Hijaab Nov 15

ٹوٹکے بکھرے سپنے

اقبال بانو

’’تم بہت بے وقوف ہو‘ آخر تم اسے کہتیں کیوں نہیں؟‘‘ صبا نے غصے سے کہا۔
’’کیا کہوں؟ وہ سیریس ہوتا ہی نہیں۔‘‘ انعم نے دکھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر بڑے جبر سے کہا۔
’’کیوں نہیں ہوتا وہ سنجیدہ؟‘‘ صبا نے چٹخ کر کہا۔
’’وہ سمجھتا ہے میں اس سے مذاق کررہی ہوں۔‘‘
’’جب تم کسی اور کی ڈولی میں بیٹھ کر چلی جائو گی تب اسے یقین آئے گا۔‘‘
’’ڈولی نہ کہو۔‘‘ انعم جلدی سے بولی۔
’’ہیں…‘‘ صبا نے حیرانی سے اس کے معصوم چہرے کی طرف دیکھا۔
’’بھئی آج کل ڈولی کا تصور ہی مفقود ہوکر رہ گیا ہے‘ اب تو دلہا کار میں آتے ہیں سجی سنوری ہوئی۔‘‘ انعم کے چہرے پر گلال پھیل گیا۔
’’تم سمجھ رہی ہو میں تم سے فضول میں مغز ماری کررہی ہوں۔‘‘ صبا نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’مجھے علم ہے کہ تم میرے لیے بہت مخلص ہو‘ میری بہت اچھی سی بہنوں جیسی دوست ہو اور…‘‘
’’اور تمہارا سر… جو میں سمجھا رہی ہوں آخر تم سمجھتیں کیوں نہیں‘ دیکھو انعم ڈارلنگ! مجھے لگتا ہے وہ تم سے محبت کے معاملے میں مخلص ہے ہی نہیں‘ لکھوالو مجھ سے۔‘‘ صبا چیخی۔
’’ایسا نہ کہو۔‘‘ انعم کانپ کر رہ گئی۔
’’کیوں نہ کہوں‘ تمہارے عشق کو پورے چھ برس ہونے کو آئے ہیں اگر فواد مخلص ہوتا تو وہ یقینی طور پر تمہیں پرپوز کرتا؟‘‘
’’صبا ڈئیر!‘‘ انعم نے ایک طویل سانس لی اور بولی۔ ’’کل وہ گھر آیا تھا‘ میں نے اسے بتایا بھی کہ کسی سلمان صاحب کا پرپوزل آیا ہوا ہے اور امی ابو سنجیدگی سے اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘‘
’’پھر…‘‘ صبا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’پھر پتا ہے وہ حسب معمول سگریٹ کا کشن لگاتے ہوئے زور سے ہنسا اور سگریٹ کا سارا دھواں میرے چہرے پر چھوڑ دیا۔‘‘ انعم یہ سب بتاتے ہوئے سرخ ہوگئی۔
’’تاکہ تم اس کے چہرے پر آئی خوشی کی لہر نہ دیکھ سکو۔‘‘ صبا نے اس کا جملہ کاٹ کر کہا تو وہ اسے خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے بولی۔
’’صبا تم میری بہت اچھی دوست ہو‘ فواد مجھے بہت عزیز ہے اور تم…‘‘ ہمیشہ کی طرح اس کا لہجہ سخت ہوگیا۔
’’انعم میری بہن تم خود سوچو کہ میں ایسا کیوں کرتی ہوں صرف تمہاری خاطر‘ میری جان تم جو اتنی معصوم ہو بھولی بھالی ہو اور وہ تمہاری سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘‘ صبا نے اس کا ہاتھ تھاما اور نہایت شیریں لہجے میں اسے سمجھانے لگی۔
’’وہ ایسا نہیں ہے‘ فواد وقت کا منتظر ہے۔‘‘
’’ابھی اور کتنا وقت چاہیے اسے؟ یا خدا! آخر لڑکیوں کو کب عقل آئے گی؟‘‘ صبا اپنا ماتھا پیٹ کر بولی۔
’’تم بھی تو لڑکی ہو۔‘‘ انعم نے کہا۔
’’اگر میرے ساتھ یہ مسئلہ ہوتا تو سچ کہتی ہوں کہ صاف صاف کہہ دیتی کہ میاں پرپوزل بھیجو ورنہ میں والدین کی پسند سے نکاح پڑھوا لوں گی۔‘‘ صبا تلملا کر بولی۔
’’میں اسے یہ نہیں کہہ سکتی۔‘‘ انعم چہرے پر آئی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے بولی۔
’’کیوں نہیں کہہ سکتیں‘ کھا جائے گا کیا؟ میں پھر کہتی ہوں اس کے دل میں تمہارے لیے رتی بھر بھی جگہ نہیں۔ وہ چھ برس سے تم سے محبت کا کھیل کھیل رہا ہے۔‘‘
’’نہیں ڈئیر! تم اسے نہیں جانتی۔‘‘ انعم نے اس کی بات کاٹی۔
’’تم نے اسے جان کر کون سے آسمان کے تارے توڑ لیے ہیں‘ اس پر ڈھیروں پرتیں ہیں۔ پیاز کی طرح ہر پرت کے بعد نئی پرت نظر آئے گی تمہیں‘ تم اسے کبھی نہیں جان پائو گی لکھ لو۔‘‘ صبا نے گائون اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’کہاں چلیں؟‘‘ انعم نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’فرح سے نوٹس مانگے تھے‘ وہ آج لائی ہوگی۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میں بھی چلوں؟‘‘ انعم نے کہا۔
’’فی الحال تم سلمان کے پرپوزل کے بارے میں سوچو میں ابھی آئی۔‘‘ صبا نے کہا۔
’’تم بکواس کرتی رہنا۔‘‘ انعم کو غصہ آگیا۔
’’پلیز انعم! تم ایک بار اپنے دل کو فواد کی محبت کے حصار سے نکال کر سوچو تو تمہارا دل خود ہی گواہی دے گا کہ وہ مخلص نہیں ہے تم سے۔‘‘ صبا کا لہجہ نہایت نرم تھا۔
’’با…س…‘‘ انعم نے ناگواری سے ہاتھ اٹھا کر کہا تو صبا نے اسے زخمی نظروں سے دیکھا اور اس پر تقریباً جھکتے ہوئے بولی۔
’’مجھے لگتا ہے اس پر مونا کے حسن کا اثر ہوگیا ہے وہ اسے چاہتا ہے۔‘‘
’’یہ جھوٹ ہے۔‘‘ انعم گیلی لکڑی کی طرح چٹخ کر بولی۔
’’وہ تو دو ماہ ہوئے امریکہ جاچکی ہے۔‘‘
’’سائنس کے ذریعے فاصلے سمٹ گئے ہیں نمی جان!‘‘ صبا نے سمجھایا۔
’’بکواس مت کرو۔‘‘ انعم چیخی تو صبا نے اسے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور سیمینار روم کی طرف چل دی‘ انعم خالی خالی نظروں سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔
’’فاصلے سمٹ گئے ہیں… وہ مونا کو چاہتا ہے… اس پر مونا کے حسن کا اثر ہوگیا ہے…‘‘
’’نہیں…‘‘ انعم نے بے قرار ہوکر کانوں پر ہاتھ رکھ لیے مگر اسے لگتا تھا کہ صبا کی باتوں کی بازگشت اب بھی سنائی دے رہی ہے۔
فواد‘ انعم کا پھوپی زاد تھا‘ وہ ایک بینک میں آفیسر تھا۔ انعم کو ہمیشہ بڑی عمر کے مرد بہت اچھے لگتے تھے تب ہی تو جب وہ پندرہ برس کی نوخیز کلی تھی اسے اپنی اتھل پتھل دھڑکنوں کے انداز کی بھی خبر نہ تھی کہ یہ فواد کو دیکھتے ہی ایک دم کیوں تیز ہوجاتی ہیں۔ دل کی دنیا میں سمندروں جیسی طغیانی کیوں آجاتی ہے؟
پھر ایک دم ہی دل میں لطیف لطیف جذبوں کی کسک کا احساس جاگنے لگا اور اسے تب پتا چلا کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بنا دستک دیئے دل کے چور دروازوں سے داخل ہوجاتے ہیں اور پھر ساتھ ہی باہر جانے کے تمام راستے بھی مسدود کردیتے ہیں۔ فواد کی نظروں میں بھی اس نے اپنے لیے محبت کے فانوس جلتے بجھتے دیکھے تو دل کی لگی کو مزید ہوا ملی اور آگ تیز سے تیز تر ہوتی رہی‘ دونوں زبان سے کچھ نہ بولے‘ نہ وعدے وعید ہوئے۔ بس آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں ہوئیں اور جب انہیں ہوش آیا تو اپنا آپ وہ ایک دوسرے کو سونپ چکے تھے۔ محبت کی خوش بو دونوں کے دلوں میں بس چکی تھی۔
اس نے اپنے عشق کا راز سب سے پہلے صبا ہی کو بتایا‘ دونوں کلاس فیلو تھیں۔ صبا زمانہ شناس تھی اور حقیقت بھی تھی کہ وہ انعم سے زیادہ دنیا کے بارے میں جانتی تھی اس نے کہا تھا۔
’’انعم دیکھ بھال کر قدم اٹھانا‘ آج کل دھوکے بہت ہوتے ہیں اور ایسا بہت کم ہے کہ دو محبت کرنے والے ملیں۔‘‘
’’ہمارے درمیان کوئی ظالم سماج جیسی دیوار نہیں آئے گی‘ اس لیے کہ فواد میری پھوپی کا بیٹا ہے ابو جی اسے بہت چاہتے ہیں۔‘‘
’’تم بہت معصوم ہو انعم! بہت سادہ دل اور بزدل بھی۔‘‘
’’اس کی محبت نے مجھے بہادر کردیا ہے۔‘‘ انعم کے لہجے میں فواد کی محبت کا غرور تھا۔ ’’رات بھر ہم فون پر باتیں کرتے ہیں یہ اس کی محبت ہے۔‘‘
’’خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔‘‘ صبا نے صدق دل سے دعا کی۔
وقت گزرتا رہا اور انعم و صبا تعلیمی مدارج طے کرتی رہیں‘ انعم کے مجبور کرنے پر صبا کئی بار اس کے ساتھ ہی فواد سے ملنے گئی۔ پہلی بار ہی فواد اسے بالکل اچھا نہ لگا‘ نہ جانے کس طرح صبا کو اندازہ ہوگیا کہ فواد انعم سے محبت کے معاملے میں بالکل سنجیدہ نہیں۔ جب یہی بات اس نے انعم سے کہی تو انعم کو بہت غصہ آیا اور کہا کہ وہ آئندہ فواد کے متعلق کچھ نہیں کہے گی۔
انعم اور صبا کی بہت اچھی دوستی تھی اور اسی دوستی کے ناتے وہ کبھی کبھی انعم کو سمجھاتی کہ اس اوکھلی سے نکل آئو مگر اسے تو محبت کی اوکھلی کی گرمائش اتنی بھائی کہ وہ وہاں سے نکلنا ہی نہ چاہتی تھی۔
جب وہ بی اے فائنل میں تھی تب فواد کی دونوں بڑی بہنوں کی شادی ہوگئی اب فواد کا نمبر تھا مگر فواد نے انعم سے ہزاروں باتیں کی تھیں۔ محبت کے وعدے کیے تھے مگر کبھی بھی شادی کا ذکر نہ لایا تھا‘ کبھی یہ نہ کہا کہ میں جلد امی کو بھیجوں گا کہ وہ تمہیں ہمیشہ کے لیے ماموں جی سے مانگ لیں حالانکہ بعض مرتبہ انعم کا جی چاہتا کہ وہ اور مدہوش کردینے والی باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہے مگر وہ کچھ نہ کہتا پھر ایک روز جو کچھ صبا نے اسے بتایا‘ اس بات نے انعم کے دل میں بنے محبت کے تاج محل کی اینٹیں کھسکا دیں۔
’’نہیں… نہیں یہ جھوٹ ہے۔‘‘ اس نے بے یقینی سے صبا کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نہ مانو تم‘ میں نے خود شاپنگ مال میں اشتہاری فلموں کی مشہور اداکارہ مونا کے ساتھ دیکھا ہے۔‘‘
’’تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ اسے اب بھی اعتبار نہ تھا۔
’’تمہاری آنکھوں پر تو فواد کی محبت کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔‘‘ صبا نے غصے سے کہا اور انعم آنکھوں میں نمی لیے اس کے غصے سے تمتماتے سرخ چہرے کو دیکھتی رہی اور پھر اسی شام جب وہ خالی خالی ذہن لیے ڈرائنگ روم میں ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اپنے مخصوص وقت پر فواد آگیا۔
اسے دیکھتے ہی انعم کے دل میں پھلجھڑیاں سی چھوٹنے لگیں مگر ایک دم ہی اسے صبح صبا کی کہی ہوئی بات یاد آگئی۔
’’کیسی ہو؟‘‘ فواد نے محبت سے پوچھا۔
’’ٹھیک ہوں۔‘‘ نہ جانے کیوں انعم کی آواز بھرا گئی۔
’’آج بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ فواد اس کے قریب بیٹھ گیا۔ یہی تو اس کی باتیں تھیں جن سے وہ مخمور و مسحور ہوجایا کرتی تھی۔
’’آپ کی لیے چائے لائوں؟‘‘
’’نیکی اور پوچھ پوچھ‘ سچ آج بہت تھک گیا ہوں۔ فوزیہ نے چائے پلائی تو تھی مگر وہ بات کہاں جو تمہاری بنائی ہوئی چائے میں ہے۔‘‘
’’ہوں…‘‘ انعم مغرور ہوگئی۔
’’چاہ سے بناتی ہو نا۔‘‘ فواد نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گمبھیر لہجے میں کہا تو وہ مسکراتی ہوئی باہر چلی گئی۔
’’صبا غلط کہتی ہے‘ فواد صرف مجھے چاہتا ہے اسے یقیناً غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ چائے بناتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی اور فواد کے بارے میں جتنے خدشات اس کے ذہن میں ابھرے تھے وہ فواد نے آن واحد میں مٹا ڈالے۔
’’آپا جلدی سے چائے بنالیں‘ مجھے روٹی پکانی ہے۔‘‘ انعم کی چھوٹی بہن فہمیدہ نے کہا تو وہ خیالوں کے گرداب سے نکل آئی۔ اس نے سنا فہمیدہ پیاز کاٹتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی۔
’’روز منہ اٹھائے آجاتے ہیں فواد بھائی! روز چائے پلائو‘ ہونہہ…‘‘ تب انعم اس کی بڑبڑاہٹ سن کر مسکرائی اور دل ہی دل میں اسے مخاطب کیا۔
’’تمہیں کیا معلوم فہمی ڈئیر! فواد تمہاری آپا کے لیے کیا ہے اور وہ تو صرف آتا ہی میری خاطر ہے‘ میری کشش اسے کھینچ لاتی ہے۔‘‘ انعم نے دو پیالی چائے بنائی اور ٹرے میں رکھ کر ڈرائنگ روم میں آگئی۔ فواد نے اس کے آنے کا کوئی نوٹس نہ لیا۔ وہ تو ٹی وی پر شیمپو کا اشتہار دیکھنے میں مستغرق تھا جہاں مونا اپنے لانبے بالوں کو لہراتی ہوئی پھولوں کے درمیان بھاگتی ہوئی رنگین تتلی لگ رہی تھی انعم کے دل میں ایک عجیب سا درد انگڑائی لینے لگا۔
’’بہت پسند ہے تمہیں مونا؟‘‘ انعم نے ٹرے سینٹر ٹیبل پر رکھی‘ اس کی آواز پر فواد چونکا اور حسب معمول مسکراہٹوں کی بجلیاں اس کے دل پر گراتے ہوئٰے گمبھیر لہجے میں بولا۔
’’ہاں بہت پسند ہے مگر… ایک فنکار کی حیثیت سے اور تم دیکھو مونا جیسی کوئی ماڈل گرل نہیں ہے۔ وہ سب کو پیچھے چھوڑ گئی ہے‘ راتوں رات شہرت حاصل کرلی ہے‘ کوئی اشتہار اس کے بغیر نہیں ہوتا۔‘‘
’’تم جانتے ہو اسے؟‘‘ انعم نے پوچھا۔
’’ہاں اتنا جانتا ہوں جس قدر تم جانتی ہو ٹی وی کی حد تک۔‘‘
’’کبھی ملے ہو؟‘‘ انعم نے بغیر سوچے سمجھے سوال کیا۔
’’لاحول ولا قوۃ! میں اور اس سے ملوں گا بھلا۔‘‘ فواد نے جھنجھلا کر کہا۔
’’تم ناراض کیوں ہورہے ہو؟‘‘ انعم نے دھیرے سے کہا۔
’’تم باتیں ہی ایسی بے تکی کرنے لگی ہو‘ کیا ہوگیا ہے جان تمہیں۔‘‘ فواد نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جذبات سے چُور چُور لہجے میں پو چھا تو اپنے شک پر اسے خود ہی غصہ آگیا۔ میں بھی فضول میں صبا کی باتوں میں آجاتی ہوں وہ تو شروع سے یہی چاہتی ہے کہ میں فواد سے دور ہوجائوں حالانکہ اسے علم ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا۔
فواد میرے وجود کا حصہ ہے‘ میرے جسم میں روح کی مانند ہے اور میری شریانوں میں خون کی مانند فواد کی محبت بہہ رہی ہے‘ دل کے نہاں خانوں میں صرف اور صرف فواد کی تصویر فٹ ہے۔ صبا تو بے وقوف ہے اس نے کبھی محبت کی ہو تو اسے پتا ہو کہ محبت کیا ہے؟ محبت کرنے والوں کے لیے تو یہی دین ایمان ہے‘ سب کچھ یہی ہے۔
’’کیا سو چ رہی ہو؟‘‘ فواد نے اس کے گال پر جھولتی لٹ کو کھینچتے ہوئے شوخی سے کہا تو انعم خیالات کے گرداب سے نکل آئی اور مسکراتی ہوئی بولی۔
’’میری سوچوں کا ہر سرا تمہی سے شروع ہوتا اور تمہی پر ہر سوچ ختم ہوتی ہے۔‘‘
’’سچ…‘‘ فواد کی آنکھوں میں محبت کی قندیلیں روشن ہوگئیں۔
’’فواد ایک بات کہنی تھی تم سے۔‘‘
’’حکم کرو۔‘‘ وہ وجد میں بولا۔
’’وہ… وہ فواد…‘‘ انعم چپ ہوگئی۔
’’آئوٹنگ پر چلنا ہے؟‘‘ وہ شوخی سے بولا۔
’’یہ بات نہیں ہے۔‘‘ اس کی بات پر انعم نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’پھر؟‘‘ فواد نے مدہوش نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’آج کل گھر میں میری شادی کی باتیں گردش کررہی ہیں۔‘‘ انعم نے آخر کہہ دیا۔
’’اچھا۔‘‘ فواد زور سے ہنسا۔
’’دو رشتے آئے ہوئے ہیں۔‘‘ انعم نے تفصیل بتائی۔
’’چل جھوٹی۔‘‘ فواد نے سدا کے لا اُبالی پن سے کہا۔
’’میں سچ کہہ رہی ہوں فواد!‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
’’ارے یار تم کیوں دکھی ہوتی ہو‘ ہمارا سنجوگ تو آسمانوں پر ہوا ہے تمہیں کوئی اور نہیں لے جاسکتا‘ سوائے مابدولت کے۔‘‘ فواد نے انعم کا ہاتھ تھام کر نہایت پریم سے کہا۔ اس کی یہی تو باتیں تھیں جو کہ انعم کے دل میں اٹھتے سوالات کے سامنے بند باندھ دیتی تھیں وہ کچھ نہ کہہ سکتی اور واقعی یہ سچ تھا کہ فواد کے کہنے پر وہ یہی سمجھتی تھی کہ ہمارا سنجوگ تو آسمانوں پر ہوگیا ہے۔ تبھی تو وہ جو دونوں رشتے آئے تھے انعم کے والدین نے انکار کردیا مگر پھر بھی فواد کے کان پر جوں نہ رینگی اور اس نے اپنی ماں کو نہ بھیجا۔
ادھر صبا نے انعم کے کان کھا لیے تھے یہ کہہ کہہ کر کہ فواد کے دل میں کھوٹ ہے‘ اس کے دل میں تم نہیں مونا بسی ہوئی ہے کیونکہ صبا نے کئی بار فواد کو مونا کے ساتھ دیکھا تھا۔ ایک بار صبا اپنے بھائی فاروق اور طاہرہ بھابی کے ساتھ شاپنگ کے لیے گئی تو وہاں بھی اس نے فواد اور مونا کو دیکھا اس کا جی چاہا فواد کا بازو تھام کر کہے۔
’’بہت خوب… دو دو لڑکیوں کو بے وقوف بنا رکھا ہے یہ تو بتائو سچی محبت کس سے ہے؟‘‘ مگر فاروق بھائی کی موجودگی میں وہ ایسا نہیں کہہ سکتی تھی۔
دل تو چاہ رہا تھا کہ یہاں سے ہی بھاگ جائے اور انعم کو لے آئے۔ اسے دکھائے جس کی محبت کا دل وہ بھرتی ہے وہ ایک نمبر کا فلرٹ ہے‘ کمینہ پاجی اور ایک وہ بے وقوف گدھی ہے کہ میری بات سنتی نہیں۔ سمجھتی ہے کہ جیسے میں اس کی دشمن ہوں۔ ساری زندگی روئے گی اگر فواد کی ہو بھی گئی‘ یہ تو ہر پھول پر منڈلانے والا بھنورا ہے رس چوس کر اڑ جانے والا۔
صبا کا سمجھانا اپنی جگہ رہا اور انعم‘ فواد کی محبت میں گوڈے گوڈے دھنستی رہی۔ فواد کی باتیں اسے سچ لگتیں اور صبا کی بات تو وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دیتی۔ صبا کی باتوں کو وہ دیوانے کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہ دیتی تھی۔ کسی کے روکنے سے وقت کا پنچھی نہیں رکتا بلکہ یہ تو اپنی مخصوص پرواز کے ساتھ پر پھیلائے اڑتا رہتا ہے۔
جب وہ ایم اے میں تھی تو صبا کی منگنی اس کے کزن افتخار سے ہوگئی۔ صبا نے اچھی لڑکیوں کی طرح والدین کی پسند پر سر جھکادیا۔ اس کی راتوں کی نیندیں حرام نہ ہوئی تھیں‘ انعم کی طرح۔ انعم کو تو جب بھی پتا چلتا کہ اس کے لیے کوئی رشتہ آیا ہے تو دل ابھرنے ڈوبنے لگتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اماں بی اب کے حامی بھرلیں گی‘ وہ فواد کو بتاتی تو وہ ہنس کر ٹال جاتا اور اپنا مخصوص جملہ دہراتا رہتا۔
’’ہمارا سنجوگ تو آسمانوں پر ہوگیا ہے انعم جان! میرے علاوہ تمہیں کوئی نہیں لے جاسکتا۔‘‘
بعض مرتبہ وہ سوچتی کہ شاید صبا ٹھیک ہی کہتی ہے اس کے جذبے سچے تھے تبھی تو اس بیری پر پڑنے والا کوئی پتھر نشانے پر نہیں بیٹھ رہا تھا مگر کب تک؟ اب جو رشتہ آیا تھا سلمان احمد کا ہر لحاظ سے موزوں تھا۔ سلمان احمد کا ڈنمارک میں وسیع کاروبار تھا اور سلمان احمد انعم کی بڑی بہن رخشندہ کے سسرالی رشتے داروں میں سے اچھا رشتہ دار تھا۔
رخشندہ خود بھی والدین پر زور دے رہی تھی کہ سلمان سے اچھا رشتہ نہیں ملے گا۔ وہ ذاتی طور پر سلمان کو جانتی تھی وہ بہت بردبار قسم کا انسان تھا۔ امی ابو کو کوئی اعتراض نہ تھا اور انعم نے تقریباً روتے ہوئے فواد کو بتایا تو وہ بولا۔
’’بھئی میرا ارادہ ابھی شادی کا نہیں ہے‘ میں سی اے کرنے لندن جانا چاہ رہا ہوں‘ تم نے جہاں اتنے برس انتظار کیا ہے چند سال اور کرلو۔‘‘
’’اور اگر ابو نہ کریں انتظار پھر…؟‘‘ انعم نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’پلیز میری خاطر انعم! مجھے علم ہے کہ تم میرے بن سکھی نہ رہ سکو گی اور… اور نہ ہی میں تمہارے بغیر چین سے رہ سکوں گا۔ تم… تم انکار کردو۔‘‘ فواد کے چہرے پر اندرونی دکھوں کا عکس لہرانے لگا تو انعم کے دل کے سمندر میں درد کی لہریں اٹھنے لگیں‘ وہ اپنے فواد کو دکھی نہ دیکھ سکتی تھی۔
’’میں انکار کردوں گی فواد تمہاری خاطر… مگر پلیز تم مجھے دھوکا نہ دینا۔‘‘ انعم نے اس کا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا لیا۔
’’پگلی! تم تو میری زندگی ہو بھلا کوئی اپنی زندگی سے بھی دھوکا کرتا ہے؟‘‘ فواد نے اسے کھینچ کر قریب کرلیا اور انعم اس کے سینے میں منہ چھپا کر بلک پڑی۔ دوسرے روز اس نے ساری بات صبا کو بتائی تو اس نے حسب معمول یہی کہا۔
’’انعم! تم نری بدھو ہو‘ فواد تم سے محبت کے معاملے میں مخلص نہیں ہے۔‘‘ اور ابھی ابھی وہ اسے سمجھا بجھا کر گئی تھی اور ساتھ ساتھ اس کے پُرسکون سمندر میں ایک جملے کا پتھر پھینک کر ارتعاش بھی پیدا کردیا تھا۔
’’اس پر مونا کے حسن کا جادو چل گیا ہے۔‘‘
’’نہیں‘ وہ صرف میرا ہے اس نے خود کہا ہے کہ میں اس کا انتظار کروں‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ایسا کیوں کہتا؟‘‘ انعم نے سر جھٹکتے ہوئے سوچا‘ تب ہی صبا آگئی۔
’’لے آئیں نوٹس…؟‘‘ اس نے صبا کے سوال کرنے سے پہلے ہی سوال کردیا۔
’’فرح آج آئی ہی نہیں۔‘‘ صبا نے کہا۔
’’چلو لائبریری چلتے ہیں۔‘‘ انعم نے گائون‘ کاپیاں کتابیں اٹھائیں اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ اصل میں وہ نہیں چاہتی تھی کہ صبا مزید کچھ کہے اور اسے علم تھا کہ اب پھر وہ نصیحتوں کی پٹاری کھول کر بیٹھ جائے گی اور مجھے بے سکون کردے گی اور پھر صبا نے بھی اس سے کچھ نہ کہا اور چپ چاپ اس کے ساتھ چل دی۔
٭…٭…٭
انعم حیران و ششدر رہ گئی تھی جب سلمان کی بہن نے اسے آکر انگوٹھی پہنائی‘ اس نے مائوف ہوتے ذہن کے ساتھ سب کچھ دیکھا۔ اس کی گویائی ختم ہوچکی تھی‘ اسے تو پتا بھی نہ چلا تھا کہ کب نکاح ہوجانا تھا اور شادی اس کے ایم اے کے بعد ہونی تھی اور پھر جب سب چلے گئے تو انعم کو ہوش آیا‘ اس نے غصے سے انگوٹھی اتار کر امی جی کے سامنے پھینک دی‘ انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولیں۔
’’تمہارا دماغ تو صحیح ہے؟‘‘
’’ہاں مجھ سے پوچھے بغیر آپ نے کیوں میری زندگی کا فیصلہ کردیا۔‘‘ انعم نے ہمت کرکے کہا۔
’’دنیا جہاں کے والدین ہی اپنی اولاد کی آئندہ زندگی کے فیصلے کرتے ہیں۔ ہم نے کردیا تو کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘ امی جان نے رسان سے جواب دیا۔
’’آپ نے یہ سب رخشندہ آپا کے کہنے پر کیا ہے‘ نہ لڑکے کو دیکھا بھالا نہ کچھ کیا‘ میں اتنا بوجھ ہوں امی جان!‘‘ انعم رو دی۔
’’لڑکیاں پرایا دھن ہوتی ہیں‘ آخر کون کب تک بیٹھتی ہے اور رخشندہ تمہاری بہن ہے‘ دشمن نہیں۔‘‘
’’پھر بھی مجھے… مجھے نہیں کرنی سلمان سے شادی۔‘‘ انعم نے کہا۔
’’یہ تم کہہ رہی ہو۔‘‘ امی جی کا چشمہ مارے حیرت کے ڈھلکنے لگا۔
’’جی…‘‘
’’مگر اس انکار کی وجہ؟‘‘ امی جی نے خود پر قابو پاکر پوچھ ہی لیا۔
’’میں پڑھنا چاہتی ہوں۔‘‘ انعم نے ہولے سے کہا۔
’’تو کون منع کرتا ہے تمہیں پڑھنے سے‘ یہ آخری سال تو ہے تمہارا اس کے بعد تمہیں گھر تو بسانا ہے۔‘‘ امی جی نے فیصلہ سنا دیا۔
’’مگر…‘‘ انعم نے کہنا چاہا۔
’’مگر کچھ نہیں انعم اگر تم نے مزید کچھ کہنا چاہا تو میں کچھ پھانک کر مرجائوں گی۔‘‘ امی جی روایتی ماں بن گئیں اور یہاں انعم ہار گئی ایک دم ہی اس کی ساری ہمت جواب دے گئی۔ وہ بھربھری مٹی کی طرح ڈھے سی گئی۔ ساری تیزی طراری دھری رہ گئی۔
وہ فواد کے سامنے روئی گڑگڑائی کہ اب بھی وقت ہے تم پھوپی کو بھیج دو ابو جی مان جائیں گے مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا بس سگریٹ کے کش پر کش لگاتے ہوئے اسے اپنی سرخ ڈورے والی زخمی نظروں سے دیکھتا رہا۔
’’میں امی سے بات کروں گا اور… اور اگر وہ نہ مانیں تو میں یہ ملک چھوڑ دوں گا پھر… پھر کیا رہ جائے گا میرے لیے یہاں۔‘‘ فواد کی آواز بھرا گئی‘ اس کے دکھ پر انعم اپنا دکھ بھول گئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
’’حوصلہ کرو فواد! اب بھی کچھ نہیں بگڑا‘ تم تو کہتے ہو ہمارا سنجوگ آسمانوں پر ہوا ہے۔‘‘
’’ہاں کہتا ہوں مگر مجھے لگتا ہے اب مشکل ہی سے ماموں جی مانیں۔‘‘
’’کیوں بدفال نکالتے ہو منہ سے۔‘‘ انعم نے تڑپ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
پھر پورا ہفتہ فواد اسے نہ ملا نہ گھر آیا‘ وہ مخصوص وقت پر اس کی منتظر رہتی۔ ایک ہفتے تک وہ بولائی بولائی پھری یونیورسٹی بھی نہ جاسکی۔ صبا بھی نہ آئی تھی کہ اسی سے کچھ کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا کرلیتی۔
اس روز دوپہر کو خلاف توقع فواد آگیا تو اس کا مرجھایا ہوا دل کلی کی مانند کھل اٹھا۔ امی جی رخشندہ باجی کے ساتھ بازار گئی ہوئی تھیں‘ ابا ابھی دفتر سے لوٹے نہ تھے اور راستہ صاف تھا۔ فواد آیا اور ڈرائنگ روم میں صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا۔
’’کیا ہوا فواد؟‘‘ انعم نے دھڑکتے دل سے اس سے پوچھا تو اس نے اپنی سرخ انگارہ جیسی نگاہیں اس پر گاڑ دیں۔
’’انعم! میں تم بن نہیں رہ سکتا۔‘‘ وہ رو دینے کو تھا۔
’’تو… تو پھوپی جی نہیں مانیں؟‘‘ انعم نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
’’میں ایک ہفتے سے انہیں منا رہا ہوں۔‘‘ فواد کا لہجہ کانچ کی طرح ٹوٹا ہوا تھا‘ وہ اپنی الفت جتا کر انعم کی بے قراری بڑھا رہا تھا۔
’’مگر وہ کیوں نہیں مان رہیں؟‘‘ انعم نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔
’’وہ رابعہ آپا کی نند سے…‘‘
’’اوہ…‘‘ انعم نے ایک طویل سانس لی۔
’’ایک تجویز ہے میرے ذہن میں اگر تم مانو تو کام بن سکتا ہے۔‘‘ فواد نے کہا۔
’’کیا…؟‘‘ انعم کو لگا جیسے اندھیری رات میں کوئی جگنو چمک اٹھا ہو۔
’’ہم سب سے چھپ کر کورٹ میرج نہ کرلیں۔‘‘ فواد نے کہا تو وہ کپکپا کر رہ گئی۔
’’نہیں فواد! یہ بدنامی کا راستہ ہے۔‘‘
’’مگر اس کے بغیر ہمارا سنجوگ ممکن نہیں ہے انعم!‘‘ فواد نے مضبوط لہجے میں کہا۔
’’فواد بدنامی ہوگی‘ لوگ باتیں بنائیں گے۔‘‘
’’جب تم میری بن جائو گی توکیسی بدنامی‘ کہاں کی بدنامی اور رہا لوگوں کی باتوں کا تو دنیا کا تو کام ہی باتیں بنانا ہے چند روز بعد سب چپ ہوجائیں گے۔‘‘ فواد نے سمجھایا۔
’’پھر بھی مجھے سوچنے تو دو۔‘‘ انعم نے ہولے سے کہا حالانکہ اس کا دل کہہ رہا تھاکہ ابھی حامی بھرلو مگر اس نے دل کی صدا کو دبا دیا‘ پتا نہیں یہ بات اس کا ذہن کیوں نہ مان رہا تھا۔
’’کل جواب دو مجھے تاکہ میں سارا انتظام کرلوں۔‘‘ فواد فوراً جواب چاہتا تھا۔
’’تم سی اے کرنے انگلینڈ نہیں جائو گے؟‘‘
’’تم مجھے مل جائو میں سمجھوں گا مجھے سب کچھ مل گیا ہے۔‘‘ فواد نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اس کے اس طرح دیکھنے پر لاجونتی کے پودے کی مانند سمٹ گئی۔
٭…٭…٭
’’تم اس سے کہہ دو کہ تم کورٹ میرج پر راضی ہو‘ صاحب بہادر کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔‘‘ صبا نے انعم کی پوری بات سننے کے بعد کہا۔
’’وہ بہت سیریس تھا صبا!‘‘
’’میں نہیں مان سکتی انعم ڈئیر! وہ تم سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے‘ اسے معلوم ہے کہ تم کورٹ میرج کے حق میں نہیں ہوگی اور اس طرح وہ دامن بچالے گا۔‘‘
’’وہ ایسا نہیں ہے۔‘‘ انعم کا دل اس بات کو نہ مان رہا تھا۔
’’اس نے تمہیں بتایا نہیں کہ تمہاری پھوپو نے انکار کیوں کیا؟‘‘ صبا نے کہا۔
’’میں نے پوچھا ہی نہیں۔‘‘ انعم نے یہ بات گول کردی کہ اس کی پھوپی اپنی بیٹی کی نند کو بہو بنانا چاہتی ہیں۔
’’بدھو ہو ایک دم سے بھلی مانس! بھول جائو اسے‘ وہ جو چاہتا ہے تم وہی کہو‘ اسے کہہ دو کہ تم اپنے والدین کی عزت نیلام نہیں کرسکتیں۔‘‘
’’صبا پلیز کوئی حل سوچو میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ انعم روہانسی ہوگئی۔
’’میں نے جو کہنا تھا کہہ چکی اور انعم! میں تمہیں برسوں سے سمجھاتی آرہی ہوں‘ وہ تم سے محبت کے معاملے میں ایک رتی بھی مخلص نہیں ہے۔ وہ تمہیں نہیں چاہتا جب تم دونوں کا عشق چلا وہ سروس کررہا تھا‘ خود مختار تھا۔ اپنی ماں سے ضد کرکے ہر بات منواسکتا تھا اب جب کہ تمہاری منگنی ہوگئی ہے اب اسے ہوش آیا ہے اور تمہیں اندھیروں کے غار میں دھکیلنا چاہتا ہے کورٹ میرج کرکے ایسی محبت کے بوٹے کو دل کی زمین سے نوچ پھینکو جس میں لگنے والے پھولوں کی خوش بو تمہارے والدین کی رسوائی کا باعث بنے۔ فرض کرو تم دونوں نے سب سے چھپ کر شادی کر بھی لی تو نہ تمہاری سسرال میں عزت ہوگی اور نہ تمہارے چہیتے فواد کے دل میں تمہارے لیے کوئی جگہ ہوگی۔ وہ طعنے دے دے کر تمہارا جینا حرام کردے گا۔‘‘ صبا نے سمجھایا۔
’’پھر میں کیا کروں۔‘‘
’’اچھی لڑکیوں کی طرح والدین کی رضا پر سر جھکادو‘ والدین جو کچھ کرتے ہیں بہتر کرتے ہیں۔ آئندہ زندگی میں بھی والدین کی دعائیں سر پر سائبان کی طرح تنی رہتی ہیں اگر تم ان کا دل دکھائو گی تو ہمیشہ بے سکون رہو گی۔ انعم ڈئیر! اتنی محبتیں چھوڑ کر ایک محبت مت اپنائو‘ وہ بھی ایسی محبت جو کہ ڈانوں ڈول ہو۔‘‘ صبا نے اس کا ہاتھ تھام کر تھپکتے ہوئے نہایت نرم لہجے میں سمجھایا۔
’’پھر… میں اسے کہہ دوں کہ میں اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔‘‘ انعم نے نہایت ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا اور ساتھ ہی آنسو پلکوں کا بند توڑ کر گالوں پر آگئے۔
’’ہاں‘ تمہیں ایسا کرنا ہی ہوگا۔‘‘ صبا نے انگلی کی پور سے اس کے گالوں پر بہنے والے آنسو صاف کیے۔ ’’اس لیے انعم جان کہ وہ تم جیسی معصوم اور سادہ لڑکی کے قابل نہیں ہے۔ وہ نہایت شاطر انسان ہے‘ وہ ادھر تمہارے ساتھ محبت کا کھیل کھیلتا رہا اور اُدھر مونا کے ساتھ محبت کی پینگیںبڑھاتا رہا۔ ایسا مرد مخلص نہیں ہوتا۔‘‘
’’مگر وہ توکہتا ہے کہ وہ بحیثیت فنکار کے مونا کو پسند کرتا ہے۔‘‘ انعم نے بھیگی بھیگی پلکوں کو اٹھا کر صبا کی طرف دیکھا۔
’’سو بہانے ہیں خود کو بچانے کے۔‘‘
’’مگر یہ تو بتائو تمہیں کیسے پتا ہے کہ وہ مجھ سے مخلص نہیں ہے‘ پہلی بار دیکھتے ہی تم نے کیسے اندازہ لگا لیا تھا؟‘‘ انعم نے پوچھا۔
’’انسان کے اندر ایک اور چیز بھی ہوتی ہے جسے چھٹی حِس کہتے ہیں‘ وہ کوئی خطرہ محسوس کرکے فوراً دماغ میں خطرے کا الارم بجانے لگتی ہے اگر کوئی اس الارم کی آواز سن لے تو کبھی نقصان نہیں اٹھاسکتا۔ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پہلی نظر میں اچھے لگتے ہیں‘ ان سے دوبارہ ملنے کو باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے جبکہ فواد مجھے پہلی نظر ہی میں اچھا نہیں لگا۔ اس کے دیکھنے کا انداز ہی مجھے نہیں بھایا تھا۔‘‘ صبا نے نہایت صاف گوئی سے کہا تو انعم نے پہلی بار فواد کے خلاف اتنا کچھ کہنے کے باوجود صبا کو کچھ نہ کہا بس وہ نہ جانے کیا سوچتے ہوئے گھاس توڑتی رہی۔
٭…٭…٭
’’فواد! میں تمہاری بات نہیں مان سکتی۔‘‘ شام کو جب فواد انعم کا فیصلہ سننے آیا تو اس نے اپنے دل پر نہایت جبر کرکے کہہ دیا۔
’’کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ فواد نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’ہاں فواد میں اپنی والدین کی عزت نیلام نہیں کرسکتی‘ میں ایک محبت پانے کے لیے ڈھیروں محبتیں نہیں گنوا سکتی۔‘‘ انعم نے صبا کے کہے ہوئے الفاظ دہرا دیئے۔
’’انعم تم کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ فواد نے اسے بازوئوں سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا۔
’’خدا کو ہمارا سنجوگ منظور نہیں ہے فواد!‘‘ انعم نے اس سے اپنا آپ چھڑایا اور پھر تقریباً بھاگتی ہوئی ڈرائنگ روم سے نکل گئی۔ وہ یہ بھی نہ دیکھ سکی کہ فواد آنکھوں میں حیرت لیے ہلتے پردوں کو دیکھے جارہا تھا۔
/…ء…/
دن عجیب بے کل انداز میں گزرنے لگے تھے‘ وہ یونیورسٹی بھی جاتی مگر خالی خالی ذہن کے ساتھ کلاسز اٹینڈ کرتی۔ صبا نے اس سے کچھ نہ پوچھا مگر اسے علم تھا کہ اس کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔ انعم نے فواد کو اپنا فیصلہ سنا تو دیا مگر خود ٹوٹ پھوٹ گئی ہے‘ بکھر گئی ہے۔ ظاہر ہے اب سمٹنے میں کچھ وقت تو لگے گا ہی؟ دوسرا سمسٹر ختم ہوا ہی تھا کہ پتا چلا سلمان احمد پاکستان آرہے ہیں‘ صرف پندرہ روز کے لیے اور ان کی بہن سلطانہ چاہتی تھی کہ نکاح کردیا جائے یوں جلدی جلدی تیاریاں شروع ہوگئیں۔
انعم کے نکاح سے صرف چار دن قبل فواد انگلینڈ چلا گیا‘ جاتے وقت انعم سے ملا بھی نہ بس فون پر ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’اب میں کبھی واپس نہیں آئوں انعم جان! خدا تمہیں خوش رکھے‘ اللہ حافظ۔‘‘ اور جواب میں انعم کچھ بھی نہ بول سکی تھی‘ فواد نے سلسلہ منقطع کردیا۔ انعم کی رو رو کر بُری حالت تھی‘ سب کا خیال تھا کہ لڑکیاں اپنی شادی کے موقع پر ایسے ہی تڑپتی روتی ہیں۔ اصل وجہ تو کسی کو معلوم نہ تھی کہ وہ کیوں تڑپ رہی ہے۔
پرانی محبت اس کے دل میں چٹکیاں لے رہی تھی۔ دل کے سنگھاسن پر بیٹھا فواد اپنے شہد آگیں لہجے میں بول رہا تھا۔
’’تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔‘‘ انعم کا دل خون کی ندی بنا ہوا تھا‘ ہر طرف ماتم ہی ماتم ہورہا تھا۔
وہ خالی خالی نظروں کے ساتھ سب کچھ دیکھ رہی تھی‘ نکاح کے وقت جب اس سے قبولیت کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بڑے دھڑلے سے دل کی آواز کو دبا کر ہاں کہہ دی‘ کاغذات پر دستخط کردیئے اور پھر صبا کے کندھے پر سر رکھ کر بکھرگئی۔ ساری خواتین کمرے سے جاچکی تھیں اس کے پاس صرف صبا تھی۔
’’صبو… صبو… وہ چلا گیا۔‘‘ انعم نے گلوگیر آواز میں کہا۔
’’بہت اچھا ہوا۔‘‘ صبا نے کہا۔
’’وہ بہت دکھی تھا۔‘‘
’’دکھ سکھ سب کی زندگی میں آتے ہیں‘ مجھے یقین نہیں کہ وہ دکھی ہوگا اور اب تم اس کے بارے میں سوچو بھی مت‘ سلمان احمد بہت اچھے ہیں۔‘‘ صبا نے اس کی آنسوئوں سے لبریز آنکھوں میں جھانکتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ آہ بھر کر رہ گئی جبھی کسی نے ٹیپ ریکارڈ آن کردیا اور دلوں کو چیرنے والا گانا انعم کی سماعت سے ٹکرایا۔
’’زندگی… امتحان لیتی ہے‘‘
’’پلیز صبو! اسے بند کرادو۔‘‘ اس نے نہایت بے قراری سے ہونٹ کچلتے ہوئے کہا۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے کہ یہ گیت اس کے حسب حال ہو۔ اس کی زندگی بھی تو کڑے امتحان سے گزر رہی تھی اس کی بھی تو جان پر بنی ہوئی تھی‘ صبا نے ٹیپ ریکارڈ بند کردیا اور پھر ایک دم شور اٹھا کہ انعم کی رخصتی بھی آج ہی ہے کیونکہ اس کی نند سلطانہ نے کہا تھا کہ صرف دو روز کے لیے انعم کو بھیج دیا جائے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشہور ہوٹل میں ولیمے کا انتظام کر رکھا تھا سب دوستوں کو بھی مدعو کیا جاچکا تھا اور یہ بات پہلے سے انعم کے والدین کو بتادی گئی تھی وہ راضی تھے مگر انعم اس دھوکہ دہی پر آگ بگولہ ہوگئی تھی۔
’’صبو! میں نہیں جائوں گی‘ ابھی میں سلمان کو ذہنی طور پر قبول نہیں کرسکتی پھر اس کی قربت… نہیں صبو! امی سے کہہ دو اتنا تو میرے ضبط کو نہ آزمائیں۔‘‘
’’پوری برادری جمع ہے انعم! اور تم جائو مجھے یقین ہے کہ سلمان تمہاری مرضی کے خلاف تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔‘‘ صبا نے اسے سمجھایا۔
’’مرد کا کیا بھروسہ۔‘‘ انعم نے کہا۔
’’تم نے فواد کو نہیں آزمایا‘ انہیں آزما کر دیکھ لو اگر میرا اندازہ درست نہ ہوا تو میں ہر سزا کے لیے تیار ہوں۔‘‘ صبا نے وثوق سے کہا۔
’’آخر میں انہیں کیا کہوں گی۔‘‘ انعم رو دی۔
’’کہہ دینا کہ جب تک تم ایم اے نہیں کرلیتیں ازدواجی تعلقات کے لیے…‘‘
’’اُف بدتمیز کیسی باتیں مجھ کنواری لڑکی سے کہلوا رہی ہو۔‘‘ صبا ایک دم شرما گئی تو انعم بھی مسکرادی اور پھر رات گئے انعم کی رخصتی بھی ہوگئی۔
اور جو کچھ صبا نے کہا تھا‘ وہ درست تھا اور انعم حیرت سے سوچ رہی تھی کہ میں بھی اسی کی ہم عمر ہوں پھر اس کے اندازے اس قدر درست کیسے ہوتے ہیں۔ سامنے ہی سلمان احمد صوفے پر کشن سر تلے دیئے لیٹے ہوئے تھے۔
انہوں نے انعم کا گھونگھٹ الٹتے ہی اس کے حسن کی ڈھیروں تعریفیں کی اور جب وہ بیڈ کے قریب لگا بٹن دبا کر لائٹ آف کرنے لگے تو انعم نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ انہوں نے چونک کر انعم کی طرف دیکھا‘ اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے۔ وہ سب سمجھ گئے اور مسکراتے ہوئے بولے۔
’’جیسی تمہاری مرضی‘ ویسے سہاگ رات یونہی گزارنے کا ہمیشہ قلق رہے گا۔‘‘
’’آپ ناراض ہیں مجھ سے؟‘‘ انعم کے لبوں سے یہ جملہ گولی کی طرح نکلا۔
’’یہ تمہیں کیسے اندازہ ہوا؟‘‘ انہوں نے انعم کی تھوڑی پکڑ کر اس کی بھیگی بھیگی آنکھوں میں جھانکا۔
’’آپ کو تو علم ہے کہ میں ابھی پڑھ رہی ہوں اور اگر کچھ…‘‘ وہ بُری طرح شرما گئی۔
’’ہاں یہ تو ہے تم پڑھو گی یا بچے سنبھالو گی‘ ٹھیک ہے دیکھو مجھے عقل ہی نہ آئی چلو آرام سے سو جائو جہاں ہم نے بیوی کے بغیر اتنے برس گزارے ہیں چند ماہ اور سہی‘ ہے نا۔‘‘ انہوں نے انعم کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر پیار کیا اور ان کی اس حرکت نے انعم کے وجود میں آگ سی لگادی پھر سلمان احمد اٹھے اور صوفے پر جاکر لیٹ گئے چند لمحے بعد ہی انہیں نیند آگئی اور وہ اب تک انہیں دیکھ رہی تھی‘ فواد اور سلمان احمد کا موازانہ کررہی تھی۔
فواد سے لاکھ درجہ خوب صورت تھے سلمان احمد‘ مگر اسے تو فواد ہی اچھا لگتا تھا پھر وہ کیا کرتی۔ سرخ و گندمی رنگت‘ گھنگھریالے بال‘ ٹھوڑی میں ننھا سا گڑھا جو انہیں اور جاذب نظر بنا دیتا تھا۔ وہ سلمان احمد کو دیکھتی رہی اور نہ جانے کب نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوگئی۔
دوسرے روز شام کو ولیمہ تھا‘ انعم بہت خوش تھی اور صبا نے جب اس کے گالوں پر پھوٹتے ہوئے خوشی کے انار دیکھے تو وہ جھوم اٹھی اس کا قیاس درست تھا اس کے پوچھنے سے پہلے بول پڑی۔
’’سلمان بہت اچھے ہیںصبو!‘‘
’’والدین کی پسند ہمیشہ ہی اچھی ہوتی ہے۔‘‘ صبا نے کہا۔
’’انسان کی اپنی پسند بھی تو کوئی چیز ہے۔‘‘ انعم نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔
’’یہ پسند وسند صرف جوانی کے ابال ہیں اور کچھ نہیں جونہی عمر آگے بڑھتی ہے‘ یہ سارے طوفان ہلکے پڑ جاتے ہیں۔‘‘ صبا نے کہا۔
اس سے پہلے کہ انعم جواب دیتی‘ کچھ اور لڑکیاں آگئیں اور یوں بات ختم ہوگئی۔ انعم ایک ہفتہ اپنی سسرال میں رہی اور سلمان احمد کی شرافت نے اس کے دل میں گھر تو کرلیا مگر یہ شرافت کی کھرپی اس کے دل کی دیواروں پر لکھا فواد کا نام نہ کھرچ سکی۔ سلمان احمد شادی کے صرف نو روز بعد واپس ڈنمارک چلے گئے اور انعم اپنے میکے آگئی۔ دوسرے روز سے حسب معمول وہ یونیورسٹی جانے لگی اب بھی وہ صبا سے فواد ہی کا ذکر کرتی‘ وہ جل کر کہتی۔
’’اب تم سلمان احمد کی باتیں کیا کرو‘ فواد کو گزرا وقت سمجھ کر بھلادو۔‘‘
’’گزرا ہوا وقت اچھا ہو یا بُرا بھلایا نہیں جاتا۔‘‘ انعم دکھ سے کہتی۔
’’اگر تم نے اسے نہ بھلایا تو زندگی اجیرن ہوجائے گی تمہاری۔‘‘ صبا سمجھاتی۔
’’اب بھی تو دکھ بھری زندگی گزار رہی ہوں۔‘‘ انعم مسکرا کر کہتی تو صبا کا جی چاہتا کہ کم بخت کو اتنا مارے کہ اس کے دل میں سجی فواد کی تصویر مسخ ہوجائے مگر ایسا کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔
فواد کو انگلینڈ گئے تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ انعم کی بھابی رفعت کے بھائی اور بھاوج پورے پانچ برس بعد انگلینڈ سے لوٹے رفعت بھابی کئی روز میکے میں رہیں۔ شہزاد بھائی نے سالے کو دعوت دی‘ خاصا اہتمام کیا گیا تھا۔
کھانے کے بعد سب ڈرائنگ روم میں جمع تھے‘ انعم کافی بنا لائی‘ تب ایک دم ہی میمونہ بولیں۔
’’آنٹی! وہ آپ کی نند کا بیٹا ہے نا فواد!‘‘
’’ہاں… ہاں وہ بھی سی اے کرنے انگلینڈ گیا ہے۔‘‘ امی جی نے کہا۔
’’سی اے کرنے تو نہیں‘ کیوں طارق؟‘‘ میمونہ نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا اس کا لہجہ ایسا ذومعنی تھا کہ انعم کا دل دھڑک اٹھا۔
’’ہاں خالہ جان وہ تو ہمیں ڈرگ اسٹور میں ملا تھا‘ اس کی وائف بھی اس کے ساتھ تھی۔‘‘ طارق نے بتایا تو انعم کو لگا جیسے اس کا دل ٹھہر جائے گا‘ اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا۔
’’وائف…‘‘ شہزاد بھائی نے حیرانگی سے پوچھا۔ ’’وہ تو یہاں سے اکیلا گیا تھا۔‘‘
’’شاید مونا نام بتایا تھا‘ اس نے گھر آنے کا بھی کہا مگر ہمیں فرصت ہی نہ ملی۔‘‘ طارق بتا رہے تھے اور انعم کو ساری دنیا چکراتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ اسے کیا علم تھا کہ فواد نے مونا سے تو ایک برس پہلے کورٹ میرج کرلی تھی۔ مونا کے دونوں بھائی برسوں سے انگلینڈ میں رہتے تھے اور وہ تو شوقیہ ماڈلنگ کرتی تھی۔ فواد سے اس کی ملاقات ایک کاک ٹیل پارٹی میں ہوئی اور وہ جو اپنا آپ معصوم و سادہ سی انعم کے سامنے نہ ہارا تھا اس تیز طرار مونا کے آگے اپنا سب کچھ ہار گیا اور پھر گزشتہ برس دل کے تقاضوں سے مجبور ہوکر اس نے اور مونا نے شادی کرلی۔ مونا اپنے بڑے بھائی کے پاس امریکہ چلی گئی‘ وہاں ایک ماہ رہنے کے بعد انگلینڈ آگئی۔ اس کے بھائی نے ذاتی طور پر… کوشش کرکے فوادکو بھی بلوالیا۔
اسے جاب بھی دلوا دی اور وہ اب بہت خوش تھا جبکہ یہاں انعم یہ سمجھ رہی تھی کہ فواد نے اس خاطر بن باس لیا تھا۔ ایسا تو نہ تھا‘ صبا کی بات سچ تھی کہ وہ محبت کے معاملے میں رتی بھر بھی مخلص نہ تھا‘ جاتے جاتے بھی اپنے من کا کھوٹ عیاں نہ کرسکا اور پھر اس رات انعم نے آخری بار فواد کو یاد کیا‘ اس کی بے وفائی کو یاد کرکے آنسو بہائے اور اپنے آنسوئوں کی برسات میں اس نے اپنی پلکوں میں ثبت فواد کی شبیہہ بھی بہا ڈالی۔ کتنا بڑا دھوکا کیا تھا اس نے جاتے جاتے بھی خود کو باوفا ثابت کرگیا تھا اور میں کیسی ذلیل ہوں کہ اس کی ہر بات پر آنکھ بند کرکے اعتبار کرتی رہی اس نے اپنی مصنوعی محبت کے حصار میں مجھے ایسا جکڑا کہ میں حقیقت سے آنکھیں چرانے لگی۔
’’فواد! تم بہت کمینے ہو۔‘‘ انعم نے ہونٹ چباتے ہوئے غصے سے سوچا اور پھر سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیپ ٹاپ اٹھا کر گود میں رکھا اور سلمان کے لیے میسج ٹائپ کرنے لگی۔
’’میرے سرتاج! میں اب مزید تنہا نہیں رہ سکتی پلیز آپ مجھے بلوانے کا انتظام کریں۔ میرے آخری سمسٹر جلدی ہونے والے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ کے ساتھ رہوں اور آپ کی خدمت کروں۔ آپ کو کام کرنے میں دشواری ہوتی ہوگی نا‘ اپنی صحت کا خیال رکھیے اگر خود نہیں رکھ سکتے تو مجھے بلوالیجیے۔ اب آپ کے بنا نہیں رہ سکتی جلد از جلد… پیار کے ساتھ۔ آپ کی انعم!‘‘
انعم نے یہی چند لائنیں لکھیں‘ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر لکھے تو کیا لکھے بس جو سمجھ میں آیا ای میل کردیا حالانکہ پہلے کبھی کسی خط میں اس نے سلمان کو یہ نہ لکھا تھا کہ وہ اسے بلوالیں اور اب اس نے فیصلہ کرلیا تھا۔ آج رات کی تنہائیاں اسے ناگ بن کر ڈسنے لگیں۔
دل میں سلمان احمد کی محبت چٹکیاں لینے لگی‘ دل میں ہر طرف سلمان احمد کی صدائیں آرہی تھیں‘ دل کے ہر خانے سے اس نے فواد کی تصویر نوچ پھینکی تھی۔ وہ دھوکے باز‘ فریبی تھا وہ… جو محبتوں کی قدر نہ کرسکا اور ایک مسلمان احمد تھے۔
شرافت کے مینار تھے وہ‘ جو اسے دل کی عمیق گہرائیوں سے چاہتے تھے اور اب انعم اتنی کم ظرف بھی نہ تھی کہ ان کی چاہت کا جواب چاہت سے نہ دیتی۔ قدرت نے بہت جلد ہی فیصلہ کردیا تھا۔
’’واقعی صبو جان! تم صحیح کہتی ہو‘ والدین کی دعائیں سائبان بن کر ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔ والدین کبھی اولاد کا بُرا نہیں سوچتے یہ تو اولاد ہی ہے جو جھوٹی محبتوں کے جال میں جکڑ جاتی ہے تو سمجھتی ہے کہ سب کچھ وہی محبت ہے حتیٰ کہ والدین کو دشمن سمجھنے لگتی ہے۔ جبکہ ایسا ہے نہیں‘ یہ ابو جی اور امی جی کی دعائیں ہی تو تھیں جو میں فواد جیسے ناگ سے بچ گئی اگر وہ مجھے ڈس لیتا تو میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہتی۔‘‘
انعم نے سینے تک کمبل اوڑھتے ہوئے یہ سب کچھ سوچ ڈالا اور پھر سلمان کا تصور کرتے ہوئے اس نے آنکھیں موند لیں۔ اس کے لبوں پر بڑی سندر اور پُرسکون مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ وہ یہ فیصلہ کرکے نہایت مطمئن تھی۔ بہت پُرسکون تھی آج پہلی بار سلمان کی شبیہہ آنکھوں میں ہلکوے لے رہی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close