Aanchal Aug-17

ہومیو کارنر

ڈاکٹر طلعت نظامی

اسقاط حمل
(Miscarriage Abortion)
اسقاط کی اصطلاح حمل میں اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب جنین یا بچہ اٹھائیس ہفتوں یا اس سے پہلے خارج ہوجائے اس مرض کا عام مفہوم یہ ہے کہ عورت حاملہ ہو اور ایام حمل کے پورا ہونے سے پہلے اس کا حمل ساقط ہوجائے۔
یہ عموماً پہلے چھ ماہ تک ہوتا ہے اس کے بعد ساتویں یا آٹھویں ماہ میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کو قبل از وقت حمل یا (Premature Delievery) کہتے ہیں۔
پہلے چھ ماہ تک جتنے بھی بچے ساقط ہوتے ہیں ان کے اندر شاذ و نادر ہی کسی میں جان پائی جاتی ہے لیکن ساتویں مہینے میں اور اس کے بعد کے بچے زندہ رہ سکتے ہیں۔
وجوہات:۔ اسقاط حمل کی وجوہات میں تین بڑے اسباب ذیل ہیں۔
ماں کی طرف سے خرابی:۔ جب ماں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ جائے جیسے شدید بخار، ہائی بلڈ پریشر، مزمن، امراض گردہ، سفلس یا ذیابیطس میں ماں مبتلا ہو، شدید ذہنی و جسمانی کام ورزش، سخت جسمانی محنت مثلاً گھوڑے کی سواری، نا ہموار سڑک پر تانگہ یا گاڑی کی سواری ریل کا سفر، کشتی کی لمبی سیر، بھاری بوجھ کا اٹھانا، دوڑنا بھاگنا وغیرہ، ان حالات میں خون کا دوران تیز ہوجاتا ہے۔
مختلف قسم کی دست آور ادویہ، کونین یا دیگر محرک ادویات جو دانستہ یا غیر دانستہ حاملہ کو دی جائیں انیما بھی بعض اوقات اسقاط کی وجہ بنتا ہے۔
جذباتی تحریکیں مثلاً یکایک شدید غصہ، ڈر، خوف، خوشی، خوفناک واقعات کا دیکھنا یا سننا، خطرات کی جگہوں میں جانا، موت کی خبر یا مرتا ہوا آدمی دیکھنا۔
ہارمون کا غیر متوازن ہونا بھی بچے کی اموات کا باعث ہوتے ہیں بعض اوقات پرامسٹرون اورتھائی رائیڈ کی کمی کی وجہ سے بھی اسقاط ہوجاتے ہیں۔
رحم میں ورم، زخم پاکینر بھی اسقاط کا موجب ہوتے ہیں۔
جسم میں خون کی زیادتی، موٹاپا یا چربی کی زیادتی بھی اسقاط کی وجوہات ہوسکتی ہے خون کی زیادتی سے خون کا اجتماع مقامی طور پر ہوجاتا ہے اس لیے اسقاط ہوجاتا ہے۔
دودھ پلانے والی عورتوں کو قدرتی طور پر حاملہ نہیں ہونا چاہیے لیکن جب ان کو حمل قرار پاجاتا ہے تو پستان کے غدودوں کی تحریک سے حمل ساقط ہوجاتا ہے نتیجتاً ہر حمل پر ان کو عادتاً اسقاط کا خطرہ رہتا ہے۔
معدے اور آنتوں کی مختلف خرابیاں قابل ذکر ہیں مثلاً متلی، قے اور سخت قبض، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خرابیاں بذات خود حمل کو ساقط نہیں کرسکتیں، بلکہ یہ مقامی خرابیاں رحم اور اس سے معلقات کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
RH FACTOR میاں بیوی کے خون کا نہ ملنا جبکہ ماں RH (نیگٹیو) اور باپ RH+ (پازیٹیو) ہو اور بچہ RH+ ہو تو بھی یہ بچے کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔
باپ کی طرف سے آئی گئی خرابی:۔
بعض مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جن میں والدہ کی طرف سے کوئی خرابی نہیں ہوتی مگر باپ کی طرف سے نطقہ میں خرابی ہوجانے کی وجہ سے اسقاط ہوجاتا ہے مثلاً آتشک کا اثر والد کی طرف سے جب انڈے میں پہنچتا ہے تو وہ کچھ عرصے کے لیے نشو و نما ضرور پاتا ہے لیکن کچھ وقت کے بعد آتشک کے زہر سے حمل ساقط ہوجاتا ہے۔
بچے کی خرابی:۔
جب بیضہ میں خرابی ہو، یہ بچے کی موت کا سبب بنتا ہے جبکہ بچہ غیر نشو و نما یافتہ ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کی طبعی کیفیت میں خرابی ہونے کی وجہ سے حمل ساقط ہوتے ہیں۔
علامات:۔
اسقاط کے خدشہ کی علامات بہت سی ہیں اسقاط سے قبل حاملہ کو مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
جاڑا، بخار، متلی، پیاس، سستی، کمزورئی شکم، ٹھنڈے پن کا احساس، بازوئوں، ٹانگوں میں سردی، چہرے پہ پیلا پن، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، ناقابل بیاں موت کا احساس، پستانوں میں ورم، دودھ کا ظاہر ہونا، مانچولیا وغیرہ ظاہری علامات ہیں۔
خون ملا سیلان رانوں، شکم اور کمر میں درد، درد ایسے جو حیض کے زمانے سے قبل ہوا کرتے ہیں ان دردوں سے قبل سیلان خون ہو بھی سکتا ہے اور زک بھی ہوسکتا ہے لیکن کچھ عرصہ اگر سیلان خون جاری رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ جلد یا دیر میں حمل ساقط ہوجائے گا تاوقت یہ کہ اس کیفیت کو ٹھیک ادویہ سے درست نہ کر دیا جائے۔
شکم یا پیڑو میں نیچے دبانے والے احساسات یہ احساسات بغیر درد کے بھی ہوسکتے ہیں۔
لعاب دہن بکثرت خارج ہوگا بدن سست اور ڈھیلا ہوگا۔ پستان کا سائز کم ہونے لگے گا اور ڈھیلا پن آجائے گا رحم اپنے مقام سے نیچے کی جانب مائل ہوگا جب اسقاط کا وقت قریب ہو تو حاملہ کے سر میں اکثر غیر معمولی گرانی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہوتا ہے۔
رحم میں بچے کی حرکات کا بند ہوجانا۔ پانچویں مہینے کے بعد اسٹتھو اسکوپ کے نیچے بچے کے دل کی حرکات کا سنائی نہ دینا۔
علاج:۔
وہ اسباب جو موجب اسقاط حمل ہیں ان سے بچنے کی کوشش کریں چوتھے مہینے سے پہلے اور ساتویں مہینے کے بعد اسقاط حمل کا اندیشہ ہوتا ہے ان ایام میں پرہیز لازم ہے تقویت رحم اور تقویت بدن کے لیے خاص ادویات کا استعمال کریں اگر والدین میں سے کوئی ایک امراض فساد خون میں مبتلا ہوں تو مصفئی خون ادویہ مفید ہوتی ہیں جب اسقاط کی علامات ظاہر ہوں تو ایسی تدابیر اختیار کریں کہ جن سے عورت کی صحت پر برا اثر نہ پڑے اور وہ مصیبت سے بچ جائے۔
اسقاط حمل کے خطرے کے پیش نظر مندرجہ ذیل ادویہ بوقت ضرورت علامات کے مطابق استعمال ہوسکتی ہیں۔
اکونائیٹ:۔ اگر حاملہ ڈر گئی ہو اور ڈر کا اثر اس سے جاتا نہ معلوم ہو سیلان خون کے ساتھ موت کا بھی ڈر ہو مریضہ بستر سے نکلنے سے حرکت سے ڈرے، حادثات کا ڈر۔
الٹرس فاری نوسا:۔ جن کے عادتاً حمل ساقط ہوتے ہوں رحم کے مقام پر بوجھ کا احساس۔
آرنیکا مونٹانا:۔ ایسے حالات میں جب مریضہ کو کوئی صدمہ یا چوٹ وغیرہ لگی ہو یا کہیں سے گری ہو جب درد کے ساتھ یا بغیر دردکے سیلان خون شروع ہوجائے۔
کیموملا:۔ درد زہ کے سے درد جن کے ساتھ سیاہی مائل خون کا سیلان ہو بے حد بے چینی، پریشانی اور مزاج میں، چڑچڑاپن۔
ڈلکا مارا:۔ جہاں اسقاط کا خطرہ مرطوب موسم سے ٹھنڈی جگہ سے یا ٹھنڈے موسم اور مرطوب مکانوں میں رہنے کی وجہ سے پیدا ہو۔
اوپیم:۔ جب اسقاط کا خطرہ آخری مہینوں میں ہو، اس کے علاوہ برائی اونیا، کاربووج، سمی سی فیوگا، کریا زوٹ، وائی برنم، تھوجا بھی علامات کے مطابق دیے جاسکتے ہیں۔

Show More

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close