Naeyufaq Nov-17

ہمجان

فارس مغل

صبح کی تازہ ہوا میں پھولوں کی مہکار شامل تھی۔
’ایک خوبصورت سا پِنک گلاب دینا‘نابینا نوجوان نے پھول والے سے کہا۔
دکاندار کے پاس پِنک گلاب دستیاب نہیں تھا لیکن اس نے دیکھا کہ گاہک چونکہ نابینا ہے چنانچہ اس نے اسے سرخ گلاب پِنک کہہ کر تھما دیا۔نوجوان پیسے ادا کر کے وہاں سے آگے بڑھ گیا۔
اب وہ بس اسٹاپ پر ایک حسین نوجوان لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا
’تم نے صبح فون کر کے کیوں پوچھا کہ میں آج کس رنگ کا لباس پہنوں گی؟‘لڑکی نے مسکرا کر استفسار کیا
نوجوان نے کوٹ کی جیب سے سرخ گلاب نکال کر اسے پیش کِیا’اب تم اپنے اس پِنک لباس کے ساتھ یہ پِنک گلاب اپنی زلفوں میں لگائو گی تو مجھے یقین ہے مزیدخوبصورت دکھائی دوگی۔آج تم کالج فنکشن میں گیت گانے والی ہو ،ناں‘
’اوہ۔۔تم نے یہ پھول کہاں سے خریدا ہے‘لڑکی کو پھول کا رنگ دیکھ کر حیرت ہوئی لیکن وہ سمجھ گئی کہ پھول والے نے اسے دھوکا دیا ہے۔
’وہ پچھلی سڑک کے کنارے ایک پھولوں والی دکان سے۔۔کیوں؟۔۔۔پھول میں کچھ خرابی ہے؟؟‘اس کا چہرہ اتر گیا
’’نہیں۔‘‘لڑکی کو دکاندار پر شدید غصہ آیالیکن وہ پی گئی۔
’’یہ توبے انتہا خوبصورت پھول ہے بالکل میرے لباس جیسا۔۔۔آئی لَوّ یو‘
نوجوان کا بجھا ہوا چہرہ یکدم کھل کر گلاب بن گیا۔
’’آئی لَوّ یو ٹُو۔۔سویٹ ہارٹ‘‘
اسی دوران لڑکی کی کالج بس آگئی
نوجوان اسے الوداع کہہ کر آگے بڑھ گیا’اپنا بہت خیال رکھنا‘
…٭…٭…
کالج میںلڑکی کی سہیلیوں نے اسے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا
’آج تو غضب کی خوبصورتی تم پر مہربان ہے‘
’نئی نویلی دلہن لگ رہی ہو‘
’اُف ۔۔تم پرنگاہ نہیں ٹِک رہی ‘
’لیکن۔۔اگر زلفوں میں بھی سرخ گلاب کی جگہ پِنک گلاب ہوتا تو کسی میں کیا مجال تھی کہ ملکہء حُسن کا خطاب لینے سے تمھیں روک سکتا‘
لڑکی ان سب کی باتیں سن کر مسکرائی اور بالوں میں سجے سرخ گلاب کو چھوتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
’’یہ پِنک گلاب ہی تو ہے‘‘
سب سہیلیاںہنسنے لگیں
’’لیکن ہم سب کو یہ کیوں سرخ دکھائی دے رہا ہے‘‘
’’کیونکہ ۔۔ابھی تم سب محبت کے رنگ سے نا آشنا ہو‘‘اس نے زلفوں سے پھول نکال کر اسے بوسہ دیا پِنک لپ اسٹک کا نشان سرخ گلاب پر چمکنے لگا ۔
ویرا کو یہ کہانی بہت پسند تھی!
محبت کی پہلی دستک
فن پاروں کی نمائش میں لڑکی بہت ہی دلچسپی سے اس فن پارے کو انہماک سے دیکھ رہی تھی جس پر soldکی پرچی چسپاں تھی اس کا مطلب تھا کہ فن پارہ فروخت ہو چکا ہے۔گیلری میں بیسیوں مصوری کے شہہ پارے دیواروں پر آویزاں تھے لیکن لڑکی کی نظریں اس پر جیسے جم سی گئی تھیں ۔
اس فن پارے میں مصور نے ایک ریسٹورنٹ کی منظر کشی کی تھی جس میں ایک شفاف شیشے کی میز کے دائیں جانب خوبصورت دوشیزہ اپنی ٹھوڑی تلے ہاتھ جمائے اپنے مقابل بیٹھے ہوئے ایک خوبرو نوجوان کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور چائے کی چسکی لیتے ہوئے نوجوان کی نظریں دوشیزہ کے پرکشش چہرہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس تمام منظر میں مصور نے کمال مہارت سے شیشے کی شفاف میز پر دونوں کے عکس کچھ اس طرح بنائے تھے کہ جہاں دوشیزہ کا عکس ہونا چاہیئے وہاں نوجوان کا عکس تھا اور اسی طرح نوجوان کے عکس کی جگہ دوشیزہ کی شبیہہ تھی۔
’’کس قدر کمال کا شاہکار ہے‘ لڑکی نے زیرِ لب کہا اور مسکرا دی
’مصور نے اس میں ہمجان کی تصویر کشی کی ہے‘ایک انتہائی ملائم مردانہ آواز لڑکی سے مخاطب ہوئی
لڑکی نے مڑ کر عقب میں کھڑے سفید داڑھی والے قدآور شخص کو دیکھا جو اپنی وضع قطع سے انتہائی معزز معلوم ہوتاتھا
’آپ نے کچھ کہا؟‘
آدمی نے مسکراتے ہوئے دوبارہ اپنی بات دہرائی۔
لڑکی چند لمحے غور سے اس کی طرف دیکھتی رہی اور پھر فن پارے پر نگاہیں جماتے ہوئے قدرے حیرت سے بولی’ہمجان!آپ کا مطلب soulmate‘
’’بالکل‘‘
’’یہ سب فلمی باتیں ہیں‘‘لڑکی کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھر آئی
آدمی آہستہ سے قدم بڑھاتے ہوئے لڑکی کے برابر میں کھڑا ہوگیا۔لڑکی نے اسی مسکراہٹ کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اپنا تعارف کروایا۔
’’میرا نام عبدالعلیم ہے اور انڈیا کی ایک یونیورسٹی میں فلسفہ کا پروفیسر ہوں‘‘
لڑکی نے اپنا تعارف کروانے سے گریز کرتے ہوئے بے پروائی سے کہا۔
’’یہ فن پارہ آپ نے خریدا ہے؟‘‘
پروفیسر نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’جی ہاں۔۔مگر اب سوچ رہا ہوں کہ اسے خرید کر بہت بڑی غلطی کر لی ہے‘‘
لڑکی یوںعجیب نظروں سے فن پارے کو دیکھنے لگی جیسے اس میں کوئی نقص تلاش کر رہی ہو
’’میں سمجھا تھا اگر جوڑے واقعی آسمانوں پر بنتے ہیں تو روئے زمین پر بسنے والے ہر ایک ذی روح کا ہمجان ضرور موجود ہوگا۔لیکن۔۔‘‘ پروفیسر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کچھ توقف کے بعد بولا۔
’’لیکن آج مجھے پتہ چلا کہ یہ سب تو فلمی باتیں ہیں‘‘
وہ یکدم کھلکھلا کر ہنس دی۔
’’نہیں نہیں ۔میں نے تو یونہی کہہ دیا تھا‘‘
پروفیسر مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھتا رہالڑکی کی ہنسی بے قابو ہوتی چلی گئی اور اس سے پہلے کہ وہ پروفیسر سے معذرت کر تے ہوئے گیلری سے باہر نکل کر خوب قہقہے لگاتی پروفیسر نے اس کی ہنسی کو سرد خانے میںڈال کر مقفل کر دیا’کیا تم یہ جاننا چاہو گی پیاری لڑکی کہ تمھیں تمھارا ہمجان کب،کہاں اور کیسے ملے گا؟‘پروفیسر کے ہونٹوں پر پُراسرار مسکراہٹ پھیل گئی۔
لڑکی کو یوں محسوس ہو ا جیسے اس کا سارا وجود زمین سے کئی فٹ اوپر ہوا میں معلق ہے اور وہ ہپناٹائزڈ ہو چکی ہے۔
’’کبھی کبھی کچھ باتوں کے نہ جاننے میں ہی انسان کی عافیت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجودمیں تمھیں ایک ایسی ہی بات بتانا چاہتا ہوں ۔۔آہ ۔۔تم اسے میری مجبوری سمجھ لینا۔‘‘ پروفیسر کے لہجے میں افسوس تھا
اس کی نگاہیں پروفیسر کے متحرک ہونٹوں پر جمی ہوئی تھیںاس وقت گیلری میں کافی تعداد میں لوگ موجود تھے لیکن اس بات سے بالکل بے خبر کہ ایک سفید ریش پروفیسر نے ایک نوجوان لڑکی کو ہپناٹائزڈ کر کے یرغمال بنا رکھا ہے
’’سنو پیاری لڑکی !‘‘پروفیسر کی آنکھوں میں چمک بڑھ گئی’شہر کی سب سے اونچی عمارت کی آخری منزل سے ہر شام کچھ دیر کے لیئے نیچے کی طرف دیکھتی رہنا جس شخص کا جوتا راہ چلتے ہوئے ٹوٹ جائے اور وہ اپنا جوتا ہاتھ میں لیے تمھاری جانب دیکھ کر مسکرائے تو سمجھ لینا وہی شخص تمہارا ہمجان ہے‘‘
لڑکی بُت بن کر اس کے متحرک ہونٹوں کی طرف دیکھتی رہی
کچھ توقف کے بعد پروفیسر نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے افسوسناک لہجہ میں کہا۔
’’کاش میں یہ سب کچھ تمھیں بتانے پر مجبور نہ ہوتا‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے لڑکی کے چہرہ کے سامنے چٹکی بجائی۔جب اسے اپنے پائوں زمین پر محسوس ہوئے تو اس کی نگاہیں فوراً لوگوں کے ہجوم میں ادھر اُدھر پروفیسر کو تلاش کرنے لگیںمگر پروفیسر جا چکا تھااور دیوار پر آویزاں تصویر غائب تھی۔
اس نے کائونٹر پر بیٹھی سرخ لپ اسٹک والی خاتون سے اس تصویر کے خریدار کے بارے میں دریافت کیا تواسے معلوم ہوا کہ تصویر کا خریدار اسکی قیمت ادا کر کے جا چکا ہے!
لڑکی اگلے تین روز تک بخار میں مبتلا رہی ،اس دوران پروفیسر کا چہرہ اس کی آنکھوں کے عدسوں پر مختلف اشکال میں پینٹ ہوتا رہا اور اس کی کہی ہوئی باتیں خانہء ذہن میں ادھر اُدھر ٹکراتی رہیں ۔ہمجان۔۔ہمجان ۔۔ہمجان کی بازگشت سے اس کا سر پھٹنے لگتا کبھی کبھی نیند میں بڑبڑانے لگتی اور اچانک انجانی آوازوں کے شور کا طوفان اسکے دماغ میں داخل ہو کر سکون برباد کر کے لوٹ جاتا ۔
خدا خدا کر کے جب چوتھے روز بخار ٹوٹا تو ذہن و دل کو شانتی ملی۔ پروفیسر کا چہرہ اور اسکی باتیں ذہن کی سِل پر نقش ہو چکی تھیں ایسے ہی جیسے مانسہرہ میں شاہراہ ریشم کے قریب اشوک کے کتبوں پر اشوکا کے فرمودات نقش ہیں۔وہ جب بھی پروفیسر کی باتوں کی بابت سوچنے لگتی تو بے چین سی ہو جاتی اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی اَن دیکھی طاقت ہے جو اسے یہ سب سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
’وہ پروفیسر تھا ۔۔کہ جادوگر‘ایک دن اس نے سوچا اور پروفیسر کی تصویر اپنی اسکیچ بُک میں بنائی جس میں اس نے جادوگروں والا لمبا کوٹ اورسر پر وہ مخصوص ہیٹ پہنا ہواتھا وہی ہیٹ جس کے اندر سے جادوگر عموماً کبوتر ،خرگوش نکالتے پھرتے ہیںَاس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اسکیچ مکمل ہوتے ہی وہ یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ پروفیسر کی ہدایت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آج شام ہی شہر کی سب سے اونچی عمارت پر جائے گی’کیا خبر اس نے سب سچ کہا ہو،کیا خبر میرا ہمجان مجھے مل جائے،جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن زمین پر ہی تو ملتے ہیں۔میرا ہمجانmy soulmate‘ اس کا چہرہ حیا کی سرخی سے تمتمانے لگا ۔وہ ایک گہری اور معنی خیزمسکراہٹ کے ساتھ اسکیچ کو دیکھتی رہی اور پھر اس کے بائیں جانب جلی حروف میں’پروفیسر جادوگر‘ لکھ کر اسکیچ بُک بند کر دی۔
…٭…٭…
اس چھوٹے سے شہر کی سب سے بلند عمارت چار منزلہ تھی
چوتھی منزل کی چھت پر ایک کھلا ہوادار ریستوران تھاجہاں سے شہر کی معروف و مصروف شاہراہ صاف دکھائی دیتی۔شور مچاتی دھواں اڑاتی گاڑیوں کی بھاگم بھاگ کے ساتھ فٹ پاتھ پر تیز قدم راہگیربھی جلدی میں دکھائی دیتے سب کو اپنی اپنی منزل پر پہنچنے کی عجلت تھی سب ایک دوسرے سے انجان اپنی اپنی دنیائوں میں محو سفر تھے یوں تو شہر کی رونق دیدنی تھی لیکن اسکے باوجود تنہائی ساتھ ساتھ چلتی دکھائی دیتی۔
لڑکی پچھلے دو ماہ سے مسلسل روزانہ شام کو ریستوران میں آتی اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ کر کافی سے لطف اندوز ہوتی اور شام ڈھلنے تک خاموشی سے نیچے سڑک کی بے ہنگم شور مچاتی زندگی کو اپنی اسکیچ بُک میں ہمیشہ کے لئیے پُرسکون بنا کر لوٹ جایا کرتی۔اس معمول میں ایک دن کا بھی ناغہ شامل نہیں تھا
اس روز بھی رات دھیرے دھیرے اپنی سیاہ چادر سے سانولی شام کا بدن ڈھانپ رہی تھی لڑکی نے حسبِ معمول اسکیچ مکمل کر کے اسے غور سے دیکھا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد فیصلہ کن انداز میں سر کو جنبش دیتے ہوئے مکمل شدہ اسکیچ تلے ’’انتظار کی آخری شام‘‘لکھ کر ایک گہرا سانس لیا اور کرسی سے پشت لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ اب وہ آئندہ یہاں نہیں آئیگی شاید پچھلے دو ماہ کے انتظار کا اثر تھا کہ وہ اپنے تخیل کے کینوس پر انتظار کی کیفیات میں رنگ بھرنے لگی’ہم اپنی حقیقی زندگی میں سفر کا آغاز انتظار سے کرتے ہیں۔غربت میں امیری کا انتظار۔گمنامی میں شہرت کا انتظار۔بیماری میں شفایابی کا انتظار۔خشک سالی میں بارش کا انتظار۔اعٰلی تعلیم کے بعد ملازمت کاانتظار۔دعائوں کی قبولیت کا انتظار۔جسے زمانہ شاہکار کہہ سکے اس غزل،ناول،فن پارے، دھن کی تخلیق کا انتظار‘‘ لڑکی کی سوچ گہری ہونے کے ساتھ ساتھ آسمان پر ستاروں کی تعداد بڑھنے لگی۔۔ہماری مشکل گھڑیاں آسودگی کے لمحات کی منتظر رہتی ہیں۔آرام کا انتظار ہمیں بے سکونی کی طرف دھکیل رہا ہے۔انتظار کا زہر روح میں اتر جائے توآسمان سے تنہائی کا عذاب گلے لگانے زمین پر اتر تا ہے۔انسان ایک چہرے پر بیسیوں چہرے رکھتا ہے لیکن اس کا اصل چہرہ انتظار کے وقفوں میں ظاہر ہوتا ہے۔۔لڑکی نے آنکھیں کھول کر نیچے سڑک پر دور تک رینگتی ہوئی لال پیلی بتیوں کی طرف اچکتی ہوئی نگاہ ڈال کر آسمان پر ٹنگے ہوئے نقرئی چاند کی طرف دیکھا’لیکن انتظار سے چھٹکارا بھی تو نا ممکن ہے‘
یکایک چاند میںپروفیسر جادوگر کا چہرہ نمودار ہوا’انتظار سے چھٹکارا ناممکن سہی مگر انتظار کے کرب سے چھٹکارا تو ممکن ہے‘
لڑکی دم بخود تھی
’پیاری لڑکی،یاد رکھنا کہ انسان کی خواہش جتنی چھوٹی اور معصوم ہوگی اس کا انتظار اتنا ہی پُرکیف ہوگا‘ پروفیسر کا مسکراتاچہرہ غائب ہو گیا
لڑکی کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں کچھ توقف کے بعد اس نے یوں حیران نگاہوں سے اپنے اطراف کا جائزہ لیا جیسے ابھی ابھی نیند سے جاگی ہو۔اس نے تیزی سے میز پر سے اپنی اسکیچ بُک،پینسلز وغیرہ اکٹھی کر کے بیگ میں ڈالیںاور ابھی اٹھنے کا ارادہ ہی کِیا تھا کہ اچانک اس کی نظر نیچے سڑک کے اس پار کھڑے ایک نوجوان لڑکے پر ٹہر گئی یکایک اسے عجیب سا محسوس ہونے لگاحالانکہ گزشتہ دو ماہ سے وہ سیکڑوں لوگوں کو فٹ پاتھ پر کھڑے اور گزرتے دیکھ چکی تھی اور پھرلڑکی کی سانس ایک لحظہ کے لیے تھم کے رہ گئی۔فٹ پاتھ پر نصب کھمبے کی زرد روشنی میں نوجوان اپنا جوتا ہاتھ میں اٹھائے کھڑا تھا۔وہ نوجوان پر نگاہ جمائے ہڑبڑا کر کرسی سے اُٹھی اور آہنی جنگلے کے پاس کھڑی ہو گئی۔وہ اس کے چہرہ کے نقوش واضح طور پر دیکھنے سے قاصر تھی۔نوجوان اپنے ننگے پائوں کو دوسرے پائوں پر رکھے ٹوٹے ہوئے جوتے کو جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا اچانک لڑکی کو اس کے عقب میں پروفیسر جادوگر وہی ہمجان والی پینٹنگ بغل میں دبائے بوجھل قدموںسے گزرتا ہوا دکھائی دیا لڑکی کی نگاہوں نے اس کا تعاقب شروع کردیا فٹ پاتھ کے آخر میں پروفیسر ہوا میں ہاتھ لہراتا ہوا غائب ہو گیا تو اس کی نگاہیں ایک مرتبہ پھر نوجوان پر مرکوز ہو گئیں جب نوجوان جوتا جوڑنے میں بالکل ناکام ہو گیا تو اس نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے چوتھی منزل پر مدہم سی روشنی میں کھڑی لڑکی کی طرف دیکھااور اس کی طرف ایک بھرپور مسکراہٹ روانہ کر دی
’میرا ہمجان‘ لڑکی نے زیرِلب مسکراتے ہوئے کہااور دوسرے ہی لمحے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔وہ چاہتی تھی کہ اپنے ہمجان سے پہلی ملاقات اس کھلے ہوادار ریستوران میں کرے جہاں اس نے گزشتہ دو ماہ کی شامیں اس کے انتظار کے نام کی تھیں جہاں پُرنور ستاروں کے جھرمٹ میں چاند بطور گواہ موجود تھا
لڑکی نے دوبارہ ہاتھ ہلایا تو نوجوان نے اپنے اردگرد نگاہ دوڑائی جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ اسی سے مخاطب ہے تو اس نے اپنا ٹوٹا ہوا جوتا ہاتھ میں لہراتے ہوئے اسے دکھایالڑکی نے اسے اشاروں سے سمجھایا کہ وہ اس کی فکر چھوڑ کر بس اوپر اس کے پاس چلا آئے۔
نوجوان نے چند لمحے لڑکی کی جانب دیکھ کر کچھ سوچا اور پھر بخوشی اس پار جانے کے لیے فٹ پاتھ سے سڑک پر کود آیا۔سڑک کافی چوڑی تھی نوجوان تیز رفتار گاڑیوں سے بچتا بچاتا سڑک پار کرنے لگا۔ایک تیز رفتار بس کو آتا دیکھ کر وہ بیچ سڑک کے رُک گیااور اپنا ٹوٹا ہوا جوتا ہوا میں لہراتے ہوئے ڈرائیور کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی اور ایک لمحہ کے لیے لڑکی کی طرف یہ تصدیق کرنے کے لیے دیکھا کہ وہ اپنی جگہ موجود بھی ہے یا اسے پاس بلا کر رفو چکر ہو چکی ہے لڑکی وہیں کھڑی تھی بس ڈرائیور نے رفتار آہستہ کرتے ہوئے نوجوان کو بھاگنے کا موقع دیانوجوان ایک پائوں میں جوتا نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً لنگڑاتا ہوا تیزی سے بس کے آگے سے گزر ا ۔لڑکی نے ایک زوردار چیخ ماری جسے ٹریفک کے شور کے باعث نوجوان سننے سے قاصر تھا۔بس کو اوورٹیک کرتی ہوئی ایک تیز رفتار جیپ نوجوان سے ٹکرا گئی۔لڑکی کانپ اٹھی دل کی دھڑکن نے سینے میں حشر بپا کر دیا وہ ریستوران کی کرسیوں اور ٹیبلوں سے ٹکراتی سیڑھیوں پر نیچے کی جانب بھاگنے لگی شہر کی مصروف شاہراہ پر اب گاڑیوں کے بے ہنگم ہارنوںکے ساتھ لوگوں کی آوازوں کا شوربھی فضا میں شامل ہو چکا تھادور سے کسی ایمبولینس کا سائرن چیخ اٹھا۔لڑکی اپنے گردو نواح کی پروا کیے بغیر حواس باختہ ہجوم کی طرف بڑھی اچانک کسی سخت چیز سے اسے ٹھوکرلگی اس نے اک اچکتی نگاہ اس پہ ڈالی تو وہ نوجوان کا خستہ حال جوتا تھالڑکی نے لرزتے ہاتھ سے جوتا اٹھایا اور آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے ہجوم میں رستہ بناکر نوجوان کے پاس جا پہنچی اور جونہی اس کی نگاہ نوجوان کی مسخ شدہ نعش پر پڑی وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئی !
اُس لڑکی کا نام ویرا تھا
وہ ایک محرومی سے نبردآزما لڑکی تھی چھ برس کی عمر میں ایک شدید بخار کے بعد دھیرے دھیرے اس کی قوتِ سماعت جواب دیتی چلی گئی اور ہر ممکن علاج کروانے کے باوجود سماعت بحال نہ ہوسکی خدا نے اس معصوم پر جتنا بوجھ ڈالا تھا اس سے کہیں زیادہ ہمت سے بھی نواز دیا کہ بلوغت کی حدکو پہنچنے تک اسے اپنی محرومی کے ساتھ رہنے کی عادت نہیں بلکہ محبت ہو چکی تھی۔اس کے پاس مختلف رنگوں کے آلہء سماعت تھے لیکن نیلے اور گلابی رنگ کے آلہء سماعت اسکے پسندیدہ رنگ تھے۔اس کی سہیلیاں قوتِ سماعت سے محروم نہیںتھیں جس کی اسے بے پناہ خوشی اس لیے تھی کہ وہ بیچاریاں اس کی طرح روزانہ نئے نئے رنگ کا آلہء سماعت لگا کرمنفرد نظر آنے سے قاصر تھیں ان کے کانوں میں ہمیشہ سونے یا چاندی کی بالیاں منہ لٹکائے رہتیں۔ہائے بیچاریاں!
ویرا کی شخصیت جانِ محفل قسم کی تھی۔وہ لوگوں کے ہلتے لبوں کو پڑھ کر بات سمجھنے والی لڑکی تھی۔خوبصورت بولتی ہوئی آنکھوں سے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہوئی لڑکی۔پتلے پتلے لبوںسے دھیما دھیما مسکرانے والی لڑکی۔
وہ اکثر محفلوں میں اپنا آلہء سماعت شولڈر کٹ بالوں کے نیچے چھپا کر رکھتی اور جب کوئی انجان دل پھینک قسم کا لڑکا اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر فلرٹ کرنے کی کوشش کرتا وہ یکدم اپنے کان کے اوپر سے بالوں کو پیچھے سمیٹ کر انگشت شہادت اپنے آلہء سماعت پر بجاتے ہوئے مسکرا کر یہ تاثر دیتی کہ ’تم اتنی دیر سے جو بھی بکواس کر رہے ہو مجھے کچھ سنائی نہیں دیا‘۔۔ایسا کرنے میں اسے بہت لطف آتاآن ہی آن میں فلرٹ کرنے والے لڑکوں کے رویوّں میں اسے بدلائو محسوس ہونے لگتا جسے وہ اوروں سے تو چھپا سکتے تھے لیکن اُس انسان سے کیسے چھپا سکتے تھے جس کا روزانہ ایسے رویوّں سے واسطہ پڑتا جس کی زندگی کے محدود دائرہ میں کسی ترس کھاتی ہوئی نگاہ کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔جس کی زندگی ایک ہی اصول پر رواں دواں تھی’کہ ہمدردی انسان کو انسان سے ہو تو قابلِ تحسین لیکن وہ ہمدردی جو انسان سے اس کی محرومی کو دیکھ کر کی جائے ۔ناقابلِ برداشت !!
نوجوان کی حادثاتی موت نے ویرا کے اندر ایک خاص قسم کی سنجیدگی پیدا کر دی تھی ایک بے انتہا حسین و جمیل گملے میں اچانک کیکٹس کا پودا اُگ آیا تھا۔وہ مرنے والے کے ساتھ گویا مر چکی تھی اور اسکی روح دونوں کا سوگ منا رہی تھی۔وہ آئینہ بھی یوں دیکھتی جیسے آئینہ میںاس کا عکس کہیں کھو گیا ہو۔اس پر ایسی کیفیت طاری تھی جیسے قدرت نے کسی نوبیاہتا کو شادی کے اگلے روز ہی بیوگی کے عذاب میںمبتلا کر دیا ہوجو اپنے محبوب کے فراق میں کبھی دل کھول کر چیختی چلاتی،کبھی خاموشی سے ہولے ہولے کراہنے لگتی اور کبھی چہرہ پر خود فریبی کے میک اپ کی ہلکی سی تہہ جما کر سکون سے بیٹھ جاتی گویا محبوب کے لوٹ آنے کی اطلاع موصول ہوئی ہو!
ویرا کی زندگی اب یکسر بدل چکی تھی۔نوجوان کی مسخ شدہ نعش دیکھنے کے بعد وہ تقریباً پاگل ہو گئی تھی کئی ہفتوں تک شہر کے مشہور ماہر نفسیات سے اس کا علاج جاری رہا۔اس کا دکھ بہت بڑا ، سزا بہت کڑی اور قصور کچھ بھی نہیںتھا۔انسان کے پاس تو اتنا سا اختیار بھی نہیں ہوتا کہ وہ کسی لمحے ،کسی ناقابلِ برداشت تکلیف ،کسی کرب انگیز یاد کو اپنی مرضی سے فراموش کر سکے،اپنی جلتی ہوئی آنکھوں پر اپنے سرد ہاتھ رکھ کر آنسوئوں کو برف کر سکے۔اپنے رِستے ہوئے گھائو پر مرہم رکھ سکے لیکن آسمان والے کا حکم شاید یہی ہے کہ بیمار مسیحا اپنا علاج خود نہیں کرے گا۔اسے کسی اور مسیحا کا احسان بہرصورت اٹھانا پڑے گا !
پانچ روزہ کانفرنس پر ویرا کو اس کی بڑی بہن شیزا اپنے ساتھ زبردستی اسلام آباد لے گئی تاکہ کوئٹہ کے خشک موسم سے نکل کر اسلام آباد کی تر و تازہ آب و ہوا میں اس کی طبیعت مزید اچھی ہو جائے۔شیزا ایک بین الاقوامی آرگنائزیشن میں اچھے عہدہ پر فائز تھی۔بے اولادی کے جرم کی پاداش میں شوہر چھ برس پہلے چھوڑ چکا تھا ۔والدین کے انتقال کے بعد شیزا نے ویرا کو بالکل اپنی اولاد کی طرح محبت دی۔دونوں بہنوں کے درمیان ایک بھائی نے بھی جنم لیا تھا لیکن کاتبِ تقدیر نے اس کی زندگی میں صرف دو بہاریں ہی لکھی تھیں وہ پیلے یرقان کا شکار ہو کر دو سال بعد وفات پا گیا ۔اب گھر میںویرا اور شیزا کے علاوہ ان کی ایک دیرینہ ملازمہ رہتی تھی۔
ویرا اپنے ہمجان کی موت کے بعد بہت حد تک سنبھل چکی تھی بلکہ ماہر نفسیات نے اس کے دماغ سے ہمجان جیسی خرافات باہر نکال پھینک دی اور اس کا ذہن اس کی بات کو قبول کر چکا تھا کہ دنیا میں لوگ ملتے ہی بچھڑنے کے لیے ہیں۔کوئی انسان آسمان سے اپنے اوپر کسی کے نام کی مہر لگا کر زمین پر نہیں اترتا،سب فرضی باتیں ہیں۔یہ ہمجان کی اصطلاح نجومیوں اور دست شناسوں نے اپنی دکانیں چمکانے کے لیئے اخذ کر رکھی ہیںورنہ درحقیقت انسان کو دنیا میں وہی کچھ ملتا ہے جو اس کے نصیب میں لکھا ہوتا ہے!
کانفرنس کا پہلا دن تھا۔
ویرا کی آنکھ کھلی تو تکیے کے قریب ایک کاغذ رکھا ہوا تھا ۔’ناشتہ کمرے میں منگوا لینا اور اس کے بعد سیدھی کانفرنس ہال میں چلی آنا‘
شیزا کا ہدایت نامہ پڑھ کر دوبارہ تکیے پر اچھال دیا۔ اس کا ناشتہ کرنے کا بالکل موڈ نہیں تھا اور کانفرنس ہال جانے کا تو قطعاً نہیں۔وہ آرام سے تیار ہوئی اور کمرے سے باہر نکل کر نیچے ہوٹل کی لابی میں آگئی وہاں اچانک ایک خوبصورت پینٹنگ نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ابھی وہ پینٹنگ کو انہماک سے دیکھ ہی رہی تھی کہ نیلی آنکھوں والا ایک نوجوان اپنا بائیاں ہاتھ پتلون کی جیب میں ڈالے اس سے چار قدم پرے کھڑا ہو کر پینٹنگ کی طرف دیکھتے ہوئے دائیاں ہاتھ ہوا میں لہرا لہرا کر باتیں کرنے لگا۔ویرا نے اس کے ہونٹوں کی طرف دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ موصوف پینٹنگ کے بارے میں اپنی آرٹسٹک رائے سے اسے نواز نے کی کوشش کر رہے تھے ۔تھوڑی دیر بعد جب اس کے ہونٹ اور ہاتھ ساکت ہوئے اور اس نے باقاعدہ ویرا کی طرف دیکھا تو اس نے فوراً کان کے اوپر سے بالوں کو ہٹا کر اپنے گلابی آلہء سماعت کا دیدار کروایا۔نوجوان کے ہونٹوں پر پھیلی ہوئی مدھم سی مسکراہٹ پھیکی پڑنے کی بجائے مزیدگہری ہوتی چلی گئی اور نیلی نیلی آنکھیں چمک اٹھیں’اوہ آئی۔ سی‘
اُسکا نام ماجد تھا!
’معذرت چاہتا ہوں‘ ماجد نے اپنے دونوں ہاتھوں کے اشاروں کے ساتھ اپنے ہونٹ ہلائے
ویرا کو بے اختیار ہنسی آگئی’’اشاروں کی ضرورت نہیں ہے میں ہلکا ہلکا سننے کیساتھ lip reading بھی بخوبی کر لیتی ہوں‘‘
کسی سماعت سے محروم فرد کو یوں بولتا دیکھ کر اسے ایک اور دھچکا لگا لیکن وہ اسے ہلکے سے قہقہے میں صاف چھپا گیا۔
’’مجھے آپ سے مل کر ایک دم سے خوشی ہوئی ہے‘‘اس کی مسکراہٹ واقعی جاذب نظر تھی۔
’’کیا آپ میرے ساتھ کافی پینا پسند کریں گی؟‘‘
ویرا نے اب تک اپنی عمر کے نوجوان لڑکے عموماً لاابالی ،کھلنڈرے ہی دیکھے تھے لیکن ماجد کے بات کرنے کا ڈھنگ اور وضعداری نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ چپ چاپ اس کی آفر قبول کر لے۔‘‘
دونوں ریستوران کی جانب چل دئیے
’’’آپ lip reading کے علاوہ اور کیا کرتی ہیں؟‘‘ماجد نے کافی کی پیالی ہاتھ میں اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
’’ڈپلومہ اِن فائن آرٹس‘‘ویرا کو اس کا اپنی ذات سے متعلق پہلا سوال بہت پسند آیا ورنہ لوگوں کا پہلا سوال ہی اس کے لیے پریشان کن ہوتا کہ آپ کے ساتھ یہ معذوری کب سے ہے،کیسے ہوئی ،کیوں ہوئی۔ھائے بیچاری!
’’میں اپنی این۔ جی۔ او کے ساتھ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا ہوں لیکن میرا بالکل وہاں بیٹھ کر خود کو بور کرنے کا جی نہیں چاہ رہا۔‘‘
اس نے ویرا کے پوچھنے سے پہلے ہی ہوٹل میں اپنی موجودگی کی وجہ بیان کر دی۔
’’اچھا یوں ہوتی ہیں یہ کانفرنسز۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرائی۔
ماجد نے خوبصورت سا قہقہہ لگایا
’’مجھے تو کوئٹہ سے میری بڑی بہن زبردستی یہاں بور کرنے لائی ہیں۔بھلا میرا ایسی خشک و بے رنگ قسم کے ایونٹس میں کیا کام۔‘‘
’’تو آپ اس وقت بور ہو رہی ہیں۔‘‘ اس نے وہاں سے ویرا کا جملہ پکڑ کر مکمل کر دیا کہ جس کے بعد بندہ،نہیں۔ایسی بات نہیں۔مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی وغیرہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ماجد کی دلچسپ باتوں سے بات نکلنے لگی۔ویرا اپنے بالوں کو دونوں کانوں کے پیچھے سمیٹے اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ کو پوری قوت سے سننے میں مصروف تھی۔ اس کی باتوں میں جادو گھلا ہوا تھا تھوڑی دیر بعد ساتھ والی میزوں پر بہت سے لوگ آکر بیٹھ گئے جس کی وجہ سے شور مزید بڑھ گیا ویرا کی توجہ فطری طور پر بٹ گئی اور اسے مجبوراً اٹھ کر ماجد کی ساتھ والی کرسی پر نشست اختیار کرنا پڑی وہ پر کشش مسکراہٹ کے ساتھ اپنی باتوں کا پنڈورا بکس کھولے بیٹھا تھاویرا نے محسوس کیا کہ وہ اس کے ساتھ بالکل ایسے بات کر رہا ہے جیسے اسے بھول چکا ہو کہ وہ ایک قوت سماعت سے محروم فرد سے بات کر رہا ہے اور وہ خود بھی اس کی باتوں کی رو میں بہہ کر فراموش کر بیٹھی تھی کہ وہ اس کے ہونٹ نہیں پڑھ رہی بلکہ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے مکمل طور پر اسکی آواز سن رہی ہے ۔اگر اس وقت بے دھیانی میں اس کے بال دوبارہ بھی اس کے کانوں کو ڈھانپ لیتے تو شاید اسے انہیں پیچھے سمیٹنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔
شام پانچ بجے شیزا کمرے میں داخل ہوئی تو بہت تھکی ہوئی دکھائی دیتی تھی لیکن اس کے باوجود اس کے چہرہ پر مسکراہٹ کھلی ہوئی تھی اور بدستور ویرا کو معنی خیز نظروں سے دیکھے جا رہی تھی اسے الجھن ہونے لگی۔
’’باجی! کیا بات ہے‘ آخر اس نے پوچھ ہی لیا۔
’’تم کیوں ایسی پھیکی پھیکی بیٹھی ہوئی ہو،چلو جلدی سے تیار ہو جائو کہیںباہر چلتے ہیں‘‘
’کوئی خاص بات ضرور ہے ‘ویرا نے سوچا ’ورنہ ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ تھکاوٹ بھی ہو اور باجی مسکرا بھی رہی ہوں‘
اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی شیزا نے کرسی پر اپنا تھکا ہوا وجود گراتے ہوئے اسے دروازہ کھولنے کو کہا
’آپ؟‘ویرا پر حیرت نے حملہ کردیا
دروازے کے باہر ماجد کھڑا تھا
’’کیا میں آپ کی اجازت کے بنا اندر آسکتا ہوں؟‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اندر بھی آگیااور وہ اسے دیکھتی رہ گئی
ماجد اور شیزا ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے
ویرا اپنے ذہن پر زور دے رہی تھی کہ اس نے تو ماجد کو اپنا روم نمبر نہیں بتایا اور نہ ہی دوبارہ ملاقات کا کوئی عہد کر کے رخصت ہوئی تھی پھر یہ موصوف یہاں کیسے ٹپک پڑے
’’ان سے ملو یہ ہیں ماجد۔۔‘‘ شیزا نے حیران و پریشان کھڑی ویرا کی طرف دیکھتے ہوئے اس کا تعارف کروایا۔
’’اور یہ ہیں مس ویرا ۔۔کیا آپ دونوں پہلی مرتبہ ایک دوسرے سے مل رہے ہیں؟‘‘شیزا نے دونوں کی طرف دیکھ کر بناوٹ سے پوچھا۔
’ ویرا آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟‘ماجد اسے مخاطب کرتے ہوئے کرسی پر مزے سے بیٹھ گیا۔
وہ بت بنی کھڑی دونوں کو بدھوئوں کی طرح دیکھے جا رہی تھی
آخر شیزا نے اپنی نشست سے اٹھ کر اس حیرت کی ماری کو گلے لگایا اور ماجد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’چلو اب میری سوہنی موہنی کو زیادہ پریشان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’پریشان تو آپ نے انہیں کر دیا ہے۔‘‘ وہ چُنی آنکھوں سے ہنسنے لگا۔
’’نیچے لابی میں انتظار کرو ہم تیار ہو کر آتے ہیں۔‘‘ شیزا نے حکم صادر کیا تو وہ معززانہ طریقے سے کرسی سے اٹھا اور ’او۔کے باس‘ کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
اس کے جانے کے بعد شیزا نے ویرا کو بتایا کہ دورانِ کانفرنس وہ اس کے پاس آیا اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کہنے لگا ’میں آپ کی بہن کو کافی پلا کر آرہا ہوں اس کا بل دے دیجیے۔‘‘
دونوں نے ہلکا سا قہقہہ لگایا ۔
ویرا کی طرح شیزا کو بھی ماجد کی شخصیت میں بظاہر کوئی نقص نظر نہیں آیا تھا ماجد کاتعلق جس آرگنائزیشن سے تھا اس کے بارے میں شیزا بخوبی آگاہ تھی اور اکثر سیمینارز اور کانفرنسز میں دونوں کاآمنا سامنا رہتا تھااس کے علاوہ اسے ویرا کا اس کے ساتھ بیٹھ کر coffee پینا اچھا لگا تھا وہ بے حد خوش بھی تھی کہ اسکی بہن کم از کم اس ہمجان کے چکر سے تو پوری طرح نکل کر عام زندگی میں لوٹ آئی ہے
’’این۔جی۔اوسیکٹرمیں کام کرتے ہوئے مجھے لوگوں کو پرکھنا آگیا ہے۔‘‘ شیزا نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’وہ ہمیں اسلام آباد گھمانے کا کہہ رہا تھا تو میں نے اسے اپنا روم نمبر دے دیا‘‘
’’لیکن۔۔۔‘‘ویرا نے لب کھولنا چاہے مگر اس نے خاموش کرا دیئے
’’تمھیں اپنا اعتماد واپس بحال کرنا ہوگا ویرا،اپنے اندر کے خوف پر قابو پانا ہوگا،جائو میری جان ‘شیزا نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
’’صرف میں؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’مجھے تم پر اعتماد تھا،اور ہے،میں کسی اور کو نہیں جانتی۔بس‘‘ یہ کہتے ہوئے شیزا بیڈ پر دراز ہو گئی۔
’’باجی مجھ سے تنہا نہیں جانے ہوگا‘‘اس نے معصومیت سے کہا
’تیار ہو جائو ورنہ وہ دوبارہ ٹپک پڑے گا‘اس نے تکیہ چہرے پر رکھ لیا۔
شیزا نے ہمیشہ اسے خود اعتمادی کا درس دیا تھا اور اب بھی وہ یہی دیکھنا چاہ رہی تھی کہ اس میں وہ خوداعتمادی باقی ہے کہ نہیں ۔
بالآخر وہ تیار ہو کر نیچے لابی میں چلی گئی!
…٭…٭…
ماجد کا تعلق اسلام آباد سے تھااور وہ بخوبی شہر کی تمام جگہوں سے واقف تھا اسے معلوم تھا کہ کن راستوں پر گاڑی سے اترکر اونچے اونچے درختوں تلے پیدل چلنے میں لطف آتا ہے اور وہ کون سے view points ہیں جہاں کافی پینے سے اس کا ذائقہ مدتوں زبان پر مہکتا رہے گا۔
اس روز موسم بڑا رومانوی تھا۔ ہوا کے جھونکے پھولوں کے بدن سے ٹکرا کر پانی کے چھینٹوں کی طرح چہروں کو تر و تازہ رکھے ہوئے تھے، دور پہاڑ کے دامن میں شام اپنا سرخ آنچل سمیٹنے میں مصروف تھی۔
پہلے پہل تو ایک فطری جھجک نے ویرا کو باندھ کر رکھا لیکن جوں جوں سفر طے ہوتا رہا اس کے اندر اطمینان کی لہر سرایت کرتی چلی گئی وہ اسے یوں اسلام آباد گھماتا رہا جیسے ایک ماہر گائیڈ اپنے کلائینٹ کو مطمئن کرنے کے لیئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔
ماجد کے مقناطیسی رویے اور اس کی سحر انگیز باتوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ ویرا کو یہ احساس دلایا کہ اس کی باقی ماندہ شخصیت کے سامنے اس کی محرومی بہت چھوٹی اور بے معنی ہے۔
جب دو اجنبی ایک ساتھ محوِ سفر ہوتے ہیں تب ایک دوسرے کو کھوجنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ویرا نے اسے ہمجان والا واقعہ سنایا تو اس کا ردِ عمل بالکل نارمل تھا اس کے خیال میں دنیا ایک پراسرار جگہ ہے یہاں کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے کوئی بھی من گھڑت بات حقیقت کا لبادہ اوڑھ کر کسی بھی لمحے سامنے آسکتی ہے جیسے زمانہ قدیم میں الف لیلہ کی فرضی کہانیوں میں اُڑن قالین کا ذکر سن کر لوگ حیران ہوا کرتے تھے لیکن آج دیو قامت لوہے کے جہاز ہوا میں پرواز کرتے ہیں اُس زمانے کے لوگ آج یہ جہاز دیکھ لیں تو حیرت سے مر جائیں!
رات کے سائے طویل ہو چکے تھے تھکان کے باوجود ویرا کے چہرے پر تازگی تھی
’’میں جانتا ہوں کہ یہ سوال نہایت ہی تھکا ہوا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں آپ سے پوچھنے کو جی چاہ رہا ہے‘‘ ہوٹل واپسی پر ماجد نے اس کی ذات میں داخل ہونے کے لیئے درِ دل پر پہلی دستک دی۔
ویرا نے ابروئوں کو اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’سوال کیا ہے؟‘‘
کچھ سوچتے ہوئے وہ گویا ہوا۔
’’کیا آپ اب بھی ہمجان پریقین رکھتی ہیں؟‘‘
ویرا نے آہستہ سے نفی میں سر ہلا دیا
اس کے بعد گاڑی کچھ دیر چپ چاپ سڑک پر رینگتی رہی اور خاموشی گنگناتی رہی
’’تم عموماً lip reading ہی کرتی ہو یا پھر اشارے بھی سمجھ لیتی ہو‘ ماجد نے موضوع بدلتے ہوئے اچانک ’آپ‘ سے ’تم‘ پر چھلانگ لگائی۔
’مجھے lip reading آسان لگتی ہے ۔۔لوگوں کے متحرک ہونٹوں کی اپنی سائیکی ہوتی ہے۔‘‘
’’کیسی سائیکی‘‘
’’غور کریں تو لوگوں کے ہونٹ ان کے ذہن میں چلنے والی سوچوں اور دلی خیالات کی عکاسی کرتے دکھائی دیں گے۔‘‘
’’دلچسپ۔۔مثلاً۔‘‘ اس نے متاثر کن انداز میں کہا۔
ویرا اپنا سر سیٹ پر ٹکاتے ہوئے گویا ہوئی’میںلوگوں کے ہونٹوں سے اندازہ لگا سکتی ہوں کہ وہ کس قدر پریشان ہیں ۔۔وہ جھوٹ بول رہے ہیں یاسچ۔۔کیوںسوچ سوچ کر بول رہے ہیں۔۔کیا مایوسیوں میں گھرے ہیں۔۔ رونا چاہتے ہیں۔۔ اندر سے ٹوٹے ہوئے ہیں۔۔ذہنی دبائو کا شکار ہیں۔۔ان کی مسکراہٹ مصنوعی ہے۔۔ بور ہو رہے ہیں۔۔ شرمندہ ہیں۔۔بے سکون ہیں۔۔خوفزدہ ہیں۔۔ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔۔ان کی باتوں میں خلوص ہے یا۔۔فلرٹ کر رہے ہیں‘
ماجد نے چہرہ اس کی جانب گھما یا اور مسکرادیا۔
’’میرے بارے میں کیا رائے ہے‘‘
ویرا نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا۔
’’ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔فی الحال آپ معقول انسان لگے ہیں‘‘
’’O,Really ‘‘اس نے یوں بناوٹ سے اپنے ہونٹ ہلائے کہ ویرا کو ہنسی آ گئی۔اس نے اپنی بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ اس کی ہنسی کو باندھ کر اسے ہوٹل ڈراپ کر دیا۔
ساری رات ویرا کو درِ دل پر ہونے والی پہلی دستک سنائی دیتی رہی!
اُس سے اگلی شام اور پھر اس سے اگلی شام وہ ماجد کے ساتھ تھی زندگی ایک نئی تصویر میں رنگ بھرتی رہی یہ تصویر ہمجان والی پینٹنگ سے زیادہ حسین اور دلکش تھی۔دونوں کے قدموں کی آہٹ سے سوئے رستے بیدار ہوتے چلے گئے،ان گنت قہقہے سرسبز درختوں نے سُنے،خاموشی کے وقفوں میں نگاہوں نے حسیں مناظر کا طواف کیا،ویرا اس کے ہلتے ہوئے ہونٹوں سے نکلے ہوئے الفاظ کو پلکوں کی نوک سے بُنتی رہی اور اس کی آنکھوں میں شاموں کے ڈھل جانے کا افسوس دیکھتی رہی۔
’کاش یہ وقت یہیں تھم کر رہ جائے کاش یہ تصویر کبھی مکمل نہ ہو کاش یہ رستہ کہیں ختم نہ ہو کاش گفتگو کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو کاش موسم بہار یہیں تھم جائے کاش ان مسکراہٹوں کو زوال کا خدشہ نہ ہو ‘ ویرا کے اندر بیٹھی محبت نے اس کے کان میں سرگوشیاںکیںاور دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
وہ کانفرنس کا چوتھا روز تھا۔
صبح گیارہ بجے ویرا کی آنکھ کھلی تو اسے یاد آیا کہ گزشتہ شام اسے ماجد نے صبح دس بجے اپنے ساتھ کافی پینے کی دعوت دی تھی،وہ جلدی سے تیار ہو کر نیچے لابی میں پہنچی تو ماجد نے اسے دیکھتے ہی گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔
’’دس منٹ بعد بارہ بج جائیں گے ،گھڑی میں بھی اور میرے بھی‘‘
وہ ہونٹوں کی جنبش سے sorryکہتے ہوئے اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’رات باجی سے کہا بھی تھا کہ صبح اپنے ساتھ ہی جگا دینا لیکن شاید وہ بھول گئیں‘‘
’’خیر،باجی سے بھی نبٹ لیں گے‘‘اس نے ویٹر کو اشارہ کرکے پاس بلایا اورکافی آرڈر کی۔
ویرا نے بالوں کو کان کے پیچھے سمیٹا تو ماجد نے بہت دیر سوچنے کو بعد اسے مخاطب کیا
’’تم بالوں کو اس انداز میں کیوں نہیں بناتی کہ تمھیں بار بار انہیں کان سے پیچھے ہٹانے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے‘‘
پہلے تو اس نے سوچا کہ اس سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف مسکرانے پر اکتفا کرے لیکن ناجانے کیوں اس کے ہونٹ خودبخود بول پڑے۔
’’اس کی وجہ یہ ہے کہ میں صرف قوتِ سماعت سے محروم نہیں ہوں بلکہ قوتِ سماعت سے محروم ایک لڑکی بھی ہوں‘اس کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی یکدم سخت ہوگیا۔
ماجد کو اپنے سوال پر پشیمانی ہوئی اور اس نے محسوس کیا کہ وہ اداس ہو گئی ہے’’اگر تمہیں میرے سوال سے دکھ پہنچا ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں لیکن۔۔یہ ضرور کہوں گا کہ تم کیوں خود کو اس معمولی سی معذوری کے حوالے کر رہی ہو، پلیزبھول جائو کہ تمھارے ساتھ یہ محرومی ہے‘‘
ویرا نے نفی میں سر ہلایا’’میں بھولنے کی کوشش بھی کروں تب بھی نہیں بھول سکتی جس طرح کسی کالم نگار کو اس کے ارد گرد کا ماحول قلم اٹھا کر کڑوے حقائق لکھنے پر مجبور کرتا ہے اسی طر ح میرے آس پاس موجود لوگوں کی نگاہیں اور ان کے ترس آمیز رویئے مجھے اس محرومی کا احساس دلاتے رہتے ہیں‘ اس کا دل اب سچ مچ اداس ہونے کو چاہ رہا تھا ’یہ روئیے بہت تلخ ہوتے ہیں‘‘
ریستوران کی فضا میں آنسوئوں سے بھرے بادل منڈلانے لگے اور اس سے پہلے بادل برستے افسردہ ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیئے اچانک ماجد نے دھیمے سُروں میں گنگنانا شروع کر دیاـ’وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔۔‘
ویرا کو اس کی یہ حرکت بہت عجیب معلوم ہوئی
یونہی آہستہ سے گنگناتے ہوئے اس نے اپنی جیب سے دو سفید لفافے نکال کر اس کے سامنے رکھ دیئے۔
ویرا نے لفافے میں سے کارڈ نکال کر اس پر نگاہ دوڑائی۔
’’یہ تو۔۔فریدہ خانم جی کے ساتھ ایک شامِ غزل ،کا انٹری پاس ہے۔‘‘
’’جی،آج شام تیار رہنااس شامِ غزل کا انعقاد قریبی ہوٹل میں ہے‘‘
اسے ایسا لگا جیسے ماجد نے اس کی محرومی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
’’ تم جانتے ہو کہ میں۔۔۔‘‘
’’میرے ساتھ کوئی ایسی ویسی بات مت کرنا پلیز‘‘
اس کی آنکھوں میں ویرا کو اپنائیت کی چمک نظر آئی
’’تمھیں اپنی اس محرومی کو یکسر نظر انداز کر کے جانا ہی پڑے گا اور ایسا میں چاہتا ہوں‘‘
وہ ذرا دیر کارڈ پر نظریں جمائے بیٹھی رہی اور پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گویا ہوئی’’اس کے لیے مجھے باجی سے اجازت لینا ہوگی‘‘
اس نے کوئی احتجاج نہ کیا بس خاموشی سے اس کی آنکھوں کی کھڑکیوں پر اپنی لرزتی پلکوں سے دستک دیتا رہا۔دوسری دستک !
ماجد، شیزا سے پہلے ہی اجازت لے چکا تھا
شام کودونوں ہوٹل سے نکلے تو ویرا نے راستے میں اسے قدرے سنجیدگی سے مخاطب کیا۔
’’میں تین چار غزلیں سننے کے بعد جلد ہوٹل واپس آنا چاہوں گی‘‘
’’ایساکیوں؟‘‘ماجد نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔
’’بس مجھے یوں رات دیر تک بیٹھنا اچھا نہیں لگے گا‘‘
’’باجی نے جلد آنے کی تاکید کی ہے؟‘‘
’’نہیں ایسا کچھ نہیں کہالیکن جس طرح کچھ باتوں کے لیے ہمیں اپنے پیاروں کی اجازت مطلوب ہوتی ہے اسی طرح کچھ فیصلوں کے لیے ہمارے پیارے ہماری طرف بھی دیکھتے ہیں‘‘
ماجد سنجیدگی سے سر ہلا کر خاموش ہوگیا
’’مسکرا کر میری بات کا جواب دو،پلیز‘‘ ویرا کو شام کے برباد ہونے کا اندیشہ تھا۔
’’’آپ کے حکم کی تعمیل ہو گی‘‘ اس نے ادھار پر مانگی ہوئی مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھا۔
’’فکر نہ کروہم جلد واپس آجائیں گے‘‘
گاڑی میں خاموشی چھا گئی!
پروگرام ابھی شروع نہیں ہوا تھا
ہال میں پہنچ کر ماجد نے ویرا کو اگلی نشستوں کی جانب جانے سے روک دیا حالانکہ وہ تقریباً خالی تھیںاس نے وجہ پوجھی تو ماجد نے اسپیکرز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’یہاں پیچھے اسپیکرز کے قریب بیٹھ کر تم باآسانی فریدہ جی کی آواز سے محظوظ ہو سکتی ہو‘‘
’’لیکن میں فریدہ جی کو قریب سے دیکھنا چاہتی ہوں‘‘ اس نے معصومیت سے کہا۔
’’وہ یہاں اپنی آواز کا جادو جگانے آ رہی ہیں ۔یہ کوئی فیشن شو نہیں ہے ناں‘‘ ماجد نے گھور کر اس کی طرف دیکھا تو وہ چپ چاپ وہیں بیٹھ گئی۔
آہستہ آہستہ ہال میں رش بڑھتا جا رہا تھا اورویرا بار بار گھڑی دیکھتے ہوئے اس سے ایک ہی سوال کیے جا رہی تھی۔
’’یہ فریدہ جی کہاں رہ گئیں۔
وہ آرام سے کرسی پر پشت ٹکائے بیٹھا اس کی بے چینی سے گویا لطف اندوز ہو رہا تھاکافی دیر بعد فریدہ خانم اسٹیج پر تشریف لائیں اور پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔ویرا کے کان کے پردے پر ہلکا سا ارتعاش پیدا ہو کر ختم ہوگیا
’’کالی ساڑھی میں فریدہ جی کتنی گریس فل لگ رہی ہیں ناں‘‘ اس کی نگاہیں یوں چمکتی تھیں جیسے ان میں ننھے ننھے دئیے روشن ہوں۔
اس کے دائیں جانب ذرا فاصلے پر ایک بڑا سا اسپیکر نصب تھا کچھ توقف کے بعد اس میں سے فریدہ جی کی مدھر آوازاپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ بر آمد ہوئی۔
’میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں۔۔‘
کچھ توقف کے بعدگیت کے ساتھ ہی ماجد کا ہاتھ تھرکنا شروع ہوگیا۔
’’یہ میری وجہ سے یہاں پیچھے بیٹھا ہوا ہے تا کہ مجھے آواز صاف سنائی دے‘ویرا کا دھیان گیت سے ہٹ کر احساس میں ڈوب گیا’اور میں نے اس کے ساتھ کیا کیا کہ یہاں آنے سے پہلے ہی واپس جانے کی رٹ لگا دی۔خود غرض‘اس کے اندر سے چیخ ابھری۔
’’دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے‘‘
گیت کے بعد غزل کا آغاز ہوا تو ماجد نے اچانک اپنے ہونٹ اس کے بائیں کان کے قریب لا کر سرگوشی کی’’یہ فیضؔ صاحب کی مشہور غزل ہے‘
اس کی سرگوشی سے ویرا کو یوں محسوس ہوا جیسے ابھی اس کا آلہء سماعت پگھل کر کان سے بہنا شروع کر دے گاوہ پہلی مرتبہ اس کے اتنے قریب ہوا تھا۔اس غزل کے بعد ایک اور غزل کا آغاز ہوا اور ویرا کی توجہ اپنے بائیں کان پر مرکوز ہو گئی ۔اس نے دوبارہ سرگوشی کر کے اسے غزل کے شاعر کے بارے میں بتایا ۔آلہء سماعت کا درجہ حرارت اور بڑھ گیا اور اسی طرح ہر غزل کے آغاز پرحرارت بتدریج بڑھتی چلی گئی اور جب درجہء حرارت نقطہء اشتعال کی آخری حدکو چھونے لگا ویرا نے اسے ہوٹل واپس چلنے کو کہہ دیا۔
’’تھوڑی دیر اور رُک جائو‘‘ اس نے درخواست کی۔
لیکن وہ جانتی تھی کہ اگر ذرا اور یہاں ٹہری تو راکھ بن کر اس کے قدموں مین بکھر جائیگی۔
’’آج جانے کی ضد نہ کرو۔۔۔‘فریدہ جی نے شاید ماجد کے دل کی صدا سن لی تھی لیکن ویرا اٹھ کر ہال سے باہر چلی گئی اس کے باوجود کہ اس نے پروگرام میں آنے سے پہلے ہی جلد واپس لوٹ آنے کا عندیہ دے دیا تھا لیکن اس وقت اسے سخت شرمندگی ہو رہی تھی۔یا شایدپھر وجہ کچھ اور تھی جسے وہ جان بوجھ کر نظر انداز کرنا چاہتی تھی۔
دونوں واپس ہوٹل پہنچے تو گاڑی سے اترتے سمے ویرا نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ کر sorryکہا ماجدنے اسکاہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ویرا بنا کسی مزاحمت کے نگاہیں جھکائے بیٹھی رہی دونوں پر خاموشی طاری تھی دونوں کے درمیان آگ کے شعلے حائل تھے دل میں جذبات کا لاوا ابلتا محسوس ہوتا تھا اور اس سے پہلے کہ آتش فشاں پھٹ پڑتا وہ گاڑی سے نیچے اتر کر تیز تیز قدموں سے ہوٹل میں داخل ہو گئی۔
تیسری دستک نے اسے سر سے پائوں تک جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا!!
وہ رات دیر تک سوچتی رہی کہ اگر تیسری دستک پر بھی اس نے دل کا دروازہ نہیں کھولا تو کہیں دستک دینے والا نراش ہو کر واپس ہی نہ لوٹ جائے۔
کانفرنس کا پانچواں اور آخری روز تھا !
صبح دس بجے ویرا جلدی سے تیار ہو کر نیچے لابی میں آئی لیکن یہاں وہاں کہیں بھی ماجد موجود نہیں تھا۔وہ کافی ہال میں اس کا انتظار کرنے لگی’ناراض ہوگا شاید۔۔نہیں۔۔یا آج کانفرنس کے آخری دن شاید مصروف ہوگا۔۔مجھے کانفرنس ہال میں جا کر اسے دیکھنا چاہیئے۔نہیں۔۔شاید آج میں جلدی آگئی ہوں۔۔ہاں یہی بات ہو سکتی ہے۔۔شاید۔۔‘اسکا ذہن طرح طرح کے خیالات میں الجھا ہوا تھا۔
’’صبح بخیر‘‘ ماجد ایک سرخ گلاب ہاتھ میں لیے اس کے سامنے موٗدب کھڑا تھا۔
“This is for Princess Vera”
ـ”ThankYou Prince Charming”
وہ بالکل اپنے ارد گرد کی پروا نہ کرتے ہوئے مسکرائی اور گلاب اس کے ہاتھ سے لے کر خوشبو کا ایک گھونٹ اپنی سانسوں میں اتارا۔
’’کتنی پیاری خوشبو ہے‘‘
’’سچ مچ بہت پیاری ہے۔‘‘ ماجد نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور بالکل اس کے مقابل کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
وہ سَر تا پا لرز اٹھی لیکن سوچ کا دھارا اسے کہیں اور ہی لے گیا ’تمھارے دل پر یہی ہاتھ دستکیں دے رہا ہے ویرا‘سوچ مزید گہری ہوتی چلی گئی۔ایک لڑکی کو کسی مقام پر آ کر ایسے ہی ہاتھ کی ضرورت محسوس ہو تی ہے جسے تھام کر وہ تمام زندگی گزار سکے۔ایک مضبوط توانا ہاتھ جس کی مٹھی ناقابلِ تسخیر قلعے کی مانند ہو‘‘
وہ بہت دھیرے سے اپنی انگلیوں کو اس کی کانپتی انگلیوں میں ہم آغوش کرنے لگاویرا کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ماجد کی نگاہیں اس کی جھکی ہوئی پلکوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔
اچانک ویرا کے اندر اس کے ضمیر نے سر اٹھایا’کیا یہ سب غلط نہیں؟۔گناہ نہیں؟۔بے وقوفی نہیں؟۔یہ واقعی محبت ہے؟‘ اس نے ماجد کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دل نے گواہی دی کہ۔۔ہاں یہ محبت ہے ۔محبت ہے!
ویرا کی نظریں اس کے لبوں پر بیٹھیں اس محبت کے اظہار کی منتظر تھی جس کے بعد تمام عمر کی محرومیاں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ کر رخصت ہونے والی تھیںاپنے اطراف سے یکسر بے خبر اس کی پوری کائنات اس کے خاموش ہونٹوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی اس نے اپنے لب نہ کھولے اور ہاتھوں پر پسینے کی ننھی بوندیں چمکنے لگیں تو وہ اضطرابی کیفیت کو اس سے چھپاتے ہوئے بولی۔
’’کچھ کہو گے نہیں‘‘
دونوں خاموشی کی زبان سننے اور سمجھنے پر قادر تھے
اس نے نفی میں سر کو جنبش دیتے ہوئے لب کھولے۔
’’نہیں ،ابھی نہیں‘‘ ماجد کا دائیاں ہاتھ اس کے بائیں ہاتھ میں تھا اور دونوں آزاد ہاتھوں سے کافی پینے لگے۔
’’کل صبح ہماری روانگی ہے۔‘‘ ویرا نے یاد دہانی کروائی۔
’’ہاں جانتا ہوں‘‘ اس نے گہرا سانس لیا۔
’’اچھا سنو!گزشتہ چار شامیں تم میرے ساتھ گزارتی آئی ہو اگر آج کی شام میں تمھارے ساتھ گزاروں تو تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟‘‘
’’وہ شاید محبت کے اظہار کی لمبی چوڑی تمہید باندھنا چاہتا ہے‘‘ اس نے سوچا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے آنے والی شام اسے دیدی۔
وہ سچ مچ بہت خوش تھی
دونوں ایک دوسرے کی نگاہوں میں گم کافی کی پیالیاں ہاتھوں میں تھامے مسکرا نے لگے کہ اچانک ویرا کی نگاہ ماجد کے عقب میں دور ٹیبل پر بیٹھے ایک نوجوان جوڑے پر جا ٹہری،لڑکی کی کلائیوں میں سونے کی چوڑیاں اس بات کی غمازی کر رہی تھیں کہ جوڑا شادی شدہ ہے۔
’’’وہ دیکھو،دونوں جھگڑ رہے ہیں۔‘‘ اس نے ماجد کی توجہ ان کی طرف مبذول کروائی۔
اس نے گردن کو خم دے کر ان کی طرف دیکھا۔
’’تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ دونوں جھگڑ رہے ہیںجبکہ ان کی آواز تو میں بھی نہیںسن پا رہا۔‘‘
نوبیاہتا لڑکی کے ہونٹ کبھی کھلتے ،کبھی سمٹ جاتے، کبھی خاموش ہو جاتے تو کبھی دانتوں تلے کٹنے لگتے جبکہ ساتھ بیٹھے ہوئے اس کے شوہر کا رویہ ایسا تھا کہ جیسے اسے اس کی باتوں کی ذرا پروا نہیں۔۔اداسی کی ایک لہر تھی جو اس جوڑے اور ویرا کے درمیان سفر کر رہی تھی۔
’’کیا اتنی دور بیٹھ کر کسی انجان شخص کے بارے میں کوئی حتمی رائے دی جا سکتی ہے کہ وہ کس دھن میں بیٹھا ہے؟‘‘شاید اس نے ویراکے اندر اترتی ہوئی اداسی کی لہر کو محسوس کر لیا تھا۔
’’بالکل‘ویرا نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔
’’کبھی ٹیلی وژن کی آواز بند کر کے اسے دیکھنا ،تم بھی یہ ہنر آہستہ آہستہ سیکھ جائو گے‘‘
’’نا بابانا۔۔میں ایسا ہی ٹھیک ہوں‘‘
اس کا قہقہہ ویرا کے شیشہء دل پر لکیر کھینچ گیا لیکن اس نے شکایت نہیںکی۔
’’ضروری نہیں کہ حقیقت وہی ہو جو لازمی ہمیںسنائی اور دکھائی دے‘‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس وقت اسے کیا سمجھانا چاہ رہی تھی شاید اس پر نو بیاہتا لڑکی کی اداسی کا اثر طاری تھا۔ ’’اگر کبھی تم بہت دور سے کسے درخت کو گرتے ہوئے دیکھو تو یہ ہرگز مت سمجھنا کہ گرتے سمے وہ درد سے چرچرایا نہیں ہوگا‘‘
ماجد لاجواب سا ہو کر کافی کی چسکیاں لینے لگا۔
شام کو ویرا گنگناتے ہوئے تیار ہو نے میں مصروف تھی اورشیزا بیڈ پر نیم دراز اسے بڑے اطمینان سے دیکھ کرمسکرا تی رہی ۔
’’بہت خوش دکھائی دے رہی ہو‘‘
’’آپ کو وجہ معلوم ہے باجی‘‘ وہ ذرا سا جھینپ گئی۔
’’میں تم سے زیادہ خوش ہوں ۔۔ماجد اچھا لڑکا ہے، اگر تم دونوں کسی فیصلے پر پہنچتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘‘
اس نے باقاعدہ مڑ کر شیزا کو دیکھا۔
’’باجی پتہ نہیں کیوں آج میرے ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہورہے ہیں میں جتنی بھی بہادری کیوں نہ دکھا ئوں لیکن میرے اندر یہ احساس نہیں مرتا کہ مجھے کوئی قبول نہیں کرے گا‘‘
شیزا اٹھ کر اس کے پاس چلی آئی اور اس کا چہرہ دونوں ہتھیلوں میں لے لیا۔
’’کوئی انسان ایسا نہیں جس میں کوئی نہ کوئی کمی نہ ہو اور شکر ہے کہ انسان کا نصیب خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اس لیے تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔سمجھی؟‘
اس نے آہستہ سے سر ہلایا
’’چلو شاباش جلدی سے تیار ہو جائو۔‘‘ شیزا نے اسکا ماتھا چوما۔
’’ویسے باجی میں بھی انسان ہوں اورمجھ پر اتنا اندھا اعتماد کرنا بھی ٹھیک نہیںہے۔‘‘ اس نے شرارت سے مسکراتے ہوئے آئینے میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم میرا مان ہو میری جان،اگر تم ٹوٹ گئیں تو میں بھی ٹوٹ جائونگی اور اعتماد کِیا نہیں جاتا اعتماد تو کمایا جاتا ہے‘‘
ویرا تڑپ اٹھی اور بالوں میں برش کرتے کرتے ایک دم جا کراپنی بہن سے لپٹ گئی !
موسم نہایت خوشگوار تھا
شام کے ہاتھوں سے سورج دھیرے دھیرے پھسل کر دور اک پہاڑی کی جھولی میں بس گرنے ہی والا تھا
ماجد نے ایک بے حد خوبصورت view pointپر گاڑی روک دی۔
جہاں حدِ نگاہ سبزے کا قالین بچھا ہوا تھابہت کم لوگوں کو اس جگہ کا علم ہونے کی وجہ سے رش بھی بہت کم تھاتھوڑے تھوڑے فاصلے پر اکاّ دکّا گاڑیاں کھڑی تھیں۔ماجد نے پیار سے ویرا کے بالوں کو چھوا اور انہیں کان کے پیچھے سمیٹ دیا
’’جب پہلی بار تمھیں دیکھا تھا بس وہی لمحہ اب تک میری آنکھوں میں مقید ہے۔میںجب جب تمھیں ہوٹل ڈراپ کر کے واپس لوٹتا تو سارا سفر کانٹوں پر طے کرتا۔۔اور پھر رات کی تنہائی ایسے ڈستی جیسے جسم سے جان کھینچ کر ہی دم لے گی‘
ویرا کی ہتھلیاں پسینے سے تر تھیں کہ اس کے لفظ لفظ میں رومانویت بھری ہوئی تھی
شام ڈھل چکی تھی لیکن اب تک اس نے محبت کا اظہاراور وفا کے وعدوں جیسی کوئی بات نہیں کی تھی۔عمر بھر ساتھ چلنے جیسی کوئی اجازت نہیں مانگی۔۔کوئی قسم اس کی انگلی میں نہیں پہنائی تھی
ویرا نے ہمت کر کے بالآخر پہل کر دی۔
’’ماجد ۔۔ میں بھی تمھیں پسند کرنے لگی ہوں‘‘یہ کہتے ہوئے اس کا حلق سوکھنے لگا۔
ماجد نے ہاتھ میں پکڑی انرجی ڈرنک کی بوتل سے ایک گھونٹ لیا۔
’’مجھے بھی تم سے محبت ہوگئی ہے میری جان‘‘
ویرا کا سر حیاسے جھک گیا کہ بس یہی تو وہ سننے کے لیے بیتاب تھی۔
’’تم اتنی حسین کیوں ہو؟‘‘ اچانک اس کی آنکھیں بوجھل ہو گئیں ،سانسیں بے قابو اور ہاتھ بے حد گرم تھے۔
اس کی یہ کیفیت دیکھتے ہوئے بھی ویرا اس وقت کچھ نہ سمجھ پائی اور بیوقوفوں کی طرح اس سے پوچھنے لگی۔
’’کیا تم سچ مچ مجھ سے محبت کرتے ہو ماجد؟‘‘ شاید اس وقت ہر لڑکی کی مانند اس پر بھی چاہے جانے کی تمنا باقی تمام آرزووٗں پر حاوی تھی
ماجدنے اسے اپنے قریب کھینچا اور اس کے دونوں شانوں پر اپنے ہاتھ جماتے ہوئے کہا۔
’’بہت محبت کرتا ہوں میری جان۔‘‘ اس کی آنکھوں میں عجیب سی وحشت در آئی وہ اس کے اوپر جھکنے کی کوشش کرنے لگا لیکن ویرانے اسے پیچھے دھکیل دیا ۔ اس پہ جنون سا طاری تھاوہ اسے اپنے قریب کھینچنے لگا اورویرا کا بدن اپنے بچائو میں لرزتا تھا’نہیں۔۔یہ محبت نہیں ہے‘ اس کے اندر سے کوئی آوازابھری اور وہ انتہائی بے بسی کے عالم میں چیخ اٹھی”Stop..please Stop”
ماجد کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں لیکن اس کے باوجود وہ چلّایا۔
’’تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟؟؟‘اسکی آنکھوں میں انگارے دہک رہے تھے۔
’’دنیا صرف اس لیے تمہارے اشاروں پہ ناچتی رہے کہ خدا نے تمھیں اپاہج کر دیا ہے‘‘
ویرا کے دل کا دروازہ پوری قوت سے بند ہوا اور اس کی گونج سے آنسوئوں کے سارے بندھ ٹوٹ گئے۔
وہ بولتا چلا گیا۔
’’تم ساری عمر اپنی محرومی کے عوض لوگوں سے ہمدردیاں سمیٹتی رہو گی لیکن محبت کہیں نہیں ملے گی ۔۔شکر کرو کہ میں نے تمھیں محبت کے قابل سمجھا ورنہ تم چیز کیا ہو!‘‘
’’یہ محبت ہے؟‘‘ویرا نے نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا۔
’’ہاں!اور یہی میرا محبت کرنے کا انداز ہے میں تمھاری شرائط پر تم سے محبت نہیں کر سکتا۔‘‘وہ غصہ میں پاگل ہو رہا تھا۔
’’میں نے تو کوئی شرط نہیں رکھی ماجد‘آنسو اسکی پلکوں سے رسنے لگے۔
’’صرف عمر بھرتمھارے ساتھ رہنے کے علاوہ کوئی اور خواب میری آنکھوں نے نہیں دیکھا۔‘‘
’’جھوٹ کہتی ہو تم۔۔۔بکواس کرتی ہو۔۔۔تم بے انتہا خود غرض لڑکی ہو‘ اس کا انداز منہ پر تھوکنے جیسا تھا۔
وہ اسے بت بنی دیکھ رہی تھی اسے بھیگی آنکھوں سے اس کے ہونٹ بھی صاف طور پر دکھائی نہیں دے رہے تھے اور شاید اس کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ وہ ایسے چلّا کے بات کر رہا تھا کہ ایک لمحہ کے لیے اسے گمان سا گزرا کہ شاید اس کی سماعت واپس لوٹ آئی ہو۔وہ اپنی سسکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی
وہ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر اچانک اپنی انگلی سے اسکی ٹھوڑی کو اٹھا کر پیار بھری ہمدرد نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
“Please I need you…I Love you so much”اس کی آواز میںدرد کا شائبہ اور آنکھوں میں خمار کی لہر تھی۔بہت نازک لمحہ تھا۔۔ہاتھ بھر کے فاصلہ پر یقین کی منزل بھی تھی اور رسوائی کی کھائی بھی۔۔۔ایک جوا تھا ۔۔ویرا کے ایک ہاتھ میں اپنی بہن کا دیا ہوا پختہ اعتماد تو دوسرے ہاتھ میں چاہے جانے کا خواب دھرا تھا اور عزت دائو پر لگی تھی۔
ماجد کی نگاہیں کھیل کے آخری فیصلہ کن پتے کی منتظر تھیں اور بالآخر ویرا نے وہ پتا پھینک دیا !!
…٭…٭…
ویراجب ہوٹل واپس لوٹی تو شیزاسو رہی تھی وہ خاموشی سے صوفے پر سمٹ کے بیٹھ گئی۔ ذرا سی دیر میں اسکی ہچکیوں کی صدا سن کر شیزا کی آنکھ کُھل گئی۔ وہ جھٹ سے اس کے پاس آئی اور اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
’’کیا بات ہے باجی کی جان؟‘‘ اُس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا
وہ کوئی جواب نہ دے سکی کہ جب ہچکیاں بولتی ہیں تو الفاظ گنگ ہو جاتے ہیں۔اسے نہیں معلوم کہ وہ کتنی دیر تک بہن کے گلے لگ کر روتی رہی اور شیزا کا دل اندیشوں کا مسکن بنا رہااس سمے ویرا کے دل میں ایک ہی خیال اس کے ساتھ آنسو بہا رہا تھا کہ وہ بہن کوکیسے بتائے کہ جب معذوری محبت کے آڑے آتی ہے تو دل میں بپا ہونے والی قیامت کاشورسننے کے لیئے قوتِ سماعت کا ہونا بھی لازمی نہیں ہوتا۔۔۔صرف وہی حقیقت نہیں ہوتی جو سنائی یا دکھائی دے۔۔شاخ سے پھول اور سینے میں دل ٹوٹنے کی آواز نہیں آتی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خسارہ نہیں ہوا !!
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو شیزا اس کے قریب بیٹھی ہوئی تھی شیزا نے اس کے گال پہ بوسہ دیا لیکن کوئی بات نہیں کی۔ویرابھی خاموشی سے تیار ہونے لگی سامان پیک پڑا تھا ۔۔اچانک دروازہ پر دستک ہوئی ’شاید ماجد ہوگا‘شیزانے یہ کہتے ہوئے دروازہ کھولا تو باہر روم سروس کا آدمی تھا اس نے آدمی کو کچھ دیر بعد آنے کو کہا اور واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔
ماجد کا نام سن کر ویراپر اُداسی ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو گئی اس نے بہن کے قریب جا کر آہستہ سے کہا۔
’’ماجد اب یہاں کبھی نہیں آئے گا۔‘‘ ضبط کے باوجودبھی اس کی آنکھوں میں نم اتر آیا۔
شیزا نے استفہامیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ اس نے ساری رات اس کے سرہانے جاگ کر گزاری تھی۔
’’کیا بات ہے ویرامجھے بتائو‘‘
’’باجی۔۔وہ ۔۔محبت کا آغازہونٹوں پہ ہونٹ رکھ کر کرنا چاہتاتھا‘‘ اس کی آواز شدتِ جذبات سے رندھ گئی شیزا کا چہرہ موم کی طرح سفید ہو گیااور احساسِ جرم الگ سے در آیا کہ اس کی نگاہیںماجد کو جاننے میں دھوکہ کھا چکی تھیں۔
’’باجی اس نے اپنے ہونٹوں پر محبت کا بہت خوبصورت جال بُنا ہواتھاجس کا ایک تار میری نگاہوں سے بندھا مجھے اپنی اور کھینچتا چلا گیا ۔۔میں اس کے ہونٹوں سے محبت کے پُر فریب لفظ چنتی رہی تھی‘ ویرا نے گویا اپنی حماقت کا اعتراف کیا۔
’’ہاں باجی۔۔ اور پھر کل شام میں نے اس کا لہجہ سنا اور اُس تارکو وہیں توڑ کر واپس لوٹ گئی‘‘
شیزا نے یوں اطمینان کا سانس لیا جیسے جسم میں اب جان لوٹ کر آئی ہو اس نے ویرا کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا ۔
’باجی ۔۔یہ لوگ کیوں نہیں مانتے کہ ہم محرومیوں میں گھرے لوگ بھی انسان ہوتے ہیں ہمارے سینے میں بھی کانچ کا دل ہوتا ہے۔۔ہمیں بھی درد ہوتا ہے تکلیف ہوتی ہے۔۔ہمارے اندر بھی جذبات ہوتے ہیں ہم لوگ بھی تمام عمر کسی سے نباہ کر سکتے ہیں، محبت کر سکتے ہیں ۔۔ہم کیوں ان کی نگاہوں میں فقط ایک معذور جسم ہوتے ہیں ۔۔قابلِ نفرت ہوتے ہیں۔۔خود غرض ہوتے ہیں۔۔۔اپاہج ہوتے ہیں۔۔کیوں باجی آخر کیوں!!‘
دونوں بہنیں ایک دوسرے سے لپٹ کر سسکیوں اور آہوں میں ڈوب گئیں۔
…٭…٭…
جب تنہائی سے ہماری روح کا دم گھٹنے لگتا ہے تب ہماری روح فرار کا رستہ ڈھونڈتی ہے۔ایسا رستہ جس پر چلتے ہوئے منزل پر پہنچ کر اسے راحت اور تحفظ کا احساس ہو سکے اور یہ احساس ہماری روحوں کو محبت فراہم کرتی ہے۔جب ایک روح دوسری روح میں مدغم ہو کر اچانک آزاد ہو جاتی ہے تو تنہائی باقی نہیں رہتی۔وجود کی کھڑکی کھلتی ہے اور باہر سے محبت کی سنہری دھوپ اندر داخل ہو کر نیم مردہ خواہشات کو دوبارہ زندہ کر کے ان پر وجد طاری کر دیتی ہے۔یکایک چاروں سمت پر نور اجالے پھیل جاتے ہیں اندھیرا باقی نہیں رہتا لیکن بہت کم لوگ اس تجربہ سے گزرتے ہیں ایسا حقیقی محبت کے متلاشی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے بصورت دیگر عام طور پر جنسی خواہش کے نقطہء عروج پر پہنچ کر ہی نوجوان ایک دوسرے کو’آئی لوّ یو‘کہتے ہیںاور خواہش کی تکمیل کے لمحہ بھر بعد ہی ایک دوسرے کے لیے محبت ،پسندیدگی ،چاہت کا خفیف سا احساس بھی محسوس نہیں کرتے۔جنسی خواہشات سے تعمیر کردہ محبت دیر پا نہیں ہوتی۔جونہی ہاتھ سے ہاتھ چھوٹتا ہے محبت بوسیدہ عمارت کی مانند زمین بوس ہو جاتی ہے۔ہوس زدہ محبت کے اسیر ایک لمحہ کے لیئے بھلا دیتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟اپنی ذات اورمذہب کی راہیں کھو دیتے ہیں،زمان و مکان میں گم ہو جاتے ہیں،اپنے آپ میں نہیں رہتے،بے خود اور خود سرہو جاتے ہیں،کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں لیکن۔۔محض چند لمحوں کے لیے۔۔۔کچھ ایسی ہی محبت ماجد کو ویرا سے ہوئی تھی !
…٭…٭…
عشق کی پہلی بارش
غفران اپنی لڑکھڑاتی ٹانگوں پر باپ اور بھائی کا سہارا لیے بمشکل قدم اٹھاتا کمرے میں داخل ہوا۔
ڈاکٹر قدرت علی جو پہلے سے ہی کمرے میں موجود تھا۔ ایک طرف کھڑا ہو کر اس کا بغور جائزہ لینے لگا، جب اسے پلنگ پر بٹھا دیا گیا تو ڈاکٹر مسکراتے ہوئے اس کے بالکل سامنے کرسی پر بیٹھ کر گویاہوا۔
’’مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ تم ابھی تک چل پھر رہے ہو، سہارے لے کر ہی سہی لیکن ہمت نہیں ہاری۔‘‘
غفران نے خاموشی سے سر ہلانے پر اکتفا کیا لیکن اس کے بھائی نے ڈاکٹرکو مخاطب کیا۔
’’ڈاکٹر صاحب اتنا عرصہ گزر گیا کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی ،پہلے یہ دیواروں کا سہارا لے کرچلتاتھا اس کے بعد ایک شخص کے سہارے کے ساتھ اور اب تو دو افراد کا سہارا اسے درکار ہوتا ہے، آخر اسے ہوا کیا ہے؟یہ کیا بیماری ہے جو اچانک نمودار ہو کر نہ دوائوں سے ٹھیک ہورہی ہے اور نہ ہی دعاؤں سے۔‘‘
غفران کا باپ اپنے ناتواں کاندھے جھکائے ایک کونے میں مغموم کھڑا تھا۔
ڈاکٹر نے تیزی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’خبردار !جو یہاں کسی نے بھی مایوسی کی باتیں کیں، کون اپنی مرضی سے بیمار ہوتا ہے؟ تمام بیماریاں منجانب اللہ ہوتی ہیں اور کیا تم لوگوں کا اس بات پر ایمان نہیں کہ اس روئے زمین پر کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا کوئی علاج نہ ہو ،بیماری اتارنے سے پہلے خدا وند قدوس اس کا علاج زمین پر اتارتا ہے، بس سمجھ لو کہ بیماری کی مدت یا آزمائش کا عرصہ صرف اور صرف اللہ کو معلوم ہے لیکن انسانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
’’آپ درست کہتے ہیں لیکن یہ جو ابھی بھی ہم سنتے ہیں کہ فلاں بیماری کا علاج نہیں۔۔ فلاں کو ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا ۔۔فلاں کو تین ماہ کا وقت بتایا ہے، اس کے بعد وہ مر جائے گا ۔۔یہ سب کیا ہے ڈاکٹر صاحب‘‘
غفران کا بھائی شاید بحث کے موڈ میںتھا۔
’’ٹھیک کہتے ہو تم‘‘ ڈاکٹر نے اثبات میںسر ہلایا۔
’’دراصل یہ بات پتھرپر لکیر جیسی ہے کہ ہر بیماری کا علاج موجود ہے مگر نوع انسانی اس معاملے میں قصور وار ہے کہ وہ تمام بیماریوں کا علاج دریافت کرنے میں ناکام رہی ہے، انسان نے نسلِ انسانی کی ہلاکت کا سامان تیار کرنے میں جتنی محنت کی ہے اگر اس سے آدھی محنت بھی نوع انسانی کی صحت پر کرتی تو آج اول تو یہ نت نئی بیماریاں جنم ہی نہ لیتیں اور۔۔ دوئم کوئی بیماری لا علاج نہیں ہوتی، ہمارے ملک کی مثال لے لو ہم نے دفاع کا بجٹ کتنا رکھا ہے اور صحت کا کتنا ہے اور پھر صحت میں بھی تحقیقات کے لیے کتنا مختص ہے؟۔۔ یاد رکھو کہ خدائے غفور و رحیم انسانوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے انسان توخود اپنی ہلاکت کے در پے ہے۔‘‘
’آپ سو فیصد درست کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب‘‘ اس بار غفران کے باپ نے مداخلت کی اور اس مداخلت کا مقصد اس بحث کو انجام دینا تھا۔
’’اب آپ دونوں حضرات کمرے سے باہر تشریف لے جائیے میں ذرا اس بہادر لڑکے سے دو دو ہاتھ کرلوں۔‘‘ ڈاکٹر نے مسکرا کر غفران کی طرف دیکھا تواس کے لبوں پربے جان سی مسکراہٹ ابھر کر غائب ہو گئی۔
اب کمرے میں دونوںکے سوا اور کوئی تیسرا فرد نہیں تھا ۔ وہ اپنے پلنگ پر ٹانگیں لٹکائے ایک گول تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا،پلنگ کے ساتھ بائیں جانب ایک چھوٹی سی الماری ادبی کتابوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ، دائیں طرف کمرے کا دروازہ اور سامنے کی جانب چار گز کے فاصلے پر باہری کھڑکی تھی جو کہ گھرکے برآمدہ میں کھلتی تھی کمرہ روشن اور ہوا دار تھا
ڈاکٹر، دوا ،بیماری، تسلیاں، پیروںفقیروں کے تعویز ،دَم وم یہ سب غفران کی زندگی کاحصہ بن چکے تھے۔ قدرت علی شہر کا مشہور ڈاکٹر تھا اس کا طریقہ علاج عام ڈاکٹرز سے یکسر ہٹ کر تھا، وہ صرف مشکل سے مشکل ترین کیسز اپنے ہاتھ میں لیتا اور مایوس مریضوں کو امید کا ٹانک دے کر شفا یاب کر دیتاغفران کا کیس بھی انہی میں سے ایک تھا۔
ڈاکٹر نے اپنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے آہستہ سے اپنا سلیٹی گھنگریالے بالوں والا سر کھجاتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
’’دوست میں کافی عرصہ سے تمہارا علاج کر رہا ہوں یوں کہہ لو کہ علاج کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن کوئی افاقہ نہیں ہو رہا ،کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔‘‘
غفران نے ایک گہرا سانس لیا۔ ’’بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔۔ پتہ نہیںڈاکٹر صاحب، میں عجیب کوفت اور چڑچڑے پن کاشکار ہو گیاہوں سمجھ میں نہیں آتا کیوں یہ سب میرے ساتھ ہورہا ہے حالانکہ بظاہر گھر کا ماحول اور سب کے رویے بھی میرے ساتھ نارمل ہیں اس کے باوجود آخر کیوں مجھے سکون نہیں مل رہا‘‘
ڈاکٹر گہری سوچ میں ڈوب گیا اور کچھ توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’میں نے جو ورزشیں بتائی تھیں باقاعدگی سے کر رہے ہو‘‘
’’جی کرتا ہوں لیکن اس سے تھکان ہو جاتی ہے جسم بوجھل سا محسوس ہونے لگتا ہے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘
’’لیکن شاید یہ انہی ورزشوں کا نتیجہ ہے کہ میں ابھی تک بے شک سہاروںکی مدد سے ہی لیکن اپنی ٹانگوں پر چل لیتا ہوں وہیل چیئر کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔‘‘
’’ورزش کرتے رہنا اسے چھوڑنا مت، میں جانتا ہوں کہ تم میں قوت ارادی بہت زیادہ ہے اور اسی قوت کی وجہ سے تم ایک دن ضرور انشاء اﷲ شفایاب ہوجاؤ گے۔‘‘
’’جی۔۔ نہیں چھوڑوں گا‘‘
دونوںخاموش ہوگئے۔
’’اچھا، ایک بات بتائو۔‘‘ ڈاکٹر نے اپنا چشمہ اتار کر ہاتھ میں تھام لیا۔
’’جی‘‘
’’تمہاری اس بیماری کو تقریباً دو سال کا عرصہ ہو گیا ہے اور مجھے تمہارا علاج کرتے ہوئے تقریباً نو ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے اس دوران دل میں کبھی خودکشی کرنے کاخیال آیا؟‘‘
اسے ڈاکٹر کا سوال بہت عجیب معلوم ہوا۔
’’نہیں تو ،کبھی بھی نہیں، خودکشی تو مایوس لوگ کرتے ہیں۔ میں تو بس یوںہی کبھی کبھی اس بیماری سے تنگ آ کر خدا سے چند شکوے کر کے خاموش ہو جاتا ہوں اور بعد میں پشیمان ہو کر معافیاں بھی مانگ لیتا ہوں، انسان ہوں ناں، اس لیے بعض اوقات شیطان بہکانے میں کامیاب ہو جاتا ہے‘‘
’’اچھا تو خدا سے کس قسم کے شکوے ہوتے ہیں، ہم بھی تو سنیں‘‘
وہ یکدم جوش سے بولا۔
’’میں ہی کیوں؟۔۔میں ہی اس بیماری کے لیے کیوں چنا گیا، دنیا کی اتنی آبادی میںسے میں ہی کیوں معذور بنا دیا گیا اگر یہ آزمائش ہے توپھر مجھ پر ہی کیوں نازل ہوئی، نہ میں کوئی ولی، نہ پیغمبر، نہ نبی ، نہ ہی کوئی برگزیدہ بندہ ،نہ پارسائی کا دعویدار نہ کوئی زاہد و عابد۔۔ اور اگر یہ سزا ہے تو کیامیں ہی اس دنیا کا سب سے بڑا گناہگار ہوں ؟کیا باقی تمام لوگ بے گناہ ہیں، پارسا ہیں ،نیکو کار ہیں، فرشتہ صفت ہیں؟؟؟ اگر سب خطاکار ہیں تو پھر ساری دنیا میری طرح معذور کیوںنہیں کر دی جاتی۔۔کیوں؟‘ وہ جذبات کی رو میں بہتا چلا گیا۔
’’اچھا تو یہ بات ہے لیکن میری لغت میں تو معذوری کا مطلب Unique life style ہے یعنی منفرد طرزِزندگی۔۔ جیسا کہ ہر انسان کا طرز زندگی دوسرے سے الگ ہوتا ہے مثلاً کوئی آدمی سائیکل پردفتر جاتا ہے کوئی موٹر سائیکل پر، کوئی گاڑی پر اور کوئی پیدل۔۔ اسی طرح میں نے بہت سے معذور افراد دیکھے ہیں جوکہ ٹرائی سائیکل، بیساکھیوں یاخودکار وہیل چیئرزپر درسگاہوں، دفتروں اور دکانوں کی جانب رواںدواں ہوتے ہیں، تمام لوگ اگر عام کرسی پر بیٹھ کر کمپیوٹر کا کام کرتے ہیں تو فرق اتنا سا ہے کہ معذور فرد وہیل چیئر پر بیٹھ کر کمپیوٹر کواسی طرح آپریٹ کرتا ہے۔۔ یہ اس کالائف سٹائل ہے اور اسی طرح روز مرہ زندگی سے ہم سیکڑوں مثالیں دے سکتے ہیں‘‘
’’محتاج لوگوں کے المیے کوآپ اتنی آسانی سے بیان کر کے ان کی تکالیف کو نظر اندازنہیں کر سکتے۔‘‘
’’کیاتکالیف تمہارے خیال میں معذور افراد ہی کوعطیہ ہوئی ہیں؟ کیا اس آدمی کی تکلیف کا تم اندازہ لگا سکتے ہو جو کئی شوگر ملزکا مالک ہے لیکن شوگر کے مرض میںمبتلا ہونے کی وجہ سے میٹھی اشیاء کو چھو بھی نہیں سکتا۔۔ یا وہ لوگ جنہیں خدا نے بے انتہا دولت سے نوازا ہے لیکن سکون کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے یا وہ غربت کے ستائے لوگ جو پیسوں کے حصول کے لیے کبھی اپنے گردے اور کبھی اپنے بچے بیچ دیتے ہیں۔۔دوست، انسان کی زندگی میں تکالیف آتی جاتی رہتی ہیں، سب کی تکالیف جدا ہوتی ہیں لیکن تکالیف کو صرف معذوری کے ساتھ نتھی کرنا حماقت ہے۔‘‘
غفران خاموش ہو گیا
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
’’میں نے آج تک تم سے کبھی معذوری پر بحث نہیں کی ،جانتے ہو کیوں؟‘
’’نہیں‘‘
’’کیونکہ میں تمہیں معذور نہیں سمجھتا بلکہ کسی معذور کوبھی معذور تصور نہیں کرتا اور اس کی وجہ میں تمہیں بتا چکا ہوں‘‘
’’پھر آج آپ کو ان سب باتوں کا کیسے خیال آ گیا۔‘‘ اس نے تیز نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔
’’آج۔۔‘‘ ڈاکٹر نے کچھ سوچتے ہوئے نفی میں سرہلایا۔
’’خیر چھوڑو اچھا یہ بتائو ایم۔ اے میں تمہاری کونسی ڈویژن آئی تھی‘
اسے ڈاکٹر کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی
’ فرسٹ ڈویژن تھی‘ اس کی نگاہیں بدستور ڈاکٹر کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
excelent” ویسے یونیورسٹی کا دور شاید اسکول کے دور سے بھی زیادہ خوبصورت ہوتا ہے، انسان کا maturity level اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر گزرتے ہوئے لمحے کو خوشگوار بنا دے، نا قابل فراموش۔۔ کیوں ایسا ہی ہے ناں؟‘‘
’’ سر جوآپ پوچھنا چاہ رہے ہیں پوچھ کیوں نہیں لیتے۔‘‘ اس بار اس کا لہجہ بالکل سپاٹ تھا
’’جواب دے پائو گے؟ ‘‘
’’یہ توسوال پر منحصر ہے‘‘
’’محبت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے اطمینان سے سوال کیا۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
’’میں آپ کی بات کا مطلب نہیںسمجھا ،آپ کیا پوچھنا چاہ رہے ہیں‘‘
’’میں جاننا چاہ رہا ہوں کہ تمھاری زندگی میں محبت کی اہمیت کتنی ہے، تمہارے خیال میں محبت کتنی طاقت ور ہوتی ہے؟یقیناً تمہیں میرے سوال بہت عجیب محسوس ہو رہے ہونگے لیکن آج پتہ نہیں کیوںمجھے ایک نوجوان قلمکارسے کچھ اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں جاننے کو جی چاہ رہا ہے‘‘
’’زندگی میں محبت کی ضرورت سانس لینے جیسی ہے اور محبت کی طاقت یہ ہے کہ اس سے موت بھی چھپتی پھرتی ہے، اسکے علاوہ میں اور کچھ نہیں کہناچاہوںگا ،سر‘‘
ڈاکٹر کی آنکھیں مسکرا اٹھیں’’تمہیں بھی ایسی ہی سانس لینے جیسی محبت کی ضرورت ہے، جو تمہارے اندر نیم مردہ زندگی کو زندہ کرے اور اس زندگی میں خوداعتمادی شامل ہو کیونکہ خود اعتمادی کے بغیرانسان کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔۔ اور کبھی کبھی محبت انسان پر اس قدر حاوی ہو جاتی ہے کہ وہ قریب المرگ ہو جاتا ہے‘‘
اس نے سرجھکا کر آنکھیں بند کر لیں کمرے میں خاموشی چھا گئی
’’کیا تم بھی ایسی ہی محبت کا شکار ہو ؟۔۔وہ محبت جو قریب المرگ کر دیتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے دھیمی آواز میں استفسار کیا۔
غفران نے کوئی جواب نہ دیا اس کی آنکھیں ہنوز بند تھیں۔
’’میرا مقصد تمھیں تکلیف پہنچانا نہیں ہے بس دوران علاج تم سے میں ایک بہت ضروری بات پوچھنا بھول گیا تھا جو مجھے تمہارے ایک کزن سے تھوڑی سی پتہ چلی تو میں نے اپنی خوب سرزنش کی۔‘‘ ایک معنی خیز مسکراہٹ ڈاکٹر کے لبوں پر کھیلنے لگی۔
اس نے آنکھیں کھول لیں لیکن خاموش رہا
’’دوست، ہر انسان اپنا ماضی رکھتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ ماضی کے ساتھ جڑے رہ جاتے ہیں اور کچھ اسے فراموش کر دیتے ہیں بولو میں ٹھیک کہہ رہا ہوں‘‘
وہ چپ رہا تو ڈاکٹر نے قدرے اونچی آواز میں کہا۔
’’غفران، میں تم سے مخاطب ہوں، جواب دو‘‘
’’میں آپ کی بات سمجھ نہیں پا رہا ،آج پتہ نہیں آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں‘ اس نے سر اٹھا کر بیزاری سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا
’’اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تم سمجھنا نہیں چاہ رہے۔‘‘
ایک مرتبہ پھر اس کی آنکھیں جھک گئیں
’’دیکھو دوست ،میں تمہارا معالج ہوں ،کم از کم تم مجھ سے کوئی بات نہ چھپائو ورنہ تمہارا علاج نہیں ہو پائے گا۔‘‘
غفران پر خاموشی طاری تھی۔
ڈاکٹر نے کرسی پر اپنی پشت درست کرتے ہوئے کہا۔
’’اچھا چلو ،میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں تم بس مجھے اسکا جواب دیدو۔‘‘
کچھ توقف کے بعداس نے اپنے نیم جھکے ہوئے سر کو آہستہ سے اثبات میں ہلایا۔
’’نرمین کون تھی؟‘‘
ڈاکٹر کا سوال سن کر اسے ایسا محسوس ہوا جیسے دل پر تیز دھار کی چُھری چلی ہو انسان بارش کے پانی سے ہونے والی تباہ کاریوں سے خود کو محفوظ تو رکھ سکتا ہے لیکن بارش کو آسمان سے برسنے سے روک نہیں سکتا اسی طرح انسان اپنے غم کے خلاف تو لڑ سکتا ہے لیکن لوگوں کے تحفظات اور سوالات پر روک نہیں لگا سکتا، ان کی زبانوں پر تالے لگانے سے قاصر ہوتا ہے
غفران کے زخمی دل سے نکلنے والے آنسو آہستہ آہستہ اس کی جھکی ہوئی پلکوں سے رسنے لگے۔ ڈاکٹر اس کے ماضی کے ساتھ بندھی ہوئی کسی پرانی رفاقت کی گرہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا، ڈاکٹر کو پہلے تو شک تھا کہ اس کی اس پر اسرار بیماری کا سرا ضرور اس کے ماضی سے کہیں جا ملتا ہے اور اب یوں اسے روتا دیکھ کر اس کا شک کچھ کچھ یقین میں بدل چکا تھا۔
ڈاکٹر اپنی نشست سے اٹھا اور اس کے پاس پلنگ پر بیٹھ کر اسے دلاسا دینے لگا ’’زندگی کو جینے کے لیے پرانی رفاقتوں سے رخصت لے لینا ہی بہتر ہوتا ہے، دوست‘‘
اس کے آنسو بہتے چلے جا رہے تھے
’’کیا کروں کہ میں اپنے پیشے کے ہاتھوںمجبور ہوں، میرا تمھاری اس رفاقت کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے‘‘
’’ میں بھی مجبور ہوں‘‘ اس کی رندھی ہوئی آواز حلق سے ابھری
’’میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا‘‘
ڈاکٹر خاموش ہو گیا اور اس کی حالت پر غور کرتے ہوئے کچھ توقف کے بعد بولا۔
’’ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی‘ اس کا لہجہ فیصلہ کن تھا ’میں باہر جا کر تمہارے گھر والوں کو بتا دیتا ہوں کہ تم ساری عمر محتاجی کی زندگی گزارنا چاہتے ہو، اس کی پروا کیے بغیر کہ تمہاری حالت کو دیکھ دیکھ کر تم سے پیار کرنے والوں کے دل پر کیا آفت گزرتی ہے۔‘‘
’’آپ میرا علاج کریں، آپ کو میرے ماضی سے کیا واسطہ‘ اس نے بھیگی آنکھوںسے ڈاکٹر کو دیکھا۔‘‘
’’واسطہ ہے اور کیسے نہ ہو کہ جب تم اپنے حال اور مستقبل دونوں کو ماضی کے حوالے کیے بیٹھے ہو۔
’’آپ صاف کہہ دیجیے کہ آپ میرا علاج جاری نہیں رکھ سکتے اس خوامخواہ کی بحث سے میرا سر چکرا رہا ہے‘‘
’’تم جو جی میں آئے کہہ لو ،اب میں یہاں سے ہلنے والانہیں ہوں۔‘‘
’’سر، پلیز ۔کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں خود کشی کر لوں ؟تا کہ آپ سب کی جان چھوٹ جائے‘‘
’’تمہیں کون زہر لا کر دے گا اور خود تو تم سہاروںکے بنا ایک قدم نہیں چل سکتے۔‘‘ ڈاکٹر کا تلخ لہجہ زہرمیں بجھے تیر کی طرح اس کی سماعت میں پیوست ہوا۔
’’سر، آپ خواہ مخواہ میرا دماغ خراب کرنے کی کوشش مت کریں؟‘‘ میں کوئی بچہ نہیں ہوں جسے آپ جذباتی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’’تم میرے کلائینٹ ہو اور میں اپنے کلائینٹ کواپنا دوست سمجھتا ہوں اس بات سے قطع نظرکہ اس کی عمر کیا ہے۔‘‘
’’مجھے آپ کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے اس کے لیے میرے گھر والے کافی ہیں۔‘‘
’’تمہارے گھر والے؟ تمہارے محتاج جسم کے سہارے ؟واہ بہت خوب۔‘‘
’’ہاں! ہاں! میری معذوری کے سہارے ،بس۔‘‘ وہ قریباً چیخ اٹھا لیکن اسے حیرت اس بات کی تھی کہ اس کی آواز سن کر گھر میں سے کوئی بھی اس کے کمرے میں خیریت دریافت کرنے نہیں آیا حالانکہ اس کی ماں تو ہلکی سی کھانسی کرنے پر بھی اس کے کمرے میں بھاگی چلی آتی تھی۔
’’مجھے بتائو۔ یہ سہارے کب تک تمہارے ساتھ رہیں گے، آخر کب تک؟‘ ڈاکٹر نے اطمینان سے اپنی ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے استفسار کیا۔
’’جب تک خدا کو منظور ہوا اور اس کے بعد جو بھی خداکا فیصلہ ہوا وہ مجھے منظور ہوگا۔‘‘
’’میں جانتا ہوں بطور قلمکار تم لفظوںسے کھیلنا خوب جانتے ہو لیکن۔۔‘ڈاکٹر کچھ کہتے کہتے خاموش ہو کر دوبارہ گویا ہوا۔
’’تم جانتے ہو کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب تم پانی پینے سے ڈرو گے۔‘‘
غفران نے منہ پھیر لیا لیکن ڈاکٹر بولتا چلا گیا۔
’’تم کھانا کھانے سے گریز کرو گے،کچھ بھی کھانے پینے کا خوف تم میں سرایت کرتا چلا جائے گا۔۔کیا اس کی وجہ جانتے ہو؟‘
اس نے آہستہ سے اپنا چہرہ ڈاکٹر کی طرف گھماکر دیکھا۔
’’یہ دنیا بڑی ظالم جگہ ہے دوست،تم جن سہاروں کی بات کر رہے ہو وہ ہمیشہ تمھارے ساتھ نہیں رہیں گے ۔آج تمھیں باپ اور بھائی کے سہارے میسر ہیں لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا جب یہی لوگ تھک کر تمھارے بستر پر ربر کی شیٹ بچھا دیا کریں گے، تم پانی پینے سے ڈرو گے،اپنا من پسند کھانا کھانے سے بھی خوف کھائو گے کیونکہ رفع حاجت تمہارے لیے مسئلہ بن جائے گا،بار باربیت الخلاء آنے جانے سے بہتر تم یہی سمجھو گے کہ بھوکا رہا جائے کہ تمھاری غلاظتوں کو صاف کرنے والا کوئی نہیں ہوگا،یہی سہارے تم سے گھن کھاکر تمھارا کام کریں گے،تم خود اپنے آپ سے بیزار ہو جائو گے ،میرے پاس ایسے کئی مریض آئے اورگئے ،میں جانتا ہوں کہ زندگی کتنی تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔
غفران نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر سر جھکا لیا
’’تمہارے بوڑھے باپ کو اس وقت تمہارے جوان کاندھوں کی ضرورت ہے لیکن وہ اس ضعیف العمری میں بھی تمہارے بیمار جسم کا بوجھ ڈھو رہا ہے اور تم ہو کہ ماضی میں گم اپنے حال کا بوجھ اس پر لادے جا رہے ہو تمہیں اپنی مستقبل کی فکر نہ سہی لیکن تمہارے ماں باپ کی نیندیں بس یہی سوچ سوچ کر ختم ہو چکی ہیں کہ ان کے بعد تمہارا کیا ہوگا ؟۔۔تم ان کے لیے کچھ کر نہیں سکتے لیکن کم از کم احساس تو کر سکتے ہو۔‘‘ ڈاکٹر اسے اموشنل بلیک میل کر رہا تھا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ بطور قلمکار وہ ان تمام داؤ پیچوں سے واقف ہے۔
اس کے ہونٹوں پر چپ سی لگ گئی۔ڈاکٹر نے پاس رکھی ہوئی میز سے پانی کا گلا س اٹھایا اور اسے پیش کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ پانی پیو اور بالکل سکون میں آکر میری باتوں پر غور کرو۔‘‘
غفران نے ایک ہاتھ سے گلاس پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے اپنا سر تھام لیا۔
ڈاکٹر پچھلے نو ماہ سے اس کے علاج میں مصروف تھا لیکن بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی وہ جانتا تھا کہ میڈیکل سائنس نے اس بیماری کو موروثی کہہ کر لا علاج قرار دے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس کا علاج کھوجنے میں جتا ہوا تھا اور آج ایک ہلکی سی امید کی کرن ڈاکٹر کونظر آئی تھی جسے وہ کسی صورت نظر انداز کرنے پر آمادہ نہیں تھا کچھ دیر بعد جب غفران کے آنسو خشک ہو گئے تو اس نے پانی کے دو گھونٹ حلق میں اتار کر گلاس ڈاکٹر کو تھما دیا
’’دوست میں وعدہ کرتا ہوں کہ تم جو کچھ مجھے بتائو گے وہ تمہاری زبان سے نکل کر میرے سینے میں دفن ہوجائے گا۔‘‘ ڈاکٹر نے اسے اعتماد میں لینے کی کوشش کی تاکہ وہ ماضی کا بوجھ اپنے سینے سے اتار پھینکے، جس کا اسے بے صبری سے انتظار تھا ۔
اس نے گہرا سانس لیا اور سنبھل کر کہا۔
’’اگر ایک زخم کرید کر دوسرا زخم بھرنا ہی آپ کا مقصد ہے تو کسی وعد ے کی کوئی ضرورت نہیں‘
’تم خود سوچو،ایک تمہاری آنکھوں کے آنسو خشک ہونے کے ساتھ ہی تمہارے پیاروں کی آنکھوںکو بھی سکون مل جائے گا ،اپنی محبت کی نعش سے نگاہیں اٹھائو گے تو تمہیں اپنے گھر میں چلتی پھرتی لاشیں نظر آئیں گی جنہیں تمہارے غم نے مار رکھا ہے، کیا محبت کسی فرد واحدمیں سمٹی ہوئی ایک شے کا نام ہے، تم ادب شناس آدمی ہو بھلا تم سے زیادہ محبت کے مفہوم کو کون سمجھے گا‘
غفران کا چہرہ ایک بار پھر دھندمیںگم ہوگیا اس نے گہرے دکھ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا اور پھر پلنگ کے ساتھ ایستادہ الماری کے نچلے خانے میں سے کتابوں تلے دبی ہوئی ایک فائل بمشکل نکالی اور اس فائل میں سے کاغذوںکا ایک باریک سا پلندہ نکال کر ڈاکٹر کی طرف بڑھا دیا۔
’’یہ کیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر اس کے ہاتھ سے پلندہ لے کر کاغذوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔
’’نرمین‘‘ اس کی آواز میں بلا کا درد تھا ’ یہ میری اور اس کی کہانی ہے، اس کا کوئی کردار فرضی نہیں ہے کوئی بات من گھڑت نہیں ہے ایک ایک حرف سچ پر مبنی ہے، سراسر حقیقت۔‘‘
ڈاکٹر نے آہستہ سے سر کو جنبش دی
’’سر، خدا کی قسم مجھ میںاتنی ہمت نہیں کہ میں آپ سے نرمین کا ذکر اپنی زبان سے کروں مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر میں یہ کہانی بیان کرنے لگوں گا تو بیچ کہانی کے ہی مر جائوںگا لیکن میں مرنا نہیں چاہتا اس کی وجہ آپ کو اس کہانی کوپڑھ کر معلوم ہو جائے گی ورنہ میرے لیے خودکشی کرنا بہت آسان ہے اور خودکشی کرنے کے لیئے صرف زہر ہی کارگر نہیں، اس کے لیے تو ہجر کے لمحات کو تواتر سے یاد کر لینا ہی کافی ہے کہ دل میں غم برداشت کرنے کی ایک حد مقرر ہے غم حد پھلانگ جائے تو جسم وہیں رہ جاتا اور روح غم کی ساتھ پرواز کر جاتی ہے۔
’’میرا مقصد تمہارا علاج کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیںہے میں ایک پیشہ ور انسان ہوں اور مجھے اپنے پیشے سے جنون کی حد تک محبت ہے اور میں اس محبت کے تقاضوںکو پورا کرنے پر مامور ہوں،میں امید کرتا ہوں کہ تم یونہی میری مدد کرتے رہو گے تا کہ مجھے اپنے مقصد میں کامیابی اور تمہیں شفایابی نصیب ہو‘
غفران نے آرام سے گائو تکیے سے پشت لگا کر آنکھیں موند لیں ایک مرتبہ پھر اس کی پلکیں چمکنے لگیں۔ اس سمے اسکی حالت دیکھ کر ڈاکٹر کو کچھ کچھ اندازہ ہو رہاتھا کہ وہ کس کرب سے گزر رہا ہے !
…٭…٭…
ڈاکٹر نے اپنے گھر کے اسٹڈی روم میں غفران کی دی ہوئی کہانی پڑھنے کا آغاز کِیا۔
وہ اپریل کے دن تھے۔
نہایت ہی دل پھینک قسم کا موسم تھا نیلگوں آسمان میں سورج کے رس گلے سے نرم دھوپ کی چاشنی ٹپکتی تھی۔ قریب نو بجے کا وقت تھا میں نے نرمین کو یونیورسٹی لان میں گھنے درخت تلے بیٹھادیکھا تو یو نہی دل میں خیال آیا کہ یہ اپنے ارد گرد سے بے خبر گُم صُم سی گوری خوبصورت ، بڑی بڑی غزال آنکھوں، ریشمی بالوں ، سراپا نازک حسین لڑکی جس کے پاس وہ سب کچھ تھا جسے مصور کینوس پر پینٹ کر کے ایک مرتبہ پھر لیونارڈو ڈاونچی بن سکتا ہے ،کتنے سکون سے بیٹھی ہوئی ہے۔
ہمارا نیا نیا ایم اے ایک ماہ پرانا ہو چکا تھا۔۔ کلاس میں لڑکے کم اور لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی۔
معلوم نہیں یہ موسم کی شرارت تھی یا کوئی فسوں تھاکہ میں نے یہ سوچ کر اسے دور سے عنابی گلابوں کی جھاڑ کے پاس سے گذرتے ہوئے ہاتھ ہلایا کہ اگر وہ جواباً مسکرا دی تو ڈیپارٹمنٹ کی جانب اُٹھتے ہوئے قدموں کو موڑ کر اداس آنکھوں اور مسکراتے لبوں والی مونا لیزا کو انتہائی قریب سے دیکھنے اور بات کرنے کا موقع ہر گز نہیں گنواؤں گا ۔
نرمین نے میرے ہاتھ ہلانے سے پہلے ہی مجھے آواز دے کر اپنے پاس بلا لیا ، میں تیز تیز قدم اُٹھاتا اس کے پاس آپہنچا۔
“شکر ہے تم آگئے۔”نر مین نے اپنا دوپٹہ دھوپ سے بچنے کے لئے سر پر آگے تک کھینچ رکھا تھا
مونا لیزا بالکل میرے سامنے بیٹھی تھی گزشتہ ایک ماہ میں یہ پہلی با ر تھی کہ میں نے اُسے اپنے سامنے اتنا قریب سے دیکھا تھا۔وہ غضب کی خاموش لڑکی تھی۔دھیمے دھیمے مسکراتے ہوئے باتیں کرنے والی۔ ۔ اپنی اجلی آنکھوں کو زیادہ تر پلکوں کے پردوں سے ڈھانپ کر رکھنے والی شرموکل سی لڑکی!!
“میں تو روز آتا ہوں۔ “میں نے مذاقاً کہا”آج ایسی کیا خاص بات ہو گئی۔”
نرمین نے دھیما سے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’تم ہنسو گے تو نہیں ؟۔۔۔اور نہ کسی کو بتاؤ گے۔‘‘
چونکہ میں نے بہت سی رومانوی فلمیں دیکھ رکھی تھیں اس لئے مجھے کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا کہ اب یہ کیا کہنے والی ہے شاید مجھے پسند کرنے لگی تھی۔”نہیں ہنستا اور نہیں بتاتا کسی کو۔۔اب بولو”
ـ”وعدہ؟” اس نے میری آنکھوں میں یوں دیکھا جیسے ابھی میری زندگی مانگ لے گی میں نے سر ہلاتے ہوئے حلف لینے کے انداز میں ہاتھ اُٹھا کر کہا۔ “وعدہ۔پکا وعدہ”
“بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔”اس نے اِدھر اُدھر آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ “میں ابھی تھوڑی دیر پہلے کلاس روم میں داخل ہوئی تو دیکھا وہ لال لال آنکھوں والا ہارون تنہا کلاس میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔او خدایا میں اتنا ڈر گئی اور کلاس روم کے دروازے سے واپس آ کر یہاں بیٹھ گئی میرا ڈرائیور پوچھ پوچھ تھک گیا کہ آخر ہوا کیا ہے لیکن میں نے اُسے کچھ نہیں بتایا ۔کیا بتاتی؟”اس نے معصوم انداز میں پلکیں جھپکتے ہوئے بات مکمل کی اورمجھ سے رہا نہ گیامیں نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔
’’معافی چاہتا ہوں لیکن تم نے بات ہی ایسی کی ہے لال لال آنکھوں والا ہارون۔‘‘ میں اپنے وعدے کے بر خلاف ہنستا چلا گیا۔
’تم نہیں سمجھو گے کہ اُس وقت میری کیا حالت ہوئی تھی‘ اُس نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
’او ہو، تو تم لائبریری میں دیکھ لیتی شاید باقی ساتھی وہاں بیٹھے ہوں۔”میں نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’نہیں ہے کوئی کیونکہ ابھی تک پوائنٹ نہیں آئی ۔۔ دیکھتے نہیں کہ کیمپس کتناپھیکا پھیکا اور خاموش دکھائی دے رہا ہے”اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ویسے یہ طلبا طالبات کو ڈھونے والی بس کو “پوائنٹ”کیوں کہتے ہیں؟‘‘میں نے جان بوجھ کر بے تکا سوال اٹھایا۔
اُس نے کچھ دیر سوچا اور پھر اپنے کاندھے اچکاتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’کبھی غور نہیں کیا‘‘
“اچھا ایک بات بتاو۔ٔ “میںابھی اس گفتگو کو خوبصورت بنانے کے موڈ میں تھا لیکن اچانک رنگین پیراہنوں سے بھری ہوئی یونیورسٹی پوائنٹ گیٹ کے اندر داخل ہوتی دکھائی دی جس میں ہماری کلاس کی تمام لڑکیاں آتی جاتی تھیںسوائے نرمین کے۔
اس کا چہرہ یکدم کھل اُٹھا اور میری بات سنی اَن سنی ہو کر رہ گئیـ
“چلیں؟” اس نے اپنی نوٹ بُک گود میں درست کرتے ہوئے کہا
میں نے جان بوجھ کر بنا اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا “ہاں چلو” اور دو قدم آگے چل دیا
“پلیز ہیلپ می۔”عقب سے اس کی نرم آواز سنائی دی
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ اپنی وہیل چیئر کے دونوں پہیوں پر ہاتھ رکھے ہوئے میری طرف درخواست گزار نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
مجھے اپنی شرارت پر بے انتہا افسوس ہوا اور میں چپ چاپ اس کی وہیل چیئر کو دھکیلتا ہوا آہستہ آہستہ کلاس روم کی طرف چل پڑا”برا مت منا نا میں یونہی تم سے چہل کر رہا تھا۔‘‘
وہ چپ چاپ بیٹھی رہی اور اس کی خاموشی مجھے چبھنے لگی تھی۔
راہداری میں ہمیں دیگر کلاس فیلوز مل گئے حال احوال کے بعد ہم سب ایک ساتھ کلاس روم کی جانب روانہ ہو گئے۔ مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اسے میری حرکت بہت بری محسوس ہوئی تھی۔ ۔شاید اس نے یہ سوچا ہو کہ میں نے اس کی معذوری کا مذاق اُڑانے کی کوشش کی ہے۔۔ میں اپنے ضمیر کے بوجھ تلے دبتا چلا جا رہا تھا
“مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیے۔”پہلے پیریڈ کے دوران میں پیچھے کی رو میں بیٹھ کر اُسے دیکھتا اور یہی سوچتا رہا لیکن سارا دن گزر گیا اور مجھ میں دوبارہ اس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
نرمین ایک معذور لڑکی تھی۔
اس کا تعلق معاشرے کے ایک ماڈرن طبقے سے تھا لیکن اس میں تیز طرار ماڈرن لڑکیوں کی طرح ابرو اٹھا کر بات کرنے والی کوئی عادت نہیں تھی ۔ ۔دورانِ لیکچر لڑکے اور لڑکیوں کے مابین ہونے والے سوال و جواب کی تکرار کو سن کے دھیمے دھیمے مسکرانا اس کا من پسند مشغلہ تھا کھلکھلا کر ہنسنا شاید اُسے آتا ہی نہیںتھا۔ لیے دیے سے رہنے والی معصوم صورت لڑکی جس کاچہرہ کلیسا کی مقدس موم بتیوں کی روشنی سے دمکتا رہتا۔۔روز بہ روز نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کی سمت کھنچتا چلا جا رہا تھااتنے مکمل حُسن میں معذوری کا ادھوراپن اس کی آنکھوں میں موسمِ زرد کی مانند ٹہرا ہوا تھا اورمیں اس کی ادھوری ذات کو کھوجنے کا خواہاں تھا، اس کی زندگی کی اداس تصویر میں خوشیوں کے رنگ بھرنے کو جی مچلتا پھر وہ تصویر بھی عام نہیں تھی بلکہ ایسی مسکرا کر فریب دینے والی تصویر کہ جسے دیکھتے ہی انسان کا بلاوجہ اداس ہونے کو جی چاہنے لگے۔۔فری پیریڈ میں جب تمام کلاس گول دائرے کی صورت میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو شعر سنانے کا مقابلہ کرتی تو میرے لب پر خدا سے وقت کو روک لینے کی دعا کپکپانے لگتی کہ انہی لمحات میں مونا لیزا پیرس کے میوزیم میں نہیں بلکہ پینٹنگ سے نکل کر اپنے تمام رنگوں کے ساتھ میرے سامنے بیٹھی ہوتی تھی۔
اداس آنکھوں تلے… وہی ہونٹ… وہی مسکراہٹ!
کلاس کی سب سے باتونی لڑکی نرگس تھی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ نرگس ہی نرمین کی بہترین سہیلی بن گئی۔سب کی متفقہ رائے کے مطابق نرگس پورے کلاس کی روح ِرواں تھی لڑکے بیچارے ویسے ہی بہت کم تعداد میں تھے اس لئے کلاس میں لڑکیوں کی حکمرانی تھی
روز انہ کی طرح آج بھی آخری فری پیریڈ میں تمام کلاس دائرے میں بیٹھی ایک دوسرے کو شعر اور لطیفے سنانے میں مصروف تھی ۔میں نرمین کے بالکل سامنے والی نشست پر براجمان تھا۔ ایک دو مرتبہ جب بے ارادہ اُس کی نگاہیں میری نگاہوں سے ٹکرائیں تو میں نے محسوس کیا جیسے وہ نروس ہو گئی ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی میں کئی با ریونہی دائرے میں بیٹھا اُس کی طرف دیکھا کرتا لیکن آج پتہ نہیں کیوں میں بھی احتیاط سے اس کی جانب دیکھ کر نظریں پھیر لیتا۔
اچانک نرگس کی آواز نے مجھے خیالات کے بھنورسے باہر کھینچ نکالا۔ وہ محبت کے عنوان کے تحت لکھی ہوئی اپنی نظم سنانے لگی نظم میں کچھ ایسے پوشیدہ جذبات کی تصویر کشی کی گئی تھی جسے سن کر کسی نے بھی داد دینے کی زحمت نہیں کی بلکہ لڑکے کن اکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے اور لڑکیاں باقاعدہ ایک دوسرے کے کان میں ہنسنے لگیں۔
“تم سب تو ایسے reactکر رہے ہو جیسے ابھی ابھی میٹرک سے direct کالج فرسٹ ائیر میں آئے ہو۔‘‘نرگس نے تنک کر کہا۔
’’یہ ٹھیک ہے کہ ہم ایم اے کی کلاس میں بیٹھے ہیں لیکن۔‘‘ نویداپنی ہنسی کو بمشکل روکتے ہوئے کچھ کہتے کہتے رکا تو نرگس نے ہاتھ لہراتے ہوئے پوچھا۔
“لیکن کیا ؟ بولو بولو ”
“لیکن کنٹرول باجی کنٹرول”
قہقہوں سے کلاس روم گونج اٹھا جس میں نرگس کا اپنا قہقہہ بھی شامل تھا ۔میں نے اُس دن نرمین کو پہلی مرتبہ ہونٹوں کے آگے نوٹ بک رکھ کرباقاعدہ ہنستے ہوئے دیکھا ہنستے ہنستے اُس کی آنکھیں نم ہو چکی تھیںاور میرا قہقہہ اس کی آنکھوں میں کہیں گم ہو کر رہ گیا ____بہت دیرتک کلاس کشتِ زعفران بنی رہی اس دوران میں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر میری زندگی میں یہ وہیل چیئر پر بیٹھی مونا لیزا شامل نہ ہو سکی تو پھر میری زندگی کے تمام مقاصد فوت ہوجائیں گے مجھے ہر حال میں اس پینٹنگ کو اپنے گھر میں سجا کر درو دیوار کو انمول بنانا ہے
نرمین کے علاوہ چونکہ تمام لڑکیاں یو نیورسٹی پوائنٹ پر ہی آتی جاتی تھیںاس لئے جونہی ایک لڑکی گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے چیختی”ہائے پوائنٹ نکلنے میں صرف پانچ منٹ رہ گئے ہیں” سب لڑکیاں جلدی جلدی نرمین کو گلے لگا کر “خداحافظ”کا نعرہ لگاتے ہوئے ، جنگلی بلیوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکراتی کلاس روم سے تقریباً بھاگتے ہوئے نکلیں کلاس روم کے باہر نرمین کا ڈرائیور اس کا منتظرتھا۔ وہ روزانہ اُسے کلاس روم سے گاڑی تک لیجانے پر مامور تھا لیکن اس روز میں اس کے ڈرائیور کو گاڑی مرکزی دروازے پر لانے کا کہہ کر ،خود اس کی وہیل چیئرکو دھکیلتا ہوا باہر کی جانب چل پڑا ۔اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔ہم دونوں آرام آرام سے راہداری میں مرکزی دروازے کی طرف بڑھنے لگے
’’میرے پاس آٹومیٹک وہیل چیئربھی ہے جسے میں خود چلا سکتی ہوں بغیر کسی کو تکلیف دئیے لیکن اسے گاڑی میں رکھنا کافی مشکل ہے اس لئے۔۔۔”اس کا لہجہ معذرت خواہانہ تھا شاید اسے میرا وہیل چیئرکو دھکیلنا بُرا لگ رہا تھا لیکن میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور یو نہی چلتا رہا جب مرکزی دروازہ سامنے آگیا تو میںنے اُسے مخاطب کیا “نرمین”
“جی”اُس نے فوراً جواب دیا
میں چند لمحے خاموش ہو گیا تو اُس نے دوبارہ “جی”کہا
میں نے ذہن کی بجائے دل کو آزاد چھوڑ دیا “مجھے تم سے محبت ہو چکی ہے “
اُسے جیسے سانپ سونگھ گیاکاٹو تو خون نہیں کے مصداق جسم ساکت تھا اس نے کوئی جواب نہیں دیا گاڑی سامنے کھڑی تھی وہ ڈرائیور کی مدد سے چُپ چاپ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر منتقل ہو گئی جو نہی ڈرائیور اُس کی وہیل چیئر کو فولڈ کر کے گاڑی کی ڈکی میں رکھنے کے لئے پچھلی طرف گیا تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی “معذور لوگ محبت کے نہیں بلکہ ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیںاس بات کو کبھی مت بھولیئے گا”
میں خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا اس نے آہستہ سے”خداحافظ”کہا اور کچھ اس انداز سے میری طرف دیکھا کہ میں پسینہ پسینہ ہو کر رہ گیا اُس کی گاڑی کب روانہ ہوئی مجھے کچھ ہوش نہ رہا
…٭…٭…
شاید میں اس کا بات کا فیصلہ حتمی طور پر نہیں کر پایا تھا کہ مجھے نرمین سے واقعی محبت ہو چکی تھی یا میں فقط اُس کی ذات کو کھوجنے کا تمنائی تھا یا اُس کی اداسی کو اپنے اندرسمونے کا خبط تھا یا پھر میں اُس کی رفاقت میں رہ کر اُسے معذوری کا احساس بھلانے میں اُس کی مدد کرنے کا خواہاںتھا۔
انسان تو ایسے بھی ازل سے متجسس واقع ہوا ہے اگر انسان میں تجسس کا مادہ نہ ہوتا تو وہ کبھی غاروں کے اندھیروں سے نہ نکل پاتا ترقی مادی یا روحانی دونوں ہی انسان کے تجسس سے عبارت ہیں۔۔ انسانی دل و دماغ میں خدا کی کھوج ہی خدا کی موجودگی کی دلیل ہے اور انسان کی اپنی ذات سے محبت ہی مادی ترقی کا عروج!!
بہت دنوںتک میری خاموش محبت جس کا صرف نرمین کو علم تھا قبولیت کی چوکھٹ پر کسی سوالی کی طرح بیٹھی رہی۔میں جب بھی باقی تمام کلاس فیلوز سے بچ بچا کر اُس کی جھولی میں محبت کا سوال ڈالتا تو وہ زور سے آنکھیں میچتے ہوئے اپنے ہاتھ کو ہوا میں ذرا سا بلند کر کے “ـپلیز” کہہ کر وہیں میرے سوال کو جھولی سے اور مجھے اپنی ہی نظروں میں گرا دیتی۔
اس کے پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر صرف یہی ایک جواب ہوتا کہ “معذور افراد سے صرف ہمدردی کی جا سکتی ہے محبت نہیں”لیکن میں اس کے جواب کو یکسرنظر انداز کرتے ہوئے ہر روز اپنی محبت کا اظہار کرنے لگا یہاں تک کہ ایک دن ہمارا گروپ لان میں بیٹھاچاٹ سموسے کے پیالوں کو خالی کرنے میں مصروف تھا تب بھی میں نے پاس کیاری میں لگا سُرخ گلاب توڑ کر نرمین کو پیش کیا ۔اُس نے پھول میرے ہاتھ سے لئے بغیر انتہائی غصے کے عالم میں دیگر کلاس فیلوزکے سامنے مجھے بُری طرح جھاڑ کے رکھ دیا وہ وہیل چیئر پر بیٹھی آگ بگولہ ہو رہی تھی اور میں اُس کے سامنے گلاب کو سینے پر رکھ کر لان میں مزے سے نیم دراز تھا
“تم آج تک وہیل چیئر پر بیٹھی کسی غریب لڑکی سے محبت کا اظہار کیوں نہ کر پائے غفران عالم خان؟”
تمام کلاس فیلوز کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور وہ حیرانگی سے ہم دونوں کی شکلوں کو دیکھنے لگے
“کہیں تمھاری نظر میرے باپ کی دولت پر تو نہیں ہے ؟یا بغیرکام کاج کئے گھر داماد بن کر عیاشی کی زندگی گزارنے کا خیال تو دل میں نہیں سمایا ہوا؟”
یہ مونا لیزا اندر سے اتنی تلخ بھی ہو سکتی ہے اس کا اندازہ مجھ سمیت کسی کو بھی نہیں تھا چند لمحوں کے لئے اُس کے الفاظ نے میرے اندرایسی دو دھاری تلوار چلائی کہ میرے دل کے کئی ہزار ٹکڑے ہو کر میرے جسم کے درودیوارسے چپک گئے لیکن میں نے ایک گہرا ٹھنڈا سانس لیااور کوئی ردِ عمل نہ دیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کے اندر محرومیوں نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے اور کسی محرومیوں میں گھرے ہوئے انسان کو باہر نکالنا اتنا آسان عمل نہیں ہے سو وہ شدت جذبات کی رو میں بہتی چلی گئی
’’ اگر تمھیں اس خیال سے ترس کھانے کو جی چاہ رہا ہے کہ مجھ سے شادی کون کریگا، تو کان کھول کر سُن لو کہ میرے لئے رشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس لئے تمھیں ہیرو بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”
نرگس نے اک نگاہ میری طرف دیکھا اور اسے مخاطب کیا “محبت کا اظہار کرنا گناہ تو نہیں ہوتا نرمین____ please control yourself “____
“ہاں،بالکل نہیں ہوتا گناہ۔۔ لیکن یکطرفہ محبت ۔محبت نہیں حماقت ہو تی ہے۔” اس نے فٹ سے جواب دیا۔
نرگس خاموش ہو گئی
“محبت ، جنس، شادی____کیا اس کے علاوہ دنیا میں اور کچھ کہنے ،کرنے کو نہیں رہ گیا۔۔ میں گھر سے یہاں اس لئے آتی ہوں کہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکوں؟____ نہیں چاہیئے مجھے ترس کے روئیے اور کسی کی ہمدردیوں میں لپٹی ہوئی محبتوں کی بھیک”اُس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انتہائی بے دردی سے اپنی بات مکمل کی۔
اُس کے ذلت آمیز روئیے کے باوجود مجھے اُس کی آنکھوں میں ناجانے کیوں بے بسی کا تاثر نمایاں طور پر دکھائی دے رہا تھا جیسے دل ، زبان کے روئیے پر شرمندہ ہو!
…٭…٭…
اگلی صبح جب ڈرائیور اس کی وہیل چیئر کو دھکیلتا ہوا کلاس روم کی طرف روانہ تھا تو میں نے اس کے ڈرائیور کے ہاتھوں سے وہیل چیئر تھامتے ہوئے اُسے واپس جانے کو کہا ۔۔ نرمین نے یوں مجھے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ “تم بہت ڈھیٹ انسان ہو”لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔میں اُس کی وہیل چیئر کو دھکیلتا ہوا کلاس روم کی بجائے لان کی طرف چل پڑا اُس نے احتجاج کیلئے لب کھولنا چاہے لیکن پھر اپنا سر پکڑ کرخاموشی سے بیٹھی رہی ۔لان میں پہنچ کر میں بالکل اُسکے پاؤں کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اُس نے شعلہ بار نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے مسکراتے ہو ئے کہا ’’ سنو قلوپطرہ!پہلی بات تو یہ ہے کہ تم ہو مونا لیزا لیکن خامخواہ قلوپطرہ بننے کی کوشش کر رہی ہو دوسری بات یہ کہ مجھ پر تمھارے کل کے جلالی لیکچر کا کوئی اثر نہیں ہوا تم نے میری محبت کو جو سمجھنا ہے سمجھو “
اُس کی نگاہوں کے شعلے مزید دہک اٹھے لیکن میں اس کی پروا کئے بغیر بولتا چلا گیا۔
’’اور تیسری بات یہ ہے۔۔ مجھے اب بھی تم سے محبت ہے‘‘
میں نے کل والا وہی سرخ گلاب اپنی کتاب سے نکال کر زبردستی اس کی نوٹ بُک میں رکھ دیا اُس نے ابرو سکیڑ کر مجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھا لیکن چُپ رہی۔
’’چوتھی بات یہ کہ میں تم سے شادی سے پہلے اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دونگا کہ نرمین احمد بنتِ منیر احمد کی جائیداد میں سے مجھے تا دمِ آخرکوئی حصہ نہیں چائیے اور نہ ہی میرا اُس کے باپ دادا ، پڑدادا کی دولت سے کو ئی واسطہ ہے “میں نے اُس کی نگاہوں میں نگاہیںجماتے ہوئے کہا تو آہستہ آہستہ اُسکی نگاہوں میں شعلوں کا منظرخزاں کی اُداسی میں بدلنے لگا لیکن اُس نے فوراً سر کو جھٹکتے ہوئے لب کھولے ’’چھوڑو، ان بچگانہ باتوں کو اور کلاس میں چلو پلیز” اُس کی آنکھیں کسی بھی جذبے سے خالی تھیں۔
’’مجھے سچ مچ تم سے محبت ہو گئی ہے نرمین میرا یقین کر لو خدا کے لئے۔”اُس کی آنکھوں کا خالی پن دیکھ کر ناجانے کیوں میرے اندر کی ساری بے چارگی اُس کے قدموں میں ڈھیر ہو گئی۔
’’میں کوئی ٹین ایجر نہیں ہوں کہ بنا سوچے سمجھے کوئی فیصلہ کر کے بعد میں پچھتاتا پھروں۔۔میں جو کچھ بھی تم سے کہہ رہا ہوں اس میں میرا دل اور دماغ دونوں شامل ہیں۔‘‘ میں سرجھکائے اُس کے آگے بیٹھا تھا خاموشی کا وقفہ طویل ہو گیا تو اُس نے آہستہ سے میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھا میںنے اُس کی طرف نگاہیں اُٹھائیںتو اُس کے گالوں پر آنسو پھسل رہے تھے میں نے اُس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر عقیدت سے اپنی آنکھوں سے لگا لیا کچھ توقف کے بعد اس نے میرے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ تیزی سے کھینچتے ہوئے کہا۔
“اب کلاس روم میں چلیں ۔پلیز” اُس نے آنسو پونچھتے ہوئے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی اورمیں سمجھ گیا کہ اسے یکدم احساس ہوا ہے کہیں کوئی اسے روتا ہوا دیکھ نہ لے اوروہ بھی میرے سامنے یوںہاتھوں میں ہاتھ لئے۔
ہم کلاس روم کی طرف روانہ تھے آج پہلی مرتبہ مجھے راہداریوں میں آتے جاتے طلباء اور اساتذہ کی نگاہوں میں معنی خیز باتیں پڑھنے کو ملیںعجیب چبھتی ہوئی نظریںتھیںجس کا نرمین کوروزانہ سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اُس سمے میرے دل میں صرف یہی ایک خیال چیخ رہا تھا کہ کتنا مشکل ہوتا ہے کسی معذور کے ساتھ چلنا لیکن اُس دن میں نے خود کو ایک بات سمجھا دی کہ یہ معاشرہ کوئلہ کا دلال ہے اگر کسی نے اجلی بے داغ پوشاک پہن رکھی ہے تو صرف پوشاک کی پروا کرتے ہوئے دور سے گزر جانے میں ہی عافیت ہے اس کے بعد میں نرمین کے ساتھ یوں کلاس روم میں داخل ہوا جیسے کوئی فاتح شہر میں داخل ہوتا ہے فتح کے خمار میں چُور اپنے ارد گرد سے بے نیاز سراپا مغرور!!
اسی روز اتفاق سے اس کی گاڑی وقت پر نہیں پہنچی ۔۔ نرمین اور میں لان میں بیٹھے گاڑی کا انتظار کرنے لگے باتوں باتوں میں اچانک اس نے سوال کیا ’میں کیسے مان لوں کہ تمہیں مجھ سے ہمدردی نہیں بلکہ محبت ہے‘ ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کے کونوں سے جھانکنے لگی۔
’’اس کا جواب تو شاید میں نہ دے سکوں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں ہمدردی کے مستحق وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی آنکھوں سے بے چارگی جھلکتی ہے ترس کی متلاشی آنکھیں۔۔ لیکن تمہاری آنکھوں میں اداسی ہے کوئی تصویر ادھوری سی ہے جس میں محبت کا رنگ بھر کے اسے مکمل کیا جا سکتا ہے‘‘
مسکراہٹ کا گلابی رنگ اس کے ہونٹوں کے کونوں سے نکل کر دائیں بائیں پھیل گیا اس کا چہرہ تازہ کلی کی مانند کھل اٹھا لیکن آنکھوں میں اداسی کا سایہ ہنوز اپنی جگہ برقرار تھا۔
’ اگر تم برا نہ مانو تو ایک بات پوچھ سکتا ہوں ‘پتہ نہیں کیوں مجھے اس کی معذوری کا سبب جاننے کا جی چاہا۔
مجھے muscular dystrophyہے۔۔ یہ پورے جسم میں پھیلا ایک قسم کا روگ ہے‘ اس کا چہرہ کسی قسم کے تاثر سے عاری تھا
’تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں تمہاری معذوری ۔۔میرا مطلب ہے بیماری ۔۔‘مجھے سمجھ نہ آیا کہ اسے معذور کہوں یا بیمار ۔۔کتنے اذیت ناک الفاظ ہیںکتنا کٹھن ہے یہ سب ان لوگوں سے پوچھنا جو کسی طور کسی سے کم تر نہیں ہوتے بلکہ اندر اور باہر سے بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔۔کتنے بے کار رویّوں کو ہم نے معاشرے میں رواج دے رکھا ہے کہ کچھ الفاظ زبان سے ادا کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم گالی بک رہے ہوں
’ ایسے سوال میں گذشتہ دس برسوں سے لوگوں کے چہروں پر پڑھتی آ رہی ہوں اس لیے مجھے زیادہ دقت نہیں ہوئی اسے تمہارے چہرے پر پڑھتے ہوئے۔‘‘
میں جانتا تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مجھے اس سے محبت نہیں بلکہ ہمدردی ہوئی ہے لیکن میں نے اس کی کوشش کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کہا ’اس کا مطلب ہے دس برس پہلے تم بالکل نارمل تھی۔‘‘
’’نارمل تو میں اب بھی ہوں ۔۔کیا تمہیں میں ایبنارمل لگتی ہوں۔‘‘
’’نہیں میرا مطلب ہے۔‘‘ میں بری طرح الفاظ کے چنائو میں الجھ کے رہ گیا۔
اس نے میری حالت دیکھ کر ایک خوبصورت سا قہقہہ لگایا اور میں اس کے سامنے ایسی اداکاری کرنے لگا جس سے اسے یقین ہو جائے کہ میں واقعی ایک بدھو ہوں اور اس وقت کھسیانہ سا ہو رہا ہوں۔
’’دس برس پہلے میں ’غیر معذور ‘تھی گو کہ اس نے میری تصحیح کی تھی لیکن اس کے باوجود مجھ پر لفظ معذور ناگوار سا گزرا۔
’پندرہ سال کی عمر تک میں وہیل چیئر کے نام سے بھی ناواقف تھی اور آج دیکھو وہیل چیئر کے بغیر ادھوری ہوں‘ وہ شاید اداس ہونے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی۔
’’کوئی ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا تاثرات سے عاری چہرے پر یکدم غصے اور نفرت کا ملا جلا رنگ اتر آیا۔
’’یہ میرا وجود جس نے تخلیق کیا ہے ۔۔یہ روگ بھی اسی کا دیا ہوا ہے‘ اس کے لہجے میں کڑواہٹ تھی’میں نہیں جانتی یہ خدا کی طرف سے آزمائش ہے یا سزا۔ اس کی محبت ہے یا نفرت کہ میں ٹھیک سے اپنے ہاتھ سے اپنے ہی آنسو نہیں پونچھ سکتی۔‘‘
میں چاہتا تھا کہ آج وہ پہلی اور آخری مرتبہ اپنی معذوری کے سوالات کے جوابات مکمل طور پر باہر نکال کر پھینک دے ۔۔میں ہمہ تن گوش تھا لیکن اچانک مجھے اس کا ڈرائیور تقریباً بھاگتا ہوا آتا دکھائی دیا جب وہ ہمارے قریب پہنچا تو نرمین نے مجھ سے اجازت طلب کی لیکن وہ میرا نفی میں ہلتا سر دیکھ کر حیران رہ گئی کہ میں نے صاف الفاظ میں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
’’یہ کیا بات ہوئی کہ جب تک اپنا مطلب تھا مجھے اپنے ساتھ بٹھائے رکھا اور اب جبکہ گفتگو ہو رہی ہے تو ایک دم چل پڑی تھوڑی سی اور دیر ہو گئی تو کیا قیامت آ جائے گی۔‘‘
اس نے مجھے’ ڈھیٹ ‘کا لقب تو پہلے ہی نواز رکھا تھا سو بادل نخواستہ اس نے ڈرائیور سے گاڑی میں انتظار کرنے کو کہا ۔۔ڈرائیور مجھے گھورتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا کہ بڑی مشکل سے قلوپطرہ بغیر جلالی ہوئے گفتگو کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی تھی۔
’ تمہیں ہوا کیا تھا جس کی وجہ سے تم وہیل چیئر پر بیٹھ گئیں۔‘‘ ‘میں نے وہیں سے بات کا آغاز کیا جہاں سے سلسلہ منقطع ہو ا تھا
’’یہ تو مجھے خود بھی نہیں معلوم لیکن ڈاکٹر اسے موروثی بیماری کہتے ہیں اس میں عضلات آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور پھر ایک دن انسان اس بیماری کے ہاتھوں دنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔۔ بے بسی بھی کتنی ظالم ہوتی ہے ناں؟ انسان خود کو قطرہ قطرہ مرتے دیکھتا ہے لیکن کچھ کر نہیں پاتا۔‘‘ پھیکی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے اپنی بات مکمل کی
’’ویسے تم خوش نصیب ہو کہ معذوری کے باوجود تمہیں دنیا بھر کی آسائشیں میسر ہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے‘ میں جانتا تھا کہ میری اس بات پر وہ مزید کڑوی ہو جائے گی اور وہی ہوا
وہ مجھے کوئی پرلے درجے کا احمق سمجھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’دس ہزار روپے کے سینڈل خرید کر بے جان پیروں میں پہننے کا کیا فائدہ جبکہ یہ معلوم ہو آپ کے پائوں وہیل چیئر پر رکھے ہوئے شو پیس کے سوا اور کسی کام کے نہیں۔۔ کن آسائشوں کی بات کر رہے ہو ؟معذور جسم امیر ہوتے ہیں نہ غریب ۔۔معذور جسم صرف معذور جسم ہوتے ہیں۔۔ ایک جیسا روگ۔۔ ایک جیسا درد۔۔ ایک جیسی اذیتیں‘
’’یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟نئے ماڈل کی گاڑی میں آنے والی نرمین اور ٹین کی تپتی ہوئی چھت تلے رہنے والی کسی غریب معذور لڑکی کی زندگیوں میں فرق تو بہرحال ہے ۔۔کہیں تو شکر کا مقام بھی آتا ہو گا۔‘‘
’’ہاں بالکل آتا ہے ۔۔جب ماں کی گرم آغوش میں چھپتی ہوں تو خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس کائنات میں کوئی تو ایسا ٹھکانہ موجود ہے جہاں دل کا غبار باہر نکال سکتی ہوں۔۔ بے لوث محبت کا مفہوم سمجھاتی ماں کی خوشبو جب سانسوں میں اترتی ہے تو کتنا سکون ملتا ہے بس انہی چند گھڑیوں میں زندگی پر پیار آتا ہے اس کے علاوہ نئے ماڈل کی کار میں بیٹھی ہوئی نرمین اور ٹین کے تپتے ہوئے چھت تلے بیٹھی ہوئی کسی بھی معذور لڑکی کے احساسات میں کوئی فرق نہیں۔۔ ہم دونوں کا درد مشترک ہے‘‘
کچھ دیر کے لیے میں اس کے چہرے کو تکتا رہا اداسی کے ساتھ اب مجھے اس کے چہرے پر بے چینی کے آثار نمایاں ہوتے ہوئے دکھائی دئیے اس کی آنکھیں دھیرے دھیرے بوجھل ہوتی چلی گئیں اور ہونٹوں پر خشکی کی پتلی سی تہہ چڑھنے لگی بالآخر اس نے ایک بار پھر درخواست کی۔
’’پلیز اب مجھے جانے دو صبح سے لے کر اب تک وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے جسم میں درد سا محسو س ہونے لگتا ہے اور پائوں بھی سوجنے لگتے ہیں‘‘
میں نے اس کے سوجے ہوئے پیروں کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں تم نہیں جا سکتیں آج میری خاطر تمہیں ذرا سا درد برداشت کرنا ہی پڑے گا‘‘
وہ بے بس نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی میں اپنی ضد پر اڑا رہا مجھے معلوم تھا کہ میں جسے ذرا سا درد کہہ رہا ہوں وہ یقیناً اس کیلئے بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔۔ اذیت کے آثار اس کے چہرے سے عیاں تھے۔
’’کبھی تم نے مستقبل کے بارے میں سوچا ہے ؟میرا مطلب ہے آنے والے وقت کے بارے میں ۔۔ کیسا ہو گا ‘میں اس انداز سے سوال پوچھ رہا تھا جیسے کہ مجھے رتی بھر احساس نہیں کہ وہ کتنی مجبور ہو کر اس وقت میرے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔
اس نے ذرا سی زبان نکال کر اپنے خشک لبوں پر پھیری اور کچھ توقف کے بعد گویاہوئی۔
’’نہیں۔۔لاحاصل کے بارے میں نہیں سوچتی‘ حاصل کرنے کی لگن ہو تو کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ‘جب میں اپنے بچپن کے بارے میں سوچتی ہوں تو ہونٹوں کی مسکراہٹ میرا حال مجھ سے چھین لیتی ہے اور جب کبھی مستقبل کا سوچا تو ڈر اندر سمٹ آیا۔
’’کیسا ڈر۔‘‘
’’بہت سے ڈر۔‘‘ اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’یہ معاشرہ جس میں ہم تم سانس لے رہے ہیں انتہائی بے حس معاشرہ ہے یہاں شادی کے لیے کالی لڑکی پر گوری لڑکی کو فوقیت حاصل ہے لمبے، درمیانے قد والی لڑکیوں کا مقام چھوٹے قد والی لڑکیوں سے اونچا ہے یہاں لوگ آنکھوں پر نظر کا چشمہ چڑھانے والی لڑکیوں کا مذاق اڑانے سے باز نہیں آتے تو وہ لڑکیاں کیسے ان لوگوں کے نشانے سے بچ سکتی ہیں جو میری طرح وہیل چیئر پر یا کسی دوسری معذوری کا شکار ہیں؟مجھے لوگوں کے رویوّں سے ڈر لگتا ہے مجھے اس معاشرے سے گھن آتی ہے‘‘
فضا میں خاموشی طاری ہو گئی میں نے اس کے لرزتے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔
’’تمہارے یہ تمام شکوے میری محبت دور کر دے گی نرمین۔ مجھ پر بھروسہ رکھو۔‘‘
’’یہ شکایتیں بھی مشترکہ ہیں اور یہ اذیتیں بھی۔‘‘ اس کی آواز بیٹھ گئی’ تم کیا سمجھتے ہو کہ دنیا کی تمام معذور لڑکیوں کو تم جیسے لوگ محبت کے رنگ میں رنگنے کے لیے کہیں نہ کہیں سے ضرور آ نکلتے ہونگے۔‘‘ اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں۔ ایسا نہیں ہوتا اس اذیت کو تم کبھی محسوس نہیں کر سکتے جب ایک معذور بے بس لڑکی کے سامنے اس کی چھوٹی بہن کی شادی کی بات طے پا رہی ہوتی ہے اور وہ ان سب کے درمیان کرچی کرچی دل کے ساتھ ہونٹوں پہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے بیٹھی ہوتی ہے کسی کو اس کے ارمان اور خواہشات کا انبار نظر نہیں آتا ہاں بس نظر آتا ہے تو فقط ایک معذور جسم‘
میرا دل اتنا زور سے دھڑکا جیسے ابھی سینے سے باہر نکل آئے گا اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی ، چہرہ پر کرب کے آثار نے اس کی ازلی مسکراہٹ کو فنا کر دیا میں نے اس کے آنسو پونچھے اور اس کی وہیل چیئر کو بوجھل قدموں کے ساتھ دھکیلتا ہوا گاڑی تک لے گیا اس نے بوڑھے ڈرائیور کی مدد سے اپنے وجود کو وہیل چیئر سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بمشکل منتقل کیا اور خاموش نم آلود آنکھوں سے میری طرف دیکھا گاڑی کا دروازہ بند ہو گیا لیکن اس کی آنکھوں کا پانی پلکوں سے رس رس کر گالوں پر گرتا چلا گیا۔ میں اپنی جگہ پتھر بنا کھڑا تھا۔۔ گاڑی روانہ ہو گئی اور یکا یک مجھے اپنا وجود وہیل چیئر پر پڑا محسوس ہوا اورمیں وہیں تپتی ہوئی زمین پر بیٹھ گیا۔
…٭…٭…
دراصل میں اس کے درد تکلیف اور کرب کو اپنے اندر جذب کرنا چاہتا تھا میں کہ ساری عمر اسے خوش رکھنے کا تہیّہ کیے بیٹھا تھا اور صرف آدھے گھنٹے میں ہی اس کی آنکھوں میں آنسوئوں کا سبب بن بیٹھا ’ کیا میں ساری زندگی اس کے درد کا احسا س کرنے کے قابل ہوں؟‘ اس سوال نے مجھے جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ اس سوال کا جواب کھوجنے میں ساری رات گزر گئی اور فجر سے پہلے شاید غنودگی کے عالم میں میرے ذہن میں ایک آواز آئی’ محبت تو خود ایک آزمائش ہے تم کہاں محبت کو آزمانے چلے تھے‘ اذان کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی اور پھرآہستہ آہستہ مجھ پر منکشف ہوا کہ مجھے نرمین سے شدید ترین محبت ہے اور اب مجھے اس شدت میں ذرا سی کمی لانا ہو گی تا ہم یہ ذرا سی کمی بھی نا ممکن نظر آئی۔ اب تک میری محبت نے مجھے فائدہ ہی دیا تھا اسی محبت کی بدولت مجھے اس کے قریب ہونے کا شرف حاصل ہوا شدید محبت کیے بغیر اس کا قرب حاصل کرنا کیسے ممکن تھا؟ میرا پُرجوش اندازِ محبت ہی میرے دل کو مطمئن کرتا لیکن اب کسی نہ کسی طرح خود کو تبدیل کرنا ضروری تھا کیونکہ میں جان چکا تھا کہ میرا جوشِ محبت، میری دیوانگی، نرمین کی تکلیف کا موجب بن سکتی ہے اسے مجھ سے بیگانہ کر سکتی ہے اگر میں اپنی طرز محبت میں ترمیم نہ کر سکا تو آنسوؤں اور پچھتاووں کے سوا دامنِ دل میں کچھ بھی نہ رہے گا۔
اس دن کے بعد دھیرے دھیرے میری افسردگی ختم ہوتی چلی گئی میں نے محبت میں حاصل کرنے کی خواہش والا حصہ ترک کر دیا میں نے اسے زندگی میں صرف جیتنے کی خواہش کے ساتھ مار دیامجھے اپنے مدِ مقابل کو ہمیشہ زیر کرنے کی خواہش نے بے چین رکھا لیکن نرمین کے ساتھ چلنے میں ،میں نے اس خواہش کو محبت کی راہ میں رکاوٹ جانا چنانچہ اس سے چھٹکارا پاناہی تھا حالات بدل چکے تھے اور نرمین کو کھو دینے کے خوف سے میں تو بالکل ہی بدل چکا تھا اور مجھے اس کا رتی برابر بھی افسوس نہیں تھا۔
اس دن کے بعد دھیرے دھیرے ہم دونوں کے بیچ کا فاصلہ کم ہوتا چلا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی نرمین کی محبت اداسی بن کر مجھ پر چھانے لگی میں سردیوں کی اس بارش میں بھیگ رہا تھا جس سے بچ کر لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن نہ جانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہو تا کہ اسی ٹھنڈی بارش کے کسی ایک قطرے میں محبت کا امرت چھپا ہے ۔
میں دن میں سو سو بار اس سے محبت کا اظہار کرتا نہ تھکتا لیکن ہر بار وہ اپنی اداس آنکھیں جھکا لیتی ہم پہروں ہاتھوں میں ہاتھ لیے باتیں کرتے رہتے ۔میں اکثر بینچ پر بیٹھ کر اسے اپنے سامنے بٹھا لیتالیکن مجھے اس وقت عجیب سا سکون ملتا جب میں اس کے منع کرنے کے باوجود اس کی وہیل چیئر کے بالکل سامنے پیروں کے آگے آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتاجیسے کوئی پجاری اپنی دیوی کے سامنے عجز و عقیدت سے اس کے چرنوں میں بیٹھ کر دنیا و مافیہا سے ناتہ توڑ لیتا ہے جب کبھی اس کی باتوں پر اداسی کی شام چھانے لگتی میں اپنے ہاتھ پر اس کے ہاتھ کا دباؤ محسوس کر کے اس کے غم کی گہرائی کا اندازہ لگا لیا کرتا۔
…٭…٭…
اس دن آسمان پر بادلوں کی ٹکڑیاں سورج کے سامنے سے گزر کر دھوپ چھائوں کا کھیل رچائے ہوئے تھیں شہر میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے طلبہ کی کثیر تعداد یونیورسٹی نہ آ سکی اس لیے کلاسز خالی تھیں ۔میں اور نرمین لان میں بیٹھے خوشگوار موسم کو اپنے اوپر طاری کیے ایک دوسرے کو لطیفے سناتے چلے گئے۔قلوپطرہ دوبارہ مونالیزا میں بدل چکی تھی اور اس کی مکمل دلفریب مسکراہٹ اور ہلکے ہلکے قہقہوں کی جل ترنگ سے موسم اور بھی دلکش ہو چکا تھا۔
کافی دیر بعد جب لطیفے ختم ہو گئے تو دھیرے دھیرے خاموشی کے طویل ہوتے ہوئے وقفے پر اداسی کا رنگ کہیں سے آ کر حملہ آور ہو گیا مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیلی ہوئی تھی لیکن میں نے اپنے ہاتھ پر اچانک اس کے ہاتھ کا دبائو محسوس کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ سچ مچ اندر سے اداس تھی
’’جانتے ہو جب انسان اندر سے ویران ہو تو ہلکی سی ہنسی بھی گونج کر قہقہہ بن جاتی ہے ایک بے معنی ۔۔ڈرائونا۔۔ دل دہلا دینے والا قہقہہ‘ اس کی مسکراہٹ مدھم ہو گئی۔
’’لوگ بیچارے بھی جنموں کے اندھے ہیں چہروں پر سجی مصنوعی مسکراہٹوں سے فریب کھا جاتے ہیں کاش! انہیں غم شناس نگاہیں عطا ہو جائیں‘
میں جانتا تھا کہ وہ اس وقت کوئی کڑوی حقیقت بیان کرناچاہتی ہے جس کی کڑواہٹ نے اسے ہنسی کے میٹھے ذائقے سے اچانک محروم کر دیا تھا اس نے بے خیالی سے میری طرف دیکھا۔
’’میں نے آج تک تمہیں اپنے کتنے غم بتائے ہیںکیا تم پر کبھی کوئی غم کوئی دکھ نہیں گزرا جسے تم مجھ سے بانٹ سکو؟‘‘
’’ہاں ۔غم تو بہت گزرے ہیں لیکن کوئی کمبخت مستقل ٹھہرا ہی نہیں۔‘‘ میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔
’’بہت خوش نصیب ہو ۔۔بہت بہت خوش نصیب ہو۔‘‘
’’ہاں، اپنے ہاتھوں میں تمہارے ہاتھ دیکھ کر مجھے ماننا پڑے گا کہ میں واقعی بہت خوش نصیب ہوں۔‘‘ میں نے اس پر چھائی ہوئی اداسی کی شام کواس رومانوی دن میں واپس کھینچ کر لانے کی کوشش بھی کر دیکھی لیکن بری طرح ناکام رہا
’تم کتنے اچھے ہو جو میری فضول دکھی باتیں چپ چاپ سنتے رہتے ہو‘
ہم دونوں کچھ لمحوں کیلئے خاموش ہو گئے
بلوچستان یونیورسٹی کے بیچوں بیچ سے ریلوے لائن گزرتی ہے دور سے ریل گاڑی کی سیٹی کی آواز فضاء میں بلند ہوئی اور اس کی نگاہیںفوراً اس جانب اٹھ گئیں جہاں سے آواز ابھری تھی جبکہ میری نظریں اس کے چہرے کا طواف کر نے میں مگن تھیں میں اس درد کا منتظر تھا جو اس کے لبوں پر بس آیا ہی چاہتا تھا جوں جوں ریل گاڑی سیٹی بجاتی قریب آ رہی تھی اس کے ہاتھوں کا دبائو بڑھتا چلا جا رہا تھا اس کا پسینہ میرے ہاتھوں کو نم آلود کر چکا تھا اداسی اتنی گہری محسوس ہو ئی جیسے وہ آنکھوں سے نہیں بلکہ ہاتھوں سے رو رہی ہو!
’ تمہیں ایک بات بتائوں ‘‘اس کی آواز میں لرزش تھی
میرا انتظار ختم ہو گیا اچانک جونہی ریل گاڑی یونیورسٹی میں داخل ہوئی تو اس نے زور سے اپنی آنکھیں مِیچ کر سر جھولی میں ڈال دیا میں نے اس کے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں مضبوطی سے پھنسا لیا جب تک فضاء سے ریل گاڑی کی گڑگڑاہٹ کا شور مکمل طور پر ختم نہ ہو گیا اس وقت تک اس نے اپنی جھولی سے سر نہ اٹھایا
دھیرے دھیرے فضاء پر ایک مرتبہ پھر سکوت سا طاری ہو نے لگا
’’پچھلے سال کی بات ہے کچھ لوگ میری چھوٹی بہن ثانیہ کے رشتے کے سلسلے میں ہماری گھر آئے ہوئے تھے‘اس کی نگاہیںہوا میں لہراتے ہوئے انجن کے کالے دھوئیں پر مرکوز تھیں’ڈرائینگ روم میں سب لوگ بہت خوشگوار موڈ میں باتیں کر رہے تھے لیکن صرف اس وقت تک جب تک میں اپنی وہیل چیئر پر رینگتی ہوئی ڈرائینگ روم میں داخل نہیں ہوئی تھی مجھے دیکھتے ہی تمام مہمانوں پر جیسے موت کا سناٹا چھا گیا سب ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھنے لگے ‘‘نرمین کا چہرہ پوری طرح بجھ چکا تھا’’غفران یہی تو وہ مقام، وہ لمحے ہوتے ہیں جب لوگوں کے تضحیک آمیز خاموش رویّے بھی چیختے ہوئے سنائی دیتے ہیں اور انسان کو اپنے وجود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔‘‘
میں خاموش رہا کہ میرا حلق خشک ہو چکا تھا لیکن وہ بولتی چلی گئی۔
’’اس روز شام کو ان لوگوں نے ایک بڑا ہی قیامت خیز عذر پیش کر کے رشتہ کرنے سے معذرت کر لی اورجانتے ہو وہ قیامت خیز عذر کیا تھا؟‘‘ اس نے لرزتی ہوئی پلکیں اٹھا کر مجھے کچھ یوں دیکھا کہ ایک لمحے کے لیے میری سانس رک سی گئی
میںنے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا ایک زہریلی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔
انہوں نے کہا کہ آپ لوگ کیا اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ شادی کے بعد ثانیہ کے ہاں ہونے والا کوئی بچہ معذور پیدا نہیں ہو گا ۔۔یا آگے چل کر معذور نہیں ہو گا جیسے آپ کی بڑی بیٹی معذور ہوئی ہے۔‘‘
ایک آنسو میری آنکھ سے گر کے گال پر رینگ گیا لیکن اس کی آنکھیں خشک تھیں
’’کہو، قیامت ہے نا ں۔۔مٹی کا بنا ہوا انسان گارنٹیاں مانگ رہا ہے جس کا اپنی ہی سانسوں پر اختیار نہیں وہ اپنے حال کی فکر چھوڑ کر مستقبل کے غم میں مبتلا ہے۔‘‘ وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئی۔
میرے پاس اسے تسلی دینے کیلئے الفاظ کا جم غفیر تھا لیکن میں خود یہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے دل کا بوجھ مکمل طور پر اتار کر پھینک دے چنانچہ میں اس کے لب کشا ہونے کا منتظر تھا۔
وہ دور خلائوں میں ٹکٹکی باندھے ہوئے گویا ہوئی۔
’’شاید یہ تو میں نے تم سے قیامت صغرٰی کا ذکر کیا ہے اصل قیامت تو اس کے بعد آئی تھی‘ اس کے ہاتھ پائوں میں ہلکی سی لرزش شروع ہوگئی۔
’’اس رات میرے باپ نے میری ماں پر اپنا غصہ نکالا کیونکہ رشتے سے انکار کرنے والے بہت بڑے زمیندار اور صنعتکار تھے میرا باپ اتنا زور سے چیخ رہا تھا کہ اس کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ گھر کے بند دروازوں کو توڑتا ہوا کمروں میں گرتا چلا گیاپہلا اعتراض میرے سگے باپ کو اس بات پر تھا کہ میں ڈرائینگ روم میں کیوں آئی تھی جبکہ کسی نے مجھے وہاں آنے کو کہا بھی نہیں تھا۔۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ اگر منع کر دیتے تو خدا کی قسم اپنی بہن کی خوشی کیلئے اپنے کمرے سے کبھی باہر نہ نکلتی۔‘‘
اس نے قسم کچھ اس ادا سے اٹھائی کہ مجھے گمان سا گزرا کہ خدا ابھی اسی وقت کہیں اس پورے شہر کو تباہ کر کے نہ رکھ دے اس کی آواز کا درد، اس کا شکستہ لہجہ، اس کی معصومیت، اس کی بے بسی دیکھ کر میری بھیگی آنکھیں جھک گئیں۔
’’اور سنو ،میرا سگا باپ میری ماں سے کہتا ہے کہ میں اپنی معذوری اس کے پیٹ سے لے کر آئی ہوں میں بڑی اولاد ہونے کے ناتے اپنے باقی بہن بھائیوں کے لیے رکاوٹ بنتی جا رہی ہوں پڑھنے لکھنے کے باوجود مجھ میں اتنی عقل نہیں کہ جہاں مہمان بیٹھے ہوں وہاں وہیل چیئر کو گھسا کر ہمدردیاں بٹورنے نہیں پہنچتے۔۔ ہاں میرا باپ کہہ رہا تھا کہ مجھے معذوری خدا نے دی ہے اس میں باقی گھر والوں کا کیا قصور ہے مجھے شکر کرنا چاہیے کہ میں گھر میں ایک پُرآسائش کمرے میں رہتی ہوں نہ کہ ان معذوروں کی طرح ہوں جو سڑکوں پر بھیک مانگتے پھرتے ہیں‘‘
اس نے جونہی اپنی آنکھیں بند کیں تو دو آنسو اس کی سیاہ پلکوں سے گر کر میرے ہاتھوں پر پھیل گئے۔
’’تم ہی بتائو غفران ،میری معذوری میں اگر ان کا قصور نہیں تو میرا بھی تو نہیں ہے‘‘
اس کے لرزتے ہاتھ میر ے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے تھے
’’اس شبِ قیامت میں ،میں بہت روئی تھی اور ثانیہ مجھ سے لپٹی ہوئی تھی وہ اس لیے رو رہی تھی کہ ابو کے غصے کی وجہ سے شرمندہ تھی اور میرے آنسو اس لیے جاری تھے کہ میں اس کے رشتے کے انکار کی وجہ بنی تھی مجھے اپنا آپ اس سمے مجرم محسوس ہو ا تھا جی چاہ رہا تھا کہ خود کشی کرلوں۔۔ آہ !یہ بہنوں کا بھی کتنا اٹوٹ بندھن ہوتا ہے ناں۔‘‘ اچانک ہلکی سی مسکراہٹ اس کی گیلی پلکوں پر نمودار ہو کر غائب ہو گئی۔
میں نے سوچا کہ اب مجھے ضرور اس کی تسلی کے لیے لب ہلانے چاہیے ورنہ کہیں وہ ٹوٹ کر کہیں بکھر ہی نہ جائے لیکن مجھ سے پہلے اس کے لب ایک مرتبہ پھر وا ہوئے ’پتہ نہیں کیوں ہم زندگی میں اپنی مرضی کے بر خلاف کوئی کام ہوتا نہیں دیکھ سکتے حالانکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہاں مرضی صرف خدا کی چلتی ہے ہم سب تقدیر کے تابع ہیں حکم الہی کے پابند ہیںمعذوری سے پہلے میری ماں اکثر مجھے بتایا کرتی تھی کہ میرا باپ شہر کے ایک اونچے تاجر خاندان میں میرا رشتہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جوباپ شفقت اور محبت سے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر میری فرمائشوں اور ضروریات کا مجھ سے پوچھا کرتا تھامیری معذوری کے بعداب مجھ پر محض ترس کھا کر میرے سر کو تھپتھپاتے ہوئے گزر جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے باپ نے میرے علاج میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی مگر جب میرے علاج کی ہر کوشش ناکام ہوتی چلی گئی تو وہ بھی شاید علاج کا خرچ اٹھانے کو اپنا فرض سمجھ کر اس کے بعد میرے معاملے سے یا شاید پھر میری زندگی سے دستبردار ہو گیا۔‘‘
اب اس کی آنکھوں سے آہستہ آہستہ باقاعدہ آنسو اترنے لگے۔
’’صرف اپنے باپ کے ترس آمیز رویّے کی وجہ سے مجھے اپنی ماں بہن بھائیوں کی محبت بھی محبت نہیں بلکہ محض ہمدردی محسوس ہونے لگی حالانکہ میں جانتی ہوں میں غلط ہوںکہ وہ سب مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں لیکن مجھ میں شاید محبت کرنے کی سکت باقی نہیں رہی شاید میں نے خود ہی محبت کی بہاروں پر سرد یوں کے موسم کو آواز دے کر بلایا اور قبول کیا ہے۔۔جانتے ہو ان تمام باتوںکے باوجود ایک مان ،ایک آس، ایک امید باقی تھی کہ وہ دن ضرور پلٹ کر آئے گا جب ایک بار پھر میرا باپ میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر اپنی شفقت اور محبت میری وجود میں اتار کر مجھے اپنے سینے سے لگائے گا لیکن ۔۔‘‘آواز اس کے گلے میں اٹک کر رہ گئی اور وہ کچھ توقف کے بعد بولی۔
’’ لیکن اس شبِ قیامت میں میرا سارا مان چکنا چور ہو گیا کتنی مختصر تھی میری خوش فہمی کی عمر۔۔ کاش۔ کاش۔ کاش میں نے جس گھڑی یہ آس امید لگائی تھی اسی لمحے مجھے موت آ جاتی کم از کم میری خواہش کا بھرم ہی رہ جاتا۔‘‘
میں نے اس کے ہینڈ بیگ سے ٹشو پیپر نکال کر اسے دیے تو اس نے بمشکل اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں تک اٹھاتے ہوئے آنسو پونچھے۔
میں بالکل خاموش بیٹھا چپکے چپکے اس کا زہر پی رہا تھا۔
وہ کچھ دیر آنکھوں پر ٹشو رکھے ہولے ہولے سسکیاں لیتی رہی اور پھر اچانک عجیب و غریب لہجہ میں کہا۔
’’ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ مجھے اپنا بہت خیال رکھنا چاہیے بہت دیر تک ایک ہی کروٹ لیٹنے کی وجہ سے میرے جسم پر زخم بن سکتے ہیں اوراگر یہ زخم بگڑ گئے تو موت واقع ہوسکتی ہے۔‘‘
میں ایک لمحہ کے لیے سانس لینا بھول گیاکہ اتنی بڑی بات بات وہ کتنی آسانی سے کہہ گئی لیکن وہ بغیر میری پروا کیے بولتی چلی گئی۔
’’کاش میں تمہیں اپنے جسم پر وہ زخم دکھا سکتی جنہیں میں بخوشی پال رہی ہوں میں انہیں زخم نہیں بلکہ اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہوں ‘اس کی آنکھیں یک دم چمکنے لگیں
میرا جسم کانپ اٹھا گویا کہ اس کا زہر میرے پورے وجود میں اپنا اثر کر رہا تھا لیکن اس کے باوجود میں نے بڑی مشکل سے اپنے خشک حلق کو بولنے پر آمادہ کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ خود کشی ہے نرمین۔‘‘
یہ سنتے ہی اس کی سانسیں بے قابو ہو گئیں وہ کھانسنے لگی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا میں نے اسے سمجھانے کی غرض سے لب کھولے۔
’’خودکشی حرام ہے۔۔ زندگی سے فرار بزدلی ہے۔‘‘
’’میں مانتی ہوں کہ خودکشی حرام ہے۔‘‘ وہ میری بات کاٹتے ہوئے چلائی۔
’’ہاں !ہاں! خود کشی حرام ہے لیکن صرف زندہ لوگوں کیلئے۔‘‘
میری رگوں میں دوڑتا گرم خون برف ہوگیا
اس کی آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔
’’زندگی ان کو مبارک جنہیں زندگی کی نعمتیں عطا ہوں لیکن جو لوگ جیتے جی مر جائیں ان پر خود کشی کیسے حرام ہو سکتی ہے؟۔۔بولو ‘اسکی آنکھوں کی سرخی سے دل کی جلن کا اندازہ بخوبی ہوتاتھا۔
میں نے ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بہت ہی عجز کے ساتھ اسے خدا ،قرآن اور رسول کے واسطے دیے کہ وہ ایسی باتیں نہ سوچا کرے لیکن وہ کسی اور ہی عالم میں تھی کہ درد خود بخود اس کی زبان پر آتا اور بہتا چلا جا رہا تھا ’لوگ سمجھتے ہیں کہ ان اونچے اونچے محل نما بنگلوں میں رہنے والی نسل اپنے والدین کے حد سے زیادہ لاڈ پیار سے بگڑ کر معاشرے میں خرابی پیدا کرتی ہے باپ کی جائز نا جائز دولت پر عیش کرنے والی اس خود سر ضدی نسل کو کیا خبر کہ غم کیا ہوتا ہے ؟زمانے والوں کوہر سال اپنی گاڑیوں کے ماڈلز بدلنے والوں پر ہی خدا مہربان نظر آتا ہے لیکن ان نادان لوگوں کو کون سمجھائے کہ ان قیمتی کوٹھیوں میں سے ایک کوٹھی میں میری جیسی لڑکی بھی رہتی ہے۔دولت کے ڈھیر کے نیچے دبی ہوئی لڑکی، لاڈ پیار اور توجہ کی ترسی ہوئی لڑکی، وسیع و عریض کمروں میں سمٹی ہوئی لڑکی، ایک ہی چھت تلے رہتے ہوئے والدین سے کٹی ہوئی لڑکی ،ایسی سہمی ہوئی معذور لڑکی جو اپنی جھوٹی شان و شوکت کا لبادہ اوڑھ کر زمانے کو مرعوب کرتی پھرتی ہے لیکن در حقیقت وہ اندر سے بالکل مفلس ہے۔ خالی ہے۔ قریب المرگ ہے ‘
میرا جی چاہ رہا تھا کہ بنا کسی کی پروا کیے اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے جوڑ لوں اور اس کے بدن سے سارا زہر چوس کر باہر پھینک دوں!
…٭…٭…
اس دن کی گفتگو کے بعد میں کئی راتیں سو نہیں سکاعجیب سی غمگین کیفیت میرے اوپر حاوی رہنے لگی تھی مجھے اپنے جسم پر کبھی کبھی مفلوج ہونے کا شائبہ ہوتا ۔۔تنہا کمرے میں گھنٹوں کرسی پر بیٹھ کر اپنے توانا بدن میں نرمین کے معذور جسم کو محسوس کرتا رہتاکبھی اس کی اداس باتوں کو سوچ سوچ کر اپنا خون جلاتا اور کبھی خیالوں میں اس کے ساتھ شادی کر کے مستقبل کے خواب بُننے لگتااسکا سہارا بن کر اس کے تمام غموں کو مٹا دینے کے خواب دیکھا کرتا تھا میں خود اپنی اس حالت پر حیران تھا۔
ستمبر کے مہینے میں یونیورسٹی کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں ۔سیڑھیوں ،کھلے لانوں ،راہداریوں، کینٹینوں اور درختوں تلے ہر جگہ طلبہ و طالبات طوطا مینا کی جوڑیوں کی طرح سر ملائے بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔
ایک دن میں اور میرا دوست عفی یونیورسٹی مین گیٹ سے ڈیپارٹمنٹ کی طرف روانہ تھے۔
چلتے چلتے عفی نے ایک اداس لیلٰی مجنوں کی جوڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا’ یہ محبت وحبت کے چکر میں زیادہ تر ہمارے مڈل اور لوور مڈل کلاس کے لونڈے لونڈیاں ہی تم کو گرفتار نظر آئیں گے ‘
میرے چلتے قدم یکدم رک گئے اور میں نے اس کی طرف گھور کر دیکھا۔
’’کیوں بھئی محبت بھی تم کو کسی خاص طبقے کی میراث نظرآتی ہے؟ کوئی اونچی ذات نظر دکھائی دیتی ہے؟کم از کم محبت کو تو معاف کر دو ‘
اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور میرا بازو پکڑ کر مجھے دوبارہ چلنے پر آمادہ کرتے ہوئے کہا۔
’’حد ہے یار۔ اسکولوں،کالجوں،یونیورسٹیوں،ٹیوشن سینٹرز، لینگوئیج کمپیوٹر سینٹرز، پارکوں، ریسٹورینٹوں جدھر نگاہ ڈالو وہاں ہیریں چُوری کھلا رہی ہیں اور رانجھے بانسری بجا رہے ہیں ‘
میں نے اپنا ہاتھ سر پر مارتے ہوئے کچھ کہنا چاہا مگر وہ باقاعدہ ارد گرد اشارہ کرتے ہوئے بولتا چلا گیا۔
’’اپنے معشوقوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ان لڑکیوں کے چہروں کو ذرا غور سے دیکھنے کی کوشش کرو تمہیں تمام لڑکیوں کے چہروں پر جلی حروف میں’ ضرورت رشتہ‘ کا اشتہار چسپاںنظر آئے گا۔‘‘
اس کی بات پر میرا بے اختیار قہقہہ لگانے کو جی چاہا لیکن میں نے خود کو ایسا کرنے سے باز رکھا۔
’’جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکوں کی آنکھوں میں دیکھو تمہیں شادی کے جھنجٹ کے علاوہ باقی تمام آرزوئیں نظر آئیں گی ‘اس نے ایک انتہائی بے ہودہ قسم کا اشارہ کرتے ہوئے بات مکمل کی۔
’ واہ! کیا بکواسی ماری ہے۔۔ غلیظ انسان‘ میں نے بات مذاق میں اڑاتے ہوئے رفتار تیز کر دی۔
’’اوبھائی میاں میں بکواس نہیں کر رہا ‘اچانک وہ کسی مرے ہوئے بوڑھے پروفیسر کی روح سے ٹکرا گیا ’ہم مڈل کلاسیے جو پچھلی نصف صدی سے اشرافیہ کے ظلم و ستم کا رونا چلے آ رہے ہیں ناں ۔۔تو ایک نظر ہمیں اپنے کرتوتوں پر بھی ڈالنی چاہیے۔۔ او بھائی درسگاہوں کو ہم لوگوں نے ہی فلرٹ مارکیٹس بنا رکھا ہے۔
میرے پاس دلیلیں بہت تھیں لیکن چونکہ عفی کا تعلق بھی مڈل کلاس سے تھا اس لیے میں نے اس کی باتوں کی قطعاً پرواہ نہ کی بلکہ محض اسے تنگ کرنے کی غرض سے جوابی کارروائیاں وقفے وقفے سے جاری رکھیں’کل جب ان سب کی شادیاں ہو جائیں گی تو تمہارا یہ سارا فلسفہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا ‘
اس نے اپنے سر پر مکا مارتے ہوئے کہا’ او۔ محبت کو شادی سے مشروط کرنے والے عاشقو، سدھر جائو ،محبت آزاد ہوتی ہے یہیں سے تو مڈل کلاسیے مار کھا جاتے ہیںسنو بھائی، کاندھے سے کاندھا ملا کر بیٹھنے سے ہوس رگڑ کھاتی ہے اور لکھ لو کہ ہوس کی چنگاری سے محبت کا شعلہ نہیں نکلتا‘
’ پھر محبت کے جن کو کیسے قابو کریں سامری صاحب اس پر بھی ذرا روشنی ڈالیں‘ مجھے ابھی تک اس کی باتیں اندر سے گد گدا رہی تھیں
’’یہ محبت و حبت سب فضول کی بکواس ہے جو لوگ تعلیم کے ساتھ مخلص نہیں رہ پائے جس کے ساتھ ان کا اور انکی آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے وہ محبت خاک کریں گے سب ٹائم پاسی ہے جگر‘ اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے بات جاری رکھی’ بڑے پتے کی بات کہنے لگا ہوں ذرا غور سے سننا‘ اس نے دو انگلیوں کے درمیان جکڑی ہوئی سگریٹ میرے سامنے لہراتے ہوئے کہا ’مغرب کا سرخی پائوڈرہماری اشرافیہ نے اتنا استعمال نہیں کیا ہو گا جتنا آج یہ ہماری مڈل کلاس اور لوور مڈل کلاس کی لڑکیاں اپنے منہ پر مَل رہی ہیں اندھا دھند تھوپ رہی ہیں اور آئینے میں اپنا آپ دیکھ کر خود ہی چیخ مار کر مر تی بھی جارہی ہیں‘ اس نے ایک گہرا کش لیتے ہوئے میری طرف دیکھا
میں اسکی بات کا مطلب اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ سرخی پائوڈرسے اس کی کیا مراد ہے لیکن میں اس پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی کوئی رائے دینے یا بحث کے موڈ میں تھا اس لیے میں نے مذاقاً کہا ’بنائو سنگھار،سرخی پائوڈرتو لڑکیوں کا پیدائشی حق ہے یار‘
’ اور وہ لڑکے جو انکے چہروں سے یہ سرخی پائوڈر صاف کرتے پھر رہے ہیں تو کیا یہ لڑکوں کا پیدائشی حق ہے۔الّو‘ اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور ساتھ ہی لچر قسم کی آنکھ مار کر مسکرا دیا
’کاش یہ ڈیپارٹمنٹ یونیورسٹی گیٹ سے اتنا دور نہ ہوتا ‘میںنے زیر لب بڑ بڑاتے ہوئے کہا۔
عفی کسی امیر طالبعلم کی قریب سے گزرتی ہوئی لش پش گاڑی کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر بے قابو ہو گیا ’بھائی سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ تم مڈل کلاسیے نہ مشرقی ہو نہ مغربی ہو بلکہ بیچ میں لٹکی ہوئی کوئی چمگادڑ نما چیز ہوجبکہ ہمارے ایلیٹ طبقے کی نسل کا طرززندگی مکمل طور پر مغربی ہے وہ جسمانی بھوک کو محبت کے ڈھونگ سے مشروط نہیں کرتے بس جہاں بھوک لگی منٹوں میں فاسٹ فوڈ کی طرح یہ کھایا۔۔ وہ گیا۔۔ وقت ضائع کرنا ان کے مسلک میں حرام ہے سرکار۔ وہ تم لوگوں کی ان پکنک پوائنٹ نما درسگاہوں کی طرف دیکھتے بھی نہیں بلکہ ہارورڈ، آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی درسگاہوں سے تم لوگوں کو اپنا غلام رکھنے کا ہنر سیکھ کر آتے ہیں انکی توجہ اپنے باپ دادا کی دولت کو ضرب دینے پر مرکوز رہتی ہے اسی لیے نصف صدی پہلے کے امراء کا شمار آج بھی رئیسوں میں ہوتا ہے وہی چند خاندان جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکمران چلے آ رہے ہیں آج بھی لاٹھی ہلا رہے ہیں ۔بھائی میاں یاد رکھو! دولت سمیٹنے والے ہاتھ اپنے ہاتھوں کو بغیر میلا کیے ہوئے پیسہ کمانے کا گُر اپنی آل اولاد کو سکھا کر کفن اوڑھتے ہیںیہ سالے آسانی سے جلدی مرتے بھی نہیں‘ عفی نے پے در پے سگریٹ کے تین کش لیتے ہوئے بات جاری رکھی ’جس وقت تم مڈل کلاسیے کیمپس کی سیڑھیوں پر ایک دوسرے کی آنکھوں میں گم محبت کا راگ الاپ رہے ہوتے ہو ٹھیک اسی لمحے یہ ینگ فیوڈل لارڈز کرنسی نوٹوں پر قائداعظم کی جگہ اپنی تصویر چھاپنے کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اونچے عہدوں اور ایوانوں تک پہنچ کر بائیس کروڑ عوام کو اپنے جوتوں تلے رکھنے کا پلان اپنے وسیع و عریض شاندار ڈرائینگ روموں کی میزوں پر پھیلائے سر جوڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں‘
جونہی ہم ڈیپارٹمنٹ کی طرف مڑے عفی نے سگریٹ کا آخری کش لیتے ہوئے فلٹر پھینک دیا
میں نے دل میں شکر کا کلمہ پڑھا۔۔ وہ لیکچرپورا کرنے کے موڈ میں تھا لیکن میں اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر تقریباً بھاگتے ہوئے کلاس روم میں جا گھسا
میں نے جان بوجھ کر اس کی باتوں میں دلچسپی ظاہر نہیں کی کیونکہ ان میں مجھے کہیں بھی نرمین دکھائی نہیں دی اسکا تعلق نہ تو مڈل کلاس سے تھا اور نہ ہی اسکے خوابوں میں کسی اونچے عہدے تک پہنچنے کا خواب شامل تھا ۔۔بچپن سے لے کر اب تک وہ اپنی کسی بھی خواہش کے پورا نہ ہونے کے خوف سے آزاد رہی تھی لیکن اس کے باوجود محرومیوں نے اسے چاروں اطراف سے گھیر رکھا تھا یقیناً جس دن اس کا جنم ہوا ہو گا اس وقت محبت بانٹنے والے فرشتے نے اس کے گھر میں شادیانے، منہ میں سونے کا چمچ، ارد گرد خاندان والوں کی مسرتوں کا شور، ملازموں میں نقدی اور غریب غرباء میں صدقات تقسیم ہوتے دیکھ کر یقیناً سوچا ہو گا کہ اس بختاور کو محبت کی کیا ضرورت اور اس کے حصے کی محبت کسی چھوٹی سی بستی میں پیدا ہونے والے بچے کو اضافی دے دی ہو گی جسکے باپ کے پاس دائی کو دینے کیلئے سو روپے بھی جیب میں نہیںہونگے شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر اونچے طبقے کی نوجوان نسل نچلے طبقے کے لڑکے لڑکیوں میں دلچسپی لیتے ہوئے نظر آتے ہیں او راپنے حصے کی محبت پاتے ہیں۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close