محبت ہوگئ شاید

محبت ہوگئی شاید

نزہت جبین ضیاء

’’کیا نیوز ہے…؟ کیا سیرت آپا ماں بننے جارہی ہیں…؟‘‘ تزکیہ نے پوچھا۔
’’نہیں جناب! لگتا ہے کہ آپ کو سیرت آپا کی جگہ کچھ دنوں بعد یہی نیوز بتانی ہوگی۔‘‘ تقدیس کی بے باک شرارت پر تزکیہ کا دماغ گھوم گیا۔
’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا…؟ گرمی کا اثر ہوگیا ہے دماغ پر… جو دل میں آئے بولے چلی جارہی ہو… کچھ شرم لحاظ ہے کہ نہیں…؟‘‘
’’اوکے اوکے! غصہ نہ کرو میری پیاری آپا! شاید میں زیادہ بول گئی دراصل ایکسائٹمنٹ ہی ایسی ہے سلمی خالہ اپنے اکلوتے بیٹے کا رشتہ تمہارے لیے لے کر آئیں تھیں۔ وہ تمہیں پسند کرتی ہیں اور تم کو ہی بہو بنانا چاہتی ہیں۔‘‘
’’ہائیں…‘‘ تقدیس کی بات پر تزکیہ نے حیرانی سے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
’’ہاں جی اور ذرا یہ تو بتاؤ کہ موصوف کیسے ہیں؟ تم نے انہیں دیکھا ہے ناں؟‘‘ تقدیس نے شرارتی انداز میں قریب آکر تجسس بھرے لہجے میں سوال کیا۔ تزکیہ کی نگاہوں میں ابریز کا سراپا گھوم گیا۔شاندار پرسنالٹی اونچا لمبا سانولا اسمارٹ سا ابریز بلیک پینٹ اور بلیک اینڈ وائٹ لائننگ والی شرٹ میں خاصا اچھا لگ رہا تھا۔ سنجیدہ سوبر اور نیچی نگاہیں کیے وہ سلمیٰ آنٹی کے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھا تھا۔
’’او ہیلو محترمہ! کہاں کھو گئیں…؟کیا ابریز میاں کے ساتھ ان کے گھر پہنچ گئیں ابھی سے؟‘‘تقدیس نے آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر شرارتی لہجے میں کہا تو وہ چونکی اور جھینپ گئی۔
’’پاگل ہوگئی ہو کیا؟میں نے کون سا ان کو دیکھا ہے؟ میں وہاں پھوپو کے لیے گئی تھی سمجھیں تم۔‘‘تزکیہ نے لہجے کو سخت بنانے کی ناکام کوشش کی۔
’’گئیں تھیں پھوپو کی خدمت کرنے اور جادو چلا دیا بیچاری سلمیٰ آنٹی اور ان کے اکلوتے فرزند پر۔‘‘تقدیس بدستور شرارتی لہجے میں بولی۔
’’چپ کرو تقدیس تھپڑ لگا دوں گی میں۔‘‘تزکیہ مصنوعی غصے سے چلائی۔ دل تھا کہ خوش گواراحساسات کی زد میں تھا۔ ابریز گڈ لولکنگ تھا۔ پیسے والا اور اکلوتا جب کہ تزکیہ خود کو عام سی لڑکی سمجھتی تھی۔ چھوٹے سے گھر اور سفید پوشی کے بھرم کو برقرار رکھنے والی فیملی سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔جس کے لیے ان کے جیسا کوئی لڑکا درکارتھا یوں اچانک ابریز کے رشتے کا سن کر وہ حیرت کے ساتھ ساتھ خوش بھی تھی…سلمیٰ آنٹی نے پسند کیا ہوگا؟لیکن … آج کل کے لڑکے بھلا ایسے کیسے شادی کرسکتے ہیں؟ یقیناً ابریز نے بھی دیکھا ہوگا۔ اس نے ہی سلمیٰ آنٹی کی پسند کو رضا مندی بھی اسی صورت میں دی ہوگی وہ عجیب سے خوشگوار احساسات کی ز د میں تھی۔پھر تو رات تک سیرت اور تقدیس نے تزکیہ کو خوب چھیڑا۔ ابصار آیا تو وہ بھی شامل ہوگیا۔تزکیہ مسکراتی رہی۔ الیاس احمد آئے ناظمہ بیگم سیرت اور ابصار نے مل کر یہ طے کیا کہ اگلے سنڈے وہ لوگ جاکر سلمیٰ بیگم کا گھربار دیکھ آئیں گے اور ابریز سے بھی ملاقات کرلیں گے اور ضروری باتوں کے بعد رشتہ طے کردیاجائے گا۔
سیرت بھی اپنے سسرال میں خوش تھی۔ پھر شبانہ بیگم کو بلوا کر ان لوگوں نے میٹنگ کی اور شبانہ بیگم اور خالد صاحب اور گھر کے افراد سلمیٰ کے گھر گئے۔ امارت کے لحاظ سے وہ لوگ خاصے مستحکم تھے ابریز نہ صرف خوب صورت و ہینڈسم تھا بلکہ لاکھوں کی جائیداد کا مالک اور اچھی پوسٹ پر تھا۔ بظاہر کوئی نیگٹیو پوائنٹ نظر نہ آتا تھا۔ سلمیٰ بیگم کیونکہ بیمار تھیں اس لیے وہ چاہتی تھی کہ شادی جلد ہوجائے۔ ضروری فارملیٹیز کے بعد رشتہ طے کردیا گیا۔
ستارہ بیگم اور جبار صاحب بھی آئے تھے ستارہ بیگم کا منہ تو حیرت سے کھلا ہی رہ گیا کہ الیاس احمد کی بیٹی اتنے بڑے گھر کی اکلوتی بہو بننے جارہی ہے۔ شبانہ بیگم نے دل سے دعائیں دیں۔
’’الیاس احمد! اللہ پاک ہم پر کتنا مہربان ہے۔ گوکہ سیرت کی شادی کے لیے ہم کافی پریشان رہے۔ رشتہ دیر میں طے ہوا مگر… مگر الحمداللہ آج سیرت اپنے گھر میں کتنی خوش اور مطمئن ہے اور اب۔ اب تزکیہ کے لیے اتنا اچھا رشتہ‘ اتنے اچھے اور سادہ لوگ ہیں سلمیٰ بہن وغیرہ۔میں نے تو شکرانے کے دو نفل بھی ادا کیے ہیں کہ اللہ پاک نے ہم کو بیٹیاں ضرور دی ہیں مگر ان کے لیے اچھا اور بہتر راستہ بھی رکھا ہے۔ بس بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں شاد آباد رہیں۔ ماں باپ کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے؟‘‘
ناظم بیگم کی آنکھیں بیٹیوں کے ذکر پر بھرآئیں۔ رات کو بستر پر لیٹیں تو الیاس احمد سے کہا۔
’’ہاں ناظمہ!‘‘الیاس احمد نے لمبی سانس لے کرکہا۔
’’بیٹیاں اپنے گھر میں آباد رہیں‘ انہیں کوئی دکھ کوئی ملال نہ ہو‘ سسرال میں رہ کر ہمارا نام روشن کریں۔ ان کی تعریف ہوتو ہماری تربیت کا حق ادا ہوجائے گا۔ اللہ پاک ان کو خوش رکھے۔‘‘الیاس احمد کالہجہ بھی بھیگنے لگا۔ بیٹیوں میں تو ان کی جان اٹکی ہوئی تھی۔
’’آمین ثم آمین۔‘‘ناظمہ بیگم جلدی سے بولیں۔
سلمیٰ بیگم پر خلوص اور ہمدرد خاتون تھیں۔ انہوں نے سختی سے اس بات کی تاکید کی تھی کہ ہمیں جہیز کے نام پر کوئی تنکا بھی نہیں چاہئے۔ ہمارے پاس ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ اولاد سے قیمتی اورکیا شے ہوگی؟اولاد ہی ماں باپ کا سرمایہ ان کی دولت آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہوتے ہیں۔ بچوں کے سکھ دکھ ہنسی رونا فرمائشیں کرنا‘ لاڈ کرنا یہ سب ماں باپ کے جینے کا سہاراہے۔ جس کو دیکھ دیکھ کر ماں باپ جیتے ہیں۔ اور جب لڑکی کی شادی کرنے کا وقت آتا ہے تو نازوں کی پلی‘دل کی ٹھنڈک آنکھوں کی روشنی جیسی اپنی عزیز شے اٹھا کر دوسروں کے حوالے کردیتے ہیں۔ لبوں پر ڈھیروں دعائیں اور بے شمار انجانے خدشات دلوں میں جنم لیتے ہیں اور اچھی مائیں ہمیشہ بیٹی کو رخصتی کے وقت بے شمار نصیحتیں کر کے ہی ڈولی میں بیٹھا کر رخصت کرتی ہیں۔
اور سلمیٰ بیگم جانتی تھیں کہ تزکیہ ناظمہ بیگم جیسی خاتون کی بیٹی ہے وہ اپنے ساتھ پلو میں باندھ کر اعلیٰ اوصاف‘ سگھڑاپا‘ نیکی اور محبتیں ہی لائے گی وہ گھر کو سمیٹنا جانتی ہے۔ رشتوں کے تقدس کا پاس رکھنا آتا ہے۔ ایسی لڑکیاں ہی اچھی عورتیں ثابت ہوتی ہیں اور اپنے حسن و عمل سے اپنی تربیت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہیں۔ روپیہ پیسہ لاکھوں کا جہیز یہ سب مادی اشیاء ہیں آج ہیں تو کل ختم…لیکن تربیت اور عمل وہ چیز ہے جو ہمیشہ ہمیشہ ساتھ رہتی ہے اور اچھے معاشرے کے جنم دینے میں معاون و مدد گار بھی ثابت ہوتی ہے۔
شادی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ تزکیہ بھی خوش تھی لیکن کبھی کبھی وہ انجانے خدشات سے تھوڑا سا گھبراجاتی کہ پتہ نہیں ابریز کی نیچر کیسی ہوگی؟ اتنے امیر ہیں تو شاید پرائو ڈی بھی ہوں؟
’’ارے آپا تم تو پاگل ہو …اگر ابریز بھائی نے تم کو نہ دیکھا ہوتا تو بھلا کیسے رضا مندی دیتے؟نہ تو وہ کوئی لڑکی ہیں اور نہ ہی آج کل ایسا زمانہ ہے کہ کوئی بھی بنا اپنی مرضی اور رضا مندی کے رشتے کے لیے راضی ہوجائے اور ابریز بھائی جیسا سوشل اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پوش فیملی سے تعلق رکھنے والا خود مختار بندہ بھلا کیسے اماں کے فیصلے کے آگے سرجھکا سکتا ہے؟بس بات اتنی سی ہے کہ ابریز بھائی سوبر اور ڈیسنٹ بندے ہیں۔ آج کل کے لڑکوں کی طرح چھچھورے اور بے صبرے نہیں کہ ہر وقت موبائل پر بات کرتے رہیں۔ دوسری بات یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم لوگ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شریف اور سفید پوش لوگ ہیں اس لیے انہوں نے یہ سب کچھ کرنا مناسب نہیں سمجھا ہوگا۔ یہ تو ان کی اعلیٰ ظرفی اور اچھے کردار کی نشانی ہے ناں کہ وہ لڑکے ہو کر بھی ایسی کوئی حرکت نہیں کررہے ہیں اورپھر چند ماہ کی تو بات ہے پھر تو ان کی اماں کا انتخاب ان کی پسند یعنی تم ان کے پاس ہوگی۔ان کے ساتھ اور ہر دم ان کی آنکھوں کے سامنے رہوگی۔ تب وہ دل بھر کر تمہیں دیکھیں گے بھی اور باتیں بھی کریں گے… ‘‘ سمجھاتے سمجھاتے آخر میں تقدیس نے جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر شرارت سے آنکھیں گھمائیں۔
آجاوے ساجن آجاوے سجن
ڈھونڈ رہی تجھے تزکیہ کی نظر
ساتھی سکھی سب راہ تکے ہیں
نین بچھائے تیرے راہوں پر
ڈھونڈ رہی تجھے تزکیہ کی نظر
تقدیس شرارتی لہجے میں زور زور سے گاتی ہوئی کمرے سے بھاگ گئی۔ اور تزکیہ زیر لب مسکرا کر ابریز کے خیالوں میں گم ہوگئی۔
شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں سلمیٰ بیگم کے لاکھ منع کرنے کے باوجود ناظمہ بیگم نے ان سے کہہ دیا تھا کہ
’’بہن ہم نے جو کچھ بھی تزکیہ کی امانت سمجھ کر رکھا ہے اور جو کچھ ہم نے سوچا ہے وہ ہم اس کا حق سمجھ کر اسے دیں گے۔ بے شک اس کی ذات سے آپ کو کبھی کوئی شکایت نہ ہوگی۔ مجھے اپنی تربیت پر اتنا بھروسہ ہے کہ ان شاء اللہ وہ کبھی بھی آپ کے لیے تکلیف کا باعث نہیں بنے گی مگر… کچھ ہماری بھی خواہشات ہیں۔ جو ہم نے اپنی بیٹیوں کے لیے سوچ رکھی ہیں۔ کچھ خواب ہیں جو ہم نے برسوں سے اپنی آنکھوں میں سجا کر رکھے ہیں۔ ہمیں ان خوابوں کو اور خواہشوں کو پورا کرنے سے نہ روکیں۔‘‘اور سلمیٰ بیگم نے مسکرا کر ناظمہ بیگم کے ہاتھ تھام لیے۔
’’نہیں آپ اپنی خوشیاں ضرور پوری کریں یہ آپ کا حق ہے مجھے صرف اپنی بچی سے غرض ہے۔‘‘ ناظمہ بیگم مسکر اکر چپ ہوگئیں۔
شادی سے دس دن پہلے سیرت آگئی تھی۔ جب کہ شبانہ بیگم ہفتہ پہلے آگئی تھیں۔ خلاف توقع نویدہ بھی بڑھ چڑھ کر شادی کی تیاریوں میں حصہ لے رہی تھی۔ عبدالجبار کی فیملی بھی شادی کی تیاریوں میں شامل تھی۔ سلمیٰ بیگم نے مایوں اور مہندی کی رسومات سے پرہیز کرنے کو کہاتھا اس لیے شادی اور ولیمہ بس دوتقاریب کی تیاریاں کرنی تھیں۔شادی والے دن تزکیہ جب پارلر سے تیارہو کر آئی تو بے تحاشہ حسین نظر آرہی تھی۔ ریڈ اور گرین سلور میچنگ کے بھاری کام والے شرارے پر ریڈ اور گرین پرل اور نگینوں کی جیولری ماتھے پر سجاریڈ اور گرین آویزوںوالا ٹیکا جس کی چمک سے اس کی کشادہ پیشانی روشن ہورہی تھی۔خوب صورت ہیئر اسٹائل اور نفاست سے سیٹ کیے گئے بھاری دوپٹے کے پیچھے سے اس کا حسین چہرہ غضب ڈھا رہا تھا۔ ناظمہ بیگم نے اس کا صدقہ اتارا تو شبانہ بیگم نے اس پر آیت الکرسی کا دم کردیا۔
بارات آئی! ابریز بھی کچھ کم خوب صورت نہیں لگ رہا تھا بلیک شیروانی جس پر کاپر دبکے اور نگینوںکا نازک سا کام تھا کاپر پاجامہ کا پر اور بلیک کھسہ اور اس پر بلیک اور کاپر سلک کی پگڑی میں اپنے دراز قد کے ساتھ مردانہ وجاہت کا مکمل نمونہ دکھائی دے رہا تھا۔ ہر نظر دونوں کو دیکھ کر رشک کررہی تھی۔ ہر زبان پر ماشاء اللہ تھا۔دیگر اور ضروری رسومات سے فارغ ہوئے آخر کار رخصتی کا وقت آگیا۔ ایسا وقت دلہن کی رخصتی کے وقت جہاں گھر والے مغموم اوراداس ہوتے ہیں وہاں دلہن کو دکھ اداسی میکہ چھوٹنے کا غم الگ ستاتا ہے۔ ایک لڑکی کے لیے وہ لمحہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ جہاں اس نے عمر کے کئی سال گزارے ہوتے ہیں اس کے دل میں کیا کیا سوچیں‘ کیا کیا خیالات ہوتے ہیں بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر شرارتیں لڑائی جھگڑے‘ پیار ماں کی گود میں سررکھ کرسوجانا‘ بابا کے کاندھے پر چڑھ کر کھیلنا…بھائی سے ضدیں منوانا بہنوں سے جھگڑے کرنا‘ جہاں سہیلیوں کے ساتھ مل کر گڑیوں کی شادیاں رچاتی جاتی ہیں اور ایک دن وہی ننھی منی گڑیا اتنی بڑی ہوجاتی ہے کہ اس کو سب کچھ یہیں چھوڑ کر نیا گھر بسانے نئی جگہ جانا پڑجاتا ہے۔ یادیں دکھ سکھ ہنسا رونا اور اس کے ساتھ ساتھ شادی کے وقت لڑکی کو اپنا بچپن بھی میکے میں چھوڑ کر جانا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہاں جاکر نئے گھر کی بنیاد رکھنی ہوتی ہے احساس ذمہ داری خلوص محبت اور رشتوں کا بھرم رکھناہوتا ہے۔
وہیں خوب صورت اور حسین خواب بھی آنکھوں میں اترآتے ہیں۔ نیا گھر نیا ماحول اور نیا ہمسفر خود کو ایڈجسٹ کرنے کی منصوبہ بندی مستقبل کے حسین خواب کچھ اندیشے کچھ واہمے گھبراہٹ شرم و حیا بہت سے سپنے۔ الٹی سیدھی اور خوش گوار سوچیں…دھڑکتے دل کے ساتھ لڑکی باپ کی شفقت بھری بانہوں کو چھوڑ کر محبت بھری بانہوں کے حصار میں آجاتی ہے۔
تزکیہ بھی دل میں حسین جذبے خوش گوار سوچیں اور کچھ خدشات لے کر میکے کی دہلیز پارکرکے سسرال آگئی تزکیہ خوش تھی۔ ایک بہترین پرآسائش زندگی اس کا انتظارکررہی تھی۔ جاذب نظر اور خوب صورت ہمسفر اس کے ساتھ تھا جس کے ساتھ ساتھ اب اس کو زندگی کاطویل سفر طے کرنا تھا۔محبتوں کے ساتھ خلوص اور چاہتوں کے ساتھ۔ جہاں سلمیٰ بیگم جیسی شفیق ہستی کا بے تحاشہ پیارملنے جارہا تھا۔ سلمیٰ بیگم اپنے بیٹے بہو پرواری صدقے ہورہی تھیں انہوں نے گھر میں داخل ہونے سے پہلے بکروں کا صدقہ بھی دیا تھا۔آج وہ بہت خوش تھیں کہ تزکیہ جیسی لڑکی ان کی بہو بن کر آگئی تھی جس کو ان کی جہاندیدہ نگاہوں نے چند دنوں میں پرکھ لیا تھا کہ گھر بسانے والی بنانے والی اور رشتوں کا تقدس رکھنے والی لڑکی تھی۔ جس کی تربیت میں کوئی جھول نہ تھا۔
تزکیہ کو سجے سجائے بیڈ روم میں پہنچا دیاگیا تھا۔ تزکیہ نے تکیے سے ٹیک لگا کر کمر کو سیدھا کیا اور لمبی سانس لے کر کمرے کا سرسری سا جائزہ لیا۔ کافی بڑا بیڈ روم تھا جس میں بیڈ روم سیٹ تو اس کے جہیز کا تھا اس کے علاوہ ایک طرف چھوٹا سا مگر خوب صورت سا صوفہ سیٹ رکھاتھا۔سائیڈ پر دیوار پر بنے نازک شیشے کے شیلف پر خوب صورت اور قیمتی شوپیز رکھے تھے بیڈ سے تھوڑے فاصلے پر ایزی چیئر رکھی تھی ایک طرف چھوٹا سانفیس بک شیلف بنا ہوا تھا جس میں سلیقے سے بکس سجی ہوئی تھیں۔ کمرے میں گلاب اور موتیے کی مہک اس ماحول کو مزید دلفریب بنا رہی تھی۔ تزکیہ کا دل دھڑکنے لگا تھا۔ خوب صورت خوابناک ماحول خوب صورت ساتھی کی سنگت وہی سب کچھ جس کا ایک لڑکی خواب دیکھتی ہے۔ وہی سب کچھ اسے مل گیا تھا وہ خود کو بہت خوش قسمت تصور کررہی تھی۔
تب ہی آہستہ سے دستک ہوئی…ابریز کمرے میں داخل ہوا تو…تزکیہ کا سرخود بخود جھکنے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ قریب آرہا تھا۔ ادھر تزکیہ کے دل کی دھڑکنیں بڑھتی جارہی تھیں تزکیہ کی سماعتیں اس کے لبوں سے خوب صورت اور دل نشین جملے سننے کی منتظر تھیں شرم وحیا اور گھبراہٹ نے تزکیہ کے حسن نے مزید دلکشی پید ا کردی تھی۔
’’محترمہ تزکیہ صاحبہ۔‘‘ابریز کی سخت اور کھردری آواز پر وہ چونکی۔ یہ کیسا انداز مخاطب تھا؟ تزکیہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’اگر آج تم یہاں پر اس جگہ میرے بیڈ روم تک آپہنچی ہوتو یہ صرف اور صرف میری مما کی پسند اور خواہش کی وجہ سے …تمہیں یہاں تک لانے میں ایک فیصد بھی میری مرضی شامل نہیں…نہ تم سے وابستگی ہے اور نہ ہی قلبی لگائو کیونکہ میں…میں اپنی دوست کشمالہ سے محبت کرتا ہوں اور صرف اس کو ہی اپنی بیوی بنانا چاہتا ہوں…‘‘
ایک ایک لفظ پر تزکیہ کی آنکھیں پھیلتی گئیں…الفاظ کے نشتر دل میں اترتے چلے گئے۔
’’یہ…یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘وہ بمشکل کہہ پائی۔
’’وہی کہہ رہاہوں جو تم نے سنا…نہ جانے تم نے میری مما پر کیا جادو کردیا تھا کہ ان کو سوائے تمہارے کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا اور میرے نہ چاہتے ہوئے بھی انہوں نے تمہاری صورت میں میرے پیروں میں زنجیر ڈال دی۔اور تم…تم میرے لیے ناقابل برداشت ہو۔‘‘
اف… اس قدر تذلیل۔
’’تو آپ نہ کرتے شادی…انکار کیوں نہیں کردیا… کیوں سزا دی خود کو… اور مجھے بھی؟ایسی کون سی مجبوری تھی کہ آپ نے یہ قدم اٹھالیا اور آج… آج یہاں پر اس مقام پر آکر آپ یہ سب کہہ رہے ہیں۔ ایسا تھا تو پہلے سے انکار کردیتے ناں۔اتنا سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘وہ بے ساختہ روپڑی۔
’’تھی مجبوری کیونکہ مما کو جگر کا کینسر ہے ہارٹ پرابلم ہے… ڈاکٹر کے مطابق مما چند ماہ کی مہمان ہیں۔ میں اس وقت مما کے خلاف جاکر ان کو دکھ نہیں دینا چاہتاتھا۔ تم مما کی پسند تھیں اور میرا مما کے علاوہ کوئی نہیں۔ تم یہاں پر صرف مما کی وجہ سے ہو۔ سمجھو یہ ہمارے درمیان چند ماہ کا کنٹریکٹ ہے خدا تعالیٰ میری ماں کو سلامت رکھے لیکن تم کان کھول کر سن لو تم…تم صرف مما کی زندگی تک میرے ساتھ رہوگی۔ اس کے بعد میں تم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد کردوں گا اور کشمالہ کو اپنا لوں گا۔‘‘ اف تزکیہ نے سختی سے اپنے ہونٹ بھینچ لیے…یہ کیا کہہ رہا تھا وہ؟
’’ہاں‘ یہ بات اچھی طرح سے دماغ میں بیٹھا لو کہ تمہیں مما کا دھیان رکھنا ہے… میرا تمہارا کوئی رشتہ کوئی واسطہ نہیں رہے گا تم میرے کمرے میں بظاہر میری بیوی کی حیثیت سے رہوگی مگر میرا تم سے ایسا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ تم نے میرے اور کشمالہ کے درمیان آکر ہمیں ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔ اس لیے مجھے تمہارے وجود سے نفرت ہے سخت نفرت۔ اس گھر کی ہر چیز پر تمہارا حق ہوگا سوائے میرے۔ میرے دل میرے جذبات… کیونکہ میری محبت میری وابستگیاں میرے جذبات صرف اورصرف کشمالہ کے لیے ہیں۔‘‘
’’اف اللہ۔‘‘ تزکیہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چکراتا سر تھام لیا۔
’’اور ہاں ایک بات اچھی طرح سے کان کھول کر سن لو… یہ سارے ڈرامے بازیاں اس کمرے کی حد تک رکھنا اگر میری مما کو ذرا سی بھی بھنک پڑی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگاکیونکہ جب تک مما ہیں تب تک تمہارے لیے اس گھر میں جگہ ہے۔ مما کے بعد تمہارا رابطہ تمہارا واسطہ اس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ سمجھیں تم؟‘‘
’’یہ لو۔‘‘ سرخ مخملی ڈبیہ اس کی جانب اچھالی۔
’’یہ پہن کر رکھنا مما کے سامنے۔‘‘ نازک جڑائو بیش قیمت اور خوب صورت کنگن جس پر نظریں ٹھہر نہیں رہی تھیں وہ زہریلے نشتر جیسے لفظوں سے اس کے وجود کو چھلنی چھلنی کرکے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ تزکیہ اپنے لہولہو وجود کو سمیٹنے کی ناکام کوشش کرنے لگی اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔
’’یا اللہ یہ سب کیا ہوگیا؟‘‘اتنی ہتک اتنی بے اعتنائی ایسا کٹھور اور ظالمانہ انداز یہ سب کیا ہورہاتھا اس کے ساتھ؟کیا نئی نویلی دلہن کا کوئی ایسا استقبال بھی کرتاہوگا؟اتنی تذلیل اتنی تحقیر اس کا سارا وجود ریزہ ریزہ ہورہاتھا۔ آنکھوں سے آنسو مسلسل رواں تھے۔ دل تڑپ رہا تھا۔ ابھی کچھ دیرپہلے وہ کتنی مسرور کتنی خوش تھی اپنی قسمت پر رشک کررہی تھی دل میں ہزاروں خواہیش سمیٹے‘ جذبات چھپائے اس کی آنکھیں ابریز کی دید کی منتظر تھیں۔ اس کی سماعتیں خوب صورت اوربے باک جملوں کی گنگناہٹ کی طالب تھیں۔ سب کچھ الٹ ہوچکا تھا سارے سپنے‘ خواہشات‘ انتظار‘ طلب‘ آرزوئیں سب کچھ مٹی میں ملا کر تزکیہ کے نازک وجود پر الفاظ کے زہریلے کوڑے برسا کر وہ اپنا فیصلہ سنا کر احکامات سنا کر پابندیاں لگا کر وہ ابن آدم حوا کی بیٹی کو روتا سسکتا چھوڑ کر مطمئن تھا۔
’’سنو۔‘‘وہ دوبارہ سرپر آگیا۔’’اگر تم چاہوتو واپس اپنے گھر جاسکتی ہو۔‘‘
’’نہیں۔‘‘بے ساختہ تڑپ کر نگاہ اٹھائی۔
’’ہاہاہا۔‘‘ ابریز نے خوفناک قہقہہ لگایا۔’’ہاں مجھے امید تھی کیونکہ تم شریف والدین کی بیٹی ہو اور بہترین تربیت یافتہ بھی۔‘‘ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے زہر خندلہجے میں کہہ کر وہ بیڈ پرلیٹ گیا۔ تزکیہ بے بسی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ وہ منہ دوسری طرف کرکے اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا۔
تزکیہ نے ٹھنڈی سانس لے کر سامنے لگے قد آدم آئینے میں اپنا سجا سنورا روپ دیکھا… یہ ساری تیاریاں یہ سجا ہوا روپ یہ سب تو اسی دشمن جاں کے لیے تھا جس کے نام سے منسوب ہوکر وہ یہاں آئی تھی۔ اس نے تو نظر ڈالی بھی تو نفرت کی۔ سارے سپنے ساری خواہشات سب کچھ ایک لمحے میں مٹی میں ملا کر رکھ دیا۔ بے عزتی اور ندامت کے احساس سے وہ سلگ اٹھی۔ ایسی توہین لگتا تھا سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں ختم ہوچکی تھیں۔ بے آواز سسکیاں اپنے اندر اتارتے اتارتے آنسوؤں کاپھندہ حلق میں اٹک گیا۔
’’سنو! یہ سوگ منانابند کردو اب… اٹھ کر ڈھنگ کے کپڑے پہنو…مجھے وحشت ہورہی ہے تمہارے اس حلیے سے۔ زہر سے بھی بری لگ رہی ہو تم… میری آنکھیں توصرف اور صرف کشمالہ کو اس روپ میں دیکھنے کی متمنی ہیں۔ میرے کان اس کی خوب صورت سرگوشیاں سننا چاہتے ہیں یہ میری بدنصیبی ہے کہ تم یہاں اس حال میں اپنا منحوس وجود لے کر بیٹھی ہو۔‘‘
’’بدنصیبی …بدنصیبی تو میری ہے ابریز…کہ میں تمہارا مقدر ٹھہری۔‘‘دل میں اٹھتی آواز کو دباتے ہوئے وہ اٹھ کر الماری سے سادہ سوٹ نکالنے لگی۔
’’یا اللہ!کس طرح رہ پائوں گی یہاں؟‘‘واش روم میں آکر وہ دوبارہ سے سسک پڑی۔اسے یہ بات بھی سخت تکلیف دے رہی تھی کہ سلمیٰ بیگم کو موزی مرض ہے اور وہ کچھ دنوں کی مہمان ہیں۔مما آپ میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔ آپ کو اللہ کی طرف سے بیماری ملی آپ جانے والی ہیں اور میں بھی کچھ دنوں کی مہمان ہوں۔ آپ کو جسمانی مرض ہے اور میرے روح کے اندر کینسر سرائیت کر گیا ہے۔ میرے روم روم میں ذلت اور تحقیر کا ناسور پھیل گیا ہے۔ زہریلے الفاظ کے زہریلے نشتر لا علاج کینسر کی شکل میں میری رگ رگ میں اتار دیئے گئے ہیں۔ میرا مرض تو لا علاج ہے نہ کوئی طبیب ہے نہ کوئی حکیم۔ جو میری بے وقعتی کو میری پل پل کچلتی انا کو میرے روح کے شگافوں کو شفا دے سکے۔ کہاں سے لائوں گی اتنی ہمت۔ کیسے برداشت کروں گی یہ سب؟ یااللہ مجھے ہمت دے۔ مجھے حوصلہ اور برداشت دے میرے مالک کہ ایک مرتی ہوئی ماں کے سامنے اس کے بیٹے کا بھرم رکھ سکوں۔ مجھے ان حالات میں رہ کر جینے کا حوصلہ دے میرے مالک۔‘‘
’’ابریز حسن! تم بھی دیکھنا کہ میں کس طرح جی کر دکھاتی ہوں… ایک مرتی ہوئی ماں کے لیے کس طرح ڈبل فیس زندگی گزارتی ہوں؟ میں آپ کو ثابت قدم رہ کر دکھائوں گی۔ میں یہ ثابت کردوں گی کہ میں واقعی نیک اور شریف ماں باپ کی اولاد ہوں۔میں آپ کو سچ مچ یہ دکھادوں گی کہ میری تربیت میں کہیں بھی کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘بے تحاشہ بہنے والے آنسوئوں کو پانی کے ساتھ بہاتے بہاتے تزکیہ نے ہمت اور حوصلے کا فیصلہ کیا اور بڑے عزم کے ساتھ خود کو آنے والے حالات کے لیے تیار کرلیا۔
تزکیہ واش روم سے باہر آئی تو ابریز منہ تک چادر تان کر سوچکا تھا یا نہیں کچھ اندازہ نہ ہوا۔ تزکیہ نے سارا زیور اٹھا کر الماری میں رکھا۔ ابریز کا دیا ہوا گنگن دائیں ہاتھ میں ڈالا۔ نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ تکیہ اٹھا کر صوفے پر آبیٹھی۔
’’آپا یار ابریز بھائی کے دوست بھی ان کی طرح بڑے ڈیشنگ ہیں ان سے کہہ کر کہیں میرا بھی معاملہ حل کروا دینا۔‘‘یہ سرگوشی تقدیس کی تھی۔ اس کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ آگئی۔
’’تقدیس میری جان! تیری بہنا ہی یہاں ان فٹ ہے۔ بھلا تجھے کہاں فٹ کروائے گی…‘‘ تب ہی ابریز کا سیل فون بجنے لگا تزکیہ خیالات سے چونکی رات کے ساڑھے تین بج رہے تھے۔ کس کی کال ہوگی؟ ابریز نے لپک کر سیل اٹھالیا۔
’’جی جانو! بولو۔‘‘ تزکیہ سمجھ گئی کہ رات کے اس پہر کون ہوسکتاہے۔
’’تم پاگل تو نہیں ہوگئیں؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے میں مرکر بھی تمہاری جگہ کسی کو نہیں دے سکتا…تمہیں تو سب کچھ پتہ ہے ناں یار اوکے …چلو تمہاری تسلی کے لیے ہم باتیں کرلیتے ہیں۔ آئی لویو…آئی لویو سومچ…‘‘
کتنی ڈھٹائی سے وہ کسی غیر لڑکی سے عشقیہ باتیں کررہا تھا۔ اسے اپنی چاہتوں کا یقین دلا رہا تھا۔ وعدے کیے جارہے تھے عامیانہ اور چھچھوری باتیں۔ صرف اور صرف کشمالہ کو اس بات کا ثبوت دے رہا تھا کہ آج کی اتنی اہم اور خوب صورت رات کو وہ تزکیہ کو اگنور کرکے کشمالہ کے ساتھ ہے۔فجر کے وقت ابریز نے کال بند کی۔ تزکیہ کے تن بدن میں سنساہٹ سی اتر گئی۔ ساری رات تزکیہ نے بھی جاگ کر کانٹوں پر گزاری تھی۔ شادی کی پہلی رات تزکیہ نے اپنے شوہر کی وہ عاشقانہ گفتگو سنی جو اس نے اپنی محبوبہ سے کی۔ فجر کی اذانوں کے ساتھ ابریز نے کروٹ بدلی اور گہری نیند سوگیا۔ ساری رات ایک ایک پل تزکیہ نے اذیت میں گزاری تھی۔ ابریز کا ایک ایک لفظ کشمالہ سے میٹھے انداز میں کی جانے والی باتیں اس کے قہقہے اس کی حرکتیں کتنی اذیت ناک تھیں۔ کتنی تکلیف دہ تھی اس لڑکی کے لیے جو دل میں بے شمار خوب صورت جذبات وخیالات لے کر آئی تھی۔ جس کے دل میں اس رات کو لے کر میٹھے جذبے تھے۔ ارمان تھے خواہشات تھیں سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ گزشتہ رات تزکیہ کے لیے گویا قیامت کی رات تھی اورشاید آج کے بعد زندگی میں آنے والی ہر رات میں یہی عذاب یہی کرب اور یہی اذیت اس کے نصیب میں لکھ دی گئی تھی۔ گویا کہ ہر رات اس کے لیے قیامت سے کم نہ ہوگی۔ ابریز گہری نیند میں تھا۔ تزکیہ نے اٹھ کر شاور لیا۔ سی گرین لائٹ کام والا سوٹ پہن کر بالوں کو سلجھایا لمبے بالوں کو کھلا چھوڑکر الماری سے نماز کا دوپٹہ اور جائے نمازنکالی۔ جائے نماز بچھاتے ہوئے بے دھیانی میں سوتے ہوئے ابریز کی جانب نگاہ اٹھائی کتنا پرسکون مطمئن تھا وہ ٹھنڈی سانس لے کر جائے نماز بچھائی اور فجر کی نماز کے لیے کھڑی ہوگئی۔ نماز کے بعد دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے تو ڈھیر سارے آنسو آنکھوں میں چلے آئے۔
’’یا اللہ پاک مجھے ہمت دے حوصلہ دے۔ میں ثابت قدمی سے اس امتحان میں پوری اتر سکوں۔ میں صرف ایک مرتی ہوئی عورت کی ضرورت ہوں۔ مجھے اتنا حوصلہ دے کہ میں مما کے معیار پر پوری اتر سکوں۔ میری ذات سے ان کو کوئی دکھ کوئی تکلیف نہ ہو۔ آنسو متواتر آنکھوں سے بہتے رہے اور وہ دعائیں مانگتی رہی۔ نماز سے فارغ ہوکر بالوں کو سمیٹ کر کیچر میںجکڑا۔رات بھر جاگنے اور مسلسل رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ اور متورم ہورہی تھیں۔ نیند کا خمار بھی چھایا ہوا تھا۔ جائے نماز تہہ کرکے شیلف پر رکھی اور صوفے پر آکر لیٹی تو تھوڑی دیر میں نیند کی دیوی مہربان ہوگئی۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ سامنے ابریز کھڑا بالوں میں برش کررہا تھا۔ ابھی ابھی باتھ لے کر آیا تھا۔ لائٹ گرے کرتے اور وائٹ شلوارمیں نکھرا نکھرا بہت فریش لگ رہا تھا۔
’’محترمہ اگر نیند پوری ہوگئی تو اٹھ جائیں۔ مما نے بلوایا ہوگا۔‘‘طنز یہ لہجے میں کہا تو تزکیہ جھینپ گئی۔
ناشتے پر سلمیٰ بیگم ڈھیروں لوازمات سجائے منتظر بیٹھی تھیں۔
’’السلام علیکم مما۔‘‘تزکیہ نے قریب جاکر جھک کر انہیں سلام کیا۔
’’جیتی رہو جیتی رہو…شاد آباد رہو‘ اللہ پاک تمہیں بہت ساری خوشیاں نصیب کرے‘ سدا سہاگن رہو۔‘‘ سینے سے لگا کر محبت بھرے لہجے میں ڈھیروں دعائیں دیں ان کی محبت پر تزکیہ کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
’’ارے مما! ایسی بھی کیا بے رخی بہو کو دیکھ کر بیٹے کو بھول گئیں ہمیں بھی کچھ دعائیں ملیں گی یا نہیں؟‘‘ ابریز نے شرارتی لہجے میں کہا تو سلمیٰ بیگم نے اس جھکے سر کو چوم لیا اور ہنس دیں۔ ناشتے سے فارغ ہوئے تو سیرت اور تقدیس تزکیہ کو لینے آگئے۔
’’کیسی ہو تزکیہ؟ گھر اور ابریز کو دیکھ کر اس سے مل کر کیسا لگا؟‘‘موقع دیکھ کر سیرت نے تزکیہ کو کریدا۔
’’بہت اچھا …بہت اچھے ہیں ابریز۔‘‘تزکیہ نے دھیرے سے جواب دیا۔
’’شکر الحمد اللہ! تم خوامخواہ ابریز کو لے کر ٹینشن کا شکار تھیں آپا…‘‘ تقدیس نے بھی مطمئن انداز میں کہا۔
’’ہاں !بہت کیرنگ ہیں‘ بہت سوفٹ نیچر ہے ابریز کی‘ سوبر اور سینس ایبل۔‘‘ اپنے جھوٹ کو جاری رکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے مزید کامیاب ایکٹنگ کی‘ وہ خود بھی حیران تھی اتنی صفائی سے جھوٹ بولنا اس کی تربیت میں شامل تو نہ تھا۔مگر حالات کچھ ایسے پیدا ہوگئے تھے کہ جہاں قدم قدم پر اسے اپنی اناکو مارکر اپنے مزاج اور تربیت کے خلاف جھوٹ بولنا تھا ڈرامے کرنے تھے۔ قول و فعل میں تضاد کے ساتھ زندگی گزارنی تھی تزکیہ کچھ گھنٹوں کے لیے میکے آگئی۔ آج دعوت ولیمہ تھی اور اسے جلدی واپس سسرال جانا تھا۔
دعوت ولیمے کا اہتمام شاندار ہال میں کیا گیا تھا۔ جب وہ ابریز کے ساتھ لائٹوں کی تیز روشنی میں ہال میں داخل ہوئی ابریز نے ہدایت کے مطابق اس کا نرم ونازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھاما تو اس کا ہاتھ کانپ گیا۔ ابریز کے ہاتھوں کا لمس اس کے وجود سے اٹھتی ہوئی Havocکی دل فریب اور مسحور کن خوشبو سے تزکیہ کا نازک سا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔
’’کاش یہ لمحے یونہی امر ہوجائیں اسی طرح ابریز اس کا ہاتھ تھامے ساری زندگی چلتا رہے… کبھی نہ ختم ہونے والایہ سفر یونہی جاری رہے۔‘‘
’’بھابی پلیز اسمائیل۔‘‘فوٹو گرافر کی آواز پر تزکیہ خیالات سے چونکی اور گڑبڑا کر سامنے دیکھنے لگی۔
’’یار بھابی پر تم نے تو جادو کردیا تم سے نظر ہی نہیں ہٹ رہی ان کی۔‘‘کسی دوست کی آواز پر ابریز نے زور دار قہقہہ لگایا۔
’’ارے نہیں یار! میں نے کہاں جادو تو انہوں نے ہم پر کردیا ہے۔ ہم پر تو کیا؟ہماری مما پر بھی۔‘‘آخری جملہ سرگوشی کے انداز میں کانوں میں کہا۔
’’اوئے بس کر دے یار…اور یہاں دھیان دے۔‘‘مووی میکر جو کہ دوست بھی تھا شوخ آواز میں بولا تو سب کا قہقہہ ابھرا۔ تزکیہ بری طرح جھینپ گئی ابریز مسکرا دیا۔
رات کو ایک بار پھر وہ اسی گھٹے ہوئے کوفت زدہ ماحول میں اسی اذیت ناک مرحلوں سے گزرنے کے لیے اسی دشمن جاں کے ساتھ خواب گاہ میں تھی۔ اس ماحول میں سانس لینا بھی مشکل لگتا۔ ایک ایک لمحہ صدیوں کی صورت میں گزرتا۔
ایک دو تین دن گزرے حالات معمول پر آئے تو تزکیہ نے گھر کا جائزہ لیا۔ بڑے سے رقبے پر بنا ہوا جدید طرز کا یہ گھر جس کے بڑے آہنی گیٹ سے داخل ہونے پر درمیان میں راہ داری تھی سرخ فرش والی چوڑی راہ داری کے دونوں سمت لان تھے ایک جانب پیڑوں کے ساتھ بینچز بنے تھے دوسری جانب پلاسٹک کی کرسیوں اور میز کا گارڈن سیٹ کیا ہوا تھا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ کیاریوں میں عشق بیچاں موتیا اور رات کی رانی کی بیلیں تھیں جن سے دیوار یں بھی چھپ گئی تھیں۔ راہ داری سے گزر کر گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہونے کے لیے خوب صورت لکڑی کے کام سے مزین بڑا سا دروازہ تھا جو لائونج میں کھلتا تھا۔ لائونج میں داخل ہوتے ہی سیدھی جانب بڑا سا ڈرائنگ روم جس کی نفاست اور قمتی شو پیسز کو دیکھ کر تزکیہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ آگے دونوں جانب بیڈ رومز بنے تھے۔ ایک سلمیٰ بیگم کا ایک ابریز کا۔ اور دو ایکسٹرا تھے۔ جب کہ نوکروں کے لیے مزید آگے چل کر گھر کے پچھلے حصے میں کمرے بنوائے گئے تھے۔ بڑا سا کچن جس میں ضرورت کے علاوہ غیر ضروری اشیاء بھی موجود تھیں۔ بوڑھی ملازمہ حاجرہ کے علاوہ چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بھی نوکرموجود تھے گو کہ سلمیٰ بیگم بیڈ پر نہ تھیں بظاہر اتنی بیمار بھی نہ لگتیں مگر کبھی اچانک سے طبیعت بگڑ جاتی ان کے لیے پرہیزی کھانا پکاتا جو سکینہ پکاتی تھی۔
وہ اس روز ناشتے سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں گئیں دوا لے کر لیٹیں تو ان کی بھی آنکھ لگ گئی۔ تزکیہ نے ان کے کمرے کی تھوڑی بہت صفائی کی چیزوں کو ترتیب دے کر کچن میں آگئی۔ گھر مکمل طورپر نوکروں کے حوالے تھا۔ ظاہر ہے وہ سب کچھ تو نہیں ہوتا جو ایک خاتون خانہ اپنی مرضی اورپسند کے مطابق کرتی ہے تزکیہ کو کچن میں کوئی خاص صفائی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ برتنوں کی الماری بھی بے ترتیب تھی۔مصالحوں کے ڈبے گندے ہورہے تھے مائیکروویو اندر سے گندا ہورہا تھا۔تزکیہ نے سکینہ کو بلواکر پہلے کچن کی صفائی کرنے کے لیے کہا اور خود بھی ساتھ لگ گئی۔
’’ارے بی بی آپ بس حکم کریں بڑی بی بی کو پتہ چل گیا تو غصہ کریں گی۔‘‘سکینہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔
’’ارے نہیں مما کو خبر بھی نہیں ہوگی اور ہاں آج مما کے لیے سوپ اور دلیہ بھی میں ہی بنائوں گی۔‘‘تزکیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اچھا بی بی آپ کی مرضی۔‘‘ سکینہ کو تزکیہ بہت اچھی لگتی تھی اتنی نرم اور سوفٹ انداز میں بات کرتی کہ بات دل میں اتر جاتی تھی۔ بات مکمل کرکے تزکیہ جیسے ہی پلٹی پیچھے سلمیٰ بیگم کھڑی تھیں۔
’’ارے مما آپ؟‘‘تزکیہ نے گڑبڑا کر کہا اور خوا مخواہ ہی شرمندہ ہونے لگی۔ سلمیٰ بیگم مسکرائیں۔
’’میرے کمرے میں آئو تزکیہ۔‘‘کہہ کر وہ واپس مڑ گئیں۔
’’کہیں مما کو غصہ تو نہیں آگیا؟‘‘وہ دل میں خدشہ لیے دوسرے لمحے ہی ان کے کمرے میں موجود تھی۔
’’بیٹھو یہاں۔‘‘سلمیٰ بیگم نے بیڈ کی طرف اشارہ کرکے کہا تو وہ پاس آبیٹھی۔
’’جی مما؟‘‘ تزکیہ نے سوالیہ نظروں سے سلمیٰ بیگم کی جانب دیکھا۔
’’بیٹی! میں تمہیں گھر کے کاموں کے لیے نہیں بلکہ اپنی بیٹی بنا کر یہاں لائی ہوںاس گھر پر راج کرنے کے لیے لے کر آئی ہوں اور تم نے چند دن بعد ہی گھریلو کام کاج میں حصہ لینا شروع کردیا۔ یہ نوکر کس لیے ہیں؟‘‘ سلمیٰ بیگم نے اس کو دیکھتے ہوئے شفیق لہجے میں کہا۔
’’جی مما!میں جانتی ہوں لیکن میں کیا کروں مجھے تو عادت ہے ناں گھر کے کام کرنے کی۔ اگر کام نہ کروں تو بے چینی ہونے لگتی ہے۔ ایک ہفتے میں میں خود کو سست محسوس کرنے لگی ہوں۔ مجھے اچھا لگے گا مما کہ گھر کے چھوٹے موٹے کام میں خود کروں آپ کے چھوٹے چھوٹے کام کرکے مجھے خوشی محسوس ہوگی مما۔ جیسے میں اماں ابا کے کام کرتی تھی۔‘‘تزکیہ نے معصوم لہجے میں کہا اور سلمیٰ بیگم کا دل بھر آیا۔
’’چلو بھئی جیسے تمہاری مرضی۔ جو تم کو اچھا لگے اب یہ گھر بھی تمہارا ہے اور گھر والے بھی۔‘‘سلمیٰ بیگم نے اس کی پیشانی چوم کر محبت بھرے لہجے میں کہا تو تزکیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’گھر والے؟گھر والے کہاں مما۔ صرف آپ ہیں۔ میری اور وہ بھی چند دن کی مہمان۔ اور میں بھی …میں بھی آپ کی زندگی تک ہوں۔ پھر نہ یہ گھر میرا رہے گا اور نہ گھر والے۔‘‘اس کا دل بھر آیا تھا۔
’’جی مما اللہ پاک آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے آپ ہیں تو سب کچھ ہے۔‘‘تزکیہ نے لہجے کو نارمل بناتے ہوئے مسکرا کرکہا تو سلمیٰ بیگم بھی زیر لب مسکرا دیں۔ پھیکی اور بے جان مسکراہٹ۔
ابریز نے اسے حق زوجیت دیا بھی نہیں بظاہر وہ ابریز کی بیوی تھی جس کو دنیا کے سامنے وہ تفریح بھی کرواتا۔ محبت بھری باتیں بھی کرتا۔ خیال بھی رکھتا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کرتا اور جب اپنے کمرے میں ہوتا تو بالکل مختلف اکھڑ بدتمیز بدمزاج اور سنگدل ابریز بن جاتا۔ جس کی آنکھوں میں صرف اور صرف نفرت ہوتی۔ جس کے چہرے پر تفافر ہوتا۔ اکھڑپن اور حاکمیت ہوتی۔ جس کی باتوں میں طنز اور بدتمیزی ہوتی ایک ایک لفظ میں زہر ہوتا اور تزکیہ چپ چاپ اس کا ہر ظلم ہر زیادتی برداشت کرتی۔ اپنا نصیب سمجھ کر سرجھکا کر صرف اورصرف اپنے رب کے آگے جی بھر کے اپنے دکھ بیان کرتی اس سے ہی ہمت اوربرداشت کی بھیک مانگتی۔
تزکیہ خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی جیسے تیسے اسی ماحول میں اور ان حالات میں جینا تو تھا۔وہ سلمیٰ بیگم کو جوس پلا رہی تھی کہ ابریز آفس سے آگیا۔
’’السلام علیکم مما!کیسی ہیں آپ؟‘‘حسب معمول سیدھا سلمیٰ بیگم کے کمرے میں ہی آیا۔
’’الحمد اللہ بیٹا! تزکیہ کے آجانے سے میرے اندر جیسے توانائی اتر آئی ہے۔ میرے گھر میں اجالاکردیا ہے اس نے تو‘ ہر وقت میرے پاس‘ میرے ساتھ رہتی ہے۔ مجھے ایک لمحے کے لیے بھی تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں بیٹا کہ ہمارے گھر تزکیہ جیسی بچی آئی ہے۔ اللہ پاک تمہاری جوڑی سلامت رکھے شاد آباد رہو۔‘‘سلمیٰ بیگم نے سچے دل سے تعریف کرکے دعائیں بھی دے ڈالیں۔
’’اجالا کیسا اجالا؟مجھ سے پوچھو کہ تمہارے آنے سے میری زندگی میں تو تاریکی پھیل گئی ہے۔ ہر ہر پل اذیت ناک ہے میرے لیے۔ اور خدا نہ کرے کہ میری جوڑی تمہارے ساتھ بنی رہے کیونکہ میرے لیے توصرف اور صرف کشمالہ ہی میری زندگی ہے۔ چاہے مما کو جتنی پٹیاں پڑھا دو۔ ان پر اپنی فرمانبرداری اور خدمتوں کے جادو چلائو۔ تم صرف ان کو ہی بے وقوف بنا سکتی ہو۔ میرے دل میں تمہارے لیے کبھی بھی محبت یاپیار نہ ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔‘‘
تزکیہ چائے لے کر کمرے میں آئی تو آتے ہی ابریز نے زہر خند جملے اس کی جانب اچھالے اور ہاتھ سے چائے کی پیالی لے کر زور سے ٹیبل پر رکھی۔ تزکیہ ان سنی کرکے پلٹ کر الماری سے کچھ نکالنے لگی۔ وہ الماری بند کرکے واپس پلٹی تب تک ابریز گرم گرم چائے حلق سے اتار چکا تھا۔ تزکیہ نے ہاتھ آگے بڑھایا چھبتی ہوئی نظر تزکیہ پر ڈالی اس کے ہاتھ سے کپڑے لیے اور واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
’’تزکیہ بیٹی! کافی دن ہوئے تم اپنی اماں کی طرف نہیں گئیں دو تین دن کے لیے چلی جائو۔‘‘ رات کے کھانے پر سلمیٰ بیگم نے پلیٹ میں سالن نکالتی تزکیہ کو مخاطب کیا۔
’’نہیں مما اس کی کیا ضرورت ہے اور بات تو ہوجاتی ہے میری۔‘‘پلیٹ سلمیٰ بیگم کے سامنے رکھتے ہوئے تزکیہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
’’بیٹی سارا دن گھر میں رہتی ہو‘ کاموں میں الجھی رہتی ہو ذرا باہر بھی جایا کرو۔ تم تو کہیں بھی نہیں جاتیں لڑکیاں تو شاپنگ کی دیوانی ہوتی ہیں۔ تم کیسی لڑکی ہو؟‘‘سلمیٰ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’جی مما پوچھ لیں اپنی بہو سے کب سے کہہ رہا ہوں کہ شام کو کہیں آئوٹنگ پر چلتے ہیں۔ مووی دیکھیں گے شاپنگ کریں گے مگر …مگر آپ کی لاڈلی صاف انکار کردیتی ہے۔‘‘ابریز کے سفید جھوٹ پر تزکیہ نے آنکھیں پھاڑ کر اس کی جانب دیکھا۔
’’دیکھیں مما!اب مجھے گھور کر بھی دیکھ رہی ہے کہ میں نے آپ سے شکایت کردی۔میری بات نہیں مانے گی تو آپ سے ہی بولوں گاناں۔‘‘انتہائی معصومیت سے سلمیٰ بیگم کی طرف دیکھ کر ہنسا۔
تزکیہ اس کی ایکٹنگ پر ششد رہ گئی۔
’’چپ کرو ابریز!تنگ مت کرو میری بچی کو۔ ذرا سی بات پر پریشان ہوجاتی ہے یہ۔‘‘سلمیٰ بیگم نے اس کو دیکھ کر ابریز کی سرزنش کی۔
’’مما! آپ کو تو ہمیشہ اس کا ہی خیال رہتا ہے۔ بڑی جادو گرنی ہے یہ لڑکی اس نے آکر سچ مچ آپ پر جادو کردیا ہے۔‘‘بظاہر ہنستے ہوئے بہت گہری بات کہہ گیا تھا۔تزکیہ چپ تھی۔
’’نہ بھئی نہ یہ تو بہت پیاری بچی ہے۔ بس کل شام کو تم آفس سے آکر اسے پہلے آئوٹنگ پر لے جانا پھر شاپنگ اور آخر میں ڈنر کرکے گھر آنا۔‘‘سلمیٰ بیگم نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
’’اوکے باس۔‘‘ ابریز سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑاساجھکا اور شگفتہ انداز میں کہا تو تزکیہ نے مسکرانے اور شرمانے کی کامیاب ایکٹنگ کی۔

٭٭٭…٭٭٭

تزکیہ نے خود کو ماحول میں ڈھال لیا تھا۔ دن بھر سلمیٰ بیگم کے آمنے سامنے رہتی۔ صبح نماز کے وقت وہ جاگتی۔ بظاہر اس کے پاس اس کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی آج تک درمیان میںصدیوں کا فاصلہ تھا۔
بند دروازے کے پیچھے اسے جس اذیت سے رات بھر گزرنا پڑتا وہ تزکیہ ہی جانتی تھی۔ابریز تو لیٹتے ہی کشمالہ سے کال پر محو گفتگو ہوتا۔ کبھی کبھی جب تزکیہ کی برداشت دم توڑنے لگتی تو وہ صوفے سے اٹھ کر ملحقہ کمرے میں آجاتی۔ بے شمار آنسو اس کے گالوں کو بھگونے لگتے۔ ایک بیوی کے لیے اس سے زیادہ اذیت کیا ہوگی کہ اس کا شوہر اسے قطعی نظر انداز کرکے رات بھر اپنی محبوبہ سے عشقیہ باتیں کرے فحش اوربے باک جملوں کا تبادلہ ہو۔ وہ صبح پہلی اذان کے ساتھ ہی اٹھ جاتی۔ نماز پڑھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتی سات بجے کے بعد روم سے باہر آجاتی۔ ٹھیک آٹھ بجے سلمیٰ بیگم کی دوا کا ٹائم ہوتا۔ سات بجے وہ سکینہ کے ساتھ مل کر مما کے لیے ہلکا سا ناشتہ تیار کرتی ان کو ناشتہ کرواکر دوا کھلاتی۔ دودھ کا گلاس دیتی تب تک ابریز بھی اٹھ کر تیارہوکرباہر آجاتا۔ سلمیٰ بیگم کی موجودگی میں زبردستی دل نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ابریز کے ساتھ تھوڑا سا ناشتہ کرلیتی۔ ابریز ناشتہ کرکے آفس چلا جاتا اور تزکیہ چھوٹے موٹے کاموں میں سکینہ اور ہاجرہ کا ساتھ دینے لگتی۔
’’بی بی جی آپ بہت اچھی ہو‘ ہمارا کتنا خیال رکھتی ہو۔‘‘کبھی کبھی سکینہ اسے دیکھ کر کہتی۔ ’’ورنہ تو لوگ نوکروں کو بہت حقیر سمجھتے ہیں۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی؟‘‘ تزکیہ ہلکے سے مسکرادیتی۔ ’’کیا نوکر انسان نہیں ہوتے۔ اس بات کی بھی پوچھ ہے سکینہ کہ ہم اپنے ماتحت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔‘‘
’’اچھا چلو تم جلدی سے چکن نکالو میں سوپ بنادوں مما کے لیے۔‘‘اس روز دن میں ابریز کی کال آگئی کہ ڈنر پر کشمالہ آئے گی اہتمام کروالینا۔
’’ کیا ہوا بیٹی آج کچن میں کافی مصروف لگ رہی ہو؟‘‘سلمیٰ بیگم نے غیر معمولی تیاری دیکھ کر پوچھا۔
’’جی مما! ابریز نے کہا ہے کہ ان کی کولیگ آج ڈنر پر آئے گی۔ شاید کشمالہ نام بتایا ہے۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’اچھا اچھا ہاں کشمالہ ہوگی‘ بہت تیز مزاج اور ماڈرن لڑکی ہے یونیورسٹی سے ساتھ ہے وہ۔‘‘سلمیٰ بیگم نے سر ہلا کر کہا۔
کھانا پکا کر وہ مغرب کی نماز سے فارغ ہوئی تھی کہ ابریز آگیا۔ ہنستا مسکراتا اور انتہائی فریش موڈ کے ساتھ۔ اتنے عرصے میں آج پہلی بارابریز اتنا مطمئن اور فریش لگ رہا تھا۔ کھڑکی سے تزکیہ نے دیکھاتھا۔ گھنی مونچھوں تلے خوب صورت مسکراہٹ۔ پہلی بار اسے یوں ہنستا دیکھا۔ کتنا اچھا لگ رہا تھا ابریز اوراس کے ساتھ وہ کشمالہ تھی۔ انتہائی ڈیپ گلے کی لوز شرٹ۔ دوپٹے سے بے نیاز جدید اسٹائل کے بالوں میں کاندھے پر شولڈر بیگ لٹکائے وہ کافی ماڈرن لگ رہی تھی۔ عام سی شکل و صورت والی۔ معمولی نقوش والی کشمالہ میں کوئی ایسی بات نہ تھی کہ ابریز جیسا انسان اس کے لیے اتنا پاگل ہورہا تھا۔ تزکیہ نے پلٹ کر خود کو آئینے میں دیکھا لائٹ پرپل ہلکے سے کام والا جدید انداز میں سلا ہوا سوٹ اسی کلر کا جارجٹ کا دوپٹہ ہلکا میک اپ‘ ہاتھوں میں میچنگ نازک سابرسلیٹ لمبے سیاہ بالوں کو میچنگ کیچر میں جکڑے وہ خود بہت پیاری لگ رہی تھی۔ کشمالہ سے لاکھ درجے بہتر۔
’’چھوٹی بی بی صاحب آگئے ہیں آپ کو بلوا رہے ہیں۔‘‘سکینہ کی آواز پر وہ چونکی۔
’’ہاںتم چلو میں آتی ہو۔‘‘ دوپٹہ شانوں پر پھیلاتے ہوئے تزکیہ نے جواب دیا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ تزکیہ پر اعتماد اندازمیں ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ کشمالہ انتہائی بے تکلفی سے کشن گود میں رکھے صوفے پر تقریباً نیم دراز تھی ابریز اس کے بالکل قریب ہی بیٹھا تھا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘کشمالہ نے معنی خیز انداز میں اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا۔ ابریز نے نگاہ غلط اس پر ڈالی۔
’’کشمالہ یہ ہیں میری مما کی بہو تزکیہ۔‘‘ ابریز نے خاصے مضحکہ خیز انداز میں اس کا بے تکا تعارف کروایا۔
’’ہاں جی میں مما کی بہو ہوں مسز تزکیہ ابریز حسین۔‘‘تزکیہ نے ابریز کی جانب دیکھتے ہوئے نہایت پر اعتماد انداز میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے ابریز کی بات کو آگے بڑھایا اورکشمالہ کی جانب مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
’’اوہ !‘‘کشمالہ ہلکے سے طنزیہ انداز میں ہنسی جب کہ ابریز کے چہرے کے بدلتے رنگ سے اس کی اندرونی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا تھا تزکیہ کا یوں اپنے رشتے کی وضاحت کرنا اسے سلگا گیا تھا۔
’’آپ لوگ باتیں کریں میں ڈنر لگواتی ہوں۔‘‘ اپنے جملے کا ری ایکشن ابریز کے چہرے پر دیکھ کر تزکیہ نے وہاں رکنا مناسب نہ سمجھااور کھانے کا کہہ کر باہر آگئی۔
’’وائویار!مسزتزکیہ ابریز حسین کیا بھرم دے کر گئی ہیں تمہاری مسز۔‘‘کشمالہ نے منہ کو ٹیڑھا کرکے مسز پر خاصا زور دیتے ہوئے تیکھے لہجے میں کہتے ہوئے ابریز کو گھور کر دیکھا۔
’’یار پلیز مائینڈ مت کرو۔ مسز تب بنے گی جب میں اسے وہ درجہ حیثیت اور مقام دوں گا…میرے لیے وہ صرف اور صرف میری مما کی پسند اور ان کی بہو ہے۔ آئی سمجھ؟‘‘ابریز نے کشمالہ کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے وضاحت دی۔
’’تم نہیں کھائو گی؟‘‘کشمالہ نے اسے واپس پلٹتے دیکھ کر سوال کیا۔
’’جی نہیں! مجھے بھوک نہیں ہے‘ آپ لوگ کھائیں آرام سے اور کسی چیز کی ضرورت ہوتو سکینہ کھڑی ہے سامنے‘ میں مما کے پاس ہوں ان کی دوا کا ٹائم ہوگیا ہے۔‘‘وہ پر اعتماد لہجے میں کہتی ہوئی ایک اچٹتی سی نگاہ ابریز پر ڈال کر آگے بڑھ گئی۔
’’ارے تزکیہ!تم نے کھانا نہیں کھانا؟‘‘ سلمیٰ بیگم نے اس کو دیکھ کر حیرانی سے پوچھا۔
’’نہیں مما بھوک نہیں ہے شام کو چائے کے ساتھ سموسہ کھالیاتھا۔ طبیعت پر گرانی سی محسوس ہورہی ہے۔‘‘
’’ارے بھئی! پہلے کیوں نہیں بتایا…سارا دن کچن میں گھسی کام جو کرتی رہی ہو۔ پہلے ہی کہا تھا کہ تم مت کرو اتنا کام۔ ابریز سے کہو کہ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔‘‘
’’ارے مما!‘‘ آپ تو ایسے ہی پریشان ہوجاتی ہیں کام سے کچھ نہیں ہوتامجھے‘ اتنا کام کرتی تھی اپنے گھر میں یہاں تو کچھ کام ہی نہیں ہے۔ بس شاید گرمی کی وجہ سے ایسا ہوگیا۔ ابھی ٹھیک ہوجائوں گی۔ آپ کے پاس بیٹھ کر میں فریش ہوجاتی ہوں۔‘‘سلمیٰ بیگم کے پاس بیٹھتے ہوئے ان کے ہاتھ تھام لیے۔
’’ اور خوامخواہ ابریز کو تنگ کیوں کروں مما۔ ایسی طبیعت تھوڑا خراب ہے۔ آرام سے باتیں کرنے دیں ان کو۔‘‘تزکیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں کافی پرانی دوستی ہے دونوں کی۔‘‘سلمیٰ بیگم نے کہا۔
کچھ دیر میں ابریز کشمالہ کو چھوڑنے کے لیے چلا گیا۔ تزکیہ کاموں سے فارغ ہو کر سلمیٰ بیگم کو دوائیں اور دودھ وغیرہ دے کر اپنے کمرے میں آگئی۔ دل بہت براہورہا تھا۔ کشمالہ عام سی شکل وصورت کی لڑکی تھی جس کو ابریز اس پر فوقیت دیتا تھا۔ کتنی آرام سے اور ڈھٹائی سے اس کے ساتھ گھومتا پھرتا اور ٹائم گزارتا تھا۔ مزے کی بات تھی کہ سلمیٰ بیگم کو بھی اندازہ نہ ہوتاتھا۔عشاء کی نمازسے فارغ ہوکر وہ جائے نمازتہہ کررہی تھی کہ ابریز دندناتا ہوا آگیا۔
’’تم میں کوئی ایٹی کیٹس کوئی طریقہ کوئی مینرز ہیں کہ نہیں… ہمارے ساتھ کھانا نہ کھا کر تم نے اپنی چھوٹی سوچ اور ذہنیت کا ثبوت دے دیا ہے اور بڑا شوق ہے تمہیں مسز ابریز بننے کا؟سن لو کان کھول کر۔ تمہاری یہ حسرت حسرت ہی رہے گی کبھی بھی تمہاری حسرت پوری نہیں ہوگی اور نہ ہی میں تمہیں یہ بکواس کرنے کا حق دوں گا آئی سمجھ۔‘‘
’’آپ کون ہوتے ہیں مجھے حق نہ دینے والے مسٹر ابریز حسین۔ یہ حق مجھے اللہ پاک نے دیا ہے۔ رشتہ بنانے والا تو وہ ہے جس سے انکار کرنے کی ہمت بھی نہیں کرسکتے آپ۔‘‘پہلی بار تزکیہ نے ہمت کرکے کہہ دیا تھا۔
’’بندکرو بکواس! دعائیں دو مما کو انہوں نے عذاب مسلسل کی طرح میرے سر پر لاد دیا ہے تمہیں۔‘‘
’’یوں کفر نہ بولیں ابریز۔‘‘اس بار تزکیہ کا لہجہ کانپ گیا تھا۔
’’میرے لیے تم بے کار غیر ضروری غیر اہم اور فالتو شے ہو جسے زبردستی میری زندگی میں شامل کیا گیا۔‘‘
’’اگر اتنی نفرت تھی تو منع کردیتے ناں مما کو۔ کیوں میری زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے۔ مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہیں آپ ؟‘‘
’’مجبور تھا میں! مما کی زندگی میرے لیے زیادہ اہم تھی‘ مما کی خواہش پر سر جھکایا میں نے میں مما کو وقت سے پہلے نہیں مارنا چاہتا تھا۔کاش تم…تم اپنی معصوم شکل لے کر ان کے سامنے نہ آتیں تو آج…آج میں بھی اپنی پسند کی زندگی اپنی مرضی سے خوشی سے گزاررہا ہوتا اور تم بھی کہیں کسی کے ساتھ ہوتیں۔نہ جانے کون سی گھڑی تھی کہ مما کی نظر تم پر پڑی اور زندگی میری جہنم بن گئی۔‘‘وہ بڑبڑاتا بکتا جھکتا واش روم میں گھس گیا تزکیہ اپنی تذلیل پر چپ چاپ کڑھتی رہی۔
سلمیٰ بیگم کی طبیعت نرم گرم چلتی رہی۔ مگر جب سے شادی ہوئی تھی اتنی شدید طبیعت خراب نہ ہوئی تھی اس شام سلمیٰ بیگم کی طبیعت کچھ ناساز تھی ابریز اور تزکیہ دونوں ہی ان کے روم میں ان کے پاس بیٹھے تھے۔ ابریز سلمیٰ بیگم کے پیر دبا رہا تھا۔ جب کہ تزکیہ ان کے دھلے ہوئے کپڑے تہہ کررہی تھی۔
’’ابریز بیٹا! کاروبار کیسا چل رہا ہے؟‘‘سلمیٰ بیگم نے پوچھا۔
’’الحمد اللہ مما سب بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ابریز نے جواب دیا۔
’’بس اب ایک ہی خواہش ہے میری۔‘‘سلمیٰ بیگم نے دھیرے سے کہا۔
’’جی مما۔‘‘ابریز ہمہ تن گوش ہوا۔
’’بس پوتا یا پوتی کو اپنی گود میں دیکھ لوں تو مجھے سکون مل جائے گا۔‘‘تزکیہ کی نظریں بے ساختہ ابریز کی جانب اٹھ گئیں۔
’’ان شاء اللہ مما بس آپ جلدی سے اچھی ہوجائیں آپ یوں لیٹی ہوتی ہیں تو میرا دل کسی کام میں نہیں لگتا۔‘‘ابریز نے سنبھل کر جلدی سے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔تزکیہ اپنے کمرے میں آگئی۔ دل بہت اداس اور بوجھل ہورہاتھا۔ شادی کو چار ماہ ہوچکے تھے۔ مما بے چاری منتظر تھی کہ ان کے آنگن میں بھی ننھی منھی قلقاریاں گونجیں‘ ان کی گود میں بھی ننھا منا سا مہمان آجائے۔ تزکیہ کے لبوں سے ہلکی سی سسکاری ابھری۔
’’مما اللہ پاک آپ کو لمبی زندگی دے لیکن میں تو خود یہاں مہمان ہوں۔ آپ کی زندگی تک میرا رابطہ میرا واسطہ اس گھر سے اور اس گھر کے مکینوں سے ہے۔ آپ کے بیٹے نے کون سا مجھے اپنی بیوی سمجھا ہے۔ کونسا شرعی حق دیا ہے مجھے۔ صرف دوبول ہی تو مجھے اس کی زندگی میں لے آئے۔ میں اس کے لیے غیر ضروری اور ناپسندیدہ ترین ہوں میری کوئی وقعت ہے نا ضرورت۔ میں توصرف اور صرف آپ کے لیے۔ آپ کی وجہ سے یہاں ہوں۔ یہ کیسا بندھن ہے؟ کیسا رشتہ ہے جس میں میں بندھ گئی ہوں۔ نہ چھٹکارا مل سکتا ہے ناں اپنی حیثیت منواسکتی ہوں۔‘‘درد حد سے بڑھنے لگا تھا اگر خداناخواستہ کل کو مما کو کچھ ہوجاتا ہے تو …ط…طلاق کا تحفہ لے کر کس منہ سے واپس جائوں گی؟اباجی اماں کیسے برداشت کرپائیں گے؟تقدیس کی شادی کیسے ہوگی؟ طلاق کا جواز کیابتائوں گی؟ ایک سمجھوتہ ایک مرتی عورت کی خوشی‘ ایک بیٹے کا اپنی ماں کے لیے کیا گیا سودا؟ بے شمار سوالات ذہن میں کلبلانے لگے۔ دماغ مائوف ہونے لگا۔
’’یا اللہ تجھ سے ہی سکون ہمت اور حوصلے کی بھیک مانگتی ہوں پروردگار مجھے ہمت عطا کر۔‘‘درد جب حد سے بڑھ جاتا ہے سارے راستے بند اور حالات مخالف نظر آتے ہیں۔ امید کے سارے در بند ہوجاتے ہیں۔ تب خالق کائنات کی ذات ہی یاد آتی ہے اس سے ہی ہمت حوصلے اور صبر کی بھیک مانگی جاتی ہے۔ اسی در سے دعائیں شرف قبولیت پاتی ہیں‘ حوصلوں میں یقین پیدا ہوتا ہے اور ہمتیں لوٹ آتی ہیں تب انسان آگے کی راہ پر چلنے کے قابل ہوتا ہے۔ تزکیہ کا درد بھی جب حد سے سوا ہوجاتا وہ بھی صرف اورصرف اپنے رب سے کرم کی بھیک مانگتی۔
سلمیٰ بیگم کی طبیعت اب اکثر خراب رہنے لگی۔ جب ان کو وومٹ ہوتی تو وہ اتنی تکلیف میں ہوتیں کہ تزکیہ ان کی تکلیف پر تڑپ جاتی۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگتیں۔ اس لمحے ڈاکٹر کو گھر پر ہی بلوایا جاتا۔ تزکیہ مستقل ان کے ساتھ ہی رہتی۔ ذرا سی بھی کراہیت یاگھن محسوس نہ کرتی۔ ان کی صفائی کا بے حد خیال رکھتی۔
اس روز بھی سلمیٰ بیگم کی طبیعت کافی خراب تھی۔ آج ابریز بھی گھر پر تھا تزکیہ نے سلمیٰ بیگم کا منہ دھلوایا‘ ان کے کپڑے چینج کروا کر بالوں میں کنگھا کیا۔
’’تزکیہ بیٹی میرا ایک کام کروگی؟‘‘تزکیہ سلمیٰ بیگم کے لیے پورج بنا کر لائی تو انہوں نے آہستگی سے پوچھا۔
’’جی جی مما ضرور آپ بولیں۔‘‘تزکیہ نے جلدی سے کہا اور ان کو پورج کھلانے لگی۔
’’بیٹی! میرے پاس بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کردینا۔ جب تم صبح صبح اپنے کمرے میں پڑھتی ہوتوتمہارے کمرے کے پاس سے آتے جاتے میں نے سنی ہے مجھے تمہاری آواز لہجہ اور انداز بہت اچھا لگتا ہے دل میں اتر جاتی ہے تمہاری آواز۔‘‘
’’جی مما آپ پہلے یہ کھالیں پھر میں پڑھتی ہوں۔‘‘تزکیہ نے کہا۔
’’تزکیہ ایک بات تو بتائو؟‘‘انہوں نے بغور تزکیہ کو دیکھتے ہوئے ایک گہری نظر اس پر ڈالی۔
’’تم خوش تو ہونا بیٹی؟‘‘تزکیہ ان کے سوال پر بری طرح چونکی۔ بے ساختہ نظر ابریز کی جانب اٹھ گئی ابریز بھی تھوڑا سا گڑبڑا گیا۔
’’ارے مما یہ سوال کیوں کیا آپ نے؟‘‘وہ بے ساختہ ہنس دی۔وہ ایک لمحے میں خود کو سنبھال چکی تھی گزشتہ چار ماہ کے عرصے میں وہ خود پر کنٹرول کرنا اپنی فیلنگ کو اپنے اندر ہی دبا کر رکھنا۔ اپنا اندر ظاہر نہ کرکے بظاہر نارمل رہنا اچھی طرح سیکھ لیا تھا۔
’’میرا مطلب یہ ہے کہ تمہیں کوئی شکایت کوئی کمی کوتاہی محسوس تو نہیں ہوتی؟‘‘ایک لمحے کے لیے رک کر سلمیٰ بیگم نے گہری نظریں پہلے ابریز پھر تزکیہ پر ڈالیں۔
’’ارے نہیں مما! ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ ایسے سوال کیوں کررہی ہیں۔ میں… میں تو بہت خوش ہوں مما کہ آپ میرے ساتھ ہیں اور پھر ابریز میرا اتنا خیال رکھتے ہیں اور آپ۔ آپ تو کتنی پیاری ہیں۔ محبت سے گندھی ہوئی نرم مزاج دھیمالہجہ اور شفیق‘ میں اللہ پاک کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ممااور پتہ ہے میرا بس چلے تو میں‘ بیسٹ ساس آف دی سینچری کا ایوارڈ آپ کو دے دوں۔آئی لویو سومچ مما۔آپ کے بنا میں کچھ نہیں۔‘‘آخری جملہ کہتے اس کی آواز بھرا گئی۔
ابریز خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ سلمیٰ بیگم نے اس کو سینے سے لگا کر ماتھا چوم کر ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں۔ عصر کی نماز سے فارغ ہوکر تزکیہ قرآن پاک لے آئی سلمیٰ بیگم کے بیڈ کے پاس کرسی پر بیٹھ کر تلاوت کرنے لگی۔ تزکیہ کی خوب صورت اور خوش الحان آواز صحیح تلفظ کے ساتھ الفاظ کی ادائیگی کا خوب صورت انداز ماحول میں پرنور ساسرور طاری ہوگیا۔ سلمیٰ بیگم آنکھیں بند کئے مکمل انہماک کے ساتھ سورہ یسٰین کی تلاوت سن رہی تھیں جب کہ ابریز بھی خاموشی کے ساتھ اس کی جانب متوجہ تھا۔ تزکیہ دنیا سے بے خبر مکمل طورپر سورہ یسٰین کے ایک ایک لفظ کی گہرائی میں گم تھی۔ اس نے تلاوت ختم کی تو سلمیٰ بیگم نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
’’تزکیہ بیٹی مجھ سے ایک وعدہ کرو۔‘‘قرآن پاک جزدان میں رکھتے ہوئے وہ سلمیٰ بیگم کی آوازپر ان کی جانب دیکھنے لگی۔
’’جی مما! آپ حکم کریں؟‘‘ تزکیہ جلدی سے بولی۔
’’تزکیہ مجھ سے وعدہ کرو کہ مجھے کچھ بھی ہوجانے کے بعد تم روزانہ یہاں پر اسی جگہ بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کروگی۔ میرے بعد میرے کمرے کو ویران مت کرنا۔‘‘
’’مما پلیز ! آپ یہ کیسی باتیں کررہی ہیں؟ اللہ پاک آپ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے‘ میں… میں آپ کو ہر روزسنائوں گی۔ آپ کے سامنے بیٹھ کر اور آپ سنیں گی۔ مگر پلیز ایسی باتیں مت کریں۔‘‘تزکیہ باقاعدہ رونے لگی۔ سلمیٰ بیگم کی آنکھیں بھی بھر آئیں ان کو اپنی طبیعت کا اندازہ تھا۔ ابریز بھی ان کے پاس آگیا اور ان کے ہاتھ تھام کر بولا۔
’’مما ایسا مت کہیں تزکیہ یونہی آپ کو قرآن پاک سنایا کرے گی ویسے بھی وہ آپ کے ساتھ آپ کے پاس ہی تو رہتی ہے ناں۔تزکیہ چلو اچھی سی چائے بنوا کر لائو ہم یہیں بیٹھ کر چائے پئیں گے مما کے ساتھ۔‘‘ماحول یکدم سے اداس ہوگیا تو ابریز نے ماحول کو بدلنے کے لیے لہجے کو بشاش بناتے ہوئے تزکیہ کو مخاطب کیا۔
’’جی ابھی لاتی ہوں۔‘‘تزکیہ آنکھیں پونچھتی ہوئی روم سے باہر چلی گئی۔
’’ابریز سچ کہوں تو مجھے کبھی کبھی دکھ ہوتا ہے کہ بچی کو ہم وہ نہیں دے سکے جو دینا چاہئے تھا۔ جو اس کا حق تھا۔‘‘سلمیٰ بیگم کی آواز پر ابریز نے گھبرا کر آنکھیں پھیلا کر انہیں دیکھا۔
’’دیکھو تم لوگ نہ کہیں گھومنے پھرنے جاتے ہو نہ ہنی مون پر جاسکے۔ جب سے آئی ہے بس میرے ساتھ ہی مصروف ہو کر رہ گئی ہے۔ نہ کوئی فرمائش نہ گلہ نہ ہی کبھی اس کے چہرے پر تھکن یابیزاری نظر آتی ہے۔ میری وجہ سے وہ تومیکے بھی نہیں جاتی۔ ابریز تم…تم بہت خوش نصیب ہو کہ تمہیں تزکیہ جیسی بیوی ملی اور میں بہت لکی ہوں کہ مجھے تزکیہ جیسی بہو ملی۔ آج کے دور میں ایسی بچیاں کہاں ملتی ہیں؟بیٹا ہمیشہ اس ہیرے کی قدر کرنا‘ کوشش کرنا کہ اسے کوئی دکھ نہ دو اس کے ساتھ۔‘‘
’’بس مما! آپ کا سانس پھولنے لگا ہے۔‘‘ابریز نے ان کو جذب کے عالم میں دیکھا تو جلدی سے ان کو ٹوک دیا۔
’’بہت خوش ہے مما وہ اور اگر آپ کی خدمت کرتی ہے تو بقول آپ کے اس کی نیچر میں ہے اور اللہ پاک اس کو اس کی جزا دے گا۔ آپ بس دعا دیتی رہیے گا اور زیادہ سوچامت کریں اس نے آپ سے کہا ہے ناں کہ وہ خوش ہے۔‘‘ابریز حسن کا آخری جملہ باہر سے آتی ہوئی تزکیہ نے بھی سن لیا۔
’’ہاں ابریز حسن بہت خوش ہوں میں۔‘‘وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی۔
کچھ دن اور آگے گزرے۔ اس دن سلمیٰ بیگم کی طبیعت قدرے بہتر تھی تزکیہ ان کو لے کر لان میں آگئی تھی۔ وہ چائے پی رہے تھے کہ ابریز بھی آگیا۔
’’السلام علیکم مما۔ ماشاء اللہ آج تو کافی فریش لگ رہی ہیں آپ؟‘‘ وہ سلمیٰ بیگم کو دیکھ کر خوشگوار لہجے میں کہتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا۔ تزکیہ اس کے لیے بھی چائے نکالنے لگی۔
’’وعلیکم السلام۔الحمد اللہ صبح سے کافی فریش محسوس کررہی ہوں۔‘‘سلمیٰ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ابریز تم سے ایک بات کہنے کا سوچ رہی تھی۔‘‘سلمیٰ بیگم نے چائے کا خالی کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
’’جی مما بولیے۔‘‘ابریز نے چائے کا سپ لے کر ان کو غور سے دیکھا۔
’’میں …میں سوچ رہی تھی کہ تزکیہ کو ڈاکٹر روحانہ کے کلینک لے کر چلی جائوں۔‘‘
’’مگر کیوں مما‘ کیا ہوا ہے تمہیں تزکیہ؟‘‘ ابریز نے حیرت سے پہلے سلمیٰ بیگم کو پھر تزکیہ کو دیکھا۔
تزکیہ بھی حیرانی سے سلمیٰ بیگم کودیکھ رہی تھی وہ سمجھ نہ پائی تھی کہ سلمیٰ بیگم کو یہ کیا ہوا ہے اور انہوںنے ایساکیوں کہا۔
’’دراصل بیٹا! تمہاری شادی کو آٹھ ماہ ہوچکے ہیں اور میں منتظر ہوں کہ کب دادی بننے کی نوید سنوں تو اس لیے۔‘‘
’’ارے مما!‘‘ ابریز سٹپٹا گیا‘ تزکیہ کے چہرے کا رنگ بھی اڑنے لگا اس نے بے ساختہ ابریز کی جانب دیکھا۔
’’یہ اللہ پاک کی مرضی ہے مما‘ آپ فکر کیوں کرتی ہیں۔‘‘ ابریز گڑابڑا کر جلدی سے بولا۔
’’افوہ‘‘یہ مما کو کیا سوجھی وہ یکدم پریشان ہوگیا۔ تزکیہ سے وہاں بیٹھا نہ گیا مبادا سلمیٰ بیگم اس کے چہرے سے کوئی اندازہ لگالیں ابریز کے لیے سلمیٰ بیگم کی بات کافی پریشان کن تھی۔
اس روز سلمیٰ بیگم کو ضرورت کی کچھ چیزیں منگوانی تھیں تزکیہ خود ہی بازارکے لیے نکل گئی۔ سلمیٰ بیگم نے کہا تھا کہ ابریز کو کال کرکے بول دو وہ آفس سے آتے ہوئے لے آئے گا مگر ابریز نے کال اٹینڈ نہیں کی فون مسلسل بزی جارہا تھا۔ اس لیے تزکیہ خود ہی نکل آئی۔ سپر اسٹور سے مطلوبہ چیزیں لے کر تزکیہ جیسے ہی پلٹی سیڑھیاں اترتے اترتے دفعتاً تزکیہ کی نظر سامنے اٹھی۔
جیولری شاپ پر ابریز تھا اور ساتھ میں کشمالہ۔ تزکیہ کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی کشمالہ ایئرنگ پہن کر بڑی ادا سے ابریز کو دکھا رہی تھی اور ابریز کتنی وارفتگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ہاتھ سے ایئرنگ کو ٹھیک بھی کیا تھا یہ انداز یہ شوق یہ وارفنگی جیسے میاں بیوی میں ہونی چاہئے۔ کتنا خوش مسرور اورفریش لگ رہا تھا ابریز۔
اس کا دل چاہا کہ اچانک سامنے جاکر ان دونوں کو شاکڈ کردے مگر وہ جانتی تھی کہ بے عزتی تو اس کی ہی ہونی تھی ابریز کشمالہ کو لے کر اس قدر بائولا ہے کہ وہ اس کے سامنے تزکیہ کو ہی جھاڑ دیتا۔ جلدی سے وہ گاڑی میں آبیٹھی۔ تزکیہ کی نگاہوں میں ابریز کا ہنستا ہوا چہرہ اس کی محبت بھری نگاہیں جو صرف اورصرف کشمالہ کے لیے تھیں گھومتی رہیں۔ کتنی بے حیائی اور ڈھٹائی سے کشمالہ ابریز کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی تھی۔ اور ابریز عقل کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے بھی اندھا ہو کر اس کی ادائوں پر سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھا۔ نہ جانے ایسا کیا ہے کشمالہ میں کہ وہ اس قدر پاگل ہوگیا تھا۔ اور اچھائی برائی کی تمیز بھی یکسر بھول گیا تھا۔
شام کو ابریز آیا وہی اکھڑ مزاجی اور کرختگی چہرے پر تھی۔ تزکیہ اس کو دیکھنے لگی کچھ گھنٹوں پہلے کشمالہ کے ساتھ وہ کتنا خوش اور فریش لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر خوشیاں اور جینے کی امنگ تھی اس کی آنکھوں میں والہانہ پن اور چاہت تھی مگر۔ تزکیہ کو دیکھ کر ابریز کے ماتھے پر بل پڑجاتے۔ چہرے پر بیزاری نمایاں ہوجاتی۔ اگر کوئی بات کرتا تو سوائے طنز اورتذلیل کے کچھ نہ کرتا۔ قدم قدم پر تزکیہ کو یہ احساس دلاتا کہ تزکیہ اس کے لیے بوجھ اور ناقابل برداشت چیز ہے جسے صرف سلمیٰ بیگم کی وجہ سے برداشت کررہا ہے۔
صبح صبح وہ دوا دینے مما کے کمرے میں آئی تو ان کو بہت بے چین دیکھا۔ آج کافی دن بعد ان کو تکلیف پھر سے ہورہی تھی اور وومیٹنگ بھی ہوئی۔ ابریز آفس جاچکا تھا۔ اتنا سارا بلڈ دیکھ کر وہ گھبرا گئی آج پہلی بار وومٹ میں اتنا بلڈ آیا تھا۔
ہاجرہ اور سکینہ نے سلمیٰ بیگم کو سنبھالا تزکیہ نے روتے ہوئے ابریز کو کال کی کہ میں مما کو لے کر اسپتال جارہی ہوں آپ فوراً پہنچ جائیں۔ تزکیہ نے جلدی سے گاڑی نکلوائی بمشکل مما کو گاڑی میں ڈالا اور اسپتال پہنچی سامنے ہی ابریز اسٹریچرلیے کھڑا تھا۔ مما کو اندر لے جاچکے تھے اور تزکیہ باہر بیٹھ کر روتے ہوئے ان کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی۔ ابریز بھی بے چین ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔
الیاس احمد ناظمہ بیگم اور سیرت اور ابصار بھی آگئے تھے۔ پریشانی کے ان لمحات میں ابریز خود کو اکیلا محسوس کررہا تھا الیاس احمد اور ابصار کے آجانے سے اس کو بھی مورل سپورٹ مل گئی۔ ہاجرہ بیگم اور سکینہ بھی گھر پر دعائیں کررہے تھے وظائف پڑھ رہے تھے۔ لمحہ بہ لمحہ سلمیٰ بیگم کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی الٹیاں بند نہیں ہورہی تھی اسی حالت میں دو دن گزر گئے سلمیٰ بیگم کوکچھ ہوش نہ تھا۔ تزکیہ کا رو رو کر برا حال تھا ایک لمحے کے لیے بھی وہ سلمیٰ بیگم کے پاس سے نہیںہلی مستقل سورہ یسین پڑھ رہی تھی۔ ان پر دم کررہی تھی ان کی تکلیف ختم ہونے کی دعائیں مانگ رہی تھی ابریز چپ چاپ تزکیہ کو دیکھتا رہتا۔ ایک بار کہا بھی کہ تم گھر جاکر کچھ دیر آرام کرلو مگر تزکیہ نے منع کردیا۔
’’ابریز پلیز! مجھے مما کے پاس رہنے دیں میں ان کو اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔‘‘ناظمہ بیگم کھانا پکا لاتیں مگر تزکیہ یا ابریز سے بالکل نہیں کھایا جاتا۔
دوسرے دن رات کے وقت کشمالہ آئی وہ جیسے ہی روم میں داخل ہوئی اسی وقت سلمیٰ بیگم کو وومٹ ہوئی ان کی چادر کپڑے سب خراب ہوگئے تزکیہ نے دوڑ کر انہیں سنبھالا ان کی چادر ہٹائی کپڑے صاف کیے ان کا منہ دھلوایا۔ ابریز بھی قریب آگیا تھا۔
’’اف توبہ!‘‘ کشمالہ نے ابکائی لی اور ٹشو ناک پر رکھ لیا۔ ’’ابریز یار یہ جرمز پھیلا رہی ہیں پلیز کم از کم تم تو اپنی ناک پر ماسک لگائو۔‘‘ کشمالہ نے منہ بنا کر حقارت سے سلمیٰ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سوری میں تو یہاں نہیںٹھہر سکتی یہ سب کچھ برداشت نہیں کرسکتی اور تم…اپنا بھی خیال رکھو ابریز۔‘‘کشمالہ سرد مہری سے ابریز سے کہتی ہوئی الٹے پائوں واپس پلٹ گئی۔
’’ممامما!‘‘ تزکیہ کی چیخ پر ابریز چونکا۔
’’ابریز دیکھیں مما کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ تزکیہ سلمیٰ بیگم کی بگڑتی حالت دیکھ کر چلائی۔ ابریز کی آنکھیں پھٹنے لگیں۔
’’ڈاکٹر ڈاکٹر۔‘‘ابریز پوری قوت سے چیخا۔ سلمیٰ بیگم نے آخری بار پوری آنکھیں کھول کر پہلے ابریز کو اور پھر تزکیہ کو دیکھا۔ اور دوسرے لمحے ان کی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔ تزکیہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے سلمیٰ بیگم کے بے جان مگر پرسکون چہرے کو دیکھا اور ابریز کی بانہوں میں جھول گئی۔
ابریز سکتے کی کیفیت میں تھا۔ الیاس احمدنے آگے بڑھ کر ابریز کو گلے سے لگالیا۔ ناظمہ بیگم نے تزکیہ کو سنبھالا۔تزکیہ کو ہوش آیا تو سامنے سلمیٰ بیگم کو سفید کفن میں پڑا دیکھا۔ دیوانہ وار ان کی طرف بھاگی۔ ’’ممامما آپ کہاں گئیں؟کیوں چلی گئیں مما؟ میں کیسے رہ پائوں گی آپ کے بنا میرا خیال کون رکھے گا؟ میں کس کا خیال رکھوں گی؟ مما پلیز آنکھیں کھولیں… دیکھیں تو آپ کی دوا کا ٹائم ہوگیا ہے۔ آپ کو دوا لے کر پھرکھانا بھی کھانا ہے ناں۔مما پلیز۔‘‘ سیرت تقدیس اور ناظمہ بیگم اسے سنبھال رہے تھے مگروہ بری طرح بکھر رہی تھی۔ تڑپ رہی تھی بلک رہی تھی۔
’’ابریز ابریز مما کو بلوا دو…‘‘ابریز کا کاندھا پکڑکر جھنجوڑ رہی تھی۔
’’تزکیہ ہوش میں آئو یہ کیا ہوگیا ہے تمہیں مما کو تکلیف ہوگی تمہارے رونے سے کچھ ہوش کرو تم۔‘‘ابریز نے روتے ہوئے کہا تو وہ ایک بار پھر ابریز کی بانہوں میں بے ہوش ہوگئی۔
سلمیٰ بیگم ابدی سفر پر روانہ ہوگئیں اور اپنے پیچھے بے شمار یادیں چھوڑ گئیں۔ کشمالہ بھی آئی تھی بس دس منٹ بیٹھ کر چلی گئی۔ تزکیہ کو رہ رہ کر سلمیٰ بیگم کی ایک ایک بات یاد آتی کتنی محبت سے شفقت اور پیار سے دھیمے اندا ز میں گفتگو کرتیں۔ ان کی باتوں میں کبھی بھی اپنی حیثیت یا امارت کی کوئی جھلک نہ ہوتی۔ہمیشہ عاجزی سے بات کرتیں۔ وہ تو تزکیہ کے لیے ٹھنڈی چھائوں جیسی تھیں بالکل اماں کی طرح جن کے سائے میں آکر تزکیہ کو دلی سکون حاصل ہوتا۔
جن سے بات کرکے وہ اپنا دکھ بھول جایا کرتی تھی تزکیہ کچھ سنبھلی تو قرآن پاک لے کر سلمیٰ بیگم کے کمرے میں آگئی اس کی آنکھوں میں آنسوآگئے مما کا کمرہ ویسا ہی تھا صاف ستھرا بیڈ شیشے کی چھوٹی سی ٹیبل جس پر مما کی دوائیاں ان کا چشمہ اور پانی کا جگ اور گلاس اسی طرح موجود تھا۔ بیڈ کے ایک طرف مما کی ایزی چیئر جس پر بیٹھ کر وہ اخبار پڑھا کرتی تھیں بک شیلف جس میں دینی کتب کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی ہر چیز ویسی ہی تھی مگر مما نہیں تھیں۔ کتنی اداسی اور ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ ہر چیز اداس اور سوگوار محسوس ہورہی تھی ہر شے ماں کے بنا اداس تھی تزکیہ کی سماعتوں میں ایک آواز گونجتی رہتی۔
سکینہ اور ہاجرہ بھی بہت اداس تھے سلمیٰ بیگم نے ان لوگوں کو گھر کے فرد کی طرح اہمیت اور عزت دے رکھی تھی تزکیہ کو ابریز کا کہا ہوا ایک ایک جملہ بھی یاد آرہا تھا۔
’’تم مما کی زندگی تک اس گھر میں ہو اس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد کردوں گا۔ مما کی وجہ سے تم یہاں ہو‘ مجھے تم سے نفرت ہے۔ شدید نفرت تم میرے لیے ناقابل برداشت چیز ہو۔‘‘تزکیہ کی سماعتوں میں ابریز کے الفاظ کوڑے کی طرح برسنے لگے تھے۔
’’تم مماکی زندگی تک یہاں ہو۔ تم صرف مما کی زندگی تک یہاں ہو۔‘‘
’’مما!‘‘ اس کی لبوں سے سسکی ابھری۔ ’’مجھے خود یہاں نہیں رہنا ابریز حسن مما کے بغیر یہ گھر میرے لیے ویران ہے۔‘‘دل ہی دل میں سوچتے ہوئے آنکھوں کو صاف کرنے لگی۔ابریز کال پر یقیناً کشمالہ سے بات کررہاتھا۔
’’کشمالہ تم کہاں ہو؟چار دن ہوگئے ہیں تم دوبارہ نہیں آئیں۔‘‘ابریز نے شکوہ کیا۔
’’آئی ایم سوری ابریز بٹ مجھے تمہارے گھر سے خوف آنے لگا ہے‘ وہاں آتے ہوئے عجیب سی فیلنگ ہوجاتی ہے میری۔‘‘کشمالہ کی بات پر ابریز چونکا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ تمہیں اپنے گھرمیں وائٹ واش کروانا چاہئے لاسٹ میں تمہاری مما کی جو کنڈیشن تھی تمہیں اندازہ ہے کہ کتنے جراثیم ہوں گے تمہارے گھر میں‘ تمہیں پہلے اپنے گھر کی ٹھیک سے صفائی کروانی چاہئے۔‘‘
’’واٹ…؟کشمالہ تم یہ کیا فضول بات کررہی ہو؟‘‘ابریز نے جھنجھلا کر کہا۔
’’کم آن ابریز…اس میں غصہ کرنے کی کوئی بات نہیں اللہ پاک تمہاری مما کو جوار رحمت میں جگہ دے مگر کم از کم تمہیں تو احتیاط کرنی چاہئے۔ مانا کہ وہ تمہاری ماں تھیں مگر تھیں تو ایک موذی مرض کا شکار‘ تم کو تو ابھی بہت زندگی جینی ہے میرے لیے‘ اور میں نہیں چاہتی کہ خدا ناخواستہ کل کو ہمارے ساتھ کچھ غلط ہو‘ مجھے تمہاری فکر ہے تم سے پیارکرتی ہوں تمہارا احساس ہے مجھے‘ تب ہی تمہاری بہتری کے لیے سوچتی ہوں تم غصہ کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے میری بات پر غور کرو۔‘‘ابریز چپ ہوگیا شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی کشمالہ اس سے محبت بھی تو بہت کرتی تھی۔

٭٭٭…٭٭٭

مما کی ڈیتھ کو ایک ہفتہ گزر گیاتھا۔ ابریز اس روز آفس بھی گیا تھا۔ آج موسم بھی بہت اچھا ہورہا تھا۔ تزکیہ اپنا زیادہ تر وقت اب بھی سلمیٰ بیگم کے کمرے میں ہی گزارتی تھی۔ ان کے کمرے کی صفائی کرتی ان کے بستر پر بیٹھ جاتی۔ وہیں آکر قرآن پاک با آواز بلند پرھتی اسے اس وقت یوں محسوس ہوتا کہ جیسے سلمیٰ بیگم آنکھیں بند کئے چپ چاپ مکمل انہماک کے ساتھ اس کی تلاوت سن رہی ہوں۔ ایسا کرتے وقت تزکیہ کو بھی سکون ملتا۔ تزکیہ نے سوچ لیا تھا کہ ابریز کے کہنے سے پہلے اپنا بوریا بستر سمیٹ لے گی وہ خود کو آنے والے وقت کے لیے تیار کرنے لگی جو سلمیٰ بیگم کی موت سے بھی زیادہ اذیت ناک تھا۔
شام کو تزکیہ نہا کر نکلی تو دل بہت اداس ہوگیا ایسے ابر آلود اور خوب صورت موسم میں سلمیٰ بیگم کوئی نہ کوئی چیز ضرور پکواتی تھیں تزکیہ اور سلمیٰ بیگم لان میں بیٹھ کر چائے اور کبھی پکوڑے سموسے اور کچوریوں سے لطف اندوز بھی ہوتے موسم کے ساتھ ساتھ چائے کے مزے بھی لیتے اور ساتھ آپس میں ڈھیروں باتیں بھی کرتے۔ آج ٹوٹ کر مما کی یاد آرہی تھی دل بھر آیا۔ دل کا درد آنسوئوں کی صورت آنکھوں سے بہہ نکلا وہ وہیں سیڑھیوں پربیٹھ گئی اور دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندلیں۔
مما کی باتیں ان کی ہنسی ان کی شبیہہ بند آنکھوں کے پیچھے اتر آئی۔ بلیک اور کاپر کلر کے سوٹ میں لمبے بالوں کو پشت پر پھیلائے آنکھیں موندے وہ دنیا و مافہیا سے بے خبر تھی۔ آج پہلی بار مما کی یاد اتنی شدتوں سے آئی تھی کیونکہ اس نے اب اپنا وقت سفر باندھنے کا بھی ارادہ کرلیا تھا۔ تب ہی ابریز آگیا۔ وہ اسی طرح چپ چاپ آنکھیں موندے بے حس وحرکت بیٹھی رہی۔ آج پہلی بار ابریز نے اس کے سوگوار مکمل حسن کو دیکھا تھا وہ واقعی خوب صورت تھی‘ وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا۔
تب ہی تزکیہ نے آنکھیں کھولیں ابریز کو بالمقابل دیکھ کر پہلے تو چونکی پھر گڑابڑا کر جلدی سے کھڑی ہوگئی۔
’’السلام علیکم۔‘‘بہتے ہوئے آنسوئوں کو ہتھیلی کی پشت سے صاف کرتے ہوئے وہ سلام کرکے اندر کی طرف چلی گئی۔ابریز چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔ آج پہلی بار تزکیہ کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں غصہ نہ تھا اس کے دل میں نفرت نہیں ابھری تھی۔ قبل اس کے کہ وہ کچھ اور سوچتا کشمالہ کی کال آگئی اور ابریز کی ساری توجہ کشمالہ کی جانب مبذول ہوگئی۔
کافی دن بعد کشمالہ بھی آگئی۔ سکینہ اسے یہیں لے آئی کہ صاحب بڑی بیگم صاحبہ کے کمرے میں ہیں۔
’’افوہ! ابریز فارگاڈسیک میری بات پر بھی کچھ دھیان دے دو۔ تمہیں باربار سمجھا رہی ہوں پھر بھی تم یہاںاس بیڈ پربیٹھے ہو؟‘‘
ابریز کو سلمیٰ بیگم کے بیڈ پر بیٹھا دیکھ کر وہ سیخ پا ہوگئی نہ سلام نہ دعا آتے ہی شروع ہوگئی۔ ابریز کے ساتھ ساتھ تزکیہ نے بھی پلٹ کر حیرانی سے اسے دیکھا۔
’’اٹھو یہاں سے۔‘‘ابریز کے پاس آتے ہی اتنی بدتمیزی اور حاکمانہ لہجے میں کہا تھا کہ تزکیہ کو بھی غصہ آگیا۔
’’کیا ہو گیا ہے کشمالہ؟‘‘ابریز نے تھوڑے سے تیز لہجے میں کہا۔
’’کیا ہوگیا ہے؟یہ مجھ سے پوچھ رہے ہو ابریز… تمہیں نہیں پتا کہ کیاہوا ہے؟تمہیں اندازہ بھی ہے تمہاری مما کس بیماری میں مبتلا تھیں۔ بجائے یہ کہ تم ان کی یوز کی ہوئی چیزوں کو اٹھا کر پھینک دو۔ تم خود ان کے کمرے میں … ان کی چیز یوز کررہے ہو۔بی کیئر فل۔‘‘ابریز کو مما کا سرہانے کا تکیہ گود میں رکھا دیکھ کر وہ غصے سے بولی۔
اس کی بات پر تزکیہ کا دماغ گھوم گیا۔کیسی فضول اور جاہلانہ بات کررہی تھی وہ۔
’’کم آن یار ایسا کچھ نہیں ہوتا تم خوامخواہ پریشان ہورہی ہو۔‘‘ ابریز نے مصالحانہ انداز میں کہا۔
’’اف! کیسے سمجھائوں ابریز تم کو؟تم کیوں اس بات کو اتنا ہلکا لے رہے ہو۔ ابھی ابھی اٹھاکر پھینکو یہ سب کمرہ خالی کروا کے صفائی کروائو اور …‘‘
’’پلیز ! ‘‘تزکیہ جوابھی تک برداشت کیے سب کچھ سن اور دیکھ رہی تھی اس نے کشمالہ کی بات کاٹی اورہاتھ اٹھا کر اس کو مزید کچھ بولنے سے روکا۔
’’یہ کیا بولے جارہی ہیں آپ؟ہزاروں گھروں میں لوگ کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہو کر مرتے ہیں جو ان پر اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ تو کیا ہر کوئی سامان اٹھا کر پھینک دیتا ہے؟ان کمروں کو بند کردیتا ہے جس میں مریض رہتا ہو؟ہر شخص اپنے نصیب کی بیماری اور موت کا وقت لے کر آتا ہے۔ ایسے کسی کی بیماری نہیں لگ جاتی کسی کو بھی۔‘‘
’’تم چپ رہو تزکیہ میں نے تم سے بات نہیں کی۔‘‘کشمالہ نے جاہلانہ اندازدکھایا۔
’’آپ تو پڑھی لکھی ہیں…آپ ایسی باتیں کررہی ہیں۔مما ابریز کی ماں تھیں۔ اگر کل کو خدا ناخواستہ آپ کے گھرمیں یہ بیماری کسی کو ہوجاتی ہے تو کیا آپ اس سے کنارہ کش ہوجائیں گی؟ یا اسے گھر سے نکال دیں گی؟ خدا کے لیے ایسی باتیں نہ کریں پناہ مانگیں اللہ سے۔‘‘
’’ابریز دیکھ رہے ہو تم یہ کیا کیابکے جارہی ہے؟تم سن رہے ہو۔‘‘کشمالہ تلملا کر ابریز کی جانب پلٹی۔
’’تزکیہ بند کروبکواس۔‘‘ابریز کو جوش آگیا تھا۔ تزکیہ نے پلٹ کر آنسو بھری آنکھوں سے ابریز کو دیکھا اور اٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔ کشمالہ تن فن کرتی ابریز کے منع کرنے کے باوجود بھی غصے سے واپس لوٹ گئی اور ابریز یقیناً اس کو منانے اس کے پیچھے ہی گھر سے باہر نکل گیا مگر جانے سے پہلے کمرے میں آکر تزکیہ کو صلواتیں سنانا نہ بھولا تھا۔
’’تزکیہ تم حد سے بڑھنے لگی ہو۔ کیا ضرورت تھی یہ بکواس کرنے کی وہ مجھ سے مخاطب تھی تمہیں تونہیں بولا تھا کچھ۔ مما میری ماں تھیں اور مجھ سے زیادہ تم کو پیاری نہیں ہوسکتیں۔ جیسی فیلنگ میری ہے تمہاری نہیں ہوگی ان کے لیے۔ جو درد میں محسوس کرتا ہوں اس درد سے تم نا آشنا ہوگی۔ پھر تم کو یہ سب بکواس کرنے کی کیا ضرورت تھی۔تم صرف اپنے کام سے کام رکھو۔ جب تک یہاں ہو سمجھیں؟‘‘جب تک یہاں ہو۔ اس جملے پر خاصا زور دیا گیا تھا۔ تزکیہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’ابریز حسن مجھے معلوم ہے کہ وہ تمہاری ماں تھیں تمہیں بہت دکھ بہت تکلیف ہے ان کے چلے جانے سے۔ مگر میں نے بھی مما سے پیار کیا ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ یہاں پر میں مما کی وجہ سے آئی اور ابھی تک ان کی وجہ اور ان کی خواہش پر اس گھر میں ہوں۔ مجھے بھی ان سے انسیت لگائو اورمحبت ہوگئی تھی۔ میں نے دن رات ان کے ساتھ گزارے ہیں۔ آپ کو یہ بات جتلانے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ میں کچھ دن کے لیے یہاں ہوں۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے کہ یہاں آپ کے ساتھ رہوں۔ مما کے بعد یہ گھر میرے لیے سرائے جیسا ہے۔ میں تو خود جانا چاہتی ہوں۔ جلد از جلد اس اذیت سے اس بے نام اور غیر ضروری رشتے کو ختم کردینا چاہتی ہوں۔ مگر کیا کروں؟مما نے آخری وقت میں مجھ سے وعدہ لے کر مجھے پابند کیا تھا کہ ان کے کمرے کو کچھ دن آباد رکھوں۔ قرآن پاک کی تلاوت کروں بس مری ہوئی عورت سے کیا گیا وعدہ نبھا رہی ہوں۔ دو چار دن اور ان کی خواہش پوری کردوں۔ پھر آپ کو آپ کا گھر مبارک ہو۔ آپ کے خیال میں میں آپ سے رحم کی ہمدردی کی اور بے نام رشتے کا واسطہ دے کر آپ سے بھیک مانگوں گی۔ نہیں ابریز حسن ایسا ہر گز نہیں کروں گی کیونکہ آپ ایک بے رحم سفاک انسان ہیں۔ آپ …آپ انسان نہیں پتھر ہیں اور مجھے کوئی شوق نہیں کہ پتھر سے سر پھوڑوں۔‘‘
آج پہلی بار تزکیہ کی برداشت ختم ہوچکی تھی اور اس نے غصے سے کانپتے ہوئے ابریز کو باتیں سنائیں اور کمرے سے نکل گئی۔ ابریز حیرت سے منہ کھولے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتا رہ گیا۔ تزکیہ نے اپنا مختصر سامان پیک کرلیا وہ جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔

٭٭٭…٭٭٭

اس روز ابریز بہت اداس ہورہا تھا کشمالہ نے بھی آفس چھوڑ دیا تھا۔ ابریز نے سوچا کشمالہ کے ساتھ کہیں گھومنے چلا جائے۔ آفس میں بھی دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے آفس سے کشمالہ کو کال کی مگر کئی بار کال کرنے پر بھی کشمالہ نے کال اٹینڈ نہیں کی۔ ایسا کبھی نہیں ہواتھا کہ وہ کال یا مسیج کا فوری ریپلائی نہ دے ابریز وقت سے پہلے ہی گھر آگیا۔تزکیہ حسب معمول مما کے کمرے میں تھی ہاجرہ سورہی تھی اور سکینہ اپنے رشتے داروں سے ملنے گئی ہوئی تھی۔
ابریز آہستہ آہستہ چلتا ہوا مما کے کمرے کی طرف آگیا۔ برسوں پرانی عادت تھی کہ وہ آفس سے سیدھا مما کے کمرے میں ہی آتا ان سے مل کر کچھ دیر بیٹھ کر اپنے کمرے میں جاتا تھا۔آج تزکیہ بری طرح رو رہی تھی مما کے بیڈ پر بیٹھی دونوں ہاتھ ان کے لیٹنے کی جگہ پر رکھے ہوئے تھی۔
’’مما…مما آپ کیوں چلی گئیں؟ کہاں چلی گئیں؟مما مجھے معاف کردیجئے گا۔ میں نے شاید آپ سے پہلا جھوٹ بولا۔ مگر مگر مما میں کیا کرتی آپ کی خواہش آپ کی آنکھوں میں‘ میں نے ایک حسرت دیکھی تھی تب ہی آپ سے اتنا بڑا جھوٹ بولا۔ مما وہ جھوٹ بول کر میں نے آپ کی نیم مردہ آنکھوں میں ایک چمک دیکھی تھی۔ زندگی کی چمک۔ امید اور آس کے دیئے جلتے دیکھے۔ آپ کی بے چینیوں آپ کی بیقراری میں قرار نظر آیا۔ مما میں نے کتنے دن بعد آپ کے چہرے پرسکون دیکھا تھا اور تب مجھے احساس ہواکہ میں نے آپ سے جھوٹ بول کر کوئی غلطی نہیں کی اور شاید آپ اس بات کی اس خوشی کی منتظر تھیں مماجو کہ میرے نصیب میں نہیں۔ یہ بھی قدرت کی طرف سے ہوا کہ اس نے میرے جھوٹ کابھرم رکھ لیا اورآپ کو اپنے پاس بلالیا۔ میرا یہ جھوٹ پردے میں رہا کہ میں ماں بننے والی ہوں۔‘‘
ابریز جو چپ چاپ دروازے کے پاس کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا اس نے اپنا سر تھام لیا اور چپ چاپ اپنے کمرے کی جانب لوٹ گیا۔ ابریز کے چہرے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوگئے۔ دل عجیب سا ہونے لگا۔ تزکیہ نے ہر ہرطرح سے مما کو سنبھالا۔ جھوٹ تک بولا۔ شاید میں نے مما کے ساتھ…تزکیہ کے ساتھ غلط کیا۔ تزکیہ کی باتوں سے وہ وقتی طورپر الجھن کا شکار ہوگیا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ ویسے ہی وہ آج بے چین اور الجھا ہوا تھا اوپر سے تزکیہ کی باتوں سے مزید الجھ گیا۔
کشمالہ سے بات کرنا چاہی مگر پھر اس نے کال نہیں اٹھائی۔ وہ شاور لے کر گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے باہر نکل آیا تاکہ کشمالہ کے گھرجاکر دیکھے کہ آخر اس کے ساتھ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگیا۔اس کے گھر کاگیٹ کھلا ہوا تھا وہ سیدھا اندر آگیا سامنے ہی کشمالہ کا کمرہ تھا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا۔ یوں توان دونوں میں اتنے بے تکلفی تھی کہ آزادانہ آنا جاناہوتا مگر ابریز ناک کرنے کے لیے جیسے ہی آگے بڑھا اندر سے آتی مردانہ اور کشمالہ کی آوازو پر ایک لمحے کو رکا۔ اپنا نام سن کر وہ ٹھٹھک گیا۔ یہ کون تھا جس کے ساتھ کشمالہ بیڈ روم میں بیٹھ کر باتیں کررہی تھی؟ ساتھ میں اونچے قہقہے بھی لگائے جارہے تھے۔
’’آغا تم پاگل ہوگئے ہو کیا؟تمہارے آگے بھلا ابریز کی کیا حیثیت ہے؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ تمہارے آنے سے پہلے میں نے اسے دل بھرکر الو بنایا اور خوب عیش کیے حتیٰ کہ شادی ہونے کے باوجود وہ صرف اورصرف میرا ہی رہا۔ اس کی ہر رات میرے ساتھ باتیں کرتے گزری ہے۔اب جب کہ مجھے تم جیسا دولت مند اور کنورا لڑکا مل گیا ہے تو میں پاگل ہوں کہ اس شادی شدہ آدمی سے رابطہ رکھوں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ شادی شدہ ہو کر بھی…؟‘‘قبل اس کے کہ وہ قہقہہ لگا کر اپنا جملہ مکمل کرتی ابریز دھاڑ سے دروازے پر لات مارکر کمرے میں داخل ہوگیا۔
’’تم…‘‘کشمالہ اس کو دیکھ کربری طرح سٹپٹا کرکھڑی ہوگئی۔
’’یہ کیا حرکت ہیکوئی مینرزآتے ہیں تمہیں اوردروازہ ناک کئے بغیر کیسے اندر گھس آئے؟ گھبراہٹ اوربوکھلانے کے باوجود کشمالہ نے بدتمیزی سے کہا۔
’’مینرز…تم مجھے مینرز سکھائو گی مکار چالاک لڑکی؟‘‘ابریز غصے سے پاگل ہورہا تھا۔ اس کی کنپٹیاں سلگ رہی تھیں۔ بے غرتی کے احساس سے آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔
’’چلو تم نے خود ہی سن لیا۔ تو اب یہاں کیوں کھڑے ہو۔‘‘کشمالہ بے غیرتی اور ڈھٹائی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے نخوت سے بولی۔
’’تم کتنی چالاک نیچ اورجھوٹی سوچ کی مالک ہو کشمالہ…اور میں …میں کتنا پاگل اور بے وقوف کہ تمہاری باتوں میں آکر معصوم پاکباز اور شریف لڑکی کے ساتھ زیادتیوں کی حد کر ڈالی۔ تم ایک گری ہوئی عورت ہو۔ دل چاہتا ہے کہ تم جیسی ناگن کا گلا دبا دوں تاکہ تم آگے کسی اور کو اپنے زہرسے نہ ڈس پائو۔‘‘ابریز غصے سے چلاتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔
’’اے مسٹر…‘‘ اچانک سامنے وہ ادھیڑعمر کا عام سی شکل کا آدمی آگیا جو اب تک چپ چاپ بیٹھا تماشہ دیکھ رہا تھا۔
’’اپنا غصہ اور اپنا ایٹی ٹیوڈ اپنے پاس رکھو کیونکہ اب یہ تمہاری محبوبہ نہیں میری ہونے والی بیوی ہے۔‘‘
ابریز نے نفرت بھری نگاہ کشمالہ پر ڈالی اور پلٹ کر دروازے کو ٹھوکر مارتا ہوا باہر کی طرف نکل گیا۔
دماغ بری طرح سلگ رہا تھا کشمالہ کتنی گھٹیا اور نیچ نکلی۔ وہ صرف اورصرف دولت کی پجارن تھی مجھ سے زیادہ پیسے والے شخص کو پاکر سب کچھ بھول گئی۔ میں نے تو سچے دل سے اسے چاہا اسے پیار کیا اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنانے کو تیار تھا۔ میں نے اس کی محبت اس کی ادائوںمیں آکر تزکیہ جیسی شریف نیک اور خاندانی لڑکی سے حد درجہ زیادتی کر ڈالی۔
اس کے جذبات کو اس کی فیلنگ کو کچل ڈالا۔ اسے ذلت اور حقارت کے سوادیا ہی کیا ہے؟ قدم قدم پر اس کی تذلیل کی۔ اس کو اس کے حقوق سے محروم رکھا اور وہ‘وہ اس نے ہر ہر قدم پر گھر کی بھلائی چاہی۔ محبت خلوص اور ہمدردی کے ساتھ گزارا ایک ایک پل اس نے صرف اورصرف تڑپ تڑپ کر گزارا۔ اذیت اور کرب کے ساتھ گزشتہ آٹھ نو ماہ میں ایک بار بھی کوئی گلہ کوئی شکوہ نہ کیا۔ میری ہر زیادتی ہر ظلم کو برداشت کرتی رہی جب کہ وہ جانتی تھی کہ اس کا یہ عارضی ٹھکانہ ہے۔ اس کو یہاں سے ذلت کا داغ لے کرلوٹ جانا ہے اس کے باوجود بھی اس نے کبھی کوئی بدتمیزی ہٹ دھرمی یا ضد نہیں کی۔ چپ چاپ روبوٹ کی طرح میرے اشاروں پر ناچتی رہی۔ اپنا اندر اور باہر چھپا کر لوگوں کے سامنے جینا‘ آسان نہیں ہوتا مگر…مگر اس نے ایساکیا۔ اللہ پاک میں… میں نے کتنا بڑا ظلم کردیا ایک معصوم لڑکی کو ناکردہ گناہ کی اتنی بڑی اور اذیت ناک سزا دے دی۔گزشتہ آٹھ نو ماہ سے ہر رات …ہر رات اس کو رلایا۔ یا اللہ میں اس قابل بھی نہیں کہ جاکر اس سے معافی مانگ سکوں۔ وہ … وہ کل چلی جائے گی۔ مجھے چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میری زندگی سے نکل جائے گی۔ اتنی بے وقعت ہوکر آخر کب تک۔ کب تک وہ یہاں رہ سکتی ہے اورپھر میں نے ہی تو اس کی حد بتائی تھی۔
اس کا ذہن مائوف ہورہا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی تھیں۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر میں داخل ہوا توتزکیہ اپنے کمرے میں تھی اور الماری سے کچھ نکال رہی تھی۔ وہ نڈھال سا کرسی پر ڈھے گیا۔
’’مسٹر ابریز حسن! آپ اس سوٹ کیس کی تلاشی لے سکتے ہیں میں یہاں سے کچھ لے کر نہیں جارہی۔ ہاں وہ قرآن پاک جس کو مما سنا کرتی تھیں اور وہ نماز کا دوپٹہ جو مما نے مجھے دیا تھا یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں میں اپنے ساتھ اپنے پاس رکھنا چاہوں گی۔‘‘تزکیہ نے لہجے کو سخت بنانا چاہا مگر اس کی آواز میں لرزش تھی۔ ابریز نے آنکھیں اٹھا کر تزکیہ پر گہری نظر ڈالی سرخ انگارہ آنکھیں جن میں نمی جھلک رہی تھی۔ تزکیہ نے جلدی سے نگاہ ہٹائی۔
’’مجھے ایک گلاس پانی پلادو۔‘‘ نہ لہجے میں حاکمیت تھی اور نہ ہی سختی…تزکیہ نے اس بار غور سے ابریز کی جانب دیکھا اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ بدن بھی کپکپاہٹ تھی۔ آنکھوں میں بھاری پن اوربوجھل پن نمایاں تھا۔ چہرے پر بھی سرخی تھی۔
’’کیا ہوا ؟‘‘وہ قریب آگئی پانی دیا تو بے ساختہ ہاتھ ابریز کے ہاتھ سے ٹچ ہوگیا۔
’’آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔‘‘تزکیہ اس کی حالت دیکھ کر ایک دم گھبرا گئی۔ ابریز نے گلاس تھامنا چاہا مگر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا اس پر غنودگی سی طاری ہونے لگی۔
’’ہاجرہ جلدی سے ڈاکٹر کو فون کریں ابریز کی طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘تزکیہ نے گھبرا کر پہلے ابریز کو سنبھالنے کی کوشش کی اورپھر چیخ کر ہاجرہ کو آواز لگائی۔
بخار کافی تیز تھا ڈاکٹر نے انجیکشن لگا دیا اور ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنے کا کہا تھا۔ ابریز غنودگی کی کیفیت میں ہی تھا تزکیہ سب کچھ بھول بھال کر اس کے پاس بیٹھ کر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنے لگی۔ مسلسل پٹیاں رکھنے سے بخار کی حدت میں کمی آئی تو ابریز نے آنکھیں کھولیں۔ سکینہ چائے اور سلائس لے آئی کیونکہ کچھ کھلا کر دوا بھی دینی تھی۔ شام سے رات ہوگئی۔ تزکیہ وقفے وقفے سے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق بخار چیک کرتی رہی۔ ساری رات ایک پل کے لیے بھی نہیں سوئی وہ جیسا تھا جو بھی تھا اس کا شوہر تھا سب سے بڑی بات کہ اکیلا تھا۔ اس کو اس وقت تزکیہ کی ضرورت تھی۔ صبح ابریز کی حالت کچھ بہتر ہوئی۔ تزکیہ نے اس کے لیے سوپ تیار کیا اور تھوڑی دیر بعد کمرے میں آئی تو ابریز تکیے کے سہارے بیٹھا تھا۔ ایک رات میں وہ کتنا کمزور اور مضحمل لگ رہا تھا۔ تزکیہ نے ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی۔
’’میں نے ہاجرہ کو ضروری ہدایات دے دی ہیں۔ آپ بھی بہتر ہیں۔ یہ میری فطرت کا حصہ اور میری تربیت میں شامل تھا کہ جس کی وجہ سے میں رات کو یہاں آپ کے پاس رکی۔ اب آپ کو میری ضرورت نہیں ہے اس لیے اب میں آپ کے گھر سے‘آپ کی دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں۔ میں آپ کے ساتھ گزارے اذیت ناک وقت کو یہیں دفن کرکے صرف وہ اچھی یادیں لے کر جارہی ہوں جو مما کے ساتھ گزاری ہیں۔‘‘پر اعتماد لہجے میں کہتے ہوئے سرپر دوپٹہ کو پھیلاتے ہوئے واپس پلٹی۔ ابریز جو چپ اس کی باتیں سن رہا تھا ایک لمحے میں بیڈ سے اتر کر اس کے پاس آگیا۔
’’تم …تم بھی مجھے چھوڑ کر چلی جائو گی؟‘‘
’’جی ابریز حسن کیونکہ بقول آپ کے میں یہاں مما کی وجہ سے ان کے لیے آئی ہوں اور ان کی زندگی تک یہاں پر ہوں اور اب …اب مما کو گزرے ہوئے بھی دس بارہ دن ہوگئے۔ اب کیا جواز بنتا ہے میرے یہاں رہنے کا۔‘‘نہ جانے کہاں سے اتنا اعتماد آگیا تھا۔
’’مگر تم تو…تم اچھی لڑکی ہو۔ سب کا خیال رکھنے والی۔ سب کی مدد کرنے والی۔ پھر ایک بیمار اور اکیلے شخص کو چھوڑ کر کس طرح جاسکتی ہو؟‘‘زندگی میں پہلی بار ابریز نے اس لہجے میں یوں بے چارگی سے سوال کیا تھا۔ تزکیہ نے نگاہ اٹھا کر غور سے اسے دیکھا۔ بلیک لائینگ کے ٹرائوزر وائٹ ملگجی سی ٹی شرٹ بکھرے بالوں بڑھی ہوئی شیو اور بخار کے اثر سے کمزور چہرہ وہ بہت ٹوٹا ہوا بہت بکھرا ہوا لگ رہا تھا۔ ایک لمحے کو تزکیہ گڑبڑا گئی مگرپھر فوراً ہی سنبھل گئی۔
’’جی تھی تزکیہ کبھی ایسی مگر وہ تزکیہ مرچکی ہے اب تزکیہ کو صرف اپنے لیے جینا ہے کیونکہ جس کے لیے وہ یہاں آئی تھی وہ تو ہے نہیں۔ آپ میرا راستہ چھوڑدیں آپ تو بہت خوش ہوں گے کہ آپ جو چاہتے ہیں وہ آسانی سے پورا کرسکتے ہیں۔ آپ اپنی پسند اپنی محبت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے گھر لاسکتے ہیں۔ کوئی تکلیف کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی آپ کو۔ آپ اپنی مرضی کی زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘
’’پلیز تزکیہ! میں مانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا۔ جو کچھ تمہارے ساتھ کیا وہ ناقابل برداشت ہے اور میں نے جس گھٹیا لڑکی کے لیے تم جیسی لڑکی کی قدر نہیں کی وہ ذلیل اور نیچ نکلی اسے مجھ سے زیادہ دولت مند آدمی مل گیا۔ اس نے مجھے دھوکا دیا مجھے ہرٹ کیاہے۔ میں اپنے تمام تر گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ بہت شرمندہ ہوں تم سے نظریں ملانے کے بھی قابل نہیں ہوں۔‘‘
’’اوہو…‘‘ تزکیہ نے ہونٹوں کو سکیڑا…’’یہ تو اللہ کی طرف سے ہوا ہے ابریز حسن۔ اس سے معافی مانگیں میں نے کبھی کوئی بد دعا نہیں دی۔‘‘وہ منہ پھیر کر کھڑی ہوگئی۔
’’پلیزتزکیہ میں ہاتھ جوڑ کر تم سے معافی مانگتا ہوں۔ اپنی زیادتیوں کی اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں۔ بہت شرمندہ ہوں تم سے۔ تمہارے خیال میں‘ میں وہاں سے ٹھکرائے جانے کے بعد تمہارے پاس آیا ہوں…تو بس اتنا ہی کہوں گا۔ صرف اورصرف تم سے معافی کا طالب ہوں آگے تمہاری مرضی ہے تزکیہ کہ تم مجھے معاف کرکے میرے اوپر احسان کرکے میرے ساتھ رہو یا نہ رہو۔ کیونکہ میں واقعی خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ تم جیسی ہیرا لڑکی مجھ جیسے مطلب پرست آدمی کے ساتھ رہے۔ سچ میں‘میں کم ظرف اور چھوٹا انسان ہوں لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کوئی کوتاہی کوئی غلطی نہیں کروں گا۔‘‘وہ ہاتھ جوڑے سامنے کھڑا تھا۔ سوالی بن کر۔
’’تزکیہ میرے گھر کو‘ مما کے گھر کو تمہاری ضرورت ہے پلیز‘ تمہارے بنا یہ گھر مما کا گھر ویران ہوجائے گا۔تزکیہ یہ میرا نہیں ہمارا گھر ہے۔ اس گھر کو تم جیسی لڑکی کی ضرورت ہے تزکیہ۔ جسے مما نے پسند کیا تھا یہ مما کی خواہش بھی تھی ہم دونوں کو مل کر بابا کے مما کے گھر کو آباد رکھنا ہے تزکیہ۔ میں ٹوٹ گیاہوں۔ تزکیہ مما کا گھر بکھرنے لگا ہے۔ کیا تم اسے سمیٹو گی نہیں؟کیا ہم مل کر اس کو بکھرنے سے بچا نہیں سکتے؟‘‘وہ سرتاپا سوال عاجزی کی علامت تھا۔
’’نہیں۔‘‘تزکیہ کا لہجہ اٹل اور فیصلہ کن تھا۔
’’ٹھیک ہے تزکیہ۔‘‘وہ راستے سے ہٹ گیا تزکیہ نے قدم بڑھائے۔
’’تزکیہ جانے سے پہلے ایک بات سن لو کہ تمہارے بنا میرا گھر ‘میرا کمرہ اور میرا دل قبرستان کی طرح ہوگا اور قبرستان میں زندہ لوگ نہیں رہتے اور میں بھی اب تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ پائوں گا۔ کیا کروں گا زندہ رہ کر اور کس کے لیے زندہ رہوں نہ مما ہیں اور اب تم بھی…میں تمہارے بنا مر جائوں گا تزکیہ سچ۔‘‘تزکیہ تڑپ کر پلٹی کس قدر بے بسی بے چارگی اد اسی ابریز کے چہرے پر نمایاں تھی۔
اس کی خوب صورت آنکھوں میں شرمندگی اور ندامت کے آنسو تھے۔ کتنا ٹوٹا ہوا …کس قدر بکھرا ہوا لگ رہا تھا وہ۔ تزکیہ کا دل تڑپ گیا۔ ابریز حسن اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا جس کو تزکیہ نے ٹوٹ کر چاہا تھا۔ بے اعتنائیوں اور کج ادائیوں کے باوجود بھی وہ دل کے کونے کونے میں دھرنا دے کر بیٹھا تھا۔ وہ کتنا بے بس اور شرمندہ تھا تزکیہ بے ساختہ اس کے پاس چلی آئی۔ اس کے چوڑے سینے میں منہ چھپا کر سسک پڑی۔
’’خدا نہ کرے ابریز کہ آپ کو کچھ ہو۔ آپ کو کچھ ہوا تو میں بھی زندہ نہ رہ پائوں گی۔‘‘بظاہر سخت بننے والی اندر سے کتنی کمزور اور نرم تھی۔ ابریز نے پوری قوت سے اسے بھینچ لیا آنسو بے تحاشہ اس کی آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے خود کو برداشت کی آخری حدوںپر لاکر وہ خود بھی بری طرح بکھر چکی تھی۔ زندگی نئے موڑ پر آگئی تھی۔
’’تزکیہ تم بہت عظیم لڑکی ہو اور میں ایک حقیر اور چھوٹا انسان جو انجانے میں اندھیروں میں منزل تلاش کرنے جارہا تھا اور بے وقوف کو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ روشنی اور منزل تو اس کے پاس تھی۔ اس کے ساتھ تھی اور میں ناقدری میں ذلالت کی حدیں پارکررہا تھا۔ تم نے مجھے معاف کردیاناں؟‘‘
’’جی ابریز۔‘‘ روتے روتے معصومیت سے سر ہلا کر بولی تو ابریز کو اس پر ٹوٹ کر پیار آگیا۔
’’بہت برے ہیں آپ۔‘‘ابریز کو والہانہ انداز میں دیکھتا پاکر تزکیہ نے دھیرے سے کہا۔
’’ہاں مگر اب یہ برا انسان تمہیں اچھا بن کر دکھائے گا اور …اور…‘‘ ابریز نے جھک کر اس کے کان میں آہستہ سے کہا۔
’’ابھی تو تمہارے اس جھوٹ کو بھی سچ ثابت کرنا ہے جو تم نے مماسے کہا تھا۔‘‘
’’کیا؟‘‘تزکیہ نے حیران ہو کر آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
’’ہاں وہی جو تم نے مما سے کہا تھا اور میں نے سن لیا تھا۔ آئی لو یو مائی ڈیئر۔‘‘ابریز نے تزکیہ کو سینے سے لگا کر اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔ تزکیہ نے بے خود ہو کر اس کی بانہوں میں خود کو سمولیا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
Close