Aanchal May-17

چراغ خانہ

رفعت سراج

ہر اک سوال کا اس کو جواب کیا دیتا
اپنی ذات کا اس کو حساب کیا دیتا
جو ایک لفظ کی خوشبو نہ کرسکا محفوظ
میں اس کے ہاتھ پوری کتاب کیا دیتا

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

دانیال کو جہاں کمال فاروقی کے آنے کی خوشی تھی وہیں مشہود کا دل پیاری کی طرف سے نرم ہونے کا احساس بھی میسر آیا تھا۔ وہ کمال فاروقی کو فوراً کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا بلکہ گھر کی فضا کی تبدیل ہونے کا مژدہ سنا کر انہیں حیران ضرور کردیتا ہے۔ کمال فاروقی کے اندر بیوی کی سوئی محبت بیدار ہوجاتی ہے۔ انہیں سعدیہ کے اندر بدلاؤ اچھا لگتا ہے۔ عالی جاہ کے سر پر ایک بوجھ اتر کر دوسرا چڑھ جاتا ہے۔ اسے یہ بات ہضم نہیں ہورہی ہوتی کہ سعدیہ خود جاکر پیاری کو گھر لے آئیں تھیں۔ عالی جاہ نے تو اپنی طرف سے تو پوری پلاننگ کی ہوتی ہے مگر اب ناکامی اسے مزید منفی سوچیں دیتی ہیں۔ پیاری کی بھوک کی وجہ سے آنکھ کھل جاتی ہے۔ اسے رات بھوکا سونے پر شدید ملال ہوتا ہے سامنے صوفے پر دانیال بے خبر سو رہا ہوتا ہے۔ رات دانیال کے اصرار کے باوجود پیاری نے کھانا نہیں کھایا تھا اور اب بھوک سے بے حال ہورہی تھی۔ وہ ہمت کرکے دانیال کو جگاتی ہے تب دانیال ہی اس کے لیے ناشتہ کا آرڈر کرتا ہے ساتھ ہی کمال فاروقی کی آمد کا بھی بتاتا ہے۔ پیاری کی امید بندھ جاتی ہے کہ اب کمال فاروقی مشہود کو سمجہائیں گے۔ سعدیہ کی آنکھ کھلتی ہے تو کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی اور اس پر خوف طاری ہوجاتا ہے ابھی تک سعدیہ کمال فاروقی کی آمد سے بے خبر ہوتی ہے۔ کمال فاروقی نماز کے بعد دعا میں مصروف ہوتے ہیں۔ سعدیہ کے لیے کمال فاروقی کا بدلا ہوا یہ انداز حیرت کا باعث بنتا ہے۔ کمال فاروقی کے برسوں بعد محبت سے مخاطب کرنے پر سعدیہ خوش بھی ہوتی ہے لیکن پھر فوراً ہی منفی سوچیں ذہن پر اثر انداز ہونے لگتی ہیں۔ لیکن سعدیہ کو ابھی اپنا کردار بنائے رکھنا ہوتا ہے اس لیے ناشتے کی ٹیبل بہت اہتمام سے سجاتی ہے۔ پیاری سے بھی سعدیہ بہت لگاوٹ کا اظہار کمال فاروقی کے سامنے کرتی ہے۔ مشہود کی سوچ ابھی بھی ماضی میں الجھی ہوئی ہوتی ہے۔ اسے اس لڑکی کی چیخیں سنائی دیتی ہے جس نے اس کی مدد کی تھی۔ لیکن مشہود اس کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوتا ہے تب ہی بلیوں کی آواز پر وہ چونک جاتا ہے۔ اندھیرے گھر میں اسے وحشت سی ہوتی ہے تب اسے پیاری کی آواز سنائی دیتی ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

مشہود کے حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے‘ جی چاہتا تھا کہ پورا ایک جگ پانی کا جو بالکل یخ ٹھنڈا ہو ایک ہی سانس میں پی جائے‘ وہ چند سکنڈ بڑی بے بسی سے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتا رہا پھر بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھا‘ واکر بیڈ کے ساتھ ہی لگی ہوئی تھی لیکن یوں لگتا تھا جیسے واکر کی طرف ہاتھ بڑھانا بھی ایک مرحلہ ہے۔ بہرحال اس نے واکر کو تھامنے کے لیے بڑی تگ و دو کی بالآخر وہ پوری ہمت مجتمع کرکے کھڑا ہوگیا اور خود کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر آیا۔ دھیمی دھیمی روشنی میں ہر شے مبہم تھی اسے پانی کے لیے کچن تک جانا تھا کیونکہ کمرے میں جو پانی کا جگ رکھا ہوا تھا اور پیاری بہت ذمہ داری سے بھر کر رکھتی تھی‘ وہ کبھی کا ختم ہوچکا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر لائونج کی لائٹ آن کی۔ مرکزی فانوس کے سارے بلب جگمگا اٹھے‘ تاریکی چھٹ گئی اب دور دور تک ہر شے واضح تھی‘ وہ پانی کے لیے بے تاب ہورہا تھا بس یوں کے پلک جھپکتے ہی پانی کا گلاس اس کے ہاتھ میں آجائے۔
وہ دیوانہ وار کچن کی طرف بڑھا‘ اچانک لڑکھڑایا اور پورے وزن سے زمین پر گر گیا‘ اس طرح سے گرا تھا کہ چکنے فرش سے اٹھنے کے لیے اسے بہت مشکل پیش آرہی تھی۔ وہ پورا زور لگا کر اٹھنے کی کوشش کرتا لیکن پھر پھسل کر فرش پر ڈھیر ہوجاتا تھا‘ اس نے اٹھنے کے لیے کئی زاویے اپنے ذہن میں مرتب کیے اور زور لگا کر الٹا ہوگیا۔ اب وہ کہنیوں کے بل اونچا اٹھنے کی کوشش کررہا تھا لیکن چکنے فرش پر اس کے گھٹنے بار بار پھسل رہے تھے وہ مقام بے بسی تھا جس مقام پر سوائے پروردگار کی یاد کے کوئی دوسرا خیال نہیں آسکتا۔
کئی مرتبہ کوشش کرنے کے بعد وہ فرش پر اوندھا لیٹ گیا اور اپنا گال ٹھنڈے فرش پر ٹکادیا۔ ٹھنڈا فرش اس کے خون کی روانی میں رکاوٹ پیدا کررہا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے سارا جسم سن ہوتا جارہا ہے۔ بے بسی کی اس کیفیت میں چند آنسو اس کی آنکھوں سے ٹپکے‘ اب وہ خود ترسی میں مبتلا ہورہا تھا یوں جیسے کہ ساری دنیا اس کی دشمن ہے سب لوگ اسے تاریکی میں چھوڑ کر رفو چکر ہوگئے ہیں‘ ساری دنیا بے حس خود غرض اور مطلب پرست ہے۔ اس کی قسمت خراب ہے کہ اس کو ساری زندگی میں کوئی پُرخلوص انسان نہیں ملا‘ وہ مختلف قسم کے وہموں میں مبتلا ہوکر مزید نڈھال ہوگیا تھا پیاس بدستور تھی لیکن وہ اٹھ نہیں پارہا تھا۔
ء…/…ء
’’میرا خیال ہے مشہود کو کسی فزیشن کو دکھانے کی ضرورت ہے۔‘‘ سعدیہ نے کافی مگ میں چمچ چلاتے ہوئے اچانک ہی مشہود کا تذکرہ چھیڑا تھا۔ کمال فاروقی نے چونک کر پہلے پیاری کی طرف پھر دانیال کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا‘ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا اور وہ گھونٹ بھرتے بھرتے رک گئے اور کپ واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔
’’خیریت تو ہے۔‘‘ اب وہ براہ راست پیاری کی طرف دیکھ کر پوچھ رہے تھے۔ پیاری نے غیر ارادی نظریں دانیال کی طرف اٹھائیں جیسے کوئی مشکل میں پھنسا ہوا شخص اپنے کسی خیر خواہ سے ہمدردی کی آس لگا کر منت طلب نظروں سے دیکھ رہا ہو۔
’’یہ سب وقتی ہے ممی… اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ظاہر سی بات ہے اس نے اتنا کٹھن ٹائم گزارا ہے‘ فزیکلی ابھی فٹ نہیں ہے۔ ظاہر ہے انسان بیڈ پر پڑے پڑے بھی تنگ آسکتا ہے اور وہ بھی مشہود جیسا انسان جسے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کی عادت تھی۔‘‘ دانیال نے ایک تواتر سے بات شروع کی تاکہ سعدیہ کو بیچ میں کوئی بات کرنے کا راستہ نہ ملے۔ کمال فاروقی کیونکہ گزرے ہوئے تمام حالات سے ابھی تک بے خبر تھے‘ وہ بڑی تذبذب کی کیفیت میں تینوں کی طرف دیکھ رہے تھی۔ ناشتے کی میز پر ابھی تک جو خوشگوار ماحول تھا‘ وہ اچانک تبدیل ہوگیا تھا۔
’’بھئی میری تو ہمت نہیں ہے کہ دوبارہ میں مشہود کے سامنے جائوں یا اس سے کلام کروں‘ اس نے کل جو کچھ کیا وہ کوئی نارمل انسان نہیں کرسکتا۔ آج نہیں تو کل آپ لوگ وہی بات کریں گے جو اس وقت میں کررہی ہوں۔‘‘ سعدیہ اپنے سوال پر اسی طرح جمی ہوئی تھیں۔
’’کیوں ایسا کیا‘ کیا مشہود نے کہ…‘‘ کمال فاروقی بات ادھوری چھوڑ کر پیاری کی طرف دیکھنے لگے۔ پیاری نے گھبرا کر دانیال کی طرف دیکھا۔
’’بس وہ پاپا… تھوڑا سا مسئلہ آرہا ہے‘ مشہود اچھا خاصا چڑچڑا ہوگیا ہے اور کوئی بات نہیں۔ آپ ملیں گے نا تو خود ہی دیکھ لیں گے‘ ایسی کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔‘‘ دانیال نے اپنی طرف سے اسی طرح معاملات کو بہت ہلکا پھلکا ظاہر کرنے کی کوشش کی اور باپ کو یقین دلانا چاہا کہ سعدیہ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر کہہ گئی ہیں‘ درحقیقت معاملات اتنے خوف ناک نہیں کہ سنبھالے نہ جاسکیں۔
پیاری جو تھوڑا بہت کھاچکی تھی اس نے اسی پر بس کردیا‘ عجیب سی طبیعت ہورہی تھی یوں لگا جیسے اسے بھرے بازار میں بے عزت کیا جارہا ہے یا بے عزت کرنے کی کوشش کی جارہی ہو‘ شاید وہ سعدیہ کی طرف سے ابھی تک کوئی اچھی امید اپنے دل میں نہیں پیدا کرسکی تھی اس خوف سے شاید وہ ابھی تک نجات حاصل نہیں کرسکی تھی۔ اسے سعدیہ کی سیدھی سادی بات بھی ایسے لگتی تھی جیسے وہ اسے کچھ جتا رہی ہوں یا پھر اس کو بے بھائو سنانے کی تیاری کررہی ہوں۔
’’اچھا خیر چھوڑو یہ میرا مسئلہ ہے‘ میں دیکھ لیتا ہوں ویسے مشہود ٹھیک ٹھاک ہے نا‘ چل پھر رہا ہے‘ ظاہر ہے اس کی کنڈیشن اچھی ہوگی تبھی پیاری آبھی گئی ہے ورنہ میں نے تو سوچا تھا کہ دانیال کو کہوں گا کہ جب تک مشہود بالکل فٹ نہ ہوجائے پیاری کو وہیں رہنے دو۔ چلو خیر اچھا ہوا پیاری آگئی اور اس میں میرے لیے تو خوش خبری ہی ہے۔‘‘
’’خوش خبری…‘‘ سعدیہ نے کڑے تیور کے ساتھ کمال کی طرف دیکھا۔ قدرت کو نہ مٹایا جاسکتا ہے یا دبایا جاسکتا ہے‘ خوف ناک دشمن کی طرح پلٹ پلٹ کر حملہ کرتی ہے۔
ء…/…ء
چاروں طرف چمکیلی دھوپ بکھری ہوئی تھی نیا دن پوری آب و تاب سے اپنی موجودگی کا پتا دے رہا تھا‘ مشہود کی آنکھ خودبخود کھل گئی تھی اس نے بڑی حیرت سے اپنی حالت زار کا جائزہ لیا چند لمحے تو اسے سمجھ ہی نہ آئی کے وہ کہاں ہے مگر فوراً ہی فرش کی ٹھنڈک نے اسے احساس دلایا کہ وہ اپنے کمرے میں نہیں ہے بلکہ فرش پر لیٹا ہوا ہے۔ وہ فرش پر کیوں لیٹا ہوا ہے؟ لاشعوری طور پر اس کے حواس اس سوال کی طرف پوری طرح متوجہ ہوگئے‘ چند ثانیے اپنے ذہن پر زور ڈالنے کے بعد اسے سب کچھ یاد آنے لگا۔ اس کے ہونٹوں سے ایک ہلکی سی کراہ نکلی‘ اس نے اپنے پائوں سمیٹنے کی کوشش کی تو یوں لگا جیسے اس کے پائوں سن ہوگئے ہوں‘ اسے اپنی ٹانگیں بالکل بے جان محسوس ہورہی تھیں۔ اس احساس کے ساتھ خوف کی ایک لہر اس کے اندر سرائیت کر گئی‘ بڑی بے بسی کے عالم میں اس نے کروٹ لینے کی کوشش کی کیونکہ وہ اوندھا پڑا ہوا تھا‘ وہ کروٹ نہ لے سکا اس کا دائیاں گال بھی بالکل برف ہورہا تھا جو فرش پر کئی گھنٹوں سے ٹکا ہوا تھا۔ ایک عالم بے بسی تھی‘ مشہود کو یوں محسوس ہوا کہ اسی برف کی سل پر پڑے پڑے شاید اس کی موت واقع ہوجائے گی اس خیال کے ساتھ ہی اس کا ذہن فوراً پیاری کی طرف گیا تھا‘ وہ جو کہ اس کی لعن طعن سننے کے باوجود بھی وقفے وقفے سے اس کے کمرے میں جھانک کر اس کی طبیعت کا پتا کرتی رہتی تھی۔
باہر سے گاڑیوں کے ہارن اور آمدورفت کی آوازیں اندر آرہی تھیں‘ اس نے پوری طاقت سمیٹ کر اٹھنے کی کوشش کی لیکن ٹانگوں کا تو اسے احساس ہی نہیں ہورہا تھا یوں لگ رہا تھا۔ دھڑکے نیچے کا سارا حصہ مفلوج ہوچکا ہے اسی لمحے کسی نے بڑے زور سے کال بیل کا بٹن پش کیا تھا۔ ماحول میں کال بیل کی آواز ایک مکروہ چیخ کی طرح محسوس ہوئی تھی‘ کال بیل کی آواز سن کر مشہود کے حواس پوری طرح جاگ اٹھے۔ اسے یوں لگا کہ جیسے قید خانے میں کوئی نجات دہندہ آگیا ہو اور بس قید و رہائی کے درمیان چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا ہو۔
’’یقینا ماسی آئی ہوگی اس وقت اور کون آسکتا ہے۔‘‘ اس کا ذہن پوری طرح نہ سہی مگر کچھ کام کررہا تھا۔ جی چاہا کہ کوئی کرامت ہوجائے اور وہ بجلی کی سی سرعت کے ساتھ اپنی جگہ سے اٹھ کر گیٹ کھول دے‘ اس نے پھر کہنیوں کے بل اٹھنے کی کوشش کی۔ اس وقت یہ حال تھا کہ جیسے اس نے اپنی پوری توانائیاں ایک نقطے پر مرکوز کردی تھیں کہ بس اسے اس جگہ سے اٹھنا ہے لیکن کیا‘ کیا جائے کہ اس کا نچلا دھڑ بالکل مفلوج محسوس ہورہا تھا یوں جیسے کہ اس کی ناف سے نیچے اس کی ٹانگیں دھڑ سے جدا ہوچکی ہوں‘ اب اس نے پوری قوت سے حلق پھاڑ کر ماسی کو اپنے ہونے کا یقین دلانے کی کوشش کی۔
’’ہاں ماسی ایک منٹ رکو۔‘‘ اس نے اپنی ساری توانائیاں جمع کرکے ایک چیخ بلند کی تھی اس یقین کے ساتھ کہ شاید اس کی آواز ماسی تک پہنچ جائے مگر ماسی تک اس کی آواز شاید نہیں پہنچی تھی۔ کال بیل دوبارہ چیخ پڑی تھی۔
مشہود… بڑی بے بسی کے عالم میں دوبارہ فرش پر اوندھا ہوگیا‘ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ بے بسی کی انتہا پر چند آنسو اس کی آنکھ کے گوشوں سے پھسل کر فرش پر ٹپک پڑئے۔
موت کتنے پیار سے بلاتی تھی
ہر قدم پر کہتی تھی میرے ساتھ چلو
میں نہیں گیا
زندگی بھیک کی طرح مانگتا تھا
کس کے لیے…
ان کے لیے جو روز کی موت بخش دیں
ء…/…ء
پیاری بری طرح بلک بلک کر رو رہی تھی جیسے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے تھے۔ کمال فاروقی کا دست شفقت اس کے سر پر تھا‘ سعدیہ اور دانیال گاہے بگاہے بڑی بے بسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے جیسے ایک دوسرے سے مدد کے طالب ہوں اور پوچھ رہے ہوں کہ آخر اس صورت حال سے کیسے نکلا جائے۔ پیاری کس طرح خاموش ہوگی کیونکہ کمال فاروقی کی مسلسل پیار بھری تسلیاں دلاسے پیاری پر بے اثر تھے‘ اس کے کانوں پر جیسے پردے پڑے ہوئے تھے اسے کوئی آواز نہیں آرہی تھی‘ بس روئے چلی جارہی تھی۔
’’وہ پاپا ایسے کرتے ہیں کہ پیاری کو مشہود کے پاس لے چلتے ہیں‘ میرا خیال ہے کہ جو کچھ ہونا ہے وہ ہوجائے جو بھی حقیقت ہے ایک بار سامنے آجائے تاکہ فضول قسم کے خیالات سے جان چھوٹے اور ہمیں بھی پتا چلے کہ اب آگے کیا کرنا چاہیے۔‘‘
’’ہاں… ہاں دانیال… بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔‘‘ سعدیہ تو پیاری کے رونے سے بری طرح بے زار ہوچکی تھیں اور بہت اکتا کر گویا ہوئی تھیں۔ کمال فاروقی کیونکہ اس وقت سر سے پائوں تک پیاری کی ہمدردی میں ڈوبے ہوئے تھے اور بس… اس بات کے خواہش مند تھے کہ کسی طرح پیاری کے آنسو تھم جائیں‘ ان کا ذہن کسی اور سمت کام نہیں کررہا تھا ان کی ساری توجہ پیاری پر تھی دانیال کی بات سن کر وہ چونک اٹھے۔
دانیال نے اس وقت بڑی سمجھ داری کی بات کی تھی‘ ویسے تو وہ سمجھ دار ہی تھا لیکن اس پریشان کن صورت حال میں کسی طرف سے کوئی صائب مشورہ آجانا بہت بڑی رحمت ہوتی ہے۔
’’ہاں میرا خیال ہے کہ اس مسئلے کا یہی حال ہے اور پیاری کو بھی سکون مل جائے گا۔ چلو بیٹا اٹھو شاباش… دیکھو رونا ایک فطری عمل ضرور ہے لیکن اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش بھی کرنا چاہیے۔ دیکھو بیٹا مشہود تو اپنے لیے اس وقت کچھ نہیں کرسکتا ہمیں سوچنا ہے کہ ہم اس کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔‘‘ مشہود کے پاس جانے کا سن کر پیاری کے آنسو خودبخود تھم گئے تھے یوں جیسے دانیال اور کمال فاروقی نے جو کہا وہ اس کے اپنے دل کی آواز تھی۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ اس کے پر لگ جائیں اور اڑ کر اپنے بھائی کے پاس پہنچ جائے‘ وہ دیکھے کے رات اس نے کیسے گزاری ہے اور اس وقت وہ کس حال میں ہے۔ وہ فوراً ہی اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی تھی۔
’’انکل میں تو تیار ہوں مجھے تو کچھ بھی نہیں کرنا‘ پلیز جلدی چلیں۔‘‘ وہ بہت بے قراری کے انداز میں کہہ رہی تھی اور اس طرف دیکھ رہی تھی جس طرف سے گزر کر اس نے باہر گاڑی تک پہنچنا تھا یوں جیسے کہ ایک ایک پل اس پر بھاری ہورہا تھا۔
’’ہاں… ہاں ٹھیک ہے آپ دونوں پیاری کے ساتھ جائیں‘ میں ایک دو ضروری کام دیکھ لوں کل بھی سارا دن گھر سے باہر رہی بہت سارے کام اکٹھے ہوگئے ہیں اور ہاں پیاری کو مشہود سے ملا کر ساتھ لے آیئے گا‘ اسے وہاں مت چھوڑ دیے گا۔‘‘
’’یہ تو وہاں جاکر ہی پتا چلے گا کہ کیا صورت حال ہے اور ہمیں کیا کرنا ہے۔ بہرحال ٹھیک ہے میں اور دانیال جارہے ہیں‘ تم گھر پر ہی رہو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے پیاری کی طرف دیکھا۔
’’چلو بیٹا۔‘‘
’’ ایک منٹ انکل… میں بیڈ روم سے اپنا ہینڈ بیگ لے آئوں۔‘‘
’’ہاں… ہاں میں ڈرائیور سے کہتا ہوں وہ گاڑی ریڈی کرے‘ ٹھیک ہے بیٹا شاباش۔‘‘ پیاری جو فوراً ہی دوڑ گئی تھی‘ دانیال کسی گہری سوچ میں گم تھا شاید اسے اندیشے ستانے لگے تھے کہ کہیں مشہود اس کے باپ کی بھی بے عزتی نہ کردے کیونکہ وہ تو جیسے ہوش کھو بیٹھا تھا کسی رشتے کی اور تعلق کی اس کی نظر میں اہمیت نہیں تھی۔ اس نے جو اس کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنی تھیں سن کر دم بخود رہ گیا تھا‘ اسے یوں لگا جیسے یہ مشہود کی نہیں کسی اور کی آوازیں ہوں۔ ہنسی مذاق کرنے والا بات بات پر قہقہہ لگانے والا ہر دم خوش نظر آنے والا مشہود کیا سے کیا ہوگیا تھا۔
’’تم کس خیال میں ہو بیٹا؟ اگر تم اپنی کوئی چیز… میرا مطلب ہے سیل فون وغیرہ لینا چاہو تو لے آئو۔ پیاری گئی ہے اپنا ہینڈ بیگ لینے۔‘‘
’’جی بابا… سیل فون میرے پاس ہی ہے اور مجھے کچھ نہیں لینا‘ بس چلتے ہیں۔‘‘ دانیال نے گہری سانس لے کر باپ کی طرف دیکھا‘ کمال فاروقی مسکرا دیئے۔
’’ہم جنت میں نہیں رہتے‘ یہ دنیا ہے دنیا میں روز ایک امتحان ہے۔ ایک امتحان ختم ہوتا ہے دوسرا شروع ہوجاتا ہے اسی کا نام زندگی ہے۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں‘ اللہ اپنا کرم کرے گا۔‘‘ انہوں نے دانیال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر محبت بھرا دبائو ڈالا‘ دانیال نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور مسکرادیا۔ اب دونوں باہر کی طرف جارہے تھے شاید کمال فاروقی نے ڈرائیور کو ہوشیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی یا ڈرائیور کو ساتھ لے جانے کا ارادہ ہی ترک کردیا تھا۔
’’میرا خیال ہے تم ڈرائیو کرلو گے‘ ڈرائیور کو ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت۔‘‘
’’ٹھیک ہے پاپا… میں ڈرائیور سے چابی لے لیتا ہوں۔‘‘ مشہود ان سے پہلے تیز قدم چلتا ہوا باہر نکل گیا۔
ء…/…ء
’’آپ لوگوں نے جو بھی بے چارے دانیال کے ساتھ کیا ہے نا وہ تو یوں سمجھیں کہ اللہ ہی اس پر رحم کرے تو کرے آپ لوگوں نے کوئی کثر نہیں چھوڑی۔‘‘ عالی جاہ ناشتے کی ٹیبل پر پائن ایپل جوس جگ سے گلاس میں انڈیلتے ہوئے مانو آپا کی طرف دیکھ کر یوں کہہ رہا تھا جیسے دنیا میں دانیال کا سب سے برا ہمدرد وہی ہو۔
’’اچھا زبان سنبھال کے بات کرو‘ اس موضوع پر میں تم سے کوئی بات نہیں سنوں گی اور ہاں پیاری دانیال کی منکوحہ ہے تمہاری بھابی بن چکی ہے جب اس کے بارے میں بات کیا کرو تو سوچ سمجھ کے کیا کرو۔‘‘ مانو آپا کوشش کے باوجود اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکیں‘ ایک دم بھڑک کر گویا ہوئیں۔
’’دانیال میرا دوست ہے‘ بھائی ہے اس کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ ظاہر سی بات ہے مجھے دکھ ہے جب بھی مجھے اس کا خیال آئے گا مجھے تکلیف ہوگی۔ میرے منہ سے کچھ نہ کچھ نکل جائے گا۔‘‘
’’اچھا اگر تمہارے پاس کرنے کے لیے کوئی اور بات نہیں ہے تو چپ رہو اور آئندہ کھانے کی میز پر یہ الٹی سیدھی باتیں نا چھیڑنا‘ سمجھ آئی جب رزق آگے رکھا ہو تو باتیں نہیں کرتے رزق کا ادب کرتے ہیں تو نعمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ رزق آگے رکھ کے دنیا داری کی ہزاروں باتیں کرنا نعمتوں کی ناشکری ہے اور اللہ بچائے کفران نعمت سے۔ ارے بہت بُری پکڑ ہوتی ہے اللہ کی‘ میں تو ماں ہوں ہر وقت تمہارے لیے دعائیں کرتی ہوں لیکن میں کب تک تمہارے ساتھ ہوں آج مری کل دوسرا دن…‘‘
’’اماں پتا نہیں کیا ہے آپ تو ایک دم جذباتی ہوجاتی ہیں‘ عورتیں ہوتی ہی جذباتی ہیں بس کانوں میں کارک لگا ہوتا ہے‘ آنکھوں پر ڈھکن چڑھے ہوتے ہیں اپنی مرضی سے سنتی ہیں اور اپنی مرضی کا دیکھتی ہیں۔ اماں حقیقت‘ حقیقت ہوتی ہے اس میں انسان کی مرضی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔‘‘
’’ارے چپ بھی کرو‘ مار زبان کے آگے خندق ہے بولے چلے جاتے ہو‘ بولے چلے جاتے ہو۔ چلو اپنا ناشتا پورا کرو اور سدھارو اپنے کام پر۔‘‘
’’ہاں آپ کو تو میں گھر میں برا لگتا ہوں اور جب باہر ہوتا ہوں تو فون آرہے ہوتے ہیں‘ کہاں ہو‘ کیا کررہے ہو‘ کب آئو گے‘ ارے یہ ہوگیا وہ ہوگیا‘ میں پریشان ہورہی ہوں۔‘‘ عالی جاہ جوس کا گلاس ایک سانس میں خالی کر گیا تھا کیونکہ وہ جو کچھ کہنا چاہتا تھا مانو آپا سننے کے لیے تیار نہیں تھیں‘ اس لیے اب ان کے سامنے جم کر بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا‘ اپنی دانست میں اس نے اپنا موڈ آف کرلیا تھا اور یہ اس کا پرانا حربہ تھا جب ماں اسے بات کرنے سے روکتی تھیں تو وہ موڈ آف کرکے اٹھ جاتا اور اگلی نشست میں وہ تھوڑا نرمی کا مظاہرہ کرتی تھیں اور وہ جو کچھ کہتا تھا سن لیا کرتی تھیں۔ مانو آپا دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئیں کیونکہ اس نے آدھا ناشتا کیا تھا۔
’’ارے پتا نہیں اس کو کیا مصیبت ہے کیوں اس بچی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگیا ہے‘ ہزار اس کے لیے باتیں بنائے میرا دل نہیں مانتا تو میں کیا کروں۔‘‘ عالی جاہ کا آف موڈ دیکھ کر وہ خاموش تو ہوگئی تھیں مگر سوچنے پر تو اختیار نہیں‘ خیالات تواتر سے آرہے تھے۔ عالی جاہ اپنے حساب سے بہت آف موڈ میں ڈائننگ روم سے باہر چلا گیا تھا۔
ء…/…ء
مشہود جب اٹھنے کی ہر کوششوں میں بری طرح ناکام ہوچکا تو اس نے خود کو گھسیٹنا شروع کردیا اس کا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا اس کا ذہن اب خاصی تیزی سے کام کررہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اپنے فون تک پہنچ جائے اور منیجر کو گھر آنے کا بولے اور اس کو بتادے کہ صورت حال کیا ہے‘ وہ اٹھ نہیں سکتا گیٹ کھول نہیں سکتا اس کو خود سوچنا ہوگا کہ وہ گھر میں کس طرح داخل ہونے کے لیے کیا کرے۔ کم از کم اس سے بات کرنے کے بعد اتنا تو ہوگا‘ کوئی تو ہوگا جو اس کی موجودہ کیفیت سے آگاہ ہوگا یہ آس بھی بہت ہے۔
وہ اپنے یخ بستہ وجود کو کہنیوں کے سہارے کھینچتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا لیکن اتنی نقاہت اور کمزوری تھی کہ تھوڑا سا گھسیٹنے کے بعد فرش پر لمبا لمبا لیٹ جاتا پھر اپنی بچی کھچی توانائی جو ہر انسان کو دی جاتی ہے جو موت سے لڑنے کے لیے اپنا ذہن بنالیتا ہے اور موت کا استقبال کرنے سے انکار کردیتا ہے‘ چند منٹ گہری گہری سانس لینے کے بعد اس نے پھر خود کو گھسیٹنا شروع کردیا۔
بڑے سے لائونج میں جس جگہ وہ گرا تھا اس کے کمرے کا فاصلہ چلنے میں تو تیس سیکنڈ کا بھی نہیں تھا لیکن جس طرح وہ اپنے بے جان جسم کو گھسیٹنے کی تگ و دو کررہا تھا کہ چند سیکنڈ منٹوں میں تبدیل ہورہے تھے یعنی سیکنڈ کا کام کئی منٹوں میں ہورہا تھا۔ بہرحال اس نے خود کو کمرے کی چوکھٹ تک تو گھسیٹ کر پہنچا ہی دیا اور منزل قریب پاکر قدرتی طور پر توانائی میں بھی اضافہ ہوگیا وہ کہنیوں کے بل سر اٹھا کر اس طرف دیکھ رہا تھا جس طرف اس کا سیل فون رکھا ہوا تھا۔
حالت یہ تھی کہ نچلا دھڑ ابھی تک مفلوج محسوس ہورہا تھا خون کی گردش جیسے رکی ہوئی تھی۔ وقفے وقفے سے ایک سنسناہٹ ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ جاتی تھی لیکن سیل فون پر نظر پڑتے ہی ایک خوشگوار امید زندگی بچانے کی طاقت مہیا کرنے لگی۔
ء…/…ء
’’پاپا آپ ذہنی طور پر تیار ہیں‘ مشہود کی حالت واقعی قابل رحم ہے میرا خیال ہے وہ ڈیپ ڈپریشن میں چلا گیا ہے‘ بس غصہ سے ایک دم بھڑک اٹھتا ہے۔ آپ اس کی کسی بات کا برا مت مانیے گا۔‘‘ دانیال ڈرائیو کرتے ہوئے کمال فاروقی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پیچھے بیٹھی ہوئی بے قرار اور بے تاب سی پیاری دانیال کی طرف بہت محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ جیسے اس وقت دانیال نے اس کے دل کی بات کی ہو‘ اسے بھی یہی اندیشے ستا رہے تھے کہ دانیال سعدیہ کی حد تک تو پھر بھی خیر ہے۔ کمال فاروقی بہرحال بڑے ہیں‘ باپ کی جگہ ہیں پتا نہیں وہ کیا کہہ بیٹھے اور وہ ساری زندگی کمال فاروقی کے سامنے نظریں نہ اٹھاسکے۔
’’تم فکر نہ کرو بیٹا‘ تم جو باتیں سمجھا رہے ہو وہ مجھے پہلے ہی پتا ہیں جو کچھ تم نے گھر میں بتایا‘ تم آرام سے ڈرائیو کرو۔ میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں‘ وہ بھی میرا ہی بیٹا ہے اور اس وقت سخت مشکل اور تکلیف میں ہے اور جو تکلیف میں ہوتا ہے اس کا حق ہوتا ہے کہ سب مل کر اس کا خیال کریں اور جو اس کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں وہ اپنے رب کا شکر کریں کہ اللہ نے ان کو اس حال تک نہیں پہنچایا۔‘‘ کمال فاروقی نے بہت پُرخلوص اور محبت بھرے لہجے میں بات کی جو کہ ان کی فطرت کا خاصہ تھا اگر وہ ان کی فطرت نہ ہوتی تو وہ ایک خوف ناک قسم کی شادی کو نبھاتے ہوئے یہاں تک نہ پہنچ پاتے۔
’’ہاں بس یونہی مجھے خیال آرہا تھا میں نے آپ سے شیئر کرلیا میں نے سوچا کہ پتا نہیں ہمارا استقبال اس گھر میں کس طرح سے ہو۔ میرے اور پیاری کے لیے تو کوئی نئی بات نہ ہوگی‘ کہیں آپ شاکڈ نہ ہوجائیں۔‘‘ کمال فاروقی دھیرے سے ہنس دیئے۔
’’بیٹا وقت گزرنے کے لیے ہوتا ہے ہم نے اتنی عمر گزاری‘ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بھی گزر جائے گا۔‘‘ انہوں نے بہت پُروقار انداز میں ذہنی پختگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
ء…/…ء
مشہود وحشت زدہ آنکھوں سے فرش کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں اس کا موبائل ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھرا ہوا تھا۔ وہ جیسے تیسے کرکے اپنے کمرے تک پہنچ گیا تھا اور بیڈ کے کنارے پر اپنے ایک ہاتھ کا دبائو ڈال کر موبائل اٹھا بھی لیا تھا لیکن جو ہاتھ بیڈ پر دھرا تھا وہ ہاتھ بیڈ سے پھسلا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑا ہوا موبائل فرش پر جاپڑا اور اب ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اس کی آنکھوں کے سامنے بکھرا ہوا تھا۔
مشہود کا موبائل کوئی عام موبائل تو نہیں تھا وہ تو اس کا پورا دفتر تھا ویسے ہی آئی فون جو تمام بزنس مین اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ایک جام جم ہر وقت جیب میں پڑا رہتا ہے‘ نکالا اور اس دنیا کا حال دیکھ لیا۔ مشہود کو غم اس بات کا نہیں تھا کہ ایک مہنگا موبائل ٹوٹ گیا تھا۔ بے بسی تو یہ تھی کہ وہ جس امید کے تحت پوری طاقت اکٹھی کرکے اپنے موبائل تک پہنچا تھا‘ موبائل کے ٹوٹتے ہی وہ امید بھی ٹوٹ گئی تھی۔ لینڈ لائن نمبر سے بات کرنا بہت دوبھر لگ رہا تھا کیونکہ فون سیٹ اس کے بیڈ کے سرہانے کافی اونچائی پر رکھا ہوا تھا۔ بیڈ پر لیٹے ہونے کی صورت میں تو ریسیور اٹھانا مشکل نہیں ہوتا تھا لیکن مسئلہ اس وقت یہ تھا کہ وہ اپنے مفلوج دھڑکے ساتھ بیڈ پر جاکر کیسے لیٹے جو بچی کھچی توانائی تھی لگتا تھا وہ بھی ساتھ چھوڑ گئی تھی۔
وہ بڑی بے بسی کی کیفیت میں فرش پر لیٹا ہوا چھت کو گھور رہا تھا معاً اسے یوں محسوس ہوا جیسے مین گیٹ پر کھٹر پٹر ہوئی ہو‘ دل بڑے زور سے دھڑکا لیکن اگلے ہی لمحے پہلے سے بھی زیادہ مایوسی کی کیفیت نے اپنے حصار میں لے لیا۔ گیٹ اندر سے لاکڈ ہے کوئی اندر کیسے آسکتا ہے‘ ابھی تک تو کسی کو پتا بھی نہیں کہ اس وقت مجھ پر کیا بیت رہی ہے۔ منیجر سے رابطہ ہوجاتا تو پھر بھی ایک امید بندھ جاتی کہ شاید وہ کسی طرح لاک توڑ کر اندر آہی جائے۔
وہ بہت مضبوط اعصاب کا انسان تھا ویرانوں جنگلوں اور وحشیوں سے نمٹ کر آج اپنے گھر کے ٹھنڈے فرش پر لیٹا ہوا تھا لیکن شاید ابھی اوراق کا وہ در وا نہیں ہوا تھا کہ وہ یہ سوچ لیتا کہ گھر تو رشتوں سے بنتے اور مضبوط ہوتے ہیں جس گھر میں رشتے نہ بستے ہوں اس کو گھر نہیں مکان کہتے ہیں پھر اسے اپنی سماعت پر جیسے یقین نہ آیا کہ حواس پوری طرح چوکس تھے‘ اس نے محسوس کیا تھا کہ جیسے گیٹ کھلا ہو لیکن گیٹ کیسے کھل سکتا ہے‘ اگلے ہی لمحے اس کا دل چاہا کہ اب وہ رو پڑے کیونکہ اسے یقین ہوچکا تھا کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھوچکا ہے اور کھلی آنکھوں سے کوئی دھوکہ کھا رہا ہے۔
اتنا مضبوط لاک جو ہتھوڑوں کے مسلسل وار سے نہ ٹوٹے‘ اسے کوئی آرام سے کھول کر اندر کیسے آسکتا ہے۔ اس نے بے بسی سے آنکھیں بند کرلی تھیں اب اس کے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر تھے‘ نجانے کیسے آنکھوں سے دو قطرے ٹپک گئے اور دائیں بائیں فرش پر لڑھک کر فرش کو چومنے لگے معاً اسے قدموں کی آہٹیں محسوس ہوئیں اس کا جی چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے یعنی کہ اب اس کی ذہنی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ جاگ رہا ہے اور یقین جیسے خواب دیکھ رہا ہے۔
’’بھائی…‘‘ اس کی سماعت سے پیاری کی آواز ٹکرائی‘ مشہود نے اس لمحے اللہ سے دعا کی کہ یا تو اس کے جینے کا عزت دار راستہ نکال دے یا پھر اسی فرش پر پڑے پڑے اس کی موت واقع ہوجائے یعنی ابھی آہٹیں آرہی تھیں اور پیاری کی آواز بھی آئی ہے۔ حد ہوگئی ہے میں تو شاید پاگل ہوچکا ہوں‘ وہ اسی طرح شاید اپنے آپ کو کوستا رہتا کہ کسی نے اس کی گردن کے نیچے ہاتھ دے کر گردن کو اونچا کیا۔ مشہود نے پٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں‘ دانیال اس پر جھکا ہوا تھا اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا‘ اس وقت اس کی ذہنی حالت ایسی تھی کہ درحقیقت وہ خود کو پاگل ہی سمجھ رہا تھا۔ اس نے اپنی بے یقینی ختم کرنے کی نیت سے دانیال کا بازو تھام لیا اور بدقت اس کے منہ سے نکلا تھا۔
’’دانیال…‘‘ کمال فاروقی دانیال کی پشت پر کھڑے ہوئے دیکھ بھی رہے تھے اور سن بھی رہے تھے لیکن مشہود کو ابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کہ کمرے میں دانیال کے علاوہ کمال فاروقی اور پیاری بھی ہیں۔
’’تم یہاں فرش پر کیوں لیٹے ہو مشہود‘ بستر پر کیوں نہیں لیٹے۔‘‘ دانیال نے بے اختیار پوچھا۔
’’تم اندر کیسے آئے…؟‘‘ مشہود کے منہ سے بمشکل نکلا تھا‘ جیسے بچہ نیا نیا بولنے کی کوشش کرتا ہے تو اپنی بات کو ٹکڑوں میں بیان کرتا ہے۔
’’چلو آ تو گیا ہوں نا۔ میں تمہیں بیڈ پر لٹاتا ہوں‘ تمہاری طبیعت خراب لگ رہی ہے اور تمہارے ہاتھ کتنے برف ہورہے ہیں‘ مائی گاڈ۔‘‘ پیاری بہت خوف زدہ تھی اسی لیے مشہود کے سامنے آنے سے گریز کررہی تھی لیکن جس بے بسی کی حالت میں اس نے بھائی کو لیٹا ہوا پایا تھا اس کا دل کٹ کر آنکھوں کے راستے بہہ جانے کو بے تاب ہورہا تھا۔
دانیال نے گردن گھما کر پیاری کی طرف دیکھا اور آنکھ کے اشارے سے اسے کمرے سے باہر جانے کے لیے کہا کیونکہ وہ محسوس کررہا تھا کہ مشہود بالکل نڈھال ہے‘ جی چاہتا تھا کہ وہ جو اس سے اس وقت سابقہ انداز میں دوستانہ انداز میں بات کررہا ہے پیاری کو دیکھتے ہی اس کا موڈ بدل نہ جائے۔ پیاری چپ چاپ یوں کمرے سے باہر نکلی کے کسی طرح بھی قدموں سے آہٹ پیدا نہ ہو‘ دانیال نے گردن موڑ کر کمال فاروقی کی طرف دیکھا اور انہیں بھی کمرے سے باہر جانے کے لیے کہا جو بہت صبر و ضبط کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے کمال فاروقی نے اپنی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں کی اور بیٹے کی بات مان کر وہ بھی کمرے سے باہر نکل گئے۔
اب دانیال نے پوری قوت اکٹھی کرکے مشہود کو بازوئوں پر اٹھایا اور بیڈ پر لٹادیا۔ بستر پر لیٹتے ہی جیسے مشہود کی جان میں جان آگئی‘ اب اس نے دانیال کی طرف دیکھنے کی بجائے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ صبر و ضبط اور مضبوط قوتِ ارادی اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے‘ وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے سسکیوں کو روکنے کی کوشش کررہا تھا دانیال نے بہت پیار سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔
’’مشہود… تم نے کچھ کھایا پیا بھی نہیں ہوگا‘ اللہ کے لیے ہم میں سے کسی پر بھی تم رحم نہ کرو مگر اپنے آپ پر تو رحم کرو۔‘‘ دانیال بہت دل سوزی اور رحم دلی سے کہہ رہا تھا‘ مشہود کی بے بسی کی کیفیت اس انتہا کو پہنچی ہوئی تھی کہ مزاحمت کی قوت صفر ہوچکی تھی‘ حتیٰ کہ اس نے تو دانیال کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی بھی کوشش نہیں کی تھی۔
’’اچھا… میں تمہارے لیے پہلے ایک گلاس پانی لے کر آتا ہوں‘ تھوڑا پانی پیو۔ دیکھو پلیز ریلیکس‘ غصہ نہ کرنا‘ فی الحال تم اپنے آپ کو سنبھالو جب تمہاری طبیعت سنبھل جائے گی پھر جو تم کہو گے میں تمہاری مانوں گا‘ مجھے گھر سے چلے جانے کو کہو گے میں چلا جائوں گا لیکن پلیز مشہود… اس وقت غصہ نہ کرنا۔‘‘ یہ کہہ کر دانیال نے مشہود کا ہاتھ اپنے سینے سے لگا کر بہت محبت سے دبایا تھا۔
مشہود نے چہرہ موڑا ہوا تھا‘ وہ مسلسل دانیال کی طرف دیکھنے سے گریز کررہا تھا یوں جیسے کہ اسے دانیال سے نگاہ ملاتے ہوئے حیا آرہی ہو۔
’’مشہود یار میں تمہارا دوست ہوں‘ گزرا ہوا کوئی ایسا لمحہ ہی یاد کرلو کہ دل کچھ نرم ہوجائے۔‘‘ دانیال کا انداز خوشامدانہ تھا‘ باہر کمال فاروقی اور پیاری ایک دوسرے کی طرف بڑی بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔
ء…/…ء
’’ارے مامی… میں یہ کیا سن رہا ہوں‘ آج کل تُو بڑی بریکنگ نیوز چل رہی ہیں۔‘‘ عالی جاہ کار ڈرائیو کرتے ہوئے سعدیہ سے فون پر بات کررہا تھا۔ آئی فون اس کی جیب میں اور کانوں میں ہینڈ فری لگی ہوئی تھی جب سے اسے خبر ملی تھی کہ سعدیہ اس کی ماں کے ساتھ جاکر پیاری کو گھر لے آئی ہیں اسے ایک پل کے لیے قرار نہیں تھا۔ اس کے دل کا چور اس کو مختلف قسم کے اندیشوں میں مبتلا کررہا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ایسا کیا ہوا ہے کہ سعدیہ جو پیاری کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھیں حتیٰ کہ اپنے بیٹے کی شادی میں بھی شریک نہیں ہوئی تھیں اور شادی کا ایک طرح سے بائیکاٹ کیا تھا۔ پیاری کو خود جاکر لے آئیں یقینا کوئی تو ایسی بات ہوئی ہوگی جو وہ سب کچھ بھلا کر پیاری کو قبول کرنے کو تیار ہوگئیں۔ مختلف قسم کے اندیشے اسے ستا رہے تھے۔
یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس کا جھوٹ پکڑا گیا ہو‘ سعدیہ کو کہیں سے خبر مل گئی ہوگی کہ عالی جاہ نے جو کچھ کہا تھا وہ سب جھوٹ تھا اور کیونکہ عالی جاہ جھوٹا ثابت ہوگیا ہے اس لیے پیاری خودبخود کلیئر ہوگئی ہے تو اس کے ساتھ اب اچھا سلوک ہی کرنا چاہیے بلکہ اپنے برے سلوک کا مداوا کرنا چاہیے‘ وہ ہمہ تن گوش تھا کہ سعدیہ جواب میں کیا کہتی ہیں۔
’’میں تمہیں کیا بتائوں میری زندگی تو بہت مشکل میں آگئی ہے‘ میرا بس چلے تو مرتے دم تک اس لڑکی کی شکل تک نہ دیکھوں لیکن تم ہی بتائو میں کیا کروں۔ تمہارے ماموں گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے اور گھر چھوڑ کر جانے سے پہلے مجھ سے بات کرنا بند کردی تھی‘ ایک بیٹا سمندر پار بیٹھا ہے دوسرا گھر میں ہوتے ہوئے بھی شکل نہیں دکھا رہا تھا۔ آخر میں انسان ہی تو ہوں‘ کب تک اور کہاں تک برداشت کروں گی۔‘‘ سعدیہ جیسے پھٹ پڑی تھیں۔
کمال فاروقی اور دانیال پیاری کو لے کر گئے ہوئے تھے‘ نوکر ضروری کام کرکے ادھر اُدھر ہوچکے تھے اب خالی گھر میں بیٹھیں اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھیں بلکہ ایک طرح سے عالی جاہ نے ان پر خاص کرم کیا تھا ورنہ ان کے اپنے ذہن میں تو یہ خیال ہی نہ آتا کہ عالی جاہ کو فون کرکے اس سے دل کی باتیں شیئر کرنا چاہیں۔
عالی جاہ کے فون کا آنا تو ایسے ہی تھا جیسے اجنبی شہر میں چلتے چلتے کوئی اپنا نظر آجائے۔ خالی گھر بھائیں بھائیںکررہا تھا‘ کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ ان کی بلا سے عالی جاہ اس وقت کتنا مصروف ہے‘ انہوں نے تو ایک طرح سے عالی جاہ کو اب پکڑلیا تھا اور شاید وہ جاننا چاہتی تھیں کہ عالی جاہ کے پاس اور کیا خبریں ہیں اور خبروں کے علاوہ کوئی ثبوت بھی جو وہ ان کے ہاتھ میں تھمادے اور وہ آگے جاکر اسے اپنے مفاد میں استعمال کریں۔
’’ہاں مامی بات تو سمجھ آتی ہے کہ اب آپ کیا کرسکتی ہیں لیکن یقین کریں جب رات کو سوتے سوتے یوں ہی آنکھ کھل جاتی ہے تو خیال آتا ہے کہ دانیال کے ساتھ کیا ہوگیا‘ ایک دو نمبر لڑکی ایک اچھے خاصے آدمی کو پھنسانے میں کامیاب ہوگئی۔ فرینڈ شپ تک بات ہوتی تو سمجھ بھی آجاتی وہ تو اب ہمارے خاندان کا حصہ بن گئی ہے‘ مجھے تو سوچ کر بھی شرم آتی ہے یقین کریں‘ اب تو شاید بس آپ سے فون پر ہی بات ہوا کرے گی۔ میرے اندر اتنی ہمت نہیں کہ میں آپ کے گھر آئوں اور اس لڑکی سے میرا سامنا ہو اور میں خود کو سنبھال سکوں یوں ہی کسی وقت غصے میں منہ سے کچھ نکل سکتا ہے اور پھر آپ کو پتا ہی ہے نا کہ ماموں اور دانیال مجھے ہی غلط کہیں گے کیونکہ اس لڑکی میں تو بڑا ٹیلنٹ ہے وہ تو دونوں باپ بیٹے کو قابو میں کرچکی ہے۔ اب آپ اس کے قابو میں نہیں آئیں تو کیا ہوا‘ کوئی فرق بھی نہیں پڑ رہا‘ وہ تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی ہے نا۔‘‘ عالی جاہ اپنی شکست اور دل کے لٹنے کا بھرپور بدلہ لینے کے موڈ میں تھا‘ اس وقت وہ سر سے پائوں تک سعدیہ کے ساتھ ایک ہمدرد ہونے کا مظاہرہ کررہا تھا۔
’’ہاں‘ اب کیا کہہ سکتے ہیں‘ صبر کروں گی کہ میرے نصیب میں ہے یہی لکھا تھا‘ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’ہو کیوں نہیں سکتا مامی… تھوڑا سا صبر کریں لڑکی کو یہاں سے نکالنا ہے۔‘‘
’’کیسے نکالنا ہے؟‘‘ سعدیہ نے تڑپ کر عالی جاہ کی بات کاٹ دی۔ ’’بیٹا تم ہی بتائو کیسے نکال سکتے ہیں‘ تمہارے ماموں پر اور دانیال پر اس لڑکی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔‘‘ سعدیہ کے مطلب کی بات ہورہی تھی لیکن ساتھ ہی اپنی بے بسی کا احساس بھی تھا اس لیے بہت غصے کی کیفیت میں بات کررہی تھیں۔
’’مامی… آپ میرا ساتھ دیں‘ میں آپ کا ساتھ دوں تو سارے مسئلے حل ہوجائیں گے۔‘‘ عالی جاہ بڑا خیرخواہ بن کر سعدیہ کو اپنا ہمنوا بنانے کی سر توڑ کوشش کررہا تھا۔
’’عالی جاہ… تمہارا دماغ خراب ہے جب کسی پر الزام لگایا جاتا ہے تو الزام لگانے والے سے ثبوت مانگے جاتے ہیں ورنہ الزام لگانے والا خود ذلیل ہوکر رہ جاتا ہے۔ میں نے تو تمہاری بات پر یقین کرلیا لیکن دانیال اور تمہارے ماموں میری اور تمہاری بات پر کبھی یقین نہیں کریں گے‘ وہ تو ایک ہی صورت میں یقین کرسکتے ہیں کہ میں کوئی بات کروں تو ثبوت بھی دوں۔‘‘
’’اس کی آپ فکر نہ کریں۔‘‘ عالی جاہ نے پھر سعدیہ کی بات کاٹ دی۔ ’’ثبوت فراہم کرنا میرا کام ہے‘ جب اطلاع میں نے دی ہے تو یہ ڈیوٹی بھی میری ہے۔‘‘ عالی جاہ بہت معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا‘ سعدیہ ایک دم چونکیں۔
’’ارے تمہارے پاس اگر ثبوت ہیں تو دیتے کیوں نہیں‘ کیوں سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں‘ ایک ایک پل مجھ پر بھاری ہورہا ہے اور تم کتنے اطمینان سے کہہ رہے ہو کہ ثبوت ہیں… ثبوت ہیں تو دے دو دیر کیوں کررہے ہو؟‘‘ سعدیہ نے بڑی بے چینی سے عالی جاہ کی بات درمیان میں کاٹ کر اپنی بات کہی تھی۔
’’ہاں مامی… ذرا دو چار ثبوت اور اکٹھے کرلوں کیونکہ میرا خیال ہے جہاں اتنے اندھے اعتبار ہوں‘ وہاں ایک دو ثبوت کی حیثیت نہیں ہوگی ذرا دو چار جمع ہوجائیں تو پھر آپ کو میں دیتا ہوں۔‘‘
’’ارے تو دو چار کہاں سے جمع ہوں گے یہ بھی بتادو۔‘‘ سعدیہ بے تابی سے بولیں۔
’’مامی کہہ رہا ہوں نا اس لڑکی کے کوئی دو چار لوگوں سے تعلقات تو تھے نہیں‘ شہر میں اس کے بہت چاہنے والے ہیں آپ ذرا حوصلے سے کام لیں اور بس جیسے میں کہتا ہوں ویسے آپ کریں پھر دیکھیں آپ کا مسئلہ کیسے چٹکی بجاتے ہی حل ہوتا ہے۔‘‘
’’لو انتظار کی سولی پر لٹکا رہے ہو اور بات چٹکیوں کی کررہے ہو‘ میرے تو کچھ پلّے نہیں پڑ رہا۔‘‘ سعدیہ بری طرح جھنجھلا گئیں۔ واقعی ان پر کچھ واضح نہیں ہورہا تھا‘ سوائے اس کے کہ عالی جاہ جو باتیں کررہا تھا وہ ان کو اچھی لگ رہی تھیں۔
’’ہاں مامی… جب ثبوت ہاتھ میں آجائیں گے تو کام دنوں میں تھوڑی چٹکیوں میں ہوگا‘ اللہ حافظ پھر آپ سے کسی اور وقت بات کروں گا ابھی ٹریفک میں پھنس گیا ہوں‘ بہت شور ہورہا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی عالی جاہ کی طرف سے رابطہ منقطع ہوگیا مگر سعدیہ کسی خیال میں اس درجہ کھوئی ہوئی تھیں کہ سیل فون کان سے ہٹانا ہی بھول گئی تھیں۔ کوئی انہیں دیکھتا تو یوں لگتا کہ جیسے کوئی مجسمہ بیٹھا ہو‘ پلکیں جھپکائے بغیر سامنے دیوار کو تکے جارہی تھیں۔
’’ثبوت ہے اور کچھ اور بھی جمع کرے گا یہ تو بڑی امید بھری باتیں کررہا تھا۔‘‘ وہ سوچ رہی تھیں۔
ء…/…ء
کمال فاروقی کرسی پر مشہود کے بالکل قریب ہی بیٹھے تھے‘ مشہود کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں تھا۔ دانیال بیڈ کے کنارے پر بیٹھا ہوا تھا اور پیاری لائونج میں صوفے پر سانس روکے بیٹھی اندر ہونے والی باتیں بہت توجہ سے سن رہی تھی۔ اتنی دیر میں مشہود نے صرف ایک بات کی تھی وہ بھی کمال فاروقی سے۔
’’انکل مجھے میرے حال پر چھوڑدیں‘ دیکھیں اگر میری قسمت میں موت ہوتی تو میں شاید ان اندھیروں میں گم ہوجاتا ہمیشہ کے لیے‘ وہ اندھیرے جو دور تک پھیلے ہوئے تھے اور لگتا تھا کہ کبھی ختم نہ ہوں گے۔‘‘
’’مشہود تمہاری حالت ایسی نہیں کہ تمہیں اتنے بڑے گھر میں تنہا چھوڑا جائے‘ تمہیں خود بھی انداز ہوگیا ہوگا۔ دیکھو بیٹا جو رشتہ پیاری سے بن گیا ہے اس رشتے کا تقاضہ ہے کہ میں جو کچھ تمہارے لیے کرسکتا ہوں کروں‘ اب یہ میری بہت بڑی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ تمہیں میری بات ماننا ہوگی۔‘‘ جواب میں کمال فاروقی نے کہا تھا اس کے بعد سے کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی‘ نہ مشہود کی طرف سے کوئی جواب آیا تھا نہ کمال فاروقی نے کوئی بات کی تھی۔ کمال فاروقی اور دانیال شاید اپنی موجودگی میں پوری طرح غورو خوض فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کا موقع دے رہے تھے۔ کمال فاروقی نے مشہود کو مشورہ دیا تھا کہ کچھ دن کے لیے کسی اچھے ہسپتال میں ایڈمٹ ہوجانا چاہیے کیونکہ اسے دن رات کی نرسنگ کی ضرورت ہے اور اس طرح سے وہ بہت جلد اپنے پائوں پر کھڑا ہوجائے گا۔ اپنے کام میں لگ جائے گا تو پھر خودبخود اس کا ذہن ہلکا پھلکا ہوجائے گا۔
مشہود کی گہری خاموشی ایک طرح کا انکار تھی لیکن کمال فاروقی نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ مشہود کو اس طرح چھوڑ کر ہرگز نہیں جائیں گے۔ انہوں نے دانیال کی طرف دیکھا چند لمحے سوچا پھر اسے اشارے سے کمرے سے باہر جانے کے لیے کہا۔ دانیال باپ کا اشارہ پاکر سر جھکا کر کمرے سے باہر چلا گیا۔ مشہود نے ابھی تک دانیال کو درخور اعتناء نہیں جانا تھا۔ دانیال کے کمرے سے جاتے ہی کمال فاروقی اپنی جگہ سے اٹھے اور مشہود کے قریب بیڈ پر جاکر بیٹھ گئے‘ اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام لیا۔
’’مشہود میں تمہارے باپ کی جگہ ہوں اور ایک مدت سے تمہیں جانتا ہوں‘ تمہارے ساتھ بے حساب باتیں بھی ہوئی ہیں۔ کام کی باتیں بھی ہوئی ہیں‘ ہنسی مذاق بھی ہوا ہے ساتھ بیٹھ کر کھایا بھی ہے۔ اب میں ہی تمہارے باپ کی جگہ ہوں‘ دیکھو بیٹا‘ میں تمہیں اس وقت سمجھانے بجھانے کی کوشش نہیں کررہا ہوں اس وقت صرف اور صرف مجھے تمہاری صحت یابی کے علاوہ کوئی دوسرا خیال نہیں۔ تم ایک بار اپنے پائوں پر چلنے پھرنے لگو اس کے بعد تمہیں پورا اختیار ہے کہ تم ہم سے تعلق رکھو یا توڑو‘ تمہیں کوئی مجبور نہیں کرے گا مگر اس وقت تم میری بات رکھ لو۔ تمہیں ان تمام اچھے دنوں کا واسطہ جو ہم نے ساتھ گزارے ہیں۔ تمہیں پتا ہے نا کہ میں نے تمہیں کبھی بزنس پارٹنر نہیں سمجھا جب بھی مجھ سے ملے میں نے تمہیں وہ شفقت دی جو ایک باپ اپنے بیٹے کو دیتا ہے۔ کیا آج تم میری اتنی سی بات نہیں مانو گے‘ صرف آج کی بات کررہا ہوں‘ ٹھیک ہوجائو گے ان شاء اللہ تعالیٰ تو تم بااختیار ہو تمہیں کسی بات پر مجبور نہیں کیا جاسکتا لیکن آج تمہیں میں مجبور کروں گا‘ اگر تم میری بات نہیں مانو گے تو پھر ٹھیک ہے میں اپنا گھر چھوڑ کر یہاں رہوں گا اس وقت تک جب تک تم مکمل طور پر صحت یاب نہ ہوجائو‘ نارمل نہ ہوجائو‘ اپنے کام نہ کرنے لگو میں یہاں سے نہیں جائوں گا اگر اپنے کام سے جائوں گا تو کام نپٹا کر پھر یہیں آجائوں گا لیکن تمہارے ساتھ ساتھ رہوں گا۔‘‘ یہ سن کر مشہود نے گردن گھما کر دیکھنے کی بجائے آنکھوں کی پتلیوں کو حرکت دی‘ کمال فاروقی نے تو اچھی طرح سے رسیوں میں جکڑ کر رکھ دیا تھا۔
عجیب بے بسی کی کیفیت تھی وہ چاہنے کے باوجود کمال فاروقی کے سامنے اعلیٰ درجے کے اخلاق سے کام لے رہا تھا شاید یہ سابقہ تعلقات کا ہی اثر تھا کہ وہ ان کے سامنے کسی بھی صورت بدلحاظ ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس نے تو گہری خاموشی اس لیے اختیار کی تھی کہ وہ اس کی خاموشی سے تنگ آکر وہ تو چلے جائیں اگرچہ پیاری سے ابھی تک اس کا سامنا نہیں ہوا تھا لیکن اسے معلوم تھا کہ پیاری ان دونوں کے ساتھ آئی ہے‘ گھر کی ایکسٹرا چابی اس کے پاس ہوتی ہے‘ گیٹ تو اسی نے کھولا ہوگا۔
’’انکل میں ٹھیک ہوں‘ آپ یقین کریں ایسی کنڈیشن نہیں ہے کہ میں جاکر ہسپتال میں لیٹ جائوں۔‘‘ بھوک سے آنتیں کٹ رہی تھیں لیکن انا کی طاقت بھوک پر غالب آرہی تھی۔
’’یہ تم کہہ رہے ہو اور تم نے ایک طرح سے ضد باندھی ہوئی ہے‘ میں گزری ہوئی بات تم سے اس وقت نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف اور صرف تم سے وہ بات کروں گا جس میں آگے جاکر تمہارا کوئی فائدہ ہو‘ پچھلے حوالے سے میں تم سے کوئی بات نہیں کروں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ اس وقت تمہارا ذہن پُرسکون رہے‘ ہم آج کی بات کریں اور ابھی کی بات کریں۔‘‘ یہ سن کر مشہود نے اب بہت غیر ارادی طور پر بہت توجہ سے کمال فاروقی کی طرف دیکھا تھا۔ کمال فاروقی اسی کی طرف دیکھ رہے تھے دونوں کی نگاہیں ملیں کمال فاروقی محبت سے مسکرا دیئے۔ محبت کا عمل جانور پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جن کو محبت کا احساس محسوس کرنے کی توفیق تو دی گئی ہے محبت کو سمجھنے کی نہیں۔
ء…/…ء
’’تینوں کو گھر سے نکلے ہوئے تین گھنٹے ہوگئے‘ کتنی پریشانی ہورہی ہے۔ دونوں کو فون کررہی ہوں مگر کوئی جواب موصول نہیں ہورہا مسلسل ریکارڈنگ آرہی ہے کہ موجودہ نمبر سے رابطہ ممکن نہیں مشکل ہے فلاں ہے اور پتا نہیں کیا کیا بہرحال جو ہوتا ہے۔‘‘ سعدیہ نے شاید زندگی میں پہلی بار مانو آپا کو خود فون کیا تھا‘ مانو آپا تو یہ سن کر ہی پریشان ہوگئیں آنکھوں میں وہ سب منظر گھومنے لگے‘ مشہود کا بے عزتی کرنا‘ چیخنا چلانا… انہوں نے تو ایک طرح سے اپنا دل ہی پکڑلیا‘ چلو دانیال اور پیاری کی حد تک برداشت کرنے والی بات تھی لیکن کمال فاروقی جیسے عمر کے آدمی اللہ نہ کرے مشہود نے ان کے ساتھ کوئی الٹی سیدھی بات کی ہو‘ یہ تو بہت بُرا ہوجائے گا۔
’’تم پیاری کو فون ملا کر دیکھتیں۔‘‘ مانو آپا پریشانی کی کیفیت میں یہ ہی بول پائیں۔
’’پیاری کا تو نمبر میرے پاس نہیں‘ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ پیاری کے پاس سیل فون ہے بھی یا نہیں لیکن بہت پریشانی ہورہی ہے۔ اس لڑکے کا تو پتا ہی ہے اس دن جو میرے اور آپ کے ساتھ کیا‘ سوچیں اگر اسی طرح کی حرکتیں کمال کے ساتھ کی ہوں گی تو بات بہت بگڑ سکتی ہے۔ مجھے تو طرح طرح کے وہم آرہے ہیں‘ فون سے ایک آسرا تو ہوتا ہے انسان کو چلو دور بیٹھا ہے‘ خیر خیریت پتا چل جائے گی۔ دونوں کے دونوں فون اٹینڈ نہیں کررہے‘ پریشانی کی بات یہ ہے آپا۔‘‘ سعدیہ سچ مچ بہت پریشان تھیں وہ چاہے کتنی ہی منفی سوچ کی حامل کیوں نہ تھیں بہرحال مشہود جیسے جوان بندے کی چیخ دھاڑ سے اندر سے ابھی تک ڈری ہوئی تھیں اور سچی بات یہ ہے کہ جس کو اپنی انا ہر شے سے زیادہ پیاری ہوتی ہے وہ تو چھوٹی سے چھوٹی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنالیتا ہے اور پیاری کے گھر میں تو سچ مچ ان کی بہت بے عزتی ہوئی تھی۔ قدرتی طور پر وہم آنا بنتا تھا‘ مانو آپا یہ سب سن کر اتنی زیادہ پریشان ہوئیں کہ درحقیقت ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ جواب میں سعدیہ کو کیا جواب دیں اور کون سا ایسا مشورہ دیں کہ جس سے ان کی پریشانی تو چاہے ختم ہونا ہو لیکن سعدیہ کو تھوڑا بہت سکون ملے۔ یہ تو انہیں بھی پتا تھا کہ سعدیہ خود سے کبھی انہیں فون نہیں کرتیں اور انہوں نے سعدیہ کی اس عادت ثانیہ سے ایک طرف سے بھائی کے سکھ اور خوشی سے سمجھوتہ کیا ہوا تھا۔ ان کا دل چاہتا تھا تو خود ہی فون کرکے پتا کرلیا کرتی تھیں یا خود چل کے معلوم کرلیتی تھیں۔
’’آپا میرا خیال ہے کہ آپ کو وہاں جانا چاہیے بھئی کیونکہ میری تو ہمت نہیں‘ میں اس بدتمیز لڑکے کے سامنے جانا نہیں چاہتی اس لیے کہ بہت ہوگیا اس نے میرے سامنے کچھ الٹا سیدھا بول دیا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوگا اور بات بہت بڑھ جائے گی۔‘‘
’’ارے تو سعدیہ میں کیسے نکل پڑوں ذرا خود سوچو تو وہ کم بخت ڈرائیور بھی نہیں آیا۔ عالی جاہ گاڑی لے کے نکل چکا ہے تھوڑی دیر پہلے بھی تمہارا فون آجاتا تو میں اسی کے ساتھ نکل جاتی۔ راستے میں ٹیکسی لے کر وہاں تک چلی جاتی لیکن خیر تم پریشان مت ہو‘ ایسا کیا ہے خدانخواستہ کوئی گولی تو نہیں مار رہا نہ‘ جو کچھ وہ کہہ سن رہا ہے سن لو بس جہاں زندگی میں اتنا کچھ برداشت کیا یہ بھی برداشت کرلیں گے۔‘‘ مانو آپا اپنی طرف سے طفل تسلیاں اور دلاسے دینے لگیں۔
’’آپا… آپ کریں برداشت‘ میرے بس کی بات نہیں ہے اور جتنا میں نے کل برداشت کیا تھا نا یقین کریں میں نے زندگی میں اتنا کبھی برداشت نہیں کیا۔ میرا تو دل چاہ رہا تھا کہ اس کو وہ سنائوں کہ بات کرنا بھول جائے لیکن بس یہ سوچ کر خاموش ہوگئی کہ اس طرح بات بہت بڑھ جائے گی اور ہم کون سا ٹک کر اس کے گھر میں بیٹھے رہیں گے‘ تھوڑی دیر میں اپنے گھر چلے جائیں گے۔ ہماری مرضی کہ دوبارہ اس کی شکل دیکھیں نہ دیکھیں۔‘‘ سعدیہ ایک تواتر سے بولتی چلی گئیں۔
’’ہاں بات تو تمہاری صحیح ہے‘ تھوڑی دیر رک کر دوبارہ سے دانیال کو یا کمال کو فون ملائو‘ ہوسکتا ہے وہ راستے میں ہوں۔ ارے یہ سگنل وگنل کا بھی تو مسئلہ ہوجاتا ہے‘ تم سمجھو‘ کیا پتا بیٹری ختم ہوگئی گاڑی جہاں سے گزر رہی ہے وہاں بہت شور شرابہ ہو ان کو آواز ہی نہ آرہی ہو‘ دھیرج رکھو آرام سے‘ اچھا اگر تمہارا رابطہ نہ ہو‘ ادھر سے میں بھی کوشش کروں گی۔‘‘ مانو آپا بولتے بولتے ایک دم دوسری طرف آگئیں۔
’’میں بھی یہاں سے کوشش کرتی رہوں گی۔ ارے فون دونوں کے پاس ہے کسی وقت تو رابطہ ہوگا نا‘ بس تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’نہیں آپا… آپ سمجھ نہیں رہیں‘ مجھے پریشانی کسی اور بات کی ہے‘ دیکھیں میں اور آپ تو عورت ہیں نا ہم نے تو مشہود کی الٹی سیدھی سن لیں لیکن کمال مرد ہیں‘ مجھے تو یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ کمال اس کی بدتمیزیاں دیکھ کر دو چار جڑ نہ دیں۔‘‘
’’ہائے ہائے… ایسا نہیں سعدیہ‘ بیمار بچہ ہے اتنی رعایت تو اسے دینا پڑے گی۔ کمال ایسے نہیں ہیں‘ تم جانتی ہو اچھی طرح‘ تمہیں برا تو لگے گا لیکن تمہارے مقابلے میں میرے بھائی میں بہت صبر و تحمل ہے۔‘‘ مانو آپا کے منہ بلا ارادہ نکل گیا تھا وہ تو بولنے کے بعد ان کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ سعدیہ نے سچ مچ برا نہ منالیا ہو اور پھر کوئی مناسب موقع دیکھ کر ان کی کلاس نہ لے لیں۔
’’ہاں وہ تو ہے گھٹنہ پیٹ کی طرف جھکتا ہے آپ کو تو ساری زندگی بھائی میں کوئی خرابی نظرہی نہ آئی‘ یہ تو مجھے پتا ہے اور میرے اللہ کو پتا ہے جیسے ان کے ساتھ زندگی میں نے گزاری ہے اچھا‘ اللہ حافظ… آپ کا رابطہ ہوجائے تو مجھے بتادیجیے گا اور اگر میری بات ہوگئی تو میں آپ کو بتادوں گی۔‘‘ یہ کہتے ہی سعدیہ نے فون بند کردیا تھا لیکن مانو آپا کو ایک عذاب میں ڈال دیا تھا۔
ء…/…ء
مشہود فاقے کی طوالت کی وجہ سے بے ہوش ہوگیا تھا اور وہ تینوں اسے طبیعت کی زیادہ خرابی سے تعبیر کررہے تھے۔ تینوں کے ذہن میں پریشانی کی حالت میں یہ بات نہ آئی کہ کم از کم جب وہ ہوش میں تھا تو یہ پوچھ لیا جاتا کہ اس نے کچھ کھایا‘ ناشتا کیا ہے یا نہیں حالانکہ پیاری باہر بیٹھی ہوئی مسلسل اسی نقطہ پر سوچ رہی تھی لیکن اس کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ اندر آکے کوئی بات کرے اور مشہود کے بے ہوش ہونے کا ایک طرح سے فائدہ یہ ہوا کہ اس کو اٹھا کر گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے جانا آسان ہوگیا۔ وہ بے ہوش ہوا تو دانیال اور کمال فاروقی نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور اس کو لے کر ہسپتال پہنچ گئے تھے۔
پیاری گھر میں ہی رکی ہوئی تھی‘ دانیال نے ہی اسے رکنے کے لیے کہا تھا۔ ہسپتال میں بھاگ دوڑ ہوگی تو اس کا وہاں موجود ہونا فی الحال بے کار تھا‘ اس وقت پیاری نے دل میں سوچا تھا کہ اگر مشہود بھائی ہوش میں آبھی جائیں تو بھی میری ہمت نہیں کہ میں ان کے سامنے جاکھڑی ہوں۔ اس نے ایک طرح سے اپنے لیے غنیمت جانا کہ وہ گھر میں ہی رہے۔
وہ گھر کی صفائی ستھرائی میں مصروف ہوگئی۔ مشہود کی ادھر اُدھر بکھری ہوئی چیزیں سنبھالتے ہوئے دل بھر بھر آرہا تھا‘ کیا حالت ہوگئی بھائی کی کہ وہم اور اندیشے بدگمانیاں انسان کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔ کوئی انسان دشمن ہو تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے راستے بھی ڈھونڈ لیے جاتے ہیں لیکن جب انسان اپنا ہی دشمن ہو تو پھر بڑا مقام بے بسی ہے کوئی حل نہیں ہے اس کا۔ وہ رقیق القلبی سے سوچ رہی تھی اور دل کی گہرائیوں سے دعا کررہی تھی کہ مشہود کو کمال فاروقی کا سمجھانا راس آجائے۔ کمال فاروقی کی بات کو وہ سمجھ لے اسے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے اسے تو کمال فاروقی کی شکل میں ایک شفیق باپ اور دانیال کی شکل میں ایک بہترین ہمسفر میسر ہے۔ مسئلہ تو مشہود کا ہے وہ ابھی اسی خیال میں تھی کہ مانو آپا کی کال آگئی‘ انہوں نے لینڈ لائن نمبر پر کال کی تھی۔ پیاری کو ریسیور اٹھاتے ہی ایک عجیب سی شرمساری کا احساس ہوا یوں محسوس ہوا جیسے مانو آپا گھر ہی میں ہیں۔
’’ارے بیٹا… یہ دانیال اور کمال فاروقی کہاں ہیں‘ تم نے فون اٹھایا ہے اس کا مطلب ہے تم تو گھر پر ہو۔‘‘ مانو آپا اتنی زیادہ پریشان تھیں کہ بغیر کسی تکلف اور رسمی سلام دعا کے شروع ہوگئی تھیں۔
’’جی پھوپو… میں گھر پر ہوں‘ انکل اور دانیال مشہود بھائی کو لے کر ہسپتال گئے ہیں۔‘‘ پیاری نے مطلع کیا۔
’’آئے ہائے‘ ہسپتال لے کر گئے ہیں کیا ہوا بچے کو؟‘‘ مانو آپا تو یہ سب سنتے ہی سب کچھ بھول گئیں حالانکہ فون تو انہوں نے اس لیے کیا تھا کہ گھر میں کوئی فون اٹھا لیتا تو سب سے پہلے وہ یہ پوچھتیں دانیال اور کمال فاروقی موجود ہیں یا گھر کے لیے نکل گئے ہیں۔ حالانکہ فون ملاتے ہوئے وہ ڈر بھی رہی تھیں کہ اگر فون مشہود نے اٹھالیا تو کیا وہ ان کی کسی بات کا سیدھا جواب دے گا لیکن کم از کم یہ تو پتا چل جائے گا کہ وہ اکیلا ہے یا وہ تینوں اس کے ساتھ ہیں یا گھر کے لیے نکل گئے ہیں‘ اتنا پتا لگ جاتا یہ بھی بہت تھا۔
’’بس وہ… بھائی بے ہوش ہوگئے تھے‘ ویسے پھوپو وہ ہوش میں ہوتے نا تو انکل جتنا بھی کہتے وہ ہسپتال نہیں جاتے۔‘‘
’’آئے ہائے… بچے پر پتا نہیں کیا بیت رہی ہے‘ اپنی جان کا دشمن بنا ہوا ہے‘ اللہ اس پر رحم کرے۔ تمہاری ساس اتنی پریشان ہیں کہ انہوں نے مجھے فون کیا بولیں کہ میرے پاس پیاری کا کوئی نمبر نہیں اور یہ تمہارا لینڈ لائن نمبر بھی اس کے پاس نہیں ہے تو مجھے کہنے لگیں کب سے نکلے ہوئے ہیں ابھی تک کوئی پتا نہیں ہے کوئی فون اٹینڈ نہیں کررہا‘ وغیرہ وغیرہ۔‘‘
’’جی پھوپو… وہ اصل میں ہسپتال میں بھاگ دوڑ کررہے ہوں گے نا‘ اس لیے شاید موقع نہیں ملا ہوگا کال ریسیو کرنے کا لیکن آپ تسلی دے دیں آنٹی کو کہ سب خیریت ہے اور وہ لوگ ہسپتال گئے ہوئے ہیں اور آپ دعا کریں کہ اللہ مشہود بھائی کو اچھا کردے۔‘‘
’’ارے بیٹا… سر سے لے کر پائوں تک دن رات چوبیس گھنٹے آٹھ پہر دعا ہے۔ تم مانو کہ تم مجھے اپنی بیٹی کی طرح عزیز ہو‘ ارے اب تو تم میری بہو ہو‘ میرے دانیال کے کلیجے کی ٹھنڈک ہو اس کے آنکھوں کی روشنی ہو اس کے گھر کا سکھ ہو۔ کوئی کہنے کی بات ہے؟ دعا ہی دعا ہے میرا بچہ‘ اللہ ساری پریشانیاں دور کرے‘ اچھا اب اگر تمہارے پاس سعدیہ کا نمبر ہے تو اسے تم خود فون کرکے بتادو کہ وہ لوگ ہسپتال گئے ہوئے ہیں۔‘‘
’’نہیں پھوپو… میرے پاس تو ان کا سیل نمبر نہیں ہے۔‘‘
’’کیا ہوگیا ہے‘ اچھے گھر والے ہیں‘ ایک دوسرے کا نمبر ہی نہیں ہے چلو خیر میں سعدیہ کو فون کرکے بتادیتی ہوں۔ تم ویسے ہی پریشان ہو‘ اچھا تم تھوڑی دیر آرام کرلو‘ تم بھی بہت تھکی ہوئی ہوگی چلو خیر تسلی ہوگئی‘ اللہ حافظ۔‘‘ یہ کہہ کر اس کے ساتھ ہی مانو آپا نے فون بند کردیا تھا۔ پیاری مشہود کے کمرے میں صوفہ کم بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی‘ اس کا رواں رواں بھائی کی صحت و تندرستی کے لیے دعاگو تھا۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close