Aanchal Sep-16

کام کی باتیں

حنا احمد

مچھلی‘ زیتون کا تیل اور
دہی جلدکے لیے انتہائی مفید
ایک حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مچھلی‘ زیتون کے تیل اور دہی کا استعمال جلد کے کینسر سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جرمن یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ان غذائوں میں موجود اجزا جلد کو سورج کی شعاعوں سے خطرناک اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سرخ اور گہرے رنگوں کی سبزیاں اور پھل جیسے ٹماٹر‘ تربوز‘ کینوں اور گاجر بھی جلد کے کینسر سے بچائو میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
ہارمونز کی تبدیلی سے چھاتی کے سرطان سے بچاؤ ممکن
ماہرین طب کی ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خواتین میں چھاتی کے سرطان سے بچائو کے لیے ہارمونز کی تبدیلی مفت ثابت ہوتی ہے۔ ایسٹروجن ہارمونز خواتین میں چھاتی کے سرطان کے خطرے کو کم کرنے میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے۔یہ تحقیق معروف ماہر سرطان نے مکمل کی ہے انہوں نے نباتاتی تحقیق میں کہا کہ ہارمونز کی تبدیلی کا عمل گوکہ تمام مریض خواتین کو فائدہ نہیں دیتا مگر اس سے کسی حد تک ان خواتین کو مرض کی شدت بڑھنے کے عمل سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ اس تبدیلی کے عمل کو ایچ آر ٹی کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ماہرین طب نے کہا ہے کہ جن خواتین کے خاندان میں چھاتی کے سرطان کی ہسٹری موجود ہوتی ہے ان کو قبل از وقت مدد دی جاسکتی ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ ابھی یہ عمل ابتدائی مراحل میں ہے اس میں مزید بہتری لاکر چھاتی کے سرطان کے خاتمے کے لیے راہ کو ہموار کیا جاسکتا ہے۔
جسم کے مدافعتی نظام
سے کینسر پر کنٹرول
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے طبی ماہرین نے وہ نظام تلاش کرلیا ہے جس کے تحت کینسر کی رسولیاں خود کو جسم کے قدرتی دماغی نظام سے محفوظ رکھتی ہیں۔ سائنسی و طبی محققین اب ایک ایسی ویکسین تیار کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کے تحت جسم کے مدافعتی نظام کو کنٹرول کرتے ہوئے انہیں سرطان کی رسولیوں پر حملہ کرکے انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل بنایا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس نئی ویکسین کے ذریعے رسولیوں کے اس نظام کو نشانہ بنایا جائے گا جو انہیں جسم کے قدرتی دفاعی نظام سے محفوظ رکھتا ہے اور اس نظام کو ختم کرکے کینسر کے خلیوں کو غیر محفوظ کردیا جائے گا جو بعد ازاں جسم کے مدافعتی نظام کے حملے سے مکمل ختم ہوسکے گا۔
ثابت اناج امراض قلب و ذیابیطس سے حافظت کا ضامن
امریکی محققین نے ایک حالیہ تحقیق میں تجویز پیش کی ہے کہ روزانہ غذا میں ثابت اناج شامل کرنے سے نہ صرف دل کے امراض بلکہ ذیابیطس کے خدشات میں بھی کمی کی جاسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پسے ہوئے اناج کی بہ نسبت ثابت اناج ایسے چربی کے پٹھوں کی تشکیل میں کمی کرتا ہے جو بعد ازاں دل کے امراض اور دوسرے درجے کے ذیابیطس کو بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد زیادہ تر ثابت اناج کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ان میںViscerat Adipose Tissue (VAT) نامی چربی کے پٹھے تشکیل کی سطح کم ہوتی ہے۔ کئی افراد پر کی گئی اس تحقیق کے تحت یہ نتائج سامنے آئے ہیں جو افراد پسے ہوئے اناج کی نسبت دن میں تین مرتبہ ثابت اناج کو اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں ان میں VAT نامی پٹھوں کی تشکیل دس فیصد کم ہوتی ہے۔
روزانہ دو گلاس اورنج جوس پینے والی خواتین میں گٹھیا کا خدشہ
امریکا کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ روزانہ دو گلاس اورنج جوس پینے والی خواتین میں گٹھیا کے مرض کے خدشات دو گناہ ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اورنج جوس کے روزانہ دو گلاس پینے والی خواتین میں اس تکلیف دہ مرض کا شکار ہونے کے خدشات عام میٹھے مشروبات پینے والی خواتین کی نسبت ڈھائی گنا زیادہ ہوتے ہیں جبکہ روزانہ کا صرف ایک گلاس بھی یہ خدشات 40 فیصد تک پہنچادیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ میٹھے اور Fructrose والے جو سز خون میں Aciduric نامی مادہ پیدا کرتے ہیں جو انسانی جوڑوں میں داخل ہوکر نا صرف انہیں کمزور کرتا ہے بلکہ سوجن پیدا کرکے شدید تکلیف کا باعث بھی بنتا ہے۔
ناروا رویے جلدی انفیکشن
اور سوزش کا باعث بنتے ہیں
ماہرین طب نے کہا ہے کہ بدتمیزی‘ تکبر اور گالی گلوچ پر مبنی رویے نا صرف دوسروں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کردیتے ہیں بلکہ یہ رویے لوگوں کی جلد میں انفیکشن کا بھی باعث بنتے ہیں۔ اس ضمن میں امریکی ماہرین نے ۱۲۴ افراد پر تجربات کیے اور سماجی دبائو اور جلد کی سوزش کے درمیان تعلق کو دیکھا۔ اس تحقیق میں شامل لوگوں کو شدید سطح پر سماجی ناروا رویوں کا سامنا کرنا پڑا تھا‘ ان لوگوں کا ناروا رویو ں سے پہلے اور بعد میں تھوک کا نمونہ چیک کیا گیا جس میں واضح سطح پر کیمیکل تبدیلی تھی۔ دوسرے مرحلے میں ناروا رویوں کے بعد ۳۱ رضاکاروں کو کمپیوٹر گیمز کھیلنے کے لیے کہا گیا اور ان کی ذہنی حالت کو ایم آر آئی ٹیسٹ کے ذریعے چیک کیا گیا۔ ماہرین نے اس کے علاوہ بھی تجربات کیے اور یہ دیکھا کہ ناروا رویے دوسرے لوگوں میں جلدی انفیکشن اور سوزش کا باعث بنتے ہیں کیونکہ ان رویوں سے انسانی قوت مدافعت پرشدید دبائو ہوتا ہے جس کے ردعمل میںسوزش کا عمل سامنے آتا ہے۔
ہرا دھنیا ہائی بلڈ پریشر
و دیگر امراض میں مفید
عام طور پر کھانوں میں ہرا دھنیا صرف سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ہرا دھنیا حیرت انگیز طبی فوائد کا حامل ہے۔ طبی و غذائی ماہرین کے مطابق ہرے دھنیے کا استعمال نظام انہضام‘ بلند فشار خون اور ہڈیوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ دھنیے کے بیج پانی میں ابال کر پینے سے آرتھرائٹس کے مرض میں افاقہ ہونے کے علاوہ غذا میں دھنیے کا استعمال خون میں چکنائی کی سطح کو کم کرکے دل کے امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ صرف یہی نہیں چہرے کے داغ دھبوں اور کیل مہاسوں سے بھی نجات حاصل کیا جاسکتا ہے۔
دل کے مریضوں کے لیے
بچھو کا ڈنگ زندگی کی علامت
دل کے مریضوں کے لیے بچھو کا ڈنک زندگی کی علامت ہے۔ بچھو کا زہر دل کے بائی پاس کی ناکا می کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ ایک برطانوی اخبار نے برٹش سائنس دانوں کی تحقیق کے حوالہ سے بتایا کہ بچھو کے ایک ڈنک کے زہر میں ایسا تریاق ہے جو بائی پاس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ دل کے دورے سے بچنے کے لیے بائی پاس کیا جاتا ہے۔ شریانوں میں خون کے بہائو میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے یہ عمل سر انجام دیا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کے نزدیک بچھو کی چھال نقصان دہ نہیں ہے بلکہ اس کے ڈنک میں زہر ہلاکت خیز ہے۔ یونیورسٹی آف لیڈس کے سائنس دانوں نے اس پر تحقیق کی۔
ایشیائی ممالک ذیابیطس کی لپیٹ میں
ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جو دل کے مرض کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایشیائی ملکوں میں دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں ذیابیطس کا مرض بڑھتا جارہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں جنیاتی وجوہات کی بنا پر ٹین ایجرز اور(کم عمر) نوجوانوں میں ذیابیطس کا مرض بڑھتا جارہا ہے جس پر قابو پانے کے لیے معمولات زندگی میں تھوڑی سی تبدیلی اور خوراک کے استعمال میں احتیاط بے حد اہم ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے کنٹرول کا سب سے بہترین طریقہ پابندی کے ساتھ دوا کا استعمال‘ ایکسرسائز اور چہل قدمی کرنا ہے۔اس کے علاوہ مناسب خوراک جو کہ چکنائی اور دیگر نقصان دہ اجزا سے پاک ہو‘ کا استعمال کرنے سے ذیابیطس کو ناصرف کم کیا جاسکتا ہے بلکہ جنیاتی طور پر اس مرض کی منتقلی کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close