AanchalAanchal Oct-17
Trending

ہومیو کارنر

روبین احمد

بانجھ پن (Sterility)
دنیا میں پیدائش اور آبادی کا ذریعہ صرف عورتیں ہیں لیکن ہماری بود و باش لا پروائی اور عیش پسندی بانجھ پن کا موجب بھی بن جاتی ہے۔
عام جسمانی صحت کی موجودگی اور جسمانی نظام کی درستگی کے باوجود حمل کا قرار نا پانا بانجھ پن کہلاتا ہے۔
بانجھ پن کی دو اقسام ہیں
ابتدائی بانجھ پن
ثانوی بانجھ پن۔
ابتدائی بانجھ پن:۔ اس میں عورت کو جنسی زندگی کے شروع سے اخیر تک حمل قرار نہیں پاتا۔
ثانوی بانجھ پن:۔ اس میں عورت شروع میں اولاد پیدا کرنے کے قابل ہوتی ہے لیکن ایک یا دو بچے کے بعد یا اسقاط حمل کے بعد اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتی اس قسم کی شکایت اگر چہ بعض اوقات مردوں کو خرابی کے نتیجے میں بھی رونما ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ سلسلہ زیادہ تر صنف نازک ہی کی ناسازی طبع سے وابستگی رکھتا ہے اس لیے صرف ان ہی نقائص کو پیش کیا جا رہا ہے جو عورتوں کے ساتھ وابستہ ہو کر انہیں اولاد کی دولت سے محروم کردیتے ہیں۔
وجوہات:۔
منشیات کا استعمال:۔
منشیات کا بے جا استعمال نظام عصبی کے اندر اکساہٹ اور تحریک پیدا کرتا ہے اور کچھ مدت کے بعد نظام عصبی کو کمزور اور ڈھیلا کردیتا ہے اس لیے اولاد کی خواہشمند عورتوں کو شراب قہوہ، چائے اور دیگر ہر قسم کی تحریک پیدا کرنے والی منشیات کا استعمال ترک کردینا چاہیے۔
لیوکوریا:۔
لیوکوریا یا سیلان الرحم ایک دوسری اہم خرابی ہے سیلان الرحم تیز سوزش پیدا کرنے والی قسم کا ہو یا مقدار میں اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ بیضہ کے رحم میں پہنچتے ہی لیوکوریا کے ساتھ بہہ جاتے ہیں۔
درد والے حیض: درد والے حیض بھی حمل قرار پانے میں بہت مخل ہوتے ہیں حمل قرار پانے کے بعد جب حیض کا وقت آتا ہے تو عادتاً حیض کے درد شروع ہوجاتے ہیں ان دردوں کے ساتھ چونکہ سکڑن ہوتی ہے اسی واسطے رحم کی سکڑن اور تشنجی کیفیت سے نطفہ نکل جاتا ہے۔
جسمانی محنت: مریضہ کی اپنی طبعی کیفیتیں بھی حمل میں خلل انداز ہونے کے لیے کم نہیں حادیا پرانی بیماری سے پیدا شدہ کمزوری، اپنے آپ کو دماغی کام میں حد سے زیادہ لگائے رکھنا یکدم غم یا خوشی کے صدمے حد سے زیادہ محنت جسمانی ایسی کیفیتیں ہیںجن سے نظام عصبی پر بہت زیادہ بوجھ پڑ جاتا ہے اعصاب میںکمزوری آجاتی ہے اور اس کمزوری کی وجہ سے آلات تناسل کے افعال اقائدہ نہیں دیتے اس لیے اول تو حمل قرار ہی نہیں پاتا اور پاتا بھی ہے تو ساقط ہوجاتا ہے۔
موٹاپے کی زیادتی: چربی کی زیادتی کا نتیجہ بھی بانجھ پن کا موجب بن جاتی ہے اس سلسلے میں مریضہ کے مزاج پر سردی و بلغمیت حاوی ہوجاتی ہے جس کے سبب جگر و معدہ کے افعال میں نقص واقع ہوجاتا ہے۔ ہضم ضعیف ہوجاتا ہے بھوک کم لگتی ہے زیادہ فربہی کے نتیجے میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ رحم اور اس کے منہ پر چربی جمع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مادہ تولید اندر پہنچنے سے رہ جاتا ہے۔
امراض رحم: اعضائے تناسل کی عارضی خرابی خلقی و پیدائشی خرابی بھی بانجھ پن کا باعث ہوتی ہیں۔ خصیۃ الرحم کا نہ ہونا سرطان رحم، رحم میں گومڑ، کینسر اس کی مثالیں ہیں۔
آب و ہوا: بعض حالات میں آب و ہوا کی ناموافقت اور رنج و ملال کی کثرت غم و غصہ کی عادت بھی اس قسم کی شکایت کا موجب بن جاتی ہے۔
عیش و آرام طلبی: آرام و سکون کی زندگی بسر کرنا معمولی سے معمولی کام کاج و حرکت سے گریز کرنا بعض اوقات جسم میں غیر معمولی فضلات بڑھانے کا موجب ہوتے ہیں جسم میں بادی و بلغمی اثرات جسم کو بوجھل اور اعضا کو کمزور بنا دیتے ہیں چربی کی زیادتی سے غیر معمولی فربہی بڑھ جاتی ہے اور فضلات کے تحلیل نہ ہونے کے سبب اعضاء اپنے اپنے فرائض کو چستی سے انجام دینے کے قابل نہیں ہوتے۔
علاج: قدرتی بانجھ پن کا علاج نا ممکن ہے لیکن جو عورتیں طبعی کیفیتوں میں یا آلات تناسل یا نظام عصبی کی تکلیفات میں مبتلا ہیں ان کا علاج موقع و محل کے مطابق کر کے ان کی تکلیفات کو دفع کیا جاسکتا ہے اس سلسلے میں مفصلہ ذیل ادویہ کار آمد ہوتی ہیں۔
بیلا ڈونا، بورکس، کملکریا کارب کنابس سٹائیوا لیلم تگ، مرکیور کس، نیزم کارب، فاسفورس، پلتائیلا، امونیم کارب، کسٹیکم، کونیم، گوسی پیم، گریفائٹس، لائیکو پوڈیم، نیئرم میور، پلاٹینا، سیپیا، سلفر، سلفورک اسیڈ، اگنس کاسٹس، کروکس، ڈلکامارا، پوڈو فائلم وغیرہ مددگار ادویات ہیں۔

Tags
Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close