Hijaab Nov 15

میرے خواب زندہ ہیں(قسط نمبر1)

نادیہ فاطمہ ضوی

وہ بالوں کو سلیقے سے سیٹ کرکے نک سک سے تیار ہوکر اپنے کمرے سے جونہی صحن میں آیا شدید کوفت زدہ ہوگیا۔ سامنے ہی اس کی پرانی موٹر سائیکل پنکچر حالت میں کھڑی اس کا منہ چڑارہی تھی۔
’’اُف اس پھٹپھٹی کو اسی وقت ہی پنکچر ہونا تھا۔‘‘ وہ انتہائی جھنجھلا کر بولا پھر اپنی بائیک کو طیش میں آکر ایک زور دار لات رسید کی۔
’’احتشام بیٹا! تُو باہر جا ہی رہا ہے تو اپنی خالہ صغریٰ کی بھی خیریت معلوم کرلینا‘ بے چاری کئی دن سے بخار میں پڑی ہں۔‘‘ اماں بلند آواز میں بولتے ہوئے اندر کمرے سے باہر آئیں تو احتشام کے بگڑے تیور دیکھ کر تھوڑا چونکیں پھر یک دم زمین پر لڑھکی‘ بائیک پر نگاہ پڑی تو پریشان سی ہوگئیں۔
’’ہائیں یہ تیری ہوائی جہاز کی سواری زمین پر کیسے گر گئی؟‘‘ احتشام بائیک بہت تیز چلاتا تھا‘ اماں ابا کے بار بار ٹوکنے کے باوجود وہ اپنی روش سے باز نہیں آتا تھا اور اس نتیجے میں وہ اپنے دو تین چھوٹے موٹے حادثے بھی کروا بیٹھا تھا۔ اماں اس کی موٹر سائیکل کو ہوائی جہاز کی سواری کہتی تھیں۔
’’یہ خالہ صغریٰ تو روز ہی بیمار پڑ جاتی ہیں‘ تو کیا میں ہر روز ہی وہاں کے چکر لگائوں۔‘‘ احتشام بدتہذیبی سے بولا پھر انتہائی بے زار ہوکر اپنی بائیک کو اٹھایا اس پل اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ابھی اسی وقت وہ اس پھٹپھٹی پر پیٹرول چھڑک کر اسے آگے لگادے۔ اتنی کھٹارا اور پرانی موٹر سائیکل وہ کتنی مشکل سے چلاتا تھا یہ بات وہی جانتا تھا۔
’’احتشام وہ صرف تیری خالہ نہیں بلکہ ہونے والی ساس بھی ہے‘ تُو ایسی بات کیوں کرتا ہے؟‘‘ اماں اسے سرزنش کرتے ہوئے بولی۔
’’اگر خالہ صغریٰ میری ہونے والی ساس ہے تو کیا میں اس کو اپنے سر پر بٹھالوں یا پھر جاکر اس کے سر پیر دبائوں۔‘‘ وہ اپنی بائیک کے پنکچر ہونے کی تمام جھنجھلاہٹ اماں پر نکالنے لگا۔
’’ایک تو ہزار دفعہ ابا سے کہا کہ مجھے نئی موٹر سائیکل دلا دیں اس آثار قدیمہ کے نمونے کو تو ردّی پیپر والا دو پیسے میں بھی نہیں خریدے گا مگر ابا بالکل چکنا گھڑا ہیں مجال ہے جو میری بات کا ذرا اثر لیں۔ اونہہ… اکلوتی اولاد کی ایک خواہش بھی وہ پوری نہیں کرسکتے۔ میں تو کہتا ہوں جب آپ دونوں مجھے اچھی زندگی نہیں دے سکتے تھے تو پھر مجھے پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ احتشام اپنی مخصوص ٹون میں بولتا چلا گیا جب کہ اماں نے انتہائی دکھ و تاسف سے اسے دیکھا۔
’’بس اسی بات کی کمی رہ گئی تھی کہ تُو ہمیں یہ طعنہ دے کہ ہم نے تجھے پیدا ہی کیوں کیا؟‘‘ اماں گلوگیر لہجے میں بولیں جب کہ آنکھوں میں ایک ساتھ ہی ڈھیروں آنسو اتر آئے۔
’’اب آپ جذباتی مت ہوجانا‘ مجھے بے پناہ چڑ ہے آنسوئوں سے اونہہ…‘‘ احتشام انتہائی بدتمیزی سے بول کر بائیک کونے میں کھڑی کرکے دروازے سے باہر نکل گیا۔
’’ارے میرے سوہنے ربّ ہم سے کیا ایسی خطا ہوئی جو ہماری اکلوتی اولاد ایسی نکلی۔ ہمیں معاف کردے ہمارے ربّ‘ ہماری اولاد کو ہدایت دے۔‘‘ احتشام کے جانے کے بعد اماں بے ساختہ آسمان کی جانب متوجہ ہوکر روتے ہوئے بولی تھیں۔
ء…/…ء
دن بھر کے حبس زدہ ماحول کے بعد ڈھلتی شام انتہائی پُرکیف اور سہانی تھی‘ خاور واک مین کر ہینڈ فری کان سے لگائے کسی گانے پر اپنا سر دھن رہا تھا جب کہ سمیر میگزین بینی کررہا تھا اس وقت وہ دونوں خاور ولا کے انتہائی پُرشکوہ لان میں بیٹھے شام کے اس پہر کو انجوائے کررہے تھے جب ہی خاور کا خاص ملازم ہاتھ میں کارڈ لیس تھامے وہاں آیا اور انتہائی مودبانہ انداز میں کارڈ لیس خاور کی جانب بڑھایا جو اس پل میوزک سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ ملازم کے اس عمل پر خاور نے اپنے کانوں سے ہینڈ فری کھینچا اور اشارے سے پوچھا کہ لائن پر کون ہے؟ خاور کا ملازم بھی آہستگی سے بولا۔
’’سویٹی میڈم!‘‘ یہ نام سنتے ہی خاور نے کڑوا سا منہ بنایا اور اشاری سے منا کردیا۔ سمیر بھی سویٹی کا نام سن چونکا تھا خاور کے منہ بنانے پر اسے کافی حیرت ہوئی تھی کیوں کہ خاور تو سویٹی کے آگے پیچھے پروانے کی مانند گھومتا تھا۔
’’میڈم! خاور صاحب تو تھوڑی دیر پہلے گھر سے باہر جاچکے ہیں۔‘‘ ملازم خاور کا اشارہ سمجھتے ہوئے بڑی سمجھ داری سے جھوٹ بول رہا تھا جبکہ سمیر کو اب دوسرا جھٹکا لگا تھا۔ ملازم کے جانے کے بعد سمیر نے اسے جانچتی نگاہوں سے گھورا جواب واک مین ایک طرف رکھ کر بڑے اطمینان سے میگزین اٹھا رہا تھا۔
’’یہ کیا چکر ہے خاور!‘‘
’’کون سا چکر میری جان!‘‘ خاور مگن انداز میں بولا۔
’’اوہ تو تم نے اور کتنے چکر چلا رکھے ہیں؟‘‘ سمیرا بولا۔
’’میری جان تم ان چکروں کو جاننے کی کوشش مت کرو ورنہ گھن چکر بن کر چکراتے پھروگے۔‘‘ خاور لہک کر بولا تو سمیر چڑ گیا۔
’’بکواس بند کرو‘ کل تک تو تم مجنوں‘ فرہاد بنے سویٹی کے قدموں تلے بچھے چلے جاتے تھے اور آج اس طرح نظر انداز کررہے ہو اس کا کیا جواز ہے؟‘‘ سمیرا سے گھورتے ہوئے بولا تو خاور اسے اتنا سنجیدہ دیکھ کر یک دم ہنس دیا۔
’’ارے میرے دوست تُو کیوں اس بات کو لے کر اتنا ہلکان ہورہا ہے۔ سویٹی مجھے کل اچھی لگتی تھی آج نہیں سمپل۔‘‘ آخری جملہ وہ شانے اچکا کر بولا۔
’’خاور میں تجھے پہلے بھی کہہ چکا ہوںکہ یہ فلرٹ کرنا چھوڑ دے ورنہ پھر میری دوستی چھوڑ دے۔‘‘ یہ کہہ کر سمیر کرسی سے اٹھنے لگا تو خاور گھبرا گیا۔
’’ارے میرے یار تُو تو لڑکیوں کی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوجاتا ہے‘ اچھا بیٹھ تو سہی میں تجھے پوری بات بتاتا ہوں۔‘‘ خاور سمیر کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا جب ہی اسے سہولت سے دوبارہ کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا۔ سمیر بیٹھ تو گیا مگر خاور کو تادیبی نگاہوں سے دیکھتا رہا۔
’’دراصل سویٹی بھی کوئی پارسا لڑکی نہیں ہے میرے علاوہ بھی اس کے کئی بوائے فرینڈز ہیں میری جان یہ نیا دور ہے یہاں خود لڑکیاں بھی لڑکوں سے دوستیاں کرکے ان سے فائدے حاصل کرتی ہیں۔‘‘ خاور اسے سمجھانے والے انداز میں بولا تو سمیر نے برا سا منہ بنایا۔
’’زمانہ چاہے کتنا ہی ماڈرن کیوں نہ ہوجائے مگر ہماری اقدار ہماری اخلاقیات کبھی نہیں بدلتیں‘ سمجھے تم۔‘‘ سمیر سنجیدگی سے بولا۔
’’اچھا میرے دادا جی اب چھوڑو اس ٹاپک کو بھاڑ میں گئی سویٹی! ارے یہ احتشام آج کہاں رہ گیا‘ ابھی تک پہنچا کیوں نہیں۔‘‘ بولتے بولتے اچانک خاور کو احتشام کا خیال آیا۔
’’ہاں یار احتشام نے مجھے صبح فون کیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ شام تک تمہارے گھر پہنچ جائے گا۔‘‘ سمیر بھی کچھ سوچ کر بولا۔
’’اونہہ! اس کی اٹھار ویں صدی کی شاہی سواری یقینا خراب ہوگئی ہوگی ورنہ تو اب تک یہاں آٹپکتا۔‘‘ خاور نخوت سے بولا جب کہ سمیر محض اسے دیکھ کر رہ گیا۔
ء…/…ء
حاکم دین جب گھر میں داخل ہوئے تو اپنی شریک حیات کی سوجی سوجی آنکھیں دیکھ کر فوراً جان گئے کہ آج پھر ان کا چشم و چراغ ماں کا دل دکھا کر گیا ہے۔ کبریٰ بیگم نے حاکم دین کو پانی کا ٹھنڈا گلاس تھمایا تو انہوں نے بغور ان کے چہرے کو دیکھا جس پر کبریٰ بیگم خوامخواہ میں سٹپٹا گئیں۔
’’نیک بخت آج پھر تیرا بیٹا تجھے جلی کٹی سنا کر گیا ہے نا۔‘‘ وہ ملول لہجے میں بولے تو کبریٰ بیگم گھبرا سی گئیں۔
’’نہ… نہیں نہیں تو…‘‘ وہ اپنے ہاتھوں کو ملتے ہوئے بولیں پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوئیں۔
’’آپ تو جانتے ہو جی اس کی موٹر سائیکل بالکل ہی ناکارہ ہوتی جارہی ہے‘ وہ چاہتا ہے کہ دوسری لے لے۔‘‘
’’ہاں تو میری فیکٹریاں چل رہی ہیں نا جو میں اسے نئی موٹر سائیکل لاکر دے دوں۔ ارے اس ناہنجار کو اتنی شرم و غیرت نہیں کہ بڑھا باپ باہر دھکے کھا کھا کر اپنی ہڈیاں گھسوا کر اسے کھلا پلا رہا ہے مگر اس کی شاہ خرچیاں ہی ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔‘‘
’’اب اس نے آپ سے چاند ستاروں کی تو فرمائش نہیں کردی جو اتنے آگ بگولہ ہورہے ہیں۔‘‘ اماں جزبز ہوکر ہمیشہ کی طرح اپنے بیٹے کی طرف داری کرتے ہوئے بولیں تو حاکم دین نے انہیں تاسف سے دیکھا۔
’’تمہاری یہ طرف داری ہی ایک دن تمہارے چہرے پر طمانچے کی طرح آلگے گی۔ اس ناخلف کی بے جا حمایت کیوں کرتی ہو تم۔‘‘ کبریٰ بیگم ندامت سے سر جھکا گئیں‘ احتشام کی نافرمانیاں اور بے پروائیاں ان کو بھی خون کے آنسو رلاتی تھیں مگر اپنی ممتا کے آگے بے بس تھیں۔
’’جانتی ہو آج کرم بخش سے میری ملاقات ہوئی‘ کتنے فخر و مان سے وہ اپنے بیٹے کے گن گارہا تھا اور میرا دوست رحمت جان اس کا بیٹا نہ صرف اسے کما کر کھلا رہا ہے بلکہ بیماری میں اس کی دل و جان سے خدمت بھی کررہا ہے اور میرا بیٹا… اگر میں بیمار پڑجائوں تو مجھے اس سے یہ امید بھی نہیں ہے کہ ایک بوند بھی پانی میرے حلق میں ڈال دے۔ یااللہ تُو مجھے چلتے ہاتھ پائوں ہی اٹھا لینا ورنہ تو میری مٹی پلید ہوجائے گی۔‘‘ حاکم دین آخر میں ہاتھ اٹھا کر التجائیہ لہجے میں بولے تو کبریٰ بیگم تڑپ کر رہ گئیں۔
’’کیسی باتیں کرتے ہیں آپ… مرے آپ کے دشمن۔ آپ احتشام کے لیے اتنا پریشان مت ہوں‘ ابھی بچپنا ہے اس کے اندر ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ اس پل خاوند سے زیادہ خود کو تسلی دیتے ہوئے بولی تھیں۔
’’ہوں نجانے یہ بچپنا کب ختم ہوگا اور یہ بڑا کب ہوگا۔‘‘ حاکم دین ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئے۔
ء…/…ء
حورین نہا کر نکلی اور انتہائی مگن انداز میں آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے بالوں کو جھٹکنے لگی سنگ مرمر کی مانند تراشدہ بدن‘ صراحی دار لمبی گردن کے دائیں جانب ایک چھوٹا سا تل اس کی خوب صورتی کو چار چاند لگا رہا تھا۔ دل کشی و معصومیت سے بھرپور صبیح چہرہ جس پر سیاہ گمبھیر پلکیں اس کی پُرکشش آنکھوں کی پہرہ دار تھیں۔ لمبی سیاہ گھنی زلفیں جب چوٹی کی قید سے آزاد ہوتیں تو اس کے پورے وجود کو بے پناہ حسین بناکر اس کی دل کشی و رعنائی کو مزید سحر انگیز بنا دیتے تھے۔ بال سکھاتے سکھاتے اچانک حورین کی ذہنی روبہکی‘ وہ احتشام کے متعلق سوچنے لگی۔ احتشام اس کا خالہ زاد ہونے کے ساتھ ساتھ منگیتر بھی تھا اگر حورین خوب صورت و حسین تھی تو احتشام بھی مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا تقریباً چار سال پہلے احتشام کی اماں کبریٰ بیگم نے اپنی چھوٹی بہن کی نازو پلی بیٹی حورین کا ہاتھ اپنے بیٹے احتشام کے لیے مانگ لیا تھا اور پھر اسی دن سے حورین کے دل کے کورے کاغذ پر احتشام کی شبیہ بڑی تیزی سے بن گئی تھی۔ اس کے خیالوں اور خوابوں میں احتشام نے بڑی تیزی سے قبضہ کرلیا تھا‘ احتشام ہی اب اس کی زندگی کا مرکز تھا اس کے خوابوں کا شہزادہ اس کی زیست کی آرزو اس کی پہلی چاہت وہ احتشام کو دیکھ دیکھ کر جینے لگی تھی وہ اس کی زندگی میں کیا آیا اس کی سپاٹ پھیکی اور بے معنی زندگی بدل گئی تھی اسے احتشام سے محبت ہوگئی تھی اور محبت کا لمس چکھ کر حورین حورین نہیں رہی تھی سراپا محبت بن گئی تھی۔
’’ہوں یقینا ہمارے دلہا بھائی کے خیالوں میں کھوئی ہوئی ہے ہماری بنو۔‘‘ اچانک عقب سے پارس کی آواز ابھری تھی۔
اپنی واحد راز دار اور عزیز ازجان سہیلی کے عکس کو دیکھا جو اسے معنی خیز انداز میں دیکھ کر مسکرا رہی تھی حورین بے تحاشا جھینپی پھر خفیف سی ہوکر بولی۔
’’کیوں میں احتشام کے علاوہ کچھ اور نہیں سوچ سکتی کیا؟‘‘ شرم سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ کر اس پل پارس کو یوں لگا جیسے سورج ڈوبتے ڈوبتے اپنی بنفشی شعاعیں حورین کے چہرے پر چھوڑ گیا ہو۔ اس لمحے پارس کو حورین دنیا کی سب سے حسین لڑکی لگی۔
’’احتشام بھائی نے تمہیں اس قابل چھوڑا کہاں ہے کہ تم ان کے علاوہ کچھ اور سوچو۔‘‘ پارس ہنستے ہوئے بولی تو حورین مزید جھینپ گئی۔
’’اب اتنے اچھے بھی نہیں ہیں تمہارے احتشام بھائی…‘‘ وہ جزبز ہوکر بولی پھر کچھ یاد آنے پر اچانک اداس سی ہوگئی۔ پارس نے اس کے چہرے کے اتار چڑھائو کو بغور محسوس کیا تھا۔
’’کیا ہوا حور! اب کیا سوچ کر تم اداس ہوگئیں۔‘‘ پارس حورین کے نہ صرف گھر کے قریب رہتی تھی بلکہ وہ اس کے دل کے بھی قریب تھی۔ حورین کے تمام مزاج کے موسموں سے آشنا اس کی رگ رگ سے واقف تھی۔ حورین کو اپنی اس معصوم اور سادہ سہیلی کی دوستی پر فخر تھا جو اس کے لیے قیمتی سرمایہ تھی۔
’’پارس تم تو مجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتی ہو۔‘‘ حورین اپنی سہیلی کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پیار سے بولی۔
’’ہاں بھئی تمہیں بچپن سے جو جھیل رہی ہوں۔‘‘ پارس اسے چھیڑتے ہوئے بولی پھر اصل بات کی جانب آتے ہوئے اداسی کی وجہ استفسار کرنے لگی حورین محض ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی۔
’’پارس نجانے مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ احتشام کے ساتھ زبردستی ہوئی ہے وہ شاید اس رشتے سے خوش نہیں۔‘‘ حورین اپنی خوب صورت پلکیں جھکاتے ہوئے بولی۔
’’یہ تمہارا وہم اور غلط قیاس ہے حور! پہلی بات تو یہ کہ ان کی شخصیت ایسی ہے کہ کوئی ان کے ساتھ میرے خیال میں زبردستی تو نہیں کرسکتا اور دوسری بات یہ کہ تمہارے اندر بھلا کس چیز کی کمی ہے جو وہ اس رشتے سے خوش نہ ہوں‘ ارے تم جیسی لڑکی انہیں زمین تو کیا آسمان پر بھی نہیں ملے گی۔‘‘ پارس اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے سمجھاتے ہوئے بولی۔
’’تو پھر وہ مجھ میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے‘ میں جب خالہ کے گھر جاتی ہوں احتشام میرے سامنے اتنے نارمل رہتے ہیں جیسے میرے وجود سے ان کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا جب کہ میں…‘‘ کہتے کہتے اچانک حورین چپ ہوگئی۔
’’جب کہ تمہارا دل سینے کی دیواریں توڑ کر باہر آنے کو بے تاب ہوجاتا ہے… ہے نا؟‘‘
’’بکومت۔‘‘ حورین لجا کر بولی۔
’’اچھا اب تم شرما بعد میں لینا پہلے میرے ساتھ ذرا بازار چلو‘ مجھے کچھ چیزیں لینی ہیں۔‘‘
’’لیکن اماں اکیلی رہ جائیں گی‘ بخار کے بعد کمزوری بہت ہوگئی ہے۔‘‘ حورین پارس کی بات پر تھوڑا تفکر سے گویا ہوئی۔
’’میں نے خالہ سے اجازت لے لی ہے وہ کہہ رہی ہیں کہ حورین کو ساتھ لے جائو انہیں بھی کچھ چیزیں منگوانی ہیں۔‘‘ پارس اسے اطمینان دلاتے ہوئے بولی۔
’’اچھا تو تم ذرا اماں کے پاس بیٹھو میں بس بال بناکر ابھی آتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر حورین نے پارس کو اماں کی جانب بھیجا اور پھر خود جلدی جلدی برش اپنے بالوں میں چلانے لگی۔
ء…/…ء
تینوں دوست نشاط سینما سے فلم دیکھ کر نکلے اور وہاں سے کلفٹن کے ساحل پر آگئے اس وقت رات کے دس بج رہے تھے لہٰذا ساحل سمندر پر اتنی چہل پہل نہیں تھی تینوں دوست ایک پُرسکون جگہ کا انتخاب کرکے وہیں بیٹھ گئے۔ ٹھنڈی سبک ہوا سیاہ آسمان پر ٹمٹماتے ستارے اور آخری تاریخوں کا چاند اور سامنے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی لہریں منظر کو انتہائی رومانوی و دل کش بنا رہی تھیں۔
’’اتنی گھٹیا اور بے کار فلم میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی سمیر! تمہاری وجہ سے ہمارا وقت برباد ہوگیا۔‘‘ خاور سگریٹ کے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر اسے لائٹر کے شعلے سے جلاکر تپے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے یہ فلم میں نے بنائی تھی ویسے اب اتنی بھی بُری نہیں تھی جتنا تم کہہ رہے ہو۔‘‘ سمیر ہنستے ہوئے بولا پھر احتشام کی جانب دیکھ کر گویا ہوا۔
’’ہالی وڈ کی اتنی مشہور فلم خاور کو تو اچھی نہیں لگی‘ احتشام تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘
’’ہوں ٹھیک تھی۔‘‘ احتشام سگریٹ کا آخری کش لے کر دھواں فضا میں بکھیرتے ہوئے بولا۔
’’ویسے اس کی ہیروئن بہت خوب صورت تھی‘ مجھے تو اس ہیروئن میں حورین بھابی کی بہت شباہت نظر آرہی تھی۔‘‘ خاور مگن انداز میں بولا تھا۔
’’اب حورین اتنی بھی خوب صورت نہیں ہے کہ تم اسے ہالی وڈ کی مشہور ترین ہیروئن سے ملا رہے ہو۔‘‘ احتشام بے پروائی سے بولا۔
’’کیا بات کررہے ہو احتشام! ہماری حورین بھابی میں کس چیز کی کمی ہے؟ وہ ہیروئن تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ تم تو پاگل ہو بالکل‘ ہاں ویسے تمہیں اتنا قیمتی ہیرا بنا کسی تگ و دو کے جو مل گیا تو موصوف کے مزاج ہی نہیں مل رہے۔‘‘ سمیرا آخر میں لتے لینے والے انداز میں بولا تو خاور نے تیزی سے کہا۔
’’میں سمیر کی بات سے اتفاق کرتا ہوں‘ ہماری بھابی کسی شہزادی اور رانی سے کم نہیں۔‘‘
’’اچھا بابا کیا ہم کوئی دوسری بات نہیں کرسکتے؟‘‘ احتشام بے زار کن لہجے میں بولا تو سمیر اور خاور دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
’’کیا بات ہے احتشام کیا تم بھابی کو پسند نہیں کرتے‘ ان کے ذکر پر تم ہمیشہ یونہی چپ ہو جاتے ہو۔ یار تم تو خوش قسمت ہو کہ ہر لحاظ سے مکمل اور اچھا جیون ساتھی تمہیں ملنے والا ہے۔‘‘ سمیر سمجھانے والے انداز میں بولا تو احتشام کا موڈ اچھا خاصا آف ہوگیا۔
’’سمیر تم یہ بات اچھی طرح جانتے ہو کہ لڑکیاں میرے لیے کوئی کشش نہیں رکھتیں‘ صنف مخالف سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے ان کی قربت خوب صورتی اور چاہت مجھے متاثر نہیں کرتی۔‘‘
’’ہائے بے چاری حورین بھابی کی قسمت‘ احتشام جیسے پتھر سے ٹکرا کر ٹوٹ گئی۔‘‘ خاور احتشام کی بات پر مزاحیہ انداز سے بولا۔
’’لیکن احتشام! حورین بھابی کوئی عام لڑکی نہیں تمہاری ہونے والی بیوی ہے کم از کم ان کے لیے تو تم اپنے دل میں احساسات جگائو‘ آخر ان کے بھی تو کچھ خواب ہوں گے۔‘‘ سمیر کو حورین اپنی بہنوںکی طرح عزیز تھی لہٰذا نا چاہتے ہوئے بھی وہ احتشام کو سمجھانے بیٹھ گیا حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ احتشام بالکل چکنا گھڑا ہے اس پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔
’’خاور اب تُو کچھ کھلارہا ہے یا پھر میں بھوکا ہی گھر چلا جائوں؟‘‘ احتشام سمیر کی بات کو یکسر نظر انداز کرکے خاور کی جانب مڑکر بولا۔
’’چلو یارو! آج بکرے کی سجّی کھاتے ہیں اور ساتھ میں مکھن والا بھیجہ مصالحہ۔‘‘ خاور شاہی انداز میں بولا تو سجّی اور بھیجے کا سن کر سمیر اور احتشام کی بھوک چمک اٹھی۔
’’ہاں تو پھر جلدی چل۔‘‘ احتشام بے صبرے انداز میں بولا تو تینوں دوست سجی ہائوس کی جانب گاڑی میں بیٹھ کر چل دیئے۔
ء…/…ء
حورین کی متلاشی نگاہیں بار بار اِدھر اُدھر دوڑ رہی تھیں‘ وہ جسے دیکھنا چاہتی تھی وہ اسے کہیں نظر نہیں آرہا تھا اور خالہ سے پوچھنے میں حیا مانع آرہی تھی وہ اپنی اماں کے ہمراہ آج احتشام کے گھر آئی تھی۔
’’باجی احتشام گھر پر نہیں ہے کیا‘ بڑی دیر سے دکھائی نہیں دے رہا؟‘‘ صغریٰ بیگم نے جب حورین کے منہ کی بات کہی تو حورین بے پناہ خوش ہوگئی مگر خالہ کے جملے نے اس کے ارمانوں پر اوس ڈال دی۔
’’احتشام صبح سے ہی باہر نکلا ہوا ہے اپنی مرضی کا مالک ہے نجانے گھر کب آئے گا۔‘‘ حورین کتنی اشتیاق سے تیار ہوکر آج اماں کے ہمراہ یہاں آئی تھی مگر احتشام کو ندارد پاکر وہ اندر ہی اندر بجھ سی گئی تھی وہ دونوں بہنوں کو باتیں کرتا دیکھ کر باہر صحن کے ایک کونے میں بنے چھوٹے سے باغیچے کی جانب چلی آئی خالو کا باغبانی کا شوق دیکھ کر وہ دھیرے سے مسکرادی۔ حورین گملوں میں لگے چھوٹے چھوٹے پھولوں کو دیکھنے کی غرض سے تھوڑا سا جھکی کہ اسی دم کوئی شخص دروازے سے ہنستا ہوا اندر داخل ہوا حورین نے گردن اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا تو سامنے خاور حیات کو دیکھ کر وہ پل بھر کے لیے ہڑبڑائی پھر تیزی سے سیدھی ہوئی اور جلدی سے خاور کو سلام کر ڈالا جو اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا کچھ بولتے ہوئے احتشام بھی خاور کے پیچھے اندر داخل ہوا تو حورین کو سامنے پاکر پل بھر کے لیے خاموش ہوگیا جو میرون رنگ کے جوڑے میں کافی بدحواس لگ رہی تھی تقریباً ہکلاتے ہوئے حورین نے احتشام کو سلام کیا تو احتشام محض سنجیدگی سے جواب دے کر اندر کی جانب بڑھ گیا جب ہی خاور آہستگی سے چلتا ہوا حورین کے قریب آگیا۔
’’حورین بھابی! آپ احتشام کو دیکھ کر اتنا گھبرا کیوں جاتی ہیں‘ کیا بہت خوف ناک ہے وہ؟‘‘ خاور اسے چھیڑتے ہوئے بولا تو وہ اور زیادہ گھبرا گئی۔
’’نہ… نہیں خاور بھائی… ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ حورین سٹپٹاتے ہوئے انتہائی معصومیت سے بولی تو خاور زور دار قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
’’آپ تو واقعی میں بہت معصوم اور بھولی ہیں‘ میں تو مذاق کررہا ہوں۔‘‘ خاور بدستور ہنستے ہوئے وضاحت دیتے ہوئے بولا تو حورین کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے۔
’’شاید اماں مجھے آواز دے رہی ہیں‘ میں اندر جاتی ہوں۔‘‘ وہاں سے کھسکنے کا بہانہ بناکر حورین جھپاک سے اندر بڑھ گئی جب کہ خاور وہیں کھڑا کافی دیر تک مسکراتا رہا۔
ء…/…ء
سمیر‘ خاور کے والد حیات افتخار کے بلانے پر کچھ کنفیوژ ہوتا وہاں پہنچا وہ اندر ہی اندر سوچ رہا تھا کہ آخر حیات انکل نے کس کام کے لیے اسے گھر کے بجائے کلب میں بلایا ہے۔ حیات افتخار اور سمیر کے والد دونوں چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے اچھے دوست بھی تھے۔ سمیر کلب کے بالائی جانب پول سائیڈ پر چلا آیا جہاں حیات افتخار کین کی کرسیوں میں ایک پر براجمان محو انتظار تھے۔ سمیر ان سے علیک سلیک کے بعد مقابل کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’سمیر میں نے تمہیں یہاں ایک ضروری بات کرنے کے لیے بلایا ہے۔‘‘ حیات افتخار بڑی تمکنت سے فرانسسی سگار کا طویل کش لیتے ہوئے گمبھیر لہجے میں گویا ہوئے۔
’’جی انکل ضرور کہیے‘ کیا بات ہیں۔‘‘ سمیر مودبانہ انداز میں گویا ہوا۔
’’سمیر بیٹا تم خاور کے اچھے دوست ہو اور اس کے بہت قریب بھی۔ میں چاہتا ہوں کہ خاور اب اپنی زندگی کو سنجیدگی سے لینا شروع کردے میرے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹائے اور شادی کرکے سیٹ ہوجائے۔‘‘ حیات افتخار کے آخری جملے پر سمیر چونکا‘ خاور نے سمیر سے صاف صاف کہا تھا کہ وہ شادی جیسے جھنجٹ میں ہرگز پڑنا نہیں چاہتا۔
’’انکل میں اس سلسلے میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں۔‘‘ سمیر اپنے ہنوز انداز میں گویا ہوا۔
’’سمیر بیٹا میں یہ چاہتا ہوں کہ تم خاور کو شادی کے لیے کنوینس کرو‘ سوئٹی اس کے لیے بہت اچھی لائف پارٹنر ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘ سوئٹی کے نام پر سمیر سوچ میں پڑگیا وہ افتخار صاحب کے دوست کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے بزنس ایمپائر کی تنہا مالک بھی تھی۔ حیات افتخار پکے بزنس مین تھے ایک چالاک اور شاطر بزنس مین کی طرح انہوں نے کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے بیٹے کی شادی کو بھی کیش کروانا چاہتے تھے۔ خاور اور سوئٹی کی شادی سے انہیں بہت بڑا فائدہ پہنچ سکتا تھا اور وہ یہ سنہری موقع اپنے ہاتھوں سے کسی طور گنوانا نہیں چاہتے تھے مگر فی الحال خاور شادی کے لیے ٹال مٹول کررہا تھا اسی وجہ سے حیات افتخار کو سمیر کی مدد لینے پڑ رہی تھی۔
’’میں خاور سے بات کرتا ہوں انکل!‘‘
’’صرف بات نہیں ینگ مین! اسے اس شادی کے لیے کنوینس بھی کرنا ہوگا۔‘‘ سمیر کی بات پر حیات افتخار اپنے مخصوص گمبھیر لہجے میں بولے تو سمیر بے ساختہ مسکرا کر رہ گیا کہ اسی دم بلو جینز پر میرون سلیولیس ٹی شرٹ پہنی سوئٹی آدھمکی جس کے چہرے پر کیا گیا تیز میک اپ اس کے نقوش اور زیادہ تیکھا بنارہا تھا۔ گولڈن برائون شولڈر پر پڑے بال ہوا کی شوخیوں سے ادھر اُدھر بکھر رہے تھے۔ وہ کافی خوب صورت تھی مگر اس کا حسن بے باکی اور بے حجابی کے باریک پردے میں لپٹا ہوا تھا‘ اس نے سمیر کی جانب مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو سمیر نے ہلکا سا ہاتھ دبا کر فوراً چھوڑ دیا۔
’’تھینک گاڈ انکل! آپ مجھے مل گئے‘ میں آپ کے بیٹے کی آپ سے کمپلین کرنا چاہ رہی تھی۔ خاور آج کل مجھے بالکل ٹائم نہیں دے رہا۔‘‘ سوئٹی منہ بسور کر نروٹھے انداز میں بولی تو حیات افتخار مسکرا کر گویا ہوئے۔
’’اب وہ صرف تمہیں ٹائم دے گا‘ یو ڈونٹ مائنڈ مائی ڈئیر!‘‘ سمیر محض مسکرا کر رہ گیا پھر یک دم کسی لڑکے کے پکارے پر وہ ایکسکیوز کرکے وہاں سے چلی گئی تو حیات افتخار ایک بار پھر پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہوکر بولے۔
’’سمیر تمہیں خاور کو جلد سے جلد کنوینس کرنا ہے‘ اوکے۔‘‘
’’جی انکل! میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔‘‘ وہ ان سے اجازت لے کر وہاں سے چلا آیا۔
ء…/…ء
ابا کے گھر آجانے پر حورین حسب معمول جلدی جلدی روٹی کے لیے پیڑے بنانے لگی۔ عشاء کی نماز کے فورٍٍاً بعد وہ کھانا کھاتے تھے‘ وہ اپنے کام میں مگن تھی کہ اچانک فون کی گھنٹی کانوں سے ٹکرائی ابھی دو ماہ پہلے ہی ابا کے دوست نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے گھر میں فون لگوایا تھا حورین کے والد حکیم تھے اپنے مریضوں کے بار بار اصرار پر انہوں نے یہ ٹیلی فون لگوایا تھا کیوں کہ ان کے کچھ مریض دور دراز علاقوں میں رہتے تھے۔ ٹیلی فون لگنے کی وجہ سے انہیں کافی آسانی ہوگئی تھی اپنا حال احوال وہ فون پر ہی بتادیا کرتے تھے اور ابا انہیں دوا لکھوا دیا کرتے۔
’’ہیلو‘ ہیلو… کون ہے بھئی! آپ کی آواز نہیں آرہی۔‘‘ ابا کی آواز باورچی خانے میں کام کرتی حورین کی سماعت سے ٹکرائی تو حورین چونک سی گئی۔ آج دن بھر یہی ہوتا رہا جب فون کی گھنٹی بجتی اور حورین اٹھاتی دوسری طرف بالکل خاموشی ہوتی۔ وہ ہیلو ہیلو کہتی رہ جاتی‘ حورین یہی سمجھی کہ کوئی فالٹ کی وجہ سے دوسری طرف سے آواز نہیں آرہی ہے کیوں کہ دوسری جانب بالکل جامد خاموشی اور سناٹا محسوس ہوتا تھا۔
’’نجانے کون ہے؟‘‘ حورین اچھی خاصی الجھ گئی کہ آخر کون ہے وہ جو لائن ملانے کی بار بار کوشش کررہا ہے پھر حورین سر جھٹک کر پوری طرح روٹی ڈالنے میں مصروف ہوگئی۔
ء…/…ء
’’مجھے شادی نہیں کرنی۔‘‘ کوئی دھماکہ تھا جو احتشام نے اپنے والدین کے سامنے کیا تھا۔
’’کیا… کیا کہہ رہا ہے تُو… کیا تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ کیوں نہیں کرنی تجھے شادی اور اپنی بہن کو میں کیا منہ دکھائوں گی چار سال تک اس کی بیٹی کو اپنے بیٹے کے نام پر بٹھائے رکھا اور اب میں یہ کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دوں کہ ہم نہیں کررہے شادی۔ ارے کتنی بدنامی ہوگی میری بہن اور حورین کی بے چاری اس غریب بچی پر لوگ طرح طرح کے الزامات لگائیں گے تُو کیوں اس عمر میں اپنے اماں باوا کو ذلیل و رسوا کروانے پر تلا ہوا ہے۔‘‘ احتشام کے صاف انکار پر کبریٰ بیگم بُری طرح حواس باختہ ہوگئیں۔ صغریٰ کی جانب سے بار بار شادی کے تقاضے پر انہوں نے احتشام سے بات کی تھی‘ دراصل صغریٰ بیگم اپنی زندگی کی جانب سے خوف زدہ ہوگئی تھیں‘ مستقل بیماری نے ان کے اندر یہ ڈر پیدا کردیا تھاکہ اب وہ زیادہ عرصہ جی نہیں سکیں گی وہ چاہتی تھیں کہ اپنی زندگی میں ہی وہ حورین کو اپنے گھر رخصت کردیں تاکہ وہ قبر میں چین کی نیند سو سکیں۔
احتشام کے انکار پرکبریٰ بیگم سہم گئی تھیں اگر منگنی ٹوٹ جاتی تو حورین کی بدنامی ہوسکتی تھی‘ احتشام کو لتاڑ کر جب انہیں کچھ نہ سوجھا تو منہ پر دوپٹہ رکھ کر رونے لگیں جبکہ احتشام یونہی بے حس بنا بیٹھا رہا۔
’’کیوں میاں تم کیوں شادی سے انکاری ہو‘ حورین سے منگنی ہم نے تمہاری مرضی جان کر ہی کی تھی نا یا تم سے کوئی زور زبردستی کی تھی۔‘‘ حاکم دین کے کہنے پر احتشام جزجز ہوکر رہ گیا۔
’’ابا مجھے حورین سے کوئی مسئلہ نہیں ہے بس فی الحال میں شادی کے چکر میں پڑنا نہیں چاہتا۔ میں اپنی زندگی بنانا چاہتا ہوں مجھے اپنی زندگی میں وہ سب کچھ چاہیے جو خاور اور سمیر کو حاصل ہے۔‘‘
’’تو اس کے لیے تمہیں محنت کرنا ہوگی کہیں نوکری کرنا ہوگی‘ کوئی جادو کی چھڑی گھما کر یا پھر الٰہ دین کا چراغ رگڑ کر تو دولت حاصل نہیں کی جاسکتی۔‘‘ ابا اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولے تو ان کی بات پر احتشام نے کڑوا سا منہ بنایا۔
’’دو ڈھائی ہزار روپے کی چاکری میں نہیں کرسکتا اور نہ ہی چند روپوں کی خاطر لوگوں کی گالیاں سننے کا راودار ہوں۔‘‘
’’تو پھر بادشاہ سلامت کیا چاہتے ہیں؟‘‘ ابا جب سخت طیش میں آتے تھے تو اسی طرح طنز کے ڈوگرے برسانے لگتے تھے۔
’’میں فی الحال اس چراغ اور جادو کی چھڑی کی تلاش میں ہوں جسے رگڑ کر اور گھما کر میں اپنے تمام مقاصد پورے کرلوں۔‘‘ ابا کی بات پر احتشام کسی سوچ میں گم ہوکر عجیب سے لہجے میں بولا۔
’’احتشام میرے بچے تُو کیوں ہمیں رسوا کروانے پر تلا ہے‘ چل ٹھیک ہے تُو ڈھونڈ لے وہ چراغ اور چھڑی مگر حورین سے شادی تو کرلے۔‘‘ آخر میں اماں منت آمیز لہجے میں بولیں۔
’’اُف حورین… حورین… حورین میں تنگ آگیا ہوں اس نام سے۔‘‘ احتشام تنک کر بولا اور پیر پٹخ کر وہاں سے باہر نکل گیا جب کہ اماں نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ ابا کسی گہری سوچ میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد وہ گویا ہوئے۔
’’نیک بخت احتشام کے ساتھ زور زبردستی مت کرو‘ یہ نہ ہو کہ ہم حورین کے ساتھ کوئی زیادتی کر بیٹھیں اور ویسے بھی یہ تو خود نکما ہے نہ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا‘ اس غریب حورین کو کیسے کھلائے گا۔‘‘ آخر میں ابا غصے میں بولے تو کبریٰ بیگم سر اٹھا کر محض انہیں بے بسی سے دیکھ کر رہ گئیں۔
ء…/…ء
شہر کے مضافات سے دور پُرسکون جگہ پر بنے اس فارم ہائوس کے سوئمنگ پول میں خاور‘ سمیر اور احتشام تیراکی میں مصروف تھے‘ خاور مہینے میں دو تین بار اپنے دوستوں کے ہمراہ یہاں چلا آتا تھا۔ سمیر اور خاور امیر گھرانے کے چشم و چراغ تھے جب کہ احتشام غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا وہ بچپن سے ہی خود سر خود پسند اور ضدی واقع ہوا تھا چونکہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا لہٰذا انہوں نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر اسے اچھے اسکول میں داخل کروایا تھا جہاں اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانوں کے بچے پڑھا کرتے تھے۔ احتشام انہیں اچھی اچھی اور قیمتی چیزیں استعمال کرتا دیکھ کر رشک و حسد کا شکار ہوجاتا تھا‘ اس کا دل چاہتا تھا کہ ان کے بیگز‘ پنسل بکس‘ لنچ بکس ان سے چھین لے وہ اپنے ماں باپ سے ایسی ہی چیزیں خریدنے کی فرمائش کیا کرتا تھا۔
کالج میں آیا تو بھی اس نے بڑے گھرانے کے لڑکوں سے دوستیاں کیں ایسے ہی اس کی خاور اور سمیر سے دوستی ہوئی۔ انٹر میں تین بار فیل ہونے کے بعد اس نے تعلیم کو یکسر طور پر خیرآباد کہہ دیا تھا جب کہ خاور اور سمیر شہر کی معروف یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے تھے۔ سمیر امیر ہونے کے باوجود سادہ اور بھلی فطرت کا مالک تھا‘ وہ احتشام سے مخلص تھا مگر خاور کو اپنی دولت اور اونچے اسٹیٹس پر بہت گھمنڈ تھا وہ لوئر مڈل کلاس کے لڑکوں سے دوستی تو دور ان سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتا تھا مگر نجانے کیا ایسی وجہ تھی کہ وہ احتشام سے نہ صرف دوستی چلا رہا تھا بلکہ اکثر اوقات اپنی قیمتی چیزیں احتشام کو بڑی فراخ دلی سے دان کردیا کرتا تھا۔
’’خاور تم نے شادی کے بارے میں کیا سوچا؟‘‘
’’یہ آج کل سب کو شادی شادی کا بھوت کیوں سوار ہوگیا ہے؟‘‘ احتشام بُرا سا منہ بناکر بولا۔
’’کیا مطلب… اور کس کس پر شادی کا بھوت سوار ہوگیا ہے؟‘‘ خاور متجسس لہجے میں گویا ہوا۔
’’کسی پر نہیں… سمیر تم کیا کہہ رہے تھے؟‘‘ احتشام خاور کو ٹال کر سمیر کی جانب متوجہ ہوا جو خود اسی موضوع پر بات کرنا چاہ رہا تھا۔
’’میں کہہ رہا تھاکہ خاور کہ تمہیں اب شادی کرلینا چاہیے۔ تم ماشاء اللہ ویل سیٹ ہو‘ ایم بی اے کی ڈگری بھی تمہیں ملنے والی ہے۔ شادی کرکے اپنے ڈیڈی کا بزنس سنبھال لو گے تو اچھا ہوگا۔‘‘
’’کیوں میرے بھائی تمہیں میری آزادی بُری لگ رہی ہے‘ ویل سیٹ تو تم بھی ہو تم کیوں نہیں کرلیتے شادی۔‘‘ خاور نے سمیر کی بات پر توپوں کا رخ اسی کی جانب پلٹ دیا تو وہ تھوڑا جزبز ہوا پھر سنبھل کر بولا۔
’’ہاں‘ کیوں نہیں‘ مجھے بھی شادی کرنی ہے اور میں کر بھی لوں گا مگر اس وقت میں تمہاری بات کررہا ہوں‘ ویسے سوئٹی تمہارے لیے پرفیکٹ ہے۔‘‘ سمیر کے آخری جملے پر خاور اچھل پڑا۔
’’تمہیں یہ سوئٹی سے اس قدر ہمدردی کیوں ہورہی ہے یا پھر آج کل تم نے میرج بیورو کا کام شروع کردیا ہے۔‘‘ خاور سمیر کو تادیبی نظروں سے دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولا تو سمیر تھوڑا کھسیا گیا۔
’’میں تو ایسے ہی کہہ رہا ہوں وہ ایجوکیٹڈ ہے‘ خوب صورت و کانفیڈنڈ ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے باپ کی جائیداد کی واحد مالک… تمہیں اور کیا چاہیے۔‘‘ سمیر کی اس تفصیلات کو سن کر احتشام نے خاور کو رشک سے دیکھا۔
’’یار خاور! تُو تو بہت لکی ہے اتنی امیر کبیر لڑکی تیری بیوی ہوگی۔‘‘
’’اونہہ… روپیہ پیسہ‘ عیش و آسائش میرے پاس پہلے سے موجود ہیں‘ مجھے کسی اور کی دولت پر عیاشیاں کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ خاور نخوت سے ناک چڑھا کر بولا۔
’’مگر خاور‘ تم سوئٹی سے شادی کرلو۔‘‘ سمیر سوئٹی کے نام پر زور دے کر بولا۔ خاور سخت چٹان کی مانند تھا‘ سمیر اچھی طرح جانتا تھا کہ اس چٹان سے سر ٹکرانے کا کوئی فائدہ نہیں مگر حیات افتخار نے اسے یہ کام سونپ کر اسے خاور کے آگے بین بجانے پر مجبور کردیا تھا۔ وہ ان کی بات کو ٹال بھی نہیں سکتا تھا سو اپنی سی کوشش کرنے پر مجبور تھا۔
’’پھر بھی سوئٹی سے شادی کرکے تم گھاٹے میں نہیں رہو گے اور پھر یہ دولت چیز ہی ایسی ہے کہ جتنا اس میں اضافہ ہوتا رہے روح کو تسکین ہی ملتی ہے۔‘‘ احتشام نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا تو خاور ناگواری سے ماتھے پر سلوٹیں ڈال کر بولا۔
’’مجھے سوئٹی پسند نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا تو پھر تمہیں کوئی اور پسند ہے کیا؟‘‘ سمیر ازراہِ مذاق مسکراتے ہوئے بولا۔
’’ہاں میں کسی کو چاہتا ہوں۔‘‘ خاور اتنے جذب سے بولا کہ سمیر و احتشام نے بے ساختہ انتہائی اچنبھے سے اسے دیکھا۔
ء…/…ء
حورین کچن سے فارغ ہوکر اماں کو کھانے پر بلانے کی غرض سے کمرے میں آوازیں دیتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو انہیں بے سدھ پڑا دیکھ کر بے تحاشا گھبرا گئی۔
’’اماں… اماں…‘‘ وہ تقریباً چلاتے ہوئے ان کے قریب آئی اور جلدی سے ان کا ہاتھ اور ماتھا چیک کیا جو اُس پل برف کی مانند بالکل سرد پڑا تھا۔
’’یا میرے اللہ میری اماں کی حفاظت کرنا۔‘‘ وہ روتے ہوئے دعائیہ انداز میں بولی پھر جلدی سے دوڑتی ہوئی پارس کے گھر آئی اور اماں کی طبیعت کے بارے میں بتایا‘ پارس کے والد گلی کے نکڑ پر واقع ڈاکٹر کے کلینک کی جانب بھاگے جب کہ پارس اور اس کی اماں حورین کے ہمراہ اس کے گھر چلی آئیں‘ تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آگیا اور کچھ دیر ان کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد ہدایت جاری کی کہ انہیں فوراً ہسپتال میں داخل کرادیا جائے۔
حورین تھوڑی ہی دیر بعد پارس کے والد کے ہمراہ ٹیکسی میں اماں کو لے کر ہسپتال جارہی تھی جب کہ پارس حورین کے ابا کو اطلاع دینے کی غرض سے اس کے گھر پر ہی رک گئی تھی تاکہ وہ آئیں تو وہ انہیں ہسپتال کا بتاسکے کیوں کہ آج کل فون خراب تھا اور پارس کے گھر میں ٹیلی فون نہیں تھا۔
ء…/…ء
آج صبح سے ہی کبریٰ بیگم کا دل بہت گھبرا رہا تھا انہیں رہ رہ کر حورین کا خیال آرہا تھا‘ کتنی چاہ اور محبت سے انہوں نے حورین کا ہاتھ اپنی چھوٹی بہن سے مانگا تھا۔ اپنی بھانجی انہیں دل و جان سے پسند تھی‘ انتہائی نیک سعادت مند اور خوب سیرت ہونے کے ساتھ ساتھ خوب صورت بھی وہ دل سے چاہتی تھیں کہ یہ چودھویں کا چاند ان کے آنگن میں اتر کر ان کے سونے گھر میں روشنیاں بکھیر دے مگر احتشام کے انکار نے انہیں سخت صدمے اور پریشانی سے دوچار کردیا تھا اب بھلا وہ کس منہ سے اپنی بیمار بہن سے یہ کہہ پائیں گی کہ احتشام نے شادی کرنے سے صاف انکا کردیا ہے انہوں نے اپنے شوہر نامدار سے کہا کہ وہ احتشام کو پھر سے سمجھائیں اسے مجبور کریں کہ وہ حورین کو بیاہ کر گھر لے آئے مگر حاکم دین کے منع کرنے پر وہ خاموش ہوگئی تھیں بقول ان کے کہ اس طرح حورین کی خوشیوں اور زندگی کو گہن لگ جائے گا کیوں کہ زبردستی کے طے کیے رشے ایسے خودرو پودے کی مانند ہوتے ہیں جو اپنی کوکھ سے صرف کانٹوں کو جنتے ہیں جو پنپتے کے بجائے آہستہ آہستہ مرجھا کر فنا ہوجاتے ہیں۔
ان کی بات سو فیصد درست تھی لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی انہوں نے دوبارہ احتشام سے بات نہیں کی تھی۔ کبریٰ بیگم کا ذہن سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن تھا کہ اسی دم حاکم دین گھبرائے ہوئے اندر داخل ہوئے جن کا اڑا اُڑا چہرہ کسی انہونی کا احساس دلا رہا تھا۔
’’احتشام کے ابا سب خیریت تو ہے نا‘ آپ اس طرح اچانک اتنی جلدی گھر اور…‘‘
’’نیک بخت جلدی سے برقع پہن کر باہر آجائو‘ باہر ٹیکسی کھڑی ہے ہمیں ابھی اسی وقت ہسپتال چلنا ہے۔‘‘ حاکم دین نے کبریٰ بیگم کی بات درمیان میں سے قطع کرکے عجلت میں کہا‘ ہسپتال کا نام سن کر وہ بھی بدحواس سی ہوگئیں۔
’’یااللہ خیر‘ پر ہوا کیا ہے‘ میرا بچہ تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ ان کا ذہن فوراً احتشام کی جانب گیا تھا‘ بے ساختہ ہاتھ سینے پر جا پڑا تھا۔
’’احتشام بالکل ٹھیک ہے‘ تم وقت ضائع مت کرو فوراً برقع پہن کر باہر آجائو۔‘‘ حاکم دین یہ کہہ کر گھر کا تالا لینے بڑھے تو کبریٰ بیگم بھی جلدی سے برقع لینے کمرے میں لپکیں۔
ء…/…ء
’’کیا تمہیں اور پیار… نہیں یار تُو یقینا مذاق کررہا ہے۔‘‘ سمیر بے یقین لہجے میں اس کی بات کو جھٹلایا۔
’’کیوں مجھے کوئی اچھا نہیں لگ سکتا کیا؟‘‘ خاور بُرا مان کر بولا۔
’’اچھا لگنے اور محبت ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے۔‘‘ سمیر نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ابے یہ پیار ویار‘ محبت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا‘ سب فضول کی باتیں ہیں اور میرا تو تمہیں یہ مخلصانہ مشورہ ہے کہ ان بے وقوفیوں سے دور رہو۔‘‘ احتشام اپنے مخصوص بے پروا انداز میں بولا۔
’’یارو تم لوگ کچھ بھی کہو مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں اب۔‘‘ خاور اپنی آنکھیں موندھ کر مگن انداز میں بولا تو احتشام اور سمیر نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ یہ درست تھا کہ خاور نے آج سے پہلے پیار محبت کی باتیں کبھی نہیں کی تھیں وہ زندگی کو محض تفریح سمجھ کر گزارنے والا لا اُبالی لڑکا تھا۔ سمیر کو تو اب بھی یقین نہیں تھا کہ خاور کسی لڑکی کے لیے سنجیدہ ہوسکتا ہے‘ اس کی زندگی میں کافی ساری لڑکیاں آئیں اور گئیں مگر آج سے پہلے وہ کسی کے لیے اتنا سنجیدہ نظر نہیں آیا تھا جب کہ دوسری جانب حیات افتخار اسے سوئٹی سے منسوب کرنا چاہ رہے تھے۔
’’اوہ تو تمہارا سوئٹی کے متعلق کیا خیال ہے؟ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو کچھ ماہ پہلے تمہیں سوئٹی کا حسن بھی انتہائی منفرد اور پُرکشش لگتا تھا۔‘‘ سمیر نے آخری جملہ طنزیہ لہجے میں کہا تو خاور نے سمیر کو انتہائی ناگواری سے گھورا۔
’’یہ اس وقت سوئٹی کہاں سے آٹپکی اور آج کل تمہارے دماغ میں سوئٹی کیوں سما گئی ہے۔‘‘ خاور کی بات پر سمیر نے اس سے سیدھے طریقے سے بات کرنے کی ٹھان لی وہ گہرا سانس کھینچ کر بولا۔
’’خاور! انکل چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی سوئٹی سے ہوجائے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ خاور کرسی سے دو فٹ اچھلا تھا۔
’’ارے واہ زبردست‘ تُو تو قسمت کا دھنی ہے خاور! اتنے بڑے بزنس مین کی اکلوتی بیٹی تیری بیوی بننے والی ہے۔‘‘ احتشام سمیر کی بات سن کر رشک و حسرت کے ملے جلے جذبات میں گھر کر بولا۔
’’کیا بکواس ہے احتشام! میرا باپ بھی کوئی ٹٹ پونجیا نہیں‘ ملک کے معروف بزنس ٹائیکونز میں ان کا بھی شمار ہوتا ہے۔‘‘ خاور کافی رعونت سے بولا پھر سر جھٹک کر سمیر کی جانب متوجہ ہوا۔
’’یہ بکواس تم سے کس نے کی ہے؟‘‘
’’خود تمہارے باپ نے۔‘‘
’’اوہ… تو اس کا مطلب ہے کہ ڈیڈی اپنے بزنس کے مفاد کے لیے سوئٹی سے میری شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ سمیر کے ٹکے سے جواب پر خاور منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
’’میری تو یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ آخر سوئٹی میں ایسے کون سے کانٹے ہیں جو وہ تجھے اتنا چبھ رہی ہے۔‘‘ احتشام شانے اچکا کر بولا۔
’’سوئٹی واقعی اس پھول کے سامنے کانٹا ہی ہے بلکہ نہیں وہ تو ایسی بند کلی کی مانند ہے جو ابھی ابھی کھلی ہے جس پر سحر کی شبنم کی بوندیں بھی نہیں ٹپکی‘ جس پر بادِ صبا بھی بہت نزاکت اور خیال سے گزرتی ہے کہ کہیں وہ نازک کلی مرجھا نہ جائے۔‘‘ خاور چشم تصور میں اس پری پیکر چہرے کو دیکھتے ہوئے گم صم انداز میں بولا تو سمیر اور احتشام ایک دوسرے کو دیکھ کر بے ساختہ ہنسنے لگے۔
’’یہ اپنا خاور تو بالکل مرزا غالب کا پوتا لگ رہا ہے۔‘‘ سمیر اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا جب کہ خاور ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا‘ سمیر کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
’’میرا تو مشورہ یہ ہے کہ تم پریکٹیکل بن کر سوچو کہیں دل کے معاملے میں پڑ کر اپنا نقصان نہ کر بیٹھنا۔‘‘ احتشام خاور کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے بولا۔
’’میرے خیال میں اب ہمیں چلنا چاہیے۔‘‘ خاور احتشام کی بات کو بھرپور انداز میں نظر انداز کرکے بولا تھا۔
ء…/…ء
پارس حورین کے والد کے ساتھ ہسپتال پہنچی تھی اس وقت وہ اپنی سہیلی کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ حورین پارس کے ہمراہ ہسپتال کے کاریڈور کے ایک کونے میں دیوار سے ٹیک لگائے سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ ابا جو کچھ دیر پہلے ہی وہاں پہنچے تھے۔ وہ پارس کے والد کے ساتھ ڈاکٹر کے کمرے میں تھے پھر کچھ دیر بعد ڈاکٹرکے ہمراہ کچھ بات کرتے ہوئے آئی سی یو میں چلے گئے۔ حورین کپکپاتے لبوںسے بار بار اللہ کو پکار رہی تھی وہ اندر ہی اندر خدا کے آگے سجدہ ریز تھی کہ کسی طرح اس کی ماں کو زندگی مل جائے۔
’’پارس اماں ٹھیک تو ہوجائیں گی نا۔‘‘ تقریباً ہر دو منٹ بعد حورین انتہائی خوف زدہ ہوکر پارس کا ہاتھ تھام کر پوچھتی تو پارس اسے بے ساختہ گلے سے لگا کر کہتی۔
’’اللہ پاک سے دعا کرو کہ وہ ہماری خالہ کو بھلا چنگا کردے۔‘‘ پارس کا خود کا دل بھی ہولے ہولے کپکپا رہا تھا جیسے کوئی انہونی ہونے والی ہے اسی دم کبریٰ بیگم حاکم دین کے ہمراہ حواس باختہ سی آتی دکھائی دیں تو حورین تقریباً بھاگتے ہوئے ان کے وجود سے لپٹ کر رونے لگی‘ کبریٰ بیگم بے تحاشا گھبرا گئیں۔
’’کیا ہوا میری بچی! سب خیر تو ہے نا؟‘‘ کبریٰ بیگم روہانسی ہوکر بولیں۔
’’خالہ اماں… اماں بچ جائیں گی نا‘ وہ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گی نا؟‘‘ حورین ان کے شانے سے چہرہ اٹھا کر کسی سہمے ہوئے بچے کی طرح بولی تو کبریٰ بیگم نے بے ساختہ اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔
’’تُو کیوں اتنی ہلکان ہورہی ہے‘ میری بچی کچھ نہیں ہوگا میری صغریٰ کو ابھی سے کیسے چلی جائے گی وہ‘ ارے ابھی تو اسے تجھے دلہن بناکر رخصت کرنا ہے۔‘‘ یہ کہتے کہتے کبریٰ بیگم بھی خود پر ضبط نہیں کرسکیں۔
’’یہ وقت دعا مانگنے کا ہے‘ اللہ سے دعا کرنے کے بجائے تم دونوں رونا شروع ہوگئیں۔ بس اب دونوں خاموش ہوجائو اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہماری صغریٰ کو لمبی حیاتی عطا کردے۔‘‘ حاکم دین دونوں خالہ بھانجی کو روتا دیکھ کر اس کونے کی جانب آگئے جہاں پارس کھڑی تھی‘ کاریڈور میں لوگوں کا رش ہونے کی وجہ سے بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ حورین خالہ کے لیے کوئی کرسی وغیرہ دیکھ ہی رہی تھی کہ اسی دم ابا سفید لٹھے کی مانند چہرہ لیے آئی سی یو سے باہر نکلے اور جن نگاہوں سے حورین کی جانب دیکھا حورین ان کا مفہوم جان کر کاریڈور میں بیٹھتی چلی گئی یک دم اسے محسوس ہوا جیسے وہ برہنہ پائوں جلتی سلگتی ریت پر آکھڑی ہو۔
ء…/…ء
’’تمہاری پرابلم کیا ہے خاور! فون کرو تو تم اٹینڈ نہیں کرتے‘ گھر آئو تو تم گھر پر نہیں ملتے۔ تم مجھے اس طرح نظر انداز نہیں کرسکتے سمجھے‘ میں سوئٹی ہوں… سوئٹی ابراہیم سمجھے…‘‘ سوئٹی غصے میں آگ بگولہ ہوتی اس کے سر پر آن کھڑی ہوئی تھی۔ ڈیپ ریڈ کلر کے ٹاپ اور بلیک ٹرائوزر میں غصے سے نتھنے پھلاتی وہ بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔ خاور اسے کافی دنوں سے نظر انداز کررہا تھا مگر جب آج وہ سمیر کے ہمراہ کلب آیا تو سوئٹی نے اسے آلیا اور وہ کچھ پل کے لیے سٹپٹا سا گیا تھا جبکہ اس وقت سوئٹی ابراہیم کو ناراض کرنا اسے مہنگا پڑسکتا تھا۔
’’اوہ بے بی! میں بھلا تمہیں کیوں نظر انداز کروں گا دراصل وہ…‘‘
’’اسٹاپ اٹ خاور! تم سمجھتے کیا ہو خود کو‘ مجھ میں کسی چیزکی کمی ہے کیا جو تم مجھے نظر انداز کررہے ہو۔‘‘ سوئٹی انتہائی چڑ کر اس کی بات درمیان میں کاٹ کر اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر طنزیہ نگاہوں سے خاور کو دیکھتے ہوئے بولی۔
’’مائی ڈارلنگ! تم تو دنیا کی حسین ترین لڑکی ہو اور وہ کوئی بدذوق انسان ہوگا جو تمہیں نظر انداز کرے گا۔‘‘ خاور جلدی سے بولا تو سمیر خاور کو بھیگی بلی بنا دیکھ کر زیر لب مسکرا اٹھا پھر دونوں سے ایکسکیوز کرکے وہاں سے اٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد خاور بھی وہیں چلا آیا۔
’’کیا ہوا‘ کردیا مطمئن سوئٹی کو۔‘‘ سمیر خاور کو دیکھ کر گویا ہوا۔
’’ہاں یار بڑی مشکلوں سے اسے ٹھنڈا کیا ہے وہ تو پنجے جھاڑ کر میرے پیچھے پڑگئی تھی۔‘‘
’’تو تم اسے صاف صاف سب کچھ بتا دیتے نا موقع اچھا تھا‘ میرے خیال میں وہ تمہیں دو چار القابات سے نواز کر پیر پٹخ کر وہاں سے چلی جاتی اور تمہاری جان بھی چھوٹ جاتی۔‘‘ سمیر خاور کی بات سن کر صاف گوئی سے بولا تو خاور نے اسے ایسے دیکھا جیسے اس نے بہت انہونی بات کردی ہو۔
’’سمیر ہر بات صاف صاف کہنے کی نہیں ہوتی اور فی الحال میں سوئٹی کی ناراضی کو افورڈ نہیں کرسکتا ورنہ ڈیڈی مجھے کچا چبا جائیں گے۔‘‘ خاور جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر اس میں سے ایک سگریٹ نکالتے ہوئے بے پروائی سے بولا۔
’’مطلب…؟‘‘
’’مطلب یہ میری جان کہ ڈیڈی سوئٹی کے ابا کے ساتھ ایک بہت اہم پروجیکٹ فائنل کرنے والے ہیں لہٰذا فی الحال میں کوئی تماشہ نہیں کرسکتا۔‘‘ خاور کے جواب پر سمیر کچھ سوچ کر بولا۔
’’خاور تم اس لڑکی کی خاطر انکل کے سامنے کھڑے ہوجائو گے؟‘‘
’’کس لڑکی کی خاطر۔‘‘ خاور غائب دماغی سے بولا اس سے پہلے سمیر مزید کچھ بولتا خاور کا ایک دوست وہاں آدھمکا۔
ء…/…ء
صغریٰ بیگم کے سوئم کے بعد جب مہمانوں نے اپنے گھر کی راہ لی تو خالی وحشت زدہ گھر میں حورین کا دل بے تحاشا گھبرا اٹھا وہ اماں کے کمرے میں آکر ان کی خالی چارپائی دیکھ کر گھٹ گھٹ کر رونے لگی جب ہی کسی نے اس کے کندھے پر انتہائی شفقت سے ہاتھ رکھا حورین نے ڈبڈبائی آنکھوں سے مڑ کر دیکھا تو خالہ کو سامنے پاکر اس کا دل ایک بار پھر پارہ پارہ ہونے لگا۔
’’نہ آنسو بہا میری بچی ورنہ تیری ماں کو بہت دکھ پہنچے گا اس کی روح کو سکون نہیں آئے گا۔‘‘ کبریٰ بیگم حورین کو سینے سے لگا کر اس کے بالوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے بولیں۔
’’تو پھر میں کیا کروں خالہ مجھے صبر ہی نہیں آتا آخر انہیں میرا بھی تو سوچنا چاہیے تھا نا مجھے بھی تو ان کی ضرورت تھی‘ بھلا وہ مجھے ایسے اکیلا کیسے چھوڑ کر جاسکتی ہیں۔‘‘ حورین کی باتیں کبریٰ بیگم کو بھی رلانے پر مجبور کررہی تھیں مگر حورین کی خاطر انہیں برداشت سے کام لینا تھا۔
’’جھلی بھلا موت کے سامنے بھی کسی کی چلی ہے‘ بادشاہ ہو یا شہنشاہ موت سے آج تک کوئی نہیں بچ سکا اور نہ بچے گا اس کو تو ایک نہ ایک دن آنا ہی ہے اور جب آتی ہے تو پھر ایک لمحہ کی بھی مہلت نہیں دیتی۔ تیری ماں اپنے ربّ سے بس اتنی ہی سانسیں لکھوا کر آئی تھی۔‘‘
’’مجھے بہت یاد آتی ہے اماں کی‘ خالہ ایسا لگتا ہے کہ میں ان کے بغیر مرجائوں گی‘ زندہ نہیں رہ سکوں گی۔‘‘ خالہ کی باتیں سن کر حورین کو اماں اور شدت سے یاد آگئیں۔
’’کیا میں تیری ماں نہیں ہوں؟ میں ہوں نا تیری ماں‘ مت فکر کر کسی بھی بات کی اور اپنے اللہ سے صبر مانگ وہ یقینا تجھے صبر و ہمت عطا کرے گا۔‘‘ کبریٰ بیگم اس کا سر تھپتھپا کر بولیں کہ اسی دم احتشام اندر داخل ہوا حورین نے اسے دیکھ کر فوراً اپنے آنسو پلو سے پونچھے تھے۔
’’اماں ابا آپ کو باہر بلا رہے ہیں‘ آپ یہیں رکیں گی یا پھر ہمارے ساتھ گھر چلیں گی؟‘‘
’’نہیں بیٹا! میں تو حورین کے پاس ہی ٹھہروں گی۔‘‘ یہ کہہ کر اماں باہر چلی گئیں کمرے میں اب صرف حورین اور احتشام تھے۔ احتشام نے حورین پر نگاہ ڈالی جو اس وقت بہت غم زدہ اور شکستہ حال لگ رہی تھی۔
’’اپنے آپ کو سنبھالو حورین! اللہ کی یہی مرضی تھی خود کو اس طرح ہلکان کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور پھر خالو کا خیال بھی تمہیں ہی رکھنا ہے نا۔‘‘ احتشام نرمی سے گویا ہوا تو بے اختیار حورین نے ہاں میں سر ہلایا۔
’’اب بالکل بھی نہیں رونا سمجھی‘ بہادر بنو اپنے دل کو مضبوط کرو اور خالو کا خیال کرو۔ وہ تمہارے لیے بہت پریشان ہورہے ہیں۔‘‘ حورین جس کا دل اتنے سارے لوگوں کے دلاسے تسلیوں سے ایک پل کے لیے بھی ٹھہر نہیں رہا تھا‘ احتشام کے چند جملوں سے اس کے دل کو ایک قرار سا آگیا۔ آنکھوں میں آتے آنسوئوں کو اس نے جلدی سے اپنی ہتھیلیوں سے پونچھ لیا۔ احتشام کی توجہ اور تسلی بھرے لفظوں نے اس کے دل کے ساتھ ساتھ اس کی روح کو بھی بہت تقویت دی تھی۔
ء…/…ء
ناشتے کی میز پر حسب توقع حیات افتخار نے اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا جس کی توقع خاور پہلے ہی کررہا تھا۔
’’تمہیں شادی سے اعتراض ہے یا سوئٹی سے شادی کرنے سے انکار…؟‘‘ حیات افتخار خاورکو تادیبی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولے۔
’’دونوں سے ڈیڈ!‘‘ خاور بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے صاف گوئی سے بولا تو حیات افتخار کے چہرے پر ناگواری کی لہر آگئی۔
’’تم جانتے ہو خاور کے اس وقت میں ابراہیم کو ناراض نہیں کرسکتا اور سوئٹی کی ناراضی… مطلب ابراہیم کی ناراضی ہے۔‘‘
’’جانتا ہوں ڈیڈ! اسی لیے میں نے سوئٹی کو منا لیا ہے اور آج رات میں اس کے ساتھ ڈنر پر جارہا ہوں۔‘‘
’’سوئٹی کو ریجیکٹ کرنے کی وجہ کیا ہے؟‘‘ حیات افتخار کو خاور کی بات سن کر تھوڑا اطمینان ہوا‘ انہوں نے خاور کو بغور دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’ڈیڈ کوئی خاص وجہ نہیں ہے‘ وہ ڈیکوریٹڈ پھول ہے اور میں اسے اپنے بیڈ روم کے گلدان میں سجانے میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں۔‘‘ خاور جوس کا سپ لیتے ہوئے اپنے مخصوص بے پروا انداز میں کندھے اچکا کر بولا تو حیات افتخار اسے دیکھ کر کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ خاور ناشتے سے فارغ ہوکر کرسی سے اٹھنے لگا تو حیات افتخار گویا ہوئے۔
’’اپنے لیے پھول تلاش کرتے وقت یہ بات ضرور دھیان میں رکھنا کہ وہ پھول کنول کا نہ ہو کیوں کہ گندگی میں کھلا پھول بھی گندگی کا ہی حصہ ہوتا ہے جو بظاہر خوش نما ہوتا ہے مگر اندر سے ہوتا اسی خصلت کا ہے جیسے اس کی جڑیں ہوتی ہیں کیچڑ میں لتھڑی ہوئیں۔‘‘ حیات افتخار کے نخوت بھرے انداز نے اسے بہت کچھ سمجھایا تھا کچھ پل کے لیے اس نے سوچا پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔
ء…/…ء
حورین دن بھر خود کو مختلف کاموں میں الجھائے رکھتی مگر ایسا لگتا تھا کہ وقت جیسے سرکنا ہی بھول گیا ہو وگرنہ اماں کے ساتھ ان کے کاموں میں مصروف ہوکر وقت گزرنے کا گویا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ سارے گھر کے کام نمٹا کر پارس سے بھی بات چیت کرکے اب وہ تنہا خاموش صحن میں پڑے تخت پر اکیلی بیٹھی رہتی تھی۔
ابا شام ڈھلے ہی گھر میں داخل ہوتے تھے‘ حورین گھر کی تنہائی اور اماں سے محرومی کی وجہ سے بہت قنوطی اور پژمردہ سی ہوگئی تھی‘ اپنے گھر واپسی پر کبریٰ بیگم نے اس سے بارہا کہا کہ وہ اس کے ساتھ چلے‘ کچھ دن رہ کر پھر آجائے مگر وہ ابا کی تنہائی کے خیال سے نہیں گئی اور دوسرا اس کے دل میں یہ خیال بھی تھا کہ شاید خالہ کے گھر پر ٹھہرنا ابا کو اچھا نہ لگے۔ وہ لامتناہی و منتشر سوچوں میںگھری ہوئی تھی کہ معاً ٹیلی فون کی گھنٹی نے اسے اپنے دھیان سے چونکایا حورین نے انتہائی بے زاری سے فون کی جانب دیکھا پھر خیال آیا کہ کہیں ابا کا فون نہ ہو یہ سوچتے ہی وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور فون اٹھا کر ’’ہیلو‘‘ کہا مگر دوسری جانب بالکل سناٹا تھا اس نے دو تین بار ہیلو کہا مگر ہنوز خاموشی تھی۔
حورین آج پھر یہی سمجھی کہ شاید لائن میں فالٹ کی وجہ سے دوسرے کی آواز نہیں آرہی اس نے فون کریڈل پر رکھا مگر پھر دومنٹ بعد ہی گھنٹی دوبارہ بجی جب پانچویں بار بھی یہی ہوا تو حورین اچھی خاصی جھنجھلا گئی۔
’’اُف کیا مصیبت ہے‘ آپ کی آواز مجھے نہیں آرہی ہے۔‘‘ وہ اونچی آواز میں بولی۔
’’مگر مجھے آپ کی دلکش آواز بالکل صاف آرہی ہے۔‘‘ اچانک ہی ایک مردانہ گمبھیر آواز مائوتھ پیس سے ابھری تو حورین کو ایک حیرت کا جھٹکا لگا وہ تو سمجھ رہی تھی کہ شاید لائن میں گڑبڑ ہونے کی وجہ سے مقابل کی آواز اس تک نہیں پہنچ رہی مگر وہ تو خود جان بوجھ کر خاموشی سے اس کی ’’ہیلو ہیلو‘‘ سن رہا تھا۔ یہ خیال ذہن میں در آتے ہی حورین کے وجود میں ناگواری کی لہر اٹھی۔
’’جب آپ کو میری آواز آرہی تھی تو بولنے کی زحمت کیوں نہیں کررہے تھے۔‘‘ حورین بُری طرح چڑ کر بولی۔
’’اس لیے کہ میں آپ کی خوب صورت آواز کو اپنے دل اپنی روح میں جذب کررہا تھا۔‘‘ انتہائی رومانوی انداز میں بولے جانے والا جملہ حورین کو سٹپٹانے پر مجبور کرگیا۔ بے ساختہ اس کے دل کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہوا مگر دوسرے ہی لمحے اس نے اپنے آپ کو تیزی سے سنبھالا تھا۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے مسٹر! آپ کو بات کس سے کرنی ہے؟‘‘ حورین ڈپٹتے ہوئے گویا ہوئی تھی۔
’’آپ سے… آپ سے اپنی ساری زندگی آپ سے… میں صرف آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں‘ آپ کو سننا چاہتا ہوں آپ کو…‘‘ انتہائی والہانہ انداز میں لہک کر بولتا یہ شخص حورین کو خوف زدہ ہوکر کپکپانے مجبور کرگیا اس نے جلدی سے ریسیور کریڈل پر رکھ دیا اس پل اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر ہی نکل آئے گا جبکہ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں ہولے ہولے کپکپا رہی تھیں۔ آج سے پہلے کبھی کسی نے اس سے اس لہجے‘ اس انداز میں بات نہیں کی تھی وہ خود کو ابھی سنبھال بھی نہیں پائی تھی کہ اچانک دوبارہ فون کی گھنٹی بجی‘ حورین اپنی جگہ سے دو فٹ اچھل پڑی اس نے انتہائی سہمی ہوئی نگاہوں سے فون کی جانب دیکھا جیسے وہ فون نہیں کوئی سانپ یا بچھو ہو۔ بیل تواتر سے بج رہی تھی اور حورین یک ٹک فون کو دیکھے جارہی تھی اسے ایسے لگا رہا تھا جیسے اس کی تمام حسیات منجمد ہوگئی ہوں‘ کچھ دیر بعد فون بند ہوگیا تو حورین ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور تھکے تھکے قدموں سے چلتی تخت پر آکر ڈھے سی گئی۔
’’یااللہ یہ شخص کون تھا اور مجھ سے اس طرح کی باتیں کیوں کررہا تھا۔‘‘ حورین خود سے سوال کرتے ہوئے بولی تھی پھر ابا جی کے گھر آنے کے بعد وہ ان کے کاموں میں مصروف ہوگئی مگر ذہن بار بار اس شخص کی جانب اٹکتا رہا۔
ء…/…ء
حاکم دین کرسی پر بیٹھے کسی گہری سوچ میں متغرق تھے چہرے پر گہری سنجیدگی لیے وہ کبریٰ بیگم کو اچھے خاصے پریشان دکھائی دیئے وہ خود بھی اندر سے بے حد متفکر اور گھبرائی ہوئی تھیں اس مسئلے کا حل انہیں کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آج پہلی بار انہیں بھی اپنی اکلوتی اولاد احتشام پر بے پناہ غصہ آرہا تھا جو باپ کو اس عمر میں ستانے جلانے کا باعث بن رہا تھا‘ بجائے ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کے انہیں چین و سکون سے چند سانسیں بھی نہیں لینے دے دیا تھا۔ نجانے ان کی تربیت و پرورش میں کہاں کوئی کمی رہ گئی تھی جو احتشام اپنے والدین کا انتہائی نافرمان خود غرض اور مادیت پسند بیٹا ثابت ہورہا تھا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ سوچوں کے اس ساغر میں گم تھے جب ہی حاکم دین ایک گہری سانس بھر کر پریشانی بھرے لہجے میں گویا ہوئے تھے۔
’’میری تو سمجھ میں نہیں آرہا نیک بخت کہ میں بھائی ہاشم کو کیا جواب دوں‘ وہ چاہتے ہیں کہ حورین جلد سے جلد اپنے گھر کی ہوجائے‘ انہیں حورین کی بے حد فکر ہے جو کہ درست بھی ہے بھلا بن ماں کی بچی جو کہ کسی کی منگ بھی ہے وہ کیوں گھر پر بیٹھی رہے۔‘‘
’’میں ایک بار پھر احتشام سے بات کرتی ہوں اور اس دفعہ اسے ہماری بات ماننی ہی ہوگی یہ کوئی بات ہوئی بھلا منگنی تو راضی خوشی اس نے حورین سے کرلی اور اب شادی کرنے سے کترا رہا ہے۔‘‘ کبریٰ بیگم کو بھی اشتعال آگیا‘ وہ غصیلے لہجے میں بولیں تو حاکم دین نے کبریٰ بیگم کو دیکھا۔
’’تم یہ بات سمجھنا کیوں نہیں چاہتیں کہ احتشام کو اگر ہم اس شادی کے لیے راضی بھی کرلیتے ہیں تو وہ اڑیل اس زبردستی شادی کا بدلہ اس بے چاری حورین سے لے گا۔ میں باپ ہوں اس ناہنجار کا جانتا ہوں اس کا مزاج وہ حورین کو کبھی خوش نہیں رکھے گا۔‘‘
’’تو پھر ہم کیا کریں حورین مجھے اپنی اولاد کی طرح عزیز ہے۔ مجھے اس کی بے حد فکر ہے‘ چار سال سے وہ احتشام کے نام پر بیٹھی ہے یقینا اس نے اپنی آنکھوں میں اس کے خواب سجا لیے ہوں گے اس کے ساتھ دلی وابستگی ہوگئی ہوگی کتنا دکھ ہوگا میری بچی کو اور…‘‘ وہ کچھ پل کے لیے رکی پھر بے اختیار روتے ہوئے بولیں۔
’’میری صغریٰ کی روح کو کتنی تکلیف واذیت ہوگی اس احتشام نے تو مجھے شرمندہ کردیا اپنی بہن اور بھانجی کے سامنے۔‘‘ صغریٰ بیگم کے سوئم کے فوراً ہی حورین کے والد نے حاکم دین سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی امانت جلد ہی اپنے گھر لے جائیں وہ حورین کے فرض سے جلد سے جلد سبکدوش ہونا چاہتے تھے اپنی شریک حیات کے انتقال کے بعد انہیں اپنی زندگی پر سے بھروسہ اٹھ گیا تھا‘ وہ چاہتے تھے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہی حورین اپنے گھر بار کی ہوجائے اور ویسے بھی منگنی کو بھی کافی عرصہ ہوچلا تھا البتہ احتشام ابھی تک بے روزگار تھا مگر انہیں لگتا تھا کہ شادی کے بعد جب اس پر ذمہ داری پڑے گی تو وہ خودبخود ہی اپنے باپ کی کریانہ کی دکان کو سنبھال لے گا۔
حاکم دین ان کا تقاضا سن کر اندر ہی اندر پریشان ہوگئے تھے کیونکہ احتشام فی الحال شادی سے صاف انکاری تھا وہ اونچی اڑان اُڑنے کا متمنی تھا۔ حورین کے والد کے اصرار پر دونوں میاں بیوی نے گزشتہ رات موقع دیکھ کر احتشام سے بات کی تو اس نے پہلے کی طرح ٹکا سا جواب دے دیا تھا۔
’’آپ دونوں کیوں میرے پیچھے پڑگئے ہیں‘ میں اس دو کمرے کے چھوٹے سے گھر میں ساری زندگی دو چار روپے کی بچت کی فکر میں ہلکان ہوکر بڈھا نہیں ہونا چاہتا یا پھر آپ کی کیبن نما دکان کو سنبھال کر دکان دار کہلوانا نہیں چاہتا۔ مجھے ملک سے باہر جانا ہے ڈھیر سارے روپے چاہیے‘ مجھے ایک اچھی زندگی چاہیے۔‘‘ احتشام شادی کے تذکرے پر انتہائی چڑتے ہوئے بے زار کن لہجے میں بولا۔
’’ہاں ولایت میں تو تیرے تایا ماما بیٹھے ہیں نا جو تجھے وہاں بلانے کے لیے بے تاب و بے قرار ہیں۔‘‘ ابا انتہائی ناگواری سے طنزاً گویا ہوئے۔
’’احتشام تُو کیوں ہمیں رسوا کروانے پر تلا ہے‘ جب حورین سے تُو نے منگنی کی ہے تو شادی بھی تجھے ہی کرنی ہوگی۔‘‘
’’میں کرلوں گا حورین سے شادی مگر ابھی نہیں‘ ابھی مجھے کسی سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ احتشام اماںکی بات پر قطعیت بھرے انداز میں بولا۔
’’تو تیرے بڑے آدمی بننے کے انتظار میں ہم اس حورین کو بوڑھا کردیں۔‘‘ حاکم دین مشتعل ہوکر گویا ہوئے۔
’’تو پھر کسی اور سے شادی کردیں اس کی مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔‘‘ انتہائی بدتمیزی سے کہہ کر احتشام کمرے سے باہر چلا گیا جبکہ دونوں میاں بیوی محض بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’میں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے نیک بخت میں بھائی ہاشم کو انکار کردوں گا اور پوری سچائی بتادوں گا۔‘‘ کافی سوچ بچار کے بعد حاکم دین نے سر اٹھا کر اپنی رفیق زندگی کو دیکھ کر انتہائی سنجیدگی اور ٹھوس انداز میں کہا تو کبریٰ بیگم کا دل سوکھے پتے کی مانند لرز اٹھا۔ درحقیقت یہ بہت کٹھن اور تکلیف دہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑا فیصلہ تھا انہوں نے ہمیشہ حورین کو اپنے احتشام کی دلہن کے روپ میں دیکھا تھا۔ وہ اس سے بھی بخوبی واقف تھیں کہ حساس دل اور کومل جذبات رکھنے والی حورین ان کے سنگ دل اور خود پسند بیٹے کی ایک نگاہ التفات کی متمنی رہتی ہے۔ حورین کے دل کے ٹوٹنے کا احساس ان کی آنکھوں میں ساون لے آیا وہ باقاعدہ سسکیاں لے کر رونے لگیں تو حاکم دین بے چین سے ہوگئے۔
’’احتشام کی ماں اپنے دل کو مضبوط کرلو‘ بار بار کے رونے سے ایک بار کا رونا بہتر ہے۔ یہ فیصلہ مجھے بھی دکھ دے رہا ہے مگر وقت بہت بڑا مرہم ہے‘ ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔ تم دل چھوٹا نہ کرو۔‘‘ حاکم دین تسلی آمیز لہجے میں بولے تو کبریٰ بیگم بمشکل اپنے آنسوئوں پر قابو پاکر گلو گیر لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’مجھے تو اس بچی کا دکھ رُلارہا ہے جو چار سال میرے بیٹے کے نام پر بیٹھی اس کا انتظار کرتی رہی۔‘‘
’’بس یوں سمجھ لو نیک بخت کہ ہمارا بیٹا حورین جیسے ہیرے کے قابل ہی نہیں تھا۔ ان شاء اللہ حورین کو احتشام سے زیادہ اچھا جیون ساتھی ملے گا۔‘‘ حاکم دین کی بات پر کبریٰ بیگم بے ساختہ حورین کے لیے اپنے ربّ سے دعاگو ہوگئیں۔
ء…/…ء
’’او یارا! بہت بہت مبارک ہو تجھے‘ آخر تیرے بھی سہرے کے پھول کھل ہی گئے۔ تُو بھی شہیدوں کی لسٹ میں شامل ہونے جارہا ہے اب تو تُو ہمیں ٹائم بھی نہیں دے گا نا۔‘‘ خاور سمیر کو مبارک باد دیتے ہوئے آخر میں شکوہ کرتے لہجے میں بولا تھا۔ سمیر کے والدین نے اس کی بات خاندان کی ہی لڑکی سے طے کردی تھی جب یہ خبر اس نے دونوں دوستوں کو سنائی تو دونوں نے ہی خوشی کا اظہار کیا تھا۔
’’نہیں بھئی ایسی کوئی بات نہیں ہے ہاں البتہ ذمہ داریاں کچھ زیادہ بڑھ جائیں گی کیونکہ سنگل لائف اور میرڈ لائف میں کافی فرق ہوجاتا ہے۔‘‘ سمیر مسکراتے ہوئے کندھے اچکا کر بولا تو خاور نے جلدی سے کہا۔
’’دیکھا دیکھا احتشام یہ ابھی سے ایسی باتیں کرنے لگا ہے۔‘‘
’’خاور بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے تُو تو ابھی سے اپنی لائن کلیئر کررہا ہے‘ یہ صحیح بات نہیں ہے میرے دوست۔‘‘
’’اچھا اب تم دونوں ہی شروع ہوگئے۔‘‘ احتشام کی بات پر سمیر نے ہنستے ہوئے کہا پھر معاً ذہن میں کوئی خیال آیا تو احتشام سے استفسار کر بیٹھا۔
’’احتشام تمہارے کیا ارادے ہیں چار سال ہوگئے ہیں‘ تمہاری منگنی کو اور اب تو حورین بھابی کی امی بھی اس دنیا میں نہیں رہیں یقینا ان کے والد کو بھابی کی فکر ہوگی‘ تم کب کررہے ہو شادی؟‘‘ سمیر کی بات پر احتشام نے جزبز ہوکر پہلو بدلا تھا۔ شادی کا موضوع اب اسے اچھا خاصا چڑانے لگا تھا اس وقت وہ سمیر کے گھر کی ٹیرس پر براجمان تھے۔ شام کا نارنجی ٹھنڈا ماحول اور ٹیرس سے دکھائی دیتا ڈوبتا سورج اس پل بہت بھلا لگ رہا تھا۔
’’میرا فی الحال شادی کا موڈ نہیں۔‘‘ احتشام اپنے دونوں ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر انہیں اپنے سر کی پشت پر رکھتے ہوئے کرسی پر ریلیکس انداز میں بیٹھے ہوئے بے پروائی سے بولا تو سمیر نے اسے انتہائی متعجب ہوکر دیکھا۔
’’کیا مطلب موڈ نہیں ہے جب تم نے منگنی کی ہے تو شادی بھی کرنی پڑے گی نا۔‘‘
’’یہ کون سی کتاب میں لکھا ہے کہ منگنی جس سے کرو تو شادی بھی اسی سے کرو۔‘‘ سمیر کی حیرت بھری آواز پر احتشام نے اسے ترچھی نگاہوں سے دیکھ کر کہا تو خاور کو بے ساختہ ہنسی آگئی۔
’’تُو تو واقعی عجیب وغریب انسان ہے‘ تیرا کچھ نہیں پتا کب کہاں کیا کر جائے۔‘‘
’’احتشام زندگی کو سنجیدگی سے لینا سیکھو تم اب بچے نہیں ہو آخر کب تک اپنی ذمہ داریوں سے یوں بھاگتے رہو گے۔‘‘ سمیر نے ہمیشہ کی طرح ناصحانہ انداز میں اسے سمجھایا۔
’’یار میں اس وقت کچھ نہیں کررہا مگر بہت سارے پیسے کمانا چاہتا ہوں‘ ایک اچھی اور پُرآسائش زندگی گزارنا میرا بھی حق ہے اس ڈربے نما گھر میں ساری زندگی سسک سسک کر نہیں گزارنی مجھے۔ زندگی انسان کو صرف ایک بار ملتی ہے میں اپنی زندگی کو بدلنا چاہتا ہوں‘ اسے سنوارنا چاہتا ہوں تو ایسا کیا غلط کررہا ہوں۔‘‘ احتشام کا لہجہ آخر میں کافی تندو ترش ہوگیا۔ خاور اور سمیر نے اسے خاموش نگاہوں سے دیکھا وہ دونوں بخوبی جانتے تھے کہ احتشام جو ہے جیسا ہے پر قناعت اور صبر وشکر کرنے والا انسان نہیں ہے اس کے خوابوں کی پرواز بہت اونچی ہے مگر اس کے پاس اڑنے کے لیے پر نہیں ہیں۔
’’سمیر! احتشام اتنا غلط بھی نہیں کہہ رہا یہ کرتا کیا ہے ابھی‘ اس کا باپ اسے ذلیل وخوار کرکے چند روپے پاکٹ منی کے نام پر دیتا ہے خود کے اپنے اخراجات پورے نہیں ہوتے تو کل کو یہ اپنی بیوی بچوں کو کہاں سے کھلائے گا۔‘‘ خاور کچھ سوچ کر احتشام کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔
’’میں مانتا ہوں کہ تمہاری خواہشات ناجائز یا غلط نہیں ہیں ایک اچھی زندگی گزارنے کا خواب ہر شخص کا حق ہے مگر اس کے لیے تمہیں محنت بھی کرنی چاہیے‘ ہمارے اداروں و خیالات میں عزم و استقلال اور مثبت پہلو ہونے چاہیے۔ تم مجھے یہ بتائو احتشام! جب بچپن سے ہی تم ایک بڑا آدمی بننے کے خواب دیکھتے تھے تو پھر تم نے اپنی ایجوکیشن پر توجہ کیوں نہیں دی‘ اعلیٰ تعلیمی ڈگری اپنے مقاصد کی کامیابی کی پہلی منزل ہوتی ہے حالانکہ تمہارے والدین نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر تمہیں اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھایا۔‘‘ سمیر نے احتشام کو آئینہ دکھایا تو وہ پہلو بدلنے لگا پھر سمیر خاور سے گویا ہوا۔
’’اور خاور رہی تمہاری بات کہ یہ کچھ کر نہیں رہا‘ اپنی فیملی کو کیا کھلائے گا تو اس کے ذمہ دار بھی یہ موصوف خود ہیں۔‘‘
’’چھوڑ نا یار! احتشام کی شادی کو لے کر تو کیوں اتنا ٹچی ہورہا ہے۔‘‘ خاور اکتاہٹ بھرے انداز میں بولا۔
’’نہیں خاور! احتشام ہمارا دوست ہے اور صحیح اور غلط بتانا ہمارا فرض ہے۔‘‘ سمیر کی بات پر احتشام کے چہرے پر بے زاری صاف دکھائی دینے لگی تھی مگر سمیر اسے نظر انداز کرگیا۔
’’میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ اس وقت جو نوکری مل رہی ہے وہ ہی کرلو‘ آگے اللہ مالک ہے وہ تمہاری مدد ضرور کرے گا خود میں نے تمہیں کتنی جابز کی آفر کیں مگر تم…‘‘
’’مجھے نہیں کرنی یہ ڈیڑھ دو ہزار کی نوکریاں‘ میں لعنت بھیجتا ہوں ان پر۔‘‘ احتشام زہر خند لہجے میں بولا پھر خاور کی جانب متوجہ ہوکر گویا ہوا۔
’’خاور یار تم نے مجھے بتایا تھا نا کہ تمہارا کزن لڑکوں کو باہر بھجواتا ہے‘ یار میں نے پہلے بھی تم سے کتنی دفعہ کہا کہ مجھے کسی طرح ملک سے باہر بھجوادو۔‘‘
’’تم کیا سمجھتے ہو کہ بیرون ملک پیسہ سڑکوں پر پڑا ہوتا ہے یا درختوں پر لگا ہوتا ہے۔‘‘ احتشام کو سمیر نے ایک بار پھر آڑے ہاتھوں لیا۔ دنیا میں صرف سمیر ہی ایسا آدمی تھا جو احتشام کی کلاس لے سکتا تھا وگرنہ احتشام کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا‘ یہاں تک کہ اپنے باپ کی بھی نہیں سنتا تھا۔
’’مجھے اگر یونہی کھری کھری سنانی ہے تو میں جارہا ہوں۔‘‘ احتشام کرسی سے اٹھ کر ناراضگی والے انداز میں بولتا جانے کو پلٹا تو سمیر انتہائی سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’حورین بھابی جیسی لڑکی تمہیں اس دنیا میں تو کیا کسی دوسرے جہان میں بھی نہیں ملے گی۔‘‘ احتشام عقب سے آتی سمیر کی آواز کو ان سنی کرکے وہاں سے چلا گیا۔
ء…/…ء
شام کے دھندلکے گہرے ہوکر رات کی تاریکی میں بدل رہے تھے‘ آج ابا سہہ پہر کو ہی گھر آگئے تھے اور شام کی چائے کے دوران انہوں نے جب سے حورین کو یہ بتایا تھا کہ انہوں نے اس کی خالہ خالو سے شادی کا تقاضا کیا تھا اور وہاں بالکل خاموشی ہے تو وہ پریشان ہوگئی تھی۔
’’حورین بیٹا! میں یہ چاہتا ہوں کہ سادگی سے سہی میں تمہیں اس گھر سے رخصت کردوں جب تمہاری ماں زندہ تھی تو مجھے اتنی فکر نہیں تھی مگر اب تو راتوں کو بھی یہ خیال مجھے نیند سے جگا دیتا ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تمہارا کیا ہوگا‘ میں صغریٰ کے جانے کے بعد تمہارے لیے بہت خوف زدہ رہنے لگا ہوں۔‘‘
’’اللہ نہ کرے ابا جو آپ کو کچھ ہو‘ آپ ایسی باتیں مت سوچا کریں پلیز۔‘‘ حورین ابا کے دل کی کیفیت جان کر پریشان گئی۔
’’ہوں‘ بیٹا سوچ پر بھی کسی کا اختیار چلتا ہے میں اب تمہارے فرض سے جلد سے جلد سبکدوش ہونا چاہتا ہوں مگر بھائی حاکم دین اور تمہاری خالہ نے ابھی تک کوئی بات کیوں نہیں کی۔‘‘ ابا جی متفکرانہ انداز میں دھیرے سے بولے تو حورین نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔ اپنی شادی کے موضوع پر بھلا اپنے باپ سے وہ کیسے بات کرسکتی تھی‘ سو چپ چاپ سر جھکائے بیٹھی رہی مگر اس کا خود کا دل ہزاروں خدشات میں گھر گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک اس کا ذہن اسی سوال کی تکرار میں مصروف تھا کہ خالو خالہ نے اتنی لمبی چپ کیوں ساد ھ رکھی ہے۔
عشاء کی نماز کے بعد کھانے سے فارغ ہوکر جب ابا آرام کے لیے لیٹے تو وہ انہیں بتاکر تھوڑی دیر کے لیے پارس کے گھر چلی آئی۔
’’تم خوامخواہ پریشان ہورہی ہو حورین! ہوسکتا ہے وہ لوگ تمہاری اماں کی وجہ سے چپ ہوں اور اب بات کریں۔‘‘ پارس بھی حورین کی بات سن کر اندر ہی اندر متفکر سی ہوگئی تھی مگر اس نے حورین کو ریلیکس کرنے کی غرض سے اسے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔
’’ہوں‘ بہت شوق ہورہا ہے احتشام بھائی کی دلہن بننے کا ‘ اتنی بے قراری ہے پیا دیس سدھارنے کی۔‘‘
’’بکو مت مم… میرا یہ مطلب نہیں تھا۔‘‘ حورین بے ساختہ شرما گئی‘ جھینپ کر اس نے پارس کو جھاڑا جبکہ اس پل حیا کے خوب صورت رنگ حورین کے چہرے پر بکھر کر اسے انتہائی حسن بنا گئے تھے۔ پارس نے انتہائی محبت سے اسے دیکھا اور بے اختیار دل ہی دل میں اپنی اس پیاری سی سہیلی کی خوشیوں کے دائمی ہونے کی دعا کر ڈالی۔
ء…/…ء
خاور آج کل بہت خوش نظر آرہا تھا‘ سمیر یہ بات کئی دن سے نوٹ کررہا تھا اپنی پرانی سرگرمیاں اس نے موقوف کردی تھیں آج کل کوئی لڑکی بھی اس کے رابطے میں نہیں تھی۔ فون پر لمبی لمبی باتیں کرنا‘ لانگ ڈرائیو پر جانا‘ لڑکیوں کو شاپنگ وغیرہ کرانا سب بند تھا۔ سوئٹی نے بھی اس کی جان بخشی ہوئی تھی کیونکہ وہ اپنے کزنز کے ساتھ ورلڈ ٹور پر گئی ہوئی تھی۔ خاور کے وسیع وعریض لان میں بیڈ منٹن کھیلتے ہوئے سمیر بالآخر اس خوشی کی وجہ پوچھ ہی بیٹھا تھا۔
’’ارے میرے یار میں تو ہر وقت خوش و خرم رہنے والا بندہ ہوں‘ تم نے کب مجھے روتے بسورتے دیکھ لیا۔‘‘
’’میرے دوست جیسے آج کل تم مجھے دکھائی دے رہے ہو اس سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ تمہیں ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہے۔‘‘
’’ہوں… اس دولت کے آگے تو شاید ہفت اقلیم کی دولت بھی پھیکی اور ماند پڑجائے۔‘‘ سمیر کی بات پر خاور نے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا تو سمیر اپنی جانب آتی شٹل کو ہٹ کرنے کے بجائے اسے نظر انداز کرکے خاور کی جانب چلا آیا اور اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا۔
’’تو گویا وہ دولت تمہارے ہاتھ لگ گئی ہے تب ہی تمہاری خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی۔‘‘ خاور اس کی بات سن کر بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
’’ملی تو نہیں بس ملنے والی ہے صرف چند قدم اور کچھ ساعتیں اور۔‘‘ سمیر بھی مسکرادیا۔
’’ہمیں کب ملوا رہے ہو اپنی قیمتی دولت سے جس کے آگے ہر دولت بے کار ہے۔‘‘
’’بس کچھ دن اورصبر کرلو‘ میرے جگر! میں جلد ہی تمہیں ملوائوں گا‘ اسے دیکھ کر یقینا تمہاری آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی۔‘‘ خاور لہک کر بولا تو سمیر اسے دیکھ کر ہنس دیا۔
ء…/…ء
سمیر کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی اس کے باپ کا شمار ملک کے معروف و مشہور اور کامیاب بزنس مین میں ہوتا تھا۔ ساحرہ اس کی والدہ کی چچا زاد بھائی اور منسٹر کی بیٹی تھی۔ خوب صورت نین نقوش سحر انگیز جسامت کی مالک اور کافی مغرور بھی تھی جبکہ سمیر کروڑ پتی باپ کا بیٹا ہونے کے باوجود انتہائی سادہ طبیعت آدمی تھا۔ وہ لوگوں کو دولت اور اسٹیٹس کے ترازو میں نہیں تولتا تھا۔
کبریٰ بیگم احتشام کے دونوں دوستوں سے واقف تھیں‘ دونوں اکثر ہی ان سے ملنے احتشام کے ہمراہ گھر آتے تھے اور ان کے ہاتھوں کا پکا کھانا بہت شوق سے کھاتے تھے‘ بہت سوچ بچار کے بعد انہوں نے اس گمبھیر مسئلے پر سمیر سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج انہوں نے اسے احتشام کی غیر موجودگی میں گھر بلا لیا تھا‘ کبریٰ بیگم کی پریشانی سن کر وہ بھی اچھا خاصا متفکر ہوگیا تھا۔ دونوں لائونج میں سر جھکائے اپنی اپنی سوچوں میں مستغرق تھے۔
’’میرے خیال میں آنٹی انکل بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ ہمیں حورین بھابی کو زبردستی احتشام سے نتھی نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حورین بھابی کے ساتھ زیادتی ہوگی۔‘‘ کافی دیر بعد سمیر سنجیدگی سے بولا تو کبریٰ بیگم ایک گہری آہ بھر کر رہ گئیں۔
’’بیٹا یہ بات تو میں بھی مانتی ہوں میں اپنی پھولوں جیسی نازک بچی کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہونے دینا چاہتی مگر حالات ہی کچھ ایسے ہوگئے ہیں کہ…‘‘ بولتے بولتے وہ قصداً اپنا جملہ ادھورا چھوڑ گئیں۔
’’میں سمجھ سکتا ہوں آپ کے دل کی کیفیت مگر آپ احتشام کی خصلت سے بھی واقف ہیں اگر آپ اس کے ساتھ زور زبردستی کریں گی تو وہ سارا غصہ ساری فرسٹریشن ان پر نکالے گا۔‘‘
’’یااللہ میری اولاد ہی میرے لیے آزمائش بنتی جارہی ہے کس دوراہے پر کھڑا کردیا ہے تُو نے مجھے احتشام… میں اپنی چھوٹی بہن کو روزِ محشر کیا منہ دکھائوں گی۔‘‘ بولتے بولتے اچانک وہ رونے لگیں تو سمیر نے انہیں بے بسی سے دیکھا۔ سچوئشن واقعی بہت نازک تھی حورین کی خاندان بھر میں جگ ہنسائی ہوگی اور دوسری جانب اس کے ابا کو بھی گہرا صدمہ پہنچے گا جبکہ خود حورین کے دل کا نازک و حساس آئینہ کرچی کرچی ہوکر بکھر جائے گا۔
’’احتشام بہت ضدی ہے وہ اپنی مرضی سے حورین سے شادی کرے تو ٹھیک مگر دنیا کی کوئی طاقت اسے مجبور نہیں کرسکتی۔ اب پلیز آنٹی آپ اپنے آنسو پونچھ لیں اور حورین بھابی کے والد کو جواب دے دیں۔‘‘ سمیر کے جملوں پر کبریٰ بیگم نے سر اٹھا کر اسے بڑی یاسیت سے دیکھا۔
’’تم ایک دفعہ احتشام سے بات نہیں کرسکتے اسے راضی نہیں کرسکتے۔ آخر کیا کمی ہے اس بچی میں شہزادیوں جیسا حسن ہے‘ اس کا عادات واطوار لاجواب شعور و سلیقہ بے مثال۔‘‘
’’بات حورین بھابی کے اندر کمی کی نہیں ہے‘ کمی تو احتشام میں ہے بلکہ وہ تو خامیوں وکمیوں کا مرقع ہے۔‘‘ سمیر کا لہجہ آخر میں غصیلا سا ہوگیا۔
’’وہ واقعی حورین بھابی جیسی لڑکی کے لائق نہیں۔‘‘ وہ خود سے بولا۔ پھر کبریٰ بیگم کے اصرار پر احتشام سے ایک بار پھر بات کرنے کا وعدہ کرکے انہیں تسلیاں دے کر وہاں سے اٹھ آیا۔
ء…/…ء
’’آپ کو پہلی بار دیکھا تب ہی میں اپنا دل ہار بیٹھا تھا۔ میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا‘ پلیز مجھ سے دوستی کرلیجیے حورین! آئی لو یو…!‘‘ حورین کرنٹ کھا کر بستر سے اٹھی تھی اس نے بے اختیار اپنے آس پاس گھبرا کر دیکھا جیسے کہنے والا یہیں کہیں موجود ہو۔ آواز کی بازگشت ابھی تک اس کی سماعتوں کا تعاقب کررہی تھی۔
’’پلیز میری محبت قبول کرلیں۔‘‘ انتہائی دلکش وگمبھیر منت آمیز آواز ایک بار پھر اس کے کانوں میں گونجی۔ حورین گھبرا کر بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی اس پل اس کا سانس انتہائی بے ترتیب سا ہورہا تھا۔ کچھ دن سے وہ گمنام فون کالز مسلسل آرہی تھیں‘ نجانے کون حورین کو دن و رات مسلسل فون کرکے پریشان کررہا تھا۔ تقریباً رات آٹھ بجے مستقل بجتے فون سے زچ ہوکر اس نے فون اٹھایا تو وہ اجنبی اچانک بولا تھا۔
’’حورین آئی لو یو…‘‘ یہ جملہ سن کر اس کا دل انتہائی شدت سے کپکپا اٹھا تھا۔ فون کرنے والے نے اپنا نام وغیرہ کچھ بھی اسے نہیں بتایا تھا اور نہ ہی حورین نے جاننے کی کوشش کی تھی وہ اس کو ڈانٹ کر فون رکھ دیتی تھی مگر روز بہ روز فون کرنے والے کی ہمت بڑھتی جارہی تھی وہ اس کی ڈانٹ پھٹکار کو خاطر میں نہیں لاتا تھا حورین رات کو سونے بستر پر لیٹی تو اسی فون والے کی باتیں اسے پریشان کرنے لگیں۔ پارس بھی ان دنوں یہاں نہیں تھی وہ اپنے تایا کے بیٹے کی شادی میں نواب شاہ گئی ہوئی تھی۔
اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنی پریشانی کا ذکر وہ کس سے کرے‘ احتشام نے اس سے کبھی دوستانہ رویہ رکھا ہی نہیں تھا کہ وہ اسے کچھ بتانے کا سوچتی‘ ٹہلتے ٹہلتے اچانک اس کا ذہن احتشام کی جانب چلا گیا‘ اس کی بے اعتنائی اور سرد انداز کے بارے میں سوچتے سوچتے وہ انتہائی ملول سی ہوگئی پھر تھکے ہوئے لہجے میں خود سے گویا ہوئی۔
’’احتشام مجھے تمہاری ضرورت ہے‘ تمہاری اپنائیت تمہاری پناہ کی چاہت ہے۔ میں کب سے تمہاری ایک نگاہ التفات کی منتظر ہوں‘ آخر مجھے کتنا انتظار کروائو گے۔‘‘ آنسو لڑیوں کی صورت اس کی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔
ء…/…ء
احتشام سے بات کرنے کا نتیجہ پتھر سے سر پھوڑنے کے مترادف نکلا اس کی بس ایک ہی رٹ تھی کہ وہ ملک سے باہر جانا چاہتا ہے اور خوب روپیہ پیسہ کمانا چاہتا ہے۔ سمیر نے کبریٰ بیگم کو جب مایوس کن صورت حال سے آگاہ کیا تو وہ بھی ملول ہوگئیں۔
’’نیک بخت مجھ میں اتنی ہمت و جرأت نہیں ہورہی کہ میں اس بچی کے باپ کا سامنا کروں جو مجھے آس بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اس کے لب تو خاموش ہوتے ہیں مگر آنکھیں بڑی بے تابی سے سوال کرتی ہیں کہ بھائی صاحب کب میری بیٹی کو دلہن بناکر مجھے میرے فرض سے سبکدوش کررہے ہو۔‘‘ حاکم دین کو حورین کے والد کو انکار کرنا دنیا کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔
آج سے پہلے کسی بھی معاملے میں انہوں نے خود کو اتنا بے بس اور شرمندہ محسوس نہیں کیا تھا حالانکہ وہ خود یہ رشتہ ختم کرنے کے حق میں تھے۔ حورین انہیں اپنی بیٹی کی طرح عزیز تھی وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ احتشام کے سر پر وہ زبردستی تھوپ دی جائے مگر وہ ہاشم احمد کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں کر پارہے تھے۔ بولتے بولتے حاکم دین کی آنکھوں میں نمی در آئی تو سمیر کو ان پر بے تحاشا ترس آگیا۔
’’حوصلے سے کام لیں انکل! یہ مرحلہ کٹھن ضرور ہے مگر ان شاء اللہ بخیرو عافیت گزر جائے گا۔‘‘ سمیر ان کے ہاتھ کو دبا کر تسلی آمیز لہجے میں بولا تو حاکم دین نے کچھ سوچ کر بڑی امید بھری نگاہوں سے سمیر کو دیکھا۔ سمیر ان کی نظروں کا مفہوم پڑھ کر اپنی جگہ جزبز ہوگیا کسی کی آنکھوں سے امید وآس کے جگنو بجھا دینا اسے مایوسی واندیشوں کے اندھے کنویں میں دھکیل دینا اس کی نازوں پلی بیٹی کو ٹھکرا کر اس کے نازک دل کو مٹی کے برتن کی مانند زمین پر پوری طاقت سے پٹخ کر توڑ دینا واقعی دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔ اس پل سمیر کو احتشام کی بے حسی وخود غرضی پر بے پناہ غصہ آیا۔
’’انکل یہ سب میں کیسے…؟‘‘ سمیر بس اتنا ہی بول سکا تھا حاکم دین بے ساختہ سمیر کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولے۔
’’میں ایک بیٹی کے باپ کی بے بسی ولاچاری کو نہیں دیکھ سکتا سمیر!‘‘ سمیر حاکم دین کے لہجے کی نمی محسوس کرکے خود بھی غم زدہ ہوگیا۔
’’میں حورین بھابی کے والد سے بات کرتا ہوں اور انہیں یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ اس رشتے کے ختم ہونے میں ہی ان کی بیٹی کی بھلائی ہے۔‘‘
’’جیتے رہو بیٹے‘ اللہ تمہیں ڈھیر ساری خوشیاں عطا کرے‘ تم نے ہماری بہت بڑی مشکل آسان کردی۔‘‘ حاکم دین بے اختیار سمیر کو گلے سے لگا کر بولے تھے جب کہ سمیراس شش وپنج میں مبتلا تھا کہ وہ کیسے اور کس طرح حورین کے والد سے بات کرے گا۔
ء…/…ء
حورین صحن کے ایک جانب بنی ہودی میں ہفتے بھر کے کپڑے دھونے میں مصروف تھی جب ہی دروازے پر دستک نے اسے چونکا دیا۔ اس وقت دن کے دو بج رہے تھے وہ سوچتی ہوئی دروازے تک آئی اور ’’کون‘‘ کے جواب میں ابا کی آواز اور پھر ان کو دیکھ کر چونکنے کے ساتھ ساتھ متفکر بھی ہوگئی۔
’’ابا خیریت تو ہے نا آج آپ اتنی جلدی کیسے آگئے؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ حورین ابا کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر حقیقی طور پر حواس باختہ سی ہوگئی۔
’’میں ٹھیک ہوں بس ذرا تھکن محسوس کررہا تھا تو سوچا کہ گھر چل کر آرام کرلوں۔‘‘ ابا حورین سے نگاہیں چرا کر اندر آتے ہوئے بولے‘ جب کہ حورین نے ان کی آواز کے ساتھ ساتھ قدموں میں بھی واضح لڑکھڑاہٹ محسوس کی تھی وہ بے قرار ہوگئی اماں کے جانے کے بعد وہ ابا کے لیے اور زیادہ حساس ہوگئی تھی۔
’’ابا سچ سچ بتایئے آپ ٹھیک تو ہیں‘ آپ کی طبیعت خراب ہے یا پھر کوئی اور بات ہے۔‘‘ حورین لپک کر باپ کے پاس آئی اور ان کا بازو تھام کر تڑپ کر بولی جبکہ ہاشم احمد بمشکل مسکرا کر بولے۔
’’ارے میری گڑیا! کچھ نہیں ہوا خوامخوا وہمی کیوں ہورہی ہو بیٹا!‘‘ ابا اس کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے بولے اور مزید اسے کچھ اور بولنے کا موقع دیے بنا خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے حورین نے الجھن بھری نگاہوں سے ابا کی پشت کو دیکھا پھر کچھ سوچتے ہوئے وہ صحن کے جانب آگئی۔ کپڑے دھونے سے اب دل مکدر ہوگیا تھا مگر مجبوراً کام نمٹانے کی غرض سے وہ اس جانب متوجہ ہوگئی۔
ء…/…ء
سمیر کو بار بار حورین کے والد کا خیال آرہا تھا وہ ان سے بات کرنے کی غرض سے ان کے دوا خانے پہنچ گیا تھا شومئی اتفاق کہ اس وقت وہ اکیلے بیٹھے ہوئے تھے کوئی مریض بھی نہیں تھا۔ ہاشم صاحب سمیر سے بخوبی واقف تھے وہ دو تین بار احتشام کے ہمراہ گھر بھی آچکا تھا۔
’’ارے سمیر بیٹا آپ خیریت تو ہے نا؟‘‘ ہاشم صاحب چونک سے گئے تھے۔ سمیر کو دیکھ کر اپنی حیرت پر قابو پاکر انہوں نے استفار کیا تو سمیر مسکراتے ہوئے بولا۔
’’انکل آپ کی حکمت اور ہاتھوں میں شفا کی بہت دور دور تک شہرت ہے‘ میں نے سوچا کہ میں بھی آپ سے استفادہ کرلوں۔‘‘ سمیر کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ انہیں کن لفظوں میں بتائے کہ احتشام ان کی بیٹی سے شادی نہیں کرنا چاہتا‘ سو مناسب جملے ترتیب دینے کی غرض سے وہ ادھر اُدھر کی باتیں کرتا بولا۔
’’ارے بیٹا یہ سب میرے ربّ کا کرم ہے وگرنہ میری کیا اوقات کیا حیثیت۔‘‘ وہ انکساری سے بولے تو سمیر یہاں وہاں کی دوچار باتیں کرکے اصل بات کی جانب آگیا۔
’’دراصل مجھے احتشام کے والدین نے یہاں بھیجا ہے۔‘‘
’’بھائی حاکم دین اور آپا صاحبہ نے مگر کیوں؟‘‘
’’وہ بہت شرمندہ اور شرمسار ہیں کہ احتشام شادی کرنے سے انکار کررہا ہے۔‘‘ سمیر انتہائی دھیمے لہجے میں بول کر یوں سر جھکا گیا جیسے مجرم احتشام نہیں بلکہ وہ خود ہے۔
’’میری بچی کا قصور کیا ہے؟‘‘ ان کی آواز جیسے تاریک کنویں سے ابھری تھی اس وقت جو بے یقینی‘ اذیت‘ تکلیف اور کرب ان کے چہرے پر رقم تھا اسے دیکھ کر سمیر نگاہیں چرا گیا تھا۔
’’حورین بھابی کا کوئی قصور نہیں ہے انکل! بس احتشام فی الحال شادی کے جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتا وہ اپنی لائف سنوارنا چاہتا ہے اور…‘‘
’’ٹھیک ہے سمیر بیٹا کوئی بات نہیں‘ تم چائے تو پیو گے نا۔‘‘ وہ سمیر کی بات درمیان میں قطع کرکے نرمی سے بولے تھے اس پل ان کا اخلاق اور ضبط کی انتہا دیکھ کر سمیر کا دل چاہا کہ شرمندگی کے مارے وہ زمین میں گڑھ جائے۔
ء…/…ء
عشاء کی نماز پڑھ کر ابا مسجد سے آتے تو حورین فوراً کھانا چن دیتی پھر دونوں باپ بیٹی مل کر کھانا کھاتے آج جب ہاشم صاحب مسجد سے آئے تو کھانا کھانے کے بجائے انہوں نے کمرے کی راہ لی ان کی گم صم اور پژمردہ انداز حورین کو اندر ہی اندر ہولائے دے رہا تھا۔
’’ضرور کوئی نہ کوئی بات ہے جو ابا کو اتنا پریشان اور اداس کیے دے رہی ہے مگر بات ہے کیا؟‘‘ حورین خود سے الجھ کر بولی تھی۔
پھر جب انہوں نے رات کے کھانے سے انکار کیا تو حورین مصر ہوگئی کہ آخر وہ بات کیا ہے جس نے ان کی بھوک پیاس اڑا دی ہے۔ ہاشم صاحب نے ایک پل کو اپنی معصوم بھولی بھالی بیٹی کے چہرے پر نگاہ ڈالی پھر دوسرے ہی لمحے انہیں سمیر کے الفاظ کی بازگشت سنائی دی تو ان کا دل جیسے سمندر کی گہرائی میں ڈوب سا گیا۔
’’میری معصوم بچی کا دل ٹوٹ جائے گا‘ کتنا دکھ پہنچے گا اسے جب معلوم ہوگا کہ احتشام نے اسے ٹھکرادیا ہے۔‘‘ ہاشم صاحب دل ہی دل میں بولے حورین بغور ابا کے چہرے پر آتے اتار چڑھائو کو دیکھ رہی تھی جن کی آنکھیں کوئی داستان سنا رہی تھیں مگر لب بالکل خاموش تھے۔
’’بیٹا میں بہت تھک گیا ہوں‘ اب آرام کرنا چاہتا ہوں تم کمرے کی لائٹ جاتے وقت بند کردینا۔‘‘ حورین کے سوالات کو نظر انداز کرکے وہ کروٹ لے کر لیٹ گئے تو حورین بے بسی سے انہیں دیکھ کر رہ گئی پھر بڑی خاموشی سے لائٹ بند کرکے وہاں سے نکل آئی۔
صبح حورین کی آنکھ ذرا دیر سے کھلی وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اس نے بے اختیار گھڑی کی جانب دیکھا جو صبح کے آٹھ بجے کا اعلان کررہی تھی اس کا فوراً دھیان ابا کی جانب چلا گیا۔ فجر کی نماز بھی قضا ہوگئی تھی۔
’’ابا نے آج مجھے اٹھایا کیوں نہیں؟‘‘ حورین خود سے بولی پھر جلدی سے بستر سے اٹھ کر دوپٹہ کھینچ کر ابا کے کمرے کی راہ لی‘ اندر جاکر دیکھا تو ابا اس کی جانب پشت کیے کروٹ لیے محو خواب تھے۔
’’کمال ہے آج ابا اتنی دیر تک سوتے رہے‘ کہیں ان کی طبیعت تو خراب نہیں ہے رات کھانا بھی نہیں کھایا تھا… ابا… ابا…‘‘ وہ ہولے ہولے آوازیں دیتی ان کی جانب آئی پھر بڑی نرمی سے ان کا کندھا تھام کر رخ جونہی اپنی جانب پھیرا۔ ابا کا سفید لٹھے کی مانند چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا‘ وہ چند ثانیے پھٹی پھٹی نگاہوں سے یک ٹک ان کے چہرے کو دیکھتی رہی۔
’’ابا… ابا…‘‘ وہ حلق سے آواز نکالنا چاہتی تھی مگر آواز کا جیسے کسی نے گلا گھونٹ دیا تھا۔ ابا کے ہونٹوں پر ایک خوب صورت مسکراہٹ اس کے دماغ کو یہ باور کروا گئی کہ اب وہ واقعی بہت تھک گئے تھے اور ابدی نیند کے سفر پر چلے گئے تھے مگر دل یہ بات ماننے سے انکاری تھا۔
’’ابا…‘‘ بمشکل اس نے اپنے حلق سے آواز نکالی اور اپنا ہاتھ ان کے یخ بستہ زندگی سے عاری وجود پر رکھا پر اگلے پل اس نے ہذیانی انداز میں ان کا وجود بُری طرح جھنجوڑا۔
’’ابا… ابا…‘‘ وہ پاگلوں کی طرح چلانے لگی اس کی چیخ و پکار سے پورا محلہ گونج اٹھا تھا۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close