لال جوڑا

لال جوڑا

فاخرہ گل

کمرے سے اماں اور خالہ بی کی آوازیں ای سی جی پر موجود دل کی رفتار کی طرح کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی جارہی تھیں۔ سارقہ آپی کے جسم کا درجہ حرارت زندہ کبوتر کے پوٹے کی طرح گرم مگر دل دسمبر کی اوائل ہوائوں سا سرد ہورہا تھا۔ ٹرے میں موجود بسکٹوں کی پلیٹ کے ساتھ رکھے دو خالی کپ چائے کی آمد کے منتظر تھے کہ چائے کے ہونے سے یقینی طور پر ان کی قدر وقیمت اور اہمیت میں اضافہ ہوجاتا اور تب چائے کے ابال آنے کے انتظار میں کھڑی سارقہ آپی نے جانے کیوں چائے کے ان خالی کپوں کو ہمارے معاشرے میں موجود لڑکیوں کی ذات سے تعبیر کرلیا کہ جب تک وہ اکیلی ہوں‘ ان کے ساتھ کوئی بھی کسی بھی طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے لیکن جس طرح کپ میں چائے ڈالتے ہی اس کی حفاظت‘ احتیاط اور اہمیت بڑھ جاتی ہے اسی طرح اگر ایک تنہا لڑکی کو بھی کسی کا ساتھ میسر ہو تو معاشرے کی نظر میں بھی اس کا مقام بڑھ جاتا ہے اور چائے سے بھرے کپ کی طرح اس کے ساتھ بھی محتاط رویہ اپنایا جاتا ہے۔
سارقہ آپی شاید مزید کچھ دیر تک اپنی ذات کا موازنہ دوسری مختلف چیزوں کے ساتھ بھی کرتیں مگر چائے کی خوش نما رنگت اور روایتی خوشبو کے باعث انہوں نے چولہا بند کیا‘ صافی سے دیگچی الٹا کر چائے سامنے رکھے دونوں کپوں میں انڈیلی اور کپ دوبارہ ٹرے میں رکھ کر ساتھ والے کمرے میں اماں اور خالہ بی کے سامنے پیش کردی۔
’’سلام خالہ!‘‘ چائے کا کپ خالہ بی کی طرف بڑھاتے ہوئے سارقہ آپی مسکرائیں تو خالہ بی نے اپنی نظروں سے امنڈتا رحم ترس اور بے چارگی ہونٹوں پر آئی مسکراہٹ تلے چھپالی۔
’’وعلیکم السلام خالہ کی جان‘ کیا حال ہے۔‘‘
’’اللہ کا شکر ہے‘ سب ٹھیک ہے۔‘‘ سارقہ آپی نے ایک کپ اماں کو دیا اور مسکرائیں۔
’’کہاں سب ٹھیک ہے؟‘‘ اماں نے اسی لمحے سارقہ آپی کے لفظوں کی تردید کی۔
’’پتہ نہیں کیا بات ہے بہن‘ دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے‘ رنگت صاف ہے تو یہ حلقے ایک دم نظر آتے ہیں۔ میں تو پوچھ پوچھ کر تھک گئی کہ آخر پریشانی کیا ہے جو یہ اندر ہی اندر گھلتی جارہی ہے مگر وہی کچھ نہیں۔‘‘
’’کیا بات ہے بیٹا‘ مجھے بتائو۔‘‘
’’ارے نہیں خالہ‘ ایسی کوئی بات نہیں‘ اماں تو بس ویسے ہی پریشان ہوجاتی ہیں‘ ورنہ میں تو ٹھیک ٹھاک ہوں۔‘‘ اس کی آسودہ سی دھیمی مسکراہٹ کے پیچھے جانے کیوں خالہ کو بھی عاشورہ کی فضا پھیلتی محسوس ہوئی تھی۔
’’کیوں رخسانہ‘ بتائو پھر کیا جواب دوں لڑکے والوں کو؟‘‘ سارقہ آپی کے جانے کے بعد چائے کا گھونٹ لے کر خالہ اب پوری طرح اماں کی طرف متوجہ تھیں۔
’’جواب کیا دینا ہے بہن… لڑکا تو اچھا ہے‘ نوکری بھی اچھی ہے لیکن…‘‘
’’لیکن اور کیا چاہیے تمہیں؟‘‘ خالہ حیران ہوئی تھیں‘ کیونکہ یہ رشتہ ان کی دانست میں سارقہ آپی کے لیے ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
’’ہماری ذات برادری کا نہیں ہے… اور تمہیں تو پتہ ہے کہ ہم باہر رشتہ نہیں کرتے‘ بیٹا ہو تو چلو پھر بھی گنجائش نکل آتی ہے‘ کر بھی دیں تو کوئی مسئلہ نہیں‘ لیکن آج تک ہمارے خاندان میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے اپنی بہن بیٹی کو برادری یا ذات سے باہر بیاہ ہو۔‘‘ اماں نے دونوں ہاتھوں میں کپ تھام کر اس کی حدت محسوس کی۔
’’ارے واہ‘ یہ کیا منطق ہوئی بھلا؟ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور تم…‘‘
’’دنیا سے مجھے کیا مطلب بہن‘ لیکن ہمارے خاندان کی ریت نہیں ہے یہ۔‘‘ اماں نے بے چارگی ظاہر کی۔
’’دنیا سے مطلب کیسے نہیں؟ اسی دنیا میں رہنا ہے ناں‘ تو یہ دیکھو کہ دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے۔ اب تو لوگ بغیر دیکھے ٹیلی فون پر نکاح پڑھوا دیتے ہیں اور بعض اوقات تو بیرون ملک تک بھجوادیتے ہیں اور تم ہو کہ…‘‘
’’تمہاری سب باتیں ٹھیک ہوں‘ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ طعنے تشنے بھی تو اسی دنیا کے لوگ دیتے ہیں ناں پھر بعد میں۔‘‘
’’سوچ لو رخسانہ…‘‘ خالہ نے کپ خالی کرکے واپس میز پہ رکھا۔
’’تمہاری دونوں بیٹیاں ماشاء اللہ گوری چٹی ہیں‘ خوب صورت اور سلیقے والی ہیں۔ آج لوگ تمہاری بیٹیوں کو ایک نظر دیکھ کر رشتہ بھیج دیتے ہیں‘ دو چار سال مزید گزر گئے ناں تو کوئی ایک نظر بھی نہیں ڈالے گا ان پر۔‘‘ خالہ نے بغیر کسی لگی لپٹی کے ایک تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ شاید اماں پر ان لفظوں کا کچھ اثر ہو جو مستقبل قریب کی ایک بھیانک تصویر کی ہلکی سی جھلک دکھا رہے تھے مگر اماں نے شاید کچھ بھی نہ سمجھ لینے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔
’’چھوڑو بہن! یوں کہو کہ تمہارے پاس اب اچھے رشتوں کی کمی ہوگئی ہے۔ ہاں اگر ایسا نہ ہوتا تو اب تک اپنے فائز کو ہی بیاہ لیتیں۔‘‘
’’چلو بھئی جو تم سمجھو‘ میرا تو فرض تھا تمہیں سمجھانا۔‘‘ خالہ کواماں کی بات ناگوار گزری۔
’’معاف کرنا خالہ‘ لیکن ہمارے گھر میں جہیز کو پھپھوندی تھوڑی لگ رہی ہے جو جلد بازی میں بیٹیاں رخصت کردوں ارے چار سال بھی لگ جائیں تو خیر ہے۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں۔‘‘
’’جو تمہاری مرضی۔‘‘ خالہ نے ہلکے سبز رنگ کی بڑی سی چادر سر پر ٹھیک طریقے سے جمائی۔
’’آج کے دور میں اگر بیٹیوں کو جلد از جلد عزت وآبرو کے ساتھ نیک رشتے مل جائیں ناں تو سمجھو کہ آدھی جنت والدین کو اسی دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔‘‘
’’بس دعا کرنا تم بھی کہ میری بیٹیوں کو بھی ایسے اچھے رشتے ملیں جو ہماری ہی ذات برادری سے ہوں‘ تو میں یہی سمجھوں گی کہ مجھے بھی آدھی جنت نصیب ہوگئی۔‘‘ تاسف سے گردن ہلاتے ہوئے خالہ نے محسوس کیا کہ اماں پر ان کی کہی گئی کسی بھی بات کا کوئی اثر نہیں ہورہا تو خاموش ہوگئیں گو کہ انہوں نے فائز کو ٹائم بتا کر کہا تھا کہ انہیں لے جائے مگر اب مزید اماں کے پاس بیٹھنا ان کے لیے ممکن نہ تھا سو چپ چاپ اٹھ کر ان کے گھر سے نکل آئیں۔
m…lml…m
مشعل ابھی تک کالج سے واپس نہیں آئی تھی اور اس کے آنے سے پہلے تک اگر کھانا تیار نہ ہوتا تو پھر سارا محلہ اس کے بھوکے ہونے کے بارے میں جان جاتا۔ اسی لیے سارقہ آپی ہمیشہ اس کے آنے تک کھانا تیار کرکے رکھتیں‘ روٹی البتہ اس کے آنے پر گرما گرم ہی پکائی جاتی۔ آج بھی خالہ جی کو چائے دینے کے فوراً بعد وہ دوپہر کے کھانے کی تیاری میں مصروف ہوگئی تھی۔ ارادہ تھا کہ کچھ دیر بعد جاکر خالہ کے پاس بیٹھے گی مگر ابھی اس نے فریج سے گاجریں اور بینگن نکال کر رکھی ہی تھیں کہ اماں چائے کی ٹرے لیے خود ہی کچن میں آگئیں۔
’’اماں میں لے لیتی برتن‘ آپ کیوں اٹھ کر آئیں؟‘‘ سارقہ آپی نے برتن ان کے ہاتھ سے لے کر سینگ میں رکھے اور پلیٹ میں موجود بسکٹ ایئر ٹائٹ جار میں ڈال کر اسے واپس کیبنٹ میں رکھ کر اماں کی طرف دیکھا۔
’’میں بھی تو وہاں اکیلی ہی بیٹھی تھی ناں‘ سوچا تمہارے پاس جاکر بیٹھوں۔‘‘ موڑھا کھسکا کر وہ اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
’’اکیلی لیکن خالہ کہاں گئیں؟‘‘ سارقہ آپی کی حیرت بجا تھی کیونکہ وہ جانتی تھی آج فائز نے انہیں لینے آنا تھا اور خاص طور پر فائز ہی کے لیے وہ جلدی جلدی گاجر کا حلوہ بنانا چاہتی تھی کیونکہ مشعل کے لیے تو آج بینگن کا بھرتہ ہی بہت تھا۔ اس کو آگ پر سینکے ہوئے آلوئوں کے ساتھ بینگن کا بھرتہ اتنا پسند تھا کہ پھر کسی اور چیز کی طرف نظر نہیں اٹھاتی‘ سوچا تھا کہ کھانا پکا ہوگا تو اس بہانے خالہ کو بھی کچھ دیر روک لے گی اور فائز کو بھی گھڑی دو گھڑی دیکھ لیتی کہ دل کو قرار ملتا۔
’’چلی گئیں… جب تک اس محلے میں رہی اپنی سگی بہنوں کی طرح سمجھا‘ چاہا اور برتا لیکن جانتی بھی ہے کہ ہماری برادری میں آج تک کسی نے بیٹیوں کا باہر رشتہ نہیں کیا‘ ایسے ایسے مشورے دیتی ہے کہ سب خاندان والے میرے منہ پر تھو تھو کریں۔‘‘ اپنی ہی رو میں تفصیلات بتاتے ہوئے اماں نے گاجریں چھیلنا شروع کیں۔
’’لیکن ایسا کیا کہہ دیا انہوں نے۔‘‘ دھیمے لہجے میں سارقہ آپی نے انہیں گاجریں چھیلتا دیکھ کر پوچھا۔
’’کہنا کیا تھا… ایرے غیروں کے رشتے دکھاتی رہتی ہے اور کیا۔‘‘
’’اماں… وہ کوئی رشتے کروانے والی بوا تو نہیں ہیں ناں‘ بس آپ کی ہمدردی میں ہی…‘‘
’’نہیں چاہیے ایسی ہمدردی…‘‘ اماں نے نخوت سے کہا اور بدستور بڑی بے دردی سے گاجریں چھیلتی رہیں۔ جانے کیوں سارقہ آپی کو لگ رہا تھا جیسے گاجروں کی جگہ ان کے ہاتھ میں سارقہ آپی کا دل ہے… چپ چاپ کجلائی آنکھوں میں آنسوئوں کا ہلکا سا ترمرا پھیلنے لگا‘ فلمی آنسو نہیں بلکہ وہ آنسو جنہیں بہائو کا راستہ نہ ملے تو بڑی شدت سے حلق میں اترا کرتے ہیں سو ان کا مسکن آنکھوں سے ہوکر رخسار نہیں بلکہ حلق سے ہوکر دل تھا اور ویسے بھی آنسوئوں کا بے شک کوئی وزن نہیں ہوتا لیکن اگر یہ بہہ نکلیں تو دل ہلکا پھلکا ہوجاتا ہے‘ بصورت دیگر دل پر ایک بوجھ کی صورت اٹھتے بیٹھتے اپنے ہونے کا احساس دلائے رکھتے ہیں۔
’’خود اپنی بیٹیوں کی تو کسی کی سندھی سے شادی کردی تو کسی کی پٹھان سے‘ ذرا لاج نہ آئی کہ لوگ کیا کہیں گے… لیکن نہیں بھئی وہ تو اٹھتے بیٹھتے دامادوں اور سمدھیوں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتی اسے بھلا کسی کی کیا پروا۔‘‘ اما ں نے بات کرتے ہوئے سارقہ آپی کو دیکھا جو ان کی طرف پشت کیے چائے کے برتن دھورہی تھیں۔ اماں کا خیال تھا کہ شاید وہ بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کچھ کہیں گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ اسی دوران باہر کا دروازہ ہلکا سا بجا اور پڑوس سے دس سالہ بلال سیدھا کچن میں آپہنچا۔
’’آنٹی امی کہہ رہی ہیں سندس آپی کا رشتہ دیکھنے جانا ہے‘ آپ کو یاد ہے ناں؟‘‘
’’ارے کہاں…‘‘ اماں نے ماتھے پہ ہاتھ مارا اور عجلت میں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’اچھا ہوا یاد دلا دیا‘ بس میں آدھے گھنٹے میں آرہی ہوں۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ بلال گردن ہلا کر واپس پلٹا تو اماں نے گاجریں اور چھری پرے رکھی اور کچن سے نکلتے ہوئے ایک بار پھر مڑیں۔
’’آج بینگن پکا رہی ہو یا گاجر؟‘‘
’’بینگن آلو پکاؤں گی امی‘ گاجریں کاٹ کر فریج میں رکھنی ہیں کل جلدی سالن پک جائے گا۔‘‘ گاجر کے حلوے کا پروگرام ملتوی کرتے ہوئے سارقہ آپی نے بتایا تو اماں گردن ہلاتی کچن سے نکل گئیں۔
m…lml…m
فروری کی خوب صورت اور چمک دار دھوپ میں بس کے انتظار میں کھڑا ہونا مشعل کو ہرگز برا معلوم نہیں ہورہا تھا اور ویسے بھی یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ اسے بس کے انتظار میں گھنٹہ بھر انتظار کرنا پڑا ہو۔ جب بھی وہ موج مستی میں آکر دوستوں کے ساتھ گپ بازی کرتے ہوئے ذرا تاخیر سے کالج سے نکلتی‘ بس جاچکی ہوتی اور نتیجتاً اسے گپ شپ کا خمیازہ دیر تک اسٹاپ پر کھڑے ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑتا۔ آج بھی وہ پچھلے پندرہ منٹ سے بس کے انتظار میں کھڑی تھی جب ایک موٹر سائیکل عین اس کے سامنے سے گزر کر پھر پلٹ کر اس کے سامنے آرکی۔
’’کیا بات ہے؟ بس نہیں آئی ابھی تک؟‘‘
’’ارے فائز بھائی آپ؟‘‘ ایک خوش گوار حیرت نے لمحہ بھر میں مشعل کے اردگرد ہالہ بنا دیا۔
’’میں بھی تمہارے ہی گھر جارہا ہوں امی کو لینے۔‘‘ اردگرد کھڑے لوگوں کے تجسس اور سوالیہ نظروں سے بچنے کی خاطر وہ فوراً ہی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور موٹر سائیکل سڑک کو اپنے دونوں پہیوں تلے روندنے لگی۔
’’کیا خالہ آج ہمارے گھر آئی ہوئی ہیں؟‘‘ تیز ہوا کے ساتھ اڑتے دوپٹے کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے مشعل نے پوچھا۔
’’ہاں کہہ رہی تھیں کہ کوئی کام ہے‘ میں نے پوچھا تو ٹال دیا۔ بس اتنا کہنے لگیں کہ دوپہر کو آفس سے جاتے ہوئے مجھے بھی ساتھ لے لینا۔ تمہارے آنے تک میں وہیں ہوں گی۔‘‘ فائز نے مکمل تفصیل سے جواب دیا تو مشعل سوچنے لگی کہ ایسا کون سا کام ہوسکتا ہے جس کے لیے آج خالہ پھر آئی ہوئی ہیں‘ کیونکہ پچھلی مرتبہ جب وہ سارقہ آپی کے لیے ایک رشتہ لائی تھیں تو اماں اور ان میں اچھی خاصی جھڑپ اس وقت ہوگئی تھی۔
’’یعنی آپ صرف خالہ کو لینے گھر جارہے ہیں‘ اگر وہ نہ آئیں تو آپ تو برسوں تک ہمیں چہرہ ہی نہ دکھائیں۔‘‘ مشعل نے یونہی ایک سرسری سی بات کی تھی مگر اس کی معمولی سی بے معنی بات نے فائز کے دل میں تو جیسے بھنور پیدا کردیئے تھے اور وہ اسے کیا بتاتا کہ وہ تو بس سارقہ کو ایک نظر دیکھ لینے کی خواہش دل میں لیے وہاں چلا جارہا تھا‘ ورنہ وہ صاف لفظوں میں امی کو منع کردیتا‘ لیکن وہ تو خود منتظر رہتا تھا کہ کب کوئی ایسا وسیلہ ملے جس کے ذریعے وہ چند لمحے سارقہ کو جاگتی آنکھوں سے دیکھ سکے‘ ایسی بے ضرر اور سادہ لڑکی جو شاید نہیں جانتی تھی کہ وہ ایک وقت میں دو زندگیاں جی رہی تھی۔ ایک وہ جو ظاہری طور پر دنیا والوں کے سامنے وقت گزار رہی ہے اور دوسری وہ جو ہر لحظہ اس کے دل کے اندر اس کی سنگت میں جی رہی ہے۔
اور تب فائز کا دل چاہا کہ بس فوراً ہی سارقہ کو اپنے سامنے بٹھا کر دل کی ہر وہ بات کہہ دے جو وہ تنہائی میں کتنی ہی مرتبہ اسے کہہ چکا تھا۔ وہ یہ بھی محسوس کرچکا تھا کہ یہ آگ یک طرفہ نہیں ہے باوجود اس کے کہ وہ محلہ‘ گلیاں اور گھر سب اب ایک خواب بن کر رہ گیا تھا مگر یہ بھی سچ تھا کہ وہاں کی گلیاں‘ گھر تو ایک طرف فائز کو تو وہاں کے درو دیوار سے بھی عشق ہوگیا تھا۔ وہ گلیاں جہاں سے سارقہ کا گزر ہوتا ہوگا‘ وہ گھر جہاں وہ سارا دن رہتی ہے اور باتیں جو یقینا وہ مشعل سے کرتی ہوگی‘ یہ سب اسے یوں اپنی محبت بھری گرفت میں جکڑیں گی اس بات کا اندازہ فائز کو اپنا محلہ بدلنے تک ہرگز نہیں تھا ورنہ شاید وہ ڈٹ جاتا اور کبھی ان درو دیوار سے دور نہ ہوتا جن میں سارقہ کے ہونے کا احساس اور اس کی خوش بو رچی بسی تھی۔
m…lml…m
اماں اپنی دوست کی بیٹی کا رشتہ دیکھنے گئیں تو کھانا پکا کر سارقہ آپی صحن میں پھیلی خوب صورت دھوپ میں چارپائی بچھا کر چہرے پر ہلکا سا دوپٹہ لیے لیٹ گئی۔ مشعل کے گھر آنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا سو خاموشی سے لیٹتے ہی ان کے ذہن میں فائز کی مسکراتی آنکھیں بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ہونے کا احساس دلانے لگیں‘ گھبرا کر انہوں نے چہرے سے دوپٹہ ہٹایا اور کروٹ لی۔
فائز خالہ بی کا اکلوتا بیٹا تھا جو ان کی تین بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا‘ اماں اور خالہ بی کا شروع سے ہی بہناپا تھا اسی وجہ سے دونوں گھروں میں سارا دن آمددورفت لگی رہتی‘ کبھی کھانوں کے تبادلے ہوئے تو کبھی چائے بنا کر مدعو کرلیا جاتا۔ اکھٹے بیٹھ کر ڈرامے دیکھا کرتے اور دیر تک اخبارات میں لکھے کالمز پر اپنی اپنی رائے کا اظہار بھی کیا جاتا۔ خالہ بی کی تینوں بیٹیاں بڑی تھیں۔ البتہ فائز‘ سارقہ آپی کا ہم عمر اور مشعل دونوں گھرانوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ اس کے باوجود جب سب ساتھ بیٹھا کرتے تو بڑے چھوٹے کی تمیز کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایک ہی محلے میں ہوتے ہوئے دوسرے کو چاہنے لگے کچھ پتہ ہی نہ چلا‘ سوچنے پر ایسا معلوم ہوتا کہ گویا پہلے روز سے خواہ وہ بچپن کا ہی زمانہ کیوں نہ ہو‘ دونوں کے درمیان محبت کا ایک خوب صورت سا تعلق تھا ادھر ذرا دنیا والوں کی نظر پڑی ادھر وہ دھڑا دھڑ رشتے آنا شروع ہوئے کہ اماں کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔ یوں بھی اکیلی تھیں شوہر کا ساتھ تو تھا نہیں کہ اچھا برا صلاح مشورہ ہی کرتیں‘ سو بڑی سہولت سے ایک ایک کرکے سب کو لوٹاتی رہیں۔ ان کے اس عمل سے فائز اور سارقہ آپی دونوں کے دلوں میں ڈھارس بندھی تھی۔ خود خالہ بی کا خیال تھا کہ سارقہ ان کے علاوہ اور کسی کی بہو نہیں بنے گی‘ اور گمان یہی تھا کہ تمام رشتوں کو انکار کرنا شاید اسی وجہ سے ہی تھا کہ خود اماں بھی فائز کو اپنی بیٹی کے لیے پسند کرچکی تھیں۔
عقدہ کھلا تو تب کہ جب خالہ بی نے اپنی تینوں بیٹیوں کی شادیاں یکے بعد دیگرے مختلف قسم کی قومیتوں میں بغیر ذات برادری‘ رنگ نسل کے فرق کے صرف اور صرف ان کے برسرروزگار ہونے اور اچھے کردار کے حامل ہونے کی بنا پر کردیں۔ یہ بات اماںکے لیے بے حد ناگوار تھی اور اس کا اظہار بھی انہوں نے واشگاف الفاظ میں کیا تھا۔
’’ارے کچھ تو انسان کو اپنی شناخت رکھنی چاہیے‘ کسی خوشی غمی میں تمہاری بیٹیاں اپنے سسرال والوں کے ساتھ آئیں گی تو تمہارا گھر‘ گھر نہیں ریلوے اسٹیشن لگا کرے گا جہاں پر دو تین لوگ بیٹھ کر اپنی ہی زبان بول رہے ہوں گے۔‘‘
’’کیا مسلمان ہونے کے علاوہ بھی کسی شناخت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے تمہاری نظر میں؟ میں تو سچ کہہ رہی ہوں رخسانہ‘ اگر میری بیٹیوں کے لیے ملک کے کسی بھی کونے سے نیک اور برسرروزگار رشتہ آتا تو میں کبھی منع نہ کرتی۔‘‘
’’اور تمہارے خاندان والے‘ ان کے طعنے کیسے سہوگی تم؟‘‘ اماں نے جذباتی وار کیا مگر خالہ بی ان کی تمام باتوں کے لیے پہلے سے تیار تھیں یا شاید وہ اماں کی ذہنیت جانتی تھیں اور انہیں اندازہ تھا کہ وہ یہ سب کچھ ضرور کہیں گی۔
’’میں ایسے خاندان کو نہیں مانتی جو دکھ درد میں سہارا دینے کے لیے تو غائب ہو اور طعنے دینے کے لیے سب سے آگے نظر آئے… اس وقت کہاں تھے یہی خاندان والے جب فائز کے ابا کے بعد میں نے کپڑے سلائی کرکے اپنے بچوں کو پالا اور اس وقت میری کیا مدد کرلیں گے یہی خاندان والے‘ جب ان کے طعنوں کے خوف سے میں اپنی بیٹیوں کے لیے آنے والے ہر اچھے رشتے کو صرف اور صرف ان کو راضی رکھنے کے لیے انکار کردوں اور جب میری بیٹیوں کے سر میں چاندی چمکنے لگے گی ناں تو یہی خاندان والے اس وقت بھی طعنے دیں گے۔‘‘
’’وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن۔‘‘ اماں نے انہیں سمجھانا چاہا مگر وہ اس وقت کچھ بھی سننا نہیں چاہتی تھیں۔
’’اور بالفرض اگر میں انہی خاندان والوں کے معیار کے رشتوں کے انتظار میں خود اس دنیا سے چلی جائوں تو میں حلف اٹھا سکتی ہوں کہ پھر بھی میری بچیوں کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ آتے جاتے میرے نام کے طعنے ضرور سنادیں گے کہ آخر میں نے آج تک جوان بچیوں کا کچھ بھی کیوں نہ سوچا۔‘‘
’’کچھ بھی ہو خاندان برادری سے کٹ کر بھی تو زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے ناں۔‘‘ اماں کے ذہن میں خاندان برادری کی جو عظمت موجود تھی اس سے وہ قطعی طور پر پیچھے ہٹنا نہیں چاہ رہی تھیں بلکہ ارادہ یہ ہی تھا کہ خالہ کو بھی قائل کرلیں مگر اس محاذ پر ان کی ناکامی صاف نظر آرہی تھی کہ خالہ کی نظر میں اچھے رشتے کا معیار ذات برادری کے بجائے شرافت اور باوقار روزگار تھا۔
’’تم جانتی تو ہو کہ میں تو ان کے ساتھ بھی بنانے کی کوشش کرتی ہوں جو مجھ سے دور بھاگنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے بے فکر رہو میں اپنے خاندان سے کبھی الگ نہیں ہوں گی۔ مہینہ باتیں کرلیں گے دو مہینہ تک کرلیں گے زیادہ سے زیادہ سال بھر موضوع گفتگو رکھیں گے پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ انہیں کوئی اور موضوع مل جائے گا اور سب اس کی طرف متوجہ ہوجائیں گے لیکن اگر یہ رشتے اللہ کی مدد سے اچھے رہے تو ایک دو مہینہ یا سال بھر نہیں ساری زندگی خوش رہیں گی میری بچیاں۔‘‘
اور تب چار وناچار اماں کو خاموش ہونا ہی پڑا تھا باوجود اس کے کہ وہ ان کی منطق سے بالکل بھی متفق نہ تھیں اور بے شک اب خالہ کی بیٹیاں اپنے سسرال میں میاں اور بچوں کے ساتھ ایک کامیاب زندگی گزار رہی تھیں مگر جب بھی اماں کو موقع ملتا بات کرنے سے نہ چوکتیں۔ ابھی سارقہ آپی انہی پرانی باتوں میں کھوئی ہوئی دروازے کی طرف رخ کیے لیٹی دھوپ کا بخشا گیا سرور سمیٹ رہی تھیں انہیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ کب فائز نے دستک دی اور کھلے دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی سامنے سارقہ کو لیٹا دیکھ کر وہیں ٹھٹک کر رک گیا۔
فائز کو محسوس ہوا تھا کہ فروری کی دھوپ کس قدر سحر انگیز اور جذبات میں شور مچا دینے والی ہوتی ہے اور خاص کر وہاں دھوپ سینکتی ایک سارقہ بھی ہو… گو کہ سارقہ آپی کی آنکھیں بند تھیں لیکن فائز کو لگا کہ اگر ان کے علم میں لائے بغیر وہ ایک قدم بھی ان کی جانب بڑھا تو یہ کہیں بے ادبی کے زمرے میں نہ آجائے‘ فائز کی زندگی سارقہ سے پہلے کسی بھی قسم کے عشق کے تجربے سے خالی تھی اور شاید یہی وجہ تھی یا سارقہ کی کم گو فطرت کا رعب کہ فائز اظہار محبت کرنے سے بھی قاصر تھا۔ پہلی محبت تو یوں بھی کانچ کے خوب صورت اور قیمتی برتن کی طرح سینت سینت کر رکھی جاتی ہے‘ سو فائز کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
کبھی دل چاہتا کہ یونہی ٹکٹکی باندھے بس دیکھتا ہی رہے اور کبھی سوچتا کہ محبت کا وہ طوفان جو سپر سونک اسپیڈ کے ساتھ اس کے دل میں امڈ رہا ہے اس سے سارقہ کو بھی آگاہ کیا جائے۔
فائز اس وقت حدود میں قید آزاد فضائوں کا متلاشی وہ پرندہ تھا جو محبت کے پنجرے میں قید تھا اور آزاد فضائوں کی چاہ دل میں لیے بڑی حسرت سے ان پر ٹکٹکی جمائے ہوئے تھا۔ اسی دوران باہر گلی میں کسی سے گپ شپ کرتی مشعل بھی اندر آگئی اور فائز کو اب تک وہیں دروازے کے پاس کھڑے دیکھ کر چونک گئی۔
’’ارے فائز بھائی‘ آپ ابھی تک یہی کیوں کھڑے ہیں؟‘‘ مشعل کی آواز پر سارقہ نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں اور یوں ایک دم خلاف توقع فائز کو سامنے دیکھ کر بوکھلا گئی۔ کیونکہ خالہ بی کے چلے جانے کے بعد اب قوی خیال یہی تھا کہ فائز بھی نہیں آئے گا۔
’’وہ دراصل میں سمجھا سارقہ سو رہی ہے اس لیے جگانا مناسب خیال نہیں کیا۔‘‘ کاش سارقہ بتا سکتی کہ وہ تو اسی کے خیالات میں آنکھیں بند کیے ہوئے تھی لیکن کچھ بھی کہنے کے بجائے اپنا دوپٹہ سنبھالتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی کبھی کبھار تو وہ سوچا کرتی کہ شاید فائز کے لیے ان کے جذبات یک طرفہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج تک فائز نے کبھی بھی اس جذبے کو لفظوں کا پیراہن نہیں بخشا تھا لیکن دوسرے ہی لمحے فائز کی بولتی آنکھیں بڑی خاموشی سے وہ سب پیغام پہنچا جاتیں جن کے خواب سارقہ نے بہت پہلے سے دیکھ رکھے تھے۔
’’میں تو جاگ رہی تھی… بس ویسے ہی دھوپ میں لیٹ گئی۔‘‘ سارقہ نے دوپٹہ اپنے گرد لپیٹا اور بات ختم کرکے کچن میں چلی آئی۔
’’آپ آپی کے پاس بیٹھیں میں کپڑے چینج کرکے ابھی آئی۔‘‘ مشعل نے کہا تو فائز گردن ہلا کر کچن کی طرف بڑھ گیا‘ جہاں سارقہ آٹا نکال کر چولہا جلا رہی تھی۔ فائز کو اندر آتے دیکھا تو موسم کے سرد ہونے کا احساس یکبارگی بڑھ گیا۔ خود فائز نے بھی یوں سارقہ کو چونکتا اور اپنے میں سمٹتا محسوس کیا تو وضاحت دیتے ہوئے بولا۔
’’دراصل مشعل نے کہا کہ میں اس کے آنے تک یہاں بیٹھوں۔‘‘ کرسی کھینچ کر وہ اب بڑے سکون سے ان کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔
’’خالہ تو جلدی چلی گئی تھیں اور اماں بھی کہیں کام سے گئی ہوئی ہیں۔‘‘ بظاہر خود کو مصروف ظاہر کرتی سارقہ کا مکمل دھیان پیچھے بیٹھے فائز کی طرف تھا اور یہ بھی اچھا تھا کہ اس وقت روٹی پکانی تھی ورنہ جذبات کو چہرے پر آنے سے روکنا بھلا سارقہ کے لیے کیسے ممکن ہوتا جبکہ ان کی خوب صورت سفید رنگت اس وقت سرخی مائل ہوچکی تھی۔
’’میں جانتا ہوں کہ امی آج صرف آدھ پون گھنٹہ ہی بیٹھی تھیں اور تم اس وقت گھر پر اکیلی ہو۔‘‘
’’سارقہ…‘‘ فائز نے دھیرے سے کہا تو سارقہ کا روٹی بیلتا ہوا ہاتھ وہیں رک کر رہ گیا۔ کسی ایسے شخص کے منہ سے اپنا نام سننا‘ جسے ہمارے دل ودماغ نے دنیا والوں سے الگ کوئی بہت ہی اونچا درجہ دے رکھا ہو‘ اس قدر انوکھا اور خوب صورت احساس ہوتا ہے یہ سارقہ کو آج محسوس ہوا تھا‘ اور بے اختیار دل چاہا کہ وہ اسی طرح محبت بھرے انداز میں انہیں پکارتا رہے اور ان کی سماعتیں اس درجہ سکون سے لطف اندوز ہوتی رہیں۔
’’جی…‘‘ وہی مختصر سا مخصوص انداز‘ نہ استفسار نہ ایجاب نہ پسندیدگی کا عنصر نہ ہی تجسس۔ فائز نے سارقہ کا ہاتھ ایک دم رکتا محسوس کیا تھا۔ چند لمحے پہلے دونوں کلائیوں میں موجود آدھی آدھی درجن چوڑیوں کی ہلکی پھلکی کھنک جو بیلن کی متوازی رفتار سے فضا میں بکھر رہی تھی اب ایک دم خاموش ہوگئی تھی‘ گھر میں پہنے جانے والی سیاہ چپل میں خوب صورت دودھیا پائوں نظر آرہے تھے۔
’’اگر میں کہوں کہ میں امی کو لینے یا خالہ سے ملنے نہیں بلکہ…‘‘ فائز نے لمحہ بھر رک کر جملہ مکمل کرنے نہ کرنے کے متعلق سوچا تو کچن میں اس قدر خاموشی ہوگئی کہ دونوں کے سانس لینے کی آواز تک بخوبی محسوس کی جاسکتی تھی۔ اور بس وہی لمحہ فیصلے کا تھا۔
’’صرف اور صرف تمہیں دیکھنے اور تمہاری آواز سننے کے لیے آیا ہوں تو…‘‘ خلاف توقع سارقہ نے انہی پیروں پر گھوم کر فائز کو دیکھا۔ خوب صورت اجلی آنکھیں… اداس ہوتے ہوئے بھی ہلکا ہلکا مسکرا دینے والی آنکھیں‘ فائز کو لگا جیسے سارقہ کی آنکھیں اس کے چہرے پر چسپاں ہوگئیں نتیجتاً ان کا دل ان آنکھوں کو قریب سے دیکھنے کی ایسی شدید تمنا کرنے لگا کہ وہ میکانکی انداز میں بس بولتا چلا گیا۔
’’یہ سچ ہے سارقہ… اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم بھی میرا انتظار کرتی ہو‘ مجھے دیکھنے کے لیے لمحے گنا کرتی ہو کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگر میں تمہیں اس قدر سچے دل سے چاہتا ہوں تو اس کی وجہ ہم دونوں کے دلوں کا آپس میں رابطہ ہونا بھی ہے۔‘‘ سارقہ نے کب پلکیں جھکائیں پتا ہی نہ چلا‘ سانس بھی لے رہی تھی کہ نہیں‘ انہیں یاد ہی کب تھا‘ احساس تھا تو اتنا کہ وہ جذبہ جسے وہ تنہائی میں خود سے بھی مخفی رکھنے کی کوشش کرتی تھیں‘ وہ کسی طرح سارے بند توڑ کر فائز کے دل تک جاپہنچا تھا… گو کہ دونوں میں لامحدود فاصلے تھے اور خود فائز کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکلی تھی جس سے سارقہ کے دل میں کوئی امید جاگتی اور فائز کی حالت ایسی ہی تھی کہ کوئی ناتجربہ کار بندوق کی لبلبی پر ہاتھ رکھے بیٹھا ہو اور بندوق داغنے کی ہمت نہ ہو… مگر آج آخر کار بندوق کی لبلبی پر خودبخود بوجھ پڑ گیا تھا اور اب درمیان میں لفظوں کا کوئی حجاب باقی نہ رہا تھا۔ فائز کی جانب سے شدت کا اقرار تھا تو سارقہ کی طرف سے شدت کا انکسار…!
فائز کی خواہش تھی کہ وہ بھی ایسے تمام الفاظ اپنے کانوں سے سنے جو اس کی آنکھوں نے سارقہ کے چہرے پر بکھرتے دیکھے‘ لیکن فی الحال شاید ایسا کچھ ممکن نظر نہ آتا تھا‘ اسی دوران مشعل نے کچن میں قدم رکھا تو سارقہ کے چہرے پر بکھرے قوس قزح کے سارے رنگ دیکھ کر کچھ سمجھی اور کچھ ناسمجھی کیفیت میں فائز کے سامنے آبیٹھی۔
سارقہ اب ایک بار پھر رخ موڑے روٹی پکا رہی تھی اور کمرے میں ان کی چوڑیاں کچھ دیر پہلے ہونے والی کہانی بیان کررہی تھیں۔
فائز کے چہرے پر اترتا سکون اور آنکھوں کی شگفتگی اس قدر بھلی معلوم ہو رہی تھی کہ مشعل نے جتنی مرتبہ بھی کچھ کہنے کا ارادہ کیا اسے اپنے الفاظ بے معنی اور فضول لگنے لگے اور یہ پہلا موقع تھا کہ ان تینوں نے اکا دکا رسمی جملوں کے علاوہ اتنی خاموشی سے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا‘ آنکھوں کی آنکھوں سے ہوتی گفتگو اس قدر معنی خیز اور دلچسپ تھی کہ مشعل کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگئی۔
m…lml…m
اماں شام کی رخصت ہوتی دھوپ کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تھیں مشعل اور سارقہ دونوں ہی فوراً ان کے پاس آبیٹھیں تھیں۔ وہ عجیب بجھی بجھی اور اداس لگ رہی تھیں۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد جانے دماغ میں کیا آئی کہ سلائی مشین کے ڈبے میں رکھی چابی نکال کر بڑے سے صندوق کا تالا کھولنے لگیں۔ مشعل کو ان کی اس بات سے بے حد چڑ تھی اور کچھ وہ بولنے میں بھی سارقہ کے برعکس کافی تیز تھی جو منہ میں آتا کہہ ڈالتی تھی۔ سو بیڈ پر رکھے لحاف کو کھولتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگائی اور لحاف کھینچ کر کندھوں تک اوڑھ لیا۔
’’کیوں اماں خیر تو ہے ناں آج اس صندوق سے کیا کام پڑ گیا؟‘‘ اور اس سے پہلے کہ اماں کوئی جواب دیتیں پڑوس کا بلال ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر لیے کمرے میں ہی چلا آیا۔ رات کا کھانا تیار کرتی سارقہ نے کچن سے ہی باہر کا دروازہ کھول کر اسے اندر بھیجا تھا۔ وہ جیسے خاموشی سے آیا تھا ویسے ہی شاپر پکڑا کر واپس چلا گیا تو اماں کی آنکھوں میں ابھرتی چمک خود مشعل نے بھی محسوس کی۔
’’ادھر آ… میرے پاس‘ دیکھ سارقہ کے بیاہ کے لیے کیسا بہترین جوڑا لائی ہوں۔‘‘ اماں کے انداز میں فخر نمایاں تھا لگتا تھا جانے کیا کارنامہ تھا جو آج وہ اس جوڑے کو خرید کر انجام دے آئی ہوں۔ ان کا انداز ایسا ہی تھا جس نے مشعل کو گرم لحاف چھوڑنے پر اکسایا اور وہ ان کے پاس آبیٹھی۔ شال اپنے گرد لپیٹے مشعل کے انداز میں وہ خوب صورت اور نفیس کام والا جوڑا دیکھنے کے بعد ستائش بھی تھی اور حسرت بھی۔
’’سندس کے لیے جو رشتہ دیکھنے گئے تھے ناں‘ وہ تو سمجھو پکا ہے اور وہ لوگ ہتھیلی پہ سرسوں جماتے ہوئے جلداز جلد شادی کا کہہ رہے تھے۔ اسی لیے وہاں سے انہوں نے اس کے لیے خریداری کی تو میں بھی اپنی سارقہ کے لیے یہ خرید لائی۔‘‘
’’کاش اماں‘ سارقہ آپی کو جلداز جلد یہ جوڑا پہننا بھی نصیب ہو۔‘‘
’’ہاں دعا ہی کیا کرو میری بچی… بس اس کی قسمت ہی ذرا سست ہے ناں‘ کوئی ر شتہ ہی نہیں آتا۔‘‘ اماں کے لہجے کی اس قدر مایوسی نے مشعل کو چونکا دیا تھا اور وہ بولے بغیر رہ نہیں پائی۔
’’رشتہ نہیں آتا؟ اماں کتنے ہی رشتوں کو تو خود آپ نے انکار کیا ہے ورنہ جتنے رشتے سارقہ آپی کے آئے ہیں اور جس قدر منت سماجت لوگوں نے آپ کی کی ہے میں نہیں سمجھتی کسی کی بھی کی ہو۔‘‘
’’ارے تو کسی بھی ایرے غیرے کے ساتھ کیسے بیاہ دوں اسے؟ باقی تو چلو جیسے تیسے مگر کم از کم ذات برادری تو اپنی ہو ناں۔‘‘ وہی انوکھی ضد۔
’’بس اماں‘ آپ کی اسی ضد کی وجہ سے تو آج اس صندوق میں پڑے کتنے جوڑوں کی کڑھائی کالی پڑ چکی ہے۔ سارقہ آپی آہستہ آہستہ باتیں کرنا بھولتی جارہی ہیں‘ کم گو ہوگئی ہیں‘ ان کی آنکھوں کی چمک اور ہونٹوں کی مسکراہٹ مدھم پڑنا تو آپ نے دیکھا‘ لیکن کیسی ماں ہیں آپ کہ کبھی اس کی وجہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔‘‘
’’بس بس زیادہ پھاپھے کٹنی بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے۔‘‘ غصے میں آکر انہوں نے اورنج رنگ کے خوب صورت شلوار سوٹ کو تہہ کرنا شروع کیا۔ شلوار کے پائنچوں پر بہت باریک سی اورنج رنگ کے دبکے کا کام بنا ہوا تھا اور بالکل اسی طرح اورنج رنگ کی شرٹ پر وائٹ کام اسے بہت ہی خوب صورت بنائے دے رہا تھا۔ دوپٹے کے پلوئوں پر اماں نے پیکو کروائی تھی‘ جس سے پورے سوٹ کی سج دھج ہی الگ لگنے لگی تھی۔
’’اری ماں ہوں اس کی… نہیں چاہتی کہ الابلا لوگوں میں رخصت کرکے خود بہن بھائیوں کی باتیں سنتی رہوں اور سب رشتے دار کیا کہیں گے کہ انہیں اپنی برادری میں کسی نے نہ پوچھا جو غیروں کی طرف دیکھنا پڑا۔‘‘ شاپر میں سوٹ ڈال کر انہوں نے وہ بھی صندوق میں رکھا۔
’’ہاں تو برادری اور آپ کے بہن بھائیوں میں سے آج تک کسی نے پوچھا ہے کیا آپ سے ہونہہ۔‘‘ بدمزہ ہوکر مشعل ایک بار پھر لحاف میں جاگھسی تھی۔
’’تم نہیں سمجھتی ان باتوں کو مشی… میں نہیں چاہتی کہ کل کو تم لوگ اگلے گھر جاکر کسی غیر برادری سے ہونے کے طعنے سنو۔‘‘
’’شادی کے بعد غیر برادری کے طعنے کیوں اماں… ہم تو اپنی ہی برادری کے بین سنیں گے بس ایک دوسرے کے مرنے پر‘ اسی میں خوش ہیں آپ۔‘‘
’’دفع ہوجائو یہاں سے کم بخت… جس ماں نے بولنا سکھایا اسی کے سامنے اپنی زبان کی تیزی دکھا رہی ہو۔‘‘ اماں کو مشعل کی باتوں نے بہت دکھ پہنچایا تھا لیکن مشعل بھی کیا کرتی کہ آخر یہی سب کچھ اسے سچ محسوس ہوتا تھا۔
اور پھر اس کے سامنے کی بات تھی کہ سارقہ آپی کے رشتے کی خواہش میں کتنے لوگوں نے اماں سے راہ ورسم بڑھائی لیکن اماں کی بس ایک ہی ضد تھی کہ لوگ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں‘ چونکہ آج تک ایسا ہوا نہیں کہ ان کے خاندان میں کسی نے بیٹی باہر بیاہی ہو اس لیے وہ بھی اپنی روایات کی پابند رہیں گی۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ایک کرکے سبھی لوگ اماں سے دور ہوتے چلے گئے۔
چھوٹے موٹے تہواروں پر بہانے بہانے سے مختلف گھروں سے سارقہ آپی کے لیے خاص طور پر چھوٹے موٹے تحائف بھی آیا کرتے‘ جنہیں اماں بخوشی قبول کیا کرتیں‘ سارقہ آپی کو بھی تحائف میں آئی ہوئی چیزیں استعمال کرنے کو دیتیں اور تب ان کی آنکھوں میں ابھرتی چمک مشعل کو آج بھی یاد آتی تو دل کرتا ان تمام فرسودہ روایات کی زنجیریں توڑ پھینکے لیکن افسوس اس بات کا تھا کہ ان ہی زنجیروں میں زندہ رہنے یا انہیں توڑ پھینکنے کا مکمل اختیار اماں کے پاس تھا اور وہ فی الحال انہی زنجیروں کے ساتھ نباہ کرنے میں راضی تھی۔
m…lml…m
مشعل لحاف میں دبک کر کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی‘ ساتھ والے کمرے سے اماں کی خراٹے لینے کی آوازیں آرہی تھیں۔ جس کا مطلب تھا کہ سارقہ آپی اماں کی ٹانگیں اور کمر دبانے کے بعد اب کچن میں رات کے برتن سمیٹ رہی ہیں کافی عرصے سے سارقہ آپی کا یہی معمول تھا‘ اماں کو رات کا کھانا اور دوا دینے کے بعد آدھے گھنٹے تک بیٹھی ان کی ٹانگیں دباتیں اسی دوران وہ سو جاتیں تو اٹھ کر کچن صاف کرلیتیں۔ تب تک مشعل دوسرے کمرے میں بیٹھی پڑھ رہی ہوتی اور پھر سارقہ آپی کے آنے کے بعد دونوں کچھ دیر باتیں کرتیں اور پھر سو جاتیں‘ باتوں کا دورانیہ جو پہلے دو تین گھنٹوں پر بھی محیط ہوا کرتا آج بہت کم رہ گیا تھا۔
’’یہ لومشی‘ پہلے دودھ پی لو ورنہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔‘‘ مشعل نے دودھ کا گلاس ایک طرف رکھ کر کتابیں سمیٹیں اور سامنے موجود سراپا محبت کو دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی اور اس کا یوں غور سے دیکھنا سارقہ نے بھی محسوس کیا تھا اس لیے پوچھے بنا رہ نہیں سکی۔
’’کیا بات ہے مشی… اتنے غور سے کیوں دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’بس آپی سوچ رہی ہوں‘ جتنی پیاری میری بہن ہے کاش کہ اس کا نصیب بھی اتنا ہی پیارا ہو۔‘‘ اور شاید اب کی بار غور سے دیکھنے کی باری سارقہ کی تھی اور ان کی نظروں میں ایسا کیا تھا کہ مشعل کو بے چین کر گیا تھا باوجود اس کے کہ وہ دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی بھی تھیں لیکن ان کی مسکراہٹ میں نہ تو سچائی تھی اور نہ ہی تازگی‘ بلکہ مشعل کو تو ان کی مسکراہٹ کسی گاڑی کی جلتی ان لائٹوں جیسی لگی تھی جو گہری دھند کے اس پار موجود ہو اور دھند کے بگولے اس روشنی کی اہمیت ختم کردیں۔
’’ایک بات پوچھوں آپی لیکن سچ سچ بتانا۔‘‘ مشعل نے گہری دھند کے اس پار موجود روشنی کو کھوجا۔ سارقہ آپی نے مشعل کے ساتھ والے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے تکیہ دیوار کے ساتھ رکھا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا کر مشعل کو دیکھا۔
’’کبھی دل چاہتا ہے ناں کہ زندگی میں کوئی تو ایسا ہاتھ ہو جسے بندہ جب چاہے بنا اجازت تھام لے‘ کوئی محبت بھرا دل جو ہر درد سمیٹ لے‘ کوئی ایسی آنکھیں جو ہمیں اندر تک پڑھ لینے کا ہنر جانتی ہوں‘ دل چاہتا ہے ناں کبھی کبھی؟‘‘ مشعل دھیرے دھیرے بڑے خوابیدہ انداز میں اپنی خواہش کا اظہار کررہی تھی۔
’’بتائیں ناں آپی‘ چاہتا ہے ناں دل؟‘‘ براہ راست کیے گئے سوال پر سارقہ نے گہری سانس لی۔
’’ارے پاگل‘ دل تو بہت کچھ چاہتا ہے… مگر ویسا ہو تب ناں۔ ہمیشہ وہی کچھ کب ہوتا ہے جو یہ دل خواہش کرتا ہے۔‘‘
’’آپی ادھر دیکھیں میری طرف۔‘‘ مشعل کے کہنے پر سارقہ آپی نے ہتھیلی پر الجھتی نظریں اس کے چہرے پر ٹکائیں۔
’’آپ کو فائز بھائی اچھے لگتے ہیں ناں؟‘‘ اس قدر براہ راست سوال اور سوال بھی ایسا کہ جس میں سوال سے زیادہ جواب نمایاں تھا۔ مشعل کی بات پر جیسے ان کا وجود اس بوند کی مانند ٹھہرا ہوا تھا جو موسلا دھار بارش کے بعد پتے کے آخری سرے پر ٹکی رہ گئی ہو اور ایک دم سے نرم لطیف ہوا کے جھونکے سے آن کی آن میں نیچے آگرے۔
’’میں سوچتی ہوں آپی کہ میں تو سارا دن کالج میں ہوتی ہوں ہر اچھی بری بات دوستوں سے کرتی رہتی ہوں‘ اماں ہمسائیوں کی سنتی اور ان سے اپنی باتیں کرتی ہیں اور آپ… آپ کی تو کوئی دوست کوئی سہیلی بھی نہیں رہی اب‘ سب کی شادیاں بھی ہوگئیں اور پھر بچے بھی‘ تو آپ اپنے دل کی ساری باتیں کس سے کرتی ہوں گی؟ وہ سب جو آپ محسوس کرتی اور سوچتی ہیں ان خیالات کا نکاس کس طرح ہوتا ہوگا۔‘‘ گلاس کو پلنگ کے ساتھ ہی رکھے موجود صندوق پر رکھ کر وہ مکمل رخ موڑ کر سارقہ کی طرف بیٹھ گئی تھی اور اس کی بات پر ایک مرتبہ سارقہ کی آنکھوں کی اجازت اور رضامندی کے بغیر صرف ہونٹوں سے ہی ہلکا سا مسکرائیں۔
’’جن کے دل کی بات اس دنیا میں سننے والا کوئی نہیں ہوتا ان کی سب کہی ان کہی باتیں اس دل کا مکین سنتا ہے‘ بڑے غور‘ دھیان اور پورے خلوص کے ساتھ اور پتہ ہے میرا رب جس دل میں رہتا ہے اسے دنیا والوں سے بات کرنے کی حاجت ہی نہیں رہتی۔‘‘
’’وہ سب باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن جس طرح گھر کی کھڑکیاں دروازے نہ کھولے جائیں تو درو دیوار سے جالے لپٹ جاتے ہیں اسی طرح اگر گاہے بگاہے سوچ کو لفظوں کی شکل نہ دی جائے تو شخصیت پر تنہائی کے جالے لگنے لگتے ہیں‘ اور میرے ہوتے ہوئے میں آپ کو یوں تنہا نہیں دیکھنا چاہتی۔‘‘ سارقہ آپی نے دونوں ہونٹوں کو اوپر تلے دبایا اور موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
’’آپی… آپ مجھ سے شیئر کیا کریں پلیز‘ جو کچھ بھی ذہن میں ہو مجھ سے بات کیا کریں‘ مجھے اماں پر بہت غصہ آتا ہے‘ اور پھر بہت رونا بھی آتا ہے۔‘‘ بات کرتے کرتے وہ اٹھ کر سارقہ آپی کے پلنگ پر آگئی اور بے اختیار رونے بھی لگی۔
’’ارے رو کیوں رہی ہو؟ چپ کرو۔‘‘ سارقہ آپی نے اسے اپنے لحاف میں جگہ دیتے ہوئے اس کے بال سمیٹے۔
’’تم سے ہی تو کرتی ہوں ساری باتیں… خود سوچو کبھی کوئی بات چھپائی ہے میں نے تم سے۔‘‘ مشعل نے آنکھیں مسلتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی۔
’’تو پھر تم نے ایسا کیوں سوچا؟‘‘
’’مجھے یہ تو بہت پہلے سے معلوم تھا کہ فائز بھائی آپ کو بے حد پسند کرتے ہیں تب سے جب وہ بھی اسی محلے میں تھے لیکن میں نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپ کے دل میں بھی یقینا ان کے لیے کوئی نرم گوشہ ہے… ہے ناں؟‘‘
’’میرے اور فائز کے درمیان موجود یہ رشتہ شاید آگ اور پانی کے ملاپ سا ہے مشی نہ کبھی پوری طرح آگ بجھتی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر سطح پر تیرتا ہے… یا یوں کہہ لو کہ یہ احساس جو ہم دونوں کے درمیان ہے ہر قسم کے تجزیے سے ماورا ہے… میں نے اب تک کبھی بھی دانستہ طور پر فائز کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ وہ ہماری ذات برادری تو دور ہم زبان بھی نہیں اور جس سفر کی منزل یقینی طور پر گمشدہ ہو اس سارے سفر میں بھلا خود کو تھکانے سے کیا فائدہ۔‘‘ گہری سانس لے کر انہوں نے بات مکمل کی۔
’’اس ذات برادری کا جھنجھنا سن سن کر میرے تو کان پک گئے ہیں اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں اپنی اماں سمیت ان تمام بڑوں کو کیسے سمجھائوں کہ ان کی خود ساختہ رسم ورواج کی زنجیروں میں قید لڑکیاں جو بالوں میں ٹیکا لگانے کے خواب دیکھتے دیکھتے انہی بالوں میں خضاب لگانے لگتی ہیں انہیں ہر اس لمحے کا حساب دینا ہوگا جس لمحے میں ان کی وجہ سے ان لڑکیوں کی آنکھیں بھیگی ہوں یا انہوں نے اپنے دل پر بے پایاں بوجھ محسوس کیا ہو۔‘‘ مشعل بات کرتے ہوئے بے حد جذباتی ہوگئی تھی۔
’’پریشان نہ ہوا کرو مشی‘ تم صرف اور صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دو اور اس بات پر یقین رکھو کہ اللہ نے ہر جاندار کا جوڑا پیدا کیا ہے‘ جو جلد یابدیر مل ہی جاتا ہے۔‘‘ سارقہ نے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’اور آپی وہ… جو ہماری طرح برادریوں‘ خاندان یا معیار کے پیچھے ہی ساری زندگی بھاگتے بھاگتے پائوں شل کرلیتے ہیں‘ اس قدر کہ پھر ان کے لیے کہیں بھی کوئی بھی جوڑ نہیں ملتا؟‘‘
’’ان کی مثال تو پھر ندی کنارے مچھلیاں پکڑنے کے لیے بیٹھے رہنے والے اس گروہ جیسی ہے جو بیش قیمت اور وزنی مچھلی کی آس میں جال میں پھنسی چھوٹی بڑی تمام مچھلیوں کو حوالہ آب کرتا جائے اور غروب آفتاب کے وقت اپنی قسمت کو کوستا اور دعائوں کے پورا نہ ہونے پر خدا سے شکوہ کرتا مایوسی سے خالی جال جھاڑتا واپسی کی راہ لے۔‘‘
’’میں ان شاء اللہ اماں سے فائز بھائی کے متعلق بات کروں گی اور انہیں بتائوں گی کہ وہ آپ کو کس قدر چاہتے ہیں۔‘‘ مشعل سارقہ آپی کی خاموش آنکھوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن سارقہ آپی نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے مسکرا کرا سے منع کردیا۔
’’تم ایسا کچھ نہیں کہو گی‘ سمجھیں؟‘‘ مشعل نے فرماں برداری سے سر ہلایا۔
سارقہ آپی نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تو وہ ہنس دی۔
m…lml…m
ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ خالہ ایک بار پھر اپنی چادر سنبھالے آن موجود ہوئیں۔ سارقہ آپی موتیا سی رنگت لیے پودوں کی صفائی کررہی تھیں۔ اماں نے کچن سے انہیں اندر آتا دیکھا تو ڈبوں میں مصالحہ ڈالنا چھوڑ کر صحن کو لپکیں کہ دل پر موجود ایک نیا اور غیر متوقع بوجھ بانٹ سکیں۔
’’ارے آئوآئو کیا حال چال ہے؟‘‘ اماں اور خالہ کی یہی عادت تھی دو چار دن سے زیادہ ایک دوسرے سے خفا نہ رہ پاتیں۔ اسی لیے خالہ پچھلی تلخ کلامی بھلا کر آئیں تو اماں بھی ان سے خوش دلی سے ملیں۔
’’میں تو ٹھیک ہوں‘ تم سنائو… بھلا بندہ فون ہی کرلیتا ہے۔‘‘ خالہ نے سارقہ کی پیشانی چومتے ہوئے اماں سے شکایت کی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اماں کی ذات کے ساتھ ہی انا کا خود رو پودا بھی ہے جو ہمیشہ انہیں بدمزگی کے بعد پہل کرنے سے روکتا ہے۔
’’بس کیا بتائوں سارا دن پریشانی میں کٹ جاتا ہے۔ رات کو آنکھ کھل جائے تو کروٹیں بدل بدل کر نیند ہی نہیں آتی۔‘‘ اماں نے اپنے دل کے بوجھ کی گٹھڑی خالہ کے ذہن پر منتقل کی۔
’’کیوں خیر تو ہے… کیا ہوگیا ان چند دنوں میں؟‘‘ اندر جانے کے بجائے صحن میں ہی نیم گرم دھوپ تلے موجود تخت پر بستر سیدھا کرتے ہوئے دونوں وہیں ٹک گئی تھیں۔ جبکہ سارقہ نے کیاریوں کے سامنے لگے واش بیسن پر ہاتھ دھوئے اور چائے بنانے کے لیے کچن میں چلی آئی۔
’’ہونا کیا ہے… شمسہ نے میری بیٹیوں کا حق مارا ہے۔‘‘
’’شمسہ نے؟‘‘ خالہ نے حیران ہوکر اماں کی نند کا نام لیا تو انہوں نے گردن ہلا کر تصدیق کردی۔
’’کوئی اور بندہ ایسا کام کرتا تو شاید میرا دل نہ دکھتا لیکن یقین کرو مجھے شمسہ سے بہت امیدیں تھیں‘ بڑی توقعات تھیں اس سے لیکن دیکھو اس نے تو اپنے مرحوم بھائی تک کا لحاظ نہ کیا۔‘‘
’’ارے ہوا کیا ہے؟ کچھ بتائو تو سہی ناں۔‘‘ خالہ الجھ کر رہ گئی تھیں‘ چہرے پر فکر نمودار ہوئی خود سارقہ نے کچن کی کھڑکی سے دیکھا۔ فائز کے ساتھ دلی وابستگی ہونے کی وجہ سے سارقہ کے دل میں خالہ کی خصوصی طور پر عزت بھی تھی اور محبت بھی اور اسے ان کا یوں پریشان ہونا بھی اچھا لگ رہا تھا۔
’’ہونا کیا ہے بہن‘ شمسہ نے اپنے بیٹے کی شادی پر بلایا ہے اور پتہ ہے لڑکی بھی کوئی اپنے ساتھ ہی دفتر میں کام کرنے والی پسند کی ہے۔ خاندان کی بن بیاہی بیٹیوں کے منہ پر تو طمانچہ ہی ہوا ناں۔‘‘ اماں کی آواز سے محسوس ہوتا تھا کہ انہیں اس شادی نے کتنا دکھ دیا اور یہ حقیقت تھی کہ وہ تو دل ہی دل میں ہمیشہ اپنی نند کو سمدھن کے روپ میں دیکھتی آئی تھیں۔
’’مجھے لگتا تھا کہ وہ سارقہ کا رشتہ مانگنے گی لیکن… ‘‘ اماں یک دم چپ ہوگئیں تھیں۔
’’چھوڑو رخسانہ‘ کیا برادری اور کیا غیر… میں تو خود ہمیشہ تمہیں یہی بات سمجھتی آئی ہوں کہ اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ہم پر ذات پات کی پابندی نہیں لگائی تو پھر تم کیوں اپنی بیٹیوں کی مجرم بن رہی ہو؟ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘
’’میں جو بھی کررہی ہوں صرف اور صرف ان کے محفوظ مستقبل کے لیے‘ ورنہ جانتی ہو ان کے جہیز کے لیے جمع کی گئی ایک ایک چیز کو دیکھ کر کیسا غبار سا اٹھتا ہے میرے دل میں۔‘‘ اماں کے لہجے میں جنگی قیدیوں جیسی بے بسی تھی۔
’’ذرا سے پیسے ہاتھ آئیں تو فوراً کچھ نہ کچھ خرید کر ان کے جہیز کے لیے رکھ دیتی ہوں۔‘‘
’’وہ سب تو ٹھیک ہے اور میں جانتی بھی ہوں… لیکن یہ بھی تو سوچو ناں کہ جس طرح تم روز بروز ان کے جہیز میں اضافہ کررہی ہو‘ اسی طرح ان کی عمروں میں بھی تو اضافہ ہورہا ہے۔ آج کل لوگ بیس سالہ لڑکی کے خواب دیکھتے ہیں۔‘‘ خالہ بی نے پر سوچ نظروں سے صحن کی طرف کھلتی کچن کی کھڑکی سے سارقہ کو چائے کے لیے برتن نکالتے ہوئے ایک دم رکتے دیکھا۔ دونوں ہاتھوں میں موجود برتنوں کے ارتعاش کی آواز صحن تک اماں کو بھی محسوس ہوئی تھی۔
’’بس بہن… بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو ان کی عمر بڑھتے بھلا کیا دیر لگتی ہے… جیسے جسامت کو پر لگ جاتے ہیں اسی رفتار سے برس ہا برس بیت جاتے ہیں… کسے پتہ چلتا ہے۔‘‘ اماں نے دوپٹے کے پلو سے اپنی نم پلکیں پونچھیں۔
’’اس دفعہ میں نے رشتے والی بوا کو پورے دس ہزار روپے دیئے ہیں کہہ رہی تھی کہ جلد ہی کوئی اچھا رشتہ دکھائے گی… اگر تمہاری نظر میں کوئی اچھا لڑکا ہو تو بتانا۔‘‘ کچن سے چائے کی ٹرے لاکر ان دونوں کے درمیان رکھتے سارقہ کو خالہ بی نے بے حد غور سے دیکھا تو انہیں آج کی سارقہ میں اور پانچ چھ سال پہلے کی سارقہ میں بے حد فرق محسوس ہوا۔
یہ وہی سارقہ تھی جو اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں دو دو گھنٹے گزار دیتی تھی اور ان کی تمام سہیلیوں میں ان کی کھنک دار اور خوب صورت ہنسی سب ہی سے منفرد تھی۔ گھر میں سارقہ کی موجودگی اور ہنسی قہقہوں کی آوازوں کا نہ آنا دونوں بے حد متضاد باتیں تھیں۔ انہی سہیلوں کی شادیوں میں سب رسمیں نبھاتی‘ مہندی پر رت جگا کرنے میں سب سے آگے آگے نظر آنے والی سارقہ جن کے ہر سہیلی کی شادی کے بعد رشتے آنا لازم تھے۔ لوگ رسموں میں اس خوش مزاج اور خوب صورت چہرے والی لڑکی کو دیکھ کر وہیں اماں سے سلام دعا کا پہلا مرحلہ نبٹا لیا کرتے تھے۔
’’تم فکر نہ کرو رخسانہ‘ میں آج ہی کہیں رشتہ دیکھتی ہوں۔ بس تم ذہن پر بوجھ نہ لینا۔‘‘ اور پھر خالہ بی تو کافی دیر بیٹھ کر انہیں نصیحتیں کرکے سمجھاتی رہیں لیکن ان کے جانے کے بعد اماں پھر گم سم سی ہو کر یہاں وہاں گھر کے کاموں میں الجھانے والی سارقہ آپی کو دیکھنے لگیں۔ جن کو گمان تھا کہ شاید آج بھی فائز لینے آئے گا تو لمحہ بھر کے لیے دیکھ کر ہی ان آنکھوں کو قرار ملتا مگر خلاف توقع خالہ بی نے بتایا کہ آج وہ اپنی بڑی بہن واسعہ کو اس کے سسرال سے لینے گیا ہے‘ اس لیے انہیں خود ہی رکشہ کرکے جانا پڑے گا اور فائز کو دیکھ لینے کی آس جو خالہ کے آتے ہی دل میں پیدا ہوئی تھی وہ یوں ٹوٹی کہ خود سارقہ کو اپنے دل پر عجیب سا بوجھ محسوس ہونے لگا اور ایک دم ہی اپنی زندگی بے کار سی لگنے لگی یعنی امید کیا ٹوٹی دل ہی ٹوٹ گیا۔
خوب صورت چہرے پر دو شمع رو آنکھیں گویا قطرہ قطرہ کیسے پگھلنے لگیں تھیں خود انہیں بھی احساس نہ ہوا‘ ستواں ناک‘ ضبط کی کوشش میں بے حد پتلی سی نظر آنے لگی… صرف ایک نظر دیکھنے کی خواہش… صرف ایک نظر… اور چند لمحے!
شاید انہیں یہ یقین ہوچلا تھا کہ فائز بھی انہیں دیکھنے اور ان سے ملنے کے بہانے ڈھونڈا کرتا ہے مگر آج نجانے کیوں انہیں لگ رہا تھا کہ یک طرفہ محبت کی آگ میں بڑے نامحسوس طریقے سے وہ سلگ رہی ہیں اور اسی محبت نے انہیں اس قدر خوش فہم بنا دیا ہے کہ وہ فائز کے دل میں بھی وہی جذبات خیال کرتی ہیں جو ان کے ہیں باوجود اس کے کہ فائز اظہار محبت بھی کرچکا تھا۔ ابھی مشعل کے کالج سے واپسی میں کچھ وقت تھا۔ سارقہ یوں بھی اب کم گو ہوچکی تھی سو اماں وہیں ہلکی ہلکی دھوپ میں لیٹ گئیں تو سارقہ کو ہمیشہ کی طرح کچن کسی ہمدرد دوست کی طرح بانہیں پھیلائے ہوئے محسوس ہوا۔ دونوں ہاتھ کچن کی سلیب پر رکھے سر جھکائے اس پر مایوسی کا عجب سا دورہ پڑگیا تھا۔
اپنی اس کیفیت سے خود سارقہ ڈرتی تھیں انہیں لگتا تھا کہ اگر وہ کبھی اس کیفیت کے مکمل شکنجے میں آگئی تو شاید ان کا دماغ کام کرنا چھوڑ دے‘ نوبیاہتا بیوہ کی طرح وہ اس دنیا سے مکمل نفرت کرنے لگیں‘ اسی لیے وہ ڈیپریشن کے ایسے کسی بھی لمحے میں خود کو مکمل طور پر بیدار رکھتیں‘ مگر آج شاید اعصاب جواب دے رہے تھے اور ذہن ودل کے اندر شکست وریخت کا جو طوفان موجزن تھا وہ سب کچھ بہالے جانے پر تیار تھا اور شاید وہ سب ہی کچھ بہالے جاتا لیکن اوون پر رکھا موبائل ایک دم بجنے لگا۔
اسکرین پر فائز کا نام نظر آرہا تھا جسے سارقہ نے یوں حیرت سے دیکھا جیسے کوئی بچہ ہتھیلی پر ٹارچ جلا کر پرشوق اور حیران آنکھوں سے اپنی انگلیوں کی نارنجی روشنی دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہو کہ آیا کیا یہ روشنی اسی کی انگلیوں سے نکل رہی ہے یا ٹارچ کی مرہون منت ہے۔ انہیں بھی لگا کہ شاید فائز کا نام ان کی نظر کا دھوکا ہے‘ لیکن فون پر ہوتی مسلسل بیل نے اس دھوکے کو یقین میں بدل دیا‘ انہو ں نے ایک نظر اماں کو دیکھا جو یقینا سوگئی تھیں۔
’’سارقہ میں ہوں فائز…‘‘ فون ریسیو ہوتے ہی فائز نے سکھ کی گہری سانس لی۔
’’بتانے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی فون پر نمبر کے ساتھ نام بھی آگیا تھا۔‘‘ سابقہ کیفیت پر قابو پاتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
’’کیا امی ابھی وہیں ہیں؟‘‘
’’نہیں‘ خالہ تو تقریباً آدھا گھنٹہ ہوا چلی گئی۔‘‘ کیسا امید بھرا سوال تھا اور کیسا مایوس کن جواب۔
’’اوہ نو…‘‘ میں واسعہ باجی کے گھر بیٹھا بھی نہیں کہ جلدی سے واپس جاکر امی کو لینا ہے مگر وہ… ‘‘ فائز کے لہجے میں لفظوں کی پوشاک پہنے گویا ہائی سنتھ نامی یونانی نوجوان بولنے لگا تھا جو دیوتا اپالو کی چند روزہ دوستی اور پھر عین محبت کے عالم شباب میں اس سے دوری برداشت نہ کرتے ہوئے اپنا آپ ہار بیٹھا تھا۔
’’کوئی بات نہیں‘ وہ رکشے میں بھی آرام سے گھر چلی جائیں گی۔‘‘
’’تمہارا کیا خیال ہے کہ میں صرف امی کو لینے کے لیے واسعہ باجی کے گھر سے صرف سلام دعا کرکے ہی چلا آیا تھا۔‘‘
’’تو اس کے علاوہ بھلا اور کیا جواز ہوسکتا ہے؟‘‘ سارقہ ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں تھی جو ساری عمر پائیدان بن کر زندگی گزارنے میں ہی لطف سمجھتے ہیں بلکہ وہ تو گھر کی چھت کا مقام جانتی تھی جس کے ہونے نہ ہونے سے کسی کو احساس تو ہو۔
’’تم… تم ہو جواز میرے وہاں آنے کا صرف تم۔‘‘ فائز نے دو ٹوک الفاظ میں سارا معاملہ اس کے سامنے بیان کردیا مگر اب سارقہ کے منہ سے کوئی لفظ ادا ہوتا دکھائی نہ دیا۔
’’اور آج یا ابھی سے نہیں سارقہ‘ مجھے نہیں پتہ کہ تم مجھے کب سے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوگئی ہو۔ شاید تب سے جب تم عمر میں بڑی واسعہ باجی کو اپنی سہیلی مان کر میری سب بہنوں کی مشترکہ سہیلی کے روپ میں کئی کئی گھنٹے ہمارے گھر میں یوں گزارا کرتیں کہ لگتا گھر تمہارا ہے اور ہم سب مہمان ہیں‘ شاید پہلی مرتبہ مجھے نویں کلاس میں ہی تم سے عشق ہوگیا تھا۔‘‘ فائز کے بولنے کے انداز سے لگتا تھا سردیوں کی یخ ہوائوں کے ساتھ ہی ہلکی ہلکی پھوار پڑنا شروع ہوگئی ہو اور سارقہ آپی میکانکی انداز میں ساکت اور جامد اس پھوار تلے خود کو بھگوتے ہوئے انجانی خوشی محسوس کررہی تھیں۔
’’جب تم اپنے سیاہ بالوں کی دوموٹی چٹیاں بنائے اپنی اماں کے ہاتھ کی بنی کڑی ہمارے گھر دینے آتی تھیں‘ تمہارے سرخ وسفید چہرے پر دونوں اطراف سیاہ چوٹیاں مجھے اب تک یاد ہیں۔ دروازہ میں ہی توکھولا کرتا تھا ناں اور تمہیں دیکھ کر مجھے لگتا جیسے مون سون بارش کا ریلا میرا سب کچھ بہا کر لے گیا ہو۔‘‘ سارقہ کو فائز کی پسندیدگی کا تو بخوبی احساس تھا لیکن اس قدر مستقل مزاجی اور شدت کا اندازہ آج ہی ہوا تھا۔
’’تمہارے اب تک کتنے ہی رشتے آئے لیکن ہمیشہ ہی کسی نہ کسی وجہ سے خالی ہاتھ لوٹتے رہے‘ پتہ ہے کیوں؟‘‘ فائز کچھ دیر رکا یقینا وہ چاہتا تھا کہ فون کے دوسری طرف سے سوال کیا جائے لیکن ایسا نہ ہوا دوسری جانب سرد کالی راتوں جیسی خاموشی تھی‘ جو فائز کو توڑنی پڑی۔
’’صرف اس لیے کہ میں ہمیشہ چپکے چپکے دل ہی دل میں دعائیں مانگا کرتا تھا کہ تم پر میرے علاوہ کسی کا سایہ بھی نہ پڑے‘ تم صرف اور صرف میری ہو سارقہ… ہو ناں؟‘‘ وہی خاموشی اور سانس لینے کی بے ربط سی آواز۔
’’بتائو ناں سارقہ… کچھ تو بولو… کچھ تو ایسا کہو کہ میرے دل کو بھی سکون ملے‘ مجھے اس بات کا یقین ہوجائے کہ تم میرے ساتھ ہو اور ہمیشہ ساتھ رہنا چاہتی ہو… پلیز… پلیز سارقہ۔‘‘
’’اب تک کتنے ہی رشتے آئے لیکن ان کو واپس لوٹانے کا جواز اور دلیل کیا تھے… پتہ ہے ناں۔‘‘ سارقہ بولیں تو بجائے اس کے کہ خوابوں کی دنیا میں فائز کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑتیں ایک تلخ حقیقت کا آئینہ انہوں نے بڑی آہستگی سے فائز کے سامنے رکھ دیا۔
’’جانتا ہوں۔‘‘ فائز نے گہری سانس لی۔
’’لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر تم میرا ساتھ دو تو میں تمہاری اماں کو منالوں گا اور یہی وجہ تھی کہ میں نے کچھ عرصہ پہلے تک تمہارے سامنے بھی اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا تھا کیونکہ اب الحمدللہ میں ایک بہترین جاب کررہا ہوں اور تم سمیت گھر والوں کے بھی اخراجات بخوبی اٹھا سکتا ہوں‘ صرف ذات برادری پر اعتراض نہ ہو تو اماں کو یقینا میرے انتخاب میں کوئی چیز رکاوٹ محسوس نہیں ہوگی۔‘‘ یقین کے جگنو فائز کے لہجے میں بے تحاشا روشنی بکھیر رہے تھے۔
’’صرف ذات برادری؟‘‘ سارقہ کو حیرت ہوئی تھی وہ چیز جو ان کی زندگی کو گھن کی طرح کھا رہی تھی وہ ظاہری طور پر کس قدر معمولی بات لگتی تھی لیکن حقیقتاً اس معمولی بات کا کرب وہی لوگ اور خاص طور پر وہی لڑکیاں جانتی ہیں جن کی زندگی اپنی ہی ذات برادری میں سے کسی نوجوان برسرروز گار قبول صورت انسان کے نمودار ہونے کے انتظار میں ایسے تابوت میں بند کردی جاتی ہیں جس میں آکسیجن کی فراہمی تک کے لیے کوئی دراڑ یا سوراخ تک نہیں ہوتا۔
’’یہ اماں کے نزدیک اتنی معمولی بات نہیں ہے فائز۔‘‘
’’میں تمہیں کسی کہانی کے شہزادے کی طرح ان تمام فرسودہ رسم ورواج اور خیالات سے نکال کر اپنے پاس لے آئوں گا سارقہ… بس اگر تمہارا ساتھ ہو۔‘‘ سارقہ کی نظروں کے سامنے جاذب نظر‘ دراز قد اور صاف رنگت والے فائز کا مکمل ہیولا آن کھڑا ہوا تھا جس کے جذبات اور لفظوں کی سچائی اس کی آنکھوں میں صاف دیکھی جاسکتی تھی‘ اکہرے بدن اور خوب صورت لباس پہننے والا فائز جس کے الفاظ ہمیشہ سے سادے لیکن مسکراہٹوں سے پر ہوا کرتے تھے‘ آج جس سنجیدگی سے اس نے اپنے دل کی ایک ایک بات کہی تھی وہ سب باتیں سارقہ آپی کی ٹھنڈی میٹھی طبیعت میں بارش کی بوندوں کی طرح جذب ہوتی جارہی تھیں۔
’’بولو… میرا ساتھ دوگی ناں؟‘‘
’’اگر اماں قائل ہوجائیں تو اس سے بڑھ کر بھلا میری خوش قسمتی کیا ہوگی کہ جس کے ساتھ کی یہ دل خواہش کرتا ہو‘ بند آنکھوں سے جسے اپنے قریب محسوس کرتا ہو وہ حقیقت میں بھی صرف اور صرف میرا ہوکر رہے۔‘‘ سارقہ آپی نے محسوس کیا کہ فائز کی باتوں نے ان کے اندر کی اس سارقہ کو جگا دیا تھا جو برجستہ جملوں کے لیے سہیلیوں میں مشہور تھی‘ نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دبا کر شرمگیں مسکراہٹ اور چمکتی آنکھوں نے جو بات کہہ دی تھی فائز کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ان الفاظ کو ریکارڈ کرلیتا اور چلتے پھرتے آتے جاتے سنتا رہتا۔
’’لو یو سارقہ… لو یوسو مچ‘ میں آج ہی امی سے بات کرتا ہوں۔‘‘ فائز کے لیے اپنی خوشی سنبھالنا اس معصوم بچے کی طرح ناممکن ہورہا تھا جو حبس اور گرمی سے بے حال ہو اور یک دم گھٹا چھانے کے بعد موسلادھار بارش برسنے لگے جس کی بوندوں کو اپنی دونوں ننھی ہتھیلیاں ملانے کے بعد بھی وہ سنبھال پانے پر قادر نہ ہو۔
فون بند کرنے کے بعد سارقہ آپی نے بڑی زور سے آنکھیں بند کی تھیں‘ اپنا آپ بے حد ہلکا پھلکا لگنے لگا تھا اور چند لمحے پہلے ڈپریشن کے جو گھنے بادل ذہن ودل پر چھائے محسوس ہوتے تھے وہ فائز کی امید بھری باتوں کی کرنوں سے یوں غائب ہوئے کہ سب کچھ نکھرا نکھرا سا لگنے لگا۔
m…lml…m
فائز گھر میں داخل ہوا تو مختلف قسم کے کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبوئوں نے اس کا استقبال کیا۔ کچھ دیر پہلے وہ واسعہ باجی کو لے کر آیا تھا تب تو اس طرح کی کوئی خوش بو اس گھر میں موجود نہ تھی‘ اب یقینی طور پر یہ سب کھچہ پکانا باجی نے ہی شروع کیا ہوگا‘ کیونکہ امی کے ہاتھ سے بنے کھانوں کا ذائقہ تو دور کی بات خوش بو بھی سب سے منفرد ہوتی۔ ابھی وہ اسی بات کا اندازہ کررہا تھا کہ امی نے روم سے فروٹ کی ٹوکری لے کر کچن میں جاتے ہوئے اسے دیکھا تو اس کے پاس چلی آئیں۔
’’السلام علیکم امی۔‘‘
’’جیتے رہو بیٹا‘ دیر ہوگئی‘ کیا مجھے لینے رخسانہ کی طرف چلے گئے تھے؟‘‘ اس کے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
’’نہیں امی‘ میں نے فون پر سارقہ سے پوچھ لیا تھا پتہ چلا کہ آپ گھر آچکی ہیں تو میں بھی چلا آیا۔‘‘ جیب سے موبائل نکال کر اس نے چارجر پر لگایا اور ان کے ساتھ ہی کچن میں چلا آیا جہاں واسعہ باجی مختلف روایتی کھانوں سے پرانی یادیں تازہ کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔
’’ہاں بس میں اب زیادہ دیر بیٹھ ہی نہیں پاتی اس کے پاس‘ عجیب گھبراہٹ ہونے لگتی ہے اس کی باتیں سن کر۔‘‘ اماں نے فروٹ کی ٹوکری ڈائننگ ٹیبل کے ایک کونے میں رکھ دی کہ باقی جگہ پر واسعہ باجی نے مختلف سالن والے ڈونگے رکھ ہوئے تھے۔ فائز نے بھی ہاتھ منہ دھویا اور کچن کا دروازہ بھیڑدیا تاکہ چولہے کی گرمائش سے گرم کچن مزید کچھ دیر گرم ہی رہے۔
’’رخسانہ خالہ کی باتوں سے گھبراہٹ لیکن کیوں؟‘‘ واسعہ باجی نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پانی کی بوتل اور گلاس میز پر رکھتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا‘ امی اور فائز بھی اپنی اپنی نشست پر موجود تھے اور فائز کا مکمل دھیان امی کے جواب کی طرف تھا۔
’’بہت پریشان ہے بے چاری اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے۔ شمسہ کی طرف سے امید لگائے بیٹھی تھی اس نے بھی مرے بھائی کا لحاظ نہ کیا اور اب بیٹے کی شادی کسی اور سے کررہی ہے۔‘‘ کھانا شروع کرنے کے بجائے امی دونوں ہاتھوں کی پشت ملائے ان پر اپنا چہرہ ٹکا کر بات کررہی تھیں۔
’’سارقہ کی عمر بھی اب بڑھ رہی ہے‘ وہ تو صورت ماشاء اللہ اتنی پیاری ہے ورنہ مزید دو چار سال میں تو کوئی پوچھے گا بھی نہیں… مشعل کو بھی اسکول کے بعد پانچ چھ سال گھر بٹھا کر کالج میں داخلہ دلوایا کہ لوگ کم عمر سمجھیں ورنہ تو آج کل کلاسوں اور ڈگریوں کو دیکھ کر ہی لوگ عمر کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔‘‘
’’بات تو امی آپ کی بالکل ٹھیک ہے اور سوچیں اپنی ہی ہم عمر لڑکیوں کی شادیاں‘ بچے اور بچوں کے اسکول جانے پر کیسا محسوس ہوتا ہوگا سارقہ کو۔‘‘
’’میں تو کہتی ہوں کہ وہ تو اللہ کا شکر ہے لڑکیاں مضبوط کردار کی ہیں‘ ورنہ جتنی وہ خوش شکل ہیں کیا کسی نے کوشش نہ کی ہوگی کہ انہیں خواب دکھائے‘ سچ جھوٹ کا قصہ بعد کا سہی۔‘‘
’’وہ لوگ حالات سے فرسٹڈ ضرور ہیں لیکن ان کے کردار کی گواہی تو یہ ہے کہ میں خود ان دونوں بہنوں پر خود اپنی ذات سے بڑھ کر اعتماد کرسکتی ہوں۔‘‘ واسعہ باجی نے بڑے پرجوش انداز میں گواہی دی تو امی دھیرے سے مسکرا دیں۔
’’بچیاں تو نیک اور شریف ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن رخسانہ اپنی خوامخواہ کی ضد کی وجہ سے ان دونوں کو ذہنی مریض بنادے گی اور سوچو آج وہ ان کے سر پر ہے کل کلاں کو اگر اسے کچھ ہوگیا تو… معاشرے کا آسان ترین ہدف ہوتی ہیں ایسی لڑکیاں۔‘‘ بات کرتے ہوئے ان کے چہرے پر دکھ کی ایسی تحریر ابھر آئی جیسے وہ ان کی اپنی بیٹیاں ہوں۔
’’آپ انہیں سمجھائیں امی کہ ایک بے جا مطالبے کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کے جذبات ان کی زندگی اور مستقبل سے نہ کھیلیں‘ ورنہ ایسا نہ ہو کہ وہ خود کوئی قدم اٹھالیں… کوئی ایسا قدم کہ پھر ان کی ذات باقی رہے نہ مطالبات۔‘‘ سارقہ کا بادام کے شگوفے سا معطر خیال واسعہ باجی کے ذہن میں آیا تو رخسانہ خالہ کے خلاف لہجے میں تلخی بھر گئی‘ ان کی ضد ہی خالہ کو بھی اپنی خواہش کے اظہار سے روک رہی تھی۔
’’تم کسی کو کہو‘ اپنے سسرال وغیرہ میں کسی سے پوچھو اگر…‘‘
’’امی اتنی پیاری لڑکی کے لیے رشتہ لانا مشکل نہیں ہے لیکن یہ جو ان کی ذات والی ڈیمانڈ ہے ناں سارا مسئلہ اس کا ہے۔‘‘ واسعہ باجی نے امی کی بات کاٹتے ہوئے بالآخر سالن ڈالنے کا چمچہ اٹھاتے ہوئے ڈونگے کا ڈھکن اٹھایا تو فائز جو اتنی دیر سے بالکل خاموش رہ کر ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا آخر گہری سانس لے کر شامل گفتگو ہوا۔
’’امی ایک بات بتائوں آج آپ کو‘ سچ سچ۔‘‘
’’ہاں بیٹا بولو۔‘‘ امی اور واسعہ باجی کی استفہامیہ نظریں اس کے چہرے پر آرکیں تھیں۔
’’آپ سب نے اب تک مجھے کتنی مرتبہ شادی کرنے کا کہا‘ اکثر لڑکی والوں کو میرے جاب نہ ہونے پر بھی اعتراض نہ تھا‘ لڑکیاں بھی سبھی اچھی تھیں لیکن میں نے معذرت کرلی…‘‘ وہ سانس لینے کو رکا تو جیسے امی اس کی بات کے مفہوم تک کو سمجھ گئیں۔
’’صرف اس لیے کہ میں شروع سے سارقہ کو پسند کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں اس کے سوا کوئی اور نہ آئے۔‘‘ واسعہ باجی نے چونک کر امی کو دیکھا جن کے چہرے پر صرف سکون تحریر تھا‘ ایسا سکون جو کسی آنے والے غم کے خوف سے طاری ہونے لگے۔
’’میری آنکھوں میں جب سے اس کے چہرے کا عکس نقش ہوا ہے کائنات کی ہر چیز دیکھنے سے پہلے آنکھ کے پردے پر وہی چہرہ نمودار ہوجاتا ہے اور… اور اب میں اس کے علاوہ کسی کو بھی یہ جگہ نہیں دے پائوں گا۔‘‘ بات ختم کرکے فائز نے ایسے سر جھکایا تھا جیسے اعتراف جرم کیا ہو۔
’’تم جانتے ہو فائز کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہم رخسانہ خالہ کی کون سی ضد کا رونا رو رہے تھے؟‘‘ واسعہ باجی نے پوچھا تو فائز نے جھکا ہوا سر اثبات میں ہلایا۔
’’تو تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان کے معیار پر پورا اترتے ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہماری اور ان کی ذات الگ ہے… پھر تم نے ایسا کیوں سوچا؟ کیوں ارادہ کیا ایک ایسا خواب دیکھنے کا جس کی تعبیر یقینی طور پر تمہارے حق میں نہیں اور کیا تم یہ ضد کرکے ہم سب بہنوں کے وہ ارمان روند ڈالنا چاہتے ہو جو ہم نے اپنے اکلوتے بھائی کی شادی اور اس کی شادی شدہ زندگی کے لیے اپنے دل میں سجائے ہوئے ہیں۔‘‘ واسعہ باجی رخسانہ خالہ کی ضدی طبیعت سے واقف تھیں اسی لیے انہیں فائز کی اس خواہش سے بہت دکھ پہنچا تھا۔
امی نے فائز کو دیکھا جو جواب میں خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا… نہ بحث نہ اصرار اور نہ ہی اپنی بات پر قائل کرنے کے لیے دلائل اور جذبات کا سہارا… امی کو لگا جیسے اگر وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی یہ خواہش پوری نہ کر پائیں تو جیسے اس سمیت خود ان کی اپنی زندگی بے معنی ہوجائے گی۔
فائز کا جھکا ہوا سر امی کے کندھے جھکا رہا تھا۔ یک دم واسعہ باجی کو لگا کہ جانے کہاں سے رخسانہ خالہ ان تینوں کے بیچوں بیچ آبیٹھی ہوں اور ان کی حالت پر بے تحاشا ہنس رہی ہوں اتنا کہ ہنستے ہنستے ان کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہہ نکلے ہوں لیکن یہ آنسو کن جذبات کے ترجمان تھے یہ عقدہ ان پر نہ کھلا تھا۔
m…lml…m
’’بنو تیرے ابا کی اونچی حویلی… بنو میں ڈھونڈتا چلا آیا۔‘‘
’’یہ کیا بھئی اکیسویں صدی میں بھی تم لوگ پچھلی صدی کے گانے گائوگی۔‘‘ ڈھولک بجانے والی کا ہاتھ پکڑ کر ایک شوخ سی لڑکی نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوتے ہوئے سب کوکہا۔
’’ہاں تو… یہ گانے تو اگلی بیس صدیوں کی شادیوں میں بھی چلیں گے‘ پرانے تھوڑی ہوتے ہیں ایسے گانے۔‘‘ گانا گانے والی نے شرمندہ ہوئے بغیر اپنے گانے کا دفاع کیا۔
’’کیوں نہیں ہوتے بھلا… یہ پچھلے دور کی بات ہے جب اسے حویلی ڈھونڈنے میں مسئلہ ہوا ہوگا‘ آج کل تو گاڑی میں نیویگیٹر لگائو اس میں ایڈریس ایڈ کرو اور بنو کی حویلی کے عین گیٹ کے سامنے جاکر آپ کو سسٹم خودبخود رکنے کا اشارہ دے دے گا۔‘‘
’’آپ شاید‘ یورپ کی اثر پذیر ہیں‘ حقیقت پر مبنی جواب سن کر جہاں باقی لوگ بے ساختہ ہنسنے پر مجبور ہوگئے تھے وہیں اعتراض کرنے والی اپنا منہ لے کر رہ گئی اور کھسیا کر اس سے پہلے کہ کوئی جواب دیتی اماں‘ سارقہ اور مشعل کے کمرے میں داخل ہونے پر سب کی توجہ اب ان کی جانب مبذول ہوگئی۔
’’ارے بھئی سارقہ آگئی‘ کچھ بھی ہو اب آج تو سارقہ کو گائے بغیر نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ سارقہ کی ہم عمر سعدیہ نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو گود میں سلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
ہلکے رنگ کے گلابی کپڑوں میں میک اپ کے نام پر کاجل لگائے سارقہ آپی کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر ایک کونے میں بیٹھی واسعہ باجی نے بڑی حسرت سے پہلے انہیں اور پھر ساتھ بیٹھی اپنی امی کو دیکھا۔ دونوں نے بڑے بھاری دل سے گہری سانس لی۔
اماں کا موڈ البتہ دیکھنے میں ہی خفا معلوم ہورہا تھا سو جیسے ہی انہوں نے کونے میں بیٹھی خالہ کو دیکھا لپک کر ان کے پاس چلی آئیں۔
’’چلو بھئی سارقہ تم گانا شروع کرو پھر مقابلے پر ادھر والی لڑکی گائے گی۔‘‘ سلام دعا کے بعد جب ان کے گھر کی کام والی موسم کی مناسبت سے تین کپ چائے لے کر آئی تو حماد بھائی کی بڑی بہن نے لہجے میں محبت گھول کر کہا‘ یوں بھی اماں غیر متوقع طور پر شادی میں شریک ہوئیں تھیں ورنہ جس طرح انہوںنے سارقہ کو نظر انداز کیا تھا خیال واثق تھا کہ وہ نہ آتیں مگر ان کا نہ صرف آنا بلکہ دونوں بیٹیوں کو بھی ساتھ لانا سب کو ان کے بڑے دل اور اعلیٰ ظرف ہونے کا یقین دلا گیا تھا۔ شوخ رنگوں کا جدید تراش خراش کا لباس پہنے موقعے کی مناسبت سے میک اپ کیے مشعل بھی ملنے ملانے کے بعد ڈھولک کے گرد بنے دائرے میں شامل ہوچکی تھی اور اب سب منتظر تھے کہ سارقہ کوئی گانا شروع کریں۔
’’چلو ناں سارقہ… اپنے بھائی کی مبارک بادی کے لیے کوئی گانا گادو۔‘‘
پھپو بھی ابھی کچن سے آکر بیٹھی تھیں اور سب کا اصرار سن کر خود بھی فرمائش کردی۔ ان کے منہ سے بھائی کا لفظ سن کر اماں نے بڑی دلدوز نظروں سے انہیں دیکھا تھا مگر ان کے بیٹے کی شادی تھی وہ بھلا کیوں پروا کرتیں اور جب اصرار بڑھنے لگا تو بالآخر سارقہ نے ہار مان لی۔
’’مبارک ہو تم کو یہ شادی تمہاری… سدا خوش رہو تم دعا ہے ہماری۔‘‘
اپنی خوبصورت آواز میں انہوں نے گانا شروع کیا تو ڈھولک کی سر کے مطابق پڑتی تھاپ نے تو جیسے کھچا کھچ بھرے ہال میں سماں ہی باندھ دیا۔ واسعہ باجی نے بغور ان کا چہرہ دیکھ کر کوشش تو کی کہ کوئی ملال‘ ادھورا پن‘ یا ٹھکرائے جانے کا احساس ان کے چہرے پر نظر آئے لیکن ایسا ممکن ہی نہ ہوا۔ وہ تو بڑی ہی دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ گانا گانے میں مصروف تھیں اور چہرے پر ایسا سکون اور اطمینان رقصاں تھا گویا سومنات کا مندر فتح کرکے آئی ہو۔
’’تو نے ماری انٹریاں رے دل میں بجی گھنٹیاں رے ٹن ٹن ٹن ٹن۔‘‘ سارقہ آپی نے جیسے ہی گانے کے شروع کے چند بول گائے‘ دوسری لڑکی نے سب کو ٹن ٹن ٹن کرنے پر لگا دیا۔
دونوں اطراف بالکل متضاد مزاج موجود تھے‘ سارقہ دھیمے سروں والے گیت گاتی تو دوسری طرف سے تیز میوزک میں پروان چڑھے گانے سننے کو ملتے۔
’’تیرے لیے ہی تو سگنل توڑ تاڑ کے
آیا دلی والی گرل فرینڈ چھوڑ چھاڑ کے
’’ارے کمال ہوگیا یہ بھلا شادی کے گانے ہیں کیا‘ ہٹو پرے۔‘‘ حمیدہ بوا تخت پر بیٹھی تھیں پان دان بند کرکے سروتے کی مدد سے کچی چھالیہ کا ٹکڑا چھوٹا کرکے منہ میں رکھا اور بولیں۔
’’ساس گالی دیوے‘ دیور سمجھا لیوے‘ سسرال گیندا پھول
چھوڑ بابل کا انگنا‘ بھاوے پیا کا ڈیرا ہو۔‘‘
’’ایسے ہوتے ہیں شادی بیاہ کے گیت‘ ارے وہ جو تم گارہی ہو وہ تو گلی کی نکڑ پر کھڑے فارغ لڑکوں کے مزاج کے تھے۔‘‘ آج کے دور کے گانوں کی سپورٹر کو ان کی بات بری تو لگی مگر خاموش رہی۔
اسی دوران سارقہ نے واسعہ باجی کو دیکھا ورنہ اس سے پہلے ان کے علم میں نہیں تھا کہ خالہ اور وہ بھی وہیں موجود ہیں‘ اسی لیے فوری طور پر اٹھیں اور ان کے پاس پہنچ گئیں۔ اماں اور خالہ پہلے ہی محفل کو نظر انداز کیے دھیمی دھیمی سرگوشیوں میں مصروف تھیں۔
’’ویسے سچ کہوں رخسانہ‘ تم نے بڑے ظرف کا مظاہرہ کیا یہاں آکر۔‘‘ خالہ نے ان کو سراہا کہ وہ دل میں ناراضگی رکھنے کے بجائے اپنی نند کے گھر بیٹیوں سمیت چلی آئیں۔
’’اسے تم میرا ظرف کہہ دو یا مجبوری‘ غرض کا نام دو یا لالچ کا‘ آنا تو میں نے تھا ہی اور وہ بھی دونوں بیٹیوں سمیت۔‘‘ چائے کا خالی کپ اماں نے اپنے طرف پشت کرکے بیٹھی لڑکی کا کندھا ہلا کر پکڑایا اور آگے دینے کا اشارہ کیا۔
’’مجبوری… بھلا ایسی بھی کیا مجبوری تھی؟ میں سمجھی نہیں۔‘‘
’’میں نے سوچا سارے خاندان کی عورتیں جمع ہوں گی ان کے رشتے دار بھی ہوں گے تو ہوسکتا ہے کوئی سارقہ کو دیکھ کر اس کا رشتہ مانگ لے‘ ورنہ تو اتنے سارے لوگ بھلا کہاں ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔‘‘ اماں کی منطق پر خالہ بی کا منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا۔
’’پچھلے ہفتے نصیر کے سسر کے چالیسویں پر بھی اسی لیے سارقہ کو ساتھ لے کر گئی تھیں لیکن اس کی قسمت ہی سست ہے۔‘‘ اسی دوران مووی والا اندر چلا آیا تو سب لڑکیوں میں ہلچل سی مچ گئی۔ اماں نے ایک نظر اپنے سے کچھ فاصلے پر بیٹھی سارقہ کو واسعہ سے باتیں کرتے دیکھا اور پھر بولیں۔
’’اب دیکھ لو… میں گھر سے کہہ کر بھی آئی تھی کہ جب مووی بنے تو اس میں نمایاں ہونے کی کوشش کرنا‘ تاکہ صحیح سے چہرہ نظر آئے‘ جہاں کہیں مووی دیکھی جائے گی ہوسکتا ہے کوئی پوچھ ہی لے‘ لیکن یہ یہاں آکر بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘ اماں نے کف افسوس ملتے ہوئے ان لڑکیوں کو دیکھا جو اب شوخ وچنچل گانے‘ گانے اور ادائیں دکھانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش میں تھیں۔
’’خدا کا واسطہ ہے رخسانہ‘ یہ ذات برادری کی زنجیر اتار پھینکو‘ کیوں اپنی اور اپنی بیٹیوں کی زندگی خراب کررہی ہو… اور تمہیں تو آخرت میں بھی حساب دینا پڑے گا۔‘‘
’’کیسے اتار پھینکوں‘ وہ… وہ دیکھو… وہ بھی ابھی تک رشتے کے لئے بیٹھی ہوئی ہے‘ وہ جامنی بندوں والی کی بھی ابھی شادی نہیں ہوئی‘ وہ جو کھڑی پانی پی رہی ہے اس کا بھی ابھی کوئی رشتہ نہیں آیا… تم نہیں سمجھتیں بہن ہمارے خاندان میں یہ رواج ہی نہیں ہے اور میں بھلا یہ روایت توڑ کر کیوں سب کے طعنے سہوں۔‘‘
’’یعنی رشتہ کتنا ہی مناسب کیوں نہ ہو‘ تم کبھی باہر بیاہ نہیں کروگی اپنی بچیوں کا؟‘‘ پس پردہ خالہ بی سن گن لے رہی تھیں کہ ان کے ارادے کس حد تک مضبوط ہیں۔
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ وہ جو سامنے بیٹھی ہیں‘ دیکھ لو کتنی عمر ہوگئی ہے ان کی چہرے سے ہی پتہ چل رہا ہے لیکن پھر بھی اپنے اماں ابا کے گھر بیٹھی ہیں تو میری بیٹیوں کو بھی کوئی آگ نہیں لگی ہوئی شادی رچانے کی۔‘‘ اور تب جانے خالہ بی کے جی میں کیا آئی کہ سوچا ابھی ہی اپنے بیٹے کی خوشیوں کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا جائے جبھی اشارتاً اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اس معاملے میں صبر کرنا ان کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔
’’رخسانہ… جب سے تم شادی ہوکر ہمارے محلے میں آئیں تب سے عمر میں بے شک میں تم سے بڑی تھی لیکن ہماری ایسی دوستی ہوئی کہ آج تک لوگ مثال دیتے ہیں۔‘‘
’’ہاں بہن… اور اس میں بلاشبہ سارا کمال تمہارا ہے کہ میری الٹی سیدھی باتیں بھی برداشت کرلیتی ہو اور نہ صرف تم بلکہ تمہارے بچوں نے بھی تم سے بڑھ کر مجھے عزت اور محبت دی۔ میرا بیٹا چار سال کا ہوکے دنیا سے چلا گیا مگر فائز نے مجھے کبھی اس کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ جیتا رہے سدا خوش رہے۔‘‘
’’اگر اب تک تمہیں کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی ہے تو یقین کرو آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔‘‘ خالہ بی نے محتاط لفظوں میں اشارہ دیا تو ان کے انداز پر اماں چونک گئیں۔
’’اور اگر تم اسے داماد کے روپ میں…‘‘
’’بہن… یہ کیا کہہ رہی ہو تم…‘‘ اماں نے بات پوری ہونے سے پہلے کاٹ دی۔
’’سب کچھ جاننے کے باوجود بھی۔‘‘
’’ہاں سب کچھ جاننے کے باوجود بھی۔‘‘ خالہ بی کا انداز حتمی تھا۔
’’تم اچھی طرح سوچ لو… میں ایک دو دن کے بعد آئوں گی تو تمہارے گھر بیٹھ کر تفصیل سے بات کریں گے۔‘‘
’’سارقہ… ادھر آئو تمہیں سلطان بھائی کی بیٹی سے ملوائوں۔‘‘ اماں کوئی جواب دینے سے پہلے ہی گانوں کے شور میں چیختی ایک آواز کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
’’پھپو کی بہو جو اتنی ساری عورتوں کو پھلانگ کر سارقہ کے پاس پہنچنے کے بجائے دور سے ہی آواز دے کر بلا رہی تھی۔ اماں نے سارقہ کو دیکھا جو واسعہ باجی کی کہی ہوئی جانے کون سی بات پر شرم سے گلابی ہوگئی تھی اور اب انہیں جلدی لوٹنے کا کہہ کر آنے والی آواز کی طرف چل دی۔
اس وسیع ہال میں گانے گانے والی لڑکیوں کی آوازوں‘ ڈھولک کی تھاپ اور قہقہوں کا ملا جلا شور تھا۔ کچھ آپس میں سر جوڑے باتوں میں مصروف تھیں مگر اماں کے ذہن میں لگتا جیسے ایک دم سناٹا سا چھا گیا ہو… ایک ہی آواز کی بازگشت تھی جو بس انہیں اپنے کانوں میں محسوس ہورہی تھی اور ایک ہی منظر تھا جو شاید ان کی آنکھوں میں نقش ہوگیا تھا۔
خالہ کا اشارتاً سارقہ کا رشتہ مانگنا اور سارقہ کا کسی بات پر شرمگیں مسکراہٹ کے ساتھ واسعہ باجی کے سامنے سر جھکانا… اور پھر دفعتاً انہیں محسوس ہوا کہ قہقہوں کا سیلاب ان کی طرف امڈ رہا ہے‘ ڈھولک کی تھاپ ان کے دماغ پر ضربیں لگا رہی ہوں‘ ہال میں‘ گانوں کی نہیں شاید بین کی آوازیں ہوں جو ان کے خاندان کی عزت دوسرے خاندانوں اور غیروں میں بانٹنے کی وجہ سے بلند ہورہی ہوں اور سر جوڑے ہونے والی کھسر پھسر ان کے اور ان کی بیٹیوں کے متعلق ہو۔
انہیں لگا جیسے سارقہ کی مسکراہٹ میں آنسوئوں کی ملاوٹ ہو اور خالہ کی امید بھری باتوں کے پیچھے رواجوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی تاکید۔
m…lml…m
پھپو کے بے حد اصرار کے باوجود بھی اماں رات بھر وہاں قیام کے لیے راضی نہ ہوئیں اور خود مشعل اور سارقہ کو بھی ان کے یوں اصرار کرنے پر حیرت تھی‘ کیونکہ آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہ ہوا تھا کہ انہوں نے کبھی اس طرح ضد کی ہو یا شاید اب ان کا بیٹا شادی کرنے والا تھا بلکہ اس کی شادی ہورہی تھی تو انہیں اس قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہ تھا جبھی پیار امڈ کر آرہا تھا اور وہ اظہار کرنے میں بھی بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے پر مصر تھیں‘ جو کچھ بھی تھا مگر خود سارقہ اور مشعل نے بھی گھر جانے کو ترجیح دی تو پھپو کچھ دیر کے لیے اماں کو اپنے ساتھ کچن میں لے گئیں‘ واپسی پر رات کا کھانا بھی ڈبوں میں ڈال دیا اور تاکید بھی کر ڈالی کہ میرا کام یاد رکھنا۔
اب کام کون سا تھا اس طرف سوائے اماں کے اور کسی کا دھیان نہ تھا اور ان کے تو گمان میں بھی نہیں تھا کہ کام کس نوعیت کا ہوگا‘ جبھی گھر آنے کے بعد سارقہ نے کھانے کے ڈبے فریج میں رکھے اور مشعل کے ساتھ کمرے میں چلی آئیں۔
اماں دوگھڑی پڑوسن کے پاس گلی میں ہی رک گئی تھیں‘ مشعل فریش ہونے کے لیے باتھ روم میں گئی ہی تھی کہ فون کی بیل بجی دوسری طرف فائز تھا۔
’’واسعہ باجی‘ تمہاری تعریفیں کرکر کے مجھے جلا رہی ہیں۔‘‘ کوئی رسمی تمہید یا سلام دعا کے بغیر ہی فائز نے خوش گوار لہجے میں کہا تو سارقہ کو موسم کے سرد ہونے کا احساس ہوا۔
’’یہ تو سخت ناانصافی ہے کہ تم اتنی پیاری لگ رہی ہو اور میں تمہیں دیکھ نہ سکوں۔‘‘ سارقہ نے خاموشی سے اپنی مسکراہٹ کو قہقہہ بننے سے روکا۔
’’باجی بتا رہی ہیں کہ وہ اتنی دیر تمہارے ساتھ بیٹھی رہیں اور تم ان کا ہاتھ ہاتھوں میں لے کر صرف اور صرف میرے متعلق پوچھتی رہیں۔ یقین کرو تب سے باجی کا وہ ہاتھ پکڑ کر بیٹھا ہوا ہوں جو تم نے پکڑا تھا۔‘‘
’’غلط… بالکل غلط‘ میں نے ان سے ایک بات بھی نہیں پوچھی‘ وہ تو خود بتارہی تھیں سب کچھ تمہارے بارے میں اور…‘‘ سارقہ نے یوں گھبرا کر بات کاٹی تھی کہ فائز بے اختیار ہنسنے لگا اور تب سارقہ کو اندازہ ہوا کہ یہ سب شرارت تھی۔
’’ہاں ہاں‘ بولو ناں خاموش کیوں ہوگئیں۔‘‘ جواباً ایک بار پھر خاموشی تھی۔ چشم تصور میں فائز کا مسکراتا چہرہ اور بولتی آنکھیں دیکھنے کے بعد بھلا وہ کچھ کہتی بھی تو کیسے۔
’’ویسے وہ میرے کہنے پر جو تمہاری تصویریں اپنے موبائل میں اتار کر لائی ہیں ناں‘ یقین کرو ان پر سے میری نظریں ہٹانے کو تو دل ہی نہیں چاہ رہا۔ میرا بس چلے تو انہیں فریم کروا کر اپنے کمرے میں لگالوں‘ لیکن پھر سوچتا ہوں تھوڑے دنوں بعد تو ویسے ہی میرے کمرے میں ہم دونوں کی تصویریں ہوں گی… تب تک موبائل میں ہی رہیں تو بہتر ہے۔‘‘
سارقہ کے ذہن میں ایک عجیب سی الجھن یہ بھی تھی کہ انہوں نے تو آج کوئی تصاویر نہیں بنوائیں‘ پھر یہ فائز کن تصویروں کی بات کررہا ہے‘ لیکن یہ گتھی بھی فائز کی اگلی بات نے سلجھادی۔
’’میں نے تو کہا کہ ڈھولک کے پاس تصویریں بنائیں تو بھلا تمہاری میٹھی سی آواز کی ویڈیو بھی بنا لاتیں کم از کم سن سن کر دل تو بہلتا۔‘‘
’’جو کچھ تم سوچ رہے ہو… یہ سب اتنا آسان نہیں ہے فائز۔‘‘ سارقہ نے اسے حقیقت کا آئینہ دکھایا۔
’’کچھ بھی ہو‘ کسی بھی طرح ہو یہ مجھے نہیں پتہ‘ لیکن بس اب مجھے تمہیں خود سے دور نہیں رہنے دینا۔ کسی بھی قیمت پر بھی نہیں۔‘‘ فائز کے لہجے کی مضبوطی بتارہی تھی کہ وہ اپنے ارادوں میں پختہ اور الفاظ میں کس قدر سچا ہے پھر ایک دم ہی اس نے اپنا موڈ بدلا اور بولا۔
’’اچھا وہ جو تم سارا وقت واسعہ باجی کا ہاتھ پکڑے بیٹھی تھیں‘ وہ انہی کا ہاتھ سمجھ کر پکڑا تھا ناں‘ یا خیالوں میں…‘‘
’’فائز تم بہت برے ہو… اچھا۔‘‘ سارقہ کے اچانک ردعمل پر وہ بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا‘ تبھی مشعل چہرے اور ہاتھوں پر کولڈ کریم لگاتی کمرے میں داخل ہوئی تو انہوں نے فون بند کردیا۔ مگر چہرے پر اڑتی رنگ برنگی تتلیاں مشعل کی آنکھوں سے چھپ نہیں پائی تھیں۔
m…lml…m
کچھ تو دو دن کی تھکن ابھی پوری طرح نہیں اتری تھی اور کچھ مشعل نے دوستوں کے ساتھ مل کر آج چھٹی کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جبھی بڑے آرام سکون سے ہاتھ منہ دھو کر کمرے سے نکلی‘ صحن میں بکھری دھوپ پیغام دے رہی تھی کہ بس اب سرما کے ناز نخرے بہت اٹھا لیے اور اب یہ سب چند روزہ کی ہے اس کے بعد وہی گرمیوں کی دوپہریں ہوں گی اور وہی شامیں۔
اب بھی ہلکی ہلکی ٹھنڈ جسم کو چھو کر اپنے ہونے کا احساس دلانے کی مکمل کوشش کررہی تھی‘ وہ دونوں بازو لپیٹے کچن میں داخل ہوئی‘ تو محسوس ہوا کہ صرف وہی نہیں آج اماں اور سارقہ آپی بھی معمول کے وقت سے کچھ تاخیر سے جاگی ہیں‘ اسی لیے ابھی ناشتہ کیا جارہا ہے‘ البتہ دونوں کے چہرے کے تاثرات سے مشعل کو یہ سمجھنے میں قطعاً مشکل نہ ہوئی کہ کوئی سنجیدہ بات زیر بحث تھی۔
’’مشی تمہیں یاد ہے وہ تمہارے ابا کے ماموں کا بیٹا سلطان؟‘‘ سارقہ نے اس کے لیے تازہ چائے بنانے کے لیے کیتلی چڑھائی اور ساتھ ہی بریڈ پر ہلکا سا مکھن لگا کر گرم کرنے لگیں تو اماں نے مشعل کو مخاطب کیا جس پر وہ ہنس دی۔
’’اماں کہہ تو ایسے رہی ہیں آپ جیسے کوئی بیس بائیس سالہ نوجوان ہے آپ کا سلطان۔‘‘
’’ارے میرا کیوں ہونے لگا سلطان۔ ذرا شرم لحاظ رکھ کے بات کیا کرو۔‘‘ اماں نے سادی روٹی کے ساتھ آملیٹ کا نوالہ بنا کر منہ میں رکھتے ہوئے اسے گھورا اور ساتھ ہی ایک گھونٹ چائے کی لیا۔ سارقہ آپی البتہ مکمل لاتعلقی کا اظہار کیے چولہے کی طرف متوجہ تھیں۔
’’جو منہ میں آتا ہے بس بولتی چلی جاتی ہو۔‘‘ اماں نے بات مکمل کی۔
’’اچھا اچھا معافی… ہاں یاد ہیں‘ ابھی کل ہی تو ان کی بیٹی دیکھی ہے میں نے ففتھ کلاس میں ہے مگر لگتا نہیں۔ کیا پٹر پٹر باتیں کررہی تھی ناں وہ آپی۔‘‘ اپنے لیے ابلا ہوا انڈہ چھیلتے ہوئے اس نے سارقہ آپی کو بھی شامل گفتگو کرنا چاہا مگر وہ خاموشی سے اس کے لیے گرم کی گئی بریڈ پلیٹ میں رکھ کر اس کے سامنے رکھنے کے بعد اب چائے انڈیلنے لگیں۔
’’اور فیشن دیکھنا تھا اماں اس کا… تو یہ سب کو مات دے رہی تھی۔‘‘
’’بس بیٹا… ماں سر پر نہ ہو تو بیٹیوں کا یہی حال ہوتا ہے‘ نہ کوئی سمجھانے والا نہ بتانے والا۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے بے چاری بچیاں… ایک تو اس سے چھوٹی بھی ہے ناں؟‘‘
’’ہاں ایک اوربیٹی ہے‘ اور دو سالہ بیٹا بھی ہے۔‘‘ سارقہ اس کے لیے چائے لاکر اب قریب ہی بیٹھ گئی تھی۔ چند لمحے سب نے خاموشی سے ناشتہ کیا پھر اماں بولیں۔
’’سلطان‘ اپنی سارقہ سے شادی کرنا چاہتا ہے‘ اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو کیا اسی مہینے کی کوئی تاریخ دے دوں؟‘‘ ہچکچاہٹ کے ساتھ بات شروع کرتے ہوئے اماں نے پہلے مشعل کو دیکھا اور پھر سارقہ سے رائے چاہی۔ تو جن نظروں سے سارقہ نے انہیں دیکھا جانے کیوں اماں زیادہ دیر انہیں دیکھ نہیں پائیں۔
’’اچھا تو کچن میں جاکر آپ سے یہ کھسر پھسر ہورہی تھی اس وقت؟‘‘ مشعل نے تفتیشی نظروں سے اماں کو دیکھا جو ایک مجرم بنی وضاحتیں دینے کی کوشش میں تھیں۔
’’ہاں تو حرج ہی کیا ہے… اپنا گھر ہے‘ کاروبار ہے اور سب سے بڑھ کر اپنا خاندان ہے کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوگا۔‘‘
’’لیکن اماں مجھے اعتراض ہے۔‘‘ مشعل نے چڑ کر خاموش بیٹھی سارقہ آپی کو دیکھا۔
’’وہ جو ان کے تین تین بچے ہیں اور بن بیاہی دو بہنیں ہیں وہ نظر نہیں آتیں آپ کو؟‘‘
’’مشی…‘‘ اماں نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا لیکن وہ مشی تھی اسے اماں کے گھورنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
’’ابھی چند مہینے پہلے تک وہ آپا کو بیٹا بیٹا بلاتے تھے‘ عمر میں ہمارے چچا کے برابر لیکن رشتے کی وجہ سے آپی انہیں بھائی کہا کرتی تھیں اب آپ انہی کے ساتھ انہیں بیاہنے پر تیار ہیں۔‘‘ مشعل نے انتہائی حیرت اور صدمے سے اماں کو دیکھا۔
’’تم خاموش ہوجائو اب… ہر خاندان میں اسی طرح ہوتا ہے‘ کزنز کو بھائی ہی بلایا جاتا ہے‘ مگر رشتہ ہونے سے پہلے تک۔‘‘
’’لیکن…‘‘ مشعل اس تجویز کے سخت خلاف تھی مگر اماں بھی ڈٹ گئی تھیں۔
’’تم کبھی اس کا گھر نہ بسنے دینا… اگر کبھی کوئی رشتہ آہی گیا ہے تو تم اس میں کیڑے نکالنے لگ جائو۔ ارے تم تو چاہتی ہی نہیں ہو کہ اس کا گھر آباد ہو۔‘‘ مشی نے یوں غصے میں کپ پٹخا کہ چائے کے چند چھینٹے میز پوش پر بھی جاگرے۔ اماں کی برداشت بھی جواب دے گئی۔
’’بکواس بند کرو اپنی‘ کیسی زبان چلتی ہے‘ ارے اتنی ہی ہمدرد ہو بہن کی تو ڈھونڈ لائو ناں جاکر اس کے لئے کوئی رشتہ… اتنی لمبی زبان لے کر میرے ہی گھر پیدا ہونا تھا تم نے۔‘‘ طیش میں آکر اماں کا دل تو چاہا کہ اس کے تھپڑ رسید کردیتیں لیکن خود پر ضبط کیے رکھا۔
’’سارقہ آپی کی فرماں برداری کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیں اماں اور خدا کا خوف کریں۔‘‘
’’میں کہتی ہوں زبان بند کرلو مشی‘ ورنہ آج میں جوتا اٹھالوں گی۔‘‘ اماں نے برتن پرے کئے تو سارقہ نے ان کے دونوں ہاتھ آگے بڑھ کر پکڑ لیے مبادا اماں وہ کچھ کر گزریں جس کا خدشہ تھا مگر اس سے پہلے ہی مشعل ناشتہ ادھورا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’رشتہ ڈھونڈنا ماں باپ کا کام ہوتا ہے اماں بیٹیوں کا نہیں اور یہ آپ جیسی ہی مائیں ہوتی ہیں جو آخرکار لڑکیوں کو غیروں پر بھروسہ کرکے گھروں سے بھاگنے پر مجبور کردیتی ہیں۔‘‘ سارقہ آپی نے محسوس کیا کہ مشعل کی اس بات سے اماں کے ہاتھ ڈھیلے پڑگئے تھے۔
’’ہونہہ… لیکن ہمارے بارے میں مطمئن رہئے اماں‘ لال جوڑا نہ سہی کفن ہم اسی برادری کے ہاتھوں کا پہنیں گے اور ہاں اس پر ہماری ذات ذرا واضح الفاظ میں لکھوا لینا تاکہ غیر برادری اور دوسری ذات کے لوگ دور سے ہی دیکھ کر گزر جائیں۔‘‘ کڑواہٹ بھرے تلخ جملے کہہ کر وہ کچن سے باہر نکل گئی تھی۔ اماں کے نزدیک سارقہ نے اس کے ناز نخرے اٹھا کر اسے باغی بنادیا تھا‘ کچھ دیر تو اماں اور سارقہ خاموش سی بیٹھی رہیں پھر جیسے ہی اماں کے پاس پڑوس کی کوئی خاتون آئیں‘ سارقہ لپک کر مشعل کے پاس جا پہنچی جو حسب توقع منہ پھلا کر لیٹی ہوئی تھی انہیں دیکھا تو اٹھ بیٹھی۔
’’پریشان ہو مشی؟‘‘ بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھتے ہی انہوں نے سوال کیا تو وہ بغور سارقہ آپی کا چہرہ پڑھنے لگی۔
’’آپی کیا ہمارا اس دنیا میں بس اتنا ہی حصہ ہے؟‘‘
’’اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے ناں اور لکھے پر بھلا کس کا زور چلتا ہے۔‘‘
’’دنیا سے اپنا حصہ ہمیں خود لینا پڑے گا۔ اپنے حصے کے جگنو ہمیں خود تلاش کرنے پڑیں گے۔ زندگی تبھی روشن ہوگی ورنہ اماں کو تو ہمارا بوڑھا ہوکر مرنا پسند ہے بجائے اس کے کہ…‘‘
’’بری بات ہے مشی… وہ ہماری ماں ہیں ناں اور ان کی دل سے عزت کرنا بھی ہم پر لازم ہے۔‘‘ وہ مشعل کی سابقہ گفتگو سے سہم سی گئی تھیں اور نہیں چاہتی تھیں کہ اس کے اور اماں کے درمیان کسی قسم کا کھچائو باقی رہے۔
’’ایسی مائیں جو محض ذات پات اور مطالبات کی وجہ سے اپنی اولاد کی زندگیوں کو زنگ آلود کردیں ان کی عزت کرنا تو ٹھیک ہے لیکن سوری آپی… دل سے عزت پل صراط پر چلنے کے برابر لگتا ہے۔‘‘ سارقہ نے اس کی باتوں کے جواب میں گہری سانس لے کر ترحم آمیز نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر افسردگی سے سر جھکا لیا۔
’’ویسے آپی ایک بات کہوں؟‘‘ سارقہ نے سر اٹھا کر سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’کیا خیال ہے اماں‘ فائز بھائی کے ساتھ آپ کی شادی کے لیے راضی ہوجائیں گی؟‘‘ اتنا غیر متوقع اور براہ راست سوال‘ سارقہ آپی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ مشعل ان کے اور فائز کے درمیان پنپتے اس نئے جذبے سے اس حد تک آگاہ ہے۔
’’پتہ نہیں مشی… کیا کہہ سکتی ہوں۔‘‘ اب جبکہ مشعل کو سب باتوں کا اندازہ تھا سو انہوں نے بھی تردید کرنے یا وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ البتہ لفظوں میں جو تھکن تھی وہ بہت سارے خدشات کا پتہ دے رہی تھی اور ان کا یہی شکست خوردہ انداز مشعل کو مزید ترش کرگیا۔
’’میں جانتی ہوں اماں کو‘ وہ کبھی راضی نہیں ہوں گی‘ باوجود اس کے کہ وہ ہمارے پیدا ہونے سے پہلے سے خالہ کو جانتی ہیں‘ لیکن ہاں اگر ہمارے خاندان میں سے ہی کوئی تمغہ ذات لیے اسی سالہ بڈھا بھی نمودار ہوجائے ناں تو قسم کھا کے کہتی ہوں‘ اماں جہیز میں اس کی بتیسی تک خریدلیں گی۔‘‘
’’ہونہہ… میرے ساتھ کی لڑکیوں کے تو اب بچے بھی اسکول جانے لگے ہیں مشی… اور… اور میں نے تو ان سے ملنا تک چھوڑ دیا ہے صرف اس لیے کہ مجھ سے ان کے ترحم آمیز الفاظ سے بنے ترس میں بھیگے جملے اور چبھتی آنکھیں برداشت نہیں ہوتیں۔‘‘ یہ پہلا موقع تھا کہ سارقہ آپی نے اس طرح کی کوئی بات اپنی ذات کے علاوہ کسی دوسرے سے کی تھی اور یہ وہ اظہار تھا جسے سن کر مشعل کو اماں پر سخت غصہ اور ان پر بے حد ترس آیا تھا جبھی منٹوں میں اس کے ذہن نے جانے کیا ترکیب بنانی شروع کی کہ آنکھوں میں چمک آگئی۔
’’اگر اماں نے فائز کے رشتے پر رضامندی ظاہر کردی تو ٹھیک‘ ورنہ میں اس سارے واقعات کو قسمت کا لکھا تصور کرلوں گی۔‘‘
’’پریشان ہونے کی ضرورت نہیں‘ اور بس اب اماں کے صندوق سے جہیز کے کپڑوں کو ہوا لگوانی شروع کرکے اپنا لال جوڑا تیار رکھیں۔ ان ہاتھوں پر مہندی لگے گی تو فائز بھائی کے نام کی ورنہ… اور ورنہ کا کوئی تصور نہیں‘ کیونکہ مہندی لگنی ہی ہے اب۔‘‘ مسکراتے ہوئے مشعل نے سارقہ آپی کے ہاتھ چوم لیے تھے جبکہ وہ اس کے ارادے کی مضبوطی پر حیران تھیں۔
’’مہندی لگے گی تیرے ہاتھ
ڈھولک بجے گی ساری رات
جاکے تم ساجن کے پاس
بھول نہ جانا یہ دن رات
تم کو دیس پیا کا بھائے
تیرا پیا تیرے گن گائے
آئے خوشیوں کی بارات
بھول نہ جانایہ دن رات‘‘
مشعل نے بڑے جوش سے لہک لہک کر انہیں گانا سناتے ہوئے اپنا سابقہ موڈ تو تبدیل کیا ہی تھا مگر سارقہ کو بھی بے حد حیران کیا تھا کیونکہ مشعل کے انداز سے تو لگتا کہ بس بات پکی ہوچکی ہے اور تبھی صحن سے آتی مختلف آوازوں اور ہنسی قہقہوں سے وہ دونوں چونک ہی گئیں لگتا تھا کچھ مہمان آئے ہیں‘ جن کے قدم ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ رہے تھے۔
m…lml…m
’’بس سلطان‘ لگتا ہے کہ میری سارقہ کا نصیب تمہارے ساتھ ہی بندھا تھا‘ تبھی تو مانو کتنے ہی رشتوںکو میں نے انکار کیا‘ خود آپا گواہ ہیں۔‘‘ اماں نے پھپو سے گواہی چاہی جو لوازمات کی ٹیبل کو دیکھ کر اندازہ کررہی تھیں کہ یہ سب یقینا پڑوس کے بچے کو بھیج کر بازار سے منگوایا ہے‘ اس کے برعکس اماں کی خوشی دیدنی تھی جو ان کے ہر انداز سے جھلک رہی تھی۔
’’اور پھر یہ بھی تو سارقہ کی خوش نصیبی ہے ناں کہ اتنے اچھے گھر بیاہی جائے گی‘ میں تو کہتی ہوں دیر آید درست آید والا محاورہ بنا ہے یہاں۔‘‘ پھپو نے سموسہ پلیٹ میں رکھ کر اس پر چٹنی ڈالی۔
’’حالانکہ اپنے گھر شادی ہے لیکن سلطان نے جب سے سارقہ کو اتنے برسوں بعد دیکھا پیچھے ہی پڑگیا‘ کہتا ہے جتنی جلدی ہوسکے رخصتی کروا دو۔‘‘
’’رخصتی…؟‘‘ اماں کو اپنے ہاتھ پائوں پھولتے محسوس ہوئے۔ البتہ سلطان کی جگہ سارے معاملات شاید پھپو کو ہی طے کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جبھی باقی مہمانوں میں سے سبھی ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔
’’چاچی آپ کو تو پتہ ہے کہ اللہ نے مجھے ہر چیز سے نواز رکھا ہے‘ جہیز کے نام پر مجھے سارقہ کے دو جوڑے کپڑے کی بھی ضرورت نہیں ہے‘ اسی لیے میں چاہ رہا تھا کہ اگر حماد کی شادی کے ساتھ ہی آپ بھی اپنا فرض ادا کردیتیں تو…‘‘ سلطان نے ایک ہفتے بعد حماد کی شادی کے ساتھ ہی نکاح کی بات کرکے گویا ہتھیلی پر سرسوں جمائی تھی۔ اماں کی بوکھلاہٹ دیدنی تھی کبھی سلطان کو دیکھتیں کبھی ساتھ بیٹھی پھپو کو۔
’’وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن پھر بھی…‘‘
’’ارے لیکن ویکن کیا رخسانہ… خدا کا شکر کرو ایسا رشتہ ملا ہے‘ میری مانو تو ایک پل کی تاخیر کیے بغیر ہاں کردو تاریخ فائنل کرکے۔‘‘ پھپو نے چکن پیٹیز ختم کرکے ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کیے اور سموسے والی خالی پلیٹ کے اندر ہی ٹشو پیپر رکھ دیا۔
’’تو پھر ٹھیک ہے چاچی‘ اگلے ہفتے میں نکاح خواں کے ساتھ دوچار بندے لے آئوں گا‘ تاکہ سادگی سے نکاح ہوجائے۔‘‘ سلطان نے خود ہی فیصلہ سنایا۔
’’ہاں اچھا ہے تاکہ تمہارا بھی خرچہ نہیں ہوگا۔‘‘ پھپو نے ہونق بنی بیٹھی اماں کو جتایا۔
’’جو بھی اہتمام کرنا ہوگا ولیمے پر ہوجائے گا بلکہ سلطان میں تو کہتی ہوں رخسانہ‘ سارقہ اور مشعل کو لے کر ہماری طرف ہی آجائے وہیں جس وقت حماد کا نکاح ہوگا یہ بھی کام ساتھ ہی سر انجام پاجائے گا۔‘‘ پاس ہی بیٹھی اماں کو پھپو نے یکسر نظر انداز کردیا تھا اور یہی حاکمیت بھرا انداز ان کا خاصہ تھا۔ ان کا خیال تھا تمام تر فیصلوں کی کنجی ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔
’’بھائی تو میرا اب اس دنیا میں ہے نہیں‘ آخر کو میں نے ہی تو سوچنا ہے ناں اس کی اولاد کا بھی۔‘‘ سلطان نے تائید میں سرہلایا۔
’’اور رخسانہ‘ پہلی بیوی کی زندگی ہی اتنی تھی ورنہ بڑے لاڈ سے رکھا تھا اس نے۔‘‘ اماں نے مشینی انداز میں سرہلایا۔
’’تو پھر تم تیاری رکھنا اور اگلے ہفتے صبح ہی آجانا بچیوں کو لے کر۔‘‘ پھپو نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’ابھی میں کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہہ سکتی۔ ابھی تو میں نے سارقہ اور مشعل سے بات بھی نہیں کی۔‘‘ ان کی جلد بازی اماں کو کھٹک رہی تھی اسی لیے بہانہ گھڑا۔
’’لو بھلا… تم نے انہیں اتنا سر پر کب سے چڑھا لیا کہ ان سے پوچھ کر فیصلے کروگی۔‘‘ پرس بغل میں دباتے ہوئے پھپو نے منہ بنایا۔
’’کہاں ہیں دونوں…؟ میں خود بات کرلیتی ہوں ان سے۔‘‘
’’ارے نہیں نہیں… میں کرلوں گی ناں بات اور آج شام ہی آپ کو فون کردوں گی۔‘‘ اماں کتنی ہی تیز اور تنک مزاج تھیں لیکن پھپو سمیت اپنے سسرالی رشتے داروں کے آگے بات کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ شوہر زندہ تھے تو انہوں نے کبھی انہیں اپنے گھر والوں کی کسی بھی بات سے اختلاف نہیں کرنے دیا اور نہ ہی انہیں اجازت ہوتی کہ وہ ان سے بحث کریں‘ سو ان کے جانے کے بعد بھی اماں کا وہی طریقہ تھا۔
’’چلو ٹھیک ہے بات وات کرتی رہنا تم آرام سے… اچھا سنو ناپ تو سارقہ اور مدیحہ کا ایک ہی ہے ناں؟‘‘ پھپو نے اپنی بڑی بیٹی کا نام لیا۔
’’تم صرف اور صرف شادی کا جوڑا تیار کرلو‘ باقی سب میں بنالوں گی‘ سلطان کے ساتھ مل کر۔‘‘ ڈرائنگ روم سے نکلتے ہوئے پھپو نے ایک اور عنایت کی تھی اور اسی دوران بیل ہونے پر مشعل جو احتجاجاً نہ خود ڈرائنگ روم میں گئی تھی اور نہ ہی سارقہ آپی کو جانے دیا تھا دروازہ کھولنے کے لیے کمرے سے نکلنے ہی لگی تھی کہ اماں کے آنکھ کے اشارے نے کمرے میں ہی رکنے پر مجبور کردیا۔
’’ہائیں… یہ کمرے میں تھی… اتنا نہ ہوا کہ آکر سلام دعا ہی کر جاتی۔‘‘ پھپو نے گلہ کیا مگر اس سے پہلے کہ اماں کچھ جواب دیتیں واسعہ باجی اور خالہ دونوں ہاتھوں میں شاپرز اٹھائے لدی پھندی اندر داخل ہوئیں اور جس جوش وخروش اور محبت کا مظاہرہ کیا وہ پھپو کو چونکا گیا۔ اسی دوران خالہ کی ان پر نظر پڑی تو سلام دعا کرلی۔
’’اچھا ہوا آپ سے ملاقات ہوگئی‘ ہم سارقہ کے نکاح کی تاریخ پکی کرنے آئے تھے۔‘‘ پھپو نے ابرو چڑھا تے ہوئے بات کی تو خالہ کا چہرہ اتر گیا ہاتھوں میں تھامے مختلف لفافے گرفت ڈھیلی ہونے پر وہیں فرش بوس ہوگئے۔
’’اگلے ہفتے حماد کی شادی کے ساتھ ہی سلطان اور سارقہ کا نکاح ہے‘ ان کی طرف سے تو آپ آئیں گی ہی میری طرف یعنی سلطان کی طرف سے بھی بلوا سمجھیں۔‘‘ پھپو نے ایک نظر سلطان کو دیکھ کر کہا۔ اماں کو ایک بار پھر انہوں نے یکسر نظر انداز کردیا تھا۔
’’اب چلتی ہوں‘ دوہری شادیوں کی ذمہ داری نبھانا آسان تھوڑا ہی ہوتا ہے۔‘‘ ایک اچٹتی سی نظر سب پر ڈال کر وہ لوگ چلے گئے تھے۔
اماں‘ خالہ اور واسعہ باجی سے نظریں چراتی بغیر کچھ کہے ڈرائنگ روم میں چلی گئیں تھیں‘ خالہ اور واسعہ باجی بھی بے یقینی کی کیفیت میں ان کے پیچھے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں جہاں ٹیبل مختلف لوازمات سے بھری ہوئی تھی جس کا یقینی مطلب تھا کہ وہ باقاعدہ بتا کر اور منصوبہ بندی کے تحت آئے تھے۔
’’رخسانہ… یہ کیا کیا تم نے؟‘‘ اماں اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشیوں کے ادھورا رہ جانے پر جہاں صدمے کا شکار تھیں وہاں سارقہ جیسی خوب سیرت لڑکی کے لیے سلطان جیسے شخص کے چنائو پر حیران بھی۔
’’جانتی بھی ہو کہ سلطان کس فطرت کا انسان ہے‘ مال ودولت گھر بار نہ دیکھو‘ اپنی بچی کا مستقبل دیکھو رخسانہ‘ یہ تم کیا کرنے جارہی ہو۔‘‘
’’بہن تم یہ سب اس لیے کہہ رہی ہو ناں کہ میں نے سلطان کو فائز پر ترجیح دی؟‘‘
’’یہ بھی ایک وجہ ضرور ہے‘ لیکن مجھے سلطان اچھا انسان معلوم نہیں ہوتا‘ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب طرح کی کہانی محسوس ہوتی ہے مجھے۔‘‘ خالہ نے سچائی سے کہا۔
’’ہم تو آج فائز کا رشتہ لے کر آئے تھے آپ کے پاس لیکن…‘‘ واسعہ باجی نے مایوسی سے کہا۔
’’مجھے فائز کے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں بیٹا‘ لیکن میں سارقہ کی شادی خاندان سے باہر کرکے سب کے سوالوں کے کیسے جواب دیتی کیا منہ دکھاتی انہیں۔‘‘
’’آپ نے سارقہ کی مرضی تو معلوم کی ہوتی۔‘‘ واسعہ باجی نے تاسف سے کہا۔ وہ تو آج بڑی دلیلوں کے ساتھ آئی تھیں مگر یہاں آکر پتہ چلا کہ وہ تو مقدمہ لڑنے سے پہلے ہی ہار گئی ہیں۔ رہ رہ کر فائز کا خیال آرہا تھا کہ اسے جاکر کیا جواب دیں گی کہ وہ اس کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ اس کے حق میں نہیں کرواسکیں۔
’’مجھے اپنی تربیت پر بھروسہ ہے‘ سارقہ کبھی بھی کچھ ایسا کام نہیں کرسکتی جو میری مرضی کے خلاف ہو اور بہن اب تو نکاح کی تاریخ بھی رکھ دی گئی ہے‘ وہ لوگ آج سے تیاریاں شروع کردیں گے۔‘‘
’’جیسے والدین اپنی اولاد پر بھروسہ کرتے ہیں‘ بالکل اسی طرح اولاد بھی اپنے والدین پر بھروسہ کرتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو ان کی مرضی کے خلاف ہو لیکن خود سوچو کہ کیا بحیثیت والدین اولاد کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے ہم اس بھروسے کو ذہن میں رکھتے ہیں؟ ان کی پسند ناپسند کا سوچتے ہیں؟ شادیاں کرتے وقت ہم اپنی اولاد سے زیادہ دنیا والوں کی فکر میں گھل رہے ہوتے ہیں اور پھر بعد میں یہ بھی امید کرتے ہیں کہ شادی کے بعد ہمارے بچے کسی بھی طرح نباہ کریں‘ سمجھوتے کے کڑوے اور تلخ گھونٹ پئیں‘ اس لیے نہیں کہ ان کی زندگی بہتر ہو بلکہ اس لیے کہ اگر یہ شادی نہ چل سکی تو دنیا والے کیا کہیں گے؟‘‘ خالہ جس امید اور مان سے آج فائز کو یقین دلا کر گھر سے نکلی تھیں اور سوچا تھا کہ اگر رخسانہ کے پائوں بھی پڑنا پڑا تو وہ ان کے پائوں کو ہاتھ لگا کر بھی اپنے بیٹے کی خوشیوں کی بھیک مانگیں گی وہ یوں نومولود بچے کی نیند کی طرح ٹوٹا تھا کہ اب وہ بول رہی تھیں اور اماں کے پاس سننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
’’یہ دنیا والے کون ہیں رخسانہ؟ ہم ہیں تم ہو‘ ہم ہی نے سوچ بدلنی ہے‘ دوسروں کی پروا کرنا چھوڑ دو‘ بس اپنے بچوں کی بہتری سوچو… یہ دنیا والے بھلا کون ہوتے ہیں ہماری تمہاری زندگی کے فیصلے اپنی مرضی سے کروانے والے؟ اور یہ جو تم اپنے خاندان میں سارقہ کی شادی کررہی ہو‘ تو بتائو خدانخواستہ کل کو کچھ کمی بیشی ہوئی تو کیا دنیا والے اور تمہارے خاندان والے آکر کریں گے اس کا ازالہ؟ وہ خاندان والے جو بیٹوں کو تو باہر بیاہنے میں عار محسوس نہیں کرتے اور بیٹیوں کی قسمت کو تالا لگا کر چابی گہرے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔‘‘ خالہ سانس لینے کو رکیں۔
’’اور پھر جب خدا اور اس کے محبوب نے کوئی شرط نہیں لگائی‘ دو عالم کے آقاﷺ نے خود نکاح کرکے مختلف مثالیں ہمارے جیسے کم علم لوگوں کو روشنی دکھانے کے لیے قائم کیں تو کیا پھر بھی ہم آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھے‘ کان ہوتے ہوئے بھی بہرے بنے رہیں گے؟ رب کائنات نے خود قرآن کریم میں دلوں پر تالے لگنے کے بارے میں جو آیت نازل فرمائی تو صرف ان کے لیے نہیں جو ایمان نہیں لاتے بلکہ مجھ کم عقل کا محدود علم کہتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں بھی اشارہ ہے جو ایمان لانے مسلمان ہونے کے باوجود اپنے دلوں میں اپنی مرضی کے خلاف حق کی بات داخل نہیں ہونے دیتے‘ جن کی زبان سے ادا ہونے والا کلمہ طیبہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا‘ ان کے دل میں داخل نہیں ہوتا… کیونکہ قسم لے لو رخسانہ‘ میرا ایمان ہے کہ جس کا پڑھا گیا کلمہ اس کی زبان اور حلق سے ہوتا ہوا دل میں اتر گیا ناں تو اس کے لیے یہ دنیا اور دنیا والوں کی باتیں صرف اور صرف چلتے وقت جوتے کے نیچے لگ جانے والی گرد سے بڑھ کر اہمیت نہیں رکھتی۔‘‘
’’امی… کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ پانی پئیں پلیز۔‘‘ واسعہ باجی نے گلاس میں دو گھونٹ پانی ڈالا مگر امی نے ہاتھ سے پرے ہٹادیا۔
اماں کے دل پر بھی ان کی باتیں اثر کررہی تھیں لیکن کیا کرتیں دنیا والوں کا تصور ایک پہرے دار کی طرح ان پر حاوی تھا سو سر جھکا کر بیٹھی رہیں۔
’’نہیں پینا مجھے پانی وانی‘ بس آج آخری ملاقات ہے میری اس سے… اس لیے دل کی بھڑاس نکال رہی ہوں‘ آج کے بعد نہ میں اس کو دیکھوں گی اور نہ میں چاہوں گی کہ یہ میرا مرا ہوا منہ بھی دیکھے۔‘‘
’’بہن… ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔‘‘ اماں نے تڑپ کر دیکھا۔
’’چلو اٹھو واسعہ‘ میں دیکھوں گی کل کلاں کو جب یہ خود دنیا میں نہ رہی تو یہی ذات برادری اور خاندان والے اس کی بیٹیوں کو آکے جھولا جھلائیں گے؟ اور اس سلطان کی تو مجھے نیت ہی اچھی نہیں لگتی… ہونہہ بدنیتی سے رشتہ کرنے والے بھی بھولے بیٹھے ہوتے ہیں کہ جس کی عمارت کی بنیاد چوری کی اینٹ پر ہو وہ کبھی نہ کبھی ضرور گرتی ہے۔ ان پر نہ سہی ان کے بہت اپنوں پر بھی۔‘‘ بات کرتے ہوئے خالہ نے ڈرائنگ روم سے باہر قدم نکالا۔
واسعہ باجی اور اماں بھی بے چارگی کے عالم میں ان کے پیچھے تھیں سو خالہ نے آگے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آنکھوں سے لڑھکتے آنسوئوں کو تو مسل دیا مگر گلو گیر لہجہ نہ چھپا سکیں۔
’’میں تو کہتی ہوں کہ اگر نیتوں کا اثر چہروں پر نظر آنے لگتا تو آج معاشرے کا ہر تیسرا بندہ نقاب کرنے پر مجبور ہوجاتا۔‘‘ رندھے ہوئے لہجے سے کہتے ہوئے وہ تھکے تھکے قدموں سے بیرونی دروازے کی طرف جا پہنچی تھیں‘ ایک نظر اس کمرے کو دیکھا جہاں اس وقت مشعل اور سارقہ یقینی طور پر اپنے پکارے جانے کے انتظار میں تھیں۔
’’نہ جائو بہن… ایسے ناراض ہو کر مت جائو۔‘‘ اماں نے التجا کی جو خالہ نے نظرانداز کرتے ہوئے واسعہ کو مخاطب کیا۔
’’اسے کہہ دو‘ کہ فائز سے سارقہ کو نہیں بیاہنا نہ بیاہے مگر بیٹیوں کو ہمیشہ اپنے برابر کی حیثیت کے لوگوں میں رخصت کرنا چاہیے اپنے سے بہت اوپر کے لوگوں میں یا تو بیٹیاں ڈھکے چھپے انداز میں طعنے سن کر دوپٹے بھگوتی ہیں‘ احساس کمتری کا شکار ہونے لگتی ہیں یا پھر مختلف تہواروں پر والدین کو اپنی اور بیٹی کی عزت رکھنے کی خاطر خود اپنی خواہشات قربان کرنا پڑتی ہیں لوگ ایسے ہوں کہ گھر والے فرش پر بیٹھے ہوں تو وہ بھی ساتھ فرش پر ہی بیٹھ جائیں۔‘‘ رندھی ہوئی آواز میں بمشکل بات ختم کرکے وہ رکیں اور نہ پلٹ کر دیکھا‘ بمشکل تمام خود کو اس گھر سے نکلنے پر آمادہ کیا جس میں آج وہ ایک انوکھے اور منفرد احساس کے ساتھ داخل ہوئی تھیں۔ بند شاپروں میں فروٹ‘ مٹھائی اور پھول ویسے کے ویسے پڑے اپنی بے قدری کا رونا رو رہے تھے۔
m…lml…m
’’مجھے پتہ نہیں کیوں یقین ہے کہ اماں خالہ کو انکار نہیں کرسکیں گی۔‘‘ مشعل نے پرجوش انداز میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال بناتی سارقہ کو کہا تو وہ مسکرادیں۔
’’اماں ہم دونوں کو سلطان کے متعلق بتاچکی ہیں‘ پھر بھی اتنا یقین۔‘‘
’’بس… پتہ نہیں کیوں‘ میں نے جو چمک آپ کی آنکھوں میں پچھلے کچھ دنوں سے دیکھی ہے ناں‘ وہ بتاتی ہے کہ یہ پیار سچا ہے اور رات کو فائز بھائی نے فون پر جس طرح مجھ سے بات کی تھی‘ مجھے یقین ہوگیا کہ وہ آپ کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ اب اللہ کرے ہماری اماں کو رحم آجائے۔‘‘ سارقہ نے بالوں کو ڈھیلی ڈھالی چٹیا کی شکل دے کر آخر میں کچھ بال چھوڑتے ہوئے گہری مسکراہٹ کے ساتھ مشعل کو دیکھا۔
’’ویسے فرض کیا کہ اماں اپنی عزیز از جان بہن‘ جنہیں وہ اپنا واحد اور سچا ہمدرد سمجھتی ہیں‘ کو انکار کردیں تو؟‘‘
’’مجھے نہیں لگتا کہ اماں انکار کریں گی مشی۔‘‘ ہیئر برش کو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے انہوں نے مشعل کی طرف رخ موڑا۔
’’بلکہ شاید وہ خوش اور مطمئن ہوں گی‘ کیونکہ خالہ سمیت ان سب کو اماں اول روز سے جانتی ہیں‘ اس لیے مجھے یقین ہے کہ وہ اب سے کچھ دیر پہلے بیٹھی ہماری اتفاقاً پھپو کی باتوں پر کان نہیں دھریں گی۔‘‘
’’اتفاقاً پھپو؟‘‘ یہ نئی اصطلاح مشعل کے لیے منفرد تھی۔
’’یہ ایک اتفاق ہی ہے ناں مشی کہ وہ خاتون ابا کی بہن کے طور پر پیدا ہوئیں اور ہماری پھپو کہلانے لگیں‘ ورنہ اپنے کسی بھی فعل سے انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی کہ وہ ہماری اتفاقاً پھپو نہیں بلکہ عملاً پھپو ہیں۔‘‘
’’واقعی آپی! اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو والدین کے علاوہ اکثر لوگ ہمارے اتفاقاً رشتے دار ہوتے ہیں‘ اتفاقاً چچا‘ اتفاقاً خالہ‘ اتفاقاً پھپو‘ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے افعال سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ ہمارے رشتے دار صرف اس لیے نہیں ہیں کہ اتفاقیہ طور پر وہ ہمارے والدین کے بہن بھائی کے طور پر دنیا میں آئے بلکہ وہ اپنے حسن سلوک سے یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ وہ ہم سے اس قدر محبت اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے حقیقی اور عملاً رشتے دار ہیں۔‘‘ مشعل نے سارقہ کی بات کی مکمل تائید کی۔
’’اور خالہ ہماری اتفاقیہ رشتے دار نہ ہونے کے باوجود سب سے حقیقی اور عملی خالہ ہیں۔‘‘
’’پتہ ہے مشی… کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر اماں نے پھپو کی باتوں میں آکر خالہ کو انکار کردیا ناں تو میں شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شادی کا خیال اپنے دل سے نکال دوں۔‘‘
’’اوئے ہوئے… جناب اتنا کچھ سوچے بیٹھی ہیں اکیلے اکیلے۔‘‘ مشعل نے شوخی سے ان کی چٹیا جھلاتے ہوئے کہا۔ درحقیقت اسے بے حد خوشی تھی کہ سارقہ آپی اس کے ساتھ اپنے دل کی بات شیئر کررہی تھیں۔
’’تو اور کیا مشی… اس دل کامکین بدلنا کوئی آسان کام ہوتا ہے کیا؟‘‘ ایک شرمیلی ہنسی کے ساتھ سارقہ نے اعتراف کیا تو مشی نے ان کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے دل میں ان کی مسکراہٹ قائم رہنے کی دعا کی اور خود بھی مسکرادی۔
’’ناں بھئی ناں‘ یہ مکین تو اب نہیں جانے کا‘ کیونکہ یہ مکین اس دل میں رہنے کا کنٹریکٹ اماں سے لکھوا کر لارہا ہے۔‘‘ مشعل نے سامنے رکھی لپ اسٹک اٹھا کر سارقہ آپی کو لگانا چاہی مگر انہوں نے بڑے پیار سے وہ لپ اسٹک لے کر واپس رکھ دی۔
’’ابھی نہیں مشی… بس کچھ دن اور۔‘‘ سارقہ آپی کی آنکھوں میں جلتے جگنوئوں کو چاہنے کے باوجود مشی نظر بھر کر نہیں دیکھ پارہی تھی‘ چہرے کی رنگت بھی سرخی مائل ہورہی تھی اور شرم سے ان کی پلکیں کبھی گرتیں کبھی مشعل کو دیکھنے کا ارادہ کرنے کو اوپر اٹھتیں مگر نظر نہ ملتی اور ادھر ادھر دیکھنے لگتیں۔
’’واہ جی ہماری بی بنو تو ابھی سے شرمانے لگیں۔‘‘ مشعل نے ان کی ٹھوڑی پکڑ کر چھیڑا۔
’’چھوڑو ناں… چلو اب ہٹو بھی۔‘‘ سارقہ نے اپنی شرمیلی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش میں اسے پرے ہٹایا اور خود ڈریس نکالنے لگیں کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی فائز نے میسج کرکے خالہ اور واسعہ باجی کے آنے کی اطلاع دی تھی اور وہ دونوں جو اماں کے ساتھ ڈرائنگ روم میں پھپو اور سلطان کے بیٹھا ہونے پر پریشان اور جزبز تھیں‘ کسی حد تک مطمئن ہوگئیں کہ اب خالہ آکر نہ صرف پھپو کو اماں کے ذریعے انکار کروائیں گی بلکہ جب وہ اپنی خصوصی آمد کا مدعا بیان کریں گی تو یقینا اماں کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا اور پھر جس طرح کی محبت اور مثالی بہناپا دونوں میں تھا مکمل قیاس تھا کہ اس کے سامنے اماں کی ضد دم توڑ دیتی۔
اسی وقت جب وہ دونوں بہنیں محبتیں بانٹ رہی تھیں اماں دروازہ کھول کر اندر آئیں اور انہیں یوں ہنستا کھلکھلاتا دیکھ کر زبان پر آئے الفاظ وہیں روک دیئے۔
’’کیا ہوا اماں… خالہ اور واسعہ باجی آئی ہیں کیا؟‘‘ مشعل ایک جست لگا کر نیچے اتری۔
’’اپنی پھپو کے آنے پر تو میرے بتانے کے باوجود کمرے سے نہیں نکلی تھیں اور خالہ کا بغیر بتائے کیسے پتہ چل گیا۔‘‘ اماں نے تفتیشی نظروں سے مشعل کے چہرے کو جانچا اور پھر سارقہ کو دیکھا جو نفاست سے بال بنائے کپڑے تبدیل کئے خوامخواہ خود کو مصروف ظاہر کرنے کی کوشش میں سوئی دھاگے کا ڈبہ کھولے کھڑی تھی۔
’’کمرے سے کیسے نہیں نکلی‘ میں آئی تو تھی باہر۔‘‘ مشعل نے صفائی پیش کی۔
’’اور خالہ اور واسعہ باجی کی آوازیں آرہی تھیں ناں اس لیے پوچھا۔‘‘
’’سارقہ ادھر آئو میرے پاس۔‘‘ مشعل کی دی گئی وضاحت نظر انداز کرتے ہوئے اماں نے سارقہ کو بلایا تو وہ ڈبہ وہیں کھلا چھوڑ کر اماں کے پاس چلی آئیں۔
’’میں تمہاری ماں ہوں ناں اور والدین کبھی بھی اپنی اولاد کا برا نہیں سوچتے… یہ بات تو تم بھی مانتی ہوگی ناں؟‘‘ اماں نے ان کی آنکھوں میں چھپی الجھن دیکھی۔
’’جی اماں۔‘‘
’’تو ایک بات یاد رکھنا کہ کبھی بھی خود کو وقتی جذبات کا کوئی روگ نہ لگانا‘ کیونکہ پتہ ہے… جب ایک دفعہ دل کو روگ لگ جائے ناں‘ تو ساری عمر روح کے سوگ کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں اماں‘ آخر یہ سب آپ کیوں کہہ رہی ہیں؟‘‘ سارقہ نے جھکا ہوا سر اٹھایا۔
’’ہمارے پاس صرف ایک ہفتے کا وقت ہے کیونکہ اگلے ہفتے حماد کے نکاح کے ساتھ ہی تمہارا اور سلطان کا بھی نکاح ہے… فائز لاکھ اچھا کیوں نہ ہو مگر ہے تو غیر ہی ناں‘ بس تمہاری خالہ اسی بات پر خفا ہوکر چلی گئی ہیں‘ لیکن مجھے امید…‘‘
اپنی بات کی روانی میں اماں نے ایک دم سارقہ کا بیٹھنا محسوس کیا‘ مشعل فوراً لپکی اور ان کے ساتھ بیٹھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
’’اماں… آپ یہ سب کیسے کرسکتی ہیں؟ خدا کا واسطہ ہے آپی کی زندگی پر رحم کریں… کیوں رسومات کی بھینٹ چڑھا دینے پر تلی ہیں‘ نہ مجبور کریں انہیں کہ یہ آپ کی مخالفت کریں۔‘‘
’’تم چپ رہو مشی‘ بڑی آئیں اسے مخالفت کا درس دینے والی۔ یہ سارقہ ہے میری فرماں بردار بچی‘ جانتی ہے کہ باپ سر پر نہیں ہے‘ ایسے میں اگر پھپو نے خود اپنی بیٹی چھوڑ کر اس کے لیے رشتہ بھیجا ہے تو یہ ان کا احسان ہے اور پھر عورت کا دوسرا نام ہی سمجھوتہ ہے۔ یہ بھی اسی سمجھوتے کے ساتھ ایک مثال بن کر دکھائے گی۔‘‘ اماں نے جذباتی جملہ بازی کرکے سوچا تھا کہ ہمدردی اور حمایت حاصل کرلی جائے گی۔
’’آپی آپ بولیں ناں‘ کہہ دیں ناں اماں کو کہ آپ یہ شادی بلکہ بے جوڑ سودے بازی کرکے رسم و رواج کا علم بلند نہیں رکھیں گی‘ آپی کچھ تو کہیں ناں پلیز… فائز بھائی کا ہی سوچیں وہ آپ سے کتنا پیار کرتے ہیں… کیسے رہیں گے آپ دونوں ایک دوسرے کے بغیر۔‘‘ مشعل کی لاکھ کوششوں کے باوجود سارقہ کی ساکت آنکھوں سے نہ ہی نمی ظاہر ہوئی اور نہ ہی گنگ زبان سے کوئی لفظ ادا ہوا۔ شاید وہ حالات سے سمجھوتہ کرنے کا ارادہ کرچکی تھیں۔
اور آخر یہ سمجھوتہ ہے کیا چیز… مشعل نے اماں کو سارقہ آپی کی پیشانی پر بوسہ دے کر گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے گلے لگاتے دیکھ کر سوچا۔
کون سی چیز‘ کون سی طاقت اور کون سا خوف یا احساس ہوتا ہے جو ایک جیتے جاگتے باہوش وحواس بندے کو کسی دوسرے کے آگے اپنی ذات گروی رکھنے پر مجبور کرتا ہے… شاید اپنی ناطاقتی کا احساس‘ یا شاید روایات واقدار کے تحفظ کا لالچ اور سب سے بڑھ کر دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کا حصہ ہوتے ہوئے دنیا والوں کا خوف۔
اماں تو انہیں اپنے سینے سے چند لمحے بھینچ رکھنے کے بعد کمرے سے چلی گئیں مگر اسی وقت مشعل کے ذہن میں فائز کو فون کرکے بغاوت کرنے پر حمایت کی یقین دہانی کا خیال آیا تو آنکھوں میں ایسی چمک ظاہر ہوئی گویا چقماق رگڑنے پر ننھی ننھی چنگاریاں جھڑی ہوں۔
m…lml…m
عید بقر… عید کا تہوار ہوتا یا گھر کا سودا سلف خریدنے کی بات ہوتی‘ اماں ہمیشہ سے خالہ کے ساتھ ہی بازار جاتی تھیں مگر اب زندگی کا اتنا بڑا موقعہ تھا‘ بیٹی کی شادی کی تیاری اور وہ بھی صرف ایک ہفتے میں کرنا بھلا کہاں آسان تھا‘ گو کہ پھپو نے کچھ بھی خریداری کرنے سے منع کر رکھا تھا مگر پھر بھی کچھ تو وہ پہلے ہی وقتاً فوقتاً خریدتی رہی تھیں اور کچھ ان کا خیال تھا کہ سلطان کی جو بھی چیز خریدنی ہے اس کے لیے پھپو ہی کی کسی بیٹی کو ساتھ لے لیں تاکہ چیز کے اچھا برا ہونے کا گلہ نہ کیا جاسکے‘ ارادہ تھا کہ واپسی پر آئیں گی تو سارقہ اور مشعل کو سکون اور پیار سے سمجھائیں گی اور انہیں یقین تھا کہ وہ مان بھی جائیں گی۔ بس ایمرجنسی تو یہ تھی کہ ایک دفعہ سلطان کے لیے چند ضروری چیزوں کی خریداری ہوجاتی۔
اسی نیت سے وہ بغل میں نوٹوں سے بھرا پرس دبائے رکشے میں بیٹھ کر پھپو کے ہاں جا پہنچیں‘ کھلے دروازے سے اندر داخل ہو کر سیڑھیوں کے ذریعے اوپر جاتے ہوئے ان کاخیال تھا کہ بیٹھنے کی بجائے دور سے ہی ان کی بڑی بیٹی کو ساتھ چلنے کا کہہ کر نچلے پورشن پر بنی دکان میں جابیٹھیں گی تاکہ اتنی زیادہ سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے کی تکلیف سے بچ جائیں‘ لیکن اس سے پہلے کہ چند سیڑھیاں چڑھنے کے بعد وہ آواز لگاتیں سلطان کی آواز پر چونک گئیں‘ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اس وقت پھپو کے ساتھ بازار میں ہوگا۔
’’آپا… آپ نے جلد بازی میں سارقہ کا نام لے لیا ورنہ مشعل کو تو میں نے اب دیکھا ہے‘ شادی ہی کروانی ہے تو اس سے کروائیں۔‘‘ سلطان نے لاڈ اٹھوانے والے انداز میں فرمائش کی۔
’’توبہ کرو… اس مشی کی صرف صورت پیاری ہے زبان نہیں۔‘‘ پھپو کی نخوت بھری آواز ابھری۔
’’اور ویسے بھی تمہیں تو صرف ایسی عورت چاہئے ناں جو چپ چاپ بس تمہارے بچوں کی دیکھ بھال کرے‘ گھر کے کام کاج کرے اور بغیر کسی شکایت کے خاموشی سے زندگی گزارتی جائے‘ تو یہ ساری خصوصیات سارقہ میں ہیں‘ تم ساری عمر ایک نظر بھی اسے نہیں دیکھوگے ناں تو اف نہیں کرے گی اور وہ جو مشی جیسی لڑکیاں ہوتی ہیں وہ اپنا حق مانگتی ہیں‘ مقام مانگتی ہیں‘ مانا کہ تم دنیا دار ہو مگر دو آنے ہاتھ میں لے کر روپے کی چیز کی خواہش کرنا بھی تو ندیدہ پن ہے کہ نہیں۔‘‘ پھپو کی بات پر سلطان کی شیطانی ہنسی درو دیوار سے ٹکرانے لگی تھی۔
اماں نے بمشکل ریلنگ تھامی تھی۔
’’بات تو ٹھیک کہی آپ نے بھی… میں نے تو ویسے بھی پندرہ دن بعد کویت چلے جانا ہے‘ خدا جانے پھر کب واپسی ہو‘ ارادہ تو ہے کہ پانچ چھ سال لگا کر محنت کرلوں‘ پیچھے سے کوئی عورت گھر میں ہوگی تو فکر نہیں ہوگی‘ پھر جب آئوں گا تو اپنی پسند سے شادی کروں گا… اور سارقہ کو بھی بچوں کی دیکھ بھال کی خاطر گھر میں ہی رہنے دوں گا‘ آیا بھی تو رکھنی ہی ہے ناں تو سارقہ ہی رہتی رہے گی۔‘‘ سلطان نے اپنا ارادہ مکمل تفصیل سے بیان کیا۔
’’سارقہ میرے بھائی کی بیٹی ہے‘ طلاق ولاق نہیں دینے دوں گی‘ ہاں شادی کرنی ہے تو بے شک شوق سے کرنا ویسے بھی ہاتھ میں باہر کی کرنسی ہو تو تم سے آدھی عمر کی لڑکی بھی ڈھونڈ دوں گی۔‘‘ اماں کو لگا تھا جیسے ابھی چکرا کر وہیں گرجائیں گی۔ پھپو کے ایک ایک لفظ سے جھانکتی خباثت اور خود غرضی اماں کی آنکھوں تک پہنچ رہی تھی۔ انتہائی صدمے کی کیفیت میں وہ واپس پلٹیں تو آنکھوں سے آنسو رواں تھے‘ دل تو چاہ رہا تھا کہ ان اتفاقی رشتوں کی موت اور عملی رشتوں سے برتی گئی بے اعتنائی پر پھوٹ پھوٹ کر روتیں لیکن خود پر ضبط کیے سیڑھیاں اتر کر چند قدم چلتے ہی ایک رکشے میں بیٹھیں اور ایڈریس بتانے سے پہلے ہی بے ہوش ہوگئیں۔
m…lml…m
کمرے کی فضا میں سوگواریت کے ساتھ اسپرٹ کی مخصوص بو پھیلی ہوئی تھی‘ اماں کے بازو میں ڈرپ لگی تھی جبکہ مشعل ان کی پائنتی پکڑے پاس بیٹھ کر بھی کہیں دور کھوئی ہوئی تھی۔ اسی دوران سارقہ کمرے میں داخل ہوئی‘ لڑکھڑاتے قدموں سے کندھے پر جھولتے دوپٹے کو پکڑ کر اس کے دوسرے کونے کے پائوں سے لپٹنے سے بے نیاز ایک کونے کو گھونگھٹ کی شکل میں سر پر رکھتی مگر وہ پھسل کر پھر سے گرجاتا‘ ایک ہاتھ میں گہرے سرخ رنگ کی چمک دار لپ اسٹک بھی موجود تھی‘ مشعل سے چند قدم دور رک کر انہوں نے اپنے ہونٹوں پر پہلے سے لگی لپ اسٹک پر ایک مرتبہ پھر یوں لپ اسٹک لگائی کہ وہ سابقہ انداز سے ہی ہونٹوں کے اطراف پھیل گئی۔ آہٹ پر مشعل نے بڑے کرب سے انہیں دیکھا۔
بارش کی خوش بو کی طرح انجان‘ معصوم اور منفرد سارقہ آپی کا یہ حال دیکھ کر اس کا دل ایک بار پھر کٹ کے رہ گیا‘ اس نے اماں کو خاموش نظروں سے دیکھا‘ جیسے کہہ رہی ہو کہ ’’آگیا ناں اب دل کو سکون؟ ہوگئی تسلی؟ مل گیا اپنا شجرہ نسب؟ یہ ہے تمہاری ذات جس نے میری آپی کی زندگی تباہ کردیا۔ جیتے جی مار ڈالا اسے‘ اور جب کوئی شخص جیتے جی مرجائے تو پتہ ہے ناں دنیا والوں کے لیے زندہ رہنا کتنا دشوار ہوتا ہے۔‘‘
’’سنو مشی‘ یہ ذرا مجھے‘ لپ اسٹک لگا دو‘ وہ دیکھو ناں باہر‘ سفید کپڑے پہنے ساری بارات آبھی گئی ہے‘ اور تم نے ابھی تک نہ ہی مجھے لپ اسٹک لگائی اور نہ ہی لال جوڑا پہنایا۔‘‘ مشعل نے ایک لمبی سی سانس لے کر آنسو پرے دھکیلے اور ہونٹ کاٹتی کھڑی ہوگئی۔
’’آپی…‘‘ اس نے دونوں کندھوں سے سارقہ آپی کو پکڑ کر جھنجوڑا مگر انہوں نے ناراضگی دکھاتے ہوئے دور کردیا۔
’’ہٹو ناں تم… ایک تو پہلے ہی گھونگھٹ سیٹ نہیں ہورہا‘ اور وہ… میرا لال جوڑا‘ لائو ناں… اماں کیوں آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوئی ہیں۔ دنیا کیا کہے گی ناں مشی…‘‘ سارقہ آپی نے معصومیت سے آنکھیں جھپکیں اور اپنے دونوں ہاتھ الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے پھر سے سوچ میں پڑگئیں۔
’’میں نے تو ابھی مہندی بھی نہیں لگائی ناں‘ لوگ کیا سوچیں گے نہ لال جوڑا‘ نہ مہندی۔‘‘ مشعل جو بڑی دیر سے ضبط کررہی تھی بالآخر ان کے دونوں ہاتھ چوم کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ جس پر سارقہ آپی نے پہلے تو اسے حیرت سے دیکھا اور پھر شرمانے لگیں۔
’’لگتا ہے میری رخصتی ہونے والی ہے۔‘‘ انہوں نے خود کلامی کی پھر اچانک کچھ یاد آنے پر اس سے ہاتھ چھڑا کر فرش پر بیٹھ گئیں‘ بڑی پریشانی سے کبھی کرسی ہٹا کر ادھر ادھر دیکھتیں تو کبھی بیڈ کے نیچے کچھ ڈھونڈنے لگتیں‘ پھر وہیں پر بیٹھ کر سر کھجاتے ہوئے کچھ سوچنے کے انداز میں ذہن پر زور دیتے ہوئے بولیں۔
’’میرا لال جوڑا نہیں مل رہا‘ پتہ نہیں کہاں گیا‘ میرا خیال ہے پھپو میرا لال جوڑ الے گئیں ہیں‘ مشی تم نے میرا جوڑا کہیں دیکھا ہے؟ بارات آئی ہوئی ہے‘ دنیا والے کیا سوچیں گے کہ دلہن ابھی تیار نہیں ہوئی۔‘‘ پریشان لہجے میں بات کرتے ہوئے وہ روہانسی ہوکر اب رونے لگی تھیں پھر ایک دم چونکیں۔
’’میری رخصتی ہورہی ہے اماں کو جگائو اور کیا تم گانا نہیں گائوگی وہ والا…‘‘ سارقہ آپی نے دانتوں میں انگلی دبا کر تھوڑی دیر سوچا پھر نثر کے انداز میں بولیں۔
’’میں تیری بانہوں کے گھیرے میں پلی بابل
جارہی ہوں چھوڑ کے تیری گلی بابل
مشعل کو روتا دیکھ کر وہ آنکھیں بند کیے لیٹی اماں کی طرف بڑھیں اور بولیں۔
’’اماں… اٹھو ناں… بارات آگئی ہے‘ لال جوڑا نہ سہی‘ دل سے دعائیں تو دے دو۔‘‘ انہوں نے بڑے آرام سے اماں کا کندھا پکڑ کر ہلایا تو انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔
سامنے سفید ڈاکٹری کوٹ اور گلے میں اسٹیتھو اسکوپ لٹکائے ایک نوجوان سا ڈاکٹر کھڑا تھا‘ جس کے دائیں طرف موجود نرس اماں کا کندھا ہلارہی تھی۔
’’اب کیسا محسوس کررہی ہیں آپ؟‘‘ ڈاکٹر نے بغور ان کے چہرے کے تاثرات کا مشاہدہ کرتے ہوئے پوچھا۔
’’سارقہ کہاں گئی یہاں سے؟ اور وہ مشی…‘‘ اماں لمحہ بھر میں کہنیوں پر زور دے کر اٹھ بیٹھی تھیں۔ جبھی نرس اپنی پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ تسلی دیتے ہوئے بولی۔
’’آنٹی‘ یہاں آپ کے گھر کا کوئی فرد نہیں ہے‘ دراصل آپ رکشے میں بے ہوش ہوگئی تھیں تو وہ بھلا آدمی آپ کو یہاں اتار گیا‘ یہاں آپ کو چیک کرنے کے بعد ہم نے ڈرپ لگادی اور شاید آپ نے کوئی خواب دیکھ لیا۔‘‘ نرس نے مکمل تفصیل بیان کرکے ملحقہ الماری کا تالا کھولا اور ان کا پرس ان کے حوالے کردیا۔
’’گن لیجیے گا۔‘‘ اماں نے کسی روبوٹ کی طرح پرس ہاتھ میں تھاما اور وہ سب ایک خواب ہونے پر دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے رو دیں۔
’’ارے آنٹی…‘‘ ڈاکٹر انہیں یوں روتا دیکھ کر حوصلہ دلانے لگا تھا۔
’’بس ذرا آپ کا بی پی لو ہوگیا تھا‘ اور کچھ سریس کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی تھیں مگر اب تو آپ بالکل ٹھیک ہیں‘ ہوش میں ہیں اور گھر بھی جاسکتی ہیں۔‘‘
’’واقعی سچ کہتے ہیں آپ ڈاکٹر صاحب‘ ہوش تو مجھے اب ہی آیا ہے۔‘‘
’’پھر آپ کے یہ آنسو؟‘‘ نرس نے ہمدردی کرتے ہوئے پوچھا مگر اماں نے واضح جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔
’’بس بعض اوقات زندگی ہمیں سبز مرچ کھانے پر مجبور کردیتی ہے‘ ہم اس کی خوش نما ظاہری رنگت اور ذائقے سے متاثر تو ہوتے ہیں لیکن تیکھا پن برداشت کرنے کی ہمت بھلا ہر ایک انسان میں کہاں ہوتی ہے‘ اسی لیے آنسو نکل آئے ہیں۔‘‘ اماں کو اٹھتے دیکھ کر ڈاکٹر اور نرس ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے اور اماں کے کہنے پر کمپائوڈر کو بھیج کر رکشہ بھی منگوادیا۔
m…lml…m
’’فائز بھائی‘ جب اماں نے خالہ کی نہیں مانی تو آپ بے شک ان کے قدموں پر سر بھی رکھ دیں گے ناں پھر بھی وہ ماننے والی نہیں ہیں۔‘‘ مشعل نے حتمی انداز میں کہا تو فائز جو اماں کے انکار کے متعلق واسعہ باجی سے جان چکا تھا اور مشعل کے بلانے پر موٹر سائیکل اڑاتا ہوا پہنچ بھی گیا تھا بولا۔
’’پھر تو ایک ہی راستہ بچتا ہے۔‘‘ فائز نے سارقہ کو فضا میں کسی نظر نہ آنے والی چیز پہ نظر ٹکائے دیکھ کر مخاطب کیا‘ تو وہ خالی خالی آنکھوں سے سوالیہ انداز میں دیکھنے لگی۔
چند گھنٹوں نے چہرے سے ساری تازگی چھین لی تھی اور آنکھیں ایسی بے رونق معلوم ہوتیں جیسے ان میں زندگی کی رمق باقی نہ رہ گئی ہو۔
’’اگر میں تم سے کورٹ میرج کرنے کا کہوں تو کیا تم میرا ساتھ دوگی؟‘‘ حتمی انداز میں فائز نے کہا تو سارقہ آپی کے ساتھ ساتھ مشعل بھی چونک گئی۔
’’فائز…! یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ سارقہ آپی نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا۔
’’اس کے علاوہ ایسا کوئی راستہ نہیں ہے جو… اور پھر اسلام ہمیں اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘‘ فائز نے حمایت کی خاطر مشعل کو دیکھا جس نے نیم رضا مندی سے تائید میں گردن ہلائی۔
’’کون سا اسلام فائز؟‘‘ سارقہ نے فائز کی بات میں سے مرکزی لفظ دہرایا۔
’’وہ اسلام‘ جو والدین کی ایک پکار پر نماز توڑنے میں بھی دریغ نہ کرنے کو کہتا ہے‘ وہ اسلام جس میں ماں کے پیروں تلے جنت اور باپ کو اسی جنت کا دروازہ بنایا گیا ہے۔ انہی والدین کی عزت کا جنازہ نکال کر کورٹ میرج کرنے کی تجویز دے رہے ہو ناں تم؟‘‘ سارقہ نے دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ فائز کی توقعات کے برعکس جواب دے کر اسے اور مشعل کو لاجواب کردیا تھا۔ اسی دوران اماں نے بھی گھر کے اندر قدم رکھا اور سارقہ سے معافی مانگنے کی نیت سے ان کے کمرے کا رخ کیا‘ مگر یہ کیا…!
’’اسی طرح ماں باپ کو دنیا والوں کے طعنوں تشنوں کے لیے جھکے ہوئے سر اور زمین میں گڑ جانے کی خواہش کے ساتھ چھوڑ کر اپنی مرضی سے کورٹ میرج کرنے کی اجازت شاید تمہارے مطابق اسلام دیتا ہوگا‘ لیکن معاف کرنا فائز‘ تمہاری محبت میرے لیے کتنی ہی اہم ہو مگر والدین کی اطاعت اور فرماں برداری کا دیا گیا حکم اس اجازت پر کئی گنا بھاری محسوس ہوتا ہے مجھے۔ بھلا جن کے سامنے خدا نے اف تک کرنے سے منع فرمایا ہے ان کے سامنے اختلاف کیسا؟‘‘ اور پھر بجائے اس کے کہ فائز کچھ کہتا اماں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئیں اور انہیں سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بغیر سارقہ کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔ باقاعدہ آواز کے ساتھ روتے ہوئے اماں ان سے معافی مانگ رہی تھیں‘ ان جیسی بیٹی ہونے پر خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین ماں کہہ رہی تھیں اور دعا کررہی تھیں کہ خدا دنیا میں اگر کسی کو بیٹی دے تو سارقہ جیسی‘ جس کے نزدیک والدین کی عزت اپنی تمام تر خواہشات سے اہم تھی اور اگر خدا اولاد کے جوان ہونے تک والدین کو ان کے سر پر قائم رکھے تو انہیں اتنا شعور بھی دے کہ اندھی رسموں اور دنیا والوں کے خوف سے اپنے بچوں کو کسی آزمائش میں نہ ڈالیں‘ کیونکہ ہر بیٹی کے سارقہ جیسا ہونے کی دعا کی جاسکتی ہے مگر ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
’’فائز بھائی‘ لگتا ہے اماں کے دل کی کتاب سے وہ نام کا سلطان آئوٹ اور آپ ان ہوچکے ہیں‘ جلدی سے خالہ کے ساتھ ساتھ نکاح کے لیے مولوی لے آئیں ورنہ اماں صفحہ پلٹ دیں گی۔‘‘ اماں اور سارقہ آپی کو سرخ آنکھوں کے ساتھ مسکراتا دیکھ کر مشعل نے شرارت سے کہا تو جھوٹ موٹ برق رفتاری سے باہر نکلتے فائز کو اماں نے وہیں روک لیا۔
’’ارے واہ ایسے کیسے… جائو اور ماں کو کہو گھر میں ڈھولک رکھیں‘ رت جگا‘ مایوں‘ مہندی کرکے پھر بارات لائیں‘ میری سارقہ لاکھوں میں ایک ہے‘ ایسے تھوڑی کھڑے کھڑے رخصت کردوں گی۔‘‘ ایک بار پھر انہوں نے سارقہ آپی کی پیشانی چومی اور فائز اماں کا لحاظ کرکے محض نظروں سے ہی سارقہ کی نظر اتارتا رہا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا کہ کہہ دے۔
’’اب صبر نہیں ہوتا‘ ان سارے تکلفات کو چھوڑیں اور بس پندرہ منٹ میں نکاح کردیں۔‘‘
’’چلیں فائز بھائی اب آپ سارقہ آپی کے چہرے کا بغور مطالعہ نکاح کے بعد تک ملتوی کریں‘ نظر لگانی ہے کیا‘ دیکھیں تو سارقہ آپی لال جوڑا پہننے سے پہلے ہی آپ کی نظروں سے کیسی لال سرخ ہورہی ہیں۔‘‘ مشعل نے فائز کی نظروں کا ارتکاز اور والہانہ پن نوٹ کرتے ہوئے سارقہ آپی کے چہرے پر بکھرتے رنگوں کو دیکھ کر شرارت بھرے انداز سے کہا تو ایک بھرپور قہقہے کی آواز نے کمرے کی چار دیواری کو خوشیوں کی آئی بارات میں بدل دیا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close