Aanchal Apr-17

چراغ خانہ

رفعت سراج

کملا رہے ہیں پھول‘ چمن بے قرار ہے
لکھی ہے ہر شجر پہ شکایت پیار کی
سینے میں جب دبائی گئی خواہشیںِنمو
فریاد زبان نے بے اختیار کی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

دانیال پیاری کو اپنے کمرے میں لے آتا ہے تب پیاری مشہود کے گھر میں تنہا ہونے پر غمگین ہوجاتی ہے دانیال اسے صبر کا دامن تھامے رہنے کا کہتا ہے اور جلد ہی حالات بہتر ہونے کا یقین دلاتا ہے دانیال اسے آرام کرنے کا کہتا کمرے سے نکل جاتا ہے سعدیہ کی گھر پہنچ کر جو دلی حالت ہوتی ہے اس کو اپنے چہرے پر بھی ظاہر کرنے احتیاط کر رہی ہوتی ہے جبکہ مانو پھو۲پو مسلسل سعدیہ کے سر پر سوار ہوتی ہے سعدیہ بہانہ بناتی اپنے کمرے میں آجاتی ہے سعدیہ کو عالی جاہ پر غصہ آرہا ہوتا ہے کہ آخر وہ مانو آپا کو لینے ابھی تک کیوں نہیں آیا تھا مشہود قید سے آزاد ہونے میں ناکام ہوجاتا ہے مشہود کا بھوک سے برا حال ہوتا ہے تب وہ وحشی اسے زبردستی اٹھا کر کھانے کی طرف اشارہ کرتا ساتھ آئی عورت کو پانی کاگلاس زمین پر رکھنے کا کہتا ہے مشہود کو پہلے سے کہیں زیادہ اس سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ مانو آپا بے کار بیٹھے رہنے سے اکتا کر سعدیہ کی تلاش میں کچن میں جھانکتی کچن خالی دیکھ کر ششدر رہ جاتی ہے سعدیہ کھانے کا انتظام کرنے کا کہہ کر مانو آپا کے پاس سے اٹھی تھیں۔ عالی جاہ کا ایک پارٹی سے جھگڑا ہوجاتا ہے اور پیسے اس پارٹی کو دینے ہوتے ہیں وہ عجلت میں گھر داخل ہوتا لا کر سے پیسے نکالتا ہے پیسے اس کی ضرورت سے کم ہوتے ہیں تب اسے مانو آپا کا خیال آتا ہے اور ملازم سے پوچھنے پر مانو آپا کا دانیال کے گھر میں موجودگی کا پتا چلتا ہے۔ پیاری کی طبیعت اب پہلے سے بہتر ہوتی ہے تنہائی میسر آتے ہی وہ سو گئی تھی لیکن جاگتے ساتھ ہی پہلا خیال بھائی کا آتا ہے اس کی تنہائی کے احساس سے آبدیدہ ہوجاتی ہے تب دانیال اسے کمال فاروقی کی آمد کا بتاتا ہے۔ عالی جاہ کے لیے یہ خبر کسی طوفان سے کم نہیں ہوتی کہ پیاری کو سعدیہ خود جا کر گھر لے آئی تھی۔

(اب آگے پڑھیے)

پیاری رو رو کر اتنی نڈھال ہوئی کہ تکیہ پر سر رکھتے ہی گہری نیند میں چلی گئی۔ دانیال کافی دیر سے بیڈ کے کنارے پر بیٹھا اس کی طرف یک ٹک دیکھے جارہا تھا۔ چہرے پر عجیب بے بسی کی کیفیت تھی اس کے لیے یہ ایک انتہائی اذیت ناک بات تھی کہ انتہائی اصرار اور سمجھانے بجھانے کے باوجود پیاری نے ایک نوالہ منہ میں نہیں ڈالا تھا وہ خالی پیٹ سو رہی تھی اور ڈاکٹر نے بڑی سختی سے تاکید کی تھی کہ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھا جائے اور بلڈ پریشر لو ہونے کی وجہ کم خوراک ہی ہے لہٰذا جوسز اور پروٹین والی غذائیں اس کو کھلائی جائیں جوسز اور پروٹین والی غذائیں تو دور کی بات اس نے تو چائے ڈبل روٹی تک لینے سے انکار کردیا تھا۔
مشہود اپنی جان کا دشمن اور ان کی خوشیوں کا قاتل بن رہا تھا مسئلے کا صرف ایک ہی حل سمجھ میں آتا تھا اور وہ یہ کہ کسی طرح سے پیاری کی طرف سے مشہود کا دل صاف ہوجائے تو تمام حالات خودبخود معمول پر آجائیں گے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنے جسم میں خاصی توانائی محسوس کی اور جیسے شکست خوردہ انداز میں اٹھ کھڑا ہوا‘ کمرے میں ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی اس نے وال کلاک میں ٹائم دیکھنے کی کوشش کی۔ بارہ اور ایک کے درمیان کا وقت تھا‘ پاپا ابھی تک نہیں آئے ایک خیال بجلی کی طرح اس کے دماغ میں کوندا‘ اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ایک نظر پیاری پر ڈالی اور کمرے سے باہر چلا آیا۔
وہ کمال فاروقی کا نمبر ڈائل کررہا تھا‘ یہ پتا کرنے کے لیے کہ اس وقت وہ کہاں ہیں؟ ان کا نمبر ڈائل کرکے سیل کان سے لگا کر کال ریسیو ہونے کا انتظار کررہا تھا کہ اسے یوں محسوس ہوا کہ پورچ میں کوئی گاڑی آکر رکی ہو۔ وہ بھاگنے کے انداز میں ٹیرس تک گیا اور گرل تھام کر پورچ میں جھانکا تو پتا چلا گاڑی پورچ میں نہیں آئی۔ گاڑی گھر کے گیٹ کے باہر آکر رکی ہے‘ ائیرپورٹ کیب سے کمال فاروقی اتر رہے تھے۔ ڈرائیور کار کی ڈگی سے بیگ نکال رہا تھا‘ دانیال ایک لمحے کے لیے سب کچھ بھول گیا‘ اس کی آنکھیں فرط مسرت سے چمکنے لگیں یوں جیسے مرتے دم کسی کو مسیحا میسر آجائے۔ وہ تیز قدموں سے تقریباً دوڑتا ہوا زینہ اترا تھا‘ وہ زینہ اتر کر لائونج سے باہر بھی نہیں آیا تھا کہ کمال فاروقی لائونج کے داخلی حصے میں کھڑے دکھائی دیئے‘ گارڈ ان کے بیگ اٹھائے ان کے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ دانیال اور کمال فاروقی کی نظریں ایک دوسرے سے ملیں‘ دانیال چھوٹے بچے کی طرح جاکر ان سے لپٹ گیا۔
’’اللہ کا شکر ہے‘ پاپا میں آپ ہی کا انتظار کررہا تھا۔ میں نے ابھی آپ کا نمبر ڈائل کیا تھا کہ گاڑی رکنے کی آواز آئی تو میں نے سوچا کہ شاید آپ آگئے‘ واقعی آپ آگئے۔‘‘ وہ باپ کو اپنے سینے سے لگا کر زور سے بھینچ رہا تھا‘ قد میں وہ باپ سے دو چار انچ اونچا تھا لیکن انداز ایسا تھا جیسے کوئی شیر خوار بچہ اپنی ماں سے لپٹا رہا ہو۔ محبت بھرے استقبال نے کمال فاروقی کو نہال کردیا‘ پل بھر میں شاد سے نظر آئے۔ بیٹے کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کی پیشانی چوم لی۔
’’سب خیریت ہے نا؟‘‘ انہوں نے ٹٹولتی ہوئی نظروں سے دانیال کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کی‘ دانیال نے لاشعوری طور پر ان سے نظریں چرا کر سر جھکا لیا لیکن زبردستی کے انداز میں مسکرایا بھی تاکہ باپ اس کی خاموشی کو کوئی منفی طرز عمل نہ جانے اور کسی اندیشے میں نہ مبتلا ہوجائے۔
’’جی پاپا اللہ کا شکر ہے سب خیریت ہے بلکہ دیکھا جائے تو حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔‘‘
’’ماشاء اللہ بھئی‘ ماشاء اللہ… یہ الفاظ سننے کے لیے تو کان ترس گئے تھے۔ آج تاریخ کیا ہے بھئی گھر میں داخل ہوتے ہی خوش خبریاں مل رہی ہیں۔‘‘ کمال فاروقی نے لطیف انداز میں بیٹے کے ساتھ تھوڑی سی چھیڑ چھاڑ کی۔
’’جی پاپا… بس یوں سمجھ لیجیے کہ ساری بری خبروں کا سلسلہ رک گیا‘ اب سب اچھا ہے۔‘‘ دانیال نے ہمت کرکے اپنا سارا اعتماد سمیٹ کر باپ کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’واہ بھئی واہ… مزہ آگیا میں تو سارے راستے بڑی ادھیڑ پن میں رہا‘ اللہ جانے کیا ہورہا ہوگا‘ کیا سلسلہ ہوگا۔ تم سے فون پر بات ہوتی رہی تھی لیکن تم نے کوئی ایسی خاص خوش خبر سنائی نہیں۔‘‘
’’جی پاپا یوں سمجھ لیجیے کہ خوش خبری آج ہی ملی ہے۔ یہ سوچ کر آپ کو فون نہیں کیا کہ آج تو آپ پہنچ رہے ہیں تو ڈائریکٹ خوش خبری شیئر ہوگی۔‘‘ دانیال خود پر اب اچھا خاصا قابو پاچکا تھا۔ دانیال کا اطمینان مسکراہٹ اور الفاظ نے کمال فاروقی پر جادو کا سا اثر کیا تھا ایک دم ہلکے پھلکے ہوکر وہیں گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئے۔
’’اچھا‘ ابھی تک تو یہ پتا چلا ہے کہ تمہارے پاس خوش خبریاں ہیں‘ اب یہ بھی بتاؤ کہ کیا کیا ہیں۔‘‘
’’پہلی خوش خبری تو یہ ہے کہ ممی پیاری کو خود لینے گئی تھیں۔‘‘
’’اوہ… گڈ گڈ…‘‘ کمال فاروقی کے منہ سے تحیر آمیز کلمہ بڑی بے ساختگی سے نکلا اور اب وہ بہت پُرشوق نظر آئے اور دلی خوشی کی کیفیت ان کی آنکھوں سے مترشح تھی۔
’’اور یہ کہ پھر ممی اسے گھر لے آئیں۔‘‘
’’ارے نہیں بھئی…!‘‘ کمال فاروقی جیسے اپنی جگہ سے اچھل پڑے۔
’’رئیلی پاپا… ممی مانو پھوپو کے ساتھ گئی اور اسے لے آئی تھیں۔‘‘
’’یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے جیسے مدتوں بعد کھل کر سانس لی اور دل و جان سے اللہ کا شکر ادا کیا۔ ’’بھئی لگتا ہے میرا اس گھر میں رہنا کچھ مناسب نہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ کمال فاروقی کی بات سن کر دانیال نے حیرت سے باپ کی طرف دیکھا۔
’’بھئی یہی کہ جب میں یہاں ہوتا ہوں تو اچھی خبروں کا انتظار کرتا رہتا ہوں‘ گھر سے باہر ہوتا ہوں تو خوش خبریاں آنا شروع ہوجاتی ہیں‘ واہ بھئی واہ۔‘‘
’’ارے نہیں پاپا… بس یہ ٹائمنگ کی بات ہے۔‘‘
’’چلو خیر یہ بہت اچھا ہوا‘ پیاری اس وقت کیا کررہی ہے‘ تم تو جاگ رہے ہو۔‘‘ کمال فاروقی نے اپنے کوٹ کی آستین اوپر کرکے اپنی رسٹ واچ پر ٹائم دیکھتے ہوئے دانیال سے پوچھا۔
’’پیاری تو بہت دیر ہوئی پاپا سوگئی تھی بس میں آپ کے انتظار میں جاگ رہا ہوں۔ مجھے لگ رہا ہے ممی بھی سوگئی ہوں گی اور آپ کے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے۔‘‘
’’اچھا تیسری خوش خبری جلدی سے سنائو۔‘‘ کمال فاروقی نے اب شریر انداز میں پوچھا۔
’’تیسری خوش خبری یہ ہے کہ ممی گیسٹ روم سے اپنا سارا سامان واپس اپنے بیڈ روم میں لے آئی ہیں اور کیونکہ وہ بہت خوش ہیں اس لیے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں… مجھے پوری امید ہے کہ اب وہ آپ سے بھی بہت اچھی اچھی باتیں کریں گی کیونکہ ساری پریشانیاں تو ختم ہوگئی ہیں۔‘‘
’’اچھا بھئی امید پر دنیا قائم ہے… اللہ تمہاری زبان مبارک کرے۔‘‘ کمال فاروقی ہنستے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔
’’یہ بیگ ایک میں لے جارہا ہوں اور دوسرا جو ہے اس میں تو کوئی خاص ایسی چیزیں نہیں ہیں جن کی فوراً مجھے ضرورت پڑے۔ صبح نوکر بیڈ روم میں رکھ دے گا‘ تم بھی جاکر آرام کرو۔‘‘ وہ آگے بڑھے اور دونوں ہاتھوں سے دانیال کے کندھے زور زور سے دبانے لگے۔
’’گڈ لک مائی ڈئیر سن… گڈ لک۔‘‘ دانیال نے مسکرا کر باپ کی طرف دیکھا۔ کمال فاروقی اپنا بیگ اٹھا کر جس میں کچھ خاص وزن محسوس نہیں ہورہا تھا زینے کی طرف بڑھ گئے مگر دانیال اپنی جگہ کھڑا ہوا تھا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ کمال فاروقی زینہ طے کرچکے ہوں گے اور اپنے کمرے کے قریب پہنچ چکے ہوں گے تو وہ ہیں صوفے پر بیٹھ گیا اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے گہری سنجیدگی جھلک رہی تھی۔
’’پاپا آگئے‘ اب مشہود کو فیس کرنا ہے۔ جب تک مشہود کا رویہ نارمل نہیں ہوجاتا ’دلی ہنوز دور است‘ کے مصداق پیاری اسے مل کر بھی نہیں مل پائے گی۔‘‘ وہ سوچ رہا تھا۔
ء…/…ء
سعدیہ کیونکہ شدید ذہنی دبائو کا شکار تھیں اور ان کو یہ بھی شاید یقین نہیں تھا کہ کمال فاروقی آج آجائیں گے۔ اسی وجہ سے خواب آور دوا لے کر گہری نیند سوچکی تھیں۔ کمال فاروقی نے بڑی آہستگی سے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا تو ایک بڑی دل فضا سی ٹھنڈک نے ان کا استقبال کیا‘ کمرے میں ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی‘ سعدیہ ہاتھ پائوں چھوڑے بے سدھ سو رہی تھیں ان کے سونے کے انداز سے یوں لگتا تھا کہ انتہائی گہری نیند میں ہیں اور کبھی کبھی ان کے منہ سے ہلکے ہلکے خراٹے نکلتے تھے وہ بھی ماحول میں گونج رہے تھے۔ کمال فاروقی نے جانے کتنے زمانے بعد بیوی کی طرف بڑی اپنائیت سے دیکھا تھا۔
’’دیر آید درست آید… شکر ہے اس عورت کو بھی عقل آگئی۔ اتنے سال خود بھی جلتی رہی مجھے بھی سلگاتی رہی آخر حاصل کیا ہوا۔‘‘ وہ سوچتے ہوئے ڈریسنگ کی طرف بڑھے اور وہ احتیاط کررہے تھے کہ قدموں سے آہٹ پیدا نہ ہو۔
وہ چاہتے تھے کہ اب بات کرنے کی نوبت نہ آئے‘ جو بات ہو صبح ہی ہو اور بہت اچھے موڈ اور ماحول میں… وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کررہے تھے‘ سر سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا تھا۔
’’شکر ہے پیاری اپنے اصل ٹھکانے پر آگئی‘ اب سعدیہ کا بہت خیال رکھنا ہوگا کہ اسے اپنے فیصلے پر کبھی پچھتاوے کا احساس نہ ہو اور دنیال کو کوئی نیا چیلنج درپیش نہ ہو۔‘‘ دو مختلف سمتوں سے آکر ملنے والے‘ دنیا کے طاقت ور ترین اور کمزور ترین رشتے کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد جب اولاد کے معاملات سے گزرتے ہیں تو ہر مصلحت کو قانون بنا کر سوچتے ہیں۔
شریف مرد کی تو نشانی ہی یہی ہے کہ وہ اولاد کی خاطر بدترین عورت کو بھی بڑی خندہ پیشانی اور صبر و ضبط کے ساتھ برداشت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سوئی ہوئی سعدیہ مدت بعد بہت اپنی اپنی سی محسوس ہورہی تھی۔
ء…/…ء
عالی جاہ اپنے سر سے بوجھ اتار کر اور اپنے حساب سے پارٹی کے منہ پر پیسے مار کر ہلکا پھلکا ہوچکا تھا اور رات ایک اور دو کے درمیان چوڑی شاہراہ پر گاڑی دوڑاتے ہوئے سوچ رہا تھا۔
’’ایک بوجھ اتر گیا دوسرا چڑھ گیا‘ یار یہ کیا ہورہا ہے پیاری کو سعدیہ مامی گھر لے آئی ہیں یہ تو اتنی حیرت ناک بات کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے نکلا ہو۔ یہ کمبخت سارے شہر کی لڑکیاں مر گئی ہیں کیا جو یہ دل جاکر اسی پر اٹک گیا ہے۔‘‘ پیاری اس کے اعصاب پر سوار تھی اور وہ سر جھٹک کر اس کے تصور سے جان چھڑانے کی کوشش کررہا تھا۔
کچھ لوگوں کی انا اتنی طاقت ور ہوتی ہے کہ وہ اپنی اس انا کی قوت کو محبت کی شدت کا نام دیتے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اُن کی انا کا سوال بن گیا ہے وہ ان کی محبت ہے۔ وہ محبت نہیں ہوتی وہ صرف انا ہوتی ہے یا ضد ہوتی ہے اس وجہ سے وہ سر پر سوار رہتی ہے۔ محبت کے بارے میں مشہور ہے کہ جب محبت ہوجاتی ہے تو انسان ہر پل اپنے محبوب کے تصور میں گم رہتا ہے۔ انا پرست اس کو اپنی ضد سمجھتا ہے اسے ہر وقت سوچتا رہتا ہے اور محبت کا نام بھی دے دیتا ہے حالانکہ انا اور محبت ایک دوسرے کی ضد ہیں جہاں انا ہوتی ہے وہاں محبت نہیں ہوتی جہاں محبت ہوتی ہے وہاں انا نہیں۔
اگر کسی وجہ سے دانیال پیاری کو ٹھکرا دے تو‘ وہ اسے ویلکم کہنے کے لیے کہیں قریب ہی کھڑا ہوا ہوگا۔ اس لیے کے اس نے ساری زندگی میں ایک لڑکی کو توجہ سے دیکھا اور وہ اس کے دل پر چڑھ گئی اور جو چیز اس کے دل پر چڑھ جائے وہ اسی کی ہوتی ہے وہ بڑی رش ڈرائیو کررہا تھا‘ وہ نشہ نہیں کرتا تھا لیکن اس وقت اس پر ضد اور انا کا نشہ طاری تھا۔
ء…/…ء
دیر سے سونے کے باوجود کمال فاروقی کی آنکھ نور کے تڑکے کھل گئی تھی‘ ان کی زندگی میں آنے والی ایک بہت خوب صورت سی تبدیلی سے بہت کم لوگ واقف ہوئے تھے ان میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جن سے ان کی اکثر میٹنگ رہتی تھیں اور وہ نماز کا واقفہ لازمی اس میٹنگ کے دوران کیا کرتے تھے۔ جوانی میں بھی وہ دین اور مذہب سے بالکل بے گانہ نہیں رہے تھے لیکن جتنی پابندی سے اس وقت وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے لگے تھے اس کا اندازہ شاید ابھی ان کے گھر والوں کو بھی نہیں ہوا تھا اور دیکھا جائے تو ایک خراب شادی نے ان کی زندگی میں یہ خوب صورت تبدیلی برپا کی تھی۔ نماز کی عرصہ دراز سے پابندی کی وجہ سے ایسا ہوتا تھا کہ چاہے وہ رات کو کتنی ہی دیر سے سوئیں ایک مخصوص ٹائم پر آنکھ خودبخود کھل جاتی تھی۔ شدید اعصابی جنگ نے ان کو غورو فکر میں مبتلا کیا اور غورو فکر جب گہرا ہوا تو کوئی دل میں بولنے لگا۔ جب کوئی دل میں بولنے لگا تو خوب باتیں ہونے لگیں۔ باتیں ہونے لگیں تو پتا چلا کہ گفتگو کا بہترین سلیقہ تو نماز ہے‘ وہ اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوئے تو ایک روحانی سکون سے آشنائی ملی کیونکہ وہ نمازیں جو بس ایک فرض نمازوں کی طرح ادا ہوتی رہیں ان نمازوں میں اور نمازِ شوق میں بڑا فرق نظر آیا۔
کبھی کبھی اپنی اس تبدیلی کو وہ بہت گہرائی سے محسوس کرتے ہوئے لطف اندوزبھی ہوتے تھے حال ہی میں انہیں مولانا طارق جمیل کے بیان میں سنی ہوئی ایک بات اکثر یاد آتی تھی۔ مولانا صاحب بیان کے دوران اپنا موضوع سامعین کے دل میں اتارنے کے لیے بڑی لطیف سی مثالوں سے بھی کام لیا کرتے ہیں‘ انہی کے درس میں انہوں نے سنا تھا کہ انہوں نے ایک بزرگ کا قصہ بیان کیا تھا جن کی بیوی کم یا زیادہ نہیں اعلیٰ درجہ کی بدتمیزی تھی وہ ایک دن لکڑیاں کاٹنے جنگل کی طرف گئے تو پیچھے ان کا مرید ان کے گھر چلا آیا۔ دروازے پر دستک دی تو اندر سے خاتون خانہ نے پھاڑ کھانے والے انداز میں دریافت کیا کہ کون ہے؟ جواب ملا کہ میں پیر صاحب سے ملنے آیا ہوں۔ خاتون خانہ نے یہ سنتے ہی پیر صاحب یعنی اپنے شوہر کو بے نقط سنائیں اور بڑے سخت لہجے میں اس آنے والے سے بات کی۔ وہ بے چارہ بندہ ڈر کر پلٹ گیا‘ راستے میں اسے وہ بزرگ آتے ہوئے دکھائی دیئے‘ بندے نے بڑی حیرت سے دیکھا کیونکہ بزرگ نے کٹی ہوئی لکڑیاں شیر پر لادی ہوئی تھیں اور شیر بڑے متیع انداز میں ان کے ساتھ چل رہا تھا۔ وہ حیران ہوکر پوچھنے لگے کہ ایک بیوی تو آپ کے قابو میں آنہیں سکی‘ اتنا بڑا شیر آپ نے کیسے قابو کرلیا۔ بزرگ مسکرائے اور فرمایا کہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہوئے جس صبر و ہمت کا مظاہرہ کرنا پڑا اس کے صلے میں اللہ نے یہ بزرگی عطا فرمائی کے شیر متیع ہوگیا اور یہ بیان بھی کمال فاروقی نے اسی حالیہ سفر کے دوران سنا تھا اور اپنے آپ میں کچھ تبدیلی محسوس کی تھی۔ سعدیہ کی طرف سے جو زہر دل میں بھرا ہوا تھا وہ گھر سے دور ہونے کی وجہ سے پھر مولانا کے پندو نصائح کی وجہ سے خاطر خواہ حد تک کم ہوچکا تھا اور وقفے کے بعد گھر آئیں تو ویسے بھی گھر جنت محسوس ہوتا ہے اس وقت تک جب تک کہ بیوی دو دو ہاتھ کرنے کے موڈ میں دکھائی نہ دے۔
انہوں نے محتاط انداز میں حوائج ضروریہ انجام دے کر جاء نماز بچھا کر فرض نماز ادا کی پھر اس کے بعد بڑے خشوع و خضوع سے طویل دعا کی۔ دعا کی طوالت اس باعث تھی کہ اللہ سے رحم و کرم اور حالات کی سدھار کے لیے بڑے دنوں کے بعد پرسکون ذہن سے دعا کرنے کی توفیق نصیب ہوئی تھی۔
سعدیہ تو کئی گھنٹے ایک ہی زاویے سے سوتے سوتے شاید کچھ بے چینی محسوس کررہی تھیں اسی لیے انہوں نے ایک کراہ کے ساتھ کروٹ لی تھی۔ کروٹ لیتے ہی نیند میں کچھ دیر کے لیے آنکھ کھلی تو انہیں محسوس ہوا کہ ہلکی روشنی میں ایک سایہ دیوار پر دکھائی دے رہا ہے۔ خوف کی ایک سرد لہر ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کر گئی وہ بغور سائے کی طرف دیکھ رہی تھیں‘ انہیں محسوس ہوا کہ وہ سایہ ہلکے ہلکے ہل رہا ہے جیسے کوئی نشے میں جھوم رہا ہو۔ سعدیہ کے حلق میں کانٹے سے پڑنے لگے‘ بیڈ قدرے اونچا ہونے کی وجہ سے فوراً جاء نماز پر بیٹھے ہوئے کمال فاروقی پر ان کی نظر نہیں پڑسکی تھی اور ان کی نظریں مسلسل دیوار پر پڑنے والے سائے پر تھیں۔ چند لمحے تو وہ سائے کی طرف آنکھیں پھاڑے گھورتی رہیں دل بند ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھا اس پر کمرے میں اپنے تنہا ہونے کا احساس شاید انہوں نے زندگی میں پہلی بار خوف کی اس شدت کو محسوس کیا تھا وہ پلکیں جھپکائے بغیر مسلسل سائے کی طرف دیکھ رہی تھیں معاً کمال فاروقی دعا مکمل کرکے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ سعدیہ کا خوف حیرت اور قدرے شرمندگی میں تبدیل ہوگیا‘ بڑے کسلمند انداز میں کچھ پہلو بدلے پھر نیند بھری آواز میں گویا ہوئیں۔
’’ارے آپ کب آئے؟‘‘
’’السلام علیکم!‘‘ کمال فاروقی نے سوال کا جواب دینے کی بجائے سعدیہ کو سلام کیا‘ سعدیہ کو حیرت کا اتنا زور دار جھٹکا لگا کہ ساری کاہلی رفو چکر ہوگئی‘ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ وہ اتنے تعجب اور حیرت سے آنکھیں پھاڑے کمال فاروقی کی طرف دیکھ رہی تھیں جیسے انہوں نے آٹھواں عجوبہ آنکھ کھلتے ہی اپنے کمرے میں دیکھ لیا ہو۔
’’کیسی ہیں آپ؟ میں تو بہت احتیاط کررہا تھا کہ کہیں میری آہٹ سے آپ کی نیند نہ ٹوٹ جائے۔‘‘ کمال فاروقی جاء نماز طے کرتے ہوئے سعدیہ سے مخاطب تھے اور سعدیہ کو یوں لگا کہ دل دھڑکنا بند کردے گا‘ وہ پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں۔ یک ٹک کمال فاروقی کی طرف دیکھ رہی تھیں‘ کمال فاروقی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ان کے قریب آئے اور بیٹھ گئے۔ سعدیہ نے نظروں کا زاویہ بدلا‘ پلکیں پھر بھی نہیں جھپکیں‘ وہ یک ٹک کمال فاروقی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
’’کیسی طبیعت ہے سعدیہ؟‘‘ انہوں نے یہ کہتے ہوئے سعدیہ کا نرم ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ سعدیہ بس حیرت سے مرنے ہی لگی تھیں کہ کمال فاروقی نے سعدیہ کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور مسکرا کر بولے۔
’’میری جان… بہت بہت شکریہ… جزاک اللہ۔‘‘ سعدیہ نے کافی دیر بعد پلکیں جھپکیں اور ایک تحیر بھرا کلمہ لبوں سے ادا کیا۔
’’آپ کمال… کمال…‘‘
’’جناب عالی… مجھے کمال فاروقی کہتے ہیں‘ آپ کا شوہر نامدار۔‘‘
’’آپ کو کیا ہوا کمال… مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی‘ آپ بہت چینج لگ رہے ہیں۔‘‘ بالآخر سعدیہ کے منہ سے نکل ہی گیا۔
’’کیا یہ چینج… گڈ چینج نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو بالکل سچ سچ بتائو بالکل اسی طرح جس طرح کھری کھری سناتی ہو۔‘‘ کمال فاروقی مسکراتے ہوئے لطیف انداز میں گویا ہوئے۔ سعدیہ نے ان کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ کھینچنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی تھی شاید ان کو کمال فاروقی کے ہاتھوں کی گرمی اچھی لگ رہی تھی یا اس گرمی میں ان کی دلی کیفیت کی تپش تھی جسے عرف عام میں محبت کا نام دیا جاسکتا ہے۔
’’کیوں اتنا حیران ہورہی ہو پہلے بھی تو ہزاروں بار لڑے ہیں اور دوستی ہوئی ہے لیکن میں تمہیں یہ یقین دلاتا ہوں کہ اب تم جتنا مرضی مجھ سے لڑو میں یہ وعدہ کرکے گھر میں داخل ہوا ہوں کہ میں تم سے نہیں لڑوں گا۔‘‘ وہ سعدیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے مسکرا کر سعدیہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ سعدیہ نے اپنے اندیشے کو الفاظ دیئے۔
’’کس بات سے؟‘‘ اب کمال فاروقی قدرے حیران ہوئے۔
’’کہیں یہ چینج دو چار دنوں کے لیے تو نہیں آیا۔ میں تو آپ کا یہ انداز دیکھنے کو ترس گئی تھی۔‘‘
’’اپنی ہی باتیں کروگی… کچھ مجھ غریب سے بھی پوچھ لو کس کافر کا دل نہیں چاہتا کہ اس کی بیوی اس سے پیار بھری باتیں کرے اور وہ اس کی پیار بھری باتوں کا جواب اس سے بھی زیادہ پیار بھرے انداز میں دے۔ سچ بتائو کیا ایسا نہیں ہوتا‘ کیا دل نہیں چاہتا۔ یار ہم انسان کے بچے ہیں کوئی جانور تو نہیں۔‘‘ کمال فاروقی نے بڑی بے ساختگی سے مسکراتے ہوئے سعدیہ کی آنکھوں میں دیکھا‘ وہ درحقیقت بے پناہ خوش تھے کچھ تو سفر نے ان کی ذات میں ایک تغیر برپا کیا تھا کچھ مولانا کی شہد آگیں باتوں نے ایک جادو کا سا اثر کیا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا بیٹا خوش تھا خوشی ان کے گھر میں آچکی تھی اب انہیں سعدیہ سے کوئی بھی گلہ شکوہ نہیں تھا بلکہ وہ تہیہ کرچکے تھے کہ اتنی بڑی خوشی حاصل کرنے کے بعد وہ آج سے سعدیہ کی ہر کوتاہی کو ہر زیادتی ہر تلخی سہہ لیں گے وہ سعدیہ کی طرف دیکھ رہے تھے مدتوں کے بعد سعدیہ کو جیسے ان کی نگاہ سے حیاء آنے لگی‘ اب وہ بھی پلکیں جھکائے دھیرے سے مسکرا رہی تھیں۔
ء…/…ء
دانیال کی آنکھ تو ویسے علی الصبح ہی لگی تھی وہ صوفے پر جس انداز سے سو رہا تھا اس سے لگتا تھا کہ اس وقت وہ دنیا و مافہیا سے بے خبر ہے سوائے دھماکے کہ اسے کوئی اور آواز نہ چونکا سکتی ہے نہ جگا سکتی ہے۔ پیاری بیڈ پر بیٹھی ہوئی یک ٹک دانیال کی طرف دیکھے جارہی تھی‘ دانیال کا ایک ہاتھ لٹک کر کارپٹ کو چھو رہا تھا اور اس کی دونوں ٹانگیں کشن پر رکھی ہوئی تھیں‘ صوفہ اس کے قد سے قدرے چھوٹا تھا اس لیے ٹانگیں صوفے سے باہر لٹک رہی تھیں‘ دو کشن اس نے سر کے نیچے رکھے ہوئے تھے۔ پیاری کے حساب میں وہ بہت تکلیف دہ حالت میں سو رہا تھا‘ پیاری کے دل کو کچھ ہوا‘ صرف اس کی وجہ سے وہ رات بھر اتنی تکلیف میں سوتا رہا ہے۔ وہ ہمت کرکے اپنی جگہ سے اٹھی فاقے کی وجہ سے پیٹ سے عجیب و غریب قسم کی آوازیں آرہی تھیں جس سے اس کو اندازہ ہوا کہ وہ اس وقت شدید بھوک میں مبتلا ہے لیکن وہ جس ماحول میں تھی اس ماحول میں وہ کسی سے بھی اپنی بھوک کی کیفیت بیان نہیں کرسکتی تھی۔ ہاں… بس ایک طرح سے ہی ممکن تھا کہ دانیال اٹھ کر بیٹھے اور اسے کچھ کھانے کے لیے لاکر دے یا اسے ناشتے کا کہے۔
رات جب دانیال اس سے اصرار کررہا تھا‘ درحقیقت اسے بھوک پیاس کا کوئی احساس نہیں تھا‘ اعصاب اتنے شل تھے کہ سوائے ذہن پر بوجھ کے علاوہ کوئی دوسرا تاثر یا احساس ہی نہیں تھا لیکن گہری نیند سے جاگنے کے بعد اسے بڑی شدید بھوک کا اندازہ ہوا بلکہ ایک طرح سے اسے افسوس بھی ہوا کہ وہ دانیال کے کہنے پر تھوڑا بہت کھالیتی تو اس کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اپنی غرض یعنی بھوک کی وجہ سے یا دانیال کی تکلیف کی وجہ سے بہرحال وجہ کوئی بھی تھی وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی دانیال کے قریب آگئی۔ پہلے تو سوچا کہ جگانے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے‘ کیا وہ اس کا کندھا چھوئے یا اس کا لٹکتا ہوا ہاتھ اٹھا کر اس کے سینے پر رکھ دے یا پھر بے ترتیب بال جو اس کی پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے‘ سمیٹ کر پیچھے کردے۔ بس اس کے چھونے کی دیر ہی تو ہے وہ جاگ جائے گا‘ بال سمیٹنے کے خیال سے اسے حیاء آگئی سب سے آسان طریقہ اسے یہی لگا کہ وہ اس کا لٹکتا ہوا ہاتھ اٹھا کر اس کے سینے پر رکھے۔ بس اتنا کرنا بھی کافی ہوگا اس نے گویا بہت ہمت کرکے دانیال کا ہاتھ ایک ہاتھ سے تھاما اور بڑی آہستگی سے اٹھا کر سینے پر رکھ دیا اس سے پیشتر وہ اپنا ہاتھ دانیال کے ہاتھ سے ہٹاتی دانیال کا دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھ پکڑ چکا تھا اور اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں۔
’’زندہ ہونا شرط ہے مجھے بے ہوشی میں بھی کوئی چھوئے تو میں بتاسکتا ہوں کہ مجھے کس نے چھوا ہے اور پیاری مجھے چھوئے گی تو فرشتے میرے کانوں میں گنگنا کر کہیں گے اب اٹھ جائو کیونکہ پیاری جاگ رہی ہے۔‘‘ وہ بڑے دلنشین اور محبت بھرے انداز میں بڑی گرمجوشی نظروں سے پیاری کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پیاری ایک دم اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی اور دانیال کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی جو دانیال نے بڑی مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔
’’وہ میں آپ کو اس لیے جگا رہی تھی کہ آپ پلیز بیڈ پر جاکر سو جائیں۔ آئی ایم سوری آپ نے بہت تکلیف میں رات گزاری‘ مجھے اندازہ نہیں تھا…‘‘
’’کس بات کا اندازہ نہیں تھا؟‘‘ دانیال نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’یہی کہ آپ اتنی تکلیف میں صوفے پر سوئیں گے۔‘‘ وہ ہچکچاتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’اور میں اس خیال سے بیڈ پر نہیں سویا کہ پھر تم ساری رات تکلیف میں رہو گی حالانکہ ایسا ہونا تو نہیں چاہیے مگر تم نے اتنے سخت پہرے لگا دیئے ہیں کہ مارے محبت کے میں وہ پہرے توڑنے پر تیار نہیں ہوں اس وقت تک جب تک تم مجھے اجازت نہ دو… دیکھو نا محبت کس کو کہتے ہیں ایک دوسرے کے احساسات کا جذبات کا اعتراف کرنا… ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرکے تکلیف دور کرنے کی کوشش کرنا اور جس سے محبت کی جائے اس کی تکلیف کو اپنی ہی تکلیف سمجھنا۔ میں نے تم سے محبت کی ہے پیاری… کوئی مذاق تو نہیں… تم جتنا مجھے آزما سکتی ہو آزماتی رہو‘ آگے بڑھتی چلی جائو میں تمہیں ہمیشہ بالکل قریب آس پاس ملوں گا۔ میری طرف سے محبت کی انتہا ضرور ہوگی معذرت کبھی نہیں ہوگی۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے پیاری کو دونوں شانوں سے تھام لیا‘ نیند بھری آنکھیں بکھرے بکھرے بال محبت اور نیند کے خمار سے بوجھل لہجہ‘ پیاری کے دل کی دھڑکنیں بے تریب ہونے لگیں۔
’’اگر آپ کو واقعی مجھ سے محبت ہے اور میرا اتنا خیال ہے تو میری ایک بات مان لیں۔‘‘ دانیال ایک دم چونکا کسی انجانے سے اندیشے نے اس کو اندر ہی اندر سہمایا مگر بظاہر اس نے بہت پیار بھرے لہجے میں استفسار کیا تھا۔
’’ہاں کہوں… بلکہ حکم کرو۔‘‘
’’آپ بیڈ پر جاکر آرام سے سو جائیں بس میری اتنی بات مان لیں۔‘‘ پیاری نے خالی پیٹ کی گڑگڑاہٹ کے دوران باقاعدہ درخواست کرتے ہوئے کہا تھا حالانکہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اگر دانیال نے واقعی اس کی بات مان لی اور بیڈ پر جاکر کروٹ سے سوگیا تو پھر کیا وہ اس کے اٹھنے تک یوں ہی بھوکی بیٹھی رہے گی۔ پہلے یہ بیڈ پر جاکر لیٹے تو سہی پھر شاید وہ ہمت کرے اور اسے بتادے کہ اسے اس وقت سخت بھوک لگ رہی ہے۔
دانیال نے واقعی اس کی بات مان لی تھی‘ اچھے بچوں کی طرح جاکر بیڈ پر لیٹ گیا اور دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لیے تھے پھر بڑی شریر مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔
’’اب ٹھیک ہے۔‘‘ پیاری نے جواب دینے کی بجائے اثبات میں گردن ہلائی اور ساتھ ہی ہمت کرنے لگی اب اسے بتادے کہ اسے بڑی سخت بھوک لگ رہی ہے‘ اس سے غلطی ہوگئی وہ اسے بیڈ پر جانے کا کہہ بیٹھی حالانکہ اسے پہلے یہ بتانا چاہیے تھا کہ اس وقت وہ بہت بھوکی ہے‘ بھوک سے نڈھال ہورہی ہے بُری حالت ہورہی ہے۔ دانیال اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ نظریں جھکائے کھڑی اپنی ہی فکر میں مبتلا تھی۔ نکاح کا بندھن ایسا خوب صورت بندھن ہے جو نکاح کے چند بولوں کے بعد دنیا کا سب سے مضبوط ترین بندھن بن جاتا ہے اور اپنائیت کے احساس کا وہ رشتہ استوار ہوتا ہے کہ زندگی اپنائیت کی اس انتہا کو محسوس کرتی ہے جس کے خواب دیکھے جاتے ہیں‘ کوئی اپنا ہو ایسا اپنا جس پر کچھ کہے بغیر الفاظ کا سہارا لیے بغیر خود بخود آشکار ہوجایا کرے۔ دل دل کی بات سنے نظر نظر کا اشارہ سمجھے‘ آٹھ پہر اپنائیت کے احساس کی بارش میں بھیگا کرے اور اپنائیت یہ کہ خدانخواستہ اپنائیت کا یہ احساس نہ چھن جائے جب دل سجدے کرتا ہوا اللہ سے دعا کرتا ہے یارب العالمین اپنائیت کے یہ احساس قبر میں اترنے تک ساتھ رہیں کیونکہ اپنائیت کے احساس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔
دونوں نے ایک دوسرے کو چاہا تھا ٹوٹ کر محبت کی تھی‘ دونوں کے دلوں کو پتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ہیں‘ ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن بیچ میں ایک تیسرا تھا جو ایک غیر مرئی دیوار بن کر کھڑا ہوگیا تھا اور اپنی اذیتوں کو پوری کائنات میں پھیلانے کے در پہ تھا۔ اپنے اندیشوں کو یقین مان رہا تھا اپنی بدگمانیوں کو حکمت سے پُرخیالات گردان رہا تھا۔ پیاری زیادہ دیر کھڑی نہ رہ سکی‘ نڈھال انداز میں اس صوفے پر جابیٹھی جس پر سے ابھی دانیال اٹھ کر بیڈ پر لیٹا تھا۔
’’ایک بات کہوں پیاری…‘‘ دانیال اب کروٹ لے کر اور دونوں ہاتھ اپنے گالوں کے نیچے دبا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ پیاری نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا۔ ’’ایک بات ذہن میں رکھنا کیونکہ بھئی تم میری بیوی ہو اور بیوی کو اپنے شوہر کے مزاج کے تمام موسموں سے باخبر ہونا چاہیے۔‘‘ پیاری نے پھر سوالیہ نظروں سے دیکھا وہ الجھ گئی تھی۔
’’جیسے کچھ سمجھ نہ آیا ہو‘ مجھے نا… میرے ساتھ ایک مسئلہ ہے اگر میری نیند ٹوٹ جائے نا تو پھر مجھے جھولے میں لٹا کر جھولا بھی جھلایا جائے نا تو نیند نہیں آتی۔ اب تم نے مجھے جگا دیا ہے لہٰذا تمہیں اس جرم کی پیاری سی سزا ملنا چاہیے۔‘‘ دانیال کی بات سن کر پیاری ایک دم گھبرا گئی اور دوشیزگی کے بہت سے رنگین خواب آنکھوں کے سامنے جھلملانے لگے۔ وہ خواب جو اس عمر کا خاصہ ہوتے ہیں اور الہام کی طرح اترا کرتے ہیں‘ اس نے لاشعوری طور پر سر کو یوں ہلایا جیسے وہ سوال سننے سے پہلے ہی انکار کررہی ہو اور دم سادھ لیا حالانکہ اندر ایک کھوج تو جاگی تھی کہ آخر اس بات کا مطلب کیا ہے۔
’’تمہاری سزا یہ ہے کہ تم واش روم میں جائو ہاتھ منہ دھوئو‘ میں تمہارے لیے ناشتا منگواتا ہوں۔ بے وقوف لڑکی کل سے کچھ نہیں کھایا‘ تم کیا سمجھ رہی ہو کہ تمہارے اس طرح بھوکا رہنے سے چٹکی بجاتے ہی سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اتنا برا ہوچکا ہے اس کو ٹھیک ہونے میں کچھ تو ٹائم لگے گا‘ کیا تم اس وقت تک بھوک ہڑتال کرو گی۔ اب میں تمہاری ایک بات نہیں سنوں گا‘ اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں ابھی ممی اور پاپا کو لے کر اسی کمرے میں آجائوں گا پھر دیکھتا ہوں کہ تم کیسے ناشتا نہیں کرتیں۔‘‘ پیاری کی آنکھوں میں ایک بے ساختہ قسم کی خوشی کی چمک ابھری تھی۔
’’اُف اللہ… تُو نے سن لی۔‘‘ واقعی اس وقت ایسی حالت ہورہی تھی کہ اگر آدھے گھنٹے تک اسے کچھ کھانے کو نہ ملتا تو شاید وہ بے ہوش ہوجاتی۔ اس نے جلدی سے اپنا سر ہلایا‘ جیسے دانیال کی بات کے جواب میں ہاںکہہ رہی ہو حالانکہ اس کا دل تو یہ چاہ رہا تھا کہ کہے اللہ کے لیے جلدی سے کچھ منگوالو اس سے پہلے کہ تم مجھے اٹھا کر ہسپتال لے کر جائو اور دوبارہ سے مجھے گلوکوز کی بوتلیں چڑھنا شروع ہوں۔
دانیال کو پیاری کا جواب ہاں میں ملا تو وہ بڑی پھرتی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور ٹیبل پر رکھی ہوئی گھنٹی بجائی جو صرف اسی وجہ سے اس کی ٹیبل پر رہتی تھی کہ جب وہ کچن سے نوکر کو بلانا چاہے تو فوراً آجائے کیونکہ دن اور رات بے ترتیب تھے‘ کھانا کھانے کا ناشتا کرنے کا کوئی وقت نہیں تھا۔ نوکر اس کے انتظار میں مستعد رہتے تھے کہ کب گھنٹی بجے اور وہ جاکر اس کی خدمات بجا لائیں۔ پیاری کو اس وقت ایک نہیں دہری خوشی ملی تھی ایک تو اس کے کھانے پینے کا بندوبست کیا جارہا تھا دوسرا یہ کہ کمال فاروقی گھر آچکے تھے کیونکہ دانیال نے یہی تو کہا تھا کہ وہ ابھی ممی اور پاپا کو بلائے گا پھر وہ دونوں اس کو راضی کریں گے۔ پیاری کو یوں محسوس ہوا کہ بس غم کے بادل چھٹنے والے ہیں۔ مشہود کمال فاروقی کا بزنس پارٹنر بھی ہے اور بزرگ کی حیثیت سے لحاظ بھی بہت کرتا ہے۔ کم سے کم ان کی بات تو سننے پر مجبور ہوگا۔
’’دیکھو فریش جوس اور ایک ہاف بوائل ایگ لے کر فوراً آئو۔‘‘ دانیال نے نوکر کے اندر داخل ہوتے ہی وقت ضائع کیے بغیر آرڈر دیا۔ ’’دس منٹ کے اندر اندر اس سے زیادہ دیر نہیں ہونی چاہیے‘‘ اس نے مزید تاکید کی۔ نوکر مؤدبانہ سر جھکا کر الٹے پائوں واپس چلا گیا تھا۔
’’ناشتا تو پاپا کے ساتھ کریں گے‘ ملاقات بھی ہوجائے گی اور ناشتا بھی۔‘‘ وہ اٹھ کر پیاری کے قریب چلا آیا۔ پیاری نے سر اٹھا کر دیکھا‘ بکھرے بال‘ بڑھی ہوئی شیو۔
’’اس حلیے میں ناشتے کی ٹیبل پر جائیں گے۔‘‘ پیاری کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا تھا۔ دانیال نے بڑی دلچسپی سے پیاری کی طرف دیکھا۔
’’تھینک گاڈ‘ تمہیں بھی میرا حلیہ نظر آیا۔ اب ذرا حالات پر بھی نظر کرم فرما لینا۔‘‘ وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔ پیاری گھبرا کر سمٹنے لگی۔
’’گھبرائو نہیں تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں ہاتھ نہیں لگائوں گا۔‘‘ وہ دانیال کی نظروں کی گرمی سے خود کو پگھلتا ہوا محسوس کررہی تھی۔
ء…/…ء
سعدیہ جتنی دیر واش روم میں شاور کے نیچے رہیں یہی سوچتی رہیں۔ آخر کمال فاروقی کہاں ہوکر آئے ہیں‘ اتنا بڑا چینج… اتنے سے دنوں میں تو کبھی نہیں آسکتا۔ ہاں لوگ برس ہا برس بعد اپنے گھر لوٹیں تو واقعی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی باہر نہیں رہے‘ اس موڈ میں گھر سے نکلے تھے اور واپس آئے ہیں تو کیا ہیں۔ عقل حیرت کی انتہا کو چھو کر گھٹنوں کے بل گرتی جارہی تھی‘ دماغ لڑا لڑا کر تھک گئیں کچھ سمجھ میں نہ آیا لیکن جب غسل سے فارغ ہوکر اپنے ہاتھوں کا مساج کررہی تھیں تب ہی ایک خیال بجلی کی طرح ذہن میں کوندا۔
’’اوہ… ایکچولی تھینک فل ہورہے ہیں‘ بس ان کی تو مراد پوری ہوگئی۔‘‘
’’ظاہر سی بات ہے دانیال سے ملاقات ہوئی ہوگی اس نے باپ کو پہلی فرصت میں بتادیا ہوگا کہ ماں پیاری کو لے آئی ہے اور یہ سنتے ہی وہ سب کچھ بھول بھال گئے ہوں گے۔ ان کو میری فکر تھوڑی ہے ان کا سارا دھیان تو ان کے بیٹا اور بہو کی طرف ہے ان کے صدقے میں مجھ سے اتنے پیار محبت سے بات کی جاتی ہے ورنہ پینتیس سال ہوگئے جس طرح سے آج صبح بات کی ہے اس طرح سے تو شاید شادی کے شروع شروع کے دنوں میں بھی نہیں کی‘ اُف میرے اللہ…‘‘ انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ سر پر رکھ کر گویا اپنی حماقت پر سر پیٹا کہ وہ اتنی سی بات نہیں سمجھ سکیں۔ یہاں تک سوچ کر انہوں نے ایک گہری سانس لی اور لوشن کے جار کا ڈھکن بے خیالی میں ٹیڑھا میڑھا لگا کر رکھ دیا۔ کچھ دیر پہلے جو خوشی کی کیفیت خون میں دوڑ رہی تھی اس کی رفتار اچانک دھیمی پڑگئی کیونکہ برا گمان اس خوب صورت کیفیت پر غالب آچکا تھا۔
’’میری حیثیت ہی کیا ہے‘ بس ان کے قواعد و ضوابط پر یس سر‘ یس سر بولتے رہو تو مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ یہ چاہتے تھے کہ بیٹا جیت جائے ماں ہار جائے‘ مراد پوری ہوگئی‘ خوش ہوگئے۔‘‘ وہ جس کیفیت میں باتھ روم میں داخل ہوئی تھی اس کی متضاد کیفیت میں واش روم سے باہر آئی تھیں بلکہ پیشانی پر ہلکے ہلکے بل بھی پڑے ہوئے تھے کیونکہ ان کے خیالات کی جو انتہا تھی اس حساب سے یہ بدگمانی ہی ان کا عقیدہ تھی۔
ء…/…ء
پیاری کے لیے دانیال کے سامنے بیٹھنے کی بجائے دس پندرہ منٹ باتھ روم میں گزارنا کہیں زیادہ آرام دہ تھا کیونکہ وہ اب مشہود کی باتیں دانیال سے کرکے اپنی طرف سے ماحول کو بوجھل کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہتی تھی۔ دانیال کا لگژری باتھ روم اس کے لیے واقعی بہت آرام دہ ثابت ہوا‘ خوشبوئوں سے مہکا ہوا وسیع اور کشادہ۔
وہ دانیال کی بہت خوب صورت آرام دہ کرسی پر جاکر بیٹھ گئی جس کی پشت پر موٹا سا ٹاول پڑا ہوا تھا‘ عموماً وسیع و عریض پر تعیش واش روم میں اس طرح کی چیئر کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس کی کوئی منطقی وجہ اس کی سمجھ میں تو نہیں آتی تھی کہ واش روم کیا ایسی جگہ ہے جہاں آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر جھولے لیے جائیں اور دنیا کے مسئلے مسائل پر غور کیا جائے لیکن بہرحال اس وقت تو یہ کرسی اس کے لیے بہت بڑی نعمت تھی۔ وہ کرسی پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ جھولنے لگی اور چاروں طرف نظر دوڑانے لگی‘ واقعی بہت خوب صورت واش روم تھا دانیال کی فنکارانہ مزاج کا عکاس جس میں چھائوں میں پروان چڑھنے والے ہرے بھرے پودے بھی تھے اور دیوار گیر آئینے بھی مختلف شیمپو‘ لوشنز کی خوشگوار مہک روشن دانوں سے چھن چھن کر آنے والی سورج کی کرنیں واش بیسن کے دائیں جانب بہت خوب صورت دودھیا بڑا سا گلدان جس میں سرخ اور جامنی مصنوعی گلاب عجب بہار دے رہے تھے۔ وہ رات کو بھی اس واش روم میں آئی تھی لیکن اُس وقت اس کا ذہن کہیں اور تھا وہ صرف اور صرف مشہود کے بارے میں اور اس کی تنہائی کے بارے میں سوچ رہی تھی اگرچہ وہ خیال اور سوچ ابھی تک امربیل کی طرح اس کی جان سے لپٹی ہوئی تھی لیکن ماحول اس طرح بوجھل محسوس نہیں ہورہا تھا۔ شاید یہ رات کا ہی خاصہ ہے جو اللہ نے ہر شے کو ڈھانکنے اور ڈھانپنے کے لیے تخلیق کی ہے جس کی تاریکیوں میں شر اور گناہ پلتے ہیں۔ یہ رات جو شر والوں کے لیے پر وہ ہے اور حیا والوں کے لیے… محبت اور نور کی چادر سورج نکلے ہی کیفیات میں ایسی تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ اگر غور کیا جائے تو عقل حیران ہوتی ہے کہ دن اور رات کے مصارف ہی مختلف نہیں۔ کیفیات بھی مختلف ہوتی ہیں اور دوسرے یہ کے جب فاقہ اتنا طویل ہوکے جان پر بن جائے تو یہ انسانی نفس کی کمزوری ہے کہ پھر وہ پیٹ کے سامنے اعلیٰ درجے کی خود غرضی کا مظاہرہ بھی کرتا نظر آتا ہے۔
بھوک سے پیٹ میں بل پڑ رہے تھے‘ اسے چند منٹ بعد کمرے میں ٹیبل سرکانے کی آواز اور برتنوں کی کھن کھن سنائی دی‘ بس پھر تو وہ جیسے تڑپ کر باہر آئی تھی۔ دانیال ہاف بوائل ایگ پر کالی مرچ چھڑک رہا تھا‘ پیاری کو واش روم سے باہر آتا دیکھ کر بڑی گرم جوشی سے ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گویا ہوا۔
’’بس فٹافٹ شروع ہوجائو۔‘‘
’’میں فریش ہوکر آتا ہوں‘ میرا مطلب ہے حلیہ ٹھیک کرکے آتا ہوں۔‘‘ پیاری یہ سن کر ہی پرسکون ہوگئی‘ واقعی اس وقت تو جی چاہ رہا تھا جو کچھ سامنے ہے بس ٹوٹ پڑے۔ اس نے دانیال کے اصرار کرنے کا بھی انتظار نہ کیا اور پائن ایپل جوس کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگالیا۔ جوس معدے میں کیا اترا آنکھوں میں زندگی کی چمک عود کر آئی‘ آدھا گلاس خالی کرکے وہ ہاف بوائل ایگ کھانے لگی۔ پیاری کو پیٹ پوجا کرتا دیکھ کر دانیال کو یوں لگا ایک آتش جہنم سرد ہوگئی ہو‘ کم سے کم یہ اطمینان ہی بہت تھا کہ فی الحال کسی غیر متوقع ایمرجنسی کا سامنا تو نہیں ہونے والا۔
وہ وارڈ روب کھول کر ڈریس سلیکٹ کررہا تھا‘ پیاری نے اتنی دیر میں ہاف بوائل ایگ بھی معدے میں اتار لیا۔ پیٹ کا جہنم سرد ہوتے ہی دماغ میں جہنم سلگنے لگا‘ وہ بے بس تھی غیر ارادی طور پر ذہن بار بار مشہود کی طرف چلا جاتا تھا۔ دانیال اس کی طرف دیکھے بغیر واش روم میں چلا گیا۔
ء…/…ء
کمال فاروقی نے تو گویا سعدیہ کے ہاتھ پائوں ہی باندھ کر رکھ دیئے تھے‘ صبح آنکھ کھلتے ہی وہ اعلیٰ درجے کا حسن سلوک فرمایا کہ سعدیہ کی بے بسی دیدنی تھی اس لیے کے جو کچھ کمال فاروقی نے کہا اس کے بعد نہ وہ تلخ بول سکتی تھی نہ لڑائی کا کوئی بہانہ نکال سکتی تھیں بلکہ الٹا اب تو سر پر کام پڑ گیا تھا۔
ناشتے کی ٹیبل بہت اہتمام سے سجانا تھی اس لیے بھی کہ شوہر کئی دنوں کے بعد گھر میں ناشتا کررہا تھا دوسرے یہ کہ پیاری کی بھی گھر میں پہلی صبح تھی اگر وہ کوئی کمی کوتاہی چھوڑتیں تو اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں ان دونوں کے گھر میں موجود ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں وہ گھر میں ہوں یا نہ ہوں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور پیاری سے ہمیشہ کے لیے پیچھا چھڑانے کے لیے تو بہت ہی ضروری تھا کہ وہ کمال فاروقی کے سامنے لاڈ پیار کا مظاہرہ کریں کہ کل کو جب کہیں سے کوئی غلط یا الٹی سیدھی بات سننے کو ملے تو وہ اس پر یقین ہی نہ کریں وہ فریش ہوکر کچن میں چلی آئیں اور خانساماں کو ہدایات دے رہی تھیں۔
’’دیکھو بھئی تمہارے صاحب ناشتے میں مغز بہت پسند کرتے ہیں۔ مغز ضرور پکانا اور کا تو مجھے ابھی کچھ اندازہ نہیں کہ وہ کیسا ناشتہ کرتی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ نہاری پکالو چاہے چکن کی ہو ویسے بھی آج کل کے بچے بیف اور مٹن سے زیادہ چکن کی طرف بھاگتے ہیں اور ہاں تھوڑا سا انڈوں کا حلوہ ضرور بنانا اسی ریسپی سے جو مانو آپا نے تمہیں بتائی تھی۔ تمہارے صاحب بہن کی اسپیشلٹی ٹیبل پر دیکھیں گے تو بہت خوش ہوں گے۔ بھئی میں نے تو کئی دفعہ بنانے کی کوشش کی مجھ سے تو نہیں بنتا‘ ادھر اُدھر پیلے سے لڈو پڑے دکھائی دیتے ہیں اور دیکھو ناشتا جلدی لگادینا کیونکہ تمہارے صاحب اٹھے ہوئے ہیں اور میں نے ان کو صرف دانیال اور پیاری کی وجہ سے کمرے میں روکا ہوا ہے‘ دیر نہ لگانا ہوسکے تو ڈرائیور کی بیوی کو کوارٹر سے بلالو وہ تمہاری مدد کردے گی‘ بہت ٹائم ہوگیا ہے۔‘‘ وہ خانساماں کو ہدایات دینے کے بعد بولتی ہوئی کچن سے باہر آگیں۔
ء…/…ء
’’میرے سب کپڑے تو گھر پر ہیں‘ یہ بڑے عجیب سے ہورہے ہیں۔‘‘ پیاری جو خاصی دیر سے تذبذب کی کیفیت میں تھی‘ دانیال کو واش روم سے باہر آتا دیکھ کر بولی۔ دانیال اس کی بات سن کر مسکرایا اور اس کے قریب آکر دونوں شانوں پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوا۔
’’تمہیں کپڑوں کی کمی ہے‘ اچھا ہے اس بہانے تھوڑی سی آئوٹنگ ہوجائے گی۔ چلو آج میں تمہیں ڈھیر ساری شاپنگ کرادوں گا‘ تم جتنے مرضی کپڑے لے لو ابھی تک میں نے تمہیں دیا ہی کیا ہے۔‘‘ دانیال اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کررہا تھا مگر پیاری تھی کہ نظر اٹھا کر ہی نہیں دے رہی تھی۔
’’نہیں‘ اتنے سارے کپڑوں کی تو مجھے ضرورت بھی نہیں ہے گھر میں الماری بھری پڑی ہے بلکہ وہاں تو ان میں کپڑے لگانے کی جگہ بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ بڑی سادگی سے گویا ہوئی۔ دانیال ایک بار پھر مسکرایا۔
’’بھئی الماری میں کپڑے رکھنے کی جگہ نہیں ہے مگر اس گھر میں کپڑے رکھنے کی بہت جگہ ہے۔ ایسا کرو ان کپڑوں کو وہیں رہنے دو اور نئے کپڑے خرید کر یہاں جو وارڈ روب ہے اس کو بالکل فل کردو۔‘‘
’’لیکن میں اتنے سارے کپڑوں کا کروں گی بھی کیا؟‘‘ پیاری کے منہ سے بڑی بے ساختگی سے نکلا۔
’’بھئی کپڑوں کا کیا کرتے ہیں‘ میں نے سنا ہے کہ لڑکیوں کا تو کپڑوں سے پیٹ ہی نہیں بھرتا اور یہ بھی سنا ہے کہ جس کسی کو پارٹی یا فنکشن میں جانا ہوتا ہے تو وہ صبح سے اس غم میں بیٹھی ہوتی ہے کہ اس کے پاس ڈھنگ کے کپڑے ہی نہیں…‘‘ پیاری دانیال کا یہ شگفتہ سا جملہ سن کر ناچاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔
’’میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں‘ مجھے ہر وقت شاپنگ کرنے کا اور بہت سارے کپڑے جمع کرنے کا کبھی بھی شوق نہیں رہا۔ بس موسم کے حساب سے ضرورت ہوتی ہے تو لے لیتی ہوں۔‘‘ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔
’’تم بڑی نرالی لڑکی ہو اور سنو نرالی اور انوکھی نہ ہوتیں تو دانیال کی زندگی میں کیسے رنگ بھرتیں۔ میری بیگم… زندگی میں تو سارے رنگ تم نے بھرے ہیں اور ہاں دیکھو اللہ کے لیے اب منہ سے اچھی اچھی بات نکالنا سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا میں تمہارے ساتھ ہوں نا اور پاپا… پاپا کو تم اتنی ہی عزیز ہو جتنا کہ میں اس لیے کہ پاپا بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ میرا خوش ہونا بہت آسان ہے‘ بس میرے پاس پیاری کو ہونا چاہیے۔‘‘ دانیال کے منہ سے جیسے ہی نکلا کہ بس اچھی اچھی باتیں کرنا‘ پیاری کو فوراً ہی یاد آگیا کہ ابھی تو اس کی راہ میں دور دور تک صرف الجھنوں اور پریشانیوں کے ٹوٹے ہوئے کانچ بکھرے ہوئے ہیں۔ بڑی مشکل سے آنے والی مسکراہٹ پل بھر میں رفوچکر ہوگئی‘ دھیان خودبخود مشہود کی طرف چلاگیا۔
دن چڑھ گیا تھا اس نے خود ہی ناشتا بھی کرلیا ہوگا‘ ہوسکتا ہے ماسی آگئی ہو تو اس نے ماسی سے کہہ دیا ہو کہ وہ اس کے لیے ناشتا بنادے۔ پیاری کی نظریں خودبخود وال کلاک کی طرف اٹھ گئیں‘ وہ یقین کرلینا چاہتی تھی کہ کم از کم اس وقت مشہود گھر میں اکیلا نہیں ہے اور دونوں ماسیاں گھر میں موجود ہیں کیونکہ پہلے جو ماسی آتی تھی اسے صرف کپڑے دھونا ہوتے تھے وہ بڑی پھرتی سے لکڑ پکڑ کرتی مشین لگاتی اور کپڑے دھوکر آناً فاناً رخصت ہوجاتی اس کے کام کرنے کا انداز اتنا پھرتیلا تھا کہ آدھے گھنٹے میں کپڑے دھوتی اور یہ جا وہ جا۔ صبح ہی صبح آجاتی تھی آٹھ بجے سے بھی پہلے‘ پیاری کے دل کو بڑی تقویت تھی کہ ماسی پہنچ گئی ہوگی اور شاید مشہود نے اسے اپنے ناشتے کے لیے بھی کہہ دیا ہو‘ ویسے بھی گھر میں تمام آنے والی ماسیاں مشہود سے خوش رہتی تھیں کیونکہ وہ سخاوت کرنے میں ہمیشہ آگے آگے رہتا تھا اور اکثر ماسیوں کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھتا رہتا تھا۔
گھرکا نقشہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا‘ وہ بالکل کھوکر رہ گئی۔ دانیال بہت غور سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا اس کے ہاتھ ابھی تک پیاری کے شانوں پر تھے۔
’’دیکھو میں نے کہا تھا نا اپنی اور میری فضا خراب نہ کرنا نہ الٹا سیدھا سوچنا بلکہ کچھ اچھا… آخر اچھا سا سوچنے میں جیب سے جاتا کیا ہے۔ میں کہہ رہا ہوں نا ان شاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا‘ پاپا سب کچھ سنبھال لیں گے۔ مشہود میری اور تمہاری بات سننے کے لیے تیار نہیں لیکن وہ پاپا کے سامنے زیادہ ضد نہیں کرسکے گا۔ پاپا اسے کنٹرول کرلیں گے میرے خیال میں وہ ان کی بہت عزت کرتا ہے‘ چلو اٹھو شاباش۔‘‘ مشہود نے پیاری کو کاندھوں سے پکڑ کر اور تھوڑا سا دبائو ڈال کر بالآخر کھڑا ہونے پر مجبور کردیا۔ پیاری نے غیر ارادی طور پر دانیال کی طرف دیکھا۔
’’اصل میں مشہود بھائی کی طبیعت اگر ٹھیک ہوتی نا تو بالکل ہی فکر نہ ہوتی‘ ان کے کھانے پینے کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں وہ ناشتے میں صرف سیریل لیتے ہیں ہاں لنچ وہ ٹھیک ٹھاک چاہتے ہیں۔ ڈنر اکثر باہر کرتے ہیں لیکن آج کل تو وہ باہر نہیں جاسکتے بس یہی خیال آرہا تھا۔‘‘ آخرکار پیاری کو دانیال پر ترس آہی گیا اب وہ یوں بات کررہی تھی جیسے صفائی پیش کررہی ہو اور یقین دلانے کی کوشش کررہے ہو کہ اسے صرف اور صرف مشہود کی فکر ہے اور اس کی زندگی میں کوئی مسئلہ نہیں۔
دانیال نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر دروازے کی طرف چل پڑا وہ پیاری کے قدموں کے حساب سے قدم اٹھا رہا تھا اور اس وقت ہوا میں اڑ رہا تھا پیاری اس کے قریب تھی اور پہلے کے مقابلے میں خاصی پرسکون بھی۔
کمال فاروقی اور سعدیہ ڈائینگ ٹیبل پر پہنچ چکے تھے اور دانیال اور پیاری کا انتظار کررہے تھے جیسے ہی دانیال پیاری کے ساتھ ڈائننگ ہال میں داخل ہوا‘ کمال فاروقی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے والہانہ اور پرجوش انداز میں بہو بیٹے کو خوش آمدید کہا۔
’’واہ بھئی واہ… ماشاء اللہ… ماشاء اللہ۔‘‘ ان کے منہ سے یہ الفاظ بے ساختہ انداز میں ادا ہوئے تھے۔ پیاری نے قریب آکر پیشانی پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آواز میں ساس سسر کو سلام کیا۔ سعدیہ نے اپنے آپ کو سنبھالا اور آگے بڑھ کر پیاری کو گلے سے لگالیا۔
’’ماشاء اللہ طبیعت کافی بہتر نظر آرہی ہے۔ بہت اچھی لگ رہی ہو لیکن تم نے ڈریس چینج نہیں کیا۔‘‘ سعدیہ کے منہ سے یوں ہی غیر ارادی طور پر نکلا تھا۔ دانیال نے ماں کی طرف دیکھا۔
’’ممی آپ کو پتا ہے پیاری ہسپتال سے یہاں آئی ہے اور جس حال میں یہ ہسپتال پہنچی تھی وہ بھی آپ کو پتا ہے۔ یہ تو آپ کو اور مانو پھوپو کو سوچنا چاہیے تھا کہ کچھ ڈریس وغیرہ بھی ساتھ رکھ لیتیں۔‘‘
’’ارے بھئی یہ ناشتے کی ٹیبل پر کیا باتیں شروع کردیں۔‘‘ کمال فاروقی نے فوراً پیاری کو ایک کرسی پر بٹھاتے ہوئے کہا۔ سعدیہ ایک دم گڑبڑائیں۔
’’آئی ایم سوری بیٹا… میرے ذہن میں بالکل نہیں رہا‘ سوری۔‘‘ انہوں نے پیاری کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اس کی پیشانی چومی پھر یوں لگا کہ جیسے کھڑے کھڑے ایک گلاس کھولتا ہوا پانی اپنے معدے میں انڈیلا ہو۔
’’یااللہ کب ختم ہوگی میری یہ آزمائش۔‘‘ ہونٹ مسکرا رہے تھے دل جل کر خاک ہورہا تھا پھر انہوں نے کمال فاروقی کی طرف مسکرا کر دیکھا۔
’’بھئی یہ تو مجھے سوچنا چاہیے تھا‘ دانیال ٹھیک کہہ رہا ہے لیکن مسئلہ ہی کوئی نہیں ناشتا کرکے تھوڑی دیر بعد نکلتے ہیں۔ پیاری کو بہت سارے ڈریس دلا دیتے ہیں‘ ارے بھئی مجھے یا تمہیں ڈریس دلانے کے لیے جانے کی ضرورت نہیں ہے پیاری کا شوہر خود یہ ڈیوٹی نبھائے گا۔‘‘
’’جی پاپا… میں آپ کی اطلاع کے لیے یہ عرض کردوں کہ میں یہ بات پیاری سے پہلے ہی کرچکا ہوں۔ ناشتا کرکے ہم کوئی مووی وغیرہ دیکھیں گے کیونکہ شاپنگ مال وغیرہ تو ایک بجے سے پہلے کھلنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا پھر میں پیاری کو لے کر چلا جائوں گا فی الحال اچھا سا ناشتا کرتے ہیں۔‘‘
’’ممی یہ میری تو سنے گی نہیں ناشتا کرانا آپ کی ڈیوٹی ہے۔‘‘ دانیال نے کرسی کھینچی اور بیٹھتے ہوئے ماں کے خوشگوار موڈ کا فائدہ اٹھا کر خود بھی لاڈ پیار کا اظہار کیا۔ سعدیہ پر کڑی گزر گئی۔
’’ارے بیٹا کوئی دودھ پیتی بچی ہے‘ ماشاء اللہ سب چیزیں سامنے ہیں اور یہ سارا اہتمام اسی کے لیے تو کیا گیا ہے اور جب تک یہ ساری چیزیں نہیں کھائے گی اس وقت تک میں اس کو ٹیبل سے نہیں اٹھنے دوں گی‘ تم بالکل فکر نہ کرو۔‘‘
’’ساری چیزیں…‘‘ پیاری نے آنکھیں پھاڑ کر یہاں سے لے کر وہاں تک کھانے کے لوازمات کا جائزہ لیا۔ آملیٹ‘ سالن‘ مچھلی ہاف فرائی‘ جام‘ مارم لیڈ‘ بٹر کیا نہیں تھا ناشتے کی میز پر۔ اس نے تو ساری زندگی میں جتنا ناشتا کیا ہوگا وہ سارا مل ملا کے بھی آج کی ٹیبل کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔
’’میں ناشتا بہت ہلکا سا کرتی ہوں‘ پلیز آپ لوگ لیجیے۔‘‘ پیاری نے خوف زدہ ہوکر پہلے ہی کہہ دیا کہ اس کے ساتھ زور زبردستی نہ کی جائے۔
’’ارے بیٹا آپ شروع تو کرو یہ تو بعد کی بات ہے کہ اتنا کرنا ہے یا اتنا کرنا ہے بلکہ آپ شروع کرو اس کے بعد ہمارا کام ہے۔‘‘ کمال فاروقی بڑی شگفتگی سے گویا ہوئے۔ سعدیہ نے پیاری کی طرف دیکھا ملگجے کپڑوں میں بھی وہ غضب ڈھا رہی تھی اور شاید قدرے پرسکون ہونے کی وجہ سے بہت ترو تازہ اور پرسکون نظر آرہی تھی۔
ء…/…ء
مشہود نے اپنی ساری زندگی میں اتنی خوفناک نسوانی چیخیں کبھی نہیں سنی تھیں۔ رات بارہ بجے کا عمل تھا اس دن دل دہلا دینے والی چیخ سے اس کی نیند ٹوٹی تھی‘ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ اونچی چھت والے ایک بڑے سے کمرے میں ایک بہت نحیف و نرار سا بلب روشن تھا جس کی زرد اور بیمار روشنی میں اعصاب ویسے ہی شل ہوجاتے تھے اور طبیعت پر گرانی محسوس ہوتی تھی یوں جیسے غم کی خبر سننے کے بعد کسی انسان پر دیر تک ڈپریشن کی کیفیت طاری رہے۔ اکثر وہ اٹھ کر اس بلب کو بجھادیا کرتا تھا اس اذیت ناک روشنی سے زیادہ تاریکی بھلی لگتی تھی۔ آج جانے کیسے خودبخود اس کی آنکھ لگ گئی‘ وہ لائٹ آف کرنا بھول گیا تھا۔ باہر سے مسلسل دل دہلا دینے والی چیخوں کی آوازیں ایک تسلسل سے آرہی تھیں‘ جی تو چاہتا تھا دروازہ توڑ کر باہر نکل جائے کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ یہ چیخیں اسی ہمدرد اور خیر خواہ لڑکی کی ہیں جو روشن دان کے ذریعے من و سلویٰ اتار نے کی ڈیوٹی انجام دیتی رہی تھی۔ وہ انتہائی اعصابی تنائو کا شکار ہونے لگا کیونکہ وہ مکمل طور پر بے بس تھا نا آنکھ سے کچھ دکھائی دے رہا تھا نہ وہ دروازہ توڑ کر باہر نکل کر جاسکتا تھا پھر اسے باہر بھاری بھر کم ٹرک کے اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی اتنا تو وہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ باہر کار کا انجن اسٹارٹ ہوا ہے یا ٹرک کا۔ انجن کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ساتھ چیخوں کا سلسلہ جاری تھا وہ اٹھ کر بڑی بے قراری سے ٹہلنے لگا۔
’’آخر باہر کیا ہورہا ہے۔ گیٹ کھلا ہوا ہے‘ ٹرک اسٹارٹ ہورہا ہے‘ لڑکی چیخ رہی ہے‘ ہوا کیا ہے…؟‘‘ اس کا جی چاہا کہ وہ پلنگ کھڑا کرکے اس پلنگ کو ہی سیڑھی بنالے اور روشن دان سے لٹک کر باہر دیکھے کہ آخر ماجرا کیا ہے پھر فوراً ہی خیال آیا کہ اگر اس نے جھانک کر باہر دیکھ بھی لیا تو فائدہ کیا ہے اگر باہر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہورہی ہے تو وہ کچھ کرنے کے قابل تو نہیں ہے۔
آہستہ آہستہ ٹرک یا ہیوی وہیکل جو کچھ بھی تھا اس کی آواز معدوم ہوتی گئی اور ماحول پر ایک وحشت ناک سناٹا طاری ہوگیا‘ اس نے بھی کھل کر سانس لی۔ مہیب سناٹے میں نسوانی چیخوں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی‘ نیند اچاٹ ہوگئی تھی۔ ہو نہ ہو یہ اسی لڑکی کی چیخوں کی آواز تھی جو روشن دان سے من و سلویٰ اتارا کرتی تھی‘ اس کا دل اسی ایک نکتے پر جم رہا تھا۔
’’کہیں اسے میری مدد کرنے پر کوئی سزا تو نہیں دی گئی۔‘‘ اچانک ایک خیال اندیشے کی صورت مشہود کے حواس سے لپٹ گیا۔ ایک تو مشکل تھی ابھی تک یہاں جو سامنے آیا تھا اس کی زبان سمجھ نہیں آتی تھی‘ قبر میں منکر نکیر کی زبان بھی نامانوس نہ ہوگی تب ہی تو مردہ سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔
’’یہ کمرہ تو قبر سے بھی کچھ بڑھ کر ہے۔‘‘ اب بے بسی کی ایک لہر نے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ لاشعوری طور پر تنہائی میں بھی کسی کے آس پاس ہونے کا جو احساس حاوی رہتا تھا‘ آج وہ بھی چھن گیا تھا۔ آج سے پہلے تنہائی اتنی وحشت ناک نہیں تھی۔
ء…/…ء
باہر لان میں بلیاں اچانک لڑ پڑی تھیں یا کوئی بلّا ڈورے ڈالنے کی کوشش کررہا تھا اور مشہود اپنے دھیان سے چونک پڑا۔ کئی طرفہ غراّنے کی آوازیں تھیں جیسے پہلوان اکھاڑے میں لپٹنے سے پہلے اچھل کود کرکے دائو پیچ سیٹ کرتے ہیں۔ غوں غوں کی آوازوں سے سماعتیں چٹخنے لگی تھیں اور اکھاڑا بھی عین کھڑکی تلے بنایا گیا تھا جو اس کے سرہانے ایک فٹ کے فاصلے پر تھی۔ غوں غوں کی آواز کے بعد چیخیں ہوگئیں‘ دھپ دھپ کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ بڑے سے گھر میں چہار سو تاریکی کا راج تھا‘ باہر مین گیٹ پر ایک پلر پر لیمپ روشن تھا دوسرے پلر کے لیمپ کا بلب زمانوں سے فیوز تھا۔ اس کی مریل سی سفید روشنی بس ٹھوکر کھانے سے بچائو دے سکتی تھی۔ اسی مریل سی روشنی میں کھڑکی کے شیشے بھی روشن تھے۔ بلیوں کے جھگڑے نے ماحول میں انتشار برپا کرکے رکھ دیا تھا۔
’’یہ پروگرام کتنی دیر کا ہے یہ تو باہر جھگڑتی بلیوں یا اللہ کو پتا تھا۔‘‘ مشہود اعلیٰ درجے کے ذہنی کرب میں مبتلا ہوگیا تھا۔ اچانک پیاری سر پر دوپٹہ جمائے اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
’’تنہائی بہت خوف ناک ہوتی ہے ناں بھائی۔‘‘ مشہود کو اس کی آواز سماعت سے ٹکراتی محسوس ہوئی‘ اس نے لاشعوری طور پر ’’ہاں‘‘ میں گردن ہلادی۔
’’آپ کو تو بلیاں تنگ کررہی ہیں‘ اکیلی لڑکی کو تو بھیڑیئے تنگ کرتے ہیں۔‘‘
’’پیاری…‘‘ اس نے قطعی غیر ارادی طور پر پیاری کو پکارا‘ جواب میں سوائے بازگشت کے کچھ نہ تھا۔

(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close