Aanchal Sep-16

نیرنگ خیال

ایمان وقار

میں اور میرا اللہ
تیرے میرے تعلق کا وہ مقام ہے مولا
نار ٹھنڈی لگے بہشت کارواں رواں جلتا ہے
تیز دھار خنجر تلے اسمائیل کوئی
نارِ نمرود میں جیسے خلیل اللہ جلتا ہے
خشک دھرتی کو چھپائے ہوئے ہو بحر کوئی
شکم ماہی میں یونس سراپا التجا جلتا ہے
یعقوب کی آنکھوں میں بسے کوئی نور کی طرح
چاہِ کنعان میں شاہ مصر مانند دیا جلتا ہے
حسرت دید میں ہوئے موسیٰ جو کلیم اللہ کبھی
پھر تجلی کے اک ہی جلوے سے طور کا سینہ جلتا ہے
ابن مریم کو تیری چاہ کے بدلے میں ملے تختہ دار
عشق شعور پھر سولی پہ ٹنکا جلتا ہے
میدان کربل میں جو نوچے گئے بہشت کے پھول
پھر نیزے پر سجا تیرے محمد ﷺ کے جگر کا ٹکڑا جلتا ہے
میں نے دیکھے تیری چاہ سے بنتے نار گلزار
میں نے دیکھا تیری راہ میں شاہ گدا جلتا ہے
اب تودیکھ اس چاہ سے کہ نار گلنار بنے
کفر کا سورج سوا نیزے پر نفس کی آگ میں تیرا بندہ جلتا ہے
نائلہ اکرم… ملکہ ہانس
وہ صرف میرا لگتا ہے
کبھی شعلہ تو کبھی شبنم لگتا ہے
کبھی ہیرا توکبھی پتھر لگتا ہے
کبھی رحمت تو کبھی زحمت لگتا ہے
کبھی شریر تو کبھی معصوم لگتا ہے
کبھی مظلوم تو کبھی ظالم لگتا ہے
کبھی پھول تو کبھی کانٹا لگتا ہے
کبھی گلشن تو کبھی ویرانہ لگتا ہے
کبھی محفل تو کبھی تنہا لگتا ہے
کبھی سمندر تو کبھی صحرا لگتا ہے
جب بھی دیکھوں جب بھی سوچوں
جب بھی مانگوں خدا سے اپنے
وہ صرف اور صرف میرا لگتا ہے

مسز نگہت غفار… کراچی

غزل
جو مانگے نہیں ملا وہ بن مانگے کیا ملتا
پھول وفائوں کا تپتے صحرا میں کیسے کھلتا
کیسی روایت ہے تقدیر کی میرے رب
دل جس سے مل جاتا ہے وہ ہی نہیں ملتا
تو سنواردے تو سنواردے میرا کوئی زور نہیں
تیری تقدیر کی کتاب پر قلم میرا نہیں چلتا
بچھڑ کے اس سے میں جیتی کیسے؟
پھول شاخ سے بچھڑ جائے تو پروان نہیں چڑھتا

حمیرا قریشی… حیدر آباد‘ سندھ

14 اگست
کبھی یہ تو سوچ میرے ہم وطن
کبھی یہ بھی کھوج میرے ہم چمن
یہ جو گل بو ہے فقط اک خبر
کہ مہک رہا ہے کوہِ و دمن
یہ پہاڑوں سے بہتے ہوئے جھرنے
یہ کھیت یہ کھلیان ہنستے ہوئے
فقط اک خبر مرے ہم نشیں
کہ یہ تتلیاں‘ بس دکھ ہیں امر
کبھی ساحل پہ چلتی ہوئی کشتیاں
کبھی خوابوں میں جلتی ہوئی بستیاں
کبھی آہٹوں پر ہنستی ہوئی خامشیاں
کبھی چاہتوں میں پھنستی ہوئی ہستیاں
یہ ہیں شامیں بے نام سی
مرے دشتِ آنگن میں اترتی ہوئیں
کلیاں چٹخ رہی ہیں یہاں بے ثمر
بھٹک رہی ہیں گلیوں میں در بدر
جھیل رہی ہیںد ردِ بے وفائی
سہنا سہل کہاں ہے رخ بدنمائی
یہ جو مٹی ہے زمیں کی مری
جل رہی ہے بھٹی میں غم کی
یہ جو رسم اذاں نے فقط اک صدا
یہ جو چشم زماں ہے فقط اک ادا
آفتابِ درد ہے غروب جنوں
شب بھی رو پڑی جب غسل ہوائے ابر نے
دیا فلک کو‘ کہ ہوا جب خونِ قمر
اس کے لوگ ہیں انسانیت سے نا آشنا
ان کے لمحے سوگ کے پھر کہاں دیرپا
فقط جی رہے ہیں جیسے بہتا ہے آب
ہاں رو بھی رہے ہیں جیسے جلتی ہو آگ
کبھی یہ تو سوچ مرے ہم وطن
کبھی یہ بھی کھوج مرے ہم چمن
کیوں بلک رہے ہیں تارے گگن پہ
کیوں سسک رہے ہیں پیارے زمیں پہ
مرے ہم وطن‘ مرے ہم چمن
مرے ہم نشیں‘ مرے غم گسار

ماہ نور نعیم… ضلع بھکر

غزل
چاہت کا احساس جگا کر چلے گئے
دل میں پیار کے دیپ جلا کر چلے گئے
ابھی تو میں نے دل کی باتیں کرنا تھیں
وہ آئے اور اپنی سنا کر چلے گئے
جن کی خاطر نیندیں بھی قربان ہوئیں
آنکھوں میں کچھ خواب سجا کر چلے گئے
دن کٹتا ہے چین سے نہ ہی رات کٹے
کیسے کیسے روگ لگا کر چلے گئے
میرے آنگن کی یہ خوشبو کہتی ہے
چپکے چپکے سے وہ آکر چلے گئے
سوچتی تھی کہ کردیں گے سیراب مجھے
وہ تو میری پیاس بڑھا کر چلے گئے
کل شب بستر پر کچھ یادیں بکھری تھیں
ساجن خواب میں آئے آکر چلے گئے

فریدہ فری…لاہور

غزل
دکھوں کا سلسلہ رکتا نہیں
خوشیوں کا سرا ملتا نہیں
ہم لاکھ پرسکوں بظاہر
کیا حشر دل میں برپا نہیں؟
لگاتا رہا وہ الزام بے وفائی
کہا میں نے ‘ کچھ سنا نہیں
میری آرزوئوں کی موت پر
کوئی ساتھ میرے رویا نہیں
دل کے ویراں میکدے میں
تیری یاد کا دیا بجھا نہیں
بچھڑ کے تجھ سے اے جانِ جاں
پھر کسی اور کو دیکھا نہیں
چاہتے ہیں اسے آج بھی
جو آج بھی میرا ہوا نہیں

فصیحہ آصف خان… ملتان

غزل
بے سکونی کب ترے اور میرے گھر کی بات ہے
کیا کہوں یہ بات تو نوعِ بشر کی بات ہے
منزلوں پر پہنچنا آسان ہوتا ہے مگر
عزم و ہمت‘ حوصلے‘ زاد سفر کی بات ہے
زخمِ ہائے دل بھی ہوجائیں گے اک دن مندمل
یہ تو اچھے چارہ سازو چارہ گر کی بات ہے
اب کھلے بندوں خریدا جائے انسانی ضمیر
آزما کر دیکھ تویہ حال و زر کی بات ہے
کوئی راہِ راست پر ہے کوئی گمراہی میں ہے
بالیقیں یہ امتیاز خیر و شر کی بات ہے
اب سمٹ کے رہ گئی نقطے کی صورت کائنات
یہ عروج محنت و علم و ہنر کی بات ہے
زخم کھاکر بھی دعائیں دے رہا ہوں میں قمرؔ
یہ تو ساری وسعت قلب و نظر کی بات ہے

ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم

غزل
کسی کا دل دکھانے سے محبت روٹھ جاتی ہے
نگاہِ غیر آنے سے محبت روٹھ جاتی ہے
دل ناداں کی قیمت بہت انمول ہوتی ہے
غم جاناں مٹانے سے محبت روٹھ جاتی ہے
وفائے یار میں سودو زیاں معنی نہیں رکھتے
وعدے بھول جانے سے محبت روٹھ جاتی ہے
جو دل میں آسمایا ہے اسے دل میں صدا رکھنا
نیا چہرہ بسانے سے محبت روٹھ جاتی ہے
قیام عشق واجب ہے جسے ہم خود نبھائیں گے
مگر دامن چھڑانے سے محبت روٹھ جاتی ہے
محبت خود نمائی کا کبھی حصہ نہیں ہوتی
کسی کو آزمانے سے محبت روٹھ جاتی ہے
زمانہ تو ہمیشہ زخم ہی دیتا ہے دنیا میں
بہت آنسو بہانے سے محبت روٹھ جاتی ہے
شب تنہائی تمثیلہؔ ہمیں جینے نہیں دیتی
نئی شمع جلانے سے محبت روٹھ جاتی ہے

تمثیلہ لطیف… لاہور

نظم
میری اتنی سی خواہش ہے
اک پیار بھری دنیا ہو
جہاں نہ لڑائی جھگڑا ہو
جہاں نہ قتل دھماکہ ہو
جہاں پر لوگ تو رہتے ہوں
پر امن کی بانسری بجتی ہو
اس ملک جیسا حال نہ ہو
جہاں دین کے نام پر فساد نہ ہو
اور قتل و غارت عام نہ ہو
میری اتنی سی خواہش ہے

پری… طور جہلم

غزل
مچل رہا ہے سوال فوراً
ہے دل میں کیسا ملال فوراً
کسی کی آنکھوں میں اشک دیکھے
تو دل میں اترا خیال فوراً
تمہارے جانے کے بعد گزرا
یہ پوچھ کیسا تھا حال فوراً
جہاں کہانی بگڑ گئی تھی
وہ یاد آیا ہے سال فوراً
پلٹ کے آیا ہے پھر دسمبر
میں لے کے آیا ہوں شال فوراً
میں اپنے یاروں کو جانتا ہوں
ہمیشہ چلتے ہیں چال فوراً
بھلا دو راشدؔ وہ رنجشوں کو
کرونا رشتہ بحال فوراً

راشد ترین…مظفر گڑھ

غزل
تجھے ڈھونڈتی ہوں میں جابجا
کہیں نہیں ملا مجھے کوئی پتا
آس کا دیا گل ہونے سے پہلے
مجھے آکے مل میرے گمشدہ
میرا حال دیکھ وہ رو اٹھا
جو رقیب تھا میرے پیار کا
نہ جھکا سکیں جسے زمانے کی سختیاں
اسے لمحہ جدائی نے مار دیا
اے بلبل! آج چپ نہ ہو
میری ذات پر ہنس‘ کوئی نوحہ سنا
اے جانِ مسکان کوئی گلہ نہیں
میری تقدیر نے ہی کڑا مجھ پر وار کیا

شمع مسکان… جام پور

نظم
دستورِ دنیا
دیتا تھا جو دلاسے
مجھ کو…
آج وہی شخص
کسی کی
یاد میں رو رہا ہے
انم… برنالی
نظم
تم دور رہو
یا…
پاس رہو
مجبور رہو‘ آزاد رہو
اشکوں کے موتی بکھر جائیں
ہونٹوں سے ہنسی بھی بچھڑ جائے
چاہے خواب سہانے بکھر جائیں
اور…
ساتھ ہمارا چھوٹ جائے
چاہے یاد میری تجھے نہ آئے
یا ٹوٹ کے تو مجھ کو چاہے
کیسا بھی ہو موسم زندگی کا
پاس تجھے میں پائوں گی
اور جیون بھر تجھے چاہوں گی

انابیہ ایشل… موچھ

غزل
نزول ہوا‘ اقرار ہوا‘ بے وفائی کا اظہارہوا
دل میں تھا ایک سنسان نگر‘ وہ بے رخی میں ڈوب گیا
چاند گنگنایا‘ تارہ ٹمٹمایا‘ رنجش کا اظہار ہوا
آنکھ میں تھا جو آنسو‘ پتھر بن کر بہہ پڑا
پھول مہکا‘ شبنم مسکرائی‘ دکھ درد کا احساس ہوا
خواب جو تھا خوش نگر‘ آنکھ کھلی اور ٹوٹ گیا
برگ ہنسا‘ گلاب لہکا‘ شکستگی کا اظہار ہوا
ہاتھ میں تھا جو امید گل‘ تڑپ تڑپ کر بکھر گیا
غم لپکا‘ دکھ ٹپکا‘ اندھیر نگری کا احساس ہوا
جگنو تھا جو دعائوں کا‘ ایجاب ہوا نہ قبول ہوا

ماہ نور نعیم… بھکر

غزل
محبت یاد ہوتی ہے
کبھی فریاد ہوتی ہے
کبھی دل کے قریب ہوکے
بہت اداس ہوتی ہے
کبھی ساتھ ساتھ چل کے
پہنچ سے دور ہوتی ہے
کبھی نظروں سے دور ہوکر
بہت ہی پاس ہوتی ہے
تمہیں بتائیں کیا جاناں
یہ کتنی خاص ہوتی ہے
محبت دل کا ہے سودا
یہ بے دام ہوتی ہے

ودیعہ یوسف زماں قریشی… لانڈھی‘ کراچی

غزل
جانے کیسی ہم سے یہ حماقت ہوئی
پھر کسی سے دل لگانے کی شرارت ہوئی
بہت سمجھایا تھا خود کو کہ اب کسی سے دل نہیں لگانا
پھر یہ غلطی دہرانے کی کیسی جسارت ہوئی
یہ میری بھول تھی کہ کسی سے تو وفا ملے گی ہمیں
اے دل! تجھے نئی امیدیں دلاکر ندامت ہوئی
بہت مشکل سے ٹھہرایا تھاکشتی کو ایک کنارے پر آج کل
اب پھر سے کشتی کو کنارا بدلنے کی بغاوت ہوئی
جانے کیسے پالیتے ہیں لوگ دامن وفاکا؟
ہم سے تو وفا کو نجانے کیسی عداوت ہوئی

زنیرہ رئوف… فیصل آباد

غزل
شوق دلچسپ ہے جناب مرا
ہو نہ ہو عشق کامیاب مرا
کیا کیا چہرے دکھائے قسمت نے
پر تھا انکار میں جواب مرا
تیری یادیں ہیں دل کا سرمایہ
حسن تیرا ہے انتخاب مرا
خار تو روک نہ سکے مجھ کو
روک لے راستہ گلاب مرا
کم نہیں آہ وحشتیں دل کی
کوئی کم تو نہیں عذاب مرا
کب بچھائیں گے پھول رستے میں
کب سفر ہوگا کامیاب مرا
نیّر اس کی بھی فکر لاحق ہے
ہے جزیرہ جو زیر آب مرا

نیّر رضوی… لیاقت آباد‘ کراچی

نظم
دعا مانگتے ہوئے ہاتھوں کی لکیروں پر
نظر پڑجاتی ہے عاصیؔ
جانے کیوں مجھے ہر روز کی طرح
الجھی ہوئی ہی کیوں ملتی ہیں…
عاصمہ اقبال عاصی… عارف والا
فاصلے
بڑے عجیب ہیں یہ فاصلے
نہیں خبر ہوں کہاں شروع اور کہاں ختم
بس عمر کٹ جاتی ہے اس سوال میں
اور تلاش میں اس جواب کے
کیوں چنا یہ راستہ کس منزل کی چاہ میں
جو مل جائے یہ جواب تو
ذرا رکیں سرورلیں اپنی متاع حیات کا
نہ بھاگیں افراتفری میں ہم
ایسا نہ ہو کسی انجانے موڑ پر
ہم کو ایسی خبر ملے
اور یہ احساس بیدار ہو
دور… بہت دور
ہم چھوڑ آئے غلطی سے
اپنی شناخت بھول کر

ثناء منیر کھوکھر… سرگودھا

پھول
مہکتے رہیں گے خیال و خواب کے پھول
ملیں گے ہم کو سرِ راہ اگر جناب کے پھول
رہیں تمہارے سلامت سدا شباب کے پھول
انہیں سمجھنا نہیں تم کسی گلاب کے پھول
کسی کے لمس نے ایسی بہار بخشی ہے
کہ سوکھتے ہی نہیں اب مری کتاب کے پھول
یہ دل لبوں کو ترے چھوکے دیکھنا چاہے
کھلے ہیں تیرے لبوں پر کئی شراب کے پھول
نئے سوال کی ہمت نہیں رہی مجھ میں
میں چن رہاہوں پرانے ابھی جواب کے پھول
کھلیں یہ گلشن ہستی میں اس طرح اپنے
کسی مزار پہ جیسے ملیں ثواب کے پھول
پڑھا ہے اتنا انہیں اب یہ بھولتے ہی نہیں
سرورق جو نظر آئے ہیں نصاب کے پھول
سدا عروج ہو ان پر کبھی زوال نہ ہو
جہاں جہاں بھی کھلیں جگ میں ماہتاب کے پھول
سدائیں گونج رہی ہیںنئے نظاموں کی
مہک رہے ہیں زمانے میں انقلاب کے پھول
جو فرطِ شوق سے بھیجے تھے یار کو شہزادؔ
وہ بن گئے ہیں ہمارے لیے عذاب کے پھول

آصف شہزاد… فیصل آباد

غزل
مدتوں یاد رکھیں گے
تیری جو بھی عنایتیں رہیں
جنوں و عشق کے معاملے میں
مجھ سے جو بھی شکایتیں رہیں
رقصاں رہی گرد میرے تمام عمر
بے وفائی الزام کی جو بھی باتیں رہیں
چلتا رہا یونہی سلسلہ اس کی ہر یاد کا
تیری میری کہانی کے جو بھی درمیان رہیں
نماز ِ عشق اگر کبھی جو قضاکی میں نے
ستم کیا خود پر‘ تمام رات آنکھیں نم رہیں
عنایت تیری یہ بھی رہی ہے تمام عمر
کہ گردش تیری ذات میرے گرد ہمیشہ رہیں

کوثر ناز… حیدر آباد

غزل
اسے یہ شوق کہ محبت کی بھیک میں مانگوں
میری یہ ضد کہ تقاضا میرا اصول نہیں
اسے یہ شوق کہ اس کی ہوں ساری ضدیں پوری
مجھے یہ ضد کہ رسوائی مجھے قبول نہیں
اسے یہ شوق کہ ساری چاہتیں اسے دوں وہ لٹادے
میری یہ ضد میری چاہتیں اتنی فضول نہیں
اسے یہ شوق کانٹے نہ لگیں ہاتھوں پہ
میری یہ ضد کہ قسمت میں صرف پھول نہیں
اسے یہ شوق کہ ہنس کے سہوں ساری تکلیفیں
میری یہ ضد کہ میرا پیار کوئی اڑتی دھول نہیں

لاریب انشال… ضلع بخشو اوکاڑہ

غزل
عشق نگر جانے والے ناکام ہوئے اور کچھ بھی نہیں
یہاں لوگ محبت کی خاطر بدنام ہوئے اور کچھ بھی نہیں
مسکان سجاکر ہونٹوں پر درد کو سہنے والوں کے
چاہت کے سچے جذبے سب بے دام ہوئے اور کچھ بھی نہیں
کیا لکھوں‘ چلتے رہنے سے کیونکر پائوں میں چوٹ لگی
اندھیرے میری راہوں میں سرشام ہوئے اور کچھ بھی نہیں
کچھ ضبط کی عادت تھی ہم کو کچھ اہل ستم کا حوصلہ تھا
سب کرب ہمارے سینے پر انعام ہوئے اور کچھ بھی نہیں
اس شہر میں ہم تنہا تو نہیں یہاں قدم قدم پر ہیں جن کے
آغاز سے پہلے چاہت کے انجام ہوئے اور کچھ بھی نہیں
میرے خواب نگر کے ٹوٹنے تک میرے قلب و جگر کا خون ہوا
نازیؔ ہم اس کے بعد ضدِ الزام ہوئے اور کچھ بھی نہیں
نمیرہ گل نازیؔ…
ساجن
جیسے چاند سجتا ہے ستاروں کے ساتھ
ساجن…
ٹھیک ویسے ہی ہم سجتے ہیں تمہارے ساتھ

شہزادی… راولپنڈی

غزل
خیال سے میرے نہیں جاتیں تیری باتیں
ساون کی بوندوں سی رُلاتیں تیری باتیں
سونے نہیں دیتی اک شبیہہ نینوں کو
رات بھر مجھ کو جگاتیں تیری باتیں
گلاب کھل اٹھتے ہیں پہلو میں میرے
یک لخت لبوں کو ہنساتی تیری باتیں
ہجر آفت کے قصے یاد آنے پر
شدت سے دل کو جلاتیں تیری باتیں
مشک تر ہوں گی دہر میں کبھی
نہیں اب دل کو بھاتیں تیری باتیں

مونا شاہ قریشی… کبیر والہ

آزادی
پھر آگیا آزادی کا مہینہ
پھر چھا گیا سبزہ سبزہ
کر رہے ہیں اظہار محبت
پاکستانی لگا کے پرچم
بکھیر کے ہر سو جھنڈیاں
ہاں آگیا آزادی کا مہینہ
مگر جو سوچو مگر جو سمجھو
نہیں ہے یہ تو اظہار محبت
محبت ہر وقت جو چاہتی ہے اظہار
نہیں ہے ممکن وہ بس اس سے
لگا کے جھنڈے
لگا کے پرچم
گیت حب الوطنی کے گا کر
جو تم سمجھو ذرا سے دل سے
وطن ہے مانگتا ہر دن محبت
وطن ہے چاہتا ہر دن محبت
کرو حق وطن ادا
کرو تم وطن کا دفاع
ہاں کرو ساتھ رب کا بھی شکر
ملا جسکی رحمت سے یہ شجر
کرو ساتھ تم آزادی کی قدر
ملی ہے جو تم کو اس قدر

از بیہ صدیقی

وطن
میلی آنکھ سے جو دیکھے، میرے وطن کو
’’قسم‘‘ کھائی ہے، اسے اسی پل اڑانا ہے
نظر آئے چارسو، یہ سبز ہلالی پرچم
’’در و دیوار‘‘ کو ہم نے یوں سجانا ہے
کیا ہے عہد تیرے جانثاروں نے
کہ جاں دے کراپنی، وطن کو بچانا ہے
تیرے پرچم کو سر بلند رکھنے کے لئے
پڑی جو گردن کٹانا، ہاں کٹانا ہے
اے ماں، دے اذن سفر کہ مجھے
وطن کی مٹی کا قرض چکانا ہے
دلوں سے نکال کر نفرتوں کو کشف
دشمنوں کو اب ایک ہوکر دکھانا ہے …
کشف بلوچ
عید کا رنگ چہرے سے چھپاؤں کیسے
تومیری روح میں ہے کہیں ڈھونڈنے جاؤں
کیسے میرا ہردن تیری چاہت میں بنا عید کا دن
میں فقط ایک ہی دن مہندی لگاؤں کیسے

شاہد رفیق شاہو

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close