Aanchal Oct-17

ہمارا آنچل

طلعت آغاز

فصیحۃ الاسلام
ستارے مشعلیں لے کر مجھ کو ڈھونڈنے نکلیں
میں رستہ بھول جائوں جنلگوں میں شام ہوجائے
اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے ہٹ کے چلتے ہیں جو راستہ عام ہوجائے
السلام علیکم! ڈئیر آنچل اسٹاف‘ آنچل رائٹرز اور آنچل قارئین کیسے ہیں آپ سب؟ آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہاں کدھر سے آگئی‘ اوہو چلو میں بتادیتی ہوں کیوں اپنا تعارف کروارہی ہوں‘ اس دفعہ میں میٹرک کے پیپرز سے فارغ ہوکر منصورہ لاہور گئی تو وہاں میری سب سے دوستی ہوگئی۔ دوستی اور وہ بھی اتنی ساری لڑکیوںکے ساتھ کیسے ہوایہ کہ ایک دن جناب سراج الحق صاحب ہم سے خطاب کرنے کے لیے تشریف لائے‘ تو کمپیئرنگ کے فرائض میں نے سر انجام دیئے۔ اس وقت سب لڑکیاں آکر مجھے مبارک باد دینے لگیںکہ بہت اچھی کمپیئرنگ کی‘ وہاں ہر شب داری میں کوئی نہ کوئی مقابلہ ضرور ہوتا‘ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں نے حسن قرأت مقابلہ میں پہلی پوزیشن لی‘ بس پھر کیا تھا مجھے ایک منٹ لڑکیوں سے فرصت نہ ملتی پھر لڑکیاں مجھے کہنے لگیں کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ آپ ایک اچھی مقررہ کے ساتھ اچھی شاعرہ اور رائٹر بھی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آنچل میں ضرور کچھ لکھوں گی کیونکہ میں بچوں کے رسالوں میں اسٹوریز لکھتی تھی سب نے کہا پہلے ہمارا آنچل میں اپنا پورا تعارف لکھنا چاہیے اور وہ آج یہ حاضر ہے‘ ارے یہ کیا آپ تو غصہ کرنے لگے کہ میں نے کیا شروع کردیا۔ میرا نام فصیحۃ الاسلام ہے‘ آزاد کشمیر کے ایک علاقہ دھیر کوٹ میں رہتی ہوں۔ 17 مئی 2001ء کی طلوع ہوتی صبح پانچ بجے روشنی کے ساتھ میں اس دنیا میں تشریف لائی‘ میری پھوپو حسینہ مشکور نے میرا نام رکھا خاندان میں سب کی بے حد لاڈلی ہوں‘ ہم تین بہنیں ایک بھائی ہے۔ میں اپنے بابا کی سب سے زیادہ لاڈلی ہوں‘ پری میڈیکل کی طالبہ ہوں‘ قلمی نام فلک ہے جو مجھے بے حد پسند ہے‘ دوستی بہت جلدی کرلیتی ہوں۔ پسندیدہ دینی کتاب قرآن مجید ہے‘ پسندیدہ شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علہ وسلم ہیں‘ پسندیدہ شاعر ڈاکٹر علامہ اقبال‘ پسندیدہ ہیرو قائد اعظم ہیں۔ ایک بزم ’’نیکی کے ہم لوگ سپاہی‘‘ کی صدر کشمیر ہوں‘ یہ ایک ایسی بزم ہے جو نوجوان طالبات کی صلاحیتیں نکھارتی ہے ہر طرح کے پروگرامز کرواتی ہے اور طالبات میں پڑھائی کا شعور بیدار کرتی ہے اگر کشمیر میں سے کوئی اس بزم میں آنا چاہے تو موسٹ ویلکم اور پاکستان میں اس کی صدر ڈاکٹر ارفع رحمان اور ڈاکٹر طاہرہ قمر ہیں۔ مزے کی بات اس بزم کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بارش بے حد پسند ہے‘ کھانے میں بریانی‘ پہننے میں فراک‘ گائون اسکارف‘ پھولوں میں گلاب پسند ہے۔ رنگ اور بریسلیٹ پسند ہیں‘ کھیلوں میں صرف کرکٹ پسند ہے‘ کرکٹر شاہد فریدی اور محمد عامر پسندیدہ ہیں۔ میری بیسٹ فرینڈ سعدیہ امتیاز‘ ماہر ہ نذر‘ عینہ صابی‘ مریم نذیر اور یسریٰ ہیں۔ شاعری سے بے حد لگائو ہے خود بھی اچھی شاعری کرلیتی ہوں‘ مجھ میں خوبی ہے یا نہیں ہے لیکن منافق نہیں ہوںمیرا دل شیشہ جیسا ہے‘ پسندیدہ رائٹر سمیرا شریف‘ فاخرہ گل‘ اقرأ صغیر‘ ڈاکٹر شگفتہ نقوی اور قانتہ رابعہ ہیں۔ رنگوں میں سفید اور پنک پسند ہیں‘ مطالعہ کرنا میری عادت ہے‘ آنچل کا بہت بے چینی سے ہرماہ انتظار ہوتا ہے اگر کوئی کشمیر آنا چاہے تو میزبانی کے لیے ہم حاضر ہیں‘ دنوں میں ہفتہ کی شام اچھی لگتی ہے کیونکہ دوسرے دن کالج کی چھٹی ہوتی۔ میری تمام فرینڈز جو آنچل پڑھتی ہیں ان سب کو خصوصی سلام اور مہوش شاہد‘ زوبیہ چوہدری‘ قدسیہ بتول‘ طیبہ حمید‘ قدسیہ سراج الحق‘ عائشہ ظہور اور لاہور والی‘ ملتان والی‘ چکوال والی اتنے نام ہی نہیں آتے (ہاہاہا) آپ سب کو میں بہت مس کرتی ہوں‘ دیکھا آپ سب نے میں نے کتنا جلدی اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنا تعارف آنچل میں بھیج دیا‘ اللہ حافظ۔
شمع شکیل
سب سے پہلے آنچل کی تمام شہزادیوں کو السلام علیکم! کیسی ہیں؟ کافی عرصے سے میں سوچ رہی تھی کہ آپ سب کو اپنی ذات سے متعارف کروائوں مگر اسٹڈیز میں مصروف تھی تو جناب جیسے ہی پڑھائی میں بریک آیا تو سوچا کہ کیوںنہ آنچل میں انٹری دوں۔ تو جناب آتے ہیں اپنے تعارف کی طرف‘ مابدولت کو شمع کہتے ہیں میں بائیس نومبر کو اس فانی دنیا میں جلوہ افروز ہوئی۔ میرا تعلق پنجابی فیملی سے ہے‘ میں انٹر کی اسٹوڈنٹ ہوں‘ ہم چار بہنیں ہیں اور ایک بھائی‘ میرا نمبر سب سے آخری ہے۔ بھائی اور بہنیں شادی شدہ ہیں اور میں (آہم)منگنی شدہ۔ میوزک سننا سخت ناپسند‘ کتابوں سے پیار ہے۔ کتابیں پڑھنے کی اس حد تک شوقین ہوں کہ میں نے چنگیز خان اور دجال کی ہسٹری تک کو نہیں چھوڑا (ہاہاہا) گھومنے پھرنے کا بالکل شوق نہیں ہاں البتہ اپنے ’’اُن‘‘ کے گھر بھاگی بھاگی جاتی ہوں (حیران مت ہوں یار میرے ماموں جان کا گھر بھی تو ہے)۔ اب تھوڑا اپنی نیچر کی طرف آتی ہوں‘ میں مذہب کی کسی حد تک پابند ہوں‘ سر ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتی ہوں‘ لباس میں قمیص شلوار پسند ہے۔ پسندیدہ شخصیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے اور مجھے خواب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کا شرف بھی حاصل ہے۔ میں دوستیں بہت کم بناتی ہوں‘ دوستوں میں اقرأ مہوش اور عارفہ میری جان ہیں ان سب کا میرے مزاج کا بارے میں کہنا ہے کہ میں بہت معصوم ہوں اور کسی سے ناراض نہیں ہوتی (واہ یار خوش کردیتا جے) جہاں تک خوبیوں اور خامیوں کی بات ہے تو میں بہت اسٹریٹ فارورڈ ہوں غصے کی تیز مگر دل کی بہت اچھی ہوں (یہ میری ذاتی رائے ہے) میں فطرتاً شرمیلی ہوں۔ پسندیدہ رائٹز میں اقرأ صغیر احمد ‘ عفت سحر طاہر اور ام مریم ہیں۔ پسندیدہ ناولز میں ’’بہاروں کے سنگ سنگ‘ محبت دل پر دستک‘‘ اور ’’یہ چاہتیں یہ شدتیں‘‘ ہیں۔ ٹھہریئے کہیں آپ میری عادات و اطوار کے ڈھائی صفحات پڑھ کر بور تو نہیں ہوگئے؟ کوئی بات نہیں یار میں مزید لکھنے سے گریز ہی کروں گی سب کے لیے ڈھیروں دعائیں۔ آخر میں ایک درخواست ہے کہ پلیز بتایئے گا ضرورکہ مجھ سے مل کر آپ سب کو کیسا لگا‘ اللہ حافظ۔
روبینہ کوثر
السلام علیکم! آنچل سے وابستہ تمام لوگوں کو محبت بھرا سلام۔ کیوں اتنی حیران و پریشان ہو رہی ہو‘ جی یہ میں ہی ہوں آپ کی لاڈلی فرینڈ روبینہ‘ میں کہروڑ پکا کے چھوٹے سے شہر میں پیدا ہوئی۔ اب بستی ملوک میں رہتی ہوں‘ میرے نک نام بہت زیادہ ہیں میرے ابو مجھے بگو (یعنی) گوری کہتے ہیں۔ دوسرے لوگوں سے جب ملتی ہوں تو پوچھتے ہیں پٹھان ہو‘ میری فیملی اور میری فرینڈز مجھے روبی کہتے ہیں‘ اسکول میں میری فرینڈز مغرور اور نک چڑی کہتی تھیں۔ اب مجھے ملانی کا خطاب دیا جاتا ہے ۔ ڈیٹ آف برتھ مجھے نہیں پتا لیکن میری مما کہتی ہیں تیز دھوپ اور گرمیوں میں پیدا ہوئی‘ ہم چھ بہن بھائی ہیں مجھے چھوٹے بھائی سے بہت زیادہ پیار ہے اور بھائی ندیم بہت زیادہ کیئرنگ اور نائس ہے۔ بھائی ندیم کو میں بہت زیادہ تنگ کرتی ہوں لیکن بھائی نے کبھی غصہ نہیں کیا۔ تینوں بھائیوں کو میں آئی لو یو کہتی ہوں‘ چھوٹی سسٹر ثمینہ پلیز غصہ کم کیا کرو اور رویا بھی نہ کرو‘ کائنات میری بھانجی ہے جس کو میں نے ماں بن کے پالا۔ اب وہ مجھ سے بہت دور ہوگئی ہے تو اب بات کرتی ہوں اپنے بارے میں‘ اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے مجھے مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور اللہ عزوجل کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے کہ میں پاک ملک پاکستان میں رہتی ہوں تعلیم بہت کم ہے لیکن ٹیچنگ کرتی ہوں۔ ڈاکٹر بننے کا خواب تھا جو پورا نہ ہوسکا۔ میری زندگی میں بہت مشکل مسائل آگئے تھے ۔
اس زندگی سے کیا شکوہ کروں اب
میں نے تقدیر سے سمجھوتہ کرلیا ہے اب
حساس دل ہوں کسی کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی وہ اس لیے کہ مجھے میری آنکھوں میں آنسو پسند نہیں۔ غصہ بہت آتا ہے جس کو ختم کرنے کے لیے رونا شروع کردیتی ہوں۔ میری دوست صرف آنچل اور تنہائی ہے‘ نعت اور قوالی سننا اچھا لگتا ہے‘ پانچ نعتیں لکھ چکی ہوں‘ میوزک بہت کم سنتی ہوں جب اداس ہوتی ہوں تو غزل اور شعر لکھنا شروع کردیتی ہوں۔
ناپوچھوں میرے اس دل کا حال اور میری جاناں
تیرے دور جانے کے بعد اس دل نے بہت درد سہے
اب تُو نہیں تو یہ دنیا عجیب نظروں سے دیکھتی ہے
جیسے کہہ رہی ہو تُو نے کیا کھویا کیا پایا اس کی چاہت میں
جھیل سیف الملوک دیکھنے کا خواب ہے شاید یہ کبھی پورا نہ ہوسکے۔ اب بات ہوجائے کچن کی اگر پیار سے کوئی کہے تو سارا کام کرلیتی ہوں‘ غصہ میں صرف مما کی اور بھائی ندیم کی بات مان لیتی ہوں۔ کھانے میں میٹھا بالکل پسند نہیں‘ مما کی ڈانٹ سے تھوڑا بہت کھالیتی ہوں۔ نمکین ڈش میں سب شوق سے کھالیتی ہوں‘ مجھ میں خامیاں بہت ہیں‘ ایک بتادیتی ہوں اعتبار بہت جلد کرلیتی ہوں اس طرح دھوکہ بھی کئی بار کھایا۔ چوڑیاں پہننا بہت اچھا لگتا ہے‘ میک اپ بالکل پسند نہیں ‘ ڈریس جیسا بھی ہو پہن لیتی ہوں۔ فراک پہن کر تو میں بالکل پٹھانی لگتی ہوں‘ سب سے پیاری ہستیاں جو مجھے دل و جان سے پسند ہں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ حضرت فاطمہؓ، حضرت عائشہؓ ہیں کبھی کبھی تو میں سوچتی ہوں اگر میں اس زمانے میں پیدا ہوتی تو اتنی پیاری اور عظیم ہستیوں کو دیکھ سکتی۔
اس دل میں کیا ہے یہ تو انسان کچھ نہیں جانتا
جانتا وہ ہی ہے جس نے میری تقدیر لکھی
اللہ عزوجل سے ہر وقت یہی دعا ہے مرنے سے پہلے ایک بار خانہ کعبہ کی زیارت کرادے اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب کردے۔ رائٹرز میں سمیرا شریف اچھی لگتی ہیں اور فاخرہ گل‘ عائشہ نور پسند ہیں۔بارش میں بھیگ کراچھا محسوس کرتی ہوں‘ سردیوں کا موسم جنون کی حد تک پسند ہے۔ گلاب کے پھولوں کی خوشبو بہت دیر تک سونگھ کر محسوس کرنا اور گیلی مٹی سے کھیلنا اچھا لگتا ہے۔ اونچے اونچے پہاڑوں کو دیکھنا اور ان پر چڑھنے کا بہت شوق ہے‘ اپنے بارے میں بہت کچھ بتانا چاہتی ہوں پھر کبھی موقع ملا تو ضرور بتائوں گی۔ آخر میں سب سے یہی کہوں گی سب مسلمان پانچ وقت کی نماز ادا کرکے اپنے گناہوں سے توبہ کرلو‘ کب اور کس وقت یہ سانس تھم جائے یہ کوئی نہیں جانتا‘ اپنے رب کو راضی کرلو‘ ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹو‘ والدین کی عزت کرو۔
مجھے اس کے آنسو اس سے جدا نہیں ہونے دیتے
اور یہ زمانہ مجھے اس کا ہونے نہیں دیتا
میرا تعارف کیسا لگا ضرور بتایئے گا‘ اللہ حافظ۔
عائشہ اشرف
آنچل کی تمام قارئین کو پھولوں سا مہکتا پرندوں سے چہکتا‘ بادلوں کی طرح گرجتا‘ بارشوں کی طرح برستا‘ سورج کی طرح چمکتا اور چاند کی طرح پرنور سلام قبول ہو۔ آپ لوگوں کی محفل میں پہلی بار شرکت کررہی ہوں اس امید کے ساتھ کہ مجھے آپ کے درمیان تھوڑی سی جگہ مل جائے گی‘ تو جی مابدولت کو عائشہ کہتے ہیں تو کچھ لوگ پیار سے عاشی بھی کہتے ہیں۔ ہماری تشریف آوری اس دنیا میں 18 مارچ 1994ء کو ہوئی۔ ہماری آمد پر ہوائیں گیت گانے لگیں‘ پریاں رقص کرنے لگیں۔ پھول مسکرانے لگے اور ہر طرف دھماکے ہونے لگے‘ جو ج تک جاری ہیں۔ اوہ آپ لوگ غلط سمجھے میرا بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں‘ میں تو خوشیوں والے دھماکوں کی بات کررہی ہوں جو مجھے پاکر میرے گھر والوں کو ملی۔ میرے گائوں کا نام گنگا پور ہے جو بہت پیارا ہے‘ اسٹار پر بالکل بھی یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی کبھی جاننے کی کوششیں کی کہ میرا اسٹار کون سا ہے۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور میں سب سے بڑی ہوں‘ یف اے دو سال پہلے کیا گے پڑھنے کی اجازت نہیں ملی۔ مجھ سے چھوٹی آئینہ جومیٹرک میں ہے پھر ارسلان جو تھوڑا سا ایب نارمل ہے‘ اس سے چھوٹا انس جو تیسری کلاس میں ہے اور سب سے چھوٹی مناہل جو پانچ سال کی ہے۔ میرا اپنے بہن بھائیوں پر کوئی رعب نہیں بس نام کی بڑی ہوں۔ نصاب کی بکس میں سب سے بُری کتاب انگلش کی لگتی ہے‘ اتنی جلدی تو مجھ پر بے ہوشی کی دوائی اثر نہیں کرتی جتنی جلدی انگلش کی کتاب‘ اسے دیکھ کر ایسی میٹھی نیند آتی ہے کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی۔ آنچل سے میری وابستگی اس وقت سے ہے جب میں میٹرک میں تھی‘ اپنی دوست سے لے کر پڑھا اور اب تک پڑھ رہی ہوں۔ میرا پسندیدہ مشغلہ ڈائجسٹ‘ مختلف بکس پڑھنا اور دیواریں پھلانگنا اور دوسروں کے کان کھانا ہے عمر وعیار‘ ٹارزن ہر کولیس‘ عمران سیریز‘ بچوں کا باغ‘ بچوں کی دنیا‘ جگنو ان کی تو کیا بات ہے یہ سب میں پانچویں کلاس سے پڑھ رہی ہوں اور اب میرے پاس ان سب کی اتنی تعداد ہے کہ ایک چھوٹی سی لائبریری بن سکتی ہے (ہائے دیوانے کا خواب) اور امی کو میری ان سب چیزوں سے کافی الرجی ہے‘ ایک بار میں اکیڈمی سے گھر آئی تو امی میرے ڈائجسٹ اورکہانیوں کو خونخوار نظروں سے گھور رہی تھیں اس سے پہلے کے وہ ان میں سے کسی پر حملہ کرتیں اور کسی کا ناحق قتل ہوتا‘ میں نے موقع واردات پر پہنچ کر اپنی جان پر کھیل کر ان کی جان بچائی اور سلطان راہی کی طرح بھڑک مار کر کہا خبردار امی ان کو ہاتھ نہیں لگانا یہ آپ کی بیٹی کی عمر بھر کی کمائی ہے ان کے بغیر آپ کی بیٹی کچھ بھی نہیں۔ بدلے میں امی نے گھوریوں سے نوازا اور دو تین جھانپڑ میری کمر پر رسید کیے‘ پر میں نے اپنے پیاروں پر آنچ نہیں آنے دی‘ اس وقت سے روز میں صبح سویرے اٹھ کر ان کو دیکھتی ہوں اور سرمہ کا ٹیکہ لگاتی ہوںکہ اللہ ان کو نظر بد سے بچائے اور امی کو میرا ان کے ناز نخرے اٹھانا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔میری مظلومیت کی داستان ارے ارے آپ تو رونے لگ گئیں‘ اب میری امی اتنی بھی ظالم نہیں بس میں ان کو کچھ زیادہ ہی تنگ کرتی ہوں‘ میری پسندیدہ رائٹرز میں نازیہ کنول نازی‘ عفت سحر طاہر‘ اقرأ صغیر احمد اور عمیرہ احمد شامل ہیں۔ پیر کامل ناول کی تو کیا بات ہے‘ عمیرہ جی میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں آپ کی تعریف کروں۔ جی اب آتے ہیں میری خامیوں اور خوبیوں کی طرف تو جی مابدولت حساس‘ فرینڈلی‘ خوش اخلاق‘ خوش مزاج اور معصوم ہیں بقول میری فرینڈ ندا کے عاشی تمہارے چہرے پر بہت معصومیت ہے ویسے اتنی ہو نہیں۔ غلط بات برداشت نہیں ہوتی‘ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ نظر آنے والے لوگ بہت بُرے لگتے ہیں۔ آج کے دور میں کوئی بھی کسی کے ساتھ مخلص نہیں‘ دوغلے جھوٹے اور انا پرست لوگ بُرے لگتے ہیں۔ گلہ شکوہ کرنے کی عادت نہیں ایک دو بار کسی سے کیا تو منہ کی کھانی پڑی۔ زیادہ دکھ بھی تو اپنے ہی دیتے ہیں ویسے بھی جن لوگوں کو بن کہے احساس نہیں ہوتا ان کو کہنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہر وقت ہنستی رہتی ہوں اور بولتی بہت زیادہ ہوں بقول میرے ابو کے عاشی کی ہوتے ہوئے ٹی وی کی ضرورت نہیں‘ ٹی وی کی کمی عاشی جو پوری کردیتی ہے اس لیے ہمارے گھر ٹی وی نہیں ہے امی اکثر میری حرکتوں سے نالاں رہتی ہیں امی کہتی ہیں کہ اگر کوئی ڈھیٹوں کا ایوارڈ ہوتا تو اس کی حق دار عاشی نے ہونا تھا۔ شرارتی بہت ہوں ہر وقت کچھ نہ کچھ دماغ میں چلتا رہتا ہے۔ دوسروں پر پانی پھینکنا اور سائیکل کی ہوا نکالنا میرا فیورٹ مشغلہ ہے اب بھی جب گلی میں کوئی سائیکل کھڑا دیکھ لوں تو ہاتھوں میں کھجلی ہونا شروع ہوجاتی ہے اور محلے والے آج تک ہوا نکالنے والے چور کو پکڑنے میں ناکام ہیں (ہوشیار جو ہوئی) سفید اور کالا رنگ فیورٹ ہے‘ شلوار قمیص اور بڑا سا دوپٹہ بہت پسند ہے۔ جیولری زیادہ پسند نہیں‘ چوڑیاں اور واچ بہت اچھی لگتی ہے‘ سیٹی بجانے کی بہت عادت ہے کافی بار ڈانٹ کھاچکی ہوں پر کوئی اثر نہیں۔ بہار کا موسم اچھا لگتا ہے ‘ پھولوں کی دیوانی ہوں پہلی تاریخ اور آخری تاریخوں کا چاند دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ کھانے میں دال چاول‘ بھنڈی‘ توری‘ اروی ‘ آئس کریم‘ گول گپے‘ برف کا گولا‘ زردہ‘ متجن اور بچوں سے ٹافیاں چھین کر کھانا بہت پسند ہے۔ کارٹون بہت اچھے لگتے ہیں‘ ٹام اینڈ جیری کی تو کیا بات ہے۔ کھیلوں میں بیڈ منٹن بہت پسند ہے‘ کرکٹ زہر سے بھی زیادہ بری لگتی ہے جب بھی میرے کزنز کرکٹ دیکھنے بیٹھتے ہیں تو میں بھی ساتھ ہوتی ہوں وہ ٹی وی کی طرف دیکھتے ہیں تو میں ان کے چہروں کی طرف ٹی وی بار بار بند کرکے بھاگتی ہوں تو ان کی شکلیں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔میری کزن اور بیسٹ فرینڈ عاصمہ ہے‘ صباء‘ سدرہ‘ ثناء اقرأ اور دیگر کزنوں میں نبیل‘ عدنان‘ ذیشان‘ سلیمان ان سے خوب بنتی ہے۔ خالدہ‘ فاطمہ‘ عربیلا‘ ندا‘ صائمہ بشیر‘ فائزہ‘ عائشہ سلیم اور شکیلہ میری بہت اچھی دوست ہیں۔ صائمہ جی سی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے‘ صائمہ میں تمہیں بہت یاد کرتی ہیں‘ تنہائی پسند نہیں ہوں آنکھوں میں آنسو بہت جلدی آجاتے ہیں۔ کہانی یا فلم میں کوئی ٹریجک سین آجائے تو آنسو بن بلائے مہمان کی طرح چلے آتے ہیں اور پھر جو ریکارڈ لگتا ہے‘ اللہ کی پناہ۔ غصہ جلدی نہیں آتا اگر آجائے تو سب کچھ تہس نہس کرنے کو دل کرتا ہے‘ مغرور لوگ اچھے نہیں لگتے حسین چہروں کی بجائے خوب صورت اخلاق سے متاثر ہوتی ہوں۔ لوگوں کی بے حسی دیکھ کر دل بہت کڑھتا ہے‘ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے لیکن آج کل کے لوگ تعلیم سے شعور کی بجائے غرور حاصل کررہے ہیں۔ تعلیم کا بنیادی مقصد لوگ بھول رہے ہیں ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر خود کو بہت توپ چیز سمجھتے ہیں۔ آج کل کے لوگ پڑھے لکھے جاہل ہیں‘ بزرگوں کا کوئی احترام نہیں کرتا میں آج کل سگھڑ بننے کی ناکام کوشش کررہی ہوں۔ روٹی پر طرح کا نقشہ بنتا ہے‘ پرگول نہیں‘ بھئی گول روٹی تو ہر کوئی پکالیتا ہے مشکل تو نقشے بنانا ہے جو مابدولت بناتی ہیں‘ کوئی میرا مقابلہ کرسکتا ے کیا بقول انس کے جس دن آپی عاشی روٹی پکاتی ہے اس دن بھوک ہی نہیں لگتی۔ میں سب سے زیادہ پیار اپنے نانا ابو سے کرتی ہوں جو 25 جون کو وفات پاگئے اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ سلائی بہت اچھی کرلیتی ہوں اور آج کل ترجمہ و تفسیر پڑھنے کا سوچ رہی ہوں لگتا ہے آپ لوگ بور ہورہے ہیں اس سے پہلے کہ آپ دھکے دے کر نکالیں میں خود ہی چلی جاتی ہوں‘ اللہ تعالیٰ آنچل کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے‘ آمین۔مجھ سے مل کر کیسا لگا ضرور بتایئے گا‘ اب اجازت چاہتی ہوں‘ اللہ حافظ۔

Tags
Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close