Hijaab Apr-17

وہ ایک خطا

خدیجہ جلال

فورتھ ائیر کا پولیٹیکل سائنس کا ٹیسٹ میرے سامنے ہے علیشاہ نعمان کے پیپر کو پڑھ کر میں پریشان ہوں۔ سوال گندم جواب چنا‘ اگر کچھ لکھا پھر اسے کراس کردیا۔ وہ تین سال سے میری کلاس میں تھی‘ انتہائی ذہین‘ مؤدب‘ شائستہ حاضر جواب اور بہت سلجھی ہوئی جہاں وہ پڑھائی میں آگے آگے تھی وہاں کالج کی ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش۔ کالج یونین کی صدر‘ ڈرامہ کلب کی ممبر‘ کالج میگزین کی ایڈیٹوریل گروپ میں شامل جہاں وہ بہت اچھی مقررہ تھی تو بہترین نعت خواں‘ مقابلہ حسن قرأت میں میڈل جیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ مجھے اس پر فخر تھا‘ والدین جس طرح اپنی لائق قابل اولاد پر خوش و مسرور ہوتے ہیں اسی طرح اچھے شاگرد وجہ بھی تفاخر بنتے ہیں کہ وہ ان کا حوالہ ہوتے ہیں۔
دنیا کے دو رشتے ہیں جو پڑھتے ترقی کرکے پھلتے پھولتے استاد کے لیے دیکھ کر نازاں ہوتے ہیں۔ ایک استاد اور دوسرے والدین باقی سب رشتوں میں کچھ نہ کچھ حسد اور مسابقت ہوتی ہے۔ مجھے وہ دن بھی یاد آرہا ہے جب فرسٹ ائیر کے داخلے کے انٹرویو تھے۔ ایک پُراعتماد مینرفل طالبہ تمام تر ذہانتوں کے ساتھ میرے سامنے بیٹھی تھی اس کی بورڈ میں پانچویں پوزیشن‘ اسکالر شپ کے ساتھ وزیراعلیٰ کی طرف سے کیش ایوارڈ اور لیپ ٹاپ تھا۔ وہ انٹر اسکولز مقابلوں کی ونر اور نعت خوانی اور حسن قرأت کے مقابلے میں جو سرٹیفکیٹ تھے اس بیچ میں سرفہرست تھی۔ وہ ان بچیوں میں سے تھی جو پہلی نظر میں یاد رہ جاتے ہیں۔ فرسٹ ائیر میں سوکس کی کلاس میں میرے سیکشن میں تھی جبکہ اس نے میٹرک سائنس میں کیا تھا‘ اب انگلش لٹریچر اسلامک ہسٹری اور سوکس اس نے مضامین لیے تھے۔ پہلے دن پوری کلاس کی تعارفی تقریب تھی تو میں نے اس سے پوچھا کہ سائنس میں اتنے اچھے نمبر لے کر آپ ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کیوں نہیں کرنا چاہتی تو کلاس میں اس کی آوازبلند ہوئی۔
’’میڈم دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے بہت لوگ موجود ہیں۔ میں سی ایس ایس کرکے ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ میرا یہ طریقہ رہا کہ نئے طالب علموں کو پورا ایک ہفتہ پڑھانے کے بجائے تدریس میں بیت بازی‘ تقریری مقابلہ اور دیگر ایسی سرگرمیاں کراتی ہوں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا اندازہ بھی ہو وہ ایک دوسرے سے گھل مل جائیں اور دوستانہ ماحول میں درس و تدریس ہو۔ جب اسے تلاوت کے لیے کہا تو اس نے بہت خوب صورت سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی‘ لگتا تھا اسے قرآن مجید تجوید کے اصولوں کے مطابق پڑھایا گیا ہے۔
ٹاپک دے کر میں نے طلبہ کا تقریری ٹیسٹ لیا تو فی البدیحہ تقریر میں اس کے لہجے کا اتار چڑھائو لفظوں کا چنائو اور مدلل انداز اس کے وسیع مطالعہ حالات حاضرہ پر گہری نظر اور شوق کا غماز تھا۔ بہت جلد وہ کالج کی ہر دل عزیز طالبہ بن گئی جو اساتذہ اور اپنے ساتھیوں میں مقبول تھی اور پرنسپل کی منظور نظر‘ اسی علیشاہ نعمان کا پرچہ میرے سامنے ہے۔ زیرو لکھتے ہوئے میرا ہاتھ لرزا اور قلم رک گیا۔
’’ایک سال سے کیا ہورہا ہے‘ اسی علیشاہ نعمان کا نمبر کاٹنا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘ وہ گم صم کھوئی کھوئی رہتی‘ کلاس میں غیر حاضر دماغ بیٹھی ہوتی جیسے زبردستی کالج آئی ہو۔ الجھے بال‘ گہری سوچوں میں گم‘ خلائوں میں گھورتی رہتی جیسے گمشدہ میراث تلاش کررہی ہو۔ کچی عمر کے خواب دیکھنے والوں کو وسوسوں میں گرفتار کردیتے ہیں‘ فیکلٹی ممبران اور پرنسپل سب نے اپنی سی کوشش کر ڈالی مگر وہ پتھر کا مجسمہ ہو یا مٹی کا بُت‘ چکنا گھڑا سب کچھ اس کے اوپر سے گزر جاتا اور وہ ایک تصویر بنی کچھ بتانے کو تیار نہ تھی۔
اسٹاف روم میں بیٹھے اساتذہ اسے ڈسکس کرتے اس کی سہیلیوں سے پوچھتے مگر کسی کو وہ بتانے کو تیار نہ تھی۔ آفس سے اس کا داخلہ فارم نکال کر اس کے گھر کے ایڈریس پر اس کے والدین کو بلایا گیا اور دونوں میں سے کوئی بھی نہ آیا۔ دو ہفتوں کے بعد دوسرا لیٹر بھیجا پھر جواب ندارد۔ آخرکار اس کے والدکے آفس کے ایڈریس پر لیٹر بھیجا اور فون کیا تو اس کے والد اپنے دوست کے ہمراہ پرنسپل کے آفس آئے اور بتایا کہ اس کی والدہ بیمار ہیں اور گھر کی ذمہ داری اس پر ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ وہ پڑھائی پر توجہ دے اور گھر میں ملازمہ کا بندوبست کردوں تاکہ اسے وقت مل جائے۔
مگر صورت حال جوں کی توں ہی رہی اور وہ جو سول سروس کرکے فارن آفس جوائن کرنا چاہتی تھی جو ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھی‘ وہ امنگ‘ جذبہ اور حوصلہ ٹوٹ رہا تھا۔ اس کا اپنا مستقبل تاریک ہورہا تھا‘ بہت سوچ بچار کے بعد میں نے اس کے والد کو بلایا کہ مجھے آکر ملیں لیکن وہ تنہا نہ تھے ان کا دوست جو اُن کا پڑوسی بھی تھا‘ ان کے ہمراہ تھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ بہت اچھی طالبہ تھی اور تقریباً ایک سال سے اس کی پڑھائی کی طرف کوئی توجہ نہیں اور وہ اپنا مسئلہ کسی سے شیئر نہیں کرتی وہ جو محفلوں کی جان تھی‘ ہر جگہ آگے آگے‘ اب اسے کسی چیز سے دلچسپی نہیں اور یہ کسی مشکل میں پھنسی ہے۔
’’میں آپ کے گھر آنا چاہتی ہوں‘ اس کی والدہ سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘ نعمان صاحب نے تو سر جھکادیا اور ان کے دوست فرمانے لگے۔
’’ہم شروع سے سرکاری کالونی میں ہمسائے ہیں اور فیکٹری میں اکٹھے کام کرتے ہیں۔ ان کی بیوی کچھ عرصہ سے اونچے لوگوں میں رابطہ میں تھی اور ان کے گھر میں لمبی لمبی گاڑیاں آتیں اور پھر محلے والے شکایتیں کرنے لگے تو ان کی روز لڑائی ہوتی اور آخرکار اس کی بیوی گھر چھوڑ کر میکے چلی گئی ہے۔ بچے ان کے پاس چھوڑ گئی‘ بچوں کی سب ذمہ داری علیشاہ پر ہے اور یہ اب پڑھائی پر توجہ نہیں دے پارہی۔ چھوٹے بہن بھائیوں کی بھی ایسی شکایتیں ہیں۔‘‘
اب مجھے لگا کہ دال میں کچھ کالا ہے‘ ایک گھر تباہ ہورہا ہے اور ایک مرد جو گھر کا سربراہ ہے وہ معاملات کو سمجھ نہیں پارہا مجھے اس گتھی کو سلجھانا ہوگا۔ مجھے اس خاتون سے ملنا چاہیے جس نے بچوں کی اتنی اچھی تربیت کی اور اس کی برسوں کی ریاضت ضائع ہورہی ہے۔ میں نے ان صاحب سے کہا۔
’’الزام تراشی آسان اور بگڑی بات بنانا مشکل ہے۔ ایک گھر ٹوٹ رہا ہے اور پانچ زندگیاں تباہ ہورہی ہیں‘ دیوار سے دیوار جڑی ہے جب ان کے گھر میں جھگڑے ہورہے تھے آپ نے مصالحت کی کبھی کوشش کی؟ بہتان لگانے کی کیا حد اسلام نے مقرر کی ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ شیطان اور اس کے چیلے جب اکٹھے ہوتے ہیں اور دن بھر کی کارکردگی بیان کرتے ہیں اور جس نے میاں بیوی کے درمیان جھگڑا کروایا ہو اس کو سونے کا تاج پہنایا جاتا ہے کہ اصل کام تم نے کیا ہے‘ جب گھر ٹوٹتے ہیں تو نسلیں تباہ ہوتی ہیں اور وہ معاشرہ پستی کا شکار ہوتا ہے اور تباہ ہوجاتا ہے‘ خاندان ٹوٹتے ہیں۔ بروکن فیملی کے بچے نفسیاتی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ سزا صدیاں بھگتتی ہیں۔‘‘
مجھے کچھ کچھ معاملے کی سمجھ آرہی تھی اور سچائی تک پہنچنے کے لیے مجھے دوسرے فریق سے بھی رابطہ کرنا ہوگا۔ میں نے انہیں رخصت کیا اور علیشاہ کو بلایا مگر وہ پھر بت بنی بیٹھی تھی۔
’’علیشاہ میں آپ کی امی سے ملنا چاہتی ہوں‘ کیا وہ میرے بلانے پر آجائیں گی۔‘‘ علیشاہ نے کہا۔
’’ماموں اجازت نہیں دیں گے۔‘‘
’’اچھا کل اپنے ابو سے اجازت لے کر آنا‘ میں ان سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘ دوسرے دن میں ان کے گھر گئی‘ معتبر اور سنجیدہ سی خاتون نے استقبال کیا وہ تو پہلی نظر میں اعتبار کرنے کے قابل لگی‘ انسان کے اندر کی سچائی کا چہرہ گواہ ہوتا ہے۔
ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد میں نے اسے بتایا کہ آپ کو کچھ خبر ہے وہ فصل جو آپ نے بوئی تھی‘ رات دن جس پر محنت کی اور جب پکنے پر آئی تو آپ نے انہیں زمانے کے سرد گرم اور اجڑنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا۔ علیشاہ جو کالج کی بہترین طالبہ تھی جس نے انٹر بورڈ میں ٹاپ کیا‘ یونیورسٹی میں اس سے بہت سی امیدیں تھیں وہ ناکام ہورہی ہیں۔ بیٹوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا ہے‘ ان کے نام کٹ چکے ہیں اور وہ آوارہ گردی کرتے ہیں۔ ہر روز محلے کے لوگ ان کی شکایتیں لے کر آرہے ہیں‘ علیشاہ سے چھوٹا بھائی حزلان آوارہ دوستوں کے چنگل میں پھنس گیا ہے اور کئی کئی دن گھر نہیں آتا۔ وہ نشے کا عادی ہوگیا ہے جب گھر آتا ہے لڑائی جھگڑا کرتا ہے اور گھر کی چیزیں اونے پونے داموں بیچ کر اپنی لت پوری کررہا ہے۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی‘ وہ گویا ہوئیں۔
’’میڈم میں آپ کو کیسے بتائوں میں نے دن رات ایک کرکے تنکا تنکا جوڑ کر آشیانہ بنایا تھا اور وہ جل کر راکھ ہوگیا‘ عورت سب کچھ سہہ لیتی ہے مگر اپنی عزت و عفت پر جو کیچڑ اچھالے وہ اس کو کبھی برداشت نہیں کرتی اور وہ مرد جس کے سامنے میں کھلی کتاب تھی وہ بہکاوے میں آگیا جب کہ سب کچھ وہ جانتا تھا اور میری ساری ریاضت ساری قربانی خود ساختہ عزت کی بھینٹ چڑھ گئی۔ عورت کا تو کوئی گھر نہیں ہوتا‘ نہ ماں باپ کا گھر‘ نہ خاوند کا گھر‘ عورت ہمیشہ بے امان رہی۔ یہ معاشرہ مرد کا معاشرہ ہے اس کی کوئی شنوائی نہیں‘ کہیں زندہ درگور ہوتی ہے‘ کہیں غیرت کے نام پر قتل‘ کہیں رسومات کی بھینٹ چڑھتی ہے۔ کہیں جائیداد کو بچانے کے لیے قرآن سے شادی ہوتی ہے‘ کہیں بے جوڑ شادیاں۔ میں نے گائوں میں پرورش پائی‘ پنجاب کے پسماندہ سے گائوں میں شعور کی آنکھ کھولی‘ مجھ سے بڑے چار بھائی تھے‘ میں اسکول جانے کی عمر کو پہنچی تو گائوں کے مڈل اسکول میں داخل کرادیا۔ دیہاتی زندگی شہری زندگی سے بہت مختلف ہوتی ہے‘ تھوڑی سی زمین تھی جس پر کھیتی باڑی ہوتی‘ ہر فرد اپنی بساط کے مطابق کام کرتا‘ مویشیوں‘ ڈور ڈنگروں کے ساتھ گھر میں بکریاں اور مرغیاں بھی پالی جاتیں۔ اس طرح بہت اچھی گزر بسر ہورہی تھی‘ لڑکیاں بالیاں گھر گرہستی میں تاک ہوتیں‘ کروشیہ بننا‘ سلائی کڑھائی اس طرح چھوٹے موٹے دستکاری کے ہنر مل جل کر سیکھے جاتے۔ صبح سویرے اذانوں سے عورتیں بھینسوں گائیوں کا دودھ نکالنا‘ دھونا‘ صفائی ستھرائی میں لگ جاتیں۔ نماز اور قرآن مجید بی بی جی سے پڑھتیں‘ اسکول جانے سے پہلے ماں کا ہاتھ بٹاتیں اور اسکول سے واپسی پر پھر ماں کے ساتھ کام کرتیں۔ اسکول میں چھٹی سے ہوم اکنامکس کا پریڈ ہوتا اور سلائی کڑھائی اور خانہ داری کرائی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی صبح میں برکت رکھی ہے اور پھر وہاں وقت میں اتنی برکت تھی اور قناعت و شکر گزاری‘ میں ہر کلاس میں اول آتی اور مڈل کے امتحان میں نے بورڈ میں فرسٹ پوزیشن لے کر پاس کیا اور اسکالر شپ ملی مگر والدین نے ہاسٹل میں جانے کی اجازت نہ دی اور میرا شوق اور ارمان دل میں رہ گیا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور میٹرک کی کتابیں لے لیں اور گھر کے کاموں سے فراغت ملتی تو کتابیں کھول لیتی‘ تین سال میں‘ میں نے میٹرک کرلیا۔ نعمان میری خالہ کا بیٹا ہے‘ بچپن میں رشتہ طے تھے اور جب اسے سرکاری نوکری ملی تو خالہ کا تقاضا زور پکڑگیا۔ میں بیاہ کر شہر آگئی‘ سال بعد علیشاہ پیدا ہوگئی۔ میرے اندر جتنے خواب‘ آرزوئیں تھیں‘ میں نے تہیہ کیا میں اولاد کو اچھی تعلیم دے کر پوری کروں گی‘ میں نے اپنے آپ کو تج دیا پھر عذلان‘ نعمان اور میں نے علیشاہ کو انگلش میڈیم اسکول میں پڑھایا اور قدرت کی مہربانی تھی‘ مجھے شہر میں مواقع میسر آئے‘ نزدیک ہی ٹیوشن سینٹر تھا میں نے علیشاہ کو شام کو داخل کرادیا اور باقی بچوں کو بھی اچھے اسکولوں میں داخلہ دلوایا۔ اچھے اسکول اسٹیٹس سمبل بن گئے‘ میں ان کی بھاری فیسیں‘ ٹیوشنز‘ اکیڈمی میں انہیں ذمہ دار شہری بنانا چاہتی تھی جنہیں کسی قسم کا کوئی کمپلیکس نہ ہو۔ نعمان فیکٹری میں اوور ٹائم کرتے‘ میں گھر میں کپڑے سیتی‘ کڑھائی کرتی اور اسی طرح آمدن میں اضافہ ہوا۔ میں جس دکان دار سے د ھاگے اور دیگر گوٹا کناری کا سامان خریدتی‘ اس کے پاس ایک خاتون آئیں جن کی بیٹی کی شادی تھی اور انہیں کڑھائی سلائی کا کام کرانا تھا‘ اس نے میرے بارے میں بتایا میں نے انہیں کام کرکے دیا انہیں بہت پسند آیا اور انہوں نے اپنے ملنے والی خواتین کو بتایا‘ اب مجھے بہت معاوضہ مل رہا تھا۔ کام بڑھتا گیا‘ میں نے غریب لڑکیوں کو ہنر سکھایا اور انہیں آرڈر پر آیا کام دینے لگی۔ اس طرح جہاں ان کے گھر کا چولہا جلنے لگا وہاں میرے گھر کی آمدن میں اضافہ ہوا مجھے پیسے کی کوئی تنگی نہیں تھی۔ سوسائٹی کی اونچی کھاتے پیتے گھرانوں تک رسائی ہوئی انہیں ان کی مرضی اور ذوق کا کام ملنے لگا اور میرا معیار زندگی بہتر ہونے لگا۔ بیگمات آرڈر دینے لمبی گاڑیوں میں میرے گھر آنے لگیں اور محلے کی عورتیں جو لگائی بجھائی غیبت اور الزام تراشی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتیں وہ نہیں چاہتی تھیں میں کوئی تعمیری کام کروں پھر کسی عورت پر تہمت لگانا تو سب سے آسان ہے۔ میں نے پروا نہ کی اور اپنے کام پر توجہ دیتی بچوں کو پوری توجہ دیتی‘ انہیں اچھے اداروں میں ڈالا ان کی کوئی شکایت نہ تھی اور جب علیشاہ نے میٹرک کیا اور اس کی کامیابی نے حاسدوں کو منفی سوچوں میں لگادیا‘ مجھے کسی کی پروا نہ تھی اور نعمان کا یہی دوست اس کے کان بھرنے لگا اور میری زندگی میرا کردار کھلی کتاب تھا‘ میرے بچے‘ میرا عکس اور آئینہ تھے۔ جس کا ہاتھ بٹایا‘ جس کے بوجھ کو بانٹا‘ جسے گھر کا سکون دیا‘ جسے کامیاب بچوں کی خوشیاں دیں اس نے تیور بدلیے اور جب اس نے دوست کے الزام کو دہرایا‘ میں برداشت نہیں کرسکی اور پھر میں سب کچھ چھوڑ کر آگئی۔ میرے بچے تباہ ہوگئے‘ میرا گھر بکھر گیا‘ مگر انا پرست مرد کو تسکین مل گئی۔ میں نے میکے میں آکر اپنا کام جاری رکھا بچیوں کو اپنا ہنر دیا اور کتنے گھر آسودہ ہوگئے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے‘ ہر ایک کی بریت کے لیے وحی نہیں اترتی لیکن اس کے لیے حدود مقدر کردیں۔ اسلام تو گناہ کی تشہیر کی اجازت نہیں دیتا اس کے لیے گواہ طلب کرتا ہے اور بہتان تراشی کے لیے کتنی سزا ہے۔‘‘ مجھے ان باتوں نے دکھی کردیا‘ وہ اتنی سمجھ دار اور معتبر خاتون تھی میں اسے کیا سمجھاتی لیکن پھر بھی کہا۔
’’اتنی کامیابیاں پاکر اپنے بچوں کو اونچے خواب دکھا کر‘ ان کو آرزوئوں اور شوق کا قیمتی تحفہ دے کر سب کچھ چھین لیا تو دیکھ لو تمہاری ساری محنت رائیگاں گئی۔ ماں کے قدموں تلے جنت ہے‘ اتنا بڑا مقام صرف ماں کہلانے سے نہیں پورا ہوتا اس کی روح‘ مقصد کو سمجھو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کی مثال ماں کی محبت سے دی ہے‘ اس سے بڑا اعزاز بھی کوئی ہے اور وہ رب اپنے ماننے والوں کو تو آزماتا ہے۔ تمہاری بیٹی عمر کے اس حصے میں ہے جہاں ماں کو دوست اور ناصح بننا ہوتا ہے جب اس کی اگلی زندگی کا مرحلہ آئے گا تو ماں کو دیکھتے ہیں اور ماں ہی نہیں پہلے وقتوں کے لوگ تو نانی تک پہنچتے تھے کہ آئندہ نسلوں کا دارومدار ان پر ہے۔ ایسے معاملات میں صبر کرتے ہیں پھر وہی لوگ پھر اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ آپ نے تو اپنے اور بچوں کے ساتھ دشمنی کی ہے‘ نعمان نے آپ کے مان اور بھروسہ کو توڑا ہے مگر صبر سے اور ثابت قدم رہ کر آپ اپنے گھر میں رہ کر اسے عذر ثابت کرتیں۔ کتوں کے بھونکنے پر راستہ نہیں کھوٹا کرتے‘ ماں تو سراپا ایثار ہوتی ہے‘ اپنے بچوں کو بکھرنے زندگی بھر کی ریاضت کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ آپ کا سرمایہ لٹ رہا ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی رواں تھی۔ میں نے اسے تسلی دی تاکہ اس پر سوچوں کا مداوا ہوسکے۔
’’میں نعمان کو لے کر آئوں گی‘ اب میں اس سے ملنا چاہوں گی۔‘‘ میں جب کسی کام کا عزم کرتی ہوں‘ کوئی بیڑہ اٹھاتی ہوں پھر اس کے ہر پہلو پر اچھی طرح غور کرتی ہوں۔ ہمارا دین حکمت سے بھرا ہے‘ قرآن ہمارا ضابطہ حیات ہے‘ اس نے ایسے معاملات میں رہنمائی کی ہے کہ مرد عورت دونوں کے نمائندے بٹھائیں‘ دونوں فریق ہر پہلو پر غور کریں اور اس کا حل نکالیں۔ صلح کریں اور رشتہ جوڑنے کی کتنی فضیلت ہے۔‘‘ اب میں نے نعمان صاحب کو بلایا اور اس عقل کے اندھے پر مجھے اتنا غصہ آیا کہ وہ نقب زن جس نے اسے برباد کیا‘ آج بھی اسی کا سایہ بنا تھا لیکن میں نے تحمل اور بردباری سے سمجھایا۔
’’آپ ان کے ہمسائے ہیں‘ وہ آپ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ آپ دوسروں کے معاملات میں کیوں مداخلت کرتے ہیں‘ کبھی کوئی غیر مرد ان کے گھر دیکھا‘ لمبی گاڑیاں ان کی آسودگی‘ خوشحالی‘ بچوں کی قابلیت اور کامیابی۔ اس عورت کی محنت کا ثمر ہے‘ آپ نے اپنے گھروں کو درست کرنے کے بجائے ایک کامیاب گھر کو تباہ کردیا۔ اب میں آپ سے معذرت چاہتی ہوں کہ آپ تشریف لے جائیں‘ میں نے نعمان صاحب سے ان کی ذاتی باتیں کرنی ہیں۔‘‘ ان کے جانے کے بعد میں نے پوچھا۔ ’’آپ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر گواہی دیں کہ آپ نے جو الزام لگایا تھا آپ اسے سچ مانتے ہیں اور آپ کے گھر کی جو حالت ہوگئی ہے‘ بچے بھٹک گئے‘ گھر بکھر گیا‘ کبھی آپ کو پچھتاوا ہوا کہ آپ نے غلط کیا ہے؟‘‘ میں نے جواب میں شکست خوردہ‘ ہارا ہوا مرد دیکھا جو پھوٹ پھوٹ کر رو دیا‘ میں نے سوچا نہ تھا کہ ایک ہنستا بستا گھر ایسے اجڑ جائے گا۔
’’اگر میں نے غصے میں گھر میں غلط بول دیا تو اسے مجھے اور گھر کو نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ وہ میرا بھی مان یقین اور ایمان تھی‘ اس کے بعد ضد میں آکر میں نے بھی گھر اور بچوں کی پروا نہ کی اس کو اس کے حال پر چھوڑا اور خود بھی مست ملنگ ہوگیا۔ یہ بے حسی بھی تھی اور انتقام بھی اور شاید جہاں بہت زیادہ اعتماد ہو‘ محبت ہو جب بھرم ٹوٹتا ہے تو یوں کرچی کرچی لہولہان کرتی ہے۔ آپ مسیحا ہیں‘ ہمارے تو کسی اپنے نے اتنا نہیں کیا ہر ایک نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔‘‘ میں نے سمجھایا۔
’’کبھی کبھی سچ اپنے آپ سے بھی بولتے ہیں‘ جھوٹ فریب جب اپنے آپ کو دوگے‘ نفس اور انا کو جھوٹ سے پروان چڑھائو گے تو یہی ہوتا ہے۔ آپ جائیں گے اپنے بچوں کو ساتھ لے کر وہ جو ان کی ماں ہے‘ انہیں کس طرح خالی لوٹائے گی۔ مرد کی جھوٹی غیرت معافی تلافی کی اجازت نہیں دیتی مگر اس بت کو توڑیں اور منا کر لائیں اپنوں کی چوٹ لہولہان کردیتی ہے اور آئندہ کسی کو گھر کے معاملے میں بولنے کی اجازت نہ دیں۔ یہ الزام تو عورت پر لگتے رہتے ہیں۔ پیغمبر کی ماں کی پاک دامنی نوزائیدہ بچے نے بول کر گواہی دی مگر نہ ماننے والوں نے آج تک نہ بخشا کہ ہمارے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کی اللہ نے گواہی دی اور قیامت تک کی گواہ ہے مگر پھر بھی یہ سلسلہ نہ رکا نہ تھما۔ حدیں مقرر ہوگئیں‘ اسی طرح لوگ اللہ کی حدود کو پامال کرتے ہیں اور شرم بھی نہیں کرتے‘ انہیں معاشرے کا کیا ڈر۔‘‘ اور وہ بکھرا گھر ایک بار پھر سمٹ گیا۔
اس کی سلیقہ شعاری معاملہ فہمی اور ریاضت و کوشش نے بچوں کو لائن پر لگایا۔ وہ گھر مثالی گھر بن گیا اور جب رزلٹ آیا تو یونیورسٹی میں اس کی تیسری پوزیشن تھی۔ وہ پُراعتماد‘ ذہین طرح دار لڑکی آج سول سروس میں ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close