کرتے ہیں شفا انکار کررتی ہے لیکن عشرت آپا اسے راضی کرلیتی ہیں تب شفا کی شادی سادگی سے روزان مصطفیٰ سے ہوجاتی ہے۔ روزان مصطفی احد کا بھائی تھا۔ دوسری طرف ایزد اپنے ماضی کو یاد کرکے آبدیدہ ہوجاتا ہے۔ زہرہ پھوپھی کی بیٹیوں کے ساتھ اس کی کبھی نہیں بنی تھیں، جبکہ عائشہ سے اس کی دوستی بچپن سے تھی۔ وہ اس کا ہوم ورک بھی کردیا کرتی اور اس کے چھوٹے چھوٹے کام بھی کردیتی تھی یوں بڑے ہونے پر وہ عائشہ کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا اور اب اس کی جدائی کا غم اسے بیمار کر دیتا ہے۔ تب امرحہ اس کی تیمارداری میں لگ جاتی ہے۔ ٹھیک ہونے پر ایزد امرحہ سے شادی کی بات کرتا ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

محبت موسم گرما میں ٹھنڈے منطقوں سے آنے والے
سرد جھونکوں کی طرح انجان ہوتی ہے
پرندوں کی طرح اُڑتے ہواؤں میں
خود اپنی سمت سے بھی بے خبر جیسے
محبت شام میں بڑھتے ہوئے دریائی شب سی قہر ہوتی ہے
جو دل کے حال سے ناآشنا ہر روح کے ویراں محل میں
سائے سی دیوار و در پہ
آشنا لہجے سے کانوں میں اُترتی ہے
جو شب کے بے زباں لمحوں میں
بیٹھے گھاس میں جھینگر کی طرح رات بھر
اِک ساز بنتی ہے
نقب دل میں لگاتی ہے
محبت چپکے چپکے جسم کو ویران کرتی ہے
کسی دیہات کے گھر کی خاموشی میں
دیے سی جھلملاتی ہے
سمندر میں اُمڈتی لہر میں بکھرے ہوئے کتنے ہی موتی
ساحلِ دوراں پہ لاتی ہے
جو رہتے ہیں یونہی اوجھل نگاہوں سے
لباسِ خاک کو اوڑھے
کسی خط میں پڑھا تھا کہ محبت قرض ہوتی ہے
محبت فرض ہوتی ہے
پڑھا تھا آخری صفحے پہ دُھندلی سی سیاہی میں
محبت فرض ہوتی ہے نہ کوئی قرض ہوتی ہے
مگر اِک لفظ محکم کی طرح یہ ارض ہوتی ہے
فلک بنتی ہے اور ارض و سماں میں زندہ رہتی ہے
مدھر دُھن کی طرح یہ ہر زمانے میں
ہمیشہ گائی جاتی ہے
سماعت کے مکانوں میں سدا دہرائی جاتی ہے
محبت شام کی دیوار پہ یوں جھلملاتی ہے
کہ جیسے آسماں پہ رات کا تارا چمکتا ہو
محبت میری آنکھوں میں محض تصویر کی مانند ہے
مگر وہ تیری آنکھوں میں
مکمل ساز ہستی کی طرح بستی ہے روشن
اور سماعت میں بہت ہی دُور سے آتی ہواؤں کی طرح
خاموش ہوتی ہے
محبت کچھ نہیں ہوتی
چبھن ہوتی ہے دل میں اور بصارت میں
چنگاری بن کے جلتی ہے
محبت اِک پرانے خط کی مانند خوشبوؤں کی لہر ہوتی ہے
محبت قہر ہوتی ہے!

جس روز وہ ایزد حسن کے ساتھ اس پہاڑی علاقے میں آئی تھی‘ اُس کی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ اپنی ہمت سے ایک قدم بھی نہیں اُٹھا سکتی تھی۔
تیز بخار میں جلتا بدن‘ رُوح سے تعلق توڑنے کو بے قرار تھا‘ اوپر سے بھوک اور پیاس کی شدت نے رہی سہی ہمت ختم کر ڈالی تھی۔
ایزد جانوروں کی طرح اُسے کھینچتا‘ گھسیٹتا اوپر پہاڑی سڑک سے نیچے وادی میں لایا تھا۔ یوں کہ اسے گھسیٹتے گھسیٹتے وہ خود بھی ہانپنے لگا تھا۔
اونچے پہاڑی سلسلے کی ڈھلوان میں ایک چھوٹے سے کمرے پر مشتمل اُس مکان میں ضروریاتِ زندگی کی بہت کم اشیاء میسر تھیں۔ امرحہ کا بخار میں جلتا وجود اتنی زیادہ ٹھنڈ میں مزید ٹھٹھر گیا تھا۔
اسے لگا وہ مر جائے گی‘ مگر شاید اس کی قسمت میں آسانی سے مرنا نہیں لکھا تھا۔ ایزد نے اسے گرم قہوہ دیا تو اسے لگا وہ آبِ حیات ہے۔
اگلے چند روز میں اس کا بخار تو اُتر گیا مگر جسم نحیف ہوتا گیا۔ سارا دن سخت مشقت کے بعد اسے کھانے کو صرف ایک خشک روٹی ملتی تھی۔ ایزد دن بھر جنگل میں لکڑی کاٹتا‘ پھر اسے شہر فروخت کرنے جاتا۔ رات میں جب وہ واپس آتا‘ امرحہ تھک کر سوچکی ہوتی تھی۔
اس نے کئی بار ایزد سے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ ایسا دُھن کا پکا تھا کہ اس نے نہ کبھی پلٹ کر اس کی بات کا جواب دیا‘ نہ کبھی خود سے کوئی بات کرنے کی کوشش کی۔ تنگ آکر امرحہ نے بھی چپ سادھ لی تھی۔
پچھلے بہت سارے عام سے دنوں میں یہ پہلا اتفاق تھا جب ایزد نے خود اسے مخاطب کرکے کوئی بات کی تھی اور بات بھی ایسی کہ جس کا اسے وہم و گمان تک نہیں تھا۔ اگلے روز اس کی خاموشی کو اس کی رضا جانتے ہوئے ایزد نے مقامی لوگوں سے بات کرکے نکاح کا بندوبست کرلیا تھا۔
ان کے قرب و جوار میں دو‘ چار گھر آباد تھے۔ انہی گھروں کی خواتین نے امرحہ کے ہاتھوں پر مہندی سے پھول بنائے تھے۔ اُنہوں نے ہی اسے شادی کا جوڑا پہنا کر تیار کیا۔ امرحہ اس سارے مرحلے میں اپنے باپ اور بہن کو یاد کرکے روتی رہی۔ ایزد نے نکاح کے بعد مہمانوں کی چائے اور بسکٹ سے تواضع کی۔ کھجوریں اور خشک میوہ جات بھی وہ لے آیا تھا۔ اس دن بارش بھی خوب ہوئی تھی اور رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
امرحہ سردی سے کانپتی‘ شادی کا سرخ جوڑا پہنے بیٹھی رہی تھی۔ باہر ہر طرف برف ہی برف تھی۔ اس کا دل چاہا وہ گرم لحاف میں دبک کر سو جائے‘ مگر گھر میں مہمانوں کی موجودگی میں ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔
اللہ اللہ کرکے مہمان ان دونوں کو نئی زندگی کی ڈھیروں دعائیں دے کے اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوئے تو اس نے سکھ کا سانس لیا۔
ایزد نے اب تک ان لوگوں کو یہی فرضی کہانی سنا رکھی تھی کہ وہ دونوں آپس میں کزن ہیں اور ان کا اس دُنیا میں ایک دوسرے کے سوا کوئی نہیں‘ مگر اب ان دونوں کے رشتے کو ایک نیا نام مل گیا تھا۔
امرحہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے‘ مگر اسے یہ خوش فہمی ضرور تھی کہ شاید وہ پگھل گیا ہے‘ شاید امرحہ کے لیے اس کے دل میں نفرت کا دہکتا الاؤ سرد پڑگیا ہے‘ تب ہی تو اس نے بناء اسے پامال کیے اپنی عزت بنا لیا تھا‘ وگرنہ وہ کیا نہیں کرسکتا تھا اس کے ساتھ؟
اپنی سوچوں کو جھٹک کر‘ ابھی وہ اُٹھ کر انگیٹھی جلانے کا ارادہ کر ہی رہی تھی کہ مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد ایزد اس کے مقابل آکر بیٹھ گیا۔
اس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہورہی تھیں۔ امرحہ کو سر جھکانا پڑا۔
’’آج کتنی ٹھنڈ ہے ناں؟‘‘
اس کا ہاتھ تھام کر اس پر مہندی سے بنے بیل بوٹوں کا بغور مشاہدہ کرتے ہوئے وہ بھاری لہجے میں بولا۔ امرحہ کا دل پہلو میں اودھم مچانے لگا۔ آپ ہی آپ اس کا سر اثبات میں ہل گیا تھا۔
’’مہندی اچھی لگ رہی ہے۔‘‘
بغور اس کی ہتھیلیوں کو دیکھتے ہوئے اس نے پھر تبصرہ کیا۔ امرحہ کے دل کی دھڑکن مزید بڑھ گئی۔ اچانک اس نے جیب سے لائٹر نکالا اور امرحہ کا ہاتھ پکڑ کر لائٹر کی جلتی ہوئی لو پر اُلٹا کردیا۔
وہ تڑپ کر رہ گئی مگر ایزد نے اس کا ہاتھ سختی سے پکڑے رکھا۔
’’تمہارے ہاتھوں کی ایسی قسمت نہیں ہے کہ ان پر میرے نام کی مہندی سج سکے‘ دوبارہ کبھی یہ جسارت نہ کرنا‘ ورنہ اس سے بھی برا انجام ہوگا۔‘‘ اب کے وہ دھیمے لہجے میں غرایا تھا۔
ایزد نے اس کا ہاتھ چھوڑا تو بری طرح جلن ہورہی تھی اور جلن کی تکلیف نے اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر دی تھیں۔
’’میرا خیال ہے اب سردی نہیں لگ رہی ہوگی تمہیں‘ ہے ناں؟ دیکھ لو کتنا اچھا ہوں میں۔ کتنا خیال رکھتا ہوں تمہارا۔‘‘
تھوڑی دیر پہلے جو چہرہ غضب کی تصویر بنا ہوا تھا‘ اب اسی چہرے پر نرم سی مسکان تھی۔ امرحہ نے شدتِ کرب سے آنکھیں سختی سے بند کرلیں۔
’’تم سوچتی ہوگی‘ میں نے تم جیسی گھٹیا لڑکی کے ساتھ شادی کیوں کی‘ میں چاہتا تو بغیر شادی کے تمہاری عزت کی دھجیاں بھیکر کر رکھ دیتا ہے ناں؟ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید ایسا ہی کرتا۔ مگر الحمدللہ میں مسلمان ہوں‘ میرا مذہب مجھے بدکاری کی اجازت نہیں دیتا۔ البتہ اب تم میرے نکاح میں ہو‘ اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ عزت کی دھجیاں اُڑانا کیا ہوتا ہے۔ برباد زندگی کیا اور کیسی ہوتی ہے۔‘‘ پورے دو ماہ کے بعد وہ آتش فشاں پھٹا تھا۔
امرحہ ٹکر ٹکر اسے دیکھتی رہی۔
’’تم وہ بد ترین لڑکی ہو امرحہ حسین‘ جس نے ایک شریف انسان کی صرف زندگی نہیں‘ دل تک اُجاڑ ڈالا۔ ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے تم نے مجھے‘ پوری دُنیا میں ایک سوالیہ نشان بنا ڈالا۔ میرے خواب‘ میری محبت‘ میری خوشیاں‘ سب چھین لیا تم نے مجھ سے۔ میں چاہتا تو تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کتوں کے آگے پھینک دیتا‘ مگر تم نے جو کیا ہے‘ اس کی سزا اتنی معمولی نہیں ہوسکتی۔ ایک ہی بار مار کر ختم کردینا تمہارے جرم کی بہت کم سزا ہے‘ اسی لیے میں نے کچھ اور پلان کیا ہے۔ ایسا کہ تمہیں زندگی کا ہر پل موت جیسا لگے۔ میں نے ٹھیک کیا ناں؟‘‘
اپنی بات مکمل کرتے ہی اس نے اس کے ریشمی بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر زور جھٹکا دیا۔
امرحہ کراہ کر رہ گئی۔
اس کے سامنے فولاد بنا وہ شخص انسانیت اور رحم کا ہر درس دل سے کھرچ بیٹھا تھا۔ وہ جتنا بھی روتی‘ چلاتی‘ کم تھا۔ باہر منہ زور برفانی ہواؤں کا شور بڑھ رہا تھا۔
اندر ایزد حسن نے اپنی ساری مردانگی ایک کمزور‘ بے بس بنت حوّا پر نکال دی۔ ایک فولادی انسان کی گرفت میں جکڑی‘ وہ بے بس چڑیا سی لڑکی‘ شدید خواہش کے باوجود چلا بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی پکار سننے والا کوئی نہ تھا۔
رات کا گزرتا ایک ایک پل اس کے لیے جیسے عذاب ہوگیا تھا۔
صبح ہونے میں ابھی کچھ ہی وقت تھا‘ جب ایزد نے جیسے تھک کر اسے شراب کی خالی بوتل کی طرح ایک طرف پھینک دیا۔
امرحہ کو لگا جیسے اب سانسیں زیادہ دیر تک اس کے بدن کے پنجرے میں قید نہیں رہیں گی۔ اگر فوری نہیں تو صبح ہونے تک وہ ضرور مر جائے گی‘ مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہ بڑی سخت جان ثابت ہورہی تھی۔
اتنی اذیت جھیلنے کے بعد بھی اس کا وجود زندگی کی قید سے آزاد نہیں ہوا تھا۔
رُک رُک کر ہی سہی‘ مگر اسے سانس آرہی تھی۔
صبح ہوگئی تھی۔
امرحہ کے زخمی وجود میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ ہل بھی سکے اور نہیں تو سردی سے برف ہوتے وجود پر گرم لحاف ہی ڈال لے‘ مگر ایزد کے لیے‘ یہ بات کہاں معنی رکھتی تھی۔
نیچے پہاڑی کے دامن میں ایک چھوٹے سے حمام میں گرم پانی سے غسل لے کر نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد وہ پھر کسی داروغہ کی طرح اس کے سر پر سوار تھا۔
امرحہ کو نیم بے ہوشی کی حالت میں اپنی کمر پر پڑنے والی ٹھوکرنے بیدار کردیا۔ سامنے ہی وہ قہر کی علامت بنا کھڑا تھا۔
’’صبح ہوگئی ہے اور تم ابھی تک سو کر نحوست پھیلا رہی ہو۔ چلو اُٹھو فجر کی نماز ادا کرو۔ میں کبھی تمہیں کوئی نماز قضا کرتے نہ دیکھوں۔ آئی سمجھ۔‘‘
اسے کیا سمجھ آتی‘ وہ تو اپنے حواسوں میں بھی نہیں تھی‘ تبھی وہ اگلا حکم جاری کرتے ہوئے بولا۔
’’آج گھر میں رات کا پانی موجود ہے‘ کل سے تم نمازِ فجر کے لیے تازہ پانی بھر کر لاؤ گی‘ پھر غسل کرکے نماز پڑھو گی۔ مجھے یہ بات دوبارہ دہرانی نہ پڑے۔‘‘ وہ جلاد نہیں تھا‘ مگر جلاد سے بڑھ کر تھا۔
امرحہ جانتی تھی‘ اگر فوری اس نے اس کے حکم کی تعمیل نہ کی تو وہ کیا کرسکتا ہے۔ تبھی بمشکل ہمت کرکے اُٹھی اور غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔
اندر بالٹی میں رات کا برفیلا پانی موجود تھا‘ اسے دیکھ کر جھرجھری سی آگئی۔
اس پانی میں تو ہاتھ نہیں ڈبویا جاسکتا تھا‘ کجا کہ غسل کرنا۔ مگر اسے یہ کرنا تھا۔ اس کے صیاد کا حکم جو تھا۔
اللہ اللہ کرکے غسل لے کر وہ باہر آئی تو بے ہوش ہوکر گر پڑی۔
تقریباً تین گھنٹے کے بعد اسے دوبارہ ہوش آیا تو دن اچھا خاصا نکل چکا تھا۔ بہت دنوں کے بعد سورج کی کرنیں زمین سے گلے ملنے آئی تھیں۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا‘ وہ اس کے قریب بیٹھا شاید اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کررہا تھا۔
’’نماز قضا کردی ناں تم نے‘ بڑی منحوس عورت ہو۔ جو اللہ کی نہ ہوسکے‘ وہ اور کسی کی کیا ہوگی۔‘‘
وہ جلاد تھا‘ اسے چابک مارنے آتے تھے۔
امرحہ نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔ اپنے بے ہوش ہونے پر اسے کوئی اختیار نہیں تھا۔
’’کان کھول کر سن لو‘ روز روز میں یہ ڈرامے برداشت نہیں کروں گا۔ کل سے ہر کام اپنے وقت پہ ہونا چاہیے‘ نہیں تو میں بہت بُرا پیش آنے والوں میں سے ہوں۔ سمجھیں تم؟‘‘
وہ جو بھی کہہ رہا تھا‘ اس میں حقیقت تھی۔ امرحہ نے چپ چاپ اثبات میں سر ہلادیا۔
ناشتے کے نام پر ایک کپ چائے کے ساتھ ایک خشک روٹی کھا کر وہ جلے ہوئے زخمی ہاتھوں کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہوگئی تھی۔
بخار نے اس کی جفاکشی سے ہار مان لی تھی۔ دن بھر جنگل میں ایزد کے ساتھ خشک لکڑیاں کاٹنے میں اس نے اپنی ہمت سے زیادہ مدد کی تھی۔
شام ڈھلے جب ڈھور ڈنگروں نے گھر واپسی کی راہ لی تو وہ بھی گھر لوٹ آئی۔ اوپر پہاڑ سے نیچے نشیب میں اپنے گھر تک آتے آتے اسے چالیس سے پچاس منٹ لگ گئے تھے۔ صبح یہی سفر انہوں نے ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا تھا۔
ایزد اس کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ گھر میں داخل ہوکر بستر پر گرتے ہی بری طرح ہانپنے لگی تھی۔
زندگی میں اتنی مشقت اس نے کبھی نہیں کی تھی۔
ایزد اگلے ڈیڑھ گھنٹے میں گھر واپس آیا تھا۔ تب تک وہ اس کے لیے شام کا کھانا تیار کرچکی تھی۔ دو انڈے بوائل کرکے اس نے چائے کا پانی بھی چولہے پر چڑھا دیا تھا۔
باہر آج پھر برف باری شروع ہوچکی تھی۔
اس کے ناتواں وجود میں ذرا سی ہمت بھی ہوتی تو وہ صبح تازہ پانی بھرنے کے بجائے صبح والا پانی بھی اُسی وقت بھر لاتی‘ مگر دن بھر کام میں مصروف رہنے والا وجود شدت سے گرم بستر کی تمنا کررہا تھا۔
ابھی وہ ایزد کو کھانا دے کر دیگر کاموں سے فارغ ہوئی تھی‘ جب اس نے بلالیا۔ امرحہ کی جیسے جان نکل گئی تھی۔
دن بھر کی کڑی مشقت کے بعد شب بھر کی بیداری نے اس کا جوڑ جوڑ توڑ کر رکھ دیا تھا۔ صبح فجر سے کچھ پہلے اسے سونے کی اجازت ملی تھی۔ ابھی ٹھیک سے آنکھ بھی نہ لگی تھی کہ فجر کی اذان ہوگئی۔
ایزد نے اسے سوتے سے جگادیا تھا۔ وہ دل کڑا کرکے گرم بستر سے نکل آئی۔ حکم عدولی کی سزا سے اچھی طرح واقف تھی‘ وگرنہ شاید ٹال بھی دیتی۔ چشمہ وہاں سے زیادہ دُور نہیں تھا‘ پھر بھی اتنی ٹھنڈ میں پانی بھر کر گھر تک لاتے ہوئے اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔
ایزد گھر پر نہیں تھا‘ لہٰذا اس نے جلدی جلدی پانی گرم کرلیا۔ باتھ لے کر ابھی وہ نڈھال سی ناشتہ بنا رہی تھی جب وہ نماز پڑھ کر واپس آگیا۔ خوب ڈٹ کر اچھی طرح ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنے بستر میں گھس گیا تھا۔
’’باہر بارش ہورہی ہے‘ فی الحال میں جنگل نہیں جاسکتا۔ تم گھر کے کام نمٹالو‘ جب بارش رک جائے تو مجھے اُٹھا دینا۔‘‘
نیا حکم جاری کرتے ہوئے اس نے منہ تک لحاف اوڑھ لیا تھا۔ امرحہ کو لگا جیسے اس حکم سے اسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہے۔
اس کا اپنا وجود اتنا تھکا ہوا تھا کہ وہ اس وقت کہیں جانے کی متحمل نہیں تھی‘ لہٰذا جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔ پھر فٹافٹ چند ضروری کام نمٹاکر خود بھی جلدی سے بستر میں گھس گئی۔
نیند اتنی ظالم تھی کہ چند لمحوں کی تاخیر کیے بغیر فوراً آنکھوں میں گھس گئی۔
ایزد کی آنکھ کھلی تو دوپہر ڈھل رہی تھی۔ بارش رک گئی تھی مگر فضا میں نمی ابھی تک برقرار تھی۔
دونوں آنکھوں کے پپوٹوں کو اچھی طرح مسلتے ہوئے اس نے دیکھا‘ امرحہ اپنے لحاف کو سر تک تانے گہری نیند سورہی تھی۔
اپنی فطری شرافت کے ہاتھوں مجبور اسے صرف ایک لمحے کے لیے اس کی حالت پر ترس آیا تھا لیکن اگلے ہی لمحے اس نے سر جھٹکتے ہوئے خود پر بے حسی کی چادر تان لی۔ وہ لڑکی کسی بھی ترس یا انسانی سلوک کا حق کھوچکی تھی۔
اسی سوچ کے زیر اثر اس نے آگے بڑھ کر اس کا لحاف کھینچ دیا۔
’’اُٹھو… یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے‘ جہاں تم بے فکری کی میٹھی نیند سوتی رہو۔‘‘
امرحہ کے لیے اس کی آواز صورِ اسرافیل سے کم نہیں تھی۔ پلک جھپکتے میں اس نے لحاف سائیڈ پر کردیا تھا۔
’’چائے بناؤ‘ درد سے سر پھٹا جارہا ہے میرا۔‘‘
نیا حکم صادر کرکے وہ خود فریش ہونے چل دیا تھا۔ امرحہ نے چپ چاپ اثبات میں سر ہلادیا۔
اگلی صبح سے پھر وہی روٹین شروع ہوگئی تھی۔
اس روز وہ جنگل میں اپنا کام ختم کرکے گھر لوٹی تو اس کا سانس پھول رہا تھا‘ چکر الگ آرہے تھے جبکہ متلی نے ساری قوت نچوڑ لی تھی۔
ایزد گھر آیا تو وہ اپنے بستر پر اوندھے منہ پڑی تھی۔ اس نے پاؤں کی زبردست ٹھوکر رسید کی۔
’’مر گئی ہو کیا؟ اتنی جلدی‘ اتنی آسانی سے مرنے والی ہو تو نہیں تم۔‘‘
امرحہ کراہ کر سیدھی ہوئی۔
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ وومیٹنگ ہورہی ہے۔‘‘
’’بھوکے ندیدوں کی طرح کھاؤ گی تو یہی حال ہوگا۔‘‘
جوتے اُتارتے ہوئے اس نے پھر طنز کیا۔
’’میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا‘ تمہارے گھر میں میرے کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’شٹ اَپ۔ تم نے جتنا بولنا تھا‘ تم بول چکیں۔ اب اگر میرے سامنے اونچی آواز میں بات کرنے کی کوشش کی تو ٹکڑے ٹکڑے کرکے یہیں پہاڑوں میں گاڑ دوں گا۔ سمجھیں تم۔‘‘
امرحہ کے احتجاج پر وہ چلایا‘ اس نے پھر شدتِ کرب سے آنکھیں بند کرلیں۔
رات تک اس کی طبیعت مزید بگڑ گئی تھی۔ ایزد کو نا چاہتے ہوئے بھی فکرمند ہونا پڑا۔ اگلی صبح وہ جنگل جانے کے بجائے اسے قریبی شہر کے سرکاری اسپتال میں لے آیا۔ اس کی توقع کے عین مطابق امرحہ کو فوڈ پوائزنگ نہیں ہوئی تھی۔ اس کی طبیعت کی خرابی حمل کی وجہ سے تھی۔
ڈاکٹر کے مطابق اسے اچھی خوراک اور آرام کی اشد ضرورت تھی۔ وہ مسکرادیا۔
اپنی منزل اسے اب اور بھی قریب آتی محسوس ہورہی تھی۔
/…خ…/

ہوائے شہرِ وفا شعاراں…
ہماری بستی کے پاس آئی تو ہم نے دیکھا
کہ اس کے دامن میں بُوئے مقتل بسی ہوئی تھی
اور اس کی پھیلی ہوئی نگاہوں میں خوں کی سرخی چھلک رہی تھی
ہماری بستی کے پیڑ ششدر تھے
سرد گلیاں‘ مکاں دریچے‘ سبھی تعجب سے تک رہے تھے
عجیب طرزِ خرام تھا وہ کہ چلنے والے ٹھٹک رہے تھے
ہوا چھتوں کے سپاٹ ماتھوں کو چھو کے گزری
تو کھڑکیوں کے نصیب جاگے
کہ آج بستی کی ساری خلقت کواڑ کھولے ہوئے کھڑی تھی
ہر ایک نتھنے پُھلا پُھلا کے ہوا کی خوشبو کو سونگھتا تھا
کہ جس میں خوں کی مہک رچی تھی
تمام سینوں میں ایک خدشہ سوال بن کر دھڑک رہا تھا
تو آج شہرِ وفا شعاراں نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا
ہوا نے چپکے سے سر ہلایا
ہوا نے چپکے سے سر ہلایا تو کھڑکیوں کے پٹ کانپے
جو کھڑکیوں کے پٹ کانپے تو بیبیوں نے
کھلے سروں سے امیر مقتل کو بددعا دیں
کہ جس کا خوف مہیب بستی کے چہار جانب تنا ہوا تھا
اور اپنے مردوں کو چوڑیاں دی
کہ اُن کے ہاتھوں میں کچھ نہیں تھا
ہوائے وفا شعاراں…
ہمارے خون سے مہک اُٹھے تو اگلے شہروں کی سمت جانا
اُنہیں بتانا
وفا کا رستہ سروں کی کثرت سے پٹ گیا ہے
کہ سرفروشی کی ابتدا ہے
انہیں بتانا کہ صحن مقتل بنا ہوا ہے
کوئے نگاراں…
ہوائے شہرِوفا شعاراں…


وہ کب سے پاکستان‘ انسپکٹر یاور حیات کے نمبر پر کال کررہا تھا مگر کوئی اس کی کال اٹھا نہیں رہا تھا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا۔
اس کا پریشان ہونا فطری تھا۔ رات میں سونے سے پہلے اس نے پھر کوشش کی تھی۔ اس بار اس کی کال ریسیور کرلی گئی۔
’’السلام علیکم یاور بھائی‘ کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’وعلیکم السلام۔ تم کیسے ہو؟‘‘
یاور حیات کا لہجہ پہلے کی طرح بشاش نہیں تھا۔ وہ فکرمند ہوگیا۔
’’میں ٹھیک ہوں‘ آپ کی طبیعت کچھ بہتر نہیں لگ رہی؟‘‘
’’نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ میں ٹھیک ہوں‘ تم سناؤ کیسے کال کی؟‘‘
’’بس یونہی آپ کی خیریت جاننا چاہ رہا تھا۔ سب ٹھیک تو ہے ناں پاکستان میں؟‘‘
’’ہوں۔‘‘
اس کے اضطراب میں ڈوبے سوال کا جواب انہوں نے محض ’’ہوں‘‘ میں ہی دینا مناسب سمجھا۔ احد کی تسلی نہیں ہوئی۔
’’میں نے آپ سے ایک ریکوئسٹ کی تھی یاور بھائی‘ کیا آپ کی بات ہوئی اوزان بھائی سے؟‘‘
وہ پریشان تھا اور یاور حیات اسی سوال سے ڈر رہے تھے۔
’’نہیں‘ موقع ہی نہیں ملا۔ وہ بہت مصروف ہے آج کل۔ ویسے بھی ابھی تم وہیں رہو‘ ان لڑکیوں کے چکر میں کچھ نہیں رکھا۔ دل لگا کر کام کرو‘ اپنی پوری توجہ بزنس کو دو۔‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یاور بھائی۔ وہ میرے لیے صرف ایک لڑکی نہیں ہے۔‘‘
اس نے احتجاج کیا مگر انسپکٹر یاور حیات پر اس کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
’’وہ جو بھی ہے‘ بہتر ہے کہ تم اس کے خیالوں سے باہر آجاؤ۔‘‘
’’مگر کیوں؟ یہ میرے لیے ممکن نہیں ہے۔‘‘
اب وہ پریشان ہورہا تھا۔ یاور حیات کے لیے اسے سمجھانا مشکل ہوگیا۔
’’دیکھو عبدالاحد‘ میں تمہاری بہتری اور بھلائی کے لیے کہہ رہا ہوں‘ بھول جاؤ اسے اور اپنی پوری توجہ اپنے کام پردو‘ بس۔‘‘
’’میری بہتری اور بھلائی اس میں نہیں ہے۔ پلیز مجھے بتائیں کیا ہوا ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں ہوا اسے۔‘‘
’’پھر آپ مجھے اس سے دُور ہونے کو کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’وہ تمہارے نصیب میں نہیں ہے‘ اس لیے۔‘‘
’’میں سمجھا نہیں۔‘‘
’’اس کی شادی ہوگئی ہے۔‘‘
جس طوفان سے وہ اسے بچانا چاہتے تھے‘ اس کا سامنا تو اسے کرنا ہی تھا۔
عبدالاحد کو لگا جیسے کسی نے اسے اونچے پہاڑ سے ہزاروں میل نیچے کھائی میں دھکیل دیا ہو۔
’’کب…؟‘‘ بڑی مشکل سے وہ بس یہی پوچھ سکا‘ جب وہ بولے۔
’’ابھی دو روز پہلے۔‘‘
’’کیا اسی لیے آپ میری کال اٹینڈ نہیں کررہے تھے؟‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں بعد میں بات کرتا ہوں۔‘‘
شل ہوتے دماغ کے ساتھ بمشکل بات سمیٹتے ہوئے اس نے فوراً کال کاٹ دی۔
اس رات زندگی میں پہلی بار اس نے غلط راہ پر قدم رکھا تھا۔
پہلی بار وہ بار کلب گیا اور اس نے جی بھر کر شراب پی۔ نشے میں دھت ہوکر بھی دل کو سکون نہ ملا تو وہاں سے نکل آیا۔
جانے کیسے گرتا پڑتا وہ اپنی گاڑی تک آیا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرکے مین روڈ پر لاتے ہی اس کا سامنے کھڑی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوگیا۔
اس کے پاس نہ سوچنے کا موقع تھا‘ نہ سنبھلنے کا۔ وہ ایک دبیز تاریکی کی دُھند میں ڈوبتا چلا گیا تھا۔
تقریباً پانچ گھنٹوں کے بعد اسے دوبارہ ہوش آیا تھا۔
صاف ستھرے کمرے کے بے حد آرام دہ بستر پر لیٹا‘ ابھی وہ اپنے ساتھ پیش آئے حادثے کے بارے میں سوچنا ہی چاہتا تھا‘ جب اس کی نظر اپنے سامنے کھڑے اُس بے حد وجیہہ شخص پر پڑی‘ جو وہاں موجود شاید اس کے ہوش میں آنے کا انتظار ہی کررہا تھا۔
’’کیسے ہو اب؟‘‘
اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ اس کے قریب آیا۔
عبدالاحد نے آہستہ سے پلکیں بند کرکے پھر کھول لیں۔
’’ٹھیک ہوں‘ کیا آپ مجھے بتائیں گے میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟‘‘
’’آپ کے ساتھ کچھ نہیں ہوا‘ الحمدللہ آپ بالکل ٹھیک ہیں‘ بس معمولی سی چوٹ آئی ہے سر پر۔ اللہ نے چاہا تو کل تک آپ یہاں سے فارغ ہوجائیں گے۔‘‘
’’کل تک؟‘‘
’’ہوں‘ یہ پاکستان نہیں ہے۔ یہاں مریضوں کی بہت کیئر کی جاتی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ شکریہ۔‘‘
پھر سے پلکیں بند کرتے ہوئے اس نے اس شخص سے خلاصی چاہی تھی کہ فی الحال وہ بہت ڈسٹرب تھا‘ مگر کامیاب نہیں ہوا۔
’’شکریہ کی ضرورت نہیں ہے‘ بس آئندہ گاڑی چلائیں تو خیال رکھیے گا نشے میں نہ ہوں ورنہ‘ مشکل میں پڑسکتے ہیں آپ۔‘‘
’’جی ہاں‘ میں سمجھتا ہوں‘ آئندہ خیال رکھوں گا۔‘‘
’’گڈ‘ یہ میرا کارڈ ہے۔ کبھی ضرورت پیش آئے تو یاد کرلیجیے گا۔ اب چلتا ہوں‘ اللہ حافظ۔‘‘ وہ شخص جو بھی تھا‘ بہرحال اس نے اس کی جان بچائی تھی۔ وہ اس کا محسن تھا۔
عبدالاحد نے ممنون ہوتے ہوئے اس کا کارڈ تھام لیا۔
اس کی پیشانی پر اچھی خاصی گہری چوٹ آئی تھی‘ اس کا اندازہ اسے اس شخص کے جانے کے بعد سر سے اُٹھنے والی درد کی شدید لہر سے ہوا۔
رات بھر وہ اسی تکلیف کے ساتھ جاگتا رہا۔ اگلے روز کہیں شام میں طبیعت بہتر ہوئی تو وہ وہاں سے رخصت ہوا۔
اس کی گاڑی اسپتال کی پارکنگ میں بالکل محفوظ حالت میں موجود تھی۔ یقینا یہ بھی اس شخص کی مہربانی تھی۔
گاڑی کا لاک کھولتے ہوئے اس نے جیب سے کارڈ نکالا اور اس پر سرسری سی نظر دوڑائی‘ تو اس مہربان شخص کا تعارف ہوا۔
’’عماد حسین آرکیٹکچر۔‘‘
اس نے کارڈ دوبارہ جیب میں رکھا اور گاڑی کا لاک کھول لیا۔
اب بھلا پاکستان میں کیا رکھا تھا اس کے لیے؟
سب کچھ تو لٹ گیا تھا‘ برباد ہوگیا تھا۔ اب بھلا سوگ منانے سے بھی کیا حاصل؟
اسے رہ رہ کر پچھتاوا ہورہا تھا کہ وہ لندن آیا ہی کیوں؟ آنا ہی تھا تو اسے اعتماد میں لے کر کیوں نہیں آیا؟ اسے اپنی محبت کا یقین کیوں نہیں دلا کر آیا؟
اب جتنا بھی وہ خود کو کوستا‘ کم تھا۔
اگلے چند روز تک وہ رات میں سکون سے سو نہیں سکا۔ نرم و گداز بستر پر بھی اسے کانٹوں سی چبھن محسوس ہوتی تھی۔ کھانے کے نام پر وہ صرف رات میں ایک گلاس دودھ اور صبح میں ایک کپ چائے پر آگیا تھا۔
زندگی پہلے بھی کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی‘ مگر اب تو جیسے ایک نادیدہ بوجھ کی طرح سر پر آن پڑی تھی۔
اس نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا۔
/…خ…/
اوزان مصطفی کے سنگ رخصت ہوکر وہ اس کے گھر جانے کے بجائے ایک چھوٹے سے خوب صورت فلیٹ میں آگئی تھی۔
دل و دماغ بوجھل تھے مگر پھر بھی اس نے خود کو سنبھال رکھا تھا۔ صرف اس شخص کے لیے‘ جو اس سے محبت کا دعوے دار تھا۔
جس کی آنکھوں میں اس نے اپنے لیے ستارے چمکتے دیکھے تھے۔
مختصر سی سیڑھیاں طے کرنے کے بعد اوزان اسے ایک آرام دہ کمرے میں لے آیا تھا۔
وہ سر جھکائے جھکائے اس کے پیچھے چلتی رہی۔
’’تشریف رکھیے‘ آج کی رات آپ کو اسی کمرے میں بسر کرنی ہوگی۔ کل دعوتِ طعام کے بعد اللہ نے چاہا تو میں آپ کو اپنے گھر لے جاؤں گا۔‘‘
بیڈ کے قریب رُک کر اس نے اسے ہدایت کی‘ وہ چونک اُٹھی۔
یہ وہ آواز تو نہیں تھی۔ ایک جھٹکے سے اس نے سر اُٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا اور پھر جیسے وہیں منجمد ہوگئی۔
یہ کون تھا‘ جسے اوزان مصطفی بناکر اس کا ہمسفر بنادیا گیا تھا۔
’’آپ…؟‘‘
حیرانی کی شدت سے گنگ‘ وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔
اوزان کو اس کی حیرانی پر تعجب ہوا۔ تبھی قدرے محتاط انداز میں بولا۔
’’مجھے اوزان مصطفی کہتے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے پولیس والا ہوں‘ ابھی چند گھنٹے قبل آپ کی رضا مندی کے ساتھ مبلغ پانچ لاکھ روپے حق مہر کے عوض آپ کو اپنے نکاح میں لے کر یہاں آیا ہوں۔ کوئی اعتراض؟‘‘
’’نہیں…‘‘
اوزان مصطفی کے بے حد محتاط انداز پر اس کا سر خودبخود نفی میں ہل گیا تھا۔ اگر یہ اوزان مصطفی تھا‘ اس علاقے کا ایس پی تھا تو اسی شکل میں وہ کون تھا‘ جو ہوبہو اس شخص کی کاپی تھا اور جس نے اپنا تعارف اوزان مصطفی کے نام سے ہی کروایا تھا۔
حیرانی سی حیرانی تھی۔ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ پہلے خواب کی کیفیت میں تھی یا اب ہے؟
دل پر الگ ایک بوجھ آپڑا تھا۔ جانے اس کی قسمت میں ابھی اور کتنے امتحان اور آزمائشیں باقی تھیں۔
بوجھل قدموں سے چلتی وہ بیڈ پر بیٹھی تو اوزان بیڈ کے قریب رکھے صوفے پر ٹک کر جوتے اُتارنے کے لیے جھک گیا۔ پاؤں کو جوتوں کی قید سے آزاد کرنے کے بعد وہ قدرے آرام دہ انداز میں پھیل کر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’آپ چاہیں تو آرام کرسکتی ہیں‘ مگر اس سے پہلے میں چند ضروری باتیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے آپ ان کا خیال رکھیں گی۔‘‘
شفاء کیا کہہ سکتی تھی‘ وہ تو کچھ کہنے سننے کی پوزیشن میں ہی نہیں رہی تھی۔ تب ہی جھکا ہوا سر اس نے پھر اثبات میں ہلادیا تھا۔
’’دیکھیں مس شفاء‘ میں آپ کے حالات تو تفصیل سے نہیں جانتا‘ مگر آپ کے سلسلے میں سلیم بھائی اور ان کی بیوی کا بے حد اصرار تھا کہ میں جلد از جلد آپ کو اپنے نکاح میں لے کر محفوظ کرلوں۔ اسی وجہ سے ایمرجنسی میں اپنے گھر والوں کو اپنے اس فیصلے میں شریک نہیں کرسکا‘ جس کا مجھے افسوس ہے۔ بہرحال کل میں ان کے سامنے سب کلیئر کردوں گا۔‘‘
اپنی بات کی تمہید میں اس نے وہی عندیہ پیش کیا‘ جو وہ پہلے بھی کرچکا تھا۔ شفاء سر جھکائے چپ چاپ سنتی رہی‘ وہ پھر بولا۔
’’میرے گھر میں میری بوڑھی دادی ہیں‘ ایک چھوٹا بھائی ہے عبدالاحد‘ آج کل لندن میں ہوتا ہے۔ کل پرسوں تک آجائے گا تو گھر کی رونق بھی لوٹ آئے گی۔ دو بچے ہیں میرے‘ ایک بیٹی‘ ایک بیٹا۔ بیٹی پانچ سال کی ہے اور بیٹا اڑھائی سال کا۔ ابھی دو سال پہلے میرے والد اور بیوی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات پاگئے۔ پاپا بزنس ٹائیکون تھے‘ اُن کی رحلت کے بعد مجبوراً عبدالاحد نے ان کا آفس سنبھالا جبکہ ماریہ میری فرسٹ کزن ہونے کے ساتھ ساتھ میری محبوب بیوی بھی تھی۔ ہم دونوں نے بڑی جدوجہد کے بعد ایک دوسرے کو حاصل کیا‘ کیونکہ ماریہ مجھ سے پہلے کہیں اور انگیج ہوچکی تھی۔ بہرحال وہ زندہ تھی‘ تب بھی میرے دل و دماغ پر صرف اسی کا راج تھا‘ آج وہ زندہ نہیں ہے‘ تب بھی میں صرف اسی کا ہوں۔ یہ شادی میں نے بہت مجبوری میں صرف اور صرف اپنے بچوں کے لیے کی ہے۔ میری بوڑھی دادی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ انہیں سنبھال سکیں۔ ملازمہ کوئی ٹکتی نہیں۔ میں جانتا ہوں‘ آپ میرے بچوں کی سگی ماں نہیں ہیں‘ مگر انسانیت کے ناطے اگر آپ ایک ماں بن کر اُن کا خیال رکھیں گی تو میں اس ساری عمر آپ کا شکر گزار رہوں گا۔‘‘
جو اہم بات وہ اس کے کانوں میں ڈالنا چاہتا تھا‘ ڈال چکا تھا۔
شفاء نے اثبات میں سر ہلادیا۔ اس کے سوا اس کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔
اوزان تمام باتیں سمجھانے کے بعد ساتھ والے کمرے میں سونے چلا گیا۔ وہ وہیں بیڈ پر ہاتھ پیچھے کی طرف ٹکا کر ٹانگیں پھیلاتے ہوئے پلکیں موند گئی۔ تھکن صرف جسم پر نہیں‘ روح پر بھی غالب آگئی تھی۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو کئی آنسو ایک ساتھ پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر پھسل آئے۔


زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا
گر یہی طے ہے کہ یہ کھیل دوبارہ ہوگا


یہ شعر اس کی زندگی کی عملی تفسیر بن گیا تھا۔
رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ اپنی رخصتی سے قبل وہ عشاء کی نماز ادا کرچکی تھی‘ لہٰذا اس وقت لباس تبدیل کرکے بستر میں گھس گئی۔
وہ جانتی تھی اسے نیند نہیں آئے گی مگر… یہ رات تو کسی طور بسر کرنی ہی تھی۔
/…خ…/
اس کی آنکھ موبائل فون کی تیز گھنٹی کی وجہ سے کھلی تھی۔ مندی مندی آنکھوں سے سامنے وال کلاک کی طرف دیکھا‘ رات کے اڑھائی بج رہے تھے۔ کسلمندی سے ہاتھ بڑھا کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا سیل فون اُٹھایا۔ اسکرین پر اوزان بھائی کالنگ جگمگا رہا تھا۔ اس نے فوراً کال پک کی۔
’’السلام علیکم بھائی‘ کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’وعلیکم السلام‘ میں ٹھیک‘ تمہیں ڈسٹرب تو نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں نہیں‘ آپ جانتے ہیں میں لیٹ سوتا ہوں۔ خیریت؟‘‘
’’ہوں‘ خیریت ہی ہے۔ میں نے جو کام تمہارے ذمے لگایا تھا‘ وہ ہوا؟‘‘
’’جی بھائی‘ میں نے اس بندے کا پتا لگا کر آپ کو تمام تفصیلات میل کردی ہیں۔‘‘
’’گڈ۔ واپس کب آرہے ہو؟‘‘
’’ابھی کوئی ارادہ نہیں۔‘‘
’’کیوں‘ جب کام ختم ہوگیا ہے تو تمہارے وہاں رُکنے کا مقصد؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں‘ بس چند دن یار دوستوں کی کمپنی کو انجوائے کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’تم کل کی پہلی فلائٹ سے پاکستان آرہے ہو۔‘‘
اوزان کی اس پر مکمل گرفت تھی‘ وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔
’’بھائی میں کل…‘‘
’’تم کل کی پہلی فلائٹ سے پاکستان پہنچ رہے ہو۔‘‘
اپنی بات پر زور دیتے ہوئے اوزان مصطفی نے اس کی بات قطعیت سے کاٹ دی۔ وہ بے بسی سے گہری سانس لے کر رہ گیا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’چلو سو جاؤ اب‘ اللہ نے چاہا تو صبح ملاقات ہوگی۔ اللہ حافظ۔‘‘
وہ اتنا ہی سنجیدہ اور بارعب تھا۔ عبدالاحد نے سیل فون سینے پر رکھ لیا۔ کل کی صبح کا سورج اسے ایک نئے امتحان سے متعارف کروانے والا تھا۔
/…خ…/
وہ لوگ گھر پہنچے تو شام ڈھل چکی تھی۔ موسم خراب تھا۔ دُھند اور برف باری نے اُس علاقے کو عجیب وحشت زدہ سا بنادیا تھا۔ کوئی ذی روح دُور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سردی سے ٹھٹھرتی امرحہ جیسے مرنے کے قریب ہورہی تھی۔
ایزد‘ جو اس سے قدرے فاصلے پر آگے آگے چل رہا تھا‘ ایک بار مڑ کر اسے دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی کہ آیا وہ پیچھے آ بھی رہی ہے یا نہیں۔
وہ کئی بار کچی پگڈنڈی پر پھسلی تھی مگر پھر خود ہی اُٹھ کر چلنا شروع کردیتی۔ کیبن نما مکان تک پہنچتے پہنچتے وہ بری طرح ہانپ گئی تھی مگر ایزد کو اس کی پروا نہیں تھی۔ اس کی بلا سے وہ پیچھے آتی یا پھر وہیں گر پڑ کر مر جاتی۔
ٹھنڈ سے کپکپاتے ہوئے اس کے دانت بج رہے تھے۔ مکان میں داخل ہوتے ہی وہ دھڑام سے گر پڑی۔
ایزد جو انگیٹھی میں کوئلے ڈال رہا تھا‘ مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
’’تمہیں یہاں آئے دو ماہ سے اوپر ہوچکے ہیں‘ اب تک تو تمہیں یہاں کی ٹھنڈ کا عادی ہوجانا چاہیے۔‘‘
امرحہ پر غشی طاری ہورہی تھی۔ اس نے ایزد کی بات پوری سنے بغیر اپنا سر نیچے زمین پر ٹکادیا۔
ایزد انگیٹھی سے فارغ ہوا تو اس پر توجہ کی‘ جو سردی کی شدت سے بے ہوش ہوچکی تھی۔
ناگواری کی ایک شدید لہر اس کے اندر اُٹھی‘ پھر اس نے جھک کر اسے بازوؤں میں اُٹھایا۔ ٹھنڈی ہوا کے سرد جھونکوں نے بستر جیسے پانی میں بھگو دیے تھے۔
چارو ناچار اسے فرشی بستر پر لٹاکر اس کے گرد گرم کمبل لپیٹ دیا۔ انگیٹھی دہکا کر اس نے کمرے کی واحد کھڑکی کے پٹ بھی اچھی طرح سے بند کردیے۔ تھوڑی ہی دیر میں سردی کا اثر قدرے کم ہوگیا تھا۔
امرحہ کو ہوش آیا کمرے میں تنہا تھی۔
ایزد چولہے پر چائے کے پانی کو جوش دے رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے پلکیں موند لیں۔ صبح سے اب تک اس کے پیٹ میں چائے کا ایک گھونٹ بھی نہیں گیا تھا‘ نقاہت اور ٹھنڈ نے مل کر جیسے اس کے وجود سے سارا خون نچوڑ لیا تھا۔
چائے بن گئی تو ایزد نے اپنے کپ میں ڈال لی‘ کھانا بھی وہ کھا چکا تھا۔
امرحہ نے کچھ دیر انتظار کیا کہ شاید وہ انسانیت کے ناتے ہی ترس کھا کر اسے کھانے کو کچھ دے‘ مگر اس کا انتظار‘ انتظار ہی رہا تو ڈھیٹ بن کر وہ خود ہی بول پڑی۔
’’مجھے شدید بھوک لگی ہے۔‘‘
’’تو؟‘‘ چونک کر پلٹتے ہوئے وہ یوں پوچھ رہا تھا‘ گویا اس نے کوئی انہونی بات کہہ دی ہو۔ امرحہ چکراتے سر کے ساتھ کہنیوں کے بل اُٹھ بیٹھی۔
’’میری طبیعت بہت خراب ہے‘ صبح سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہیں ہوا۔‘‘
’’تو میں کیا کروں‘ کیا میں نے روکا ہے کچھ بھی کھانے پینے سے؟‘‘
’’مجھ میں ہمت نہیں ہے‘ پلیز ایک گلاس پانی ہی دے دیں۔‘‘
’’کیوں… تمہارے باپ کا نوکر ہوں میں؟‘‘
’’انسانیت کے ناتے ہی…‘‘
وہ ابھی اپنا جملہ پورا بھی نہ کرپائی تھی کہ وہ تلخ لہجے میں بول اُٹھا۔
’’انسانیت… تم انسانیت کی بات کررہی ہو‘ تمہیں پتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے؟‘‘ پتھر مارنے کا ہنر اسے خوب آتا تھا۔
امرحہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
’’میں مر جاؤں گی۔‘‘
’’اتنی آسانی سے مرنے والی ہوتیں تو کب کی مرچکی ہوتی‘ مگر تم جیسے لوگوں کو موت بھی جلدی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتی۔ بہرحال‘ یہ ڈرامے بازی بند کرو اور اُٹھ کر میرے دو سوٹ دھو دو‘ شہر جانا ہے ضروری کام سے۔‘‘
اس کے آنسوؤں کا اس پتھر دل انسان پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
وہ آہ بھر کر رہ گئی۔
اگلے چند لمحوں کے بعد ہمت کرکے وہ اُٹھی اور چائے کا پانی چولہے پر رکھ دیا۔ چینی اور پتی موجود تھی مگر دودھ کا ڈبا ایزد خالی کرکے پھینک چکا تھا۔ اس نے ڈبا اُٹھا کر دیکھا‘ اس میں ایک قطرہ بھی دودھ کا نہیں تھا۔ وہ رو پڑی۔
پانی میں اُبال آچکا تھا۔ اس نے وہی قہوہ کپ میں ڈال کر پی لیا۔ کھانے کے نام پر چند بسکٹ کے پیکٹ رکھے تھے، نہ آٹا تھا‘ نہ سالن پکانے کے لیے کوئی سامان۔ ہر چیز کی اچھی طرح تلاشی لینے کے بعد اسے وہ بسکٹ ہی غنیمت لگے‘ مگر بھوک جوں کی توں موجود تھی۔
نقاہت زدہ بدن میں ہلنے کی بھی ہمت نہیں تھی مگر اسے ایزد حسن کا حکم پورا کرنا تھا۔ گھر میں جو تھوڑا بہت پانی موجود تھا‘ اسے ہی گرم کرکے اس نے اس کے سوٹ دھو ڈالے مگر یوں کہ رو رو کر اس کا چہرہ آنسوؤں میں بھیگ چکا تھا۔
رات پھر قیامت کی رات تھی۔
بھوک اور نقاہت سے نڈھال اس کے تپتے وجود کو ایزد حسن کے اندر کے جانور نے اتنی بے دردی سے رگیدا تھا کہ وہ تڑپ تڑپ کر اللہ سے اپنی موت کی دعا مانگنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
اگلی صبح بناء ناشتہ کیے وہ گھر سے نکل گیا تھا۔ امرحہ بے ہوش سی بستر میں دبکی پڑی رہی۔
دوپہر چڑھ آئی تھی‘ ہلکی ہلکی دھوپ نے خنکی کا سحر توڑ ڈالا تھا۔ امرحہ مکمل بیدار ہوئی تو اس کے جسم کا جوڑ جوڑ پھوڑے کی مانند دُکھ رہا تھا۔ اس میں اتنی سی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ اُٹھ کر بیٹھ جاتی۔
دوپہر سے شام ڈھل گئی‘ تب کہیں جاکر پیٹ میں بھوک سے اُٹھتے درد سے بے حال‘ مجبوراً وہ بستر سے نکل کر چولہے کے قریب آبیٹھی۔
ایزد شہر سے رات تک واپس نہیں آسکتا تھا۔ یہ احساس بھی کتنا سوہانِ روح تھا۔ چولہا جلا کر اس نے قہوے کے لیے پانی رکھا‘ تبھی اس کی نظر چولہے کے قریب موجود ایک بڑے شاپر پر پڑی‘ جو شاید ایزد جاتے ہوئے وہاں رکھ گیا تھا۔
آٹا‘ دالوں کے چند پیکٹ‘ بسکٹ‘ اور دودھ کے دو ڈبے تھے۔ اسے لگا جیسے وہ اشیاء دُنیا کی سب سے نادر ترین اشیاء ہوں۔ جلدی جلدی چائے بناکر اس نے ناشتا کیا‘ پھر دال چڑھا دی۔ ساتھ ہی آٹا گوندھ لیا۔
دال پک گئی تو اس نے جلدی جلدی دو روٹیاں بھی پکالیں۔ پورے تین دن بعد اس کے پیٹ میں روٹی جارہی تھی۔ ندیدوں کی طرح اس کے کھانے کا انداز دیکھنے لائق تھا۔
ایزد اس رات نہیں آیا تھا۔ امرحہ کے لیے وہ رات حسین ترین رات تھی۔
اگلی صبح پھر بارش ہوئی تھی۔ وہ ناشتہ کرکے بستر میں دبکی پڑی رہی۔ ایزد اس رات بھی نہیں آیا تھا۔ وہ خوش تھی‘ مگر خوشی کے ساتھ ساتھ یہ فکر بھی دامن گیر تھی کہ کہیں وہ اسے اس اجنبی علاقے میں تنہا چھوڑ کر فرار تو نہیں ہوگیا۔
اگر اپنے انتقام کی آگ میں واقعی اس نے ایسا کرلیا تو وہ کیا کرے گی‘ اور اس حالت میں کہاں جائے گی؟ اس کا تو اب کوئی ٹھکانہ بھی نہیں رہا تھا۔ یہی فکر دامن گیر تھی کہ اس رات وہ پلٹ آیا۔
امرحہ کی پریڈ دوبارہ شروع ہوگئی تھی۔ کسی سخت گیر افسر کی طرح واپس لوٹتے ہی اس نے اسے اپنے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا۔
زندگی پھر سے پرانی ڈگر پر چل پڑی تھی۔ قید بامشقت پھر شروع ہوگئی تھی‘ مگر اب اس میں ہمت نہیں رہی تھی۔ کوکھ میں پلتی ننھی سی جان اندر ہی اندر جیسے اس کا لہو پی رہی تھی۔ صبح سویرے ناشتہ بنانا اور پھر ایزد کے ساتھ دن بھر جنگل میں کام کرنا اُسے تھکا ڈالتا تھا۔ واپسی پر وہ چل کر نہیں بلکہ اپنے وجود کو گھسیٹ کر بمشکل اونچے پہاڑ سے نیچے وادی میں لاتی تھی۔
کہنے کو ایزد حسن کے ساتھ اس کی شادی کو فقط چھ ماہ ہوئے تھے‘ مگر حقیقتاً ان چھ ماہ میں اس نے چھ صدیوں کا سفر طے کرلیا تھا۔
گالوں کی اُبھرتی ہڈیوں کے ساتھ آنکھوں کے نیچے گہرے ہوتے حلقوں نے اسے برسوں کا بیمار بنا ڈالا تھا‘ مگر اپنے انتقام کی آگ میں جلتے ایزد حسن کو جیسے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
نہ اسے اس پر رحم آتا تھا‘ نہ وہ اس کی طرف سے فکرمند تھا۔
وہ اب ہر نماز میں پورے دل سے اس کی موت کی دعائیں مانگنے لگی تھی‘ مگر شاید اس کی دعائوں میں بھی اثر نہیں رہا تھا۔

شہر برباد میں
ایک وحشت کھڑی ہے ہر اِک موڑ پر
گرد ناکامی کی کوئی سوغات لے کر
ہمارے دلوں کی اُداسی یونہی
بے سبب تو نہ تھی
تم نے سمجھا جو ہوتا کسی آرزو کے
شکستہ دریچے کی اُجڑی ہوئی
داستاں کو کبھی
ہم کو مدت ہوئی
راستہ راستہ
خاروخس کی طرح
گردشیں کاٹتے
اس سے بڑھ کے بھی ہوگا کوئی خواب صد چاک
ظلمت کا مارا ہوا
کیا دُکھوں کی یہ ساری کہانی بھلا خواب تھی؟
ہم تو باز آئے ایسی کسی خوش گمانی یا اُمید سے
ہم تو اذیت کی ساری فصیلوں کو چھو آئے
صدیوں کی ساری اُداسی کو
لمحوں میں ہم نے سمیٹا
مگر…
اب بھی وحشت کھڑی ہے
ہر ایک موڑ پر
گرد ناکامی عمر کی کوئی سوغات لے کر
مسافت کے مارے دلوں کے لیے!

سات ماہ ہوگئے تھے مگر ان سات ماہ میں نہ اسے اچھی خوراک نصیب ہوئی تھی‘ نہ دوا دارو۔ نہ اس کا چیک اَپ ہوا تھا‘ نہ وہ آرام ہی کرسکی تھی۔
اس کی مشقت وہی تھی۔ جنگل میں لکڑیاں کاٹنا‘ ضرورت کی خشک لکڑیاں سر پر اُٹھا کر پہاڑ کی اونچائی سے نیچے وادی میں اپنے گھر تک لانا‘ سخت سرد موسم میں چشمے سے پانی بھر کر اُٹھا کر لانا‘ گھر داری کے ساتھ ساتھ ایزد حسن کے سارے کام تندہی سے کرنا۔ اسے اب خود پر حیرت ہوتی تھی کہ وہ مر کیوں نہیں رہی؟ اتنی سخت جان‘ اتنی ڈھیٹ کیسے ہوگئی تھی وہ؟
اس روز اسے بخار تھا۔ کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے چلنا مشکل ہورہا تھا۔ وہ وہیں بیٹھ گئی تو ایزد حسن نے مڑ کر اسے بازو سے پکڑا اور اپنے ساتھ گھسیٹنا شروع کردیا۔ جنگل کے خاردار راستوں پر اس کے ساتھ زبردستی گھسٹتے ہوئے اس کا جسم لہولہان ہوگیا تھا مگر ایزد کی نفرت کے جنون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
اپنے کام کی جگہ پر پہنچتے پہنچتے وہ خود بھی بری طرح ہانپ گیا تھا۔ امرحہ بے ہوش ہوکر گر پڑی تو اس نے غصے میں اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا۔
بناء اس کے حمل کا خیال کیے‘ وہ اسے بے دردی سے پیٹ رہا تھا اور وہ مارے نقاہت کے چیخ بھی نہیں پارہی تھی۔
/…خ…/
امرحہ حسین پہاڑوں کی رہنے والی نہیں تھی۔
اس کے صیاد نے اسے عبرت ناک سزا دینے کے لیے پہاڑوں کا انتخاب کیا تھا اور بلاشبہ یہ سزا کسی میدانی علاقے کی عیش و آرام سے رہنے والی نازک مزاج لڑکی کے لیے‘ اس کی زندگی کی نہایت بھیانک ترین سزا تھی۔
زیتون خالہ اس وادی کی ایک سمجھدار اور معزز خاتون تھیں۔ ان کا گھر کچھ ہی دُور تھا۔ وہ اس کی حالت دیکھتیں تو بے حد کڑھتیں۔
ایزد حسن سے اس درجہ سفاکی کی انہیں اُمید نہیں تھی۔
امرحہ کا نواں مہینہ شروع ہوا تو اردگرد کے گھروں نے اس کی آدھی ذمہ داریاں بانٹ لیں۔ اب اسے پانی خود بھر کر نہیں لانا پڑتا تھا‘ سودا سلف بھی زیتون خالہ کا چھوٹا بیٹا لادیتا۔ زیتون خالہ نے اسے جنگل سے لکڑیاں اکٹھا کرنے سے منع کردیا تھا۔ وہ سب پرائے لوگ تھے‘ مگر مشکل کے اس کڑے وقت میں اپنوں سے بڑھ کر ساتھ نبھا رہے تھے۔
وہ ایک سرد ترین رات تھی‘ جب تکلیف سے بے حال ہوتے ہوئے اس نے ایک کمزور سی بچی کو جنم دیا۔ ایزد کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ پچھلے سات ماہ سے وہ ہر نماز میں یہی دعا کررہا تھا کہ امرحہ بیٹی کو جنم دے اور اس نے بیٹی کو جنم دے دیا تھا۔ اپنی دعا کے قبول ہونے پر اس نے فوراً سجدۂ شکر ادا کیا۔
بچی ہوبہو ایزد حسن کی کاپی تھی۔ وہی ناک‘ وہی ہونٹ‘ وہی آنکھیں‘ وہی کشادہ پیشانی‘ وہی بائیں گال پر پڑتا ڈمپل‘ تبھی وہ بے پناہ خوش تھا۔
’’اسے کہتے ہیں قدرت کا انصاف‘ تمہاری بیٹی دیکھو‘ ہوبہو میری شباہت لے کر دُنیا میں آئی ہے۔ یہ کتنا اچھا ہوگیا ناں؟ اب تم جب بھی اسے دیکھو گی‘ تمہیں نہ چاہتے ہوئے بھی میں یاد آؤں گا۔‘‘
امرحہ سمجھ نہیں سکی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے‘ تبھی اس نے الجھن بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’تمہیں پتہ ہے امرحہ حسین‘ جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا‘ اس کی اصل سزا تو اب شروع ہوگی جب تمہیں اپنی اس حسین جوانی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کو بھی اکیلے اس دُنیا کے درندوں سے بچا کر رکھنا پڑے گا۔ میرا اور تمہارا ساتھ بس یہیں تک کا تھا‘ اب آگے کا سفر تم اپنی بیٹی کے ساتھ تنہا طے کرو گی‘ آیا سمجھ میں۔‘‘
وہ مسکرا رہا تھا۔ کتنے ماہ کے بعد اس کے چہرے پر ہنسی کے پھول کھلے تھے۔ امرحہ ساکت نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’تم اتنے گھٹیا اور کمینے ہوسکتے ہو‘ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ایزد حسن… مجھ سے ایک غلطی ہوئی‘ میں نے اس کا ازالہ بھی کردیا مگر پھر بھی تم نے مجھے سزا دی‘ میرے جرم سے بڑھ کر سزا دی اور میں نے سہی‘ کبھی فرار کا راستہ نہیں اپنایا‘ کیونکہ میرا ضمیر مجھے اس راز کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ تم کیسے انسان ہو؟ انسان ہو بھی کہ نہیں‘ جو تمہارا ضمیر تمہیں ملامت ہی نہیں کررہا۔‘‘
دُکھ کی انتہا میں ڈوبے لہجے کے ساتھ وہ اپنے سابقہ مضبوط انداز میں بول رہی تھی۔
ایزد کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی‘ جیسے وہ اس کے تڑپنے کا مزہ لے رہا ہو۔
’’تمہیں اللہ سے خوف محسوس ہوتا ہے اگر تم کسی لڑکی کو اپنے نکاح میں لائے بغیر اس کی عزت خراب کرتے ہو‘ مگر اسی اللہ کا خوف تمہیں اس وقت محسوس نہیں ہوتا‘ جب تم کسی لڑکی کو اپنی بیوی بناکر اس پر ظلم کرتے ہو‘ کیا تم نہیں جانتے اسلام میں بیوی کے کیا حقوق ہیں‘ ایک عورت پر بغیر کسی قصور کے ظلم کرنے کا کیا گناہ ہے‘ جو درجہ اسلام عورت اور ایک بیوی کو دیتا ہے‘ وہ بھول گئے تم؟ یہ بچی صرف میری نہیں‘ تمہاری بھی ہے۔ تمہیں میری آہ نہیں لگ سکی‘ شاید میں اللہ رب العزت کے نزدیک اس قابل نہیں تھی‘ مگر یاد رکھنا ایزد حسن‘ تمہیں اس بچی کی بددعا لگے گی۔ تم دُنیا میں کہیں بھی چلے جاؤ‘ تمہارے اعمال تمہارا پیچھا کریں گے‘ تم ترسو گے سکون کے لیے یہ میرا یقین ہے۔‘‘ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا۔
ایزد کی مسکراہٹ جوں کی توں موجود رہی۔
’’کتنی اچھی لگ رہی ہو تم یوں روتی پیٹتی‘ بددعائیں دیتی ہوئی۔ ایک مشورہ ہے، تمہیں زندگی کبھی موقع دے تو کسی تھرڈ کلاس سے کالج میں لیکچرار لگ جانا‘ لیکچر اچھا دیتی ہو‘ مگر ایزد حسن پر تمہاری اس ساری بکواس کا اثر ہوگا‘ یہ خوش فہمی نکال دینا اپنے دل سے۔ ہونہہ۔‘‘
اس کے دل میں اللہ کا خوف نہیں رہا تھا۔ امرحہ کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگتا رہا۔ اس شخص نے اپنا کہا واقعی سچ کر دکھایا تھا۔ اس نے اس کے لیے وہ سزا منتخب کی تھی کہ زندگی کا ہر ایک پل اسے موت پر بھاری محسوس ہونے لگا تھا۔
وہ چلا گیا تھا۔
پیچھے امرحہ کے لیے جیسے ایک گڑھا کھود گیا تھا‘ جس میں اسے اپنی نومولود بچی کے ساتھ گرنا تھا۔
/…خ…/
اگلے روز ولیمہ تھا۔
اپنے وعدے کے مطابق اوزان مصطفی اسے ’’مصطفی ہاؤس‘‘ میں لے آیا تھا۔ وہ محل‘ جہاں اسے اس کے بچوں کی آیا بن کر زندگی گزارنا تھی۔
اپنے قریبی دوستوں کو اس نے دعوت دی تھی‘ اب باقی احباب اور رشتہ داروں کے لیے وسیع پیمانے پر ولیمے کا انتظام کرنا تھا۔
صفیہ بیگم‘ جو اوزان کی پڑھی لکھی‘ محبت کرنے والی دادی تھیں‘ شفاء کو اوزان کے ساتھ دیکھ کر خاصی حیران رہ گئی تھیں۔
’’یہ نئی میڈ ہے؟‘‘
اس کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اوزان کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا تھا‘ جب وہ سر جھکا کر ان کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’نہیں بی بی‘ یہ آپ کی بہو ہے‘ شفاء حسین۔‘‘
’’بیاہ کر لائے ہو یا بھگا کر؟‘‘
وہ صرف شکل سے ہی نہیں‘ عادتوں اور مزاج سے بھی اوزان کی دادی لگتی تھیں۔ اوزان ان کے پہلو میں بیٹھ کر ادب سے نظریں جھکا گیا۔
’’مجھے احساس ہے بی بی… میں نے اس شادی کی آپ سے اجازت نہیں لی‘ مگر حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے‘ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی‘ بچے تنگ کرتے ہیں‘ اوپر سے شفاء کے والد صاحب کی اچانک موت ہوگئی تو بھری دُنیا میں اس کا کوئی آسرا نہ رہا‘ ان کے محلے کی ایک خاتون کے ساتھ اچھی دعا سلام ہے‘ انہوں نے ہی رابطہ کرکے ساری صورت حال میرے سامنے رکھی تو میں نکاح پڑھوا کر سیدھا یہیں لے آیا۔ ابھی ولیمہ باقی ہے۔‘‘
وہ اپنی دادی کے مزاج کو اچھی طرح سمجھتا تھا‘ تبھی مختصر لفظوں میں ساری روداد اُن کے گوش گزاری تو وہ مطمئن سی ہوگئیں۔
’’عبدالاحد کو بتایا ہے؟‘‘
’’جی‘ نکاح کرتے ہی بتادیا تھا‘ وہ آرہا ہے آج۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ بچی کو کمرا دکھادو‘ تھک گئی ہوگی۔ تھوڑا آرام کرلے‘ پھر میں بلاتی ہوں۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘
اوزان نے ان کی اس قدر جلدی رضا مندی پر شکر ادا کرتے ہوئے فوراً اثبات میں سر ہلایا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ شفاء چپ چاپ اس کے ساتھ چل پڑی۔
اوزان اسے بچوں کے ساتھ والے کمرے میں لے آیا۔ کمرا کیا تھا‘ اچھی خاصی خواب گاہ تھا۔ بے حد کشادہ اور صاف ستھرا‘ جس کے وسط میں ایک جہازی سائز بیڈ‘ مخملی کمبل اور چادر کے ساتھ موجود تھا۔
بائیں طرف والی دیوار کے ساتھ قیمتی صوفہ سیٹ ترتیب دیا گیا تھا جبکہ دائیں طرف وارڈروب تھی۔ ایک سائیڈ پر فل سائز ایل ای ڈی نصب تھی جبکہ وارڈروب کے قریب استری اسٹینڈ موجود تھا۔
فقط ایک سرسری نظر میں ہی اسے اس کمرے کے ساتھ‘ اس گھر اور گھر والوں کی امارت کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا۔ وہ ابھی کمرے کا جائزہ لے ہی رہی تھی‘ جب اوزان اسے مخاطب کرتے ہوئے بولا۔
’’یہ آج سے آپ کا کمرا ہے‘ تھوڑی دیر آرام کرلیں‘ شام میں ولیمے کا فنکشن رکھا ہے میں نے۔‘‘
’’جی۔‘‘ ایک مرتبہ پھر اس نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
اوزان اس کی تھکن کے خیال سے اگلے ہی پل مزید کچھ کہے بغیر کمرے سے باہر نکل گیا۔ شفاء نے اس کے جاتے ہی دروازہ مقفل کیا اور نڈھال سی بستر پر گر پڑی۔

زندگی ذراسی دیر میں کتنا بدل گئی تھی۔
ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر
زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے
جاگتے جاگتے اِک عمر کٹی ہو جیسے

اس نے آنکھیں بند کیں تو عماد‘ حسین صاحب اور امرحہ‘ تینوں اس کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ اس کی ’’زندگی‘‘ کے یہ تینوں ہی کردار اس کی ’’زندگی‘‘ تھے‘ مگر کتنی دلچسپ بات تھی کہ وہ ان تینوں انمول کرداروں کو کھو کر زندہ تھی۔
بدن تھکن سے چُور تھا‘ مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ نجانے کیوں ایک عجیب سی بے چینی اور بے سکونی نے اس کے دل کو جکڑ رکھا تھا۔
اسے عماد یاد آرہا تھا‘ اس کی محبت اور محبت کی شدت یاد آرہی تھی۔ اس کے سنگ گزرا ایک ایک لمحہ یاد آرہا تھا۔ کتنی کنگال ہوگئی تھی وہ اسے کھوکر‘ آہ بھرتے ہوئے کروٹ بدلی تو امرحہ کی یاد نے دامن جکڑلیا۔ نجانے وہ کہاں تھی‘ زندہ بھی تھی کہ نہیں۔
آنسو تھے کہ موتیوں کی طرح ٹوٹ کر بکھر رہے تھے۔
کب شام ڈھل گئی‘ اسے احساس ہی نہ ہوسکا۔ بیوٹی پارلر سے بیوٹیشن آگئی تھی اسے تیار کرنے‘ ملازمہ اطلاع دینے آئی تھی۔ شفاء اپنا تھکا‘ ٹوٹا وجود لیے بستر سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
اگلے ڈیڑھ گھنٹے میں شہر کے مہنگے ترین پارلر کی بیوٹیشن نے اس کے ملکوتی حسن کو مزید چار چاند لگادیے تھے۔ جو بھی اس کے چہرے پر نگاہ ڈالتا‘ ہٹانا بھول جاتا۔ وہ بھی بھول گیا تھا۔
ابھی تین گھنٹے پہلے وہ پاکستان آیا تھا۔ تھوڑا سستانے کے بعد اوزان کے حکم پر فریش ہوکر ہوٹل پہنچا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہاں پہنچ کر وہ اپنی زندگی کا بدترین صدمہ اُٹھائے گا۔
اسٹیج پر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ وہی بیٹھی تھی‘ جسے وہ پچھلے دو دن سے بھولنے کی ناکام کوشش کررہا تھا‘ مگر بھول نہیں پارہا تھا۔
عبدالاحد کو لگا جیسے اس کا سانس سینے میں گھٹنے لگا ہو۔ یہ کیسا مذاق تھا زندگی کا کہ اس کے دل میں گھر کرکے وہ اس کے گھر میں آتو گئی تھی مگر اس کا نصیب بن کر نہیں‘ بلکہ اس کے بھائی کا نصیب بن کر۔ بھائی بھی وہ‘ جس میں اس کی جان تھی۔
شفاء کو خبر بھی نہیں ہوئی اور وہ جل کر راکھ ہوگیا۔
آنکھیں ویران تھیں۔ اس نے گردن گھما کر اوزان کی سائیڈ میں کھڑے انسپکٹر یاور حیات کو دیکھا‘ وہ ہنس رہے تھے‘ مگر جیسے ہی ان کی نگاہ دھواں دھواں چہرے کے ساتھ کھڑے عبدالاحد پر پڑی‘ وہ بے ساختہ نگاہ چرا گئے۔
عبدالاحد کے دل کو جیسے کسی نے کند چھری سے ذبح کر ڈالا تھا۔ ضبط کی بلند ترین چوٹی کو چھوتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں سے اپنی آنکھوں کے کنارے دبائے‘ پھر بناء کسی کو مطلع کیے تیز قدموں سے چلتا‘ وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔

(ان شاء اﷲ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

 

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close