Hijaab Feb 2019

ہارے بھی تو بازی مات نہیں

نزہت جبین ضیا

اسے کہنا…!!
جنوری پھر لوٹ آیا ہے؟
گزشتہ جنوری کی شام کا منظر
ابھی تک یاد ہے مجھ کو
بڑے ہی پیار سے تم نے
میرے ہاتھوں کو تھاما تھا
مجھے ایک پل کو روکا تھا
بڑی معصوم نظریں تھیں
تم نے التجا کی تھی
ان ہی گمنام رستوں پر
میں پھر سے لوٹ آئی ہوں
تمہاری راہ میں بکھرے ہوئے
سب کانٹوں کو چننے کو
تمہارے دکھ بانٹتے بانٹتے
میں خود ہی کھو گئی جیسے
تمہاری راہ کے کانٹے
میرے دامن سے لپٹے ہیں
میں ان کو چنتے چنتے اتنا…
اتنا پیچھے رہ گئی اور…
تم میری دستر سے دور… بہت دور
نئے رستوں کے مسافر ہوچکے ہو
میں ان ہی گمنام رستوں پر
تمہاری راہ تکتی ہوں
شاید تم لوٹ آئو…
کہ جنوری پھر لوٹ آیا ہے۔
(شاعرہ: نزہت جبین ضیاء)
نظم ختم کرکے فجر نے کتاب بند کی بے اختیار دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر ڈھلک آئے، درد کی ایک ٹیس دل میں اٹھی۔ ہوا کا تیز اور سرد جھونکا اس کے نازک سے وجود سے ٹکرایا۔
’’اف…‘‘ سردی کی شدت ریڑھ کی ہڈی میں اتر گئی۔ سال کا آخری مہینہ تھا رات ہلکی ہلکی بوندا باندی ہوئی تھی جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ فجر ٹیرس پر آگئی گو کہ سمندری یخ بستہ ہوائیں جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہورہی تھیں مگر… وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر سامنے والے بنگلے کے ٹیرس پر ہونے والی سرگرمیوں میں الجھی ہوئی تھی۔ اس بنگلے میں کچھ عرصے پہلے مختصر سا خاندان آباد ہوا تھا۔ دو بچیاں جن کی عمر بالترتیب پانچ اور چار سال کی ہوں گی اور ان کے والدین جن میں انیس بیس سالہ پُرکشش عورت اور بتیس تیس سالہ خوبرو مرد تھا اور ایک عمر رسیدہ سرخ و سفید نفیس سی خاتون جو یقینا اس شخص کی والدہ تھیں۔ صبح دھوپ کی پہلی کرن کے ساتھ ہی دونوں بچیاں اپنی دادی کے ساتھ ٹیرس پر آجاتیں، جہاں تینوں دھوپ میں بیٹھی باتیں کرتی نظر آتیں۔ آج کل اسکول کی چھٹیاں بھی تھیں، سال کے آخری دن تھے۔ اس دوران بچیوں کی ماں چائے یا کافی کا مگ لاکر عمر رسیدہ خاتون کے ہاتھوں میں تھما دیتی۔ خاتون مسکرا کر کپ ہاتھ سے لے لیتیں اور بچوں کے ساتھ باتیں کرتے کرتے کبھی کبھی کوئی کہانی کی کتاب پڑھتے پڑھتے بچیوں کو باری باری اس طرح دیکھتیں جیسے بچیوں کو سمجھانا چاہ رہی ہوں، ساتھ ساتھ مزے سے چسکیاں بھی بھرتی رہتیں۔
فجر گزشتہ کچھ دنوں سے زیادہ وقت ٹیرس پر ہی گزار رہی تھی… آج… آج بھی… بچیاں دادی کے ساتھ مصروف تھیں لیکن… آج… ان کی مصروفیت قدرے مختلف تھی۔ آج نہ اسٹوری بک تھی، نہ کوئی کھیل اور نہ باتیں… بلکہ… بچیاں اپنی والدہ اور دادی کے ساتھ مل کر چھوٹی چھوٹی رنگین قمقموں کی جھالروں سے ٹیرس کی دیوار کے ساتھ ساتھ وہاں پر رکھے بڑے بڑے پودوں کو بھی سجا رہی تھیں… ان کے چہروں پر بے تحاشا خوشی تھی۔ وہ تتلیوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی تھیں… یہ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کی تیاری تھی… فجر کی آنکھیں نم ہوگئیں… اسے آج دعا اور افلاک شدت سے یاد آرہے تھے۔ اس کے اپنے جگر کوشے… نہ جانے… کس حال میں ہوں گے۔ بچوں کی یاد آئی تو آتی ہی چلی گئی۔ درد حد سے بڑھنے لگا۔ منہا اس وقت گھر پر موجود نہ تھی اور مما سو رہی تھیں… تنہائی کا زہر قطرہ قطرہ اس کے وجود میں اترنے لگا تھا۔ تب ہی وہ پلٹ کر اندر چلی آئی اور سامنے رکھی کتاب اٹھالی اور کتاب لے کر دوبارہ ٹیرس پر آگئی… شاید تیاری مکمل ہوگئی تھی۔ تب ہی سامنے والا ٹیرس اس وقت سنسان تھا۔
فجر کتاب کھول کر کرسی پر ٹک گئی اور نظم پر نگاہ گئی تو نظم کا ایک ایک لفظ، حسب حال لگا۔ وہ… وہ بھی تو مجبور ہوگئی تھی۔ لاچار اور بے بس… چاہتے ہوئے بھی کوئی فیصلہ‘ کوئی بات اس کے حق میں نہیں تھی۔ ہوا کا سرد جھونکا ایک بار پھر اس کے وجود سے ٹکرایا۔
’’آپی… کیا ہوگیا بھئی…؟ اندر آئو مما بلا رہی ہیں‘ اتنی سردی ہے اندر آجائو میں نے کافی بنائی ہے۔‘‘ منہا نے آواز دی تو وہ چونکی۔
’’ہنہ… کیا فرق پڑتا ہے سردی سے‘ میرے اندر جلنے والی آگ نظرآ نہیں رہی… یہ ڈھکوسلے رہنے دو تم۔‘‘ فجر کے ایک ایک لفظ زہر میں بجھا ہوا تھا۔
’’افوہ۔‘‘ منہا نے اپنے سر پر ہاتھ مارا اور واپس پلٹ گئی‘ فجر بدستور وہیں بیٹھی رہی۔ کتاب گود میں رکھے‘ تب ہی زہرہ بیگم آگئیں۔
’’فجر… یہ کیا بچپنا ہے؟ میں تو دوا کھا کر ایسے سوئی کہ پتا ہی نہیں چلا… تم کب سے یہاں بیٹھی ہو‘ کتنی ٹھنڈ ہورہی ہے اندر آئو فوراً…‘‘ ان کے لہجے میں خفگی تھی۔
فجر خاموشی سے اٹھی اور اندر چلی آئی… منہا گرم گرم کافی لے آئی تھی۔ فجر زہرہ بیگم کے پاس ہی بیٹھ گئی اور کپ تھام لیا… اس وقت گرم گرم کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے سکون مل رہا تھا۔
’’کیا ہوگیا ہے تمہیں فجر… کیوں خود اپنی دشمن بن رہی ہو؟ خدانخواستہ بیمار پڑگئیں تو… ایک بچی کس طرح سنبھالے گی۔ تمہارے پاپا… بھی ابھی نہیں آسکتے۔ میں پہلے ہی بیمار ہوں اوپر سے تمہاری یہ حرکتیں…‘‘ زہرہ بیگم نے فجر کو مخاطب کیا۔
’’مما… مت کریں میری فکر… مر جانے دیں مجھے‘ میری مرضی چلتی بھی ہے یہاں اور… اور آپ کو جس بچی کی اتنی پروا ہے۔ یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہے… یہ اتنی بڑی کب سے ہوگئی کہ گھر کے فیصلے کرنے لگے‘ اس کو ہماری فکر ہے اور جب آپ اور پاپا بھی اس دو فٹ کی لڑکی کے فیصلوں کو ماننے لگے ہیں تو پھر جو ہوتا ہے ہوجانے دیں… اس کو تو دولت بچانی ہے۔ اصول اور ضوابط کا پاس رکھنا ہے ناں… تو رکھے یہ اصول و ضوابط کے بھرم لیکن میں… میں اب برداشت نہیں کرسکتی اس لیے میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں ہر حال میں واپس جائوں گی۔ آیا سمجھ میں آپ لوگوں کی۔‘‘ فجر نے کھڑے ہوکر منہا اور زہرہ بیگم کو باری باری دیکھتے ہوئے سارا زہر لفظوں کی صورت میں ان دونوں کی سماعت میں اتارا اور ایک لمحہ رکے بغیر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف تقریباً بھاگتے ہوئے چل دی… زہرہ بیگم کے ساتھ ساتھ منہا بھی تاسف سے اس کو دیکھتی رہ گئی۔ بے شک وہ ایک ماں تھی، بیوی تھی، مگر کسی بھی بات کی حد ہوتی ہے اور جب ضرورتیں حدیں پار کرنے لگتی ہیں تو بوجھ بن جاتی ہیں اور ہر کوئی برداشت کرنے تک بوجھ اٹھاتا ہے اور جب بوجھ حد سے بڑھ جائے تو… بوجھ اتار پھیکتے ہیں۔
٭٭٭…٭٭٭
اخلاق احمد اپنی بیوی زہرہ بیگم اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہتے تھے۔ بڑی بیٹی فجر اور چھوٹی بیٹی مہنا جو فجر سے چھ سال چھوٹی تھی… متوسط طبقے سے تعلق تھا۔ پھر حالات اور مہنگائی سے تنگ آکر اخلاق احمد نے باہر جانے کا فیصلہ کرلیا اور کوشش کرکے آسٹریلیا چلے گئے۔ پڑھے لکھے اور ہنر مند آدمی تھے۔ سو وہاں جلد ہی اچھی جاب مل گئی اور گھر کے حالات آہستہ آہستہ بدلنے لگے۔ وقت کے ساتھ ساتھ گھر بھی بدلا اور رہن سہن اور زندگی کے طور طریقے بھی بدل گئے۔
ادھر بچیاں بڑی ہوگئیں، فجر نے بی ایس کیا جب کہ مہنا ہشتم جماعت میں تھی۔ اس وقت تک بہترین گھر، گاڑی اور تمام آسائشات میسر تھیں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت بھی اچھی تھی، اس لیے والد کی غیر موجودگی اور پیسے کی فراوانی نے بھی ان لوگوں کو بدتمیز یا مغرور نہیں بنایا بلکہ سادگی اور بھلائی کرنا مزاج کا حصہ رہا تھا۔ اخلاق احمد آتے جاتے رہتے۔ ان کی غیر موجودگی میں گھر کا خیال زہرہ بیگم کے بڑے بھائی سیف رکھتے تھے۔
فجر کو کالج کا لڑکا حازم پسند آگیا۔ اس رشتے پر کوئی معترض نہ تھا۔ حازم متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ سو مناسب چھان بین کے بعد فجر اور حازم کی شادی کردی گئی۔
فجر اپنے سسرال میں بہت خوش تھی۔ ساس سسر بھی بہت پیار کرتے، حازم تو جان چھڑکتا تھا لیکن شادی کے تین ماہ بعد ہی حازم کے والد کو فالج ہوگیا۔ انہیں ہاسپٹل میں داخل کروا دیا گیا۔ پرائیویٹ ہاسپٹل کے اخراجات بھی آسمان سے باتیں کرتے تھے۔ ان کی جمع پونجی تو تین دن میں ہی ختم ہوگئی۔ حازم سر پکڑ کر بیٹھ گیا پہلے ماں اور بیٹے نے آپس میں کچھ بات کی پھر حازم نے فجر سے کہا کہ کچھ پیسوں کا بندوبست اگر اس کے والد کردیں تو وہ جلد ہی ادا کردے گا… حازم کی والدہ بھی بہت شرمندہ اور مجبور تھیں، سو فجر نے ان دونوں کو تسلی دی اور میکے آگئی۔
’’ارے آپی… فکر کیوں کرتی ہو اللہ پاک بہتر کرے گا۔ حازم بھائی سے کہیں کہ حوصلہ رکھیں۔ اللہ بہتر کرنے والا ہے… پاپا سے بات کرلو‘ پاپا بھیج دیں گے پیسے۔‘‘ فجر کو روتا دیکھ کر مہنا بھی پریشان ہوگئی تھی۔ زہرہ بیگم نے بھی تسلی دی… اخلاق احمد نے فوراً ہی ضرورت سے زیادہ پیسے بھجوا دیے… فجر کا سسرال میں مزید نام ہوگیا اور حازم نے بہت شکریہ ادا کیا۔
’’اوہو حازم… آپ کے مسائل میرے بھی تو ہیں، اس میں شکریے کی کیا بات، بس ابا جی جلدی سے ٹھیک ہوجائیں۔‘‘ فجر نے حازم کے ہاتھ تھام کر محبت سے کہا تو حازم سر ہلا کر رہ گیا۔
پیسہ آیا تو اماں کے ساتھ حاذم کے بھی بے جا اخراجات ہونے لگے کچھ ضرورت سے اور کچھ بے ضرورت پیسہ خرچ ہونے لگا۔ حازم نے کمپنی سے کچھ قرضہ بھی لیا۔ یوں کچھ دن بعد ابا گھر آگئے مگر دوائیں اور ایکسر سائز کی پابندی تھی۔ حازم کی تنخواہ گھر سے اخراجات کے ساتھ ساتھ ابا، اماں کی دوائوں کا انتظام مشکل ہوتا کہ فجر کی طبیعت بھی خراب ہوگئی اور ڈاکٹر نے ماں بننے کی نوید سنائی کچھ ارمان اور خوشی تھی اور کچھ حالات ایسے تھے کہ اخلاق احمد نے زہرہ بیگم کو کہہ دیا تھا کہ آنے والے بچے کے سارے اخراجات ننھیال کی طرف سے ہوں گے۔ سو حازم اس طرف سے مطمئن ہوگیا۔ اس روز فجر کا چیک اپ تھا۔ صبح صبح زہرہ بیگم گاڑی لے کر آگئی تھیں۔ فجر ہاسپٹل جانے کے لیے تیار تھی۔ ساس سسر ناشتے سے فارغ ہوچکے تھے۔ حازم آفس جانے کی تیاری کررہا تھا۔
’’سنو فجر… یہ اماں اور ابا کی دوائیں بھی واپسی پر لیتی آنا۔‘‘ فجر چادر اوڑھ کر نکلنے لگی تو حازم نے جیب سے دوائوں کے پرچے نکال کر فجر کی جانب بڑھائے۔ فجر نے حیرت سے دیکھا اور پرچے ہاتھ سے لیے‘ حازم بیگ اٹھا کر جانے لگا۔
’’اور ان دوائوں کے لیے پیسے؟‘‘ فجر نے اسے آواز دی۔
’’ارے بھئی… اپنی دوائوں کے ساتھ لے لینا ایسے کون سے دس بارہ ہزار کی دوائیاں ہیں یہ‘ میرے پاس چینج نہیں ہے۔‘‘ حازم نے پلٹ کر قدرے بیزاری سے اسے گھور کر دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔ فجر جانتی تھی کہ اس کی دوا، ٹیسٹ اور دیگر اخراجات کے پیسے بھی ممی دیں گی، ساتھ یہ دوائیں بھی… باہر گاڑی کا ہارن بجا تو فجر باہر کی جانب چل دی۔ اسے مما سے ساس سسر کی دوا کے پیسے لینا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
فجر کو لیڈی ڈاکٹر نے مکمل آرام کا مشورہ دیا تو مسئلہ ہوا کہ گھر کے کام کیسے چلیں گے… وہ ملازمہ رکھنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اگر فجر میکے آجاتی تو گھر کیسے چلتا… اسی لیے بہت سوچ بچار کے بعد زہرہ بیگم نے صورت حال دیکھتے ہوئے سمدھن کے کہنے پر ملازمہ کے اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اخلاق احمد نے کہہ دیا کہ فجر کے گھر میں کل وقتی ملازمہ رکھوائو جو گھر کے سارے کام بھی سنبھالے اور بھروسے کی بھی ہو، تب زہرہ بیگم نے اپنی ماسی سے کہہ کر ملازمہ کا بندوبست کروا دیا۔
’’شکر ہے کہ ملازمہ کا بندوبست ہوگیا… پاپا کو بہت خیال ہے ہمارا۔‘‘ فجر کی بات پر حازم نے کتاب پڑھتے ہوئے سر اٹھایا۔
’’ہاں تو… اتنا سارا پیسہ ہے اور پھر ان کا ہے بھی کون جس کے لیے بچا کر رکھیں، سارے والدین اولاد کے لیے ہی کماتے ہیں اور اولاد پر ہی خرچ کرتے ہیں پھر انکل تو گزشتہ سولہ، سترہ سال سے باہر ہیں، ماشاء اللہ خوب اکٹھا کرلیا ہوگا انہوں نے تو۔‘‘
’’الحمدللہ… مگر گھر سے دور رہ کر زندگی کے اتنے سال گزرنا… آرام و آسائش سے دور اور بیوی بچوں سے دوری کا عذاب سہنا بھی آسان نہیں ہوتا… ہم نے بھی پاپا کے بغیر بہت مشکل وقت گزارا ہے حازم۔‘‘ فجر حازم کی بات پر ٹھنڈی سانس بھر کر بولی۔
’’کچھ پانے کے لیے قربانی تو دینا پڑتی ہے ناں۔‘‘
’’ویسے کب تک رہیں گے انکل باہر… اب آجائیں‘ یہیں کاروبار کریں۔ اتنا تو ویسے ہی جمع ہوگا کہ دو چار سال آرام سے گھر بیٹھ کر کھا اور کھلا سکتے ہیں۔‘‘ حازم نے کہا۔
’’ابھی تو کوئی ارادہ نہیں ہے… اب منہا کی شادی طے ہوگی تب ہی مستقل آئیں گے۔ مما اکیلی رہ جائیں گی ناں۔‘‘ فجر نے کہا۔
’’ہوں…‘‘ حازم نے سر ہلایا۔
٭٭٭…٭٭٭
پھر دعا پیدا ہوئی۔ ننھیال اور ددھیال میں خوب خوشیاں منائی گئیں۔ دادا‘ دادی اور ابا نے تو زبانی خوشی منائی اور نانا نانی نے صدقہ، خیرات اور مٹھائی تقسیم کرکے خوشی منائی۔ بچی کے لیے ڈھیروں کپڑے، جوتے، سونے کی بالیاں، بریسلیٹ، پیمپرز کے کاٹن سے لے کر بیگ اور دیگر سامان نانا خود لے کر آئے تھے۔
حازم تو ابھی تک اس نوکری کے ساتھ خوش تھا، کیوں نہ ہوتا اس کی بیوی اور بچی کے اخراجات تو نانا نانی کی طرف سے پورے ہورہے تھے، ان دونوں کی آڑ میں گھر کا سامان بھی آجاتا۔ اس لیے حازم کو نہ کمانے کی جستجو تھی نہ محنت‘ لگن اور آگے بڑھنے کا خیال۔ اس کے خیال میں بچے ننھیال کی ذمہ داری ہوتے ہیں، اسی لیے دعا دس ماہ کی ہوئی تو افلاک بھی آگیا۔ دعا کے ساتھ ساتھ افلاک کی ذمہ داری بھی نانا‘ نانی پر آگئی۔ ابھی افلاک دو سال کا اور دعا تقریباً تین سال کی تھی کہ حاذم کے والد کا انتقال ہوگیا۔ والد کے انتقال سے حاذم بالکل ٹوٹ گیا… فجر نے اسے ہر ممکن سہارا دیا۔ اخلاق احمد نے کال کرکے اسے تسلی دی۔
فجر کے لیے ان حالات میں رہنا خاصا مشکل ہوگیا تھا۔ ساس ہر وقت منہ لپیٹے پڑی رہتیں تو دوسری جانب حازم غم سے نڈھال… اس پر دونوں چھوٹے بچے سنبھالنا… مسلسل چھٹیوں کی وجہ سے حازم کو نوکری سے بھی فارغ کردیا گیا تھا… ایک اور پریشانی سر پر آپڑی تھی۔
’’گھر میں کھانے پینے کا سامان ختم ہورہا ہے کچھ تو کریں… ایسا کب تک چلے گا۔ بچوں کا دودھ، پیمپرز اور دیگر اشیاء تو مما اور منہا دے کر چلی گئیں مگر اور بھی اخراجات ہیں… آپ جاکر بات تو کریں ناں۔‘‘ فجر جب حد سے زیادہ پریشان ہوگئی تو حازم کو احساس دلایا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟ میں فارغ بیٹھا ہوں… مجھے کوئی فکر نہیں اور تمہار ے گھر والے احسانات کررہے ہیں ہم پر… ہمارے بچوں کا خرچہ اٹھا کر میری بیٹی کی فیس جمع کروا کر وہ احسان کررہے ہیں… منع کردو ان کو ضرورت نہیں ہے کسی چیز کی‘ میرے ساتھ رہنا ہے تو اسے ہی رہو… ورنہ مرضی ہے تمہاری مگر آئندہ احسان مت جتانا آئی سمجھ۔‘‘ حازم تو پٹری سے اتر گیا اور دروازے کو لات مار کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
’’ہائے ہائے… ذرا تو خیال کر لڑکی، اتنا بڑا پہاڑ ٹوٹا ہے ہم پر‘ وہ یتیم ہوگیا… اس کی دل جوئی کرنے کا وقت ہے اور تم… تم اس کی دل آزاری کر رہی ہو کیسی بیوی ہو تم۔‘‘ حازم گھر سے نکلا ہی تھا کہ اس کی والدہ کیل کانٹوں سے لیس ہوکر آگئیں۔
’’اماں مجھے اندازہ ہے مگر ابا کی موت کو تین ماہ ہوگئے… اب تو حازم کو گھر اور بچوں کے لیے سوچنا ہوگا ناں… چلو بچوں کا خرچہ تو مما دیتی ہیں میرے اخراجات اٹھا لیتی ہیں مگر گھر کی اور ضروریات بھی تو ہیں میں کیا کروں؟‘‘ فجر کو رونا آگیا۔ حازم نے تین دن تک بات نہ کرکے خفگی کا اظہار کیا۔ چوتھے دن موڈ قدرے بہتر تھا۔
’’میں نے ایک کام سوچ لیا ہے۔‘‘ وہ افلاک کے کپڑے بدل رہی تھی کہ حازم نے کمرے میں آکر خود سے بات کی۔
’’اچھا… کون سا؟‘‘ فجر یک دم خوش ہوئی۔
’’مگر اس کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے… اپنے پاپا سے کہو کہ انتظام کردیں۔‘‘ حازم نے کہا۔
’’ٹھیک ہے… میں بات کرتی ہوں کتنے پیسے چاہیں ہوں گے اور کون سا کام ہے؟‘‘
’’میرا دوست کے ساتھ گارمنٹ کا بزنس شروع کرنے کا ارادہ ہے‘ چھوٹا سا صرف دو لاکھ۔‘‘
’’دو لاکھ…؟‘‘ فجر کی بے ساختہ آنکھیں پھیل گئیں۔
’’کیوں زیادہ ہیں کیا؟‘‘ حازم کا لہجہ تلخ ہوا۔
’’نہیں… بات کروں گی پاپا سے۔‘‘ فجر جلدی سے بولی، کہیں ایک بار پھر ناراض نا ہوجائے۔
تین دن میں دو لاکھ آگئے اور حازم نے زور و شور سے کام شروع کردیا، فجر خوش تھی کہ حازم دل چسپی سے کام کر رہا ہے… کچھ عرصے بڑی پابندی سے کام چلتا رہا، پھر رفتہ رفتہ حازم نے کام پر دھیان دینا چھوڑ دیا۔ اب وہ کام پر دیر سے جاتا اور اکثر یہی کہتا کہ کاروبار ہی نہیں چل رہا۔ آج کل مارکیٹ کی ویلیو بہت ڈائون ہے۔ اب گھر میں بھی خرچا دینا کم کردیا تھا۔
ایک بار پھر حالات بگڑنے لگے‘ وہ صرف پیسہ کمانا چاہتا تھا… محنت کے بغیر یہ ناممکن تھا۔ آہستہ آہستہ دوست سے تعلقات خراب ہونے لگے اور دوست نے معمولی سا حصہ دے کر اسے کاروبار سے بے دخل کردیا۔
اب تو دعا اسکول جاتی تھی، اگلے سال افلاک کا داخلہ کروانا تھا۔ جو ننھیال کی ذمے داری تھی۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار اخراجات تھے کچھ عرصے بعد حازم نے نیا شوشہ چھوڑا کہ کرائے کی گاڑی چلائے گا۔‘‘
’’مگر حازم… میں پاپا سے پیسے نہیں منگوا سکتی… مجھے اچھا نہیں لگتا… پہلے ہی وہ اتنے اخراجات اٹھا رہے ہیں۔ اب وہ بھی کمزور ہوچکے ہیں۔ ان کو اپنی ضرورت کے لیے پیسہ چاہیے… منہا کے رشتے آرہے ہیں… اس کی شادی کرنی ہے‘ بار بار مانگنا اچھی بات نہیں۔‘‘ فجر نے صاف منع کردیا۔
’’تم تو ایسے بات کررہی ہو جیسے وہ کوئی مزدور ہیں کہ پیسہ بڑی محنت سے کماتے ہوں‘ پیسہ اولاد کی ضرورتوں کے لیے ہی ہوتا ہے اور پھر کون سا چار چھ بیٹیاں ہیں جن کا بوجھ ہے کاندھوں پر اور پھر ان کے آگے پیچھے ہے ہی کون…؟‘‘ حازم نے فجر کی بات پر سیخ پا ہوکر کہا۔
’’بے شک حازم لیکن… پلیز… جو پیسہ تمہارے پاس ہے، اس سے خرید لو گاڑی۔ تھوڑا بہت پورا کرنے کو میرا اور اماں کا زیور بھی تو ہے۔‘‘ فجر نے مشورہ دیا۔
’’فجر… مجھے پیسوں کی ضرورت ہے اور تمہارے پاپا میری ضرورت پوری کرسکتے ہیں… میں تو خود عاجز آگیا ہوں۔ جب سے شادی ہوئی… عجیب و غریب حالات ہوگئے ہیں… اوپر سے تمہارے نخرے… پاگل ہوگیا ہوں برداشت کرتے کرتے اور تمہیں اپنی انا عزیز ہے وہ بھی اپنے والدین کے سامنے۔ تم اپنے والدین سے مانگتے ہوئے شرم محسوس کررہی ہو اور میں… میں کس منہ سے اپنی ماں سے ان کی چیزیں مانگوں…؟ بیویاں شوہروں کے لیے کیا کچھ برداشت نہیں کرتیں جو تے کھا کر بھی پیر دباتی ہیں اور تم جائز طریقے سے اپنا حق نہیں مانگ سکتیں تو ٹھیک ہے پھر تم وہیں چلی جائو۔ یہ بچے میرے ہیں میں کسی بھی طرح پال لوں گا ان کو نہیں چاہیے کسی کا احسان۔‘‘ حازم غصے سے بے قابو ہورہا تھا۔
’’حازم…!‘‘ فجر نے تڑپ کر اس کی جانب دیکھا۔ ’’یہ کیسی بات کررہے ہو… میں… میں تمہیں چھوڑ سکتی ہوں نہ بچوں کو… ماں ہوں ان کی۔ کیسے چھوڑ سکتی ہوں… یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’پھر… پھر کیا کروں میں‘ تم نے میرا دل توڑ دیا۔ تم ہی تو ہو جس سے دکھ کہہ سکتا ہوں… جب تم ہی ساتھ نہ دو تو میں کچھ بھی کرسکتا ہوں۔ یہ سمجھ لو اچھی طرح سے‘ مرد ہوں اور مرد جب اپنی انا اور ضد پر آجائے تو کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی اور تم کیا چیز ہو؟ ایک کمزور اور بے بس عورت۔‘‘ حازم نے نہایت سفاکی اور چالاکی سے وار کیا۔ فجر اس کی بات پر حواس باختہ ہوگئی۔
’’اللہ نہ کرے، اگر ایسا وقت آیا تو میں مر جائوں گی۔ نہیں… نہیں حازم… پلیز… ایسا نہ کہیں، میں نہیں رہ سکتی۔ آپ لوگوں کے بنا۔ میں بات کرتی ہوں مما سے۔‘‘ حازم کا تیر نشانے پر لگا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
’’مما… میں کیا کروں؟ حازم بہت پریشان ہیں اگر خدانخواستہ وہ پریشانی میں کوئی الٹی سیدھی بات کردی تو… مما پتا نہیں کیا مسئلہ ہے۔ بے چارے اتنی محنت کرتے ہیں مگر… صلہ ہی نہیں ملتا… مجھے ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں اماں مجھے ہی الزام نہ دے دیں کہ میرے قدم سے گھر میں پریشانی آگئی۔‘‘ فجر کی بات پر زہرہ بیگم نے سر پیٹ لیا۔
’’کیسی باتیں کررہی ہو فجر… ایسا کچھ نہیں ہوگا… فضول باتیں مت سوچا کرو تم… وقتی پریشانی ہے۔ نمازکی پابندی کرو۔ اللہ تعالیٰ سب بہتر کردے گا۔ پیسہ تم ہی لوگوںکے لیے ہے مگر… انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ حازم جوان ہے، صحت مند ہے یوں دل چھوٹا کرے گا تو کام نہیں چلے گا۔ فکر مت کرو… تمہارے پاپا سے بات کروں گی۔‘‘ زہرہ بیگم نے تسلی دی تو فجر مطمئن ہوکر واپس لوٹ گئی۔ اچھے خاصے پیسے پھر مل گئے اور حازم نے نئے سرے سے کام شروع کیا… فجر بھی مطمئن ہوگئی تھی۔
…٭٭٭…
’’مما… آپ کے خیال میں حازم بھائی کچھ زیادہ ہی ہاتھ نہیں پھیلانے لگے ہیں؟‘‘ منہا جو اب تک اس معاملے میں خاموش تھی۔ فجر کے جانے کے بعد زہرہ بیگم کے کمرے میں آئی۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ زہرہ بیگم نے منہا کی طرف دیکھا۔
’’میرا مطلب ہے مما… آپی کی شادی کو پانچ سال ہوگئے۔ ہم نے الحمدللہ آپی کو بہت کچھ دے کر رخصت کیا تھا۔ پھر بچوں کی ذمہ داری پاپا اٹھاتے ہیں… اس کے باوجود ہر تھوڑے دن بعد حازم بھائی آپی کو کسی نہ کسی بہانے سے، کسی نہ کسی ضرورت کا کہہ کر بھیج دیتے ہیں… آپ کے خیال میں یہ ٹھیک ہورہا ہے؟‘‘ مہنا نے تفصیل سے اپنا موقف بیان کیا۔ زہرہ بیگم اس کی بات پر چونکیں… اس نے بات تو صحیح کی تھی۔
’’منہا… اگر والدین بچوں کے کام نہیں آئیں گے تو کون ان کو کڑے وقت میں سہارا دے گا… حازم بے چارے کا نصیب کہ وہ جو کرتا ہے الٹا ہوجاتا ہے… اب اپنی بچی کو یا نواسہ، نواسی کو ہم ترستے ہوئے تو نہیں دیکھ سکتے ناں؟ یہ جو کچھ ہے تم دونوں کا ہی تو ہے۔‘‘ زہرہ بیگم نے دھیرے سے کہا۔
’’مگر مما… ہم نے آپی کو جہیز کی صورت میں بہت کچھ دیا تھا… جس میں سے بھی کچھ چیزیں ان کے پاس اب نہیں زیور بھی حالات کی نذر ہوچکے ہیں۔ اس طرح تسلسل سے ان کی خواہشات پوری کرتے رہے تو، وہ عادت بنالیں گے بلکہ بناچکے ہیں۔‘‘
’’مگر مہنا ہم تماشائی بھی تو نہیں بن سکتے… کچھ پیسہ تو تمہارے پاپا کے علم میں لائے بغیر دیا ہے میں نے کہ کہیں وہ کچھ نہ کہیں مگر اب تو… اب تو حازم دھمکی دینے لگا ہے۔ مجھے بھی ڈر لگنے لگا، اگر بچے رکھ کر صرف دھمکانے کے لیے ہی فجر کو یہاں بھیج دیا تو فجر مر جائے گی اور میں… میں یہ برداشت نہیں کرپائوں گی کہ میری بچی یوں تڑپ تڑپ کر جیے… میں بھی کیا کروں میں بھی مجبور ہوں… ایک ماں ہوں ناں… تم نہیں جانتی ماں کتنی بے بس اور مجبور ہوجاتی ہے اولاد کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا… میں تو اس وقت کو کوس رہی ہوں کہ صرف شرافت دیکھ کر ہم نے اپنی بیٹی حازم کے ہاتھوں میں تھما دی۔‘‘ زہرہ بیگم کا لہجہ بھیگ گیا تھا۔ مہنا نے مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا مگر اسے یہ سب ٹھیک بھی نہیں لگ رہا تھا کہ مما پاپا کے محنت سے بھیجے گئے پیسوں کو یوں کسی نہ کسی بہانے سے ہٹے کٹے انسان کے حوالے کررہی ہیں۔ پھر وہ چھوٹی تھی بہن کی بے بسی دیکھ کر چپ رہ جاتی۔
کچھ عرصہ ڈھنگ سے گزرا، فجر بھی مطمئن تھی کہ حازم کا دل اس کام سے بھی اچاٹ ہوگیا۔ اب اس نے رٹ لگائی کہ پاپا سے کہو مجھے باہر بلائیں۔
’’ارے حازم… کیا ہوگیا ہے تمہیں پاپا واپس آنے والے ہیں۔ چند ماہ میں ہمیشہ کے لیے پاکستان واپس آجائیں گے۔ میں ان سے کہہ کر تمہیں بزنس میں لگوا دوں گی… پاپا کو بھی سہولت ہوجائے گی اور دونوں مل کر کام سنبھال لینا۔‘‘ فجر نے اس کی بات سنی تو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’واہ بھئی… میں نے کہا تو تمہارے پاپا کو واپسی کا خیال آگیا… ان سے کہو اگر واپس آرہے ہیں تو میرے لیے وہاں سیٹنگ کرکے واپس آئیں اور ہاں مجھے ان کے ساتھ مل کر کچھ نہیں کرنا جو کروں گا خودکروں گا اگر نہیں تو… کم ازکم مجھے اتنا پیسہ چاہیے کہ کیٹرنگ کا کام شروع کردوں۔ اس میں کافی پروفٹ ہے اور میرے جاننے والے دوست بھی ہیں جو یہ کام اچھے سے کرسکتے ہیں۔‘‘ آخر میں نیا شوشہ چھوڑا۔
’’نہیں حازم… اب دوستوں پر بھروسا مت کرو… ایک بار دوست نے ہی کاروبار سے بے دخل کردیا تھا۔ کام وہ کرو جو اکیلے کرسکو… میرے خیال میں موجود کام تمہارے لیے اچھا ہے اب کوئی اور رسک مت لو۔‘‘ فجر نے اپنے طور سمجھانا چاہا تھا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟ صاف صاف لفظوں میں کہہ دو کہ میں ایک ناکام اور کام چور انسان ہوں، تمہیں پال نہیں سکتا۔ مجھ پر بھروسا نہیں ہے تمہیں… تمہیں باپ سے مانگتے ہوئے شرم کیوں آتی ہے۔ اگر میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں تو میرا ساتھ دیتے تمہاری جان کیوں نکلنے لگتی ہے۔ تمہارے باپ کی اتنی دولت کس کام کی۔‘‘
’’پلیز حازم… اپنے لہجے اور الفاظ کو قابو میں رکھو… میرا باپ تمہارا بھی کچھ لگتا ہے۔ اس لیے پاپا کے بارے میں تمیز سے بات کرو… بہت دے چکے پاپا مما… اب جو کرنا ہے خود کرو… میں اب نہیں مانگوں کی مما سے پیسے۔‘‘ فجر کو بھی غصہ آگیا تھا۔ ایک تو مانگنا اوپر سے دھونس اور بدتمیزی کے ساتھ… حد ہی کررہا تھا وہ۔
’’تم مجھے چیلنج کررہی ہو؟ تم مجھے غصے دکھا رہی ہو… سوچ لو تمہاری اس حرکت کا انجام کتنا بھیانک ہوسکتا ہے…‘‘ حازم نے ایک لمحہ رک کر خونخوار نظروں سے اسے گھورا۔
’’کک… کیا… کیا مطلب ہے تمہارا… کیا کروگے تم۔ ماروگے مجھے…؟‘‘ فجر گڑبڑائی۔
’’نہیں ماروں گا نہیں… اتنا کمزور مرد نہیں ہوں میں… ہاں… کمزور باپ ضرور ہوں… اولاد کے بنا نہیں رہ سکتا اس لیے… اس لیے… تمہیں اولاد سے دور بھی کرسکتا ہوں۔ اپنے بچوں کو تم سے چھین سکتا ہوں اور تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…‘‘
’’حازم… اللہ کے لیے حازم… کیا ہوگیا ہے تمہیں… کیوں ایسی باتیں کررہے ہو… میں نے ہمیشہ تمہارا ساتھ دیا ہے مگر… تم نے بار بار مجھے استعمال کیا… میرے ماں باپ مجھے پریشان نہیں دیکھ سکتے… میرے لیے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں… مگر اپنے دل سے یہ فضول بات نکال دو ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے حازم… تم میں اور ہمارے بچے… یہی میری کمزوری ہے کہ میں… تم لوگوں کے بنا زندہ نہیں رہ سکتی۔‘‘ فجر حازم کے بازو تھام کر بری طرح رو دی۔
’’مجھے پتا ہے فجر… آئی ایم سو سوری یار… مگر میں پریشان ہوگیا ہوں۔ پتا نہیں کیا ہوجاتا ہے غصے میں مجھے‘ برداشت جواب دینے لگتی ہے‘ کبھی بھی خود سے ہی خوف آنے لگتا ہے کہ کہیں… کہیں جذبات میں آکر کچھ الٹا سیدھ ہی نہ کر بیٹھوں‘ کہیں خود کو نہ مارلوں۔ اللہ پاک مجھے صحت اور حوصلہ دے۔ مجھے میری بیوی اور بچے بہت عزیز ہیں… میں کہیں جنون میں آکر ان کو نقصان نہ پہنچا بیٹھوں… کہیں ساری زندگی کا پچھتاوا نہ مول لے لوں…‘‘ حازم بھی بری طرح رو دیا۔ بچوں کی طرح بے بسی سے روتا دیکھ کر فجر تڑپ گئی۔
’’حازم پلیز… حازم حاصلہ رکھو‘ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ… یوں ہمت نہ ہارو اللہ کے لیے… میں تمہارے اور بچوں کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہوں… تم لوگ میری زندگی ہو۔ میں تمہیں یوں بکھرتا نہیں دیکھ سکتی…‘‘ فجر حازم کو بچوں کی طرح لپٹاتے ہوئے حوصلہ دے رہی تھی۔ آج حازم کو اتنا جذباتی اور مجبور دیکھ کر وہ خود بھی ٹوٹ گئی تھی۔ اسے حازم سے عشق تھا، جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ حازم کے لیے کچھ بھی کرسکتی تھی۔ آخرکار بہت سوچ بچار کے بعد حازم نے یہ فیصلہ کرلیا کہ کیٹرنگ کا کام کرنا ہے۔
اسی دوران حازم کو جاب کی آفر آگئی۔ اچھی جاب تھی۔ آگے بڑھنے کے مواقع بھی تھے اللہ کی طرف سے موقع مل رہا تھا۔ فجر کو پتا چلا تو بہت خوش ہوئی۔
’’اللہ پاک نے ہماری سن لی، اب اللہ کا نام لے کر تم اس جاب کے لیے ہامی بھر لو۔ باقی اللہ مزید بہتر کرنے والا ہے۔‘‘
’’جاب میں نہیں کرنا چاہتا یار… مجھ سے جی حضوری نہیں ہوسکتی اس لیے اپنا کام زیادہ بہتر ہے۔‘‘ حازم نے صاف انکار کردیا گویا اب بھی وہ اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا۔ سو ایک بار پھر فجر کو سوالی بن کر ماں‘ باپ کے پاس آنا پڑا۔ دونوں بچے اسکول جاچکے تھے‘ اماں حسب معمول ناشتہ کرکے محلے کے دورے پر جاچکی تھیں۔ کام والی کام کرکے چلی گئی تو فجر نے حازم کو جگایا، اسے ناشتا دیا۔
’’تم… گھر نہیں جا رہیں؟‘‘ حازم نے ناشتہ کرتے ہوئے سر اٹھا کر پوچھا۔
’’بچے آجائیں تو چلی جائوں گی۔‘‘ فجر نے چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’کون سا دو چار دن کے لیے جانا ہے؟ مجھے کام سے جانا ہے صدر… میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں‘ تم رکشے سے واپس آجانا۔ بچوں کے اسکول سے آنے سے پہلے۔‘‘ حازم کی بات پر فجر نے سر ہلایا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر وہ جانے کے لیے تیار ہوگئی۔
’’سنو… رقم کا بندوبست جلدی ہوجائے تو بہتر ہے۔‘‘ گاڑی سے اترتے ہوئے حازم نے جتلایا۔
’’تم بھی آجائو تھوڑی دیر کے لیے۔‘‘ فجر نے اثبات میں سر ہلا کر اندر آنے کی دعوت دی۔
’’نہیں، دیر ہورہی ہے مجھے۔ تم جلدی گھر چلی جانا‘ بچے پریشان ہوجائیں گے صرف اماں کو دیکھ کر۔‘‘ حازم نے ایک بار پھر تاکید کی تو وہ سر ہلا کر اندر کی طرف چلی گئی۔
زہرہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئیں‘ رقم بہت زیادہ تھی۔
’’آپی… تم کہہ رہی تھیں ناں اچھی جاب کی آفر آئی ہے تو حازم بھائی جاب کیوں نہیں کرلیتے۔‘‘ اسی وقت منہا بھی کمرے میں آگئی تھی۔
’’ان کا دل نہیں لگتا جاب میں مائنڈ اپنے کام کی طرف ہے ناں…‘‘
’’معاف کیجیے گا آپی… ان کا مائنڈ کام کی طرف ہے ہی نہیں کیونکہ ان کو عادت ہوگئی ہے مانگنے کی۔ وہ بلیک میلر ہیں۔‘‘ منہا کی بات پر فجر کو یک دم غصہ آگیا۔
’’منہا… یہ کیا بکواس ہے… چھوٹی ہو تم… اس طرح سے بولنے کا کوئی حق نہیں ہے تمہیں… یہ پاپا مما اور میرا معاملہ ہے آیا سمجھ میں؟‘‘
’’نہیں آپی… یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے، پاپا اور مما تو بے چارے اپنی محبت کے آگے مجبور ہیں‘ خصوصاً مما جو پاپا سے چھپا کر بھی تمہاری ہیلپ کرتی ہیں مگر ہر بات کی حد ہوتی ہے… حازم بھائی کی عادت مزید خراب مت کرو ایک بار منع تو کرکے دیکھو… ان کو خود بھی کچھ کرنے دو۔‘‘
’’منہا… تم چپ کرو۔‘‘ زہرہ بیگم جواب تک چپ تھیں‘ فجر کی شکل دیکھ کر منہا سے مخاطب ہوئیں۔ فجر رونے والی ہورہی تھی۔
’’میں منع نہیں کرسکتی منہا… تم کو اندازہ نہیں ہے کہ شادی کے بعد لڑکی کو کن کن دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کیسے کیسے لوگوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے اور پھر… اولاد ہو جائے تو اس کے پیروں میں مزید زنجیریں پڑجاتی ہیں… اللہ نہ کرے اگر تم ان سے گزرو تو اندازہ ہوگا کہ میں اس وقت کیسی نازک صورت حال سے گزر رہی ہوں… ایک بیٹی کی بات الگ ہوتی ہے لیکن جب وہی بیٹی بیوی اور ماں بن جاتی ہے تو اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ وہ ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔ مجبور اور بے بس ہوجاتی ہے۔ اگر شوہر کی نہ سنے تو نافرمان اور بچوں کا خیال نہ کرے تو لاپروا ہونے کا طعنہ مل جاتا ہے۔ میں اسی دوراہے پر کھڑی ہوں، حازم ایک جذباتی انسان ہے اور میں ایک ماں ہوں۔ مجھے میرا گھر، میرا شوہر اور بچے بہت عزیز ہیں اور ان کے لیے… میں کچھ بھی کرسکتی ہوں… یہ تو میرے ماں باپ ہیں، ان سے مانگنے میں شرم کیسی… یہ میرا حق ہے۔‘‘ فجر کے لہجے میں بے بسی کے ساتھ ساتھ استحقاق تھا… زہرہ بیگم سر تھامے بیٹھے تھیں۔
’’تمہاری اسی کمزوری کا فائدہ تو وہ چالاک شخص اٹھا رہا ہے… وہ تمہیں بچوں کے حوالے سے بلیک میل کررہا ہے آپی… تم کیوں نہیں سمجھ پا رہی ہو۔ وہ نکما اور نکھٹو شخص ہے۔ پلیز برا نہ ماننا مگر یہی سچائی ہے۔ انہیں تمہاری کمزوری کا پتا چل گیا ہے اور وہ اسی کمزوری کو بیس بنا کر اپنا الو سیدھا کررہے ہیں۔ حازم بھائی شاطر کھلاڑی ہیں اور تم ان کے ہاتھوں میں ایک مہرے کی طرح ہو… ایک بار صرف ایک بات ہمت پیدا کرکے سختی سے انکار کردو… وہ کچھ نہیں کرسکتے صرف اور صرف دھمکاتے ہیں تمہیں۔‘‘ منہا، فجر کے پاس آبیٹھی اور اس کے ہاتھوں کو تھام کر نرم اور دھیمے لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی، زہرہ بیگم حیرت سے منہا کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ چھوٹی سی لڑکی بڑے پتے کی بات کررہی تھی۔
’’منہا… تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا۔ کیا اول فول بکے جا رہی ہو… مما دیکھ رہی ہیں اسے‘ کیسی زبان چل رہی ہے اس کی‘ اتنی بڑی کب سے ہوگئی یہ‘ شرم نہیں آتی بڑے بہنوئی کے بارے میں اتنی منفی باتیں کرتے ہوئے… وہ جیسا بھی ہے‘ شوہر ہے میرا اور میں یہ ہرگز برداشت نہیں کرسکتی کہ کوئی اسے یوں برا بھلا کہے۔‘‘ فجر کا صبر جواب دینے لگا تھا۔
’’فجر بیٹی… تم ہماری بچی ہو‘ تمہاری پریشانیاں ہماری پریشانیاں ہیں لیکن… ایک بار ٹھنڈے دل سے منہا کی بات پر غور تو کرکے دیکھو۔ پیسہ دینے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن… ایک شادی شدہ مرد کو اتنا غیر ذمے دار نہیں ہونا چاہیے‘ تھوڑا بہت تو کوئی بھی کرسکتا ہے مگر… مکمل دوسروں پر بھروسا کرکے زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔‘‘ زہرہ بیگم کی بات پر فجر کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’مما… آپ بھی یہ کہہ رہی ہیں… میرا خیال نہیں ہے آپ کو‘ میری سچویشن کیا ہے یہ اندازہ ہے نہیں آپ کو؟‘‘
’’سارے اندازے ہیں مجھے اسی لیے بہت سوچ بچار کے بعد یہ بات کررہی ہوں… تمہاری سچویشن اچھی طرح سے جانتی ہوں… تمہیں تھوڑا سا مضبوط بننا ہوگا۔ اپنے لیے نہ سہی مگر اپنی اولاد کے لیے…‘‘ زہرہ بیگم نے کہا۔
’’اولاد ہی تو ہے جس کے لیے مجھے اتنی ذلت برداشت کرنا پڑ رہی ہے مما… چھوٹے بڑوں کے طعنے سننے پڑ رہے ہیں… یہی کمزوری ہے جس نے مجھے بے غیرت بنا دیا ہے۔‘‘ فجر کے لہجے میں طنز تھا، اس نے کھا جانے والی نظروں سے منہا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم غلط سمجھ رہی ہو آپی… میں یا مما تمہارے دشمن نہیں… ہم تو صرف تمہیں صحیح اور غلط بتانا چاہ رہے ہیں۔ حازم بھائی فطرتاً بزدل شخص ہیں وہ کچھ بھی نہیں کریں گے… وہ صرف اور صرف تمہیں ڈراتے ہیں۔ وہ تمہاری نفسیات سے واقف ہیں، اسی لیے تمہاری محبت اور تمہاری معصومیت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ پاپا اور مما نے اپنے رشتے کے حساب سے تمہیں اور بچوں کو جو کچھ دیا اسی سے حازم بھائی سمجھ گئے کہ تمہیں میکے سے سپورٹ مل سکتی ہے… اب ان کے ہاتھ پیسے حاصل کرنے کا آسان طریقہ ہے۔ وہ تمہیں استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں… تم ایک کٹھ پتلی کی مانند ان کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچ رہی ہو اور اس بات سے بے خبر ہوکہ کب تک ایسا کب تک چلے گا۔ پاپا کتنی سپورٹ کریں گے؟ تم اور بچے حازم بھائی کی ذمہ داری ہو پاپا کی نہیں… پاپا جو کرتے ہیں محبت اور رشتے کے لحاظ سے کرتے ہیں۔ یہ ان کے فرائض میں شامل نہیں۔ ہزار دو ہزار کی نہیں ہمیشہ لاکھوں کی بات ہوتی ہے۔ پاپا ہم سب سے دور اس لیے تو نہیں بیٹھے کہ ہٹے کٹے داماد کو پالتے رہیں…‘‘
’’منہا… حازم مجھے طلاق دے دے گا… بچے رکھ لے گا… تمہیں اندازہ نہیں وہ جذباتی انسان ہے۔‘‘ فجر نے بے بسی سے کہا۔
’’ایسا کچھ نہیں ہوگا… کچھ نہیں کریں گے وہ… صرف گیدڑ بھپکیاں ہیں اور کچھ نہیں۔ دو دن نہیں سنبھال سکتے وہ بچوں کو۔‘‘ منہا نے قطعیت سے کہا۔
’’مما… اس کا تو دماغ خراب ہوگیا ہے… مجھے آپ سے جواب چاہیے کہ کب تک میرا کام ہوجائے گا؟‘‘ فجر نے منہا کی طرف ناگواری سے دیکھتے ہوئے زہرہ بیگم کو مخاطب کیا۔
’’ایسا کرو فجر… ابھی تم حازم سے کہہ دو کہ میں تمہارے پاپا سے بات کرکے جواب دوں گی لیکن منہا کی باتوں پر غور ضرور کرنا بے شک وہ چھوٹی ہے مگر اس کی بات میں دم ہے۔‘‘ فجر نے ایک ناگوار سی نظر منہا پر ڈالی اور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ اسی وقت فجر کا موبائل بجنے لگا۔ اسکرین پر حازم لکھا آرہا تھا۔ فجر بدستور واش روم میں تھی۔ فون بند ہوگیا‘ ایک منٹ بعد دوبارہ کال آگئی۔
’’منہا تم اٹھا کر بات کرلو۔‘‘ زہرہ بیگم نے کہا تو منہا نے کال ریسیو کی۔
’’کیا مصروفیت ہے کیا آسٹریلیا چلی گئی تھیں پیسے لینے… کب سے کال کررہا ہوں۔ یہ بتائو پیسے کب تک ملیں گے۔ مجھے یہاں پارٹی کو ٹائم دینا ہے۔‘‘ کال اٹھاتے ہی دوسری طرف سے حازم کی غصے سے بھرپور آواز سنائی دی۔
’’حازم بھائی… آپی واش روم میں ہیں اور دوسری بات یہ کہ فی الحال پیسوں کا ارینج کرنا ناممکن ہے۔ اس لیے معذرت۔‘‘ منہا نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بات مکمل کی۔
’’کیا…؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ اور کچھ کہتا فجر نے فون منہا کے ہاتھ سے لے لیا۔
’’وہ دراصل مما… نے کہا کہ کچھ وقت لگے گا تھوڑا ویٹ کرلیں۔‘‘ فجر نے جلدی سے بات سنبھالی اور کھا جانے والی نظروں سے منہا کو گھورا‘ منہا منہ بناکر کمرے سے نکل گئی۔
’’کیا بکواس کررہی تھی منہا؟ اور جب تک مجھے ویٹ کرنا ہے اتنے دن تم بھی اپنے میکے میں رہ کر ویٹ کرو۔ اپنے بچوں کا اور میرا آئی سمجھ…؟‘‘ وہ سفاکی سے بولا۔
’’حازم… کیا کہہ رہے ہو؟ منہا کو ساری بات کا پتا نہیں اور ہوجائے گا بندوبست تم… پلیز ایسے تو مت کہو… میں بس نکل رہی ہوں، آرہی ہوں گھر۔‘‘ وہ جلدی سے وضاحت دینے لگی۔
’’مجھے وضاحت کی نہیں اس وقت پیسوں کی ضرورت ہے اور تم اس وقت تک میرے گھر قدم نہیں رکھو گی جب تک میں نہ کہوں۔‘‘
’’حازم… تم… پاگل ہوگئے ہو کیا… دعا اور افلاک میرے بغیر کیسے رہیں گے اور میں ایک پل بھی نہیں رہ سکتی پلیز… بس میں آرہی ہوں…‘‘
’’فجر[ اچھی طرح سے سوچ کر فیصلہ کرلو… میرے لیے کچھ مشکل نہیں… نہ بچے سنبھالنا اور نہ ان کو پالنا بغیر کام کے واپس آنے کا سوچنا بھی نہیں… میں نہیں چاہتا کہ ہاتھ پکڑ کر اور کاغذ تھما کر تمہیں گھر سے باہر نکالوں… آئندہ نہ مجھ سے بات کرنا اور نہ ہی بچوں سے رابطہ کی کوشش کرنا اگر ایسا کیا تو… انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی… آئی سمجھ۔‘‘ کال بند ہوگئی۔
’’مما… مما…‘‘ فجر دیوانہ وار باہر کی جانب بھاگی جہاں زہرہ بیگم نوکرانی سے صفائی کروا رہی تھیں۔
’’مما… میں مر جائوں گی مما… مجھ پر رحم کریں… مجھے جیتے جی نہ ماریں… منہا نے حازم کو کیا کہہ دیا وہ بہت ناراض ہے… اس نے مجھے وارننگ دی ہے…‘‘
’’ارے… ارے کیا ہوگیا ہے‘ حوصلہ رکھو فجر… یوں واویلا کیوں کررہی ہو؟ ایسا کیا کہہ دیا منہا نے اور حازم نے تمہیں…‘‘
’’مما… میں نے ایسا کچھ غلط نہیں کہا حازم بھائی سے… میں نے صرف اتنی بڑی رقم فی الحال ارینج کرنے سے معذرت کی ہے۔‘‘ شور کی آواز سن کر منہا بھی اپنے کمرے سے باہر آگئی تھی۔
’’مگر تمہیں ضرورت ہی کیا تھی کہنے کی… تم کون ہوتی ہو‘ گھر کے فیصلے تم کروگی اب۔‘‘ فجر منہا پر برس پڑی۔
’’آئی ایم سوری آپی… مگر اب پاپا نے کچھ رقم کاروبار کے لیے اور کچھ میری شادی کے لیے رکھی ہے۔ آپ اپنے حصے سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ لے چکیں اور لے رہی ہیں اس لیے اتنی بڑی رقم کا مطالبہ کرنے سے پہلے ایک بار آپ کو بھی سوچنا چاہیے… حازم بھائی سے کہہ دیں کہ اب یہ سلسلہ بند ہوگیا ہے۔‘‘
’’منہا… تم بکواس بند کرو اپنی… تم میری بہن ہو یا دشمن‘ کیوں میرا گھر اجاڑنے پر تلی ہوئی ہو… کیوں میرے ساتھ دشمنی کررہی ہو؟‘‘ فجر منہا کی طرف پلٹ کر غصے سے چنگھاڑی۔
’’آپی… میں آپ کی دشمن نہیں ہوں… اللہ کے لیے میری بات سمجھنے کی کوشش کریں… ورنہ ساری عمر پچھتائیں گی‘ آج ذرا سی ہمت کرلیں حازم بھائی کے سارے دعویٰ اور دھمکیاں ہوا نہ ہوجائیں تو کہنا… وہ صرف اور صرف آپ کو اور بچوں کی آڑ میں بلیک میل کررہے ہیں اور اس طرح کرتے کرتے گزشتہ پانچ، چھ سالوں میں وہ اس کے عادی ہوچکے ہیں‘ وہ پل پل آپ کو ٹارچر کررہے ہیں، کبھی پیار سے، کبھی جذباتی ہونے کا ڈراما کرکے اور کبھی کبھی… ڈرا دھمکا کر… باقی اندر سے وہ بالکل کھوکھلے ہیں… بچوں کو رکھنے کا کہہ کر وہ آپ کو جذباتی کردیتے ہیں‘ ایک بار… صرف ایک بار… آپ بھی کہہ دیں کہ ٹھیک ہے رکھ لو بچے… مگر آج کے بعد سے گھر، بچے اور میں صرف تمہاری ذمہ داری ہوں… ایک بار ہمت کرکے دیکھیں… آپی… آپ کی ساری زندگی پڑی ہے ابھی… اللہ پاک مما، پاپا کو زندگی دے… کل کو انہیں کچھ ہوجا تاہے تو… پھر… پھر کیا ہوگا؟ یہ سوچا ہے کبھی‘ اس بے حس شخص کو تو بیٹھ کر کھانے کی عادت ہے‘ میری بات کا برا نہ ماننا آپ‘ میری بہن ہیں آپ افلاک اور دعا میرے اپنے بچے ہیں… میں آپ کا بھلا چاہتی ہوں‘ حازم بھائی کو سیدھا کرنا چاہتی ہوں‘ آئندہ کے لیے وہ جو ہتھیار تمہارے لیے استعمال کررہے ہیں… وہی ہتھیار ایک بار صرف ایک بار ان کے خلاف اٹھا کر تو دیکھیں‘ ذرا سا برداشت کرکے… ذرا سی ہمت اور حوصلہ پیدا کرکے دیکھیں‘ مجھے غلط یا دشمن مت سمجھیںآپی۔‘‘ منہا فجر کے پاس بیٹھ کر اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر سادہ لفظوں میں سمجھا رہی تھی۔ منہا کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے‘ زہرہ بیگم وہاں سے اٹھ کر کمرے میںچلی گئی تھیں۔ فجر نے ایک گہری نظر منہا پر ڈالی اور اٹھ کر تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
’’یہ کیا کہہ رہی ہو تم فجر…! تم پاگل ہوگئی ہو؟ میں تو… تمہیں اپنے بچوں کا ہی خیال نہیں… کیسی ماں ہو تم… تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو۔ تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو کہ تم بچوں کے بنا رہ سکتی ہو…؟‘‘ حازم حیرت اور غصے سے پاگل ہورہا تھا۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فجر اتنا بڑا فیصلہ کر سکتی ہے‘ اسے پکا یقین تھا کہ فجر اسے پیسوں کی خوشخبری سنائے گی لیکن یہاں تو سب کچھ الٹا ہوگیا تھا‘ حازم کی توقع کے بالکل برعکس فجر نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا۔
’’حازم میں اس بار رقم نہیں لاسکتی اب آپ کی مرضی میں اپنا نصیب سمجھ کر رب کی رضا پر راضی رہوں گی… اگر میرے نصیب میں اولاد سے دوری لکھ دی گئی ہے تو میں آپ کے اس فیصلے پر سر جھکا دوں گی۔‘‘ فجر کی بات اور انداز نے حازم کے پیروں تلے کی زمین کھینچ لی تھی۔ اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔ یہاں تو بازی ہی پلٹ چکی تھی۔ وہ ایک شاطر کھلاڑی تھا۔ اس نے زندگی کو شطرنج کی بساط کی طرح گزار نے کا فن سیکھ لیا تھا اور ہمیشہ وہ ہر چال ایسی چلتا کہ فجر کو مات دے دیتا لیکن آج فجر کی مستقل مزاجی سے اس کے حواس باختہ ہوگئے تھے۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ فجر کی طرف سے اتنا کرارا جواب ملے گا۔ فون بند کرکے اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ جب کہ بچے اسکول سے آکر کھانا کھا کر سو رہے تھے۔ بڑی مشکل سے بچوں کو سنبھالا تھا، یہی کہہ کر کہ مما تھوڑی دیر میں آجائیں گی مگر فجر کی بات سن کر اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔
’’پاگل ہوگئی ہے کیا؟ کس طرح رہیں گے بچے ماں کے بنا… تو بھی پاگل ہوگیا ہے حازم… کیا ضرورت تھی بھلا فضول دھمکیاں دینے کی۔ اب کیا ہوگا؟‘‘ اماں نے ساری بات جان کر حازم کی طرف دیکھ کر غصے سے سوال کیا۔
’’ارے اماں… مجھے کیا پتا تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کرلے گی… ہمیشہ کی طرح عام سی بات کی تھی میں نے‘ ہمیشہ وہ گھبرا جاتی تھی‘ خوف کے مارے اس کا رنگ پیلا پڑ جاتا اور کسی بھی طرح وہ بات مان لیتی تھی۔ یہی سوچ کر کہا تھا مگر اس بار پتا نہیں کیا ہوگیا اسے‘ کہاں سے اتنی ہمت آگئی اس کمینی عورت میں۔‘‘ حازم اور اماں سر پکڑے بیٹھے تھے۔ واقعی فجر واپس نہ آئی تو بچوں کے اخراجات کا کیا ہوگا‘ ساتھ بچوں کو سنبھالنا اور ان کی ذمہ داری آسان کام نہ تھا۔ ایک دن دو دن تین دن… بچوں کو بہلاواہ دیتے دیتے دن گزر رہے تھے۔
’’مما ہاسپٹل میں ہیں آجائیں گی۔‘‘ پانچ سالہ دعا اور چار سالہ افلاک کو سنبھالتے اماں ہلکان ہوجاتیں تب پریشان ہوکر حازم کی کلاس لینے لگتیں‘ حازم کی خود سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کرے تو کیا کرے… ایک طرف ہٹ دھرمی، نمک حرامی اور مفت خوری تھی تو دوسری جانب انا برقرار تھی… پریشانی دونوں طرف تھی مگر نوعیت الگ الگ تھی۔
…٭٭٭…
دو ماہ میں حازم کے سارے کس بل نکل گئے تھے۔ بچوں کی طرف سے کوئی الجھن ہوتی نہ گھر کے اخراجات کے حوالے سے کوئی پریشانی… رفتہ رفتہ حازم کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا۔ بچے توبچے تھے۔ کبھی کہتے کہ مما سے بات کرنی ہے، کبھی کہتے ان کے پاس جانا ہے، نانو اور خالہ کے پاس جانا ہے اور حازم الٹے سیدھے بہانے بنا بنا کر کبھی پیار سے تو کبھی ڈانٹ ڈپٹ کر اور ڈرا کر چپ کروا دیتا مگر رات کو بستر پر لیٹتا تب اسے بچوں پر ترس آتا‘ ان کا بھلا کیا قصور تھا۔ اس کی سوچ کا انداز بدلنے لگا تھا‘ ایک روز اسی پریشانی میں اس نے اپنی پہلے والی زندگی کے بارے میں سوچا جب وہ جاب کرتا تھا۔ اچھی بھلی گزر رہی تھی۔ فجر سے شادی بھی اس کی اپنی پسند سے ہوئی… فجر امیر گھر کی لڑکی تھی سو کچھ اماں کی طرف سے احساس دلانے پر اور کچھ دوست احباب کے احساس دلانے پر اس کو بھی یہ بات اچھی لگی کہ تگڑا سسرال ہے۔ آگے پیچھے کوئی نہیں تو کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے… بس برائی یہیں سے شروع ہوئی۔ رفتہ رفتہ وہ ہر وقت منہ پھاڑ کر مانگنے والا اور کام چور بنتا گیا… اسے بغیر محنت کے پیسہ کمانے کی عادت ہوگئی تھی۔ ایک بار دو بار تین بار، بار بار وہ سوالی بنتا گیا… اپنا حق سمجھ کر سسرال کے پیسوں پر پلنے کی عادت ہوگئی تھی لیکن اب اسے سب کچھ برا لگ رہا تھا۔ اسے اپنے وجود سے گھن آنے لگی تھی۔ شرم آنے لگی خود پر… جوان اور ہٹا کٹا مرد ہوکر عورت کے بھروسے پر زندگی گزارتا چلا آرہا تھا۔ نہ جانے کیوں اسے بے تحاشہ رونا آگیا۔ اللہ تعالیٰ کسی کا دل بدلنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتا۔ اس کا دل بھی بدل گیا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
دسمبر کے آخری دنوں میں ہونی والی بارشوں نے موسم کی شدت میں اضافہ کردیا تھا اور اس سرد موسم کا اثر افلاک پر بھی ہوا تب ہی اسے بخار نے آلیا… وہ بخار کی حدت میں مسلسل فجر کو یاد کررہا تھا۔ اس کے پپڑی زدہ ہونٹ کپکپا رہے تھے۔
’’مما… مما… مجھے مما کے پاس جانا ہے۔‘‘ وہ ہوش اور بے ہوشی کیفیت میں ٹوٹے پھوٹے جملے ادا کررہا تھا۔ اماں اس کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھیں۔ حازم سر جھکائے گہری سوچ میں غرق تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ سورج کی سیاہی مدھم ہوتے ہوتے تقریباً دم توڑ چلی تھی۔ فجر بتیاں بند کیے بیڈ پر لیٹی تھی۔ وہ عجیب کشمکش میں تھی۔ دل کو کسی طور قرار نہیں آرہا تھا۔ ذہن سوچتے سوچتے مائوف ہونے لگا تھا۔
’’آپی…‘‘ کمرے میں مہنا داخل ہوئی اور بتی جلائی۔
’’آپی… آئی ایم سوری کہ میری وجہ سے آپ کو اتنی تکلیف ہوئی… اللہ کی قسم… میں نے تو صرف اور صرف آپ کی بھلائی کے لیے یہ سب کچھ کیا لیکن اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں غلط ہوں‘ میں نے آپ کے ساتھ غلط کیا ہے تو میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں اور کیونکہ پاپا سے ابھی اتنی بڑی رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتے تو میں اپنے اکائونٹ سے پیسے دے دوں گی۔ یہ لیں چیک… میں نے لکھ دیا ہے… رقم آپ لکھ لیں۔‘‘ منہا نے کمرے میں داخل ہوکر فجر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور میز پر چیک رکھ کر واپس پلٹ گئی۔ تب ہی فجر کا موبائل بجنے لگا۔ فجر نے سائیڈ پر پڑا موبائل اٹھایا اسکرین پر ’’حازم‘‘ نام جگمگا رہا تھا۔
’’ہیلو… ہیلو… فجر میں… تمہیں لینے آرہا ہوں۔ تیار ہوجائو…‘‘ حازم کی بات پر وہ اچھل پڑی۔
’’حازم ابھی… مطلب ابھی تو رقم…؟‘‘
’’پلیز فجر… مجھے رقم کی نہیں… تمہاری ضرورت ہے‘ جو کچھ ہوا سب بھول جائو اور میں بھی سب بھول جانا چاہتا ہوں‘ مجھے‘ میرے بچوں اور میرے گھر کو سکون، محبت اور پیار کی تلاش ہے۔ میں شاید اندھا ہوگیا تھا۔ اب سوچتا ہوں تو گھن آنے لگتی ہے خود سے‘ میرے اندر کا انسان جاگ چکا ہے‘ میں خوش نصیب ہوں کہ اللہ پاک نے مجھے تم جیسی بیوی اور اتنے اچھے بچے دیے‘ میں نے جاب کے لیے ہامی بھرلی ہے۔ ان شاء اللہ کل سال کے پہلے دن سے جاب اسٹارٹ کردوں گا تم، میں اور بچے مل کر نئے سال کا شاندار استقبال کریں گے۔ تم فٹا فٹ تیار ہوجائو۔ بس میں تھوڑی دیر میں پہنچ رہا ہوں۔‘‘ فجر سانس روکے حیرت اور خوشی سے حازم کے الفاظ سماعت میں اتار رہی تھی۔
’’میں بے چینی سے تمہاری منتظر ہوں حازم… جلدی آجائو۔‘‘ اس کے خوشی سے کانپے لبوں سے بہ مشکل نکلا۔
’’مما… مما… منہا کہاں ہو…؟‘‘ وہ تقریباً چیختی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔
’’الٰہی خیر…‘‘ زہرہ بیگم کے ساتھ ساتھ منہا بھی لائونج کی طرف بھاگی آئیں۔
’’مما… مما… حازم مجھے لینے آرہے ہیں، مما انہیں کچھ نہیں چاہیے‘ ان کو اب آپ لوگوں سے کچھ نہیں چاہیے مما… اللہ پاک نے میری سن لی…‘‘ وہ روتی ہوئی مما سے لپٹ گئی۔
’’یااللہ تیرا شکر۔‘‘ زہرہ بیگم کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔
’’آپی بہت مبارک ہو… مجھے یقین تھا کہ حازم بھائی خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔ آپ کی تھوڑی سی ہمت، بہادری اور برداشت کام آگئی… یہ آج سے تین سال پہلے بھی ہوسکتا تھا مگر… چلو جو گھڑی بہتر ہو اللہ پاک وہی مبارک کرے… بہت خوشی ہورہی ہے مجھے کہ حازم بھائی آپ کو لینے آرہے ہیں اور میں اپنے جانو بچوں سے بھی ملوں گی۔‘‘ منہا جذباتی ہوکر فجر سے لپٹ گئی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
نئے سال کی انوکھی اور نئی خوشی ملنے پر فجر بچوں کی مانند خوش ہورہی تھی اور اپنا سامان سمیٹتے ہوئے مسلسل اپنے رب کا شکر اد اکررہی تھی۔
’’سنو… اس چیک پر میری طرف سے اپنے لیے جتنی چاہے رقم لکھ لینا اور میری طرف سے شادی کا تحفہ سمجھ کر رکھ لینا۔‘‘ جاتے ہوئے فجر نے منہا کے کان میں شرارت سے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر چیک اس کے ہاتھوں میں پکڑا دیا۔
’’ہائیں…‘‘ منہا نے آنکھیں پھاڑ کر فجر کی طرف مصنوعی ناراضی سے دیکھا۔ فجر آنکھ دبا کر شرارت سے ہنس دی۔
’’اللہ پاک میرے بچوں کی خوشیاں سلامت رکھے‘ انہیں شاد آباد رکھے اور ہاں ایک اور خوشخبری تمہارے پاپا بھی نیکسٹ ویک آرہے ہیں۔‘‘ زہرہ بیگم نے کہا۔
’’ہُرا…‘‘ منہا کے ساتھ فجر نے بھی خوشی سے زور دار نعرہ لگایا۔
خوشیوں نے بالآخر اس کے دروازے پر دستک دے دی تھی۔ اب وہ حازم اور بچوں کی منتظر تھی جو کسی بھی لمحے پہنچنے والے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close