Aanchal Jan-17

نادانیاںِِ،شوخیاں اور اناڑی پیا

صائمہ قریشی

ہَوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بجھ گئے تو ہَوا سے شکایتیں کیسی
نہ صاحبان جنوں ہیں نہ اہل کشف و کمال
ہمارے عہد میں آئیں کثافتیں کیسی

تھے اناروں کے بے شمار درخت
اور پیپل کے سایہ دار درخت

 

نجانے کہاں سے اس کے ہاتھ میں کلیات اقبال لگ گئی تھی۔ جس کو وقت بے وقت پڑھنا ان دنوں اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ کمرے میں ٹہلتے ہوئے وہ آج گائے اور بکری سے لطف اندوز ہورہی تھی۔

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں
طائروں کی صدائیں آتی تھیں

وہ لہک لہک کر پڑھ رہی تھی۔ حسب معمول لیپ ٹاپ کھولے بیٹھے حسنین نے اسے دیکھا۔ ارادہ اسے ٹوکنے کا تھا۔

کسی ندی کے پاس اک بکری
چرتے چرتے کہیں سے آنکلی
جب ٹھہر کر اِدھر اُدھر دیکھا
پاس اِک گائے کو کھڑے پایا

حسنین نے کچھ کہنے کو لب وا کیے تھے کہ اس کا حیران کن لہجہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا۔ جس طرح اس نے باقاعدہ اِدھر اُدھر دیکھ کر اس فقرے کو پڑھا تھا وہ محظوظ ہوا تھا۔
واہ واہ کیا زبردست منظر نگاری ہے ناںکتاب کو ایک ہاتھ سے پکڑے دوسرا ہاتھ اٹھا کر وہ بے ساختہ بولی۔ حسنین کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔

کیوں بڑی بی مزاج کیسے ہیں؟
گائے بولی کے خیر اچھے ہیں

اس نے حسنین کی طرف دیکھتے دیکھتے شعر پڑھا۔ جس پر اس کا بے ساختہ قہقہہ اس کو سٹپٹا گیا۔
اس سے پہلے سلام دعا نہیں تھی وہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا تو فاطمہ نے یک لخت نظریں کتاب پر دوڑائیں۔

پہلے جھک کر اسے سلام کیا
پھر سلیقے سے یوں کلام کیا

وہ باقاعدہ کورنش میں بولی اور اس کی طرف دیکھا تو حسنین اسی کو دیکھ رہا تھا۔
کیا مجھے ایک کپ چائے مل سکتی ہے؟ اس نے کہا تو فاطمہ نے ایک دم سے دوبارہ کتاب کے صفحے پر نظریں دوڑائیں۔
کیوں بڑی بی مزاج کیسے ہیں؟
گائے بولی کے خیر اچھے ہیں وہ زیرلب بڑبڑائی اور پھر اسے کہا۔
نہیں نہیں آگے ایسے نہیں ہے۔ وہ اس سے چائے نہیں مانگتی اس کا حال پوچھتی ہے فاطمہ اس کی طرف قدم بڑھاتی ہوئی بولی۔
وہاں نہیں لکھا ہوا پر مجھے چاہیے حسنین نے کہا۔
میں تو اس وقت چائے نہیں تیار کرسکتی فاطمہ بیڈ کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
کیوں؟ اس نے چبھتی نظروں سے اسے دیکھا۔
جان پر آبنی ہے کیا کہیے فاطمہ منہ بسور کر بولی۔
خدا خیر کیا ہوا؟ حسنین اس کی طرف متوجہ تھا۔

دیکھتی ہوں خدا کی شان کو میں
رو رہی ہوں بروں کی جان کو میں

فاطمہ ابھی تک گائے اور بکری میں کھوئی ہوئی تھی۔
چائے لادو اب حسنین نے اس کے بھینچے لبوں کی مسکراہٹ کو تیکھی نظروں سے دیکھا۔
مجھے ابھی بہت سارے کام کرنے ہیں وہ ابھی تک انکاری تھی۔
مثلاً کون کون سے کام؟ اب وہ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
یہ کپڑے دھونے ہیں فاطمہ نے ایک دوپٹے میں بندھے کپڑوں کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
یہ پریس کرنے ہیں۔ زرفین کے ساتھ مارکیٹ جانا ہے فاطمہ اس کی طرف دیکھ کر انتہائی لاچار شکل بنا کر بولی۔
واقعی تم نے تو بہت سارے کام کرنے ہیں حسنین کے لہجے میں واضح طنز کو اس نے نظر انداز کردیا تھا۔
آپ اپنے لیے چائے خود ہی پکالیں میں اپنے کام کرلیتی ہوں وہ ڈھٹائی سے بولی۔
تم چائے لے آؤ مل کر پیئں گے۔ پھر میں کپڑے دھونے میں تمہاری مدد کردوں گا حسنین نے کہا۔ فاطمہ نے چونک کر اسے دیکھا دوسرے ہی پل اٹھ کر اس کے پاس آکھڑی ہوئی۔ اپنا ہاتھ اس کے ماتھے پر رکھا اور چند پل سانس روکے کھڑی رہی۔
آپ کو بخار تو نہیں ہے۔ آنکھیں بھی کھلی ہیں اس کا مطلب کے نیند میں بھی نہیں ہیں فاطمہ نے ہاتھ ہٹا کر بغور اس کو دیکھا۔ حسنین نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا۔
کیا مطلب؟ سب سمجھتے ہوئے بھی اس سے پوچھنے لگا۔
ابھی ابھی جو آپ نے کہا وہ مکمل ہوش و حواس میں کہا ہے ناں؟ فاطمہ مشکوک نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی۔
میں نے کیا کہا؟ وہ مسکراہٹ دبا کر اس کو تنگ کرنے لگا۔
یہی کہ میں آپ کے لیے چائے پکادوں تو آپ میرے کپڑے دھو دیں گے؟
دھو نہیں دوں گا مدد کروں گا حسنین نے اس کی طرف دیکھ کر کہا تو وہ اپنی چالاکی اور لفظوں کے ہیر پھیر کے پکڑے جانے پر منہ بسور کر رہ گئی۔
اچھا پھر اب مکر نہ جانا وہ اس سے وعدہ لیتے چائے لانے کی حامی بھرنے لگی۔
نہیں مکروں گا وہ ہنستے ہوئے بولا۔

ہتھکنڈوں سے غلام کرنا ہے
کن فریبوں سے رام کرنا ہے

کن فریبوں سے رام کرنا ہے اس نے کلیات اقبال کو بک شیلف میں رکھتے ہوئے آخری نظر ان صفحات پر ڈالی اور انتہائی تپ کر شعر پڑھا۔ ایک غصیلی نظر حسنین کے قہقہے پر ڈالی اور باہر نکل گئی۔

میں مدد کردوں ناں؟ اس کو چائے دے کر وہ کپڑے اٹھانے لگی۔ تو وہ پوچھنے لگا۔
وہ تو کرنی ہی پڑے گی۔ اسی شرط پر تو چائے پکا کر دی ہے وہ میلے کپڑوں میں مزید کچھ جوڑے رکھتے ہوئے بولی تو حسینن کھسیانا سا ہنس دیا۔
مطلب معافی کی گنجائش بالک بھی نہیں وہ منمنایا۔
ایک فی صد بھی نہیں کپڑوں کو الگ کرتے ایک پل کو اس کے ہاتھ رکے اور ابرو اچکا کر اسے دیکھ کر کہا۔
چائے میں چینی کم ہے وہ کپڑوں کے ڈھیر کو بازو میں دبوچے باہر کی جانب بڑھی کہ اس کی آواز پر پلٹ کر اسے دیکھا۔
چینی اتنی ہی ہے جتنی ہوتی ہے۔ یہ پھیکا پن آپ کی وعدہ خلافی کا ہے برجستہ انداز اس کو خجل کر گیا۔
میں نے کب وعدہ خلافی کی؟ سوال کیا۔
وعدہ خلافی کا سوچا تو تھا ناںاس کو چڑا کر بولی۔
سوچوں پر پابندی کہاں کا قانون ہے؟ وہ جمائی لیتے ہوئے پوچھنے لگا۔
یہاں کا قانون ہے۔ یہ سارے کپڑے لے کر تشریف لے آؤ پھر نہ کہنا بتایا نہیں فاطمہ نے میلے کپڑوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کیونکہ آدھے کپڑے وہ اٹھا کر لے گئی تھی۔ حسنین نے گہرا سانس لے کر اثبات میں سر ہلایا۔
شادی کرکے پھنس گیا یار اچھا خاصا تھا کنوارہ وہ زیرلب بڑبڑایا اور ایک ہی سانس میں چائے کا کپ خالی کرکے اٹھ کھڑا ہوا اور فاطمہ کے بتائے گئے کپڑوں کو اٹھا کر باہر کی جانب بڑھا۔
یہ کہاں رکھنے ہیں؟ وہ برآمدے کے اس کونے کی طرف آیا جہاں واشنگ مشین لگائے فاطمہ کپڑے دھونے میں مشغول تھی۔
ان کو اسٹول پر رکھ دیں لیکن احتیاط سے
کیوں کانچ کے ہیں کیا جو ٹوٹ جائیں گے فاطمہ کی ہدایت پر حسنین نے تپ کر کہا۔
کانچ کے نہیں ہیں لیکن فرش گندہ ہے کیچڑ لگ جائے گا فاطمہ نے دھو کر رکھے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔ تو حسنین گہرا سانس خارج کرتا کپڑوں کو رکھنے لگا۔
میرے لیے کیا حکم ہے؟ حسنین آج سراسر طنز کے موڈ میں تھا۔ فاطمہ نے حیران ہوکر اسے دیکھا۔
بڑے حکم مانتے ہیں ناںوہ منہ بنا کر بولی۔
یہ والا تو مانا ہے ناں
حکم نہیں مانا اپنا وعدہ پورا کررہے ہیں فاطمہ نے اسے دیکھ کر کہا۔
جو بھی ہےوہ ایک دوسرے اسٹول پر دھلے کپڑے اٹھا کر ان کو ذرا سا فاصلے پر بچھی چارپائی پر رکھنے لگا۔ ارادہ خود اسٹول پر بیٹھنے کا تھا۔
ان کو واشنگ لائن پر ڈال دیں۔ پلیز یہاں نہ رکھیں فاطمہ نے اسے دیکھ کر کہا تو حسنین کو اس کی بات ماننی پڑی۔
اچھا آپ ان کپڑوں سے صرف شرٹس دھو دیں۔ میں تب تک آپ کے اور اپنے کپڑے پریس کرلوں گی فاطمہ نے ہلکے رنگ کے سارے کپڑے دھو کر واشنگ لائن پر ڈال کر حسنین کو دیکھ کر کہا۔
کیا تم سچ میں مجھ سے کپڑے دھلواؤ گی! متعجب نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھا۔
وعدہ کیوں کیا تھا؟ وہ دونوں ہاتھ کمر کے خم پر رکھ کر اس کو گھور کر پوچھنے لگی۔
وعدہ کیا تھا تو تم وعدہ پورا نہ کرنے دو اب وہ کپڑے دھونے سے وہ بھی زنانہ کپڑے دھونے سے ہچکچا رہا تھا۔
میں اتنی اچھی نہیں ہوں فاطمہ نے اسے دیکھا۔
نہیں تم بہت اچھی ہو حسنین نے خوشامدانہ انداز اپنایا۔
آپ بھی اپنے اچھا ہونے کا ثبوت پیش کریں اب فاطمہ تو کسی صورت میں اس کو مکرنے نہیں دے رہی تھی۔
اور یہ اتنے مشکل کپڑے نہیں ہیں۔ ایک ساتھ ڈال دو مشین میں اور دس منٹ بعد نکال کر ٹب کے صاف پانی میں اور پھر واشنگ لائن پر فاطمہ اس کو ہدایت دے کر وہاں سے چلی گی۔ تو چارو ناچار حسنین کو اس کی ہدایت پر عمل کرنا پڑا۔ اگلے لمحے وہ سارے کپڑے واشنگ مشین میں ڈال کر مشین آن کررہا تھا۔

تمہیں شرم نہیں آتی؟ وہ کمرے کی ساری چیزوں کو اُتھ پتھل کیے مسلسل کچھ تلاشی کررہی تھی کہ زرفین کی گرج دار آواز نے اسے بوکھلا دیا۔
اف مر گئیاس کی اچانک اور غصیلے لہجے پر دونوں پاؤں پر بیٹھی بیڈ کے نیچے کچھ تلاشی کرتی فاطمہ ایک دم پیچھے گری تو زرفین کو اپنی ہنسی روکنا محال ہوا۔
کیا بدتمیزی ہےفاطمہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کی مدد لینی چاہی لیکن وہ مسلسل ہنسے جارہی تھی۔ بمشکل بیڈ کا سہارا لیے فاطمہ اٹھی تھی۔
ہمارے گھر میں جن ہیں دوسرے لمحے فاطمہ زرفین کے پاس آکھڑی ہوئی اور ڈری سہمی آواز میں بولی۔
جن نہیں چڑیل ہے اور وہ تم ہو زرفین نے اسے دیکھ کر تپ کر کہا۔ تمہیں شرم نہیں آتی بھائی سے کپڑے دھلواتے ہوئے زرفین نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
اور تمہیں شرم نہیں آتی پہلے تو مجھے چڑیل کہا اب مجھ پر الزام لگا رہی ہو فاطمہ مسلسل کچھ تلاش کرنے میں مصروف تھی۔
اور تمہارے بھائی سے میں کپڑے نہیں دھلوا رہی۔ انہوں نے خود وعدہ کیا تھا کہ وہ میری مدد کریں گے۔ اب تم یہ جاہل ساس والا کردار نبھانہ بند کرو۔ میں بتارہی ہوں کہ ہمارے گھر میں جن ہیں فاطمہ تیز تیز بولتی ایک بار پھر اس کے پاس آکھڑی ہوئی۔ زرفین نے متعجب نظروں سے اسے دیکھا۔
جاہل ساس کس کو کہا؟ زرفین نے اسے گھورا۔
کہا تو نہیں بس مثال دی ہے ناں فاطمہ اب قدرے اکتاہٹ سے بولی۔
اچھا یہ جن والا کیا قصہ ہے؟ اب زرفین نے پوچھا۔
ہمارے کمرے میں جن ہیں۔ چیزیں غائب کردیتا ہے‘ یا اِدھر اُدھر رکھ دیتا ہے فاطمہ نے زرفین کا ہاتھ پکڑ کر مدھم آواز میں کہا تو اس نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔
ہاں تو آج سے پہلے چیزیں غائب بھی تو نہیں ہوئی ناں؟ وہ جھنجھلائی۔
کیا غائب ہوا ہے؟
میرے کپڑے۔ وہ وائٹ سوٹ جو تم نے دیا تھا۔ میں نے یہاں رکھا تھا پریس کرنے کے لیے لیکن اب یہاں نہیں ہے۔ ہر جگہ دیکھ لیا فاطمہ نے اسے بتایا تو زرفین بھی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔
ہوسکتا ہے کہ نہ نکالا ہو وارڈروپ میں ہی ہو زرفین نے کہا۔
نہیں ہے ناں وہاں بھی فاطمہ منہ بسور کر بولی۔
تم مانو یا نہ مانو جن آگئے ہیں فاطمہ نے تو فیصلہ کرلیا تھا اور اس پر یقین کی مہر بھی لگادی تھی۔
فضول نہ ہانکو اور یہ کمرے کی کیا حالت بنا رکھی ہے حسنین کمرے میں داخل ہوا تو ہر طرف بکھری چیزوں اور فاطمہ کی بے زار حالت کو دیکھ کر پوچھا۔
بھائی فاطمہ کا وائٹ سوٹ نہیں مل رہا اور محترمہ کا خیال ہے کہ کمرے میں جن ہیں جو پہلے تو چیزوں کی ترتیب بدلتے تھے اور اب تو غائب بھی کرنے لگے ہیں زرفین نے ہنستے ہوئے حسنین کو بتایا۔ جب کہ فاطمہ اب خاموش تھی۔ زرفین کمرے میں بکھری چیزیں سمیٹنے لگی۔ حسنین نے زرفین کی بات سنی اور باہر نکل گیا۔ زرفین نے اس کو باہر جاتے دیکھا۔
اچھا اب ایسے منہ بنا کر نہ بیٹھو۔ یہاں ہی کہیں ہوگا سوٹ مل جائے گا اب کوئی اور پہن لو اور جلدی تیار ہوجاؤ دیر ہورہی ہے زرفین بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس کو تسلی دینے لگی۔
یار تمہیں پتہ ہے مجھے وہ سوٹ کتنا پسند ہے۔ یوں سمجھ لو کہ مجھے اس سوٹ سے محبت سی ہوگئی ہے۔ اس لیے انتہائی احتیاط سے پہنتی ہوں۔ سارے کاموں سے فارغ ہوکر وہ بھی صرف خاص موقعوں پر فاطمہ انتہائی دل برداشتہ ہورہی تھی۔ زرفین مسکرانے لگی۔
تمہارے لیے ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری زرفین نے کچھ کہنے کے لیے لب واکیے ہی تھے کہ حسنین کمرے میں داخل ہوا۔ دونوں نے چونک کر اسے دیکھا۔
پہلے اچھی خبر سناتا ہوں وہ مسکرا کر بولا۔
حسنین بھائی پہلے بری خبر سنائیں زرفین تیزی سے بولی۔
پہلے اچھی خبر سن لو۔ پہلے بری سنائی تو پھر اچھی خبر بھی بری بن جائے گی
ہیں کیا مطلب وہ کیوں؟ فاطمہ نے حیرت سے پوچھا۔
تمہارا سوٹ مل گیا ہے حسنین نے مسکرا کر اسے اچھی خبر سنائی۔
رئیلی اف شکر ہے میں تو اداس ہوگئی تھی فاطمہ یک دم ہی پُرجوش ہوگئی تھی۔ ہنستے ہوئے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
کہاں تھا ادھر ہی ہوگا۔ ایویں ہی جن کا شور مچایا ہوا تھا زرفین نے اس کو دیکھ کر کہا۔ اور بری خبر؟ یک دم ہی زرفین کو خیال آیا۔ فاطمہ نے بھی سوالیہ نظروں سے حسنین کو دیکھا۔
بری خبر وہ یہ میرا مطلب ہے کہ وہ شہید ہوگیا حسنین یک لخت بوکھلاہٹ کا شکار ہوا۔
کون شہید ہوگیا؟ وہ دونوں ایک ساتھ بولیں۔
ہائے اﷲ یہ کیا ہے؟ حسنین نے پیچھے بندھے ہاتھ میں پکڑی شرٹ کو سامنے کیا۔ فاطمہ برق رفتاری سے بڑھی۔ زرفین نے بھی حیرت سے دیکھا۔
مجھے کیا پتہ تھا کہ ان رنگین کپڑوں کے ساتھ تمہاری یہ شرٹ بھی رکھی ہے حسنین اس کو تفصیل بتانے لگا۔
میں نے سارے کپڑے ایک ساتھ مشین میں ڈال کر دس منٹ کے بعد نکلا کر ان کو صاف پانی میں ڈال کر واشنگ لائن پر ڈال کر یہاں آیا۔ تم سے پوچھنے کے ان کپڑوں میں تو نیم رنگ کے کپڑے بھی تھے حسنین گھسیانا سا ہنس کر مزید بولا۔ جب کہ فاطمہ پھٹی پھٹی نظروں سے اس کے ہاتھ میں پکڑی وائٹ کلر کی شرٹ کو دیکھے جارہی تھی۔
بھائیزرفین نے دانت پیسے۔
پہلی بار میری مدد کی ہے۔ پلیز آئندہ میری کوئی مدد کرنے کا وعدہ مت کرنا فاطمہ یک لخت غصے سے بولی۔
میری فیورٹ شرٹ کا ستیاناس کردیا فاطمہ نے اس کے ہاتھ سے گیلی شرٹ کو کھینچ کر بیڈ پر پٹخا اور رونے لگی۔
دیکھے اپنے بھائی کے کام اب وہ زرفین سے مخاطب ہوئی۔
اب مجھے کیا پتہ تھا کہ ان کپڑوں میں یہ بھی ہے حسنین نے لاپروائی سے کہا۔
یہ علیحدہ رکھے تھے فاطمہ مزید بولی۔
ویسے یہ کلر بھی اچھا لگ رہا ہے حسنین نے شرٹ اٹھا کر زرفین کو دیکھا۔ جو اب ہنسی پر قابو پانے کی کوشش میں تھی۔ لیکن فاطمہ کے غصے کی وجہ سے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ حسنین کی بات پر بے ساختہ ہنسی۔
ہاں یہ بھی اچھا لگ رہا ہے دوسرے ہی پل اس نے بھائی کا ساتھ دیا۔ فاطمہ نے خون خوار نظروں سے دونوں کو گھورا۔
زرفین ایسا کرنا اس پر کالے بٹن لگانا۔ ساتھ میں اچھی سی پرنٹڈ شال اور ریڈ شیڈز میں ٹراؤزر واہ کتنا زبردست سوٹ تیار ہوجائے گا حسنین مسکراہٹ دبا کر فاطمہ کو دیکھ کر بولا۔
ہاہاہا اب زرفین اپنا قہقہہ روک نہ سکی۔ فاطمہ نے دانت پیس کر دونوں کو دیکھا۔ لیکن وہاں تو اس کے غصے کا کوئی اثر نہ تھا۔
تم سوٹ تیار کردینا میں شال لے آؤں گا حسنین نے زرفین کو شرٹ دی اور کہا۔ وہ ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی اور شرٹ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
سوری یار حسنین اب اسے منانے کی کوشش کرنے لگا۔
اس کے بدلے نیا سوٹ چاہیے مجھے فرمائش کی گئی۔
زرفین سے کہا ہے ناں۔ اسی کو ڈیزائن کرتے ہیں صاف انکار کرنا مشکل تھا اس لیے فرمائش کا رخ موڑا۔

زور چلتا نہیں غریبوں کا
پیش آیا لکھا نصیبوں کی

میری قسمت میں تو اناڑی پیا ہی لکھا ہے وہ زیرلب مسکرائی اور راضی ہوئے بغیر پیر پٹختی باہر نکل گئی۔ حسنین نے مسکرا کر اسے جاتے ہوئے دیکھا ور اپنے اناڑی پن پر دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوسنے کے ساتھ ساتھ اس کو سدھارنے کی تراکیب بھی سوچنے لگا۔

ہم وہ بدنصیب عورتیں ہیں جن کی آدھی عمر تو یہی سوچنے میں گزر جاتی ہے کہ آج کیا پکائیں اور باقی عمر جو پکائیں وہ گھر والوں کو زبردستی کھلانے میں پچھلے دو گھنٹے سے وہ کچن میں کھڑی کچھ پکانے کے لیے سوچ رہی تھی۔ زرفین کے کچن میں آتے ہی تپ کر بولی۔
اب کیا ہوا؟ زرفین نے فروٹ باسکٹ سے ایپل نکال کر کاٹتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھا۔
آج کیا پکاؤں؟ وہ منہ بسور کر بولی۔
گوشت‘ چکن پچھلے چار پانچ دنوں سے روز ہی پکایا جارہا ہے۔ اب تو جی اوب گیا ہے اور کوئی سبزی کا موڈ نہیں ہے
ہاں تو دال ہی باقی ہے ناں زرفین نے اسے دیکھ کر کہا۔
دال ہی ہے لیکن تم سب کو تو کولسٹروں لیول کو اوقات میں رکھنے کا ایسا چسکا پڑا ہے کہ مسور اور لوبیا کے علاوہ اور کوئی دال نظر میں ہی نہیں آتی فاطمہ نے چڑ کر کہا۔
کیا مطلب ہے اور دالیں بھی پکتی ہیں ناںزرفین ایپل کاٹ کر اس کا بائٹ لے کر اس سے مخاطب ہوئی۔
گوشت چکن سے پہلے مسور کی دال کا ہی راج تھا ناں؟ فاطمہ نے تپ کر کہا تو زرفین ہنس دی۔
تو کوئی اور دال پکالو وہ الہڑ انداز میں بولی۔
اور کون سی پکاؤں؟ فاطمہ پُرسوچ انداز میں بولی۔
ایسا کرو مونگ کی یا ماش کی دال پکالو زرفین نے فٹافٹ بتایا۔
تم پہلے سے سوچے بیٹھی ہو کیا کہ آج مونگ یا ماش کی دال پکانی ہے؟ فاطمہ نے تفتیشی نظروں سے اسے دیکھا۔
نہیں تووہ ہنستے ہوئے بولی۔
پھر اتنا دماغ کیسے چل رہا ہے؟ فاطمہ ابھی تک مشکوک نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
ایپل بھی تو کھا رہی ہوں نا کچھ تو اثر ہوگا ناں زرفین نے ہنستے ہوئے کہا۔ فاطمہ نے اس کے ہاتھ سے ایپل کا ٹکڑا لے کر منہ میں ڈالا۔
اوں ہوں اثر نہیں ہونے والا زیادہ کمی ہے زرفین نے مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھا۔ فاطمہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
وٹامن عین‘ قاف اور لام کی زرفین قہقہہ لگا کر بولی تو فاطمہ نے خون خوار نظروں سے اسے دیکھا۔
یہاں آکر ہی یہ وٹامن متاثر ہوا ہے ورنہ ہمارا شمار بھی اچھے خاصے عقل مندوں میں ہوا کرتا تھا فاطمہ نے شیخی بگھاری۔
اور یہ کس صدی کا واقعہ ہے؟ زرفین نے پوچھا۔
تم ناں زیادہ میری ساس نہ بنا کرو فاطمہ نے قہر آلود نظر اس پر ڈال کر دالوں والا کپ بورڈ کھولا۔
اف یہاں تو ماش کی دال ہی نہیں ہے۔ ہاں مسور کی دال کے تین پیکٹ موجود ہیں فاطمہ نے زرفین کے قہقہے کو نظر انداز کرکے منہ بسور کر کہا۔
کوئی بات نہیں بھائی گھر پر ہی ہیں ان سے کہو اس نکڑ والی دکان سے لے آئیں گے زرفین نے کہا اور باہر نکل گئی جبکہ فاطمہ حسنین کی تلاش میں کمرے کی جانب چل دی۔
سنیے جی؟ چہکتا انداز اس کی سماعت سے ٹکرایا تو لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظریں ہٹا کر حیرت سے اسے دیکھا۔
واؤ کتنے ہینڈسم لگ رہے ہیں وہ اس کی طرف بڑھی دونوں ہاتھ اپنے گالوں پر رکھے پُرجوش انداز میں بولی۔ حسنین نے متعجب نظروں سے پہلے اسے اور پھر اپنے خالصتاً کمرے والے حلیے کو ملاحظہ کیا جو ڈھیلی ڈھالی ٹراؤزر اور بنیان میں کسی اینگل سے بھی ہینڈسم کے زمرے میں نہ آرہا تھا۔ وہ اس کے پاس آبیٹھی۔ حسنین نے اس کی طرف دیکھا۔ لیپ ٹاپ کی اسکرین بند کی اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور چند پل سانس روکے بیٹھا رہا۔
تمہیں بخار تو نہیں ہے۔ نیند میں چلنے کی عادت بھی نہیں ہے پھر ابھی ابھی جو کہا کیا حواسوں میں ہو؟ حسنین مسکراہٹ دبا کر اب اس کو چھیڑنے لگا۔ فاطمہ نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔
کاپی کیٹ زیرلب بڑبڑائی۔
پھر وہی بڑبڑاہٹ حسنین نے گہرا سانس لیا۔
ماش کی دال لادیں پلیز اس سے پہلے کے حسنین مزید کوئی بات کرتا وہ بولی۔
اچھا تو یہ خوشامد اس لیے ہورہی تھی وہ خشمگین نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
نہیں پہلی نظر میں لگے تھے اب پھر سے لوفر لگ رہے ہیں فاطمہ ہنستے ہوئے بولی۔ لادیں ناںوہ دوبارہ لیپ ٹاپ اٹھانے لگا کہ وہ منت بھرے لہجے میں بولی تو چارو ناچار اس کو اٹھنا پڑا۔ اس کے جاتے ہی فاطمہ کچن میں آگئی۔
کون سی دال کہی تھیکتنی ہی دیر گزر گئی وہ اس انتظار میں تھی کہ حسنین دال لے کر آئے گئے۔ وہ آیا لیکن یہ پوچھنے کہ کون سی دال لانی ہے۔ فاطمہ نے سر پیٹ کر اسے دیکھا۔
ماش کی دال اور پلیز ذرا جلدی واپس آجانا وہ دانت کچکچا کر بولی۔ وہ دروازے سے ہی واپس پلٹ گیا اور وہ پھر انتظار کرنے لگی۔
ابھی تک کھانا تیار نہیں ہوا؟ وہ انتظار میں ہی تھی کہ زرفین کچن میں وارد ہوئی۔ فاطمہ سر پکڑ کر بولی۔
یہ لو اپنی مسور کی دال حسنین کچن میں داخل ہوا اور مسور کی دال کا پیکٹ اس کی طرف اچھالتے ہوئے پُرجوش انداز میں کہا۔
ماش کی دال لانی تھی ناں فاطمہ نے پیکٹ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
کیا ماش کی دال کہی تھی! حسنین کا سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ حیرانی سے اس سے پوچھا۔ جب کہ زرفین ایک بار پھر ان کے اناڑی پن پر قہقہے لگا رہی تھی۔
پھر تم کہتی ہو کہ میرے بھائی کو اناڑی پیا نہ کہا کرو فاطمہ نے خون خوار نظروں سے حسنین کو کچن سے جاتا اور زرفین کو بے تحاشہ ہنستے دیکھا اور دانت پیس کر کہا۔
کوئی بات نہیں آج تم بھی اپنے پروٹین لیول کو‘ کولیسٹرول لیول پر ذرا سی توجہ دے لو زرفین نے اس کو دیکھ کر کہا اور کچن سے باہر نکل گئی اور فاطمہ نہ چاہتے ہوئے بھی آج پھر مسور کی دال پکانے لگی۔

لیکن میں بور ہوجاؤں گی ناں وہ منہ لٹکا کر احتجاج کرنے لگی۔
عجیب مخلوق ہو تم بھی۔ ارے دو دن ہیں بھائی کے ساتھ عیش کرنا اسے چھیڑا۔
ہاں ہاں تمہارا بھائی عیش کراتا بھی بہت ہے ناں وہ اسے گھور کر تپ کر بولی۔ تو زرفین بے ساختہ ہنسی کو روک نہ سکی۔
ہم پرسوں واپس آجائیں گے زرفین دوپٹہ کو پھیلا کر اس پر استری کرنے لگی۔
پرسوں؟ وہ چلائی۔
توبہ ہے تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے پرسوں کوئی سالوں بعد آئے گی زرفین نے خشمگین نظروں سے اسے دیکھ کر کہا۔
اڑتالیس گھنٹےفاطمہ نے اسے دیکھا۔ زرفین کی فرینڈ کی شادی تھی تو وہ تینوں جارہے تھے۔ حسنین کی دو دن کی چھٹی تھی اس کو اور کام کرنے تھے۔ زیادہ وقت گھر پر ہی گزرانا تھا۔ اس لیے فاطمہ بھی شادی اٹینڈ کرنے سے قاصر تھی۔ اب زرفین کی تیاری دیکھ کر اس کو دو دن تک اپنے اکیلے رہنے پر ہول اٹھ رہے تھے۔
کل کا ہی دن ہے۔ ہم پرسوں ولیمہ اٹینڈ کرکے واپس آجائیں گے زرفین نے اس کو تسلی دی۔
اچھاوہ اسی بے زار کیفیت میں فقط اچھا کہہ کر رہ گئی۔
اے موڈ ٹھیک کرو اور بھائی کے ساتھ انجوائے کرنا۔ لڑکیاں تو شکر کرتی ہیں کہ سسرال والے جائیں تاکہ وہ میاں جی کے ساتھ اکیلے وقت گزار سکیں زرفین ہینگرز سے کپڑے اتار کر بیگ میں رکھ کر بولی تو فاطمہ نے اسے دیکھا۔
کاش میں بھی ایسی ہی لڑکی ہوتی جو سسرال والوں کے ساتھ نہیں الگ رہنا اور پھر انجوائے کرنا جانتی فاطمہ نے کہا تو زرفین نے محبت سے مسکرا کر اسے دیکھا۔
ارے ایک بندے کے ساتھ کیا خاک انجوائے منٹ ہوگی۔ دو چار بندے ہوں تو بات کرنے کا بھی مزہ آتا ہے فاطمہ نے اس کے دوپٹہ پر لگی لیس کو دیکھ کر کہا۔
اچھا ہم پرسوں واپس آجائیں گے تم چلی چلو اگر نہیں رہ سکتی تو؟ زرفین نے اس کو مسکراتی نظروں سے دیکھ کر کہا۔
نہیں یار بہت مشکل ہے حسنین بھی اکیلے ہوں گے تو ایسے میں میرا دھیان اِدھر ہی رہے گا تو انجوائے نہیں کرسکوں گی اور میں کسی کو جانتی بھی نہیں تو وہاں بور ہوں گی فاطمہ نے تفصیل بتائی تو زرفین نے چونک کر اسے دیکھا۔
ارے واہ واہ ویسے یہ بھائی سے محبت میں دھیان اِدھر رہے گا یا معاملہ کوئی اور ہے؟ زرفین نے آنکھ دبا کر مسکراہٹ روک کر فاطمہ کو چھیڑا۔
اور کیا معاملہ ہوگا؟ وہ اس کی طرف دیکھ کر بولی۔
وہی جو لیلیٰ کو مجنوں سے تھا‘ ہیر کو رانجھے سے تھا‘ سسی کو پنوں سے تھا۔ صاحباں کو مرزا سے تھا زرفین نے ہنسی روک کر شریر لہجے میں تفصیل بتائی تو فاطمہ نے قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا۔
کوئی اور جوڑا رہ گیا ہے تو اس کا بھی نام لے لو ناں؟ وہ تپ کر بولی۔
تم تیاری مکمل کرو اور نکلو گھر سے۔ میری شرافت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاؤ وہ اس کو گھور کر وہاں سے نکل گئی۔ جب کہ زرفین اس کی معصومیت پر ابھی تک مسکرائے جارہی تھی۔ پھر سر جھٹک کر اپنی تیاری میں مصروف ہوگئی۔
اب میں کیا کروں؟ ان کے جانے کے تین چار گھنٹے تک تو وہ ٹھیک رہی۔ حسنین سے باتیں کرتی رہی اس کے کام میں اس کا ہاتھ بھی بٹادیا۔ تھوڑی بہت صفائی ستھرائی بھی کردی اور اب پھر بوریت عروج پر تھی۔ وہ بڑبڑائی اور ٹی وی کا ریموٹ اٹھا کر بیٹھ گئی اور چینل سرچ کرنے لگی ساتھ ہی صوفے پر حسنین بیٹھا حسب معمول لیپ ٹاپ پر کام کررہا تھا۔ اس نے ایک اچٹی نظر اس پر ڈالی۔ فاطمہ آنکھیں پھاڑیں اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ حسنین نے ایک بار پھر دیکھا۔
ہیںوہ بے تحاشہ حیرت سے بڑبڑائی۔ آنکھیں مزید پھیل گئیں۔
آں اچھادوسرے ہی لمحے وہ گہرا سانس لے کر رہ گئی۔ حسنین کی نظریں اس پر تھیں جو متعجب نظروں سے اس کے دماغی حالات کو دیکھ رہا تھا۔
توبہ استغفار ایک اور خود کلامی۔
تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟ اب حسنین پوچھے بنا نہیں رہ سکا۔ فاطمہ نے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا۔
پھر کیا ہوا جو مسلسل بڑبڑائے جارہی ہو وہ لیپ ٹاپ کو ایک سائیڈ میں رکھے اس کی طرف متوجہ ہوا۔
کچھ نہیں فاطمہ نے برہم مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ کر کہا۔
اب میں کیا بتاؤں ایک تو پتہ نہیں یہ فلم ایکٹریس کس طرح کے عجیب و غریب رنگ کے کپڑے پہن لیتی ہیں کہ دیکھنے والا خوامخواہ ہی نجانے کیا سمجھ لیتا ہے وہ حسب عادت زیرلب بڑبڑارہی تھی۔ اب اس کو کیسے بتاتی کہ اسکین کلر کی ہیروئن کی ٹائٹ ٹراؤزر پر وہ کیا سمجھی تھی۔ توبہ توبہ اﷲ معاف کرنا اس نے ایک بار پھر کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا۔
حسنین نے ایک نظر اسے دیکھا اور دوسرے پل پھر لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوگیا۔
چائے پیئں گے؟ وہ ریموٹ سائیڈ پر رکھ کر اٹھتے ہوئے بولی۔
ہاں ضرور لیکن پہلے اسٹور روم سے کمبل دے جانا۔ ٹھنڈ ہورہی ہے حسنین نے کہا تو فاطمہ کچن کی جانب بڑھ گئی کہ چائے کا پانی رکھ کر پھر کمبل دے گی۔

س س س س ساسٹور روم میں قدم رکھا اور قرینے سے رکھے گئے کمبل اور رضائی والے صندوق کے پاس آکھڑی ہوئی۔ دوسرے پل حواس باختہ چلانے کی کوشش کرنے لگی لیکن لفظ حلق میں اٹک کر رہ گئے تھے۔ وہاں سے بھاگی اور ڈرائنگ روم میں پہنچی حسنین نے اسے دیکھا۔ یک لخت اٹھ کر اس کی طرف بڑھا۔
کیا ہوا؟ اس کے بوکھلائے زرد چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگا۔
وہ وہ اسٹور روموہ باہر کی طرف اشارہ کرکے بولنے کی کوشش کرنے لگی۔
کوئی جن بھوت دیکھ لیا ہے کیا؟ حسنین کے ذہن میں یک لخت اس کے لفظ گونجنے لگے۔ ہمارے گھر میں جن ہیں فاطمہ نے نفی میں سر ہلایا۔
پھر کیا ہوا کوئی چور؟ حسنین نے پھر پوچھا۔
کم کمبل کے اوپر سانپ ہے بہت بڑا اٹک اٹک کر وہ بمشکل اس کو بتا پائی۔
سانپحسنین نے تھوک نگلتے ہوئے کہا اور باہر کی جانب بڑھا۔
نن نہیں پلیز اسٹور روم میں نہ جانا۔ کسی کو بلالیں فاطمہ اس کے پیچھے لپکی۔
کچھ نہیں ہوتا حسنین نے بہادری کا مظاہر کرتے ہوئے صحن میں رکھا سریا (جس کو تیز ہوا میں گیٹ کو بار بار ہلنے سے روکنے کے لیے گیٹ کے ساتھ رکھا کرتے تھے) اس کو اٹھا لیا اور اسٹور روم کی جانب بڑھا۔ فاطمہ بھی اس کے ہمراہ تھی۔ اس کی شرٹ کو پکڑے دبے قدموں چلتے وہ اس کے ساتھ ساتھ تھی۔ سانس روکے دونوں بنا آہٹ کیے اسٹور روم میں داخل ہوئے۔ حسنین نے ہاتھ بڑھا کر ٹیوب لائٹ آن کی۔
کہاں دیکھا تھادھک دھک کرتے دل کے ساتھ حسنین نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
وہ وہاں میں نے کمبل اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو کمبل میں سانپ تھا فاطمہ نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
نن نہیں آگے نہیں جائیں۔ کسی کو بلالیں حسنین نے سریا کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر قدم بڑھائے تھے کہ فاطمہ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
آپ بلاؤ کسی کو
صبر کرو حسنین نے سرگوشی میں اس کو ڈانٹا اور سریا کی مدد سے کمبل کا کونہ ہٹایا تو سانپ نے رینگ کر کمبل کی اوٹ میں پناہ لی۔ سانپ کو حسنین نے بھی دیکھ لیا تھا۔ فاطمہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بمشکل اپنی چیخ دبا پائی تھی۔
سانپ ابھی تک کمبل میں ہی ہےحسنین نے دائیں بائیں دیکھا اور اب سانپ پر حملہ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا۔
پہلے کبھی سانپ مارا ہے؟ فاطمہ تھرتھر کانپتی اس سے پوچھنے لگی۔
نہیںحسنین نے فقط نہیں کہا اور دوسرے لمحے سریا کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر اونچا کیا۔
یااﷲ مددباآواز بلند بولا اور کمبل پر سریا مارنے لگا۔ فاطمہ اس کے ساتھ کھڑی تھی اور درود شریف کا ورد کیے جارہی تھی۔
اب مرگیا ہوگا حسنین پانچ چھ دفعہ سریا مارنے کے بعد ہاتھ روکے فاطمہ کی طرف دیکھ کر بولا اور آگے بڑھا۔ جب کہ فاطمہ بے یقینی کے انداز میں کمبل کو دیکھے جارہی تھی۔
حسنین نے اسے دیکھا اور آگے بڑھ کر اس نے سریے کی مدد سے کمبل کو اپنی طرف سرکایا اور ہاتھ بڑھا کر اس کو اٹھا کر جھاڑا تو ایک بلی نے زور دار چھلانگ لگائی اور فاطمہ کے قدموں میں آگری اور اس سے پہلے کہ فاطمہ کی چیخوں کی آواز حسنین تک پہنچتی وہ بلی بے چاری میاؤں میاؤں کرتی باہر کی طرف بھاگی تھی۔ حسنین نے حیرت سے بھاگتی بلی کی زخمی دم کو دیکھا۔ اور پھر فاطمہ کو خون خوار نظروں سے گھورنے لگا۔
ہاہاہاہاوہ اب حواس کے بحال ہوتے ہی قہقہوں پر قہقہے لگائے جارہی تھی۔ حسنین خجل انداز میں باہر نکلا۔ سریے کو اپنی جگہ پر رکھ دیا۔ فاطمہ کمبل اس کو دیتے ہوئے مسلسل ہنسے جارہی تھی۔
اب تو آپ سانپ بھی مار لیتے ہیں وہ اب اسے چھیڑ رہی تھی۔
میری کیا غلطی بلی کی غلطی ہے اس کو سوچنا چاہیے تھا ناں حسنین اب ڈھٹائی سے بولا۔
اس بے چاری کو آپ نے موقع کب دیا۔ وہ بھی سوچتی ہوگی ڈرون حملے کون کررہا ہے اب اس کو کیا خبر کہ اناڑی پیا فاطمہ مسکراہٹ دبا کر بولی۔
اور غلطی تمہاری بھی ہے۔ بلی کی دم کو سانپ سمجھ کر مجھے ورغلانے والی تو تم ہی تھی ناں حسنین نے کمبل کو اوڑھتے ہوئے کہا۔ فاطمہ نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا۔ اچانک چائے کے کھولتے پانی کا دھیان آیا تو کچن کی جانب بھاگی۔

میں تقریباً دو گھنٹے تک آؤں گا تم اکیلی ڈرو گی تو نہیں ناں؟ حسنین کو کسی ضروری کام سے باہر جانا تھا۔ تو وہ فاطمہ سے پوچھنے لگا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
بازار سے کچھ لانا تو نہیں ہے؟ وہ جاتے جاتے پلٹا۔
کچھ خاص تو نہیں۔ لیکن اگر آپ کچھ خاص لانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا فاطمہ مسکرا کر بولی۔
خاص کیا لائوں؟ وہ حیران ہی تو ہوا تھا۔
یہی کوئی پھول پتے یا پھر کوئی اچھا سا گفٹ فاطمہ کی فرمائش سن کر حسنین نے اسے گھورا۔
میں گیراج جارہا ہوں کوئی شاپنگ کرنے نہیں جو تم نے لسٹ تھمادی وہ تپ کر بولا۔
تو پوچھا کیوں ہے پھر وہ چڑ کر بولی۔
میں نے پکانے کے لیے کچھ لانے کا پوچھا تھا حسنین نے کہا۔
ہاہاہا ہاں پکانے کے لیے تو جو کہوں وہی لاتے ہیں ناں فاطمہ طنزیہ قہقہے کے ساتھ گویا ہوئی تو حسنین قہرآلود نظر اس پر ڈال کر رہ گیا۔
بھوک لگی ہے مجھے تو کچھ پکا دینا میں جلدی آجائوں گا
سنیےوہی مخصوص چمکارتا لہجہ اس کی سماعت سے ٹکراتا اس کے بڑھتے قدم روک گیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔
جی فرمائیے وہ بھی اسی انداز میں بولا۔
آج کھانا باہر کھائیں وہ دوپٹے کا کونہ منہ میں دبا کر بولی۔
باہر کہاں؟ آنکھیں پھیلا کر دیکھا۔
باہر صحن میں یک دم ہی وہ تپ کر بولی۔
نہیں ڈائنگ ٹیبل پر ہی ٹھیک ہے وہ سنجیدگی سے بولا اور یک دم قدم بڑھا دیئے۔
حد ہی ہے یہ تووہ بیزار سی بڑبڑاتی اور دوسرے لمحے اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئی کہ اب واقعی بھوک بھی لگ رہی تھی دل کے ارمان تو اس کے اناڑی پن کی بھینٹ چڑھ گئے تھے لیکن بھوک کو وہ کسی پر بھی قربان کرنے کے حق میں نہ تھی۔
مجھے تو اب بہت بھوک لگ رہی ہے حسنین پہلی بار وعدے کا مان رکھتے ہوئے دو گھنٹے بعد واپس آیا تھا فاطمہ اپنا کام ختم کرکے ڈرائنگ روم میں براجمان اسی کے لوٹنے کا انتظار کررہی تھی۔
آپ کا ہی انتظار تھا۔ آجائیں کچن میں ہیفاطمہ یک لخت اٹھ کھڑی ہوئی تو حسنین بھی اس کے ہمراہ کچن کی جانب بڑھ گیا۔
ویسے آج کا مینو کیا ہے؟ حسنین نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ اسے چھیڑا تو فاطمہ نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا حسنین اپنی مخصوص چیئر پر بیٹھ چکا تھا۔
چکن قورمہ اس نے مائیکروویو سے باؤل نکال کر ٹیبل پر رکھا۔ حسنین نے متاثر کن انداز سے اسے دیکھا۔
اچار گوشت اس سے پہلے کہ وہ کوئی تعریفی کلمات ادا کرتا فاطمہ نے ایک اور باؤل اس کے سامنے رکھا۔
سرخ لوبیا کی دال۔ ساتھ ابلے ہوئے چاول فاطمہ نے مزید باؤل ٹیبل پر رکھے تو حسنین نے آنکھیں مل مل کر پہلے فاطمہ اور پھر باؤلز کو دیکھا۔
ارے واہ اتنا کچھ پکا لیا حسنین نے محبت پاش نظروں سے مسکراتی فاطمہ کو دیکھ کر کہا۔
لاسٹ بٹ ناٹ لیسٹ مسور کی دال ود بوئلڈ ایگ فاطمہ نے گرما گرم ڈونگہ ٹیبل پر رکھا ڈرنکس اور پانی بھی رکھ کر خود بھی بیٹھ گئی اور حسنین کو کھانا سرو کرنے لگی۔
اتنی جلدی اتنا زیادہ کھانا کیسے پکالیا حسنین نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے بولا۔
میں نے سوچا کیوں نہ آج آپ کی دعوت کی جائے۔ آپ بھی ایمپریس ہوجائیں گے اور فریج میں سے سارے ڈونگے بھی نکل جائیں گے فاطمہ حسب عادت تیزی سے بولی۔
کیا مطلب یہ تم نے نہیں پکایا حسنین ہکابکا اس کو دیکھنے لگا۔ چند لمحے پہلے والی خوشی چہرے سے غائب ہونے لگی تھی۔
میں نے ہی پکایا لیکن آج نہیں۔ پچھلے ہفتے یہ سارے تھوڑے تھوڑے سالن فرج میں رکھے تھے۔ رزق ضائع کرنے سے خدا ناراض ہوتا ہے۔ میں نے صرف روٹی پکائی ہے فاطمہ نے اس کی طرف دیکھا جو ہاتھ روکے بیٹھا تھا۔
کھائیں کھائیں ٹھنڈا ہورہا ہے فاطمہ نے اس کو چڑھایا اور چارو ناچار اس کو وہی سب زہر مار کرنا پڑا۔
ایک منٹ ایک منٹ یہ ڈرنک ڈال لیں حسنین نے کولڈ ڈرنک گلاس میں ڈالی جس میں فریش نیس ختم ہوچکی تھی۔ حسنین نے فاطمہ کو دیکھا انداز شکایات کا سا تھا۔
ہاں اب ٹھیک ہے ناں فاطمہ نے گلاس میں نمک چھڑکا تو چھوٹے چھوٹے بلبلے بننے لگے۔
اب جلدی جلدی پی لیں فاطمہ نے مشورہ دیا۔ حسنین نے ایک سیپ لیا تو اچھو لگ گیا۔
اف او سدا کے اناڑی پیافاطمہ نے یکلخت اس کی طرف ٹشو بڑھایا اور ہنسنے لگی۔ جب کہ حسنین ایسی انوکھی دعوت پر ابھی تک حیران تھا۔

شکر ہے تم لوگ واپس آگئے قسم سے ہمارا تو بوریت کے مارے برا حال ہوگیا تھا فاطمہ زرفین اور عذرا سے گلے ملتے ہوئے تشکر آمیز انداز میں بولی۔ تو زرفین نے اسے دیکھا اور پھر حسنین کو جو لاتعلق بنا بیٹھا تھا۔
دو دن میں اتنا بور کیوں ہوئی؟ زرفین نے اپنا اور عذرا کا بیگ سائیڈ پر رکھ کر اسے دیکھا۔
ہاں بیٹا کہیں باہر نہیں گئے کیا؟ اب کے عذرا نے حسنین کی طرف دیکھا۔
باہر کہاں جاتے ملک کے حالات نہیں دیکھے حسنین ان کی طرف سرسری نظر ڈال کر بولا۔ زرفین نے فاطمہ کو دیکھا جو حسنین کو غصیلی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
ملک کے حالات تو ایسے ہی ہیں اب کیا بندہ باہر نکلنا چھوڑ دے عذرا نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔
کیا ہوا لگتا ہے بھائی نے خوب بور کیا؟ زرفین فاطمہ کے پاس بیٹھتے ہوئے اس سے استفسار کرنے لگی۔
بور تو کیا لیکن خوب نہیں فاطمہ ہنس کر حسنین کو دیکھ کر بولی۔
تمہیں پتہ ہے تمہارے بھائی سانپ مار لیتے ہیں فاطمہ نے کنکھیوں سے حسنین کو دیکھا اور زرفین کو بتایا۔
اور تمہیں پتہ ہے تمہاری بھابی دعوت کا انتظام کرلیتی ہیں حسنین نے خشمگیں نظروں اور شرمندہ انداز سے فاطمہ کو دیکھا اور تپ کر زرفین کو بتایا۔ جو ہونقوں کی طرح دونوں کے تاثرات کو بغور دیکھ رہی تھی۔
ہاہاہافاطمہ نے قہقہہ لگایا اور مرچ مصالحہ لگا کر سانپ کے مارنے کا قصہ زرفین کے گوش گزار کیا۔ جس کو اس نے بے حد انجوائے کیا اور حسنین کا خوب ریکارڈ لگایا۔
اف بس کردو مجھے تو بے چاری بلی پر شدید ترس آیا۔ کٹ کھاتے ہوئے سوچتی ہوگی کہ ہے تو اناڑی جوڑی لیکن اندر سے پورے دہشت گرد زرفین نے شریر نظروں سے دونوں کو دیکھا۔ فاطمہ نے چونک کر اسے دیکھا جب کہ حسنین مسکرا رہا تھا۔
لو بھلا میں نے کیا کہا؟ فاطمہ اپنے اناڑی پن پر صاف مکرتے ہوئے بولی۔
ہاں بھئی سارا قصور تو میرا ہے ناں جو اس کی باتوں میں آگیا۔ اور بلی کی دم کو سانپ سمجھ کر اس کو زخمی کردیا حسنین تپ کر بولا۔
نہیں نہیں آپ تو بہت معصوم ننھے منے سے ناسمجھ کاکے ہو ناں۔ جس کی اپنی آنکھیں تو پہچان ہی نہیں سکتیں ناں کہ جس پر سریے سے ستم ڈھا رہے ہیں وہ سانپ ہے کہ بلی کی دم
ہاہاہا بس بس اب پھر نہ شروع ہوجانا فاطمہ کا برجستہ انداز آگ بگولہ لہجہ زرفین نے بے تحاشہ انجوائے کیا۔
ہاں تو اور کیا مجھے کتنا یقین تھا تمہاری نظروں پر۔ ہائے رے میری قسمت حسنین نے دہائی دی۔
دیکھا دیکھا اپنے بھائی کو۔ کیسے میرے ساتھ پر اپنی قسمت کو کوس رہے ہیں فاطمہ نے منہ بسور کر یکلخت پینترا بدلا۔ حسنین نے بھونچکا کر اسے دیکھا۔
اور خود جو باسی کھانے سے میری دعوت کی وہ نہیں نظر آتا کیا اب کے حسنین نے بھی شکایت کی۔ زرفین نے دونوں کو دیکھا۔ اس لڑائی میں خفگی نہیں ایک استحقاق تھا۔ نوک جھوک میں تلخی نہیں محبت تھی۔ زرفین نے آسودہ مسکراہٹ کے ساتھ اس لڑائی کو انجوائے کیا۔
ہائے اللہ میری داڑھ یکلخت فاطمہ نے گال پر ہاتھ رکھا۔
کیا ہوا زرفین نے یکلخت پوچھا۔ جبکہ حسنین نے بھی اسے دیکھا۔
یار وہی عقل داڑھ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد پھر نکلنا شروع ہوجاتی ہے اور اس قدر شدید درد ہوتا ہے کہ پوچھو مت فاطمہ نے منہ کھول کر مسوڑے کو دبایا۔
ہاں اس لیے نکلنا بند ہوجاتی ہے کہ ابھی عقل جو نہیں آئیحسنین نے مسکراہٹ دبا کر کہا تو فاطمہ نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔
بھائیزرفین نے اس کو باز رکھنے کی کوشش کی۔
سچ بات ہی تو ہے عقل داڑھ کے عقل تو آنے کے بعد ہی نکلتی ہے حسین نے پھر اسے چھیڑا۔
اچھا اچھا اسی لیے ابھی آپ کی نہیں نکلی فاطمہ بھی کہاں باز آنے والی تھی تنک مزاجی سے بولی حسنین نے چونک کر دیکھا جب کہ زرفین بمشکل ہنسی روکے بیٹھی تھی۔
بھابی روکڈ بھائی شاکڈ حسنین نے تیکھی نظر اس پر ڈالی اور دراز میں رکھی داڑھ درد کی جیل نکال کر اس کی طرف بڑھائی اور خود باہر نکل گیا۔
ای ی یکفاطمہ کی نظریں اس کے بڑھتے قدوں پر جمی تھی اور اسی طرح بیٹھے بیٹھے اس نے جیل ٹیوب کو کھول کر انگلی پر لگا کر جیسے ہی مسوڑے پر انگلی رکھی چونک گئی۔
کولگیٹ ٹوتھ پیسٹ دوسرے پل اس نے ٹیوب کو دیکھا تو دانت پیس کر رہ گئی۔
حد ہوگئی۔ اللہ کرے ان کی بھی اب عقل داڑھ نکل ہی آئے فاطمہ نے ہاتھ اٹھا کر چھت کی طرف دیکھ کر دعا مانگی۔

کتنے دن یوں ہی گزر گئے بنا کسی چھیڑ چھاڑ کے۔ بنا کوئی بے وقوفی سر انجام دیئے۔ سردیوں کی آمد درختوں کی خزاں رسیدہ شاخیں‘ پہلے خشک پتوں کی سرسراہٹ اور فاطمہ کی فوٹو گرافی عروج پر تھی۔ ٹھنڈی ہوا میں پتہ سرک کر ذرا ادھر ادھر ہوا کہ اس کے موبائل کے کیمرے سے ہوتا ہوا فوٹو گیلری میں قید ہوگیا۔ پچھلے دو دن سے ہوتی بارش نے اس کے شوق کو گرہن لگا دیا تھا تو وہ بور ہونے لگی۔
آپ نے تو کبھی میری کوئی بات نہیں مانی وہ ایک نئی فرمائش لیے حسنین کے سامنے تھی۔ منہ بسور کر اسے دیکھا۔
کون سی بات نہیں مانی وہ کمبل میں بیٹھا ٹی وی پر مشہور زمانہ سیاستدان شیخ رشید کی ڈبنگ انٹری سے لطف اندوز ہورہا تھا پہلے اسے اور پھر باہر تواتر سے برستی بارش کو دیکھا۔
یہ تو نہیں مان رہے ناں فاطمہ نے ٹی وی اسکرین پر نظر ڈالی اور نروٹھے لہجے میں بولی۔
یہ لیں جناب موسم کا مزہ دوبالا کریں اور گرما گرم پکوڑے کھائیں اس سے پہلے کہ حسنین کچھ کہتا زرفین پلیٹ میں پکوڑے لیے حاضر ہوگئی۔ فاطمہ نے قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا۔
کیا ہوا‘ مزاج خاصے برہم لگ رہے ہیں زرفین نے اس کی تیکھی نظروں کی بابت پوچھا۔
تم نے بھی ابھی آنا تھاوہ گرم گرم پکوڑے کو پودینے کی چٹنی میں ڈبو کر منہ میں رکھ کر بولی جب کہ حسنین مکمل طور پر ٹی وی پر چلتی خبروں میں گم تھا۔
کیوں کیا چل رہا تھا وہ آنکھ دبا کر شرارت سے پوچھنے لگی۔
دفع ہو بدتمیز فاطمہ نے اس کو چٹکی کاٹتے ہوئے کہا۔
اچھی بھلی میں ان کو راضی کررہی تھی بارش میں واک کرنے کے لیے کہ تم نے آکر سارا دھیان ہی بٹا دیا فاطمہ نے کہا تو زرفین نے حسنین کی طرف دیکھا جو کمبل اوڑھے صوفے پر اتنے آرام سے بیٹھا تھا کہ اس کے سکون سے ایک فیصد بھی یہ تاثر نہیں مل رہا تھا کہ یہ ابھی اٹھ کر بارش میں واک کرکے فاطمہ کی اس رومانٹک خواہش کو پورا کرے لگا۔
بھائی کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ یہ راضی ہوں گے زرفین نے مسکرا کر کہا۔
شکل اچھی نہ ہو تو بندہ بات تو اچھی کرتا ہے ناں فاطمہ نے انتہائی تپ کر اسے کہا۔
کیا ہوا زرفین کے قہقہے نے حسنین کو متوجہ کیا۔
کچھ نہیں ہوا آپ سو جائو فاطمہ نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا اور اٹھ کر باہر نکل گئی۔
عجیب فرمائش ہے یار۔ اب کمبل سے نکل کر گرم گرم پکوڑے چھوڑ کر بارش میں بھیگ کر طبیعت خراب کرنے کی کیا تک بنتی ہے بھلا حسنین زرفین کو دیکھ کر زچ ہوکر بولا۔
بھائی آپ جانتے ہو ناں وہ ایسی ہی فرمائش کرتی ہے۔ کبھی کبھی مان بھی جایا کرو زرفین نے مسکرا کر کہا۔ تو حسنین اس کو بس دیکھ کر رہ گیا۔
چائے پئیں گے کیا؟ زرفین نے خالی پلیٹ اٹھائی باہر قدم بڑھائے اور پھر پلٹ کر اس سے پوچھا۔
ہاں پینی تو ہے لیکن بارش میں بھیگنے کے بعد حسنین نے مسکرا کر کہا اور دوسرے پل کمبل کو اتار کر اٹھ گیا۔ تو زرفین گہری مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلاگئی۔
اور بھائی یاد آیا۔ بھابی کا وہ سوٹ میں نے تیار کردیا تھا آپ شال لے کر آئے تھے کیا؟ زرفین نے پوچھا تو حسنین نے سلیپر پہنتے ہوئے اسے دیکھا۔
ہاں لے آیا تھا لیکن ابھی دی نہیں ہے حسنین نے کہا۔
اچھا ٹھہریں میں سوٹ لے آتی ہوں شال کے ساتھ ابھی دے دیں ہوسکتا ہے بارش میں واک والی فرمائش ٹل جائے زرفین شرارت سے بولی۔
واہ بہنا ہو تو تمہارے جیسی‘ جلدی لے کر آئو حسنین متاثر کن انداز میں بولا۔
یہ لیں بھائی۔ جلدی دے دیں۔ میں دعا کرتی ہوں کہ بارش رک جائے زرفین نے پیک کرکے سوٹ رکھا۔ جو حسنین کے اناڑی پن سے متاثرہ کی لسٹ میں شامل ہوا تھا۔ حسنین کو دیتے ہوئے شریر لہجے میں کہا۔ تو وہ مسکرا کر سوٹ پکڑے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
کیا کررہی ہو؟ حسنین سوٹ کا پیکٹ اٹھائے کمرے میں داخل ہوا تو فاطمہ وارڈ روب کھولے کھڑی تھی۔
کچھ خاص نہیں اپنی سوئیٹر تلاش کررہی تھی فاطمہ نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
یہ کیا ہے؟ حسنین اس کے پاس آکھڑا ہوا اور سوٹ کے پیکٹ کو ٹرے کی طرح دونوں ہاتھوں پر رکھ کر اس کو پیش کیا تو فاطمہ نے اسے دیکھ کر پوچھا۔
یہ وہ سوٹ اس کو ری ڈیزائن کروایا ہے حسین نے قدرے خجل انداز میں کہا تو فاطمہ ہنسنے لگی۔ حسنین نے اسے دیکھا۔
رئیلی زبردست فاطمہ کی یہ عادت جس کا حسنین گرویدہ تھا کہ وہ پل بھر میں چھوٹی سی بات پر بھی خوش ہوجاتی ہے پتہ نہیں وہ چھوٹی سی چیز کو کیسی نظر سے دیکھتی تھی کہ لمحہ بھر میں اس کے چہرے پر بہت سی خوشی جھلکنے لگتی تھی۔
بہت اچھا ہے وہ پیکٹ کھولتے ہوئے اپنی پسندیدہ شرٹ کی نئی ڈیزاننگ کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئی۔
اور یہ لو وہ چمکتی آنکھوں سے سوٹ کو دیکھ رہی تھی کہ حسنین نے ایک اور پیکٹ اس کی طرف بڑھایا۔
یہ کیا ہے؟ فاطمہ بے تحاشہ خوش ہوتے ہوئے حسنین کے ہاتھ سے پیکٹ لے کر اس سے پوچھنے لگی۔
سردیوں کا پہلا تحفہ حسنین نے کہا تو فاطمہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
ہوگیا ہے تجھ کو تو پیار سجنا وہ زیرلب بڑبڑائی۔
کیا کہا؟ حسب عادت حسنین اس کی بڑبڑاہٹ پر گھور کر بولا۔
کچھ نہیں وہ پیکٹ کھولتے ہوئے بولی۔
یہ کیا ہے فاطمہ پیکٹ کھولتے ہی چلائی۔ شالفاطمہ نے پیکٹ پر لگے لیبل کو اس کے سامنے کیا۔
کک کیا حسنین بوکھلایا۔
یہ یہ کیسے ہوسکتا ہے حسنین نے پیکٹ اس کے ہاتھ سے لیا۔ سرخ اور بلیک چیک کا انتہائی خوب صورت کھیس اس کا منہ چڑھا رہا تھا اور فاطمہ مسلسل اس کو گھورے جارہی تھی۔
قسم سے میری غلطی نہیں ہے وہ اب صفائی دینے لگا۔
وہ عورت اس کو بازو پر پھیلا کر لے رہی تھی مجھے یہ اچھا لگا تو میں نے سمجھا کہ یہ شال ہوگی حسنین کھیس کے کھردرے کپڑے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
ہاں آپ کی کیا غلطی۔ غلطی تو اس عورت کی ہوئی ناں جو کھیس کو پھیلا کر دیکھ رہی تھی فاطمہ چڑ کر بولی۔
غلطی تو اس لیبل کی ہے ناں جہاں انہوں نے کھیس لکھا ہوا ہے فاطمہ نے ایک بار پھر لیبل کی طرف دیکھا جہاں کھیس ایسا لکھا تھا کہ کسی طرح بھی آنکھ سے اوجھل نہ تھا۔
سوری حسنین منہ لٹکا کر بولا۔
کیا فائدہ ہوا آپ کے پڑھے لکھے ہونے کا؟ کبھی نیکلس کو پازیب سمجھ کر لے آتے ہیں کبھی کھیس کو شال سمجھ کر فاطمہ نے تپ کر کہا۔
اب تم پرانی کوتاہی کو تو نہ بار بار بیچ میں لے آیا کرو حسنین نے نروٹھا لہجہ اپنایا۔
جب ساری کوتاہیاں ایک جیسی ہوں گی تو گنتی بھی ایک ساتھ ہی کی جائے گی ویسے یہ کھیس ہے پیارا فاطمہ چڑ کر بولتی اس کی تعریف کرنے لگی۔
ہے ناں اس لیے تو لیا ہے حسنین تیزی سے بولا۔
ہاں لیکن یہ شال نہیں ہے فاطمہ کی نظروں میں اناڑی پیا صاف پڑھا جاسکتا تھا۔
تو کوئی بات نہیں
واک پر چلیں دوسرے لمحے فاطمہ نے کھیس کو کندھوں پر ڈالا اور حسنین کو دیکھ کر بولی۔
ہاں چلو حسنین نے اسے دیکھا اور چلنا ہی پڑا۔
کہاں جارہے ہیں؟ فاطمہ کھیس لیے اور حسنین جیکٹ پہنے کمرے سے باہر نکلے تو کچن میں چائے پکاتی زرفین نے متعجب نظروں سے انہیں دیکھا۔
تم نے یہ کیا لپیٹا ہوا ہے اب زرفین ان کے پاس آکھڑی ہوئی۔
شالفاطمہ نے کن اکھیوں سے حسنین کو دیکھا۔
لیکن یہ تو کھیس کا مٹیریل ہے زرفین نے ہنستے ہوئے کہا۔
تو کیا ہوا ہم کھیس کو شال کی طرح اوڑھ کر سردیوں کی بارش میں واک کریں گے فاطمہ نے شریر لہجے میں کہا تو زرفین کو ایک لمحہ لگا۔ شال اور کھیس کی کہانی سمجھنے میں۔
جلدی آنا۔ چائے تقریباً تیار ہے وہ دونوں باہر کی جانب بڑھے تو زرفین نے آواز دی۔
دیکھو بارش کی وجہ سے جگہ جگہ پھسلن ہے تو پلیز ذرا احتیاط سے قدم رکھنا بوندا باندی جاری تھی وہ دونوں گھر کا مین گیٹ عبور کرکے آگے بڑھے تو جگہ جگہ کیچڑ اور پانی دیکھ کر حسنین نے اسے وارن کیا۔
کچھ نہیں ہوتا۔ آپ ٹینشن فری ہوکر واک کو انجوائے کریں فاطمہ نے ہتھیلی بڑھا کر بارش کے قطروں کو حسنین کی طرف اچھال کر ہنستے ہوئے کہا۔ حسنین نے اسے دیکھا اور اپنے ہاتھ سے منہ پر آئے پانی کے چھینٹے صاف کرنے لگا۔
رکو رکو وہ ابھی تھوڑی ہی فاصلے پر گئے تھے کہ آگے گلی سے دائیں طرف مڑنا تھا لیکن وہاں بارش کی وجہ سے گڑھا بن گیا تھا اور کچی جگہ پر کافی کیچڑ بھی تھی فاطمہ آگے بڑھنے لگی تو حسنین نے روک دیا۔
آرام سے جما کر پائوں رکھنا۔ گرو گی تو میں نہیں اٹھانے والا حسنین نے کہا تو فاطمہ نے اسے دیکھا۔
یہاں تو سب بارش کی وجہ سے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں اٹھا بھی لیا تو کیا فرق پڑے گا فاطمہ نے لب بھینچ کر مسکراہٹ دبائی۔
ہاں باقیوں کی ابھی عقل داڑھیں بھی تو نہیں نکلی ناں حسنین نے کچھ چڑ کر اور کچھ شرارت میں خفیف سا طنز کیا تو فاطمہ فقط اسے گھور کر رہ گئی۔
ٹھہرو میں پہلے قدم رکھتا ہوں پھر تم اس قدم کے نشان پر قدم رکھ کر آگے بڑھنا فاطمہ نے قدم اٹھایا تو حسنین نے اسے روک دیا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو حسنین آگے بڑھا۔
بچائو مر گیا حسنین نے جیسے ہی قدم رکھا نجانے کیسے پائوں پھسلا اور پورے کا پورا نیچے جاگرا۔ یک دم فاطمہ کے منہ سے ہنسی کا فوارہ چھوٹا۔ حسنین نے کمر پر ہاتھ رکھا اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئی فاطمہ کو دیکھ کر کراہا۔
مجھے اٹھائو حسنین نے ہاتھ بڑھایا۔
سوری کوئی گرتا ہے تو میں اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کرسکتیفاطمہ نے کھیس کا کونہ منہ میں دبا کر اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کی۔
ویسے اتنا جما کر قدم رکھنے کی کیا ضرورت تھی فاطمہ نے ہاتھ بڑھا کر بمشکل حسنین کو سہارا دے کر اٹھایا۔
اب گھر چلو ہوگئی واک حسنین نے اس کو گھورا اور فاطمہ جو بارش میں بھیگنے کی شیدائی تھی چارو ناچار اس کے ہمراہ واپس لوٹنا پڑا۔
یہ کیا ہوا؟ اتنی جلدی واپسی بھی ہوگئی زرفین ان کو دیکھتے ہی بولی اور فاطمہ کو دیکھا جو ابھی تک ہنسی کو ضبط کرنے کی کوشش میں سرخ ہوتی جارہی تھی۔
ہائے یہ کیا ہوا؟ حسنین کوئی جواب دیئے بغیر کمرے کی جانب بڑھا تو اس کے پیچھے پائوں سے سر تک لگے کیچڑ کو دیکھ کر فاطمہ سے پوچھا۔ بس پھر کیا تھا فاطمہ جو ہنسی تو ہنستی ہی چلی گئی۔
تم نہیں سدھرو گی زرفین نے تیوری چڑھا کر اسے دیکھا۔
پرامس اگلے سال کوشش کروں گی فاطمہ نے ہنسی کو روک کر کہا۔
اللہ کرے اگلے سال میری بھی ترقی ہو جائے زرفین نے شریر لہجے میں کہا۔
آمین وہ آنکھ کا کونا دبا کر بولی۔
اف حسنین کو کپڑے دینے ہیں اور ہیپی نیو ایئر بھی بولنا ہے فاطمہ عجلت میں کہتی وہاں سے پلٹی۔
ہیپی نیو ایئر دو دن پہلے ہی زرفین نے حیرت سے اسے دیکھا۔
ایڈوانس ہیپی نیو ایئر کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ لیکن تم نہیں سمجھو گی فاطمہ چلتے چلتے پلٹ کر بولی۔ تو اس کی اس عجیب منطق پر زرفین نے سر پیٹ لیا۔
یا اللہ ان کو سدھار دے وہ زیرلب بڑبڑائی اور مسکرانے لگی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close