Aanchal Aug-17

ہمارا آنچل

ملیحہ احمد

حمیرا رشید
آنچل کے تمام قارئین‘ رائٹرز اور اسٹاف کو میرا پرخلوص اور محبت بھرا سلام قبول ہو‘ دعا ہے کہ آنچل ہمیشہ مختلف خوشیوں سے مہکتا رہے‘ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کون ہے جو محفل میں گھسی آرہی ہے تو ڈئیر قارئین آپ کو پتا بھی کیسے چلے گا کیونکہ ابھی تو میں نے اپنے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں تو جناب لوگ مجھے حمیرا رشید کے نام سے جانتے ہیں۔ ہم کاسٹ کے اعتبار سے انصاری ہیں‘ مجھے اپنی کاسٹ سے بہت پیار ہے۔ دسمبر 1989ء کو میاں چنوں کے خوب صورت گائوں میں پیدا ہوئی‘ ہمارا گائوں خوب صورت اس لیے ہے کہ یہ آس پاس کے تمام گائوں سے زیادہ اچھا اور بڑا ہے اور تھوڑا تھوڑا ماڈرن بھی ہے۔میرا اسٹارکیا ہے؟ کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی جب یقین ہی نہیں تو جاننے کا کیا فائدہ؟ ہم چھ بہن بھائی ہیں جن میں مجھے سب سے چھوٹی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ لاڈلی ہوں لیکن کچھ کچھ دراصل میرے بھائی بہت ظالم ہیں نا‘ یوں سمجھ لیں کہ پری ظالم دیوئوں کی قید میں ہے (ہائے ظلم کی انتہا) دو بھائی اور ایک سسٹر شادی شدہ ہے‘ اب یہ بھی بتادوں کہ میں بی اے کی اسٹوڈنٹ ہوں لیکن پڑھتی بہت کم ہوں لیکن میرے بھائی جو اٹامک انرجی میں جاب کرتے ہیں مجھے اور چھوٹے بھائی کو پڑھائی کے معاملے میں ذرا رعایت نہیں دیتے۔ بڑی بے عزتی کرتے ہیں جو مجھے لگتی بھی بہت ہے‘ خود سائنس دان ہیں تو سب گھر والوں کو اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں ویسے بڑے کئیرنگ ہیں اور ان کی بیگم تو بہت ہی زیادہ کئیرنگ ہیں ( وی مس یو آپی)۔ اب بات ہوجائے خامیوں کی تو جناب خامی ڈھونڈنے سے ایک آدھ مل ہی گئی ہے کہ پڑھتی ہوں جو کہ آپ کو پہلے سے پتا ہے۔ غصہ بہت زیادہ اور بہت جلد آتا ہے (پتا نہیں کیوں) اور سب گھر والوں سے ہر وقت خفا رہی رہتی ہوں‘ جس پر ہنسی بھی بہت آتی ہے ویسے میری امی کو مجھ میں بہت خامیاں نظر آتی ہیں۔ خوبیوں کے بارے میں بھی بتادیتی ہوں‘ حساس بہت ہوں‘ ڈرتی بھی بہت ہوں۔ کسی کا برا نہیں سوچتی‘ میری سوچ بہت منفی ہے‘ مغرور اور خود پرست لوگوں سے انتہا کی حد تک نفرت ہے‘ تنہائی پسند ہوں۔ بہت زیادہ ہنگامہ خیزی اچھی نہیں لگتی لیکن جب سب کزنز ساتھ ہوں تو سب کچھ ہی اچھا لگتا ہے‘ خود خاموش طبع ہوں لیکن باتونی لوگ پسند ہیں۔ سردیوں کا موسم اچھا لگتا ہے‘ دسمبر کی سردی ہائے کیا بتائوں‘ دوستوں کے معاملے میں بہت غریب ہوں‘ مدرسے میں تھی میری ایک دوست جو اَب تو مجھے بھول گئی ہوگی لیکن میں اسے کبھی نہیں بھول سکتی۔ صائم! میری بہت اچھی دوست اور میری کزن بھی ہے اور دسمبر میں اس کی شادی ہورہی ہے۔ بائیک کا سفر اچھا لگتا ہے‘ آئس کریم اور چاکلیٹ کھانے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہوں‘ کھانے میں سب کچھ کے علاوہ ’’کچھ کچھ‘‘ کھالیتی ہوں۔ کوکنگ کا بہت شوق ہے‘ مجھے پنک اور برائون کلر بہت پسند ہے‘ جیولری میں صرف نیل پالش اور سادہ سی رنگ اچھی لگتی ہے۔ ہیوی جیولری پسند نہیں‘ یوں لگتا ہے جیسے ٹرک لوڈ کیا ہو‘ بارش میں نہانا پسند ہے۔ موسیقی میں مجھے آج کل کے بکواس سونگز بالکل بھی اچھی نہیں لگتے۔ سنگرز گاتے کم اور منہ زیادہ پھاڑتے ہیں‘ ارے میں یہ تو بتانا بھول گئی کہ آنچل سے ہمارا تعلق بہت پرانا ہے‘ اتنا پرانا کہ جب سے ہوش سنبھالا گھر کے ہر کمرے میں آنچل اور مختلف رسالوں کو ہی پایا‘ فیورٹ رائٹرز میں سعدیہ امل ‘ نازیہ کنول نازی اور سمیر اشریف طور شامل ہیں ویسے سدرہ سحر عمران کو بھی پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ اب میں اپنا تعارف ختم کرتی ہوں اس نعرے کے ساتھ کہ جیو اور جینے دو‘ اللہ حافظ۔ اپنا خیال رکھیے گا اور دعائوں میں یاد رکھنا ۔
صفانا خان
السلام علیکم! آنچل کی آل ٹیم ارے حیران و پریشان نہ ہو‘ واقعی یہ میں ہوں مجھے صفانا خان کہتے ہیں۔ گھر والے پیار سے صفوکہتے ہیں‘ گھر میں لاڈلی جو ہوئی سب کی۔میں 11 نومبر 1994ء کو شہر خوشاب میں پیدا ہوئی‘ ہم تین بہن بھائی ہیں‘ سب سے بڑی بہن پھر بھائی اور سب سے لاسٹ پیس میں ہوں‘ میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعد خوشاب ڈگری کالج سے ایف اے کررہی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے‘ مجھے آنچل پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں نے پانچویں کلاس سے آنچل پڑھنا شروع کیا تھا اور اب تک پڑھتی ہوں اور ان شاء اللہ پڑھتی رہوں گی۔ سردیوں کا موسم بہت اٹریکٹ کرتا ہے‘ بستر میں بیٹھ کر آنچل پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے‘ کلرز میں مجھے ریڈ‘ برائون‘ گرین اور پنک رنگ بہت اچھا لگتا ہے۔ بارشوں کا موسم بھی بہت پسند ہے اور بارش میں بھیگنا تو اور بھی زیادہ اچھا لگتا ہے۔پھولوں میں مجھے گلاب اور موتیے کی خوشبو پسند ہے۔ کھانے میں بریانی‘ بھنڈی اور گوبھی بہت پسند ہے۔ مجھے جیولری تو بہت پسند ہے لیکن پہنتی بہت کم ہوں اور سادہ رہنا پسند کرتی ہوں کیونکہ سادگی خود ایک حسن ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مقدس رشتہ مجھے ماں اور بیٹی کا لگتا ہے۔ میری امی بہت اچھی ہیں وہ ایک ہائوس وائف ہیں‘ اب آتے ہیں خوبیوں اور خامیوں کی طرف چلئے کیا یاد رکھیں گے۔ پہلے خوبیاں ہی بتادوں سب سے پہلے پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں اور کافی حد تک اس میں کامیاب بھی رہتی ہوں‘ غصہ آتا ہے لیکن جلد ہی بھاگ جاتا ہے‘ کوکنگ کے علاوہ باقی سبھی کام کرلیتی ہوں۔ بڑوں کا ادب کرتی ہوں‘ بہت حساس دل ہوں کسی کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتی۔ اب آتے ہیں خامیوں کی طرف چلئے بتا ہی دیتی ہوں خامیاں تو بہت کم ہے وہ بھی چند ایک کھانا پکانا نہیں آتا کوشش تو بہت کرتی ہوں مگر پکا نہیں پاتی۔ باقی تو میرا خیال ہے ساری خوبیاں ہی خوبیاں ہیں مجھ میں۔شعرو شاعری سے بہت لگائو ہے یوں ہی سمجھ لیجیے کہ وراثت میں ملی ہے۔ٹیچرز میں میری بہترین ٹیچر مس حافظہ ‘ مس بلقیس بدر‘ مس رفعت‘ مس عظمیٰ ہیں اور میری اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ یہ جہاں بھی رہے ہمیشہ خوش و خرم رہیں‘ آمین۔ سردیوں میں آئس کریم کھانا بہت اچھا لگتاہے‘ گفٹ دینا اور دونوں پسند ہے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے‘ میرا پسندیدہ شہر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہے اور ایران‘ اعراق‘ مصر وغیرہ دیکھے تو کبھی نہیں لیکن دیکھنے کا شوق بہت ہے اور آپ سب دعا ضرور کیجیے گا کہ میرا یہ شوق جلد از جلد پورا ہو‘ سمندر کو دور سے دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ سچے اور کھرے لوگ بہت پسند ہیں‘ منافق لوگوں سے سخت نفرت ہے جو اندر سے تو کچھ اور ہوتے ہیں اور باہر سے کچھ اور ہوتے ہیں میں نے کبھی بھی کسی معاملے میں ضد نہیں کی۔ میں بڑی خوش مزاج ہوں موڈ ہوا تو خود بھی ہنس لیا اور دوسروں کو بھی ہنسالیا‘ کیا کریں جی ہنسنے اور ہنسانے کے بغیر گزارا ہی نہیں۔ کپڑوں میں شلوار قمیص اور لمبا سا دوپٹہ بہت پسند ہے۔ میں نے اسکول کی لائف کو بہت انجوائے کیا اور کالج کی لائف کو بھی اتنا ہی انجوائے کررہی ہوں‘ سچ میں کالج میں دوستوں کے ساتھ بہت مزا آتا ہے‘ میری کزنز میں مہناز‘ فائرہ‘ مونا‘ تحریم‘ عائشہ‘ سارہ‘ سعدیہ اور لائبہ ہے۔ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں بہت مغرور ہوں مگر سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے زیادہ بولنا پسند نہیں ہے۔ اگر رائٹرز کی بات کی جائے تو مجھے فرحت اشتیاق‘ نمرہ احمد‘ فائزہ افتخار اور جبیں سسٹرز کی اسٹوریز بہت پسند ہیں چاند کو دیر تک تکنا بہت اچھا لگتا ہے اور چاندنی راتیں تو اور بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ فروٹ میں مجھے آم اور مالٹے بہت پسند ہیں۔ میٹھے میں کھیر بہت پسند ہے ‘ مہدی حسن‘ نصرت فتح علی خان‘ راحت فتح علی کے گانے بہت پسند ہے۔ بہت کھلے دل کی مالک ہوں اور فضول خرچ بھی بہت ہوں۔ خوب صورت چیزیں بہت اٹریکٹ کرتی ہے خواہ وہ کوئی خوب صورت منظر ہو یا کوئی انسان یا پھر کوئی بھی گھریلو استعمال کی اشیا ہو۔ کھیلوں میں فٹ بال اور کرکٹ بہت پسند ہے اگر آپ کو میرا تعارف اچھا لگا تو ضرور بتایئے گا‘ اپنا خیال رکھیے گا اگر کوئی غلطی ہوگئی ہو یا میری کسی بات ہے آپ کو تکلیف پہنچی ہو تو پلیز معاف کردیجیے گا اور ہمیشہ دعائوں میں یاد رکھیے گا دعائیں تو امانت ہوتی ہے اور امانت میں خیانت نہیں کی جاسکتی‘ اللہ حافظ۔
ماہم نور انصاری
السلام علیکم! امید ہے کہ آپ سب ہی بخیر و عافیت سے ہوں گے وقت کی تیز رفتار گھڑیوں کی سوئیاں آگے تو بڑھ رہی ہوں گی مختلف قسم کی مصروفیت کی صورت لیکن یہ سچ ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اس سے کبھی غافل نہیں ہوتا جیسے آپ اور میں ہمارے آنچل سے‘ شادیوں کے ہنگامے ہوں یا امتحانات کے ایام میں کورس کی کتابوں کے اندر چھپا کر پڑھنے کے بہانے‘ کچن کی سلیب پر رکھ کر کھانا پکاتے ہوئے پڑھنا پڑے یا سردیوں میں رضائی کے اندر گھس کر آنچل کا اور ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھوٹا یقینا آپ سب ہی کم و بیش اسی قسم کے حالات سے گزرتے ہوں گے‘ ہیں ناں؟ لیکن دیکھ لیں ان ساری جدوجہد کا صلہ کتنا خوب صورت ملتا ہے‘ اندر تک شاد کردینے والی کہانیاں جو کبھی نازی آپی تو کبھی عشنا آپی تو کبھی عزیز از جان فاخرہ گل کے قلم سے نکلتا سحر ہے چلیں اب آتے ہیں تعارف پر‘ اکثر لوگ کہتے ہیں نام میں کیا رکھا ہے لیکن میں آپ سے کہوں گی‘ جناب یہاں تو سب کچھ نام ہی میں رکھا ہے۔ ماہم نور چوہدویں کے چاند کی چاندنی۔ ماہم نور کو سمجھنا ہے تو چاند کی حقیقتوں پر غور کرلیں جسے دیکھتے سب ہیں پسند بھی کرتے ہیں کچھ صرف ایک نظر دیکھتے ہیں اور خود میں گم ہوکر رہ جاتے ہیں‘ کچھ رشک سے دیکھتے ہیں اور ساری رات دیکھتے رہتے ہیں کچھ بدگمانی میں ظالم اور گونگا بھی کہہ بیٹھتے ہیں لیکن وہ سب کو دیکھتا ہے سب کی سنتا ہے لیکن خود پور پور اسی پر کھلتا ہے جو اس سے محبت کرتا ہے‘ کروڑ میل دور چاند کی باتیں صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کے دل میں چاند سے جذبات ہوں گے۔ صاف و شفاف‘ اجلے دمکتے ماہم نور کی ادنیٰ سی ذات بھی ایسی ہی ہے ہر ایک پر نہیں کھلتی‘ خود کو کھلی کتاب سے ہر گز تشبیہہ نہیں دوں گی کیونکہ ہر ایک کو اپنی کتاب زندگی پڑھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ جسے ہم میں دلچسپی ہی نہ ہو اس کے سامنے کھل کر کیا کرنا‘ دوسروں کے احساسات کی پروا نہ کرنے والے لوگ‘ دوسروں پر بلاوجہ رعب جمانے والے‘ جھوٹ‘ منافقت‘ ریاکاری‘ بد اخلاقی کے پیروکار لوگوں کو سخت نہ پسند کرتی ہوں‘ حسن سے زیادہ ذہانت کی قائل ہوں۔ خامیاں بے شمار ہیں‘ خوبیوں کی تلاش جاری ہے ویسے تو نان اسٹاپ بولنے کی عادی ہوں لیکن چاندنی راتیں‘ لائٹ خوشبو‘ مسکراتی آنکھیں‘ بارش کے بعد بکھرے قوس قزح کے رنگ‘ دیر تک خاموش رہنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ سادگی بہت پسند ہے‘ میک اپ اور فیشن کی دلدادہ لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں کیونکہ میرے خیال میں سادگی میں وقار و پاکیزگی جھلکتی ہے‘ کھانے میں نخرے بہت ہیں دراصل مجھے دال سے بنی کسی بھی ڈش سے خاص قسم کا بیر ہے پتا نہیں کیوں کتنی بھی اچھی ہو مجھ سے کھائی نہیں جاتی۔دین و وطن پر جاں نثار کرنے والے لوگ پسند ہیں‘ پاکستان ایک عشق ایک جنون‘ اس کے دشمنوں سے سخت نفرت ہے۔ اسی لیے ان کی کلچر کیا ان کی باتیں کرنا بھی پسند نہیں‘ لکھنے کا شوق وراثت میں ملا ہے‘ بچپن میں بچوں کی چھوٹی چھوٹی کہانیوں سے اب معاشرتی حقائق و ضرورت وقت پر تخلیقی عنصر بڑھتا جارہا ہے۔دن و رات کا فرق بھلائے لکھنے اور مطالعہ وسیع کرنے میںو قت گزرتا ہے کیونکہ لکھنا میرا جنون ہے۔ اسلامی اور تاریخی موضوعات پر مبنی کتابیں پڑھتی ہوں‘ مسکراتے بچوں پر بے ساختہ پیار آجاتا ہے دراصل مجھے مسکراتے چہرے بہت بھاتے ہیں کسی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ کچھ عرصے پہلے دوستوں کی فہرست خاصی طویل ہوا کرتی تھی لیکن یہ سچ ہے کہ وقت سے زیادہ تیزی سے لوگ بدل جاتے ہیں اور اسی سچ نے یہ سمجھادیا کہ دوست کم ہوں لیکن اچھے ہوں ’’دل‘‘ جیسی نایاب شے کے قدردان ہوں اور میں اللہ کا بہت شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے ایسے دو دوست دیئے ایک میری پیاری امی اور دوسری میری جان ماریہ شیخ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ دونوں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں ویسے ایک اور دوست تیار ہورہی ہے میری جو ابھی صرف گیارہ ماہ کی ہے میری بھتیجی (ام ایمن نور)۔ ویسے آپ لوگوں کو معلوم ہے یہ پڑھتے ہوئے مجھے کوئی مسلسل گھوررہا ہے ہاہاہا۔ جی ہاں میری سویٹ بہن رباب ورشا‘ بہن پلس لڑاکا دوست۔ آخر میں میرے چار بڑے بھائی‘ میرے ابو‘ آپی اور بھابی اور لوگ کزنز کا ذکر جن سے مجھے بے حد پیار ہے۔ماہم نور آپ سب کے بناء کچھ بھی نہیں ہے اور آپ سب کا بہت شکریہ جو آنچل فرینڈز میں ایک نئے اضافے کا ویلکم کیا‘ اکیسویں صدی کے تیز رفتار دور میں ایک دائرے میں مقید ماہم نور اگر آپ کو اچھی لگی تو پلیز مسکرا دیجیے ضرور کیونکہ شہر محبت (حیدر آباد) میں بسنے والی ماہم نور دوسروں کی مسکراہٹوں کے سہارے ہی جیتی ہے۔ایسے ہی لوگ تو زندگی کا حاصل ہیں نور درد دل بھلائے جو مسکراکے جیتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ میرے وطن کو دشمن کی بری نگاہ سے بچائے‘ آنچل کو دن و رات ترقی عطا فرمائے‘ آمین۔ دعائوں میں یاد رکھیے گا‘ اللہ حافظ۔
عکس فاطمہ
السلام علیکم! جی تو ہم آپ لوگوں کو اپنے آپ سے ملواتے ہیں تو جناب قارئین مابدولت کا نام عکس فاطمہ ہے۔ سب ہمیں عکس یا پھر فاطمہ کہتے ہیں‘ ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ سے تعلق ہے‘ ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہے‘ مجھ سے بڑی بہن ہے پھر میں ہوں اور میرے بعد (لٹل اسٹار) میرا بھائی عباد ہے‘ میری بہن انابیہ کو مجھ سے بہت محبت ہے جبکہ عباد ہر وقت تنگ کرتا ہے‘ میں دونوں سے پیار کرتی ہوں‘ میری مما دنیا کی سب سے سویٹ اینڈ کیوٹ مما ہیں‘ انابیہ نے ایم اے انگلش کیا ہے اور میں ایم ایس سی کے فائنل ائیر میں ہوں اور ملتان کے ہاسٹل میں رہائش ہوتی ہے‘ عباد (میرا کیوٹ بھائی) میڈیکل کے تھرڈ ائیر میں ہے۔ میں اسے ہینڈسم اور انابیہ اسے چاکلیٹی بھائی کہتی ہے۔ میں اور عباد جب بھی اپنے گھر جاتے ہیں تو مما اور انابیہ ہمیں ہل کر پانی بھی نہیں پینے دیتے۔ آنچل میں نے تقریباً دو تین سال سے پڑھنا شروع کیا ہے ’’یہ چاہتیں یہ شدتیں‘‘ چل رہا تھا تب سے میں فرینڈ زرش اسے پڑھتی تھی مجھے کہتی ’’عکس یار! میری ہم نام کہانی کی ہیروئن ہے پڑھ کر تو دیکھو‘‘ میں کہتی ’’سوری زرش! اتنی ٹف پڑھائی میں ڈائجسٹ نہیں پڑھ سکتی ہاں ایگزائم کے بعد تم سے یہ تمام ڈائجسٹ لے کر گھر جاکر سکون سے پڑھوں گی‘‘ پھر جب میں نے ایک بار پڑھا تو پھر ہر ماہ کا آنچل لینے لگی۔انابیہ بھی فارغ ہوتی ہے تو وہ نیٹ سے پڑھ لیتی ہے جبکہ میں ہاسٹل میں منگواتی ہوں اور میں اور زرش مقابلہ لگاتی ہیں کہ کون پہلے ڈائجسٹ ختم کرتا ہے ویسے خوبیوں کی بات کی جائے تو زرش کہتی ہے عکس تم بہت ہی مخلص لڑکی ہو‘ انابیہ کہتی ہے حساس اور انا پرست ہو۔ عباد کہتا ہے لڑاکا طیارہ ہو‘ ایک بات کہو دس جواب دیتی ہو۔ مما کہتی ہیں عکس میرا پیارا بچہ ہے (و ہ تو میں ہوں‘ ہے ناں عباد)۔ پاپا کہتے ہیں فاطمہ مجھے اپنی سب اولاد سے زیادہ پیاری ہے‘ اتنی تعریف سن کر میں عباد کو چڑانے والے انداز میں دیکھتی ہوں (عباد برے برے منہ بناتا ہے) اپنے گھر والوں سے بے لوث محبت ہے۔ پاپا اور مما نے ہمیں بہت پیار دیا لیکن ہم نے کبھی اس پیار کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا میری کچھ کزنز کہتی ہیں مغرور ہو(جبکہ میرے خیال سے تو نہیں ہوں) اپنے کام میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں۔ پاپا کبھی کبھی ’’ناٹی گرل‘‘ بھی کہتے ہیں‘ مما سویٹ بے بی کہتی ہیں۔ انابیہ کو میں انا کہتی ہوں‘ وہ مجھے ’’انو‘‘ بلاتی ہے‘ جب روٹھ جاتے تو عکس فاطمہ کہتی ہے جب عکس فاطمہ کہتی ہے تو میں خوب چڑتی ہوں۔ اپنا ہر مسئلہ انا اور مما سے ڈسکس کرتی ہوں‘ کالج میں میری دوست ابیہا مجھے مغرور لیلیٰ بلاتی ہے‘ تاریخ پیدائش 19 جون ہے اس لحاظ سے اسٹار Gemini ہے کچھ حد تک اس اسٹار سے میچ کرتی ہوں ‘ اداسی پسند ہوں‘ سیڈ سونگ بہت پسند ہیں۔زیادہ فرینک نہیں ہوتی کسی غیر سے‘ زرش کو میں نے کہا ’’ہر بار تم سے زیادہ مارکس لیتی ہوں تو آنچل میں بھی پہلے لکھ کر تم سے جیت جائوں گی‘‘ وہ کہتی ہے (نو پرابلم)۔ زرش اور میری مثالی دوستی ہے۔ میری روم میٹ رباحہ حیدر کہتی ہے ’’عکس تم رشتوں کے معاملے میں خاصی لکی ہو‘ میں نے زندگی میں کسی کی کمی محسوس نہیں کی ۔ اوکے فرینڈز کیسا لگا تعارف ضرور بتایئے گا تاکہ زرش پر تھوڑا رعب شعب ڈال سکوں‘ اس کے ساتھ ہی اللہ حافظ۔

Show More
error: Content is protected !!
Close