Aanchal Feb 2019

محوِتماشا

صدف آصف

ہے اگر چہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہت
اپنا سایہ بھی جدا لگتا ہے اپنی ذات سے
ہم نے اس دل سے لگانے کی سزا پائی بہت

سونے سے پہلے نبیل اکرم نے کروٹ بدلی اور کچھ سوچتے ہوئے مسکرا کر کال ملائی۔
’’ہیلو… کیا مسئلہ ہے تمہیں؟ اتنی رات کو بھی چین لینے نہیں دیتے۔‘‘ فصیح تپ کر چلایا۔
’’سنو‘ کل ہم لوگ آفس کے بعد آرٹس کونسل چلیں گے۔‘‘ اس نے تنگ کرنے والے انداز میں کہا۔
’’کیوں…؟‘‘ فصیح نے کروٹ بدل کر تیز لہجے میں پوچھا۔
’’وہاں مشاعرہ ہورہا ہے۔‘‘ اس نے چڑایا، جانتا تھا کہ فصیح ان چیزوں سے دور بھاگتا ہے۔
’’مجھے تومعاف ہی رکھو۔‘‘ وہ صاف انکاری ہوا۔
’’بس اچھا سا کرتا پائجامہ زیب تن کرکے پانچ بجے میرے دفتر پہنچ جانا۔‘‘ نبیل نے اس کے انکار کو کوئی اہمیت نہیں دی اور قہقہہ لگا کر ہنستا‘ اسے حکم دینے کے انداز میں بولا۔
’’نہیں جانا مجھے۔‘‘ اس نے غصہ سے کہا۔
’’اس مہینے کی سیلری چاہیے یا نہیں؟‘‘ نبیل نے دھمکایا۔
’’لیکن وہ…‘‘
’’ارے… گولی مارو لیکن ویکن کو بس چلنا ہے۔‘‘ نبیل نے دھونس جمائی اور جواب سنے بغیر سلسلہ منقطع کردیا تھا۔

اگلے دن وہ دونوں پرہجوم ہال میں داخل ہوئے، نبیل کا دوست جو انتظامیہ میں شامل تھا وہ انہیں اسٹیج سے قریب کی نشست گاہ پہ بٹھا کر چلا گیا۔
’’یار… کس مصیبت میں پھنسا دیا۔‘‘ فصیح کے لیے نچلا بیٹھنا مشکل تھا، کجا کے ایک گھنٹے تک بیٹھ کر مشاعرہ سننا جبکہ اسے شاعری سے ذرا برابر بھی دلچسپی نہ تھی۔
’’چپ چاپ بیٹھا رہے۔‘‘ نبیل نے اسے آنکھیں دکھائی اور اسٹیج کی جانب متوجہ ہوا۔ ایک جانا پہچانا چہرہ دیکھ کر وہ چونک اٹھا۔
’’ارے یہ لڑکی…! جو اسٹیج پر بیٹھی ہے وہ یمنی سراج ہے ناں؟‘‘ فصیح نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا اور حیران ہوکر اسے کہنی ماری۔
’’ہاں… یہ یمنی ہی ہے۔‘‘ نبیل نے اثبات میں سر ہلا کر تصدیق کی۔
ساتھی شاعرہ کے درمیان اسٹیج پر بیٹھی یمنی اسے دنیا کی سب سے حسین لڑکی لگی، عام دنوں سے بہت مختلف، سفید شلوار قمیص پر چنری کا دوپٹہ اوڑھے لمبے بالوں کی چوٹی ایک سائیڈ پر ڈالے، اس کا گلابی‘ پر اعتماد چہرہ، نگاہوں کے سامنے تھا، نبیل کے دل کی دھڑکن پہلی بار ڈانوا ڈول ہونے لگی۔
’’یہ تو بڑی چھپی رستم نکلی؟‘‘ فصیح نے منہ بنایا۔ اسے یوں ہونق بنا دیکھ کر مسکراہٹ کی کرن نبیل کے ہونٹوں پہ چمکنے لگی۔
’’اور گھنی بھی ہے۔‘‘ فصیح کا جی مزید جل کر خاک ہوا مگر وہ اسٹیج کی طرف ہی متوجہ رہا۔
’’چل چھوڑ ناں یار… یہ اس کا پرسنل میٹر ہے۔‘‘ نبیل جو اس کے حسین لب و لہجے میں کھویا ہوا تھا، فصیح کی بھن بھن پر چڑا۔
’’مگر ذرا جو اس لڑکی نے ہوا لگنے دی ہو۔‘‘ فصیح کا ذہن ایک ہی نقطہ پر اٹک گیا۔
نبیل کاندھے اچکا کر دوبارہ یمنی کی طرف متوجہ ہوا اور پھر اپنی باری آنے پر اس نے خاصی سنجیدگی اور اعتماد سے مائیک تھاما اور بڑے خوب صورت انداز میں نظم پڑھنا شروع کردی، یہ نظم ایک ایسے بچے کی حالت زار کی عکاسی کررہی تھی، جو اپنی غربت کی وجہ سے تعلیم سے محرومی کا شکار تھا۔ ہال پر سکوت طاری ہوگیا تھا۔
واہ… واہ… مکرر‘ مکرر کے شور میں اس نے دو مرتبہ اپنی نظم سنائی۔
اتنا دلنشین لہجہ درد‘ احساس کی اس قدر نزاکتیں‘ سچ میں یہ یمنی کا نیا روپ تھا، جس پہ وہ بری طرح سے مر مٹا تھا۔
حسب توقع یمنی کی نظم کو سب سے زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی۔ اس سے کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود جانے کیوں نبیل کو اس پسندیدگی پر بڑی انجانی سی خوشی محسوس ہوئی۔ ریفریشمنٹ کے دوران نبیل بطور خاص یمنی کے پاس داد دینے پہنچا۔
’’سر… آپ لوگ یہاں؟‘‘ وہ نبیل اور فصیح کو مقابل دیکھ کر گھبرائی۔
’’ماشاللہ… مس یمنی ہمیں تو آپ کے شوق کے بارے میں پتا ہی نہ تھا۔‘‘ فصیح کے لہجے میں طنز ابھرا تھا، وہ خاموشی سے سر جھکائے کھڑی رہی۔ نبیل کو احساس ہوا تو اس نے بڑھ کر یمنی کو قدرے گرم جوشی سے مبارک باد پیش کی۔
’’تھینک یو سر…‘‘ وہ اس کے گمبھیر لہجے پر کچھ گھبرا سی گئی اور بہانے سے ہال کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئی۔
’’بھائی… ٹھیک تو ہو؟ کہیں تمہیں بھی زمین‘ پھول اور آسمان تاروں کی مسکن تو نہیں لگنے لگا۔‘‘ فصیح نے کائیاں پن سے اسے گھورا۔
’’اب تک تو ٹھیک تھا مگر آگے کا کچھ کہہ نہیں سکتا۔‘‘ وہ کھوئے ہوئے انداز میں اس طرف دیکھنے لگا، جہاں یمنی چائے کا کپ تھامے اپنی ساتھی شاعرہ سے گفتگو میں محو تھی۔

وہ ایک عام سی صبح تھی مگر یمنی کے لیے اپنے سفید دامن میں کچھ نیا پن چھپائے اس متوسط گھر کے آنگن میں اتری تھی۔ اس نے ناشتے کی میز پر ابا کے لیے گرما گرم پراٹھے پہنچائے تو وہ کچھ زیادہ ہی خوشگوار موڈ میں دکھائی دیے۔ گھر سے نکلتے ہوئے اس کے سر پہ پیار سے ہاتھ بھی پھیرا تھا۔ ان کے آفس جانے کے بعد اماں نے بھی اسے مسکرا کر پیار بھری نظروں سے دیکھا تو یمنی کچھ اُلجھ سی گئی۔
’’یااللہ… یہ صبح ہی صبح ان دونوں کو ہوا کیا ہے؟‘‘ ابھی وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی کہ مہناز بیگم بولیں۔
’’آج کچھ مہمان آئیں گے… شام کو تیار رہنا۔‘‘ اس نے چونک کر ماں کو دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔
’’چھولے اور سموسے بنا لینا، باقی کیک وغیرہ بازار سے آجائے گا۔‘‘ مہناز بیگم کے‘ سادہ سے جملے میں بڑی لمبی چوڑی ہدایات چھپی ہوئی تھیں۔
’’مگر مجھے تو آفس جانا ہے۔‘‘ اس نے منہ بنایا۔
’’اب آفس جانے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ناشتے کے برتن سمیٹتی مہناز نے بیٹی کو گھورا۔
’’مگر کیوں؟‘‘ اس نے جرح کی۔
’’اچھا نہیں لگتا‘ شادی سے پہلے تم دونوں کا یوں روزانہ ملنا۔‘‘ وہ بڑے مطمئن انداز میں بولیں۔
’’کن دونوں کا…! میں کچھ سمجھی نہیں۔‘‘ وہ مزید اُلجھی۔
’’آئے تمہارا اور نبیل میاں کا۔‘‘ وہ سر پہ ہاتھ مار کر بولیں۔
’’ان کا یہاں کیا ذکر؟‘‘ یمنی نے دھیرے سے پوچھا۔
’’اے لو… بی بی ان ہی کی فیملی تو تمہیں شام کو دیکھنے آرہی ہے۔‘‘ اماں کے منہ سے نکلنے والے الفاظ تھے یا بارود کا گولہ، اس کے وجود کے پرخچے اڑتے چلے گئے تھے۔

یمنی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو اس نے واضح طور پر ناپسندیدگی کی رمق چاروں معزز خواتین کے چہروں پر دیکھی تھی۔ یمنی بڑے متضاد اور عجیب جذبات کے بھنور میں پھنسنے لگی۔ ایک طرف نبیل کے لیے پسندیدگی، دوسری جانب اس کی فیملی کے رعونت بھرے انداز۔ وہ چپ چاپ کونے میں دھرے صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’میرا بیٹا بہت ہی بھولا ہے۔‘‘ مسز اکرم نے ساڑھی کا پلو درست کرتے ہوئے سرد آہ بھری۔ جانے وہ کیا جتانا چاہ رہی تھیں۔
’’ہماری یمنی بھی بہت سیدھی ہے۔‘‘ مہناز نے ضبط سے کام لیتے ہوئے جلدی سے لقمہ دیا۔ خواتین اس پر نگاہیں جما کر بیٹھ گئیں تو وہ بے چینی سے پہلو بدلنے لگی۔
’’آپ کی تو ہمارے بھیا سے آفس میں روزانہ ملاقاتیں ہوتی ہوگی؟‘‘ نبیل کی بہن کے لہجے میں طنز تھا۔ یمنی کو یوں لگا جیسے وہ پوچھنا چاہ رہی ہو کہ جاب کرنے گئی تھی یا لڑکا پھنسانے؟
’’ظاہر سی بات ہے ان کے آفس میں کام کرتی ہوں۔‘‘ یمنی نے دل ہی دل میں ایک فیصلہ کیا اور پھر بہت ہی مطمئن و پر اعتماد انداز میں جواب دیا۔
’’آپ لوگوں نے کچھ لیا ہی نہیں۔‘‘ مہناز نے ماحول میں چھائی ناگواری کا رنگ مٹاتے ہوئے خوش اخلاقی دکھانا چاہی۔
’’ہاں بھئی… جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے قاضی؟‘‘ دوسری بہن کے ہنسنے کا انداز یمنی کے تن بدن میں آگ لگا گیا۔
ان لوگوں کا انداز اور لہجہ واضح طور پر قابل گرفت تھا مگر مہناز نے بیٹی کے اچھے مستقبل کی خاطر نظر انداز کیا پر یمنی نے پل بھر کو اس کی آنکھوں میں دلیری سے جھانکا اور پھر بڑی بے نیازی سے بولی۔
’’جی لیکن ابھی ہماری جانب سے ہاں نہیں ہوئی…‘‘ خواتین کا منہ حیرت سے کھل گیا‘ ساتھ ہی چہرے پر ایک بے یقینی کا سا عالم بھی تھا۔ نبیل کی ممی اور بہنوں کے سرد لہجے اور معنی خیز مسکراہٹ نے فیصلہ کرنے میں سہولت فراہم کی۔ وہ بے تاثر چہروں کے ساتھ رخصت ہوگئیں۔ ان کے گیٹ سے نکلتے ہی مہناز کا ضبط بھی حدیں پھلانگ گیا۔
’’گھر آئے مہمانوں کے ساتھ کوئی بھلا ایسا سلوک کرتا ہے؟‘‘ ان کی غصیلی نگاہیں یمنی پر جم گئیں۔ وہ بڑی بے نیازی سے چپس کی پلیٹ گود میں رکھ کر بیٹھ گئی اور کھانے لگی۔
’’یمنی میں کچھ پوچھ رہی ہوں؟‘‘ مہناز نے اس کے ہاتھ سے پلیٹ چھین کر میز پر پٹخ دی۔
’’اماں… انسان کی عزت نفس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا، ان لوگوں کا رویہ دیکھا تھا آپ نے۔‘‘
’’میری بچی لڑکیوں کو ہی سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، پھر یہ بھی سوچو نبیل اپنی ذات میں کتنا اچھا ہے۔‘‘ وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔ یمنی نے بڑی بے نیازی سے کھڑے ہوکر کہا۔
’’جتنے بھی اچھے ہوں‘ مجھے اپنی عزت پیاری ہے۔ اس بات کو یہیں ختم سمجھیں۔‘‘
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ مہناز کا منہ حیرت سے کھل گیا، ان کے دل میں بھی کہیں یہ بات چھپی تھی کہ یمنی اپنے باس کو پسند کرتی ہے۔
’’بس اماں… جس گھر جانا نہیں اس کے کوس کیا گننا…‘‘ وہ فیصلہ سنانے کے بعد ہاتھ جھاڑتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔ مہناز کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

’’یمنی تم نے بتایا نہیں میں نبیل کے گھر والوں کو کیا جواب دوں؟‘‘ مہناز بیگم نے دوسرے دن بیٹی کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
یمنی کی بدتمیزی کے باوجود نبیل کی ممی نے گھر جاتے ہی کال کرکے اپنی رضا مندی دے دی تھی، جس پر مہناز بیگم کو حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی تھی۔
’’اماں… ابھی مجھے شادی نہیں کرنی۔‘‘ یمنی نے دھیرے سے لب کھولے۔
’’آ… مگر… کیوں؟‘‘ وہ ایک دم غصے کو پیتے ہوئے بیٹی کو گھورنے لگیں، ورنہ اتنا اچھا رشتہ ٹھکرانے پر ایک چانٹا رسید کرنے کی خواہش دل میں جاگ اٹھی تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات پر یمنی کو ہنسی آگئی مگر وہ ضبط کر گئی۔
’’میری پیاری اماں… نبیل اکرم میرے باس ہیں، آپ ہی بتائیں… ہمارا جوڑ بنتا ہے کیا؟‘‘ اس نے دل میں پلنے والی الجھن سے ماں کو آگاہ کیا۔
’’ارے تو یہ بات ان لوگوں کو سوچنا چاہیے۔ ویسے بھی جب انہیں کوئی اعتراض نہیں تو تم کیوں فضول باتوں کو دل سے لگا کر بیٹھ گئی ہو؟‘‘ مہناز جھلائیں۔
’’میری پیاری اماں… آپ سر کے گھر والوں کا رویہ بھول گئی ہوں گی مگر مجھے سب ہے یاد ہے ذرا ذرا۔‘‘ اس نے ہلکے پھلکے انداز میں جتلایا۔
’’چھوڑو بھی‘ ایسی باتیں تو ہر جگہ ہوتی ہیں‘ لڑکے والوں کا ایسا رویہ ہماری معاشرتی زندگی کا حصہ ہے تو پھر کیا تم ساری عمر کنواری رہو گی۔‘‘ مہناز نے سمجھانا چاہا۔
’’پیاری اماں… کیا آپ چاہتی ہیں کہ میری ساری عمر ایک طعنہ بن کر رہ جائے اور سب لوگ کہیں کہ یمنی سراج نے اپنے باس کو پھنسا کر شادی کی۔‘‘ اس نے ہاتھوں کی انگلیاں مسلتے ہوئے درد بھرے لہجے میں کہا۔
’’بیٹا… ایسی بات نہیں۔ انسان کا کردار اس کے چہرے پہ لکھا ہوتا ہے۔ خیر اگر تم راضی نہیں تو کوئی بات نہیں‘ میں انکار کہلوا دیتی ہوں۔‘‘ مہناز نے کچھ سوچ کر بیٹی کی بات مان لی۔ نبیل کے گھر والوں کا رویہ تو انہیں بھی کھٹکا تھا مگر اتنے پڑھے لکھے اور امیر گھرانے سے آنے والے رشتے کو ٹھکرانے کی جرأت وہ اپنے اندر پیدا نہیں کر پارہی تھیں مگر یمنی کے بروقت فیصلے نے انہیں بھی خود اعتمادی بخشی اور انہوں نے دوسرے دن ہی وہاں انکار کہلوا دیا تھا۔

وہ ریزائن دینے آفس گئی تو نبیل کے کمرے میں فصیح اس کے ساتھ سر جوڑے بیٹھا تھا۔ شاید اس کا انکار ہی زیر بحث تھا۔
’’کیسی ہیں مادام؟‘‘ اسے دیکھ کر فصیح مسکراتا ہوا کرسی سے کھڑا ہوا اور کورنش بجا لایا مگر نبیل کے گھورنے پر فوراً ہی باہر نکل گیا۔
’’بیٹھو…‘‘ اس نے زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ یمنی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بڑے تکلف بھرے انداز میں بیٹھی اور استعفیٰ پیش کردیا۔ اس نے ریزائن لیٹر پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور پھیکے انداز میں انکار کی وجہ پوچھی۔ یمنی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس موضوع پر کیسے بات کرے بس سر جھکا کر بیٹھ گئی۔
نبیل کی نگاہیں اس پر جم گئیں وہ ہاتھوں کی انگلیوں کو مسلتے ہوئے گھبرائی گھبرائی سی اسے پہلے سے بھی زیادہ پیاری اور اپنی اپنی سی لگ رہی تھی۔
’’کتنی ظالم ہو تم… ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔‘‘ وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوا ایک دم سے دل نے اصرار کیا کہ اس کا ہاتھ تھام کر کہیں دور نکل جائے۔
’’میں اب چلتی ہوں۔‘‘ اس نے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا۔
’’تمہیں پتا ہے یمنی کہ تم مجھے دنیا کی سب سے حسین لڑکی کیوں لگتی ہو؟‘‘ اس کی بات نظر انداز کرکے وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولا۔ اس کے سوال پر وہ انکار میں سر ہلانے کے بعد فرش کو گھورنے لگی۔
’’اس لیے نہیں کہ تمہارا چہرہ دلکش ہے، اس لیے بھی نہیں کہ تم لاکھوں میں ایک ہو، صرف اس لیے کہ تمہارے سینے میں دھڑکتا دل بہت خوب صورت ہے اور میرا دل جو آئینہ کی طرح شفاف ہے، اس میں تمہاری تصویر اسی دن سے سج گئی تھی جس دن مجھ پر تمہارے ستھرے خیالات عیاں ہوئے تھے، ایک درد مند اور حساس طبیعت کی مالک شاعرہ یمنی سراج، فیصلہ کرلیا اس لڑکی کی معیت میں گزرنے والی زندگی حسین ہوجائے گی۔‘‘ نبیل کی بات پر یمنی کا دل ایک نئی لے پر دھڑکا، اس نے نگاہ اٹھا کر دیکھنا چاہا مگر نبیل کی آنکھوں سے بہتا محبت کا دریا اس کی نگاہوں کے آگے باڑھ باندھنے لگا۔
’’مگر میں ہی کیوں؟‘‘ اس نے کچھ دیر بعد گلابی لب کھولے۔
’’تم مجھے کیا سمجھتی ہو؟‘‘ اس نے بڑے انداز سے پوچھا۔ وہ جواب دینے سے کترائی۔
’’حسن تو میرے آس پاس بھی بکھرا پڑا ہے مگر تمہاری سیرت کی سچائی اور نیکی کا حسن مجھے متاثر کر گیا، بس فیصلہ کرنے میں لمحہ لگا اور ٹھان لیا کہ تمہیں اپنا بنا کر رہوں گا۔‘‘ وہ بڑے خوب صورت لب و لہجے میں حال دل سناتے ہوئے اسے منتشر کرنے لگا۔
’’مگر…‘‘ یمنی کو بہت کچھ کہنا تھا‘ پر وہ ایک لفظ سے زیادہ نہ بول سکی۔ اس کی گہری نگاہوں کا سامنا کرنے میں مشکل ہوئی۔
’’ہاں بولو… کیا اگر مگر…؟‘‘ اس نے اس کی کیفیت سے لطف اٹھاتے شوخی سے پوچھا۔ وہ پھر سے الجھ گئی۔
’’اچھا یار… چلو یہ ہی بتادو کے انکار کیوں کیا؟‘‘
’’اصل میں…‘‘ اس نے اپنے دل میں پلنے والے سارے خدشات اور ڈر سے نبیل کو آگاہ کردیا۔
’’دیکھو یمنی… میں نے کبھی بھی دنیا کی پروا نہیں کی‘ کوئی کیا کرتا ہے‘ کیا کہتا ہے، کہتا رہے مائی فٹ۔‘‘ اس نے ایک لمحہ ٹھہر کر یمنی کی آنکھوں میں جھانکا، وہ گڑبڑائی۔ فوراً سے گھنی پلکیں جھکا دیں۔
’’ہاں… جہاں تک میرے گھر والوں کی بات ہے تو ان کے اس رویے کے پیچھے بھی ایک بڑی وجہ تھی۔‘‘ یمنی نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا مگر منہ سے کچھ نہ بولی۔
’’ممی کا شروع سے ارادہ تھا کہ وہ میرا رشتہ اپنی بہن کی بیٹی سے کریں گی مگر میں نے تمہاری وجہ سے انکار کردیا۔ اب ظاہر ہے اس دور میں اتنے کھلے دل کی ماں بہنیں کم ہی پائی جاتی ہیں جو بھائی یا بیٹے کی پسند کو خوشی خوشی قبول کرلیں۔ خاص طور پر جب سونیا کی شکل میں بہو اور بھابی کی تصویر ان کے ذہنوں پر جم گئی ہو۔‘‘ یمنی کو پہلی بار اندازہ ہوا کہ بالوں میں انگلیاں پھنسا کر بولتا ہوا وہ کتنا پیارا لگتا ہے۔
’’تو پھر میں نے انکار کرکے اچھا کیا تھا ناں؟‘‘ سونیا کے نام پر اس کے لہجے میں ہلکی سی جلن ابھری۔
’’بالکل بھی اچھا نہیں کیا مائی ڈئیر۔‘‘ وہ ایک دم دلکشی سے ہنسا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر اس کو گہری نگاہوں سے دیکھا۔ وہ گلابی پڑگئی۔
’’ان سب باتوں کے باوجود میں ایک بات کا یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں پورے استحقاق کے ساتھ اپنی بیوی بنا کر اکرم ہائوس لے کر جائوں گا۔‘‘ نبیل نے یقین دلایا۔
’’اور… وہ آپ کی فیملی؟‘‘ یمنی کے منہ سے بے ساختہ نکلا اور پھر وہ شرمندہ ہوئی۔
’’میرے گھر والے بھی تمہیں بہو اور بھابی کا مان دیں گے۔ یہ ایک مرد کا وعدہ ہے۔‘‘ اس کے لہجے کا اعتماد، یمنی کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کرنے لگا۔
’’آئی پرامس۔‘‘ نبیل اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا اور ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر پیار سے بولا۔ یمنی کا وجود کپکپانے لگا، اس کا سر مزید جھکتا چلا گیا۔ مانوس سی خوشبو، آس پاس بکھر کر اسے مدہوش کیے دے رہی تھی۔
’’میں ایک بار پھر اپنے گھر والوں کو تمہارے گھر بھیجوں گا، امید ہے کہ اس بار تم میرا مان رکھ لو گی۔‘‘ نبیل کی گمبھیر آواز اور بھاری لب و لہجے کے آگے وہ ہار گئی اور اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔

نبیل نے اپنا وعدہ نبھایا اور بڑی دھوم دھام اور سج دھج کے ساتھ اسے اپنا بنانے آیا اور پھر زندگی جیسے عید اور تہوار بن گئی۔ مسرتوں سے لبریز‘ گنگناتی کھکھلاتی‘ چاند کی طرح روشن‘ قوس و قزح کی طرح ست رنگی۔ شفق و کہکشاں کی طرح چمک دار‘ وہ پیار بھری سرگوشیاں کرتے ایک دوسرے کی ذات میںگم ہوگئے۔ یمنی حسین سے حسین تر ہوگئی۔ صبح کی طرح ترو تازہ اور خوب صورت، سوندھی مٹی‘ کی طرح مہکی مہکی سی۔
خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے مگر شادی کے پندرہ دن بعد ہی اس کا سر چکرا کر رہ گیا۔ وہ نبیل کے دفتر جانے کے بعد نہا دھو کر تیار ہوئی اور ٹی وی لائونج میں آبیٹھی اور ریمورٹ پر چینل سرچنگ میں مصروف تھی کہ گھر میں کام کرنے والی نوکرانی گلابو اس کے لیے جوس کا گلاس لیے اندر داخل ہوئی۔ یمنی نے عادت کے مطابق مسکرا کر دیکھا۔ اس کے عقب سے جھانکتے ایک ڈرے سہمے پانچ سال کے بچے نے اس کی توجہ کھینچ لی۔
’’ادھر آئو۔‘‘ یمنی نے مسکرا کر اس ننھے فرشتے کو اپنی جانب بلایا اور وہ شرماتا ہوا اس کے پاس آگیا۔ بچے کا حلیہ اس کی خستہ حالی کی عکاسی کررہا تھا۔ بکھرے بال آنکھوں میں درد کا سمندر سمیٹے چہرے پہ معصومیت سجائے وہ اسے بہت اچھا لگا۔
’’گلابو یہ کون ہے؟‘‘ یمنی نے گلاس تھامتے ہوئے پوچھا۔
’’چھوٹی بی بی یہ میرا نواسہ ہے‘ میری بیٹی کا بچہ ہے… اس کی ماں پچھلے سال گائوں میں پھوٹنے والی ایک وبا کا شکار ہوکر مر گئی تھی۔ باپ نے جلد ہی دوسرا ویاہ رچالیا۔ اب اس کی سوتیلی ماں اسے اپنے ساتھ رکھنے سے انکاری ہے تو بس میں اس غریب کو اپنے ساتھ یہاں شہر لے آئی۔‘‘ گلابو نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جلدی سے بات مکمل کی اور بچے کا ہاتھ تھام کر وہاں سے جانے کے لیے پر تولنے لگی۔
’’بیٹا… تم پڑھتے ہو؟‘‘ یمنی جو نبیل کے جانے کے بعد بوریت کا شکار ہورہی تھی اسے بچے میں دلچسپی محسوس ہوئی۔
’’چھوٹی بی بی‘ یہاں پیٹ بھرنا مشکل ہے، اس نے کیا پڑھنا لکھنا۔‘‘ گلابو کے لہجے میں حسرت جاگی۔
’’اچھا کیا نام ہے اس کا؟‘‘ یمنی نے بچے کو اپنے برابر میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
’’منیر… ہم پیار سے منو پکارتے ہیں۔‘‘ وہ کچھ گھبرائی ہوئی سی تھی، بچے کو صوفے سے اٹھنے کا اشارہ بھی کیا۔
’’اچھا… منو‘ بھئی ایسا کرو تم یہ جوس پی لو۔ اس کے بعد میں تمہیں پڑھائوں گی؟‘‘ بچے کی نظر جوس سے چپکی دیکھ کر یمنی نے اسے گلاس تھما دیا۔
وہ ایک سانس میں غٹاغٹ پی گیا، گلابو کا چہرہ جانے کیوں زرد پڑنے لگا، اتنے میں یمنی کی چھوٹی نند نگی کسی کام سے اندر داخل ہوئی اور یہاں کا منظر دیکھ کر آگ بگولہ ہونے لگی۔
’’بھابی… یہ کیا کررہی ہیں آپ…؟‘‘ وہ ایک دم تلخ لہجے میں چلائی۔
اس کے چیخنے پر منیر ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور مایوسی کی چادر اوڑھے نانی کے پیچھے جاکر چھپنے کی کوشش کرنے لگا، یمنی کو اس پر ترس اور اپنی نند پہ غصہ آیا۔
’’نگی پہلے یہ بتائو کہ تم کس انداز میں بات کررہی ہو؟‘‘ یمنی نے ماتھے پر بل ڈالے اور تیکھے لہجے میں پوچھا۔
’’اف… توبہ‘ آپ سے تو کچھ کہنا بیکار ہے۔‘‘ اس نے سر جھٹکا۔
’’اور تم… گلابو تمہیں تو اس گھر کے اصولوں کا پتا ہے ناں پھر بھی اس بچے کو ساتھ لانے کی اجازت اس لیے ملی تھی کہ وہ باہر بیٹھا رہے گا‘ پھر یہ یہاں کیا کررہا ہے؟‘‘ وہ اب ملازمہ پر بھڑکی۔
’’جی… میں نے تو بی بی جی کو منع کیا تھا مگر…‘‘ اس نے منمنا کر صفائی دینا چاہی۔
’’کم آن نگی… اتنا چھوٹا سا بچہ‘ باہر دھوپ میں اکیلا کب تک بیٹھے گا۔‘‘ یمنی نے اس کی طرف داری کی۔ نگی نے اَن سنی کرکے ملازمہ کی طرف دیکھا۔
’’چلو جائو یہاں سے اور اس گلاس کو کچرے کی بالٹی میں پھینک دینا یا تم اپنے ساتھ لے جانا۔‘‘ وہ نخوت بھرے انداز میں یمنی کو نظر انداز کرتے ہوئے گلابو پر چلائی۔
’’معاف کردیں بی بی جی… بچہ ہے ناں ضد کرکے اندر آگیا۔‘‘ گلابو تھر تھر کانپتی ہوئی ایک ہاتھ سے منیر کو تھامے اور دوسرے ہاتھ سے گلاس اٹھا کر وہاں سے چل دی۔
’’آپ سے تو بھیا ہی بات کریں گے۔‘‘ اس قدر فرعونیت پر یمنی ہکابکا رہ گئی۔ دل تو چاہا کے نبیل کو فون کرکے نند کی شکایت لگائے مگر نیا نیا معاملہ تھا اس لیے خاموشی اختیار کرنا پڑی تھی۔

وہ پتھر کے بت کی طرح ساکت اندر ہونے والی گفتگو سن رہی تھی، یمنی کے احساسات و جذبات ایک دم منجمد ہونے لگے تھے۔ وہ تو نبیل کو ڈھونڈتی ہوئی اپنی ساس کے کمرے کی طرف نکل آئی تھی۔ اس نے منیر کو پڑھانے کی اجازت لینا تھی مگر اپنا نام کانوں میں پڑا تو متجسس ہوئی۔
’’یہ اس کی فطرت ہے یا اس کی کلاس کا تقاضا مگر فکر نہ کریں میں اسے سمجھالوں گا؟‘‘ ماں کے سرد لہجے میں کیے جانے والے استفسار پر نبیل لجاجت سے بولا۔
’’ہائی سوسائٹی میں موو کرنے کے بھی کچھ طریقے ہوتے ہیں‘ اگر ہم یونہی نوکروں کو سر پہ بٹھالیں گے تو چل چکا اس گھر کا نظام۔‘‘ مسز اکرم بلبلائیں۔ وہ سر جھکائے مجرم بنا کھڑا تھا، یمنی کے دل پر گھائو لگا رہا تھا۔
’’نگی بتارہی تھی کہ اس نے گلابو کے نواسے کو مہنگے گلاس میں جوس بھی پلایا، بھلا بتائو اب یہ دو ٹکے کے ملازم ہمارے برتنوں میں کھائیں پیئیں گے تو ہم لوگ کیا مٹی کے برتن استعمال کریں گے۔‘‘ ان کا جلال کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
’’ممی… یہ اس کی پہلی غلطی ہے، یقین کریں آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ یقین دلاتا ہوا وہ اس وقت ماں کے دبائو کا شکار نظر آرہا تھا۔
’’نبیل… بہتر ہوگا اسے اپنے انداز میں سمجھا لو کہیں ہم نے کچھ کہہ دیا تو پھر ساسیں تو ویسے بھی بدنام ہیں۔‘‘ وہ جھلا کر بولیں۔
’’یا اللہ… ان لوگوں کا اصل روپ یہ ہے۔‘‘ یمنی کے وجود میں بھانبھڑ جل اٹھے۔
’’ممی… پلیز آپ رہنے دیں‘ میں خود اس سے بات کرتا ہوں۔‘‘ نبیل کے انداز میں اصرار بڑھنے لگا۔
’’کتنا سمجھایا تھا کہ سونیا سے شادی کرلو مگر تمہیں تو شوق تھا پائوں کی دھول کو سر پہ سجانے کا۔‘‘ بیٹے کو جتاتی نظروں سے دیکھا۔
’’آپ اسے معاف کردیں‘ میں سب ٹھیک کرلوں گا۔‘‘ نبیل نے فوراً کہا اور ساتھ ہی ماں کے کاندھے دباتے ہوئے سر جھکا لیا۔
’’بھیا… بھابی نے تو گلابو کے سامنے میری عزت بھی دو کوڑی کی کرکے رکھ دی۔‘‘ اس کی چھوٹی نند نگی نے آنسو بہاتے ہوئے آگ میں تیل چھڑکا۔
’’جاہل عورت ہے… اس کی مڈل کلاس ذہنیت بدلتے بدلتے ہی بدلے گی۔‘‘ وہ ماں بہنوں کے بیچ زچ ہوتا دکھائی دیا۔
’’بیٹا… تمہیں کتنا سمجھایا تھا کہ یہ گھرانا ہمارے معیار کے مطابق نہیں مگر تم پر تو اس وقت عشق کا بھوت سوار تھا۔‘‘ ان کے طعنے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
یمنی کے کان اپنے شوہر کی جانب سے حمایت کے دو لفظ سننے کے لیے ترس گئے مگر وہاں تو سب ہاتھ سے ہاتھ ملائے بیٹھے تھے۔
’’ممی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ بھابی کی حرکتوں نے آگے بھی ہمیں سوسائٹی میں شرمندہ کرکے رکھ دینا ہے، انہیں ٹائٹ رکھنے کی ضرورت ہے‘ نہیں تو ہاتھ سے نکل جائیں گی۔‘‘ اس کی منجھلی نند سفینہ نے زہر اگلا۔
’’شادی میں دیکھا تھا ناں اس کے ماں باپ کیسے لوگوں کی جی حضوری میں لگے ہوئے تھے‘ کہیں سے ہمارے اسٹینڈرڈ کے نہیں لگتے تھے۔ مجھے تو سب سے تعارف کراتے ہوئے بھی شرم آرہی تھی۔‘‘ اس کی ساس نے اماں ابا کی انکساری کا جس طرح سے مذاق بنایا۔ اس کے دل کو بے حد ٹھیس پہنچی۔
’’یہ بات تو ہے۔‘‘ سب نے ممی کی ہاں میں ہاں ملائی، کسی ایک کے منہ سے بھی حمایت کا لفظ نہیں نکلا۔
نبیل کی مصنوعی محبت کا خول چٹخنے لگا۔ دہری شخصیت کی پرتیں اس کے سامنے کھلتی چلی گئی۔ یمنی کے اندر کچھ ٹوٹا تھا۔ نام نہاد محبت کے آکٹوپس میں جکڑے… جکڑے اسے اچانک رہائی ملی تو وہ تشنہ سی ہوگئی۔ نبیل کی محبتیں‘ وہ شدتیں دھوکا محسوس ہوئیں؟ اتنی تگ و دو سے اس کا حصول‘ دیوانگی‘ والہانہ محبت‘ سب خواب و خیال ہوا۔ یمنی کو لگا کے وہ جیت کے بھی ہار گئی‘ ایک دم سے سر چکرایا اور وہ دہلیز پر ہی ڈھیر ہوگئی تھی۔

’’یمنی کبھی مجھ سے جدا نہ ہونا… تمہارے بنا میں جی نہیں پائوں گا…‘‘
’’میری… زندگی… مجھ پر ایسا ظلم نہ کرنا…‘‘
’’جان… پلیز آنکھیں کھول دو… اپنے نبیل کی طرف ایک بار دیکھو ناں۔‘‘ اس کی آنکھ نبیل کی سرگوشیوں سے کھلی کوئی اور وقت ہوتا تو وہ خوشی سے مر جاتی مگر اس وقت تو اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔ محبت بھرے لہجے کی بازگشت یمنی کی سماعتوں پہ پتھر بن کر برسی۔ یمنی اسپتال کے بیڈ پر لیٹے لیٹے نڈھال ہونے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کے سسرال والے کمرے میں داخل ہوئے اور بیڈ کے گرد گھیرا ڈال دیا، ان کے چہرے کی چمک اور خوشی اسے حیرت میں مبتلا کررہی تھی۔
’’ماشااللہ… دلہن تم نے تو میری سب سے بڑی خواہش پوری کردی۔‘‘ ممی نے پیار سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
’’بھابی… بے بی کا نام تو میں ہی رکھوں گی۔‘‘ نگی نے بھائی کا خیال کیے بغیر بے باکی سے کہا تو وہ چونکی۔
’’مبارک ہو جان… تم نے ہماری زندگی کو مکمل کردیا۔‘‘ نبیل کا مسکراتا چہرہ بھی اسے خوشی دینے میں ناکام رہا۔ ممی نے فوراً اس کا صدقہ دیا، نندوں نے بھی گلے لگا کر مبارک باد دی اور بھائی سے مٹھائی کا مطالبہ شروع کردیا۔ سب خوش تھے مگر اسے ان کی خوشی ایکٹنگ دکھائی دی اور وہ لوگ کسی اسٹیج ڈرامے کے کردار نظر آنے لگے۔ وہ حیران و پریشان تھی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ بستر مرگ سے بھی اٹھ کر خوشی سے ناچنے لگتی مگر اس وقت تو اس کی سانس پھولنے لگی۔ گویا اس نے میلوں کی مسافت منٹوں میں طے کی ہو۔ وہ جو اس گھر سے جانے کا سوچ رہی تھی، ایک ننھے منے ان دیکھے وجود نے اسے زبردستی جکڑ لیا تھا۔ دنیا میں آنے سے پہلے ہی وہ بچہ اس کی شادی شدہ زندگی کی زنجیرکی ایسی کڑی بن گیا جس نے تاعمر اسے نبیل کے ساتھ باندھے رکھنا تھا۔ اس نے ایک آوارہ آنسو کو ہاتھ کی پشت سے پونچھ ڈالا۔
’’تھینک یو…‘‘ نبیل نے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما مگر اس کے محبت بھرے انداز بھی سوئی ہوئی محبت کو جگانے میں ناکام رہے تھے۔

مہناز بیگم جب بھی یمنی سے ملنے اس کے سسرال آئیں ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا۔ وہ اب بڑی گرہستن ہوگئی تھی اور اس کی سنجیدگی‘ اس پر اچانک وارد ہونے والا سلیقہ و دھیما پن دیکھ کر ان کا منہ حیرت سے کھلا رہ جاتا۔
’’یمنی…! بیٹا تم اس شادی سے خوش تو ہو ناں؟‘‘ اس بار یمنی کچھ دنوں کے لیے ان کے گھر رہنے آئی تو انہوں نے پوچھ ہی لیا۔ جانے وہ کیسا موہوم سا احساس تھا جو اسے دیکھ کر آگھیرتا تھا۔
’’کیوں اماں… یہ خیال کیوں آیا؟‘‘ اس نے مصنوعی مسکراہٹ لبوں پہ سجا کر پوچھا۔
’’دراصل تم اتنی سنجیدہ‘ اتنی ذمہ دار تو کبھی نہ تھیں… جتنی اب دکھائی دینے لگی ہو؟‘‘ مہناز بیگم نے بیٹی کا چہرہ تھام کر کھوجنا چاہا تو اس نے منہ پھیر لیا۔
’’بتائو ناں… میرے بچے؟‘‘ ان کا اصرار جاری رہا۔
’’کیا ہوگیا ہے اماں… میں آپ کی بیٹی ہوں اتنی غیر ذمہ دار تو کبھی بھی نہیں تھی‘ رہی بات سنجیدگی کی تو آپ ہی تو کہتی تھیں کے شادی کے بعد عورت کو بدلنا پڑتا ہے۔‘‘ اس کا لہجہ ایک دم سنجیدہ ہوا۔
’’اچھا مگر مجھے تو اپنی ہنستی مسکراتی یمنی کی یاد بہت ستاتی ہے…‘‘
’’ارے اماں پہلے تو آپ مجھے اس روپ میں دیکھنا چاہتی تھیں‘ اب ماضی کو یاد کرتی ہیں۔‘‘ وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دی۔
مہناز نے جھینپی ہوئی ہنسی کے ساتھ بیٹی کی طرف دیکھا، انہیں اپنی نصیحتیں یاد آئیں جو وہ یمنی کے کانوں میں ہر وقت ٹھونستی رہتی تھیں۔
’’اور پھر شادی کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے آپ سے بھی سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔‘‘ اس نے ٹھہرے لہجے میں خود کلامی کی۔
’’چاہے دل راضی نہ بھی ہو…‘‘
’’کیسے سمجھوتے… کیسا بدلنا؟‘‘ مہناز نے گھبرا کر بیٹی کا چہرہ دیکھا۔
’’کچھ نہیں اماں… میں نے تو ایسے ہی ایک عام سی بات کی ہے، چھوڑیں اور اب جلدی سے کھانا لگا دیں بہت زوروں کی بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ اس نے تیزی سے بات بدلی۔ حال دل سنا کر وہ ماں کی خوشیوں کو کم کرنا نہیں چاہتی تھی۔
’’ارے… دیکھو… میں بھی کیسی بھلکڑ ہوں جانتی بھی ہوں کہ ایسی حالت میں کتنی بھوک لگتی ہے پھر بھی اپنی باتوں سے تمہارا پیٹ بھرنے کی کوشش کررہی تھی۔‘‘ ماں بننے سے زیادہ نانی بننے کا احساس وجود میں توانائی دوڑائے دے رہا تھا۔ وہ شوخی سے ہنستی ہوئی کچن کی جانب بڑھ گئیں۔
’’اماں… اپنے ہاتھ کا ڈالا ہوا آم کا اچار بھی ساتھ لائیے گا… سچ میں کھانے کو ترس گئی ہوں۔‘‘ اس نے ماں کو خوش کرنے کے لیے پیچھے سے صدا لگائی اور ہاتھوں کی پشت سے نم آنکھوں کو پونچھا۔
ماں کو کیسے بتاتی کہ اس نے اپنے آپ کو مار کر اس رشتے کو زندہ رکھا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close