Aanchal Dec-18

کورا کاغز

رفاقت جاوید

وعدے کا ترے کچھ بھروسہ نہیں ہمیں
کچھ اپنی زندگی بھی نہیں اعتبار کی
نظریں بیان کر نہیں سکتیں حالِ غم
ہو ترجمانی کیسے دلِ زار زار کی

’’حیدر… میں اپنی زندگی کی یہ انمول خوشی اپنے رب کے ہاتھوں میں دے کر پُرسکون ہوگئی ہوں‘ کیونکہ وہ محبت کرنے والے کا ساتھ دیتا ہے۔ اس لیے امید ہے کہ اب میری محبت لاحاصل نہیں رہے گی۔ ایک دن اچانک میری آغوش میں گر کر میرے وجود کے انگ انگ میں سما جائے گی۔ کیوں حیدر… ایسا ہوگا ناں؟‘‘ زریاب نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں حیدر کو تلاشتے ہوئے دل ہی دل میں سرگوشی کی۔
’’زری… ایک گھنٹے سے ان ہاتھوں کی لکیروں میں کسے ڈھونڈ رہی ہو؟‘‘ نوریہ نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے آہستگی سے پوچھا۔
’’نور تم… جاننے کے باوجود ایسا سوال کیوں کرتی ہو؟ میں ان لکیروں میں حیدر کو ڈھونڈ نکالوں گی‘ اگر وہ نہ ملا تو قسم سے ان ہی لکیروں کے سنگ اس کے نام کی لکیر کھرچ کر بنالوں گی۔‘‘ زرناب مستحکم لہجے میں بولی۔
’’یار… یہ بھی دیکھ لیتے ہیں‘ جب یہ لایعنی خواہش اور معصوم سوچیں پرستان کی پریوں کی طرح تمہارے ذہن میں وارد ہوتی ہیں تو تم بھی ایک معصوم پری نظر آنے لگتی ہو‘ میری بات مانو، اس طلسماتی دنیا سے باہر نکل کر خود کو دیکھو اور جس پر فریفتہ ہوچکی ہو اس کی بے یقین زندگی کا جائزہ لو۔ تم ڈاکٹر ہو اور جو تمہارا سپنوں کا شہزادہ ہے وہ محب وطن فوجی ہے جو تم سے نہیں اپنے وطن سے پیار کرتا ہے اور اپنا خاندان اس کے لیے اہم نہیں بلکہ وہ اس دھرتی کی سلامتی اور آزادی کی بقا کے لیے نثار ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔‘‘ نور نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’اپنے لیے کسی ڈاکٹر کو منتخب کرنا بہتر ہی رہے گا۔‘‘
’’نور… میں نہیں مانتی… جو مرد اپنی بیوی اور خاندان کا وفادار ہوتا ہے وہ ملک سے کبھی دغا بازی نہیں کرسکتا اور جسے اپنے ملک کے ذرے ذرے سے عشق ہوتا ہے، وہ بے مثال شوہر ثابت ہوتا ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’تم کیا جانو‘ وفا داری جبلت کا حصہ نہ ہو تو ایسا مرد محافظ بننے کے قابل نہیں ہوتا… وہ ان سرحدوں کا محافظ اور جری جوان ہے‘ عشق نے تمہارے ذہن وقلب کو الٹی جانب دھکیل دیا ہے اب تم کسی کی نہیں سنوگی۔‘‘ نور زچ ہوکر بولی۔
’’افسوس کا مقام ہے کہ معاملہ فقط دل سے منسوب ہوچکا ہے۔ میری بات پر غور کرنا‘ اگر بچہ اپنے والدین کا تابعدار اور فرماں بردار نہیں، ان کی بات پر توجہ نہیں دیتا‘ تو وہ ملک سے وفا کیسے کرسکتا ہے؟ ایسے لوگ بیوی کو پیار وعزت دینے اور اس کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایک تربیت یافتہ نوجوان جب فوجی اکیڈمی جوائن کرتا ہے تو بچپن کی تربیت ہی اسے آگے بڑھنے کی ہمت وجرات بخشتی ہے‘ فوجی ٹریننگ ایسی جلا بخشتی ہے کہ اس کی وفاو ایثار اپنے ملک کے لیے وقف ہوجاتی ہے اور پھر ازدواجی زندگی کے محاذ پر بھی وہ ذمہ دار ہی ٹھہرتا ہے۔‘‘ اسی اثنا میں موبائل کی رنگ ٹون نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔
’’حیدر کی کال ہے۔‘‘ وہ نور سے سرگوشی کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
’’کیا کریں اس ڈاکٹر صاحبہ کا‘ ایک فوجی کا یونیفارم ہی اسے لے بیٹھا۔‘‘ نور نے دل میں کہا۔
آدھے گھنٹے بعد زرناب واپس آئی تو اس کا چہرہ پھول کی مانند کھلا ہوا تھا اور وہ خوشی سے مغلوب نظر آرہی تھی۔
’’پھر رشتہ بھیج رہا ہے کہ ابھی تک ٹال مٹول تک ہی محدود ہے۔‘‘ نور نے چھیڑا۔ ’’یار اب کی بار تمہیں ٹرخا دیا تو اسے بھول جانا۔‘‘
’’نور… کل اس کی دو بھابیاں ہمارے گھر آرہی ہیں‘ اف اس دن کے انتظار میں مجھے کیسے کیسے خیال نہ آئے؟‘‘ وہ پُرتسکین طویل سانس اندر کھینچ کر بولی۔ ’’اب دعا کرو کہ ان خواتین کو میں پسند آجائوں‘ ماں کی بات ذرا دوسری ہے۔‘‘
’’بے فکر رہو‘ پسند کیوں نہیں آئوگی ڈیئر؟ سسر پسند کرچکے ہیں بن دیکھے ورنہ یہ تشریف نہ لاتیں۔ آج کل کا زمانہ دوسرا ہے‘ لڑکی اور لڑکا دو چار ملاقاتوں کے بعد ہی فیصلہ کرلیتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے لیے مناسب ہیں بھی یا نہیں… آج کل کے مشینی دور میں کسی کے پاس ہیر رانجھے جیسی محبت کرنے کا وقت ہی کب ہے اور پھر سالہا سال کی ملاقاتوں کے بعد ناکامی کا سامنا کرنا اور جان کی بازی لگا دینے کی سوچ ہی کہاں ہے؟ مجھے امید ہے کہ حیدر نے سب کو رضا مند کرلیا ہوگا‘ پھر پریشان کاہے کو ہو۔‘‘
’’یہ بتائو کہ تم نے اپنے والدین کے گوش گزار کرکے ان کی آمادگی کو بھانپ تو لیا ہوگا؟‘‘ نور نے سوالیہ انداز میں اسے گھورا‘ تو زری نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’پھر، تو پسندیدگی کا مسئلہ معمولی سا بھی سر نہیں اٹھا سکتا‘ آج کل کے والدین کے لیے بھی اسی میں آسانی ہے۔ ایک وقت تھا کہ گھر میں جب لڑکی جوان ہوتی تھی تو اس کے والدین کی نیندیں حرام ہوجایا کرتی تھیں اور پھر رشتہ داروں اور دوست احباب میں ان لڑکوں پر نظر جم جایا کرتی تھی جو برسرروزگار بھی ہوتے تھے اور والدین ان کی عادات کا تھوڑا بہت ادراک بھی رکھتے تھے…‘‘ نور نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’یہی وجہ تھی کہ طلاق شاذو نادر ہی سننے میں آیا کرتی تھی‘ مزے کی بات سنو‘ میری امی آج بھی پرانی فرسودہ روایات پر مکمل بھروسہ رکھتی ہیں اور مجھے اٹھتے بیٹھتے لیکچر سننے کو ملتے ہیں کہ خبردار جو اپنا رشتہ خود ڈھونڈنے کا تصور بھی کیا تو بہت برا ہوگا۔‘‘
’’بہت دقیانوسی سوچ ہے آنٹی کی‘ حالانکہ دیکھنے اور بات چیت کرنے میں اپنی سوچ سے برعکس نظر آتی ہیں۔ لگتا ہے پراسرار ہیں تمہاری امی۔‘‘ وہ چھیڑنے کے انداز میں بولی۔
’’آپس کی بات ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو خوب جانتی ہیں کہ یہ بدھو کوئی ایرہ غیرہ پسند کرکے اٹھا لائے گی‘ اس لیے اس کو ابھی سے ہی ڈس کرج (حوصلہ شکنی) کرنا بہتر رہے گا۔‘‘
’زری شاید تم سچ کہہ رہی ہو‘ عجیب ہی بات ہے کہ کئی لوگ دھات کے زمانے کی روایتوں کے آج بھی اسیر ہیں‘ وہ اپنی اولاد کو کانفیڈنس میں لینے اور دینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے‘ شائد وہ بیٹی کو دکھی دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ اس لیے اپنی ہی پسند پر مطمئن وخوش رہتے ہیں۔ پھر جھٹ منگنی پٹ بیاہ کا اہتمام کرتے وقت بیٹی سے پوچھنا گوارہ نہیں کرتے کہ دوران تعلیم‘ اتنی بڑی ذمہ داری نبھانے کے قابل ہو بھی یا نہیں… ایک ہی رٹ ہوتی ہے‘ سب ہوجائے گا‘ کچھ مشکل نہیں وغیرہ وغیرہ… میں تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ امی نے سب سے پہلے میری تعلیم مکمل کرنے پر زور دیا‘ ورنہ میں آج ڈاکٹر ہرگز نہ ہوتی‘ اس احسان مندی کے پیش نظر میں اپنی پسند کا لڑکا اپنے والدین کے سامنے لے جانے سے قاصر ہوں… اور ایک دن مجھے ان ہی کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا… کیونکہ مجھے ان پر مکمل بھروسا بھی ہے کہ وہ میرے مستقبل کے لیے بہترین فیصلہ کریں گے۔ ان شاء اللہ میرا جیون ساتھی لاجواب ہوگا‘ امید تو یہی ہے۔‘‘ وہ طمانیت بھرے لہجے میں بولی۔
’’مجھے تمہاری منطق قطعاً سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہماری زندگیوں کے فیصلے کرنے کا حق صرف والدین کو ہے‘ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے‘ میری چوائس قابل تحسین ہے۔ بے شک میری محبت یک طرفہ سہج سہج آگے بڑھتی رہی‘ دوسری طرف تو مکمل ٹھنڈ ہی تھی۔ بندے کو ڈھیٹ ہونا چاہیے یار‘ مجھے یقین تھا کہ وہ میری محبت کی تپش وحدت سے بچ نہیں سکے گا‘ تم تو مجھے بخوبی جانتی ہو ناں کہ میں نے اس سے کبھی اظہار عشق نہیں کیا… لیکن وہ میری نگاہوں کی کہانی جانتا تھا‘ خاموش تھا، نجانے کیوں؟ جس دن وہ ہسپتال میں ایک زخمی دلیر سپہ سالار کی حیثیت سے ایڈمٹ ہوا تھا تو اس کا مقدس شہیدوں اور غازیوں کا پہناوا خون میں تربتر تھا۔ اسے دیکھتے ہی میں فسوں میں چلی گئی‘ حالانکہ اسی پہناوے میں ملبوس مجھے دن بھر ہسپتال میں بیسیوں افسران نظر آتے ہیں‘ لیکن کسی کی طرف میرا دھیان تک نہ گیا‘ یہ یونیفارم کی محبت وعقیدت نہیں ہے اس کے اندر کی جرأت ودلیری کی پرستش ہے کہ میں اس کی ہمسفر بننے کے خواب دیکھنے لگی اور اب اس کی خوش آئند تعبیر میرے اور تمہارے سامنے ہے…‘‘ وہ جوش سے بولی۔
’’یار ذرا ہولے ہولے‘ ایسا نہ ہو کہ تمہارے پیرنٹس کو یہ لڑکا پسند نہ آئے‘ فوجی جوان کو بیٹی کا رشتہ دینا اتنا آسان نہیں ہے‘ جتنا تم نے سمجھ رکھا ہے۔ آنٹی اور انکل اکلوتی بیٹی کی وجہ سے تو بار بار سوچیں گے اور فیصلہ کرنا مشکل ہے ڈیئر… اس کے لیے تیار رہو کہ یہ ناممکن بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ نور نے سنجیدگی اور فکر مندی سے کہا۔ ’’اپنے بھیا سے مشورہ کرو‘ وہ کبھی نہیں مانے گا‘ آخر تم اس کی لاڈلی اور اکلوتی بہن ہو۔‘‘
’’اللہ نہ کرے نور… یہ بددعا مت دو۔‘‘ وہ اچھنبے سے اچھل کر بولی۔ ’’شکل اچھی نہ ہو تو زبان کو تو شیریں رکھو۔‘‘
’’زری میں تم پر ایک اور حقیقت واضح کرنا چاہتی ہوں‘ جسے تم نے بالکل ہی اگنور کردیا ہے۔ قصور تمہارا نہیں‘ اس اندھی محبت کا ہی سمجھتی ہوں۔‘‘ وہ سنجیدہ لہجے میں بولی۔
’’اب کون سا نیا شگوفہ چھوڑنے لگی ہو… کبھی مثبت بات بھی کرلیا کرو‘ امید اچھی ہو تو کامیابی دوڑ کر گلے لگا لیتی ہے‘ اس لیے ذرا سوچ کر پھلجڑی چھوڑنا…‘‘ وہ بھی مسکراتے ہوئے بولی۔
’’بات کچھ یوں ہے کہ حیدر کی ہارڈ ایئریا میں پوسٹنگ ہوئی تو پھر کیا کروگی؟‘‘وہ توقف کے بعد بولی۔
’’اس کے ساتھ اپنی پوسٹنگ بھی ہوجائے گی‘ کیا یہ رول بھول چکی ہو‘ آخر اسی فوجی ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں… اس کے ساتھ چلتی بنوں گی۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں کو ملتے ہوئے بولی۔ ’’سسرال میں کیونکر ٹھہروں گی‘ وہ تو ہانڈی چولھے پر لگا دے گا‘ سنا ہے سسر جی کافی سخت مزاج کے فوجی آفیسر تھے۔‘‘
’’محترمہ آپ ایک سویلین ڈاکٹر کی حیثیت سے یہاں متعین ہیں۔ تم اس کے ساتھ کیسے جاسکتی ہو؟ ہارڈ ایئریا میں بیوی کا کیا کام؟ یہ نان فیملی اسٹیشن ہوتے ہیں‘ سوچ لو کہ ایک عدد بوڑھے حواس باختہ سسر‘ چار عدد جٹھانیاں اور تمہارے محافظ جابر چار عدد جیٹھ گھر میں موجود ہوں گے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہ لوگی کہ نہیں… یہ مسئلہ گمبھیر ہے پیاری…‘‘ وہ سوچتے ہوئے بولی۔
’’اے اماں… سب جانتی ہوں۔ دل بہلانے کو خیال کرلیا ہے تو کوئی برا فعل سرزد نہیں ہوا‘ تم تو ایسی دوست ہو کہ وقتی طور پر مجھے خود کو بیوقوف اور انجان بننے پر خوش بھی نہیں ہونے دیتیں… یار سب ٹھیک ہوجائے گا۔ تم دیکھتی جائو کہ آگے آگے محبت کس جانب جائے گی‘ وہ میرے بن رہ نہیں پائے گا…‘‘ وہ قہقہہ لگا کر بولی۔
’’مجھے تم سے یہ توقع نہیں تھی‘ تم ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہو اور نجانے کس دنیا میں رہتی ہو…‘‘ وہ حیرت وتاسف سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
’’نور… میں بس گئی ہوں اس ہوائوں اور فضائوں کی دنیا میں ٹینکوں کی گھن گرج میں اور سمندروں کی اٹھلاتی لہروں میں… جو حقیقت ہے دھوکا یا فریب نہیں۔ میں نے فیصلہ خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے‘ اپنی اس مختصر زندگی میں کوئی نیک کام ہی کر جائوں بلکہ تم بھی اسی لکیر پر چل نکلو‘ جو میں نے خوب غورو خوض کے بعد کھینچی ہے۔‘‘ وہ شگفتگی سے لہراتی ہوئی بولی۔
’’ان غازیوں کی بیوی ہونا فخر نہیں تو کیا پچھتاوا ہوگا‘ پگلی کہیں کی۔‘‘
’’میں نے تمہیں اپنا مسئلہ بتا دیا کہ میں اپنے والدین کی رضا مندی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی… میرا گھرانہ ابھی بھی پرانی روایات ورسومات کا قائل ہے… مجھے بھی اعتراض نہیں‘ اس لیے تو تمہیں بھی سمجھانے کی کوشش کررہی ہوں۔‘‘ نور ابھی تک سنجیدہ اور سمجھانے پر مصر تھی۔
’’اسے کہتے ہیں جہالت… پڑھے لکھے جاہل‘ جو ایک ہی جگہ پر ساکت وجامد رہنے میں اپنی بڑائی سمجھتے ہیں… اور کنوئیں کے مینڈک کی طرح اسی میں خوشی خوشی زندگی گزار جاتے ہیں…‘‘ زرناب نے تمسخرانہ انداز میں کہا تو نور مسکرادی تھی۔
خ…ز…خ
مبارک‘ کی دلنشین و پُرتسکین آوازوں میں نکاح کی رسم ادا ہوئی اور دو دن کے وقفے سے زرناب، کیپٹن حیدر کی دلہن بن کر پیا دیس سدھار گئی۔ چند دنوں میں ہی حیدر کو اس کی فطرت کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ایک لاابالی اور جذباتی قسم کی لڑکی ہے‘ ایسی لڑکی جب محبت کرنے پر آتی ہے تو اسے دنیا کی باتوں کی پروا نہیں رہتی اور اگر نفرت کرنے پر آتی ہے تو پھر وہ ماضی کی تمام شوخ وشنگ، رنگیلی یادیں اور حسین وجمیل دل کو بھانے والی باتیں اور معصوم حرکتیں بھلا کر تاریک وسیاہ کھائیوں میں کود جاتی ہے‘ ایسا کرنے کے لیے اسے کوئی بڑا سانحہ اور حادثہ نہیں چاہیے ہوتا… وہ معمولی سی بات پر مدتوں کے یارانے توڑنے سے باز نہیں آتی‘ اس لیے اس نے تہیہ کرلیا کہ ازدواجی زندگی کے محاذ پر فتح یابی کے لیے اسے جوائنٹ فیملی سسٹم کا حصہ ہی کیوں نہ بنایا جائے‘ یہ سسٹم زندگی کے نشیب وفراز سے مقابلہ کرنے کے لیے لاجواب ہے‘ یہ سوچ کر اس نے اسے اپنے گھر چھوڑا اور خود اسکردو اپنے فرائض نبھانے چل دیا۔
وہ اس کی دوری اور جدائی کو وقتی وعارضی سمجھتے ہوئے اس زہر کو امرت سمجھ کر پی گئی جبکہ اس کے والدین اسے یو ایس ایم کی کے بعد ریزیڈنسی کے لیے امریکہ بھائی کے پاس بھیج کر وہاں شفٹ ہونے کا خواہش مند تھے اور اس کی شادی کا خواب بھی انہیں شاداں وفرحاں رکھتا رہا کہ بیٹی بھی اپنے کسی کولیگ ڈاکٹر سے شادی کرنے کے بعد وہاں کی نیشنلٹی حاصل کرکے ہمارے قریب ہی ہوگی‘ یہ ایسا خواب تھا کہ جسے خوش آئند تعبیر دینا کسی کے اختیار میں نہ رہا اور طوعاً وکرہاً والدین نے اپنی لاڈلی بگڑی ہوئی بیٹی کی خوشی کی خاطر ہتھیار ڈال دیے تھے‘ خوش شکل ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے وقتاً فوقتاً اس کے متعدد گھرانوں سے رشتے بھی آتے رہتے تھے‘ کیا مجال کہ والدین نے اپنی بیٹی پاکستان چھوڑنے کا تصور بھی کیا ہو۔
دوسری طرف زرناب بھی شعوری طور پر ہر لڑکے کا موازنہ حیدر سے کرتی رہی اور اس کے انکار سے والدین کو بھی ذہنی سکون ملتا رہا… جب حیدر کی طرف سے گرین سگنل ملا تو اس نے والدین کو قائل کرنے میں ٹھوس دلائل دے کر کامیابی حاصل کرلی۔
اس کے تصورات میں خون میں لت پت حیدر کا پُرسکون اور فخر میں نہایا ہوا چہرہ ہر وقت گھومتا رہتا تھا… جس سے اسے بے پناہ محبت‘ ایک لمحے میں ہی ہوگئی تھی اور ایسی محبت قاتلانہ حد تک خطرناک ہوتی ہے‘ وہ اسی پر اکتفا کیے حیدر کے قریب ہونے میں کوشاں رہی۔
حیدر اپنے گھرانے میں سب سے چھوٹا تھا‘ چار کنال کی کوٹھی میں چار جٹھانیاں پہلے دن سے ہی چھریاں تیز کیے موجود ملیں… جو اعلا تعلیم حاصل کرنے کے باوجود سسر جی کی حکم کا احترام کرتے ہوئے گھر داری اور بچوں کو پروان چڑھانے میں مصروف تھیں… اس کا ہاسپٹل میں نوکری کرنا جٹھانیوں کو ایک آنکھ نہ بھایا تھا‘ اس ردعمل میں وہ سسر کی طرف سے ناانصافی اور شوہروں کی زیادتی پر نالاں رہنے لگیں… گھر کی چپقلش اور جٹھانیوں کے طعنوں وتشنوں سے گھبرا کر اس نے حیدر کو حالات حاضرہ سے آگاہ کیا اور روتے تڑپتے ہوئے موبائل پر مظلومیت کی سچی جھوٹی داستانیں بیان کرنے کے بعد بولی۔
’’حیدر… آپ کو میری رتی بھر پرواہ نہیں‘ مجھے ان ظالم بھابیوں کے چنگل میں سونپ کر خود عیاشی کی زندگی گزار رہے ہو‘ دس از ناٹ فیئر… یہ ظالم عورتیں مجھ سے کچن کا کام لینا چاہتی ہیں‘ مجھے گھر داری قطعاً پسند نہیں۔‘‘
’’میں عیاشی نہیں کررہا جانم‘ یقین جانو، گولیوں کی بوچھاڑ میں جانتی ہو مجھے کون یاد آتا ہے۔‘‘ وہ اسے محبت سے بھرپور لہجے میں سمجھانے لگا۔ ’’کچن میں ان کا ہاتھ بٹانے سے حالات بدل سکتے ہیں اس میں سبکی تو نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
’’حیدر میں نے تمہیں اپنے بارے میں تفصیلاً بتایا تھا‘ یہ بتائو کہ میں کہاں پر ہوں؟ یہ درجہ ہے میرا تمہارے دل میں‘ تمہاری بھابیاں تو اس دنیا کی خوش قسمت ترین عورتیں ہیں جنہیں اپنے شوہروں کی قربت نصیب ہے۔‘‘ وہ ٹسوے بہاتے ہوئے بولی۔ ’’اور میں تم سے دور، ان کے تشنوں کا نشانہ بنی تمہاری منتظر ہوں۔‘‘
’’زری بیگم… تمہیں جاب کی رفاقت نصیب ہے‘ میری جان، پاپا اسی لیے تو تمہیں جاب کرنے سے منع نہیں کررہے تاکہ تمہارا دل بہلا رہے‘ میری جاب میں تم کہیں بھی فٹ نہیں ہو کیونکہ تم سویلین ڈاکٹر ہو‘ تمہیں وہیں قیام کرنا پڑے گا‘ کیپٹن کو گھر ملتا ہے نہ شیلٹر۔‘‘
’’حیدر… میری جاب تمہاری کمی پوری نہیں کرسکتی‘ تم کیوں نہیں سمجھتے؟ میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں‘ میں نے تم سے شادی کی ہے‘ جدائی اور دوری کا سودا تو نہیں کیا تھا۔‘‘ وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’تو کیا نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھ جائو گی‘ ایسا کبھی تصور بھی نہ کرنا… فوجی کی بیوی کو اپنے شوہر کے شانہ بشانہ چلنے کا گر نہ آئے تو وہ عورت بیوی بننے کے قابل نہیں سمجھی جاتی…‘‘ وہ بنائوٹی رکھائی سے بولا۔
’’جان، ویسے سوچنے کا مقام ہے کہ اگر جاب چھوڑنے سے ہم ایک دوسرے کے قریب رہ سکتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں… تمہاری قربت میرے لیے اہم ہے‘ اگر فوج تمہیں گھر نہیں دے سکتی تو سول میں کرائے کا گھر تو لے سکتے ہو ناں… اس دو ٹکے کی نوکری کی کوئی وقعت نہیں ہے۔‘‘ وہ ایک دم ہنستے ہوئے بولی۔
’’یہ تو ناممکن ہے۔ تم مسائل نہیں سمجھتیں…‘‘ اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
’’تو پھر تم گولی مارو اس نوکری کو‘ جو جدائی کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ وہ پشیمان سی ہو کر بولی۔
’’تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟ تم نے جس یونیفارم سے پیار کیا تھا‘ اسے اتار پھینکوں؟ حیرت ہوئی تمہاری یہ بات سن کر… میں تمہیں جذباتی اور لاابالی لڑکی تو سمجھتا ہی تھا لیکن تم تو نادان اور سطحی بھی نکلیں۔‘‘ وہ اضطراری کیفیت میں بولا۔
’’حیدر میں نے ان کپڑوں سے پیار نہیں کیا‘ ان کپڑوں کے اندر چھپے ہوئے حیدر کو چاہا تھا‘ جب وہی مجھ سے دور ہے تو میں خوش ومطمئن کیسے رہ سکتی ہوں؟ ذرا تم خود سوچو کہ ارینج میرج اور لو میرج میں یہی فرق تو ہے کہ بیوی ہر پل اپنے پیار کی سنگت میں گزارنا چاہتی ہے…‘‘ وہ خوشامدانہ انداز میں بولی۔
’’میری جان تھوڑا سا صبر کرلو‘ بہت جلد میری پوسٹنگ سیالکوٹ ہونے والی ہے اور ساتھ ہی رینک بھی اس یونیفارم پر سج اٹھے گا۔ وہاں تم میرے ساتھ ہی رہوگی‘ سویٹ ہارٹ، اگر تم مجھے خوش وخرم اور مطمئن دیکھنا چاہتی ہو تو خود کو مصروف رکھو‘ دل کو بہلائے رکھو اور گھر والوں کے ساتھ گھل مل کر رہوگی تو وقت کو پر لگ جائیں گے۔‘‘
’’سچ؟ کب تک یہ مژدہ راحت سننے کو ملے گا‘ باقی میں ان سے گھل مل کر مزید ذلیل نہیں ہونا چاہتی۔ مجھے جلدی بتائو کہ کب تک پوسٹنگ کے امکان ہیں۔‘‘ وہ بے چینی سے بولی۔
’’یہ مجھے معلوم نہیں… تم میرے حال سے بے خبر ہو‘ یہاں کی زندگی بہت ٹف ہے‘ نہ تم میرے ساتھ ہو نہ ہی کوئی اپنا رشتہ دار دوست اور ہمدرد میرے قریب ہے۔ میں ہوں اور میرے ساتھ سپاہیوں کی نفری… تم ان حالات میں یاد نہیں آئوگی تو کیا بھول جائوں گا تمہیں… تم تو اپنوں میں ہو‘ سسرال اور اپنی کولیگ میں عیاشی ہی عیاشی ہے تمہاری…‘‘ وہ آزردگی سے بولا۔
’’آئی ایم سوری‘ حیدر تم نے درست کہا… اگر تم اجازت دو اور پاپا کو رضا مند کرنے میں کامیاب ہوجائو تو میں ماما کے گھر چلی جائوں‘ کچھ تو دل بہل جائے گا‘ جب جاب سے گھر پہنچوں گی تو ماما میرے انتظار میں ہوں گی… چائے میرے ساتھ پئیں گی اور ڈیڈی اسکریبل سے میرا دل بہلائے رکھیں گے۔ سسرال کبھی میکہ نہیں ہوسکتا… ایسا تو سوچنا ہی نادانی ہے‘ تم بھی اس سچائی کو تسلیم کرلو اور مجھے میکے میں رہنے کی اجازت دے دو۔‘‘
’’اوکے میں پاپا سے بات کرتا ہوں اگر وہ نہ مانے تو پھر میں کچھ نہیں سمجھا سکوں گا… کیونکہ اب تم ہماری ذمہ داری ہو‘ ہر حال میں اور ہر لمحے۔ پاپا نہیں چاہتے کہ تمہارے میکے والے میری جاب کا خمیازہ بھگتیں۔‘‘ اس کے لہجے میں قدرے سختی تھی۔
’’حیدر… ماما اور ڈیڈی یہاں چند مہینوں کے مہمان ہیں… وہ امریکہ میرے بڑے بھیا کے پاس گرین کارڈ کی غرض سے جانا چاہتے ہیں‘ آخر بھیا ہی تو ان کے بڑھاپے کا سہارا ہیں… اس لیے میں انہیں یہاں روکنا نہیں چاہتی‘ چند مہینے ان کے ساتھ بتالوں تو بہت خوب رہے گا‘ اپنے پاپا کو سمجھائیں کہ مجھے چند لاکھ حق مہر کے عوض انہوں نے خرید نہیں لیا۔‘‘
’’بات تو درست ہے‘ لیکن پاپا نہیں مانیں گے‘ وہ اپنی بہوئوں کو میکے بہت کم جانے دیتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ اگر لڑکیاں ہر وقت اپنا دھیان پیچھے رکھیں تو سسرال میں گزارا مشکل ہوجاتا ہے۔ میاں کی بھی نہ عزت رہتی ہے نہ قدر… کیونکہ والدین کی سپورٹ تو انہیں ایک کوڑی کا نہیں چھوڑتی۔ زری ان کا زندگی بھر کا تجربہ ہے اس لیے میں ان سے بحث مباحثہ نہیں کروں گا… تمہیں بھی ان کے اصولوں کے مطابق ہی چلنا پڑے گا ڈیئر۔‘‘
’’ہائے یہ باتیں تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائیں… یقین جانو کہ کبھی شادی نہ کرتی۔ یہ تو قید بامشقت کی علامتیں ہیں‘ حیدر مجھے سفوکیشن (گھٹن) ہونے لگی ہے۔‘‘ وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔
’’محبت وہ جو مشروط نہ ہو‘ تمہاری محبت شرائط میں مقید ہے تو اسے محبت کا نام دے کر اس کی انسلٹ مت کرو زری۔‘‘ وہ خفگی اور افسوس سے بولا۔
’’تم خفا ہوگئے میری معمولی سی بات پر اور میں ہوں کہ یہاں چھوٹے سے لے کر بڑے تک کی ہر نازیبا حرکت اور ہر غیر مناسب بات پر چپ رہ جاتی ہوں۔ خوب قدر دانی کی ہے آپ نے میری۔‘‘ وہ سسکیاں بھرنے لگی تو حیدر خاموش ہوگیا‘ وہ اس وقت اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ موبائل بند کرکے وہ اس کی باتوں سے نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔
خ…ز…خ
شادی کے تین سالوں میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دو بیٹوں سے نوازا تھا۔ جب کہ تین سالوں کے عرصے میں حیدر کا گھر آنا بہت کم رہا… اگر میس کا کمرہ شیئر کرنے کی اجازت ملی بھی تو اس نے زری کی معصومانہ حرکتوں کی وجہ سے مسترد کردیا۔ پاپا نے بھی حوصلہ افزائی نہ کی‘ معمولات زندگی میں زری نے اپنی جاب کو بھی خیرباد کہہ دیا تھا۔ اس کے والدین امریکہ بیٹے کے پاس جاچکے تھے… حیدر کی جاب ریکوائرمنٹس‘ اپنی جگہ پر قائم ودائم تھیں… ان کی زندگی میں بچوں کی وجہ سے مثبت تبدیلی تو آہی چکی تھی‘ حیدر بھی زری اور بچوں کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ رکھنے کا تمنائی تھا۔ میجر کے رینک پر گھر کا ملنا مشکل نہ تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ زری نہ تو گھر اور نہ ہی بچوں کی نگہداشت کرسکے گی‘ اس لیے باپ بیٹے نے اس کی ٹریننگ کے لیے سسرال میں قیام کرنے پر فوقیت دی اور راز راز ہی رہا تھا۔
’’اف ایک فوجی افسر کی زندگی ایسی غیر یقینی ہوتی ہے۔ کاش مجھے اس کا اندازہ ہوتا‘ اب تو تمہیں معمولی ہی سی رہائش گاہ تو ملنی چاہیے‘ عجیب ہی تماشا ہے تمہاری فوج۔‘‘ دل کے پھپھولے پھوڑنے کے بعد وہ حیدر سے بولی‘ محبت جب اندھی اور بہری ہوجاتی ہے تو پھر نہ کچھ نظر آتا ہے نہ ہی اپنے خیر خواہوں کی نصیحتیں سنائی دیتی ہیں۔
’’حیدر، کیا تمہیں مجھے حاصل کرنے کے بعد اونچی پرواز کا احساس تھا؟ میرے تو پائوں خوشی کے مارے زمین پر ٹک نہیں رہے تھے… مجھے اس کا علم تو ہوگیا تھا کہ شادی کے موقع پر میں تم سے زیادہ خوش تھی۔ یہ سچ ہے ناں… حیدر جی… آج اس کا اعتراف تو کرلو کہ تم سوچوں میں ڈوبے ہوئے کن الجبروں میں الجھے ہوئے تھے… آج سچ اگل دو کہ کوئی اور یاد آرہا تھا یا میری قربت کے حصول کا فسوں تھا… آج تک یہ معمہ حل نہیں کرسکی‘ یا اونچی اڑان کا خوف تھا کہ کہیں منہ کے بل نہ گر جائو۔‘‘
’’یار یہ تم نے کیسے سوچ لیا‘ تمہیں حاصل کرنے کے بعد مایوس واداس کیوں ہوں گا…؟ ہاں بہت سی سوچوں میں گھرا ہوا ضرور تھا۔ زری‘ میں جانتا تھا کہ تمہیں فوجی زندگی گلیمر لگ رہی تھی جو تمہارے لیے ایک امتحان اور میرے لیے ازدواجی زندگی بہت بڑی ذمہ داری ہے‘ لیکن تم اس سے نابلد تھیں‘ یہی خوف ہمیشہ سے میرے سنگ رہا‘ میری زندگی بے حد ٹف تھی‘ میں نے برف کے تودوں پر رات گزاری‘ اتنی شدید سردی کا تم اندازہ نہیں لگا سکتیں‘ سوئیٹر‘ کوٹ‘ دستانے‘ پہننے کے باوجود میں کپکپاتا رہتا تھا‘ ان علاقوں کے موسمی تقاضوں کا کیا بتائوں؟ تم کچھ سننا ہی نہیں چاہتی تھیں‘ تم مجھے ہر بار ایک ہی طعنہ دیتی رہیں کہ میں عیاشی کررہا ہوں‘ جیسے میں گرم دبیز لحاف میں گہری نیند سو رہا ہوں اور تم جاگ رہی ہو میری یاد میں… جانم فوجی کی زندگی کھیل تماشا نہیں‘ اس میں سہل پسندی اور آرام کا کوئی دخل نہیں ہوتا… مانا کہ تمہاری برہمی‘ غصہ اور ناراضی جائز تھی‘ لیکن مجھے تو اپنا حلف نبھانا تھا جو میں نے صدق دل سے اٹھایا تھا۔‘‘ وہ مستحکم لہجے میں بولا۔ ’’اس زندگی کو شیئر کرنے کی تم میں ہمت وحوصلہ نہیں۔‘‘
’’کیا میری عمر اسی گھر میں جٹھانیوں کی گھرکیوں میں گزر جائے گی۔ تم نے میرا تجزیہ صرف اس سے کیا کہ مجھے گھر کے کام نہیں آتے جبکہ یہ کام نوکروں کے کرنے کے ہیں… کوئی سمجھتا ہی نہیں‘ میں نے ڈاکٹر کی ڈگری لی ہے‘ خانساماں کی نہیں۔‘‘
’’اوہو… پھر رونا دھونا شروع… میری جان تم میری بیوی کے ناطے بہترین دوست اور خیرخواہ بھی ہو‘ اب کی بار اگر پنجاب میں پوسٹنگ نہ ہوئی تو فوج کو خیرباد کہہ دوں گا… اب تو خوش ہوجائو اور دعا کرو کہ نارتھ سے جان چھوٹ جائے۔‘‘ وہ خوشامدی لہجے میں بولا۔
’’فوج سے تو مجھے بے پناہ محبت ہے حیدر… تمہیں ایسی بیہودہ حرکت ہرگز نہیں کرنے دوں گی… وہ تو میں تمہیں تنگ کرنے کے لیے کبھی کبھار کہہ دیتی ہوں۔‘‘ وہ ایک دم سے کھل گئی۔
’’تو پھر اپنی ہر وقت کی ریں ریں کا کوئی علاج سوچوں میں گھر چند دنوں کی چھٹی ہنسی خوشی سے بتانے آتا ہوں‘ یہاں پل بھر کو چین نصیب نہیں ہوتا۔‘‘ اس نے اس کی انگارہ آنکھوں پر بھیگی پلکوں کو ہاتھ سے خشک کرتے ہوئے کہا۔
’’شوہر کو اتنا پیار دو‘ اس کی اتنی خدمت کرو کہ وہ بیوی کے بغیر ایک لمحہ بھی گزار نہ سکے… کیا ایک بیوی ہونے کے ناطے تم نے ایسا رول نبھایا… یہاں بھی نوکروں کے ہاتھ کے کھانے کھانے کو ملتے ہیں… بھابیاں ہی آگے پیچھے میرے کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں…‘‘ وہ پژمردگی سے بولا۔ وہ بے ساختہ بولی۔
’’تو پھر ایسے کرو نوکری کو لات مارو اور بھابیوں سے خوب خدمت کرائو۔‘‘
’’ایک بیوی کے کہنے پر اپنی بے شمار ماں‘ بہنوں کی امیدوں پر پانی پھیر دوں۔‘‘ اس نے ایک دم سے چونک کر ہاتھ اپنی طرف کھینچ لیا۔
’’اگر اپنا مقام سسرال میں بنانا چاہتی ہو تو ان سے ہر کام کی تربیت لو۔ سوری ٹو سے کہ تم نے تو اپنی تعلیم کو ہی ڈبو دیا ہے… اللہ کے واسطے یہ حجتیں کرنا چھوڑ دو… اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر لڑکی کے لیے ڈاکٹر کا رشتہ ہی مناسب رہتا ہے… دونوں ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں… ایک دوسرے کے مددگار ہوکر زندگی گزار جاتے ہیں… تمہاری پسند تمہیں دھوکا دے گئی۔‘‘
’’حیدر تم اپنی باتوں پر غور کرو کہ میری حماقت اور تمہاری طرف سے میری ذلت اور توہین… اگر یہ بچے نہ ہوتے تو تمہیں اس ذلت کا مزا اسی وقت چکھا دیتی…‘‘ وہ غصے سے دانت پیستے ہوئے بولی۔ ’’تمہیں بیوی نہیں ہر فن مولا ملازمہ چاہیے تھی۔‘‘
خ…ز…خ
’’یار میں نے ایسی کون سی بدتمیزی کر ڈالی کہ تم یوں سیخ پا ہوگئی ہو… بیوی اپنے شوہر کے لیے آسودگی اور راحت کا سامان ہوتی ہے‘ میں جونہی گھر میں قدم رکھتا ہوں‘ تم شکایتوں کے انبار لگا دیتی ہو‘ یہ ہے تمہاری محبت… مجھ پر نہ سہی ان معصوم فرشتوں پر ہی رحم کھائو‘ کیوں گھر خراب کرنے پر تل گئی ہو… غصہ تھوک دو‘ چلو اٹھو اچھا سا تیار ہوجائو‘ ڈنر کے لیے باہر چلتے ہیں…‘‘ وہ خوشامدانہ انداز میں اس کا سر سینے سے لگا کر بولا۔ ’’شاباش اچھی بیوی کی طرح فوراً تیار ہوجائو… چلتے ہیں باہر۔‘‘
’’ان دو بچوں کے ساتھ… یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
’’بھئی جہاں ہم وہاں ہمارے بچے… ان کے بغیر تو ہماری خوشی ہمارا سکون اور ہماری فیملی ہی ادھوری ہے ناں۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔ اس کی بات سن کر اس کے مزاج مبارک میں ہلکا سا سکون کوندا۔
’’بیگم میری مجبوری کا غصہ مجھ پر اتار لیا کرو‘ ان بچوں کو تو ہلکی سی چپت بھی ماری ناں تو وہ کوسوں دور بیٹھے ہوئے بھی میرے دل پر جالگے گی… خون سے نہا جائے گا یہ بدن‘ سوچ لو…‘‘ وہ عزیز کو بوسا دے کر بولا… ’’یہ بچے تو میری روح ہیں۔‘‘
’’آج ماما اور ڈیڈی یہاں ہوتے تو اپنی تنہائی‘ خاموشی اور اکیلا پن ان سے شیئر کرلیتی… بلکہ میں جاب ہی نہ چھوڑتی‘ صبح بچے ان کے حوالے کرتی اور واپسی پر لنچ کرتی اور اس جہنم میں آجاتی رات گزارنے کے لیے… اگر تم نہیں سمجھتے اس گھر کا ماحول‘ ان خونی رشتہ دارں کو‘ تو آئندہ تمام غصہ خود پر اتارلوں گی۔‘‘ وہ افسردگی سے بولی۔
’’اب تو جو ہونا تھا ہوگیا… خود کو اسی میں ایڈجسٹ کرو… معمولی سی فضول باتوں پر اس قدر شور مچانا گھر بھر کو حیران وپریشان کردیتا ہے‘ مجھے تو تعجب ہونے لگتا ہے کہ بات اتنی سیریس تو نہیں ہوتی… جس کا تم بتنگڑ بنا ڈالتی ہو۔‘‘ وہ زچ ہوکر بولا۔
’’حیدر تم کیوں نہیں سمجھتے‘ ان دو بچوں کو اکیلے پروان چڑھانا آسان نہیں… اب تو میرے اعصاب بھی جواب دینے لگے ہیں… دلی طور پر بے حد مایوس اور ذہنی طور پر خود کو لاوارث محسوس کرنے لگی ہوں… راتوں کی خاموشی اور تنہائی میں جب میری آنکھ کھلتی ہے تو بیڈ پر ہاتھ پھیر کر تمہیں محسوس کرنے کی ناکام کوشش سے خود کو مزید بے بس و بے ہمت کرلیتی ہوں۔ کاش ان اذیت دہ لمحوں میں تم میرے ساتھ ہوتے تو اس ہیجانی کیفیت سے اگلے لمحے باہر نکل آتی… مگر بدقسمتی سے پاپا کا بہت انفلوئینس ہے تم پر… ورنہ اس مسئلے کا حل تم ڈھونڈ ہی نکالتے…‘‘ وہ آنکھیں مسلتے ہوئے بولی۔
’’زری ان باتوں کو فل اسٹاپ لگائو… اٹھو اور فوراً تیار ہوجائو‘ عزیز اور موسیٰ کو میں تیار کرتا ہوں…‘‘ اس نے عزیز کو کھلونوں سے کھیلتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
’’آج عزیز کو بابا نہلائیں گے اور موسیٰ کو بھی۔‘‘ وہ محبت آگین لہجے میں بولا۔
’’مجھے ممی نہلائیں گی… بابا‘ آپ یہاں سے جائیں… آپ ہماری ممی کو رلاتے ہیں۔‘‘ عزیز کی زبان صاف تھی لیکن ڈیڑھ سالہ موسیٰ نے توتلی زبان میں ہی انکار کردیا۔ حیدر نے زری کی طرف حیران کن نظروں سے دیکھا اور کندھے اچکائے۔
’’اس سے تم نے کیا سبق سیکھا ہے حیدر۔‘‘ وہ رکھائی سے بولی۔
’’بہت خطرناک سبق سیکھا ہے۔ اپنی پوزیشن کا احساس ہوگیا ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں ہلکی سی جھنجلاہٹ آگئی۔
’’جب تم چھ مہینے بعد ان بچوں کو اپنی شکل مبارک دکھائو گے تو ان معصوم بچوں سے کیا توقع رکھ سکتے ہو کہ تمہیں اچھلتے کودتے ویلکم کہیں گے… موسیٰ کو تو کچھ یاد بھی نہیں ہوگا‘ کہ تم اس کے باپ ہو‘ ایک اجنبی شخص کے ساتھ دوستی ہو بھی جائے تو بے حد وقتی اور سطحی ہوتی ہے۔‘‘ وہ تاسف بھرے لہجے میں بولی۔
’’زری پلیز، دل جلانے والی باتیں مت کرو…‘‘ وہ خفگی سے بولا… ’’میں چند دنوں کے لیے تمہاری قربت کے حصول کے لیے آتا ہوں‘ وہ بھی قیل وقال میں ہی گزر جاتے ہیں اب سمجھ میں آیا کہ میرے کولیگز چھٹیوں کے باوجود گھر کا رخ کیوں نہیں کرتے؟ ایسے بھی ہیں جو انگلیوں پر دن گنتے ہیں‘ اگر ایک تعلیم یافتہ خاندان کی پڑھی لکھی عورت روایتی بیوی کا کردار ادا کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے تو میں کسی اور سے کسی قسم کی توقع نہیں رکھ سکتا… اس گھر میں پانچ خواتین ہائیلی ایجوکیٹڈ ہیں لیکن ان کی ایجوکیشن فقط ڈگریوں تک محدود ہے… میرا تجربہ ہے کہ فوجی کو شادی کرنے کا کوئی حق نہیں‘ وہ وطن کی دھرتی کی حفاظت وسلامتی کے لیے پیدا کیا جاتا ہے‘ اسے اپنا حلف نبھانے کے لیے دنیا کے ان بکھیڑوںسے دور ہی رہنا چاہیے…‘‘ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
’’حیدر اب تو تم سے غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ پچھتاوے کا کیا فائدہ؟ دو حلف نبھانے کی کوشش کرتے جائو ممکن ہے تمہیں کامیابی نصیب ہو کیونکہ دونوں حلف ایک دوسرے کی ہمراہی میں چلتے ہیں۔ مجھے یہ احساس ستانے لگا ہے کہ عورت زمین سے آسمان تک پہنچا سکتی ہے اور آسمان سے مٹی ک اذرہ بھی بن اسکتی ہے۔‘‘
’’تمہاری جیسی عورت تو دین کے قابل چھوڑتی ہے نہ دنیا کے‘ میرے ساتھ تو یہ ٹریجڈی ہوئی اور تم بھی اس کا شکار ہوگئیں‘ جبکہ میں سمجھتا تھا کہ تم میری بے مثال ساتھی ثابت ہوگی… اب تو میں تم سے ناامید ہوگیا ہوں… تم کسی قسم کی آزمائش میں کسی کا بھی ساتھ دینے کے قابل نہیں ہو۔‘‘ وہ حسرت و یاس سے بولا۔
’’حیدر میں بھی تم سے کسی قسم کی امید نہیں رکھ سکتی… تم سچ کہتے ہو کہ میں لاابالی اور جذباتی عورت ہوں‘ آج میں جس حال میں ہوں‘ یہ اسی فطرت کا نتیجہ ہے‘ اچھی بھلی تھی کہ تم پر مرمٹی‘ کاش میں نوریہ کی نصیحت ہی مان لیتی… اب تو مجھے یہ بھی گمان ہونے لگا ہے کہ میرے والدین کو بیٹے کے پاس جانے کی جلدی تھی… مجھے سر سے اتارنے میں ہی انہیں عافیت نظر آرہی تھی… انہوں نے بھی اپنی جان چھڑائی اور تمہارے سر منڈھ دیا…‘‘ وہ آنسو بہاتے ہوئے بولی۔
’’تم کسی طرح مجھے امریکہ بھیج دو تاکہ دو چار مہینے میری زندگی کے بھی یادگار ثابت ہوسکیں۔‘‘
’’زرناب بیگم… تم ذہنی طور پر ایک بیمار عورت ہو… تمہارے ہیجان انگیز اعصاب اسی کی نشاندہی کرتے ہیں… تمہیں سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے… کیونکہ جس ماں کی گود دو بچوں سے بھری ہو… وہ خود کو تنہا محسوس کرے‘ جس کا شوہر اس پر فریفتہ ہو وہ خود کو لاوارث سمجھے… اور جس کا سسر اور جیٹھ اس کاخیال رکھیں‘ وہ خود کو مظلوم سمجھے تو اسے بیماری نہیں تو صحت یابی سمجھوں…؟‘‘ وہ اضطراری لہجے میں بولا۔
’’حیدر، میں جانتی ہوں کہ اب تم مجھے خاندان بھر میں پاگل ظاہر کرکے ذلیل وخوار کرنا چاہتے ہو… ذرا غور کرو کہ اس کا ذمہ دار کون ہے… تمہاری غیر موجودگی نے میری خوشیوں اور راحتوں کو نگل لیا… اتنا سا ہی اعتراف کرلو کہ تم نے ہی مجھے پاگل بنادیا۔‘‘ وہ بے بسی سے بولی۔
’’اس کا سدباب تو ہونا چاہیے…‘‘ وہ سوچتے ہوئے بولا۔
’’حیدر… مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ تم گولی چلانے کے علاوہ کچھ اور ڈھنگ کا کام کرنے کے قابل نہیں ہو…‘‘ وہ غصے میں بولی۔ ’’بیوی بچوں کی ذمہ داری اٹھانا تو ہے ہی ناممکن…‘‘
’’تم درست کہہ رہی ہو… میں اعتراف کرتا ہوں‘ فیصلہ کرنے کا تمہیں بھی اختیار ہے اور مجھے بھی…‘‘ وہ بھی غیظ وغضب میں بولا۔
’’اس کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں‘ آخر ہم دونوں بااختیار ہیں۔‘‘
’’کیسا فیصلہ؟‘‘ وہ انجان بن کر حیرت سے بولی۔
’’اگر تم مجھ سے رشتہ توڑنا چاہتی ہو تو مجھے بلاتکلف بتا دو۔‘‘ وہ اسی غصیلے لہجے میں بولا۔ ’’کیونکہ میاں بیوی کے لڑائی جھگڑے سے پاک رہے یہ گھر… میں ان لڑائیوں کا عادی نہیں ہو۔‘‘
’’استغفار… یہ کیسی بیہودہ بات کی ہے تم نے… ہم دونوں خیالات کا اظہار کرتے ہیں… تم نے گفتگو کو لڑائی جھگڑے کا نام دے دیا۔ ویری سیڈ نیوز…‘‘ وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر بے اختیار بولی۔
’’تمہیں میری محبت پر یقین ہے کہ نہیں…‘‘ وہ خود پر قابو پاتے ہوئے بولا۔
’’ہے، سو فیصدی ہے… اگر یقین نہ ہوتا تو آج یہاں تمہاری موجودگی کے بغیر ایک لمحہ بھی نہ رہ پاتی… یہاں کیوں ذلیل ہورہی ہوں… اچھے بھلے دنوں کی امید وانتظار میں یہاں سڑ رہی ہوں۔‘‘ وہ بھی اپنے غصے پر قابو پاکر بولی۔
’’تو پھر یہ جاہل بیویوں والی لڑائی چھوڑ دو… ورنہ میں گھر آنا ہی چھوڑ دوں گا اور کان کھول کر سنو کہ کل سے عورت کی خوبیوں کو نفرت وحقارت سے دیکھنا چھوڑ دو…‘‘ وہ نرمی سے بولا۔
’’مجھے دھمکیاں مت دو حیدر… میں بچوں کو دادا کے سر پر تھوپ کر یہاں سے فرار ہوجائوں گی… تم ڈھونڈتے رہ جائو گے۔‘‘ وہ ذرا سا دھیمے لہجے میں دھمکی دیتے ہوئے بولی۔
’’یہ تمہاری خوش فہمی ہے‘ بھلا فرار ہونے والی بیوی کو شوہر کیونکر ڈھونڈے گا… ہاں اسے طلاق دینے کے لیے اس کا سراغ لگانے کی کوشش ضرور کرے گا… اس لیے ایسی غلطی کبھی خواب میں بھی نہ کرنا…‘‘ وہ بھی ہنستے ہوئے بولا۔
’’حیدر تم تو ہتھے سے ہی اکھڑ جاتے ہو… تم نے مجھے ماما کو تمام حالات بتانے پر مجبور کردیا ہے۔ ابھی تمہارے سامنے ہی ان حالات کا ذکر کرتی ہوں… ایک لفظ کا بھی ہیر پھیر نہیں ہوگا…‘‘ وہ ہلکی سی آواز میں بولی۔
’’انہیں میں بھی تمہارا ناقابل برداشت رویہ بتا کر اپنا فیصلہ بھی ان کے گوش گزار دوں گا… پھر کیا کرو گی؟ یقین جانو وہ تمہیں جھوٹا اور غلط ثابت کریں گی کیونکہ عورتیں تم جیسی پھوہڑ اور بیکار نہیں ہوتیں ورنہ گھر جنت کا گہوارہ بننے کے بجائے دوزخ بن جاتا…‘‘
’’حیدر… دھمکیاں‘ تڑیاں اور جان لیوا طعنے… یہ بری عورتوں کی عادات تم میں کیسے سرائیت کر گئی ہیں۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’آہا… تمہاری رفاقت میں کچھ عرصہ اور گزار لیا تو مکمل طور پر زبان سے عورتوں کی گفتگو پھوٹے گی… اللہ کے لیے مجھے ایک نارمل مرد ہی رہنے دو… اف اللہ بچائے اس مخلوق سے‘ کہنے کو بہت مظلوم بنتی ہے‘ ذرا سا کریدو تو چنگاریاں بھری ہوئی ہیں اس میں۔‘‘ وہ ہلکا سا قہقہہ لگا کرصلح جوئی کی طرف آگیا۔
’’یار اب یہ تو تو میں میں چھوڑو بھی… سرتاج کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہوں کہ تم بے مثال وبرتر… میں ہر لحاظ سے کمتر…‘‘ وہ بھی صلح وپیار سے بولی۔
’’مابدولت نے تمہیں معاف کیا۔‘‘
’’شکر ہے کہ بالآخر تم نے ایک بہت بڑی حقیقت کو مان ہی لیا… اب لڑائی ہوئی ختم اور جلدی سے تیار ہوجائو…‘‘ وہ بیڈ سے اٹھ گیا۔
’’حیدر یہ معمہ میں آج تک حل نہیں کرسکی کہ تم مجھے موم کی گڑیا سمجھتے ہو کہ جب چاہا اپنی خواہش کے مطابق موڑ توڑ لیا۔‘‘ وہ بھی بیڈ سے نیچے اتر آئی۔
’’بیوی وہی بھلی جو ہو موم کی گڑیا…‘‘ وہ قہقہہ لگا کر بولا۔
’’شوہر وہی اچھا جو ہو جورو کا غلام…‘‘ وہ بھی خوشدلانہ لہجے میں بولی۔
’’عزیز… بابا اپنے بیٹے کو چاکلیٹ دلائیں گے ڈھیر سارے… جلدی سے بابا سے تیار ہوجائو…‘‘ وہ عزیز کو بوسہ دے کر بولی اور موسیٰ کو اٹھا کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
’’بیچاری ڈاکٹر زرناب ایک فوجی کے ہتھے چڑھ گئی… جسے محبت کرنی نہ آئی… جب یہ الفاظ میری زبان پر آتا ہے تو زبان تھرتھرانے لگتی ہے تو وہ میری محبت پر یقین کیونکر کرے گی…‘‘ وہ خود کلامی کرتا ہوا عزیز کو اٹھا کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔ عزیز چاکلیٹ کے لالچ میں حیدر کی طرف مانوسیت واپنائیت سے دیکھنے لگا۔
’’بدمعاش کہیںکا‘ تجھے دنیا کی سمجھ ابھی سے ہی آگئی ہے۔‘‘ حیدر محظوظ ہوتے ہوئے بولا۔ ’’کچھ کرنا ہی پڑے گا ان بچوں کی خاطر۔‘‘
خ…ز…خ
’’یار، سمجھ گیا ہوں اب ایک ہی بات کو بار بار دہراناچھوڑ دو۔‘‘ حیدر نے اپنے کولیگ راشد خان سے تمسخرانہ لہجے میں کہا۔
’’اگر تم نے ایک لفظ کا بھی ہیر پھیر کیا ناں تو بھابی فوراً تمہاری چالاکی کی تہ تک پہنچ جائیں گی… میں نے تو اپنا الو اسی گفتگو سے سیدھا کیا تھا لیکن یہ مت بھولو کہ تمہاری بیگم ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں… ممکن ہے کہ تمہارا وار خالی جائے…‘‘ راشد نے حیدر کو تلقین کرتے ہوئے کہا۔
’’تمہارے ساتھ رہے گی تو سب کچھ دھیرے سے سیکھ جائے گی‘ سزا اس کے گناہ سے بہت بڑی ہے یار۔‘‘
’’ارے عورتیں ایک ہی مزاج کی ہوتی ہیں… زیادہ فرق نہیں ہوتا ان میں… میں نے اپنے گھر میں پانچ خواتین کو دیکھا بھی ہے اور پرکھا بھی خوب ہے… اور پھر اپنی امی کی آغوش میں پروان بھی چڑھا ہوں۔ کچھ خاص فرق نہیں پایا۔ بڑی دوبھابیاں کالج میں لیکچرار تھیں… ایک بھابی سیل فون کمپنی میں منیجر اور چوتھی پڑھی لکھی سلیقہ شعار… گھریلو خاتون ہیں اور میری بیگم ڈاکٹر صاحبہ… سب کی جبلت ایک جیسی‘ سب کے مزاج‘ ڈیمانڈز میں انیس بیس کا فرق سمجھو… لگتا ہے یہ ازدواجی زندگی بھی ایک آزمائش کبیرہ ہے… جو اس میں سے ایک بار گزر گیا… جنت کی حوریں اس پر حلال کردی گئیں…‘‘ وہ حجت آمیز لہجے میں بولا تو راشد خان نے طویل قہقہہ لگایا۔
’’جو چار بار گزر گیا تو پھر اس دنیا میں ہی حوروں کی بھر مار ہوگئی۔ یار اب سمجھا ہوں کہ… یہ ایسی منحوس ہستیاں ہیں کہ مرنے کے بعد بھی بھوت‘ چڑیل اور نجانے کن شکلوں میں شوہر کی جان نہیں چھوڑتیں… شادی تو عذاب جان ہی بن گئی ہے۔ تم چار کی بات کرتے ہو۔‘‘
’’ان جن بھوت پریت سے نہ زندگی میں گلو خلاصی ملی نہ مرنے کے بعد ایسا معجزہ ہوگا…‘‘ حیدر نے زچ ہو کر کہا۔
’’فی الحال ہماری بھابی کی خواہش پوری کرنے کی فکر کرو… میں نے جو سبق رٹایا ہے ناں… اسے بھولنا نہیں۔‘‘ راشد خان نے پھر سے سمجھانا شروع کردیا… ’’بولو کہ تم ان سے کیا کہو گے؟‘‘
’’کوشش رائیگاں ہی جائے گی یار… تمہاری بھابی کیا شے ہے تم نہیں جانتے… میرا خیال ہے تم سے ملوانا ہی پڑے گا… وہ یوں باتوں سے قابو میں آنے والی نہیں… حاضر جواب ایسی ہے کہ چند جملوں کے بعد دوسرے کی تو بولتی بند ہوجاتی ہے…‘‘ وہ آہ بھرتے ہوئے بولا۔
’’اوکے… اس سے تم نے ایک ہی جملہ کہنا ہے کہ میں نوکری چھوڑ رہا ہوں… تم نوکری پکڑلو… میں گھر داری اور بچوں کی پرداخت کے طریقے سیکھ لوں گا… گھر میں مہارانی بن کر بقیہ زندگی گزاروں گا۔ تم میری تمام ذمے داریاں نبھانے کے لیے مناسب ہو… مجھ سے بہتر ثابت ہوگی…‘‘ راشد خان نے پھر سے تمام جملے سمجھائے۔
’’تم اسے نہیں جانتے راشد… اس سے ملنے کے لیے تیار ہوجائو…‘‘ وہ ذرا سا مسکرایا۔
’’زہے نصیب۔‘‘ راشد نے سر جھکا کر کہا تو حیدر نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔
خ…ز…خ
مہینے کے اوائل دنوں میں وہ ہمیشہ کی طرح اداس اور مایوس نظر آرہی تھی۔ حیدر کو یہاں سے رخصت ہوئی ہفتہ ہی تو ہوا تھا۔ یہ سوچ کر اس نے جس طرف نظر دوڑائی وہی سوگوار ماحول لگا۔ اسی شش وپنج میں مبتلا وہ بچوں کو تیار کرکے اپنے کمرے سے نکل کر لائونج میں صوفے پر منہ پھلائے بیٹھ گئی… جٹھانیاں حسب معمول ناشتے میں خوشدلی سے مصروف تھیں… بڑی جٹھانی نے اس کی طرف خالی نظروں سے دیکھا اور چائے پکاتے ہوئے بولی۔
’’زرناب… مزاج شریف کیسے ہیں؟ ملازم سے ناشتہ کے لیے بول دو‘ پراٹھا کھائو گی کہ ٹوسٹ…‘‘ زرناب نے جواب دینے کے بجائے عزیز سے ناشتے کا پوچھا۔
’’عزیز تم کیا کھائو گے… فوراً بتائو۔‘‘
’’مما میں چاکلیٹ کھائوں گا… مجھے پراٹھا نہیں کھانا… دودھ بھی برا لگتا ہے۔ پیٹ میں اوئی ہوجاتی ہے۔‘‘
’’پہلے ناشتہ کرو ذرا جلدی سے‘ اسکول سے دیر ہورہی ہے۔ میں جب تمہیں اسکول سے پک کرنے آئوں گی تو اپنے چاند کے لیے چاکلیٹ خرید کر لیتی آئوں گی… فی الحال ناشتہ کرو…‘‘ وہ تیزی سے بولی۔ ’’اگر تم نے ناشتہ کرنے سے انکار کیا تو خفا بھی ہوجائوں گی… چاکلیٹ بھی نہیں لائوں گی۔‘‘
’’زرناب عزیز کو چاکلیٹ دینا بند کرو… اس کے دانتوں کی حالت دیکھو تین سال کی عمر میں بھربھری مٹی بن گئے ہیں۔‘‘ جٹھانی نے بھنویں چڑھا کر کہا۔
’’ماں بچوں کو ان کی پسند کا ناشتہ اپنے ہاتھ سے بنا کر کھلائے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ انکار کریں۔‘‘
’’بھابی، میرے معاملات میں بولنے اور مشورے دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے کام سے مطلب رکھیں… میرے بچے شکر پر گزارہ کریں یا آٹے پر… آپ کو اس سے کیا؟ اگر میری ساس زندہ ہوتی تو وہ ایک ہوتی… یہاں چار ساسیں میری جان کو آگئی ہیں… یہ نہ کرو‘ وہ نہ کرو… آپ سب کو میں جاہل دکھتی ہوں ناں… اسی خوش فہمی میں رہیے… اس بار حیدر سے دو ٹوک فیصلہ نہ کیا تو میرا نام بھی زرناب نہیں…‘‘ وہ تڑاخ کر بولی۔ بات کرتے ہوئے غصے سے کانپ بھی رہی تھی… جٹھانی نے فوراً پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
’’غصہ تھوک دو‘ حیدر کو گئے ہفتہ ہی تو ہوا ہے‘ خوامخواہ پانچ ساڑھے پانچ مہینے دل جلانے کا کیا فائدہ؟ جب وہ آئے گا تو اپنا فیصلہ سنا دینا…‘‘ وہ تمسخرانہ انداز میں بولی۔ یہ مشورہ پسند آیا۔
’’بھابی آپ تینوں قسمت کی دھنی خواتین ہیں‘ میں بھی اس گھر کی سب سے چھوٹی بہو ہوں… یہاں عجیب ہی حسرت زدہ قسمت لے کر آئی ہوں کہ اگر میں پانچ سالہ شادی کے عرصے میں سے حیدر کے ساتھ گزری ہوئی مدت کا حساب کروں تو ایک سال بھی نہیں بنتا اور آپ سب صبح دوپہر شام رات اپنے شوہر کی ہمراہی میں خوش وخرم زندگی گزار رہی ہیں۔ مجھے شادی کرکے کیا ملا؟‘‘ وہ عزیز کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی۔
’’پگلی… یہ دو بچے ملے اور عورت کو کیا چاہیے؟‘‘ جٹھانی نے دانت نکالتے ہوئے چھیڑا۔
’’تم لوگ کیا جانو کہ شوہر کی غیر موجودگی میں بچوں کو پروان چڑھانا کتنا مشکل ہوتا ہے… ان کے لیے باپ بننا پڑتا ہے اور دل گردہ اتنا بڑا کرکے سسرال کی ناجائز اور غیر مناسب باتوں سے درگزر کرنا پڑتا ہے۔ بھابی! اب میں یہاں سفوکشن محسوس کرنے لگی ہوں کیونکہ یہاں پانچ سال گزارنے کے باوجود تم لوگوں کو اپنا نہ سکی… تو یہ گھر میرا کیسے ہوا؟‘‘ وہ موسیٰ کو گود سے اتارتے ہوئے بولی۔
’’زرناب… ہم تمہاری ذہنی حالت پر بہت افسوس کرتی ہیں‘ تم اس معاملے میں سو فیصدی درست کہتی ہو لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حیدر کی جدائی اور دوری میں پاگل ہوجائو… ان بچوں کی طرف دیکھو، یہ ماں کے بغیر ایک گھنٹہ بھی نہیں گزار سکتے… اگر تم بیمار پڑ گئیں تو ان کی نگہداشت کون کرے گا؟‘‘
’’بھابی! میں بہت ڈھیٹ ہوں‘ آج تک تو بیمار ہوئی نہیں… سب مل کر دعا کریں کہ میں ہسپتال ایڈمٹ ہوجائوں‘ اس اولاد کی خاطر حیدر کو چھٹی مل جائے گی اور وطن کی محبت کا نشہ بھی ہرن ہوجائے گا… مجھے حیدر کے رویے اور سلوک پر بہت حیرت و افسوس ہوتا ہے‘ اپنے چاروں بھائیوں سے ہی دوسرا مزاج ہے۔ اب تو مجھے یقین ہو چلا ہے کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنا ہی نہیں چاہتا… جو شخص اپنی بیوی اور بچوں کی ذمہ داری اٹھانے سے کتراتا ہو‘ وہ اپنے ملک کے لیے بہترین سپاہی ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا… فوج بھی اس سے دھوکا کھا گئی…‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’زرناب، ہمیں تمہاری پریشانی کا اندازہ ہے… لیکن حیدر کی مجبوری بھی ہمیں نظر آتی ہے… اس بار پاپا سے کہہ رہا تھا کہ اب وہ نارتھ سے واپس آنے والا ہے اور تمہیں اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ہمیں بھی حیرت ہے کہ اسے کس وقت کا انتظار ہے… میجر کو گھر تو مل ہی جاتا ہے۔‘‘
’’یہ بکواس سنتے ہوئے مجھے پانچ سال ہوگئے… آئی ایم سوری بھابی‘ غصے سے منہ سے نکل گیا آخر حد ہوتی ہے ناں‘ اب تو نئی نسل کے لیے وصیت چھوڑ جائوں گی کہ اگر کسی فوجی سے محبت کرنے کی بیماری لاحق ہوگئی ہے تو بھول کر بھی کیپٹن سے شادی کرنے کی غلطی مت کرنا… بریگیڈیئر چاہے بچوں والا رنڈوا کیوں نہ ہو؟ وہ قدردان ثابت ہوتا ہے‘ فوری طور پر گھر بھی مل جاتا ہے‘ بمعہ ملازموں کے۔ اس سے پہلے تو بیوی لاوارث اور دوسروں کی مرہون منت ہی رہتی ہے… میری مثال سب کے سامنے ہے۔‘‘ وہ آزردگی اور پچھتاوے بھرے لہجے میں بولی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی لائونج کی کھڑکی کے پاس آکھڑی ہوئی۔
صبح کا وقت بے حد خوش گوار تھا اور کھڑکی سے ہلکی ہلکی خنکی بھی اسے چھو رہی تھی… مالی لان میں پانی بکھیر رہا تھا‘ خاکروب ڈرائیووے پانی سے دھو رہا تھا‘ وہ بڑبڑائی۔
’’سب بے کار اور فضول ہے‘ یہ زندگی یہ دنیا اور اس کے باسی سب کے سب دھوکے باز اور منافق ہیں…‘‘ چھوٹی جٹھانی اس کی اندرونی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے عزیز اور موسیٰ کو پیار سے کرسیوں پر بٹھانے میں کامیاب ہوگئی… عزیز نے تو ٹوسٹ کھانا شروع کردیا تھا لیکن موسیٰ اپنی ڈائننگ چیئر پر بیٹھا ہی ماں کو بلانے لگا تو زرناب چونک کر بچوں کے قریب پہنچ گئی… لائونج میں جٹھانیوں اور بچوں کی موجودگی میں ناشتہ کرنے کے باوجود اسے احساس تنہائی ستاتا رہا۔ یہ احساسات ہی تو ہوتے ہیں جو چہرے کی کیفیات پر مہر ثبت کردیتے ہیں۔ اور انسان کبھی خود کو خوش بخت تو کبھی منحوس گرداننے لگتا ہے۔
سسر جی صوفے پر بیٹھے ناشتہ تناول فرمانے لگے… جیٹھ بھی تیار ہوکر باری باری کمروں سے نکل کر میز کے اردگرد بیٹھ گئے۔ اسے ایسے لگا جیسے یہاں ایک محفل جم چکی ہے اور وہ اس محفل کا حصہ ہرگز نہیں… اسے خود پر بے پناہ غصہ آنے لگا… اس کا دل تڑپ کر سسکا اور مظلومیت کے احساس تلے دب گیا… اس نے قابل رحم نظروں سے سب کا جائزہ لیا کہ شاید کوئی ہمدردی کے چند بول کہہ کر مجھے اس باطنی تنہائی سے چھٹکارا دلاسکے… اسے مظلوم تصور کرتے ہوئے عزیز کو اسکول چھوڑنے کی حامی بھرلے لیکن کسی نے اس کے دل کی خواہش کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی… وہ ناشتہ کیے بغیر وہاں سے اٹھی… دونوں بچوں کو کرسیوں سے اتار کر عزیز کا لنچ بکس خانساماں سے لیا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر دروازے سے باہر نکل گئی۔ کسی کو میرے کھانے اور آرام کی پرواہ کیونکر ہوگی… جیٹھ بھائی کے بچوں کی ذمہ داری کیونکر اٹھائیں گے… جبکہ اسکول ان کے رستے میں پڑتا ہے… وہ خود کلامی کرتی ہوئی واپس پلٹی اور سسر سے گویا ہوئی۔
’’پاپا! موسیٰ کو آپ اپنے ساتھ بٹھا لیجیے… آج اس کا موڈ بہت بگڑا ہوا ہے… رستے بھر چیختا چلاتا‘ روتا پیٹتا رہے گا… میں آپ کو سچ بتارہی ہوں‘ ایسی حالت میں کئی بار ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ پاپا میرا نروس بریک ڈائون ہوجائے گا… تو کون پالے گا ان بچوں کو‘ ان کے باپ کو تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے حد درجے غیر ذمہ دار…‘‘
’’بیٹا… فوجی کی بیوی کو ہمت وجرأت سے حالات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے‘ بیچارا مجبور ہے ورنہ تمہیں ہمارے پاس ہرگز نہ چھوڑتا‘ چندا تم یوں سمجھو کہ یہ تمہاری ٹریننگ کا اہم ترین وقت ہے‘ بیٹا یہ جو شادی کا بندھن ہوتا ہے ناں بہت نازک اور کمزور بھی ہے اور فولاد کی طرح مضبوط بھی ہوتا ہے‘ عورت کے اختیار میں ہوتا ہے کہ اسے توڑ دے یا جوڑے رکھے… تم نے جس دن یکجہتی کا امتحان پاس کرلیا‘ حیدر تمہیں اپنے ساتھ لے جائے گا… چاہے اسے اپنے میس کے کمرے میں ہی کیوں نہ رکھنا پڑے…‘‘ وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔
’’کیا یہ شرط حیدر کی طرف سے ہے یا آپ کی طرف سے۔‘‘ وہ چونکی اور ان کے اور قریب ہوگئی۔ عزیز مسلسل ہارن بجا رہا تھا‘ موسیٰ اس کے سینے سے چمٹا ہوا تھا۔
’’شرط نہیں… وقت کی ضرورت سمجھو… ہم تعلیم کی طرف سے تو بالکل بے فکر ہیں تم اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر بچوں کی پرداخت بہت خوب کرسکتی ہو… لیکن ٹف نہیں ہو… چھوئی موئی کی طرح کچھ برداشت کرنے کی تم میں ہمت ہی نہیں… اپنی بھابیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے بچوں کی پک اینڈ ڈراپ کے ساتھ انہیں ٹیوٹر کا محتاج بنانا مناسب نہیں سمجھا‘ قرآن تک انہیں خود پڑھاتی ہیں… ملازموں سے سلیقے طریقے سے کام لینا‘ ایک بہت بڑا آرٹ ہے جس سے تم نابلد ہو‘ بیٹا… ان سے گھر داری‘ بچوں کی تربیت‘ آنے جانے والے مہمانوں کی تواضع اور اپنے اس پاپا کی نگہداشت کرنا سیکھ لو یہ بتائو کہ ایک کورے کاغذ کی طرح تم اپنے اس گھر رخصت ہوگئیں تو وہاں کیسے سروائیو کروگی۔ گھر کو جنت بنانے میں عورت کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ملازموں اور ان خدمت گاروں سے یہ توقع رکھنا سراسر نادانی اور بے وقوفی ہے۔ میں نے بہوئوں کو جاب کرنے سے کیوں روکے رکھا؟ اور تمہیں جاب کی اجازت کیوں دی؟‘‘ انہوں نے محبت ونرمی سے سوال کیا۔
’’پاپا، میں یہ معمہ حل نہیں کرسکی۔‘‘ وہ حیرت زدہ تھی‘ کیونکہ اس سے پہلے اس گھر میں ایسی باتیں صرف حیدر ہی کیا کرتا تھا۔
’’کیونکہ بیٹا، وہ میری ہر بات اور مشورے کو اہمیت دیا کرتی تھیں‘ جب تھک کر گھر پہنچتی تھیں تو انہیں نہ میاں کا ہوش ہوتا تھا کہ ان کی زندگی اپنی بیویوں کی توجہ کے بغیر کیسے گزر رہی ہے؟ اپنی خبر کیسے ہوتی؟ جاب اور گھر اور شوہر کی ذمہ داری اٹھانے کا ان کے پاس وقت ہوتا تھا نہ ہمت۔ مرد ایک جاب سے اکتا جاتا ہے‘ تو عورت بیسیوں قسم کی نوکریاں کیسے نبھاسکتی ہے بیچاری؟ بدقسمتی سے نہ ہی وہ خاندان میں مکس اپ ہوپاتی تھیں۔ اگر میری بیگم زندہ ہوتیں تو وہ دنیا داری کے تمام اصول خوب نبھا لیتیں… کیا لاجواب خاتون تھیں‘ باہر کی نوکری کے علاوہ ہر نوکری میں بے مثال تھی‘ اس گھر کو عورت کی اشد ضرورت تھی اس لیے تمہاری بھابیوں نے اس ضرورت کو اہم سمجھا اور نوکری کو اللہ حافظ کہہ کر میرا مان رکھ لیا۔ ذرا غور کرو کہ کیسے سب کی سب خوشی خوشی اپنے اپنے کردار نبھانے لگیں… ذرا ان سے دریافت کرو کہ انہیں کبھی پچھتاوا ہوا ہے نوکریاں چھوڑنے کا؟‘‘ وہ اکتائی صورت بنائے ان کی باتیں سن رہی تھی۔
’’میں تمہیں طبعاً جانتا تھا کہ تم ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے میری ایک نہ سنتیں‘ یہ تمہاری مجبوری سمجھوں کہ شوق کہ میڈیکل فیلڈ میں ڈاکٹر کو ہر وقت اپ ٹو ڈیٹ رہنا پڑتا ہے‘ ورنہ اس کی بنیادی تعلیم کا کسی کو فائدہ پہنچنے کے بجائے سراسر گھاٹا ہی ہوگا‘ کسی کی جان جانے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے‘ نمبر دو کہ تمہارا شوہر تم سے دور تھا‘ تمہارا دل بہلانا بھی مقصود تھا۔ جب میرا پوتا تشریف لایا تو تم نے اپنی مرضی سے جاب کو الوداع کہہ دیا… کیونکہ تم ماں تو بہترین ہونا۔‘‘
’’کیا بیوی اور بہو اچھی نہیں ہوں؟‘‘ وہ بے اختیار پوچھ گئی۔ ’’آج یہ فیصلہ بھی سنا ہی دیجیے پاپا۔‘‘
’’بیوی کیسی ہو یہ تو حیدر ہی جانتا ہے۔ بہو کے رشتے میں گزارہ ہی سمجھو… اپنے جیٹھوں کی بھابی تو ہو مگر بے تحاشہ تکلف اور بناوٹ سے بھرپور رویے والی۔‘‘ وہ قہقہہ لگا کر بولے۔
’’آپ مذاق کررہے ہیں ناں؟‘‘ وہ بھی ہنسنے لگی۔
’’یوں ہی سمجھو‘ آدھا سچ آدھا جھوٹ۔‘‘ وہ شگفتگی سے بولے۔
’’پاپا آپ حیدر کو سمجھائیں ناں کہ جب میرا اپنا گھر ہوگا۔ اپنی چھت کے نیچے ہم دونوں اپنے بچے پروان چڑھائیں گے تب یہ مکمل انسان بنیں گے‘ ورنہ یہ ہمارا‘ ناقابل برداشت بوجھ تو ہوں گے ہی‘ فکر اس بات کی ہے کہ معاشرے کو یہ کیا دے سکتے ہیں؟ سوائے مسائل کے۔ آپ میری بات پر یقین کیجیے کہ اب تو حیدر کی یاد کی میں نے فاتحہ خوانی بھی کردی ہے‘ مجھے فکر ہے تو ان بچوں کے فیوچر کی… جو باپ کے بغیر پل رہے ہیں۔‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
’’تم نے بات تو پتے کی ہی کی ہے… اس بار اسے آنے دو پھر دیکھو بیٹا، تمہیں اس کے ساتھ رخصت کرکے ہی سکھ کا سانس لوں گا۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولے۔
’’سچ پاپا… کاش آپ پہلے ہی یہ کارخیر کردیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔‘‘ وہ ایک دم سے پُرامید نظر آنے لگی۔
’’بیٹا ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے‘ میرا خیال ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم اپنے شوہر کے سنگ زندگی گزارو… بچوں کو اس عمر میں باپ کی شفقت کی بے تحاشا ضرورت ہوتی ہے… سوری کہ میں انہیں زیادہ وقت دینے سے قاصر رہا‘ بڑھاپا بھی عجیب ہی لعنت ہے کہ اچھا بھلا دلیر، شیر سے گیدڑ بن جاتا ہے‘ میں دوسری بہوئوں اور بیٹوں سے ہمیشہ ہی خوف زدہ رہا کہ کہیں مائنڈ نہ کر جائیں کہ حیدر کی اولاد، دادا کو ہمارے بچوں سے بڑھ کر پیاری ہے‘ میری مجبوری سمجھو بیٹا کہ ان کو اپنے قریب نہ لاسکا… گھر میں امن وسکون کا خواہاں نہ ہوتا تو بہت کچھ کر گزرتا۔ بیٹا غور سے سننا… آج تمہیں ایک راز کی بات بتائوں… تمہیں سن کر شاک تو لگے گا لیکن اب یہ انکشاف کرنا میرا فرض ہے کیونکہ تم نے ابھی تک انڈا فرائی کرنا اور پراٹھا بنانا تو سیکھا نہیں‘ اب وہ وقت آگیا ہی کہ میں تم سے کچھ نہ چھپائوں۔ حیدر کو تم پر اعتماد نہیں کہ تم دو بچوں کے ساتھ اس کی زندگی کو بانٹ سکتی ہو‘ فوجی کی زندگی میں بلا کا اتار چڑھائو ہوتا ہے‘ اس کے پاس بیوی بچوں کے لیے وقت نہیں ہوتا‘ یہ اپنا فرض سمجھو بیٹا‘ اس میں شرم کس کی‘ عورت اسی کردار میں بھلی لگتی ہے کہ گھر کی تمام ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھالے اور اف تک نہ کرے۔‘‘
’’پاپا مجھ سے باہر کے تمام کام کروالیں‘ میں خوش اسلوبی سے کرسکتی ہوں کیونکہ مجھے اسی کی تربیت دی گئی ہے لیکن گھر کے بورنگ کام ہرگز نہیں کرسکتی… مزاجاً اور طبعاً مجھے ان کاموں سے نفرت ہے‘ جو کام ملازم کرسکتے ہیں وہ میر افرض نہیں… میں ان دو بچوں کو پال رہی ہوں‘ کیا یہ کم ہے‘ میں نے اپنی جان مارنے میں بھی کسر نہیں چھوڑی۔ آپ نے انہیں آج تک معمولی سا میلا بھی دیکھا ہے‘ یا کبھی روتے ہوئے اور ضد کرکے بات منواتے ہوئے پایا ہے‘ میں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ ان کے نام کردیا ہے بھابیاں اپنے بچے ڈرائیور کے ساتھ بھیجتی ہیں‘ میں عزیز کو اس ڈیڑھ سالہ موسیٰ کے ہمراہ خود پک اینڈ ڈراپ کرنے کیوں جاتی ہوں… کیونکہ مجھے ڈرائیور پر قطعاً اعتبار نہیں‘ دوسرا آپ مجھے ڈرائیور کے ساتھ جانے کی اجازت بھی تو نہیں دیتے‘ ٹھیک ہے میں نے راتوں کی نیندیں قربان کرکے انہیں سکون واطمینان بخشا ہے‘ پاپا میں دیکھ رہی ہوتی ہوں کہ بھابیاں اس قدر گہری نیند میں ہوتی ہیں کہ بچہ رو رو کر ہلکان ہوجاتا ہے اور آخر کار ان کے شوہر بچے کو گود میں لیے سلانے کی کوشش میں کبھی اندر تو کبھی باہر آجارہے ہوتے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ جو کام ہم ملازموں سے لے سکتے ہیں‘ پھر ان کاموں پر ہم وقت ضائع کیوں کریں… ہمارا مقام ان ملازموں سے بالاتر ہے۔ ورنہ تو پڑھ لکھ کر ہی گنوا دینے والی بات ہوئی ناں…‘‘ اسی اثنا میں عزیز گاڑی سے نکل کر اندر آگیا اور ماں کے قریب آکر بولا۔
’’مما! مجھے دیر ہو رہی ہے۔‘‘ دونوں نے ان سنی کردی… موسیٰ گود سے اتر کر بھاگ گیا۔
’’حیدر نے تمہارے ان ہی خیالات کی وجہ سے تمہیں اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کیا تھا کہ جب تک تم ایک گھریلو عورت‘ ذمہ دار بیوی اور خاندان کی بہترین اور بے مثال بہو کے رول کو نہیں پہچانوگی یہاں ہی رہوگی‘ بیٹا… لڑکی کا اپنا کردار ہے‘ اس کردار کو نبھاتے ہوئے وہ باہر کی دنیا میں بھی اپنی تعلیم اور تجربے کی حصہ داری ڈالنا چاہتی ہے تو سو بسمہ اللہ… اسے شوہر ڈس کرج نہیں کرے گا… شومئی قسمت کہ تم ایک اہم ذمہ داری جو عورت کے حصے میں آتی ہے وہ تو نبھاتے ہوئے سبکی محسوس کرتی ہو‘ جاب ایک بے حد غیر ضروری ذمہ داری کیسے نبھا سکتی ہو؟ اس لیے تم نے خود ہی گھر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا… تم ہمیں مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتیں۔ ‘‘وہ سنجیدگی سے بولے۔
’’آپ نے بالآخر اپنے بیٹے کو ہر طرح سے بری الذمہ قرار دے دیا اور تمام قصور میرے سر تھوپ دیا… دس از ناٹ فیئر پاپا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’بیٹا… اس میں رونے کی بات نہیں… میری باتوں کو تنقید مت سمجھو… یہ ایک سچائی ہے کہ تم نے نجانے بچے کیسے پال لیے؟ جو کہ بے حد مشکل ترین کام ہے‘ ہر کام سے بڑھ کر بھاری اور جان لیوا… جائو عزیز کو اسکول ڈراپ کرو‘ لیٹ ہورہا ہے‘ لیکن موسیٰ کو ساتھ لے جانا مت بھولنا…‘‘ وہ سنجیدگی سے کہہ کر صوفے سے اٹھے اور باہر نکل گئے۔ وہ غصے سے پائوں پٹختی ہوئی باہر نکلی اور عزیز کو گاڑی سے نکال کر ایک تھپڑ رسید کرکے بڑبڑائی۔
’’اگر تم دونوں میری پائوں کی اٹوٹ زنجیر نہ بنتے تو میں یہاں ایک پل کے لیے بھی نہ رکتی۔ تمہارے باپ کی مینٹلٹی کو آج میں سمجھ پائی ہوں‘ اسے ڈاکٹر بیوی نہیں چاہیے تھی‘ ایک ملازمہ کی ضرورت تھی اسے جو صبح سویرے ناشتہ بناتی‘ اس کے کپڑے دھوتی‘ اپنے ہاتھوں سے استری کرتی… اس کے جوتے چمکاتی‘ دن رات ایک پائوں پر کھڑی رہتی‘ جب واپس آتا تو بھابیوں کی طرح اس کے سامنے بچھ بچھ جاتی‘ اس کے منہ میں نوالے ڈالتی‘ سونے سے پہلے اس کی ٹانگیں دباتی‘ چھٹی کے دن اس کے سر اور پائوں کی مالش کرتی اور چوبیس گھنٹے گھر میں کولھو کے بیل کی طرح جتی رہتی تو پھر میں اس کے ساتھ رہنے کے قابل ہوتی… مائی فٹ۔‘‘ وہ دونوں بچوں کو گھسیٹ کر کمرے میں لے گئی اور سسر سے اونچی آواز میں گویا ہوئی۔
’’میں نے زندگی میں محنت کیوں کی تھی؟ تاکہ میں شوہر کے شانہ بشانہ چل سکوں… اس معاشرے کے فرسودہ قاعدوں اور ضابطوں کے خلاف سینہ سپر ہوکر اپنے حقوق منوا سکوں تاکہ صنف نازک کے لیے میرا کردار ایسی مثال بن سکے کہ جن رستوں پر چلتے ہوئے انہیں اپنے تحفظ اور اپنی ذات پر فخر محسوس ہو لیکن بدقسمتی سے میں بھی ایک نادان اور جاہل عورت کی طرح خاندانی روایات کے شکنجے میں اس بری طرح پھنس گئی کہ مجھے اس کا احساس ہی نہ ہوا… قصور صرف آپ کا نہیں پاپا‘ قصور تو حیدر کا ہے جس نے ایسا پلان بنایا کہ جس میں گھر کا ہر فرد شامل تھا… مجھے ہی آئوٹ رکھا گیا‘ اب تو مجھے یوں لگنے لگا ہے جیسے اس گھر کا ذرہ ذرہ میرا تمسخر اڑا رہا ہے اور مجھے اپنا وجود بے حد ناکارہ نظر آرہا ہے‘ کیوں پاپا ایسا ہی ہے ناں تو پھر یہ بتائیں مجھے اس سوال کا جواب چاہیے کہ یہ گھر میرا نہیں اور کیونکر ہوتا؟‘‘
’’بیٹا ایسا مت سوچو تم ایک تعلیم یافتہ اور بے حد شائستہ لڑکی ہو‘ اس معاشرے کی روائتوں کو تم نے خوب نبھایا‘ تم تو اس کٹھن امتحان میں کامیاب ہوگئی ہو۔‘‘ پاپا نے اس کے سر پر بوسا دیتے ہوئے کہا۔ ’’تم موسیٰ کے ساتھ آرام کرو میں عزیز کو اسکول چھوڑ کر آتا ہوں بلکہ آئندہ عزیز کو پک اینڈ ڈراپ کرنا میری ذمہ داری ہے لیکن ہم سے خفا مت ہونا‘ ہم نے جو بھی کیا تمہارے فائدے کے لیے کیا‘ بے شک ہم ناکام اور تم کامیاب رہیں۔‘‘ وہ اپنی حسین آنکھوں کی نمی پر قابو پاتے ہوئے انتہائی تاسف وحیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔
’’ہاں بیٹا‘ یقین کرو…‘‘ وہ مسکرا کر بولے۔
لحظہ بھر کے لیے وہ چکرا سی گئی اور پھر خود پر ہی بے پناہ رحم کے سیلاب کو روکتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’پاپا… مجھے آپ سب نے مل کر ٹرینڈ تو کر ہی لیا ہے‘ لیکن آپ سب بری طرح اس مقصد میں ناکام رہے… جو آپ نے سوچ رکھا تھا۔ میں ان سالوں میں آج بھی انڈا فرائی کرنا نہیں سیکھ پائی… پاپا ایک بار پھر عرض کرتی ہوں جب میرا اپنا سائبان ہوگا‘ اس کے تلے میں اپنے شوہر اور بچوں کی ہمراہی میں زندگی گزار رہی ہوں گی تو پھر کسی کو مجھے کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ مغلائی‘ چائنیز اور انگلش کھانے سیکھوں… بیکنگ میں باکمال ہوجائوں وغیرہ وغیرہ۔‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں مناسب لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ساون کی جھڑی لگ گئی۔ اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں چھپا لیا اور توقف کے بعد موسیٰ کو پاپا کی گود میں بٹھا کر جانے کے لیے مڑی۔
’’کہاں جارہی ہو؟‘‘ وہ اضطراری کیفیت میں بولے۔
’’حیدر کو پیغام دے دیجیے گا کہ مجھے ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرے۔ اس نے مجھے کس گناہ کی پاداش میں پانچ سال بامشقت سزا دی اور میں یہاں بے غیرتی کی زندگی اس کے انتظار میں گزارتی رہی… وہ نہیں جانتا شاید اس گھر کا ہر فرد ہی بے حس ہے کہ جب عورت کے باطن میں دبی ہوئی خود داری اور انا سر ابھارتی ہے تو پھر ایک طوفان برپا ہوجاتا ہے جس میں دوسرے تماشائیوں کا نقصان نہیں ہوتا، اس کا خسارہ میاں بیوی اور بے گناہ معصوم بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے… آج سب اپنی فیملیز کے ساتھ خوش وخرم زندگی گزار رہے ہیں۔ نقصان ہوا حیدر کا جس کے کان اپنے نہ تھے‘ جس نے جو مشورہ دیا مان لیا‘ سچ ثابت ہوا کہ فوجی کو صرف سلیوٹ کرنا ہی آتا ہے۔‘‘
’’ایسی باتیں مت کرو بیٹا۔ یہ گھر تمہارا بھی تو ہے‘ چار بہوئوں کی طرح تم بھی اس کی حصہ دار ہو۔‘‘ سسر نے اس کا رستہ روکتے ہوئے کہا۔ ’’ہوش کے ناخن لو بیٹا۔‘‘
’’اس گھر کی میں ہرگز حقدار نہیں ٹھہرائی گئی… آپ سب کے خیال میں جو کچن کی حکمرانی سنبھال لے وہ مالکن کہلاتی ہے‘ میں مالکن تو درکنار نوکرانی بھی کہلانے کے لائق نہیں… اس لیے میں ایک گھڑی بھی یہاں رکنا نہیں چاہتی… ہمارے درمیان ایک دیوار چننے میں پانچ سال لگے… اب تو یہ مشورہ دیوار چین سے بھی طویل اور بلند وبالا دیوار ہے جسے کوئی گراسکتا ہے نہ ہی اسے پھلانگنے کی ہمت رکھتا ہے۔ یہ ایک پرس جس میں چند ہزار لے کر جارہی ہوں‘ اگر ان پر بھی میرا حق نہیں تو چھوڑے دیتی ہوں…‘‘ وہ پرس سسر کے سامنے رکھتے ہوئے بولی۔
’’بیٹا… بچوں کا کیا قصور ہے… انہیں ماں نظر نہ آئی تو سوچو کہ رو رو کر ہلکان ہوجائیں گے معصوم… بچے باپ کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ماں کے بغیر تو زندہ درگور ہوجاتے ہیں۔‘‘ ان کی آنکھوں میں خوف وہراس پھیل رہا تھا۔
’’مجھے ان سے کوئی سروکار نہیں… روئیں یا ہنسیں‘ میری بلا سے‘ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل… بہتر ہوگا حیدر کے لیے اس کے نکاح میں آئی ملازمہ اور ان بچوں کی آیا کا جلد از جلد بندوبست کرلیں۔‘‘
’’بھئی اپنے شوہر کو تو آنے دو… یہاں بیٹھ کر صبر وتحمل سے میری بات سنو۔ جب بیوی شوہر کا ساتھ دینے میں سبکی وتوہین محسوس کرے تو شوہر اکیلا رہنا ہی پسند کرتا ہے۔ تم مرد کی سائیکی نہیں جانتیں۔‘‘ وہ اس کا بازو پکڑ کر بولے۔
’’پاپا… اس کی تو میں شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی… دھوکے باز وفریبی اور مکار انسان۔ اپنے وطن سے بھی غداری ہی کرے گا‘ کیونکہ اس کی جبلت میں ہی جھوٹ اور چال بازی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں اسے سمجھ گئی… ورنہ تاحیات بے وقوف بننے کے چانسز تو تھے۔‘‘ وہ بازو چھڑاتے ہوئے بولی۔ ’’مجھے بخش دیں پاپا۔‘‘
’’بیٹا… معمولی سی بات کا بتنگڑ بنانے لگیں تو گھر اجڑ جاتے ہیں۔ تم چلی گئیں تو گھر کی تمام رونق‘ گہما گہمی ختم ہوجائے گی‘ اتنے افراد کے باوجود یہ بھرا پورا گھر خالی لگے گا۔‘‘
’’میرا گھر پہلے کب آباد تھا جو اب اجڑ جائے گا۔‘‘ وہ خشم ناک نگاہوں سے انہیں گھورتے ہوئے بولی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
اتنا بڑا ڈراما… اومائی گاڈ‘ سب کے ہاتھوں خوب بیوقوف بنی رہی اور کسی نے اس کا انکشاف تک نہ کیا… کس قدر یکجہتی ہے ان سب میں… مجھے الگ تھلگ رکھا گیا۔‘‘ وہ پھر سوچتے ہوئے خود کو مظلوم سمجھنے لگی۔
’’میں یہاں سے رخصت ہوگئی تو ان کو رتی بھر میری کمی محسوس نہیں ہوگی… بچوں کی آیا گیری کے لیے جٹھانیاں تیار ملیں گی‘ میں ہی ان کے لیے بوجھ تھی… چلی گئی تو ان کی مراد بر آئے گی۔ بچے پیار کے ہی تو بھوکے ہوتے ہیں‘ ان ہی کے ہوجائیں گے‘ نقصان کس کا ہے؟ میرا کہ حیدر کا؟ اف آج حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ عورت کی پوزیشن معاشرے میں اور ہر دور میں بے حد نازک اور پانی کے بلبلے کی مانند غیر پائیدار رہی ہے…‘‘ وہ رنجیدگی اور سنجیدگی سے سوچتے ہوئے کرسی پر بیٹھ کر گتھیاں سلجھانے لگی۔
’’ہماری زندگی میں اس قسم کے غیر مناسب اور ناقابل برداشت حادثات کیونکر وارد ہوتے رہتے ہیں ہمیں اس قدر کمزور بنا کر میرے رب کو کیا ملا؟ یہ بھید تو ہی جانتا ہے میں کون ہوں اپنے مالک سے سوال کرنے والی۔ وہ ایک دم سے خوف سے لرز اٹھی۔ اس کے آنکھوں کے سامنے پانچ سال کے طویل عرصہ کا ہر لمحہ گھوم گیا۔ وہ خود کو عظیم ہستی سمجھتے ہوئے گھر کے کسی فرد کے قریب ہونے کی کوشش نہیں کرتی تھی‘ جس کی وجہ سے سب اس سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے رہے۔ کئی کئی دن وہ کمرے میں بچوں کے ساتھ بند رہتی اور بوقت ضرورت کچن تک اس کی رسائی رہتی تھی۔ نہ سب کے ساتھ مل کر کھانا تناول کرنا نہ ہی دوسروں کی گپ شپ میں شرکت کو اہم سمجھنا… اس سلوک اور رویے کا نتیجہ آج اسے مضطرب کررہا تھا‘ اس کی خام خیالی پر اوس پڑ رہی تھی اور اپنی غلطیاں‘ کوتاہیاں اور مظلومیت جو خود ساختہ تھیں، وہ چیخنے لگی تھیں۔ واضح نقشہ سامنے تھا کہ وہ بھرے گھر میں تنہا کیوں رہی؟
سوچ نے پھر پلٹا کھایا اور ندامت پر پھر سے تاسف وغصے نے غلبہ پالیا۔ حیدر تمہیں سبق نہ سکھایا تو یہ بات تو نہ ہوئی۔ میں نے ماہ وسال تعلیم کو وقت کیے رکھا‘ آج کے دن کے لیے… اللہ تعالیٰ حیدر کا سر نیچا کرے‘ جس نے درپردہ میری خوب توہین بھی کی اور مجھ سے بے پناہ منافقت بھی روا رکھی… یہ سوچ راسخ ہوکر اسے تڑپانے لگی۔ موسیٰ کے رونے کی آواز سے وہ دہل کر وہاں سے اٹھی اور دندناتی ہوئی باہر نکل گئی۔
ذرا چند دن سسر جی ان بچوں کی ماں بن کر لطف اندوز ہوں گے تو میری قدر آئے گی اور حیدر تو ہاتھ ہی ملتا رہ جائے گا‘ اللہ کی قسم اگر میں ان پڑھ بھی ہوتی تو ان حالات میں یہاں ہرگز نہ رکتی… دو جوڑے کپڑے اور دو وقت کی دو روٹیوں کے لیے توہین برداشت ہرگز نہ کرتی۔
’’پگلی! عورت چیزوں کی خاطر نہیں، اپنی عزت کی سلامتی کے لیے سوکھی روٹی اور سسرال کی الٹی سیدھی باتوں اور شوہر کے ظلم کو برداشت کرلیتی ہے۔‘‘ اس کے ذہن نے اسے ٹوکا اور روکنے کی کوشش کی تھی۔
خ…ز…خ
شام کادھندلکا بڑھتا ہوا تاریکی میں بدل گیا تھا۔ وہ دونوں بچوں کو سلا کر نئے سفر کی تیاری میں مشغول تھی۔ دل بے حد اداس ومایوس تھا۔ وہ اٹیچی میں کپڑے تہہ کرنے کے بجائے ٹھونس رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور حیدر سیٹی بجاتا ہوا اندر داخل ہوا تو وہ منہ پھلائے اپنے کام میں مصروف رہی۔ جیسے اس نے اس کی آہٹ اور مخصوص سیٹی کی دھن سنی ہی نہ ہو۔
’’لگتا ہے ہماری بیگم کو الہام ہوا ہے کہ ہم انہیں لینے آرہے ہیں۔ یار… اتنی بھی کیا جلدی کہ کپڑوں کا ستیاناس کررہی ہو؟ قسم سے تم نے بھابیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ خیر پھر بھی تمہیں لینے آگیا ہوں کیونکہ مابدولت ہارے اور تم جیتیں۔‘‘ وہ ہاتھ جوڑ کر بولا۔
’’میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جائوں گی۔ تم انسان نہیں جنات صفت آدمی ہو۔‘‘ وہ حقارت ونفرت سے بولی۔ ’’میں ان بچوں کو پاپا کے حوالے کرکے ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں۔ جب تم میرے نہ بن سکے تو تمہاری اولاد سے مجھے غرض کیونکر ہوگی۔‘‘
’’میں اپنی سویٹ ہارٹ کی خاطر جاب کو الوداع کہہ آیا ہوں۔ اب تو خوش ہوجائو۔ تم کمائی کرنا، میں گھرداری سنبھال لوں گا۔‘‘ وہ راشد خان کی رٹائی ہوئی باتیں دہرانے لگا۔
’’وقت گزر گیا ہے جانم… اب تم بچے بھی سنبھالو گے جاب بھی کرو گے۔‘‘ وہ بھنویں چڑھا کر بولی۔
’’یار… مذاق کو سیریس مت لو‘ میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ بڑی مشکل سے گھر ملا ہے اور بڑی ہی منت سماجت کے بعد چھٹی ملی۔ اب تو مسکرادو۔ میں دو دن کی چھٹی پر آیا ہوں‘ فکر مت کرو تمہاری پیکنگ میں کردوں گا۔‘‘ وہ اس کے ہاتھوں سے کپڑے پکڑ کر بولا۔ ’’تم اگلی فکر بھی چھوڑ دو‘ تمہیں خانساماں تو مل ہی جائے گا۔ البتہ نوالہ بنانا اور اپنی لاڈلی بیگم کے منہ میں ڈالنے کے لیے خدمت گار حاضر ہے۔ چبانے اور نگلنے کا کام تو تمہیں ہی کرنا پڑے گا۔‘‘ وہ اسے گدگدی کرتے ہوئے بولا۔
’’تم پاگل ہو اور مجھے اپنے پاگل خانے لے جانا چاہتے ہو۔ ہرگز نہیں جائوں گی… میری بات پلے باندھ لو حیدر۔ میں تمہیں ہرگز معاف نہیں کروں گی‘ تم نے مجھ پر بے وجہ زیادتی اور ظلم ڈھایا۔ ہر لڑکی میری طرح صابر نہیں ہوتی۔ میں نے تم پر اعتماد کیا اور تم نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ حیف ہے حیدر۔‘‘
’’یار… تم اداس ومایوس تو مجھے قطعاً اچھی نہیں لگتیں… روٹھ کر تو تمہارا حسن ہی بے مثال لگ رہا ہے۔‘‘ وہ خوشامدانہ انداز میں بولا۔
’’مجھ سے بات مت کرو۔ جتنی چاہے خوشامد کرو اب مان کے نہیں دوں گی۔ مجھے مت روکو… جب میری قدرو قیمت کا احساس ہوا تو پھر بھی نہیں آئوں گی۔ تم نے مجھے محبت کا یہ صلہ دیا۔‘‘ وہ اسے دھکا دیتے ہوئے بولی۔
’’میں اس وقت تک تمہیں مناتا رہوں گا‘ چاہے میری عمر ہی کیوں نہ بیت جائے۔ مسئلہ تم میں نہیں تھا‘ مجھ میں نقص تھا کہ ہر ایک کی بات کو اہمیت دیتا رہا۔ دراصل میں قلبی اور ذہنی طور پر بے حد پریکٹیکل شوہر ہوں‘ بدقسمتی سے جلتی پر کام کردیا تیل نے۔ میں نے بہت دیر سے یہ درس سیکھا ہے کہ جو بچہ والدین کا اور بھائی بہنوں کا ضرورت سے زیادہ تابعدار ہوتا ہے اور ہو بھی سب سے چھوٹا… اسے کوئی بھی خوش نہیں دیکھنا چاہتا‘ اسے بیوی بچوں سے دور رکھ کر انہیں دلی تسکین کیوں ملتی ہے؟ مجھے معاف کردو میری جان۔‘‘ وہ نظریں جھکا کر بولا۔
’’حیدر میری بات پر غور کرنا، اگر تم مجھے اپنے ساتھ میرے گھر میں لے جاتے تو میں شوق وجذبے میں ہر کام‘ سلیقہ طریقہ‘ میل ملاپ غرض یہ کہ زندگی کے ہر رنگ میں رنگ جاتی‘ جب شادی ہوتی ہے ناں تو لڑکی کا ایک دم سے اسٹیٹس بدل جاتا ہے‘ وہ فرش سے عرش پر پرواز کرنے لگتی ہے۔ اسی شادمانی و کامرانی کے سنگ وہ اپنے گھر کو جنت کا گہوارہ بنا لیتی ہے۔ شوہر کی پسند کے کھانے تیار کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ سسرال کو خوش رکھنے کے گر سیکھنے لگتی ہے۔ کیونکہ اسے شوہر سے پیار تو ہوتا ہی ہے۔ لیکن اسے نئی زندگی میں پرموٹ ہونے سے جو عقیدت اور مسرت و راحت ملتی ہے وہ اسی کو بحال رکھنے میں اپنی زندگی‘ خواہشات و تمنائیں نثار کردیتی ہے۔ تم نے مجھ پر بہت ظلم کیا کہ میں آج بھی ایک کورا کاغذ ہوں۔ بالکل کورا کاغذ جس پر تمہاری پسند کی ایک لکیر ایک نقش اور نقطہ تک نہیں۔ اب اسی کورے کاغذ پر تم اپنی من پسند زندگی کی پہلی لکیر کھینچ دینا۔‘‘
’’آئی ایم سوری‘ مردوں کو کیا معلوم کہ عورت احساس کم مائیگی میں دنیا کو بھول جاتی ہے‘ نہیں بھولتی تو اپنی ذات پر ہونے والے ظلم کو…‘‘ وہ اسے گلے سے لگا کر بولتا چلا گیا۔
’’آئی لو یو… مجھے معاف کردو جان۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close