Hijaab Feb 2019

عشق دی بازی(قسچ نمبر14)

ریحانہ آفتاب

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
شنائیہ دیا کو چودھری حشمت کے کہنے پر اپنا سامان واپس رکھتے دیکھ کر بلیک میل کرتی ہے، شنائیہ بھی واپس کراچی جانا چاہتی ہے لیکن دیا اسے سمجھاتی ہیں پر شنائیہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہوتی ہے۔ ایسے میں چودھری بخت اسے جلد کراچی بلانے کی بات کرتے اسے تسلی دیتے ہیں۔
ماورا یحییٰ منزہ کو ڈائری لکھتے دیکھ لیتی ہے اور اس کی بابت ابھی پوچھنا ہی چاہتی ہے کہ منزہ اس سے ڈائری چھپا لیتی ہے اور اسے کام میں مصروف کردیتی ہے ماورا ہر صورت وہ ڈائری پڑھنا چاہتی ہے جب ہی منزہ کے گھر سے جانے کے بعد وہ منزہ کے کمرے کی تلاشی لیتی ہے لیکن اسے ڈائری کہیں نہیں نظر آتی ہے۔
ایشان جاہ یونیورسٹی آتا ہے تو سب دوست اس سے چودھری جہانگیر کے یونیورسٹی آمد اور ماورا سے ملاقات کی بابت پوچھتے ہیں جس پر ایشان جاہ غصہ میںآتا ماورا یحییٰ کو سبق سکھانے کی بات کرتا سب کو حیران کرجاتا ہے۔
دیا اور چودھری حشمت کے جانے کے بعد شنائیہ اداس ہوجاتی ہے تب سمہان اسے کمپنی دیتا عیشال جہانگیر کو سلگا جاتا ہے۔
منزہ ماورا یحییٰ کے کہنے پر زیوربیچنے سنار کے پاس آتی ہے اور حادثہ کا شکار ہوجاتی ہے۔ایشان جاہ منزہ کو اسپتال لے کر آتا ہے اور تب ہی ماورا یحیٰ کی کال آتی ہے تو ایشان جاہ حادثہ اور اسپتال کا نام بتا کر اسے پریشان کردیتا ہے۔
فریال عیشال جہانگیر کو سمہان آفندی کے کمرے میں اسی کی گھڑی رکھنے کے لیے بھیجتی ہیں عیشال اس کے کمرے میں آکر کھو سی جاتی ہے تب سمہان کمرے میں آتا اس کی محویت توڑتا گھرڑی لے کر واپسی کے لیے قدم بڑھا دیتا ہے لیکن پھر کچھ یاد آنے پر واپس کمرے میںآ تا ہے تو عیشال جہانگیر کمرے میں موجود نہیں ہوتی۔
ماورا انوشا کے ساتھ اسپتال آتی ہے اور سامنے ایشان جاہ کو دیکھ کر حادثہ کا ذمہ دار اس کو قرار دیتی غصہ سے پیش آتی ہے جس پر منزہ اسے سمجھاتی ہے ایشان جاہ منزہ کو گھر چھوڑنے کی پیشکش کرتا ہے جس پر ماورا یحییٰ انکاری ہوجاتی ہے ایشان جاہ اسپتال کا بل ادا کردیتا ہے اور یہی بات ماورا یحییٰ کو مزید غصہ دلا جاتی ہے منزہ کو اپنے پرس اور اس میں موجود رقم کی فکر ستاتی ہے۔
شاہ زر شمعون کے دوست شہر سے اس سے ملنے آتے ہیں اور نکاح میں شرکت نہ کرنے پر معذرت کرتے ہیں زمرد بیگم شنائیہ سے ملازمہ کو بتانے اور مہمانوں کی خاطر مدارت کرنے کا کہتی ہیں شنائیہ ملازمہ کے ساتھ مل کر مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرتی ہے جس پر شاہ زر شمعون کے دوست ناک منہ چڑھا کر حویلی سے رخصت ہوجاتے ہیں شاہ زر شمعون شنائیہ پر بھرم ہوتا ہے نرمین صہبا سے سمہان اور اپنے رشتے کی بات کرتی انہیں حیران کرجاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
’’نرمین بیٹا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ صہبا اپنی جگہ سے اُٹھ کر بے ساختہ اس کے قریب آئیں اور اس کی پیشانی پہ ہاتھ رکھ کر تشویش سے دیکھنے لگیں کہ کہیں بخار سر پر تو نہیں چڑھ گیا جو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہی ہے۔ کہاں وہ آزاد پنچھی کی طرح اکیلی ملکوں ملکوں گھومتی تھی، محض تفریح کے نام پر اور کہاں اب اس کی یہ خواہش‘ صہبا جتنا حیران ہوتیں کم تھا۔
’’کم آن مام… میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ صہبا کا ہاتھ جھٹکتے وہ کسی قدر ناگواری سے گویا ہوئی۔
’’جب ٹھیک ہو تو ایسی دل دہلا دینے والی باتیں کیوں کررہی ہو؟‘‘ صہبا کچھ پریشان نظر آئیں۔
’’اس میں دل دہلا دینے والی بات کہاں ہے مام؟ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کی بیٹی کی پسند کتنی منفرد ہے۔ آپ نے شاید غور سے کبھی سمہان آفندی کو نہیں دیکھا، میں نے بھی پہلی بار غور سے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ ہی از ماسٹر پیس آف دس ورلڈ۔‘‘ نرمین کی پرورش اور تربیت ان خطوط پر ہوئی تھی کہ وہ بے باکی سے اپنی پسند ناپسند ماں پر ظاہر کردیتی تھی۔
’’اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ سمہان آفندی بہت اچھا ہے لیکن کیسے؟ آئی مین تم سمجھ رہی ہو ناں میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں؟ وہاں کا لائف اسٹائل اور لوگ… تم کیسے رہ پائو گی؟‘‘ صہبا کی حیرت اور پریشانی دیدنی تھی۔
’’میں نے کب کہا کہ میں گاؤں میں رہنے جارہی ہوں؟‘‘ نرمین اُلٹا تعجب کا اظہار کر گئی۔
’’تم نے ہی کہا ناں سمہان سے شادی کرو گی؟‘‘ صہبا الگ حیران تھیں۔
’’ہاں… تو اس سے یہ مطلب کہاں نکلتا ہے کہ شادی کے بعد میں حویلی میں جا کے رہنے لگوں گی۔ ڈیڈ بھی تو سالوں پہلے اس شہر میں آپ کے لیے آبسے تھے شادی کے بعد سمہان کو یہاں ہمارے گھر آکر رہنا ہوگا لیکن ہے تھوڑا سیلف میڈ بندہ شاید نا مانے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ اسی سوسائٹی میں ہم الگ گھر میں رہیں۔‘‘ نرمین اپنی طرف سے سب طے کر چکی تھی۔
’’مجھے نہیں لگتا سمہان ایسا کچھ کرے گا۔ اسے گاؤں سے انسیت ہے، بچپن سے وہیں پلا بڑھا ہے۔ تمہارے ڈیڈ کو تو گاؤں سے کوئی لگائو نہیں، تب ہی شہر میں بسیرا ہے، ورنہ تو شاید ہم بھی وہیں رہتے۔‘‘
’’وہ آپ مجھ پہ چھوڑ دیں، سمہان کو کیسے راضی کرنا ہے یہ میرا مسئلہ ہے، آپ پہلے یہ ڈیڈ کو بتائیں تاکہ وہ دا جان سے بات کریں، یہ نا ہو سمہان کو کوئی اور لے اُڑے۔‘‘ اچانک لہجے میں کڑواہٹ آگئی تھی۔
’’تم نے تو مشکل میں ڈال دیا ہے، جانے جہانگیر کیسا ری ایکٹ کریں کہ وہ خود کب وہاں جانا پسند کرتے ہیں اور اب تم نے بیٹھے بٹھائے یہ فرمائش کردی۔ سمجھو سمہان ہوگیا تمہارا لیکن دوسرا کون لے اُڑے گا سمہان کو؟‘‘ صہبا بیٹی کے خدشات پر سوال کر گئیں۔
’’اور کون ہوسکتا ہے عیشال کے علاوہ۔‘‘ اس نے نخوت سے سر جھٹکا۔
’’مطلب تم نے کچھ محسوس کیا؟‘‘ صہبا کے کان کھڑے ہوئے۔
’’ہاں دراصل وہ، ہر گھڑی سمہان کے آس پاس ہی نظر آئی تھی۔ بس مام مجھے سمہان آفندی چاہیے۔ ایک ائیر رنگ چھونے پر اس کی جان نکل گئی تھی، جب سمہان آفندی اس سے چھین لوں گی تب دیکھوں گی کیسے جل کے بھسم ہوتی ہے۔‘‘ نرمین نفرت و تکبّر سے بولی۔
’’اگر عیشال درمیان میں ہے تو سمجھو یہ معاملہ اب میری زندگی کے لیے بھی اہم بن گیا ہے۔ اس دو ٹکے کی لڑکی کی یہ اوقات کے وہ میری بیٹی کی برابری کرے۔ اب تو تم فکر ہی نا کرو، جہانگیر کو منانا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ عیشال کو جیتنے دوں، کم ازکم یہ میرے جیتے جی تو ہو نہیں سکتا۔‘‘ صہبا کے لہجے میں نرمین سے زیادہ کدورت و نفرت تھی۔ نرمین مطمئن تھی، جانتی تھی صہبا نے کہہ دیا تو کر کے ہی دم لیں گی۔
’’مجھے پوری امید ہے اگر چار چھ ماہ میں حویلی میں رہی تو میری موت واقع ہوجائے گی تم سب کس طرح رہتی ہو یہاں؟‘‘ کالج، یونی سے آکر وہ سب لنچ سے فارغ ہوکر ہال میں آبیٹھی تھیں۔ وہ سب لنچ کے بعد اسی طرح مل بیٹھتی تھیں، سب کی مائیں بھی آجاتی تھیں اور یوں دن بھر کی باتیں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ عیشال ڈائجسٹ پڑھنے میں مگن تھی۔ پُر شکن کپڑوں اور الجھے بالوں والی شنائیہ دہائی دیتی آئی تو سب اس کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ عیشال نے بھی نظر اُٹھا کر دیکھا اور پھر سے نظریں ڈائجسٹ پہ مرکوز کرلیں۔
’’اتنی نازک جان ہوتیں تو اچانک نکاح پر ہی کومہ میں چلی جاتیں یا کم از کم ہارٹ اٹیک ہی ہو جاتا لیکن نا جی، ہو تم بھی سخت جان ایسے نہیں مرنے والی۔‘‘ شازمہ نے مذاق اُڑایا تو وہ منہ بسور کر رہ گئی۔
’’مریں اس کے دشمن… کیسی باتیں کررہی ہو۔‘‘ ندا نے گھرکا۔
’’جلدی سے اپنے الفاظ واپس لیں آپی ویرے کو خدانخواستہ کچھ ہوگیا تو شنائیہ آپی کا دشمن اول ویرے شاہ سے بڑھ کے کون ہے‘ سنا ہے کل ہی انہوں نے ویرے کے شہری مہمان بھگا دیے انگریزی تواضع سے اور ویرے بہت خفا بھی ہوئے۔‘‘ زرش مزے سے گویا ہوئی تو شنائیہ کا منہ گزشتہ واقعہ یاد کرکے نا صرف کڑوا ہوگیا بلکہ جبڑے بھی دکھنے لگے۔ اس کے وحشیانہ سلوک کے بعد تو حویلی میں ایک منٹ بھی رہنے کی روا دار نہ تھی لیکن اس کے ناروا سلوک کو منظر عام پر لاکر یہاں سے نکلتی بھی تو کیسے؟ اول تو کوئی مانتا ہی نہیں اور جو مان لیتا تو شاہ زرشمعون سے پوچھتا نہیں کہ اس حرکت کی وجہ کیا ہے؟ پھر تو اسی کے پول کھلنا تھے۔ دیا سے دوری اور واپس آنے کی بات تو ہوئی لیکن وہ کچھ بتائے بنا ضد کرتی رہی کہ کچھ بھی کرکے اسے جلدی لینے آئیں یا بلوانے کا کوئی ذریعہ کریں۔ اس کے رونے سے دیا ایک دم پریشان ہوگئی تھیں۔ دلاسہ بھی دیا کہ جلدی کچھ کرتی ہیں لیکن اسے خبر تھی جب چوہدری بخت سے ذکر کریں گی تو اس کی بچکانہ حرکت جان کر وہ کچھ دن بعد کا ہی مشورہ دیں گے کہ دا جان کو ناراض نہیں کر سکتے تھے۔ غیبی امداد ملنے کی امید تو کم ہی تھی جو کرنا تھا اسے ہی کرنا تھا لیکن پہلے تو اول درجے کی بوریت کا حل نکالنا تھا۔ صبح تو لڑکیاں اپنے اپنے کالج، یونی چلی گئی تھیں اور پیچھے وہ تعلیم سے محروم بچی کی طرح ان کے ہاتھ میں کتابیں، فائل کو حسرت سے تکنے لگی۔ فائزہ اور فریال نے ان کی غیر موجودگی میں مقدور بھر کمپنی دینے کی کوشش کی تھی لیکن اتنی بڑی حویلی کے اتنے سارے کام ان کے منتظر تھے۔ زمرد بیگم بھی اشراق اور چاشت کی نماز میں مصروف ہوئیں تو وہ آن لائن خود کو مصروف کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن حویلی سے دل اتنا بے زار تھا کہ اسٹیٹس چھوڑ کر وہ بھاگنے کے طریقے سوچنے لگی۔ جانے کب آنکھ لگ گئی اور ابھی کھلی تو وہ ان سب کو دیکھ کر بے ساختہ دہائی دینے لگی۔
’’ہیں… کل کیا ہوا تھا مجھے بھی بتاؤ۔‘‘ یمنیٰ نے دلچسپی لی تو زرش اسے کل کا ماجرا سنانے لگی۔ وہ برا سا منہ بنا کر اس ذکر سے جان چھڑانا چاہ رہی تھی جیسے کل سے شاہ زرشمعون کو دیکھ کر یوں راستہ بدل رہی تھی جیسے کالی بلی راستہ کاٹ گئی ہو۔
’’نئی جگہ‘ نئے ماحول میں دل لگنے میں وقت لگتا ہے‘ دیکھ لینا ایک دن آئے گا جب تم حویلی سے ایک پل بھی دور نہیں رہ سکو گی۔‘‘
’’اللہ وہ دن نہ لائے۔‘‘ ندا کے سمجھانے پر وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی۔
’’آپ کتنی بے زار ہیں یہ تو آپ کے حلیے سے ہی ظاہر ہے۔ یہ نا ہو ویرے آپ کی بے زاری بھانپ کر مزید روک لینے کا سامان کر لے۔‘‘
’’ایں…!‘‘ زرش نے بظاہر مذاق میں بات کی تھی لیکن اس کے دل کو لگی۔ اسے تو زچ کرنا تھا اُلٹا وہ زچ نظر آرہی تھی اور واقعی کچھ بعید نا تھا ضد میں آکر وہ کوئی سخت فیصلہ کرلیتا ویسے بھی رخصتی کی دھمکی دے چکا تھا۔
’’بوریت تو واقعی مجھے بھی ہورہی ہے، اتنے دن نکاح کی تیاری اور ایکسائیٹمنٹ رہی کہ اب ایک دم سے سناٹا محسوس ہورہا ہے۔ شنائیہ کا گلہ بھی بجا ہے۔ دا جان نے اسے روک تو لیا ہے لیکن اس کی بھی روٹین لائف ہے۔ یونی ہے اور یہاں ہم بھی نہیں ہوتے سارا دن بے چاری کب تک چاچی اور دی جان سے باتیں کرے۔ کیوں ناں کوئی پلان بنائیں۔‘‘ شازمہ اپنے حق میں بولتی اسے ہمیشہ سے کہیں زیادہ اچھی لگی گو کہ اب رشتے میں مزید اضافہ ہوگیا تھا پہلے وہ صرف دوست اور کزن تھیں، اب نند بھاوج کا رشتہ بھی قائم ہوچکا تھا لیکن سب پہلے کی طرح ہی ایک دوسرے کے نام لے رہی تھیں۔
’’بھئی‘ اگر نئی نویلی بھابی کو حویلی سے بھگانے کی کوئی مہم ہے تو مجھ سے کوئی امید نہیں رکھنا۔‘‘ یمنیٰ نے ہری جھنڈی دکھائی۔
’’لکھ دی لعنت تمہاری سوچ پر۔‘‘ شاذمہ اسے لعنت ملامت کرکے سب کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’کہیں آؤٹنگ کا پلان بناتے ہیں اور بہانہ بھی سالڈ ہے کہ ہماری بھابی بیگم حویلی میں بور ہورہی ہیں اور انہیں گاؤں کی سیر کے ساتھ نہریں اور ٹیوب ویل بھی دکھائیں گے تاکہ ان کی بوریت کچھ تو کم ہو۔‘‘
’’آئیڈیا تو زبردست ہے لیکن دا جان سے اجازت لے گا کون؟‘‘ زرش نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
’’اجازت تو ایک ہی بندہ لے سکتا ہے… عیشال تم چل رہی ہو؟‘‘ ندا نے اچانک سیڑھیوں کی طرف دیکھا جہاں سے سمہان آفندی سیل فون کان سے لگائے اترتا نظر آرہا تھا ساتھ ہی عیشال کی بھی رائے لی۔
’’اجازت مل جائے تو شیور۔‘‘ وہ ان سب کی باتوں سے بظاہر لاتعلق تھی لیکن سب کی سن رہی تھی۔ استفسار پہ ہاتھ اُٹھا کر پھر سے ڈائجسٹ میںگم ہوگئی۔
’’سمہان…‘‘ وہ حویلی کے باغ کی طرف مڑ رہا تھا جب ندا نے آواز لگائی۔
’’جی کہیں کیسے یاد کیا؟‘‘ وہ ندا سے چھوٹا ہی تھا لیکن آپی‘ باجی کے تکلف سے دور جی جناب سے ہی بات کرتا تھا یہی حال شنائیہ کے ساتھ بھی تھا۔ اب بھی اس کی پکار پہ مسکراتا ہوا اس تک آیا تھا۔
’’تمہاری مدد کی سخت ضرورت ہے، امید ہے مایوس نہیں کرو گے۔‘‘
’’امید ہے جان تو نہیں مانگیں گی، اس کے علاوہ جو حکم کریں گی بجا لانے کی پوری کوشش کروں گا۔‘‘ اس کے مسکراتے جواب پر عیشال نے ترچھی نظر سے دیکھا۔
’’ہونہہ‘ جان کے لالے پڑے ہیں انہیں اور ہمیں اس جان کی ہی قدر نہیں‘ خود پرست انسان۔‘‘ وہ منہ بنا گئی اور یہ منہ اس کے انداز سے زیادہ بنا تھا۔
’’ہر گھڑی ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار… جس دن دانت جھڑ گئے تب دیکھوں گی مسکرا مسکرا کر ہر ایک کو… ’میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘ کیسے کہتا ہے۔ ہیرو بننے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔‘‘ وہ کچھ زیادہ ہی جلی بیٹھی تھی۔ عام حالات ہوتے تو شاید اتنا نہیں بگڑتی۔ جتنا شنائیہ کی موجودگی میں اس کی دل لگی جھلسا گئی تھی۔ ڈائجسٹ سے توجہ ہٹ چکی تھی لیکن پھر بھی سر دیے بیٹھی رہی۔
’’تمہاری جان لے کر کیوں کسی کو بے جان کرنے لگے ہم اس بیچاری کا کیا قصور جو خواب دیکھ رہی ہے کہ تم اس کے لیے گھوڑی چڑھ کے آؤ گے۔‘‘ ندا کے چھیڑنے پہ وہ بے ساختہ لبوں پہ ہاتھ رکھ گیا۔
’’اوہ… سو کیوٹ، ہی از بلشنگ۔‘‘ شنائیہ کے لیے بڑا دلچسپ منظر تھا، اس روپ میں اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ بہت محظوظ ہوئی۔ اس کے شور کرنے پر عیشال نے پہلے ایک کڑی نظر اس پہ بعد میں سمہان پر ڈالی۔
’’آپ لوگ کیوں مجھے احتساب عدالت کی طرف دھکیلنے پہ تُلی ہوئی ہیں۔ جس کام کے لیے روکا ہے وہ بتائیں یہ نا ہو آپ لوگوں کی دکھائی گئی راہ کی آس میں، میں خوش فہمی میں مارا جاؤں۔ مجھ بے چارے پہ رحم کریں۔ آپ سب کی باتوں سے خوش فہم ہوگیا تو گزارا مشکل ہوجائے گا۔ اتنی سیدھی سادھی لڑکیاں آج کل ملتی کب ہیں۔‘‘ اسے دزدیدہ نظروں سے دیکھتے وہ بھی رنگ بھر گیا۔ بے توجہی بھانپ گیا تھا۔ لڑکیاں کھی کھی کھی کرنے لگیں۔
’’اُف…‘‘ عیشال کا جی چاہا سامنے دیوار پہ سر مار لے۔
’’قصّہ مختصر یہ کہ تمہارے آنے سے پہلے ہم خاصا بور فیل کررہے تھے اس لیے تمہیں یاد کیا کہ تم دا جان سے اجازت دلواؤ ہم سب پبّی کے پہاڑ کی طرف جانا چاہ رہے ہیں۔‘‘ ہنسی روکتے ندا اصل بات کی طرف آئی۔
’’انکار کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ تمہاری قائدانہ صلاحیت کو مدنظر رکھ کر اس ٹاسک کے لیے تمہارا انتخاب کیا گیا ہے کہ ہماری بھی سنو گے اور دا جان سے اجازت بھی دلواؤ گے… ویرے سے کہنے کی تو ہمت نہیں۔‘‘ ندا فراخدلی سے تعریف کر گئی۔
’’ہونہہ… ایسا جنگلی، وحشی ہے کہ اپنی بہن بھی بات کرتے ہوئے ڈرتی ہے اور ایک یہ سمہان ہے۔‘‘ شنائیہ سوچ کے رہ گئی۔
’’آپ سب کا موڈ ہے؟‘‘ وہ طائرانہ نگاہ ڈال کر اس پہ چند ساعت کے لیے نظر جما گیا۔
’’ہاں سب ہی چاہتے ہیں۔‘‘ شازمہ نے ہانک لگائی۔
’’اوکے پھر تیار ہوجائیں آپ سب۔‘‘
’’پہلے جا کے اجازت لے لو، یہ نا ہو ہیرو بننے کی خواہش میں سبکی اُٹھانا پڑے۔‘‘
’’میرے ویر کو انڈر اسٹیمیٹ تو مت کرو۔‘‘ زرش نے احتجاج کیا۔
’’تھوڑے کو بہت جانو اور چلنے کی تیاری کرو۔ بیس منٹ ہیں آپ سب کے پاس تیار ہوجائیں، اس سے زیادہ وقت نہیں دوں گا۔‘‘ پہلا جملہ اس سے بول کر وقت دیتے وہ پلٹ گیا‘ لڑکیاں گومگو کی کیفیت میں بیٹھی رہیں۔
’’اوور کانفیڈنٹ ہے تمہارا ویر… کسی دن منہ کے بل ہی گرے گا۔‘‘ وہ جلبلا کے زرش کو سنا گئی۔
’’گریں میرے ویر کے دشمن۔‘‘ زرش نے دہل کے کہا۔
’’بیٹھے رہیں یا تیاری پکڑیں۔‘‘ یمنیٰ شش وپنج میں بولی۔
’’بیٹھی رہو آرام سے۔ خود ہی آکے ناکامی کی داستان سنا دے گا۔‘‘ عیشال نے پیر پسارے۔
’’آپ سب تیار نہیں ہورہیں…؟ صرف پندرہ منٹ ہیں آپ سب کے پاس میں گاڑی کا فیول چیک کرنے جارہا ہوں۔‘‘ وہ آیا تو سب تیار ہونے بھاگیں۔ عیشال بھی حیران ہوکر اٹھی تب تک سب نکل چکی تھیں۔
’’کون سی پٹی پڑھائی دا جان کو؟‘‘ وہ مشکوک ہوئی۔
’’چودہ منٹ سوال، جواب میں وقت نا گنواؤ اور آفر سے فائدہ اُٹھاؤ۔ ٹھیک تیرہ منٹ کے بعد ہارن دوں گا، لیٹ ہونے والے کا انتظار نہیں کروں گا۔‘‘ کلائی میں بندھی گھڑی اس کے سامنے لہرائی۔
’’تمہارے تو اچھے بھی انتظار کریں گے میرا۔‘‘ وہ تڑخ کر کہتی جانے لگی۔ اس کے لب مسکرا دیے۔
’’سنو…‘‘
’’اُونچی سینڈل نا پہننا، میں نہیں چاہتا میرے دشمن منہ کے بل گریں۔‘‘ وہ لب دبا گیا۔
’’شیٹ اپ…‘‘ وہ بھی دھیمے سے غرا کے مسکرانے پہ مجبور ہوگئی تھی۔
خ…ز…/
منزہ جب سے ہسپتال سے لوٹی تھیں انہیں چُپ سی لگ گئی تھی۔ ایشان جاہ نے گھر چھوڑنے پہ بہت اصرار کیا تھا لیکن منزہ کا انکار اقرار میں نہیں بدلا تھا۔ ماورا کے تیور بھی قابل دید تھے۔ ایشان جاہ کا شریفانہ رویہ اس کے لیے ناقابل برداشت تھا لیکن منزہ کی موجودگی میں وہ کچھ کہنے سے قاصر تھی۔ اس سارے معاملے میں انوشا بالکل خاموش تھی۔
ماورا اور اس کے بیچ ایشان جاہ کے حوالے سے اتنی باتیں ہوچکی تھیں کہ اسے اس کے انداز پہ بے حد حیرت ہورہی تھی۔ کہاں تو وہ اسے بے حد مغرور اور بدتمیز شخص سمجھتی تھی اور کہاں ماورا کے کڑوے اور تلخ لہجے کے جواب میں بھی اس کے ماتھے پہ شکن تک نہ آئی تھی وہ انہیں گھر تک چھوڑنے پہ کمر بستہ تھا لیکن منزہ کے انکار کے بعد اس نے نا صرف آٹو بھی خود ہی کروا کے دی بلکہ خاموشی سے کرایہ بھی ادا کردیا، جس کی خبر انہیں گھر پہنچ کر ہوئی جب ڈرائیور نے کرایہ لینے سے انکار کرنے کے بعد حقیقت بتائی تھی۔ ماورا ڈرائیور پہ بگڑنے لگی تھی لیکن منزہ خاموشی سے گھر کے اندر چلی گئی تھیں۔
’’یہ شخص آخر چاہتا کیا ہے، اماں نا ہوتیں تو آج اس کی وہ عزت افزائی ہوتی کہ ساری زندگی یاد رکھتا۔ جانے کیوں ڈرامہ کررہا ہے۔ باپ راہ سے ہٹانے کے لیے پیشکش کررہا ہے اور یہ خود ہیرو بن رہے ہیں۔‘‘ چادر اتار کر پلنگ پہ پھینکتے ماور آواز دبا کر غصہ میں بولی تھی۔ ایشان جاہ کی صورت دیکھ کر ایک بار پھر منزہ کی لگائی پابندی بڑی شدت سے محسوس ہوئی تھی۔ اس کی کامیابی کی راہ میں وہ ایسا خار دار کانٹا بن کر ابھرا تھا کہ وہ کسی صورت اس کی شکل دیکھنے کی بھی روا دار نہیں تھی۔ کجا کہ وہ ہمدردی کا چولہ پہن کر سامنے آکر اچھائی اور انسانیت کا پاٹ پڑھا رہا تھا۔
’’جی تو چاہ رہا تھا اس بہروپیے کا منہ ہی نوچ لوں۔‘‘ وہ سخت جلبلائی۔ انوشا نے خاموشی سے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
’’پانی پی لو، اپنی زبان خراب کرنا بے کار ہے، وہ سننے کو موجود نہیں ہے۔‘‘
’’لیکن اس کی ہمت دیکھی تم نے؟ یوں ہمدردی جتا رہا تھا جیسے ہمارا سگا ہو، منافق انسان۔‘‘ پانی کا گلاس تھام کر بھی اس کا غصہ قائم تھا۔
’’تمہاری باتوں سے سو فیصد اتفاق کرنے کے بعد بھی سچ یہ ہے کہ آج اس کی انسانیت کے باعث اماں کو نا صرف بروقت طبّی امداد ملی بلکہ ایشان جاہ کی پرسنالٹی کے باعث اماں کو لاوارثوں کی طرح ٹریٹ نہیں کیا گیا‘ ورنہ اس طرح کے حادثے میں متاثرہ لوگوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے تم بھی اس سے واقف ہو۔ اس وقت ایشان جاہ نے انسانیت کا پورا حق ادا کیا، اماں کے لیے پرائیوٹ ہاسپٹل میں اپنا وقت برباد کیا۔ جب کہ اسے یہ تک پتا نہیں تھا کہ وہ تمہاری اماں ہیں پھر اس کے عمل کو نا سراہنا زیادتی ہوگی کیونکہ اس نے کسی واہ واہ کے لیے یہ سب نہیں کیا‘ پھر کیسے بہروپیا ثابت ہوا۔‘‘ انوشا نرمی سے حقیقت بیان کر گئی‘ ماورا پھر بھی معترف نا ہوئی۔
’’تم جو بھی کہو، مگر میں اسے کبھی بھی پلس پوائنٹ دینے کو تیار نہیں ہوں۔‘‘ وہ نخوت سے کہہ گئی۔
’’اوکے بابا نا دو تمہارا غصہ اور بگڑنا بھی اپنی جگہ بجا ہے، لیکن جانے کیوں مجھے لگ رہا ہے وہ دل کا برا نہیں‘ بس تم لوگوں کی غلط ٹھن گئی ہے۔‘‘ انوشا کو جیسے افسوس ہوا۔
’’ہاں دل کا برا نہیں ہے، اس کے ہائی پروفائل والد محترم کو خواب میں الہام ہوا تھا کہ ان کے جانشین کو ماورا نام کی لڑکی تکلیف پہنچا رہی ہے اور وہ نیند سے بیدار ہوتے ہی مجھے دھمکانے آگئے جتنا بڑا نام اتنے چھوٹے کام اور اسی کی پاداش میں اماں نے مجھ پہ یونی کے دروازے بند کرا دیے۔ تم کیا، کوئی بھی اس کی لاکھ تعریف کرے لیکن میں قیامت تک ان باپ بیٹے کو معاف نہیں کروںگی جس کی وجہ سے میرا برسوں پرانا خواب مٹی میں مل گیا۔‘‘ جوش سے کہتے آخر میں لہجہ گلوگیر ہوگیا انوشا کو بھی احساس تھا تب ہی جواب میں کچھ نہیں بولی۔
’’انوشا… ماورا۔‘‘ منزہ کی کمزور سی آواز سنائی دی۔
’’اماں بلا رہی ہیں، انہیں کچھ کھلا کر دوا بھی دینی ہے۔ اس سارے قصے میں ہم نے بھی صبح سے کچھ نہیں کھایا۔ چلو پہلے اماں کی سن لیں۔‘‘ انوشا نے جلدی سے اُٹھتے اسے بھی اس فیز سے نکالنے کی سعی کی وہ بھی ماں کا احساس کرکے اٹھ گئی تھیں۔
خ…ز…/
’’شنائیہ… جلدی آؤ۔‘‘ اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر شازمہ جلدی آنے کے لیے آواز لگا کر تیزی سے چلی گئی تھی۔ وہ جلدی جلدی بالوں میں برش پھیرکر کمرے سے نکلی اور اچانک سامنے سے آنے والے شاہ زرشمعون سے ٹکراتے ہوئے بچی۔
’’یہ حویلی ہے کوئی ریس کورس نہیں‘ حویلی میں رہنے کے آداب آپ کو گوگل سے نہیں ملیں گے، بہتر ہے بڑوں کے پاس بیٹھ کر مشرقی لڑکی بننے کے اصول سیکھیں۔‘‘ اس مڈ بھیڑ پہ وہ کڑوے کسیلے لہجے میں گویا ہوا۔ شنائیہ کے چہرے کے زاویے بگڑنے لگے لیکن اس نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا اور ایک طرف سے نکلنے لگی۔
’’ایک منٹ۔‘‘ اس کے گریز نے غالباً اچھا اثر نہیں چھوڑا تھا۔ تب ہی وہ اس کے روبرو آکر راہ میں حائل ہوگیا۔
’’تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ اس حلیے میں تفریح کے لیے جاؤ گی۔‘‘ ٹائیٹ جینز، شارٹ ٹاپ اور گلے میں موجود مختصر سے اسکارف کو گرہ لگا کر گلے میں ڈالے وہ اسے متعجب کر گئی۔
’’تفریح کے لیے عبایا پہن کر جاؤں؟‘‘ وہ سخت جھلائی۔
’’کیوں تفریح کے وقت عورت کو پردے کے حکم سے استثنا حاصل ہے؟‘‘ جواباً وہ اس سے زیادہ کڑوے لہجے میں گویا ہوا۔
’’حویلی تو درکنار اب اپنے شہر میں بھی آپ اس حلیے میں گھومیں تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
’’آپ سے برا کوئی ہوگا بھی نہیں… آئی ایم شیور۔‘‘ اس کے حاکمانہ انداز پہ وہ تنک گئی۔
’’زبان دراز عورتیں مجھے قطعاً پسند نہیں۔‘‘ وہ اس جواب پہ گھور کے رہ گیا۔
’’سوال مت کریں، جواب نہیں آئے گا۔‘‘ انداز پُرسکون تھا۔ ’’شرافت سے اندر جائیں اور کوئی ڈھنگ کا لباس پہن کر چادر لے کر آئیں۔‘‘ حکم صادر ہوا۔
’’اور جو حکم ماننے سے انکار کردوں؟‘‘ وہ نڈر ہوئی۔ شاہ زرشمعون چند ثانیے اسے گھورتا رہا پھر کمال سکون سے ہاتھ سینے پہ رکھ کر گویا ہوا۔
’’پھر میں بڑے آرام سے آپ کو داجان کے سامنے لے جاکر دہائی دوں گا کہ کیسی مغربی طرز کی پوتی میرے متھے مار دی ہے، عین ممکن ہے اس کے بعد وہ تاحیات آپ پر شہر کے دروازے بند کردیں اور واپس گھر جانے کی آپ کی خواہش کبھی شرمندہ تعبیر نا ہو، چچا جان اور چچی جان کی الگ کلاس لگے انہوں نے کس طرز پہ آپ کی پرورش کی ہے۔‘‘ اس نے اتنے آرام سے بھیانک حقائق کی منظر کشی کی کہ وہ دانت پہ دانت جما کے رہ گئی۔
’’آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔‘‘
’’کرنا تو میں بھی نہیں چاہتا، بڑوں کی تربیت پہ انگلی آپ اٹھوا رہی ہیں۔‘‘ اس کی عیاری پہ وہ کئی ثانیے گھورتی رہ گئی۔ دیا اور بخت تک بات جاتی تو الٹا اسی کی شامت آجاتی کہ وہ ایسے کپڑے لے کر ہی کیوں گئی۔
’’بہتر ہے جا کے کمرے میں آرام کریں۔ تفریح کوئی اتنی ضروری بھی نہیں آپ کے لیے۔‘‘ اس کی باتوں سے چراغ پا ہوکے وہ جو واقعی نا جانے کا سوچ رہی تھی۔ منع کرنے پہ انا کا مسئلہ بنا گئی۔
’’جانا تو میں نے لازمی ہے۔‘‘ اسے گھور کے واپس اندر چلی گئی اور جب چند لمحوں بعد بلیک اور فان کلر کے مشرقی لباس میں شفون کا دوپٹا لیے آئی تو شاہ کو سمہان سے باتیں کرتے دیکھ کر جانے کیوں جھنجلائی۔
’’آؤ شنائیہ…‘‘ ندا نے آواز دی تو وہ اس سمت چلی گئی۔
’’چادر نہیں لی تم نے؟‘‘ فریال کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لے کر آئی تھیں، اسے دوپٹے میں دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔
’’چاچی… میرے پاس چادر نہیں ہے۔ مما لے کر تو آئی تھیں، شاید غلطی سے ساتھ لے گئیں۔‘‘ وہ کچھ شرمندہ سی ہوئی۔ شہر میں تو دوپٹے میں ہی گھومتی تھی لیکن یہاں سب کو چادر لپیٹے دیکھ کر کچھ عجیب سا محسوس ہوا، پہلے شاہ کا ٹوکنا پھر فریال کا استعجاب بھرا سوال کچھ شرمندہ سا کر گیا۔
’’ایسی کیا بات ہے کہہ دینا تھا ناں چندا۔ یہاں تو کافی چادریں ہیں‘ رکو میں اندر سے بھجواتی ہوں کسی کے ہاتھ۔‘‘ فریال نرمی سے اس کا رخسار چھو کر پلٹیں۔ وہ سامنے ہی تو کھڑا تھا۔ اس کے لہجے کی شرمندگی محسوس کرکے یا پھر دیر ہونے کا احساس کرکے اپنے کاندھے پر موجود براؤن چادر کو اتار کر اس نے گاڑی میں بیٹھنے کے لیے جھکی شنائیہ کے شانے پہ ڈال دی تھی۔ اس کی حرکت اتنی بے اختیاری تھی کہ سمہان تو کھانس کے رہ گیا، ندا سمیت باقی سب نے یہ منظر دیکھا تو اپنی ہنسی دبا کر ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارہ کنے لگے تھے۔
’’بھابی… پہلے بتانا تھا کہ یہ برو کی چادر لینے کا بہانہ چاہے تھا۔‘‘ وہ چھیڑے بنا نا رہ سکا۔
’’مما… اندر سے چادر بھیجنے کی زحمت کرنے کی بجائے اپنی بہو کے لیے سنبھال کے رکھ لیں۔‘‘ اس کی اُونچی آواز پہ فریال مسکرا کے چل دیں۔
’’نکلنا بھی ہے یا نہیں۔‘‘ شاہ زرشمعون اس کے بازو پہ دھپ رسید کر گیا۔
’’جو حکم سرکار۔‘‘ وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا اور شاہ ڈرائیونگ سیٹ پہ آبیٹھا تو اس پہ کھلا کہ آدھی لڑکیاں سمہان کی گاڑی میں موجود ہیں اور اسے بھی یقینا سمہان نے ہی تیار کیا ہوگا۔ وہ خود کو مرر میں دیکھنے لگی خاصہ ایلیگنٹ لک تھا۔ جو آج سے پہلے نہیں لگا تھا۔ وہ خود کو دیکھنے میں اس طرح مصروف تھی کہ کافی دیر بعد احساس ہوا کہ اس کی اُچٹتی نگاہ بھی مرر پہ پڑ رہی ہے۔ چادر سے اُٹھتی اس کی مخصوص مہک اور مرر پہ جتاتی نظریں اس کا حلق تک کڑوا کر گئیں۔ نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس کے انداز سے جل کر خود کو بے بس محسوس کررہی تھی اور یہ اسے اپنی ہار لگ رہی تھی۔
خ…ز…/
چودھری بخت لمبی چھٹی کے بعد ہاسپٹل آئے تو گھنٹوں انہیں سر کھجانے کی فرصت نا ملی۔ شام تک مصروفیت کا یہ عالم رہا کہ انہوں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ اب جو فراغت ملی تو چائے کے ساتھ اسنیکس منگوا کر کھانے کے بعد انہوں نے پی اے کو اپنے کمرے میں طلب کرلیا۔
’’سر… آپ کی غیر موجودگی میں دو ایمرجنسی کیس آئے تھے جو آپ کی ہدایت پہ ڈاکٹر راحیل کو بھیج دیے گئے تھے‘ کچھ ضروری اپائنٹمنٹس ہیں جو کل کی ہیں۔ میں نے انہیں کنفرم کردیاہے لیکن سر ایک مس ہیں… مس ماورا وہ کم وبیش روز ہی آپ کی واپسی کے لیے کال کرکے پوچھتی رہیں اور ان کی ہدایت تھی کہ آپ جیسے ہی تشریف لائیں انہیں اطلاع دی جائے، اتفاق سے بس آج ہی کال نہیں آئی ان کی۔‘‘ پی اے پیشہ وارانہ انداز میں دیگر مریضوں کے احوال کے ساتھ ماورا کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا۔
’’اگر کوئی ایمرجنسی تھی تو آپ انہیں ڈاکٹر راحیل یا ڈاکٹر جُنید کے پاس بھیج دیتے۔‘‘ چودھری بخت کو تشویش ہوئی۔
’’سر میں نے کوشش کی تھی لیکن محترمہ کا اصرار تھا کہ وہ آپ کو ہی دکھائیں گی۔‘‘ پی اے نے کہا۔
’’اگر آپ کے پاس ان کا نمبر ہے تو آپ انہیں کال کرکے میری آمد سے باخبر کردیں۔‘‘
’’بہتر سر۔‘‘ وہ مؤدب انداز میں سر ہلا کر ماورا کو کال ملانے لگا تھا۔
خ…ز…/
’’فری ہیں، ایک ضروری بات کرنی تھی۔‘‘ صہبا کمرے میں آئیں تو چوہدری جہانگیر کو جاگتے پاکر براجمان ہوئیں۔ وہ نیند سے بے دار ہوکر فریش ہوچکے تھے۔ ملازم کو چائے کے لیے انٹر کام بھی کرچکے تھے تب ہی صہبا سے پہلے چائے آگئی تھی۔
’’کیا بات ہے کہو۔‘‘ چائے کے سپ لیتے انہوں نے دوسرے ہاتھ میں موجود ریموٹ سے چینل چینج کیا۔
’’بچوں کی شادی کے متعلق آپ نے کیا سوچا ہے، کب تک کرنی ہے؟‘‘ صہبا بات شروع کرنے سے پہلے ان کا عندیہ لینا چاہ رہی تھیں۔
’’شاہ اور شنائیہ کا نکاح ہوگیا‘ آغاز تو سمجھو ہو ہی گیا ہے خاندان میں شادی کا، ہمارے بچوں کی باری بھی آہی جائے گی۔ ایشان نے انشراح کے لیے منع کردیا، اگر ہاں کرتا تو ممکن ہے میں پہلے اسی کی کردیتا، باری کا انتظار بھی نہیں کرتا۔‘‘
’’باری کو تو آپ رہنے دیں، حویلی کے اتنے سارے لوگوں میں جانے کب میرے بچوں کا نمبر آئے۔‘‘ حویلی کے ذکر پہ صہبا کا حلق کڑوا ہونے لگا لیکن چونکہ بات بھی حویلی کے حوالے سے کرنی تھی تو حتی المکان لہجہ نرم رکھا۔
’’تمہاری نظر میں کوئی معقول رشتہ ہے تو میں باری کا بھی انتظار نہیں کروں گا۔‘‘ چوہدری جہانگیر کے انداز سے انہیں حوصلہ ملا۔
’’ہاں معقول تو ہے اور ریجیکٹ کرنے کا کوئی جواز بھی نہیں دونوں طرف سے۔‘‘ صہبا کی دلیل پہ وہ آرام سے چائے ختم کرکے اب سگریٹ سلگانے لگے تھے۔
’’ایشان کے لیے کون لوگ ہیں؟ کہیں بھی بات کرنے سے پہلے تسلی کرلینا، میں اپنے بچوں کی پسند کو اولیت دوں گا۔‘‘ چودھری جہانگیر آئیڈیل باپ تھے لیکن صرف ایشان جاہ اور نرمین کے لیے۔
’’آپ فکر ہی نا کریں، میں کب اپنے بچوں کے خلاف جاتی ہوں، ایسا ہوتا تو انشراح کے لیے زور دیتی، جس کی وجہ سے سگی بہن کا منہ بن گیا ہے۔‘‘ صہبا کا حوالہ معقول تھا۔ چوہدری جہانگیر سر ہلانے لگے۔
’’اور ایشان کے لیے نہیں میں نرمین کے لیے بات کرنے آئی تھی۔ نرمین کے لیے آپ کا بھتیجا سمہان کیسا رہے گا؟‘‘ صہبا سوال کرکے ان کا چہرہ تکنے لگیں۔
’’نرمین کی خواہش ہے یا تمہاری؟ تمہیں تو گاؤں ذرا بھی پسند نہیں…‘‘ چوہدری جہانگیر کے چہرے پہ اک لمحے کے لیے حیرانی سوال بن کے اُبھری تھی۔
’’خواہش تو نرمین کی ہے… رہی پسند ناپسند کی بات تو آپ کو بھی تو گاؤں میں رہنا پسند نہیں، جو آپ کو پسند ہوتا تو شاید میری پسند بھی بدل جاتی۔‘‘ کمال چالاکی سے وفا دکھا گئیں، وہ ذرا سا مسکرا دیے۔
’’آپ کی کیا رائے ہے سمہان اور نرمین کے لیے؟‘‘ صہبا اصل بات کی طرف آئیں۔
’’اچھی رائے ہے، سمہان قابل لڑکا ہے پھر بھتیجا بھی ہے‘ اس کی صلاحیتوں کی تو بہت تعریفیں سنی ہیں۔‘‘ چودھری جہانگیر تعریف کرنے لگے۔
’’آپ بابا جان سے جلد نرمین کے رشتے کی بات کریں۔‘‘ وہ بے صبری ہوئیں۔
’’تم بے فکر رہو، بات تو میں کرلوں گا۔ تم نرمین سے کہو، منگنی کی تیاری کرے، اپنی بیٹی کی خوشی بہت اہتمام سے کروں گا۔‘‘ وہ بھی خوش نظر آرہے تھے۔
’’اور ساتھ ہی اچھا سا بنگلہ دیکھنا شروع کردیں جو ہم نرمین کو جہیز میں دیں گے، جہاں نرمین اور سمہان شادی کے بعد رہیں گے۔‘‘ صہبا اپنی طرف سے سب طے کیے بیٹھی تھیں چودھری جہانگیر بھی سر اثبات میں ہلانے لگے۔ دورازے سے لگی نرمین کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی۔
خ…ز…/
’’ماورا کہاں ہے؟‘‘ انوشا کو آتے دیکھ کر منزہ نے نحیف آواز میں دریافت کیا۔
’’کوئی کال سن رہی ہے آجائے گی‘ آپ کھانا کھائیں پھر دوا بھی دوں گی۔‘‘ انوشا کھچڑی نکال لائی تھی۔ جس کی طرف منزہ نے آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔
’’تم دونوں کھالو، پریشان رہی ہوگی سارا دن۔‘‘ انہیں اچھی طرح یاد تھا گھر میں سبزی نہیں تھی وہی لینے گئی تھیں۔
’’انوشا بہت خوشی کی خبر ہے۔‘‘ ماورا تیزی سے بولتی کمرے میں داخل ہوئی۔
’’ڈاکٹر بخت چھٹیوں سے واپس آگئے ہیں۔ ان کے پی اے کی کال آئی تھی۔‘‘ اس کے تمتمائے چہرے کو دیکھتے انوشا جواباً خوشی کا اظہار کررہی تھی گو کہ اسے بیماری کی اصل نوعیت کا پتا نہیں تھا لیکن منزہ کی گرتی صحت اس کے لیے سوالیہ نشان تھی۔ ماورا کی کوشش اسی سلسلے کی کڑی لگی تھی۔ البتہ چودھری بخت کا نام سُن کر منزہ کے چہرے پہ ایک سایہ سا لہرایا تھا۔
’’اماں ہم کل ہاسپٹل جائیں گے۔‘‘ ماورا ان کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’انوشا کی شادی تک میں کہیں نہیں جانے والی، مبادا ڈاکٹر ایڈمٹ کرلے پھر تو ہوگئی میری بچی کی شادی‘ ماورا تم بھی ڈھونڈ، ڈھونڈ کر باتیں لاتی ہو۔‘‘ ناگواری کو انہوں نے اس طرح اپنے لہجے میں سمویا کہ ایک پل کو ماورا بھی چُپ رہ گئی۔
’’آپ کا علاج شادی سے زیادہ ضروری ہے اماں۔‘‘ انوشا نے لب کُشائی کی۔
’’ہم بتا دیں گے ڈاکٹر کو کہ ہمارے گھر میں شادی ہے اور پھر ابھی تو صرف چیک اپ کے لیے جانا ہے۔‘‘ ماورا نے بات آگے بڑھائی۔
’’زیادہ اماں بننے کی ضرورت نہیں ہے‘ کل سے تم لوگ شاپنگ شروع کرو۔ میں بھی ڈیکوریشن اور پکوان والے کو پیسے دے آؤں گی۔ انوشا کا جو دل ہو اپنی پسند سے لے لے گی۔‘‘ منزہ نے حتمی لہجے میں کہا تو دونوں چُپ ہوگئیں کہ ماں سے بحث کی تو عادت نہیں تھی۔ انوشا کے سامنے وہ زیادہ اصرار بھی نہیں کرسکتی تھی اس لیے کل کا کام اس نے کل پہ چھوڑ دیا جب انوشا اسکول چلی جاتی تو وہ آرام سے بات کرسکتی تھی۔
’’تم دونوں اپنا کھانا بھی نکال لاؤ، مل کر کھالیں گے پھر جلدی سونے کی کوشش کرنا، صبح دونوں کو اسکول اور یونیورسٹی بھی جانا ہے اور آکر شاپنگ پر بھی تھک جاؤ گی، بہتر ہے آرام کرلو۔‘‘
’’میں نے کہاں جانا ہے اماں… آرام ہی آرام ہے۔‘‘ ماورا مجروح مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئی۔
’’تم صبح سے یونیورسٹی جارہی ہو‘ کھانا کھا کر صبح کی تیاری کرلو۔‘‘ منزہ کی بات پہ دونوں حیران رہ گئیں۔ اس کایا پلٹ پہ وہ جتنا حیران ہوتی کم تھا۔ کیا ان کے اس فیصلے کی وجہ ایشان جاہ تھا؟ اس سے مڈبھیڑ کے بعد ہی تو انہوں نے فیصلے پہ نظر ثانی کی تھی۔
خ…ز…/
سمہان نے شاہ زرشمعون کو بھی تیار کرلیا تھا لڑکیاں زیادہ تھیں اس لیے ایک گاڑی میں آنا ممکن نہیں تھا۔ سب نے فریال اور فائزہ سے بھی اصرار کیا تھا لیکن دونوں ذمہ داری کے باعث سہولت سے معذرت کر گئیں۔ سمہان آفندی کے جھٹ پٹ چودھری حشمت سے اجازت لینے پہ ابھی سب اس کی تعریف ہی کررہی تھیں کہ شاہ زرشمعون کو اپنی گاڑی نکالتے دیکھ کر سب خشمگیں نظروں سے دیکھ کے رہ گئیں۔
’’صاف منع کردیتے کہ نہیں لے جاسکتے آؤٹنگ پہ یوں ملک الموت کو پیچھے لگا دیا۔‘‘ گاڑی سے اترتے شنائیہ چودھری سنانا نہیں بھولی تھی۔
’’اتنی بے دلی… بھابی میں نے تو اس لیے ویرے کو راضی کیا کہ نکاح کے بعد آپ کو کمپنی ملے گی۔‘‘ وہ شرارت سے چھیڑ گیا تو شنائیہ منہ بسور کے چلی گئی۔ عیشال جہانگیر نے اس منظر کو بغور دیکھا تھا۔
سمہان نے شاہ زرشمعون کو چلنے کو کہا تو پہلے پہل انکار کے ساتھ اس نے لڑکیوں کے جانے پر بھی پابندی لگانا چاہی لیکن مقابل سمہان آفندی تھا جو لڑکیوں کو زبان دے چکا تھا۔ آخر وہ بھی راضی ہوگیا۔ حویلی پہ جس طرح تاک تاک کے حملے ہورہے تھے اس پہ ضروری تھا کہ وہ چوکنے رہتے۔ سمہان آفندی کی صلاحیتوں پر تو بھروسہ تھا لیکن حویلی کی ساری لڑکیاں جارہی تھیں تو پردے کے خیال سے سمہان نے محافظوں کو منع کردیا تھا اور حقیقت جان کر شاہ زرشمعون نے ساتھ چلنے کی حامی بھری تھی۔ جانتا تھا محافظوں کی طرح اس کے سامنے بھی سب ریزرو ہی رہیں گی لیکن وہ سمہان آفندی کو اکیلے جانے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ یوں بھی پبی کے پہاڑ کچھ اچھی شہرت نہیں رکھتے تھے۔ وہاں کے رہائشیوں کا ماننا تھا کہ پہاڑ کے اس طرف ڈاکوؤں کا بسیرا تھا۔ بارش کے بعد ڈھلان کے گرد و نواح میں جما پانی جھیل کا منظر پیش کرتا اس پہاڑ کی خوب صورتی بڑھا دیتا۔
حسن اتفاق سے شاہ زرشمعون کے کچھ دوست مل گئے تو وہ ان کی طرف چلا گیا، لڑکیوں نے بھی کھل کے سانس لی اور ہنسی مذاق کرنے لگیں۔ سب کے ساتھ وہ آتو گئی تھی لیکن عجیب بے زاری چھائی ہوئی تھی۔ وہ ان سب کو چھوڑ کر آگے بڑھ آئی تھی۔
’’آگے کہاں جارہی ہو، ساری لڑکیاں ساتھ ہیں، یہیں انجوائے کرو۔‘‘ سمہان نے دیکھا تو چند قدموں میں ہی اسے جالیا۔
’’تم انجوائے کرو۔‘‘ عیشال سر جھٹک کے آگے ہی آگے چلنے لگی۔ نتیجتاً سمہان آفندی تقلید کرنے پہ مجبور تھا لیکن باقی لڑکیوں پہ نظر رکھنا بھی ضروری تھا سو وہ اُلٹے قدموں چلتا اس کے ہم قدم ہونے کے ساتھ سب پہ برابر نظر رکھے ہوئے تھا۔
’’سر کے بل جب اس پہاڑ سے نیچے گرو گے تب ہاسپٹل میں ہی آنکھ کھلے گی۔‘‘ اس کی لاپروائی پہ شدید غصّہ آنے لگا۔
’’مجبور بھی تو تم کررہی ہو… سکون سے سب کے ساتھ بیٹھو لیکن نا جی تمہیں تو ہر جگہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی عادت ہے ناں… بس اسپیشل اٹینشن چاہیے ہوتی ہے ہر گھڑی۔ جہاں ذرا سی چُوک ہوجائے دماغ ہی نہیں ملتے۔ ہر دو منٹ بعد تو تمہارا منہ بن جاتا ہے۔ تم سے شادی کرنے والا سوچ سوچ کے پاگل ہوجائے گا کہ اب میں نے ملکہ عالیہ کی شان میں کون سی گستاخی کردی جو چہرے کا جغرافیہ بگڑا۔‘‘ اس کی اُلٹی چال کو نظر میں رکھتے وہ فصیح گفتگو پہ گھور کے رہ گئی۔
’’تمہیں میری فکر میں دُبلا ہونے کی ضرورت نہیں اپنے کام سے کام رکھو۔‘‘ وہ بگڑی‘ نظر بے اختیار اس کے بلیو جینز میں موجود پسٹل پہ پڑی جو جھلک دکھا گئی تھی۔ سمہان آفندی کو اس سے ایسی امید نہیں تھی تب ہی اس کے کٹیلے لہجے پہ ہنس کر وہ مسلسل لڑکیوں پہ نظریں جمائے ہوئے تھا۔ شاہ زرشمعون دور تھا اور اس کی بے توجہی کا فائدہ اس نے اُٹھا کر پسٹل نکال لیا۔
’’چل جائے گی۔‘‘ فوراً لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن وہ ہاتھ دور کر گئی۔
’’یہ ہر گھڑی پسٹل لیے کیوں چلتے ہو؟‘‘ قدم رک گئے۔ وہ حیرت سے سوال کررہی تھی۔
’’حفاظت کے لیے رکھنا پڑتی ہے۔‘‘ اس نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا مگر وہ پھر پیچھے کرکے اس کا معائنہ کرنے لگی۔
’’عیشال… بچوں والی حرکتیں مت کرو‘ لوڈڈ ہے چل جائے گی۔‘‘ وہ تشویش بھری نظروں سے اس کے ہاتھ میں پسٹل کو دیکھ رہا تھا کچھ بعید نا تھا خود کو ہی نقصان پہنچا لیتی۔
’’کیوں خطرہ مول لیتی ہو واپس کرو۔‘‘ وہ اب سرزنش کرنے لگا۔
’’اور جو اس کی ساری کی ساری گولیاں تمہارے سینے میں اُتار دوں؟‘‘ جب اچھی طرح معائنہ کرچکی تو پسٹل کی نال سمہان آفندی کے سینے کی طرف کر گئی۔ بلیو سوٹ میں بلیو آنچل سر پہ لیے ہم رنگ چادر شانوں پہ ڈالے وہ ابرو چڑھا کے سوال کرتی خاصی معصوم لگی۔
’’شوق پورا کرلو… میری طرف سے کوئی مزاحمت نہیں ہوگی۔‘‘ پستول کی نال اپنی طرف دیکھ کر اس کے چہرے پر سکون پھیل گیا تھا۔ پُر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ اسے تکتے ہوئے وہ اسے جھنجلانے پہ مجبور کر گیا۔ بڑے سے پتھر پہ بے دلی سے بیٹھتے ہوئے اس نے پستول بھی پتھر پہ رکھ دیا تھا۔
’’کیوں ارادہ بدل گیا؟‘‘ جھک کر پستول اُٹھا کر جینز میں اڑستے ہوئے وہ شرارت کرنے سے باز نہیں آیا۔ وہ ان سُنی کیے ارد گرد پہ نظر ڈال رہی تھی۔
وہ لوگ خاصی اُونچائی پہ موجود تھے اور پائوں پھسلنے کی صورت میں جانی نقصان بھی اُٹھا سکتے تھے۔ وہ گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ایک نظر ہنستی کھلکھلاتی لڑکیوں پر بھی ڈالی۔ سب تفریح کررہی تھیں، سیلفی بنا رہی تھیں۔ ایک وہی بیزار بیٹھی تھی۔ کبھی کبھی اس پہ شدید جھنجلاہٹ کا دورہ پڑتا تھا اور اس جھنجلاہٹ کا اکثر شکار سمہان آفندی ہی ہوتا تھا۔ سمہان آفندی حتیٰ الامکان کوشش کرتا تھا کہ اس پہ قنوطیت کا دورہ کم سے کم پڑے یا نہ ہی پڑے۔
’’اس اداسی کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ اگلے ہی ثانیے سختی سے جواب آیا۔ لہجہ کسی قدر گلوگیر تھا۔ وہ اندر سے اس قدر تنہا تھی کہ جب کبھی اس اکیلے پن کا شدت سے احساس ہوتا تو اپنا آپ بے جان شے سے کم نہیں لگتا تھا۔ کوئی نہیں تھا اپنا جو اپنے وجود کا احساس بخش کر اس اکیلے پن کے کرب سے نجات دلاتا‘ نہ محبت کے دو بول اس کے حصے میں آتے تھے، نہ ہی کوئی محبت بھرا لمس‘ محبت سب جتاتے تھے لیکن اس کے اندر دن، ماہ و سال کا اتنا درد تھا کہ حویلی میں موجود اپنوں کی محبت بھی اس درد کو مٹانے سے قاصر نظر آتی تھی۔
ایسے وقت میں سمہان آفندی خود کو بے بس محسوس کرتا تھا۔ جانتا تھا وہ محبتوں کو ترسی ہوئی لڑکی ہے لیکن وہ چاہ کر بھی کوئی جھوٹی آس اسے نہیں دے سکتا تھا۔ جان کر بھی انجان بن جاتا‘ اسے بھی ادراک تھا کہ وہ محبت سے اس کی طرف دیکھتی ہے اور جب وہ اسے اس کے جذبوں کو نظر انداز کرتا تو وہ بکھرنے لگتی۔ وہ حویلی سے بے وفائی کرکے اس کا وفادار کیسے ہوسکتا تھا؟ وہ مناسب وقت کا منتظر تھا منصوبہ بندی سے چلنے پہ یقین رکھتا تھا۔ خبر تھی بے صبرے پن سے کچھ حاصل نہیں ہوگا لیکن نہیں جانتا تھا کہ عیشال کے لیے ساری دنیا وہی تھا اور جب اس کی طرف سے مایوس ہوتی تھی تو اس کا جینے کو بھی دل نہیں چاہتا تھا۔ اس وقت بھی نیچے دیکھتے وہ اسے چونکا گئی تھی۔
’’اگر نیچے چھلانگ لگانے کے بارے میں سوچ رہی ہو تو بتا دوں… میری موجودگی میں ایسا ممکن نہیں ہے۔‘‘ وہ شاید اس کی نیت بھانپ گیا تھا۔ اپنی سوچ کو اس کی زبان سے سُن کر اس نے چونکتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
’’اگر میں واقعی ایسا کچھ کر گزروں تو… کیا کرو گے؟ یوں ہی ہاتھ سینے پہ باندھے پتھر سے ٹیک لگائے کھڑے رہو گے یا مجھے بچانے آؤ گے؟‘‘ سوال کڑا تھا۔
’’حویلی کا وفادار ہوں… کزن ہوں‘ بچپن کا ساتھ ہے‘ اس طرح کے روایتی جواب مت دینا… مجھے ان گھسے پٹے ڈائیلاگز میں کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘ اس نے ہاتھ اُٹھا کر اسے بولنے سے روکا۔
’’عیشال…‘‘ سب دستر خوان لگائے اسے آواز دے رہی تھیں۔
’’تمہاری خاموشی ہی تمہارا جواب ہے… جانتی ہوں تم کبھی امتحان میں پاس نہیں ہوسکتے‘ جب ہمت کی کمی ہے تو میرے لیے فکر مند ہونا بھی چھوڑ دو۔‘‘ اس کی خاموشی کا ایک ایک لمحہ جاں گسل تھا۔ جب خاموشی طویل ہونے لگی اور سب مسلسل پکارنے لگیں تو وہ غصہ سے کہتی اُونچے نیچے راستوں پہ چلنے کے لیے آگے بڑھیں۔ لفظوں کی گولہ باری اتنی سخت تھی کہ وہ اس کے پیچھے تو تھا لیکن ہم قدم نہیں‘ ابھی وہ سب کے درمیان پہنچے بھی نہیں تھے کہ ایک نسوانی چیخ نے سب کے اوسان خطا کردیے تھے۔
خ…ز…/
چودھری حشمت نماز پڑھ کر آرام کی غرض سے لیٹے ہی تھے کہ چودھری جہانگیر کی کال پہ اُٹھ بیٹھے۔
’’السلام علیکم! باباجان۔‘‘
’’والسلام! کیسے ہو بیٹا جی… کیسے یاد آگئی؟‘‘
’’کمال کرتے ہیں بابا جان… بات تو ہوتی ہی رہتی ہے آپ سے۔‘‘ چودھری جہانگیر اس گلہ پر شرمندہ ہوئے۔
’’بالکل ہوتی ہے، لیکن تم اتنے مصروف ہوتے ہو کہ اکثر کال ہم ہی کرتے ہیں، وہ بھی ڈرتے ڈرتے کہ جانے فرصت ہے یا کسی آپریشن میں مصروف ہو۔‘‘ ان کی شرمندگی دور کرنے کے لیے چودھری حشمت نے مسکرا کر وضاحت کی۔
’’آپ کا جب دل چاہے کال کرلیا کریں، آپ سے بڑھ کر کوئی کام نہیں۔‘‘
’’جیتے رہو لیکن تمہاری نوکری ایسی ہے کہ بلاوجہ تنگ کرنا اچھا نہیں لگتا… خیر سناؤ شہر میں سب ٹھیک ہے… بہو اور بچے؟‘‘
’’سب ٹھیک ہیں آپ کی دُعا سے… بابا جان میں نے کال ایک خاص مقصد کے لیے کی ہے۔‘‘ رسمی باتوں کے بعد چودھری جہانگیر اصل بات کی طرف آئے۔
’’ہاں… ہاں کہو۔‘‘ چودھری حشمت ہمہ تن گوش ہوئے۔
’’یوں تو آپ نے بچوں کی شادی کا سلسلہ شروع کردیا ہے… میرے بھی بچے ہیں تو سوچا آپ سے ان کے متعلق بھی بات کرلی جائے۔‘‘
’’بالکل کرو‘ جس طرح حویلی کے بچے ہمیں عزیز ہیں اسی طرح تمہارے اور بخت کے بچے بھی ہیں‘ تب ہی تو ہم نے شنائیہ کو شاہ کے نکاح میں دے دیا ہے‘ حویلی اور شہر کے پوتے پوتیوں میں ہم نے کبھی فرق نہیں کیا۔‘‘ چودھری حشمت سچائی بیان کر گئے تو جہانگیر کو اپنی بات منوانے کی قوی اُمید ہوئی۔
’’یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کو شہری پوتی کو اپنانے میں کوئی عار نہیں… جب ایک شہری پوتی کو آپ حویلی میں لے آئے تو بابا جان میں بھی اُمید رکھوں کہ دوسری کو بھی خوشی سے اپنائیں گے… میں نرمین کے لیے سمہان کا رشتہ چاہ رہا تھا… سوچا تھا پہلے اسفند سے رائے لوں، سمہان اس کی اولاد ہے لیکن فیصلہ آپ کا ہوگا اسی لیے پہلے آپ سے بات کررہا ہوں… تو پھر آپ کو قبول ہے بابا جان؟‘‘ چودھری جہانگیر اس کمال سے اپنی بات کہہ گئے کہ ایک لمحے کو چودھری حشمت بھی چُپ سے رہ گئے۔
’’سمہان اور نرمین…!‘‘ چودھری حشمت غالباً عالمِ تصوّر میں دونوں کو ساتھ ساتھ دیکھ رہے تھے۔
’’آپ نے سمہان کی کہیں بات طے کر رکھی ہے کیا؟‘‘ ان کی خاموشی اور پُرسوچ انداز پہ چودھری جہانگیر نے سوال کیا۔
’’حیرت تو ہمیں اس اتفاق پر ہے کہ ایک بیٹی کے لیے تمہاری دی جان نے بات کی اور دوسری کے لیے تم کررہے ہو… اب سمجھ میں نہیں آرہا کہ ہم کیا کہیں…‘‘ چودھری حشمت کے جواب پہ وہ چونکے۔
’’سمجھا نہیں؟‘‘ وہ عیشال کے لیے منہ سے بیٹی کا لفظ نکالنا بھی خلافِ مزاج سمجھتے تھے۔
’’جب شاہ زرشمعون نے عُذر کیا عیشال سے شادی کے لیے تو ہم بہت پریشان تھے۔ تب تمہاری بی جان نے مشورہ دیا کہ عیشال کے لیے سمہان بہترین انتخاب ہے‘ ہم اسی پر سوچ رہے تھے کہ ندا کے بعد سمہان اور عیشال کی رسم کردیں گے یا شاہ اور شنائیہ کے ساتھ سمہان اور عیشال کی بھی رُخصتی لیکن اب تم نرمین کی بات کررہے ہو‘ دونوں صورتوں میں سمہان تمہارا ہی داماد بن رہا ہے۔‘‘ چودھری حشمت نے تفصیل بتائی تو چوہدری جہانگیر کا منہ بن گیا۔
’’بابا جان… آپ چاہیں نرمین کے لیے انکار کردیں لیکن سمہان کی شادی عیشال سے ہو یہ خیال ہی غلط ہے‘ میں ایسا کبھی ہونے نہیں دوں گا‘ میں آپ سے پہلے بھی کہہ چُکا ہوں کہ عیشال کو حویلی سے کہیں دور بیاہیں۔‘‘ چودھری جہانگیر کے دو ٹوک لہجے پہ صہبا کو تو بُہت خوشی ہوئی لیکن چودھری حشمت سوچ میں پڑ گئے۔
’’عیشال حویلی میں رہے، اس سے تمہیں کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’بس بابا جان مجھے اس عورت کی بیٹی سے شدید نفرت ہے جس نے میری خوشیاں مجھ سے چھین لیں اور ایک معصوم جان میری وجہ سے دنیا سے چلی گئی… اپنی خواہش کی قاتلہ کی بیٹی کو جب دیکھتا ہوں، نفرت سے شوٹ کردینے کو جی چاہتا ہے۔‘‘ زمانے بھر کی نفرت ان کے لہجے میں تھی‘ نفرت و خود غرضی کی الگ ہی داستان تھی، جس کی بھینٹ سگی بیٹی چڑھ رہی تھی۔
’’ٹھنڈے ہوجاؤ جہانگیر… ہم سوچتے ہیں کچھ‘ تمہاری بی جان سے مشورہ کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے بہلانا چاہا۔
’’سوچنا کیا ہے بابا جان… ہاں کردیں‘ عیشال تو یوں بھی کسی نہ کسی دن میرے ہاتھوں ماری ہی جائے گی‘ آپ اسے سمہان سے بیاہیں گے اور میرا سامنا ہوتا رہا تو شاید جلد ہی… اس کی زندگی عزیز ہے تو بہتر ہے، اسے میری نظروں سے دور بیاہیں۔‘‘ چودھری جہانگیر برسوں کا زہر اس گھڑی نکال رہے تھے‘ اتنا کہ چودھری حشمت تک دنگ رہ گئے تھے۔
’’برسوں بیت گئے جہانگیر بھول جاؤ سب۔‘‘ انداز ناصحانہ تھا۔
’’میں کچھ نہیں بھول سکتا بابا جان… اس قصے کو دفن ہونے کے لیے یا تو عیشال کو دفن ہونا پڑے گا یا مجھے… جب تک ہم دونوں میں سے ایک کردار بھی زندہ ہے، یہ کہانی انجام تک نہیں پہنچ سکتی۔‘‘ چودھری جہانگیر کا لہجہ اس قدر سرد تھا کہ چودھری حشمت کچھ بولنے کے قابل ہی نا رہے۔
’’رکھتا ہوں فون… ساتھ ہی منگنی کی تیاری بھی شروع کررہا ہوں نرمین اور سمہان کی‘ امید ہے آپ سب سے بات کرکے جلد خوش خبری سُنائیں گے… رات کو کال کرتا ہوں‘ اللہ حافظ۔‘‘ اپنی سُنا کر چودھری جہانگیر فون بند کر گئے تھے۔ انداز ایسا تھا جیسے انکار آئے گا ہی نہیں۔ چودھری حشمت کافی دیر پرُسوچ انداز میں داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے رہے تھے۔
خ…ز…/
’’یہ کیا ہوگیا اچانک اماں کو جو انہوں نے آناً فاناً پابندی اُٹھا لی؟‘‘ ماورا متحیر سی انوشا کے سامنے براجمان تھی۔
’’حیرت تو مجھے بھی بُہت ہورہی ہے، اماں کم ہی اپنے فیصلے بدلتی ہیں، اب چند گھنٹوں میں تمہیں یونی جانے کی اجازت مل جانا بُہت حیران کُن ہے۔‘‘ انوشا الماری سے کپڑے نکال رہی تھی۔
’’شاید اماں کو ایشان جاہ سے مل کے ویسی ہی فیلنگ آئی ہوگی جیسی مجھے ہوئی۔‘‘ استری اسٹینڈ پہ کپڑے رکھ کر اس نے اندازہ ظاہر کیا۔
’’کیا مطلب کیسی فیلنگ…؟‘‘ ماورا حیران ہوئی۔
’’یہی کہ ایشان جاہ اتنا خوف ناک نہیں جتنا ہماری نظر میں اس کا امیج تھا… سوفٹ نیچر کا سُلجھا ہوا انسان لگا۔ جس کے دل میں انسانیت کا درد بھی ہے۔ ایسا انسان کسی کے لیے بُرا کیسے کرسکتا ہے۔‘‘
’’ہاں… وہ اتنا ہی اچھا ہے تو اسے ولن میں نے بنادیا ہے ناں؟‘‘ ماورا کو اس کی یہ بات بالکل اچھی نہ لگی۔
’’ایسا میں نے کب کہا؟‘‘ انوشا نے تردید کی۔
’’تمہاری باتوں سے تو یہی ظاہر ہے۔‘‘ ماورا جتا گئی۔
’’میں تو اماں کا بتا رہی تھی۔ سچ کہوں تو تمہاری باتوں سے میں نے جس وڈیرے، جاگیردار کا خوفناک نقشہ کھینچ رکھا تھا، ایشان اس کا الٹ لگا… ماننا پڑے گا بھئی آج کل کے جاگیردار ماڈرن اور بہت ہینڈسم ہوگئے ہیں۔‘‘ انوشا آخر میں شرارت سے کہنے لگی تو ماورا اسے گھورنے لگی۔
’’پہلے بتانا تھا ناں تمہارے لیے بھی کسی جاگیردار کا رشتہ ڈھونڈتے۔‘‘
’’جو مل گیا میں اسی پہ صابر و شاکر ہوں۔‘‘ ماورا کے چھیڑ نے پہ وہ ہنس دی۔
’’تم ایشان جاہ کو سوچ کر اپنا دل نہ جلاؤ بلکہ یونی جانے کے لیے اجازت ملنے پہ شکر ادا کرو‘ یہ اس صدی کا کوئی معجزہ ہی ہے یا تمہاری کوئی نیکی کام آگئی۔‘‘
’’کہہ تو ٹھیک رہی ہو… میں تو شکرانے کے نفل پڑھنے کا سوچ رہی ہوں۔‘‘ ماورا نے اتفاق کرتے ہوئے جذبات کا اظہار کیا تو انوشا نے تائید کی اور اس نے عمل کرنے میں ذرا دیر نہیں کی۔ جھٹ وضو کرکے نیت باندھ لی۔ وہ نماز میں ہی تھی جب منزہ کا سیل فون مسلسل بجنے لگا۔ جانے منزہ کہاں تھیں‘ انوشا استری بند کرکے دوسرے کمرے میں رکھنے گئی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ وہ جائے نماز لپیٹ رہی تھی جب انوشا اُلجھی ہوئی سی کمرے میں داخل ہوئی۔
’’اماں کے نمبر پہ کال آئی تھی، وہ واش روم میں تھیں تو میں نے کال ریسیو کرلی لیکن…‘‘ وہ آدھی بات بتا کر چُپ ہوگئی۔
’’لیکن کیا؟‘‘ ماورا کو تعجب ہوا۔
’’کوئی مرد تھا اماں کا پوچھنے لگا… میں نے جواباً پوچھا آپ کون تو بدتمیزی سے بولنے لگا تمہارا باپ…‘‘
’’حد ہوگئی گھٹیا پن کی… تم نے ذلیل کرنا تھا ناں۔‘‘ اسے سن کر غصّہ آنے لگا۔
’’کیا ناں… جب باتیں سُنا کر میں نے کہا کہ میرے والد حیات نہیں تو ہنسنے لگا کہ مردہ زندہ ہوگیا۔‘‘
’’کوئی بہت ہی نیچ انسان ہوگا… نمبر دینا مجھے، حشر کردوں گی بے غیرت انسان کا۔‘‘ اس کا خون اُبلنے لگا۔
’’وہ تو میں بھی کرنے لگی تھی لیکن تب تک اماں کمرے میں آگئیں اور انہوں نے فون لے لیا… ڈانٹنے لگیں کہ رانگ نمبر ریسیو کیوں کیا… کون ہوسکتا ہے یہ نیچ انسان۔‘‘ وہ اُلجھی۔
’’رانگ کال پہ ایسے ہی بے ضمیر لوگ ٹکراتے ہیں… لعنت بھیجو۔‘‘ یہ سب سن کر خود اس کا خون اُبلنے لگا تھا لیکن وہ اسے سکون سے رہنے کا مشورہ دے رہی تھی۔
خ…ز…/
وہ سب جس خوشی سے تفریح کے لیے گئے تھے، واپسی اتنی ہی دل شکن تھی چادر میں اُلجھ کر شنائیہ اس بُری طرح گری تھی کہ خود کو سنبھالنے کے چکر میں بڑے سے پتھر کو تھامنے کی کوشش میں وہ پھسلنے سے بچ کر اسی پہ بُری طرح گر گئی تھی۔ کمر پہ شدید چوٹ لگی تھی اور اس سے زیادہ اس کی چیخ نے سب کو بدحواس کردیا تھا۔ شاہ بھی سرعت سے ان کی طرف آیا تھا‘ دوسرے طرف سمہان نے بھی دوڑ لگائی تھی تب تک لڑکیاں اس کے گرد جمع ہوچکی تھی۔
’’میری بیک بون ٹوٹ گئی ہے… اُٹھ نہیں سکتی۔‘‘ سب نے اُٹھنے کا مشورہ دیا تو وہ روہانسی ہوئی۔
’’تھوڑی ہمت کرو… کچھ نہیں ہوا شاباش۔‘‘ ندا نے قریب آکر اسے شانوں سے سنبھالا، ساتھ ہی شاذمہ کو بھی اشارہ کیا کہ وہ دوسری طرف سے اُٹھنے میں مدد دے۔
’’بہت مشکل ہے‘ نہیں اُٹھ سکتی۔‘‘ اس نے ہاتھ پاؤں چھوڑ دیے۔ سب کے چہرے سے فکر مندی جھلکنے لگی۔ عیشال بھی قریب آچکی تھی اور اب تمام لڑکیاں اسے کھڑا کرنے کے جتن کررہی تھیں لیکن وہ انکار کرتے ہوئے درد کے مارے ہائے، ہائے کررہی تھی۔
’’زرش… سامان سمیٹ کر گاڑی میں بیٹھنے کی کرو۔‘‘ سمہان آفندی نے بہن کو ہدایت کی تو وہ سر ہلا کر جلدی جلدی کھانے پینے کی چیزیں اور چادر سمیٹنے لگی۔ یمنیٰ بھی اس کی مدد کرنے لگی تھی۔
’’درد زیادہ ہورہا ہے شنائیہ؟‘‘ شازمہ بھی فکرمند سی اسے تشویش سے دیکھ رہی تھی۔
’’بُہت شدید درد ہے‘ پتا نہیں میں کبھی اپنے پیروں پہ کھڑی بھی ہوسکوں گی یا نہیں؟‘‘ شنائیہ کی دل گداز دُہائی پہ شاہ زرشمعون نے ایک سنجیدہ نظر ڈالی۔ عیشال خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی، نجانے کیوں یہ سب اسے ایک ڈراما لگ رہا تھا جیسے شنائیہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہو۔
’’ہمیں جلد ہی بھابی بیگم کو ہاسپٹل لے کر چلنا چاہیے… آپ سب چل کے گاڑی میں بیٹھیں۔‘‘ سمہان آفندی لڑکیوں کو ہدایت دینے لگا۔
’’لیکن شنائیہ کیسے چل پائے گی؟‘‘ سمہان آفندی کی ہدایت پر ندا نے تعجب کا اظہار کیا۔ وہ کھڑی نہیں ہو رہی تھی کُجا کے اُونچے نیچے راستوں سے گزر کر گاڑی تک جانا۔
’’آپ چلیں بھابی بیگم آجائیں گی… برو۔‘‘ سمہان آفندی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے سب کو آگے چلنے کا اشارہ کررہا تھا تاکہ ان کے سامنے شاہ زرشمعون جھجک کے منع نہ کرے۔ ندا اور باقی سب کی سمجھ میں بھی سمہان کی بات سمجھ آگئی تھی تب ہی سب آگے بڑھنے لگیں اور شنائیہ چودھری کے اوسان خطا ہونے لگے۔
’’نن… ندا… شازمہ سہارا دو میں اُٹھنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘ سمہان آفندی کی بات کا مفہوم اور شاہ زرشمعون کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اس کی آواز ہی کپکپا گئی۔ اس کی پُکار پر ندا اور شازمہ ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیے بنا اس تک آئیں اور اب کی بار وہ واقعی کھڑی ہوگئی تھی گو چہرے پہ تکلیف کے آثار تھے۔ شاہ زرشمعون ایک طرف ہوگیا تھا۔ گاڑی تک کا فاصلہ جیسے تیسے طے کرکے ان کا قافلہ مقامی ہاسپٹل کی طرف سفر کررہا تھا جو کہ خاصا دور واقع تھا لیکن دونوں کی ماہرانہ ڈرائیونگ کام آئی تھی اور وہ قلیل وقت میں ہاسپٹل پہنچ گئے تھے۔ جہاں جدید سہولتیں تو نہیں تھیں مگر ڈاکٹر تھا۔
’’شکر ہے ہڈی نہیں ٹوٹی‘ چوٹ شدید ہے جس کی وجہ سے انہیں تکلیف زیادہ ہے۔‘‘ اس کی ہائے ہائے کو ملحوظِ خاطر رکھ کر ڈاکٹر نے تسلی سے چیک اپ کرنے کے بعد دوا تجویز کرتے ہوئے کہا تو سب کی جان میں جان آئی۔
’’بنا ایکسرے کے آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہڈی سلامت ہے؟ میں کوئی شوق سے شور کررہی ہوں… الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے مشین کی بنیادی سہولت آپ کے پھٹیچر ہاسپٹل میں نہیں اور آپ بیٹھ کر ’عامل بنگالی‘ کی طرح مرض تشخیص کررہے ہیں۔‘‘ وہ درد میں تھی تو اتنا بول گئی، ٹھیک ہوتی تو شاید ڈاکڑ کے اُسترا پھیر دیتی۔
’’شنائیہ… یہ بہت تجربہ کار ڈاکٹر ہیں‘ ہم بچپن سے علاج کے لیے ان کے پاس ہی آتے ہیں۔‘‘ شاذمہ نے ہاتھ دبا کر اسے چُپ کروانا چاہا۔ ’’تجربہ کار ڈاکٹر‘‘ بھی اس کی پروفیسری جھاڑنے پہ منہ اُٹھا کر تکنے لگا۔ شاہ زرشمعون کو اس کی زبانی جمع، خرچ سے ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ چاق وچوبند ہے۔
’’لڑکی جتنی تمہاری عمر ہے اس سے تین گُنا زیادہ میرا تجربہ ہے… بنا ہاتھ لگائے بتا سکتا ہوں کہاں کی ہڈی ٹوٹی ہے، کہاں کی سلامت ہے۔‘‘ ڈاکٹر کو بھی اس کی شعلہ بیانی ذرا نہیں بھائی تھی۔
’’جب اتنا ہی ’’تجربہ‘‘ ہے تو ہاسپٹل میں کیا کررہے ہیں… آستانے میں بیٹھیں، سرکاری تنخواہ سے تین گُنا زیادہ کمائیں گے۔‘‘ وہ جلبلا کر مشورہ دے گئی۔ سمہان آفندی نے تو بہ مشکل ہنسی روکی۔ خود لڑکیوں کا بھی یہی حال تھا۔ البتہ شاہ زرشمعون کو اس کی زبان درازی ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی۔
’’ندا… محترمہ کو لے کر چلنے کی کرو… شاید چوٹ کا اثر دماغ پہ زیادہ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ شاید اور بھی زیادہ ڈاکٹر کا مزاج پوچھتی لیکن شاہ زرشمعون کے سرد جملے پہ چپ کر گئی۔
’’اس جاہل ڈاکٹر کو پتا ہی نہیں میں خود ڈاکٹر کی اولاد ہوں… اُلو بنا رہا ہے‘ مجھے جلد سے جلد اچھے ہاسپٹل لے کے چلو یہ نہ ہو ساری عمر چلنے پھرنے سے معذور ہوجاؤں… پپا کے پاس ایک پیشنٹ آیا تھا ہڈی کا علاج کروانے میں دیر کردی اور ساری زندگی کے لیے بستر کا ہو کے رہ گیا‘ اللہ نہ کرے میرے ساتھ ایسا ہوا تو…‘‘ گاڑی میں بیٹھ کے بھی وہ دل دہلا دینے والی مثالیں چُن چُن کے انہیں سُنا رہی تھی۔ ندا اور شازمہ برابر اسے تسلی دے رہی تھیں اور شاہ زرشمعون کے کان اس کی آہ و زاری سے پک رہے تھے۔
وہ سب حویلی لوٹ آئے تھے… شنائیہ کی آہ وبکا حد سے زیادہ بڑھنے لگی تھی۔ وقفے قفے سے رونے بھی لگی تھی۔ حویلی میں جنگل کے آگ کی طرح خبر پھیل گئی تھی۔ کوئی سرزنش کررہا تھا کہ ایسے مقام پہ گئے ہی کیوں‘ کوئی نادر و نایاب ٹوٹکے اور دوا کی تفصیل بتا رہا تھا۔ چودھری حشمت بھی اپنے کمرے سے نکل آئے تھے اور شنائیہ نے درد بھری ویڈیو شوٹ کرکے چودھری بخت اور دیا کو سینڈ کردی تھی۔
خ…ز…/
ویڈیو کا ہی کمال تھا جو بے حد قلیل وقت میں دیا نے اسے اور چودھری بخت نے چودھری حشمت کو کال کی تھی۔ دیا فکر مند تھیں۔ اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھانے پہ زور دے رہی تھیں۔ تو چودھری بخت ابھی اور اسی وقت حویلی آنے کی بات کررہے تھے۔
’’بخت پریشان نا ہو‘ ہم شنائیہ کو شہر کے اسپتال میں بھیجنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘‘ چودھری حشمت ان کی عُجلت پہ سمجھانے لگے۔
’’گستاخی معاف بابا جان… برا نہ مانیے گا‘ اب تک شنائیہ کو شہر کے ہسپتال میں ہونا چاہیے تھا لیکن آپ بھی جانتے ہیں کہ شہر آتے آتے مزید کئی گھنٹے لگ جائیں گے اور میں نہیں جانتا اس وقت کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہے بھی یا نہیں… خود ڈاکٹر ہوں اس لیے جانتا ہوں کہ جلد سے جلد ٹریٹمنٹ نہ ہوا تو کیس مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ ذرا سی لاپروائی سے عمر بھر کی معذوری ہوسکتی ہے‘ پھر لڑکی ذات ہے… جس بُری طرح درد سے رو رہی ہے، میرا دل بیٹھا جا رہا ہے بابا جان… بہتر ہے آپ اجازت دیں کہ میں آکر شنائیہ کو لے جاؤں اور یہاں اپنے ہسپتال میں قابل ڈاکٹر سے فوری ٹریٹمنٹ کرواؤں۔‘‘
’’ٹھیک ہے بخت‘ تم باپ ہو پھر ڈاکٹر بھی تم بیٹی کے لیے ہم سے بہتر سوچ سکتے ہو۔‘‘ چودھری بخت بیٹی کی محبت میں اتنا کچھ بول گئے تھے جو چودھری حشمت کو بہت محسوس ہوا تھا۔ اسی لیے ان کے لہجے میں ہلکی سی خفگی نمایاں تھی۔
’’آپ کی رضا کے لیے میں پھر کبھی شنائیہ کو حویلی میں چھوڑ دوں گا۔‘‘ چودھری بخت کو بھی خفگی محسوس ہوگئی تھی۔
’’جیسی تمہاری مرضی… اس وقت تو شنائیہ کو بھیجنا ضروری ہے… تم آنے کی زحمت نہ کرو بلکہ ہم ہی شنائیہ کو بھیجنے کا انتظام کرتے ہیں۔‘‘
’’بابا جان بائی ایئر۔‘‘ چودھری بخت ہلکے سے منمنائے۔
’’بے فکر رہو… بچی بیٹھنے کے قابل نہ ہوئی تو اسٹریچر کا بندوبست بھی کردیں گے۔‘‘ چودھری حشمت کی یقین دہانی پہ وہ مطمئن ہوکر شنائیہ کو کال کرکے تسلی دینے لگے تھے۔
چودھری حشمت نے سمہان آفندی اور شاہ زرشمعون کو اپنے کمرے میں طلب کرلیا۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ہی ان کے سامنے مؤدب کھڑے تھے۔ سمہان آفندی متوقع کلاس کا منتظر تھا کہ وہی تفریح کی اجازت لینے کا گناہ گار تھا اور حادثہ ہوگیا۔
’’سمہان… پہلی فلائیٹ سے اپنی دی جان، شاہ اور شنائیہ کے ٹکٹ کروا دو کراچی کے لیے اور شاہ‘ تم جانے کی تیاری کرو۔‘‘ اس بیٹھے بٹھائے مہم پہ وہ اندر ہی اندر جھنجلایا تو بہت لیکن سر ہلا گیا۔ جب کہ سمہان آفندی سیل فون پر ایئر لائن کے دفتر سے رابطہ کرنے لگا تھا۔
’’دا جان… تین نہیں دو ٹکٹ دستیاب ہیں، ڈیڑھ گھنٹے بعد کی فلائیٹ میں جب کہ اگلی فلائیٹ کل کی ہے جس میں تینوں ٹکٹ ممکن ہیں۔‘‘ سمہان آفندی نے اطلاع دی۔
’’پھر اپنی دی جان کا رہنے دو۔ شاہ اور شنائیہ کے لیے بکنگ کرادو۔‘‘ چودھری حشمت نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا جواب دیا تو وہ سر ہلا کر پھر سے قدرے دور ہوکر بات کرنے لگا۔
’’تمہاری دی جان بھی ساتھ ہوتیں تو اچھا رہتا لیکن مرد کا ہونا بھی ضروری ہے۔ نکاح میں ہے اب تمہارے‘ تمہاری ذمہ داری ہے۔‘‘ چودھری حشمت خود کلامی کے انداز میں کہہ رہے تھے اور سر ہلاتے ہوئے اس کا ذہن دور سفر کرنے لگا تھا۔
’’بکنگ ہوگئی دا جان۔‘‘
’’جاؤ شاہ تیاری کرو۔‘‘ حکم پہ وہ خاموشی سے چلا گیا تھا۔
’’شنائیہ کے جانے سے پہلے صدقہ کے بکروں کا انتظام کرو سمہان، اپنی دی جان سے کہنا بچی کا ہاتھ لگوا کر اسے رُخصت کریں۔‘‘ کمرے میں موجود سمہان آفندی کو اگلا حکم سنایا گیا۔
’’بہتر دا جان۔‘‘ اور وہ بوتل کے جن کی طرح حکم بجا لانے کی ہامی بھر کے ان کے کمرے سے نکل گیا تھا۔
خ…ز…/
’’مل گیا انعام ہیرو بننے کا… لے لی کلاس داجان نے…‘‘ سیڑھیوں پر ہی اس سے مڈبھیڑ ہوگئی۔
’’ابھی اتنے بُرے دن نہیں آئے میرے… تمہاری دُعا سے۔‘‘ وہ مسکرایا تو وہ اس نے منہ بنایا۔
’’اتنی تیز رفتاری سے کہاں کی تیاری ہے؟‘‘ وہ نکلنے لگا تو وہ سوال کی بیڑی ڈال کر رکنے پہ مجبور کر گئی۔
’’برو اور بھابی بیگم کو کراچی چھوڑنے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے داجان کا حکم ہے کہ بھابی بیگم کا صدقہ دیا جائے… صدقہ کے بکرے لینے جارہا ہوں کہو تو تمہارے لیے بھی لے آؤں‘ ویسے بے کار ہی ہوگا جو خود بلا ہو اسے کیا ضرورت۔‘‘ لب دبا کے چھیڑا۔
’’بلا ہوں تو یہاں کیا کررہے ہو، بھاگ جاؤ کہیں تم بھی لپیٹے میں آکر بھینٹ نہ چڑھ جاؤ… حویلی والوں کو ویسے بھی تمہاری بُہت ضرورت ہے۔‘‘ وہ جل ہی تو گئی۔
’’تم بھی حویلی والوں میں سے ہو۔‘‘ اس نے یاد دلایا۔
’’جو شخص ایک آسان سوال کا آسان جواب نہ دے سکے، اس سے اور کیا امید ہوگی۔ تم میرے کسی کام کے نہیں۔‘‘ لہجہ کڑوا ہوا۔
’’ہر سوال کا جواب ضروری نہیں ہوتا… عمر پڑی ہے ان کے لیے، سارے جواب ملیں گے وہ بھی بہت خوب صورت پیرائے میں… بس صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے‘ جو ہے وہ ہمیشہ نہیں رہے گا‘ بالکل اسی طرح جو آنے والا ہے وہ آکر رہے گا‘ جانے تم خوش گمان کیوں نہیں ہو۔‘‘ اس نے بڑی اچھی طرح تسلی کردی۔ وہ کئی ثانیے اسے دیکھتی رہی‘ ہر بار ہی اس کی باتیں اسے اُلجھا دیتی تھیں۔
’’آسان لفظوں میں جواب نہیں دے سکتے تھے جو سوال کیا تھا؟‘‘ جواب تو خاک پلے نہیں پڑا تھا اس لیے الٹا اسے لتاڑا۔
’’جتنا تمہارا بی پی ہائی تھا کچھ بعید نہیں تھا کہ جواب پسند نہ آنے کی صورت میں تم پہاڑ سے چھلانگ لگا دیتیں اور اس وقت بھابی بیگم کے بجائے سب تمہارے لیے فکر مند ہوتے۔‘‘ اس نے پھر چھیڑا۔
’’سب کو چھوڑو… تم کتنے فکر مند ہوتے؟‘‘ دو قدم آگے آکر اس نے ابرو چڑھائے۔
’’ٹو مچ…‘‘ سنجیدگی سے کہا۔
وائے…؟‘‘
’’حویلی کا وفادار ہوں… کزن ہوں‘ بچپن کا ساتھ ہے… یہی ٹپیکل جواب ہیں‘ اب پتا نہیں تمہیں ان گھسے پٹے ڈائیلاگز میں کوئی دلچسپی ہے بھی یا نہیں؟‘‘ حد درجہ شریر انداز میں اس کے جملے اس سنجیدگی سے دُہرا گیا کہ وہ پہلے تو حیران رہ گئی پھر پیر پٹخنے پہ مجبور ہوگئی۔
’’دفع ہوجاؤ… ایسا نہ ہو صدقہ کے بکروں کی جگہ میں تمہیں ہی قربان کردوں۔‘‘ اس کے غرّانے پر وہ مسکراتا ہوا تیزی سے سیڑھیاں طے کر گیا تھا۔
خ…ز…/
’’جب حویلی میں رکنے کی بات ہوتی ہے کچھ نہ کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ تم چلی جاتی ہو… اب یہ…‘‘ شنائیہ کے جانے کا سُن کر وہ سب جو پہلے ہی اس کے لیے فکر مند تھیں اب ملول ہوگئیں۔
’’بیٹھ سکو گی جہاز میں؟‘‘ فائزہ متفکر تھیں۔ سب کی جان پہ بن آئی تھی۔
’’ویر ساتھ جا رہے ہیں ناں، تائی جان فکر کی بات ہی نہیں ہے… کہاں تو شنائیہ آپی کھڑی نہیں ہو پارہی تھیں اور کہاں ویر کو دیکھ کر چلنے لگیں… بے فکر رہیں۔‘‘ زرش کے اس منظر کو یاد کرکے سب کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھیر گئی۔ کھسیاہٹ تو شنائیہ کو بھی ہوئی لیکن اس نے درد والے تاثرات ہی قائم رکھے۔
یہ خبر کہ وہ واپس جارہی ہے، سن کر سارا درد، ورد بھول گئی لیکن پھر یاد آنے پہ کراہ کے رہ گئی۔ سب ملول تھے اور وہ جلد سے جلد کراچی پہنچنے کی دعا کررہی تھی۔ صدقہ کے بکرے آگئے تھے جنہیں ہاتھ لگوا کر غریبوں کو دے دیا گیا تھا۔
فائزہ نے شاہ زرشمعون کا بیگ تیار کردیا تھا۔ وہ کچھ چُپ چُپ تھا۔ سمہان انہیں ایئرپورٹ چھوڑنے جانا چاہ رہا تھا لیکن شاہ زرشمعون نے اس کی بے آرامی کے خیال سے منع کردیا۔ ڈرائیور انہیں ڈراپ کر آیا تھا اور ریڑھ کی ہڈی کی دہائی دیتی شنائیہ جب بنا سہارے کے جہاز کی سیڑھیاں رک رک کر چڑھنے لگی تو اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔
’’ربر کی ہڈی ہے شاید جو شہر جانے کا سُن کر ہی ٹھیک ہوگئی۔ سیدھے سادھے لوگوں کو خوب بیوقوف بنایا آپ نے۔‘‘ وہ خشمگیں نظروں سے گھور کے رہ گیا۔ انٹرنس پہ خوش آمدید کہنے کے لیے کھڑی ایئر ہوسٹس نے پیشہ وارانہ مسکراہٹ سے استقبال کرکے سیٹ کی نشان دہی کی تو وہ اپنی اپنی سیٹس کی طرف بڑھ گئے۔
’’اوہ… تو آپ جان گئے تھے… پھر کیسی لگی میری پرفارمنس… ورلڈ کلاس ناں؟‘‘ وہ اس کی طرف فاتح انداز سے دیکھنے لگی۔
’’جب سب نے تفریحی مقام کے لیے پہاڑی علاقے کا چُناؤ کیا تو میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے… پھر جھوٹ موٹ کا گرنا‘ ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹنے کا ڈراما کرنا‘ مما پپا کو رو رو کر ویڈیو شوٹ کرکے بھیجنا‘ ایکچولی میں یہ سب اتنا آسان نہیں تھا لیکن مجھے آپ کو ہرانا تھا سو ہرا دیا… کہا تھا ناں خود چھوڑنے جائیں گے‘ کیوں ہرا دیا ناں؟‘‘ اس کے چہرے کی چمک اور اعتماد کو شاہ زرشمعون بڑی باریک بینی سے دیکھ رہا تھا۔ نکاح سے پہلے وہ اسے کسی حد تک ڈری سہمی لگتی تھی لیکن نکاح کے بعد سے تو جیسے مزید بے خوف ہوگئی تھی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوال کررہی تھی۔ شاید ضد میں وہ بھی اسی کی طرح بے خوف ہوجاتی تھی۔
’’جان تو پہلی فرصت میں ہی گیا تھا کہ یہ سب حویلی سے بھاگنے اور مجھے نیچا دکھانے کے لیے ڈراما رچا گیا ہے۔ جانتا تھا آپ بے حس اور عقل سے عاری ہیں لیکن یہ احساس نہیں تھا کہ آپ مجھ سے ضد میں کسی کو بھی نہیں بخشیں گی… حویلی کے لوگوں کو تو چھوڑیں آپ نے تو اپنے ماں باپ تک کو جھوٹی خبر دیتے یہ نہ سوچا کہ ممکن ہے اتنی بڑی خبر سن کر انہیں کچھ ہوجائے خدانخواستہ کچھ بھی ہوسکتا تھا لیکن آپ نے صرف جیتنے کے لیے چال چلی… چاہتا تو سب کے سامنے سچ لاکر آپ کو شرمندہ کرا دیتا لیکن میں آپ کی طرح خود غرض نہیں‘ آپ کو شرمندہ کرنے کا مقصد تھا آپ کی تربیت کی آڑ میں چچا اور چچی جان پہ انگلی اُٹھانا نہیں اور میں اپنے بڑوں کی بہت عزت کرتا ہوں۔‘‘ ایک ملامت بھری نظر ڈال کر چہرے کے آگے میگزین تان گیا۔ گویا واضح اشارہ تھا، مزید کوئی بات ہی نہیں کرنی۔ اس کے مفصل جواب میں لعنت ملامت کے ساتھ اس کے لیے کئی سبق بھی تھے مگر وہ نخوت سے ہونہہ کرکے رہ گئی۔
’’ہارنے کے بعد انسان ایسی ہی تاویلوں سے خود کو بہلاتا ہے۔‘‘ بُڑبڑا کر وہ بھی چہرے کے آگے میگزین تان گئی۔ ادھر سے بھی جواباً اشارہ تھا کہ بات کرنے میں دلچسپی اسے بھی نہیں۔
’’بائی دا وے… جیت مبارک ہو۔‘‘ میگزین کے اس پار سے استہزائیہ لہجہ سنائی دیا۔
’’تھینکس۔‘‘ جواباً وہ بھی ٹکڑا توڑ انداز اپنا گئی۔
’’ہنی مون ٹرپ پہ ہیں میم؟‘‘ ہوائی میزبان کسی چیز کی ضرورت تو نہیں جیسی رسمی باتوں کے بعد اس کے ہاتھوں اور پیروں پہ رچی مہندی کو دیکھ کر خوش خلقی سے سوال کر گئی۔
’’نہیں۔‘‘ وہ جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔ چہرے کے آگے بھلے میگزین تھا لیکن اس پار لبوں کی طنزیہ مسکراہٹ وہ تصور کرسکتی تھی۔
’’نکاح ہوا ہے۔‘‘ ہولے سے اعتراف کر گئی۔
’’ہزبینڈ…؟‘‘ میزبان کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہی تھی۔ شاہ زرشمعون کی طرف اشارہ کر گئی تو وہ مرتا کیا نہ کرتا کے مترادف سر اثبات میں ہلا گئی۔
’’نائیس کپل… امید ہے جلد ہی ہنی مون کے لیے ہماری ہی ایئر لائن کا انتخاب کریں گی۔‘‘ میزبان تو خواہش کا اظہار کرتی چلی گئی اور پیچھے اسے جھنجلانے پہ مجبور کر گئی۔
’’میرے نام کی شہرت۔‘‘ اس کا ہنسی اڑاتا جملہ سن کر جی چاہنے لگا اسے دھکا دے دے یا خود باہر چھلانگ لگا دے۔
خ…ز…/
’’شنائیہ کے لیے ہم بُہت فکر مند ہیں… ہمارے اصرار پہ ہی بخت اسے چھوڑ کے گیا تھا اور بچی کے ساتھ حادثہ ہو گیا… دل لگا ہوا ہے اس کی طرف، اللہ خیر کی خبر ہی دے۔‘‘ کھانے کی میز پر چودھری حشمت کچھ ملول سے تھے، کھانے کا تو دل نہیں چاہ تھا لیکن انہیں ضروری بات کرنی تھی اس لیے بُلاوے پہ آگئے کہ سب کو پھر زحمت دینا اچھا عمل نہیں تھا، میز پر ہی سہولت سے بات ہوجاتی۔
’’اللہ بہتر کرے گا آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘ چودھری فیروز نے ڈھارس بندھائی۔
’’ان شاء اللہ… بھوک تو ہمیں نہیں ہے، نہ ہی موقع ایسا ہے کہ خوشی کی کوئی بات کی جائے لیکن جہانگیر نے کہا ہے کہ آپ سب سے بات کرکے ہم رات کو ہی اسے جواب دیں تو سوچا بات کرلی جائے سب سے۔‘‘
ایسی کیا بات تھی جس کے لیے چودھری جہانگیر زیادہ انتظار نہیں کرسکتے تھے۔ سب کے کان کھڑے ہوئے‘ عیشال نے نخوت سے سر جھٹکا اور بے توجہی سے سُنتی دلجمعی سے کوفتہ پلاؤ کھانے لگی۔
’’سب ٹھیک ہے بھائی کی طرف؟‘‘ چودھری اسفند نے تشویش سے سوال کیا۔ سمہان آفندی سکون سے کھانا کھا رہا تھا لیکن اس کی ساری حسیات بیدار تھیں، چُپ یوں تھا کہ بڑوں کے سامنے کم ہی بولتا تھا۔
’’ہاں سب ٹھیک ہے… جہانگیر نے ہمیشہ حویلی سے دوری کو چُنا، بیٹوں کی اس دوری نے جذباتی طور پر ہمیں بہت اکیلا بھی کردیا لیکن اب بخت نے خواہش ظاہر کی ہے کہ گاؤں میں ہاسپٹل بننے کے بعد وہ لوٹ آئے گا۔ جہانگیر کی طرف سے آج سے پہلے کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی لیکن آج اس نے جو بات رکھی اس سے ہمیں لگتا ہے کہ اس کی دوری بھی جلد قربت میں بدل جائے گی۔‘‘
’’ایسا ہوجائے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی۔‘‘ چودھری فیروز نے خوشی کا اظہار کیا تو چودھری اسفند بھی تائید کرنے لگے۔ اس طرح کے معاملوں میں لڑکیاں یوں بھی ڈمی بن کے بس کان کھلے رکھتی تھیں کہ بڑوں کے سامنے تو بولنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ زمرد بیگم، فائزہ اور فریال بھی خاموش سامع کا کردار نبھاتی تھیں۔
’’جہانگیر نے نرمین کی شادی گاؤں میں کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اس نے نرمین کے لیے ہمارے سمہان کا رشتہ مانگا ہے۔‘‘ پہلے جملے پر سب کو حیرت ہوئی تھی لیکن اس سے اگلے جملے نے تو سب کو ششدر ہی کردیا تھا۔
’’تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں اسفند؟‘‘ چودھری اسفند نے بے ساختہ فریال کی طرف دیکھا‘ سوال ہونے پہ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’ہمارے ہر فیصلے کا اختیار آپ کو حاصل ہے بابا جان… سمہان آپ کا فرماں بردار پوتا ہے‘ ہم میں سے کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔‘‘ چودھری اسفند عاجزی سے کہہ گئے تو چودھری حشمت کے بوڑھے چہرے پہ مان کی روشنی پھیل گئی۔
’’ٹھیک ہے پھر ہم جہانگیر کو خوش خبری سُنا دیتے ہیں… وہ پہلے ہی منگنی کی تیاری کا بتا چُکا ہے، ہم سے زیادہ جلدی تو اسے ہے۔‘‘ چودھری حشمت بے حد خوش نظر آرہے تھے شاید یہ سوچ کر کہ عزیز بیٹا اس رشتے کے جڑنے کے بعد ان کے قریب ہوجائے گا۔ زمرد بیگم نے اس فیصلے پہ ایک نظر ان پہ ڈالی لیکن ان کی خوشی محسوس کرکے پھر نظریں ہٹا لی تھیں۔
’’سمہان اور نرمین… نرمین اور سمہان…‘‘ بے توجہی سے سُنتی عیشال کو پہلے پہل سماعت کا دھوکا لگا لیکن جب چودھری حشمت نے دوبارہ کہا تو اس کے کان سائیں، سائیں کرنے لگے‘ چہرہ خطرناک حد تک پیلا پڑ گیا‘ خود سمہان آفندی پہ یہ خبر بجلی بن کے گری تھی۔
پلیٹ پہ جھکا سر مزید جھک گیا تھا۔ ضبط کی کوشش میں ہاتھ کی رگیں‘ مُٹھی سختی سے بند ہونے کی صورت میں مزید اُبھر گئی تھیں۔ نرمین کی بے حجابانہ گفتگو کا تانا بانا اس پہ تو پہلے ہی کھل چکا تھا۔ وہ کئی ثانیے تک سر اُوپر نہیں اُٹھا سکا لیکن اسے خبر تھی، دو آنکھیں اس پہ سوالیہ انداز میں اُٹھی ہوں گیں اگر جو وہ اس پل نگاہ اُٹھا کر ان کی سمت دیکھتا تو ان آنکھوں کی ویرانی، دکھ، گلہ اسے کہیں کا نہ چھوڑتا… ایک لمحے کو آنکھیں بند کرکے اس نے اس فیصلے کی اذیت کو پوری شدت سے محسوس کیا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close