Aanchal Nov-18

عشق سفر کی دھول

نازیہ کنول نازی

آتی ہیں بدلتے موسم کی ہوائیں
دیتا ہے کوئی عمر گزشتہ کو صدائیں
لوٹ آئے ہیں نکھرے دن، چاندنی راتیں
کس دیس سے اے دوست تجھے ڈھونڈ کے لائیں

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

حسن بانو اور سعید کی پسند کی شادی نے سعید کی محبت میں اپنا گھر چھوڑ دیا تھا اب وہ دونوں اپنے بیٹے ایزد غربت کی زندگی گزار رہے تھے۔ سعید کو جوئے کی لت لگ جاتی ہے اور جوئے میں وہ حسن بانو کا سودہ کردیتا ہے۔
حمزہ سعید کا دوست تھا اور سعید کے گھر اس کا آنا جانا ہوتا ہے وہ سعید کی ہر بات سے با خبر ہوتا ہے تب ہی حسن بانو کے سودے والی بات سے اسے با خبر کرتا ہے اور گھر سے بھاگ جانے کا مشورہ دیتا ہے جس پر حسن بانو پریشان ہوجاتی ہے اور سعید سے اس حوالے سے بات کرتی ہے۔ سعید نے جوئے میں ہارنے کے بعد ان لوگوں سے رقم کے لیے چند دن کی مہلت مانگی تھی تاکہ وہ رقم کا بندوبست کرسکے سعید کا رات کے اندھیرے میں اس شہر سے فرار کا منصوبہ تھا پر وہ لوگ عین وقت پر پہنچ کر حسن بانو کو اپنے ساتھ لے جانے کی بات کرتے ہیں۔ حسن بانو کمرے میں ایزد کے ساتھ بند ہو جاتی ہے اور اسے کوئی راہ فرار دکھائی نہیں دیتی تو وہ خود کشی کرلیتی ہے ایزد کے کچے ذہن میں ماں کی پنکھے سے لٹکتی لاش ہمیشہ کے لیے رہ جاتی ہے۔
سعید ایزد کو لے کر دوسرے شہر آجاتا ہے اور وہاں نوکری کرنے لگتا ہے لیکن ایک روز اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ وہ بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہے گا تب وہ ایزد کو حمزہ کے ساتھ بھیج دیتا ہے۔
حمزہ عباسی کے گھر میں ان کی بیوی اور بچوں کے علاوہ ایک بہن بھی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہے۔ حمزہ عباسی ایزد کی حقیقت اپنی بیوی سلمیٰ سے نہیں چھپاتے حمزہ عباسی کے دونوں بچے عماد اور عائشہ بھی ایزد سے دوستی کرلیتے ہیں جبکہ حمزہ عباسی کی بہن زہرہ بیگم کی دونوں بیٹیاں ماں کے کہنے پر ایزد سے دور رہتی ہیں جبکہ نوال رویہ ایزد کے ساتھ بے حد خراب ہوتا ہے۔
شفا اور امرحہ دو بہنیں تھیں شفا شادی شدہ اور امرحہ ابھی زیر تعلیم ہوتی ہے۔ عماد شفا سے محبت کرتا ہے لیکن شفا محبت میں پاگل پن کی حد تک جنونی ہوتی ہے اس سے یہ بات برداشت نہیں کہ عماد اس کے علاوہ کسی کو اہمیت دے جب ہی ایک ذرا سی بات پر شفا خود کشی کی کوشش کرتی ہے جس پر عماد پریشان ہوتا دوبارہ اس سے کبھی خود کشی نہ کرنے کا عہد لیتا ہے امرحہ شفا کو سمجھاتی ہے لیکن وہ سمجھنے کے بجائے اپنی محبت کی شدت کی بات کرتی امرحہ کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔
عماد کا رشتہ بچپن میں اس کی پھوپی زاد سے طے تھا لیکن اس نے صرف شفا کی وجہ سے اس رشتے کو ٹھکرا دیا تھا اور اس کو ٹھکرانے کے ساتھ ہی تمام خونی رشتوں کو بھی چھوڑ دیا تھا۔ وہ شفا کی خود کشی کے عمل سے خائف ہو کر اسے طلاق دے دیتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی ذرا سی بے پروائی کی وجہ سے شفا پھر کبھی خود کشی کرلے۔
امرحہ کی یونیورسٹی میں عمر سعید اور فاطمہ سے دوستی تھی جبکہ عمر سعید اور ایزد حسن ایک دوسرے کے دشمن ہیں عمر سعید امرحہ کو اکساتا ہے کہ وہ ایزد حسن سے بدلہ لے لیکن وہ خود کو کمزور ظاہر کرتی ہے جس پر عمر سعید اسے اعتماد میں لے کر منصوبہ بناتا ہے امرحہ عمر سعید کے منصوبہ پر عمل کرتی ایزد حسن کو یونیورسٹی میں بدنام کردیتی ہے۔
پروفیسرز ایزد حسن کو قصور وار سمجھتے ہوئے اسے یونیورسٹی سے نکال دیتے ہیں میرب ایزد کی دوست ہے وہ اس سے اس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہے لیکن ایزد حسن اس وقت کسی سے بھی بات کرنا نہیں چاہتا۔
حمزہ عباسی ایزد حسن سے اس معاملہ کی پوچھ گچھ کرتے اسے گھر سے نکال دیتے ہیں ایزد سلمیٰ بیگم کے سامنے اپنی بے گناہی کا ذکر کرتا ہے وہ سلمیٰ بیگم کو ماں کو درجہ دیتا تھا لیکن سلمیٰ بیگم اس کی بات پر خاموش رہتی ہیں۔
فاطمہ امرحہ کو سمجھاتی ہے لیکن امرحہ بدلے کی خوشی میں اپنی عزت کی پروا بھی نہیں کرتی اور فاطمہ کی بات ان سنی کردیتی ہے، امرحہ ساری بات شفا کو بتا کر اس سے داد چاہتی ہے جبکہ شفا غصہ میں اسے حقیقت کا آئینہ دکھاتی حیران کرجاتی ہے امرحہ کو بھی سمجھ آجاتا ہے کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔
عائشہ اور ایزد ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور دونوں نے اپنے طور پر منگنی بھی کرلی تھی عائشہ منگنی کی انگوٹھی واپس کرنے آتی ہے تو ایزد اسے اپنی بے گناہی کا یقین دلانا چاہتا ہے لیکن عائشہ بھی خاموشی سے پلٹ جاتی ہے جس پر ایزد دل برداشتہ ہو کر گھر سے نکل جاتا ہے۔
امرحہ پروفیسر صاحب کے سامنے ساری حقیقت بیان کرنا چاہتی ہے لیکن وہ چھٹی پر ہوتے ہیں تب امرحہ فاطمہ سے مدد مانگتی ہے اور فاطمہ اسے موبائل فون کے ذریعے پروفیسر کو ساری بات بتانے کا مشورہ دیتی ہے امرحہ فاطمہ کے مشورے پر عمل پروفیسر صاحب کو سب بتا دیتی ہے۔
عمر سعید امرحہ کو دھمکی دیتا ہے کہ وہ ایزدکی سچائی میں کچھ نہیں کہے گی اس طرح عمر سعید اور امرحہ دونوں بدنام ہوجاتے لیکن امرحہ اس کی دھمکی میںنہیں آتی۔
پروفیسر تمام بات جان کر حمزہ عباسی کو ایزد کے بے گناہ ہونے کا بتاتے ہیں اور اسے دوبارہ سے یونیورسٹی آنے کا کہتے ہیں مگر ایزد گھر پر نہیں ہوتا۔
امرحہ یونیورسٹی جانے کے لیے بس اسٹاپ پر کھڑی ہوتی ہے تب ایک کار اس کے قریب آکر رکتی ہے اور اس میں سے ایک آدمی نکل کر امرحہ کو اغوا کر لیتا ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

دل کے آتش دان میں شب بھر
کیسے کیسے غم جلتے ہیں
نیند بھرا سناٹا جس دم
بستی کی ایک ایک گلی میں
کھڑکی کھڑکی تھم جاتا ہے
دیواروں پر درد کا کہرا جم جاتا ہے
رستہ تکنے والی آنکھیں اور قندیلیں بجھ جاتی ہیں
تو اس لمحے…
تیری یاد کا ایندھن بن کر
شعلہ شعلہ ہم جلتے ہیں
دوری کے موسم جلتے ہیں
تم کیا جانو
قطرہ قطرہ دل میں اترتی اور پگھلتی
رات کی صحبت کیا ہوتی ہے
آنکھیں سارے خواب بجھا دیں
چہرے اپنا نقش گنوا دیں
اور آئینے عکس بھلا دیں
ایسے میں امید کی وحشت
درد کی صورت کیا ہوتی ہے
ایسی تیز ہوا میں پیارے
بڑے بڑے منہ زور دیئے بھی کم جلتے
لیکن پھر بھی ہم جلتے ہیں
ہم جلتے ہیں اور ہمارے ساتھ تمہارے
غم جلتے ہیں
دل کے آتش دان میں شب بھر
تیری یاد کا ایندھن بن کر
ہم جلتے ہیں
خ…ز…خ
تیز آندھی چل رہی تھی بلکہ نہیں… وہ آندھی نہیں تھی، وہ طوفان تھا… بھیانک طوفان… جس نے جڑوں سے پیڑ تک اکھاڑ دیے تھے۔
اس رتیلی خشک زمین پر اوندھے منہ گرے درختوں کے درمیان ایک چڑیا کا چھوٹا سا گھونسلہ بکھرا پڑا تھا۔ گھونسلے میں موجود انڈے ٹوٹ چکے تھے۔ انڈوں کے ساتھ کچھ ہی فاصلے پر ایک زخمی چڑیا پروں میں منہ چھپائے مری پڑی تھی۔
دور سے گھونسلے کی طرف واپس پلٹنے والا چڑا، خشک حلق کے ساتھ بکھرے ہوئے گھونسلے کے اوپر چکر لگاتا شور مچا رہا تھا۔ اس کی بے بسی قابل دید تھی۔ وہ کبھی گھونسلے کے اوپر گول گول چکر لگاتا تو کبھی پتھریلی گرم زمین پر اوندھے منہ گری چڑیا کے مردہ وجود کے پاس اتر کر اپنی چونچ زور زور سے زمین پر مارتا۔
طوفان کو تھم جانا تھا۔
آندھی کو رک جانا تھا مگر… وہ گھونسلہ جو ٹوٹ چکا تھا اسے اب دوبارہ آباد نہیں ہونا تھا۔ خشک ریتلی زمین پر اوندھے منہ گرے درختوں کے قریب پیاس اور طوفان کی شدت سے ہار مان کر جو چڑیا مرچکی تھی اسے اب دوبارہ زندہ نہیں ہونا تھا۔
تاحد نگاہ وحشت اور خاموشی کی چادر میں لپٹے اس سنسان صحرا میں اب کسی ذی روح کا قیام ممکن ہی نہیں تھا۔
خ…ز…خ
اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ ایک اجنبی سنسان جگہ پر قید ہوئے اسے کئی گھنٹے گزر چکے تھے مگر وہاں کوئی نہیں آیا تھا۔ اسے اب شفاء اور فاطمہ کی باتیں یاد آرہی تھیں مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ پانی سر سے گزر چکا تھا۔ وہ نڈھال وجود کے ساتھ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اپنا گھر، اپنا کمرا، اپنے رشتے اسے رہ رہ کر یاد آرہے تھے اور رلا رہے تھے۔ نجانے اس کے ساتھ ابھی اور کیا کچھ ہونے والا تھا۔
کمرے میں بڑھتے اندھیرے نے جیسے اس کا گلہ گھونٹنا شروع کردیا تھا اسے مجبوراً اٹھ کر بلب روشن کرنا پڑا۔ کمرے میں روشنی کا بندوبست تھا مگر کمرے سے باہر اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ نجانے وہ کہاں لاکر قید کی گئی تھی۔
’’کوئی ہے؟‘‘ ایک مرتبہ پھر کھڑکی کے قریب ہوتے اس نے بلند آواز میں صدا بلند کی مگر وہاں کوئی ہوتا تو اس کی پکار پر کان دھرتا۔ نتیجتاً اسے بے بس ہوکر پھر سے خاموش ہونا پڑا۔
وقت جیسے جیسے بڑھتا جارہا تھا، اس کے خوف میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ وہ اپنے گھر کے علاوہ کہیں اکیلی نہیں رہتی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اسے یہ اذیت دیکھنی پڑ رہی تھی۔ یقینا اب تک تو سارے شہر میں اس کی رسوائی کے چرچے پھیل چکے ہوں گے۔
بھوک پیاس کے ساتھ سردی جیسے ہڈیوں میں گھسی جارہی تھی مگر وہاں اس کے پاس سردی سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔
باہر بارش شروع ہوگئی تھی۔ امرحہ نے کھڑکی بند کردی۔ سرد ہوا کے جھونکے رات کی بڑھتی ہوئی تاریکی کے ساتھ اس کا خوف مزید بڑھا رہے تھے۔ وہ گھٹنوں میں منہ چھپا کر مختلف قرآنی آیات کا ورد کرتی رہی۔ رات کے نجانے کس پہر اسی حالت میں بیٹھے ہوئے اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ صبح وہ بیدار ہوئی تو اس کا پورا جسم اکڑا ہوا تھا۔
دن اچھا خاصا چڑھ آیا تھا۔ پیاس کی شدت سے حلق میں جیسے کانٹے اگ آئے تھے مگر وہ بے بس تھی۔ اس کے پاس فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ بمشکل اپنے اکڑے ہوئے وجود کو حرکت میں لاتی وہ پھر کھڑکی کے قریب آئی تھی۔
دن کے اجالے نے رات والے خوف کو قدرے زائل کردیا تھا۔ اس نے کھڑکی کھولی تو باہر دھوپ چمک رہی تھی۔ وہ ایک ایک چھوٹا سا لال اینٹوں کا بنا مکان تھا۔ چھوٹا سا صحن جس کے ایک کونے میں باتھ روم بنا کر ساتھ ہی کچھ فاصلے پر ہینڈ پمپ نصب کیا گیا تھا۔
مکان کی حالت بتا رہی تھی کہ وہاں قرب و جوار میں شاید دور دور تک کہیں آبادی کا نام و نشان بھی نہیں تھا مگر پھر بھی وہ چلائی تھی۔
’’کوئی ہے… پلیز میری بات سنو۔‘‘ وہ کل جیسی ایک اور اذیت ناک تاریک رات کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جب ہی مسلسل چلاتی رہی۔
وہاں قرب و جوار میں رہائشی گھر نہیں تھے مگر جس سڑک پر وہ ’’مکان‘‘ تعمیر تھا۔ وہ سڑک لوگوں کے استعمال میں آتی تھی۔ اس وقت بھی کچھ لوگ وہاں سے گزر رہے تھے، جب اس کی پکار کمرے سے صحن کا سفر طے کرتی باہر سڑک پر موجود لوگوں کی سماعتوں سے جا ٹکرائی۔ ایک موٹر سائیکل کے ٹائر تیزی سے چرچرائے تھے۔
’’اندر کوئی ہے، کیا تم نے کسی عورت کی آواز سنی؟‘‘ ایک ادھیڑ عمر شخص ایک نو عمر لڑکے سے پوچھ رہا تھا۔ لڑکے نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’جی ہاں آواز تو میں نے بھی سنی ہے۔‘‘
’’مگر یہ گھر تو بند لگ رہا ہے۔‘‘
’’بند تو نہیں ہے، ایک لڑکا رہتا ہے یہاں، شاید اسی کی کوئی رشتہ دار ہو۔‘‘
’’ہوسکتا ہے، مگر وہ چلا کیوں رہی ہے؟‘‘
’’میں کیا کہہ سکتا ہوں جی۔‘‘
’’میرے خیال سے ہمیں اندر چل کر حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔‘‘ ادھیڑ عمر شخص فکر مند تھا۔ تب ہی ایک رکشہ وہاں آکر رکا۔ رکشے سے نکلنے والے شخص نے کرائے کے پیسے ادا کیے پھر ان دونوں حضرات کی طرف متوجہ ہوا۔
’’السلام علیکم! خیریت؟‘‘
’’وعلیکم السلام! میاں خیریت نہیں ہے، یہ مکان بند ہے اور اندر کوئی لڑکی چلا رہی ہے۔‘‘ ادھیڑ عمر شخص نے اپنی وہاں موجودگی کی وجہ بیان کی۔
آنے والے کی پیشانی پر ناگواری کی ایک ہلکی سی لکیر ابھر کر معدم ہوگئی۔ ایک نظر اس نے سامنے مکان پر ڈالی پھر اپنے سامنے کھڑے بزرگ سے گویا ہوا۔
’’میری بیوی ہے، ابھی دو روز پہلے یہاں آئی ہے، کل رات خراب موسم کی وجہ سے میں شہر سے گھر نہیں آسکا تو گھبرا کر چلا رہی ہوگی، اب میں آگیا ہوں برائے مہربانی آپ اپنا کام کریں، پلیز۔‘‘
’’دیکھا، میں نے کہا تھا ناں کوئی رشتے دار ہوگی اس کی۔‘‘ نو عمر لڑکے کو اپنی ذہانت ثابت کرنے کا موقع مل گیا‘ ادھیڑ عمر شخص اثبات میں سر ہلاتا شرمندہ سا آگے بڑھ گیا۔
امرحہ چلا چلا کر تھک گئی تو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اس کا سر بے حد بھاری ہورہا تھا۔ اوپر سے بخار کی کیفیت بھی تھی۔ وہ ابھی آنکھیں موندھے وہاں سے فرار کا سوچ ہی رہی تھی جب بیرونی دروازہ کھول کر کوئی پورے اعتماد کے ساتھ قدم اٹھاتا گھر کے اندر چلا آیا۔ امرحہ کا دل بے ساختہ زور سے دھڑکا۔
کھڑکی کے پٹ کھولتے ہوئے اس کے ہاتھ واضح طور پر کپکپائے تھے۔ تب ہی کوئی کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا تھا۔ امرحہ نے دیکھا اور پھر جیسے ساکت رہ گئی۔
’’تم…!‘‘ اسے جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا اور اس نے جیسے اس کا سوال سنا ہی نہیں۔
امرحہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ اب بیڈ پر بیٹھا اپنے جوتوں کے تسمے کھول رہا تھا۔ عام سے لباس میں ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ وہ پہلے والے ایزد حسن سے کتنا مختلف لگ رہا تھا۔ امرحہ لپک کر اس کے قریب چلی آئی۔
’’ایزد… ایزد مجھے معاف کردو پلیز، میں نے تمہارے ساتھ جو کیا میں بہت پچھتائی ہوں… میں نے… میں نے فون پر پرنسل صاحب کو بھی سب سچ بتادیا ہے، انہوں نے عمر سعید کو یونیورسٹی سے نکال دیا ہے، پلیز مجھے معاف کردو، میں نے اپنے جرم کا ازالہ کردیا ہے…‘‘
’’چٹاخ۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی ایزد کا بھاری ہاتھ اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا۔
’’بس… تم نے زندگی میں جتنا بولنا تھا تم بول چکی ہو امرحہ حسین، آج کے بعد میں کبھی تمہاری بک بک نہ سنوں، وگرنہ وہ حشر کروں گا تمہارا کہ تم موت کے لیے ترسو گی مگر تمہیں موت بھی نہیں آئے گی۔‘‘ سرخ آنکھوں میں نفرت کا الاؤ دہکائے اس نے شہادت کی انگلی اٹھا کر اتنے سخت لہجے میں تنبیہ کی کہ وہ ہکابکا سی گنگ ہوکر اسے دیکھتی رہ گئی۔
یہ نرم مزاج بے حد سلجھا ہوا شریف ایزد حسن تو نہیں تھا۔ یہ تو کوئی اور تھا بے حد سخت جان، سخت دل، الجھا الجھا سا شخص… بھلا وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا یہ جاننا ابھی اس کے لیے بے حد مشکل تھا۔ دوپہر ڈھل ری تھی۔ امرحہ چپ چاپ بیٹھی اسے دیکھتی رہی۔
ایزد نے ہینڈ پمپ سے پانی بھر کر غسل خانے میں رکھا، پھر تازہ دم ہوکر اس نے اپنے کپڑوں کی جیب سے موبائل نکالا اور کسی کو کال ملائی۔ وہ اسے یوں قطعی طور پر نظر انداز کیے ہوئے تھا جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔
’’ہیلو۔‘‘ کچھ ہی لمحوں کے بعد اس کی لائین غالباً مل گئی تھی۔ امرحہ کا روم روم سماعت بن گیا تھا۔
’’ہاں میرب، کچھ بات بنی؟‘‘ وہ اپنی یونیوسٹی فیلو میرب کے ساتھ رابطے میں تھا۔ امرحہ کا دل چاہا وہ اس سے موبائل چھین کر میرب کو اپنی وہاں موجودگی کا بتائے تاکہ اس کے گھر والوں کو پتہ چل سکے کہ وہ کہاں ہے، مگر موبائل چھیننا اتنا آسان نہیں تھا جتنا کہ سوچنا۔ وہ اونچی آواز میں بول کر میرب تک اپنی آواز پہنچا سکتی تھی، تب ہی اپنی جگہ سے اٹھ کر ایزد کے قریب آتے ہوئے ابھی اس نے منہ ہی کھولا تھا کہ ایزد نے لپک کر اسے اپنی حراست میں لیتے ہوئے اس کے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ جما دیا۔ امرحہ اس کی مضبوط گرفت میں کسی چڑیا کی طرح پھڑپھڑا کر رہ گئی۔
میرب کچھ بول رہی تھی، وہ خاموشی سے سنتا رہا۔
’’چلو ٹھیک ہے، میں یہاں سیٹ نہیں ہوں۔‘‘ امرحہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کس بارے میں بات کررہے تھے، مگر وہ اتنا ضرور جانتی تھی کہ ایزد حسن مالی مشکلات کا شکار ہے۔ شاید اس کے گھر والوں نے اسے گھر سے نکال دیا تھا۔ ایزد نے کال کٹ کرنے کے بعد ایک جھٹکے سے اسے پرے دھکیلا۔
’’گو ٹو ہیل۔‘‘ نفرت سے کہہ کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔ امرحہ نے لپک کر اس کے پیچھے جانا چاہا مگر اس سے پہلے ہی اس نے کمرے کا دروازہ پھر لاک کر دیا تھا۔
خ…ز…خ
رات اپنے پر پھیلائے پھر سے سارے ماحول پر قابض ہونے کو تیار تھی۔ امرحہ نے رو رو کر اپنا حشر کرلیا تھا۔ ایزد حسن انسانیت کے تمام درس بھلائے اسے تیز بخار میں پھنکتا چھوڑ کر پھر کہیں چلا گیا تھا۔
مارے بھوک پیاس کے وہ بے جان سی ہوگئی تھی۔ کتنی ہی دیر تک وہ بلند آواز میں ’’ہیلپ، ہیلپ‘‘ چلاتی رہی، جب تھک کر نڈھال ہوگئی تو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اسے خبر ہی نہیں تھی کہ مغرب کے بعد چوروں اور ڈکیتیوں کی مختلف وارداتوں کے سبب اس علاقے میں کوئی بھول کر بھی قدم نہیں رکھتا تھا۔ رات کا سناٹا اور سرد ہوائوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔
اسے شفاء ٹوٹ کر یاد آئی۔ وہ کبھی اسے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ ماں کے بعد وہ اس کی بڑی بہن کے ساتھ ساتھ ماں بھی بن گئی تھی مگر اس وقت وہ اس کے پاس نہیں تھی۔
ایزد حسن کے ارادے کیا تھے وہ اچھی طرح سمجھ سکی تھی تب ہی رو رہی تھی۔ گھڑی کی سوئیاں جیسے جیسے آگے کا سفر طے کررہی تھیں، امرحہ کے اوسان خطاء ہورہے تھے۔ بے بسی سی بے بسی تھی۔
اسے وضو کرنا تھا۔ نماز پڑھنی تھی، مگر یہ سب تب ہی ممکن تھا جب وہ کمرے سے باہر جاسکتی۔ یہ کمرا تو اب جیسے اس کی قبر بنتا جا رہا تھا۔ رات اب آدھی رات میں ڈھل گئی تھی۔ امرحہ بخار سے ٹوٹتے وجود کے ساتھ زمین سے اٹھ کر بستر پر ڈھے گئی۔ دل ایک اجنبی جگہ پر تنہائی کے خوف کی شدت سے لرز رہا تھا۔
وہ روتی رہی یونہی روتے ہوئے نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی، اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس سے چلنا بھی محال تھا۔ پیاس کے ساتھ ساتھ بخار کی شدت نے اسے نچوڑ کر رکھ دیا تھا، مگر اسے یہاں قید میں رکھنے والے ’’شریف النفس‘‘ شخص کو اس کا احساس تک نہیں تھا۔
دن کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے وہ پھر آیا تھا۔ امرحہ نیم بے ہوشی کی حالت میں کراہ رہی تھی۔ یونہی کراہتے ہوئے ذرا دیر کو اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا وہ اپنا مختصر سا سامان پیک کررہا تھا۔ اس کا جی چاہا وہ بھاگ کر جائے اور اس کے پائوں پکڑلے، اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر یوں روئے کہ اس کا دل پگھل جائے اور وہ اسے معاف کردے مگر بھاگ کر جاتی کیسے؟ اس کا تو یہ حال تھا کہ ہلا بھی نہیں جارہا تھا۔
سخت بے بسی کے عالم میں خشک لبوں پر سوکھی زبان پھیرتے ہوئے بہ مشکل وہ آواز نکال پائی تھی۔
’’پانی۔‘‘ وہ جو قطعی طور پر اسے نظر انداز کیے اپنے کام میں مصروف تھا اس کی پکار پر یوں چونک کر متوجہ ہوا جیسے اسے وہاں اپنے سوا کسی اور وجود کی موجودگی کا احساس ہی نہ ہو۔
’’پانی۔‘‘ بند آنکھوں اور خشک ہونٹوں سے پھر صدا بلند ہوئی مگر اس بار بھی اس نے نظر انداز کردیا۔ یوں جیسے اس کے زندہ رہنے نہ رہنے میں اسے کوئی دلچسپی ہی نہ ہو۔
اپنا مختصر سا سامان پیک کرنے کے بعد اس نے پورے کمرے پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی، پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
’’میں یہ مکان چھوڑ رہا ہوں، اگر اپنے قدموں پر ساتھ چل سکو تو بہتر ہے ورنہ مجبوراً مجھے گھسیٹ کر ساتھ لے جانا پڑے گا۔‘‘ امرحہ ہوش میں ہوتی تو سمجھ جاتی مگر وہ تو اپنے حواس میں ہی نہیں تھی پھر اس کے حکم کی تکمیل کیسے کرتی۔
ایزد نے اپنا حکم دہرانے کی زحمت نہیں کی تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑا اور بناء اس کی حالت پر رحم کرتے اپنے ساتھ گھسیٹنا شروع کردیا تھا۔
اس کی کلائی ایزد کے ہاتھ میں تھی اور وہ زمین پر اگر جو ہوش میں ہوتی تو اس سلوک پر تڑپتی اور وجہ جانے کی کوشش کرتی کہ آخر کیوں وہ اسے اذیت پہنچا رہا ہے‘ ایک بار ہی مار کیوں نہیں دیتا۔
خ…ز…خ
شدید ٹھنڈ میں بناء کسی گرم شال کے سردی کے احساس سے بے خبر وہ تیز تیز چل رہی تھی۔ جب اچانک سائیڈ روڈ سے نکلتی گاڑی کے ٹائر عین اس کے قدموں کے پاس چرچرائے۔
احد جلدی میں تھا مگر اس کے باوجود اخلاقیات نبھاتے ہوئے وہ گاڑی سے اتر کر نیچے آیا‘ اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ صبح اتنی خوب صورت ہوسکتی ہے۔ وہ جلدی میں تھا اسے ضروری کام سے جانا تھا سب بھول گیا یاد رہا تو محض اتنا کہ اس کے سامنے وہ خوب صورت لڑکی کھڑکی تھی جس کے گلاب سے چہرے نے اسے پچھلے کئی دنوں سے سونے نہیں دیا تھا۔
شفاء گاڑی کو اس قدر قریب دیکھ کر توازن برقرار نہ رکھ سکی اور اس کی کہنی پر اچانک گرنے سے ہلکی سی چوٹ آگئی، جس سے خون نکل رہا تھا مگر اسے اس چوٹ کی پروا نہیں تھی۔ جبکہ احد کی جان پر بن گئی تھی۔
’’ایم سوری، میں ذرا جلدی میں تھا میں نے توجہ نہیں دی۔‘‘ قصور سراسر شفاء کا تھا مگر وہ الزام اپنے سر لے رہا تھا۔ شفاء نے اپنے آنسو صاف کیے۔ پھر اثبات میں سر ہلاتی آگے بڑھ گئی۔ احد بے چین ہوکر رہ گیا۔
’’ایکسکیوز می۔‘‘ وہ پیچھے لپکا مگر شفاء نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ مجبوراً اسے اس کے ساتھ چلنا پڑا۔
’’میری بات سنیں پلیز، آپ کو چوٹ لگی ہے خون بہہ رہا ہے، یہاں قریب ہی ایک کلینک ہے وہاں چلتے ہیں ایسی چوٹ میں انجکشن ضروری ہوتا ہے۔‘‘
’’میرے لیے ضروری نہیں ہے۔‘‘ خنکی صرف موسم میں ہی نہیں اس کے لہجے میں بھی تھی۔ احد بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔
’’دیکھیے میں جانتا ہوں آپ اس روز کی باتوں کی وجہ سے خفا ہیں مگر میرا یقین کیجیے۔ میری آپ کے متعلق ایسی سوچ بالکل نہیں ہے، میں آپ کو ایک بہت اچھی لڑکی تصور کرتا ہوں۔‘‘ تیز قدموں سے اس کے ساتھ چلتا وہ اپنا مدعا بیان کررہا تھا جب وہ رکی۔
’’آپ کیوں اپنا اور میرا وقت برباد کررہے ہیں؟ مجھے دلچسپی نہیں ہے۔ آپ میرے بارے میں کچھ بھی سوچیں نہ سوچیں لیکن پلیز میرا راستہ چھوڑ دیں۔ مجھے ابھی پولیس اسٹیشن پہنچنا ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ لہجہ بھی نم تھا۔
’’پولیس اسٹیشن…! سب ٹھیک تو ہے؟‘‘ احد ٹھٹکا۔
’’پلیز آپ اپنا کام کریں مجھے میرا کام کرنے دیں۔‘‘ شفاء نے اب باقاعدہ ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔ احد شرمندہ ہوگیا۔
’’ٹھیک ہے، آئیے میں آپ کو پولیس اسٹیشن چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں چلی جائوں گی، مجھے راستہ معلوم ہے۔‘‘ درشتگی سے کہتی ہوئی وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی۔
احد وہیں کھڑا بے بسی سے اسے دیکھتا رہا۔ قریبی تھانے کا ایس ایچ او اس کے ایک عزیز دوست کا بھائی تھا۔ وہ شفاء سے قدرے فاصلہ رکھتا، اس کے پیچھے وہیں چلا آیا، شفاء اپنا مسئلہ بتا کر چلی گئی تو وہ وہیں گاڑی پارک کرتا ایس ایچ او کے آفس میں چلا آیا۔
’’السلام علیکم یاور بھائی، کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’ارے احد، وعلیکم السلام، تم یہاں کیسے؟ آئو بیٹھو۔‘‘
’’شکریہ، یہاں سے گزر رہا تھا سوچا آپ سے سلام دعا کرتا چلوں اور سنائیں جاب کیسی جارہی ہے؟‘‘
’’الحمدللہ، ابھی تک تو سب ٹھیک ہے، تم سنائو، تمہارا بزنس کیسا چل رہا ہے؟‘‘
’’اے ون، الحمدللہ، اچھا یہ بتائیں ابھی جو محترمہ یہاں سے نکل کر گئی ہیں، ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟‘‘ مطلب کی بات پر آنے میں اس نے زیادہ وقت نہیں لیا تھا۔ ایس ایچ او بھی سمجھ دار شخص تھا، معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں اسے زیادہ وقت نہیں لگا، تب ہی مسکرا کر بولا۔
’’تو یہ بات ہے، میں بھی کہوں کہ تم جیسے مصروف انسان کے پاس صبح صبح اتنا وقت کہاں سے آیا کہ تم اسپیشلی ہم سے آکر ملو۔‘‘ احد مسکرا دیا۔ اسے اپنی چوری پکڑے جانے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی۔ ایس ایچ او اپنا تیر صحیح نشانے پر لگا دیکھ کر مسکراتے ہوئے مزید کہنے لگا۔
’’کافی سیریس کیس ہے ان کا تقریباً پچھلے ایک ہفتے سے ان کی جوان بہن کا کوئی اتا پتا نہیں ہے ایک ہفتہ پہلے یونیورسٹی جاتے ہوئے شاید وہ راستے میں اغوأ ہوگئی تھی۔ محترمہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا ایک لڑکا غالباً عمر سعید نام ہے اس کا اس اغوأ کے پیچھے ہوسکتا ہے۔ بہرحال لمبی کہانی ہے، ان کا باپ اس صدمے سے فالج زدہ ہوگیا ہے گھر میں اور کوئی نہیں جو اس سلسلے میں کیس کی پیروی کرسکے۔‘‘
’’تو آپ نے اب تک اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد کی؟‘‘
’’ہوں… کوشش کررہے ہیں، مگر ابھی تک کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا، عمر سعید ایم پی اے کا بیٹا ہے۔ اس کی مکمل چھان بین کی ہے مگر لڑکی کو اس نے اغوأ نہیں کیا۔‘‘
’’اوہ… پھر اب کیا ہوگا؟‘‘
’’کچھ نہیں، لڑکی کی تلاش جاری ہے۔ جلد نہیں تو دیر سے ہی سہی، ہم ان شاء اللہ اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔ بس شرط یہ ہے کہ اس نے کہیں خود کشی نہ کرلی ہو۔‘‘
’’اللہ خیر کرے۔ پلیز جیسے ہی کوئی پیش رفت ہو اس کیس میں مجھے ضرور مطلع کیجئے گا۔ میرا نمبر تو ہے ہی آپ کے پاس، اب چلتا ہوں ان شاء اللہ پھر ملاقات ہوگی۔‘‘
’’ہوں ضرور، ان شاء اللہ۔‘‘ ایس ایچ او یاور حیات نے باقاعدہ کھڑے ہوکر اس سے مصافحہ کیا۔
احد قدرے بے چین سا وہاں سے چلا آیا۔ اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا کہ اس نے اب تک شفاء کے گھرانے کی معلومات کیوں اکٹھی نہیں کی؟ وہ کتنی اذیت اور تکلیف میں زندگی گزار رہی تھی مگر اسے خبر تک نہ تھی۔ کیا چاہنے والے اتنے ہی بے خبر ہوتے ہیں، جتنا وہ تھا؟
وہ بھول گیا کہ اسے کہاں جانا تھا، اسے کتنی جلدی تھی یا درد تو محض اتنا کہ اسے شفاء کی مدد کرنی ہے بس۔
اگلے چوبیس گھنٹوں میں اسے شفاء حسین کے گھرانے سے متعلق تمام معلومات موصول ہوچکی تھیں۔ اسی روز شام میں وہ اس کے گھر چلا آیا۔ شفاء رات کی باسی روٹی کھا رہی تھی۔ دستک کی آواز پر اسے یہی لگا کہ ساتھ والی عشرت آپا ہو ںگی کیونکہ مشکل کے ان دنوں میں وہی سگے رشتوں کی طرح ساتھ نبھا رہی تھیں۔ رات گوشت کے سالن کے ساتھ روٹی بھی انہوں نے ہی بھجوائی تھی۔ شفاء نے وہ سالن حسین صاحب کو کھلا دیا تھا۔ باقی بچ جانے والی روٹی ہاٹ پاٹ میں سنبھال کے رکھ دی تھی۔
امرحہ کے بعد اسے کچھ بھی کھانا پینا اچھا نہیں لگ رہا تھا مگر جینے کے لیے کچھ نہ کچھ تو حلق سے نیچے اتارنا ہی تھا لہٰذا اس وقت وہ یہی کررہی تھی کہ دروازہ بج اُٹھا۔ کھانا چھوڑ کر وہ دروازہ کھولنے چلی آئی تھی۔
مغرب کا وقت تھا، اس نے دروازہ کھول دیا۔ سامنے عشرت آپا کی جگہ احد مصطفی کو کھڑے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔
’’تم یہاں؟‘‘
’’ہوں، ہٹو سامنے سے، مجھے تمہارے گھر کی تلاشی لینی ہے۔‘‘ سنجیدگی سے کہتا وہ اسے نرمی سے اسے ایک طرف کرتا گھر کے اندر چلا آیا۔ شفاء ہکابکا سی اُس کی جرأت دیکھتی رہ گئی۔
’’کیا بکواس ہے یہ؟ تم کیوں ہاتھ دھو کے میرے پیچھے پڑگئے ہو؟‘‘ تنتنا کر وہ اس کے پیچھے لپکی۔
احد چارپائی پر رکھی باسی روٹی اور سرخ مرچ کی چٹنی افسوس سے دیکھ کر رہ گیا۔
’’تمیز… تمیز سے بات کریں پلیز، میں اس وقت آپ کا کوئی عاشق نہیں بلکہ ایک پولیس افسر بن کر آپ سے آپ کی بہن کے کیس میں معلومات لینے آیا ہوں۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ آپ کی بہن نے اس گھر میں خودکشی کی کوشش کی ہے۔ بس اسی کے ثبوت اکٹھے کرنے آیا ہوں، یہ میرا کارڈ ہے، آپ تسلی کرلیں۔‘‘ شفاء کی خفگی پر مکمل وضاحت دیتے ہوئے اس نے اپنی جیب سے کارڈ نکال کر آگے کیا۔ شفاء کی نظریں بے ساختہ کارڈ پر پڑیں۔
’’اوزان مصطفی، ایس پی۔‘‘ کارڈ دیکھتے ہوئے اس نے زیرلب پڑھا پھر خاموشی سے سر جھکالیا۔ اسے خبر ہی نہیں تھی کہ احد نے اس تک رسائی کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلے ہیں۔
’’یہاں بیٹھیں۔‘‘ خالص پروفیشنل انداز میں شفاء کے جھکے ہوئے سر پر نظر ڈالتے ہوئے اس نے حکم جاری کیا۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’اب تفصیل سے ساری بات بتائیں، آپ کی بہن کے ساتھ یونیورسٹی میں کیا ہوا تھا؟‘‘ اس کی مدد کرنے سے پہلے اس کے سارے حالات جاننا ضروری تھے۔ شفاء کو مجبوراً بتانا پڑا۔
’’اس کی دشمنی چل رہی تھی ایک لڑکے عمر سعید کے ساتھ، اس کا یونیورسٹی فیلو ہے وہ، کچھ روز پہلے اس نے اسے نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیونکہ امرحہ نے اس کے غلط کاموں میں اس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔‘‘ ایزد حسن کا قصہ وہ صاف گول کر گئی تھی۔ اپنی بہن کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری بھی تھا۔ احد نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلادیا۔
’’آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ اغوأ ہوچکی ہیں؟‘‘
’’اسے خدشہ تھا کہ اس کے ساتھ برا ہوگا اور یہی ہوا۔ اس روز وہ پہلا پیپر دینے گئی تھی اور پھر واپس گھر نہیں آئی۔‘‘
’’اس کی فرینڈز وغیرہ سے رابطہ کیا آپ نے؟‘‘
’’جی ہاں، سب کو کال کرچکی ہوں مگر کسی کو بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔‘‘
’’گھر کا خرچ کیسے چل رہا ہے آپ کا؟‘‘
’’کیا اس سوال کا تعلق بھی میری بہن کے کیس سے ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’تو پھر میں اس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی۔‘‘
’’آپ کی مرضی۔ اب اگر آپ کی اجازت ہو تو میں گھر کی تلاشی لے لوں؟‘‘
’’دیکھیے میری بہن نے خودکشی کرنے کی کوشش نہیں کی، وہ میں تھی جس نے ایسا کیا۔‘‘ جھنجھلاہٹ میں اس نے وہ اپنا ہی راز اُگل دیا تھا جسے وہ کسی صورت افشا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
احد چونک اُٹھا۔ اس نے تو یونہی ایک فرضی کہانی گھڑی تھی۔ شفاء نے سچ مچ اس میں حقیقت کا رنگ بھردیا تھا۔ اس کا حیران ہونا فطری عمل تھا۔
’’آپ نے…! مگر کیوں؟‘‘
’’میرا خیال ہے میری بہن کے کیس کا اس سوال سے بھی کوئی تعلق نہیں۔‘‘
’’خاصی سرد مہر قسم کی خاتون ہیں آپ۔‘‘
’’جی ہاں، میں ایسی ہی ہوں۔‘‘
’’چلیں ٹھیک ہے۔ میں چلتا ہوں اب، ان شاء اللہ میری پوری کوشش ہوگی کہ جلد از جلد آپ کی بہن کا سراغ لگا لیا جائے، پھر بھی کسی قسم کی مدد درکار ہو تو آپ بلاجھجک کسی بھی وقت مجھ سے رابطہ کرسکتی ہیں، یہ میرا موبائل نمبر ہے۔‘‘ پورے خلوص سے اپنا موبائل نمبر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے اسے تسلی دی۔ شفاء نے وہ کاغذ اسی کے سامنے پُرزہ پُرزہ کردیا۔
’’شکریہ۔ مگر میں اللہ رب العزت کی پاک ذات کے سوا اور کسی کی مدد پر یقین نہیں رکھتی۔‘‘ وہ واقعی سمجھ سے باہر تھی۔
اور چند پل خاموشی سے اسے دیکھنے کے بعد وہ واپس پلٹ گیا تھا۔ شفاء آنکھوں میں موجود آنسووں کو بہنے کا موقع دیتی ہوئی وہیں صحن میں بیٹھ گئی۔ ایک کے بعد ایک آزمائش نے جیسے اسے ادھورا کر دیا تھا۔ امرحہ کیا گم ہوئی، اسے لگا وہ جیسے زندہ ہی نہیں ہے۔ جیسے پوری دُنیا میں اب اس کا کوئی رشتہ باقی نہیں بچا ہو۔
کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا جب وہ اسے یاد کرکے روئی نہ ہو۔ جس روز اس کا پہلا پیپر تھا، اس کی جان سولی پر اٹکی رہی تھی، لاکھ خود کو گھر کے کام کاج میں مصروف کرنے کی کوشش کی مگر دھیان بار بار امرحہ کی طرف جارہا تھا اور پھر وہی ہوا، اس کا اضطراب بے معنی نہیں تھا۔ عصر سے مغرب اور مغرب سے عشاء ہوگئی مگر نہ تو وہ گھر لوٹی، نہ اس کے بارے میں کوئی اطلاع ہی مل سکی۔ وہ رات شفاء حسین کی زندگی کی نہایت تکلیف دہ رات تھی۔ اس نے امرحہ سے وابستہ کوئی فرد ایسا نہیں چھوڑا جس سے اس کا لمحے بھر کا تعلق رہا ہو اور شفاء نے اسے کال کرکے امرحہ کا نہ پوچھا ہو۔
حسین صاحب سے اس نے جھوٹ بول کر سچ چھپائے رکھا، مگر کب تک؟ اگلے روز کی سپیدی کے ساتھ ہی اس کے جھوٹ کا بھانڈا پھوٹ گیا، جب امرحہ انہیں پورے گھر میں کہیں دکھائی نہیں دی۔ یہی وہ وقت تھا جب شفاء کو مجبوراً اب تک کے تمام حالات حسین صاحب کے گوش گزار کرنا پڑے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ حسین صاحب اس بات کا اتنا اثر لیں گے کہ ان کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔
اس روز حسین صاحب کو فالج کا زبردست اٹیک ہوا تھا۔ شفاء نے انہیں بچانے کے لیے اپنی ساری پونجی داؤ پر لگادی۔ پچھلے ایک ہفتے میں وہ اپنے قیمتی زیور تک شہر کے بڑے سناروں کی بھینٹ چڑھا چکی تھی۔ اب اس کے پاس اپنے جہیز کے سامان کے سوا فروخت کرنے کے لیے اور کچھ نہیں بچا تھا۔ اس رات بہت ٹھنڈ تھی۔ احد کے جانے کے بعد وہ حسین صاحب کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
وہ رو رہے تھے۔ غالباً اپنی تکلیف پر یا اپنی بے بسی پر مگر شفاء کو ان کے رونے سے بہت تکلیف محسوس ہوئی تو وہ وہاں سے اُٹھ کر باہر آگئی۔ وہ برآمدے کے پلر سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔
’’کہاں ہو امرحہ، پلیز لوٹ آؤ۔‘‘ بھیگی آنکھوں کا ساتھ دیتے ہوئے اس کے خشک لبوں نے جنبش کی تو اس نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔
’’اللہ تمہارا نگہبان ہو، اللہ تمہاری عزت کی حفاظت کرے، آمین۔‘‘ آنسو کب دعاؤں میں ڈھل گئے، اسے خبر بھی نہ ہوسکی۔
اس رات حسین صاحب کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ شفاء انہیں دلیہ کھلا کر سلانے کے بعد اپنے اور امرحہ کے کمرے میں آئی تو بیڈ پر گرتے ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔
اگلی صبح اس کی آنکھ خاصی تاخیر سے کھلی تھی۔ فریش ہوکر وہ سیدھی حسین صاحب کے کمرے میں چلی آئی۔ اس کے ہاتھ میں ان کے لیے چائے کا کپ اور کیک تھا۔
’’السلام علیکم ابو، اُٹھ گئے آپ؟‘‘ وہ سوچ کر آئی تھی کہ انہیں امرحہ کے حوالے سے تسلی دے گی، ان کا حوصلہ بڑھائے گی، تب ہی اس نے زبردستی اپنے موڈ کو بھی فریش کر رکھا تھا۔
حسین صاحب ہنوز کمبل میں دبکے سو رہے تھے۔ وہ بیڈ پر ان کے پاس ٹک گئی۔
’’صبح ہوگئی ہے ابو، اٹھ جائیں اب۔‘‘ حسین صاحب کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔ پھر اگلے ہی پل ٹھٹک گئی۔ ان کا ذرد چہرہ دیکھ کر اس کے اندر خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی۔
’’ابو…‘‘ اس بار متوحش ہوکر اس نے انہیں جھنجھوڑا ڈالا مگر ابدی نیند میں سوئے دُنیا کے وہ مسافر چاہتے ہوئے بھی اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے تھے۔
حسین صاحب کی روح پرواز کر گئی تھی۔
شفاء کو جیسے سکتہ ہوگیا۔
زندگی اس کے ساتھ یہ کیسا بھیانک کھیل کھیل رہی تھی۔ اسے لگا جیسے اس کا وجود زمین و آسمان کے درمیان معلق ہوگیا ہو۔
محلے والوں کو حسین صاحب کی وفات کی خبر کیسے ہوئی، کس نے کفن دفن کا انتظام کیا، کون کون جنازے میں شریک ہوا، نہ اسے ہوش تھا، نہ وہ جان سکی تھی۔
پورے تین روز کے بعد وہ اپنے حواس میں لوٹی تو خالی گھر کے دَرو دیوار سے ایک عجیب سا خوف اور وحشت ٹپک رہی تھی۔
عشرت آپا اس کے لیے کھانا رکھ گئیں تھیں۔ وہ ہر ضرورت سے بے نیاز ہوگئی تھی۔ محلے والے کب تک اس کی تنہائی بانٹ سکتے تھے، آخر ان کی اپنی زندگیوں میں بھی سو قسم کے بکھیڑے تھے، اوپر سے جوان لڑکی کو کوئی اپنی ذمہ داری پر اپنے گھر رکھنے کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔ وہ گھٹنوں میں منہ دیے گم صم بیٹھی تھی جب عشرت آپا پھر چلی آئیں۔
’’کھانا کھا لیا شفاء؟‘‘ اس کے بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے شفقت سے دریافت کیا مگر وہ گم صم سی خاموش بیٹھی رہی۔
عشرت آپا کو خود ہی پلیٹ سے ڈھکن اُٹھا کر کھانے کا جائزہ لینا پڑا۔
’’ارے یہ تو ویسے کا ویسا ہی رکھا ہے۔ تھوڑا سا کھا لیتیں شفاء، تم نے کب سے کچھ بھی نہیں کھایا… ایسے تو تم بیمار پڑجاؤ گی۔‘‘
انہیں اس کی فکر تھی مگر شفاء کو اپنا کوئی ہوش ہوتا تو وہ خیال کرتی۔ وہ تو پتھر کا مجسمہ بنی بیٹھی تھی۔ عشرت آپا کو پھر اسے سمجھانا پڑا۔
’’دیکھو شفاء، زندگی میں بہت سے انسانوں پر اللہ رب العزت کی طرف سے اس سے بھی بڑے بڑے دُکھ اور آزمائشیں آتی ہیں مگر اللہ کے پسندیدہ بندے وہی ہوتے ہیں جو ان دُکھوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے کندن بن کر نکل جائیں۔ تم یا تمہارا غم اللہ کے لکھے کو ٹال نہیں سکتا، نہ بدل سکتا ہے تو پھر کیوں نہ تم اس کے فیصلوں پر صبر کرلو۔ اس سے رب العزت کے نزدیک تمہارے درجات بھی بلند ہوں گے اور تمہارے دل کو سکو ن بھی ملے گا۔ تم سمجھ رہی ہو ناں میری بات؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’شاباش، چلو اب یہ بتاؤ تمہارا کوئی دُور نزدیک میں جاننے والا یا کوئی عزیز رشتے دار ہے؟‘‘
’’کیوں؟‘‘ اس بار اس نے سر اُٹھا کر اُن کی طرف دیکھا۔ جواباً وہ نظریں چراتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولیں۔
’’تم اب شب و روز اس گھر میں اکیلی نہیں رہ سکتیں، جوان لڑکی ہو سو قسم کے حادثات پیش آسکتے ہیں، اسی لیے ہم سب محلے والوں کا فرض ہے کہ تمہیں تمہارے کسی اپنے عزیز کے ہاں یعنی محفوظ ہاتھوں میں سونپ دیں۔‘‘
ان کی فکر بے جا نہیں تھی۔ شفاء کا درد سے پھٹتا سر مزید بھاری ہوگیا۔ اس نے تو یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ اب کہاں اور کیسے رہے گی۔
’’تمہارا کوئی عزیز رشتے دار ہے تو بتاؤ۔‘‘ انہوں نے پھر سے پوچھا۔
’’نہیں، کوئی نہیں ہے۔ ہوتا بھی تو مجھے یہیں اسی گھر میں رہنا تھا۔ میں اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔‘‘
’’مگر تم اب یہاں اکیلی نہیں رہ سکتیں۔‘‘
’’میں رہ لوں گی۔ کیا پتہ میری بہن لوٹ آئے۔ وہ اگر لوٹ کر آئی اور اسے یہ دَر بند ملا تو وہ مر جائے گی۔ اس کا تو کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے دُنیا میں۔‘‘
’’ٹھکانے اللہ بناتا ہے شفاء۔ ہم سب یہاں ہیں، وہ اگر آئی تو بے آسرا نہیں ہوگی۔‘‘
’’نہیں، میں اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘
’’فضول ضد نہیں کرتے شفاء، مجھے تمہاری فکر ہے اسی لیے کہہ رہی ہوں۔‘‘
’’آپ میری فکر نہ کریں پلیز، میں اپنی حفاظت خود کرلوں گی۔ پھر آپ لوگ بھی تو ہیں پاس، اگر کوئی مسئلہ ہوا تو آپ کو مدد کے لیے بلالوں گی۔‘‘
’’چلو جیسی تمہاری مرضی، ہم تو تمہارا بھلا ہی چاہتے تھے۔‘‘
’’شکریہ عشرت آپا مگر میں اپنے حال میں خوش ہوں۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے، میں اب چلتی ہوں، تم اپنا خیال رکھنا۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘
وہ کچھ بھی سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ عشرت آپا کو فی الوقت اسے اس کے حال پر چھوڑنا ہی مناسب لگا۔
شفاء نے وہ رات پہلی بار اپنے گھر میں تنہا جاگ کر رو رو کر گزاری۔ بابا اور امرحہ کے بغیر اس گھر میں رہنا اس کے لیے سزائے موت کے مجرم کی طرح تھا۔ اگلی دو، تین راتیں بھی یونہی گزر گئی تھیں۔
اس روز سردی بہت زیادہ تھی۔ شفاء نمازِ عشاء کے بعد اپنا کمرہ لاک کرکے سوگئی۔ رات کے تقریباً تین بجے تھے، جب اس کی آنکھ کھلی‘ فریش ہونے کی خاطر وہ دل مضبوط کرکے کمرے سے باہر نکل آئی۔ گرم شال اچھی طرح اپنے وجود کے گرد لپیٹ کر تہجد کی غرض سے وضو کرکے وہ اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
کمرے میں پہنچ کر دروازہ لاک کرنے کے بعد ابھی وہ جائے نماز ڈھونڈ رہی تھی جب بیڈ کی سائیڈ سے محلے کا آوارہ شخص اعجاز اچانک سے نکل کر سامنے آگیا۔
شفاء کی نظر جونہی اس پر پڑی، اس کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔ وہ شخص وہاں کب آیا، کب سے گھات لگا کر وہ اس کے گھر میں غلط ارادے سے چھپ کر بیٹھا تھا، اسے مطلق خبر نہ ہوسکی۔
اعجاز عرف بلو نے اس کے چیخنے پر جست لگا کر اسے اپنے بازو میں دبوچا پھر اپنا مضبوط ہاتھ سختی سے اس کے منہ پر جمادیا۔
’’خبردار اگر آواز نکالنے کی کوشش کی تو، ہڈیوں کا سرمہ بنادوں گا ابھی کے ابھی۔‘‘ وہ خبیث شخص تھا، سارا محلہ جانتا تھا مگر وہ اس حد تک گر جائے گا، یہ شاید شفاء سمیت کسی کے بھی گمان میں نہیں تھا۔ شفاء دہشت سے گنگ ہوگئی تھی۔
اعجاز نے اسے بیڈ پر دھکیلا اور خود اس پر یوں قابض ہوگیا جیسے وہ اس کی جاگیر ہو۔
’’کل رات عشاء کے وقت سے اتنی سخت سردی میں باہر صحن میں دُبک کر بیٹھا تھا صرف اسی امید پر کہ کب تو کمرے سے باہر نکلے گی اور کب مجھے اپنی رات رنگین کرنے کا موقع ملے۔ دیکھ لے میری محنت ضائع نہیں گئی۔‘‘ اپنا منہ اس کے کان کے پاس لے جاکر سرگوشی کرتے ہوئے وہ مسکرایا تھا۔
شفاء کے وجود میں جیسے چنگاریاں پھوٹ پڑیں۔ کیا وہ اتنی ہی کمزور تھی کہ ایک اوباش شخص کو یوں آسانی سے خود پر مسلط ہونے دیتی؟ نہیں، وہ اتنی کمزور نہیں تھی۔
اس نے عشرت آپا سے کہا تھا وہ اپنی عزت کی حفاظت خود کرسکتی ہے، اسے اب اپنا قول پورا کرکے دکھانا تھا۔
اعجاز بلو نے اسے آسان شکار سمجھا تھا، تب ہی وہ اس کی طرف سے بے فکر تھا مگر شفاء کی اچانک مزاحمت کی کوشش نے اسے لڑھک کر بیڈ سے نیچے گر جانے پر مجبور کردیا۔ یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ اسے سنبھلنے کا کوئی موقع ہی نہ مل سکا۔ اس سے پہلے کہ سنبھل کر وہ اسے دوبارہ قابو کرتا، وہ بجلی کی سرعت سے دروازے کی کنڈی کھول کر باہر نکلی اور باہر نکلتے ہی اس نے برآمدے میں پڑا موٹا ڈنڈا اُٹھالیا۔
اعجاز اپنی جوانی اور طاقت کے نشے میں چُور، شراب سے بے حال جونہی اسے دبوچنے کے لیے قریب آیا، شفاء نے پوری قوت سے ڈنڈا اس کے سر پر دے مارا۔ وہ چکرایا، تب ہی شفاء کے دوسرے ڈنڈے کی ضرب نے اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا کردیے۔ وہ اس کے سامنے ڈھیر ہوگیا تھا۔ شفاء غصے اور خوف سے کانپتی وہیں بیٹھ گئی۔ اس کی ٹانگوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اس کا بوجھ مزید سہار سکتیں۔
ابھی جو کام اللہ رب العزت کی مدد سے اس نے انجام دیا تھا اسے یقین بھی نہ تھا کہ وہ اتنا بڑا بہادری کا کام بھی کرسکتی ہے۔ اگلے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد صبح کی سپیدی نمودار ہوگئی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اعجاز بلو زندہ ہے یا مر چکا ہے مگر یہ طے تھا کہ اسے اب اکیلے اس گھر میں نہیں رہنا تھا۔ رات والے سانحے نے اسے بے حد خوف زدہ کردیا تھا۔
عشرت آپا ابھی نمازِ فجر سے فارغ ہوئی تھیں جب دروازے پر ہونے والی زور دار دستک نے اُن کا دل دھڑکایا۔ باقی گھر والے ابھی سورہے تھے۔ وہ یا الٰہی خیر کا ورد کرتیں جائے نماز سمیٹ کر دروازے پر آئیں۔
’’کون…؟‘‘ دروازے کی کنڈی گرانے سے پہلے انہوں نے تسلی کرنی چاہی تھی، تب ہی شفاء کی گھبرائی ہوئی آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
’’آپا! میں شفا… پلیز دروازہ کھولیں۔‘‘ شفاء کی التجا کے بعد دروازہ کھولنے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی بے معنی تھی، ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر پٹ سے ان کا دروازہ کھل گیا۔
’’شفاء تم اس وقت، سب خیر تو ہے؟‘‘
’’پتہ نہیں آپا، پلیز آپ ابھی میرے ساتھ چلیں پلیز…‘‘ وہ بے حد گھبرائی ہوئی تھی۔
’’ارے کچھ بتاؤ تو سہی، ہوا کیا ہے؟‘‘
’’سب پتہ چل جائے گا، آپ چلیں پلیز۔‘‘
اب کے اس نے باقاعدہ طور پر ان کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ عشرت آپا بے حد حیران و پریشان سی اسی حال میں اس کے ساتھ چل پڑیں۔
شفاء کا گھر سامنے ہی تھا۔ اگلے دو منٹ کے بعد وہ برآمدے میں اعجاز بلو کو بے ہوش پڑے دیکھ کر ٹھٹک گئیں۔
’’یہ… یہ یہاں کیسے…؟‘‘
’’میری عزت پر حملہ کرنے آیا تھا۔ میں نے ٹھکانے لگادیا۔‘‘
’’ہٹو پرے بے وقوف لڑکی… میں نے اسی لیے کہا تھا محفوظ ہاتھوں میں چلی جاؤ مگر تم نے ایک نہیں سنی میری۔‘‘ شفاء کی دیدہ دلیری پر شدید خفگی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اسے طرف کرتے سامنے ڈھیر ہوئے شخص کی نبض چیک کی، وہ زندہ تھا۔ انہوں نے شکر کا کلمہ پڑا۔
’’شکر خدایا تم ایک بڑی مشکل میں پھنسنے سے بچ گئیں۔ اب چلو میرے گھر، اس کا بندوبست میں کرلیتی ہوں۔‘‘
شفاء کا ہاتھ پکڑ کر فوراً سے پیشتر وہ وہاں سے نکل گئی تھیں۔ اگلے تیس منٹ کے بعد ان کے شوہر نے پولیس کو کال کردی۔ اعجاز بلو کو پولیس نے شفاء کے گھر سے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا تھا۔
خ…ز…خ
احد مصطفی اس وقت لندن میں تھا جب اس کے سیل پر ایس ایچ او یاور حیات کی کال آئی تھی۔ وہ باتھ لے کر ابھی بال سنوار رہا تھا، بپ کی آواز پر ایک نظر روشن اسکرین کی طرف دیکھا پھر فوراً سے پیشتر کال ریسیو کی۔
’’السلام علیکم یاور بھائی، کہئے کیسے یاد کیا؟‘‘
’’وعلیکم السلام شہزادے، ایک اہم خبر دینی تھی تمہیں۔‘‘
’’جی جی، میں سن رہا ہوں۔‘‘ وہ آرام سے بیڈ پر ٹک گیا۔
’’وہ تمہاری ہیروئن ہیں ناں محترمہ شفاء حسین صاحبہ۔‘‘
’’جی جی، کیا ہوا انہیں؟‘‘
’’انہیں کچھ نہیں ہوا مگر انہوں نے ضرور ایک شخص کو زخمی کردیا ہے۔ محلے والوں کا کہنا ہے کہ وہ شخص رات کی تاریکی کا فائدہ اُٹھا کر ان کے گھر میں بری نیت سے داخل ہوا تھا مگر محترمہ نے اپنی بہادری سے اس کے غلط ارادے خاک میں ملا دیئے۔‘‘
’’اوہ، اب وہ کہاں ہیں؟‘‘
’’فی الحال تو کسی محلے دار کے گھر ہیں، اصل میں جس روز تم لندن کے لیے یہاں سے روانہ ہوئے تھے اسی روز اُن کے والد کی ڈیتھ ہوگئی۔ مجھے بھی اس بات کا ابھی پتہ چلا ہے۔‘‘
’’اوہ مائی گاڈ، پھر تو وہ واقعی بہت تکلیف میں ہوگی۔‘‘
’’ہوں، ہوسکتا ہے۔‘‘
’’یاور بھائی، آپ پلیز میری مدد کریں۔ آپ ابھی اوزان بھائی کو کال کرکے کہیں کہ وہ مجھے پاکستان آنے دیں، میرا اس وقت اس کے پاس ہونا بہت ضروری ہے۔ پلیز یاور بھائی۔ وہ آپ کے کلاس فیلو بھی ہیں اور جگری یار بھی، وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے، پلیز۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں کرتا ہوں اوزان سے بات، تم حوصلہ رکھو، میں ہوں یہاں۔‘‘
’’میں جانتا ہوں مگر اس وقت میرا اس کے پاس ہونا ضروری ہے۔ پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘ وہ بے حد بے چین ہورہا تھا۔ یاور حیات نے اسے تسلی دے کر کال ڈس کنکٹ کردی۔
خ…ز…خ
شفاء سر جھکائے عشرت آپا کے گھر ان کے سامنے بیٹھی تھی اور وہ اس سے پوچھ رہی تھیں۔
’’تو تمہارا کوئی عزیز رشتے دار نہیں ہے، دُور پرے کا بھی نہیں۔‘‘
’’جی۔‘‘ سر جھکائے مجرموں کی طرح بیٹھی رندھے گلے کے ساتھ وہ بمشکل بول رہی تھی۔ تب ہی عشرت آپا کے شوہر بولے۔
’’میرے باس کے ایک عزیز ہیں جن کی بیوی کی چار سال پہلے ایک حادثے میں موت ہوچکی ہے، اسی شہر میں بڑا خوب صورت بنگلہ ہے ان کا، ایک بوڑھی دادی ہیں، ایک چھوٹا بھائی۔ غالباً دو بچے ہیں کوئی چھ سات سال کے، انہیں اپنے بچوں کے لیے ایک نیک، شریف، پڑھی لکھی لڑکی چاہیے جو اُن کے نکاح میں رہ کر ان کے گھر اور بچوں کی بہترین دیکھ بھال کرسکے۔ اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو میں ان سے تمہاری بات کرکے دیکھ لیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں سلیم بھائی، میں اب نکاح نہیں کرنا چاہتی کسی سے بھی نہیں۔‘‘
’’تم پاگل ہوگئی ہو شفاء۔ کل رات جو کچھ ہوا، خدانخواستہ وہ زندگی میں کبھی بھی دوبارہ ہوسکتا ہے۔ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ یوں پامال ہوجاؤ؟ دیکھو میں بھی ایک عورت ہوں، ایک عورت کے لیے اپنی عزت سے بڑھ کر قیمتی چیز اور کچھ نہیں ہوتی۔ میں سمجھتی ہوں تم عماد کی وجہ سے بہت بکھر گئی ہو مگر عماد دُنیا کا آخری اچھا مرد نہیں تھا۔ ہوسکتا ہے اللہ رب العزت نے تمہارے لیے کچھ اور اچھا لکھ رکھا ہو۔ ویسے بھی تمہیں اس وقت ایک مرد سے زیادہ عزت سے سر چھپانے کا ٹھکانہ چاہیے اور یہ اسی صورت ممکن ہوسکتا ہے جب تم کسی کی عزت بنو، سمجھ میں آرہی ہے ناں میری بات؟‘‘
’’آپ صحیح کہہ رہی ہیں عشرت آپا، مجھے آپ سے اختلاف نہیں ہے مگر…‘‘
’’اگر مگر کو گولی مار و جو کہہ رہی وہ سنو۔‘‘ قطعیت سے اس کی بات کاٹتے ہوئے وہ اپنے شوہر کی طرف متوجہ ہوگئی تھیں۔
’’عمر کے ابا، آپ پلیز ان سے بات کریں۔ اللہ نے چاہا تو ہم ضرور شفاء کو اپنے گھر سے سگی بیٹیوں کی طرح رخصت کریں گے۔‘‘ وہ ہتھیلی پر سرسوں جمائے بیٹھی تھیں۔ شفاء نے بے بسی سے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
خ…ز…خ
رات میں عشرت آپا نے اسے اپنے کمرے میں سلایا جبکہ ان کے شوہر اپنے بیٹے کے کمرے میں شفٹ ہوگئے تھے۔ شفاء عشاء کی نماز پڑھ کر آئی تو انہوں نے اسے اپنے قریب بٹھالیا، پھر پیار سے سمجھاتے ہوئے بولیں۔
’’میں اس وقت تمہاری ذہنی حالت اور تکلیف کا اندازہ کرسکتی ہوں شفاء، مگر میں تمہاری دشمن نہیں ہوں۔ حسین صاحب وفات پاگئے، امرحہ لاپتہ ہے، ایسے میں کون ہے تمہارا جو تمہارے بھلے کا سوچ سکے۔ میں چاہوں تو اپنے گھر میں بھی رکھ سکتی ہوں تمہیں چھوٹی بہن بناکر، مگر میرا ایک جوان بیٹا ہے، شوہر ہے، مرد کی نیت خراب ہوتے دیر نہیں لگتی چاہے گھر میں کتنی ہی خوب صورت، سیانی عورت موجود ہو، تم سمجھ رہی ہو ناں میری بات؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’شاباش، ہمارا معاشرہ ایسا ہے شفاء، یہاں چاہے جتنی بھی مضبوط ہو مگر مرد کے بغیر اس کا کوئی مقام، کوئی عزت نہیں۔ میں نے ایس پی اوزان مصطفی کے بارے میں سنا ہے، بہت اچھا انسان ہے، اخلاق کا بھی اور کردار کا بھی، ان شاء اللہ تم ضرور اس کے ساتھ بہت خوش رہو گی۔‘‘ اب کے دعا دیتے ہوئے عشرت آپا نے اسے تسلی دی تھی۔ شفاء کے ذہن میں یک دَم سے کچھ کھٹکا ہوا۔
’’اوزان مصطفی، ایس پی۔‘‘
اونچا، لمبا، بے حد خوب صورت پرسنالٹی والا وہ شخص ہرگز اس قابل نہیں تھا کہ اسے رد کردیا جاتا، مگر وہ شادی شدہ تو نہیں لگتا تھا، یقینا یہ بھی اس کی شخصیت کی خوبی ہی تھی وگرنہ شفاء تو اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ وہ رات اس نے پہلو بدل کر نہ چاہتے ہوئے بھی اوزان مصطفی کے بارے میں سوچتے ہوئے گزار دی تھی۔
صبح فجر کے قریب اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ عشرت آپا نے اسے جگانا مناسب نہ سمجھا۔ اس روز شام میں سلیم بھائی نے عشرت آپا کو بتایا کہ اوزان کے گھر سے شفاء کو دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آرہے ہیں۔ وہ کھانے وغیرہ کا انتظام کرلیں۔ عشرت آپا نے یہ بات شفاء کو بتادی تھی۔
عشاء کی نماز سے کچھ پہلے عشرت آپا اسے سادہ سے حلیے میں تیار کرکے ڈرائنگ روم میں لے گئیں۔ وہاں سلیم بھائی کے علاوہ اور تین مرد تھے، جن میں دو ادھیڑ عمر اور ایک خاصا ہینڈسم تقریباً پینتیس، چالیس سال کا مرد تھا۔ شفاء نے سرسری سی ایک نظر ڈال کر سر جھکا لیا تھا۔
اوزان مصطفی کو وہ پسند آئی تھی لہٰذا اس نے ایک بھاری رقم سلیم بھائی کو تھماتے ہوئے ان کی خواہش کے عین مطابق فوری نکاح اور رخصتی کی رضا مندی دے دی تھی۔ سلیم بھائی اور عشرت آپا کے پاؤں تو مارے خوشی کے زمین پر نہیں جم رہے تھے۔ اوزان مصطفی نے اس شادی کو فی الحال اپنے گھر والوں سے مخفی رکھا تھا، وہ اپنی دادی، اپنے بھائی اور اپنے بچوں کو اعتماد میں لے کر اس شادی کا اعلان کرنا چاہتے تھے تاکہ شفاء کے لیے ان کے گھر میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
سلیم بھائی سے بھی انہوں نے یہی درخواست کی تھی۔ اگلے روز شام میں ان کا نکاح سادگی سے شفاء حسین سے انجام پایا تھا۔ نکاح میں ان کے سگے چچا، دو کولیگ اور ایک قریبی دوست ایس ایچ او یاور حیات شامل تھے۔ سلیم بھائی اور عشرت آپا نے واقعی اسے اپنی سگی بیٹی کی طرح اپنے گھر سے رخصت کیا تھا۔ عماد حسن سے جدائی کے سال بعد ہی کاتب تقدیر نے اس کے آبلہ پا پاؤں کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز لکھ دیا تھا۔
شفاء کے آنسو حسین صاحب اور امرحہ کو یاد کرکے بہنا شروع ہوئے تو پھر ہچکیاں بندھ گئیں مگر اس کے آنسو نہ رُکے۔ لندن میں بیٹھے احد مصطفی کو خبر بھی نہ ہوئی اور اس کی دُنیا بسنے سے پہلے ہی اجڑ کر رہ گئی تھی۔
خ…ز…خ
خزاں رسیدہ درختوں پر برف کے ننھے ننھے گالے گزشتہ رات سے گر رہے تھے۔ موسم کی پہلی برف باری شروع ہوچکی تھی۔ اسے وہاں آئے یہ دوسرا ہفتہ تھا اور اس ایک ہفتے میں اس نے جیسے دیو قامت پہاڑوں کے ساتھ ساتھ وہاں کی ٹھنڈ سے بھی دوستی کرلی تھی۔
سرد برفیلے جذبات کے ساتھ بائیں گھٹنوں پر دونوں کہنیاں ٹکائے وہ اپنے حال سے ماضی کا سفر طے کررہا تھا۔ جس روز وہ اپنے ابا کو چھوڑ کر ان کے جگری دوست حمزہ عباسی کے ساتھ آیا تھا، بے حد ڈرا ہوا تھا۔ اسے سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ پہلے ماں اور پھر باپ، دونوں ہی اس کے ساتھ کیوں نہیں رہے۔ کتنی اچھی زندگی گزار رہا تھا وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ، پھر اچانک سے یہ بھونچال کیوں آیا تھا۔ اسے کیوں اجنبی لوگوں کے ساتھ ان کے گھر میں جاکے رہنا پڑا تھا جبکہ وہ جھونپڑی میں خوش تھا۔
پہلی رات جیسے تیسے بیت گئی تھی۔ اگلی صبح ابھی اس کی آنکھ کھلی تھی، جب زہرہ پھوپو کی ایشال اور نوال ہاتھ میں غلیل پکڑے اس کے پاس آکھڑی ہوئیں۔ وہ انہیں پاس کھڑے دیکھ کر سہم گیا تھا، تب ہی نوال مسکرا کر اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔
’’ایشال، یہ کتنا گندا ہے ناں۔ دانت دیکھو لگتا ہے کبھی صاف ہی نہیں کیے۔ اگر یہ ہمارے ساتھ کھیلے گا تو ہمیں بھی گندا کردے گا۔‘‘
’’ہاں، کپڑے دیکھو پھٹے پرانے، ایسے کپڑے تو فقیروں کے بھی نہیں ہوتے۔‘‘ ایشال نے اپنی بہن نوال کا ساتھ دیا تھا۔
نوال نے ہاتھ میں پکڑی غلیل سے اس کا نشانہ لیا پھر اس کی پیشانی پر کھینچ کر پتھر مار دیا۔ سہما ہوا ایزد رو رہا تھا۔ ایشال اور نوال اسے روتے دیکھ کر بھاگ گئے تھے۔ ایزد کی پیشانی سے خون بہنے لگا۔ اس کے رونے کی آواز سن کر ہی عائشہ وہاں آئی تھی۔
’’ارے کیا ہوا، رو کیوں رہے ہو؟‘‘ اس نے اس کی پیشانی سے نکلتا خون نہیں دیکھا تھا، تب ہی پوچھ رہی تھی مگر جیسے ہی اس کی نظر اس کی پیشانی سے نکلتے خون پر پڑی، وہ لپک کر اس کے قریب آبیٹھی۔
’’ارے تمہیں تو چوٹ لگی ہے، خون بھی بہہ رہا ہے۔ کیا ہوا ہے چوٹ کیسے لگی؟‘‘ وہ فکرمند ہورہی تھی مگر اس سے پہلے کہ ایزد اسے کوئی جواب دیتا، نوال وہاں آگئی۔
’’میں بتاتی ہوں کیسے چوٹ لگی ہے اسے، یہ پیڑ پر چڑھ کر بیر توڑ رہا تھا، پاؤں پھسل گیا اور یہ نیچے گر گیا۔‘‘ وہ نوال کے جھوٹ پر حیران رہ گیا تھا جبکہ عائشہ ناقابل یقین نگاہوں سے نوال کو دیکھتی ایزد کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
’’تمہیں بیر پسند ہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ اس کا سر نفی میں ہلا تھا، وہ مزید حیران ہوگئی۔
’’بیر پسند نہیں ہیں تو تم پیڑ پر کیوں چڑھے؟‘‘ اسے اس سوال کا جواب دینے کا موقع بھی نہیں ملا۔ نوال اس کے بولنے سے پہلے ہی بول اُٹھی تھی۔
’’میں نے کہا تھا۔‘‘
’’بری بات نوال، یہ ہمارا مہمان ہے، ملازم نہیں۔ تمہیں اپنے کام خود کرنے چاہیں۔‘‘ عائشہ اس کے لیے نوال سے اُلجھ پڑی تھی جب کہ وہ تڑخ کر بولی۔
’’تمہیں کس نے کہا مہمان ہے، یہ اب یہاں سے کہیں نہیں جانے والا۔‘‘
’’پتہ نہیں تم کب سدھرو گی؟‘‘ نوال کی بات پر غصے سے کہتی وہ ایزد کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے اور عماد کے کمرے میں لے آئی تھی۔
’’یہاں بیٹھو میں فسٹ ایڈ باکس لے کر آتی ہوں ابھی تمہاری ساری تکلیف ختم ہوجائے گی۔‘‘ اسے اپنے بستر پر بٹھا کر چٹکی بجاتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں فسٹ ایڈ باکس تھا، اس روز کے بعد جیسے اس کی اور عائشہ کی دوستی ہوگئی تھی۔ اسے کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتی، وہ اپنے منہ سے کبھی نہ کہتا، عائشہ بنا اس کے کہے بہانے بہانے سے اس کی ضرورت کی چیزیں اسے گفٹ کرتی رہتی۔
وہ اسکول جانا شروع ہوا تو ہمیشہ اس نے اس کا ہوم ورک حل کروانے میں مدد کی۔ جس روز نوال نے خود حمزہ صاحب کا قیمتی موبائل توڑ کر الزام اس پر ڈالا اور وہ خاموش رہا، تب بھی عائشہ نے اس کی وکالت کی تھی۔ وہ اس کے لیے سب سے لڑی تھی۔
بچپن سے جوانی آگئی، اسکول کا دور ختم ہوگیا اور کالج کے دن شروع ہوگئے۔ عائشہ اور اس کے بیچ کی دوستی کب چپکے سے محبت کا روپ دھار گئی، ان دونوں کو بھی خبر نہ ہوسکی۔ اس روز وہ بہت دیر تک زمینوں پر کام میں مصروف بارش میں بھیگتا رہا تھا۔ گھر واپس آکر لیٹا تو بدن تیز بخار کی لپیٹ میں آگیا۔ ایک تھکن اوپر سے ٹھنڈ، وہ اتنا بے ہوش ہوکر سویا کہ اسے کپڑے بدلنے کی بھی توفیق نہ ہوئی۔
عائشہ حسب عادت اسے رات کے دودھ کا گلاس دینے آئی تو وہ ہوش و حواس سے بیگانہ پڑا تیز بخار میں جل رہا تھا۔ اس کی تو جیسے جان پر بن گئی۔ جانے کتنے جتن سے اس نے اس کی بھیگی ہوئی شرٹ اور بنیان تبدیل کی تھی۔ پھر اس پر گرم کمبل لاکر ڈالا اور ساری رات اس کے سرہانے بیٹھی اس کا بخار چیک کرتی رہی۔ دوا بھی اس نے ایزد کی بے ہوشی کے دوران ہی کھلائی تھی۔
صبح فجر کے قریب کہیں اس کا بخار کم ہوا تو وہ اس کے پاس سے اُٹھ کر گئی۔ ایزد کو اس کے اس ایثار کا بہت بعد میں پتہ چلا تھا۔ بہت احسان تھے اس کے اس پر… وہ عماد کے ساتھ ہمیشہ اس کی ہر ضرورت کا بھی خیال رکھتی۔ اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اس کے کپڑے دھو کر استری کردیتی۔ وقت بوقت اس کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھتی۔ کبھی وہ تھکا ہوتا تو اس کے سر میں تیل لگا کر مالش کردیتی۔ ایزد بھی وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ وہ گھر میں تھوڑی دیر بھی نظر نہ آتی تو اس کی بے چین نگاہیں ادھر سے ادھر بھٹکنا شروع ہوجاتیں۔ وہ کہیں چلی جاتی تو اس کی جان پر بن جاتی۔
اس روز اس نے بی ایس سی میں ٹاپ کیا تھا۔ سارے گھر میں اس کی کامیابی پر جیسے جشن منایا گیا۔ اگر کوئی خوش نہیں تھا تو زہرہ بیگم اور ان کی بیٹیاں، مگر اسے اب ان کی پروا نہیں تھی۔
عائشہ نے حسب روایت اسے ایک بہترین سوٹ، ریسٹ واچ اور نصیر احمد ناصر کی کتاب ’’جدائی راستوں اور موسموں کے ساتھ چلتی ہے‘‘ گفٹ کی تھی۔ حمزہ صاحب نے اسے موٹر بائیک، عماد نے قیمتی پرفیوم جبکہ سلمیٰ بیگم نے اس کی تمام فیورٹ ڈشز پکاکر اس دن کو اس کے لیے ایک یادگار بنادیا تھا۔
رات میں سب لوگوں کے سو جانے کے بعد وہ چھت پر چلا آیا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو ہوا میں چھت کی منڈیر کے پاس دیوار سے ٹیک لگا کر اس نے آنکھیں موند لی تھیں۔ آج اسے زندگی میں اتنی بڑی کامیابی پر جانے کیوں اپنی ماں بے تحاشہ یاد آرہی تھی۔ پنکھے سے لٹکتی اس کی بے بس لاش بری طرح تڑپا رہی تھی۔ وہ روتا رہا اور آنسو ماں کی یاد کی تسبیح بن بن کر ٹوٹتے رہے۔
اپنے غم میں وہ دُنیا و مافیہا سے اتنا بے خبر ہوگیا تھا کہ عائشہ وہاں کب آئی، اسے پتہ تک نہ چلا۔ اگر وہ اس کے سامنے بیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف نہ کرتی تو شاید وہ ابھی بھی آنکھیں نہ کھولتا۔
’’کیا بات ہے ایزد، کوئی بات بری لگی یا کسی نے کچھ کہا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ ایزد نے نظر پھیر کر آنکھیں صاف کیں۔
’’کوئی یاد آرہا ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’کون؟‘‘
’’ہے کوئی، تم سے مطلب؟‘‘ وہ مسکرایا تو وہ چڑ گئی۔
’’جان پیاری ہے تو جلدی سے بتادو ورنہ یہیں بیٹھے بیٹھے شہید ہوجاؤ گے۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘ وہ اسے چیک کررہا تھا۔ عائشہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
’’تمہیں نہیں پتہ کیوں؟‘‘
کچھ تھا اس کی آنکھوں میں، جس نے ایزد کے دل کو جکڑ کر بے چین کردیا تھا۔ عجیب بے بسی تھی کہ وہ اس کی آنکھوں کے سحر سے بھی خود کو آزاد نہیں کر پارہا تھا۔ کب اس کا ہاتھ بے خودی میں آگے بڑھا، کب اس نے عائشہ کے ہوا میں اُڑتے بال سمیٹے اور ان کی نرماہٹ محسوس کی، اسے پتہ بھی نہ چل سکا۔ ہوش تو تب آیا جب اس کے شوریدہ جذبات سے مغلوب ہوکر عائشہ نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔
’’عائشہ…‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’بہت دنوں سے میں اپنی جیب میں تمہاری ایک امانت اُٹھائے پھر رہا ہوں، دینے کا حوصلہ اس لیے نہیں کر پایا کہ کہیں تم برا نہ مان جاؤ۔‘‘
’’تم دے دو، جو بھی چیز ہے، میں برا نہیں مناؤں گی۔‘‘ اس کا سر ابھی بھی ایزد کے کندھے پر تھا۔
ایزد نے جیب سے ایک خوب صورت سی رِنگ نکالی پھر ہاتھ بڑھا کر عائشہ کا بایاں ہاتھ تھاما اور آہستہ سے رِنگ تیسری انگلی میں پہنا دی۔
’’اسے صرف ایک رِنگ مت سمجھنا، یہ میرا دل ہے عائشہ، چاہو تو سنبھال کے رکھ لینا، چاہو تو اُتار کے پھینک دینا۔‘‘ بہت آہستہ سے اس نے کہا تھا۔ جواب میں عائشہ نے رِنگ کو چوم لیا۔
’’یہ تو اب میرے مرنے کے بعد لوگ ہی اُتاریں گے ایزد۔‘‘ وہ اس سے زیادہ اس کی دیوانی تھی، تب ہی مخمور لہجے میں کہتی شرارت سے اس کے بال بکھیر کر نیچے بھاگ گئی۔ ایزد کے لیے وہ لمحہ جیسے زندگی تھا۔
’’عائشہ…‘‘ چاروں طرف پڑتی برف میں اپنے جامد ہوتے وجود کے ساتھ اس نے پھر اسے پکارا تھا مگر وہ بھلا اب اس کی پکار کہاں سن سکتی تھی۔ اب تو اس کے اور عائشہ کے درمیان صدیوں کے فاصلے تھے۔ اس کا دل چاہا وہ اپنے بال نوچ ڈالے اور دیوانوں کی طرح چیخ چیخ کر فضاؤں میں عائشہ عائشہ پکارتا پھرے۔
فضا میں ٹھنڈ مزید بڑھ گئی تھی۔ وہ سرخ آنکھوں کو بائیں ہاتھ صاف کرتا اُٹھ کھڑا ہوا۔ تقریباً چالیس منٹ کی پگڈنڈی کی مسافت طے کرنے کے بعد جس وقت وہ اپنے مکان میں داخل ہوا، سردی کی شدت نے اس کا پورا وجود شل کردیا تھا۔ امرحہ کوئلوں کی انگیٹھی دہکا کر لے آئی تھی۔
’’بیٹھو… مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے۔‘‘ پچھلے دو ماہ میں پہلی بار وہ اس سے مخاطب ہوا تھا۔ امرحہ اپنی جگہ برف ہوگئی۔
’’شادی کرو گی مجھ سے؟‘‘ ابرو اُٹھائے اس نے پوچھا۔ وہ اس عجیب و غریب سوال پر جیسے حیران ہی تو رہ گئی تھی۔
بھلا یہ کیسی سزا تھی؟ اسے حیرانی سے گنگ اپنی طرف دیکھتے پاکر وہ مزید بولا۔
’’میں کل مولوی صاحب اور گواہوں کا بندوبست کرلوں گا۔ تم اچھی طرح سوچ کر بتا دینا‘ شادی کرلو گی تو تمہارے حق میں بہتر ہے وگرنہ شادی کے بغیر بھی رہنا تو تمہیں اب میرے ساتھ ہی ہے۔‘‘ بلا کا سنجیدہ لہجہ تھا اس کا۔ امرحہ جواب میں کچھ نہ کہہ سکی۔ وہ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ اس نے جو کیا تھا، اس کا بھگتان تو اب اسے بھگتنا ہی تھا، چاہے انجام جو بھی ہوتا۔

(ان شاء اﷲ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close