Hijaab Apr-17

میرے خواب زندہ ہیں(قسط نمبر17)

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
ریسٹورنٹ میں فراز کے ہمراہ زرمینہ اور تاشو کو دیکھ کر احمر شدید غصے کا اظہار کرتا ہے اور وہاں پہنچ کر زرمینہ کو اپنے عتاب کا نشانہ بناتا ہے۔باسل اسے سمجھاتا ہوا واپس لانے کی کوشش کرتا ہے جب ہی فراز دونوں لڑکیوں کا بطور بہن تعارف کراتا ہے احمر یہ جان کر نہایت شرمندگی محسوس کرتا ہے اور چپ چاپ باہر نکل آتا ہے۔ لالہ رخ مہرو کے رشتہ طے ہونے کی بات پر متفکر ہوتی ہے اسے اس مسئلے سے نکلنے کا کوئی حل نظر نہیں آتا ایسے میں اچانک فراز کا فون آنے پر وہ اسے تمام مسئلے سے آگاہ کرتی ہے جب ہی فراز اس کی مدد کرتا اسے مفید مشورے سے نوازتا ہے اس پر وہ فراز کی بے حد ممنون ہوتی ہے سونیا کی فراز کی ذات میں دلچسپی مزید بڑھتی جاتی ہے ایسے میں وہ سر درد کا بہانہ بنا کر فراز کے ساتھ چیک اپ کے لیے نکلتی ہے مگر فراز پر اپنی اصلیت خود ظاہر کرتے تمام حقیقت بتا دیتی ہے دوسری طرف کامیش ان دونوں کے ساتھ ساتھ واپس لوٹنے پر چونک جاتا ہے مگر کچھ بھی کہنے سے گریز کرتا ہے سونیا اور کامیش کے درمیان مزید تلخیاں بڑھتی جاتی ہیں وہ کامیش کی عائد کردہ پابندیوں کو خود کے لیے قید محسوس کرتی ہے جب اپنی ماں سے تمام باتیں شیئر کرتے فراز سے بدلہ لینے کی بات کرتی ہے سارہ اپنے طور اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں مگر وہ انتقام میں اپنا گھر بھی نظر انداز کردیتی ہے۔ لالہ رخ فراز کے پلان پر عمل کرتے بٹو کے ذریعے یہ بات وہاں تک پہنچا دیتی ہے کہ مہرو پر کسی بھوت پریت کا سایہ ہے اسے لگتا ہے کہ یہ سب جان کر وہ لوگ کبھی بھی اپنے بیٹے کا رشتہ مہرو سے نہیں کریں گے جب ہی وہ قدرے مطمئن ہوجاتی ہے۔ زرتاشہ اور زرمینہ احمر کے رویے کو لے کر الجھ جاتی ہیں پہلے بھی اس کا یہ الجھنا زرمینہ کو قطعاً پسند نہیں آیا تھا اور اس مرتبہ وہ اسے بخشنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ ماریہ مختلف اندیشوں اور خوف میں گھر کر واپس اپنی زندگی کی طرف لوٹنے لگتی ہے جب ہی ولیم سے وہ اپنے رویے کی معافی مانگتے اس کے ساتھ ٹائم گزارتی ہے دوسری طرف میک کی جاسوسی اسے الجھن میں مبتلا کیے رکھتی ہے وہ اس پر کڑی نظر رکھتا ہے اور اچانک صبح سویرے اس کے اپارٹمنٹ کی تلاشی کی غرض سے پہنچ جاتا ہے جبکہ ماریہ یہ جان کر شاکڈ رہ جاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ء…/…ء
ماریہ کو اس پل یوں محسوس ہوا جیسے ڈھیر ساری چیونٹیاں اور عجیب و غریب قسم کے حشرات الارض اس کے جسم پر رینگ رہے ہوں۔ رگ و پے میں اترتی سنسناہٹ اور خون میں دوڑتے اضطراب نے اس کے دل کی دھڑکنوں کو اتھل پتھل کردیا تھا اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میک اچانک اس طرح‘ وہ بھی کسی کی غیر موجودگی میں یوں گھر چلا آئے گا اور اس کے کمرے کی تلاشی لینے کی خواہش ظاہر کرے گا جب وہ اس کے گھر پر فون کرسکتا ہے تو اس طرح اس کی آمد بھی متوقع ہوسکتی تھی۔
’’اوہ گاڈ یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہیں آیا۔‘‘ یہ سوچ ذہن میں در آتے ہی وہ بے حد پشیمانی سے اپنے دل ہی دل میں بولی۔
’’کن سوچوں میں گم ہوگئی ہو ماریہ؟‘‘ میک کی آواز اس کی سماعت سے اس لمحے ٹکرائی تو وہ بمشکل خود پر قابو پاکر سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھ کر نرمی سے گویا ہوئی۔
’’میں یہ سوچ رہی ہوں میک کہ آخر تم لوگوں کو مجھ سے اس قدر بدگمانی کیوں ہے؟ تم سب میری بات کا بھروسہ کیوں نہیں کرلیتے۔‘‘ ماریہ کا انداز اس وقت کافی بکھرا بکھرا سا تھا جیسے اسے میک کی بات پر کافی دکھ پہنچا ہو۔ میک سینے پر دونوں ہاتھ باندھے بڑی دلچسپی سے ماریہ کو دیکھ رہا تھا۔
’’دیکھو میک… سر پال مجھے اچھی طرح پہچانتے ہیں‘ آج سے نہیں بلکہ میرا تو بچپن ہی ان کے سامنے گزرا ہے اور وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔‘‘ شستہ انگریزی میں بولتی ماریہ کا لہجہ آخر میں تلخی و ترشی سے بھر گیا‘ چند ثانیے دونوں کے درمیان گہری خاموشی طاری رہی۔ ماریہ کا دل اس پل رک رک کر دھڑک رہا تھا‘ اندر ہی اندر وہ بے حد خائف اور ہراساں ہورہی تھی۔ وہ کسی بھی قیمت پر میک کو اپنے کمرے میں جانے سے روکنا چاہتی تھی‘ اس وقت اس کا دل چاہ رہا تھا کہ کہیں سے کوئی جادو کی چھڑی اس کے ہاتھ لگ جائے‘ جسے گھما کر وہ میک جیسی عفریت کو یہاں سے غائب کردے اور ہمیشہ کے لیے اس سے اپنی جان چھڑالے۔
’’سر پال واقعی تم سے اچھی طرح واقف ہیں‘ مائی ڈئیر‘ اسی لیے تو انہوں نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔‘‘ آخر کا جملہ میک نے جما جما کر ادا کرتے ہوئے اسے بے حد معنی خیز نظروں سے دیکھا تو ماریہ نے بہت اچنبھے سے میک پر نگاہ ڈالی۔
’’کیا مطلب میک… آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’مطلب یہ ڈئیر کہ سر پال تمہیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم اپنے ارادوں میں کتنی مستحکم اور مستقل مزاج ہو‘ تم باآسانی اپنی مرضی اور خواہش سے یوں دست بردار نہیں ہوتیں۔‘‘ میک کے جملوں نے اس کی بچی کھچی ہمتوں کو ایک ہی جھٹکے میں پست کر ڈالا‘ وہ اندر ہی اندر بھربھری ریت کی مانند ڈھتی چلی گئی۔
’’میری فیملی کے بارے میں تم جانتے ہی ہوگے میک‘ وہ اس معاملے میں میری مرضی ہرگز نہیں چلنے دے گی اور میں اپنی فیملی کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی۔ بچپن میں کسی گیم یا ٹاسک کو لے کر مستحکم اور مستقل مزاج ہونا الگ بات ہے مگر یہ میٹر جس میں میری فیملی کو کوئی پریشانی جھیلنی پڑے وہ مجھے قابل قبول نہیں‘ مجھے ختم کرنا ہوگا اسے اور وہ میں کرچکی ہوں۔‘‘ ماریہ اپنے آپ کو پُرسکون ظاہر کرتے ہوئے بڑے ہموار لہجے میں بولی۔ میک بغور اسے دیکھتے ہوئے اپنی نشست سے اٹھ کر بڑی سہولت سے چلتا ہوا اس کے پاس آکر ٹھہرا پھر قدرے جھک کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر طنزیہ گویا ہوا۔
’’اچھا… پھر پہلے تمہیں اپنی فیملی کا خیال کیوں نہیں آیا ڈئیر‘ کافی عرصے سے تم یہ کھیل کھیل رہی تھی ناں جب سر پال نے تم سے باز پرس کی تب ہی تمہیں اپنی فیملی کی پریشانی یاد آگئی۔‘‘ میک کے لب و لہجے میں تلوار سے زیادہ گہری کاٹ تھی وہ بے ساختہ اپنے نچلے لب کو کچل کر رہ گئی پھر قدرے رک کر بولی۔
’’میں نے بتایا تو تھا نا میک… میرے قدم بہک گئے تھے‘ میں راستے سے بھٹک گئی تھی مگر اب میں سنبھل چکی ہوں۔‘‘
’’ویری نائس ڈئیر… ہم خوش ہیں کہ تم سنبھل گئی ہو بس تمہاری بات کا ثبوت لینے ہی آیا ہوں میں۔‘‘ میک ایک بار پھر تھوڑا اس کی جانب جھکتے ہوئے ترنگ میں بولا تو اس ہی پل ماریہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہٹی پھر میک اپنی جگہ سیدھا ہوا اور پھر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولا۔
’’تمہارا کمرہ کس طرف ہے؟‘‘ ماریہ کی تو وہ حالت ہوگئی کہ کاٹو تو بدن میں لہو کا ایک قطرہ بھی موجود نہ ہو اس نے نگاہ اٹھا کر میک کو دیکھا اور بادل نخواستہ بائیں جانب اشارہ کرکے انتہائی دھیمی آواز میں بولی۔
’’وہ کونے والا میرا روم ہے۔‘‘ میک نے اسی پل اپنے قدم اس جانب بڑھائے جب کہ ماریہ کو لگا جیسے وہ اب زمین پر گری کہ تب گری۔
ء…/…ء
ٹھنڈ اور سردی نے تقریباً اپنا بوریا بستر سمیٹ لیا تھا‘ دن میں تو اچھی خاصی گرمی ہونے لگی تھی البتہ راتیں خوش گوار تھیں اوائل بہار کی موجودگی ماحول میں چہار سو پھیلتی چلی جارہی تھی۔ درختوں پر پھوٹتی نئی کونپلیں اور درخت کی ٹہنیوں پر لگے سر سبز پتے موسم کی اس تبدیلی سے پُرمسرت دکھائی دے رہے تھے۔ لان میں لگے گیندے کے پیلے اور اورنج رنگ کے پھول اور ان کے ساتھ ہی دیگر موسمی پھولوں نے موسم کی دلکشی میں جیسے چار چاند لگا دیئے تھے۔ زرمینہ زرتاشہ کے ہمراہ یونیورسٹی سے واپس آکر بڑی میٹھی نیند سو رہی تھی جب کہ زرتاشہ کو چاہ کر بھی نیند نہیں آرہی تھی اس پل وہ جسمانی تھکن کے ساتھ ساتھ ذہنی تھکاوٹ کا بھی شکار تھی۔ بہت دیر کروٹیں بدلنے کے بعد وہ بڑی بے زاری سے اپنے بستر سے اٹھی اور پھر زرمینہ کی طرف بڑھ کر اسے بڑی بے مروتی سے جگا ڈالا۔
’’یااللہ خیر کیا… کیا ہوگیا؟‘‘ زرمینہ اس اچانک افتاد کو نا سمجھتے ہوئے بے پناہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی پھر اس نے اپنے سر پر کھڑی زرتاشہ کو منہ بنائے دیکھا تو بے حد پریشانی سے بولی۔
’’تاشو خیریت تو ہے نا‘ کیا ہوا… تم نے مجھے جگا کیوں دیا؟‘‘ زرمینہ کے استفسار پر زرتاشہ نے ہنوز منہ بنائے اسے دیکھا پھر کوفت بھرے انداز میں بولی۔
’’زری مجھے نیند نہیں آرہی‘ عجیب سی بے چینی ہورہی تھی اسی لیے تمہیں اٹھایا۔‘‘ پہلے تو زرمینہ نے پوری طرح آنکھیں کھولے اور منہ پھاڑے زرتاشہ کو دیکھا پھر بات جب اس کے پلے پڑی تو مارے غصے کے اس کا حال ہی برا ہوگیا۔
’’ت… تم نے مجھے صرف اس لیے اتنی بے دردی سے جگایا کہ تمہیں نیند نہیں آرہی تھی؟ تمہارا دماغ تو نہیں کھسک گیا تاشو‘ اگر تمہیں نیند نہیں آرہی تھی تو میری نیند خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ آخر میں وہ دانت کچکچا کر بولی جب کہ زرتاشہ پر اس کی ناگواری اور ڈانٹ کا مطلق اثر نہیں ہوا‘ وہ اسی انداز میں کچھ دیر کھڑی رہی پھر اس کے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’زری… مجھے گھر بہت یاد آرہا ہے امی اور لالہ…‘‘ بولتے بولتے وہ یک دم رکی پھر دوبارہ تیزی سے اپنی بات جوڑتے ہوئے دھیرے سے گویا ہوئی۔ ’’امی سے ملنے کا بہت دل چاہ رہا ہے زری۔‘‘ زرمینہ بغور اسے دیکھتی رہی آف وائٹ اور سبز رنگ کے امتزاج کے جوڑے میں وہ کافی الجھی اور بے چین سی لگی۔ زرمینہ نے ایک گہری سانس کھینچی پھر بڑے نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’تاشو میری اچھی سہیلی… تم آخر یہ بات کیوں نہیں مان لیتیں کہ اس سارے معاملے میں لالہ آپی کا کوئی قصور نہیں تھا‘ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ابا اس طرح یوں…‘‘ وہ خود ہی جملہ ادھورا چھوڑ گئی جب کہ زرتاشہ کی غزالی آنکھوں سے اس وقت بڑی خاموشی سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے۔
’’تاشو… لالہ آپی نے تو بڑی ہمت و جرأت سے اس وقت کا تنہا ہی مقابلہ کیا‘ حالات ان دنوں بے حد نازک تھے۔ ایک جانب امی کو سنبھالنا اور پھر ابا کی زندگی کو کسی نہ کسی طور بچانے کے لیے ہاتھ پیر مارنا انہوں نے مجھے بتایا تھا تاشو کہ ابا کی حالت بہت خراب ہے۔‘‘ اس جملے پر زرتاشہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا پھر مشتعل سی ہوکر بولی۔
’’کیا تمہیں ابا کی حالت کی خبر تھی زری اور تم نے بھی مجھے…‘‘
’’تاشو… تم ایک بار پھر بدگمان ہورہی ہو‘ ٹھنڈے دماغ سے میری بات سنو۔‘‘ زرمینہ اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی بات کاٹتے ہوئے اس کا بازو تھام کر نرمی سے بولی جواباً زرتاشہ نے اسے خفگی بھرے انداز میں دیکھا۔
’’آپی کنفیوژن کا شکار تھیں کہ تمہیں بلالیں یا نہ بلائیں‘ کیونکہ ہمارے سمسٹرز چل رہے تھے بس وہ تو اس بات کا انتظار کررہی تھیں کہ پیپرز ختم ہوتے ہی تمہیں اطلاع کردیں مگر کاتب تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تاشو… لالہ آپی کو ابا کی موت کا یقین بھلا کہاں تھا ساری حقیقت جانتے ہوئے بھی وہ سمجھتی رہیں کہ ابا ان سب کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔‘‘ زرتاشہ کی دبی دبی سسکیاں تیزی سے بلند ہوئیں تو زرمینہ نے اسے اپنے گلے سے لگالیا اور آہستہ آہستہ اس کی پشت سہلاتے ہوئے بولی۔
’’لالہ آپی کو واقعی معلوم نہیں تھا کہ آناً فاناً یہ سب کچھ تمہارے پیچھے ہوجائے گا وہ تو بے چاری بالکل اکیلی اس محاذ پر کھڑی تھیں اور تاشو‘ تمہارے ابا نے بھی لالہ سے کہا تھا کہ تاشو کو نہ بتائے وہ پریشان ہوگی۔‘‘ زرتاشہ زارو قطار رو رہی تھی جب کہ زرمینہ خاموشی سے ہولے ہولے اس کا سر تھپک رہی تھی۔ کچھ دیر یونہی رونے کے بعد زرتاشہ اپنا چہرہ اس کے شانے سے اٹھا کر بڑے رنج والم کے عالم میں بولی۔
’’زری میں نے لالہ کے ساتھ بہت زیادتی کردی نا اس کے ساتھ بہت برا سلوک کیا‘ وہ تو بے چاری خود کتنی شکستہ اور غمگین تھی کتنی ہمت و حوصلہ سے سب سنبھال رہی تھی اور میں نے اس کی تکلیف اس کی مشکلیں اور بڑھادیں۔ کتنی بری ہوں نا میں زری‘ کتنا ستایا میں نے اسے‘ کتنا دل دکھایا ان کا۔‘‘ وہ بری طرح احساس جرم و ندامت میں گرفتار ہوگئی تھی جب کہ زرمینہ بے پایاں خوشی و طمانیت کے احساس میں گھری دل ہی دل میں اپنے رب کے آگے شکر گزار تھی کہ آج زرتاشہ کے دل و دماغ میں لالہ رخ کے لیے موجود بدگمانی و ناراضگی کی دھول صاف ہوگئی تھی۔
ء…/…ء
آج علی الصبح فراز شاہ کی لندن کی فلائٹ تھی‘ اس وقت ساحرہ اور سمیر شاہ کے ساتھ ساتھ کامیش اور فراز بھی لنچ کی ٹیبل پر موجود تھے۔ فراز نے ساحرہ کو اپنے لندن جانے کا آج صبح ہی بتایا تھا جس پر اس نے حیرت کے ساتھ ساتھ تھوڑا خفگی کا اظہار بھی کیا تھا۔
’’فراز تمہیں مجھے پہلے بتانا چاہیے تھا مجھے تمہاری یہ بات بالکل پسند نہیں آئی کہ تم آج ہی جارہے ہو اور آج ہی بتارہے ہو۔‘‘ وہ اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کرتے ہوئی سلاد کی پلیٹ سے کچھ کھیرے اور ٹماٹر اپنی پلیٹ میں رکھتے ہوئے بولی۔ فراز نے ایک نگاہ ماں کو دیکھا پھر بڑی بے چارگی سے گویا ہوا۔
’’آئی نو مام… آپ کو میری یہ بات اچھی نہیں لگی مگر پلیز یقین کریں میرے جانے کا پروگرام بالکل اچانک بنا تھا ویسے تو ڈیڈ نے مجھ سے کچھ عرصے پہلے جانے کا کہا تھا لیکن میں دوسرے کاموں میں بزی ہوگیا تھا سو اب اچانک ہی میں نے فیصلہ کیا جانے کا۔‘‘ ساحرہ سے سچ جھوٹ کی آمیزش کرتے ہوئے وہ دل ہی دل میں نادم بھی ہورہا تھا مگر وہ بھی کیا کرتا اگر ساحرہ یا کامیش کو پہلے ہی اپنے جانے کا بتادیتا تو یقینا ان کے ذریعے سونیا کو بھی علم ہوجاتا اور ایسا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا۔
’’اٹس اوکے مام… فراز کو اس بار معاف کردیں‘ اگلی دفعہ یہ آپ کو ضرور پہلے سے انفارم کردے گا۔‘‘ کامیش فراز کا فیور کرتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں بولا تو ساحرہ نے سے تادیبی نگاہوں سے دیکھا پھر طنزیہ لہجے میں بولی۔
’’کامیش تم تو مجھ سے بات ہی مت کرو‘ تم نے بھی مجھے کچھ کم ہرٹ نہیں کیا۔‘‘ اس پل سمیر شاہ نے بغور ماں بیٹے کو دیکھا جب کہ چاول سے بھرا چمچہ کامیش اپنے منہ میں لے جاتے ہوئے وہیں رک گیا۔
’’کیوں مام میں نے کیا کردیا؟‘‘ وہ قدرے حیرت سے گویا ہوا۔
’’تم جانتے ہو ناکہ سونیا تین دن سے اپنے والدین کے گھر گئی ہوئی ہے۔‘‘ سونیا کے نام پر کامیش کے چہرے کے تاثرات یک دم بدلے‘ پہلے والی نرمی و بشاشت کی جگہ سنجیدگی اور ناگواری نے لے لی تھی۔ اس نے سہولت سے چمچہ دوبارہ اپنی پلیٹ میں رکھا اور گمبھیر لہجے میں بولا۔
’’وہ خود اپنی مرضی سے گئی ہے‘ اس میں‘ میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘
’’وہ تم سے ناراض ہوکر گئی ہے کامیش‘ آخر تم کیوں نہیں اسے ملائیشیا جانے کی اجازت دے دیتے۔‘‘ ساحرہ بے پناہ زچ ہوکر بولی‘ جب کہ فراز اور سمیر شاہ خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ کامیش نے میز کی سطح پر اپنا ایک بازو پھیلا کر اس پر دوسرا بازو رکھتے ہوئے عجیب سے انداز میں کہا۔
’’آپ کو کیا لگتا ہے مام‘ ایشو صرف ملائیشیا جانے کا ہے؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ ساحرہ بھنویں اچکا کر بولیں تو کامیش استہزائیہ انداز میں ہنسا۔
’’ملائیشیا جانے کا تو وہ صرف بہانہ بنارہی ہے‘ مقصد اس کا کچھ اور ہے۔‘‘ کامیش ذہین و فطین ہونے کے ساتھ ساتھ بہت شارپ مائنڈ بھی تھا اور اب تو وہ ایک کامیاب پولیس آفیسر بھی تھا جب کہ سونیا تو قصداً اسے خود پر شک کرنے کا موقع فراہم کررہی تھیں۔ فراز شاہ کے ماتھے پر اس پل پسینہ تیزی سے پھوٹ پڑا وہ بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گیا۔
’’کامیش تم کھل کر بات کرو آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ تم ایسا کیوں نہیں کرلیتے کہ اپنے آفس سے چھٹیاں لے کر اسے ہنی مون پر لے جائو اس طرح تم دونوں کے درمیان جو مس انڈرسٹینڈنگ ہیں وہ ختم ہوجائیں گی۔‘‘
’’اسے کہیں نہیں جانا اور نہ ہی میرے پاس فضول کاموں کے لیے وقت ہے۔‘‘ کامیش کے روکھے انداز اور لب و لہجے پر ساحرہ چند ثانیے منہ کھولے کامیش کو دیکھتی رہیں‘ جو اب بڑے اطمینان سے جگ میں سے پانی گلاس میں ڈال رہا تھا۔ ساحرہ نے اس وقت تیزی سے خود کو سنبھالا اور پھر بڑی ناگواری سے سمیر شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
’’سن رہے ہو تم اپنے لاڈلے بیٹے کی باتیں‘ نجانے کیا کچھ الٹا سیدھا بولے جارہا ہے سمیر‘ پوچھو اس سے آخر کیا مقصد ہے اس کا ان باتوں سے۔‘‘ ساحرہ کو کامیش پر بے حد غصہ آرہا تھا‘ سمیر نے ایک نگاہ دونوں کو دیکھا پھر بڑی بے پروائی سے اپنے ہاتھ نیپکن سے صاف کرتے ہوئے بولے۔
’’یہ تم ماں بیٹے کا میٹر ہے میرے خیال میں اسے تم دونوں کو ہی حل کرنا چاہیے۔‘‘ سمیر شاہ کے انداز پر ساحرہ سلگ اٹھی۔
’’یہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ ہماری بہو سونیا کا بھی میٹر ہے جو کامیش کی بیوی اور اس گھر کی ایک ممبر ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دوبارہ کامیش کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’مجھے بتائو تو سہی کہ تمہارا پرابلم کیا ہے؟ نہ تم خود اسے ہنی مون پر لے کر جارہے ہو نا اسے اپنے فرینڈز کے ساتھ ملائیشیا جانے کی پرمیشن دے رہے ہو؟ آخر تم چاہتے کیا ہو کامیش‘ میں نے تمہاری مرضی جان کر ہی سونیا سے تمہاری شادی کی تھی نا یا پھر تم پر زور زبردستی کی تھی۔‘‘ فراز بے حد خاموشی سے بیٹھا یہ سب سن اور دیکھ رہا تھا جب کہ سمیر شاہ نے بھی اس معاملے سے پوری طرح سے ہاتھ اٹھالیے تھے۔
’’مام آپ کی مرضی کو میں نے اپنی مرضی بنا لیا تھا مگر…‘‘ اتنا کہہ کر وہ رکا تو ساحرہ بے حد بے قراری سے اپنی جگہ پہلو بدل کر گویا ہوئی۔
’’مگر کیا؟‘‘ جواباً کامیش نے ایک گہری سانس فضا کے حوالے کی اور بے حد سنجیدگی سے بولا۔
’’مگر اس کی مرضی کچھ اور تھی۔‘‘ جب کہ اس پل فراز شاہ کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئیں تھیں۔ اسے لگا جیسے ابھی ابھی کامیش اس کی جانب دیکھ کر اپنی انگلی اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کرکے کہے گا۔
’’یہ تھی سونیا اعظم خان کی مرضی فراز شاہ میرا بڑا بھائی میرا سگا ماں جایا جس نے مجھے ہر بات سے لاعلم رکھ کر اسے میرے ساتھ نتھی کردیا۔‘‘ کتنی حقارت اور تکلیف ہوگی‘ کامیش کے لہجے میں اس پل مگر کامیش تو کچھ اور ہی کہہ رہا تھا۔ فراز بے حد چونک کر اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آیا۔
’’مام میرے لیے لائف پارٹنر کے انتخاب میں شاید آپ سے غلطی ہوگئی یا پھر سونیا نے ہی مجھ سے شادی کا غلط فیصلہ کر ڈالا تھا اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ میں ایز آہزبینڈ پرفیکٹ ثابت نہیں ہوا تو مجھے اس کے یہ سمجھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ وہ آخر میں بڑی بے پروائی سے اپنے دونوں شانے اچکاتے ہوئے بولا تو ساحرہ جیسے بل کھا کر سمیر شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
’’سمیر… تم چپ کیوں ہو‘ سن رہے ہو اپنے بیٹے کی باتیں‘ آخر یہ کرنا کیا چاہتا ہے۔ اوہ گاڈ یہ تو میرے بھائی کے سامنے مجھے بالکل ہی ذلیل و رسوا کردے گا۔‘‘ آخر میں ساحرہ کا لہجہ بے حد متفکر آمیز ہوگیا۔ سمیر شاہ نے ایک نگاہ ساحرہ کے چہرے کو دیکھا پھر رسانیت بھرے انداز میں گویا ہوئے۔
’’کامیش… بیٹا جو کچھ بھی کرنا ٹھنڈے دل و دماغ سے کرنا‘ شادی کوئی گڑیا گڈے کا کھیل نہیں جسے جب چاہا اپنی مرضی سے ختم کردیا نہ ہی شادی کا بندھن اتنا نازک اور کچا ہے اس کے ساتھ صرف دو زندگیاں نہیں بلکہ خاندان جڑے ہوتے ہیں۔ ایک کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جس کی پروفیشن لائف کے ساتھ ساتھ پرسنل لائف بھی اچھی اور پرسکون ہو۔‘‘
’’میں سمجھتا ہوں ڈیڈ۔‘‘ کامیش نے خاموشی سے سمیر شاہ کی بات سن کر سر ہلا کر آہستگی سے کہا پھر چیئر گھسیٹ کر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا جب کہ فراز پُرسوچ اور ساحرہ پریشان نگاہوں سے کامیش کو جاتا دیکھتی رہ گئی۔
ء…/…ء
’’میک… میک یہ… یہ طریقہ کسی طور بھی مہذب نہیں‘ اس طرح کسی کے گھر میں تلاشی کی غرض سے چلے آنا‘ بالکل بھی صحیح عمل نہیں ہے میک۔‘‘ وہ تھوڑا اٹکتے ہوئے بمشکل اپنا جملہ مکمل کر پائی تھی۔ میک ماریہ کی عقب سے آتی آواز پر تھوڑا ٹھٹکا پھر گردن موڑ کر اس کی جانب نہایت پُر اثرار انداز میں مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔
’’آئی نو ڈارلنگ مگر یہ بے حد ضروری ہے‘ سامنے والے کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلینا سب سے بڑی حماقت اور غلطی ہوتی ہے اور ہم یہ حماقت اور غلطی ہرگز نہیں کریں گے۔ ہمارا مقصد تمہاری تذلیل کرنا بالکل بھی نہیں ہے ڈارلنگ بس اپنی تسلی اور بھروسے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔‘‘ وہ بولتا ماریہ کے خوف و پریشانی میں دو چند اضافہ کرتا چلا گیا بے ساختہ اس نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسایا اس پل اس کے ذہن میں کچھ نہیں آیا کہ وہ میک کو مزید کیا کہہ کر اپنے کمرے کی تلاشی لینے سے روک پائے۔
’’دیکھو میک پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو مجھے تمہارے اس عمل سے اپنی بے عزتی محسوس ہورہی ہے۔ سر پال کو میرے ساتھ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ ماریہ کی جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو وہ یونہی بات بناتے ہوئے بولی اس بار جواباً میک کچھ نہیں بولا اور سہولت سے پلٹ کر ماریہ کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
’’اوہ گاڈ پلیز مجھے بچالے۔‘‘ اس نے بے ساختہ اپنا چہرہ اوپر کرکے دل ہی دل میں بے حد متوحش ہوکر کہا اور پھر بڑی بے بسی سے میک کو اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اسے اندر جاتا دیکھا پھر دوسرے ہی پل وہ بھی سرعت سے اس کے پیچھے لپکی۔
’’آج تمام تر سچائی مام اور سب کے سامنے آجائے گی پھر یہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟‘‘ میک اس کی رائٹنگ ٹیبل کی درازیں کھنگال رہا تھا جب کہ ماریہ خود سے ہی سوال و جواب کرنے میں مصروف تھی۔
’’شاید میری سوچ سے بھی زیادہ اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے‘ اُف میں کیا کروں۔‘‘ وہ اس پل لرز سی گئی بے پناہ خائف ہوکر میک کو دیکھا جواب دیوار پر لگے فریم ہٹا کر اسے پیچھے سے چیک کرنے کے بعد اب اس کے بیڈ پر پڑے گدے کو کھینچ کر اسے الٹ پلٹ کررہا تھا۔
’’کاش مجھے اس بات کا پہلے خیال آجاتا تو آج میری روح یوں نہ فنا ہورہی ہوتی۔‘‘ ماریہ نے حسرت آمیز انداز میں سوچا اور جب وہ بستر کی تلاشی سے فارغ ہوکر اس کی دیوار گیر الماری کی جانب بڑھا تو ماریہ کو اس پل اپنے قدموں پر کھڑا ہونا مشکل ہوگیا جس چیز کی تلاشی میں میک یہاں آیا تھا وہ تمام کی تمام چیزیں اسی الماری میں موجود تھیں۔ الماری میں وہ سب کچھ موجود تھا جو اسے جھوٹا اور فریبی بے حد آسانی سے ثابت کرسکتے تھے‘ میک نے الماری کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا دبائو ڈال کر اسے جونہی کھولا‘ تیزی سے بجتی ڈور بیل پر وہ دونوں بے ساختہ اپنی اپنی جگہ چونکے تھے۔ آنے والا شاید بڑی عجلت میں تھا جب ہی تواتر سے بیل بجائے جارہا تھا۔
’’اس وقت کون آسکتا ہے۔‘‘ ماریہ خود کلامی کرتی جلدی سے دروازے کی طرف آئی اور بناء آئی ہول میں دیکھے کھٹاک سے دروازہ کھول دیا‘ سامنے کھڑے ولیم کو دیکھ کر اسے خفیف سا جھٹکا لگا جب کہ میک نے فی الحال الماری کی تلاشی کا ارادہ ترک کیا اور اسے بند کرکے باہر کی جانب قدم بڑھائے۔
’’ولیم تم… تم اس وقت یہاں کیسے‘ کیا تم کالج نہیں گئے؟‘‘ ماریہ کے چہرے پر حیرت و بے یقینی اور الجھن کے رنگوں کو دیکھ کر ولیم مسکرایا۔
’’میں کالج سے ہی آرہا ہوں ڈئیر‘ جیسکانے مجھے بتایا کہ تم آج کالج نہیں آئیں تو پھر میرا بھی دل نہیں لگا اسی لیے وہاں سے چلا آیا۔‘‘ وہ بڑی خوش گواری سے بولتا ہوا اندر کی طرف بڑھا تو منجمد کھڑی ماریہ نے بادل نخواستہ اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔ ولیم اس وقت فرشتہ بن کر نازل ہوا تھا مگر اندر داخل ہوتے ہی ولیم کو جیسے ہزار والٹ کا کرنٹ لگا میک کی یہاں اس پل موجودگی اسے ورطۂ حیرت میں مبتلا کرگئی وہ بھی میک سے اچھی طرح واقف تھا جب کہ یہ بات بھی اس کے علم میں تھی کہ ماریہ اور میک میں دوستی تو دور کی بات رسماً علیک سلیک بھی نہیں تھی اس وقت وہ بھی تنہا گھر میں میک کی موجودگی نے ولیم کے اندر چبھتے ہوئے سوالوں کی ان گنت جڑوں کو پھیلا دیا تھا کیوں کہ وہ یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ اس وقت جیکولین آنٹی اور ابرام برو دونوں ہی اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے ہیں۔
’’ہیلو ولیم کیسے ہو تم؟‘‘ لائونج میں کھڑے میک نے ولیم کی جانب بڑی خوش گواری سے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تو ولیم نے چند ثانیے میک کے چہرے کو دیکھا بے حد سنجیدگی سے اس کے ہاتھ کو تھام کر بولا۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ پھر گردن موڑ کر ماریہ کی جانب دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔
’’میں شاید کچھ غلط وقت پر آگیا ہوں۔‘‘ اس وقت ماریہ بے حد عجیب سی حیرت میں گھر گئی تھی یقینا میک کی یہاں موجودگی نے اسے بے حد شاکڈ میں مبتلا کردیا ہوگا‘ وہ اس کے متعلق نجانے کیا سوچ رہا ہوگا۔ ماریہ نے بے بس نگاہوں سے دونوں کو دیکھا۔
’’اوہ ناٹ آٹال تم بالکل صحیح وقت پر آئے ہو ولیم میری کافی ختم ہوگئی ہے۔ اب مجھے چلنا چاہیے جیکولین آنٹی میرا انتظار کررہی ہوں گی۔ میں ان کے کہنے پر یہ فائل لینے آیا تھا۔‘‘ میک نے اپنے ہمراہ لائی عنابی رنگ کی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو ماریہ نے اس پل جیسے اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا۔
’’اوکے ماریہ میں چلتا ہوں اور ہاں کافی کے لیے شکریہ۔‘‘ وہ فائل اٹھا کر بولتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا تو ماریہ بمشکل خود کو سنبھال کر پھیکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر پھیلاتے ہوئے بولی۔
’’اوکے میک بائے۔‘‘ میک جب وہاں سے چلا گیا تو ماریہ بڑی خوش گواری سے ولیم کی جانب بڑھی جو ہنوز اسی پوزیشن میں کھڑا کسی گہری سوچ میں مستغرق تھا۔
’’آئو بیٹھو نا تم کھڑے کیوں ہو؟‘‘ ماریہ کی آواز پر اس نے کچھ چونک کر اسے دیکھا پھر بے حد سپاٹ انداز میں بولا۔
’’مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے‘ میں جارہا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ولیم یہ جا وہ جا ہوگیا جب کہ ماریہ بے حد الجھن آمیز انداز میں وہیں کھڑی رہ گئی۔
ء…/…ء
مومن جان محسوس کررہا تھا کہ گلاب بخش کچھ کترا سا رہا ہے کل بھی جب وہ اس کے گھر اس سے ملنے کی غرض سے آیا تو اپنے ملازم کے ذریعے اس نے کہلوا دیا کہ وہ گھر پر نہیں ہے حالانکہ مومن جان نے اسے خود اپنی آنکھوں سے وادی سے ذیلی سڑک کی جانب جاتے ہوئے دیکھا تھا جو سیدھا اس کے گھر کی طرف جاتی تھی۔ کل سے اب تک وہ اسی ادھیڑ بن میں مبتلا رہا کہ آخر گلاب بخش نے کیوں ملازم سے جھوٹ کہلوایا اور وہ اس سے بھلا کیوں نہیں ملنا چاہ رہا تھا۔ آج اس نے گلاب بخش کو اپنے گھر کے باہر بنے باغیچے میں جالیا تھا وگرنہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اگر وہ اندر ہوتا تو کل کی طرح اسے ٹال کر چلتا کردیتا۔
’’او مومن تُو…‘‘ گلاب بخش اسے اچانک اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر چونکا پھر بڑے سپاٹ انداز میں بولا۔
’’آجا… آجا مومن یہیں بیٹھ جا۔‘‘ ساتھ ہی باغیچے کے ایک سائیڈ پر بنی سنگی بنچ پر اشارہ کیا جب کہ مومن جان نے گلاب بخش کے لہجے میں واضح بے زاری اور اکتاہٹ کو محسوس کیا تھا۔ پہلے والی گرم جوشی اور خوشگواریت کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا‘ مومن جان بنچ پر بیٹھتے ہوئے گلاب بخش کی جانب قدرے تشویش زدہ انداز میں دیکھتے ہوئے بولا۔
’’بھائی گلاب بخش سب خیریت تو ہے نا آج تم کچھ تھکے تھکے سے لگ رہے ہو‘ طبیعت تو بھلی چنگی ہے تمہاری؟‘‘ گلاب بخش بے زاری سے اس کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے گویا ہوا۔
’’میری طبیعت کو بھلا کیا ہونا ہے میں تو بالکل بھلا چنگا ہوں مگر تُو تو جانتا ہے نا عظمت بخش کہاں صحیح ہے پھر سے اس کی طبیعت خراب ہورہی ہے۔‘‘ گلاب بخش جو کچھ عرصے سے اپنے بیٹے کی حالت زار پر پردہ پوشی کررہا تھا۔ آج قصداً مومن جان کے سامنے تذکرہ کردیا تاکہ وہ خود ہی رشتہ دینے سے پیچھے ہٹ جائے بھلا ایسی لڑکی جس پر کسی پچھل پیری کا سایہ ہو‘ اسے کیسے اپنی بہو بنایا جاسکتا تھا۔ وہ آنکھوں دیکھی مکھی ہرگز نہیں نگلنے والا تھا وہ تو یہ سوچے بیٹھا تھا کہ اپنے نشئی بیٹے کی شادی وہ مومن جان کی سمجھ دار اور خوب صورت لڑکی مہرینہ سے کردے گا جو نہ صرف اس کے بیٹے کو سنبھالے گی بلکہ ان دونوں میاں بیوی کی بھی خوب خدمت کرے گی۔ وہ مومن جان کی لالچی فطرت سے بخوبی آگاہ تھا اور اسی بدولت وہ اس کا فائدہ اٹھا کر اپنا الو سیدھا کررہا تھا مگر… کل صبح ہی اسے اپنے ملازم کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ مومن جان کی بیٹی پر کسی اوپری چیز کا اثر ہے یہ خبر اسے حیرت میں مبتلا کرنے کے ساتھ ساتھ قدرے افسردہ اور مایوس بھی کر گئی تھی اب اسے نئے سرے سے اپنے لڑکے کے لیے کوئی دوسری لڑکی تلاش کرنی تھی۔
’’اوہ اچھا… مگر گلاب بخش تم بالکل فکر نہ کرو رب نے چاہا تو بیاہ کے بعد ہمارا عظمت بالکل بھلا چنگا ہوجائے گا۔ تم دیکھنا مہرو سے شادی کے بعد وہ کتنا بدل جائے گا جب بیوی کی محبت اور توجہ اسے ملے گی نا تو وہ سب نشہ وغیرہ چھوڑ دے گا۔‘‘ مومن جان بے حد خود غرضی سے بولا‘ گلاب بخش نے چند ثانیے مومن جان کے چہرے کو دیکھا پھر گلا کھنکھار کر کہنے لگا۔
’’دیکھ مومن میرا بیٹا فی الحال اس حالت میں نہیں ہے کہ میں اس کا بیاہ کردوں اس کی خود کی بھی مرضی نہیں ہے لہٰذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ابھی اس کا بیاہ نہ ہی کروں تو بہتر ہے تُو اپنی لڑکی کے لیے کوئی اور رشتہ دیکھ لے۔‘‘ مومن جان ایک شاکڈ کی کیفیت میں اسے دیکھتا رہ گیا‘ کہاں تو کچھ دن پہلے وہ مہرو کا ہاتھ مانگنے کے لیے اس کے آگے بچھا چلا جارہا تھا اور کہاں اب وہ اس سے ٹھیک طرح سے بات بھی نہیں کررہا تھا۔
’’مگ… مگر گلاب بخش…‘‘
’’بس مومن تُو یہ بات یہیں ختم سمجھ‘ اب مجھے اپنے لڑکے کا رشتہ نہیں کرنا۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر قطعیت سے بولا پھر اپنے شانوں پر پھیلی خاکی رنگ کی چادر کا پلو ایک خاص انداز میں جھٹک کر اٹھا اور بناء مومن جان کی طرف دیکھے ہوا اپنے گھر کے اندر داخل ہوگیا جب کہ مومن جان بے پناہ حیران و پریشان سا وہیں بیٹھا گلاب بخش کے کچھ دیر پہلے ادا کیے گئے جملوں پر غور کرتا رہ گیا۔
ء…/…ء
تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے
عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں
گر خدا روٹھ جائے تو سجدے کروں
اور صنم روٹھ جائے تو میں کیا کروں
عدیل بدستور یہ گانا ہولے ہولے گنگنا رہا تھا جب کہ احمر کا ضبط اب جواب دے چکا تھا وہ بے تحاشا کلس کر عدیل کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’تم اپنی آواز بند نہیں کرسکتے۔‘‘ احمر جو کیمپس کے گرائونڈ میں عدیل اور باسل کے ہمراہ ایک جانب بیٹھا نوٹس اسٹڈی کررہا تھا اس پل بے حد بے زار اور کوفت زدہ نظر آرہا تھا۔ احمر کی بات پر عدیل نے بے حد انجان بنتے ہوئے آنکھوں میں حیرت بھر کر اسے دیکھا پھر قدرے برا مانتے ہوئے کہنے لگا۔
’’کیوں بھئی میں نے تمہیں ایسا کیا کہہ دیا کہ تم یوں آگ بگولہ ہوئے جارہے ہو اور رہا میرا گانا گانے کا سوال تو میرا دل چاہ رہا ہے گانا گانے کا تمہیں کیا تکلیف ہورہی ہے۔‘‘
’’تم…‘‘ احمر بولتے بولتے یک دم رکا پھر مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کرکے دوبارہ پڑھنے میں مشغول ہوگیا۔ عدیل نے اس کے جھکے سر کو مسکراتی نظروں سے دیکھا پھر باسل سے باآواز بلند کہنے لگا۔
’’یار باسل‘ آج کل مجھے اردو شاعری سے بہت دلچسپی ہورہی ہے‘ کل ہی میں نے ایک بڑا اچھا شعر پڑھا‘ ہے تو پرانا مگر حسب حال ہے بھئی اور سدا بہار بھی ہے۔‘‘ باسل نے قدرے چونک کر کتاب سے سر اٹھا کر عدیل کو دیکھا پھر اس کی آنکھوں اور چہرے پر ناچتی شرارت کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ آج پھر احمر کو زچ کرنے پر تلا ہوا ہے۔
’’ہاں تو وہ شعر کچھ یوں ہے…
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے
عدیل نے انتہائی لہک کر شعر پڑھا جب کہ احمر خود پر ضبط کیے بیٹھا رہا۔
’’ویسے باسل یہ عشق و محبت بزدلوں کے بس کی بات نہیں ہے یار اس کے لیے تو جگر چاہیے ہوتا ہے جگر۔‘‘
’’عدیل تم اپنی بکواس بند نہیں کرسکتے۔‘‘ احمر جیسے اس پل پھٹ پڑا‘ باسل نے بے زاری سے عدیل کو دیکھا۔
’’عدیل یہ کیا بچپنا ہے کیوں ہاتھ دھوکر احمر کے پیچھے پڑگئے ہو۔‘‘ باسل اسے سرزنش کرتے ہوئے بولا تو عدیل نے گویا آستین چڑھائی تھی احمر کو گھورتے ہوئے بولا۔
’’تم اس کمینے سے کیوں نہیں پوچھتے کہ آخر اس نے ہم سے کیوں چھپا کر رکھا اور اب بزدل لڑکیوں کی طرح کیوں چپ چاپ بیٹھ گیا ہے۔ کیوں نہیں اس لڑکی کو بتاتا کہ موصوف اس کے عشق میں گرفتار ہوگئے ہیں۔‘‘ احمر نے باسل کو بے بس نگاہوں سے دیکھا پھر زچ ہوکر بولا۔
’’یار باسل تُو سمجھاتا کیوں نہیں ہے… اسے یہ معاملے اتنی جلد بازی میں طے نہیں کیے جاتے۔‘‘
’’یہ کیا تم بوا حجن والے ڈائیلاگ بول رہے ہو احمر‘ ارے سیدھے طریقے سے اس لڑکی کو اپنا حال دل سنادے سمپل اگر وہ مان گئی تو ٹھیک ورنہ پھر دوسری ٹرین کے آنے کا انتظار کر۔‘‘ آخر میں عدیل بڑی بے پروائی سے شانے اچکاتے ہوئے بولا تو احمر نے اسے فہمائشی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم جب بھی کچھ بولو گے بالکل فضول اور بے تکا ہی بولو گے۔‘‘ باسل نے ایک نگاہ دونوں کی جانب دیکھے پھر اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی کی جانب دیکھا جو سہہ پہر کے ساڑھے تین بجے کا اعلان کررہی تھی اس پل اسے سستی بھی محسوس ہورہی تھی۔
’’اوکے گائز میرے خیال میں اب ہمیں گھر چلنا چاہیے باقی کی پڑھائی کل کرلیں گے۔‘‘ باسل کی بات پر دونوں نے ہی تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
’’یار باسل اگر تمہیں زحمت نہ ہو تو راستے میں مجھے کہیں اتار دینا آج میری گاڑی ابو لے گئے تھے‘ دراصل ان کی گاڑی مکینک کے یہاں گئی ہوئی تھی۔‘‘ وہ تینوں چلتے ہوئے یونیورسٹی کے خارجی دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے جب ہی احمر بولا۔
’’اٹس اوکے احمر‘ میں تمہیں گھر ڈراپ کردوں گا۔‘‘ باسل نرمی سے بولا تو احمر نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا پھر وہ دونوں گاڑی میں آبیٹھے۔ تھوڑی دیر بعد ہی احمر کے نمبر پر مہوش کی کال آگئی‘ اس نے یس کا بٹن دبا کر کہا۔
’’ہاں بولو مہوش سب خیریت ہے۔‘‘
’’جی… جی میں مہوش نہیں ہوں میں زرمینہ بات کررہی ہوں۔‘‘ انتہائی غیر متوقع طور پر دوسری طرف زرمینہ کی موجودگی اور آواز نے احمر کو بری طرح متحیر سا کردیا۔
’’زرمینہ آپ…‘‘ وہ فقط اتنا ہی بول سکا جب کہ سہولت سے گاڑی چلاتے ہوئے باسل نے بھی احمر کے منہ سے زرمینہ کا نام سن کر اسے کافی چونک کر دیکھا۔
’’اوہ میں… میں ابھی آتا ہوں آپ پلیز مہوش کا خیال رکھیے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے سرعت سے فون بند کیا۔
’’یار باسل مہوش ہاسٹل میں گر کر بے ہوش ہوگئی ہے تم پلیز وہاں جلد سے جلد چلو۔‘‘ احمر کے چہرے سے پریشانی و گھبراہٹ بخوبی جھلک رہی تھی۔ باسل نے فوراً سے پیشتر سامنے سے آتے کٹ سے موڑ کاٹا اور گاڑی دوسری جانب موڑ دی۔
’’ریلیکس احمر‘ تم پریشان مت ہو‘ ہم وہیں جارہے ہیں ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوگا۔‘‘ باسل نے اسے تسلی دی جب کہ احمر بے پناہ متفکر سا ہوکر اپنی پیشانی کو مسلنے لگا۔
ء…/…ء
شام کے اس پل وادی کی خوب صورتی اور رنگینیاں اپنے عروج پر تھیں سردیوں کی پریوں نے اپنے پروں کو سمیٹ کر کسی اور دیس کا رخ کرلیا تھا بے حد خوش گوار اور مسکراتی شام کے اس لمحے تینوں دوست آج پھر اپنی مخصوص جگہ پر براجمان تھے۔
’’لالہ رخ کے دل کا موسم بھی اطراف کی فضا کی مانند گنگنا رہا تھا کیوں کہ آج زرتاشہ کے دل سے اس کے خلاف تمام ناراضگی اور بدگمانیاں دور ہوگئی تھیں۔ کل شام ہی اس نے فون پر بات کی تھی اس سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ وہ چہکوں پہکوں روئے جارہی تھی۔
’’لالہ میں بہت بری بہن ہوں نا تمہاری‘ تمہیں کتنا پریشان کیا تمہیں تنگ کیا۔ ہم دونوں کا دکھ تو سانجھا تھا نا پھر میں نے کیوں نہیں تم کو گلے لگایا مجھے معاف کردو لالہ…‘‘ وہ روتے ہوئے بس اسی بات کی گردان کیے جارہی تھی کہ میں بہت بری بہن ہوں۔
’’ارے میری جان‘ میری پیاری سی گڑیا ایسی کوئی بات نہیں ہے بس اب رونا مت۔‘‘ لالہ رخ بھیگی پلکوں سے اسے خاموش کرانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی۔ آج وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کررہی تھی وگرنہ تاشو کی ناراضی اسے راتوں کو سوتے سے جگا دیتی تھی۔
’’باجی مجھے یقین تھا کہ تاشو باجی آپ سے زیادہ دن تک خفا بالکل نہیں رہ سکتیں۔‘‘ بٹو بے حد خوشی کے عالم میں بولا تو لالہ رخ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر کہا۔
’’تم بالکل صحیح کہہ رہے تھے بٹو‘ شکر ہے میرے اللہ کا‘ سب ٹھیک ہوگیا اور زرمینہ یہ بھی بتارہی تھی کہ ماشاء اللہ زرتاشہ پہلے کی طرح بی ہیو کرنے لگی ہے۔‘‘ ڈارک پنک رنگ کے کاٹن کے سوٹ میں کالی چادر اوڑھے لالہ رخ کا چہرہ بھی بالکل گلابی ہورہا تھا۔ مہرو نے بڑی محبت سے اسے دیکھا۔
’’شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ ہماری تاشو سنبھل گئی… بے شک وہی ذات پاک ہے لالہ جو ہمیں سنبھال لیتی ہے۔‘‘ مہرو بھی پُرمسرت لہجے میں بولی تو لالہ رخ نے تائیدی انداز میں سر ہلایا پھر یک دم مہرو کی نظریں ذیلی سڑک پر برکت بی بی کی طرف اٹھیں تو وہ لالہ رخ اور بٹو کو دیکھ کر تیزی سے بولی۔
’’ایک منٹ تم دونوں یہاں بیٹھو مجھے برکت بی بی سے کچھ کام ہے میں بس دو منٹ میں آتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ سرعت سے اٹھ کر لالہ رخ کا جواب سنے بنا اس جانب دوڑ پڑی لالہ رخ نے خاموشی سے چند ثانیے مہرو کو جاتا دیکھا پھر بٹو کی طرف رخ موڑ کر پُرسوچ لہجے میں بولی۔
’’بٹو تمہارا کیا خیال ہے چچا گلاب بخش کے ملازم نے مہرو کے متعلق وہ بات بتادی ہوگی۔‘‘ وہ بے چینی سے اس صورت حال کے نتیجے کی منتظر تھی۔
’’بالکل باجی وہ تو پیٹ کا بہت ہلکا ہے جی یہ بات بتانے میں اس نے ایک پل کی بھی دیری نہیں کی ہوگی جی۔‘‘ بٹو بے حد وثوق سے بولا تو لالہ رخ کچھ دیر بعد گویا ہوئی۔
’’ہوں بٹو… اللہ کرے ایسا ہی ہوا ہو‘ اب دیکھو آگے آگے ہوتا ہے کیا۔‘‘
’’باجی رب سوہنے نے چاہا تو اچھا ہی ہوگا آپ پریشان نہ ہوں جی۔‘‘ بٹو اسے تسلی دیتے ہوئے بولا تو لالہ رخ نے اثبات میں سر ہلادیا۔
ء…/…ء
وہ کٹے ہوئے شہتیر کی مانند کائوچ پر گرتی چلی گئی اس پل اس کا دماغ بالکل مائوف ہوگیا تھا۔ ہاتھ پیروں میں عجیب سی ٹھنڈک اترتی چلی گئی تھی جسم بالکل بے جان ہوگیا تھا وہ بہت دیر تک ایک ہی پوزیشن میں بے حس و حرکت بیٹھی رہی پھر معاً میک کا خیال آیا تو ایک پھریری سی اس کی رگ وپے میں دوڑ گئی۔
’’اگر آج میک مجھے رنگے ہاتھوں پکڑلیتا تو پھر میرا کیا حشر ہوتا۔‘‘ وہ خود کے انداز میں بولی۔
’’او تھینک یو ولیم‘ تھینکس آلاٹ تم نے بروقت یہاں آکر مجھے کتنی بڑی مصیبت اور پریشانی سے نکالا ہے اس کا تمہیں اندازہ بھی نہیں ہی سو مچ تھینک یو ولیم‘ تم آج میرے گھر فرشتہ بن کر آئے تھے۔‘‘ وہ ممنون آمیز لہجے میں بھیگی ہوئی آواز میں خود سے بلند آواز میں بول رہی تھی جب کہ اس پل آنسو بھی قطار در قطار آنکھوں سے نکل کر اس کے گالوں کو بھگو رہے تھے۔
’’میک… تم بہت برے انسان ہو‘ آئی ہیٹ یو میک‘ مجھے تم سے خوف آتا ہے تم ایک سفاک اور بے رحم شخص ہو۔‘‘
’’مگر ولیم…‘‘ خود سے بولتے بولتے وہ یک دم بے چینی سے کائوچ پر سے اٹھی۔
ولیم کو یہاں میک کی موجودگی یقینا ناگوار گزری ہے اس کے چہرے پر بہت ہی عجیب سے تاثرات موجود تھے‘ کہیں وہ مجھے میک کے ساتھ… پر اگلے ہی پل اسے جو خیال آیا وہ اسے اچھا خاصا ہراساں کرگیا۔
ء…/…ء
زرتاشہ اور زرمینہ کلاسز سے فارغ ہوکر حسب معمول ہاسٹل کی جانب زورو شور سے باتیں کرتے ہوئے جارہی تھیں جب ہی راستے میں مہوش مل گئی جس کا زرد چہرہ اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے دیکھ کر وہ دونوں ہی پریشان ہوگئی تھیں۔
’’ہائے مہوش‘ یہ تم نے اپنی کیا حالت بنالی ہے‘ آئینہ میں چہرہ دیکھا ہے تم نے اپنا‘ برسوں کی بیمار لگ رہی ہو۔‘‘ زرمینہ حقیقت میں اس کے لیے متفکر ہوگئی تھی جب ہی پریشان کن لہجے میں اسے اپنائیت سے ڈپٹتے ہوئے بولی۔
’’مجھے کیا ہونا ہے اتنی آسانی سے مرنے والی نہیں ہوں میں۔‘‘ ہر دم خوش رہنے والی مہوش کو یوں دیکھ کر دونوں کا دل جیسے کٹ کر رہ گیا۔
’’ایک تو مجھے تم لڑکیوں کی سمجھ ہی نہیں آتی کسی کی محبت میں یوں دنیا و مافیہا کو بھلا کر خود کو اذیت دینے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تکلیف دیتی ہیں۔‘‘ زرمینہ مہوش کو فہمائشی نظروں سے دیکھ کر چڑ کر بولی جب کہ زرتاشہ نے اسے ایک نگاہ دیکھ کر کہا۔
’’محترمہ زرمینہ صاحبہ‘ آپ شاید بھول رہی ہیں کہ آپ بھی ایک لڑکی ہیں البتہ رضیہ سلطانہ اور پھولن دیوی جیسی خواتین کی خصلت آپ کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔‘‘ زرمینہ نے زرتاشہ کی بات پر بڑی سہولت سے اسے دیکھا پھر دانت کچکچا کر بولی۔
’’محترمہ زرتاشہ صاحبہ مجھے معلوم ہے کہ میں بھی ایک لڑکی ہوں مگر ایسی ہرگز نہیں کہ کسی کے فراق میں ڈوب کر سوہنی کی طرح کچا گھڑا لے کر دریا میں کود پڑوں گی… اور ذرا مہوش تم مجھے یہ تو بتائو کہ وہ تمہارے پرنس آف چارمنگ جن کی جدائی میں تم نے اپنا یہ حال کرلیا ہے وہ موصوف کیسے ہیں؟‘‘ آخر میں وہ مہوش کی جانب پلٹ کر طنزیہ انداز میں بولی تو جواباً مہوش کچھ نہیں بولی‘ خاموشی سے چلتی رہی۔
’’مجھے یقین ہے کہ وہ موصوف تینوں ٹائم پیٹ بھر کر کھانا کھا رہے ہوں گے اور پوری نیند بھی لے رہے ہوں گے۔‘‘ زرمینہ ایک بار پھر بولی‘ اسی دوران وہ ہاسٹل کی عمارت میں داخل ہوچکی تھیں۔
’’مہوش یہ کیا حماقت ہے آخر کیوں اپنی جان پر ظلم کررہی ہو۔‘‘ زرمینہ نے لان کی طرف سے گزرتے ہوئے اس کا بازو تھام کر استفسار کیا جواباً مہوش نے بڑی خالی خالی نظروں سے دیکھا تھا۔
’’زرمینہ میں اس کے بناء نہیں رہ سکتی۔‘‘ وہ فقط اتنا ہی بولی اور اگلے ہی پل تیورا کر گر پڑی اگر زرتاشہ اور زرمینہ اسے بروقت تھام نہ لیتی تو وہ یقینا زمین بوس ہوجاتی دونوں مہوش کو یوں بے ہوش دیکھ کر بری طرح بدحواس ہوگئی تھیں‘ تھوڑی ہی دیر میں وارڈرن بھی آگئیں اسے ہوش میں لانے کی مختلف تدبیریں کی گئیں مگر مہوش کو ہوش نہیں آیا‘ شومئی قسمت آج ہاسٹل کی ڈاکٹر بھی غیر حاضر تھیں تب ہی اس نے مہوش کے سیل سے ’’بھائی‘‘ کے نام پر سیو نمبر پر فون کر ڈالا اس کا بھائی کچھ ہی دیر میں بے حد پریشان ہوکر اپنے کسی دوست کے ہمراہ آیا تھا اور فوراً سے پیشتر مہوش کو اپنی بانہوں میں بھر کر باہر کی جانب دوڑا تھا۔ زرمینہ بھی بے ساختہ مہوش کے پیچھے پیچھے لپکی تھی جبکہ زرتاشہ نے زرمینہ کی تقلید کی تھی اس وقت وہ چاروں ایک پرائیوٹ ہسپتال کے کاریڈور میں بے پناہ پریشان حال بیٹھے تھے۔
’’مہوش کو اچانک کیا ہوگیا تھا وہ اس طرح بے ہوش کیسے ہوگئی۔‘‘ احمر کوئی تیسری مرتبہ انتہائی متوحش ہوکر زرمینہ سے پوچھ رہا تھا زرمینہ نے ایک نگاہ بلیک جینز پر ڈارک بلو شرٹ پہنے احمر پر ڈالی۔
’’مہوش ہم دونوں کے ساتھ ساتھ باتیں کرتے ہوئے ہاسٹل کے اندر آئی پھر یونہی باتیں کرتے کرتے اسے نجانے کیا ہوا کہ وہ گرتی چلی گئی۔‘‘ یہ سب سن کر احمر نے بے حد پریشان ہوکر اپنے ہاتھوں سے اپنے بالوں کو جکڑا۔
’’احمر پلیز خود کو سنبھالو یار… ان شاء اللہ تمہاری سسٹر کو کچھ نہیں ہوگا ریلیکس ہوجائو۔‘‘ باسل نے احمر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا تو وہ محض اسے دیکھ کر رہ گیا پھر دوبارہ زرمینہ کی جانب متوجہ ہوکر گویا ہوا۔
’’مہوش آپ دونوں سے کیا باتیں کررہی تھی۔‘‘ احمر کی بات پر زرمینہ نے بے اختیار اپنے لبوں کو بھینچا‘ اس وقت وہ صرف مہوش کی کنڈیشن کی وجہ سے احمر یزدانی کی باتیں برداشت کررہی تھی وگرنہ کوئی اور موقع ہوتا تو دو منٹ میں اس کی طبیعت صاف کردیتی۔
’’احمر تم کیوں ان کو پریشان کررہے ہو یار‘ پلیز خود پر قابو رکھو۔‘‘ باسل زرمینہ کے چہرے پر چھائی ناگواری محسوس کرکے احمر سے بولا جب ہی اسی پل ڈاکٹر ایک نرس کے ہمراہ باہر نکلیں۔
’’آپ کی مریضہ کو ہوش آگیا ہے گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کھانا پینا چھوڑ رکھا تھا جس کے سبب ان کا بلڈ پریشر بالکل لو ہوگیا تھا‘ آئی تھنک کسی بات کی ٹینشن لے کر وہ اس کیفیت سے دوچار ہوئی ہیں‘ آپ پلیز ان کا خیال رکھیے۔‘‘ یہ کہہ کر ڈاکٹر وہاں سے چلی گئیں تو احمر کے ساتھ ساتھ ان تینوں نے بھی سکون کا سانس لیا اس جانب سے اطمینان ملتے ہی زرتاشہ کو ہاسٹل جانے کا خیال بے چین کر گیا۔
’’زری اب ہمیں بھی چلنا چاہیے‘ دیکھو کتنی دیر ہوگئی ہے شاید باہر تو پوری طرح اندھیرا پھیل گیا ہے۔‘‘ باسل کی سماعت سے ایک پریشان کن آواز ٹکرائی تو بے اختیار اس نے زرتاشہ کی جانب دیکھا جو ریڈ اینڈ بلیک کنٹراسٹ کے کاٹن کے سوٹ میں کالی چادر اوڑھے سہمی ہوئی کھڑی تھی۔
’’چلتے ہیں۔‘‘ زرمینہ تائیدی انداز میں بولی۔
’’زری اب ہم ہاسٹل واپس کیسے جائیں گے اور وہ چنگیز خان کا جانشین تو اسی شکوک و شبہے میں مبتلا ہے کہ مہوش کے بے ہوش ہونے میں یقینا تمہارا ہی ہاتھ ہے۔‘‘ گوکہ زرتاشہ دھیمی آواز میں بول رہی تھی مگر تھوڑی ہی دور کھڑے باسل نے یہ سب بآسانی سنا تھا۔
’’میری بلا سے وہ کچھ بھی سوچتا رہے مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔‘‘ وہ بے حد تپے ہوئے انداز میں بولی کہ اسی پل احمر وہاں چلا آیا۔
’’آپ کو مہوش بلا رہی ہے۔‘‘ یہ سن کر وہ دونوں اندر چلی گئیں تھوڑی دیر بعد باہر آئیں تو زرمینہ بڑی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو ہمیں کوئی رکشہ ارینج کردیجیے ہمیں واپس ہاسٹل جانا ہے۔‘‘ مجبوراً زرمینہ کو اسی سے مدد لینی پڑی وگرنہ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ہرگز اس سے یہ سب نہ کہتی جواباً احمر نے بے اختیار باسل کی جانب دیکھا باسل نے اسے سختی سے منع کیا تھا ورنہ ابو سے اپنی گاڑی منگوا کر وہ انہیں واپس چھوڑ دیتا۔
’’ایکسکیوز می اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ دونوں کو ہاسٹل ڈراپ کردیتا ہوں۔‘‘ زرمینہ نے قدرے چونک کر اسے دیکھا پھر اسی پل اسے یاد آیا کہ یہ تو وہی ریسٹورنٹ والا لڑکا ہے جو فراز بھائی سے بڑی گرم جوشی سے ملا تھا۔
’’آپ… آپ فراز بھائی کے جان پہچان والے ہیں نا۔‘‘ زرمینہ کے کافی بونگے پن سے کہنے پر بے ساختہ باسل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی۔
’’جی میں ان کا کزن ہوں باسل… باسل حیات۔‘‘
’’اوہ… اچھا اچھا آپ فراز بھائی کے کزن ہیں۔‘‘ زرمینہ یہ سن کر خوشی سے جیسے اچھل ہی پڑی۔
’’اگر آپ کو کوئی پرابلم نہ ہو تو پلیز ہمیں ہاسٹل چھوڑ دیجیے آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔‘‘ احمر یزدانی کو پوری طرح نظر انداز کرکے وہ باسل سے بڑی خوش اخلاقی سے بولی۔
’’اوہ ناٹ آ ٹال‘ مجھے کوئی پرابلم نہیں ہوگی۔‘‘ جبکہ یہ سب دیکھ کر احمر دانت کچکچا کر رہ گیا‘ اسے اس پل زرمینہ کا خود کو یوں اگنور کرنا بے حد کھلا تھا۔
’’چلئے پھر چلتے ہیں۔‘‘ زرمینہ سہولت سے بولی پھر رخ موڑ کر احمر سے مخاطب ہوکر گویا ہوئی۔
’’مسٹر احمر انسانی جان سے قیمتی اور اہم کوئی شے نہیں ہوتی بعض اوقات ہم اپنی انا اور ضد کی خاطر دوسروں کے احساسات اور ان کی زندگیوں سے کھیل جاتے ہیں بعد میں سوائے پچھتائوں کے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ مہوش تو آپ کی اکلوتی بہن ہے اور میں نے تو سنا ہے کہ بھائی اپنی بہنوں کی خوشیوں کی خاطر اپنی جان تک کی بھی پروا نہیں کرتے پلیز کم سے کم آپ ہی مہوش کا خیال رکھیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی جب کہ زرتاشہ نے بھی اس کے پیچھے اپنے قدم بڑھائے تھے۔
’’زری کیا ضرورت تھی تمہیں اس چنگیز خان کو نصیحت کرنے کی وہ تو شکر ہے ہم وہاں سے نکل گئے ورنہ ابھی اچھی طرح وہ تمہاری طبیعت صاف کردیتا۔‘‘ پارکنگ ایریا کی جانب بڑھتے ہوئے زرتاشہ کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی۔
’’اونہہ اس سے ڈرتی ہے میری جوتی۔‘‘ زرمینہ چڑ کر بولی پھر وہ دونوں باسل کی گاڑی میں براجمان ہوگئیں۔ ہاسٹل زیادہ دور نہیں تھا جلد ہی ان کی منزل آگئی۔
’’آپ کا بہت بہت شکریہ باسل صاحب۔‘‘ زرمینہ بڑے بامروت انداز میں بولی جواباً باسل نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا پھر اللہ حافظ کہہ کر وہ زن سے گاڑی لے اڑا۔
’’ہائے تاشو کتنا ڈیسنٹ اور ویل مینرڈ لڑکا تھا نا یہ… اور ایک وہ ہے۔‘‘
’’افوہ زری… پہلے اندر تو چلو بعد میں اس لڑکے پر دل کھول کر تبصرہ کرلینا۔‘‘ زرتاشہ نے زرمینہ کی بات پر اسے ہاسٹل کے گیٹ کی جانب دھکیلا تو وہ بھی جیسے ہوش میں آئی تھی پھر دونوں ہی گیٹ کے اندر داخل ہوگئیں۔
ء…/…ء
وہ اپنی تیاری پر آخری نگاہ ڈال رہا تھا اس کی تمام چیزیں بالکل ریڈی تھیں معاً اسے اپنے پاسپورٹ اور ٹکٹ کا خیال آیا تو وہ اپنی وارڈ روب کی جانب بڑھا جب ہی ایک دھاڑ کی آواز کے ساتھ ہی اس کے کمرے کا دروازہ کسی نے بڑی بدتمیزی سے کھولا وہ چونک کر جونہی مڑا یک دم اپنی جگہ فریز ہوگیا۔ سونیا خان تن فن کرتی اندر آئی تھی۔
’’اوہ میرے اللہ یہ… یہ یہاں کیسے آگئی۔‘‘ بے ساختہ وہ اپنے آپ سے بولا‘ اس پل سونیا بے حد غصے میں تھی وہ سیدھی اس کے سر پر آن پہنچی۔
’’مسٹر فراز شاہ تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ مجھ سے چھپ کر تم یہاں سے بھاگ جاؤ گے۔‘‘ سونیا کا اس پل بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فراز شاہ کا گلا ہی دبا ڈالے۔
’’بی ہیو یور سیلف سونیا‘ یہ تم مجھ سے کس انداز میں بات کررہی ہو اور مائنڈ اٹ میں بھلا اپنے گھر سے کیوں چھپ کر بھاگوں گا۔ میں اپنی مرضی سے جارہا ہوں سمجھیں۔‘‘ سونیا کے جارحانہ انداز نے اسے بھی بری طرح بھڑکا دیا تھا اپنے اشتعال پر وہ بمشکل قابو پاکر بولا۔
’’اوہ کم آن مسٹر فراز شاہ مجھے اچھی طرح سے معلوم ہے اس طرح خاموشی سے اور چھپ کر کیوں لندن جارہے ہو۔‘‘ سونیا اپنے دونوں بازو اپنے سینے پر فولڈ کرتے ہوئے اسے بے حد استہزائیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کٹیلے انداز میں بولی فراز نے کچھ چونک کر ناچاہتے ہوئے بھی سونیا کے مکروہ چہرے کی جانب دیکھا اس پل وہ ضبط و برداشت کی انتہا پر تھا وگرنہ اس کا تو دل چاہ رہا تھا کہ تھپڑوں سے اس کا چہرہ لال کردے۔
’’اپنی بکواس یہیں بند کرلو سونیا‘ تم بہت بول چکی سمجھیں۔‘‘ فراز اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچتے ہوئے فقط اتنا ہی بولا۔
’’اچھا… مگر میں نے تو ابھی کچھ بھی نہیں کہا فراز ڈئیر مگر اب میں کہوں گی سب کے سامنے کہوں گی‘ یہ جو تمہارے چہرے پر شرافت اور پاسداری کا نقاب ہے نا اسے سب لوگوں کے سامنے کھینچوں گی۔ تمہاری اصلیت سب کو بتائوں گی فراز شاہ۔‘‘ سونیا کی باتیں جیسے اس کے سر پر سے گزر رہی تھیں۔ وہ بہت اول فول بک رہی تھی اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا وہ انتہائی ناسمجھی والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بے حد الجھ کر بولا۔
’’کیا مطلب ہے سونیا تمہارا‘ آخر تم کون سی اصلیت کی بات کررہی ہو۔ دیکھو تم مجھے اچھی طرح جانتی ہو کہ میں کیسا انسان ہوں پھر کیوں مجھ پر الزام تراشی کررہی ہو۔‘‘
’’ویری انٹرسٹنگ فراز یعنی میں تمہارے اوپر الزام تراشی کررہی ہوں۔‘‘ سونیا کافی اونچی آواز میں بولی‘ فراز جزبز سا ہوگیا۔
’’اپنی آواز کو دھیما رکھو سونیا کیوں میرے ساتھ ساتھ اپنا بھی تماشہ بنانے پر تلی ہوئی ہو۔‘‘
’’اونہہ تماشہ… تمہارا تماشہ؟ نہیں فراز تماشہ تو تم نے میرا بنادیا ہے میری زندگی کو برزخ میں دھکیل دیا ہے میں یہاں رات دن کانٹوں میں لوٹ رہی ہوں اور تم آرام سے زندگی کی خوشیاں اور راحتیں کشید کررہے ہو‘ کیا تمہیں ذرا بھی احساس ہے اس بات کا۔‘‘ سونیا اپنے فل فارم میں آچکی تھی اس کی آواز سن کر سمیر شاہ اور ساحرہ بھی پریشان سے وہاں آن پہنچے تھے۔
’’تو گویا وہ لمحہ آہی گیا جس کے خوف سے میں آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔‘‘ اپنے ماں باپ کو اندر آتے دیکھ کر اس نے بے حد تکلیف سے خود سے کہا اور پھر کچھ ہی لمحے بعد کامیش کو بھی الجھا ہوا دروازے پر کھڑے دیکھ کر جیسے اس کی تمام ہمتیں پست ہوگئیں وہ ہارے ہوئے جواری کی مانند صوفے پر بیٹھتا چلا گیا۔
’’فراز پلیز مجھے بتائو تو سہی آخر میرا قصور کیا ہے‘ کس جرم کی مجھے تم اتنی بھیانک سزا دے رہے ہو۔‘‘ سونیا کی ٹون یک دم بدل گئی تھی آواز و لہجے میں زمانے بھر کی یاسیت بے چارگی اور بے بسی در آئی تھی۔
’’سونیا یہ… یہ سب کیا ہورہا ہے؟‘‘ انگشت بدندواں سی کھڑی ساحرہ نے بے پناہ گھبر کر استفسار کیا تو سونیا نے انہیں ڈبڈبائیں نگاہوں سے دیکھا۔
’’آنٹی یہ وہ انسان ہے جس نے مجھے نوعمری سے ہی اپنی محبت و چاہت کا سبق پڑھایا۔‘‘ الفاظ تھے یا ڈائنامک ایک ہی جست میں جس نے اس کی ذات کے پرخچے اڑا دیئے تھے۔
’’یہ… یہ شخص مجھ سے ہمہ وقت اپنی محبت اور دیوانگی کا دعویٰ کرتا رہا‘ میری آنکھوں پر خواہشوں اور خوابوں کی پٹی باندھ کر مجھے اندھا کرکے اپنا مقصد حاصل کرتا رہا‘ آنٹی یہ میرے دل میری روح کا قاتل ہے۔‘‘ آخر میں وہ بلک بلک کر رونے لگی جب کہ ساحرہ مجسمہ بنی ٹکر ٹکر کبھی سونیا کو دیکھ رہی تھی تو کبھی فراز کو۔
’’اس نے میری خوشیوں کو ڈس لیا‘ میرے دل کو ویران کردیا‘ مجھے کہیں کا نہیں رہنے دیا۔‘‘ سمیر شاہ سے مزید ضبط نہ ہوا تو وہ غصے کے مارے پھٹ پڑے۔
’’یہ کیا بکواس کیے جارہی ہو تم‘ میرا بیٹا ایسا ہرگز نہیں ہے وہ اس طرح کی کوئی بھی حرکت نہیں کرسکتا۔‘‘ سمیر شاہ کی آواز فراز اور کامیش کی سماعتوں سے ٹکرائی تو دونوں کا ہی سکتہ ٹوٹا تھا وہ سرعت سے کمرے میں داخل ہوا سونیا کی نگاہ جب کامیش پر پڑی تو وہ شدتوں سے رو دی۔
’’مجھ سے شادی کے عہد و پیمان کرکے بڑی بے دردی سے فراز نے مجھے ٹھکرایا۔ میرا دل ٹوٹ گیا‘ سارے خواب بکھر گئے مگر پھر بھی اسے چین نہیں آیا یہ معصوم بن کر ایک بار پھر میرے سامنے آیا اور اپنے کیے پر معافی تلافی کرکے مجھے کامیش سے شادی کرنے پر مجبور کرنے لگا۔‘‘ فراز ہونقوں کی طرح منہ کھولے سونیا کے تیزی سے چلتے لبوں کو دیکھ رہا تھا اس کے کانوں میں تمام بات پہنچ رہی تھی مگر ذہن بالکل ناکارہ ہوگیا تھا بھلا کوئی اتنی روانی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بول سکتا ہے‘ غلیظ بہتان لگا سکتا ہے وہ متحیر سا کھڑا بس اسے دیکھتا رہ گیا پھر اسی پل اس کی نگاہ کامیش پر پڑی تو وہ جیسے حواسوں کی دنیا میں لوٹا۔
’’جھوٹ… بالکل جھوٹ… مام ڈیڈی سونیا سب جھوٹ بول رہی ہے‘ من گھڑت کہانیاں سنا رہی ہے۔‘‘ سونیا نے تیزی سے اپنا سر جھٹکا پھر تڑپ کر بولی۔
’’بھلا مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے‘ کون سی ایسی عورت ہوگی جو خود اپنے گھر میں آگ لگانا چاہے گی۔ بتائو فراز کیا تم نے ہی مجھے فورس نہیں کیا تھا کہ میں کامیش سے شادی کرلوں اور جب میں سب کچھ بھول بھال کر پورے خلوص سے کامیش کی جانب بڑھی تو ایک بار پھر تم میرے راستے میں حائل ہوگئے مجھے ذہنی ٹارچر کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں اپنے ساتھ ساتھ کامیش کو بھی ٹارچر کرتی رہی صرف تمہاری وجہ سے فراز میں کامیش کی جانب نہیں بڑھ سکی اسے اپنے دل میں جگہ نہیں دے سکی سب کے سامنے تم سے پہلے جیسی دوستی والا ناٹک کرتی رہی‘ تمہاری غلط کار یوں پر پردہ ڈالتی رہی مگر تم… تم میرا جینا دوبھر کرتے رہے تم مجھے ہر لمحہ فورس کرتے رہے کہ میں کامیش کو بتادوں کہ میں کامیش سے نہیں بلکہ تم سے محبت کرتی ہوں۔ تم نے فراز… تم نے مجھ سے کہا کہ میں ملائیشیا جانے کی ضد کروں‘ کامیش کو خوب تنگ کروں تاکہ وہ مجھے چھوڑ دے اور تم مجھے اپنالو۔‘‘
’’اوہ یو شٹ اپ… اب اس سے آگے ایک بھی لفظ منہ سے نکالا تو میں تمہارا گلا دبا دوں گا۔‘‘ وہ غصے و اشتعال کے مارے تلملا اٹھا‘ تیزی سے اس کی جانب لپکا تو درمیان میں ساحرہ آگئی اس پل فراز کا فشار خون خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا گرم خون جیسے کنپٹیوں میں ٹھوکریں مارنے لگا‘ سونیا اس حد تک گر جائے گی یہ تو اس نے کبھی خواب میں نہیں سوچا تھا۔
’’اپنے آپ پر قابو رکھو فراز۔‘‘ ساحرہ بے حد سختی سے گویا ہوئی‘ فراز نے انتہائی متوحش ہوکر کامیش کو دیکھا جو پتھریلے تاثرات چہرے پر سجائے بالکل چپ چاپ کھڑا تھا‘ وہ لپک کر کامیش کی جانب آیا۔
’’کامیش میرے بھائی یہ… یہ سونیا بالکل جھوٹ کہہ رہی ہے‘ اس نے جو کچھ بھی کہا وہ صرف اور صرف جھوٹ کا پلندہ ہے اور کچھ بھی نہیں‘ کامیش پلیز مجھ پر بھروسہ کرو۔‘‘ وہ لجاجت بھرے لہجے میں بولا تو اسی دم سونیا بھی اس کے مقابل آگئی۔
’’کامیش فراز ہی جھوٹا‘ فریبی اور دھوکہ باز ہے تم سے شادی کے بعد بھی اس نے قدم قدم پر مجھے ورغلایا اسی نے مجھے فورس کیا کہ میں تمہارے دل میں یہ شک ڈالوں کہ ہم ایک دوسرے میں انٹرسٹڈ ہیں مگر کامیش مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ میں صرف فراز کے کہنے پر تمہارے ساتھ زیادتی کررہی تھی تمہیں ستا رہی تھی یہ مجھے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پاگل ہوئے جارہا تھا۔‘‘
’’بس لڑکی بہت ہوگیا تم نے تو بے حیائی کی تمام حدیں ہی پارکر ڈالی ہیں‘ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بھلا ایک عورت اپنی سطح سے اس حد تک گرسکتی ہے۔‘‘ آخر میں سمیر شاہ تاسف زدہ لہجے میں بولے تو ساحرہ تو جیسے پھٹ ہی پڑی۔
’’بس سمیر بہت ہوگیا‘ اب ایک لفظ بھی کسی نے سونیا کے بارے میں غلط نکالا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اور فراز تم… مجھے تو شرم آرہی ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے دفع ہوجائو‘ میری نظروں سے اور آئندہ کبھی اپنی صورت بھی مجھے مت دکھانا۔‘‘
’’مام…!‘‘ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا فقط اتنا ہی بول سکا جب کہ ساحرہ روتی ہوئی سونیا کو اپنے ساتھ لگائے وہاں سے چلی گئی‘ فراز نے جلدی سے کامیش کی جانب دیکھا ابھی وہ اس سے کچھ کہنے کا قصد کرہی رہا تھا کہ کامیش بھی بڑی خاموشی سے وہاں سے نکل گیا جب کہ فراز نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔
ء…/…ء
گڈو بیگم کل سے دیکھ رہی تھیں کہ مومن جان کا موڈ کسی بات پر بہت بگڑا ہوا ہے بات بے بات وہ کاٹ کھانے کا دوڑ رہا تھا۔
’’افوہ… کیا مصیبت ہے اس گھر میں ایک وقت کا ڈھنگ کا کھانا بھی نہیں مل سکتا۔‘‘ کھانا کھاتے ہوئے اس نے نوالہ بڑی بدتہذیبی سے پلیٹ میں پٹخا۔
’’کیا بات ہے مومن جان آخر کس بات پر تمہارا مزاج اتنا برہم ہے۔‘‘ گڈو بیگم کچھ حیرت و پریشانی سے استفسار کرتے ہوئے گویا ہوئیں تو مومن جان ہنوز لہجے میں بولا۔
’’تُو نے آج پھر سالن میں نمک تیز کردیا۔‘‘ گڈو نے کچھ دیر بغور اسے دیکھا پھر نمک دانی اس کی آنکھوں کے سامنے لہرا کر بولیں۔
’’آج تو سالن میں نمک بہت کم ہے‘ میں تو اوپر سے نمک ڈال کر سالن کھا رہی ہوں اچھا اب مجھے اصل بات بتاؤ جس کی وجہ سے تمہارے تیور اتنے بگڑے ہوئے ہیں۔‘‘ مہرو آج کھانا کھا کر جلدی سوگئی تھی لہٰذا اس پل وہ وہاں موجود نہیں تھی مومن جان نے بے حد ناگواری سے گڈو کو چند ثانیے دیکھا پھر جل کر بولا۔
’’تجھے بہت بہت مبارک ہو‘ ارے تُو تو لڈو پیڑے بانٹ شادیانے بجا‘ تیرے من کی مراد جو بر آئی ہے۔‘‘ گڈو نے اسے بے پناہ ناسمجھی والے انداز میں دیکھا پھر بے زاری سے گویا ہوئی۔
’’کیا اول فول بولے جارہے ہو‘ میرے تو کچھ بھی پلے نہیں پڑ رہا‘ سیدھے سیدھے بتائو ہوا کیا ہے۔‘‘ جب ہی مومن جیسے غصے سے پھٹ پڑا۔
’’ختم ہوگیا رشتہ مہرو کا‘ وہ گلاب بخش پلٹ گیا اپنی زبان سے مہرو کا رشتہ لینے سے اس نے صاف انکار کردیا میرے منہ پر۔‘‘
’’ہائیں کیا واقعی…‘‘ گڈو کے اندر تو جیسے مسرت و طمانیت کے دیئے روشن ہوگئے تھے پھر سرعت سے اس نے اپنی خوشی پر بھاری پردہ ڈالا۔
’’اوہ… کیا واقعی‘ مگر وہ کیونکر خود ہی رشتہ ڈال کر پیچھے ہٹ گیا۔‘‘
’’اونہہ مجھے کیا پتا… اتنا اچھا رشتہ یوں دیر کرنے پر تیری وجہ سے ہاتھوں سے نکل گیا یقینا وہ ہمارے دیر سے جواب دینے پر بدظن ہوگیا سارا قصور تیرا ہی ہے۔‘‘ مومن جان تمام الزام گڈو بیگم پر ڈال کر وہاں سے چلتا بنا جب کہ گڈو بیگم خوشی و سکون کے احساس میں گھری وہیں بیٹھیں اندر ہی اندر اپنے رب کریم کا شکریہ ادا کرنے لگیں۔
ء…/…ء
احمر مہوش کو اس وعدے پر دوسرے دن ہاسٹل واپس لے آیا تھا کہ وہ اپنا بھرپور خیال رکھے گی اور ذہن پر کسی بھی قسم کا کوئی بوجھ نہیں ڈالے گی احمر نے مہوش کی منت سماجت پر گھر والوں سے اس کی طبیعت خراب ہونے کی بابت کچھ نہیں بتایا تھا رات کو وہیں اس کے ہمراہ ہسپتال میں رکا جب کہ گھر والوں کو اس نے یہی کہا تھا کہ کسی دوست کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ ہسپتال میں ٹھہرا ہوا ہے۔ احمر نے ڈھیروں ہدایات اور تنبیہہ کرکے اسے دوبارہ ہاسٹل چھوڑا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب چلی آئی۔
صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے ہاسٹل میں کافی سناٹا تھا‘ ساری لڑکیاں کیمپس گئی ہوئی تھیں وہ اپنی جون میں چلتی ہوئی کمرے کی جانب آئی تو سامنے سے زرمینہ آتی دکھائی دی۔
’’ارے مہوش تم آگئیں‘ اب کیسا فیل کررہی ہو؟‘‘ زرمینہ خوش گوار حیرت میں گھر کر بولی تو مہوش نے سر اٹھا کر اسے نقاہت بھرے انداز میں دیکھا پھر ایک گہری سانس فضا کے حوالے کرتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ہوں اب کافی بہتر محسوس کررہی ہوں۔‘‘ پھر کچھ سوچ کر دوبارہ بولی۔
’’تم آج یونیورسٹی نہیں گئیں؟‘‘ زرمینہ نے اس پل اسے بغور دیکھا وہ اسے کافی بجھی سی لگی۔
’’ہاں آج کوئی خاص پیریڈ نہیں تھا تو میں نے اور زرتاشہ نے چھٹی کرلی‘ تم کمرے میں چلو تھوڑا ریسٹ کرلو۔‘‘ زرمینہ کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا تھوڑی دیر بعد وہ اپنے روم کے بستر پر نیم دراز تھی جب ہی دھیرے سے دروازہ ناک کرکے دونوں لڑکیاں اندر چلی آئیں۔
’’مہوش تمہیں نیند تو نہیں آرہی۔‘‘ زرمینہ اندر آتے ہوئے اس سے استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’ارے نہیں… نہیں‘ پلیز تم لوگ آئو نا۔‘‘ مہوش فوراً سے پیشتر بولی‘ آج کل اس کی روم میٹ اور سہیلی مسکان اپنے گھر بھائی کی شادی اٹینڈ کرنے گئی ہوئی تھی چونکہ رمشا مسکان کی کزن تھی لہٰذا وہ بھی یہاں موجود نہیں تھی اسی لیے مہوش آج کل اپنے روم میں اکیلی تھی۔
’’مہوش ہم تو سمجھ رہے تھے کہ کچھ دنوں کے لیے تم اپنے گھر چلی جائو گی مگر تم یہاں کیوں آگئیں‘ کچھ دن اپنے گھر میں آرام کرلیتیں۔‘‘ زرتاشہ اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے بولی تو مہوش ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی پھر بڑے مضمحل لہجے میں گویا ہوئی۔
’’بھائی بھی مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر مصر تھے وہاں میں سب لوگوں کو جواب دینے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی اور نہ ہی سب کا سامنا کرنے کی سکت تھی مجھ میں‘ اسی لے یہاں آگئی۔‘‘ زرتاشہ اور زرمینہ نے بغور اس کی بات سنی‘ زرمینہ چند ثانیے کچھ سوچنے کے بعد اپنائیت بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’اچھا اب تم یہاں آہی گئی ہو تو کچھ بھی فضول سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے ذہن کو بالکل ریلیکس رکھو‘ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سب اچھا ہی ہوگا تم بس اپنی صحت کی فکر کرو اور اپنا خیال رکھو‘ اوکے۔‘‘
’’جی جناب اگر آپ خدانخواستہ دوبارہ بے ہوش ہوگئی نا تو اس بار ہم تو ہرگز ہسپتال لے کر نہیں جائیں گے ورنہ تمہارا وہ جلاد… مم… میرا مطلب ہے وہ بھائی یقینا ہمیں پھانسی پر چڑھا دے گا۔‘‘ زرتاشہ مہوش کو دیکھ کر آنکھیں گھماتے ہوئے شرارت بھرے لہجے میں بولی تو مہوش بے اختیار ہنس دی۔
’’مہوش اگر تم چاہو تو ہمارے ساتھ روم شیئر کرلو تم یہاں بالکل اکیلی ہو اور تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔‘‘ زرمینہ کی بات پر مہوش سہولت سے انکار کرتے ہوئے بولی۔
’’تھینکس یار اٹس اوکے‘ میں اپنے کمرے میں آرام سے رہ لوں گی پھر تم دونوں بھی آتی جاتی تو رہوگی ناں۔‘‘ جواباً زرتاشہ اور زرمینہ اثبات میں سر ہلاگئیں۔
ء…/…ء
گڈو بیگم بے حد شاداں و فرح لالہ رخ کے گھر میں داخل ہوئی تھیں‘ امی جو باہر صحن میں نرم و گرم دھوپ میں بیٹھی ساگ کے پتے چن رہی تھیں‘ پہلی ہی نگاہ میں ان کی خوشی و مسرت کو بھانپ گئی تھیں۔
’’ارے گڈو بھئی آئو آئو‘ آج بڑے دنوں بعد چکر لگایا‘ سب ٹھیک تو ہے نا۔‘‘ امی انہیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولیں تو قریب آکر بے اختیار گڈو بیگم ان کے سینے سے لگ گئیں۔
’’ارے بھابی‘ تمہاری دعائیں کام کر گئیں‘ اپنی لالہ رخ کی بھی کوشش رائیگاں نہیں گئیں بس یوں سمجھو کہ میرے سینے پر دھری بھاری سل سرک گئی مانو پہاڑ جیسا بوجھ سر سے اٹھ گیا۔‘‘ وہ نان اسٹاپ خوشی سے لہک کر بولتی چلی گئیں۔ امی نے خوش گوار حیرت سے انہیں دیکھا۔
’’اب کچھ بتائو گی بھی یا یونہی پہیلیاں بھجواتی رہوگی۔‘‘ اسی دوران باتوں کی آوازیں سن کر لالہ رخ بھی باہر نکل آئی جو آفس جانے کے لیے بالکل تیار تھی۔ سلام کرنے کے بعد وہ بھی حیرت بھرے لہجے میں استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’خیر تو ہے نا پھوپو‘ آج آپ بہت خوش دکھائی دے رہی ہیں۔‘‘
’’ہاں بیٹی بات ہی کچھ ایسی ہے وہ اپنا گلاب بخش ہے نا‘ اس نے خود ہی اس رشتے سے انکار کردیا خود ہی میری مہرو کا پیچھا چھوڑ دیا۔‘‘ لالہ رخ اور امی چند ثانیے کے لیے ساکت سی ہوئیں پھر دوسرے ہی لمحے مسرت و طمانیت کا احساس رگ و پے میں سرائیت کر گیا۔
’’او اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ امی بے ساختہ ہاتھوں کو پھیلا کر بولیں تو لالہ رخ نے بھی دل ہی دل میں اللہ کا ڈھیروں شکر ادا کیا پھر چپکے سے خود سے بولی۔
’’تھینک یو فراز واقعی آپ گریٹ ہیں۔‘‘ اپنے دھیان سے چونک کر وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئی‘ مہرو کی امی کہہ رہی تھیں۔
’’یقین جانو میری تو راتوں کی نیندیں اڑی ہوئی تھیں ویسے مومن جان بہت غصے میں تھا مجھے ہی مورد الزام ٹھہرا رہا تھا مگر مجھے اس کی بالکل بھی پروا نہیں ہے بس میری بچی کی جان چھٹ گئی مجھے اور کیا چاہیے۔‘‘ پھر لالہ رخ دونوں کو اللہ حافظ کہہ کر بڑے مسرور انداز میں آفس کے لیے نکل گئی۔
ء…/…ء
ماریہ اس پل اپنے دونوں ہاتھوں پر سر گرائے بیٹھی تھی اس نے کئی مرتبہ ولیم کے سیل فون پر ٹرائی کیا مگر ہر بار اسے وہ بند ملا‘ ایک بار اس نے گھر کے نمبر پر بھی کال کی تھی مگر ولیم کی مام نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں بند ہے ماریہ ولیم کا رویہ سمجھتے ہوئے بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔ کل صبح کا واقعہ کئی بار ریوائنڈ ہوکر اس کی نگاہوں کے سامنے آرہا تھا ایک طرف تو ولیم نے بروقت آکر اسے بہت بڑی مصیبت اور آفت سے بچالیا تھا مگر دوسری جانب وہ یقینا میک کو وہاں اتنے فری انداز میں دیکھ کر یقینا ڈسٹرب ہونے کے ساتھ ساتھ ماریہ سے بدگمان بھی ہوگیا تھا۔ ماریہ کو یہ بات اچھی معلوم تھی کہ ولیم اس معاملے میں کافی حساس ہے وہ ماریہ کا دوسرے لڑکوں کے ساتھ زیادہ ہنسنا بولنا اور دوستی کرنا بالکل پسند نہیں کرتا وہ شروع سے ہی ایسا تھا اول تو ماریہ کی نیچر خود بھی کافی ریزرو تھی وہ خود ہی کسی لڑکے سے زیادہ بات چیت نہیں کرتی تھی مگر کبھی وہ کسی سے تھوڑا ہنس بول لیا کرتی تھی تو ولیم کا فوراً منہ بن جاتا تھا اس وقت تو ماریہ کو مطلق پروا نہیں ہوتی تھی بلکہ الٹا وہ ولیم سے ناراض ہوجاتی تھی مگر آج صورت حال کافی مختلف تھی ولیم ویسے ہی بہت ساری باتوں کو لے کر اس کی جانب سے ڈسٹرب تھا اور اب یہ نئی افتاد اس کے سر پر آگئی تھی وہ اسی وقت جان گئی تھی کہ میک کو وہاں دیکھ کر ولیم نے بمشکل اپنی ناگواری اور غصے پر قابو پایا ہے منتشر اور لامتناہی سی سوچیں سوچتے سوچتے جب اس کا دماغ پھٹنے لگا تو وہ کچن میں کافی بنانے کی غرض سے چلی آئی جہاں ابرام پہلے ہی سے موجود کافی تیار کررہا تھا۔
’’اوہ تم خود ہی یہاں آگئیں میں کافی لے کر تمہارے روم میں آنے ہی والا تھا۔‘‘ ابرام اسے دیکھ کر خوش گواری سے بولا جواباً ماریہ نے بڑی خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا جیسے ابرام کی آواز اس کے کانوں میں پڑی ہی نہ ہو۔ ابرام اس کی غائب دماغی کو لمحہ بھر میں محسوس کر گیا۔
’’ہنی آر یو اوکے؟‘‘ وہ بے ساختہ پریشان ہو اٹھا ماریہ جیسے اپنے دھیان سے چونکی اس نے قدرے ہڑبڑا کر اسے دیکھا پھر جلدی سے بولی۔
’’برو آپ کچھ کہہ رہے تھے کیا؟‘‘ چند ثانیے ابرام ماریہ کو بغور دیکھتا رہا جس کے چہرے پر اس پل بے چینی الجھن پریشانی اور اضطراب واضح طور پر جھلک رہا تھا‘ ابرام ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا پھر کچھ توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’میں کافی کے بارے میں کہہ رہا تھا‘ اچھا تم اپنے روم میں جائو کافی لے کر آرہا ہوں۔‘‘ جواباً ماریہ اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی تو ابرام کافی میکر کی طرف متوجہ ہوگیا پھر تھوڑی دیر بعد وہ ماریہ کے مقابل بیٹھا کافی کے دھیرے دھیرے گھونٹ بھرتا کسی گہری سوچ میں مستغرق تھا اس پل ماریہ بھی وہاں ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں تھی پھر کچھ دیر بعد وہ اپنے حال میں لوٹا اور ماریہ کو بغور دیکھتے ہوئے بولا۔
’’دیکھو ماریہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ میں تمہاری باتوں اور جو کچھ تم پہلے کرتی رہی ہوں‘ اس سے بالکل بھی خوش نہیں ہوں مجھے نہیں معلوم کہ تم نے اپنی پہلے والی ایکٹیوٹیز چھوڑ دی ہیں یا ابھی تم اس پر پابند ہو اور اس معاملے میں‘ میں تمہارا ساتھ بھی کبھی نہیں دوں گا کیوں کہ جو راستہ تم نے منتخب کیا ہے وہ سراسر غلط ہے تم اپنے آپ پر ہی نہیں ہم پر بھی ظلم کررہی ہو‘ تم ایک فریب ایک دھوکے کا شکار ہو اور بہت جلد تمہیں اپنی غلطی… نہیں غلطی نہیں بلکہ گناہ کا احساس ہوجائے گا۔‘‘
’’برو میں اب مزید اس بارے میں کچھ نہیں سننا چاہتی۔‘‘ ماریہ سے مزید برداشت نہ ہوا تو ابرام کی بات درمیان میں ہی قطع کرکے وہ اپنی جگہ سے بے قراری سے اٹھتے ہوئے چٹخ کر بولی ابرام نے بے اختیار اس کو دیکھا پھر کچھ توقف کے بعد بولا۔
’’اوکے اب میں اس بارے میں کچھ نہیں بولوں گا اور وعدہ کرتا ہوں تم سے کہ آگے بھی کچھ نہیں کہوں گا نہ تمہیں فورس کروں گا کہ تم واپس آجائو۔‘‘ بے اختیار ماریہ نے اسے چونک کر دیکھا تو ابرام اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
’’اب تو میں نے تم سے وعدہ کرلیا ہے کہ میں تمہارے کسی بھی معاملے میں تم پر سختی نہیں کروں گا مگر تمہیں مجھے بتانا ہوگا کہ پچھلے کچھ دنوں سے تم اتنی پریشان اور ہراساں سی کیوں ہو‘ میں نے کئی بار تمہیں نوٹ کیا ہے کہ تم بیٹھے بیٹھے اچانک کہیں کھو جاتی ہو پھر ایک دم خوف زدہ سی ہوجاتی ہو۔ یہ تو میں جان ہی کاچکا ہوں کہ یقینا تمہارے ساتھ کوئی بہت سیریس پرابلم ہے۔ ہنی‘ تم مجھ پر بھروسہ کرسکتی ہو اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں تمہارا بھروسہ کبھی نہیں توڑوں گا۔‘‘ ماریہ نے ابرام کا ایک ایک لفظ بہت توجہ سے سنا‘ جب وہ بات مکمل کرچکا تو ماریہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اس پل اس کی نگاہوں میں کسی گہری سوچ کی چھاپ اور تذبذب کا رنگ بھی کافی گہرا تھا۔ ابرام خاموشی سے اس کے چہرے کو تکتا رہا‘ کافی دیر دونوں کے درمیان جامد خاموشی چھائی رہی پھر جیسے وہ کسی نتیجے پر پہنچ گئی تھی۔
’’برو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ میں آج کل واقعی بہت پریشان ہوں دراصل…‘‘ بولتے بولتے وہ چند لمحوں کے لیے ٹھہری پھر تھوک نگلتے ہوئے تیزی سے بولی۔ ’’اس دن میری طبیعت خراب نہیں ہوئی تھی۔‘‘
’’کس دن؟‘‘ ابرام ناسمجھنے والے انداز میں یک دم بولا تو ماریہ نے ایک نگاہ اسے دیکھا پھر ہموار لہجے میں کہنا شروع کیا۔
’’جس دن میں گھر سے غائب ہوئی تھی دراصل مجھے کڈنیپ کرلیا گیا تھا۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ ابرام اپنی جگہ سے دو فٹ اچھلا۔ ’’مگ… مگر کڈنیپ تمہیں کس نے کیا تھا ہنی؟‘‘
’’سر پال اور ان کے گروپ نے۔‘‘ اور پھر وہ ابرام پر حیرتوں کے یکے بعد دیگرے پہاڑ توڑتی چلی گئی‘ ابرام ایک مسمریزم کی کیفیت میں بے پناہ اچنبھے سے اسے دیکھتے سب کچھ سنے گیا۔
’’برو میک تو میرے ہاتھ دھوکر بری طرح پیچھے پڑگیا ہے یقینا کل صبح میک کی یہاں موجودگی نے ولیم کو میری طرف سے کافی بدظن و بدگمان کردیا ہے۔‘‘ سب کچھ بول کر وہ ایک گہری سانس بھر کر خاموش ہوگئی جبکہ ابرام ہاتھوں میں سے بے حد متفکر سا یونہی بیٹھا رہا پھر معاً ذہن میں ایک خیال آیا تو تیزی سے سر اٹھا کر استفسار کرتے ہوئے گویا ہوا۔
’’یہ سر پال اور ان کے گروپ کو تمہاری ایکٹیوٹیز کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟‘‘
’’مجھے نہیں پتا برو‘ میں نے تو بہت محتاط رویہ اپنایا تھا۔‘‘ ماریہ پشیمانی سے بولی تو وہ بری طرح چڑ گئی۔
’’ہاں نظر آرہا ہے مجھے تمہارا محتاط رویہ۔ ارے عقل کی دشمن جب اتنے خطرناک راستے پر چل نکلی ہو تو اپنی حفاظت کا بھی خیال رکھتیں۔ جب میک تمہیں گھر پر فون کرسکتا ہے تو وہ کسی بھی وقت گھر میں بھی دھمک سکتا ہے‘ تم نے الماری سے وہ چیزیں ہٹانی تو چاہیے تھیں۔‘‘
’’یہ مجھ سے واقعی بہت بڑی غلطی ہوگئی۔‘‘
’’تمہیں اندازہ نہیں ہے سر پال اور ان کا گروپ ضرورت سے زیادہ شارپ مائنڈ ہے اور ان کا نیٹ ورک بھی کافی مضبوط اور وسیع ہے اور اگر ہم نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دیا تو نقصان ان کا نہیں بلکہ ہمارا ہوگا۔‘‘ ابرام بے پناہ ذہنی دبائو کے زیر اثر آچکا تھا‘ اپنے بائیں ہاتھ سے وہ اپنی پیشانی کو رگڑتے ہوئے بولا پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوا۔ ’’تم فی الحال میک اور سر پال کے سامنے اپنے اسٹیٹمنٹ پر ہی جمی رہو اور ہاں وہ چیزیں مجھے دے دو میں کسی محفوظ جگہ پر انہیں رکھ دوں گا۔‘‘
’’مگر برو…‘‘
’’ماریہ فار گاڈ سیک یار… مجھ پر بھروسہ کرو ان چیزوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے‘ وہ تمہاری ہیں تو میں اس بات کا خیال رکھوں گا اوکے۔‘‘ ابرام قطعیت بھرے لہجے میں بولا تو ماریہ نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلادیا۔
/…ء…/
اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے لالہ رخ نے امی کے ہمراہ دن کا کھانا ختم کیا‘ ابھی وہ برتن دھو ہی رہی تھی کہ مہرو آدھمکی۔
’’کیا ہورہا ہے؟‘‘ وہ آج خلاف معمول زیادہ چہکتی ہوئی نظر آئی۔
’’نظر نہیں آرہا کیا برتن دھو رہی ہوں۔‘‘
’’میں اس کی بات نہیں کررہی۔‘‘ وہ تھوڑا بے مزہ ہوئی تو لالہ رخ نے رخ موڑ کر اسے دیکھا‘ بے بی پنک سوٹ میں وہ گلابی گلابی سی بہت پیاری لگ رہی تھی۔
’’لگتا ہے تمہارا دماغ تھوڑا سرک گیا ہے مہرو‘ کس کی بات کررہی ہو تم؟‘‘ لالہ رخ تولیے سے اپنے ہاتھوں کو خشک کرتے ہوئے بولی۔
’’میں فراز بھائی کی بات کررہی ہوں کہ آج کل کیا ہورہا ہے‘ تمہاری بات ہوئی ان سے؟‘‘ وہ ہنوز چہکتے ہوئے انداز میں بولی تو لالہ رخ نے قدرے حیرت سے اسے دیکھا پھر چائے بنانے کی غرض سے پتیلی میں سنک کے نل سے پانی بھرتے ہوئے بولی۔
’’یہ فراز کا یہاں ذکر کہاں سے آگیا؟‘‘ مہرو نے شوخی سے آنکھیں مٹکا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میری جان… فراز بھائی کا ہی تو تذکرہ خیر ہے البتہ میں یہ نوٹ ضرور کرتی ہوں کہ تم ان کے ذکر سے کافی کتراتی ہو۔‘‘
’’افوہ مہرو… اب بند کرو اپنی یہ فضول باتیں مجھے بور مت کرو۔‘‘ لالہ رخ حقیقت میں بے زار ہو اٹھی تھی۔ مہرو نے چند لمحے اسے دیکھا پھر بڑی خوشی بھرے لہجے میں بولی۔
’’پتا ہے مہرو… ابا میرا رشتہ وشتہ طے کرنے کی سر توڑ کوشش کررہا تھا مگر مزے کی بات تو یہ ہوئی کہ وہاں سے خود ہی منع ہوگیا۔‘‘ لالہ رخ کے تیزی سے چلتے ہاتھ اس دم یک دم رکے تھے اس نے مڑ کر اسے دیکھا۔
’’تمہیں کیسے معلوم؟‘‘
’’کل رات میں نے ابا اور اماں کی باتیں جو سنی تھیں۔‘‘
’’تمہیں معلوم ہے رشتہ کس کا تھا؟‘‘ اس سمے لالہ رخ کے دل کی دھڑکنیں پل بھر کے لیے منتشر ہوئی تھیں۔
’’ہاں مجھے کل معلوم ہوا چاچا گلاب بخش کے بیٹے سے ابا میرا رشتہ جوڑنا چاہتا تھا جو نشے کی لت میں مبتلا ہے۔‘‘ وہ بے حد عام سے لہجے میں بول رہی تھی‘ لالہ رخ نے پریشان ہوکر اس کے چہرے پر کچھ کھوجنا چاہا مگر کسی بھی قسم کا دکھ یا افسوس کا ہلکا سا رنگ بھی اسے دکھائی نہیں دیا۔
’’مہرو…‘‘
’’پتا ہے لالہ… مجھے تو اب سو فی صد یقین ہوگیا ہے کہ ابا میرا سگا باپ ہے ہی نہیں‘ مجھے تو شروع دن سے معلوم تھا کہ وہ کہیں میرا رشتہ طے کرنا چاہ رہا ہے مگر میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ عین وقت میں‘ میں گھر سے بھاگ جائوں گی۔‘‘
’’مہرو…!‘‘ بے اختیار لالہ رخ نے چائے کی پتی کا ڈبہ سلیپ پر پٹخا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے بازوئوں کو تھاما۔
’’پاگل ایسا دوبارہ کبھی سوچنا بھی مت سمجھیں‘ ہم ہیں نا تمہارے ساتھ۔ تمہارے اوپر کبھی بھی کوئی زیادتی نہیں ہونے دیں گے اور چاچا گلاب بخش کے بیٹے کی تو ایسی کی تیسی‘ وہ تم سے شادی بھلا کیسے کرلیتا میں ایسا ہونے دیتی کیا؟‘‘ مہرو نے لالہ رخ کو چند ثانیے دیکھا پھر دھیرے سے مسکرادی پھر چولہے کی جانب پلٹتے ہوئے بولی۔
’’اچھا تم امی کے پاس کمرے میں جاکر بیٹھو‘ میں فٹافٹ چائے بناکر لارہی ہوں۔‘‘
’’مگر مہرو…‘‘ اس کی بات کو نظر انداز کرکے اس کے برابر میں کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔ ’’ویسے لالہ یہ کرمت ہوئی کیسے‘ چاچا گلاب بخش نے خود ہی رشتہ کرنے سے کیسے انکار کردیا؟‘‘ یک دم لالہ رخ کا ہاتھ رکا اس نے دزیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’مم… مجھے کیا معلوم… تم تو مجھ سے ایسے پوچھ رہی ہو‘ جیسے میں نے کچھ کیا ہے۔‘‘ وہ اس سے نگاہیں چراتے ہوئے ترشی سے بولی جب کہ مہرو اسے بغور دیکھتی رہی۔
’’افوہ مہرو… یہ تم شک کرنے کی عادت کو ختم کر ڈالو ورنہ تمہارا شوہر تم سے عاجز آجائے گا‘ سمجھیں۔ اب باہر امی کے پاس جاکر بیٹھو میں چائے لے کر آرہی ہوں۔‘‘ لالہ رخ لہجے میں بے زاری بھرتے ہوئے بولی اور آخر میں مہرو کو باہر کی جانب اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر دھکیلا تو مہرو تیزی سے باہر نکل گئی‘ لالہ رخ نے بے اختیار اطمینان کا سانس بھرا۔
ء…/…ء
گلاس وال سے باہر برستی بارش کو نجانے وہ کتنی دیر سے یونہی ساکت و جامد کھڑا دیکھے جارہا تھا باہر گھپ اندھیرے میں اسٹریٹ لائٹ کی مدقوق سی روشنی میں دکھائی دیتی۔ بوندیں عجیب سا سماں پیش کررہی تھیں‘ دو دن پہلے ہی وہ لندن پہنچا تھا اور اس وقت سے اب تک اپنے اپارٹمنٹ میں مقید تھا‘ کھانے کے نام پر صرف کافی سے گزارا کررہا تھا۔ سونیا نے اپنے انتقام اور بدلے کی آگ ٹھنڈی کرلی تھی‘ فراز شاہ کو انگاروں اور ذلت و رسوائی کے گڑھے میں دھکیل کر یقینا وہ سکون کی نیند سو رہی ہوگی۔
’’سمیر کہہ دو اس سے کہ آئندہ یہ مجھے اپنی کریہہ صورت کبھی نہ دکھائے۔ آج سے صرف میرا ایک ہی بیٹا ہے کامیش‘ یہ میرے لیے مر گیا۔‘‘ ساحرہ چلاتے ہوئے بولیں تھیں۔
’’مام…! آپ پلیز تحمل سے میری بات تو سن لیجیے مجھے کچھ کہنے کا موقع تو دیجیے۔‘‘ وہ ماں کے قدموں پر بیٹھا لجاجت بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔
’’فراز چلے جائو تم یہاں سے دور ہوجائو میری نظروں سے۔‘‘ ساحرہ تو جیسے کچھ بھی سننے سمجھنے کو تیار نہیں تھی‘ وہ کامیش کے پاس بھی آیا تھا۔
’’دیکھو کامیش میرے بھائی…‘‘
’’فراز اس وقت میں بہت تھکا ہوا ہوں‘ آرام کرنا چاہتا ہوں جاتے وقت پلیز دروازہ بند کرتے جانا۔‘‘ اپنے بیڈ پر نیم دراز کامیش سپاٹ لہجے میں بولا تھا جب کہ فراز محض اسے دیکھتا کر رہ گیا تھا۔
’’فراز میری جان خود کو سنبھالو اس طرح ہمت و حوصلہ مت ہارو‘ یہ تمہارے لیے بے حد کٹھن آزمائش کی گھڑی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بہت جلد گزر جائی گی‘ تم ضرور سرخرو ہوگے فراز اس لیے کہ تم حق پر ہو‘ تم سچے ہو اور بے شک اللہ رب العزت تمہارے ساتھ ہے بس ہمت کا دامن ہاتھوں سے نہ چھوڑنا میرے بچے۔‘‘ سمیر شاہ بھیگی ہوئی آواز میں بولے تھے۔
’’نہیں ہورہا برداشت ڈیڈ‘ مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہورہا‘ میرا دل پھٹ جائے گا ڈیڈی‘ میں مر جائوں گا۔‘‘ بولتے بولتے وہ بلک بلک کر رو دیا تھا‘ اتنا مضبوط سمیر خود کو سنبھالتے ہوئے بھی رو دیئے تھے۔
’’نہیں فراز… تم اس طرح کمزور نہیں ہوسکتے یوں ٹوٹ کر نہیں بکھر سکتے۔ تم میری زندگی بھر کی کمائی ہو میری جان‘ میں تمہیں اس حال میں نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ پھر بڑی مشکلوں سے سمیر شاہ نے اسے سنبھالا اور پھر اسے ائیرپورٹ چھوڑا تھا‘ ڈھیروں تسلیاں اور دلاسے دیئے تھے جبکہ فراز شاہ کے لبوں پر جامد چپ تھی‘ بورڈنگ کراتے وقت فراز کے سیل پر میسج کی بپ بجی تھی‘ اس نے بڑی بے دلی سے اسکرین کی جانب دیکھا تو سونیا کا نام جگمگاتا دیکھ کر اس نے بے حد سختی سے لبوں کو بھینچا تھا اور پھر بے رادہ ہی اسے اوپن کیا تھا۔
’’گڈ بائے فراز فار ایور۔‘‘ اس پل نفرت کا سیلاب جیسے سونیا کے لیے فراز کے اندر ابلا تھا‘ باہر ہنوز بارش جاری تھی فراز نے تھک کر اپنی پیشانی گلاس وال پر ٹکادی۔
ء…/…ء
ماریہ آج صبح ہی صبح ولیم کے گھر آدھمکی تھی‘ اس کے پیرنٹس نے خوش گوار حیرت کے ساتھ اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا تھا وہ انکل کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی جب کافی دیر لگا کر وہاں آیا اور نارمل انداز میں اس سے علیک سلیک کی‘ ولیم کے فادر قصداً دونوں کو پرائیوسی فراہم کرکے وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تو ماریہ بغور اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے بولی۔
’’ولیم میں دو دن سے مسلسل تمہیں فون کررہی ہوں مگر تمہارا سیل آف جارہا ہے فیس بک‘ ٹیوٹر کہیں پر بھی تم موجود نہیں ہو کیوں ولیم… کوئی بات ہے کیا؟‘‘ جواباً ولیم نے اسے جن نگاہوں سے دیکھا‘ ماریہ اندر ہی اندر جیسے سرد پڑگئی‘ بدگمانی طنز و تحقیر خفگی کیا کچھ نہیں تھا اس پل اس کی نظروں میں کچھ دیر تک وہ جیسے کچھ بھی بولنے کہنے سے قاصر ہوگئی۔ زبان گویا تالو سے چپک کر رہ گئی۔
’’تم انجام اور لاعلم بننے کی بہت اچھی ایکٹنگ کرلیتی ہو ماریہ… مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم ایک اچھی اداکارہ بھی ہو ویل ڈن۔‘‘ وہ بے حد استہزائیہ انداز میں بولا تو ماریہ نے اسے بے پناہ چونک کر دیکھا‘ ایک لمحے کو تو اسے یقین ہی نہیں آیا کہ ولیم اس کے لیے ایسے الفاظوں کا استعمال کررہا ہے۔
’’مجھے تو بہت پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا ماریہ‘ جو تم مجھے کافی وقت سے سمجھانے کی کوشش کررہی تھیں۔‘‘ وہ ہنوز لہجے میں مزید گویا ہوا تو ماریہ کے حواسوں نے تھوڑا کام کرنا شروع کیا۔
’’ولیم… ولیم تم یہ سب کیا بول رہے ہو‘ میری تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا۔ مجھے پتا ہے کہ تم مجھ سے ناراض ہونے کے ساتھ ساتھ بدگمان بھی ہو‘ میں تمہیں ہر بات کی وضاحت دینے ہی آئی ہوں۔‘‘ وہ بے چینی سے اپنی جگہ پر پہلو بدل کر گھبرائے ہوئے انداز میں بولی۔
’’مجھے تم سے کسی بھی قسم کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ماریہ اور میں تم سے کوئی لمبی چوڑی بحث بھی کرنے کے موڈ میں بھی نہیں ہوں۔‘‘ وہ بے حد رکھائی سے بولا تو ماریہ محض اسے دیکھتی رہ گئی پھر وہ بڑے اجنبی انداز میں اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔
’’مجھے اس وقت کہیں جانا ہے میں پہلے ہی لیٹ ہورہا ہوں سو پلیز…‘‘ ولیم کا صاف صاف مطلب تھا کہ اب وہ یہاں سے دفعان ہوجائے۔ ماریہ نے ایک نگاہ اسے دیکھا پھر اپنا ہینڈ بیگ کندھے پر جما کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اوکے ولیم بائے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ابھی مڑی ہی تھی کہ عقب سے ولیم کی بے حد سرد سی آزاد ابھری۔
’’اور ہاں جیکولین آنٹی سے کہہ دینا کہ میں تم سے شادی نہیں کروں گا۔‘‘ ماریہ جہاں کی تہاں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔
(باقی آئندہ ماہ ان شاء اللہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close