Aanchal Feb 2019

عشق دی ماری میں جھلی(حصہ۲)

صائمہ قریشی

میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر
جدا کروں گا تو کیا کروں گا
یہ ٹھیک کہتے ہیں بے وفا ہوں
وفا کروں گا تو کیا کروں گا

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

حسن اور شجیعہ محبت کی شادی کرتے ہیں لیکن حسن کے گھر والے اس شادی سے لاعلم ہوتے ہیں۔ حسن بانو آپا کی باتوں سے کبھی کبھی الجھ جاتا ہے لیکن وہ بانو آپا اور شجیعہ کے اصل رشتے سے لاعلم ہوتا ہے اسے صرف یہ پتا ہوتا ہے کہ بانو آپا شجیعہ کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ شمع اور ہاجرہ حکیم اللہ کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ شمع کی خواہش کے برعکس کلیم اللہ اس کا رشتہ اپنے بھتیجے جمشید سے طے کردیتے ہیں اور عین بارات کی آمد کے وقت اپنے بڑے بھائی کلیم اللہ کے گھر جا کر انہیں اپنی چھوٹی بیٹی ہاجرہ سے دوسرے بیٹے کے رشتے کے لیے مجبور کرتے ہیں یہ بات کلیم اللہ اور ان کی بیگم خدیجہ کو ناگوار گزرتی ہے مگر وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ کوئی واضح جواب نہیں دیتے۔ حکیم اللہ مزاجاً ضدی اور ہٹ دھرم شخص ہوتے ہیں اسی لیے شمع ماں باپ کی عزت کا خیال کرتے ہوئے جبراً اس رشتے پر راضی ہوجاتی ہے جبکہ ہاجرہ مزاجا دبنے والی نہیں ہوتی اور اپنی مرضی کے برخلاف کوئی بات ماننا اس کی فطرت میں شامل ہی نہیں۔ عبدالمعید اور شفیق گہرے دوست ہوتے ہیں عبدالمعید اپنی بیٹی کو جس کے بارے میں شفیق کو شک ہوتا ہے کہ وہ ان کی سگی بیٹی ہے کہ نہیں شفیق اور ان کی بیگم آسیہ بھابی کے حوالے کردیتا ہے۔ عبدالمعید اپنی نوکری کی وجہ سے بچی کی پرورش کرنے سے قاصر رہتے ہے بہت رد و کد کے بعد شفیق اور ان کی بیگم یہ ذمہ داری سنبھال لیتے ہیں اب عبدالمعید کی بیٹی یونیورسٹی کی طالبہ ہوتی ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

وہ نظریں جھکائے، خراماں خراماں چلتی اسٹیج کی جانب قدم بڑھا رہی تھی، ہاجرہ نے اسے تھام رکھا تھا اور تین چار لڑکیاں بھی اس کا ساتھ دے رہی تھیں، ہاجرہ کی ہنسی اور شوخیاں عروج پر تھیں اور لائبہ بیگم کی کڑی نگاہیں ہمہ وقت اس پر مرکوز… لیکن اس پر ان کی خشمگیں نگاہوں کا رتی بھر بھی اثر نہ تھا۔
’’شمع باجی تمہاری منزل تو آگئی… اب آرام سے بیٹھو۔‘‘ شمع کو صوفہ پر بیٹھاتے ہوئے ہاجرہ بولی۔ شمع گھنی پلکوں کو جھکائے بیٹھی اپنے دل کو ڈپٹ رہی تھی۔ مہینوں کی آس و امید نے بھی آج دم توڑ دیا تھا، ہمیشہ یہی سنا تھا کہ نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ بندھن ہوتا ہے دلوں کا… لیکن شمع کا دل۔
’’باجی کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ ہاجرہ اس کی جیولری سیٹ کر رہی تھی۔ اسے سوچ میں گم دیکھ کر چونکی۔
’’کچھ نہیں…‘‘ اس نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’آپ کے شوہر نامدار کا آرڈر ہے کہ کوئی رسم نہیں ہوگی اور وہ اسٹیج پر بھی نہیں آئیں گے۔ لگتا ہے انہیں رخصتی کی بہت جلدی ہے۔‘‘ ہاجرہ نے اطلاع دی اور آخر میں اسے چھیڑا لیکن اس کا چہرہ بے رنگ ہی رہا۔ اسی سپاٹ چہرے اور خاموش دھڑکن کے ساتھ شمع نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔ قرآن پاک کے سائے تلے اپنوں کی دعائیں لیتی جمشید کے ہمراہ وہ آغا کلیم اللہ کی حویلی سے رخصت ہوگئی جہاں حویلی کی گہری خاموشی اور ویرانی نے ان کا استقبال کیا تھا۔
’’آج سارا دن تمہیں ڈھونڈتی رہی، لیکن تم نظر نہیں آئے۔‘‘ ہاجرہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے انتہائی غصلے انداز میں اس پر برس رہی تھی۔ وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔ اس کی طرف دیکھا اور اگلے ہی لمحے نظریں چرا گیا۔ مدہم پڑتا میک اپ چہرے پر تھکن کے آثار، بکھرے بال، ہاجرہ پر اس کی نظریں زیادہ دیر نہ ٹک سکیں۔
’’کہاں رہے سارا دن؟ اتنا بھی نہ کرسکے کہ باجی کے چلے جانے پر تسلی کے دو بول ہی بول دو۔‘‘ کچھ فاصلے پر رکھی کرسی پر بیٹھتی وہ اب نروٹھے پن میں شکایت کررہی تھی۔ وہ دھیرے سے مسکرایا۔
’’میں وہیں تھا، آپ کے آس پاس… آپ کو مہمانوں کو اٹینڈ کرتے دیکھتا رہا۔ آپ کے کام میں مداخلت کرنا مناسب نہ لگا مجھے…‘‘ وہ نظریں جھکائے اپنے مخصوص انداز میں اس کی شکایت پر اپنی لاتعلقی کی وضاحت پیش کررہا تھا۔
’’رضا کتنی بار کہوں کہ میرے ساتھ آپ جناب والا رویہ نہ رکھا کرو۔‘‘ وہ جھنجھلائی تو وہ ایک بار پھر مسکرایا۔
’’میں مصروف و مگن ضرور تھی لیکن لاتعلق نہیں، تم مجھے کہیں نظر نہیں آئے۔‘‘ وہ منہ بسور کر بولی۔
’’کیا میرا احساس کافی نہیں؟‘‘ رضا مدھم آواز میں بولا۔ شاید یہ احساس اس تک نہ پہنچا تھا۔
’’رضا… نہیں کچھ نہیں۔‘‘ وہ کچھ کہتے ہوئے رکی، رضا نے اچٹتی نظر اس پر کی۔
’’تم بہت تھک چکی ہو۔ جائو اب آرام کرو…‘‘ رضا نے اس کی ادھوری بات کی تکمیل کی خواہش نہ کی اور اسے جانے کا کہا، اسی انداز میں جیسے وہ چاہتی تھی۔
’’رضا تم…‘‘ وہ دانت کچکچا کر بولی۔
’’تھک چکا ہوں میں بھی…‘‘ وہ دھیرے سے مسکرایا۔ ہاجرہ سرد آہ بھر کر بنا مزید کوئی بات کیے وہاں سے چلی گئی اور رضا کی خوابیدہ نگاہوں نے دور تک اس کا تعاقب کیا اور پھر
وہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا، وہ واقعی تھکا ہوا تھا۔ اتنے دنوں کی بے آرامی تھی اور ایک انجانا خوف بھی، بے نام سی الجھن اور بہت سی سوچوں کو جھٹک کر آنکھیں موندی اور پھر کب نیند نے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا اسے خبر نہ ہوئی تھی۔

’’کیا باجی کے بغیر زندگی اتنی ویران لگے گی؟ چند ہی گھنٹوں میں، میں تو بور ہوگئی ہوں۔‘‘ انداز شکایت سے بھرپور تھا لیکن جواب ندارد۔
’’اماں… سو گئی ہیں کیا؟‘‘ ہاجرہ نے رانیہ بیگم کے کمبل کو ذرا سا سرکایا۔
’’نہیں جاگ رہی ہوں…‘‘ رانیہ بیگم نے یک لخت آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
’’اماں باجی کے بغیر گھر کتنا سونا ہوگیا ہے ناں؟‘‘ ہاجرہ نے کمبل سیدھا کیا اور رانیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’ہاں ہو تو گیا ہے۔‘‘ رانیہ بیگم نے گہری سانس خارج کی۔
’’اماں مجھے لگتا ہے باجی خوش نہیں تھیں۔‘‘ ہاجرہ نے اپنی فکر رانیہ بیگم کے گوش گزار کی۔ انہوں نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’شمع نے کچھ کہا ہے کیا؟‘‘ رانیہ بیگم نے ہاجرہ سے پوچھا۔
’’نہیں اماں… آپ تو جانتی ہیں باجی کب کچھ کہتی ہیں لیکن ان کا انداز… اماں وہ خوش نہیں تھیں۔‘‘ ہاجرہ نے روہانسی انداز میں کہا۔ رانیہ بیگم نے اسے دیکھا اور دھیرے سے مسکرائی۔
’’خوش نہیں ہے تو خوش ہوجائے گی… ایک نئے رشتے میں ڈھلنا، اس کی ذمہ داریاں نبھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘‘ رانیہ بیگم کے مطمئن انداز نے ہاجرہ کو حیران کیا۔
’’اماں…!‘‘
’’تو فکر نہ کر‘ وہ ٹھیک ہے۔ نئے گھر اور ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے میں وقت لگتا ہے۔‘‘ اس سے پہلے کہ ہاجرہ کچھ کہتی رانیہ بیگم کا موڈ بدل گیا۔ چند لمحے پہلے والی ملائمت، سنجیدگی میں ڈھل چکی تھی، ہاجرہ نے متعجب نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’اماں باجی کون سا کسی انجان لوگوں میں گئی ہیں کہ نئے ماحول کو اپنانے میں وقت لگے گا؟ جمشید بھائی اور تایا کو تو وہ بچپن سے دیکھتی آئی ہیں۔‘‘ ہاجرہ کی حیرت بجا تھی۔
’’جب رشتہ بدل جاتا ہے تو سب انجان ہوجاتے ہیں۔‘‘ رانیہ کے لہجے میں کڑواہٹ در آئی تھی۔
’’لیکن اماں…‘‘
’’تو جا اب آرام کرلے تھوڑا سا… کل ولیمہ ہے تو تو جلدی چلی جانا۔‘‘ رانیہ بیگم کے کہنے پر وہ خاموش ہوگئی۔
’’اماں ایک بات تو بتاؤ۔ بابا، تایا کی طرف کیوں گئے تھے…؟‘‘ وہ ان کی طرف کھوجتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’مجھے نہیں پتا۔‘‘
’’اماں آپ کو تو کبھی بھی کچھ بھی پتا نہیں ہوتا۔‘‘ ہاجرہ ناگواری سے بولی۔
’’ہاں کیوں کہ مجھے دلچسپی ہی نہیں ہوتی۔‘‘ رانیہ بیگم کے چہرے پر اب نفرت آمیز تاثرات ابھرے تھے۔ جنہیں ہاجرہ نے بے انتہا حیرت سے دیکھا اور پھر ان کی لاتعلقی پر وہاں سے باہر نکل گئی۔
’’پتہ نہیں یہ کیسے رشتے اور زندگی ہے۔ کسی کو بھی دوسرے کی پروا نہیں اور ہر کوئی اختیارات چاہتا ہے۔‘‘ ہاجرہ اپنے کمرے میں آگئی، بہت زیادہ تھکان کے باوجود وہ سو نہیں سکی تھی۔ شمع نے اسے کچھ بھی نہ کہا تھا، لیکن اس کی بے زارگی اور خاموشی اسے باور کروا رہی تھی کہ وہ خوش نہیں ہے۔
’’شاید اپنا گھر چھوڑنا ایک مشکل مراحلہ ہوتا ہے، باجی بھی اسی لیے اداس ہوں گی۔‘‘ ہاجرہ نے خود کلامی کی اور لیٹ گئی۔ آنکھیں موندتے ہی ایک چہرہ اس کے تصور میں ابھرا تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور پھر خود کو سرزنش کرتے کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ واضح کررہی تھی کہ تصور میں رنگینیاں ہیں۔

’’یہ بارش
یہ موسم
یہ ٹھنڈی ہوائیں
وہ ہاتھوں میں ڈال کے ہاتھوں کو
وہ دور تک چلنا، وہ ہنسنا ہنسانا
چاہتوں کے پل
یہ محبت کی کہانی
دلکش باتیں
وہ دل ربا ادائیں
چلو ساتھ یونہی ہمدم
یہ ہیں محبت کی صدائیں…‘‘

’’بہت خوب، ایکسیلینٹ…‘‘ مدھم، دلکش مسکراہٹ کے ساتھ اس نے نظم پڑھی تو وہ بے اختیار داد دینے لگا۔
’’مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ تم شاعری بھی کرسکتی ہو۔‘‘ اس نے اس پر نظریں جمائے کہا۔
’’کیوں… یقین کیوں نہیں آرہا؟‘‘ اس نے اس کی بے یقینی پر گھورا۔ وہ فقط کندھے اچکا کر رہ گیا۔
’’اب میں اتنی بھی نا اہل نہیں ہوں۔‘‘ اس نے قدرے بگڑے موڈ کے ساتھ کہا۔
’’ہاہاہا… ہاں واقعی…‘‘ شریر انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔
’’اب تم مجھے شک کی نظر سے دیکھ رہے ہو…‘‘ وہ منہ بسور کر نظریں چرا گئی۔
’’شک؟ دیکھو میری آنکھوں میں، کیا تمہیں یہاں کوئی شک نظر آرہا ہے؟‘‘ وہ اس کی طرف جھکا۔ وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔ ورنہ کیا جانتی نہ تھی کہ ان چمکتی آنکھوں میں اس لمحے شک نہیں، ہر طرف محبت پھیلی ہوئی تھی۔ نظریں جھکا گئی… چہرہ گلال بکھیرنے لگا۔
’’دیکھو اور بتائو۔‘‘ وہ بضد ہوا۔ اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’ہے شک۔‘‘ وہ کچھ نہ بولی تو اس نے پھر پوچھا وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’تو… کیا ہے؟‘‘ مدھم مسکراہٹ ابھری۔
’’کیا ہے…‘‘ وہ پھر بولا۔ وہ کسمسا کر رہ گئی۔
’’محبت…‘‘ وہ نظریں جھکائے دھڑکنوں کو قابو کرتی مدھم لہجے میں بولی۔
’’اور محبت کو شک کی نظر سے دیکھنے والے کو کیا سزا ملنی چاہیے؟‘‘ وہ اپنی نظروں کو اس پر جماکے اس کے اوسان خطا کرتے ہوئے شرارت سے بولا۔ اس نے یک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’محبت…‘‘ مسکراہٹ دبا کر بولی۔
’’ہاہاہا… تم تو واقعی نا اہل نہیں ہو…‘‘ اب وہ مسکرا رہا تھا۔ وہ لب بھینچ کر رہ گئی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اس کی بے وقت کی خاموشی اس کو کھٹکنے لگی۔
’’کچھ نہیں…‘‘ وہ نہ جانے کیوں خاموش تھی۔ ایک بے نام سی الجھن نے حسن کو جکڑا ہوا تھا۔
’’شجو…‘‘ وہ نرم لہجے میں اس کا ہاتھ پکڑ کر متفکرانہ انداز میں بولا۔ ’’کیا ہوا…‘‘ اس کے لہجے کی محبت اور اپنائیت نے شجیعہ کو سرشار کردیا۔
’’حسن… وہ… مجھے… حسن تم…‘‘
’’کیا ہوا؟ سب خیریت تو ہے ناں؟‘‘ یک دم ہی اس کے انداز نے اس کو بے چین کردیا۔ اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کے وہ بولا تو شجیعہ نے متعجب نظروں سے اسے دیکھا۔
’’تم بہت اچھے ہو…‘‘ دوسرے پل وہ کھلکھلا کر ہنسی۔ حسن نے متغیر نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ ہنسے جا رہی تھی اور حسن اس پل ہونقوں کی طرح اس کی ہنسی کو دیکھ رہا تھا۔
’’سوری… سوری…‘‘ بے تحاشہ ہنسنے کے باعث آنکھوں میں آئے پانی کو پوروں سے چنتے ہوئے بولی۔ حسن ابھی تک کچھ نہ سمجھا تھا۔
’’ایسے ہی مذاق کررہی تھی ناں… تم خود سوچو بھلا بیٹھے بٹھائے مجھے کیا ہوگا…‘‘ حسن نے یک دم اس کا ہاتھ چھوڑا۔
’’نہیں…‘‘ شجیعہ نے برق رفتاری سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ لمس میں شدت پر حسن نے اسے دیکھا۔
’’میرا ہاتھ کبھی نہ چھوڑنا۔‘‘ اب وہ انتہا کی سنجیدہ ہوئی۔
’’چھوڑ دیا تو…‘‘ اب کہ حسن نے اس کو تنگ کیا لیکن اس کی شدتوں نے اسے چونکایا۔
’’تو… مر جائوں گی میں…‘‘ شجیعہ نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے شدت جذبات میں ڈوب کر کہا۔
’’پاگل ہوگئی ہو کیا…؟ بھلا ایسے بھی کوئی مر جاتا ہے۔‘‘ حسن نے اسے ڈانٹا۔ وہ کھکھلا کر ہنس دی۔
’’ایسے تو نہیں مرنا ناں… ایسے مرنا ہے…‘‘ دوسرے پل شجیعہ آنکھوں کو بند کرکے ڈھیلے ڈھالے انداز میں صوفے پر گر گئی۔
’’جان لے لوں گا تمہاری‘ اگر کوئی فضول ڈرامہ کیا تو…‘‘ حسن نے کڑے تیوروں سے اسے دیکھا اور ترش لہجے میں اس کو خبردار کیا۔
’’تم جان لوگے… تو میں نے بھی تو جان دینے کی بات کی ہے ناں…‘‘ شجیعہ شریر لہجے میں بولی۔
’’تم اب مار کھائو گی مجھ سے…‘‘ حسن نروٹھے انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’ہاہاہا…‘‘ وہ ایک بار پھر کھلکھلائی۔
’’ابھی تک بانو آپا نہیں آئیں؟‘‘ حسن نے اس کی کھلکھلاہٹ کو دلچسپی سے دیکھا اور اس سے پہلے کہ اس کی دلچسپی کوئی اور صورت اختیار کرتی شجیعہ نے موضوع بدل دیا۔ حسن نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا جب کہ وہ اب فون کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
یک لخت ہی اس نے وقت دیکھا بانو آپا کی واپسی کے وقت سے پینتالیس منٹ اوپر ہوچکے تھے۔ وہ ان کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔ مسلسل بیل جا رہی تھی لیکن کال ریسیو نہیں ہورہی تھی۔ شجیعہ کے چہرے پر الجھن نمایاں تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ حسن نے اس کی طرف دیکھا۔
’’بانو آپا فون نہیں اٹھا رہیں…‘‘ شجیعہ فکر مندی سے بولی۔ حسن نے اسے تسلی دی۔ تو وہ دوبارہ نمبر ڈائل کرنے لگی۔
’’بانو آپا…‘‘ کال ابھی تک ریسیو نہ کی گئی لیکن دروازے کھلنے کی آواز پر شجیعہ یک دم اٹھ کھڑی ہوئی اور بانو آپا کو دیکھ کر ان سے لپٹ گئی۔
’’کیا ہوا… خیریت تو ہے ناں؟‘‘ بانو آپا نے نہایت حیرت سے پہلے شجیعہ اور پھر حسن کو دیکھا۔
’’اتنا لیٹ کیوں ہوگئیں۔‘‘ نروٹھے لہجے میں ان سے پوچھتی بانو آپا کے ساتھ ساتھ حسن کو بھی چونکا گئی۔
’’روڈ بلاک تھا، ٹریفک میں پھنس گئی تھی اس لیے لیٹ ہوگئی…‘‘ بانو آپا نے مسکرا کر کہا۔
’’ہاں… تو ایک میسج ہی کردیتیں۔‘‘ وہ نروٹھے انداز میں اب اپنی بے اختیار حرکت پر شرمندہ ہوئی۔ بانو آپا کے لیے اس کے اس انداز پر حسن نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا۔
’’میں نے سوچا ’’لو برڈذ‘‘ مصروف ہوں گے تو ڈسٹرب نہ کروں۔‘‘ بانو آپا نے اس کی طرف جھک کر سرگوشی کی تو شجیعہ خجل سی مسکرادی۔
’’کھانا کھا لیا؟‘‘ بانو آپا بشاش لہجے میں پوچھنے لگی تو شجیعہ نے نفی میں سر ہلایا۔
’’کہاں آپا… آپ کے انتظار میں آپ کی چہیتی نے مجھے بھی ابھی تک بھوکا بیٹھا رکھا ہے۔‘‘ حسن نے جواب دیا تو شجیعہ نے حیرت سے حسن کو دیکھا۔
’’بری بات شجیعہ… اچھا تم کھانا گرم کرو میں فریش ہوکر آتی ہوں۔‘‘ بانو آپا نے شجیعہ کے گال تھپتھپا کر کہا، اس کے اثبات میں سر ہلاتے ہی وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ شجیعہ کچن کی طرف بڑھتے ہوئے ٹھٹکی‘ پلٹ کر دیکھا تو حسن اس پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
’’میرے لیے تو کبھی اتنی بے قرار نہیں ہوئیں۔‘‘ حسن کی شکایت کو شجیعہ نے اچٹتی نظروں سے دیکھا۔
’’تم ہمیشہ جلتے ہی رہنا۔‘‘ شجیعہ نے غصیلی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’تو جلانے والے کام نہ کیا کرو ناں۔‘‘ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے ٹی وی کا ریمورٹ اٹھا کر بولا۔
’’اور کتنی دفعہ کہا ہے کہ تم اپنا مقابلہ بانو آپا سے نہ کیا کرو۔‘‘ شجیعہ نے ابرو اچکاکر اسے دیکھا۔
’’اچھا… لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا، میرے ہوتے ہوئے ان کے لیے تمہاری بے قراریاں۔‘‘ حسن کے الفاظ نے شجیعہ کو چونکایا۔ وقتاً فوقتاً صاف لفظوں میں وہ اسے تنبیہہ کرنے لگا تھا۔
’’کیا… کیا کہا تم نے؟‘‘ شجیعہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور بے یقینی سے اس کے انداز کو دیکھتے استفسار کیا۔
’’سب سے پہلے تو تم اپنا لب و لہجہ درست کرو مسز شجیعہ حسن‘ شوہر ہوں تمہارا۔ کوئی ادب آداب ہیں کہ نہیں؟‘‘ حسن نے اس کو جارحانہ انداز میں اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر سنجیدگی سے کہا تو اس کے قدم جامد ہوگئے۔ حسن نے سرسری نظر اس پر ڈالی اور چینل بدلنے لگا، جب کہ حسن کے سپاٹ و بے گانہ انداز نے اس پل شجیعہ پر سکتہ طاری کردیا تھا۔

اکلوتے بیٹے کو سات سمندر پار بھیج دینا مسز سکندر کے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن اس کی قابلیت کو بھی وہ ضائع نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ ساتھ رہ کر ساری تیاری تو کروا دی لیکن جیسے جیسے اس کے باہر جانے کے دن نزدیک آتے جا رہے تھے مسز سکندر کا دل سکھڑتا جارہا تھا۔
’’امی…‘‘ وہ کمرے سے نکل کر باہر صحن میں کھڑی تھیں تبھی اس کی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔
’’آپ ایسے دل چھوٹا کریں گی تو میں نہیں جاتا۔‘‘ وہ ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔ مسز سکندر نے اسے دیکھا چہرے پر پریشانی اور سنجیدگی ظاہر کررہی تھی کہ وہ جو کہہ رہا ہے کر بھی گزرے گا۔
’’اب اتنا حوصلہ نہیں ہے ناں…‘‘ مسز سکندر نے اسے محبت سے دیکھا۔
’’اپنی اکلوتی اولاد کو اپنے آپ سے دور کردینا آسان نہیں ہوتا۔‘‘ مسز سکندر نے نم پلکوں کو پوروں سے رگڑ کر کہا۔
’’امی… اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب بندہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے گھر سے دوری کا احساس نہیں ہوتا، ہر لمحہ کا رابطہ ممکن ہے اب تو‘ پل پل کی خبر مل سکتی ہے، ویڈیو کال، میسجز، کال ہر سہولت موجود ہے۔‘‘
’’جانتی ہوں…‘‘ مسز سکندر نے اسے دیکھا۔
’’جانتی ہیں تو پھر فکر نہ کریں۔‘‘
’’ماں بیٹے کا یہاں ڈرامہ چل رہا ہے اور ساری پیکنگ مجھ سے کروالی۔‘‘ ردا نے دونوں کو خشمگیں نظروں سے دیکھا۔
’’ویسے ایک بات تمہیں بتائوں۔‘‘ ردا کو دیکھتے ہی وہ بولا تو اس نے سوالیہ نظروں سے بھائی کو دیکھا۔
’’ہاں بتائیں…‘‘ وہ منہ بسورتے بولی۔
’’امی تمہیں اپنی اولاد ہی نہیں سمجھتیں۔‘‘ وہ مسکراہٹ دبا کر بولا۔ ’’ابھی ابھی مجھے کہہ رہی تھیں کہ اکلوتی اولاد کو دور بھیجنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘‘
’’امی…؟‘‘ ردا چلائی جب کہ مسز سکندر نے بے حد حیرانی سے بیٹے کو دیکھا۔
’’بھئی میں آخر اکلوتا ہی ہوں ناں بالکل تمہاری طرح۔‘‘ اس نے دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیری۔
’’بھائی آپ واقعی کل چلے جائیں گے؟‘‘ ردا کی رنجیدہ آواز پر اس کی مسکراہٹ مدھم ہوئی۔
’’یار صرف تین سال کی تو بات ہے اور ہر وقت رابطہ تو رہے گا ان شاء اللہ۔‘‘ وہ قدرے جھنجھلا کر بولا۔
’’صرف تین سال…‘‘ ردا نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا۔
’’اچھا اب مجھے تو نہ پریشان کرو‘ ایسی شکلیں بنائوگی تو کیسے جائوں گا؟ تمہارے بھروسے ہی تو امی کو چھوڑے جا رہا ہوں۔‘‘
’’اچھا بھائی آپ آرام سے ریلیکس ہوکر جائیں۔‘‘ ردا نے کہا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ تو وہ بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھا، کل اس کی فلائیٹ تھی اور ابھی کافی ساری تیاری باقی تھی۔

’’بہت سی دوسری باتوں کی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ ’مینٹل ڈس آرڈر‘ کی ٹریٹمنٹ کرنے والا خود بھی اسی بیماری کا شکار ہو۔‘‘ اس نے جھنجھلا کر کہا۔
’’ارے یار سیدھی طرح کہو ناں پاگلوں کا علاج کرنے والا پاگل نہیں ہوتا۔‘‘ ایئر پیس سے ابھرتی آواز پر اس نے دانت پیسے۔
’’سب سے پہلے تمہارا ہی علاج کروں گا۔ بس میری ڈگری مکمل ہونے دے…‘‘
’’ہاہاہا… پہلے اپنا علاج کرنا تم بچ گئے تو پھر میں بھی تم سے ہی علاج کروائوں گا۔‘‘ احمر نے اس کا مذاق اڑایا۔
’’اچھا چلو دیکھ لیتے ہیں۔ میں کل یوکے پہنچ جائوں گا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ گیرین ویج ٹائم ڈھائی بجے لینڈنگ ٹائم ہے۔‘‘
’’جی آیاں نوں…‘‘ احمر نے خوشی سے اسے ویلکم کیا اور پھر چند ادھر ادھر کی باتوں کے بعد فون بند کردیا۔
ماں اور بہن کو چھوڑ کر وہ چلا گیا تھا، اس کے جانے کے تیسرے دن ہی اس نے یونیورسٹی جوائن کرلی تھی۔ وہ چلا گیا تو اس چھوٹے سے گھر کے شب و روز میں بھی تبدیلی آنے لگی تھی۔
ردا اور مسز سکندر بھی آہستہ آہستہ ایک نئی طرز کے مطابق شب و روز گزارنے لگیں اور وہ بھی ایک نئے ماحول میں شامل ہونے کی کوشش کرنے لگا تھا۔

موسم بدل رہا تھا، وہ دن جو اندھیروں سے شروع ہوکر کہیں اندھیروں میں ہی گم ہوجاتے تھے اب اجالوں کی طرف بڑھنے لگے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے موسم کی تبدیلی واضح ہو رہی تھی۔ یوکے کے شہر آکسفورڈ میں چہار سو پھیلے اندھیروں کی مدت پوری ہوچکی تھی۔ اب بہار کا راج تھا۔ ان کی زندگی ایک مخصوص رفتار سے اسی نہج پر رواں دواں تھی۔

بعض لوگ بہت بہادر ہوتے ہیں، اپنے آپ کو ہر طرح کے حالات کے سانچے میں ڈھال کر مسائل کے ساتھ سمجھوتا کرلیتے ہیں۔ اطمینان سے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ یہ ان کا اپنے حق میں ایک بہتر فیصلہ ہوتا ہے اور بعض لوگ حالات کی ستم ظریفی کو اپنے اوپر اس حد تک طاری کرلیتے ہیں کہ ذہنی طور پر مفلوج ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن میں قوت مدافعت صفر ہوتی ہے، جو مشکلات کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ وہ صرف ایک ہی بات سوچ کر اس ڈگر پر چل پڑتے ہیں کہ اب کچھ بھی ممکن نہیں، زندگی اب ایسے ہی گزرے گی۔ عبدالمعید کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جو پریشانیوں سے گھبرا جاتے ہیں۔ فیصلے تو کرلیتے ہیں لیکن فیصلوں کی کٹھنائیوں کو سمجھنا مشکل لگتا ہے۔
’’اللہ اکبر… اللہ اکبر… اللہ اکبر… اللہ اکبر… اشھد ان لا الہ الا اللہ…‘‘ موبائل کے اذان ایپ پر فجر کی اذان کمرے میں گونج رہی تھی۔ اس نے بہ مشکل آنکھوں کو کھولا۔
’’اشھدُ ان محمد الرسول اللہ‘‘ ایک ہاتھ سے آنکھیں ملتے ہوئی دوسرے ہاتھ سے لیٹے لیٹے ہی اس نے دوپٹے سے سر کو ڈھانپ لیا تھا۔
اذان ختم ہوتے ہی وہ برق رفتاری سے اٹھی‘ وضو کیا اور پھر عبدالمعید کو اٹھایا۔ پچھلے ایک سال سے یہ اس کا معمول بن چکا تھا اور عبدالمعید کو بھی عادت ہوچکی تھی۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ اپنے اور عبدالمعید کے لیے چائے بناتی، تب تک وہ بھی نماز ادا کرکے سیٹنگ روم میں اپنے مخصوص صوفہ پر بیٹھ جاتے اور پھر دونوں چائے سے لطف اندوز ہوتے۔
’’ڈیڈ… موسم بدل رہا ہے ناں۔‘‘ وہ چائے کی ٹرے صوفہ کے ساتھ رکھے اسٹول پر رکھ کر عبدالمعید سے مخاطب ہوئی تو انہوں نے اسے دیکھا۔
’’ہاں موسم تو واقعی بدل گیا ہے۔‘‘ عبدالمعید نے گہرا سانس لیا، وہ اب پردے ہٹا رہی تھی اور سورج کی روشنی ہر طرف پھیل گئی تھی۔ عبدالمعید نے اسے دیکھا اور مسکرادیے۔
’’تو کیا خیال ہے ڈیڈ‘ گارڈننگ ہی شروع کریں یا اس سال کچھ اور پلان کریں؟‘‘ اپنا کپ اٹھاتے ہوئے اس نے ان سے پوچھا۔
’’تم کچھ اور کرو، میں تو گارڈننگ ہی کروں گا۔‘‘ عبدالمعید چائے کا سپ لیتے ہوئے بولے۔ ’’اور میں تو کافی سارے بیج بھی لے آیا ہوں…‘‘ عبدالمعید مزید گویا ہوئے تو اس نے چونک کر انہیں دیکھا۔
’’واٹ…! بٹ وائے؟ آپ نے تو کہا تھا سیڈز شاپنگ ایک ساتھ کریں گے۔‘‘ انہیں دیکھ کر وہ شکایت شکایتی انداز میں بولی۔
’’میں نے سوچا کہ وقت کی بچت کی جائے۔‘‘ عبدالمعید نے اس کے نروٹھے لہجے سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔
’’وقت کی بچت؟‘‘ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’مطلب جب تمہارے پاس ٹائم ہوگا تو سیڈز لگا دیں گے۔‘‘ وہ مسکرائے۔
تقریباً دو سال سے عبدالمعید نے اسے زیادہ وقت دینا شروع کردیا تھا، اس کے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش میں مختلف ایکٹویٹیز کرتے‘ کبھی ڈرائیو کرنے، کبھی کھانے پکانے میں اس کی مدد کرتے، موسم کے حساب سے گھر کو بھی سیٹ کرتے اور اسے ہر کام میں اپنے ساتھ شامل رکھتے تھے۔ اب انہوں نے گارڈن میں ایک طرف چھوٹا سا باغیچہ ترتیب دے رکھا تھا اور دو سال سے بہار کا استقبال بہت پر جوش انداز میں کرتے تھے۔
’’ٹھیک ہے آپ گارڈن سیٹ کریں، میں نے ویسے بھی اس سال کچھ اور پلان کیا ہے۔‘‘ چائے کا سپ لیتے ہوئے وہ ان کو حیران کر گئی۔
’’اور پلان کیا ہے…! وہ کیا؟‘‘ عبدالمعید نے اصرار کیا۔
’’میں کیوں بتائوں؟‘‘ وہ اب خفا ہوچکی تھی۔
’’بتائو ناں…‘‘ عبدالمعید بچوں کی طرح منہ بسور کر بولے۔
’’نو وے… آپ نے جو چیٹنگ کی ہے اس کی سزا ملے گی۔‘‘ وہ ٹرے اٹھا کر بولی۔
’’جو بھی ہے چیٹنگ تو چیٹنگ ہوتی ہے۔‘‘ وہ ان کی دلیل سے قائل نہ ہوئی۔ ’’اچھا ڈیڈ میرا ایک پارسل آئے گا تو اس کو ہاتھ لگائے بغیر میرے روم میں رکھ دیجیے۔‘‘
’’میں تو ہاتھ لگائوں گا۔‘‘ عبدالمعید اس کی ہدایت پر محفوظ ہوتے ہوئے بولے۔
’’ڈیڈ…‘‘ وہ ان کی طرف پلٹی اور تنبیہہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’مائی سوئٹ پرنسس ہاتھ نہیں لگائوں گا تو روم میں کیسے رکھوں گا۔‘‘ عبدالمعید نے اس کے بھولے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔
’’او… ہو… ڈیڈ… آئی مین میرے پارسل کو اوپن نہیں کیجیے گا۔‘‘ ان کی وضاحت پر وہ جھنجلائی۔ ’’میرے پارسل کو کھولنا نہیں ڈیڈ… ورنہ…‘‘ ان کے قہقہے پر وہ ان کو وارننگ دینے لگی۔
’’ٹھیک ہے نہیں کھولوں گا۔‘‘ عبدالمعید نے اسے مزید زچ کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔
’’یو بیٹر ناٹ ڈیڈ۔‘‘ وہ مصنوعی خفگی سے ان کو دیکھ کر بولی۔
’’میری جھلی دھی۔‘‘ وہ پلٹی تو عبدالمعید کے منہ سے یہ تین لفظ نکلے۔
’’اور میرے جھلے ڈیڈ۔‘‘ وہ منہ بسور کر بولی اور باہر کی جانب بڑھ گئی۔ ’’ڈیڈ میں یونیورسٹی کے لیے تیار ہونے لگی ہوں۔‘‘ دروازے تک پہنچ کر وہ مڑ کر عبدالمعید کو دیکھ کر بتانے لگی انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ باہر نکل گئی۔
عبدالمعید وہاں ہی بیٹھے سوچتے رہے کتنا مشکل وقت گزارا تھا انہوں نے ایک بیٹی کی پرورش کی ذمہ داری، وہ بھی ایک ایسے انسان پر جس نے کبھی کوئی ذمہ داری اٹھائی نہ تھی۔ زندگی کو کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہ تھا جو ہوگا دیکھا جائے گا‘ جب وقت آئے گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا‘ بس یہی فارمولے تھے جن پر وہ ہمیشہ کار بند رہے لیکن زندگی نے ان پر ایک ایسی ذمہ داری ڈالی کہ وہ بوکھلا کر رہ گئے‘ ایسے میں آسیہ بھابی کی ہدایت اور مدد ہی تھیں جس کی بدولت عبدالمعید کا اعتماد بحال ہوا اور وہ اس ذمہ داری کو نبھا پا رہے تھے۔
’’اوکے ڈیڈ میں یونیورسٹی کے لیے نکل رہی ہوں۔‘‘ اس کی خوب صورت آواز نے عبدالمعید کو چونکایا۔
’’سی یو ان دا ایوننگ۔‘‘ وہ گاڑی کی چابی اٹھا کر ان سے مخاطب ہوئی۔
’’آپ ابھی کچھ دیر ریسٹ کرلیں، آپ کے ناشتے کی ساری چیزیں ٹیبل پر رکھی ہیں۔ ٹوسٹ ایسے ہی نہ کھا لیجیے گا، پہلے گرم کریں اور ناشتے کے بعد دوائی بھی لازمی کھانی ہے۔‘‘ مصروف انداز میں وہ ان کو ہدایات دے رہی تھیں۔ عبدالمعید نے اسے دیکھا جب سے اس نے یونیورسٹی جوائن کی تھی ان کا بہت خیال رکھنے لگی تھی ان کی چھوٹی چھوٹی ضرورت کا خیال رکھنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل تھا اور عبدالمعید ہر دن اس کے انداز پر حیران ہوا کرتے تھے۔
’’میں کتنا بے وقوف تھا جو اس سے غافل رہا۔‘‘ عبدالمعید کے اندر ایک آواز ابھری۔
’’اچھا… کوئی اور حکم؟‘‘ اب وہ دلچسپی سے اپنی نادان سی بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔
’’شام تک یہ پورے ہوں گے ناں تو پھر اور حکم دوں گی…‘‘ پل کی پل اس نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا اور عجلت بھرے انداز میں بولی تو وہ ہنس دیے۔
’’اوکے ڈیڈ اللہ حافظ…‘‘ کندھے پر پڑی شال کو ٹھیک کیا، سر پر اسکارف کو جماتے ان کو اللہ حافظ کہہ کر باہر نکل گئی۔ عبدالمعید کتنی ہی دیر تک نظریں دروازے پر جمائے بیٹھے رہے۔
’’اللہ حافظ میری بچی… اللہ تمہیں ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے‘ آمین۔‘‘ گہری سانس بھر کر انہوں نے زیرلب کہا تھا۔

ان چاہا بندھن ایک امتحان ہوتا ہے، ہمارے صبر کا، برداشت کا… وہ حجلۂ عروسی میں براجمان خود کو ایک کڑے امتحان کے لیے تیار کررہی تھی۔ دل و دماغ میں خاموشی کا راج تھا، یہ سناٹا اسے دہلا رہا تھا، جمشید سے اسے کوئی لگائو نہ تھا، دونوں کے مزاج میں زمین و آسمان کا فرق تھا، جمشید ایک حاکم پرست انسان تھا، آغا حکیم اللہ اور جمشید کلیم اللہ، کی عادتوں میں انیس بیس کا ہی فرق تھا۔ آغا کلیم اللہ کا بیٹا ہونے کے باوجود جمشید میں ایک بھی ایسی خصوصیت نہ تھی جو اس نے ان سے نا لی ہو۔ وہی ضد، وہی انا، وہی غصہ، وہی غرور، جو آغا حکیم اللہ کی شخصیت کا حصہ تھی، جمشید کی ذات میں بھی موجود تھی۔
شمع جو باپ کی ان عادتوں سے ہر وقت ڈری سہمی رہتی تھی، اب جمشید کے ساتھ پر اندر ہی اندر خوف سے پگھل رہی تھی۔ سارے احساسات منجمند تھے، ساری خوشیاں سوگ منا رہی تھیں۔ وہ سر جھکائے بیٹھی تھی اسی دوران کمرے کا دروازہ کھلنے پر لرز گئی۔ عجیب سے احساسات نے اسے گھیر رکھا تھا۔
’’مجھے ان رسم و رواج کی سمجھ نہیں ہے، میں دو ٹوک بات کرنے والا بندہ ہوں۔‘‘ جمشید اس کے برابر میں بیٹھتے ہوئے بولا، لہجہ کا کٹھور پن شمع کے دل میں کسی انی کی طرح چبھا تھا۔
’’نہ مجھے یہ چاپلوسی کی عادت پسند ہے۔ مرد کو بارعب ہونا چاہیے۔ تجھ سے شادی کی مرضی نہ ہونے کے باوجود میں نے چاچا کی عزت کا پاس کیا، ان کا مان رکھا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں تم لوگوں کا غلام بن گیا۔‘‘ جمشید بولتا گیا اور شمع جو اپنے آپ کو سنبھال رہی تھی یک دم ہی بکھر گئی۔
’’مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ تم یوں بن سنور کر ساری دنیا کے سامنے جا بیٹھی، وہ بھی میری غیر موجودگی میں۔‘‘ جمشید نے تیوریاں چڑھا کر اس کی تیاری کو ایک پل میں مٹی میں ملا دیا تھا۔
’’مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اسٹیج پر نہیں آئیں گے۔‘‘ وہ بولنا نہیں چاہتی تھی لیکن جانے کیسے کہہ گئی۔
’’جب پتا چل گیا تھا تو اٹھ جاتی۔‘‘ جمشید نے قہر آلود نظروں سے دیکھا۔
’’میں خود کیسے…‘‘ وہ بولنا چا رہی تھی لیکن اس کے بگڑے تیوروں نے اسے خاموش کرادیا۔
’’مجھے جواب دیتی عورتیں پسند نہیں۔‘‘ جمشید نے ان حسین لمحوں کے ہر پل کو روند دینے کی ٹھان لی تھی۔
’’باجی تو دیکھنا۔ جمشید بھائی تجھے دیکھتے ہی تیرے دیوانے ہوجائیں گے۔ اتنی حسین دلہن میں نے زندگی میں نہیں دیکھی۔‘‘ ہاجرہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجی۔
’’محبت لکیروں میں نہیں خوب صورتی میں ہوتی ہے۔‘‘ یہ ماسی کی آواز تھی۔
’’ماسی تم نے بھی کیسا خواب دکھا دیا تھا… محبت لکیروں میں نہ ہو تو خوب صورتی بے مول ہوجاتی ہے۔‘‘
’’ماسی…‘‘ شمع دل ہی دل میں بڑبڑائی۔
’’منہ دکھائی جیسے چونچلے مجھے پسند نہیں‘ نہ مجھے زیادہ خریداری کی سمجھ ہے نہ ہی مردوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ زنانہ خریداری کریں۔ جو کچھ بھی لینا ہو اماں کو بتا دینا۔‘‘ وہ الجھ رہی تھی، سوچ رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے کہ جمشید کی آواز اس کی سماعت میں بم پھوڑنے لگی۔
’’میں کافی دنوں سے سو نہیں سکا اب آرام سے سونا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کے پاس سے اٹھتے ہوئے بولا تو شمع کی آنکھوں میں نجانے کیوں کچھ چبھنے لگا۔ خوابوں کی کرچیاں تھیں شاید؟ شمع نے آنکھوں کو صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو چوڑیوں کی کھنک کمرے میں ہلچل مچا گئی۔
’’مجھے مکمل خاموشی میں سونے کی عادت ہے۔‘‘ جمشید نے کہا تو شمع نے یک دم ہی چوڑیوں کو کھنکنے سے روک دیا۔
’’اور ہاں بنا سر ڈھانپے گھومتی پھرتی نظر مت آنا۔‘‘ جمشید نے اپنی بات ختم کرکے آنکھیں موند لیں۔
’’میں تو حجاب لیتی ہوں، ہمیشہ عبایا پہن کر باہر جاتی ہوں۔‘‘ وہ اسے بتانا چاہتی تھی لیکن اس کی پسند اور ناپسند نے اس کی زبان کنگ کردی۔ اس سفر کا آغاز دل کے ٹوٹنے سے ہوا تھا، چند قدموں پر ہی آبلہ پائی کا تحفہ مل چکا تھا۔ اب باقی کا سفر اس نے لڑکھڑاتے ہوئے طے کرنا تھا۔

’’تم… تم… ایسے…! کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟‘‘ اس کا بوکھلایا انداز، زرد پڑتی رنگت کو دیکھتے ہوئے حسن نے ٹی وی ریمورٹ کو ایک طرف پھینکا اور اس کی طرف بڑھا۔
’’کچھ… کچھ نہیں… میں ٹھیک ہوں…‘‘ اس کا ہاتھ جھٹک کر وہ یاسیت بھرے انداز میں بولی۔ حسن نے حیرت سے اسے دیکھا، دوسرے پل اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ ایک بار پھر اس کا ہاتھ تھام کر استفسار کرنے لگا۔
’’تم بانو آپا کو ہمارے درمیان کیوں لاتے ہو؟‘‘ وہ ابھی تک اسی کیفیت میں مبتلا تھی، سنجیدگی سے اس سے پوچھا۔
’’میں کہاں ان کو درمیان میں لایا؟‘‘ حسن نے نظریں چرا کر کہا۔
’’درمیان میں ہی لائے ہو…‘‘ شجیعہ بھرائی آواز میں بولی۔
’’میں تمہیں بتاچکی ہوں کہ تم میرے لیے کیا ہو اور بانو آپا کی اہمیت بھی میں کئی بار کلیئر کرچکی ہوں… مگر تم…‘‘
’’میں کیا ہوں؟‘‘ حسن نے اسے نظروں کے حصار میں لے کر اس کی بات کاٹ کر پوچھا۔ شجیعہ نے پلکیں جھپکا کر اسے دیکھا۔
’’کچھ نہیں ہو… تم جائو یہاں سے۔‘‘ اس کی مسکراہٹ پر وہ جھنجھلا کر بولی۔
’’چلا گیا تو…‘‘ اب وہ اسے تنگ کرنے لگا۔
’’دوسرے ہی دن واپس آنا پڑے گا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’میرے جنازے کو کندھا دینے تو آئو گے ہی ناں…‘‘ شجیعہ نے ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’بہت جلدی نہیں ہے مرنے کی؟‘‘ حسن نے تیوریاں چڑھا کر خفگی کا اظہار کیا۔
’’تمہارا مجھے چھوڑ کر جانا میری موت ہے اور…‘‘
’’اب تم…‘‘ حسن نے خشمگیں نگاہوں سے اسے جتانا چاہا۔
’’میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘ وہ نم پلکوں کے ساتھ اس کو دیکھ کر بولی۔
’’میں تمہیں کیوں چھوڑوں گا؟‘‘ وہ نرم لہجے میں اس سے کہنے لگا۔
’’تو پھر یہ کیوں کہا کہ اپنا لب و لہجہ درست کرو اور یہ بھی کہ بانو آپا…‘‘
’’ارے… ارے… اگر تم بیٹھے بٹھائے منہ بناکر مجھے تنگ کرسکتی ہو تو کیا میں تمہیں پریشان نہیں کرسکتا۔‘‘ حسن نے اس کی بات کاٹ کر ہنستے ہوئے کہا تو شجیعہ نے قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا۔
’’اب کیا ہوا؟‘‘ وہ دونوں ہاتھ سے اس کو پیچھے دھکیل کر چیخی۔
’’یو چیٹر… دھوکے باز…‘‘
’’شش… حد ادب لڑکی، شوہر ہوں تمہارا…‘‘ حسن نے ان القاب پر ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔
’’شوہر جی… نہیں نہیں سرتاج جی…‘‘ وہ کھلکھلائی۔ ایک لمحہ لگا تھا اسے موڈ بحال کرنے میں۔ حسن نے اسے گھورا۔ اس نے پلک جھپکتے ہی صوفہ کا کشن اٹھایا اور حسن کی طرف پھینک کر کچن کی جانب بھاگی تو وہ بھی اس کے پیچھے لپکا۔
’’نہیں… نہیں حسن…‘‘ ایک ہی جست میں اس تک پہنچ کر اس کا بازو پکڑ کر مروڑا تو وہ کراہ کر رہ گئی۔
’’پہلے وعدہ کرو کہ آج کے بعد میرا نام احترام سے لیا کرو گی اور ’تم‘ نہیں بلکہ ’آپ‘ کہہ کر مخاطب کرو گی اور اگر کبھی لیٹ گھر آئوں تو…‘‘
’’میں کچھ نہیں ماننے والی۔ چھوڑو میرا بازو…‘‘ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی شجیعہ نے بازو اس کے شکنجے سے آزاد کروانے کے لیے زور لگایا۔
’’جب تک وعدہ نہیں کرتی نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ حسن قدرے ضدی لہجے میں بولا۔
’’حسن… ’آپ‘ ہی ہی ہی…‘‘ دیکھو تو کتنا اجنبی سا لگتا ہے۔ شجیعہ اس کی فرمائش پر عمل کرتے ہوئے ہنسی۔
’’حسن… ’تم‘ میں زیادہ اپنائیت ہے۔‘‘ وہ بمشکل اپنی ہنسی روک کر بولی۔
’’شجو… میرا احترام تم پر لازم ہے۔‘‘ حسن نے آنکھیں دکھائیں۔
’’ہم میں بس محبت لازم ہے۔ وہ ’تم‘ کہنے سے بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ شجیعہ نے پینترا بدلا۔
’’اچھا میرا بازو چھوڑو گے تو احترام ہوگا ناں…‘‘ اس کی بات پر حسن نے اسے گھورا تو وہ بولی۔
’’پہلے وعدہ، پھر آزادی…‘‘ وہ ابھی تک بضد تھا۔
’’اچھا وعدہ…‘‘ چار و ناچار اسے ہتھیار ڈالنے پڑے۔
’’میرا احترام اور لیٹ ہونے پر…‘‘ حسن نے پھر شرط دہرائی۔
’’احترام کی کوشش کروں گی، اب عادت بدلتے بدلتے ہی بدلتی ہے ناں اور ذرا منہ دھو کر رکھو اب ایسا بھی عشق نہیں ہوگیا تم سے کہ دیر سے آنے پر ہیروئن کی طرح بھاگ بھاگ کر گانا گانے لگوں‘ میرا پیا گھر آیا…‘‘ اس کے بازو چھوڑتے ہی شجیعہ نے منہ چڑایا اور برق رفتاری سے وہاں سے نکلی تھی۔
’’پاگل…‘‘ وہ زیرلب بڑبڑایا اور صوفہ پر بیٹھ گیا۔
’’بانو آپا آپ یہاں۔‘‘ وہ کچن میں داخل ہوئی تو بانو آپا کو وہاں کھڑا پایا۔ وہ ٹیبل پر پلیٹیں سیٹ کررہی تھیں۔
’’میں کرتی ہوں ناں آپا آپ کیوں کررہی ہیں؟‘‘ وہ خجل سی آگے بڑھی۔ بانو آپا نے بغور اسے دیکھا۔ ایک گہری اور خاموش نظر۔
’’خفا ہیں؟‘‘ جانے کیوں شجیعہ کو بانو آپا کی نظریں اپنے آر پار ہوتی محسوس ہوئیں۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
’’پھر اتنی چپ کیوں ہیں؟‘‘ شجیعہ نے ان کے ہاتھ سے ڈونگہ لیا اور انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’تھکی ہوئی ہوں۔‘‘ وہ خاموشی سے چیئر پر بیٹھ گئیں۔ جب کہ شجیعہ کو شدید بے چینی نے گھیر لیا۔ جانے کیوں اسے بانو آپا کی خاموشی کھٹک رہی تھی۔
’’آپا دن کیسا گزرا؟‘‘ حسب معمول اس نے ان سے پوچھا۔
’’اچھا گزر گیا دن…‘‘ وہ مختصر جواب کے بعد پھر خاموش ہوگئیں۔
’’ آپا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ وہ ان کے پاس آبیٹھی اور انتہائی فکر مندی سے پوچھا۔
’’شجیعہ… خود کو سنبھالنا سیکھو اب… ذرا ذرا سی بات پر جنونی مت ہوجایا کرو۔ خوف آتا ہے مجھے… وحشت ہوتی ہے تمہاری ایسی محبت سے…‘‘ بانو آپا نے جانے کس بات کا حوالہ دیا۔
’’بانو آپا…!‘‘ وہ گنگ رہ گئی‘ پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’حقیقت پسند بنو شجیعہ، حقیقت پسند… اپنے جذبات، اپنے حواسوں کو قابو میں رکھا کرو۔‘‘ شاید وہ جان گئی تھیں کہ حسن کو شجیعہ کا بانو آپا کو اہمیت دینا ناگوار گزرتا ہے یا پھر کچھ اور بات تھی‘ شجیعہ یک دم گھبرائی۔
’’نہیں بانو آپا… حسن کا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ جانتا ہے کہ آپ میرے لیے خاص ہیں۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘ وہ دوسرے ہی لمحے ان کو وہ بتانے لگی جس سے وہ یقینا بے خبر تھیں۔
’’میرے اور حسن کے لیے اپنی جنونی محبت کو سنبھالو شجیعہ تم پاگل ہو…‘‘ بانو آپا کچھ کہتے ہوئے رکی تھیں، اس نے الجھی نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’محبت دھوکہ بھی دیتی ہے۔‘‘ بانو آپا نے اس کا گال سہلا کر مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور اگلے لمحے وہاں سے نکل گئیں وہ اتنی حیران تھی کہ ان کو روک بھی نہ سکی تھی۔

’’یہ کیا ہے؟‘‘ آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں بیٹھتے ہوئے اس نے اپنے سامنے رکھی پلیٹ کو دیکھتے ہوئے ناک سکیڑ کر پوچھا۔
’’یہاں یہی کچھ ملتا ہے، جس کا تھوڑا بہت یقین ہوتا ہے کہ حلال ہے۔‘‘ احمر نے اپنی پلیٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس کی الجھن آمیز نظروں کو دیکھا۔ بڑی سی سفید چینی کی پلیٹ میں ایک طرف سلاد، ٹماٹر، کھیرے کے ساتھ ایک درمیانے سائز کے آلو کے اوپر چیز بٹر اور ٹماٹو کیجپ موجود تھی۔
’’یار… یہ…‘‘ اس نے کھیرے کا پیس اٹھا کر منہ میں رکھا اور لاچاری سے احمر کو دیکھا جو نہایت انہماک سے دہی کھانے میں مشغول تھا۔
’’کھالے بیٹا کھالے اور چل لیکچر تھیٹر کی جانب، پڑھائی کا وقت ہورہا ہے۔‘‘ احمر اس کے احتجاج کا نوٹس نہ لیتے ہوئے تیز تیز منہ چلاتے ہوئے بولا۔
’’لیکن یار… کیا میں تمہیں یہ گھاس کھانے والی مخلوق لگتا ہوں؟‘‘ پلیٹ کو پرے ہٹاتے ہوئے دہائی دی تو احمر نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔
’’بظاہر تو انسان ہی لگ رہے ہو اب اندر کا حال توُ جانے یا تیرا رب…‘‘ احمر نے شریر لہجے میں کہا اور دوبارہ اپنی پلیٹ کی جانب متوجہ ہوگیا تو اس نے قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا۔
’’اگر اب تو آکسفورڈ میں دیسی تڑکا ڈھونڈے گا تو گھاس کھانے والی مخلوق ہی بن جائے گا اور ویسے بھی یہ صحت مند فوڈ ہے۔‘‘ اس کی خاموشی پر احمر نے ہنستے ہوئے اسے بتایا۔
’’میں یہ نہیں کھاسکتا ۔ بہت ہی پھیکا ہے۔ نہ نمک، نہ مرچ…‘‘ وہ بے دلی سے بولا۔ پھر ٹماٹر اٹھا کر منہ میں ڈالا کیونکہ اب بھوک بھی لگ رہی تھی۔
’’ماں صدقے… یہاں نمک مرچ کے چٹخارے لینے آیا ہے کہ پڑھائی کرنے۔‘‘ احمر اس کی رونی صورت دیکھتے ہوئے مسخرے پن سے بولا۔
’’پڑھائی کرنے ہی آیا ہوں لیکن یار نمک مرچ کے بغیر پڑھائی کیا خاک ہوگی۔‘‘ وہ شرارتی انداز میں بولا۔ پاکستان کے تیکھے چٹخارے دار کھانے کھا کھا کر اب یوکے میں وہ صرف پیٹ ہی بھر رہا تھا لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تھا۔
’’ایک تو تم پاکستانی بھی ناں…‘‘ احمر نے اسے گھورا۔
’’یہاں کی روٹین اور ہے یار اتنے تیز مصالحے دار کھانے صحت کے لیے بہت خطرناک ہوتے ہیں۔‘‘
’’ہم پاکستانی کیا… کیا تم پاکستانی نہیں ہو؟‘‘ اس نے احمر کو تیکھی نظروں سے دیکھا۔
’’ہوں ناں… لیکن مجھے اب عادت ہوگئی ہے۔ وہ صرف زبان کا چٹخارا ہوتا ہے، یہ ہرب سلاد وغیرہ کھانے سے تمہیں بھی عادت ہوجائے گی۔ کالی مرچ اور نمک ساتھ چلی ساس کا استعمال کرلے۔ کھائے گا نہیں تو کبھی عادت بھی نہیں ہوگی۔‘‘ احمر نے پھر نصیحت کی۔
’’ایکسکیوز می…‘‘ اس سے پہلے کہ احمر مزید کچھ کہتا ایک نسوانی آواز پر دونوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔
’’آپ یہ ٹرائی کریں۔ زیادہ اسپائسی تو نہیں بٹ آئی ایم شور آپ کو اچھا لگے گا۔‘‘ ان دونوں کی سوالیہ نظروں پر وہ انگلش لب و لہجے میں اردو بولتی ان سے مخاطب تھی۔ بلیک اسکارف سر پر لپیٹے، شال کندھوں پر ڈالے، نرم مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ میں پکڑے ایک چھوٹے سے لنچ باکس کو ان کی طرف بڑھاتے وہ منتظر تھی۔
’’آپ ہماری باتیں سن رہی تھیں؟‘‘ احمر اس کی ندیدی نظروں کو گھورتے ہوئے اس لڑکی سے مخاطب ہوا۔
’’آپ بہت اونچی آواز میں بول رہے تھے۔ میں وہاں ٹیبل پر بیٹھی تھی۔‘‘ وہ عام سے انداز میں بولی۔ احمر نے دیکھا کہ تقریباً پانچ چھ لوگ کیفے میں تھے اور ایک ٹیبل چھوڑ کر جہاں وہ بیٹھی تھی، وہاں ان دونوں کی یہ تکرار بخوبی پہنچ سکتی تھی۔
’’تھینک یو سو مچ…‘‘ اور پھر اس سے پہلے کہ احمر کی باقی باتوں پر وہ غصے میں آکر واپسی پلٹ جاتی اس نے اس کے ہاتھ سے باکس لے لیا۔
’’اٹس اوکے…‘‘ مسکرا کر وہ بولی اور پلٹ گئی۔ احمر کی خشمگیں نظروں کو نظر انداز کرکے اس نے باکس کھولا تو نوڈلز تھے۔
’’یہاں کسی سے بھی ایسے کھانے کی چیزیں نہیں لے سکتے ہم۔‘‘ احمر نے اسے تنبیہہ کی۔
’’کیوں؟‘‘ وہ نوڈلز کو فورک پر لپیٹتا یک دم رکا۔
’’ہمیں نہیں پتہ کہ وہ کون ہے۔ یہ حلال ہیں بھی کہ نہیں؟‘‘ احمر نے مدھم آواز میں کہا۔
’’الحمدللہ میں مسلمان ہوں اور یہ نوڈلز سو فیصد حلال ہیں۔‘‘ وہ لڑکی شاید ایک بار پھر ان کی باتیں سن رہی تھی۔ اگلے پل پھر ان کے ٹیبل کی طرف آکر بولی۔
’’تھینک یو…‘‘ احمر قدرے نرمی سے بولا جب کہ اس لڑکی کی طرف سے ان کے حلال ہونے کی اطلاع پر وہ اب سر جھکائے نوڈلز کھانے میں مصروف تھا۔
’’واہ زبردست… بہت ہی ٹیسٹی ہیں۔‘‘ وہ بے اختیار بولا تو احمر نے اسے دیکھا۔
’’لے تو بھی کھا بہت مزیدار ہیں، لگتا ہے اس نے خود بنائے ہیں، گھر سے لائی ہوگی ہے ناں؟‘‘ وہ نوڈلز کھاتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا۔
’’تو ہی کھا… یہ باکس دینے جائے گا تو پوچھ لینا۔‘‘ احمر نے نوڈلز کھانے سے انکار کرتے ہوئے دانت پیس کر کہا۔
’’ہاں وہ تو میں پوچھ ہی لوں گا۔‘‘ مصروف انداز میں اس کی طرف دیکھے بنا وہ بولا۔
’’کاش یہ نوڈلز تمہارے نصیب میں بھی ہوتے۔‘‘ تقریباً دس منٹس میں ہی اس نے سارا باکس خالی کردیا تھا۔ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ واقعی مزیدار تھے۔
’’میں یہ باکس اس کو دے آئوں؟‘‘
’’حد ہے یار، ندیدے پن کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔‘‘ احمر نے خالی باکس دیکھ کر کہا۔
’’پیٹ خالی ہو تو کوئی اصول لاگو نہیں ہوتا۔‘‘
’’وہ کیا سوچے گی؟‘‘ اس کی ڈھٹائی پر احمر تپ کر بولا۔
’’اس نے ہمیں ’بھوکا‘ سمجھ کر ہی یہ آفر کی تھی۔ سو جان من تو ٹینشن نہ لے۔‘‘ وہ واقعی ڈھیٹ تھا۔
گلاس ونڈو کے سامنے بیٹھی باہر آتے جاتے لوگوں کو دیکھنے میں مصروف وہ لڑکی پل بھر میں اس کی توجہ سمیٹ چکی تھی۔ کچھ تھا اس میں، بہت عام ہونے کے باوجود کچھ خاص… کوئی ایسا طلسم جود دیکھنے والے کو مبہوت کردے۔
لیکن وہ انجان تھی۔
اس کی نظروں کے حصار سے انجان۔
اس کی نگاہوں میں جھانکتے شوق سے انجان۔
’’اس پر نظریں جمائے اس نے قدم اس کی طرف بڑھائے اور چند سیکنڈز میں وہ اس کے مقابل تھا۔ وہ ابھی تک اسی عالم بے خبری میں بیٹھی اپنی ہی دنیا میں مگن تھی۔ جب وہ متوجہ نہ ہوئی تو مجبوراً اس نے ٹیبل کو انگلیوں سے بجا کر اسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ وہ تو سمجھ رہا تھا کہ وہ چونک جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
اب وہ پوری طرح سے اس کی طرف متوجہ تھی اور شاید زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی لڑکی کو مخاطب کرنے کے لیے اسے الفاظ ترتیب دینا پڑ رہے تھے۔ اس کے تاثرات اتنے سپاٹ تھے، اتنے دو ٹوک کہ اس کا دل چاہا باکس اس کے سامنے رکھ کر بنا ایک لفظ ادا کیے وہاں سے پلٹ جائے لیکن یہ اس کے اصول نہ تھے۔ وہ بد اخلاق تھا نہ ہی بدلحاظ۔ اس کی سوالیہ نظروں پر ایک دھیمی مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا۔
’’بہت شکریہ… نوڈلز بہت مزیدار تھے۔ آپ شاید خود بنا کر لائی تھیں؟‘‘ وہ شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اسے انگلش میں بات کرنی چاہیے یا اردو میں لیکن وہ یہ بھی جان چکا تھا کہ اسے اردو آتی ہے سامنے والی چیئر کی پشت کو تھامے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے دوستانہ انداز میںکہا۔
’’اٹس اوکے… مائی پلیشرز…‘‘ خالی باکس کو بیگ میں رکھتے ہوئے وہ بنا اس کی طرف دیکھے بولی۔
’’اینڈ… آئی ایم سوری…‘‘ وہ اس کی طرف سے نگاہ پھیر چکی تھی۔ ’’میں سارے نوڈلز کھا گیا، بہت دنوں بعد مرچ مصالحہ کے ذائقے کو ٹیسٹ کیا ہے۔‘‘ اس کو دیکھتے ہوئے وہ بولا۔
’’کوئی بات نہیں…‘‘ وہ ابھی تک اسی انداز میں بولی۔
’’تھینکس وانس اگین…‘‘ زبردستی مسکراہٹ کے ساتھ اب وہ واپس پلٹنے کا ارادہ کرنے لگا۔
’’آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں…‘‘ اس نے پلٹ کر پوچھا۔
’’سکینرہ عبدالمعید…‘‘ اسی خاموش انداز میں وہ بولی۔
’’سکینرہ…‘‘ اس نے زیرلب نام دوہرایا، چند پل کھڑا رہا کہ اب شاید وہ بھی اس کا نام پوچھے لیکن وہ مکمل لاتعلق رہی۔
’’وجاہت سکندر…‘‘ وہ بولا تو اس نے متعجب نظروں سے اسے دیکھا۔ ’’میر انام ہے…‘‘ اس نے ایک بار پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔ سکینرہ نے خالی نظروں سے اسے دیکھا، لمحہ بھر میں اس کے چہرے کے تاثرات بدلے، جہاں چند گھڑیاں پہلے نرمی تھی، وہاں اب ناگواری واضح تھی۔
’’ایکسکیوز می… میرے لیکچر کا ٹائم ہوگیا ہے۔‘‘ اور اس سے پہلے کہ وجاہت مزید کچھ کہتا وہ اپنا بیگ کندھے پر لٹکا کر وہاں سے جاچکی تھی اور وجاہت کھڑا دیکھتا رہ گیا۔
ایک خاص کشش تھی اس کی ذات میں، جس نے وجاہت جیسے لاپروا انسان کو بھی زیر کرکے مبہوت کردیا تھا۔
’’چلیں یا ابھی اور خاطر کروانی ہے؟‘‘ وہ اسی کو سوچے جا رہا تھا کہ احمر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ تو وہ چونکا اور پھر گہرا سانس لے کر لیکچر تھیٹر کی جانب بڑھ گیا تھا۔

’’باجی…‘‘ وہ اسے دیکھتے ہی یوں لپٹی جیسے برسوں بعد اس سے مل رہی ہو۔ شمع کی پلکیں بھیگنے لگیں۔
’’میں نے بہت یاد کیا آپ کے باجی۔‘‘ ہاجرہ نے اس سے الگ ہوکر بغور اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ تو شمع نے سر جھکا لیا اور چمکتی نمی کو اپنے اندر اتارنے لگی۔
’’آپ خوش ہیں ناں باجی؟‘‘ ہاجرہ کی نظروں سے اس کی بھیگی پلکیں چھپ نہ سکی تھیں۔
’’ہاں بہت زیادہ…‘‘ کمال ہوشیاری سے شمع نے اپنے آپ کو سنبھالا۔
’’آپ آج بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں لیکن…‘‘ ہاجرہ کچھ کہتے کہتے رکی۔
’’لیکن کیا؟‘‘ شمع نے مسکرا کر پوچھا۔
ولیمے کا فنکشن ختم ہوچکا تھا اور وہ واپس گھر آگئے تھے۔ ہاجرہ اس کے ساتھ آئی تھی، یہ رسم تھی کہ ولیمے کی شام شمع وداع پھیرے کے لیے واپس اپنی حویلی جائے گی اور دوسری صبح جمشید اسے لینے جائے گا۔ یہ میکے کی آخری رسم ہوتی تھی پھر بیٹی جب واپس سسرال جاتی ہے تو اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔
’’آپ بہت سوگوار ہیں باجی اور جانتی ہیں میں نے سنا تھا کہ دلہن جب سوگوار ہو تو اس کے روپ میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ آج میں نے دیکھ بھی لیا کہ یہ کتنا سچ ہے۔‘‘ ہاجرہ پر شوق نظروں سے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامے دیکھ رہی تھی۔
’’عجیب سی کشش محسوس ہورہی ہے آپ کے اس روپ میں، بہت دلکش، بہت حسین، جی چاہتا ہے بس دیکھتی ہی رہوں۔‘‘ شمع نے متحیر نظروں سے اسے دیکھا۔
’’اللہ کرے میرا بھی یہ روپ ایسا ہی ہو۔‘‘
’’اللہ نہ کرے…‘‘ شمع نے بے اختیار اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا تو ہاجرہ ہنسنے لگی۔
’’ہنستی مسکرارتی دلہنیں ہی اچھی لگتی ہیں۔ ایسی باتیں نہ کرو۔‘‘ شمع نے اسے تنبیہہ کی۔
’’باجی مجھے یہ سب حسین لگتا ہے۔ اتنا دلکش کہ دیکھنے والا ہوش کھو بیٹھے۔‘‘ ہاجرہ نے دونوں بازو پھیلا کر شوخی سے کہا۔
’’حسن، محبت کی دلیل نہیں ہوتی ہے ہاجرہ، ہوش کھونے کے لیے حسن نظر نہیں، دیکھنے والے کے دل میں محبت ضروری ہوتی ہے۔‘‘ شمع قدرے رنجیدگی سے گویا ہوئی، لیکن ہاجرہ متوجہ نہ تھی۔
’’ہاجرہ…‘‘ اس کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری تو شمع نے اسے پکارا۔
’’باجی آپ تو چینج کرلیں پھر ہمیں نکلنا ہے۔‘‘ وہ یک دم گہری ہوتی مسکراہٹ کو لب بھینچے چھپانے لگی اور اگلے ہی پل اٹھ کر اسے کہا۔
’’جب رخصتی ہوچکی ہے تو دوبارہ یہ فضول رسم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ جمشید کی آواز اس کی سماعت میں گونجی۔
’’ہاجرہ… وہ بات یہ ہے کہ…‘‘
’’کیا بات ہے باجی؟‘‘ ہاجرہ اس کے مضطرب انداز کو دیکھ کر ایک بار پھر اس کے پاس آبیٹھی۔
’’وہ جمشید نہیں چاہتے کہ میں جائوں…‘‘ شمع نے بہت ہمت کرکے ہاجرہ کو بتایا۔
’’ارے واہ… زبردست… جمشید بھائی کا دل نہیں چاہ رہا ہوگا کہ آپ کو دور کریں۔ ابھی تو انہوں نے آج کا یہ سنگھار بھی جی بھر کر نہ دیکھا ہوگا، جب آپ کا جی چاہے آجانا۔‘‘ ہاجرہ کیا سمجھی تھی، شمع حیران رہ گئی۔ اگلے پل وہ اپنے اضطراب کو مسکراہٹ میں ڈھال کر سر جھکا گئی۔
’’باجی میں پھر کچھ دیر تک جاتی ہوں…‘‘ ہاجرہ نے اس کے جھکے سر کو بغور دیکھا۔
’’ہاجرہ تو جانتی ہے ناں یہ رسم ہے، اماں اور بابا انتظار کررہے ہوں گے اور ان کو اچھا نہیں لگے گا۔‘‘
’’نہیں لگتا اچھا تو نہ لگے۔ باجی آپ اپنی زندگی کے بارے میں سوچیں اور جمشید بھائی کو خوش رکھیں۔‘‘ ہاجرہ ایسی ہی تھی، لاپرواہ معاملات کی گھمیرتا کو وہ سمجھتی نہیں تھی۔
’’ہاجرہ…‘‘ شمع کے اندر کسی قسم کی بغاوت کی ہمت نہ تھی، وہ جانتی تھی کہ آج اس کا میکے نہ جانا ایک رسم کے خلاف ہے، آغا حکیم اللہ کے کاغذوں میں یہ نافرمانی کے زمرے میں آئے گا اور ساری سزا شمع کے حصے میں آئی گی۔
’’باجی… ایک تو آپ سوچتیں بہت ہیں۔‘‘ وہ ایک بار پھر اس کی بزدلی پر اسے ڈپٹنے لگی‘ اس کے لہجے کی کڑواہٹ پر شمع نے لب بھینچ لیے تھے۔
’’کیا ہورہا ہے؟‘‘ اس سے پہلے کے ہاجرہ مزید کوئی بات کرتی جمشید کی آمد پر شمع پہلو بدل کر رہ گئی۔
’’لو اب جمشید بھائی خود ہی آگئے ہیں۔‘‘ شمع کی آواز میں کھنک تھی۔
’’کیا تم میری بیگم کو ورغلا رہی ہو؟‘‘ جمشید نے شمع کو دیکھا اور پھر ہاجرہ سے مخاطب ہوا۔ اس کے بشاش لہجے نے شمع کو چونکایا۔
’’توبہ کریں جمشید بھائی آپ کی بیگم تو… آپ کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتیں، حالانکہ میں نے بہت کہا کہ انکار کریں سکھی رہیں گی پر نہ…‘‘ ہاجرہ اپنی ہی ہانکنے میں لگی رہی۔ جمشید نے یک دم شمع کی طرف دیکھا۔
’’ہاجرہ… کیا کہہ رہی ہو…‘‘ شمع بمشکل حلق سے آواز نکال سکی۔
’’سچ…‘‘ ہاجرہ کھل کر مسکرائی‘ جب کہ جمشید نے ایک کڑی نگاہ شمع پر ڈال کر ہاجرہ کی طرف دیکھا۔
’’جمشید بھائی وداع پھیرے کی رسم سے آپ کی بیگم صاحبہ انکار کررہی ہیں۔ ایک ہی دن میں کون سا جادو کردیا میری بہن پر کہ میکے ہی نہیں جا رہیں۔‘‘ ہاجرہ نے ہنستے ہوئے دونوں کو چھیڑا۔
’’بھئی ہم نے تو کوئی جادو نہیں کیا۔‘‘ جمشید نے دونوں ہاتھ جھاڑ کر کہا۔
’’تو پھر ایسا کریں کہ آپ بھی ساتھ چلیں۔ صبح واپس آجائیں۔‘‘ ہاجرہ نے شمع کے فق چہرے کی طرف بغور دیکھا۔
’’ویسے یہ دوہری رخصتی والی رسم کچھ بھائی نہیں…‘‘ جمشید، شمع کے ساتھ آبیٹھا تو شمع نے کسمسا کر پہلو بدلا۔
’’جمشید بھائی یہ رسم ہے، آپ کو دوبارہ برات نہیں لانی۔‘‘ اب کے ہاجرہ قدرے سنجیدہ لہجے میں بولی۔ جب کہ شمع مسلسل خاموش تھی۔
’’اچھا…‘‘ جمشید مختصراً بولا۔
’’باجی کہہ رہی ہیں میکہ نہیں جانا۔‘‘ ہاجرہ نے مایوسی سے کہا۔
’’ہماری طرف سے تو کوئی پابندی نہیں اگر یہ جانا چاہتی ہے تو ضرور جائے۔‘‘ جمشید کی بات پر ہاجرہ مسکرا کر شمع کی طرف دیکھنے لگی جو مسلسل آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تنبیہہ کررہی تھی کہ وہ زیادہ شوخیاں نہ جھاڑے لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہورہا تھا۔ جمشید کا اسے نظر انداز کرنا اور میکے جانے نہ جانے کی ساری بات شمع پر ڈال دینا اسے اچھا نہیں لگا لیکن زبان پر جیسے تالے لگ گئے تھے۔ اس کو اپنی تیاری سے کوفت ہونے لگی تھی۔
’’میں چینج کرلوں…‘‘ بہ مشکل شمع نے اپنے آپ کو سنبھالا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’رسموں کو نبھانا چاہیے، یہ چھوٹی چھوٹی رسم و رواج خوشیوں میں اضافہ کرتے ہیں‘ انکار کرکے بدشگونی نہ کرو…‘‘ جمشید کے الفاظ پر اس کے نرم و ملائم لب و لہجے پر شمع کے قدم تھمے‘ ہاجرہ نے ’یاہو‘ کا نعرہ لگایا۔ اس نے پلٹ کر اسے دیکھا لیکن وہ ایک بار پھر اس کی طرف متوجہ نہ تھا۔
اس کے پاس اب انکار کی گنجائش نہ رہی تھی۔ گم صم سی شمع اپنے آپ کو ایک امتحان کے لیے تیار کرنے لگی جب کہ جمشید مکمل لاتعلقی برتتے ہوئے اسے ایک اذیت سے دوچار کررہا تھا۔

’’دس از ناٹ فیئر، ڈیڈ…‘‘ سکینرہ شام کو گھر واپس آئی تو عبدالمعید اسی طرح اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھے تھے۔ اس کے روہانسے انداز پر چونک کر اس کو دیکھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ وہ اپنی عینک اتار کر ہاتھ میں پکڑی کتاب کو بند کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر عام سے لہجے میں پوچھنے لگے۔
’’کتنی بار چائے پی ہے آج؟‘‘ وہ خشمگیں نظروں سے انہیں گھورتے ہوئے دریافت کرنے لگی۔
’’آج ہی کوئی صرف…‘‘
’’چھ سات کپ۔‘‘ عبدالمعید اس کو دیکھ کر گھسیانے انداز میں ہنستے ہوئے بولے تو سیکنرہ نے اس کی بات پوری کردی۔
’’وہ… دراصل… میں… وہ…‘‘ عبدالمعید بوکھلاہٹ کا شکار ہونے لگے۔
’’رہنے دیں دیڈ اب وضاحت کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ نروٹھے لہجے میں بولی۔
’’میرا بیٹا ناراض ہوگیا۔‘‘ عبدالمعید اسے منانے لگے۔
’’ڈیڈ یو نو، چائے کتنی نقصان دہ ہے۔‘‘ وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
’’جانتا ہوں بیٹا لیکن آج ایک دو جاننے والے آگئے تھے اس لیے کپ زیادہ ہیں۔‘‘
’’لیکن آپ نے ناشتہ بھی نہیں کیا۔‘‘ سکینرہ متفکرانہ انداز میں منہ بسور کر بولی۔
’’وہ آپ کے انکل شفیق آگے تھے۔ تو ان کے ساتھ باہر چلا گیا تھا اور کھانا وہیں کھا کر آیا تھا۔‘‘ عبدالمعید نے اسے بتایا۔
’’شفیق انکل کیسے ہیں؟ کیا عائشہ آنٹی بھی آئی تھیں…؟‘‘ وہ یقینا قائل ہوگئی تھی، اب ان سے شفیق اور عائشہ کے متعلق پوچھنے لگی۔
’’نہیں بھابی تو نہیں آئی تھیں۔ شفیق نے علی کے لیے گاڑی لینی تھی تو وہی لینے جانا تھا لیکن شام کو انوائٹ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے اسے ساری بات بتائی۔
’’علی گاڑی لے رہا ہے؟‘‘ وہ یک دم خوشی کا اظہار کرنے لگی تو عبدالمعید نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’تو کیا خیال ہے چلیں شام کو ان کی طرف؟‘‘ انہوں نے اس سے پوچھا۔
’’مجھے کچھ کام کرنا ہے دیر ہو جائے گی۔‘‘ سکینرہ نے کہا۔
’’میں نے بھی یہی کہا تھا کہ سکینرہ فارغ ہوئی تو آئیں گے ورنہ ویک اینڈ پر…‘‘ عبدالمعید نے اسے بتایا تو وہ اپنی اہمیت کو محسوس کرکے خوش ہوگئی۔
’’ہاں ڈیڈ ویک اینڈ کا پروگرام زیادہ صحیح رہے گا پھر ہم زیادہ دیر رک بھی سکیں گے۔‘‘
’’جیسے آپ کی مرضی بیٹا۔‘‘ عبدالمعید نے مسکرا کر کہا۔
’’اچھا اب ڈنر کے لیے ریڈی ہوجائیں۔‘‘ وہ ان کے پاس سے اٹھتے ہوئے بولی۔
’’ہاں تو آج کا دن کیسا رہا؟‘‘ کھانا کھاتے ہوئے وہ اس سے یونیورسٹی کا احوال دریافت کرنے لگے۔
’’دن بہت اچھا اور بزی رہا، کل ایک اسائمنٹ مل جائے گا تو بس اس سے پہلے لیکچرز ہورہے ہیں، سارے نوٹس ریڈی ہیں، تھوڑی اور ریسرچ کرنا باقی ہے۔ وہ جب اسائنمنٹ شیٹ ملے گی تو کروں گی اور پتہ ہے ڈیڈ آج ایک بہت اسٹرینج بات بھی ہوئی۔‘‘ ان کے پوچھنے کی دیر تھی سکینرہ بولتی چلی گئی۔
’’اسٹرینج بات کون سی؟‘‘ انہوں نے حیرانی سے پوچھا۔
’’بتاتی ہوں۔‘‘ اور پھر سکینرہ نے نہایت پر جوش انداز میں کیفے ٹیریا کی ساری رو داد ان کے گوش گزار کردی۔
’’یہ تو اچھی بات ہے لیکن بیٹا آپ کو احتیاط کرنی چاہیے۔‘‘ عبدالمعید کو اس کی باتوں پر پیار بھی آیا اور فکر بھی لاحق ہوئی۔
’’کیوں ڈیڈ…!‘‘ سکینرہ نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا۔
’’بیٹا احتیاط ضروری ہوتی ہے ناں۔‘‘ انہیں سمجھ نہ آئی اسے کیا کہیں اب۔
’’ڈونٹ وری، ڈید اگر آپ اس لیے پریشان ہیں کہ ہمارا کھانا الگ ہوتا ہے، اسے کسی کو آفر نہیں کرنا چاہیے کہ کسی کی طبیعت خراب ہوگئی تو ہم پر بلیم آئے گا تو آپ کو بتائوں کہ وہ ایشین بوائز تھے۔ ان کو تو ہمارا کھانا اچھا لگتا ہے ناں۔‘‘ سکینرہ نے جوس پیتے ہوئے انہیں بتایا۔
’’ایشین بوائز…؟‘‘ عبدالمعید چونکے۔
’’آپ کے کنٹری کے تھے شاید…‘‘ سکینرہ نے اپنا خیال ظاہر کیا تو عبدالمعید واقعی نہ سمجھے۔
’’ہاں ناں ڈید… آئی تھنک وہ پاکستان کے رہنے والے ہیں۔‘‘ سکینرہ نے بتایا تو عبدالمعید بالکل خاموش ہوگئے۔ سکینرہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور عبدالمعید کی پیشانی پر متفکرانہ سوچوں کی لکیریں۔

شادی ہماری زندگی کا انٹرویل ہوتا ہے۔ وہ مڈ پوائنٹ جس کے دوسرے ہاف میں ہمیں بہت سے ایسے انوکھے سرپرائز ملتے ہیں کہ ہم دنگ رہ جاتے ہیں۔ کبھی تو وہ ہمیں ایک ہیپی اینڈ کی جانب لے جاتے ہیں تو کبھی ہمارے پتے ہاف (شادی سے پہلے کی زندگی) کو بھی روند دیتے ہیں۔ شمع مسلسل خاموش تھی، جمشید کا رویہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ جمشید کے ساتھ اس کی کوئی خاص بات چیت تو کبھی بھی نہ رہی تھی، اس کا رویہ بھی آج سے پہلے اتنا ہتک آمیز نہ تھا۔ وہ یہ تو جانتی تھی کہ آغا حکیم اللہ اور جمشید ایک جیسی طبیعت کے مالک ہیں لیکن دونوں میں اتنی مماثلت ہے وہ اس بات سے انجان تھی۔
’’جب میں نے کہا تھا کہ مجھے یہ دوہری رخصتی پسند نہیں ہے تو کیا ضرورت تھی وہاں جانے کی… حامی بھرنے کی۔‘‘ وہ تیار ہوکر باہر نکلنے والی تھی کہ جمشید کمرے میں داخل ہوا۔ وہی کرخت انداز، وہی دل دکھاتا لہجہ اور وہی قہر آلود نظریں۔ شمع نے ایک سہمی نظر اس پر ڈالی۔
’’میں نے ہاجرہ سے یہی کہا تھا لیکن آپ نے ہی کہا نہ جانا بد شکونی ہوگی۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی شمع کہہ گئی۔
’’تو کیا میں اس کے سامنے تمہیں کہتا نہ جائو یہ تو تمہارا کام تھا کہ تم میری بات کی لاج رکھتیں۔‘‘ جمشید نے اس کی طرف دیکھا لیکن نظروں میں کوئی نرمی نہیں بلکہ نفرت کی چنگاریاں تھیں۔
’’آپ کا یہ انداز، یہ رویہ بھی تو بد شگونی ہی ہے جمشید‘ اس کے بارے میں بھی تو سوچیں۔‘‘ شمع نے اس کی طرف دیکھا۔ کاش دل کی یہ آواز جمشید کی سماعت تک بھی پہنچ سکتی۔
جمشید وہاں سے جاچکا تھا اور شمع ایک بار پھر ایک نئے امتحان کے لیے تیار کھڑی تھی۔ وہ باہر کی جانب بڑھی۔ بڑے ہال میں ہاجرہ خدیجہ بیگم اور کلیم اللہ کے ساتھ موجود تھی۔ وہ دھیرے دھیرے ان کی طرف بڑھی۔
’’السلام علیکم…‘‘ اس نے مدھم آواز میں سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام… آئو بیٹھو۔‘‘ خدیجہ بیگم نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھ چوما اور اپنے پاس بٹھا لیا۔
’’ہوگئی تیاری۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔
’’جی تائی اماں۔‘‘ شمع نے گود میں رکھے ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے کہا۔
’’تائی اماں آپ کی بہو کا تو اس رسم کو نبھانے کا دل ہی نہیں ہے۔‘‘ ہاجرہ نے شوخ لہجے میں کہا۔ تو خدیجہ بیگم نے پہلے اسے اور پھر شمع کو دیکھا۔
’’یہی تو اچھی بہو کی علامت ہوتی ہے کہ وہ سسرال کو اپنا گھر سمجھتی ہے۔‘‘ خدیجہ بیگم نے مسکرا کر کہا تو شمع نے یک لخت ان کی طرف دیکھا۔ اس کی نظروں میں بے یقینی تھی، جمشید کے رویے نے اسے اتنا بد دل کردیا تھا کہ اسے یقین نہ آیا کہ خدیجہ بیگم اس سے پیار جتا سکتی ہیں۔
’’ہاں تائی اماں… اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آپ کی بہو واقعی بہت اچھی ہے۔‘‘
’’ہاں بیٹا۔ ہماری اچھائی ہی ہماری زندگی سہل بناتی ہے۔‘‘ خدیجہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔
’’اچھا تائی اماں اب ہم چلتے ہیں، بہت دیر ہورہی ہے۔‘‘ ہاجرہ اٹھی تو شمع نے بھی اس کی تقلید کی۔ دروازے تک پہنچیں تو جمشید بھی اسی لمحے وہاں آگیا۔
’’تم خود ان دونوں کو آغا حویلی چھوڑ آئو۔‘‘ کلیم اللہ نے جمشید سے کہا۔
’’نہیں ابا۔ کل لینے جائوں گا۔‘‘ جمشید نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ایسا ہی ہوتا ہے لیکن وہاں جہاں کوئی جان پہچان نہ ہو۔ تم کیا اب چچا کے گھر جانے کے لیے رسم نبھائو گے؟‘‘ کلیم اللہ نے کہا۔ شمع اور ہاجرہ رک گئی تھیں۔
’’مجھے کسی کی اجازت یا رسموں کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن جو اصول ہیں وہ تبدیل نہیں ہوں گے۔ میں چچا کے ہی کام سے جا رہا ہوں لیکن میرے پاس آغا حویلی جانے کا وقت نہیں ہے۔‘‘ جمشید ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تھا۔
’’کوئی بات نہیں تایا ہم رضا کے ساتھ چلے جائیں گے۔‘‘ اس سے پہلے کہ مزید کوئی بات ہوتی ہاجرہ کی آواز پر سب نے اسے دیکھا۔ جب کہ جمشید کی آگ برساتی نظریں شمع پر اٹکی ہوئی تھیں۔
’’عجیب احمق ہے حکیم اللہ بھی، بھلا آج تمیں کوئی بھی کام کہنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ کلیم اللہ کی بربڑاہٹ فقط جمشید اور خدیجہ تک ہی پہنچی تھیں۔ جمشید نے غصیلی نگاہ باپ پر ڈالی۔
’’میں چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ اگلے پل جمشید نے پروگرام بدلا۔ ہاجرہ خوش تھی لیکن شمع اندر ہی اندر لرز رہی تھی۔
’’تم میں عقل نامی کوئی چیز ہے کہ نہیں؟‘‘ وہ لوگ آغا حویلی پہنچ چکے تھے، ہاجرہ شمع سے پہلے گاڑی سے نکل گئی تھی۔ جمشید کی آواز نے شمع کے بڑھتے قدم جکڑ لیے تھے۔
’’اب میں نے کیا کیا؟‘‘ اس کی آنکھوں میں سوال تھا۔
’’ہاجرہ سے کہنا کہ آج کے بعد بڑوں کی بات نہ بولے اور رضا کوئی ہمارے خاندان کا فرد نہیں ہے کہ اس کا نام وہ چار لوگوں میں دھڑلے سے لے رہی تھی۔‘‘ جمشید کا رویہ اس کی سمجھ سے بالا تر تھا۔
’’اب جائو اندر…‘‘ وہ اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی کہ اس کی کڑوی کسیلی باتیں پھر سماعت سے ٹکرائیں تو ایک بھی لمحہ ضائع کیے بنا وہ آگے بڑھ گئی تھی۔

محکمۂ موسمیات کی اطلاع کے مطابق آج موسم سارا دن خوشگوار رہنے کا امکان تھا لیکن موسم کا کیا بھروسہ؟ آکسفورڈ میں پل پل بدلتے موسم کی وجہ سے ہر دس منٹ بعد موسم کی اطلاعات تبدیل ہوتی رہتی تھیں۔
ہوا کے جھونکے فضا کی تازگی میں اضافہ کررہے تھے۔ آخری لیکچر اٹینڈ کرکے وہ لیکچر تھیٹر سے باہر نکلی اور یونیورسٹی کے لان میں آکھڑی ہوئی۔ یونیورسٹی میں ہر طرف چلتے پھرتے، ہنستے ہنساتے، خوش گپیوں میں مصروف لوگوں کو حیرت بھری نظروں سے دیکھا۔ اسے یاد آیا کہ اس نے لائبریری میں کچھ کتابیں واپس کرنی ہیں اگلے پل وہ لائبریری کی جانب قدم بڑھا چکی تھی، تقریباً دس منٹ کے بعد وہ اپنا کام ختم کرچکی تھی۔ وقت دیکھا تو سوا ایک بج رہا تھا اور اب بھوک بھی لگنے لگی تھی۔
’’ڈیڈ اگر آپ نے ابھی لنچ نہیں کیا تو میرا انتظار کرلیں میں گھر آرہی ہوں…‘‘ دوسرے پل سکینرہ نے کیفے جانے کی بجائے گھر جانے کو ترجیح دی اور عبدالمعید کو میسج کرکے بیگ سے گاڑی کی چابیاں نکالنے لگی۔
’’ہیلو… یس ڈیڈ؟‘‘ ابھی چند قدم ہی بڑھائے تھے کہ عبدالمعید کی کال آگئی۔
’’بیٹا تم کب تک پہنچ جائو گی؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’میں ابھی نکلنے لگی ہوں۔ آدھا گھنٹہ تک پہنچ جائوں گی۔‘‘ اس نے انہیں بتایا۔
’’میں مارکیٹ میں ہوں چند چیزیں لینی تھیں تم گھر پہنچ کر کھانا تیار کرنا، تب تک میں بھی آجائوں گا۔‘‘
’’اوکے ڈیڈ… اللہ حافظ۔‘‘ سکینرہ نے فون بند کیا اور قدم پارکنگ کی طرف بڑھا دیے۔
’’سکینرہ… سکینرہ…‘‘ وہ اپنے خیالوں میں آگے بڑھ رہی تھی کہ اپنے نام کی پکار اس کی سماعت سے ٹکرائی، اس کے قدم رک گئے اور پلٹ کر دیکھا۔
’’السلام علیکم…‘‘ اس کے متوجہ ہونے پر اس پر سلامتی بھیجی۔
’’وعلیکم السلام…‘‘ وہ ٹھٹکی، چہرے پر الجھن بھی نمودار ہوئی۔
’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ مدھم مسکراہٹ چہرے پر سجاکر ادھر سے بے تکلفی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا‘ احمر نے اچٹتی نظروں سے اسے دیکھا اور اس کے ساتھ آکھڑا ہوا۔ ’’کہیں جا رہی ہیں؟‘‘ وہ مسلسل خاموش تھی تو وجاہت نے پھر سوال کیا۔
’’گھر جا رہی ہوں۔‘‘ وہ قدرے رخ موڑ کر بولی۔
’’اتنی جلدی کیوں؟‘‘ اس کی ناگواری کو واضح محسوس کرنے کے باوجود ایک اور سوال کیا‘ اس نے متعجب نظروں سے دیکھا۔ جب کہ احمر اس کی اس ڈھٹائی پر من ہی من اسے گالیوں سے نواز رہا تھا اور کڑی نگاہوں سے گھورے جا رہا تھا۔
’’آفٹر نون میں لیکچر نہیں ہے اس لیے۔‘‘ مجبوراً اسے جواب دینا پڑا۔
’’لیکچر نہیں ہے تو چلیں کافی پیتے ہیں۔‘‘ وجاہت نے فراخ دلی کی انتہا کردی۔ سکینرہ نے بے حد حیرانی سے اسے دیکھا، یک دم اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے۔ احمر نے بھی چونک کر اسے دیکھا۔
’’ہم نے لیکچر اٹینڈ کرنا ہے اور غالباً ہمیں دیر ہورہی ہے۔‘‘ احمر نے اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر مسکرا کر کہا۔
’’سکینرہ آپ جائیں گھر، پھر ملاقات ہوگی۔‘‘ وہ اسی طرح بے تاثر چہرے کے ساتھ کھڑی تھی کہ احمر نے کہا تو وہ بنا ایک لفظ کہے وہاں سے چلی گئی۔
’’اف مار ڈالا ظالم…‘‘ احمر نے اس کے کندھے پر مکا مارا تو وہ کراہ کر رہ گیا۔
’’وہ ہمیں بالکل بھی گھاس نہیں ڈالے گی۔‘‘ احمر نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔
’’ہاں… کیوں کہ میں گھاس کھانے والی مخلوق ہی نہیں ہوں… ہم تو نوڈلز کھاتے…‘‘ وجاہت نے کالر جھاڑ کر کہا۔
’’فورک پر لپیٹ لپیٹ کر…‘‘ احمر نے ایک بار پھر کڑی نگاہ سے اسے دیکھا اور اس کی بات کاٹ کر کہا۔
’’تمہیں کس بات پر اعتراض ہے۔‘‘ وجاہت نے پل بھر رک کر اسے دیکھا۔
’’نوڈلز کو لپیٹ لپیٹ کر کھانے پر…‘‘ احمر کا برجستہ جواب اس کے قہقہے کو بلند کر گیا۔
’’تم ہمیشہ فضول باتیں ہی سوچتے ہو…‘‘ وجاہت اس کی نظروں اور کڑے تیوروں کا مطلب بخوبی سمجھ چکا تھا۔ ’’ایسی کوئی بات نہیں ہے یار…‘‘ وہ چلتے ہوئے پھر بولا۔
’’ایسی باتوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا، اس لیے بہتر یہی ہے کہ جس مقصد کے لیے یہاں بھیجے گئے ہو اسی پر قائم رہو…‘‘ اس کے ساتھ چلتے ہوئے احمر نے پھر کہا تو وجاہت نے ایک نظر اسے دیکھا اور وہ دونوں لیکچر تھیٹر میں داخل ہوگئے تھے۔

’’پتہ نہیں یہ خوامخواہ میرے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے۔‘‘ وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بڑبڑائی۔
’’کیسا ڈھیٹ بندہ ہے جو دیکھ ہی نہیں رہا کہ میں اس سے بات کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں۔‘‘ سکینرہ نے چابی اگنیشن میں لگائی اور گھر کی جانب جاتی سڑک کی طرف بڑھ گئی۔
’’ڈیڈ آپ کیا کھائیں گے؟ لنچ بھی ریڈی ہے اور میری بھوک سے ڈیتھ بھی ہونے والی ہے۔‘‘ وہ گھر پہنچ کر لنچ تیار کر چکی تھی لیکن عبدالمعید کا ابھی تک کوئی اتا پتہ نہ تھا تو بالآخر اس نے پھر میسج کیا۔
’’تم آنکھیں بند کرکے ہنڈرڈ تک کائونٹ کرو… میں پہنچ جائوں گا۔‘‘ چند منٹس بعد ہی عبدالمعید کا رپلائے آگیا تو بے ساختہ مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا۔
’’ایٹی فائیو، ایٹی سکس…‘‘ وہ ابھی بیٹھی مسکرا ہی رہی تھی کہ مین ڈور کا لاک کھلنے کی آواز آئی تو اس نے اونچی آواز میں اسی کی دھائی کے نمبر پڑھنا شروع کردیے، عبدالمعید کے کانوں تک آواز پہنچی تو اس کی شرارت سمجھتے ہوئے وہ بے ساختہ قہقہہ لگا کے اندر کی جانب بڑھے۔
’’نائنٹی ون، نائنٹی ٹو…‘‘ انہوں نے کمرے میں قدم رکھا تو سکینرہ کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھے۔
’’دیکھو میں جیت گیا…‘‘ وہ اس کے برابر بیٹھتے ہوئے بولے۔
’’جی نہیں۔ یہ ون ہینڈرڈ اینڈ نائٹنی ون ہے… آپ بہت برے طریقے سے ہار گئے ہیں ڈیڈ…‘‘ وہ ان کو چڑانے لگی تو عبدالمعید نے منہ بسور کر اسے دیکھا۔
’’اور آپ کو ہرانے والی کوئی اور نہیں… سکینرہ عبدالمعید ہے۔‘‘ وہ اترا کر بولی تو عبدالمعید یک ٹک اس کو دیکھنے لگے۔
’’ڈیڈ…‘‘ اس نے چٹکی بجاکر ان کو چونکایا۔
’’میری جھلی دھی…‘‘ وہ پھر مسکرائے۔
’’یہ ہار تو جیت سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘ وہ صوفے کی پست پر ٹیک لگا کر بولے۔
’’میرے جھلے ڈیڈ… ہارنے والا ایسے ہی کہتا ہے۔ اب آپ جلدی سے فریش ہوجائیں۔ میں کھانا گرم کرتی ہوں۔‘‘ وہ حسب عادت چہک کر بولی تو عبدالمعید نے اسے دیکھا۔ اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’بائے دا وے ڈیڈ…‘‘ وہ جاتے ہوئے پلٹی تو صوفے پر سے اٹھتے عبدالمعید نے اسے دیکھا۔
’’آج کچھ ہوا ہے کیا؟‘‘ وہ پر سوچ جانچتی نظروں سے عبدالمعید کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’کیا مطلب کیا ہوا ہے؟‘‘ عبدالمعید یک دم محتاط ہوئے۔
’’آپ کچھ اپ سیٹ ہیں ڈیڈ؟‘‘ وہ اپنے مخصوص کیئرنگ انداز سے آج پھر عبدالمعید کو حیران کر گئی تھی۔
’’نہیں تو بیٹا۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں اسے یقین دلانے لگے۔
’’آج پھر آپ نے دراز کھولا ناں؟‘‘ وہ بظاہر سرسری انداز میں ان سے پوچھ رہی تھی۔
’’نہیں بیٹا۔‘‘ وہ کترائے۔
’’کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے ڈیڈ کہ آپ اپنی سکینرہ سے کچھ چھپاتے ہیں۔‘‘ سکینرہ منہ بسور کر بولی۔
’’نہیں تو… میری زندگی تو کھلی کتاب ہے۔‘‘
’’لیکن وہ دراز نہیں کھلتی…‘‘ سکینرہ نے شکایت کی تو عبدالمعید نے کترا کر موضوع بدلا۔
’’اب کھانا دے دو۔‘‘ یک دم وہ منہ بسور کر بولے۔
’’اوکے… جلدی آجائیں کھانا ٹھنڈا ہوگیا تو پھر گرم نہیں کروں گی۔‘‘ وہ کہتی ہوئی کچن کی جانب بڑھی۔ تو عبدالمعید نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کیا اور کھانا کھانے کے لیے کچن کی طرف بڑھ گئے۔

وہ پریشان اور الجھن کا شکار تھی۔ نجانے کیوں بانو آپا کی باتیں اسے اچھی نہیں لگی تھیں، بانو آپا کے بارے میں حسن کی باتیں بھی اسے الجھن میں ڈال دیا کرتی تھیں۔ وہ بار بار حسن سے بحث کرتی تھی۔ بانو آپا کے حوالے سے اس کی تلخ بات پر ڈٹ کر مقابلہ کرتی بھی تھی لیکن وہ حسن کے لیے بھی بانو آپا کے سامنے ڈٹ جایا کرتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ حسن اور بانو آپا کو اپنے ساتھ باندھ کر رکھتی ہے۔ اپنے اپنے مقام پر دونوں ٹھیک ہیں، صرف وہ ہے جو… جنونی ہے… جن کی اس کی زندگی میں بہت اہمیت ہے۔ انہیں وہ دور نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن حسن مرد، شوہر تھا، وہ بھی تو محبت کرتا تھا پھر وہ کیسے اور کیونکر برداشت کرے کہ اس کی محبت میں کوئی اور بھی شریک ہو؟ غیر محسوس طریقے سے بانو آپا اس سے دور ہورہی تھیں اور یہ بات اسے پریشان کرنے لگی تھی۔
بانو آپا سے اس کا کوئی خون کا رشتہ نہیں تھا لیکن جو رشتہ تھا وہ اس قدر مضبوط تھا کہ اس میں ذرا سی دراڑ کی بھی گنجائش نہیں تھی۔
’’کیا بات ہے میری بلبل… آج اداس کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ وہ جانے کتنی دیر سے ا سی سوچ میں گم تھی کہ حسن کی آواز نے اسے چونکایا۔
’’کچھ نہیں بس ایسے ہی…‘‘ وہ قدرے سست لہجے میں بولی تو حسن نے کھوجتی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’کیا ہوا ہے… کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ حسن اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام کر نرم لہجے میں پوچھنے لگا۔
’’کچھ نہیں…‘‘ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔
’’نہیں حسن میں تمہیں نہیں بتا سکتی کہ بانو آپا کو تمہاری محبت پر شک ہے، نہیں بتا سکتی حسن کے بانو آپا کتنی تلخ ہو جاتی ہیں تمہارے نام پر… میں نہیں جانتی کہ تمہارے سامنے بانو آپا کیسے خود کو کمپوز کرلیتی ہیں۔‘‘ وہ دل ہی دل میں افسردہ ہوتی سوچ رہی تھی۔
’’اے کیا ہوا… سب ٹھیک ہے ناں؟‘‘ حسن نے حیران نگاہ اس پر ڈالی۔ تو اس نے اثبات میں سر ہلاکر اس کے کندھے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔
’’حسن تم میرے لیے بہت قیمتی ہو…‘‘ وہ بہت مدھم آواز میں بولی تو حسن نے سر گھماکر اسے دیکھا۔
’’فون بج رہا ہے…‘‘ حسن کچھ کہنے والا تھا کہ شجیعہ نے اس کی توجہ بجتے فون کی طرف دلائی… اگلے لمحے اس نے موبائل نکالا اور یک دم سیدھا ہوکر بیٹھا۔ شجیعہ نے اسے دیکھا تو اس نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
’’ہیلو السلام علیکم…‘‘
’’نہیں لالہ مصروف تھا، اس لیے دیر سے کال اٹینڈ کی۔‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے لالہ…‘‘
’’میں کوشش کررہا ہوں لیکن…‘‘
’’آپ بات سمجھنے کی کوشش کریں لالہ… میں بہانے کیوں بنائوں گا؟‘‘ شجیعہ اس پر نظریں جمائے یک طرفہ گفتگو اور حسن کے سپاٹ انداز کو دیکھ کر وہ اندازہ لگاسکتی تھی کہ کس کی کال ہے اور کیا باتیں ہورہی ہوں گی۔
’’لالہ ایسے فیصلے فون پر نہیں حل ہوتے۔‘‘ شجیعہ نے اس کی جھنجھلاہٹ اور لہجے کی کڑواہٹ کو بخوبی نوٹ کرتے ہوئے متحیر نظروں سے اسے دیکھا۔
’’نہیں لالہ میں… میری ایسی مجال… میں کوئی مشورہ نہیں دے رہا لیکن جو معاملات مجھ سے منسلک ہیں، ان پر بولنے کا پورا حق ہے میرے پاس۔‘‘ حسن نے ماتھے پر بل ڈال کر انتہائی تنک مزاجی کا مظاہرہ کیا تو یک دم شجیعہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کو احساس دلایا، حسن نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ دھیرے سے مسکرادی۔
’’لالہ میرا ابھی پاکستان آنا ممکن نہیں، میری جاب کا مسئلہ ہے‘ جب تک مجھے چھٹیاں نہیں مل جاتیں تب تک وہاں کے معاملات آپ کو ہی دیکھنے ہوں گے۔‘‘ اب حسن کے لہجے میں ایک ٹھہرائو در آیا تھا۔
’’لالہ آپ کے پاس تو سارے اختیارات ہیں پھر…‘‘ دوسری طرف سے یقینا کوئی گلے شکوے کیے جا رہے تھے۔ شجیعہ کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔
’’نہیں لالہ اس وقت جاب پر نہیں ہوں، کچھ دوستوں کے ساتھ ہوں۔ آپ کی کال آئی تو سائیڈ پر ہوا تھا۔ اس لیے آوازیں نہیں آرہیں۔‘‘ حسن نے وضاحت دی۔
’’اچھا لالہ وہ سب بلانے کا اشارہ کررہے ہیں۔ ہاں فرصت ملتے ہی کال کروں گا‘ نہیں آپ کو ٹکٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں میں کوشش کرتا ہوں خود ہی سیٹ کنفرم کروا لوں…‘‘ شجیعہ چونکی، دل میں بے شمار وسوسوں نے کھلبلی مچائی‘ اس کا ہاتھ کانپ اٹھا تو حسن نے اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کی گرفت مزید مضبوط کرلی تھی۔

(ان شاء اﷲ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close