Hijaab Feb 2019

محبت جیت جاتی

قرۃ العین سکندر

نجانے بڑے خود ہی رشتے ناطے طے کرنے کے بعد ان میں توڑ پھوڑ اور اختلافات کے بہانے کیوں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ ندیم اور عطیہ کا رشتہ باہمی رضا مندی سے طے کیا گیا تھا‘ دونوں اطراف کے والدین اس رشتے کے حق میں تھے اور سوچ و بچار کے بعد اس رشتے کو مضبوطی عطا ہوئی تھی مگر بعد میں جٹھانی دیورانی نے اپنی ازلی چپقلش کا خمیازہ ندیم اور عطیہ سے لینے کا فیصلہ کر ڈالا اگرچہ نکاح جیسا مقدس اور مضبوط بندھن تھا اور اس میں دونوں فریقین راضی تھے‘ جہاں آرأ بیگم کی خوشی میں سب نے ہی خوشی کا اظہار کیا تھا یوں نکاح ہوگیا‘ بعد ازاں نمود و نمائش اور دکھاوے کے لالچ میں ایک سے بڑھ کر ایک شے ہو شادی میں اس چیز نے اس رشتہ کو مخمصے میں ڈال دیا تھا۔ اب ندیم اور عطیہ اپنی اپنی جگہ بے حد پریشان تھے۔
نکاح کو تین سال کا عرصہ بیت چکا تھا مگر آئے دن کے تنازعات نے ان کی زندگی کے پھولوں کو مرجھا دیا تھا‘ اب وہ اس دن کے منتظر تھے جب بڑے ان دونوں کو باقاعدہ رشتہ ازدواج میں باندھ دیں پھر عطیہ نے تو دل کی خالی تختی پر ندیم کا نام آویزاں کر رکھا تھا‘ اب واپسی کا تو کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔
دوسری جانب ندیم بھی عطیہ کو شدتوں سے اپنانے کا متمنی تھا‘ اس نے من موہنی صورت والی عطیہ کو دل سے چاہا تھا‘ جب اس کی والدہ آسیہ بیگم نے عطیہ کی بابت اس کا عندیہ لیا تھا تو ندیم کو اپنی خوش قسمتی پر یقین ہی نہ آرہا تھا۔ بچپن سے ایک ہی گھر میں پل کر بڑے ہونے والے اب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے محسوسات کو کوئی نام دینے سے قاصر تھے مگر ایک بات تو طے تھی کہ عطیہ اور ندیم ایک دوسرے کے لیے ہی بنائے گئے تھے مگر آسیہ اور مدیحہ کے جھگڑے میں ندیم اور عطیہ پس رہے تھے تب تو جہاں آرأ بیگم کے کہتے ہی دونوں راضی ہوگئی تھیں اور باقاعدہ دھوم دھام سے نکاح کی تقریب کی گئی تھی مگر اب دونوں جانب سے ہنوز خاموشی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ جب گھر میں واویلا ہوتا تو عطیہ کی حالت دگرگوں ہوجاتی تھی وہ کتنی مرتبہ والدہ کو سمجھا چکی تھی۔
’’امی آپ کیوں جھگڑتی رہتی ہیں تائی اماں سے‘ آپ ایک مرتبہ بھی اتنی سخت زبان درازی کے بعد نہیں سوچتی کہ میری زندگی کتنی متاثر ہورہی ہے۔ مائیں تو بیٹیوں کی ہونے والی سسرال میں ہمیشہ سوچ کر ناپ تول کر بولتی ہیں اور آپ ان کو طنزیہ باتیں اور جلی کٹی سناتی رہتی ہیں‘ کل کلاں کو میرا ہی جینا دو بھر ہوگا۔‘‘ عطیہ روہانسی ہوئی۔
’’یہ تم کس لہجے میں مجھ سے بات کررہی ہو‘ میں خوب جانتی ہوں کہ تمہارے منہ میں کس کی زبان ہے۔ جب دوبدو آسیہ کچھ نہ کرسکی تو اپنے بیٹے کے ذریعے تمہارے منہ سے یہ سب کہلوا رہی ہے اور تم کو کس بات کا ڈر ہے۔ ابھی تمہاری ماں زندہ ہے مر نہیں گئی اور یہ رشتہ اب شاید اختتام پذیر ہو ہی جائے۔‘‘ آخری الفاظ ادا کرتے ہوئے مدیحہ بیگم کا لہجہ خود کھوکھلا سا تھا شاید جہاں آرأ کے ہوتے اتنا آسان نہ تھا اس وقت تو مدیحہ کو عطیہ کی رخصتی سے بڑھ کر اسے کسی کھونٹے سے باندھنے کی جلدی تھی۔
اس کی یہی وجہ تھی کہ وہ چاہتی تھیں کہ عطیہ کا مستقبل محفوظ ہوجائے جب خاندان میں کئی لڑکیوں کو ندیم کے اردگرد منڈلاتے دیکھتی تو سوچتی تھیں کہ جب آسیہ بیگم نے از خود ان کی اکلوتی بیٹی کے لیے ہاتھ بڑھائے تو انکار کرنا اچھا نہیں لگتا اس لیے اس وقت راضی خوشی نکاح کے لیے آمادہ ہوگئی تھیں مگر پھر چند ماہ کے بعد وہی جٹھانی دیورانی کی روایتی چپقلش عود کر آئی تھی۔ آسیہ اور مدیحہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی تھیں۔
’’اماں دادی جان نے آپ کو بلایا ہے۔‘‘ عطیہ نے آکر مدیحہ کو اطلاع دی تو اس نے بھی برا سا منہ بنایا۔
’’اب کیا کہنا ہے ضرور کوئی نئی آفت مسلط ہونے والی ہوگی۔‘‘ مدیحہ نے خود کلامی کی۔
’’امی آپ کیسی باتیں کررہی ہیں بڑوں کے بارے میں‘ آپ کے اس طرح کے نادر خیالات ہیں۔ مجھے تو افسوس ہورہا ہے آپ کی سوچ پر اب بتا بھی دیں کہ آرہی ہیں یا نہیں کیونکہ تائی جان بھی آپ کا انتظار کررہی ہیں۔‘‘ جٹھانی کی آمد کی اطلاع نے اس کو بری طرح چونکایا۔
’’اچھا تم چلو میں آرہی ہوں۔‘‘ ان گنت خیالات کی آماجگاہ بنے دماغ سمیت وہ نیچے آگئی تھیں‘ وہاں جہاں آرأ بیگم اور آسیہ بیگم خاموش بیٹھی تھیں۔
’’آجائو مدیحہ… وہاں دروازے میں ہی کیوں رک گئی‘ ایک تم کو اطلاع دی جائے پھر بھی تم اتنی دیر کرکے آتی ہو۔ میں نے عبادات اور تسبیحات بھی کرنی تھیں۔ خیر چھوڑو‘ اب آہی گئی ہو تو بیٹھ بھی جائو تاکہ تسلی سے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کی جاسکے… دیکھو تم بخوبی جانتی ہو کہ اب کافی عرصہ گزر چکا ہے ندیم اور عطیہ کے نکاح کو اور ندیم کا تو باقاعدہ جاب کا بھی مسئلہ حل ہوچکا ہے‘ ماشاء اللہ برسر روزگار ہے‘ کھاتے پیتے لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ اب اس کے بعد یہ بھی نہیں ہے کہ عطیہ کو معاشی تنگی ہوگی کیونکہ یہی عذر تراشا تھا تم نے چند ماہ پہلے تو میں نے یہ طے کیا ہے کہ اب یہ شادی اگلے ماہ ہوکر رہے گی‘ تم دونوں اپنے حساب سے تیاری کرلینا۔‘‘ اس نئی افتاد پر دونوں بری طرح بوکھلا گئیں۔ آسیہ نے کن اکھیوں سے مدیحہ کی جانب دیکھا جن کے چہرے پر ناگواری کی واضح تحریر موجود تھی‘ جیسے ان کو بھی اس فیصلے پر اعتراض ہو۔
’’اماں اتنی جلدی یہ سب کیسے ہوگا؟ ایک ماہ میں شادی کی تیاری کیسے ہوگی۔‘‘ مدیحہ نے مداخلت کی۔
’’بھئی جو اتنے ماہ و سال میں نہ جڑ سکا‘ اب بھی تم سے بننے سے رہا پھر عطیہ کون سا دوسرے شہر یا انجان لوگوں میں جارہی ہے‘ سب اپنے لوگ ہیں۔ تم جتنا بھی جوڑ سکو ٹھیک‘ نہ بھی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں‘ کیوں بھئی آسیہ‘ ٹھیک کہہ رہی ہوں میں کہ نہیں؟‘‘ آسیہ جہاں آرأ بیگم کی بات پر بوکھلائیں۔ اس لیے اثبات میں گردن ہلا دی‘ ساس کی سختی اور تندی کا دونوں بہوئوں کو احساس تھا اگرچہ اس طرح کی نوبت کم ہی آتی تھی کہ جہاں آرأ بیگم ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے کوئی کام کرواتی مگر ان کا انداز ہی اتنا حتمی اور دو ٹوک ہوا کرتا تھا کہ مزید بات کرنے کی ہمت ہی نہ ہوتی تھی۔
دونوں بہوئوں نے مصلحتاً خاموشی اختیار کرلی تھی اور سر جھکائے ساس کے سامنے سے اٹھ آئی تھیں مگر ان کی مسلسل خاموشی کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ لگتی تھی۔
’’میری خاموشی کو میری کمزوری نہ سمجھ لینا‘ تم جیسی ظالم عورت کے گھر میں ہرگز اپنی نازک سی بیٹی کو نہیں بھیجنا چاہتی۔‘‘ مدیحہ نے باہر آتے ہی گل فشانی کی۔
’’ہونہہ جیسے میں تو مری جارہی ہوں تمہاری بیٹی کو بہو بنانے کے لیے۔ نجانے میرے بیٹے پر کیا جادو کردیا ہے کہ اس کا ہی نام لیتا ہے ورنہ میرے تو بہت ارمان تھے کسی سلجھی ہوئی لڑکی سے شادی کرتی۔‘‘ آسیہ نے بھی دوبدو جواب دیا۔
’’مجھے افسوس ہورہا ہے کہ تم ایسا سوچتی ہو‘ جب میری بیٹی کے لیے تمہارے دل میں ہی جگہ نہیں تو گھر میں کیا ہوگی۔‘‘ مدیحہ نے غصیلے انداز میں قدرے تاسف سے کہا۔
’’جو بھی سمجھ لو مگر تمہاری دال نہیں گلنے والی۔‘‘ آسیہ بیگم نے منہ بنایا اور رکھائی سے کہتے ہوئے وہاں سے چل دیں۔
پھر آئے دن کے جھگڑے طول پکڑنے لگے اب تو جہاں آرأ کے کانوں تک بھی ان کے ڈھٹائی سے ادا کیے گئے جملے پہنچنے لگے تھی مگر جہاں آرأ بیگم نے بھی اس معاملے میں چپ سادھ لی تھی۔ جہاں آرأ بیگم نے اس لیے خاموشی اختیار کی تھی کیونکہ وہ دونوں کے تمام بغض اور کینہ کو لفظوں کے جال میں الجھتا ہوا دل کے فتور کو زبان سے نکلنے کا موقع دینا چاہتی تھیں تاکہ دل مکمل طور پر صاف ہوسکے‘ کسی قسم کی رنجش اور گلہ باقی نہ رہے۔
جہاں آرأ بیگم کی خاموشی پر اگرچہ وہ دونوں حیران بھی تھیں مگر اس سے ان کے حوصلے اور بھی بلند ہورہے تھے تاکہ کھل کر مخالفت کرسکیں۔ ایک شام آسیہ بیگم سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھیں کہ توازن بگڑ گیا اور وہ بری طرح چکرا کر سیڑھیوں سے پھسلتی چلی گئیں‘ ان کو خاصی چوٹیں لگی تھیں‘ فوری طور پر ڈاکٹر کو بلوایا گیا تھا۔
پائوں میں گہری چوٹ لگنے سے فریکچر ہوگیا تھا اور چلنے پھرنے سے وقتی طور پر معذور ہوگئی تھیں۔ گھر کی فضا اچانک بوجھل سی ہوگئی تھی ایسے میں عطیہ نے بڑھ چڑھ کر ان کے سارے کام خودبخود اپنے ذمہ لے لیے تھے۔ صبح سویرے انکل اور ندیم کو آفس روانہ کرنا ان کے لیے ناشتے کا اہتمام کرنا پھر اس سے فراغت کے بعد تائی جان کو ناشتا کرواتی‘ وقت کے حساب سے دوا کھلاتی‘ اتنے دن سے آسیہ بیگم بیڈ پر تھیں‘ کپڑوں کا ایک انبار تھا جسے عطیہ نے دھونا شروع کردیا تھا پھر کپڑوں کے دھونے کے بعد اس نے پورے گھر کی تفصیلی صفائی کی‘۔ نیچے کا پورشن ان کے تصرف میں تھا جبکہ اوپر تائی اماں اور ندیم رہائش پذیر تھے۔
آسیہ بیگم گہری نظروں سے عطیہ کو اس طرح تندہی سے خدمت اور گھر کے کام کاج کرتے دیکھ رہی تھیں۔ عطیہ کے چہرے پر ایک بھی شکن نہ ہوتی تھی‘ خلوص کی چاشنی سمیٹے وہ سارے کام کرتی رہتی‘ اس پر گاہے بگاہے اس کا پوچھنا۔
’’تائی اماں طبیعت کیسی ہے‘ درد تو نہیں ہورہا۔‘‘ وہ متفکر سی رہتی۔
رفتہ رفتہ آسیہ بیگم کا پائوں ٹھیک ہوگیا اور وہ چلنے پھرنے لگی تھیں حتیٰ کہ شادی کا مقرر کردہ دن بھی آکر گزر گیا تھا چونکہ آسیہ بیگم خود ہی معذوری میں جی رہی تھیں اس لیے شادی کو الفور موخر کردیا گیا تھا۔ آسیہ بیگم ہر لحظہ عطیہ کو جانچتی تولتی نظروں سے دیکھتی رہتی تھیں اگرچہ اس کی خدمت گزاری پر ایک لفظ بھی شکریہ کا نہ بولا تھا پھر ایسا ہوا کہ انہوں نے جہاں آرأ بیگم کے کمرے میں مدیحہ کو اور عطیہ کو بلایا تھا‘ دونوں کے سوالیہ چہروں پر خاموشی کا راج تھا۔
’’مدیحہ مجھے تم سے کہنا ہے کہ میں اگلے ہفتے ہی عطیہ کو اپنی بہو بنانے کے لیے بے تاب ہوں۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں عطیہ کی قدر نہ کرسکی‘ عطیہ ہر کام خوشی سے کرتی ہے اور بنا کسی لالچ اور دکھاوے کی تمنا میں۔ ایک اعتراف میں یہ بھی کرنا چاہتی ہوں کہ اگرچہ میں نے پائوں کا بہانہ محض شادی سے بچنے کے لیے کیا تھا مگر کیا معلوم تھا کہ مجھے خود ہی نصیحت مل جائے گی۔ عطیہ نے میرا دل جیت لیا‘ اپنی ملنساری اور خدمت گزاری سے‘ اگرچہ میں اب تک عطیہ کو اپنی بہو بناچکی ہوتی مگر کبھی دل سے قبول نہ کرتی جبکہ اس کی خدمت کے بعد میں دل سے اس کی تمنا کرتی ہوں۔‘‘ عطیہ نے شرما کر سر جھکا لیا جبکہ ندیم بھی ماں کے اس مثبت رویہ پر خوش تھا۔ واقعی ندیم اور عطیہ کی محبت میں اتنی طاقت تھی کہ یہ محبت نفرت پر حاوی رہی اور محبت تو جیت ہی جاتی ہے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close