Hijaab Feb 2019

معجزۃوقت

راو سمیرا ایاز

وقت بھی تو ابابیل کی طرح سفر کرتا ہے‘ بے نام و بے سمت جزیروں کے رخ پر مگر اس سفر کا نتیجہ ہمیشہ کی طرح دریافت کی تہہ تک جاتا ہے اور اس کے لیے بھی وقت نے ایک انوکھا جہاں دریافت کیا تھا۔ جہاں نیلا ٹھنڈا پانی تھا جس کے کنارے پر ہرے بھرے درختوں کی شاخیں پانی میں گرتی تھیں۔ وہاں کی چٹانیں گہری سرمئی تھیں‘ سرمئی چٹانوں کی دراڑوں میں ہی چھپے وہ سبز‘ سفید پرندے خوشی سے کھلکھلاتے سفر کرتے تھے۔
’’مرحبا اے ہمدم دوست… مرحبا۔‘‘ جس وقت ٹھنڈی یخ مگر خوشبودار ہوا نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ جیسے وہیں منجمد ہوگئی تھی۔
ء…/…ء
مہد مرتضیٰ ایک کامیاب و نامور شخص جس چیز کو چھو لیتا وہ کندن بن جاتی۔ ذہانت و قابلیت کے ساتھ خوب صورتی میں بے مثال شخص جب مہماء کی زندگی میں آیا تو اسے ہیرے کی طرح نایاب اور کانچ کی طرح نازک کر گیا اور یہ اس شخص کی قربت کا کمال تھا‘ اس نے مہماء کے گندمی رنگ کو سنہرا کردیا تھا۔
جب گرمی کی تپتی دوپہر میں وہ آفس سے واپس آتا تو پورچ سے انٹرنس ڈور کے سفر میں ہی اس کی فراخ پیشانی ننھی ننھی بوندوں سے چمکنے لگتی تھی اور منتظر مہماء اسے دیکھتے ہی اپنا پلّو فوراً اس کی پیشانی پر رکھ کر نرمی سے دباتی تھی‘ جس پر مہد مرتضیٰ فوراً اس کی کلائی تھام لیتا اور خود ہی اپنا پسینہ خشک کرلیتا۔
’’اب ٹھیک ہے۔‘‘ وہ تو نرمی سے اسے ایک طرف کرکے اندر بڑھ جاتا مگر وہ وہیں کھڑی رہ جاتی اور اس خوشبو کو محسوس کرتی جو وہ کلائی پر چھوڑ جاتا تھا۔
وہ پھولوں کی دیوانی تھی اور وہ روز رات کو اس کے لیے مختلف پھول لے کر آتا تھا‘ جسے وہ بیڈ روم میں سجاتی اور سوکھ جانے پر اپنی کتابوں کے ہر ہر صفحے میں رکھ دیتی تھی۔
چمکتی چمکیلی صبحوں میں وہ جب نک سک سے تیار گھر سے نکلتا تو وہ اس کے قدموں کے نشان پر اپنے پیر رکھ کر چلتی۔ وہ ننگے پیر جیسے اس کے چھوڑے نقوش کو محسوس کرلینے کو بے تاب رہتی کہ کچھ لمحے چھوٹ نہ جائیں وہ سیراب رہتی تھی پھر بھی جیسے تشنہ لگتی مگر وہ مہماء مہد تھی سرشاری کی معراج پر کھڑی‘ اس ہلکے سے روزن پر آہستگی سے ہاتھ رکھ دیتی۔
’’ہاں میں مہماء مہد مرتضیٰ ہوں اور میرے لیے یہ کافی ہے۔‘‘ اب یا تو وہ بہت ہی قناعت پسند تھی یا پھر وہ ایک روایتی عورت تھی کہ اس کے لیے صرف شوہر ہی سب کچھ تھا۔
بارشوں کے موسم میں وہ بے تاب رہتی اس کے ساتھ کے لیے اور جب کبھی یہ ساتھ ملتا تو وہ لائونج میں کافی پیتے‘ باتیں کرتے یا پھر خاموشی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر لمبی واک پر نکل جاتے اور وہ ہر دفعہ کہتی۔
’’مہد میری زندگی آپ ہیں‘ میرا خواب‘ میری خواہش بھی‘ خوشبو بھی‘ چاندنی بھی‘ تارے بھی اور میرا کاجل بھی۔‘‘ مہد مرتضیٰ اس جواب پر اس کی آنکھوں میں دیکھتا جو اسے کبھی بارش کی نمی سے بوجھل لگتی اور کبھی چمکتے تاروں سی روش‘ جس پر وہ اپنی انگلیوں کی پوروں کو رکھتا تو تمام تر نمی اور بوجھل پن اس کی پوروں میں سما جاتا مگر جواب میں کچھ لفظ ’’دان‘‘ نہ کرتا اور کیوں نہیں کرتا تھا؟ اس سوال کو وہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اٹھا لیتی اور دعا کی صورت سامنے پھیلا لیتی تھی۔
’’میرے رب… میرے پاس جو کچھ ہے‘ تیرا عطا کردہ ہے اور تیری رضا سے ہے اور میں اس میں خوش ہوں اور یہ میرے لیے کافی ہے۔‘‘ لیکن ایک روز اس پر عالم راز کھولا گیا۔ اسے مہد مرتضیٰ سے ملنا تھا اور اس ملن کے لیے وہ اتنی بے تاب و بے قرار ہوئی کہ دسمبر کی ٹھنڈی بارش بھی اسے نہ روک سکی اور جس وقت اس کے آفس کا دروازہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھولتی وہ مثل بہار اندر جانے کو تھی کہ رک گئی۔
’’تم بہت خوش نصیب ہو مہد کہ تمہیں مہماء جیسی باوفا بیوی اور اس کی خالص محبت نصیب ہوئی۔‘‘ مہماء کی مسکان بے ساختہ کھل اٹھی‘ وہ اس آواز کو جانتی تھی‘ وہ شفان تھا ان دونوں کا مشترکہ ساتھی ان تینوں نے ایک ساتھ ہی تو ایم کام کیا تھا۔
’’یہ شفان کب آیا انگلینڈ سے؟‘‘ وہ اس سے ملنے کو بے تاب ہوئی اور دروازہ دھکیلنا چاہا تھا کہ پتھر بن گئی۔
’’شفان… مرد کی قسمت میں اللہ نے خود ہی برتری رکھی ہے‘ عورت سے اونچا درجہ رکھا ہے پھر اس کا نصیب کیسے کمتر رکھتا۔ مہماء ہوتی یا کوئی اور مجھے وفا اور محبت نصیب سے نہیں ’’دان‘‘ کردی گئی تھی۔‘‘ اس کے لہجے میں خود پسندی نہیں زعم تھا۔
’’مہد تم بدقسمت ہوتے اگر مہماء نہ ہوتی۔‘‘ شفان نے چند پل کی ناگواری و چبھتی خاموشی کے بعد سلگتے لفظوں سے کہا تھا تو مہد مرتضیٰ مطمئن سا کافی کا مگ رکھتا‘ دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھتے قدرے آگے جھکا۔
’’مہماء حسان کی پُروقار محبت‘ اس کا وجود فقط میری ضرورت ہے شفان‘ اسی لیے وہ مہماء مہد بنائی گئی کیونکہ اس کی وفا اور محبت میری ضرورت کے عین مطابق تھی۔‘‘ مہماء کے اندر زندگی باقی نہ رہی۔
’’اور اسی لیے میں اس کے ساتھ اور وہ میرے ساتھ خوش ہے اور مطمئن بھی‘ تم کافی لو شفان ٹھنڈی ہورہی ہے۔‘‘ یہ وہ شخص تھا جو اپنے جذبوں اور اظہار کو کم ہی زبان دیتا تھا اور اچھا ہی کرتا تھا۔ ایسے بے وقار الفاظ جو کسی کی ذات کو ادھیڑ دیں‘ نہ ہی سنے جائیں تو ہی انسان کے اندر جینے کی امنگ بچتی ہے ورنہ موت کے دہانے پر کھڑا انسان کیا محسوس کرتا ہے‘ بالکل ویسا ہی جیسے مہماء نے محسوس کیا اور تب اس نے جانا کہ اسے سانس لینے کی ضرورت ہے باقی عمر گزارنے کے لیے اور اسی لیے وہ اندر آگئی۔ آہٹ پر ایک نے نظریں اٹھائیں اور نارمل رہا اور دوسرے نے پلٹ کر دیکھا اور ساکت رہ گیا۔
’’مہماء کیسی ہو تم؟‘‘ شفان بے ربط ہوا لیکن مہد مرتضیٰ نے ہمیشہ کی سی طلسم مسکراہٹ اور چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھا اور اس سے پہلے کہ کچھ کہتا وہ اس کے روبرو آکھڑی ہوئی۔
’’تمہیں بہت چاہا مہد اتنا کہ دیکھو اب میرے پاس کچھ باقی نہیں رہا۔‘‘ اس نے صاف شفاف ہتھیلیاں پھیلائیں‘ مہد مرتضیٰ کے لیے یہ الفاظ عام سی بات تھی۔ اس نے ٹیک لگا کر آرام اسے دیکھا مگر لہجے کے خالی پن پر شفان کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔
’’اسی لیے تمہارے پاس سے کچھ لے کر نہیں جائوں گی کیونکہ تم نے کچھ دیا ہی نہیں تھا۔‘‘
’’مہماء… یہ مذاق کررہا تھا‘ وہ ہم…‘‘ شفان نے نجانے کیوں صورت حال سنبھالنی چاہی تھی اور جسے یہ کرنا چاہیے تھا وہ چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا۔
’’تم بے وفا ہوتے مہد میں سہہ لیتی‘ تم ہرجائی ہوتے تب بھی کوئی شکایت زبان پر نہ لاتی…‘‘ اس نے کانپتی ہتھیلیاں نیچے کیں اور اپنی مٹھیاں بند کرکے جیسے خود کو حوصلہ دینا چاہا۔
’’میری محبت تو ایسی تھی مہد کہ تم شرابی‘ بدکار یا شکی مزاج شخص بھی ہوتے تو کوئی زک نہ پہنچاتی تمہیں۔ ایک عمر تمام کردیتی تمہارے ساتھ لیکن یہ سب باتیں تو انسانوں کے ساتھ ہوتی ہیں اور تم انسانیت کے عہدے پر ہی کہاں ہو…‘‘ شفان اس نازک لڑکی کے وقار بچانے پر دنگ رہ گیا اور پہلی بار مہد مرتضیٰ کے لبوں سے مسکان اور آنکھوں سے اطمینان کے رنگ اڑے تھے۔
’’محبت کو کانچ کی صورت کہا گیا‘ آگ کی‘ روگ کی خاک کی صورت بھی سنا لیکن ضرورت کی اس صورت کو تم نے متعارف کروایا۔ مہد مرتضیٰ اور تم نہیں جانتے کہ محبت جیسے تاج کو ضرورت کی صورت کبھی نہیں پڑتی اور تم اس لیے نہیں جانتے کہ تمہیں محبت کرنے کا ہنر ہی نہیں معلوم۔ اس لیے آج اور ابھی سے تمہارے میرے راستے الگ ہیں مہد مرتضیٰ… بلکل الگ۔‘‘ وہ جتنی خاموشی سے آئی تھی اتنی ہی خاموشی سے چلی بھی گئی۔
شفان نے تاسف و غصے سے اسے دیکھا اور پلٹ کر چلا گیا‘ کبھی نہ واپس آنے کے لیے کیونکہ مہماء کی طرح بدقسمتی سے وہ بھی مہد مرتضیٰ کی محبت میں مبتلا تھا۔ جس نے خود ابھی ابھی یہ درمحبت اپنے ہاتھوں بند کردیا تھا کیونکر ضرورت تو کسی سے بھی پوری ہوجاتی ہے ناں۔
ء…/…ء
مہد مرتضیٰ جس وقت یخ بستہ دسمبر میں‘ یخ بستہ وجود سمیت اپنے آفس سے نکلا تو سیدھا دبئی کی فلائٹ لینی پڑی‘ جو کنفرم تھی اور اس کے بعد کا ہفتہ نہایت ہی مصروف گزرا اور یہ وہ وقت ہوتا تھا جب اسے کسی کی بھی دخل اندازی منظور نہیں ہوتی تھی۔ وہ حقیقتاً کام کو عبادت سمجھ کر کرنے والا شخص تھا۔ پھر مہماء جیسی ہستی کا بھی داخلہ و رابطہ منقطع ہی رہا کرتا تھا۔
برا وقت تو تب شروع ہوا جب وہ واپس لوٹا اور وہ بھی تب جب خنک و برفیلی سی اداسی شامیں دم توڑ رہی تھیں‘ سال بدلنے کی نوید دی جاچکی تھی۔ موسم کے رنگ بدلنے لگے تھے‘ کہر سی خاموشی نیا لبادہ اوڑھ رہی تھی۔ خنک ہوا جب نرم پتوں سے گزرتی تو وہ کڑکتے کاغذوں سی تشبیہہ لینے لگتے۔
اس کی کار پورچ میں رکی اور جب وہ اترا تو تب ہی چند بوندوں نے اس کے چہرے کو چھوا۔ وہ جلدی سے انٹرنس ڈور تک پہنچا تو ایک نرم ملائم سا آنچل اس کے چہرے پر جاٹھہرا۔ بے ساختہ ہی اس نے اس کلائی کو تھاما اور بھرپور مسکراہٹ سے خود ہی چہرہ صاف کرنا چاہا تو اپنے ہی ہاتھ کا لمس اسے منجمد کر گیا۔
مٹھی بند تھی مگر نہ تو آنچل کی ملائمت تھی اور نہ ہی وہ نرم کلائی‘ اگر کچھ تھا تو بس اس کا بے حد طاقتور تخیل‘ جیسے وہ وہاں تھی۔
’’صاحب جی۔‘‘ وہ چونکا نہیں اس آواز پر۔
’’صاحب جی…‘‘ اب کے ذرا زور سے آواز دی گئی تو نگاہ بمشکل وہاں سے ہٹ پائی جہاں وہ اس کے لیے منتظر کھڑی ہوا کرتی تھی۔
’’ہاں کہو…‘‘ وہ مربوط شخص تھا اور مضبوط بھی۔
’’صاحب… جب سے آپ گئے ہیں میم صاحب نہیں ہیں گھر پر اور جاتے ہوئے کہہ کر گئی تھیں کہ آپ کے کمرے میں کوئی آپ سے پہلے نہ جائے۔‘‘ وہ پیغام رساں بنائی گئی تھی وہ لمحہ بھر چونکا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ کھولا تو لمحہ بھر ٹھہر کر نگاہ چاروں طرف دوڑائی سب کچھ ویسا ہی تھا مگر اچانک ڈھیلے ڈھالے قدم‘ منوں وزنی ہوگئے۔ وہ بنا پلکیں جھپکے اپنے بیڈ کو دیکھ رہا تھا جس پر بچھی سفید و گلابی چادر پر سیاہی مائل پھولوں کی پتیاں بکھری تھیں اتنی کہ سفید رنگ بس جھلک دکھا رہا تھا۔ یہ وہ پھول تھے جو اس کی ’’محبت کی ضرورت‘‘ تھے اور اس پر رکھا ایک کاغذ۔
’’مجھے آج ہی پتا چلا مہد کہ ان پھولوں کے رنگ کیوں کھو جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ یہ سبز ٹہنی سے جدا ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہ یہ مردہ محبت کے پیامبر بن کر خود کو کھوکر سانس لینا بھول جاتے ہیں اگر تمہاری محبت میں طاقت ہوتی تو یہ کبھی اپنی خوشبو‘ اپنا رنگ نہیں کھوتے‘ سو تمہاری امانت تمہیں لوٹائے جارہی ہوں۔‘‘ ان چند لفظوں کے متن کے شروع میں وہ تھا اور نہ ہی آخر میں اگر کچھ تھا تو کافور کی سی خوشبو‘ جو شاید ان مردہ پھولوں کے جسم سے نکل کر لفظوں میں بسی نوحہ کناں ہوگئی تھی پل بھر کی بات تھی اور مہد مرتضیٰ کے سامنے شہر خموشاں آباد ہوگیا تھا۔
وہ وہاں سے ہٹ سکا نہ ہی پلٹ سکا… کوئی چیز تھی جو اچانک ہونے والے گھپ اندھیرے میں سر سے پائوں تک سرسرائی تھی‘ وہ اس یخ بستہ موسم میں بھی سر تا پیر پسینے میں نہا گیا تھا نہ ان مردہ پھولوں کے خوف سے نہ اس تحریر سے۔ یہ تو اسے زندہ جاوید بنا گئی تھی۔ وہ تو اپنی ہی بازگشت کے خوف سے بھاگا تھا۔
’’مہماء حسان کی پُروقار محبت‘ اس کا وجود فقط میری ضرورت ہے شفان… اسی لیے وہ مہماء مہد مرتضیٰ بنائی گئی کیونکہ اس کی وفا اور محبت میری ضرورت کے عین مطابق تھی‘ میری ’’ضرورت‘‘ کے عین…‘‘
ء…/…ء
اے وقت
تھم ابھی نہ چل
کہ تجھے نہیں بنایا بے وقعت تو…
نہ دی تجھے حکمرانی و سلطنت
سو اب تُو رک
اس سبب
کہ جس نے دیا تجھے حق
دی دسترس و ہنر
تو اذن ہے تجھے حکم ربی کا
اب تو ٹھہر
اب ذرا تو تھم…
کوئی اس مہین سے پردے کو کھینچنا چاہے تو نہ کھینچ سکے‘ رخ پلٹنا چاہے تو نامراد ٹھہرے‘ سو مہد مرتضیٰ ناکام ٹھہرا تھا‘ اس وقت کو بدلنے سے جو ٹھہر گیا تھا۔ وہ اپنی ذات پر چڑھے خول کو اتار دینے کی مہم میں مصروف تھا۔ وہ مشکل میں تھا‘ اپنی سانس در سانس تک۔
پورے چودہ گھنٹے موسم سرما کی بارش میں بھیگا تو اسے سڑک کنارے سے چار لوگ اٹھا کر لائے تھے۔ دو دن ہوش نہیں آیا تو سکون رہا لیکن جاگنا عذاب ٹھہرا۔ چھت سے نگاہیں اس ڈارک نیلے ریشمی پردے پر پڑیں تو اسے مہماء پھر سے یاد آئی اور اس سے منسلک لمحے پھر اپنا وجود‘ پھر شفان کی تاسف زدہ نگاہیں۔
نیلا ریشمی پردہ ہلکے سے سرسرایا تو جیسے کسی کی خوب صورت ہنسی گونجی تھی۔ اسے یاد آیا وہ ہمیشہ اس پردے کی اوٹ میں خود کو چھپاتی تھی بقول اس کے۔
’’میں نہیں چاہتی کہ مجھے ڈھونڈنے میں آپ کو دیر ہو۔‘‘ اور اب وہ کہیں بھی نہیں تھی۔ اس کی آنکھ کے کنارے سے پانی کے شفاف قطرے گرنے لگے پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔
ء…/…ء
’’کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے لیکن اگر کامیابی کے امتیاز کو خود عورت ہی روشن کرے تو سہرا کس کے سر پر سجایا جائے گا۔‘‘ دھندلی شام کے جس پہر اس نے جناح ائیر پورٹ سے قدم باہر نکالے تو مووی فلیش لائٹس‘ مائیکس اور ایک ہجوم منتظر تھا اس کا‘ رنگ برنگے پھولوں سے مزین بکے تھامے‘ اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ در آئی تھی۔
’’پلیز بتایئے ناں میم… ساری دنیا جاننا چاہتی ہے آرٹ کے میدان پر چھا جانے والی‘ اسے ایک نیا جہاں دینے والی ہستی کی کامیابی کا راز۔‘‘ شور و تسلسل سے ہوتے سوالات وہ بغیر الجھے یا تنگ آئے اس نو عمر لڑکی کی طرف متوجہ ہوئی جو بصد تھی اپنے سوال کا جواب لینے کے لیے۔
’’کامیابی کے چراغ کو جلنے کے لیے آگ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ آگ ہی تو ہوتی ہے جو بلند ہوجائے تو آسمان کو چھونے کو بے قرار ہوجاتی ہے۔ میری کامیابی کا راز بھی اس آگ میں چھپا ہے۔‘‘ اس کا متانت بھرا انداز اور وقار کی شگفتگی اعلیٰ تھی۔
’’مگر سوال تو وہیں رہا میم۔‘‘ ذہانت سے بھری چمکتی آنکھوں میں شرارت بھری مسکان‘ وہ بے ساختہ مسکرائی۔
’’کامیابی کی آگ ہے تو دل سے قریب لوگوں کی لگائی ہوئی ہوگی ناں۔‘‘
’’میم… آپ کے اگلے فن پاروں کی نمائش اب کہاں ہوگی اور کیا سبجیکٹ پیش کرنا چاہیں گی آپ۔‘‘ ایک نیا چہرہ اور نیا سوال‘ ادھورے جواب کو پیچھے چھوڑ گیا۔ اس نو عمر چہرے کی طرف سے رخ موڑ گئی تو دوبارہ دیکھا اور یہ سب اپنے اسمارٹ فون پر دیکھتا شفان ایک گہری سانس لے کر رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ لاکھ اب اسے وہ بلائے اپنا جواب مانگے وہ پلٹ کر نہیں جائے گی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ وہ شخصیت تھی جو پلٹنا یا رخ بدلنا جانتی ہی نہیں تھی اس حد تک کہ وہ اپنی ذات کی بھول بھلیوں اور ماضی کو خاک اوڑھائے دنیا کی بھیڑ میں نکلتی چلی گئی جیسے ایک مقابلے میں تھی۔
وہ مدمقابل تھی اس وقت کے جو پچھاڑے کھانے کے خوف سے ماورا تھا اور اس نے اسی سے زور لگایا تھا اور اب بھی یہی کرتی وہ ہجوم سے نکلتی آگے بڑھنے لگی تھی۔ سب پیچھے تھے اس کے اور وہ آگے اور تب بس ایک ہلکا سا جھٹکا لگا اسے‘ کوئی نوکیلا پتھر اس کے دائیں پائوں کے نیچے آیا تو وہ لڑکھڑائی، ہاتھ سے بکے نکلتا سڑک پر جا گرا۔
’’مت مارو مجھے… مت مارو…‘‘ ایسی دلدوز دہائی بھری پُرشوق فضا میں کہ ایک پل کو سب پتھر کے بُت کی طرح جامد ہوگئے۔ روشنیوں کے رخ بدلے تھے‘ لوگوں کے تاثرات اس کے چہرے کو دیکھ کر حیران تھے اور وہ چہرہ… کیسا چہرہ تھا۔
’’نہیں… نہیں ہٹائو انہیں… ہٹائو…‘‘ دونوں ہاتھوں کو مرگی کے مریض کی طرح حرکت دیتے وہ پھولوں کی سرسبز ٹہنیاں خود سے اپنی چادر سے ہٹا رہا تھا۔
’’یہ آسیب زدہ ہے، سیاہ ماتم ہے‘ خونی بلا ہے‘ خون پیتی ہے اور پھر نیم جاں چھوڑ دیتی ہے نا انسان جی سکتا ہے اور نا ہی پورا کا پورا مرتا ہے‘ مجھے بچالو ان سے بچالو…‘‘ شفان کے ہاتھ میں سیل فون کپکپایا۔
’’مہد…‘‘ بے یقینی سے اس کے لبوں سے نکلا۔ جس کے دل میں وہ قید تھا۔ وہ منجمد و ساکت اس سے چند قدموں کے فاصلے پر تھی۔
’’صاحب میں کرتی ہوں‘ آپ سنبھالیں خود کو‘ میں ہٹاتی ہوں۔‘‘ مودبانہ جانثار لہجے میں نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ وہ ادھیڑ عمر عورت پھولوں کو ہٹانے لگی جو اس کی چادر و سر کی زینت بن گئے تھے۔
وہ شخص جسے اس طرح کی قدرتی و مصنوعی کسی بھی چیز کی ضرورت نہ تھی۔ وہ مکمل تھا کبھی مگر اب ادھورے ٹکڑوں میں بکھرا دکھائی دیا تھا۔
’’میرا سکون‘ میرا اطمینان سب کھا گئے یہ… یہ مجھے سونے نہیں دیتے‘ یہ مجھے جاگنے بھی نہیں دیتے۔‘‘ بچوں کی طرح روتا وہ شخص مہماء کی کو لرزا گیا۔ نرم ملائم پھولوں کی پتیاں خار بن گئیں‘ آزارِ جان بن گئیں۔
’’تم جانتی ہو ناں‘ تمہیں معلوم ہے ناں سب‘ اسے کہو کہ آزاد کردے مجھے۔ یہ سیاہ پتیاں یہ سیاہ پھول میرے وجود کو سیاہ کر گئے تھے‘ اب تو معاف کردے‘ آزاد کردے‘ اب تو معاف کردے۔‘‘ ادھیڑ عمر ملازمہ کے دونوں ہاتھ تھامے وہ پروانہ معافی طلب کررہا تھا‘ ایسی آزادی‘ ایسی بے بسی لہجے میں تھی کہ میلوں دور بیٹھے شفان کا دل اپنے اس بے حد دلکش و شاندار دوست کے لیے تڑپ اٹھا اور تب ہی اس نے ایک معجزہ رونما ہوتے دیکھا۔
بلندیوں کو چھوتی‘ بے حد نامور و مشہور آرٹسٹ اس شخص کے قریب جابیٹھی‘ یہ بھول کر کہ وہ کتنا نفیس و قیمتی لباس پہنے ہوئے تھی۔ یہ بھول کر کہ وہ فلک کا چمکتا ستارہ تھی اور زمین پر بیٹھا وہ شخص ایک معمولی سا ذرہ ہی دکھتا تھا اور یہ بھول کر کہ وہ مہماء مہد تھی جس کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھنا قیامت ہی ہوتا مگر وہ سب فراموش کیے‘ عالم فراموشی میں اس شخص کے سامنے جا بیٹھی جس سے ایک زمانے میں جرم محبت کر بیٹھی تھی۔
’’مہد…‘‘ ایک ہاتھ اس کندھے پر رکھتی وہ اسے متوجہ کرنے لگی لیکن اس سے پہلے وہ ادھیڑ عمر عورت اسے دیکھ کر چونکی۔
’’بی بی جی آپ…!‘‘ حیرانی‘ بے یقینی سے دیکھتی اسے پہچاننے کی کوشش کر گی جو فقط مہد مرتضیٰ کو دیکھ رہی تھی۔
’’آپ کیوں انہیں چھوڑ گئیں بی بی جی… بالکل ہی دیوانے ہوگئے ہیں یہ…‘‘ وہ روتی ہوئی کہہ رہی تھی۔
’’سب ختم ہوگیا بی بی جی… سب ختم ہوگیا۔‘‘
’’ختم نہیں ہوا رئیسہ… شروع ہوا ہے۔‘‘ بے حد مدھم شکست خوردہ سے لہجے میں کہتی مہماء نے اس طویل القامت سے شخص کو کندھوں سے تھام کر اٹھایا‘ جو اُن نرم پھولوں سے بچنے کی سعی میں اس کے وجود میں پناہ لینے لگا تھا اور اس شخص کی دیوانگی نے مہماء کے عرصہ دراز سے مقفل دل پر دستک سی دی تھی۔
کوئی مردہ روح تھی جس میں جان پڑی تھی‘ وہ تمام احساسات جذبات جو بے حد ٹھنڈے یخ بستہ سے دل کی زمین پر آخری سانس لے رہے تھے‘ سلگ کر جی اٹھے۔ کوئی درد سا درد تھا‘ جو مہد مرتضیٰ کی انجان نگاہوں سے اس کے اندر اترا تھا مگر… ابابیل سا سفر کرتا وقت زمانے و مقام تو کیا شخص و نفس کی قید سے بھی آزاد تھا پھر مہماء مہد کا بچنا کہاں ممکن تھا۔
’’مڑ کر دیکھنا میری خو نہیں مگر معجزے اس دنیا میں ہی ہوتے ہیں جیسے ایک معجزہ‘ محبت بن کر دل میں اترا پھر اس معجزے کو سیاہ برف سے ڈھک دیا گیا اور اب…‘‘ سانس روکے شفان تو کیا وہ ہجوم بھی دیکھ رہا تھا۔ مدھم مدھم سانس لیتا پھولوں کو خوف سے دیکھتا مہد مرتضیٰ‘ شربتی آنکھوں سے بہتے شفاف قطروں والی مہماء مہد اور کسی قدر پُرسکون و پُر امید سی وہ ملازمہ رئیسہ… جو مہماء مہد کی کیفیت دیکھ سکتی تھی، جس کی سرد تہہ اسے واپس پچھلی محبت کی جانب دھکیل رہی تھی۔
’’اب اس سیاہ برف پر بے بسی کی شبنم گرتی مجھے جکڑ رہی ہے‘ معجزہ وقت رونما ہوچکا ہے جس سے بھاگنا کسی محبت رکھنے والے شخص کے بس کی بات نہیں۔ تمہیں یوں دیکھنا بھی میری محبت کی توہین ہے اور شاید وقت کو بھی یہ گوارہ نہیں تھا تب ہی تو یہ سب بنایا ہمارے لیے۔‘‘ روتے ہوئے بے بسی کی آخری حد پر پہنچتے مہماء مہد کے لہجے و الفاظ سے اس کی شکست واضح تھی۔
اپنے نازک ہاتھوں کو مہد مرتضیٰ کے شانے پر دراز کرتے وہ پوری طرح سے اس کی طرف متوجہ تھی جو مکمل طور پر آج بھی اس کا نہیں تھا اس سوچ پر مہماء کا دل کرلایا تھا کہ اچانک مہد مرتضیٰ نے اس روتے چہرے کے دلفریب نقوش بے حد نزدیک سے دیکھے تھے‘ نگاہ اب بھی اجنبی تھی مگر خوف سے خالی تھی۔
مہماء کا دل تڑپنے لگا تھا‘ جن خوشنما آنکھوں پر وہ فدا تھی‘ وہ کس طرح وقت کی گرد میں اٹی تھیں۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھاتے اس کی پلکوں پر جمی سفید گرد صاف کرنا چاہی تو ہاتھ میں پکڑا وہ سفید پھول مہد مرتضیٰ کے چہرے پر اپنی خوشبو اپنی مہک و نرماہٹ چھوڑ گیا۔
ایک لمحے کو مہماء کی سانس رکی کہ اب وہ چیخے گا‘ چلائے گا مگر… مہد مرتضیٰ یونہی اسے دیکھتا رہا اور اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے جیسے وقت کے اس مہین سے پردے کے پیچھے ابھرنے والے عکس کو یاد کرنے لگا۔ یہ لمس‘ اس کی مہربانی‘ حدت اور محبت کی طاقت اس کی نگاہوں کو مہماء کے چہرے پر جماتی‘ مہماء مہد کے لیے امید کے دروازے کھول گئی۔
’’جب تم جان گئے ہو مہد کہ محبت ضرورت نہیں ہے تو میں بھی یہ مان گئی کہ محبت عذاب بھی نہیں ہے۔ یہ فقط ملن ہے خوابوں کی، خوب صورت تعبیر اور میں تم بن ادھوری اور ناکام۔‘‘ اسے یونہی تھامے ہجوم سے باہر نکلتی وہ سوالوں کی بوچھاڑ کو نظر انداز کرتی آگے بڑھ رہی تھی۔ بس ایک لمحے کو اس نو عمر لڑکی کی طرف مڑی اور کہا۔
’’کامیابی کے تالے کی چابی محبت ہے‘ اس محبت کے راگ کے سبب دنیا کا ہر ساز ادھورا اور بے وقعت ہے اور کامیابی کے راز تک پہنچنے کے لیے بھی محبت کے راستے درکار ہیں کیونکہ کائنات کا ہر عمل محبت کے سبب ہے اور انسان محبت کے بغیر ادھورا و نامکمل ہے اور کامیاب ہوکر بھی بے وقعت لیکن ان لمحات کو محسوس کرنے اور سمجھنے کے لیے انسان ہمیشہ ایک معجزے کا طالب رہتا ہے‘ معجزہ وقت کا، جو عمل پذیر ہوچکا ہے‘ رونما ہوگیا ہے مگر اختتام پذیر نہیں۔‘‘ اس کے الفاظ کی بازگشت دور تک محسوس ہوئی اور ٹھنڈی یخ‘ خوش گوار ہوا نے اپنی منجمد سماعتوں کو پگھلتا محسوس کیا تو خوشی بھری مسکان کے ساتھ ان کے سروں پر سفر کرتی اپنے بادشاہ کے پاس جا پہنچی۔
اور ابابیل کا سا سفر کرتا وہ شہنشاہ‘ معجزہ وقت شاہانہ بے نیازی سے اپنے پروں پر خوش گوار و ٹھنڈی ہوا کو سمیٹتا کسی اور کے لیے ایک اور البیلا جہاں دریافت کرنے‘ مرحبا کی صدا دینے‘ ہمدم دوست کا استقبال کرنے اور محبت بھرے دلوں پر جمی کہر و برف پگھلانے‘ سفر کرنے کو تیار تھا۔
تو چل پھر…
نہ رک‘ نہ ٹھہرو تم
پکار لبیک اور کر سر تسلیم خم
کہ تیری شہنشاہت
تیری دسترس و ہنر
پابندی ٹھہری‘ حکم ربی کی
سو توڑ دی گئی تیری سلاسل
بھر اڑان
اور ڈھونڈ محبت کے قیدی
پھر کر انہیں آزاد
اور کردے انہیں ہوا سا بھی ہلکا
جو منتظر تیری التفات نگاہ کے
اے! معجزہ وقت

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close