Hijaab Dec-18

عشق دی بازی

ریحانہ آفتاب

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

پیسے چوری ہوجانے پر ماورا منزہ کو تسلی دیتی ہے جبکہ انوشا شادی کی تاریخ آگے بڑھا دینے کا کہتی منزہ کی پریشانی میں اضافہ کرجاتی ہے ۔منزہ اپنی طبیعت کے باعث اس کی شادی جلدی کرنا چاہتی ہے۔
شائیہ چوہدری کو حویلی کے رسم و رواج کے مطابق نکاح کے لیے تیار کیا جاتا ہے دوسری طرف عیشال اس منظر سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ شائیہ کا مذاق بھی اڑاتی ہے شاہ زر شمعون بھی اس کی تیاری کو دیکھ کر استہزائیہ مسکراتا ہے۔
منزہ پہلے ہی بیمار ہوتی ہے اب کھانا پینا بھی چھوڑ دیتی ہے۔ ماورا اور انوشا دونوں ہی پریشان ہوجاتی ہیں۔ ماورا سے یونیورسٹی میں چوہدری جہانگیر ملنے آتے ہیں اور اسے ایشان جاہ سے دور رہنے کا کہتے ہیں اور اسے دوسرے ملک جا کر تعلیم مکمل کرنے کی پیشکش کرتے ہیں جس پر ماورا ایشان جاہ کو تعلیمی میدان میں ہرانے کی بات کرتی انہیں مزید غصہ دلا جاتی ہے۔
چوہدری حشمت‘ زمرد بیگم سے عیشال جہانگیر کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ اس کی شادی اب وہ فوراً کرنا چاہتے ہیں۔ زمرد بیگم سہمان کا نام لیتی انہیں سوچ میں ڈال دیتی ہیں۔ ان کے خیال میں یہ رشتہ مناسب تھا لیکن چوہدری حشمت سہمان کے مزاج کو دیکھتے ہوئے اس رشتے سے انکار کردیتے ہیں۔ زمرد بیگم انہیں فوری کسی فیصلے سے روکتی دونوں کو کچھ وقت دینے کا کہتی ہیں جس پر چوہدری حشمت خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
منزہ پریشان ہوتی شاہد صاحب (ہمسائے) سے مدد مانگنے پہنچ جاتی ہے۔ وہ نیک سیرت انسان ان کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی بیگم روک دیتی ہیں اور منزہ ان کی باتیں سنتی ہوئی مایوس ہو کر واپس آجاتی ہیں۔ ماورا یونیوسٹی سے واپس آتی ہے تو ماں (منزہ) کو پریشان دیکھ کر فکر مند ہوجاتی ہے۔
چوہدری جہانگیر اپنی فیملی کے ساتھ حویلی آتے ہیں۔ صہبا سب سے خوش اخلاقی سے ملتی ہے اور اپنی بیٹی نرمین سے بھی سب کا تعارف کراتی ہیں تب ہی عیشال کو دیکھ کر وہ سب کی موجودگی کا خیال کرتی‘ عیشال سے بھی محبت سے ملتی ہیں۔
ماورا یحییٰ انوشا کو چوہدری جہانگیر کا یونیورسٹی آنا اور اسے دھمکانا بتا کر حیران کرجاتی ہے۔ منزہ ان دونوں کی باتیں سن لیتی ہے اور ماورا کو یونیورسٹی جانے سے منع کردیتی ہے۔
نکاح کی تقریب میں سارا گائوں موجود تھا۔ عیشال جہانگیر تیار ہو کر کمرے سے نکلتی ہے تو حویلی میں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ وہ غصہ سے اپنی چوڑیاں اتار کر زمین پر پھینک دیتی ہے تب ہی سہمان آفندی آتا ہے اور اسے چلنے کا کہتا ہے لیکن وہ جانے سے انکار کر دیتی ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

سمہان آفندی نے برق رفتاری سے اپنی طرف کا شیشہ اوپر چڑھایا جو اس نے فائر کے لیے نیچے کیا تھا۔ ساتھ ہی بے قراری سے اس کے کندھے کو جھنجھوڑنے لگا۔
’’عیشال…‘‘ اس گھڑی دشمن سے بھری جیب سے شعلے برساتے لوگ اور ان کا تعاقب کرتے حویلی کے نشانے باز اسے کچھ یاد نہیں رہا تھا۔ وہ بے پناہ وحشت آنکھوں میں بھرے نادیدہ گولی کو ڈھونڈ رہا تھا‘ گولی کی آواز کان کے بے حد قریب سے گزری تھی۔ تو کیا عیشال…؟
اس سے آگے اس کے اعصاب جواب دے گئے تھے۔
’’عیشال…!‘‘ پسٹل والے ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالے‘ دوسرا پسٹل ڈیش بورڈ پر پھینک کر وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔ اس کے وجود پر بکھرے اس کے کرلی بالوں نے چہرہ ڈپانپ رکھا تھا۔ وہ اس کا رخسار تھپتھپانے کے ساتھ آواز دینے لگا۔ تب ہی اس نے مندی مندی آنکھیں کھول دیں۔
’’تم ٹھیک ہو…؟‘‘ اس نے بے قراری سے پوچھا۔ اسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر سمہان کو کسی قدر تقویت پہنچی۔
’’مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے سمہان…‘‘ وہ ڈرے سہمے انداز میں بولی۔ گاڑی تیزی سے ٹرن کرنے پر اس کا سر بری طرح ڈیش بورڈ سے ٹکرایا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بے دم ہو گئی تھی۔ فائر کی آواز دل دہلا رہی تھی۔ عیشال کی موجودگی میں شیشہ نیچے کرنے کو وہ اپنی سب سے بڑی بے وقوفی گردان رہا تھا گو کہ گاڑی بلٹ پروف تھی۔ صرف معمولی سا شیشہ نیچے تھا لیکن گولی گزرنے کے لیے جگہ ہی کتنی چاہیے ہوتی ہے؟ دشمن نے جاتے جاتے نشانہ بڑا تاک کے لیا تھا لیکن اس کی ماہرانہ ڈرائیونگ بے حد کام آئی تھی۔ اگر جو وہ چوک جاتا اور عیشال کو کچھ ہوجاتا تو وہ خود کو کبھی معاف نہیں کر پاتا۔
’’کچھ نہیں ہوتا…!‘‘ اسے محفوظ دیکھ کر سکون کی سانس لیتے اس نے گاڑی کی رفتار ایک دم سے بڑھا دی تھی۔
’’کون تھے یہ لوگ… ہم پر فائر کیوں کر ہے تھے…؟‘‘ اب گولیوں کی گھن گرج بند ہوچکی تھی۔ میدان خالی دیکھ کر وہ حواس باختہ سی سوال کررہی تھی۔ بے حد اعصاب شکن صورت حال اچانک سے وقوع پذیر ہوگئی تھی گو کہ چودھری گھرانے سے تعلق رکھنے اور حویلی میں رہنے کی وجہ سے گولیوں کی گھن گرج اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی مگر دشمن اس طرح اچانک سامنے آکر وار کرے آج سے پہلے اس صورت حال کا سامنا نہیں ہوا تھا… تب ہی تو جب کبھی وہ سفر پر ہوتا تو وہ سولی پر لٹکی رہتی تھی۔ حویلی والوں نے کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا تھا مگر یہی اچھائی ان کے لیے دشمن پیدا کر گئی تھی۔ کچھ حاسدین بھی تھے جو حویلی کی اونچی عمارت کے دبدبہ اور چودھری حشمت سے خائف اولاد کے نام و شہرت انہیں نقصان پہنچانے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔
غیر معمولی نقل و حرکت پر وہ پہلے ہی چوکس تھا۔ حویلی کی پہلی خوشی بڑے پیمانے پر منعقد کی گئی تھی جس میں پورا گائوں امڈ آیا تھا۔ دور دراز سے مہمان مدعو تھے ایسے میں وہ کسی کو تنائو کا شکار نہیں دیکھ سکتا تھا۔ خصوصاً شاہ زرشمعون کو… اس کی زندگی کا اہم موڑ تھا اور اس کی اپنے طور پر کی گئی کارکردگی کتنی پُر اثر تھی یہ دشمن کے دم دبا کر بھاگنے سے ثابت ہوگیا تھا۔ وہ بے خبری میں حویلی کی بنیادوں کو ہلانے کے ارادے سے آئے تھے لیکن انہیں منہ کی کھانی پڑی تھی۔
ان کی جیب میں بارود سے بھرا بیگ بھی تھا۔ یقینا وہ حویلی کو نقصان پہنچانے آئے تھے‘ لیکن وہی جیپ ان سب کا مقبرہ نا بن جائے اس لیے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔
اس کی نظریں تیزی سے ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔
’’یا اللہ… اگر جو ابھی میں حویلی میں ہوتی۔‘‘ عیشال نے یہ سوچ کر جھرجھری لی۔ اگر جو سمہان آفندی زبردستی نا کرتا… اسے چھوڑ کر چلا جاتا اور پیچھے یہ صورت حال ہوجاتی تو…‘‘ وہ سوچ کر ہی دہل گئی۔
’’اسی لیے کہتا ہوں‘ بہادری کا مظاہرہ غیر ضروری جگہوں پر دکھا کر اپنی انرجی مت ضائع کیا کرو۔‘‘ ناصحانہ انداز میں کہتے وہ بلیو ٹوتھ پر مصروف ہوگیا۔ عیشال اختلاف کیے بغیر اس کی بات توجہ سے سننے لگی۔
’’کیسے غائب ہوگئی جیپ…؟ تم لوگ سرچ کرو… وہ دور نہیں گئے ہوں گے… میں وہیں آرہا ہوں۔‘‘ وہ جھنجھلائے انداز میں مزید رفتار بڑھا گیا۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ وہ اسے تشویش سے دیکھنے لگی۔
’’وہاں جاکر کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے… وہاں پہلے ہی اتنی فائرنگ ہورہی ہے کہ سب اسے بھی خوشی کا حصہ سمجھ رہے ہیں‘ ورنہ اب تک کسی نا کسی کی کال آجاتی… اچھا ہی ہے جو وہ سب بے خبر ہیں… تم بھی نارمل رہنا‘ کسی کو کچھ نہیں بتانا۔‘‘ اس نے سمجھایا۔
’’تم کہاں جا رہے ہو… جیپ کے پیچھے…؟ بالکل نہیں… تم کہیں نہیں جائو گے۔‘‘ پندال قریب آنے پر وہ اس کا ارادہ جانتے ضدی لہجے میں کہنے لگی۔
’’بچوں جیسی باتیں مت کرو عیشال… جو کہا ہے وہ کرو۔‘‘ دبے لہجے میں چلایا۔ گاڑی پنڈال کے باہر رک گئی تھی۔
’’تم لاکھ چیخو‘ چلائو لیکن تمہیں جانے نہیں دوں گی۔ جائو گے تو میں بھی ساتھ چلوں گی۔‘‘ وہ سیٹ پر مزید پھیل کے بیٹھ گئی۔ سجے سنورے چہرے پر بد حواسی تھی۔ بال بھی بکھر گئے تھے لیکن اس قسم کی صورت حال کو اتنے قریب سے دیکھ کر بھی وہ چاق و چوبند اپنے مضبوط اعصاب کا ثبوت دے رہی تھی۔
’’تمہاری موجودگی سے پہلے ہی جیپ ہاتھ سے نکل گئی… اترو اب…‘‘ اس نے نرم آواز لیکن سخت لہجے میں کہا۔
’’نہیں اتروں گی… جتنا برا بھلا کہنا ہے کہ لو… تمہیں دشمن کے پیچھے نہیں جانے دے سکتی… اگر تمہیں کچھ ہوگیا… کیا کروں گی میں…؟ تم ایک ہی ہو میرے لیے اس دنیا میں…‘‘ ضدی لہجے میں وہ جس بے ساختگی سے کہہ گئی… سمہان آفندی کئی لمحے تک ساکت رہ گیا تھا۔
بلیو ٹوتھ میں ہلچل ہوئی تو اس پر نظریں جمائے وہ کال کی طرف متوجہ ہوا۔
’’اچھی طرح دیکھ لیا…؟ ٹھیک ہے واپس آجائو… حویلی اور پنڈال کی سیکیورٹی مزید بڑھا کر سب کو الرٹ رہنے کا کہو… گائوں کے داخلی اور خارجی راستے پر بھی نظر رکھو… کوئی غیر متعلقہ گاڑی یا لوگ نظر آئیں تو مجھے رپورٹ کرو۔‘‘ غالباً جیپ کے پیچھے جانے والے گارڈ اسے بتا رہا تھا‘ جنہیں سن کر وہ انہیں ہدایت دینے لگا۔
’’چلو اب اترو… نہیں جارہا میں کہیں… تمہارے ساتھ اندر چل رہا ہوں۔‘‘ اگنیشن سے چابی نکالتے اسے اترنے کا کہا اور اس کی بے اعتبار نگاہوں کو دیکھ کر خود بھی اتر آیا۔ اسے اترتے دیکھ کر عیشال جہانگیر کو سکون ہوا تو وہ بھی گاڑی سے اتر گئی۔ پنڈال کے باہر سیکورٹی پر مامور لوگوں کو ہدایت کرتے وہ اندر کی طرف بڑھ گیا۔
وہ پنڈال کے اندر داخل ہوئی تو کئی نظریں دونوں کا طواف کرنے لگیں۔
’’جو کہا ہے اس پر عمل کرنا… کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں‘ خوشی کے موقع پر بلاوجہ سب پریشان ہوں گے۔‘‘ ارد گرد لوگوں پہ مسکراتی نگاہ ڈالتے سر کے اشارے سے سلام کرتے وہ دبے لفظوں میں ساتھ چلتی عیشال کو پٹی پڑھا رہا تھا۔ آگے جاکر پنڈال کو دو حصوں میں منقسم کردیا گیا تھا۔ پردے کا خیال رکھ کے زنانہ مردانہ حصہ الگ الگ تھا۔
’’ٹھیک ہے نہیں کہوں گی کسی سے لیکن اگر تم ان کے پیچھے گئے میرے منع کرنے کے باوجود تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے…‘‘ اس نے سمہان کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ایک ایک لفظ جتا کے ادا کیا۔ آتش بازی سے آسمان رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔
سمہان آفندی کئی لمحے کمان کی طرح تنی ابرو اور سرمی آنکھوں کے تیور میں ہی الجھ گیا۔ تادیبی نظروں سے دیکھتی وہ آگے بڑھ کر عورتوں کے پورشن میں چلی گئی تھی۔ سمہان آفندی اس کے لہراتے آنچل اور پشت پہ بکھرے بالوں کو دیکھتا رہ گیا۔
ایک اور ہستی تھی جس نے ان دونوں کی آمد اور انہیں باتیں کرتا بڑی گہری نظروںسے دیکھا تھا اور اب اس کی نظروں کا مرکز سمہان آفندی بن گیا تھا۔
’’او ہو… یہ تو ضرورت سے کچھ زیادہ ہی ہینڈسم ہے… جانے پہلے نوٹس کیوں نہیں لیا میں نے…‘‘

دلہن بنی شنائیہ اس وقت زندگی کے سب سے مشکل وقت سے گزر رہی تھی۔ پنڈال بھانت بھانت کی عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ ’’دلہن‘‘ دیکھنے کی کوشش میں سب اسٹیج کے گرد مجمع کی صورت امڈ آئی تھیں۔
لائیٹ پنک کلر کا بیش قیمتی لہنگا سوٹ‘ جیولری پہنے‘ بیوٹیشن سے میک اپ کروائے وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی۔ اس زبردستی نکاح پر وہ پہلے ہی جھنجھلائی ہوئی تھی کہ پنڈال آکر اس کا پتا پانی ہوگیا تھا۔
پنڈال میں قدم دھرتے ہی اس کا اور اس سے ذرا فاصلے پر شاہ زرشمعون کا جس طرح گولیوں کی گھن گرج سے استقبال ہوا اس پہ وہ نازک دل حسینہ اچھل کے ماہم سے تقریباً جڑ ہی گئی تھی۔
’’کیا ہوا… دشمن ملک سے کوئی جنگ چھڑ گئی کیا…؟‘‘ ساری نا پسندیدگی‘ جھنجھلاہٹ بھول کر خوف کے مارے ماہم سے سرگوشی کی۔
’’ارے نہیں… یہ تو آپ اور ویرے شاہ کے نکاح کی خوشی میں ہیں… چودھریوں کی تو شان ہی یہی ہے…‘‘ گو کہ ماہم بھی اس کی طرح شہری ماحول میں پلی بڑھی تھی‘ لیکن اسے شنائیہ چودھری سے زیادہ معلومات تھیں۔
’’استغفراللہ… اس سے تو بہتر تھا‘ ڈائریکٹ توپ ہی فائر کردیتے… خیر سے حویلی کے عظیم الشان شہنشاہ کا نکاح ہے۔‘‘ وہ جل ہی تو گئی۔ ماہم اس کی ہڑبڑاہٹ پہ ہنس دی۔
اسے اسٹیج پر بٹھادیا گیا تھا۔ عورتیں مجمع لگائے اسے دیکھنے کے شوق میں موجود تھیں۔ گھونگھٹ کو ذرا اوپر کرکے شاذمہ نے سر پر سیٹ کردیا تھا تاکہ سب آرام سے دلہن کا چہرہ دیکھ سکیں۔ لیکن برا ہو اس آتشی شوق کا ہر فائر پہ اس کا دل دہل جاتا اور گائوں کی سیدھی سادھی عورتیں اس کی نازک مزاجی پر کھی کھی کھی کرتی ’’شیرنی دلہن‘‘ سے محفوظ ہوتی رہیں۔
’’مما… اللہ کا واسطہ‘ اس جنگ وجدل کے ماحول کو بدلوا دیں ورنہ مجھے ہارٹ اٹیک ہوجائے گا۔‘‘ دیا قریب آئیں تو وہ روہانسی ہوکر منہ بسور گئی۔ دیا اپنی پریوں جیسی نازک مزاج بیٹی کو اچھی طرح جانتی تھیں۔ اس کے چہرے پر پھیلا خوف انہیں مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
’’لو جی… گولیوں کی آواز سے یہ اتنی ہی خائف اور ویرے چلاتا پہلے ہے‘ سوچتا بعد میں ہے۔‘‘ زرش نے بھی اس کا جملہ سن لیا تھا۔ شاہ زرشمعون کے ’’خواص‘‘ سن کر اس کا منہ ہی کڑوا ہوگیا۔
’’یہ جنگلی وحشی ہی رہ گیا تھا میرے نصیب میں۔‘‘ وہ دل مسوس کر رہ گئی۔
فائزہ کسی دور پرے کی خاتون کے ساتھ اسٹیج پر چڑھیں تو اسے بھی منہ سیدھا کرنا پڑا۔
’’ہائے میں واری… بہو تو بڑی سوہنی ہے فائزہ… بھئی آئی تو میں منگنی کی تیاری کرکے تھی لیکن بعد میں خبر ہوئی کہ نکاح بھی ہے… جو بھی ہے… بہت مبارک ہو… بہو میں تمہاری چچی ساس ہوں۔‘‘ آنے والی فربہی مائل خاتون فائزہ کو مخاطب کرکے آخر میں شنائیہ سے اپنا تعارف کروانے لگیں۔ جبکہ شنائیہ خاتون کے ہاتھ میں موجود نوٹوں والے ہار کو آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگی۔
’’یہ تو گائے بھینسوں کو پہناتے ہیں ناں…؟‘‘ وہ اپنی سوچ کے پنچھی اڑا رہی تھی اور اگلے ہی لمحے مرنے والی حالت ہوگئی… جب خاتون نے وہ نوٹوں والا ہار اس کے گلے میں ڈال کر دیسی گھی کا لڈو منہ میں تقریباً ٹھونس ہی دیا تھا۔
پھر تو جیسے کوئی بند ٹوٹ کر سب کی راہیں کھول گیا۔ عورتیں آکر اس کے منہ میں لڈو ٹھونستی رہیں اور نکاح کی تقریب کو یادگار بناتی رہیں۔ اسے ابکائی آنے لگی‘ گلے میں کوئی پھندا سا لگتا محسوس ہوا تو ہاتھ بے ساختہ گردن کو چھو گیا۔ اس کی نظر اپنے قدموں میں بیٹھے چند سالہ بچے پر پڑی وہ ہار میں سے پچاس‘ پچاس کے نوٹ نوچ کر اپنی جیب گرم کرنے کے چکروں میں اس کے گلے کا پھندا بنا رہا تھا۔ اس کے دیکھنے پر چوری پکڑے جانے پر بچے نے آنکھ مار کر معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے معصوم سا منہ بنا لیا تھا۔
اس گھڑی اسے اپنی حالت کی قربانی کے جانور سے کم نہیں لگ رہی تھی۔

اک خواب سہانہ ٹوٹ گیا
امید گئی ارمان گئے
اے دنیا ہم سے چال نا چل
ہم ساری حقیقت جان گئے

ایم بی اے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے کسی اعلا عہدے پر فائز ہونا اس کا خواب تھا۔ بچپن سے روکھی‘ پھیکی کھاکر بد رنگ جوڑے پہن کر بھی اس کے خواب نئے تھے۔ وہ سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوئی تھی‘ نا ہی سنڈریلا کی طرح اسے کسی شہزادے کا انتظار تھا۔ جو اسے شہزادی بنا کر اپنے محل میں لے جاتا اور نہ ہی اس نے کسی خوش گمانی کو جگہ دی گئی تھی‘ نا خوش فہمی کو اجازت۔خود داری کے سنگلاخ پہاڑوں نے ہمیشہ اپنی راہ پر لگائے رکھا تھا۔ سہل اور چور راہوں کی کھوج میں نا منزہ نے کبھی لگنے دیا نہ لگی۔
غیر معمولی تعلیمی ریکارڈ امین تھا کہ وہ اپنی منزل کو پانے کے لیے کتنا جی مار رہی تھی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا‘ لیکن ایم بی اے میں داخلے کے بعد سے جانے کیوں مشکلات کھڑی ہونے لگی تھیں۔
وہ جسے لگتا تھا اس کی آنکھیں صرف خواب دیکھنے کے لیے نہیں بنیں‘ وہ منزل کا سراغ پالیں گی‘ وہی آنکھیں منزل کے پہلے پڑائو پہ ہی دھندلانے لگی تھیں۔ ایشان جاہ نامی جن اس کے خوابوں کو دبوچ گیا تھا اور اب منزہ نے یونیورسٹی جانے پہ پابندی لگا دی تھی۔ ماں سے سوال جواب کی عادت نہیں تھی۔ ان کا حکم حرف آخر تھا لیکن اپنے خوابوں پر قدغن لگانے والی ہستی کو وہ کبھی معاف نہیں کرسکتی تھی… اس کی اونچی اڑان کو ایشان جاہ کی مقابلہ بازی نگل گئی تھی اور وہ بے پر کی ہوکر پھڑپھڑا رہی تھی۔ خاموشی سے لیٹی وہ چھت کو دیکھتی غیر محسوس طریقے سے آنکھ کے کناروں کو رگڑ رہی تھی۔
’’اب کیا کرو گی… اماں نے تو پابندی لگادی‘ یونیورسٹی جانے پر…؟‘‘ انوشا کو بھی اس فیصلے سے بہت دکھ ہوا تھا۔ لیکن وہ سمجھتی تھی کہ ان کی ماں کے لیے بیٹیوں کی ذمہ داری کتنی بڑی ہے۔ جب بہن ہوکر انوشا کو ماورا کے لیے دھڑکا لگ گیا تھا تو منزہ تو ماں تھیں… حیثیت و رتبے میں بے مول تھیں۔ پہلے ایشان جاہ اور اب چودھری جہانگیر کا سامنے آکر وارن کرنا‘ اکیلی تنہا عورتوں کے لیے بہت بڑی بات تھی۔ وہ ان جیسوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھیں۔ اپنے قدم پیچھے ہی ہٹا سکتی تھیں۔ منزہ نے یہی کیا تھا۔ لیکن ماورا کو یہ پابندی اپنی ہار لگ رہی تھی۔ زور و جبر کے آگے ہتھیار ڈال کر پسپائی اختیار کرنے پر دکھ اور غصہ اب آنسو کی صورت اختیار کر گئے تھے۔ پہلے تو شاید وہ منزہ کو راضی کرنے کے لیے ضد بھی کرلیتی‘ لیکن ان کی طبیعت کے پیش نظر اس نے سوال بھی نہیں کیا۔ برسوں سے دیکھا خواب دل کی دہلیز پر ایڑیاں رگڑ رہا تھا۔
’’کرنا کیا ہے… سوچ رہی ہوں‘ تمہاری طرح اسکول ٹیچر بن جائوں… بچوں کی ڈائری لکھ لکھ کر کاپیاں چیک کرکے سر کھپاتی رہوں تاکہ یہ ایم بی اے کا خناس تو ذہن سے نکلے…‘‘ مجروح ہنسی کے ساتھ دبی آواز میں گویا ہوئی تو انوشا کو بھی افسوس ہوا۔
’’تمہارے اسکول میں کوئی ویکنسی ہے تو پرنسپل سے پوچھ کے مجھے کال کردینا۔ ڈیمو دینے آجائوں گی۔‘‘ وہ خود کو نارمل ظاہرکرتے کہہ رہی تھی مگر انوشا اس کا درد سمجھتی تھی۔
’’ابھی رہنے دو‘ چند روز بعد اماں کو منانے کی کوشش کریں گے‘ تب تک ان کا غصہ بھی کم ہوجائے گا۔‘‘ انوشا نے دلاسہ دیا۔
’’ان کا غصہ بھلے کم ہوجائے گا۔ لیکن جب تک اس روئے زمین پر ایشان جاہ اور چودھری جہانگیر جیسے زور آور لوگ ہیں‘ ان کے اندیشے ختم نہیں ہوں گے۔‘‘ ایشان جاہ اور چودھری جہانگیر کا ذکر کرتے اس کے لہجے میں دنیا جہاں کی حقارت امڈ آئی تھی۔
’’دو جوان بیٹیوں کی غریب ماں میں دم ہی کتنا ہوتا ہے جو میں بھی انہیں آزماتی رہوں… ایم بی اے کی ڈگری کے بغیر بھی تو لوگ جی رہے ہیں… میں بھی جی لوں گی۔‘‘ انوشا سے زیادہ وہ خود کو سمجھا رہی تھی۔ اپنے خوابوں کو تھپک تھپک کے سلا رہی تھی۔ ان کی سرگوشیاں منزہ کی آمد پر ایک دم سے بند ہوگئی تھیں لیکن آنکھوں کے گوشے نم ہی تھے۔

عورتوں کے پورشن میں مردوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ تب ہی سمہان آفندی اسے باہر آنے کا ٹیکسٹ کر گیا۔
’’کیا ہوا… سب خیر تو ہے…؟‘‘ اس کے بلاوے پر عیشال جہانگیر تیزی سے دونوں پورشن کے بیچ بنے حصے کی طرف آگئی تھی۔ جہاں سمہان آفندی پہلے ہی موجود تھا۔ وہ اب بھی فون پر مصروف پل پل کی رپورٹ لے رہا تھا۔ اسے بدحواس دیکھ کر شہادت کی انگلی کان سے لگے بلیو ٹوتھ سے ہٹا کر ایک پل کو مسکرایا۔
’’کچھ نہیں ہوا… چھوٹے دل کی لڑکی۔ دا جان نے پھولوں کے زیور بھیجے ہیں… دی جان تک پہنچادو… حویلی کی تمام خواتین کے لیے ہیں۔‘‘ باسکٹ اٹھا کر اسے تھمائی۔ جس میں موتیا اور گلاب کے زیور موجود تھے۔
’’ماشاء اللہ… دا جان نے کیا حس لطیف پایا ہے جو اس عمر میں بھی ان نزاکتوں کا خیال ہے۔ میرے خیال میں حویلی کی نوجوان نسل کو ان سے ٹیوشن لینے کی ضرورت ہے۔‘‘ باسکٹ کو پُر شوق نظروں سے دیکھتی وہ جانے کس جذبے کے زیر اثر منہ بسور کے کہہ گئی۔
’’کہنا کیا چاہ رہی ہو… میں سمجھا نہیں۔‘‘ وہ بغور اسے دیکھتا پوچھنے لگا۔
’’تم جیسے شعلے اگلنے والوں کی سمجھ میں پھولوں کی بات آبھی نہیں سکتی۔‘‘ وہ چڑگئی۔
’’پھر کوشش کیوں کرتی ہو…؟‘‘ اس کا شرارتی انداز ہوا۔
اس وقت وہ کسی اعصابی تنائو کا شکار تھا۔ عیشال بہت اچھی طرح آگاہ تھی۔ ہزاروں لوگ یہاں موجود تھے اور وہ سب کی سلامتی‘ خوشی کے لیے چوکس اکیلا بھاگ دوڑ کررہا تھا۔ کسی کو بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن مزاج میں شگفتگی برقرار تھی۔
’’سمجھانا میرا فرض ہے… ناسمجھنا تمہاری نالائقی…!‘‘
’’کوشش جاری رکھو… شاید کبھی لائق اسٹوڈنٹ میں میرا بھی نام آجائے…‘‘
’’تم جیسوں کے لیے اردو لغت میں بڑا پر اثر محاورہ ہے… ان تلوں میں تیل نہیں…‘‘ وہ جل کے بول گئی اور اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
’’اور تم نے بھی سنا نہیں… بڑا پُر اثر جملہ ہے… ناامیدی کفر ہے۔‘‘ اس پر ایک بھرپور نظر ڈال کر وہ مسکراتے ہوئے پلٹ گیا۔
اس کی چوڑی پشت کو نظروں میں رکھتے وہ زنانہ حصے کی طرف آگئی تھی۔

’’نکاح مبارک۔‘‘ دعا ختم ہونے کے بعد ایک شور سا اٹھا تو شاہ زرشمعون نے ایک لمبی سانس لی۔
بلیک شلوار سوٹ اور بلیک واسکٹ میں معمول سے مختلف انداز لیے وہ خاصا وجیہہ لگ رہا تھا۔
اس نازک حسینہ سے نکاح کون سا آسان تھا۔ جس کے چڑیا جیسے دل کی خبر اس تک بھی آچکی تھی کہ فائرنگ کا سلسلہ رکوا دیا جائے۔ خوف زدہ ہورہی ہے۔ لامحالہ اسے بند کرنے کا حکم دینا پڑا کہ اگر جو وہ بدحواس ہوتی تو قبول ہے کون کہتا۔
’’نکاح مبارک۔‘‘ سن کر بڑی ٹھنڈی آہ بھری۔ ’’برو… خیر تو ہے…؟‘‘ نکاح کے وقت وہ پاس ہی کھڑا تھا۔ اس کی حرکت ملاحظہ کرکے چھیڑنے سے باز نہیں آیا۔
’’کھا کر پچھتانے والوں میں شمار ہوگیا ہوں… آہ تو ٹھنڈی ہی نکلے گی ناں…‘‘ جواباً وہ بھی شوخی سے گویا ہوا تو دونوں ہی ہنس دیے۔
’’مبارک ہو۔‘‘ وہ گلے لگ کر مبارک باد دے گیا۔
’’جزاک اللہ… ارینجمنٹ بڑی اعلی کی ہے تو نے۔‘‘ وہ جب سے کاموں میں مصروف تھا۔ شاہ زرشمعون کو اس سے بات کرنے کا موقع بھی ابھی ملا تھا۔
’’بے فکر رہو برو… رخصتی پر مزید اچھا ارینج کروں گا… بہت مزے دار تھیم ہے میرے پاس۔‘‘ وہ پُرجوش تھا۔
’’ایک آدھ تھیم میری اور اپنی شادی کے لیے بھی بچا لینا‘ میرے بھائی۔‘‘ ایشان جاہ بھی سمہان آفندی کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔ اس نے کہا تو دونوں کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’تیری تو خیر ہے ایشان… میں اور سمہان دیکھ لیں گے… ہاں اس کے لیے فکر مند ہوں کہ ہمیں ارینج کرنے کا موقع بھی دے گا یا نہیں…‘‘
’’ہیں… کیوں سمہان… یہ میں کیا سن رہا ہوں… کہیں بھاگنے‘ واگنے کا پلان تو نہیں میرے بھائی…؟‘‘ شاہ زرشمعون کا معنی خیز جملہ ایشان جاہ کو بھی شوخی پہ مجبور کر گیا۔
’’توبہ ہے برو… ایسا کون سا میں نے کسی مہارانی کو پٹا رکھا ہے‘ جو مشکوک ہورہے ہو۔‘‘ وہ جھینپ کے بولا۔
’’یہ تو‘ تو اپنے آپ سے پوچھ۔‘‘ شاہ زرشمعون کا لہجہ ہنوز معنی خیز تھا۔ اپنے جذبوں کو سات پردوں میں چھپا کر رکھنے والے سمہان آفندی کو یہ معنی خیزی بھی الارم جیسی لگی تھی۔

ایشان جاہ کا سیل فون کافی دیر سے وائبریٹ کررہا تھا۔ وہ اس شورو ہنگامے سے ذرا باہر نکل آیا تھا۔
’’فری نہیں ہوا اب تک؟‘‘ کال سعید کی تھی۔ بیک گرائونڈ سے آتی آواز پر سعید نے تعجب سے پوچھا۔
’’کھانا شروع ہوچکا ہے‘ میں تھوڑی دیر میں فری ہوجاؤں اس کے بعد ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوں گے… صبح ملتا ہوں یونی میں…‘‘ وہ سارا پروگرام گوش گزار کر گیا۔
’’اتنی جلدی واپسی…؟‘‘ سعید کو تعجب ہوا۔
’’ہاں ڈیڈ کو ایک میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے صبح… مام کو بھی گائوں میں رہنا کچھ خاص پسند نہیں۔ اس لیے۔‘‘
’’چل ٹھیک ہے… لیکن حیرت ہے یہ رات کی تقریب کیوں…؟ گائوں والے تو دن کی چلچلاتی دھوپ میں تقریب کرنے کے اسیر ہیں۔‘‘
’’بس جی تبدیلی کی لہر ہے… ویسے گائوں میں اب بھی یہی رواج ہے… دا جان وغیرہ بھی دن کے خواہاں تھے وہ تو ایونٹ آرگنائزر سمہان آفندی کو اپنی کریٹی ویٹی دکھانا تھی تو اس نے دا جان سے بل پاس کروالیا اور واقعی بہت مزے کا تھیم ہے۔ خوابناک ماحول‘ لائٹنگ‘ سجاوٹ‘ فورارے‘ ان میں تیرتی بطخیں‘ فش‘ اونچے اونچے درختوں پر تاحد نگاہ رنگ برنگی روشنی سب کچھ بہت اوسم ہے۔ ان فیکٹ سمہان کی اس خوبی نے تو اسیر کرلیا۔ اپنی شادی میں اسی سے آرگنائز کروائوں گا۔‘‘ نگاہ دوڑاتے وہ ساری خوب صورتی سعید کے گوش گزار کررہا تھا۔
’’تمہارے خاندان میں سارے تیس مار خان ہی بھرے ہوئے ہیں۔‘‘ سعید ہنسا۔
’’اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ برا منانے بنا وہ فراخ دلی سے اعتراف کر گیا۔
’’ایک ضروری بات کرنا تھی لیکن تو صبح یونی آرہا ہے تو پھر مل کے ہی بات کرلیں گے۔‘‘ سعید کال کرنے کی وجہ سے پہلو تہی کرنے لگا۔
’’بتا ناں کیا بات ہے… صبح تک کیا انتظار کرنا۔‘‘ اس نے اصرار کیا۔ سعید کے پیٹ میں مڑوڑ اٹھ رہا تھا۔ اس نے بھی بتانے میں دیر نہیں کی۔
’’تو یونی نہیں آیا لیکن انکل آئے تھے۔ خیر ہے… تو نے بھیجا تھا؟‘‘ سعید نے بالآخر سوال کر ہی لیا۔
’’یونیورسٹی آئے تھے…! کون… ڈیڈ…؟‘‘ ایشان جاہ چونکا۔
’’تجھے خبر نہیں…؟‘‘ سعید بھی حیران ہوا۔
’’نہیں…!‘‘
’’خیرت ہے؟‘‘ سعید کی آواز میں تشویش تھی۔
’’حیرت کی کیا بات ہے… ڈیڈی کی فیلڈ ہی ایسی ہے۔ کہیں بھی‘ کبھی بھی پہنچ جاتے ہیں۔‘‘ ایشان جاہ کو اس میں کوئی بات قابل توجہ نا لگی۔
’’ہاں اتنا تو مجھے بھی پتا ہے… لیکن انہیں ماورا یحییٰ سے کیا کام ہوسکتا ہے؟‘‘ سعید نے پھر استفسار کیا۔ اب کے ایشان جاہ بری طرح چونکا۔
’’ماورا یحییٰ…! ڈیڈ اس سے ملے…؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’ہاں کافی دیر دونوں کی بات چیت ہوئی… ان کے درمیان کیا بات ہوئی۔ یہی پوچھنے کے لیے تو تجھ سے بات کرنا چاہ رہا تھا لیکن لگتا تو مجھ سے بھی زیادہ لاعلم ہے۔‘‘ اس کی لاعلمی سعید کو مزید حیران کر گئی۔
’’میرے علم میں نہیں… ڈیڈ نے تو مجھ سے کوئی ذکر نہیں کیا… یا شاید موقع نہیں ملا ہوگا… وہ ماورا یحییٰ سے ملنے کیوں گئے…؟‘‘ ایشان جاہ کو تشویش ہونے لگی۔ جانے چودھری جہانگیر کس حوالے سے ملے تھے اور ان کے درمیان کیا باتیں ہوئی تھیں۔
اس کے ذہن میں متعدد سوالات اٹھ رہے تھے۔

قاضی صاحب نکاح کے بول دہرا رہے تھے اور شنائیہ کے اندر انکار کی آوازیں چکرانے لگیں لیکن جب چودھری بخت اس کے پہلو میں آبیٹھے‘ چودھری حشمت کا ہاتھ اس کے سر پر آپڑا تو ساری مزاحمت دبک سی گئی۔
لرزتے ہاتھوں سے اس نے اپنی آزادی کو شاہ زرشمعون کے نام گروی رکھ دیا۔ اس کے ہاں کرنے پر جو سکون چودھری بخت اور دیا کے چہرے پر پھیلا تھا اس نے احساس دلایا کہ وہ کہیں نا کہیں اس کی متوقع بچکانہ حرکت پر متفکر تھے۔ مگر اس نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرکے ان کے سر کو جھکنے سے بچا لیا تھا مگر شاہ زرشمعون کے آگے اپنا جھکا وجود اسے آگ بگولہ کرنے لگا۔
شومئی قسمت کہ نکاح کے بعد شاہ زرشمعون کو لاکر اس کے ساتھ بٹھا دیا گیا۔ مبارک باد دینے والیاں منہ میٹھا کروا رہی تھیں اور اس کا جی متلانے لگا۔
’’پلیز بس کردیں میری طبیعت خراب ہوجائے گی‘ اتنی مٹھائی کھا کر۔‘‘ جب عورتوں کو اس پر رحم نہ آیا تو وہ سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کے ٹوک گئی۔
’’گائوں کی خالص مٹھائی کھانے سے انکار مت کریں شاید اس کی وجہ سے تھوڑی مٹھاس آپ کی کڑوی زبان پر بھی آجائے۔‘‘ وہ شاہ زرشمعون ہی کیا جو زبانی گولہ باری کرکے اس کا جگر نا جلاتا۔ نکاح کے بعد گھونگھٹ کو ہٹا کر ڈوپٹا سر پہ سیٹ کردیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے شاہ زرشمعون کو گھورنے میں خاصی آسانی ہوئی۔ جواباً اس نے ایک استہزائیہ نظر اس کے سراپے پر ڈالی۔
’’مبارک ہو‘ نا نا کرکے بھی آخر کو آپ میری پابند ہو ہی گئیں۔‘‘ اس کے پھولے منہ اور کٹیلی نظروں سے وہ از حد حظ اٹھا رہا تھا۔ شنائیہ چودھری کی تو روح ہی جھلس گئی۔ وہ جواب دینے سے قاصر تھی۔ مووی میکر انہیں اپنی طرف متوجہ کررہے تھے۔
’’ویسے حیرت ہے منٹ منٹ میں اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے والوں نے ڈیڑھ گھنٹا گزرنے کے بعد بھی اب تک نکاح سیرمنی کی اپ ڈیٹ اپلوڈ نہیں کی۔‘‘ وہ گن گن کے بدلے لے رہا تھا۔ شنائیہ گونگی بہری بن کے کیمرے کی لائٹ کو دیکھنے لگی۔
ہر چہرہ کھلا ہوا تھا۔ حویلی کے مکین پہلی خوشی پر بھرپور مسرت کا اظہار کررہے تھے۔ فائرہ بیٹے‘ بہو کی بلائیں لیتے نہیں تھک رہی تھیں تو زمرد بیگم نظر بد سے بچانے کی دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔ فریال لڑکیوں کے ساتھ ہنسی ٹھٹھول میں ساتھ دے رہی تھیں۔ عیشال جہانگیر کے لیے یہ تقریب بڑی دلچسپی کا باعث بنی تھی۔ کیسے منٹوں میں چند سائن اور چند بول کے بعد کوئی اپنا بن بیٹھتا ہے۔
لڑکیاں دو ہی چیز تو مانگتی ہیں۔ ایک محبت‘ دوسری پناہ اور وہ بھی اس شخض سے جو من پسند ہو اور جب نکاح کے نام پر یہ دونوں چیزیں من پسند شخص سے حاصل ہوں تو زندگی کے رنگ ہی جدا ہوجاتے ہیں۔ وہ بڑی محویت سے شاہ زرشمعون اور شنائیہ چودھری کو کیمروں کی روشنی میں دیکھ رہی تھی۔ دونوں ایک ساتھ اتنے اچھے لگ رہے تھے۔ اس کی نگاہ کسی کو کھوجنے لگی۔ فیملی فوٹو کی ہانک لگی اور ایک کے بعد سب باری باری تصویریں بنانے لگے۔ مہمان کافی حد تک کھانا کھا کر جاچکے تھے۔ زنانہ پورشن کی حرمت مجروح نا ہو اس سلسلے میں پہلے سے ارینج کیا ہوا پردہ کھول دیا گیا تھا تاکہ گھر کے مردوں کا داخلہ ممکن ہوسکے۔ سب موجود تھے حتی کہ سگریٹ سلگاتے چودھری جہانگیر بھی حصہ بن گئے تھے مگر وہ بھیڑ میں کھڑی ہوکر خود کو ان کی نگاہ سے پوشیدہ کر گئی۔
’’کہاں ہو…؟‘‘ جب کافی دیر وہ نظر نہیں آیا تو وہ اسے میسج کرنے سے خود کو روک نہ سکی۔ ساتھ ہی نظریں ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔ حویلی کے تمام اشخاص ہی موجود تھے۔ سوائے اس کے۔
’’تمہارے پیچھے۔‘‘ فوراً جواب آیا۔ وہ بے ساختہ مڑی اور اسے اپنے پیچھے دیکھ کر دنگ رہ گئی۔
’’پیچھے کھڑے ہوکر کیا جاسوسی کررہے ہو…؟‘‘ ارد گرد موجود لوگوں کا خیال کرتے ہوئی اس نے دبی آواز میں پوچھا۔
’’تمہارے لیے کنگن لایا تھا۔‘‘ غیر محسوس انداز میں دھیرے سے گویا ہوا تو عیشال جہانگیر کی آنکھیں اس کے ہاتھ کو دیکھ کر تحیر سے کھل گئیں۔
’’ارے واہ…! بڑی جلدی سیکھ گئے تم تو۔‘‘ وہ جھٹ کنگن تھام کر پہننے لگی۔
’’اجی سیکھنا سکھانا کیا… باہر پڑے ہوئے ملے تو سوچا تمہیں دے دوں تاکہ تمہارا رونا تو کم ہو۔‘‘ اس نے چڑایا۔ عیشال نے جھٹ کنگن پہن لیے تھے۔ اب ہاتھ سے نوچ کر اتارنے لگی کنگن تو اترے نہیں البتہ موتیا کے پھول نکل کر اس کے ہاتھ میں آگئے تو اس نے وہی اس کے منہ پر دے مارے… وہ بے ساختہ مسکراہٹ چھپا گیا۔
’’فضول‘ انسان۔‘‘ وہ دبے دبے لفظوں میں اس کی شان میں قصیدہ پڑھ رہی تھی۔
بظاہر مجمع میں ان کی حرکات وسکنات کی طرف کوئی متوجہ نہیں تھا۔ سب کی نظریں اسٹیج کی طرف تھیں مگر نرمین کی نظریں ان پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کے ساتھ بیٹھی صہبا سخت بیزار نظر آرہی تھیں۔
’’جانے کب یہ چونچلے ختم ہوں گے اور ہمیں ایئرپورٹ جانا نصیب ہوگا۔ بھلے ایئرپورٹ پر انتظار کرلیں۔ یہاں تو میرا دم گھٹ رہا ہے۔ مزارے سے لے کر کسان تک کو تو مدعو کر رکھا ہے۔ جیسے عام منادی کروا دی ہو ان لوگوں نے… بندے کا کوئی اسٹیٹس ہوتا ہے۔ نکاح سے زیادہ تو مجھے لنگر کے لیے آنے والے لوگ لگے۔ دیکھا نہیں تھا۔ کیسے بھوکوں ننگوں کی طرح وہ غلیظ عورتیں کھانوں پر ٹوٹ پڑی تھیں۔‘‘ کلائی میں بندھی قیمتی گھڑی کو دیکھتے ہوئے صہبا نے ناگواری سے ذکر کیا۔
’’ایسے ہتھکنڈوں سے امیج بڑھتا ہے مام۔ حویلی والے دکھا رہے ہیں کہ ان کے دل میں کتنا درد ہے غریبوں کے لیے اور یہ کہ وہ کتنی اہمیت دیتے ہیں ان کم تر لوگوں کو… ایویں تو سارا گائوں حویلی والوں کے گن تو نہیں گاتا ناں… دا جان یا کسی تایا‘ چاچا کا اپنے ایریا سے کھڑا ہوکر سیاست میں قدم رکھنے کا موڈ تو نہیں ہے ناں…؟ ہوسکتا ہے یہ اسی کی کڑی ہو۔‘‘ نرمین بھی استہزایہ انداز میں گویا ہوئی۔ صبہا اتفاق کرتی سر ہلا رہی تھیں‘ مگر نرمین کی نظریں عیشال اور سمہان آفندی کی نوک جھونک پر الجھ گئی تھیں۔

سگریٹ کا دھواں اڑاتے جہانگیر خاصے الگ تھلگ گوشے میں بیٹھے سب کی کارروائی دیکھ رہے تھے۔ وہ جتنی دیر حویلی یا گائوں میں رہتے تھے اعصابی تنائو کی کیفیت میں گھر جاتے تھے۔ اس وقت بھی اسٹیج پر موجود منظر کو دیکھتے وہ کہیں دور چلے گئے تھے۔
اسٹیج پر سکڑی سمٹی بیٹھی صائقہ اور وہ بے زاری سے سب کے درمیان ایجاب و قبول کرتے ان کے دل میں کس قدر غصہ تھا یہ وہی جانتے تھے۔ خوشی صائقہ کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی اور وہ بھرے بیٹھے تھے۔
’’ڈیڈ آپ سے بات کرنا تھی۔‘‘ جانے وہ ماضی میں کب تک کھوئے رہتے کہ ایشان جاہ کی آواز کے ساتھ انہیں انگلیوں پر سلگتی سگریٹ کی تپش محسوس ہوئی تو انہوں نے انگلیوں کو حرکت دے کر سگریٹ نیچے گرا دی۔
’’بالکل کرو۔‘‘ پلک جھپکتے وہ ماضی سے حال میں لوٹ آئے۔
’’ماورا یحییٰ سے ملنے آپ یونیورسٹی گئے تھے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ سوال کرنے کے بعد اسے جیسے یقین تھا کہ جواب انکار میں ہوگا۔ سعید کو کوئی دھوکا ہوا ہوگا لیکن چودھری جہانگیر کے فوراً جواب نے اسے ایک ثانیے کو چپ کروا دیا۔
’’خیریت… آپ جانتے ہیں اسے…؟‘‘
’’جو لڑکی میرے بیٹے کو اسٹریس میں رکھے اسے جاننا تو ضروری ہے ناں…‘‘ چودھری جہانگیر کے جواب نے اس کے اندازے کی تسلی کروا دی تھی۔
’’کیا ضرورت تھی آپ کو اس سے ملنے یا بات کرنے کی؟ ڈیڈ وہ لڑکی بہت بدتمیز اور بد لحاظ ہے… اس نے آپ سے کوئی مس بی ہیو تو نہیں کیا ناں…؟‘‘ ایشان جاہ کو اپنی ہمدردی اور اس کا صاف جواب خوب یاد تھا۔
’’بدتمیز تو خیر نہیں ہے لیکن ضرورت سے زیادہ بہادر اور خود پہ خاصا گھمنڈ ہے اسے… گیا تو اسے سمجھانے تھا… آفر بھی دی بیرون ملک تعلیم کی… لیکن وہ الٹا مجھے چیلنج کر گئی کہ مقابلہ کریں… چور راہ ڈھونڈ کر جیتنے کی کوشش… ہار سے بدتر ہوگی‘ اس کے الفاظ تو مجھے ٹھیک سے یاد نہیں لیکن مفہوم کم و بیش یہی تھا۔‘‘ چودھری جہانگیر حافظے پر زور دیتے جواب دینے لگے۔
’’اس نے یہ سب بکواس کی آپ سے…؟‘‘ ایشان جاہ کا خون کھولنے لگا۔
’’ہاں۔‘‘ انہوں نے اعتراف کیا۔
’’آپ نے جواباً کچھ نہیں کہا…؟‘‘ اسے حیرانی ہوئی۔
’’کہہ تو بہت کچھ سکتا تھا اور اب بھی بہت کچھ کرسکتا ہوں لیکن چپ رہا‘ کیونکہ لڑکی کے لہجے میں جو گھمنڈ تھا مجھے اس نے خاموش کروا دیا۔ ہم اسے جتنا جواب دیں… طاقت و زور سے پیچھے دھکیل دیں۔ اس کا گھمنڈ نہیں ٹوٹے گا۔ اسی لیے خاموشی سے اس کا چیلنج قبول کرلیا… اب تمہیں اپنی قابلیت سے اس کا گھمنڈ توڑنا ہے۔ اسے نیچا دکھا کر بتانا ہے کہ مقابلہ برابری کا ہوتا ہے۔ باقی رہی اس کی جسارت اور مجھے چیلنج کرنے کی غلطی… اس کے ساتھ مزید کیا کرنا ہے۔ اس کا فیصلہ تم مجھ پر چھوڑ دو… وہ ساری زندگی تعلیم… نوکری اور گھر کے لیے خوار رہے گی‘ در در بھٹکے گی… اسے اتنا تھکادوں گا کہ وہ اس لمحے کو کوسے گی جب اس نے چودھری جہانگیر کو چیلنج کرنے کی غلطی کی…‘‘ چودھری جہانگیر کو ایک دم وہ منظر یاد آگیا تھا۔ حجاب سے جھانکتی دو پُر اعتماد آنکھیں کس تنفر سے انہیں چیلنج کر گئی تھیں۔
ایشان جاہ کا پارہ یہ سب سن کر مزید چڑھنے لگا تھا۔ اس کی اتنی مجال کہ وہ چودھری جہانگیر کو اس کے لیے چیلنج کر گئی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ماوا یحییٰ کو تہس نہس کردے۔

اللہ اللہ کرکے تقریب کا اختتام ہوا اور مختلف گاڑیوں میں بھر کے ان سب کا قافلہ حویلی کی طرف بڑھنے لگا۔ سمہان آفندی نے عیشال جہانگیر پر خاص نظر رکھی ہوئی تھی کہ کہیں وہ پھر نہ ’’رہ‘‘ جائے۔ حویلی آتے ہی چودھری جہانگیر کی فیملی تو اپنا ساز و سامان لپیٹنے لگی۔
’’یہ بھی کوئی آنا اور جانا ہوا…؟‘‘ چودھری فیروز نے گلہ کیا۔
’’صبح ہیڈ کوارٹر میں ایک اہم میٹنگ ہے۔ جانا ضروری ہے۔‘‘ چودھری جہانگیر مصروفیت بتا کر دامن بچا گئے تو کوئی کچھ نہ کہہ سکا۔ وہ سب جانے کی تیاری مکمل کیے سب سے مل رہے تھے۔ زمرد بیگم‘ فریال اور فائزہ کو ان کے ساتھ کھانا باندھ کر دینے کی ہدایت کر گئی تھیں۔
ایشان جاہ بڑوں کے بعد سمہان آفندی اور شاہ زرشمعون سے مل کر دوبارہ آنے کا وعدہ کررہا تھا۔ صہبا سب سے ملی تھیں۔ سوائے عیشال جہانگیر کے جو لاتعلقی سے بیٹھی سینڈل کے اسٹریپ کھولنے کے ساتھ ایڑی پر موجود زخم کا معائنہ کرتی اس ماحول کا حصہ ہوکر بھی نہیں تھی۔
’’کبھی کراچی آکر ہمارے گھر کو بھی رونق بخشیں۔‘‘ سب سے مل کر نرمین سمہان آفندی کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ حویلی میں اس کی بے تعلقی تو کسی سے بھی نہیں تھی۔ سمہان سے بھی یہ اس کی پہلی بالمشافہ گفتگو تھی جس کا عکس سمہان آفندی کے چہرے پر بھی جھلملا رہا تھا۔
’’جی ضرور…؟‘‘ اس نے انکساری سے ہامی بھری۔ چودھری جہانگیر کی بیٹی ہونے کے ناتے اس سے سلام دعا ہی تھی۔
’’آپ بھی دوبارہ تشریف لائیے گا۔‘‘ وہ بھی اخلاقاً مدعو کر گیا تو نرمین دلفریبی سے مسکرادی۔
’’پہلے تو نہیں لیکن آج سے گاؤں میں مجھے بہت اٹریکشن محسوس ہونے لگی ہے… کوشش کرو گی جلد دوبارہ آکر آپ کو میزبانی کا شرف بخشوں۔‘‘ اس کی اتنی لمبی چوڑی تقریر اور دلفریب انداز پہ سمہان آفندی جیسا لفظوں کا کھلاڑی ایک لمحے کو خاموش ضرور ہوا تھا۔ لفظوں کو پرکھنے کا گر اسے بہت اچھی طرح آتا تھا۔ کون سا لفظ کہاں سے آرہا ہے اس حوالے سے اس کی بڑی معلومات تھی۔
’’حویلی والے بڑے مہمان نواز ہیں۔ ہزار بار آئیں… آپ کو افسوس کا موقع نہیں ملے گا۔‘‘ اپنی ذات کی طرف سے بات گھما کر وہ اسے حد دکھا گیا‘ لیکن سامنے بے باک نرمین تھی۔
’’حویلی والوں کا تو نہیں لیکن آپ میزبان جیسے کا سوچیں گے تو آنے میں آسانی ہوگی… ویسے آج آپ بڑے ہینڈسم لگ رہے تھے۔‘‘ نرمین اس کے کہنیوں تک فولڈ ہوئے آستین اور مضبوط کلائی میں بندھی گھڑی کو دیکھتے تعریف کر گئی۔
’’آپ حویلی میں نہیں رہتیں۔ اس لیے یہاں کے ماحول اور انداز سے ناواقف ہیں… حویلی میں اس بے باکی کو پسند نہیں کیا جاتا… بہتر ہوگا کہ آئندہ احتیاط کریں۔‘‘ ایک سپاٹ نظر ڈال کر وہ پلٹ گیا۔ نرمین کو اس کا اندازہ سلگا گیا تھا۔ اتفاق سے عیشال جہانگیر نے بھی یہ منظر بغور دیکھا تھا۔ برے منہ کے ساتھ سمہان آفندی کو پلٹ کر جاتے دیکھ کر اس کی نظروں میں نرمین کے لیے مزید کڑواہٹ آگئی تھی۔
’’مما… جہانگیر چچا اور ان کی فیملی واپس کراچی جا رہی ہے ہم بھی چلیں؟‘‘ شنائیہ چودھری دیا کے کان میں منمنائی۔
’’ہاں کیوں نہیں تاکہ لوگوں کو بولنے کا موقع ملے۔ دلہن نکاح ہوتے ہی بھاگ گئی۔‘‘ کاٹ دار جملے اور دیا کی گھوری پر وہ منہ بسور کے رہ گئی تھی۔

’’تمہیں کس بات کا خوف ہے…؟ میرے ہوتے تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں… بھاڑ میں جائے منگ ونگ… سب کو تمہارا وجود قبول کرنا ہی ہوگا… میں سب کو راضی کرکے ہی دم لوں گا… ساری دنیا تمہیں چھوڑ سکتی ہے لیکن میں نہیں‘ خود کو اکیلا سمجھنا چھوڑ دو… میں ہوں تمہارا اپنا… پوری دنیا کو تمہارا بناکر دکھاؤں گا۔‘‘ وہ جوش سے اعتبار دلا رہا تھا۔
’’مجھ میں ہمت نہیں ہے سب کی نظریں باتیں برداشت کرنے کی… سب مجھے مجرم سمجھ رہے ہیں۔‘‘ وہ معصوم بن کر آنسو بہا رہی تھی اور اس کا روہانسا لہجہ اسے مزید بر گرشتہ کررہا تھا۔
’’میں نے کہا ناں… سب مان جائیں گے… تمہاری خاطر میں سب کو چھوڑ دوں گا لیکن تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘ آنسو پونچھ کر وہ ایک لمحے کو اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’تم اتنے سچے ہو اگر جو کبھی میں خود پیجھے ہٹ جائوں؟‘‘ جانے کیوں وہ سوال کر گئی تھی۔ وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا تھا۔
’’تم پہ زور زبردستی نہیں ہے… تم پیچھے ہٹیں یا اپنی خوشی سے گئیں تو ساری عمر کا جوگ لے لوں گا… سمجھ جائوں گا میری محبت میں ہی کوئی کمی تھی۔ جو تم رک ناسکیں لیکن اتنا جانتا ہوں مجھ سے بڑھ کے تمہیں کوئی اتنی محبت نہیں کرسکے گا… جب کبھی لگے کہ تمہیں میری ضرورت ہے… بس ایک بار آواز دے دینا۔‘‘ دعویٰ کیا‘ کیا تھا ان کی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر بکھر رہے تھے۔ لفظ گنجلک تھے جو انہیں جکڑے جارہے تھے۔
’’جب کبھی لگے کہ میری ضرورت ہے… بس ایک بار آواز دے دینا۔‘‘ آخری جملے کی بازگشت بڑھنے لگی تھی۔ ساتھ ہی آنسوئوں کی روانی بھی بڑھتی جارہی تھی۔ ایک دم سے وہ چونک گئیں۔ یوں جیسے کوئی جھما کا ہوا ہو۔ ازل سے اپنی آگ میں جھلستے جیسے انہیں کنارہ نظر آنے لگا تھا۔ نجات کا کوئی سرا ہاتھ لگا تھا۔ وہ سرعت سے اٹھیں۔ ٹرنک کھول کر اس میں سے ڈائری نکال کر واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گئیں۔ یہ سارا کام انہوں نے بہت احتیاط سے کیا تھا۔ تاکہ سوئی ہوئی بیٹیوں کی نیند خراب نہ ہو… بلیو کلر کا نائیٹ بلب ناکافی روشنی دے رہا تھا لیکن ان کے لیے اتنی روشنی ہی کافی تھی۔ ان کا ذہن بڑی تیزی سے سالوں کا سفر طے کررہا تھا اور قلم بڑی روانی سے ڈائری کے صفحات پر رواں تھا۔ وقفے وقفے سے وہ انوشا اور ماورا کے چہروں کو بھی دیکھ رہی تھیں۔
’’تم آج بھی اتنے ہی زور آور ہو… اگر جو خبر ہو جاتی کہ مقابل کون ہے تو شاید تم جسارت نہ کرتے…‘‘ وہ استہزائیہ مسکراہٹ سجا گئیں۔ استہزاء کا یہ رنگ بھی اپنے لیے تھا۔ خود اذیتی سی خود اذیتی تھی۔

کمرے میں آتے ہی دوپٹا کھینچ کے اتارتے وہ واش روم کی طرف بھاگی۔ اسے ابکائی آرہی تھی۔ ٹھنڈے پسینے آنے لگے تو وہ روم میں آگئی۔ دیا بھی اس کے پیچھے چلی آئیں۔
’’ٹھنڈے پسینے آرہے ہیں… فوڈ بوائزن ہوگیا ہے مجھے…‘‘ وہ بے دم سی ہوکر بیڈ پر گر گئی۔
’’کچھ نہیں ہوا۔ وہم نا کرو… اتنی ہیوی چیزیں پہننے اور زیادہ مٹھائی کھانے کی وجہ سے جی گھبرا رہا ہوگا۔ ایسے نہیں ہوتا فوڈ پوائزن… سکنجین لے کر آئی ہوں‘ پی لو… زبان کا ذائقہ بدل جائے گا۔ تمہیں عادت جو نہیں ہے اتنی مٹھائی کھانے کی۔‘‘ دیا نے سکنجین کا گلاس تھمایا تو وہ غٹاغٹ پی گئی۔ دل و دماغ کو کچھ سکون ملا۔
’’مجھے نہیں پتا… ڈاکٹر کو بلائیں جلدی۔‘‘
’’بیٹا کیا ہوگیا ہے… تمہاری ماں ڈاکٹر بیٹھی ہے۔‘‘ اس کے واویلا کرنے پر دیا کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا۔
’’نہیں… کوئی اور ڈاکٹر بلائیں… مجھے باہر کے ڈاکٹر کو دکھانا ہے… جلدی کریں۔ مجھے کچھ ہوجائے گا۔ بری طرح چکر آرہے ہیں۔ جانے شوگر ہائی ہوگئی ہے یا بی پی کے ساتھ میں بھی گر رہی ہوں۔‘‘ اس کے واویلا کرنے پر دیا کے ہاتھ پائوں پھولنے لگے۔ وہ عجیب فضولیات بک رہی تھی۔ لامحالہ انہوں نے چودھری بخت کو کمرے میں آنے کے لیے کال کی۔ شنائیہ کی بہکی بہکی باتوں میں قدرے کمی آگئی۔
’’میری ڈاکٹری پہ شبہ ہے تو اپنے ابا کو چیک کروا دو۔‘‘ دیا سر سہلانے لگیں۔
’’نہیں… باہر کے ڈاکٹر کو بلائیں۔‘‘ اس کی نرالی منطق پہ دیا سر پکڑ کے رہ گئی تھیں۔

سب حویلی لوٹ آئے تھے۔ چودھری جہانگیر کی فیملی ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوچکی تھی۔ ان کی حفاظت کے خیال سے سمہان آفندی نے محافظوں کی گاڑی ساتھ کرنا چاہی لیکن چودھری جہانگیر کے انکار کے باعث وہ خاموش ہوگیا تھا۔
چائے کافی کا دور چل رہا تھا۔ مردوں کی بیٹھک لگ چکی تھی۔ لڑکیاں جیولری کپڑوں کو ترتیب سے رکھنے کے جتن میں سارا پھیلاوا پھیلائے تقریب پر بحث کررہی تھیں۔
سمہان آفندی محافظ کے بلاوے پر باہر آیا تھا۔ ساری باتیں پھر سے دہرا کر وہ مزید چوکنا رہنے کی ہدایت دے رہا تھا۔ اچانک غائب ہوجانے والی جیپ کا سراغ بھی نہیں مل سکا تھا۔ مبادا وہ دوبارہ حملہ آور ہوتے۔
’’حملہ… جیپ… کب ہوا یہ…؟ تو نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟‘‘ جانے کب شاہ زرشمعون وہاں آگیا تھا اور ان کی ساری باتیں سن کر وہ کئی سوال ایک ساتھ کر گیا۔ سمہان آفندی ایک لمحے کے لیے گڑبڑا گیا۔
’’تمہاری خوشی خراب کرنا نہیں چاہتا تھا… نائو‘ ایوری تھنگ از انڈر کنٹرول… بس تشویش ہے کہ اس اچانک غائب ہوجانے والی جیپ کی… شوٹرز کی جیپ ذرا دیر کو گڑھے میں پھنسی تھی اور پھر غائب… اتنی جلدی گائوں سے جیپ کا نکلنا ممکن نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے جیپ گائوں میں ہی موجود ہے اور گائوں سے ہی کوئی پروٹیکٹ کررہا ہے انہیں۔‘‘ نشانہ باز کو جانے کا اشارہ کرکے اندر کی طرف قدم بڑھاتے سمہان آفندی نے شاہ زرشمعون کو بھی چلنے کا اشارہ کیا۔ اس کے کڑی سے کڑی جوڑنے پہ ساتھ چلتا شاہ زرشمعون بھی چونکا۔
’’کون پروٹیکٹ کرے گا انہیں… گجر کے حواری؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ سمہان آفندی نے بھی اس کی سمت نگاہ کی۔
’’ہوسکتا ہے… تب ہی داخلی اور خارجی راستے کی نگرانی کا حکم دیا ہوا ہے… اب گائوں کا ایک ایک گھر تو چیک کرنے سے رہے…‘‘ وہ لب سکیڑ گیا تو شاہ زرشمعون بھی سر ہلانے لگا۔
’’خیر جو بھی ہے میں دیکھ لوں گا… تم ٹینشن لے کر خوشی خراب نا کرو… دم درود کرو… بھابی بیگم کی طبیعت خراب ہوگئی ہے۔‘‘ اس کا دھیان بٹانے کے لیے سمہان باتوں کا رخ شنائیہ کی طرف موڑ گیا تو وہ سر جھٹک گیا۔
’’شہری ماحول کے کمزور نازک لوگ… جانے کیسے سروائیو کریں گے… ایک چھینک مارنے پر کون ڈاکٹر کو بلانے بھاگے گا… دا جان نے بھی اینٹک پیس متھے مار دیا ہے۔‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا تو سمہان آفندی کا قہقہہ بے ساختہ بلند ہوا تھا۔

’’خوش ہے ناں…؟ اب تو کوئی شکایت نہیں؟‘‘ چودھری حشمت پوتوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ تب ہی شاہ زرشمعون سے استفسار کیا۔
مردوں کی بیٹھک لگی ہوئی تھی جس میں وہ دونوں بھی شامل ہوگئے تھے۔ چودھری حشمت کے سوال پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیلی گئی تھی۔
’’کیوں شرمندہ کررہے ہیں دا جان… میری اتنی مجال کہ شکایت کروں…؟ مجھے تو ابھی تک افسوس ہے‘ میری وجہ سے آپ کا دل دکھا۔‘‘ وہ سر جھکا کر شرمساری سے گویا ہوا تو چودھری حشمت کا دل بڑا ہوگیا۔
’’دکھ تو نہیں افسوس ہوا تھا لیکن جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے تو فکر نہ کر… خوش رہ۔‘‘ چودھری حشمت ناصحانہ انداز میں کہتے ساتھ بیٹھے پوتے کے سر پر ہاتھ پھیر گئے تو اس کے دل سے بھی قلق کچھ کم ہوا۔
’’اور ہاں بھئی سمہان… تم نے تو سارے انتظامات اعلا طریقے سے کرکے دل جیت لیا۔ تمہیں تو انعام سے نوازنا چاہیے…‘‘ اب کے چودھری حشمت کا رخ روشن سمہان آفندی کی طرف ہوا۔
’’عزت افزائی کے لیے شکریہ دا جان… آپ کے تعریفی لفظ کسی انعام سے کم نہیں۔‘‘ وہ کھلے چہرے کے ساتھ مسکرایا۔
’’یہ بات تو ٹھیک کہی بابا جان آپ نے… انتظامات‘ کھانا سب کچھ اے ون تھا‘ واقعی انعام تو بنتا ہے۔‘‘ چودھری فیروز نے اپنا والٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’جتنے مرضی نکال لو۔‘‘ کھلی پیش کش کی۔ چودھری اسفند بیٹے کی مدح سرائی پر اس کے شانے پر بازو پھیلا کر سینہ چوڑا کر گئے۔
’’تایا جان شرمندہ کررہے ہیں آپ سب۔‘‘ وہ انکساری کا مظاہرہ کرنے لگا۔
’’آج بڑے ہوگئے خود کے اکائونٹ میں پیسے ہیں تو جھجک رہے ہو… یاد کرو جب ٹی شرٹ اور شارٹس میں چاکلیٹ کے پیسے مجھ سے لینے آتے تھے۔‘‘ چودھری فیروز بچپن کا حوالہ دے گئے تو وہ کھل کر مسکرادیا۔
’’جتنا بھی بڑا ہوجائوں‘ چاکلیٹ کے لیے پیسے تو آپ سے ہی لوں گا۔‘‘ ان کا دل رکھنے کے لیے وہ والٹ سے ہزار کا نوٹ نکال کر والٹ ان کی طرف بڑھا گیا۔
’’تم کیش انعام دو… لیکن ہم تو سمہان آفندی کو منہ مانگا انعام دینے کا سوچ رہے ہیں… بولو‘ سمہان کیا چاہیے…؟‘‘ چودھری حشمت شاہ بن گئے تھے۔ وہ بے ساختہ چونکا۔ منہ مانگے انعام کا سن کر اس کے ذہن میں ایک ہی خیال آیا تھا۔ وہ ایسا کرسکتا تھا لیکن جانے اس کے منہ کھولنے کے بعد حالات کیا ہوجاتے‘ شاید یہ وقت مناسب نہیں تھا۔
’’اگر ابھی سمجھ نہیں آرہا تو کوئی بات نہیں… بعد میں مانگ لینا… ہم کون سا بھاگے جارہے ہیں۔‘‘ چودھری حشمت کی بات سے دل کو تقویت ملی۔
’’سمہان کو تو آج دہرے انعام سے نوازیں دا جان… اس نے جانے کیا کچھ سنبھال رکھا تھا اور ماتھے پر شکن لائے بناء…‘‘ شاہ زرشمعون نے آج کی تازہ صورت حال ان سب کے گوش گزار کی۔ جسے سن کر تشویش کے ساتھ سب اسے سراہ بھی رہے تھے اور آگے کی منصوبہ بھی کررہے تھے۔

حویلی میں سناٹے کا راج تھا۔
گو کہ سب کے ساتھ اس نے چائے پی لی تھی مگر دن بھر کی تھکن کا اثر زائل کرنے کے لیے ایک اور کپ کی طلب اسے کچن لے میں آئی تھی۔ کچن کے اندر کا سناٹا ظاہر کررہا تھا کہ چائے نہیں ملے گی۔ وہ دہلیز سے ہی پلٹنے لگا تھا۔ جب ایک دم تیزی سے عیشال جہانگیر کچن سے برآمد ہوئی اور ٹکرائو سے بچنے کے لیے اپنے قدموں کو بے ساختہ بریک لگائے۔ ورنہ تو اس کے ہاتھ میں موجود چائے کا مگ سامنے والے پر الٹ چکا ہوتا۔
’’الٰہی خیر… کیا شالیمار ایکسپریس بنی پھر رہی ہو‘ ابھی مجھ ننھی سی جان کو جلا کر مار دینا تھا تم نے… پہلے ہی حیرت زدہ تھا کہ کیا کچن میں آسیب کا سایہ ہوگیا جو دور سے جلنے والی روشنی سامنے آنے پر اندھیرے میں بدل گئی تو کیسے…؟‘‘ اسے دیکھ کر دل کو تقویب ہوئی تھی۔ وہ بھی اس کی لمبی چوڑی تقریر پر قہر بار نظروں سے گھورنے لگی۔
’’کیا ہر وقت کھاتی پیتی رہتی ہو؟‘‘ چمچہ بھر کر منہ میں ڈالتے وہ اسے منہ کھولنے پر مجبور کر گیا۔ مذاق اڑاتا لہجہ الگ جی جلا گیا۔
’’اور تم تو غالباً چلہ کاٹتے کاٹتے کچن میں چھاپہ مارتے ہونا… بڑی فکر ہے‘ حویلی کے راشن پانی کی۔‘‘ وہ ساز و سامان لیے چڑھ دوڑی تو وہ ہاتھ سینے پر باندھ گیا۔
وہ معمول کے حلیے میں تھی۔ اورنج شارٹ شرٹ پہ ملٹی کلر کی گھیر دار شلوار پہ دوپٹا لیے جو شانوں سے ہوتا نیچے تک آرہا تھا۔ میک اپ صاف ہوچکا تھا لیکن ابھی بھی ہلکے ہلکے رنگ جھلک دکھا رہے تھے۔
’’اگر آپ نے اچھی طرح ریسرچ کرلی ہو تو راستہ دیں تاکہ میں تو نکلوں… ایک تو رات کو کمرے سے نکلتے دا جان کا چھاپہ اتنا ڈراتا ہے کہ حد نہیں۔‘‘ مسلسل اپنی طرف دیکھنے پر چوٹ کرکے خدشہ ظاہر کرتی وہ دائیں بائیں بھی نظر ڈالنے لگی کہ کہیں واقعی دا جان نہ آجائیں۔ تسلی کرکے اس پر نظر جمائی۔ وہ ابھی تک جینز اور کرتے میں ملبوس تھا۔ کرتے پہ بڑی شکنیں کہنیوں تک فولڈ آستین تھکن کی روداد سنا رہی تھی مگر چہرے پر ایک شکن تک نہ تھی۔
’’ایسے کیسے جانے دوں… پہلے میرے لیے بھی چائے بنادو۔‘‘ آرام سے فرمائش کر گیا۔
’’پہلے آتے شرم آرہی تھی اب میں دوبارہ کچن کی لائٹ جلا کر اپنی شامت بلائوں۔‘‘ وہ آہستہ آواز میں چلائی۔
’’اپنے لیے بنا رہی تھیں تو اخلاقاً میرے لیے بھی بنا لیتیں ناں۔‘‘ اس نرالی منطق پر وہ بھنویں سکیڑ کر گھورنے لگی۔
’’مجھے کیا تمہارے فرشتوں نے پیغام دیا کہ جناب عزت مآب سمہان آفندی کو بے وقت چائے کی طلب کچن تک کھینچ لائے گی؟‘‘ اس بری طرح جل کے بولنے پہ اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا‘ لیکن وقت نامناسب تھا۔ سو ہاتھ لبوں پہ رکھ کر اس نے قہقہے کو مسکراہٹ میں بدل دیا۔
’’فرشتے نا سہی میں بذات خود آپ کو دست بدست پیغام دے رہا ہوں کہ محترمہ عیشال آپ جب کبھی وقت بے وقت اپنے لیے چائے بنائیں تو مجھ ناچیز کو بھی یاد رکھیں۔ فی الحال اس چائے کے لیے شکریہ…‘‘ اتنی سنجیدگی سے بولنے کے بعد وہ جس تیزی سے اس کے ہاتھ سے مگ لے کر سرعت سے پلٹ گیا وہ کئی لمحے بھونچکی کھڑی رہ گئی۔ نظر خالی ہاتھ پہ پڑی تو سمجھ آیا وہ کتنی چالاکی سے مگ اڑا لے ہے۔
’’سمہان…!‘‘ وہ دبی آواز سے چلائی۔
’’رشین سیلڈ پہ گزارا کرو… چائے پی کر تمہیں نیند نہیں آئے گی۔ صبح کالج بھی جانا ہے۔ شاباش کمرے میں جاکے سو جائو… گڈ نائیٹ…‘‘ بنا مڑے وہ ہڑی جھنڈی دکھا گیا تو وہ پیر پٹخ کے رہ گئی تھی۔

صبح ناشتے کی میز پہ سب موجود تھے۔ لمبی سی میز پر انواع و اقسام کے اشتہاء انگیز ناشتہ کے لوازمات وافر مقدار میں موجود تھے۔ چودھری بخت اور ان کی فیملی کو جانے کی تیاری کرتے دیکھ کر سب ہی گلہ کرنے لگے۔
’’رات جہانگیر چلا گیا اور اب تم جانے کی نوید سنا رہے ہو۔ کیا حویلی میں اتنے ہی برے لوگ رہتے ہیں کہ تم شہری لوگ یہاں آتے ہی بھاگنے کی کرتے ہو؟‘‘ چودھری حشمت دکھی انداز میں ناگواری کا اظہار کر گئے تو چودھری بخت شرمندہ سے ہوگئے۔
عورتیں‘ لڑکیاں بھی ان کے جانے کا سن کر اداس ہوگئی تھیں۔ ابھی تو ٹھیک سے سب شنائیہ کو چھیڑ بھی نہیں سکی تھیں اور وہ جانے کے لیے سامان باندھ رہی تھی۔
’’ایسی بات نہیں ہے بابا جان‘ میری اور دیا کی مصروفیت سے تو آپ واقف ہی ہیں۔ پھر بھی کئی دن رہ لیے کہ حویلی کی پہلی خوشی تھی۔ ہم آئے تو یہ سوچ کر تھے کہ دو بھائیوں کے بچوں کی خوشی میں شریک ہونا ہے‘ لیکن قسمت نے اس خوشی کو ہمارے دامن میں ڈال دیا۔ یقین کریں رات ہسپتال کال کی تو خبر ملی روز کتنے ہی مریض اور ان کے رشتہ دار کال کرکے آنے کی راہ دیکھ رہے ہیں اور میں یہاں مزے کروں۔ یہ میرے پروفیشن کے ساتھ غداری ہوگی بابا جان۔‘‘ چودھری بخت نرمی سے والد محترم کو سمجھا رہے تھے۔
ان سب کے جانے کا سن کر شاہ زرشمعون نے عین اپنے سامنے بیٹھی شنائیہ چودھری پر نظر ڈالی‘ حسب معمول یہاں سے جانے کی خوشی اس کے چہرے پر تھی۔ رشتہ بدلہ تھا تو دیکھنے کا انداز بھی بدل گیا تھا۔ شنائیہ چودھری نے نظروں کی تپش پر نگا اٹھائی اور اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتے پاکر پلیٹ پر نظر جما دیں۔
’’اگر تمہیں ہاسپٹل کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی اتنی ہی فکر ہے تو بولو‘ تمہیں روکنے کو ہم خود مریض بن کر اسٹریچر پر لیٹ جاتے ہیں… تب تو رک جائو گے ناں…؟‘‘
’’استغفار‘ کیسی بات کررہے ہیں بابا جان۔‘‘ چودھری حشمت کے جلے انداز پر چودھری بخت کچھ پریشان سے ہوگئے۔ دیا کے چہرے پر بھی فکر مندی جھلکنے لگی۔
’’عمر رسیدہ ہونے کے بعد انسان مزید وہمی ہوجاتا ہے۔ کیا پتا کون سا پل آخری ہچکی ثابت ہو۔ کم از کم دم نکلتے ہوئے اپنوں کا چہرہ تو نگاہوں کے سامنے ہو… جانے تم اور جہانگیر ہمیں کس جرم کی سزا دے رہے ہو…؟‘‘ چودھری حشمت ناشتے سے ہاتھ کھینچ کر معمولی انداز میں کرسی پیچھے کر گئے۔ ماحول میں ایک دم سے خاموشی پھیل گئی تھی۔ چودھری بخت شرمساری سے اٹھ کر ان کے گھٹنے تھام گئے۔
’’ایسی باتیں نا کریں بابا جان۔ مانتا ہوں‘ ہماری غلطی ہے جو آپ سے دور رہتے ہیں لیکن آپ تسلی رکھیں‘ میرے فیوچر پلان میں یہی ہے کہ گائوں میں ہسپتال بنوا کر ہم ہمیشہ کے لیے واپس آجائیں گے۔ یہیں حویلی میں آپ کے پاس رہیں گے…‘‘ چودھری بخت کے فیصلے اور چودھری حشمت کے انداز کو دیکھ کر دیا کے ساتھ فائزہ‘ فریال اور زمرد بیگم کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھیں۔
’’سچ کہہ رہے ہو ناں…؟‘‘ چودھری حشمت نے بے یقینی سے پوچھا۔ چودھری بخت نے مسکراتے ہوئے ان کے گھٹنے پہ دبائو ڈالتے اثبات میں سر ہلایا۔
’’بس تو پھر فکر اور دیر کس بات کی۔ شاہ اور سمہان جلد ہسپتال کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈ نکالیں گے اور اسفند اپنی آرکیٹیکٹ کی ڈگری کو ہسپتال کی تعمیر میں استعمال کرے گا۔ باقی ساز و سامان لانے کے لیے فیروز اور پوری حویلی موجود ہے۔ اس میں کیا مشکل ہے…‘‘ چودھری حشمت منٹوں میں سب طے کر گئے تو چودھری اسفند کے ساتھ چودھری فیروز کے چہرے بھی ان کے لوٹنے کی خبر پہ کھل اٹھے۔ شاہ اور سمہان نے بھی تائیدی انداز میں ساتھ دینے کی ہامی بھری تو چودھری بخت نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔
’’جیسے آپ کی مرضی‘ بھلے کل سے کام شروع کروا دیں۔ میں قائم ہوں اپنے فیصلے پہ لیکن ابھی خوش دلی سے ہمیں جانے کی اجازت دیجیے۔‘‘ وہ عاجزی سے گویا ہوئے۔
’’واپس آنے کی خبر دے کر تم نے دل خوش کردیا… خوشی سے جائو۔‘‘ اس جذباتی ڈرامہ میں شنائیہ چودھری کو جانے کا معاملہ کھٹائی میں پڑتا لگ رہا تھا۔ چودھری بخت کا یہ فیصلہ جانے پہلے سے طے شدہ تھا یا دا جان کی زود رنجی نے کروایا تھا۔ وہ انجان تھی۔ فیصلہ سننے کے بعد تفکر نے آلیا تھا کہ وہ سب مستقل حویلی شفٹ ہوجائیں گے۔ شہر میں رہتے تو ایک آس تو رہتی کہ کل کو شاہ زرشمعون سے لڑ بھڑ کے وہ واپس چلی جائے گی‘ لیکن اس فیصلے نے تو اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑا دیئے تھے۔ آگے کیا کرنا تھا۔ یہ بعد کی بات تھی۔ ابھی تو یہاں سے جانے کی خوشی ہی بہت تھی۔
’’شکریہ بابا جان…‘‘ چودھری بخت باپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’تم سب جانے کی تیاری کرو… لیکن شنائیہ کو ہم روک رہے ہیں… نکاح ہوگیا ہے… کل کو رخصتی بھی ہونی ہے۔ ہم چاہتے ہیں ہماری پوتی حویلی میں رہ کے حویلی کے طور طریقوں کو پہلے ہی سمجھ لے تاکہ بعد میں مشکل نہ ہو…‘‘ چودھری حشمت کے فیصلے سے پانی پیتی شنائیہ کو اچھو لگ گیا۔ باقی سب کے چہرے کھل اٹھے تھے۔ عیشال جہانگیر نے مصروف انداز میں ایک نظر اٹھا کر اس کے ہونق چہرے کو دیکھا۔ سمہان نے مسکراہٹ روکی اور ساتھ ہی شاہ کو ٹہوکا دے گیا جو چودھری حشمت کے فیصلے پہ عش عش کر اٹھا تھا۔
چودھری بخت اور دیا ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔ اس جذباتی منظر کے بعد انکار کرکے وہ انہیں دکھی کرنا نہیں چاہ رہے تھے۔
’’ٹھیک ہے بابا جان… جیسی آپ کی مرضی۔‘‘ اور شنائیہ کی آخری آس بھی دم توڑ گئی تھی۔ وہ دھندلی آنکھوں سے دیا کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جو نظر چرا رہی تھیں۔
’’مجھے چھوڑ کے مت جائو…‘‘ اس کے خاموش لب دہائی دے رہے تھے۔ ماہم اس کا ہاتھ تھپکنے لگی۔
’’چلو جی مستقبل قریب کا اندیشہ کے ڈاکٹر کے لیے ہم کہاں مارے مارے پھریں گے… ہسپتال کے لیے زمین دیکھنے کا کام آج سے ہی شروع کردیتے ہیں۔ میرے بھائی…‘‘ ناشتے سے فارغ ہوکر وہ لوگ نکل رہے تھے اور شنائیہ دیا سے لپٹ کر ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ ایسے میں شاہ زرشمعون کا دل جلانے والا جملہ سماعت کی نذر ہوا تو مزید جل بھن گئی۔
’’غالباً لوگ رخصتی کی پریکٹس کرکے فیلنگ کرائننگ کا اسٹیٹس اپ لوڈ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘ اس کی سوجی آنکھوں اور گلابی ناک پہ استہزائیہ نظر ڈالتے شاہ زرشمعون براہ راست چوٹ کرنے سے نا چوکا۔
’’کہاں تو لوگ حویلی آنے سے کتراتے تھے‘ لیکن آئے… کہاں نکاح سے انکاری تھے‘ لیکن قبول ہے کہہ گئے… اور اب بھاگنے کے دروازے بھی بند ہوگئے… ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جلدی سے پوسٹ لگائیں تاکہ میں بھی آکر دکھی سا کمنٹ کردوں…‘‘ جانے وہ کس بات کا بدلہ لے رہا تھا۔ شنائیہ بھی مشتعل ہوگئی۔
’’منالیں جشن اپنی جیت کا… میں بھی دیکھتی ہوں کب تک اس جیت کا خمار رہتا ہے… بہت شوق ہے ناں مجھے حویلی میں رکھنے کا… پورا کریں… نفل پڑھیں‘ شکرانے کے… لیکن یاد رہے… اتنا عاجز کردوں گی کہ خود شہر چھوڑنے جائیں گے…‘‘ وہ جس قدر خاموش تھی۔ وہ حاوی ہورہا تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی نکاح کرکے اس کے اندر غصے کا آتش فشاں پہلے ہی پک رہا تھا اور اب اس کے طعنوں اور ہرزہ سرائی پہ وہ پھٹ پڑی۔
شاہ زرشمعون کی پیشانی پہ بل پڑگئے۔ وہ دوبدو جواب دے کر شاہ زرشمعون کو چیلنج کر گئی تھی۔
’’ویٹ اینڈ سی۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہی تھی اور وہ لب بھینچے شرر بار نظروں سے دیکھتا رہ گیا تھا۔

(ان شاء اﷲ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close