Hijaab Nov 15

ہہ جو اب موڑ آیا ہے

نگہت عبداللہ

’’بھئی تمہاری تیاری کہاں تک…؟‘‘ شہزاد نے ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور آئینے میں آسیہ پر نظر پڑی تو بات ہونٹوں ہی میں رہ گئی۔ کتنی دیر تک مبہوت کھڑا رہا۔ اس کی خواہش کے مطابق وہ بڑے اہتمام سے تیار ہوئی تھی اور اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ وہ نظریں ہٹانا ہی بھول گیا تھا۔
’’وائو…!‘‘ بڑی دیر بعد اس کے ہونٹوں سے آواز نکلی‘ پھر آگے بڑھ کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ ’’میں نے تمہیں تیار ہونے کے لیے کہا تھا‘ یہ تو نہیں کہا تھا کہ تم میرے قتل کے سارے سامان کر ڈالو۔‘‘
’’کیا میں اچھی لگ رہی ہوں؟‘‘ وہ خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔
’’صرف اچھی‘ میری جان میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت اس روئے زمین پر تم سا حسین کوئی اور نہیں۔‘‘
’’اچھا…‘‘ اس کی ہنسی نے جلترنگ بجائے پھر سر کو ذرا سا خم دے کر بولی۔
’’آپ کا حسن نظر ہے ورنہ…‘‘
’’اوں ہوں… میری نظروں میں بھی تمہارا ہی حسن ہے۔‘‘
’’اچھی بات ہے‘ وہ اپنے کندھے پر رکھے اس کے ہاتھ کا سہارا لے کر کھڑی ہوئی تو پوچھنے لگی۔
’’اب کیا پروگرام ہے؟‘‘
’’پروگرام میں نے صبح ہی تمہیں بتادیا تھا اور اس میں کوئی ترمیم یا اضافہ نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ جانے کیا سوچنے لگی۔
’’کیا تمہیں میرا پروگرام پسند نہیں آیا؟‘‘ اس نے فوراً پوچھا۔
’’یہ بات نہیں۔‘‘
’’پھر…‘‘
’’بس میں یہ چاہ رہی تھی کہ شادی کی پہلی سال گرہ ہے اسے ہم گھر پر ہی ارینج کرلیتے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں‘ اگلی بار ہم ایسا کرلیں گے۔ آج تو میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اور میں ہوں بس۔‘‘
’’آپ بھول رہے ہیں جناب‘ دو ماہ پہلے ہمارے درمیان ننھی منی رابعہ آچکی ہے۔ اب صرف میں اور آپ نہیں۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ بے حد سرشار ہوکر اس نے گہری سانس لی پھر اس کے ہاتھ تھام کر بولا۔ ’’میں رابعہ کو نہیں بھولا‘ وہ تو ہمارے درمیان محبت کی ایک اور حسین کڑی ہے۔‘‘
’’کہاں ہے وہ؟‘‘
’’آیا کے پاس‘ اسے بھی ساتھ لے چلیں۔‘‘
’’اوں ہوں‘ ابھی بہت چھوٹی ہے‘ جب بھاگنے دوڑنے والی ہوگی تب ہر پل اسے ساتھ رکھیں گے۔‘‘ پھر گھڑی دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’اب چلو ناں باقی باتیں راستے میں کرلینا۔‘‘
’’آپ چلیں‘ میں رابی کو دیکھ کر آتی ہوں۔‘‘ وہ تیز قدموں سے اپنے بیڈروم سے ملحقہ کمرے میں آئی‘ کاٹ میں سوئی بچی کو جھک کر پیار کیا پھر اس کی آیا کو کچھ ہدایات دے کر باہر آئی تو وہ گاڑی کے پاس کھڑا تھا‘ اسے دیکھتے ہی اس کے لیے دروازہ کھولا اور جب وہ بیٹھ گئی تو دوسری طرف سے آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
’’پتہ ہے شہزاد…‘‘ وہ سامنے شفاف راستے پر نظریں جما کر بولی۔ ’’کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں‘ پرسکون‘ پرآسائش اور محبتوں سے لبریز زندگی کا حسین اور دل فریب خواب۔‘‘
’’اس خواب میں کہیں میں بھی ہوں؟‘‘ اس نے پوچھا اور اسے دیکھا‘ اس کی آنکھوں میں بڑے خوب صورت رنگ اترے ہوئے تھے۔
’’آپ‘ صرف آپ ہی آپ ہیں‘ باقی ساری باتیں تو آپ کی مرہون منت ہیں۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ ذرا سا ہنسا۔ ’’میری جان یہ حقیقت ہے‘ تمہیں اس پر خواب کا گمان کیوں ہوتا ہے۔‘‘
’’شاید اس لیے کہ…‘‘ وہ قصداً خاموش ہوئی اور وہ بھی جانتا تھا کہ گزشتہ زندگی کی تلخیوں نے اسے کبھی اچھے خوابوں کی جھلک بھی نہیں دکھائی ہوگی‘ اس وقت بھی ان دنوں کے تصور نے اسے خاموش کردیا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی بات کو یاد کرکے وہ اس وقت آزردہ ہو‘ جبھی اس کی بات کو مزاح کا رنگ دے کر چھیڑنے کے انداز میں بولا۔
’’شاید اس لیے کہ تمہیں میری محبت پر اعتبار نہیں۔‘‘
’’نہیں شہزاد۔‘‘ وہ فوراً بولی۔ ’’آپ کی محبت نے تو مجھے زندگی سے پیار کرنا سکھایا ہے‘ یہ اعتبار ہی تو ہے جو میری امنگیں اور آرزوئیں برسوں تک پھیل گئی ہیں‘ پتہ ہے میں بہت دور تک سوچنے لگی ہوں۔‘‘
’’کتنی دور تک؟‘‘ اس نے وہ دلچسپی سے پوچھا۔
’’اب میں کیا بتائوں؟‘‘ وہ اپنی سوچ پر خود ہی محظوظ ہوکر بولی۔ ’’ ابھی تو رابی صرف دو ماہ کی ہے اور میں اس کے بچوں کو اپنے آنگن میں کھیلتے ہوئے سوچتی ہوں‘ ذرا آپ تصور کریں تو کتنا اچھا لگے گا جب…‘‘
’’کم آن یار‘ پہلے ہمارے بچوں کی ٹیم تو مکمل ہوجائے پھر رابی کے بچوں کا تصور کریں گے۔‘‘ پھر اس پر ایک شرارت بھری نظر ڈال کر بولا۔ ’’تمہارے خیال میں کتنے بچے ہونے چاہئیں؟‘‘
’’پتہ نہیں۔‘‘ وہ اس کی شرارت سے لجاگئی۔
’’مجھے پتہ ہے۔‘‘
’’بس رہنے دیں۔‘‘
’’اچھا دیکھو‘ ہم یہاں ڈنر کریں گے۔‘‘ وہ ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے پارکنگ میں گاڑی روکتے ہوئے بولا۔ ’’اور ڈنر کے دوران ہم صرف اپنی باتیں کریں گے‘ سمجھی تم۔‘‘
’’ابھی بھی‘ ہم اپنی ہی باتیں کررہے تھے۔‘‘
’’اپنی باتوں سے مراد صرف پیار محبت کی باتیں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے اپنی طرف کا دروازہ کھول کر نیچے اتر آئی پھر شہزاد نے آکر اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔
کبھی بلکہ سال بھر پہلے تک وہ اپنی زندگی اور اپنی قسمت سے بہت شاکی تھی‘ یہاں تک سوچتی کہ آخر وہ پیدا کیوں ہوئی یا پھر اب تک زندہ کیوں ہے‘ اماں کے ساتھ ہی کیوں نہ مرگئی‘ پانچ سال کی تھی جب اماں کا انتقال ہوا اور پھر دو ماہ بعد ہی ابا نے دوسری شادی کرلی۔ نئی آنے والی نے اول روز ہی اسے ایسی نظروں سے دیکھا تھا کہ وہ سہم کر رہ گئی تھی۔ یوں کہ کبھی زندگی میں اس کے سامنے نظر اٹھا کر بات نہیں کرسکی تھی۔ اس کے باوجود سوتیلی ماں ہر آئے گئے کے سامنے اسے بدتمیز اور بدلحاظ ثابت کرتی رہتیں۔ ابا تک کو اس سے متنفر کردیا تھا اور اپنے بچوں سے الگ بات بے بات اس کی بے عزتی کروایا کرتی۔ ایسے حالات میں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی زندگی میں اچھے دن بھی آسکتے ہیں لیکن اوپر والے کو شاید اس کا صبر پسند آیا تھا جس کا انعام شہزاد کی صورت میں عطا کیا تھا۔
ظ… ژظژ…ظ
شہزاد چار سال مڈل ایسٹ میں رہنے کے بعد ابھی حال ہی میں پاکستان آیا تھا‘ اس کے والدین حیات نہیں تھے‘ بس ایک بڑے بھائی‘ ان کی بیوی‘ اور دو بچے تھے۔ مڈل ایسٹ جانے سے پہلے شہزاد اپنے بھائی جان کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ درحقیقت وہ اپنے بھائی بھابی بیگم کو والدین کا درجہ دیتا تھا۔
مڈل ایسٹ سے واپسی پر بھی وہ بھائی جان کے پاس آیا‘ انہی کے ساتھ رہا‘ اور اتنا زرمبادلہ لے کر آیا تھا کہ اس کے خیال میں بھائی جان کے ساتھ مل کر کاروبار کرسکتا ہے‘ اس سلسلے میں جب اس نے بھائی جان سے بات کی تو انہیں کوئی اعتراض تو نہیں تھا لیکن فوراً راضی بھی نہیں ہوئے‘ شاید اس لیے کہ ان کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ اس کے ساتھ کاروبار میں لگا سکتے‘ ویسے بھی وہ ایک تو تنخواہ دار ملازم تھے‘ دوسرے ان کا بڑا بیٹا پیدائشی معذور تھا‘ جس کے علاج معالجے پر ان کی ساری جمع پونجی خرچ ہوجاتی اور ہوسکتا ہے انہیں یہ خیال بھی ہو کہ بڑے بھائی ہونے کے ناطے انہوں نے شہزاد کے لیے کچھ نہیں کیا کیونکہ جب ان کے والد کا انتقال ہوا‘ اس وقت شہزاد انٹر میں تھا اور والد کے انتقال کے بعد اس نے اپنا بوجھ بھائی پر ڈالنے کے بجائے ایک جگہ پارٹ ٹائم جاب کی اور ٹیوشن وغیرہ بھی پڑھائیں اور مڈل ایسٹ بھی وہ اپنی ذاتی کاوشوں سے ہی گیا تھا۔
بہرحال آج وہ جس مقام پر بھی تھا‘ اپنی محنت اور جدوجہد سے ہی پہنچا تھا۔ اس کے باوجود خود اسے یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ اس کے بڑے بھائی نے اس کے لیے کچھ نہیں کیا‘ بلکہ وہ ان کے محدود وسائل اور بڑھتے ہوئے مسائل کو اچھی طرح سمجھتا تھا اگر اسے ذرا سا بھی شبہ ہوجاتا کہ بھائی جان رقم نہ ہونے کے سبب اس کے ساتھ کاروبار میں شریک ہونے سے کترا رہے ہیں تو وہ انہیں یقین دلاتا کہ اس کے پاس جو کچھ ہے انہی کا ہے لیکن وہ یہ سمجھتا رہا کہ وہ اپنے بیٹے ابرار کی بیماری کے باعث پریشان اور ذہنی طور پر الجھے ہوئے ہیں جبھی اس کا ساتھ نہیں دے پارہے‘ تب وہ خود ہی کاروبار سیٹ کرنے میں لگ گیا اوراس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اس طرف سے مطمئن ہوتے ہی وہ نہ صرف بھائی جان کو زبردستی اپنے ساتھ شامل کرے گا بلکہ ابرار کو علاج کے لیے بھی باہر لے جائے گا۔ اور جب وہ کاروبار کی طرف سے مطمئن ہوا تو آسیہ کی ایک جھلک نے چین وقرار لوٹ لیا‘ وقتی طور پر آئندہ کے لیے ترتیب دیئے ہوئے سارے پروگرام کہیں پس منظر میں چلے گئے‘ بس ایک ہی لگن تھی کہ آسیہ اس کی زندگی میں شامل ہوجائے اور اس کے لیے اسے بھابی بیگم سے بات کرنی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ گزشتہ کئی روز سے وہ دیکھ رہا تھا کہ بھابی بیگم ہر دوسرے دن اپنی بہن کو بلالیتی‘ خصوصاً اس وقت جب وہ گھر پر ہوتا ہے اور بھابی بیگم کی بہن نجمہ بہانے بہانے سے اس کے سامنے آتی‘ کبھی اس کا کوئی کام کرنے لگتی ہے اور وہ نادان نہیں تھا۔ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ بھابی بیگم کیا چاہ رہی ہیں‘ ایسی صورت حال میں اسے فوراً بھابی بیگم سے بات کرنا مناسب نہیں لگا کیونکہ وہ ان کا بہت احترام کرتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ اس کی کوئی بات یا عمل انہیں رنجیدہ کرے‘ یہ بھی حقیقت تھی کہ اگر وہ آسیہ کی ایک جھلک دیکھ کر اس کا اسیر نہ ہوگیا ہوتا تو بخوشی بھابی بیگم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے نجمہ سے شادی کرلیتا‘ لیکن دل تو پھر دل ہے جتنا سمجھایا اتنا ہی مچلا۔
پھر انہی دنوں ابرار اور رخشندہ کے بعد فرخندہ پیدا ہوئی تو بھابی بیگم کو نجمہ کو اپنے پاس رکھنے کابہانہ مل گیا۔ بھائی جان بھی اٹھتے بیٹھتے نجمہ کی تعریف کرنے لگے تو اس کے لیے اور مشکل ہوگئی‘ ادھر دل تھا کہ صرف آسیہ کا طلب گار اور زیادہ انتظار کرنے کو بھی تیار نہیں تھا۔ شاید یہ خوف تھا کہ ایسا نہ ہو‘ وہ وقت کا انتظار کرتا رہ جائے اور وہ کسی اور کی ہوجائے‘ بس اسی خیال کے تحت پہلے اس نے خود ہی آسیہ کے والد سے راہ ورسم بڑھائے‘ انہی کی زبانی اسے ان کے گھر کے حالات معلوم ہوئے اور وہ آسیہ کے بارے میں بھی جان گیا کہ سوتیلے رشتوں کے درمیان وہ کیسی زندگی گزار رہی ہے۔ تب محبت کے ساتھ ہمدردی کے جذبات بھی پیدا ہوگئے تھے اور وہ جلد سے جلد اسے اس گھر سے نکالنے کی سوچنے لگا اور جس روز بھابی بیگم نے اس کی شادی کا ذکر چھیڑا‘ اس نے ساری مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر آسیہ کا نام لے دیا‘ گو کہ بھابی بیگم حیران بھی ہوئیں اور انہیں شاک بھی لگا لیکن وہ چالاک عورت تھیں‘ جانتی تھیں کہ مخالفت کی صورت میں دیور سے ہاتھ دھونے پڑیں گے جو اپنا بزنس سیٹ کرکے اس مقام تک پہنچ چکا تھا کہ چار لوگوں میں بیٹھ کر فخریہ اس کا نام لے کر اس سے رشتہ داری جتائی جاتی پھر وہ تو خاصا فرماں بردار اور خیال رکھنے والا بھی تھا اور بھابی بیگم کسی صورت اس سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتی تھیں۔
اس لیے بظاہر اس کی خوشی میں خوش بلکہ پیش پیش رہیں اور آسیہ کو اپنے ہاتھوں سے بیاہ لائیں‘ شہزاد بے انتہا خوش تھا کہ اسے اس کی منزل مل گئی تھی‘ جبکہ آسیہ تقدیر کے یوں اچانک مہربان ہونے پر حیران تھی اور یقینا وہ محبت کے مفہوم سے ہی نا آشنا تھی کیونکہ اپنی اب تک کی زندگی میں اس نے کسی کو اپنے لیے نرم نہیں دیکھا تھا اور وہ تھا کہ دھیرے دھیرے محبت کا امرت اس کی رگ وپے میں اتار رہا تھا۔
ظ… ژظژ…ظ
زندگی اچانک بے پناہ حسین ہوگئی تھی اور قسمت بھی ساتھ دے رہی تھی کہ شادی کے بعد شہزاد مٹی میں ہاتھ ڈالتا تو وہ بھی سونا ہوجاتی اور یہ فطری سی بات تھی کہ اب وہ اپنی کامیابیوں کا سہرا آسیہ کے سر باندھتا‘ مہینے بھر بعد ہی آسیہ نے اسے خوش خبری سنائی کہ وہ ماں بننے والی ہے تو اس کی خوشیوں میں مزید اضافہ ہوگیا اور اس مقام پر بھابی بیگم کی سوچ بھی فطری سی تھی کہ اپنا بچہ ہونے کے بعد شہزاد ان کے بچوں سے غافل ہوجائے گا جن کی تمام تر ذمہ داری بھابی بیگم نے بالکل غیر محسوس طریقے سے شہزاد پر ڈال رکھی تھی۔
انہوں نے شروع ہی سے شہزاد کے ساتھ ایک مخصوص رویہ رکھا تھا‘ یعنی اپنی بڑائی جتاتے ہوئے گھر کے اخراجات یا ضروریات کے لیے اس سے کوئی پیسہ نہیں لیتی تھیں‘ وہ خواہ کتنے ہی خلوص سے یا کسی بھی بہانے دینے کی کوشش کرتا لیکن ان کا ایک ہی جواب ہوتا تم چھوٹے ہو اور پھر ہم نے تمہارے لیے کیا کیا ہے‘ جواب لینے بیٹھ جائیں‘ تمہارے بھائی جان بھی برا مانیں گے‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایک طرح سے اپنی خودداری جتاتیں یا پھر یہ کہ وہ خواہ کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ بن جائے‘ ان کے لیے چھوٹا ہی رہے گا‘ ان کا ایک رخ یہ تھا اور دوسرا خود کو مظلوم ظاہر کرتیں۔
ابرار کی معذوری‘ اس کے علاج معالجے کا خرچ پھر رخشندہ بھی اسکول جانے کی قابل ہوگئی تھی اور شیر خوار فرخندہ کے لیے بھی بہت کچھ چاہیے تھا اور بھابی بیگم بچوں کی ان ضررویات کے لیے براہ راست اس سے نہیں کہتی تھیں بلکہ جس وقت وہ بھائی جان کے پاس بیٹھا ہوتا خصوصاً اس وقت وہ اپنے میاں سے کہتیں اور ان کا انداز بھی کچھ ایسا ہوتا تھا جیسے اس سے چھپا رہی ہوں‘ اس لیے ان ضروریات کو پورا کرتے ہوئے اس کے انداز میں جھجک سی ہوتی کہ بھابی بیگم کی خودداری کو ٹھیس نہ لگے‘ جیسے بھابی بیگم اپنے میاں سے کہتیں۔
ابرار کی دوائیں ختم ہوجاتی تو وہ رات میں بہت خاموشی سے اس کی دوائیں لاکر اس کے سرہانے رکھ دیتا۔ صبح رخشندہ کی فیس جانی ہے اگلے روز وہ پہلا کام اس کی فیس جمع کروانے کا کرتا۔ فرخندہ کا دودھ نہیں ہے اور آفس سے واپسی پر مہینے بھر کے دودھ کے ڈبے اس کے ہاتھوں میں ہوتے۔
’’تم سے کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو؟‘‘ بھابی بیگم اس پر بگڑنے لگتیں اور وہ ان سے نظریں ملانے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا تھا۔
’’بچوں کے لیے تو مت روکیں بھابی بیگم‘ کیا میں ان کا کچھ نہیں لگتا۔‘‘
’’کیوں نہیں‘ چاچا ہو ان کے۔‘‘
’’پھر آپ کیوں منع کرتی ہیں؟‘‘
’’بس مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘ یہ بھابی بیگم کا انداز تھا کہ ہرحال میں اپنا ہاتھ اوپر رکھنا چاہتی تھیں اور اس میں کامیاب بھی تھیں۔
ظ… ژظژ…ظ
آسیہ تین ماہ ان کے ساتھ رہی اور اس عرصے میں کبھی ایک پل کو بھی اسے شبہ نہیں ہوا کہ بھابی بیگم اس کے خلاف دل میں نفرت وکدورت رکھتی ہیں۔ حالانکہ شہزاد نے اسے بتادیا تھا کہ بھابی بیگم اس کی شادی اپنی بہن سے کرنا چاہتی تھیں‘ اس لحاظ سے ان کا رویہ اس کے ساتھ لیادیا سا ہونا چاہیے تھا لیکن جس طرح وہ اس کا خیال رکھتی تھیں‘ اس سے وہ ان کی اعلیٰ ظرفی کی معترف ہوگئی تھیں پھر تین ماہ بعد ہی شہزاد نے شہر کے اچھے علاقے میں بنگلہ خرید لیا تھا۔ وہ اور آسیہ دونوں ہی یہ چاہتے تھے کہ بھائی جان اور بھابی بیگم بھی ان کے ساتھ رہیں اور بھابی بیگم لاکھ دل سے ایسا ہی چاہتی ہوں لیکن اپنا بھرم توڑنے کو ہرگز تیار نہیں ہوئیں تھیں۔
’’ہاں کیوں نہیں شہزاد‘ تم اور ہم کوئی الگ تو نہیں ہیں‘ وہ بھی اپنا گھر ہے‘ یہ بھی اپنا ہے‘ یہاں رہیں یا وہاں کیا فرق پڑتا ہے اور پھر اس گھر میں تو اللہ بخشے میرے ساس سسر تھے جو اپنے ہاتھوں سے میری ڈولی اس گھر میں لائے تھے۔ میں اس گھر کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں۔‘‘ آخر میں انہوں نے پتہ نہیں آسیہ کو جتایا تھا یا کیا تھا کہ وہ دونوں خاموش ہورہے تھے۔
اور پھر نئے گھر میں زندگی اور زیادہ حسین ہوگئی‘ خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتے ہوئے یوں بھی وقت گزرنے کا پتہ نہیں چلتا‘ اس کی گزشتہ زندگی کی تلخیوں سے واقفیت کی بنا پر جیسا کہ شہزاد نے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ اب کبھی اسے ایک پل کو بھی افسردہ نہیں ہونے دے گا بلکہ اپنی محبتوں اور چاہتوں کی بارش اس پر یوں برسائے گا کہ تمام عمر وہ اس کی پھوار میں اپنا تن من بھگوتی رہے گی تو ہر طلوع ہوتے دن کے ساتھ اس کی محبتوں میں اضافہ ہوتا رہا اور وہ اتنی بے حساب چاہتوں پر بوکھلا سی جاتی تھی‘ دامن جو تنگ ہونے لگتا تھا‘ کبھی وہ دامن پھیلاتی تھی تو کوئی بھیک میں دو میٹھے بول نہیں ڈالتا تھا اور اب ہر بول ہی میٹھا تھا‘ روح تک کو سیراب کردینے والا۔
پھر ابھی ان کی شادی کو دس مہینے ہی ہوئے تھے کہ رابعہ ان کی خوشیوں میں اضافہ کرنے آگئی‘ ماں بن کر آسیہ پر جو نکھار آیا تھا‘ وہ شہزاد کو دنگ کئے دے رہا تھا۔ پہلے سے زیادہ اس کا گرویدہ ہوگیا اور یوں خیال رکھتا جیسے وہ کوئی کانچ کی گڑیا ہو‘ اس موقع پر بھابی بیگم خاص طور سے مبارک باد دینے آئیں‘ یوں بھی ان کا آنا جانا رہتا ہی تھا‘ ویسے زیادہ تر شہزاد اور آسیہ ہی جاتے تھے اور ابھی تک شہزاد ان کے بچوں کا اسی طرح خیال رکھتا اور ان کی ضروریات پوری کرتا تھا۔ بلکہ اس کی کوشش یہی تھی کہ بھائی جان نوکری چھوڑ کر اس کے ساتھ شامل ہوجائیں لیکن پتہ نہیں وہ اس بات پر رضامند کیوں نہیں ہوتے تھے۔ بہرحال اس کی کوششیں جاری تھیں اور آسیہ بھی اس کے ساتھ شریک تھی اور آج ان کی شادی کہ پہلی سال گرہ تھی‘ ابھی اندر آتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ ڈنر کے دوران ہم صرف اپنی باتیں کریں گے اور اپنی باتیں کرتے ہوئے آپ ہی آپ باتوں کا رخ بھائی جان اور بھابی بیگم کی طرف مڑ گیا‘ وہ کہنے لگی۔
’’ہمیں اپنی اس خوشی میں بھائی جان کی فیملی کو ضرور شریک کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’چاہتا تو میں بھی تھا لیکن اس دل کا کیا کروں جو آج اپنے اور تمہارے درمیان کسی تیسرے کی موجودگی برداشت کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوا۔‘‘
’’آپ کا دل تو بس۔‘‘
’’اوں ہوں…‘‘ وہ ہاتھ اٹھا کر ٹوکتے ہوئے بولا۔
’’میرے دل کو کچھ مت کہنا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اس میں تمہاری محبت کا تاج محل ہے۔‘‘
’’ہوگا…‘‘ اس نے اٹھلا کر بے نیازی برتی پھر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی۔
’’دیکھیں ناں اگر بھابی بیگم کو یاد آگیا کہ آج ہماری شادی کی سال گرہ ہے اور ہم نے انہیں بلایا نہیں تو…‘‘
’’وہ خفا نہیں ہوں گی۔‘‘ وہ فوراً بول پڑا۔
’’میں جانتی ہوں‘ وہ خفا نہیں ہوتیں پھر بھی ہمارا فرض تھا کہ ہم ان کے لیے اچھی سی دعوت کا اہتمام کرتے۔‘‘
’’کل کرلیں گے لیکن مجھے یقین ہے وہ نہیں آئیں گی۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ وہ حیران ہوکر بولی۔
’’اس لیے کہ پرسوں شام میں‘ میںان کی طرف گیا تھا اور ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔‘‘
’’آپ نے مجھے نہیں بتایا‘ کیا ہوا ہے انہیں؟‘‘
’’میرا خیال ہے چوتھے بچے کی آمد۔‘‘ وہ جو ان کی طبیعت کی خرابی کا سن کر پریشان ہوگئی تھی‘ سبب جان کر ذرا مسکرائی اور وہ جو اسے دیکھ رہاتھا شرارت سے بولا۔
’’میں بھی سوچ رہا ہوں‘ اگلے سال کے لیے ماڈل ابھی سے…‘‘ شہزاد اس کے بے ساختہ چیخنے پر خاموش ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
’’آئی ایم سوری۔‘‘ وہ خجل سی ہوگئی۔
’’نیور مائنڈ۔‘‘ وہ کندھے اچکا کر بولا۔ ’’میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ کوئی تو مجھ سے تمہارے چیخنے کا سبب پوچھے اور میں سچ سچ بتائوں۔‘‘
’’آپ تو بس… خیر یہ بتائیں اب کیا پروگرام ہے؟‘‘
’’آوارہ گردی کریں گے۔‘‘ وہ بڑے آرام سے بولا۔
’’میرا خیال ہے آج آپ اپنے آپ میں نہیں ہیں‘ چلیں اٹھیں بھائی جان کی طرف چلتے ہیں اور ہاں بچوں کے لیے چکن وغیرہ پیک کروالیں۔‘‘
’’کل چلیں گے۔‘‘
’’نہیں ابھی اور اس کے بعد گھر چلیں گے۔‘‘
’’کم آن یار ابھی تو صرف آٹھ بجے ہیں۔‘‘
’’تو آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ وہ بچوں کی طرح منہ پھلا کر بولا اور پھر ویٹر کو بلا کر بل پے کرنے کے ساتھ چکن وغیرہ پیک کرنے کے لیے کہا اور جب وہ مطلوبہ چیزوں کے پیکٹ لے کر آیا تو وہ لے کر اس کے ساتھ باہر نکل آیا۔
’’روٹھے ہو تم‘ تم کو کیسے منائوں پیا۔‘‘ وہ گاڑی میں بیٹھتے ہی ہلکے سے گنگنائی تو وہ ہنس پڑا۔
’’یونہی ہنستے رہا کریں کیونکہ آپ ہنستے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔‘‘
’’اور تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
’’خود پر کبھی غور نہیں کیا۔‘‘
’’میں غور کروں؟‘‘
’’جی نہیں‘ سامنے دیکھ کر گاڑی چلائیں۔ یہاں ویسے ہی ٹریفک بہت زیادہ ہے۔‘‘ اس نے فوراً اس کی توجہ خود پر سے ہٹا کر سامنے مبذول کرائی تو وہ بھی سنبھل گیا۔
ظ… ظژظ…ظ
خلاف معمول بھائی جان کے گھر نسبتاً خاموشی تھی‘ بچے کھیلتے کودتے ہوئے نظر نہیں آئے تو وہ برآمدے ہی سے ابرار کو اونچی آواز سے پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تو بھابی بیگم رخشندہ کے سرہانے بیٹھی نظر آئیں۔
’’کیا ہوا بھابی بیگم اس قدر خاموشی کیوں ہے؟‘‘ وہ انہیں سلام کرنے کے بعد پوچھنے لگا۔
’’بخار میں پڑے ہیں سب‘ پہلے ابرار کو ہوا‘ شام سے رخشندہ بھی پڑگئی‘ آئو آسیہ کھڑی کیوں ہو‘ بیٹھو ناں۔‘‘ بھابی بیگم اچانک اس کے سجے سراپے پر تنقیدی نظر ڈال کر بولیں۔
’’آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ وہ بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
’’بس ٹھیک ہی ہے۔‘‘
’’بھائی جان کہاں ہیں؟‘‘
’’بچوں کی دوا وغیرہ لینے گئے ہیں۔ بیٹھو ابھی آتے ہوں گے‘ چائے پیوگے؟‘‘
’’نہیں بھابی‘ آپ آرام سے بیٹھیں۔‘‘ اسی وقت بھائی جان آگئے تو اس کے اشارے پر آسیہ جو کھانے پینے کی اشیاء ساتھ لائی تھی‘ وہ لے کر کچن میں چلی گئی اور پلیٹوں میں نکال کر لے آئی۔
’’یہ سب۔‘‘ بھابی بیگم ایک نظر ٹرے پر ڈال کر باری باری دونوں کو دیکھنے لگیں۔
’’ابرار شوق سے کھاتا ہے اور میں اسے اپنے ہاتھ سے کھلائوں گا۔‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح سب کرکے بھی شرمندہ نظر آرہا تھا‘ بھابی بیگم سے نظریں چرا کر ابرار کے پاس جا بیٹھا اور وہ بھائی جان اور بھابی بیگم کو کھانے پر اصرار کرنے لگی پھر اٹھ کر چائے بنانے چلی گئی۔
’’رابعہ کو بھی لے آتیں۔‘‘ وہ چائے لے کر آئی تو بھابی بیگم نے اس سے کہا۔
’’ٹھیک تو ہے نا بچی‘ ویسے اچھا ہوا اسے لے کر نہیں آئیں‘ یہاں اب مجھے فرخندہ کی فکر ہورہی ہے‘ ایک بیمار ہو تو سب پڑ جاتے ہیں۔‘‘
’’اگر آپ کہیں تو ہم فرخندہ کو اپنے ساتھ لے جائیں۔‘‘
’’نہیں‘ تمہارے پاس کہاں رہے گی‘ میرا مطلب ہے ابھی چھوٹی ہے‘ تنگ کرے گی۔‘‘ وہ خاموش ہوکر شہزاد کو دیکھنے لگی۔ وہ بھائی جان سے اپنے بزنس کی باتیں کرتے ہوئے پھر اصرار کررہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ شریک ہوجائیں‘ اس بار بھائی جان نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ ان کی خاموشی کو نیم رضامندی سمجھ کر اٹھتے ہوئے بولا۔
’’میں کل فرصت سے آئوں گا پھر بات کریں گے۔‘‘
’’چلیں آسیہ۔‘‘
’’جی۔‘‘ اس نے اجازت طلب نظروں سے بھابی بیگم کو دیکھا پھر باری باری سب بچوں کو پیار کرکے اس کے ساتھ باہر نکل آئی۔
’’آخر بھائی جان آپ کی بات مان کیوں نہیں لیتے؟‘‘ راستے میں وہ اس سے پوچھنے لگی۔
’’پتہ نہیں‘ خیر میں انہیں منالوں گا‘ تم بتائو گھر چلیں یا…‘‘
’’گھر… گھر… گھر۔‘‘
’’اچھی بات ہے اور اب یہ بھی سن لو کہ گھر جاکر میں سب سے پہلا کام کیا کروں گا۔‘‘
’’بتانے کی ضرورت نہیں مجھے پتہ ہے۔‘‘ وہ شرمگیں مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر بولی۔
’’تمہیں نہیں پتہ۔‘‘ اس نے ذرا سی گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ سامنے تیز روشنیوں کا عکس اس کی آنکھوں میں یوں جھلملا رہا تھا جیسے ایک ساتھ کئی جگنو جل اٹھے ہوں اور وہ بھول گیا کہ اس وقت وہ کہاں ہے۔
اس کی چاہتوں کی یہ آخری منزل تھی کہ وہ ہر طرف سے بے نیاز ہوکر اس کا ہاتھ تھام رہا تھا‘ سگنل پر سرخ بتی روشن ہوچکی تھی‘ لیکن اسے خبر نہیں ہوئی تھی اور جب تک وہ اسے خبردار کرتی‘ وہ اپنے ساتھ اسے بھی زندگی کی حدود سے بہت آگے لے گیا‘ ایک نئے سفر پر جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔
ظ… ژظژ…ظ
ان کے پیچھے رونے والوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی‘ بھائی جان اور بھابی بیگم یا پھر آسیہ کے والد آئے تھے۔ شہزاد کا حلقہ بھی زیادہ وسیع نہیں تھا۔ چند دوست اور وہ لوگ جو اس کے آفس میں کام کرتے تھے‘ جواں مرگی پر دکھ تو سبھی کو تھا لیکن جس کے لیے یہ سب سے بڑا دکھ اور سانحہ تھا وہ ابھی صرف دو ماہ کی تھی اور وہ کب جان سکتی تھی کہ اب نہ کبھی اسے ماں کی گود میسر آئے گی‘ نہ باپ کی شفقت‘ خود پر گرنے والی اس قیامت سے بے خبر آیا کی گود میں وہ بے خبر سو رہی تھی‘ اس وقت بھابی بیگم دروازے میں آکر بولیں۔
’’آیا بچی کو ڈرائنگ روم میں لے آئو‘ اس کے نانا اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ آیا نے چادر کے پلو سے اپنی آنکھیں صاف کیں اور رابعہ کو گود میں لیے ہوئے ان کے پیچھے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو اسے دیکھتے ہی نانا نے اپنے بازو پھیلا دیئے‘ آیا بچی کو ان کی گود میں دے کر خود ایک طرف کھڑی ہوگئی۔
’’اسے میں لے جائوں۔‘‘ بچی کو سینے میں بھینچ کر وہ بھائی جان سے پوچھنے لگے اور ان سے پہلے ہی بھابی بیگم بول پڑیں۔
’’بالک بھی نہیں یہ ہماری بچی ہے‘ ہمارے پاس رہے گی۔‘‘ نانا فوراً کچھ نہیں بولے۔ بچی کو پیار کرنے میں لگ گئے‘ کبھی اس کی پیشانی چومتے‘ کبھی گال اور کبھی ہاتھوں کو‘ ہونٹوں اور آنکھوں سے لگاتے پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے بھابی بیگم کی گود میں دیتے ہوئے بولے۔
’’یہ یتیم ہی نہیں مسکین بھی ہے‘ اس کا خیال رکھنا‘ اللہ بڑا اجر دے گا۔‘‘
’’ہم سے زیادہ کون خیال رکھے گا۔‘‘ بھائی جان فوراً بول پڑے۔ ’’آپ بالکل فکر نہ کریں‘ یہ میرا اپنا خون ہے۔‘‘
’’ہاں میاں‘ اب تم ہی اس کے باپ ہو۔‘‘
’’بے شک اور میں اسے یتیم کا احساس نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ بھابی جان نے نانا کو یقین دلا کر رخصت کردیا تھا۔
ظ… ژظژ…ظ
پھر زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ وہ گھر جس کی پیشانی پر شہزاد احمد کا نام جگمگاتا تھا وہاں بہزاد احمد کا نام لکھ دیا گیا جو شہزاد کی زندگی میں اور اس کے بے حد اصرار کے باوجود اس کے بزنس میں شریک نہیں ہوئے تھے‘ وہ اب بلاشرکت غیرے اس کے مالک بن بیٹھے اور گھر کے اندر سیاہ وسفید کی مالک سلمیٰ بیگم تھیں‘ وہی سلمیٰ بیگم جو شہزاد سے لیتے ہوئے بھی اپنا ہاتھ اوپر رکھنے کا فن جانتی تھیں‘ اور یہی نہیں بلکہ انہیں اپنے جذبات واحساسات چھپانے میں بھی کمال حاصل تھا‘ جبھی تو نہ کبھی آسیہ جان سکی کہ وہ اس کے خلاف دل میں کتنی نفرت وکدورت رکھتی ہیں اور نہ ہی کبھی شہزاد کو شبہ ہوا‘ ہوسکتا ہے وہ کبھی نہ کبھی ان کی اصلیت جان لیتے لیکن زندگی نے مہلت ہی نہیں دی اور اب سلمیٰ بیگم کے وہ سارے منفی جذبے جو ان دونوں کے لیے تھے‘وہ آپ ہی آپ اس ننھی سی جان کی طرف منتقل ہوگئے‘ جس کے نانا کے سامنے انہوں نے بڑے دھڑلے سے اس کی سرپرستی کا دعویٰ کیا تھا۔
اس گھر میں آتے ہی انہوں نے اپنی گزشتہ زندگی کو خیرباد کہہ دیاتھا‘ خود ان کے اطوار ایسے تھے کہ کوئی کہہ نہیں سکتاتھا کہ کبھی انہوں نے غربت کا مزا بھی چکھا ہوگا۔بلکہ یوں لگتاتھا جیسے ہمیشہ سے اسی ٹھاٹ باٹ کی عادی ہوں‘ آٹھ سالہ ابرار جو پیدائشی معذور تھا‘ اس کے لیے گھر پر ٹیوٹر کاانتظام کردیااور چھ سالہ رخشندہ کو سرکاری اسکول سے نکال کر شہر کے بہترین اسکول میں داخل کردیا‘ ساتھ ہی فرخندہ کوبھی مونٹیسوری میں ڈال دیا اور وہ جو صحیح معنوں میں اس گھر کی مالک تھی‘ وہ آیا کے رحم وکرم پر تھی ‘ یہ بھی غنیمت تھا کہ آیا اچھی عورت تھی‘ ناصرف اس کابے حد خیال رکھتی بلکہ اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر دل ہی دل میں کڑھتی بھی تھی اوروہ اس کے سوا کچھ کرہی نہیں سکتی تھی کیونکہ بہرحال ملازمہ تھی اور اچھی طرح جانتی تھی کہ کسی معمولی سی بات پر بھی ملازمت سے نکالی جاسکتی ہے پھراسے اپنی ملازمت سے زیادہ رابعہ کا خیال تھا کیونکہ ملازمت تو اسے کہیں بھی مل سکتی تھی لیکن وہ رابعہ کونہیں چھوڑنا چاہتی تھی‘ جس کا اب اس دنیا میں کوئی نہیں رہاتھا۔
اس کی پیدئش پر ہی شہزاد اسے لے کر آیا تھا اور وہ شہزاد اور آسیہ کے حسن سلوک کو بھولی نہیں تھی‘ دو ماہ بہت زیادہ نہیں ہوتے لیکن وہ اتنے عرصے میں ہی جان گئی تھی کہ دونوں میاںبیوی کتنے ہمدرد اور خدا ترس ہیں اور ان دونوں کی اپنی بڑے بھائی اور بھاوج کے لیے جو جذبات اور سوچ تھی‘ اس سے بھی وہ آگاہ تھی جب ہی تو اب ان کا رابعہ کے ساتھ جو رویہ تھا‘ وہ اسے بے حد دکھ پہنچاتا تھا۔ سلمیٰ بیگم دودھ کا ڈبہ خیرات کے سے انداز میں اس کے سامنے ڈالتی تھیں اور ختم ہونے پر باقاعدہ جرح کرتیں کہ اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیااور یہ کہ اسے کم پلایا کرو وغیرہ وغیرہ۔
بہرحال وقت خواہ کیسا بھی ہو‘ گزر ہی جاتا ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ جو باتیں شروع میں بہت تکلیف دیتی ہیں‘ رفتہ رفتہ انسان ان کاعادی ہوجاتا ہے اور پھرایک وقت ایسابھی آتا ہے کہ وہی تکلیف دہ باتیں روزانہ کامعمول لگنے لگتی ہیں۔ آیا بھی شروع میں بہت کڑھتی اورچھپ چھپ کر روتی بھی تھی لیکن پھر ان حالات کی عادی ہوگئی۔
رابعہ ابھی پوری ایک سال کی نہیں ہوئی تھی کہ سلمیٰ بیگم کے ہاں چوتھے بچے کی آمد ہوئی اور سلمیٰ بیگم جنہیں اولاد نرینہ کی شدید خواہش تھی‘ گو کہ پہلوٹھی کی اولاد ابرار تھا لیکن اس کی معذوری سے غالباً وہ مایوس تھیں اوراب صحت مند فراز کو پاکر وہ بے حد خوش تھیں اور اس میں اس حد تک مگن کہ اپنی دوسری اولادوں سے قدرے اور رابعہ سے بالکل ہی غافل ہوگئیں اور ان کی یہ غفلت آیا کو بہت غنیمت لگی کیونکہ پہلے تووہ ہر بات ہر کام میں ٹوکنا اپنا فرض سمجھتی تھیں اور اب یوں ہونے لگا کہ دن میں ایک آدھ بار ہی ان سے سامنا ہوتا اوراس وقت بھی آیا کترا کرنکل جاتی۔
ظ… ژظژ…ظ
وقت کچھ اور آگے سرکا‘ رابعہ نے بولنا شروع کیا تو آیا کو اماں کہنے لگی اور وہ جو کہتے ہیں کہ پیدا کرنے والی سے پالنے والی کا حق بھی زیادہ اور محبت بھی تو آیا سچ مچ اس کی اماں بن گئی یوں بھی بچہ صرف محبت کی زبان سمجھتا ہے۔ وہ کسی وقت کھیلتی ہوئی فرخندہ‘ رخشندہ کی طرف نکل جاتی تو دونوں بہنیں ڈانٹ کر بھگا دیتیں۔
ابرار کا مزاج الگ تھا‘ غالباً اپنی معذوری کے باعث کچھ چڑچڑا ہوگیا تھا‘ کبھی اس پر خاموشی کے دورے پڑتے اور کبھی چیخنے چلانے لگتا تھا‘ گوکہ شکلاً اچھا تھا لیکن سنجیدگی کے ساتھ کچھ ایسی سختی طاری کیے رہتا کہ وہ اسے دیکھ کر ہی سہم جاتی تھی‘ اسی طرح سلمیٰ بیگم سے بھی دور بھاگتی تھی اور ظاہر ہے ایسے حالات میں ایک آیا ہی تھی جن کی آغوش میں سمٹ کر وہ خود کو محفوظ تصور کرتی اور سارا دن بھی انہی کے ساتھ لگی رہتی تھی پھر اسکول جانے کی عمر کو پہنچی تو گھر سے قریب جو اسکول تھا‘ وہاں سلمیٰ بیگم نے اسے داخل کروا دیا اور پہلے سلمیٰ بیگم کا خیال تھا کہ جیسے ہی وہ اپنے ہاتھ پائوں والی ہوگی‘ آیا کی چھٹی کردیں گی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ آیا کو اپنی ماں سمجھنے لگی ہے تو انہوں نے اپنا ارادہ ملتوی کردیا۔
غالباً ان کے پیش نظر یہ بات تھی کہ اس طرح ان کی اولاد کے مقابلے میں وہ ہمیشہ احساس کمتری کا شکار رہے گی اور وہ واقعی احساس کمتری کا شکار رہی۔ اسی گھر میں اب بہزاد احمد بھی تھے جنہوں نے دعویٰ سے کہا تھا کہ وہ ان کا اپنا خون ہے اور یہ کہ وہ اسے کبھی یتیمی کا احساس نہیں ہونے دیں گے تو بڑے آدمی بن کر وہ اس سے تو کیا گھر سے ہی خاصے لاتعلق ہوگئے تھے۔ غالباً اس گھر میں آتے ہی ان کے اور سلمیٰ بیگم کے درمیان یہ طے ہوگیا تھا کہ گھر سے باہر کے معاملات وہ دیکھیں گے اور اندر کی ذمہ داری سلمیٰ بیگم کی ہوگی اور مرد یوں بھی تھوڑا بہت خود غرض ضرور ہوتا ہے یعنی اپنے لیے آسانیاں ڈھونڈتا ہے‘ خصوصاً گھر کے اندر کے بکھیڑوں سے خود کو دور ہی رکھنا چاہتا ہے اور بہزاد احمد بھی گھریلو معاملات سے یا تو واقعی بے خبر رہتے تھے یا قصداً انجان بنے رہتے تھے۔ ہفتے میں ایک آدھ دن ہی رات کے کھانے پر سب بچوں کے ساتھ شریک ہوتے اور ان میں انہیں رابعہ بھی نظر آجاتی تھی‘ کبھی موڈ میں ہوتے تو سب کے ساتھ ساتھ اس کا حال احوال بھی پوچھ لیتے ورنہ زیادہ تر خاموش ہی رہتے تھے۔ یونہی وقت کا کارواں اپنے ساتھ کتنے ماہ وسال سمیٹ لے گیا۔
…٭٭٭…
سلمیٰ بیگم ہر طرف سے مطمئن ہونے کے بعد آخر میں رخشی کے کمرے میں آئیں تو اسے اطمینان سے لیٹے دیکھ کر خفگی سے بولیں۔
’’تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟‘‘
’’کیوں… میرا مطلب ہے کہیں جانا ہے کیا؟‘‘
’’انجان مت بنو رخشی‘ میں نے صبح ہی تمہیں بتایا تھا کہ آج تمہاری نجمہ آنٹی کچھ مہمانوں کے ساتھ آرہی ہیں۔‘‘
’’ارے ہاں‘ آپ نے بتایا تو تھا۔‘‘
’’پھر تم تیار کیوں نہیں ہوئیں؟‘‘
’’اس لیے کے میرا مہمانوں کے سامنے جانے کا بالکل موڈ نہیں۔‘‘
’’کیسی باتیں کرتی ہو‘ وہ خاص طور سے تمہیں دیکھنے آرہے ہیں۔‘‘ سلمیٰ بیگم کے تیز لہجے کا بھی اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اسی اطمینان سے اچھا کہہ کر رہ گئی تب سلمیٰ بیگم نرم پڑتے ہوئے بولیں۔
’’دیکھو رخشی‘ اب تم بچی نہیں ہو جو ان باتوں کو سمجھ نہ سکو‘ نجمہ بہت اچھا پروپوزل لے کر آرہی ہے‘ تم میرے لیے پریشانی مت کھڑی کرو اور ایک تم ہی نہیں ہو‘ تمہارے بعد فرحی بھی ہے جو اب دیکھنے میں تم سے بڑی نظر آنے لگی ہے۔‘‘
’’تو آپ پہلے اس کی شادی کردیں۔‘‘
’’نہیں پہلے میں تمہاری کروں گی‘ چلو اٹھ کر حلیہ ٹھیک کرو اپنا‘ میرے پاس فضول بحث کے لیے وقت نہیں ہے۔‘‘ پھر جاتے جاتے بولیں۔ ’’اور سنو مہمانوں کے سامنے ذرا خاموش ہی رہنا۔‘‘
’’فار گاڈ سیک امی۔‘‘ وہ چیخی۔ ’’یعنی اب آپ مجھے ایٹی کیٹس سکھائیں گی۔‘‘
’’اسی لیے میں نے خاموش رہنے کے لیے کہا ہے کہ تم بہت جلدی غصے میں آجاتی ہو۔‘‘
’’غلط بات پر غصہ نہیں آئے گا کیا؟‘‘
’’اچھا چپ رہو‘ میرا خیال ہے وہ لوگ آگئے ہیں‘ تم جلدی سے تیار ہوکر آئو۔‘‘ سلمیٰ بیگم عجلت میں بات ختم کرکے اس کے کمرے سے نکل آئیں تو سامنے سے نجمہ تیز قدموں سے آرہی تھی‘ اشارے سے مہمانوں کی آمد کا بتایا اور دونوں بہنیں ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئیں پھر اندر موجود خواتین کو دیکھ کر ہی سلمیٰ بیگم خاصی مرعوب ہوئیں‘ ویسے ان کے بارے میں نجمہ نے پہلے سے ہی انہیں بتادیا تھا کہ ان کی بہ نسبت وہ بہت اونچی فیملی ہے اور وہ اپنی بیٹیوں کے لیے ایسے ہی گھروں کی خواہش مند بھی تھیں۔ اس لیے ان کے سامنے بچھی جارہی تھیں اور ابھی ابتدائی رسمی بات چیت کا مرحلہ ہی طے ہوا تھا کہ ایک کومل سی لڑکی وہاں کی صورت حال سے یکسر انجان ہاتھ میں کتاب لیے اندر چلی آئی‘ مہمان خواتین نے دلچسپی سے اسے دیکھا جبکہ نجمہ اور سلمیٰ بیگم کی تیوریوں پر بل پڑگئے‘ بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے اٹھا کر کہیں دور پھینک دیں‘ بہت کوشش سے لہجے پر قابو پاکر سلمیٰ بیگم نے اس سے پوچھا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’رخشی آپا کہاں ہیں؟‘‘ وہ خود پر اتنی نظریں محسوس کرکے گھبرا سی گئی۔
’’اپنے کمرے میں‘ جائو اسے یہاں بھیج دو۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ وہیں سے پلٹ گئی تو مہمان خاتون نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’یہ بھی آپ کی بیٹی ہے؟‘‘
’’میری ہی سمجھیں۔‘‘ سلمیٰ بیگم ان کا اشتیاق سمجھتے ہوئے سنبھل کر بولیں۔
’’یہ میرے دیور کی بیٹی ہے‘ اس کی پیدائش کے دو ماہ بعد ہی میرے دیور اور دیورانی ایک حادثے کا شکار ہوگئے پھر ظاہر ہے ہم ہی اس کے ماں باپ بن گئے اور سچ پوچھیں تو یہ مجھے اپنی اولاد سے زیادہ عزیز ہے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ نجمہ بیگم ان کی تائید کرتے ہوئے بولیں۔ ’’ایک پل کے لیے آپا بیگم اسے خود سے جدا نہیں کرسکتیں‘ ابھی دو ماہ پہلے ہی تو اپنے بیٹے کے ساتھ اس کی منگنی کی ہے‘ ان کا بس چلے تو فوراً شادی بھی کردیں لیکن…‘‘
’’ابھی چھوٹی ہے۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے بات اچک لی۔ ’’ابھی تو میٹرک کا امتحان دے رہی ہے۔ ان شاء اللہ بی اے کرے گی تو پھر شادی کروں گی‘ جائو نجمہ رخشی کو بلائو۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ نجمہ فوراً اٹھ کر چلی گئیں اور کچھ دیر بعد رخشی کو ساتھ لے کر آئیں تو دونوں خواتین اس کی طرف متوجہ ہوگئیں‘ رخشی اچھی صورت شکل کی مالک تھی‘ دراز قد اور اسمارٹ‘ رنگ بھی گورا تھا۔ اس کے باوجود اگر اسے رابعہ کے ساتھ کھڑا کیا جاتا تو اس کے حصے میں سرسری نظر ہی آتی تھی اور گو کہ اس وقت رابعہ اس کے ساتھ نہیں تھی لیکن دیکھنے والی آنکھوں نے کچھ دیر پہلے اسے دیکھا تھا‘ اس لیے اب اس کے حصے میں سرسری نظر ہی آئی‘ جس میں ناپسندیدگی تو نہیں تھی اور پسندیدگی کا اظہار بھی فوراً نہیں ہوسکا‘ جبکہ سلمیٰ بیگم چاہ رہی تھیں کہ اسی نشست میں ابتدائی مراحل طے ہوجائیں لیکن وہ خواتین کوئی بھی بات چھیڑے بغیر دوبارہ آنے کا کہہ کر چلی گئیں۔
ظ… ژظژ…ظ
’’یہ سب اس منحوس رابعہ کی وجہ سے ہوا ہے‘ ان کے جاتے ہی سلمیٰ بیگم پھٹ پڑیں۔ ’’آخر وہ یہاں لینے کیا آئی تھی؟ بلائو اس نامراد کو‘ میں پوچھتی ہوں۔‘‘
’’دفع کریں۔‘‘ نجمہ کے انداز میں بیزاری تھی۔
’’کیسے دفع کروں‘ اس کی ماں نے تمہارا حق مارا اور یہ…‘‘
’’چھوڑیں آپا بیگم میرا حق مار کر کیا پایا اس نے؟ یہ بھی کچھ نہیں پاسکے گی۔‘‘ قدرے توقف کے بعد بولیں۔
’’میرا خیال ہے آپ اسے اپنے پاس رکھ کر غلطی کررہی ہیں اگر اس کے نانا کے پاس بھجوادیں تو…‘‘
’’نہیں۔‘‘ ان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی سلمیٰ بیگم بول پڑیں۔ ’’اگر اسے نانا کے پاس بھجوانا ہوتا تو اپنے پاس رکھتی ہی کیوں؟‘‘
’’کیا مطلب‘ کیا اسے کسی مقصد کے تحت یہاں رکھا ہے؟‘‘
’’مقصد کیا ہونا ہے بے وقوف‘ کیا تم نہیں جانتیں کہ یہ گھر‘ روپیہ پیسہ سب اس کے باپ کا تھا اگر یہ کسی اور جگہ رہتی تو لوگ اسے بہکاتے کہ باپ کے بعد وارث اور حق دار تم ہو۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ نجمہ نے ایک پل میں ساری بات سمجھ کر ہاں کی صورت گہری سانس کھینچی۔ پھر پوچھنے لگی۔
’’اسے اپنے ماں باپ کے بارے میں معلوم بھی ہے یا نہیں؟‘‘
’’نہیں‘ وہ آیا کو ہی اپنی ماں سمجھتی ہے۔‘‘
’’ہوسکتا ہے‘ آیا نے اسے بتایا ہو یا آپ نے آیا کو منع کیا ہے؟‘‘
’’نہیں‘ مجھے اسے منع کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ وہ بے وقوف عورت اس کی محبت اور ہمدردی میں بتانے سے گریز کرتی ہے کہ کہیں اسے دکھ نہ ہو۔‘‘ پھر استہزائیہ انداز میں ہنس کر بولی۔
’’ایک بار مجھے سمجھا رہی تھی کہ بی بی! رابعہ کو مت بتائیے گا میں اس کی ماں نہیں ہوں ورنہ بے چاری کو بہت دکھ ہوگا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ نجمہ زو رسے ہنسی۔ ’’تب سے آپ اور بے فکر ہوگئی ہوں گی۔‘‘
’’ہاں لیکن اب کی بات کرو‘ یہ خواتین دوبارہ آئیں گی یا نہیں۔‘‘
’’ضرور آئیں گی۔‘‘ نجمہ کے اتنے یقین سے کہنے پر سلمٰی بیگم پر سوچ انداز میں انہیں دیکھتی رہ گئیں۔
ظ… ژظژ…ظ
کمرے کے سامنے بنا چھوٹا سا چوکور برآمدہ شروع ہی سے اس کی پسندیدہ جگہ تھی‘ جب وہ چھوٹی سی تھی تو یہیں بیٹھ کر کھیلا کرتی تھی‘ ذرا بڑی ہوئی تو ستون کے پاس کھڑی ہوکر رخشی‘ فرحی اور فراز کو لان میں کھیلتے اور ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھتی تھی‘ اور اب جب بھی فارغ ہوتی تو یہیں آبیٹھتی تھی‘ ابھی میٹرک کے امتحانوں سے فارغ ہوئی تھی‘ کچی عمر کچا ذہن اور سوچوں کی پرواز بھی بس اسی حد تک تھی کہ…
’’بے چارے ابرار بھائی وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے تھک جاتے ہوں گے‘ جبھی تو اتنا غصہ کرتے ہیں‘ پتہ نہیں اللہ میاں نے انہیں ایسا کیوں بنایا ہے۔ رخشی آپا کتنی اچھی لگتی ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے دیکھتے ہی منہ پھیر لیتی ہیں‘ شاید میں انہیں اچھی نہیں لگتی۔ فرحی باجی تو بس چپ ہی رہتی ہیں۔ اور فراز وہ جھرجھری لیتی‘ کتنا بدتمیز ہے‘ کسی کا لحاظ نہیں کرتا‘ تائی جی بھی اس کے سامنے خاموش ہوجاتی ہیں‘ میں تائی جی سے کہوں گی کہ… نہیں میں ان سے کچھ نہیں کہہ سکتی وہ تو…!!‘‘ رابعہ! اماں کی آواز پر وہ چونک کر دیکھنے لگی۔
’’بیٹا دونوں وقت مل رہے ہیں‘ آئو اندر آجائو‘ وہ چپ چاپ اٹھ کر اندر چلی گئی‘ اماں نماز کے لیے کھڑی ہورہی تھیں وہ دوسرے دروازے سے ٹی وی لائونج میں آئی تو رخشی جانے کس بات پر تائی جی سے الجھتی ہوئی کہہ رہی تھی۔
’’آپ چند دنوں کی بات کرتی ہیں‘ میں چند لمحوں کے لیے بھی ایسی پابندیاں برداشت نہیں کرسکتی‘ کہیں جائو‘ آئو نہیں‘ یہ نہ کرو‘ وہ نہ کرو آخر کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ جہاں تمہاری بات چل رہی ہے‘ میں نہیں جانتی کہ وہ لوگ کس خیال کے ہیں‘ پتہ نہیں تمہارا آزادانہ گھومنا پھرنا پسند کریں یا نہیں۔‘‘ تائی جی نے رسان سے سمجھانا چاہا لیکن وہ چیخ پڑی۔
’’کیسی باتیں کرتی ہیں امی‘ آپ تو کہہ رہی تھیں کہ وہ بہت اونچی فیملی کے ایڈوانس لوگ ہیں پھر کیوں نہیں پسند کریں گے۔‘‘
’’سمجھنے کی کوشش کرو رخشی‘ ایڈوانس لوگوں کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔‘‘
’’بس رہنے دیں‘ مجھے ان کی قسمیں جاننے کا کوئی شوق نہیں ہے البتہ آپ اچھی طرح جان لیں کہ مجھے بیک ورڈ لوگ بالکل پسند نہیں۔‘‘ اسی وقت فراز سیٹی پر کوئی دھن بجاتا ہوا اس طرف آیا اور اسی مگن انداز میں اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا کہ رخشی کی اونچی آواز سن کر رک گیا پھر ایک دم اس کی طرف پلٹ کر بولا۔
’’یہ تم کیا ہر وقت چلاتی رہتی ہو‘ تمہیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔‘‘
’’تمہیں!‘‘ وہ اس پرغرائی۔ ’’تمہیں تمیز ہے‘ پورے سات سال چھوٹے ہو مجھ سے۔ کبھی آپا یا باجی کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ مخاطب بھی کرتے ہو تم کرکے۔‘‘
’’تم میں بڑی بہنوں والی کوئی بات ہو‘ تب تو آپا‘ باجی کہوں۔‘‘
’’شٹ اپ‘ میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی۔‘‘
’’مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے۔‘‘
’’کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو‘ رخشی تم چپ ہوجائو۔‘‘ تائی جی درمیان میں آکر بولیں‘ تو رخشی کا پارہ مزید چڑھ گیا۔
’’مجھے نہیں‘ اسے چپ کرائیں وہ چھوٹا ہے ورنہ میں ابو کے سامنے اس کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دوں گی۔‘‘
’’کیا ہے میرا کچا چٹھا‘ ذرا بتائو تو۔‘‘
’’میں سب جانتی ہوں‘ کسی بھول میں مت رہنا۔‘‘
’’تم بھی کسی بھول میں مت رہنا۔‘‘ وہ برابر سے جواب دے کر اپنے کمرے کی طرف پلٹا ہی تھا کہ دو قدم کے فاصلے پر وہ کھڑی نظر آئی‘ اس چیخ وپکار سے خاصی سہمی ہوئی تھی اور راہ فرار ڈھونڈ رہی تھی کہ وہ جاتے جاتے اس پر دھاڑا۔
’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ اس کے منہ سے آواز نہیں نکلی‘ بس نفی میں سر ہلا سکی۔
’’جائو اپنا کام کرو‘ تماشا دیکھنے آجاتی ہو۔‘‘ وہ جلدی سے دوبارہ اپنے کمرے میں آگئی‘ اماں نماز کے بعد غالباً کچن میں چلی گئی تھیں‘ وہ ان کے پیچھے جانے کی ہمت نہیں کرسکی اور وہیں بیٹھ گئی‘ اسے گھر کے اندر ہونے والی ایسی لڑائیوں پر بہت دکھ ہوتا تھا‘ گو کہ وہ بچپن سے یہی ماحول دیکھتی آئی تھی اور یہ بھی کہ گھر کے افراد اسے کبھی اپنے ساتھ یا اپنے کسی معاملے میں شریک نہیں کرتے تھے پھر بھی ان کے لڑائی جھگڑے پر وہ یہ سوچ کر الگ نہیں بیٹھ سکتی تھی کہ یہ ان کا معاملہ ہے‘ وہ اسے اپنا سمجھیں نہ سمجھیں لیکن وہ سب کو اپنا سمجھتی تھی‘ رخشی کا اسے دیکھ کر ناگواری سے منہ موڑنا‘ ابرار بھائی کا بات بے بات ڈانٹنا اور فراز کی حددرجہ بدتمیزی‘ بس کچھ دیر کو ہی اسے رلاتی تھی‘ اس کے بعد وہ یہی سوچتی کہ صرف میرے ساتھ ہی تو ان کارویہ ایسا نہیں ہے‘ ان سب کا آپس میں بھی یہی رویہ ہے اماں کچن سے فارغ ہوکر آئیں تو وہ گم سم بیٹھی تھی۔
’’کیا سوچ رہی ہے میری بیٹی؟‘‘ انہوں نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑ کر پوچھا تو وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی۔
’’میں سوچ رہی ہوں اماں کہ یہ فراز اتنا بدتمیز کیوں ہے؟‘‘
’’تم سے کچھ کہا اس نے؟‘‘
’’نہیں‘ وہ رخشی آپا کے ساتھ جھگڑ رہا تھا‘ اماں! رخشی آپا اس سے کتنی بڑی ہیں اور وہ تو مجھ سے بھی چھوٹا ہے۔‘‘
’’ہاں لیکن ہم کیا کرسکتے ہیں‘ یہ تو اس کی ماں کو چاہیے کہ اسے سمجھائیں اور اب کیا سمجھے گا‘ شروع ہی سے سر چڑھا رکھا ہے۔‘‘
’’آپ کیوں نہیں سمجھاتیں اسے؟‘‘ وہ سادگی سے بولی۔
’’میں۔‘‘ اماں افسردگی سے مسکرائیں۔ ’’بیٹا میں کون ہوتی ہوں ان کے معاملے میں بولنے والی‘ میری حیثیت ہی کیا ہے؟‘‘
’’کیا ہے ہماری حیثیت؟‘‘
’’میں اپنی حیثیت کی بات کررہی ہوں‘ تم تو بہت کچھ ہو۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’تم نہیں سمجھوگی اور میں تمہیں سمجھا بھی نہیں سکتی۔‘‘ پھر اس کا دھیان بٹانے کی غرض سے بات بدلتے ہوئے بولیں۔
’’خیر یہ بتائو تمہاری پڑھائی ختم ہوگئی کیا؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘
’’پھر تم اسکول کیوں نہیں جاتیں؟‘‘
’’اسکول کی پڑھائی ختم ہوگئی‘ جب رزلٹ آئے گا پھر کالج جائوں گی۔‘‘
’’اچھا چلو‘ اب اٹھو تمہارے تایا جی آگئے ہوں گے‘ کھانا لگا دیں۔‘‘
’’چلیں۔‘‘ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہوئی لیکن پھر ایک دم رک کر بولی۔
’’اماں! یہ سارے کام آپ ہی کیوں کرتی ہیں؟‘‘
’’بس عادت سی ہوگئی ہے۔‘‘ اماں کہتی ہوئی آگے بڑھ گئیں تو وہ بھی ان کے پیچھے چل دی۔
ظ… ژظژ…ظ
پھر کتنے بہت سارے دن گزر گئے‘ اس کا رزلٹ آیا‘ وہ فرسٹ ڈویژن سے پاس ہوئی تھی‘ پہلے اماں کے گلے لگ کر انہیں خوش خبری سنائی پھر اخبار ہاتھ میں لیے بھاگتی ہوئی رخشی کے پاس جارہی تھی کہ راستے میں ابرار بھائی نے روک لیا۔
’’کیا تمہارے پیچھے کسی نے کتا چھوڑ دیا ہے؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘
’’پھر اتنی بدحواس ہوکر کیوں بھاگ رہی ہو؟‘‘
’’وہ… یہ…‘‘ وہ ہکلائی اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو اخبار ان کے سامنے کردیا۔
’’کیا کہیں ایٹم بم گرا ہے؟‘‘ وہ اخبار پر سرسری نظر ڈال کر بولے۔
’’میرا رزلٹ۔‘‘
’’رزلٹ…!‘‘ خاصی مضحکہ خیز ہنسی تھی۔ ’’پاس ہوگئی ہو؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ چیئر کی بیک سے سر ٹکا کر باقاعدہ اس کا جائزہ لینے لگے تو وہ گھبرا کر بولی۔
’’میں جائوں؟‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’رخشی آپا کے پاس۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ پھر خود ہی بولے۔ ’’اچھا اسے اپنا رزلٹ دکھائوگی‘ ضرور دکھائو لیکن اسے کیا دلچسپی ہوگی بلکہ یہاں کسی کو بھی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘
’’شاید آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘ اس کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا‘ بہت خاموشی سے اخبار ان کے ہاتھ سے لے کر وہیں سے واپس پلٹ آئی اور ہمیشہ وہ بہت تھوڑی دیر کے لیے آزردہ ہوتی تھی لیکن آج صبح سے شام ہوگئی پھر رات لیکن اس کی آزردگئی سمٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور جب کوئی بات بہت شدت سے محسوس کی جائے تو سوچنے کا انداز بھی قدرے بدل جاتا ہے بلکہ بہت ساری باتیں لاشعور سے نکل کر شعور پر دستک د ینے لگتی ہیں۔
’’اماں! میں کتنی بڑی تھی جب میرے ابو کا انتقال ہوا؟‘‘ شاید پہلے بھی کئی بار اس نے پوچھا تھا لیکن آج اس کا انداز گہری سوچ لیے ہوئے تھا‘ جیسے اس کے بعد بھی بہت کچھ جاننا چاہتی ہے۔
’’تم دو مہینے کی تھیں۔‘‘
’’ابو کے بعد آپ تایاجی کے گھر کیوں آگئیں؟ میرا مطلب ہے‘ کیا کوئی اور نہیں تھا‘ آپ کے اماں‘ ابا یا کوئی اور۔‘‘ اماں نے چونک کر اسے دیکھا پھر سوچ کر بولیں۔
’’تمہارے والد یہیں رہتے تھے‘ ان کے بعد تمہارے نانا لینے کے لیے آئے تو لیکن…‘‘
’’نانا اب کہاں ہیں؟‘‘
’’پتہ نہیں۔‘‘ اماں کے انداز میں بے بسی تھی۔
’’آپ کو نہیں پتہ۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’کیا کرتی پتہ رکھ کے‘ جب یہیں رہنا تھا۔‘‘ اماں کی بالکل سمجھ میں نہیں آرہا تھا اسے کیسے مطمئن کریں‘ بے حد الجھ کر بولیں۔ ’’یہ آج تمہیں نانا کیسے یاد آگئے؟‘‘
’’بس یونہی خیال آگیا تھا‘ کیا آپ کو یاد نہیں آتے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ اماں خاموش ہوکر کوئی دوسری بات چھیڑنے کی سوچ رہی تھیں کہ ٹی وی لائونج سے ابرار بھائی کے چلانے کی آواز آنے لگی۔
’’یہ توابرار بھائی ہیں۔‘‘ وہ ادھر متوجہ ہوگئی۔ ’’پتہ نہیں کس بات پر چلا رہے ہیں۔ میں دیکھوں۔‘‘
’’نہیں تم مت جائو‘ خوامخواہ تم پر بھی بگڑے گا‘ چلو میں لائٹ بند کررہی ہوں سو جائو۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اماں نے لائٹ آف کردی تو اس نے تکیے پر سر رکھ لیا‘ لیکن نیند کوسوں دور تھی۔
صبح ناشتے پر بھی ابرار بھائی کا موڈ خراب تھا اور جب وہ بولے تب اس کی سمجھ میں آیا کہ وہ کس بات پر بگڑ رہے ہیں‘ فراز نے اس کے ساتھ ہی میٹرک کا امتحان دیا تھا اور وہ فیل ہوگیا تھا‘ ابرار بھائی تایا جی کے سامنے اسے ڈانٹتے ہوئے کہنے لگے۔
’’سارا دن آوارہ لڑکوں کے ساتھ پھرتے رہتے ہو‘ کبھی میں نے تمہیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا‘ یاد رکھو یہ لڑکے کبھی تمہارے کام نہیں آئیں گے جو صبح شام پکارنے چلے آتے ہیں‘ مجھے تو تمہاری سرگرمیاں بھی مشکوک لگتی ہیں اور حیرت ہے کہ کسی کو اس گھر میں پروا ہی نہیں۔‘‘ پھر اچانک اس کی طرف رخ موڑ کر اس پر برس پڑے۔
’’اور رابعہ‘ تم یہ مت سمجھنا کہ میٹرک کرلیا ہے تو پڑھائی ختم‘ اب آرام سے گھر بیٹھ جائوگی۔ کون سے کالج میں داخلہ لوگی۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ سٹپٹا کر دیکھنے لگی۔
’’کون سے کالج میں جائوگی؟‘‘ ان کے دھاڑنے پر وہ بری طرح سہم گئی۔
یہی بات وہ آرام سے بھی کہہ سکتے تھے لیکن شاید انہیں چیخ کر بات کرنے کی عادت تھی‘ تب تائی جی کو پتہ نہیں اس کی حالت پر رحم آیا یا اس خیال سے کہ کہیں وہ دوبارہ فراز کی طرف متوجہ نہ ہوجائیں‘ کہنے لگیں۔
’’ابھی تو کل ہی رزلٹ آیا ہے‘ مارکس شیٹ آجائے پھر رخشی کے ساتھ چلی جانا۔‘‘
’’ہاں‘ میں تمہیں داخل کرا آئوں گی۔‘‘ رخشی نے بھی گویا احسان کیا۔
’’تم خود بھی کچھ کرنا سیکھو‘ کب تک دوسروں کی انگلی پکڑ کر چلو گی۔‘‘ اب کے ابرار بھائی نے ذرا نرمی سے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے اٹھ آئی۔
یہ بھی غنیمت تھا کہ ابرار بھائی نے غصے میں ہی سہی بات چھیڑ دی تھی۔ ورنہ اسے خود سے کہنے میں بہت دن لگتے اور ابرار بھائی ایک ہی بار ٹوک کر خاموش نہیں ہوگئے تھے‘ روزانہ سب کے سامنے پوچھتے اور جب تک وہ کالج نہیں جانے لگی‘ انہوں نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔
ظ… ژظژ…ظ
ان دنوں تائی جی رخشی کی شادی کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھیں اور رخشی جو شروع ہی سے بہت آزاد خیال رہی تھی‘ خود پر کسی قسم کی پابندی اس نے کبھی برداشت نہیں کی تھی‘ وہ اب تائی جی کی منت سماجت کرنے پر کسی حد تک دوستوں سے کٹ کر گھر تو بیٹھ گئی تھی لیکن اس کا زیادہ وقت ٹیلی فون کے ساتھ ہی گزرتا‘ کم از کم رابعہ نے جب بھی اسے دیکھا‘ وہ ٹیلی فون پر کسی سے بات کرتی نظر آتی گو کہ رخشی اس سے کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی پھر بھی اسے جب بھی کوئی بات کہنی ہوتی یا کوئی چیز سمجھنا ہوتا اسی کے پاس آتی تھی حالانکہ اس گھر میں فرحی بھی تھی لیکن جانے کیوں اسے فرحی کی خاموشی سے الجھن ہوتی تھی اور ابرار بھائی کے سامنے خود سے جانے کی تو اس نے کبھی ہمت نہیں کی تھی‘ اچانک سامنا ہوجاتا یا وہ بلا لیتے تب بھی اس کی روح فنا ہوجاتی تھی‘ اس وقت بھی انہوں نے پتہ نہیں کس کام سے بلایا تھا‘ وہ بہت ڈرتی ہوئی ان کے کمرے میں آئی۔
’’کیا کررہی تھیں؟‘‘ خلاف معمول اور خلاف توقع انہوں نے بڑے آرام سے پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہوتا ہے‘ سمجھی تم۔‘‘
’’جی…‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے ان کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا کر بولے۔
’’بیٹھ جائو۔‘‘ وہ حیران ہوتی ہوئی بیٹھ گئی تو وہ پھر بہت خاموشی سے اس کا جائزہ لینے لگے۔
’’ابرار بھائی‘ کوئی کام ہے تو بتائیے۔‘‘ وہ ان کی نظروں سے گھبرا کر بولی۔
’’نہیں‘ کوئی کام نہیں۔‘‘
’’پھر میں جائوں؟‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’اماں کچن میں ہیں‘ ان کا ہاتھ بٹائوں گی۔‘‘ وہ کسی طرح جانا چاہ رہی تھی۔
’’پہلے یہ تو سن لو کہ میں نے تمہیں کیوں بلایا ہے؟‘‘ وہ اپنی چیئر اس کے قریب لے آئے اور اس کی سوالیہ نظروں کو دیکھ کر کہنے لگے۔
’’ابھی مجھے شہزاد چچا یعنی تمہارے والد بہت شدت سے یاد آرہے تھے‘ وہ بہت ہمدرد اور نیک انسان تھے‘ ہم سب کا بہت خیال رکھتے تھے‘ مجھ سے کہتے تھے کہ میں بہت جلد تمہیں علاج کے لیے باہر لے جائوں گا اور میں سوچ رہا تھا کہ اگر وہ ہوتے تو شاید میں اسی طرح وہیل چیئر پر نہ بیٹھا ہوتا۔‘‘
’’آپ کو میرے ابو یاد ہیں؟‘‘ وہ حسرت سے پوچھنے لگی۔
’’بیوقوف یاد ہیں جبھی تو ان کی بات کررہا ہوں۔ پتہ ہے اس وقت میں آٹھ سال کا تھا اور مجھے ان کی بہت ساری باتیں یاد ہیں لیکن ان کی شکل ٹھیک سے یاد نہیں‘ شاید تمہاری طرح بلکہ تم ان کی طرح ہو یا شاید اپنی امی کی طرح۔‘‘ وہ اسے یوں دیکھ رہے تھے جیسے اس میں چچا‘ چچی کا عکس ڈھونڈ رہے ہوں۔
’’لیکن ابرار بھائی‘ میں اماں سے تو نہیں ملتی۔‘‘
’’کون اماں؟‘‘ انہوں نے چونک کر پوچھا۔
’’میری اماں۔‘‘ اس کے معصومیت سے کہنے پر انہوں نے گہری سانس لی۔
’’ہاں تم ان سے نہیں ملتی‘ تم ان سے مل بھی کیسے سکتی ہو۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیوں کا جواب تم خود کھوجو‘ رابعہ! خود…‘‘ وہ زور دے کر بولے۔ ’’تم یہ کیوں سمجھتی ہو کہ جو کچھ تمہاری آنکھیں دیکھتی ہیں اور جو کچھ کان سنتے ہیں‘ وہی سچ ہے‘ نہیں کبھی کبھی مجھے تم پر بہت رحم آتا ہے اور کبھی میرا دل چاہتا ہے تمہیں اتنی اذیت دوں کہ تم سسک سسک کر مرجائو۔‘‘
’’ابرار بھائی!‘‘ اس کے ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی اور آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں اتر آئیں‘ جنہیں دیکھتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ گئے۔
’’تم تو یونہی ڈر ڈر کر مر جائوگی‘ دفع ہوجائو میرے سامنے سے۔‘‘
اگر اس میں ہمت ہوتی تو فوراً اٹھ کر بھاگ آتی لیکن اسے اٹھنے میں دیر لگی اور بمشکل تمام خود کو گھسیٹتی ہوئی باہر آئی تو سامنے فرحی کو دیکھ کر بے اختیار اس سے لپٹ گئی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ فرحی نے اسے خود سے الگ کرنا چاہا لیکن اس نے اپنے بازوئوں کا حلقہ مزید تنگ کردیا۔ تب فرحی نے محسوس کیا کہ وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔
’’آئو یہاں بیٹھو۔‘‘ فرحی اسے ساتھ لگائے ہوئے کمرے میں لے آئی اور اسے بٹھا کر پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں سے لگا دیا پھر پوچھنے لگی۔
’’اب بتائو کیا بات ہے؟‘‘
’’ابرار بھائی…!‘‘ وہ اسی قدر کہہ سکی اور فرحی سمجھ کر بولی۔
’’ابرار بھائی نے ڈانٹا ہے‘ ان کی تو عادت ہی ہے‘ تم کیوں گئی تھیں ان کے کمرے میں۔‘‘
’’انہوں نے خود بلایا تھا۔‘‘
’’یعنی بلا کر ڈانٹا لیکن کس بات پر۔‘‘
’’پتہ نہیں‘ پہلے تو ٹھیک طرح سے بات کررہے تھے پھر اچانک…‘‘
’’ہاں انہیں اچانک ہی غصہ آتا ہے اور تم جانتی تو ہو اور تمہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ معذوری کی وجہ سے ان کا مزاج ایسا ہے‘ اس لیے برا نہیں ماننا چاہیے۔‘‘ فرحی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ سادگی سے بولی۔
’’میں نے برا نہیں مانا۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’بس ان کے غصے سے ڈر گئی تھی۔‘‘
’’اچھا چلو‘ اب وہ بلائیں بھی تو مت جانا اور ہاں وہ تمہاری کلاسز شروع ہوگئیں؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’پھر تو تمہیں دل لگا کر پڑھنا چاہیے‘ کسی سبجیکٹ میں مشکل ہو تو مجھ سے پوچھ لینا۔‘‘
’’جی۔‘‘ پہلی بار فرحی نے اس سے اتنی دیر تک بات کی تھی‘ وہ اپنے کمرے میں آکر بھی حیران ہوتی رہی تھی۔
ظ… ژظژ…ظ
اسکول میں بھی اس نے زیادہ سہیلیاں نہیں بنائی تھیں‘ بس ایک فاطمہ سے دوستی تھی اور خیال تھا کالج میں بھی اسی کا ساتھ رہے گا لیکن اپنے والد کی ٹرانسفر کے باعث وہ لاہور چلی گئی اور وہ دوستی کے معاملے میں محتاط تو نہیں تھی‘ بس اس کے اندر ایک جھجک سی تھی اور حالات کا بخشا ہوا احساس کمتری جو وہ خود سے پہل نہیں کرتی تھی‘ کالج آتے ہوئے ایک مہینہ ہوگیا تھا‘ اور اس عرصے میں چند لڑکیوں سے رسمی بات چیت ہوئی تھی‘ وہ بھی اگر پہل ان کی طرف سے ہوتی‘ تب ورنہ وہ الگ تھلگ ہی بیٹھی رہتی‘ اور ابھی وہ پوری طرح کلاس میں ایڈجسٹ بھی نہیں ہوپائی تھی کہ گھر میں رخشی کی شادی کا ہنگامہ جاگ اٹھا‘ اماں کے کہنے پر اس نے کالج سے ہفتے بھر کی چھٹی لے لی تھی۔
اسے یوں بھی رخشی اپنی تمام تر کج ادائیوں کے باوجود اچھی لگتی تھی اور جہاں اس کی شادی کی خوشی تھی وہاں اس کے جانے کا افسوس بھی تھا‘ اس کا دل چاہتا تو وہ سارا وقت اس کے پاس بیٹھی رہی‘ بہانے سے اس کے کمرے میں جاتی‘ لیکن وہ اپنی سہیلیوں میں گھری ہوتی اور اسے دیکھتے ہی بھگا دیتی اور اسے بس کچھ دیر کو ہی دکھ ہوتا پھر خود کو بہلا لیتی‘ بہرحال تائی جی نے اگر رخشی کی شادی بڑے لوگوں میں کی تھی تو انتظام بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر کیا تھا۔ بارات کے استقبال کے لیے وہ چپکے سے فرحی کے پاس آکھڑی ہوئی تھی اور بہت خوش تھی لیکن اس مرحلے سے گزر کر اندر آتے ہوئے اس کی ساری خوشی اس وقت رخصت ہوگئی جب اس نے سنا‘ تائی جی کسی خاتون کے پوچھنے پر اس کے بارے میں کہہ رہی تھیں۔
’’یہ میرے دیور کی بیٹی ہے اور میری ہونے والی بہو۔‘‘ اور اس وقت سے اب تک وہ یہ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی کہ آخر تائی جی نے کس حساب سے یہ بات کہی‘ کبھی ابرار بھائی کا خیال آتا‘ جنہیں دیکھتے ہی اس کی روح فنا ہونے لگتی تھی اور ان کے مزاج سے قطع نظر اس نے سادگی سے سوچا۔
’’ابرار بھائی تو معذور ہیں‘ چل بھی نہیں سکتے پھر بھلا ان کی شادی کیسے ہوسکتی ہے۔‘‘ ان کے بعد فراز کا خیال آیا۔
’’فراز تو مجھ سے چھوٹا ہے اور وہ تو کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرے گا۔‘‘ شاید میں نے غلط سنا تھا‘ آخر میں اس نے خود کو بہلایا کیونکہ اس کا ذہن کسی طرح بھی اس بات کو قبول نہیں کررہا تھا کہ ابرار بھائی یا فراز میں سے کوئی اس سے شادی پر تیار ہوگا اور یہ اس کا احساس کمتری ہی تو تھا کہ ایک بار بھی اسے یہ خیال نہیں آیا کہ وہ کیا چاہتی ہے گویا خود اس کے نزدیک بھی اپنی ذات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
ظ… ژظژ…ظ
پورے ایک ہفتے بعد کالج آئی تب احساس ہوا کہ اس کی کتنی کلاسز اور کتنے اہم لیکچرز مس ہوگئے ہیں‘ ایک لڑکی سے نوٹس مانگے تو اس نے اس شرط پر دیئے کہ وہ یہیں اتار کر واپس کردے گی‘ تب فری پیریڈ میں وہ نوٹس اپنی کاپی پر اتارنے کی غرض سے لائبریری میں آبیٹھی اور ابھی اس نے لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک لڑکی اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
’’اتنے دنوں سے آکیوں نہیں آرہی تھیں؟‘‘
’’ہیں۔‘‘ اس نے چونک کر دیکھا‘ حیران بھی ہوئی کہ کوئی اس کی غیر حاضری کو محسوس بھی کرسکتا ہے۔
’’کیا بیمار تھیں؟‘‘ لڑکی نے پھر پوچھا۔
’’نہیں میری بہن کی شادی تھی۔‘‘
’’اچھا‘ مبارک ہو‘ بلایا نہیں۔‘‘
’’کیسے بلاتی‘ میرا مطلب ہے ہماری جان پہچان ہی نہیں تھی۔‘‘ وہ سادگی سے بولی۔
’’یہ تو ہے‘ خیر جان پہچان میں کیا دیر لگتی ہے‘ میرا نام افشاں ہے اور تمہاری ہی کلاس میں ہوں۔‘‘
’’میں رابعہ ہوں۔‘‘
’’کہاں رہتی ہو؟‘‘ افشاں کچھ زیادہ ہی باتونی تھی یا پھر ایک ہی نشست میں اس کے بارے میں سب جان لینا چاہتی تھی۔
’’میرا گھر یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے‘ شاید تم نے دیکھا بھی ہو‘ یہ سڑک جہاں ختم ہوتی ہے‘ وہاں سے بائیں ہاتھ پر پہلا بنگلہ جس پر بہزاد منزل لکھا ہوا ہے۔‘‘ اس نے بتایا تو افشاں کچھ دیر تک پرسوچ انداز میں اس کی طرف دیکھتی رہی پھر اسی انداز میں بولی۔
’’تم بہزاد منزل میں رہتی ہو‘ وہاں میری ایک کزن بھی ہے۔‘‘
’’کون رخشی آپا؟‘‘
’’میں نام نہیں جانتی لیکن یہ جانتی ہوں کہ وہ شہزاد انکل کی بیٹی ہے۔‘‘ اس کا چونکنا اور حیران ہونا فطری تھا‘ یونہی اسے دیکھے گئی تو وہ پوچھنے لگی۔
’’تم جانتی ہو اسے‘ میرا مطلب ہے شہزاد انکل کی بیٹی کو؟‘‘
’’ہاں میں ہی ان کی بیٹی ہوں۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ ایک دم خوش ہوکر بولی۔ ’’پھر تو تم سے مل کر خوشی ہوئی۔‘‘
’’لیکن تم۔‘‘
’’بھئی میں تمہاری خالہ زاد ہوں۔‘‘
’’خالہ زاد…‘‘ اور اسے یاد آیا‘ اس نے اماں سے نانا کے بارے میں پوچھا تھا‘ گہری سانس لے کر بولی۔
’’کتنی عجیب بات ہے کہ خالہ زاد ہوتے ہوئے بھی ہم پہلے کبھی نہیں ملے اور اس میں غلطی سراسر تمہاری ہے۔‘‘
’’میری کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ مجھے تو سرے سے کچھ معلوم ہی نہیں جبکہ تم جانتی تھیں کہ میں بہزاد منزل میں رہتی ہوں پھر بھی کبھی آئیں نہیں۔‘‘ اس نے اپنی فطری سادگی سے الزام اس کے سر رکھ کر توجیح بھی پیش کردی۔
’’تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن میں کیا کرسکتی تھی‘ جب بڑے ہی آپس میں نہیں ملتے۔‘‘
’’خیر آج تم میرے ساتھ گھر چلنا‘ اماں تم سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔‘‘
’’کون اماں… کیا تم اپنی تائی کو اماں کہتی ہو؟‘‘
’’نہیں میں اپنی اماں کی بات کررہی ہوں‘ میری اماں۔‘‘
’’لیکن…‘‘ افشاں کچھ کہتے کہتے رہ گئی‘ اس لیے نہیں کہ اسے کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی بلکہ اسے اپنی معلومات پر شبہ ہوا کہ شاید وہ ٹھیک طرح سے نہیں جانتی اور ایسا نہ ہو کوئی غلط بات منہ سے نکل جائے۔
’’کیا کہہ رہی تھیں تم؟‘‘ وہ پوچھنے لگی۔
’’میں یہ کہہ رہی تھی کہ پہلے تم میرے ساتھ چلو‘ نانا تمہیں دیکھ کر خوش ہوجائیں گے۔‘‘ اس نے فوراً بات سنبھالی۔
’’ٹھیک ہے‘ میں چلوں گی۔‘‘ وہ تیار ہوگئی۔ ’’پہلے میں یہ نوٹس اتار لوں کیونکہ کاپی ابھی اس لڑکی کو واپس کرنی ہے۔‘‘
’’واپس کردو اور نوٹس مجھ سے لے لینا۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔‘‘ وہ کاپی اٹھا کر کونے میں بیٹھی لڑکی کو دے آئی پھر افشاں کے ساتھ باہر آگئی۔
نانا اسے دیکھ کر خوش تو ہوئے پھر سینے سے لگا کر اتنا روئے کہ وہ پریشان ہوگئی۔ ان کا جھریوں زدہ چہرہ ہاتھوں میں لے کر بولی۔
’’آپ روئیں مت نانا۔ میں اماں سے کہوں گی وہ بھی آپ سے ملنے آئیں گی۔‘‘
’’میری بچی۔‘‘ نانا نے پھر اسے سینے میں بھینچ لیا۔ ’’اب تو مجھے ہی تیری ماں کے پاس جانا ہے۔‘‘
’’نہیں نانا آپ تو چل بھی نہیں سکتے‘ میں ابھی اماں کو لے آتی ہوں۔‘‘ نانا نے چونک کر پوچھا۔
’’کہاں ہے تیری اماں؟‘‘
’’گھر پر ہیں۔‘‘ اس کے اتنے یقین سے کہنے پر کمرے میں سناٹا چھا گیا‘ تب افشاں کی امی اس کے قریب آتے ہوئے بولیں۔
’’شاید تم اپنی تائی کو اماں کہتی ہو ورنہ تمہاری امی اور ابو کا تو ایک ساتھ ہی انتقال ہوگیا تھا۔‘‘
’’جی…!‘‘ غیر یقینی اپنی بے خبری کا دکھ اور جانے کیا کچھ تھا‘ جس نے اس کی زبان گنگ کردی تھی کبھی خالہ کو دیکھتی‘ کبھی نانا کو‘ تب نانا‘ خالہ کو ٹوکتے ہوئے بولے۔
’’تم نے ناحق بچی کو پریشان کیا‘ جب تایا تائی نے اسے اولاد کی طرح سمجھا تو پھر وہی اس کے ماں باپ ہوئے اور شاید اسی لیے تو انہوں نے اسے کبھی ہم سے ملنے نہیں دیا کہ کہیں ہم اسے بتا نہ دیں۔‘‘ پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔
’’بیٹا! وہی تمہارے ماں باپ ہیں۔‘‘ وہ اب بھی بولنے سے قاصر تھی لیکن اس کا ذہن بری طرح الجھ گیا تھا‘ اسے ابرار بھائی کی بات یاد آئی۔
’’تم کیا سمجھتی ہو کہ جو کچھ تمہاری آنکھیں دیکھتی ہیں اور جو کچھ کان سنتے ہیں وہی سچ ہے‘ نہیں۔‘‘
’’تو پھر سچ کیا ہے؟‘‘ اس نے نانا کے ہاتھ تھام لئے۔ ’’مجھے بتائیے نانا میرے امی‘ ابو کے ساتھ کیا ہوا تھا؟‘‘
’’حادثہ! دونوں گاڑی میں جارہے تھے کہ ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اور موقع پر ہی دونوں جاں بحق ہوگئے تھے۔‘‘
’’میں اس وقت کہاں تھی؟‘‘
’’گھر پر آیا کے پاس چھوڑ گئے تھے‘ وہ اچھی عورت تھی‘ کیا اب بھی وہیں ہوتی ہے یا؟‘‘
’’پتہ نہیں۔‘‘ وہ بری طرح ڈسٹرب ہورہی تھی‘ اسی وقت افشاں نے آکر کھانا لگنے کی اطلاع دی تو خالہ اسے اٹھاتے ہوئے بولیں۔
’’چلو پہلے کھانا کھالو۔‘‘
’’مجھے بھوک نہیں خالہ اور میں اب گھر جائوں گی۔‘‘
’’یہ بھی گھر ہی ہے‘ آئو شاباش۔‘‘ وہ ان کے اصرار پر دستر خوان پر آبیٹھی پھر کھانے کے دوران خالہ اسے بتاتی رہیں کہ کئی بار نانا اسے ملنے کے لیے گئے لیکن اس کی تائی جی نے کسی نہ کسی بہانے ٹال دیا‘ اور اپنے بارے میں کہنے لگیں کہ کیونکہ میں ایک سوتیلی بہن تھی‘ اس لیے تمہارے پاس آنے کا صرف سوچ سکی کیونکہ میں دیکھ رہی تھی کہ جب سگے نانا کو مایوس لوٹا دیا جاتا ہے تو میرے ساتھ پتہ نہیں کیا سلوک ہو‘ پھر اس سے پوچھنے لگیں۔
’’تمہارے ساتھ تو سب ٹھیک ٹھاک ہیں ناں؟‘‘
’’جی…‘‘ وہ اسی قدر کہہ سکی پھر کھانے کے بعد وہ نانا کے پاس بیٹھی تو ان کے ساتھ اپنی امی‘ ابو کی باتیں کرتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا‘ اس دوران خالہ کے دوسرے بچے بھی اسکول کالج سے آگئے تھے اور سب ہی غائبانہ طور پر اس سے واقف تھے‘ اس کے تعارف میں خالہ نے اس قدر کہا تھا کہ یہ تمہاری آسیہ خالہ کی بیٹی ہے اور سب بہت خوش ہوکر اس سے ملے تھے۔ دوپہر ڈھل چکی تھی‘ جب ایک دم اسے گھر کا خیال آیا اور یہ بھی کہ وہ بتائے بغیر آئی ہے اور اماں پریشان ہورہی ہوں گی‘ بس اسی وقت جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ نانا نے دوبارہ آنے کے لیے کہا اور پھر ان کے کہنے پر عبید اسے گھر تک چھوڑنے کے لیے آیا تھا۔
ظ… ژظژ…ظ
اس کا خیال تھا صرف اماں ہی اس کے لیے پریشان ہوں گی اور دیر سے آنے پر باز پرس بھی صرف وہی کریں گی لیکن پہلے ہی مرحلے پر ابرار بھائی موجود تھے اور ایسی چبھتی ہوئی نظریں تھیں ان کی کہ اس کے قدم آپ ہی آپ ان کے سامنے رک گئے۔
’’کہاں سے آرہی ہو؟‘‘ خاصا جارحانہ لہجہ تھا ان کا کہ وہ کوئی جواب نہیں دے سکی‘ تب انہوں نے اپنے سوال کو نیا رنگ دیا۔
’’اتنی دیر سے کیوں آئی ہو؟‘‘
’’دیر ہوگئی۔‘‘ وہ بہت آہستہ آواز میں بولی۔
’’کہاں دیر ہوئی‘ اس وقت تک کالج میں تو نہیں بیٹھی رہی ہوگی تم۔‘‘
’’میں اپنی دوست کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی تھی۔‘‘ اسے یہی جواب سوجھا۔
’’کیوں‘ گھر سے فالتو ہو تم اور کس کی اجازت سے گئی تھیں یا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب تمہیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں رہی جو تمہارا دل چاہے گا‘ کرتی پھرو گی‘ بہت بڑی ہوگئی ہو ناں تم‘ اپنی مرضی کی مالک‘ جیسے اس گھر کی دوسری لڑکیاں اپنی من مانی کرتی پھرتی ہیں تم بھی ان کے نقش قدم پر چلوگی۔‘‘ ابرار بھائی کسی طرح خاموش ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے جبکہ اس کی آنکھوں میں ڈھیر سارا پانی جمع ہوگیا تھا جسے روکنے کی کوشش میں وہ ناکام ہوگئی تو ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر سسک پڑی۔
’’دفع ہوجائو میرے سامنے سے اور یاد رکھنا آئندہ اگر کالج سے کہیں گئیں تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔‘‘ وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں آئی جہاں اماں بے چینی سے یوں ٹہل رہی تھیں جیسے ان کا بس نہ چل رہا ہو کہ اسے ابرار بھائی کے سامنے سے کھینچ کر لے آئیں۔
’’اماں…‘‘ وہ ان کی گود میں منہ چھپا کر شدت سے رونے لگی۔
’’بیٹا غلطی تمہاری ہے‘ تم بتا کر جاتیں‘ ہم اتنا پریشان تو نہ ہوتے۔‘‘
’’ہم۔‘‘ وہ سر اونچا کرکے دیکھنے لگی۔ ’’کیا ابرار بھائی بھی پریشان تھے؟‘‘
’’ہاں جب ہی تو اتنا بگڑ رہا ہے‘ ایک تو بے چارہ چل نہیں سکتا‘ کتنی بار کرسی دھکیلتا ہوا گیٹ تک گیا تھا۔‘‘ پھر اپنے دوپٹے سے اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے پوچھنے لگیں۔ ’’کون سی سہیلی کے گھر گئی تھیں؟‘‘
’’وہ…‘‘ اماں کے چہرے پر نظر پڑی تو وہ کچھ کنفیوژ سی ہوگئی۔ سمجھ میں نہیں آیا انہیں کیسے بتائے کہ وہ نانا کے پاس گئی تھی اور وہاں سے بہت ساری باتیں جان کر آئی ہے‘ یہ حقیقت کہ وہ اس کی ماں نہیں تھیں لیکن ماں جیسی ضرور تھیں‘ اپنی آغوش کی پناہیں بخش کر اسے ہمیشہ سرد وگرم سے بچایا تھا اور وہ ایک دم سے ان کی نفی کرکے انہیں دکھ نہیں دے سکتی تھی۔
’’چلو منہ ہاتھ دھو کر کچھ دیر لیٹ جاؤ‘ بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔‘‘ اماں یہی سمجھیں کہ وہ بتانا نہیں چاہتی اس لیے بات بدل دی اور اس نے بھی ان کی بات پر فوراً عمل کرڈالا۔
ظ… ژظژ…ظ
شام میں سو کر اٹھی تو ذہن کافی حد تک پرسکون ہوچکا تھا‘ طبیعت میں بوجھل پن بھی نہیں تھا بلکہ وہ خود کو کافی حد تک ہلکا پھلکا محسوس کررہی تھی اماں اس وقت کچن میں ہوتی تھیں اور وہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتی تھی لیکن اس وقت وہ ان کے پیچھے جانے کے بجائے اپنی من پسند جگہ پر آبیٹھی اور نانا کی باتوں کو سوچنے لگی۔ درمیان میں کہیں کہیں ذہن بھٹک جاتا۔
’’میں کون ہوتی ہوں‘ میری حیثیت ہی کیا ہے۔‘‘ اماں نے کہا تھا اور ان کی بات کو سوچتے ہوئے ابرار بھائی کی بات یاد آئی۔
’’تم اماں سے نہیں ملتیں‘ تم ان سے مل بھی کیسے سکتی ہو؟‘‘
’’کیوں؟‘‘ اس کے پوچھنے پر انہوں نے کہا تھا۔
’’کیوں کا جواب تم خود کھوجو رابعہ… خود۔‘‘ اور جواب اس نے کھوج لیا تھا لیکن اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ اسے اس کی امی کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا اور بھی کئی باتیں تھیں جو اسرار کے پردوں میں چھپی ہوئی تھیں۔
’’مجھے اماں سے پوچھنا پڑے گا‘ صرف وہی ہیں جو سچ بتائیں گی۔‘‘ اس نے خود کلامی کے انداز میں سوچا اور پھر وہاں سے اٹھ کر لان میں چلی آئی۔
ظ… ژظژ…ظ
کبھی کبھی درمیانی کیفیات انسان کو بڑا بے بس کردیتی ہیں‘ پتہ نہیں اس کے اندر کیسا موسم اترا تھا جو نہ اسے خوش ہونے دے رہا تھا‘ نہ اداس‘ یونہی چلتی ہوئی لان کے آخری سرے تک پہنچ گئی‘ واپس پلٹی تو گیٹ سے فراز کو داخل ہوتے دیکھ کر وہیں رک گئی۔ وہ غالباً اپنے کسی دوست کے ساتھ تھا‘ بائیک کی آواز آرہی تھی اور وہ گیٹ پر ہی رک کر اس سے کوئی بات کررہا تھا۔ وہ اس وقت اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی‘ اس لیے تیز قدموں سے روش پار کرکے لابی میں آئی‘ پہلا کمرہ ابرار بھائی کا تھا اور وہ بلا ارادہ ان کے کمرے میں داخل ہوگئی‘ اندر آتے ہی احساس ہوا لیکن وہ دیکھ چکے تھے‘ اس لیے فوراً واپس نہیں پلٹ سکی۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ شکر ہے وہ دھاڑے نہیں‘ جبھی اس کے حواس قائم رہے۔ دو قدم اور آگے بڑھ کر بولی۔
’’آئی ایم سوری ابرار بھائی‘ دوپہر میں آپ کو میری وجہ سے پریشانی ہوئی۔‘‘
’’بیٹھ جائو۔‘‘ جواب میں بیٹھنے کا حکم دیا‘ وہ فوراً بیٹھ گئی تو کہنے لگے۔
’’میری طرف سے تم جہنم میں جائو‘ مجھے تمہاری قطعی پروا نہیں ہے سمجھی تم۔‘‘ اس نے بے حد حیران ہوکر دیکھا تو کہنے لگے۔
’’مجھے صرف شہزاد چچا کا خیال آتا ہے‘ اور میں نہیں چاہتا کہ تم کسی غلط راستے پر چلو۔‘‘ اس نے سر جھکا لیا اور سوچ کر بولی۔
’’آپ کو صرف ابو کا خیال آتا ہے‘ امی کا خیال کیوں نہیں آتا‘ کیا وہ آپ سے محبت نہیں کرتی تھیں۔‘‘ وہ چونکے‘ حیران بھی ہوئے اور پھر اپنے مخصوص انداز میں کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر اس کا جائزہ لینے لگے‘ پہلی بار وہ نروس نہیں ہوئی اور سر اونچا کرکے برراہ راست ان کی آنکھوں میں دیکھنے لگی تو انہوں نے پوچھا۔
’’تمہیں کس نے بتایا؟‘‘
’’میں آج اپنے نانا کے پاس گئی تھی‘ وہیں سے معلوم ہوا کہ میری امی بھی ابو کے ساتھ ہی…‘‘ وہ قصداً خاموش ہوگئی۔
’’نانا کا پتہ تمہیں کس نے دیا تھا؟‘‘
’’اس بات کو چھوڑیں ابرار بھائی‘ مجھے یہ بتائیں کہ مجھے امی کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا۔‘‘
’’مجھے کیا پتہ؟‘‘
’’آپ کو پتہ ہے۔‘‘
’’کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں‘ جاکر اپنی اماں سے پوچھو۔‘‘ ان کا موڈ بگڑتے دیر نہیں لگتی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ مزید چیختے چلاتے وہ جلدی سے ان کے کمرے سے نکل آئی۔
…٭٭٭…
کتنے دن گزر گئے‘ اس کے اندر عجیب سی بے کلی سمائی ہوئی تھی‘ یہ دکھ بھی تھا کہ جس عورت کی کوکھ سے اس نے جنم لیا‘ اس سے وہ یکسر لاعلم کیوں رہی‘ اسے کچھ تو خبر ہوتی تاکہ جس طرح وہ اپنے ابو کو یاد کرتی تھی ان کے ساتھ امی کو بھی یاد رکھتی‘ اس رات وہ اماں کے برابر لیٹی تو ان کے گلے میں بازو ڈال کر پوچھنے لگی۔
’’اماں! آپ نے میری امی کو بھی دیکھا تھا؟‘‘ اماں اس اچانک سوال پر حیران ہوئیں۔ فوری طور پر کوئی جواب نہیں دے سکیں۔
’’بتائیے ناں اماں اور اب یہ مت پوچھیے گا کہ مجھے امی کے بارے میں کس نے بتایا‘ بس مجھے معلوم ہوگیا ہے۔‘‘
’’ہاں میں نے اسے دیکھا تھا۔‘‘ اماں گہری سانس لے کر بولیں۔ ’’بڑی خوب صورت تھی وہ‘ تمہاری طرح بھولی بھالی معصوم سی‘ ہنستی تھی تو گھنگرو سے بجنے لگتے تھے‘ ایسی پیاری جوڑی بنائی تھی اللہ نے‘ پتہ نہیں کس کی نظر لگی کہ دونوں ہنستے کھیلتے گھر سے نکلے اور واپس آئے تو خون میں نہائے ہوئے تھے۔‘‘
’’پھر…؟‘‘ اماں کی خاموشی اسے گراں گزرنے لگی۔ ’’پھر کیا ہوا تھا اماں؟‘‘
’’پھر کیا ہونا تھا‘ سب کچھ ہی ختم ہوگیا۔‘‘ اماں اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بولیں۔ ’’تمہاری پیدائش پر شہزاد مجھے لے کر آئے تھے میں نے بس دو مہینے میں ان دونوں کو دیکھا‘ ان کے بعد سچ پوچھو تو میرا جی بھی یہاں سے اچاٹ ہوگیا تھا لیکن تمہاری وجہ سے میں یہیں رہ گئی ورنہ جس وقت تمہارے نانا تمہیں لینے آئے تھے اگر تمہارے تایا اور اور تائی تمہیں ان کے حوالے کردیتے تو پھر میں بھی یہاں سے چلی جاتی۔‘‘
’’تایا جی نے مجھے نانا کے ساتھ کیوں نہیں جانے دیا تھا؟‘‘
’’میں کیا کہہ سکتی ہوں بیٹا۔‘‘ اماں نے پہلے لاعلمی ظاہر کی پھر اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے بولیں۔ ’’اس وقت میر اخیال تھا کہ شاید بھائی بھاوج کی نشانی کو خود سے جدا نہیں کرنا چاہتے اور پھر تمہارے تایا جی نے کہا بھی تھا کہ تم ان کا خون ہو‘ وہ تمہیں اپنی اولاد کی طرح سمجھیں گے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے تمہیں اولاد کی طرح تو کیا کبھی یتیم بھتیجی سمجھ کر بھی سر پر ہاتھ نہیں رکھا‘ بے شک تمہیں سر پر نہ بٹھائیں لیکن تمہیں تمہارے حق سے محروم بھی نہ کریں۔‘‘
’’میرا کیا حق ہے اماں؟‘‘ وہ آزردگی میں گھر کر بولی۔ ’’یہی بہت ہے کہ تایاجی نے ہمیں یہاں رہنے دیا اور میرے اخراجات بھی پورے کرتے ہیں۔‘‘
’’وہ تمہارے اخراجات پورے کرتے ہیں…!‘‘ اماں کے لہجے میںہلکی سی تلخی اور ہلکا سا طنز تھا پھر اس کے چہرے پر آئے بال سمیٹتے ہوئے بولیں۔
’’کوئی تم پر احسان نہیں کررہا بیٹی‘ یہ سب تمہارے ماں باپ کا ہے‘ گھر بھی اور کاروبار بھی۔‘‘
’’اچھا…!‘‘ وہ ابھی اتنی میچور نہیں ہوئی تھی کہ اس بات کو اپنے مفاد میں سوچتی‘ یا پھر ماں باپ کی طرف سے ورثے میں ملی ہوئی حددرجہ سادگی تھی جو کہنے لگی۔
’’اماں میں تو اس وقت بہت چھوٹی تھی اگر تایا جی یہاں نہ آتے کاروبار نہ سنبھالتے تو کوئی اور…‘‘ قدرے توقف سے بولی۔ ’’اماں آپ کبھی کسی پر جتائیے گا نہیں؟‘‘
’’نہیں بیٹا‘ میں کون ہوتی ہوں۔‘‘
’’آپ میری اماں ہیں‘ بہت اچھی اماں۔‘‘ وہ ان کے مہربان اور شفیق سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔
…٭٭٭…
ان دنوں اس کے امتحان قریب تھے اور وہ یکسوئی سے پڑھنا چاہتی تھی کہ رخشی نے آکر سارے گھر کو ڈسٹرب کردیا‘ اس کا کہنا تھا کہ وہ دقیانوسی لوگوں کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی اور اتنا عرصہ بھی وہ خود پر جبر کرکے رہی ہے۔ تائی جی اسے سمجھانے کی کوشش کرتیں تو جواب میں وہ چیخ چیخ کر سارا الزام ان کے سر رکھتی کہ انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ پیسے والے بڑے لوگ ہیں اور ان کا ماحول دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی جہاں بقول اس کے وہ پابند ہوکے رہ گئی تھی۔
بہرحال گھر کی فضا خاصی مکدر ہوگئی تھی یا تو ایک دم سکوت چھایا رہتا یا پھر جیسے ہر شے بولنے لگتی اور ظاہر ہے کہ وہ بھی وہیں رہتی تھی اور کوئی اسے اپنا سمجھے نہ سمجھے‘ وہ تو سب کو اپنا سمجھتی تھی اور اس کشیدگی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے اسے دکھ ہوتا۔
کبھی تائی جی پر رحم آتا جن کی کوئی اولاد ان کے اختیار میں نہیں تھی اور اس کا دل چاہتا‘ وہ ایک ایک کے سامنے ہاتھ جوڑ کر منت کرے کہ تائی جی کی پریشانیوں میں اضافہ مت کرو‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ ساری پریشانیاں خریدی ہوئی ان کی اپنی ہیں۔ پھر کبھی اسے رخشی آپا پر رحم آتا جو بہت چیخنے چلانے کے بعد کمرے میں بند ہوکر رونا شروع کردیتی اور کبھی عزیز بھائی کے لیے اس کا دل دکھتا جو صبح شام رخشی کو فون کررہے تھے اور اس شام وہ خود چلے آئے‘ اس وقت وہ لان میں کھڑی تھی۔ انہیں دیکھ کر خوش ہوئی اور سوچا کہ وہ رخشی آپا کو ساتھ لے جائیں گے تو سارا جھگڑا ہی ختم ہوجائے گا لیکن رخشی کسی طرح بھی ان کے ساتھ جانے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ عجیب عجیب مطالبے تھے اس کے اور وہ ہر صورت منوانا چاہتی تھی بلکہ اس کے لہجے کا گھمنڈ ظاہر کررہا تھا کہ وہ عزیز کو جھکا کر یا اپنی مرضی پر چلا کررہے گی اور عزیز نے بڑے سکون سے اس کی باتیں سنیں اور کچھ کہے بغیر خاموشی سے چلے گئے‘ اس کے بعد ایک بار ان کا فون آیا اور بس اسی قدر کہا تھا۔
’’سوچ لو رخشی‘ میں تمہیں سوچنے کو وقت دے رہا ہوں۔‘‘ اور رخشی نے ان کی بات کو طنز آمیز ہنسی میں اڑا دیا تھا‘ شاید اسے یقین تھا کہ عزیز بار بار اس کے در پر آئیں گے اور بالآخر اس کی ہر بات ماننے کا وعدہ کرتے ہوئے ساتھ لے جائیں گے‘ جبھی وہ ناصرف اطمینان سے تھی بلکہ کسی وقت تائی جی کسی خدشے کا اظہار کرتیں تو وہ بڑے زعم سے کہتی۔
’’آپ نے جو کرنا تھا کرلیا‘ اب یہ میرا معاملہ ہے اسے میں خود نمٹائوں گی اور آپ دیکھئے گا عزیز کیسے آتے ہیں۔‘‘ اور اس کا سارا زعم اس وقت دھرا رہ گیا جب عزیز اسے دیئے ہوئے وقت کے بعد بہت خاموشی سے طلاق نامہ بھیج دیا‘ لمحہ بھر کو تو رخشی بھی سناٹے میں آگئی تھی‘ ظاہر ہے اس کا یقین اور گھمنڈ ٹوٹا تھا پھر اس سے پہلے کہ تائی جی اسے کچھ کہتیں‘ وہ یہ کہتی ہوئی اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی کہ…
’’میرا ویسے بھی اس شخص کے ساتھ گزارہ مشکل تھا۔‘‘
گھر کی فضا پہلے مکدر ہوگئی تھی اور پراسرار بھی‘ کوئی کسی سے بات نہیں کرتا تھا‘ اس لیے نہیں کہ کوئی اپنے کیے پر نادم تھا بلکہ سب ہی کو اندازہ تھا کہ جہاں بات شروع ہوئی‘ ایک ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا اور سب ایک دوسرے کو الزام دیں گے بس ایک ابرار بھائی ہی تھے جو کسی بھی الزام کی پروا کیے بغیر بولتے تھے۔ تایاجی کی موجودگی کا خیال بھی نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں سنا کر کہتے کہ اس گھر میں ہر شخص اپنی من مانی کرتا ہے‘ کسی کو دوسرے کی پروا نہیں ہے پھر براہ راست رخشی کو مخاطب کرکے کہتے۔
’’تم نے یہ کیسے سمجھ لیا رخشندہ بیگم کہ شوہر اور سسرال والوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھ لوگی‘ دیکھ لیا اس کا انجام‘ نادان لڑکی‘ عورت تو پیدا ہی سمجھوتے کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ کبھی اپنے لیے کرتی ہے اور کبھی اپنے گھر والوں کے لیے‘ تمہیں اگر اپنا خیال نہیں تھا تو فرخندہ اور رابعہ کا خیال کرلیتیں‘ ابھی ان کی ڈولیاں اٹھنی باقی ہیں‘ اب جو بھی آئے گا پہلا سوال تمہارے بارے میں کرے گا کہ طلاق کیوں ہوئی‘ کیا تم ایمان داری سے جواب دے سکوگی؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ ایک دن وہ چیخ پڑی تھی۔ ’’میں دوں گی جواب‘ وقت تو آنے دیجیے پھر میں جواب بھی دوں گی۔‘‘ اور یہ اس کی آخری چیخ تھی‘ اس کے بعد وہ یوں خاموش ہوئی کہ کبھی کبھی شبہ ہونے لگتا کہ کہیں وہ قوت گویائی سے محروم تو نہیں ہوگئی۔ اس کی زندگی میں زبردست تبدیلی آئی تھی کہ وہ جو بہت آزاد خیال اور فیشن کی دل دادہ تھی‘ اب زیادہ وقت اپنے کمرے میں بند رہتی‘ باہر نکلتی بھی تو کسی تنہا گوشے میں بیٹھی نظر آتی ہاتھ میں موٹی سی کتاب لیے گردوپیش سے یکسر بے نیاز۔ رابعہ کو وہ شروع سے اچھی لگتی تھی‘ اپنی تنک مزاجی کے باوجود شاید اس لیے کہ وہ فرحی کی طرح چپ نہیں رہتی تھی جو دل میں آتا کہہ دیتی تھی اور اب اس کی چپ اور تنہائی پر وہ کڑھتی تھی‘ یہ جاننے کے باوجود کہ غلطی سراسر اس کی ہے‘ اسے عزیز پر غصہ آتا جنہوں نے فیصلہ کرنے میں جلدی کی تھی۔ بہرحال وقت گزرنے اور ساری حقیقتیں جان لینے اور سب کے رویوں کو سمجھنے کے باوجود اس کے سوچنے کا انداز نہیں بدلا تھا۔
ان دنوں تائی جی فرحی کی شادی کرنے کی فکر میں تھیں‘ ایک دو اچھے پرپوزل بھی تھے اور جب انہوں نے فرحی سے پوچھا تو وہ لڑکی جو ہمیشہ چپ رہتی تھی اس نے ایک ہنگامہ کھڑا کردیا۔
’’فرحی باجی!‘‘ وہ فرحی کی اونچی آواز سن کر حیران ہوکر اپنے کمرے سے نکل کر آئی تھی اور پھر اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کے باوجود اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ فرحی ہے جو تائی جی سے کہہ رہی تھی۔
’’رخشی کی شادی آپ نے اپنی مرضی سے کی تھی اور اس کا انجام بھی دیکھ لیا‘ اب یہ کیوں چاہتی ہیں کہ میرا انجام بھی اس جیسا ہو۔‘‘
’’یہ اپنی دشمن خود ہے‘ پوچھ لو اس سے۔‘‘ تائی جی نے رخشی کی طرف اشارہ کیا تو اس نے ایک لحظہ کو سر اٹھا کر دیکھا پھر دوبارہ کتاب پر نظریں جما دیں۔
’’اور میں اپنی دشمن نہیں ہوں‘ اس لیے آپ کے فیصلے پر سر نہیں جھکا سکتی۔‘‘
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘
’’سیدھی سی بات ہے جن پروپوزلز کے بارے میں آپ کہہ رہی ہیں‘ وہ مجھے منظور نہیں اور یہ بھی سن لیں کہ میں زبیر سے شادی کروں گی جو میرے ساتھ پڑھتا ہے۔‘‘
’’تم…!‘‘ تائی جی پتہ نہیں صدمے انتہا پر تھیں یا غصے کی کہ بس اسی قدر کہہ سکیں پھر اسے چھوڑ کر رخشی کو مخاطب کرتے ہوئے بولیں۔
’’سن رہی ہو رخشی تم‘ سمجھائو اسے۔‘‘
’’میں…!‘‘ رخشی نے حیران ہو کر اپنی طرف اشارہ کیا پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی کہ رابعہ کو دیکھ کر رک گئی۔
’’یہاں آئو رابعہ۔‘‘ اتنی حلیم وہ کبھی نہیں تھی۔ وہ ڈرتے ڈرتے آگے آئی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر تائی جی کے سامنے کرتے ہوئے بولی۔
’’امی! رابعہ بھی تو ہے آپ اس کی شادی کردیں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ تائی جی نے سر تاپا اسے گھورا تو وہ رخشی کے پیچھے ہوگئی۔
’’کیوں‘ کیا آپ کو اس کی شادی نہیں کرنی؟‘‘ رخشی کے ٹھہرے ہوئے سنجیدہ لہجے نے تائی جی کو خاموش کردیا۔
قدرے تاخیر سے بولیں۔
’’فرحی بڑی ہے پہلے اس کی شادی ہوگی۔‘‘
’’ہاں لیکن جب دو پروپوزل ہیں تو دونوں کی ایک ساتھ کردیجیے۔‘‘
’’دو پروپوزل کون سے؟‘‘ تائی جی انجان بن گئیں۔
’’فرحی زبیر کے ساتھ شادی کرے گی اور جو آپ کہہ رہی تھیں وہ…‘‘
’’نہیں۔‘‘ تائی جی نے فوراً ٹوکا۔ ’’رابعہ اسی گھر میں رہے گی۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’میں نے اس کی شادی ابرار کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ان کا انداز فیصلہ کن تھا۔
’’لیکن امی…‘‘
’’بس میں نے تم سے کوئی مشورہ نہیں مانگا۔ کیوں رابعہ تمہیں کوئی اعتراض ہے؟‘‘ انہوں نے براہ راست اس سے پوچھا اور اسے ہمیشہ ان پر رحم آتا تھا کہ ان کی کوئی اولاد ان کے اختیار میں نہیں ہے اور کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ وہ سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر منت سے کہے کہ تائی جی کو پریشان مت کرو اور وہی عورت جو اسے مظلوم نظر آتی تھی‘ انتہائی سنگ دل لگی‘ اس کا دل دہائیاں دینے لگا‘ کاش ان کی اولاد کی طرح وہ بھی من مانی کرسکتی لیکن ایک تو اس نے پہلے بھی کبھی ان کی کسی بات سے انکار کی جرأت نہیں کی تھی‘ دوسرے اس وقت وہ جن نظروں سے دیکھ رہی تھیں‘ اس سے اس کا رہا سہا حوصلہ بھی جاتا رہا تھا‘ ایسے میں رخشی کی نرم آواز نے اس کی ذرا سی ڈھارس بندھائی۔
’’کہہ دو رابعہ تمہیں اعتراض ہے۔‘‘ اس نے حیرت کی وسعتوں میں پرواز کرتے ہوئے رخشی کی طرف دیکھا تو اس نے مزید آنکھوں کے اشارے سے سہارا دیا۔
’’تم چپ رہو رخشی‘ میں رابعہ سے پوچھ رہی ہوں۔‘‘ تائی جی کی آواز گونجی اور وہ ساری ہمتیں یکجا کرکے جیسے ہی تائی جی کی طرف پلٹی‘ ابرار بھائی اپنی چیئر دھکیلتے ہوئے آگئے۔
’’کیا شور مچا رکھا ہے‘ آپ لوگوں کو اور کوئی کام نہیں ہے سوائے چیخنے چلانے کے۔‘‘ انہوں نے باری باری سب کو دیکھ کر صورت حال جاننے کی کوشش کی‘ تب فرحی استہزائیہ قہقہہ لگا کر بولی۔
’’اس وقت یہاں بہت اہم مسئلے پر بات ہورہی ہے ابرار بھائی۔‘‘
’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘ انہوں نے اسی سے پوچھا۔
’’امی! آپ سے شادی کے لیے رابعہ سے ہامی بھروا رہی ہیں۔‘‘ فرحی نے مزے لے کر بتایا اور بالکل غیر ارادی طور پر انہوں نے فوراً رابعہ کی طرف دیکھا اور پھر فوراً ہی اپنا چہرہ دوسری طرف موڑتے ہوئے وہ جو ایک کرب آمیز کیفیت سے گزرے تھے‘ جانے کیسے وہ اس کے دل میں ترازو ہوگئی۔
بے چارے ابرار بھائی شاید انہیں دکھ ہوا تھا۔ اس نے سوچا اور کسی غیر مرئی طاقت کے زیر اثر ان کی طرف کھنچی چلی گئی۔ پیچھے سے آکر ان کی چیئر پر ہاتھ رکھے اور پھر آہستہ سے دھکیلتی ہوئی ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ پتہ نہیں پتھر ہوجانے کے خوف سے اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا یا پھر تائی جی کے ہونٹوں پر کھیلتی فاتحانہ مسکراہٹ وہ بنا دیکھے ہی محسوس کررہی تھی۔
’’بیٹھ جائو۔‘‘ اپنے کمرے میں آتے ہی ابرار بھائی نے اس سے کہا تو وہ چپ چاپ ان کے سامنے بیٹھ گئی۔
’’اب بتائو کیا مسئلہ ہے‘ کیا کہہ رہی تھیں امی؟‘‘
’’فرحی باجی نے بتایا تو ہے۔‘‘ وہ سر جھکا کر آہستہ آواز میں بولی۔
’’میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔‘‘ گو کہ ان کی آواز دھیمی تھی لیکن لہجہ سخت اور انداز ایسا تھا جیسے اس نے کسی بات کا جواب نہیں دیا تو اس کے منہ پر تھپڑ دے ماریں گے اور ایک بار بچپن میں وہ ان کے تھپڑ کا مزہ چکھ چکی تھی جو اب تک ناصرف اسے یاد تھا بلکہ رونگٹے کھڑے کردیتا تھا‘ اب بھی ان کا وہی انداز تھا۔ جبھی اس نے فوراً تائی جی کی بات دہرائی۔
’’تائی جی پوچھ رہی تھیں کہ مجھے آپ سے شادی پر کوئی اعتراض تو نہیں۔‘‘
’‘’پھر تم نے کیا جواب دیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیا نہیں؟‘‘
’’مجھے اعتراض نہیں ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں عاجزی سمٹ آئی۔
’’کیوں؟‘‘ اس کی بے بسی اور عاجزی محسوس کرنے کے باوجود انہوں نے اپنا انداز نہیں بدلا اور اس کیوں کا جواب تو خود اس کے پاس نہیں تھا۔
’’میری بات کا جواب دو۔‘‘
’’ابرار بھائی۔‘‘ وہ رونے لگی اور ہاتھوں میں چہرہ چھپانا چاہتی تھی کہ وہ زور سے دھاڑے۔
’’خبردار رونا دھونا مچانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سیدھی طرح میری بات کا جواب دو‘ آخر تمہیں مجھ سے شادی پر اعتراض کیوں نہیں ہے جبکہ تم یہ جانتی ہو کہ میں تمہیں بے حساب دکھ دوں گا۔‘‘ وہ چپ چاپ انہیں دیکھے گئی‘ آنکھوں سے ایک تسلسل سے اشک رواں تھے‘ جنہیں اس نے صاف کرنے کی کوشش نہیں کی‘ شاید اس لیے کہ دھند کے باوجود ان کا چہرہ واضح اور شفاف نظر آرہا تھا۔
’’ابرار بھائی وہ لوگ جو خوشیوں کی آس دے کر دکھ دیتے ہیں‘ ان سے آپ بہت اچھے ہیں‘ کم از کم میں یہ سوچ کر آزردہ تو نہیں ہوں گی کہ کبھی آپ نے مجھ سے کوئی دعویٰ کیا تھا یا کوئی آس کا جگنو میری جھولی میں ڈالا تھا۔ قدرے توقف کے بعد کہنے لگی۔
’’یقین کریں میں نے کبھی کوئی خواب نہیں دیکھا کیونکہ مجھے ایسے خوابوں سے بہت ڈر لگتا ہے جن کی ساری خوب صورتی بند پلکوں کی مرہون منت ہو‘ اس کے برعکس کھلی آنکھوں دیکھنے والی حقیقتیں خواہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہوں‘ مجھے منظور ہیں۔‘‘ وہ اس پر نظریں جمائے بیٹھے تھے جب خاموش ہوئی تو گہری سانس لے کر کہنے لگے۔
’’اچھی بات ہے‘ اب تم جائو لیکن پہلے اپنے آنسو پونچھ لو۔‘‘ اس نے بڑی بے دردی سے ہتھیلیوں سے اپنی آنکھیں رگڑیں اور پھر وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی تو اماں کو اپنا منتظر پایا۔ وہ اصل صورت حال سے لاعلم صرف اتنا جانتی تھیں کہ تائی جی اسے کسی بات پر ڈانٹ رہی تھیں‘ وہ جیسے ہی بیٹھی اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھنے لگیں۔
’’کیا ہوا بیٹی‘ کیا تائی جی نے کچھ کہا ہے؟‘‘
’’نہیں اماں‘ کسی نے کچھ نہیں کہا۔‘‘ اس نے دکھ کو اپنے اندر جذب کرنے کی ابتدا کی کیونکہ وہ جان گئی تھی کہ اب اسے یہی کچھ کرنا ہے اور پھر اماں کو بتانے اور نہ بتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا‘ وہ کون سا احتجاج کرسکتی تھیں۔
ظ… ژظژ…ظ
اس کا نہیں تو ابرار کا ہی خیال کرلیا جاتا لیکن شاید تایا جی اور تائی جی میں لوگوں کی باتیں سننے اور ان کے سوالوں کا جواب دینے کی ہمت نہیں تھی‘ جبھی بہت سادگی سے اس کا نکاح ہوا‘ گنتی کے چند لوگ ہی تھے اور پتہ نہیں کیسے اس کے ننھیال والوں کو بلایا گیا تھا حالانکہ اب تک ان سے کوئی واسطہ نہیں رکھا گیا تھا‘ بہرحال سب مہمانوں کے جانے کے بعد رخشی نے اسے سنوار کر ابرار کے کمرے میں لا بٹھایا اور ابرار پتہ نہیں کہاں تھے‘ کافی دیر بعد ان کی چیئر کی آواز آئی تو وہ اپنے آپ میں سمٹنے کے باوجود جیسے پوری جان سے ان کی طرف متوجہ ہوگئی تھی اور خواب تو اس نے نہیں سجائے تھے لیکن ایجاب وقبول کے مراحل سے گزر کر اندر کہیں کوئی آرزو ضرور چٹکی تھی‘ جس نے دھڑکنوں کو ایک مخصوص تسلی بخشی تھی‘ بہت مدھم اور قدرے وقفے وقفے سے دھک‘ دھک‘ دھک…
کوئی چاہنے والا ہوتا تو پل میں کچی ڈور سے بندھ جاتا اور اگلے پل سارے فاصلے سمیٹ کر من وتو کا فرق مٹا ڈالتا لیکن ابرار جانے کیا سوچے ہوئے تھا‘ پہلے دور بیٹھے اطمینان سے سگریٹ پیتے رہے پھر کرسی بیڈ کے قریب لے آئے اور اپنے ہاتھوں سے ایک ایک پیر اٹھا کر بیڈ پر ٹانگیں سیدھی رکھتے ہوئے بولے۔
’’ادھر دیکھو‘ رابعہ میری طرف۔‘‘ ان کے تحکمانہ لہجے پر اس نے فوراً سر اٹھا کر دیکھا تو کچھ دیر کو واقعی وہ مبہوت سے ہوگئے۔
’’اوں…‘‘ ان کی محویت توڑنے کی خاطر اس نے ہلکی سی آواز نکالی اور وہ چونکتے ہی پیشانی پر بے شمار شکنیں سمیٹ لائے۔
’’جائو پہلے اپنا حلیہ ٹھیک کرو۔‘‘
’’جی…‘‘ اس نے خود پر نظر ڈالی پھر حیران ہوکر انہیں دیکھا تو وہ مٹھیاں بھینچ کر بولے۔
’’تم نے مجھے تلخ حقیقت سمجھ کر قبول کیا ہے رابعہ‘ لیکن میں تمہیں تمہارا خواب سمجھ کر بھی قبول نہیں کرسکتا سمجھی تم۔‘‘
’’آپ غلط سمجھے ہیں ابرار‘ میں تو…‘‘
’’شٹ اپ…‘‘ وہ دبی دبی آواز میں چیخے۔ ’’فوراً نکل جائو میرے کمرے سے ورنہ میں تمہارا حلیہ بگاڑ دوں گا۔‘‘
’’لیکن…‘‘
’’آئی سے گیٹ آئوٹ۔‘‘ بس ایک ہی کلی تو چٹکی تھی۔
’’اسے بھی روند ڈالا ظالم نے۔‘‘ وہ بیڈ کے دوسری طرف سے اتر کر کھڑی ہوئی تو قصداً سینڈل پہننے میں دیر کی کہ شاید وہ روک لیں‘ لیکن روکنا تو دور کی بات وہ تو یکسر انجان بن گئے تھے۔ تب وہ بمشکل خود کوسمیٹتی ہوئی کمرے سے نکل آئی‘ فوری طور پر اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کہاں جائے‘ تائی جی کے پاس یا چپ چاپ اماں کی آغوش میں جا چھپے‘ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ رخشی جانے کس کام سے اپنے کمرے سے نکل آئی اور اس پر نظر پڑی تو ٹھٹک کر رک گئی‘ تب وہ خود ہی اس کے پاس آگئی۔
’’کیا ہوا؟ ابرار بھائی نے نکال دیا۔‘‘ رخشی نے یوں کہا جیسے اسے یقین ہو کہ وہ ایسا ہی کریں گے۔ اس نے سر جھکا لیا۔
’’میرے ساتھ آئو بلکہ تم میرے کمرے میں جائو‘ میں فراز کو دیکھ کر آتی ہوں۔‘‘
’’کیا ہوا فراز کو؟‘‘ اس نے فوراً پوچھا۔
’’وہ ابھی تک گھر نہیں آیا۔‘‘ رخشی کہتی ہوئی آگے بڑھ گئی اور وہ اس کے کمرے میں آگئی‘ کچھ دیر بعد رخشی بڑبڑاتی ہوئی آئی۔
’’پتہ نہیں کن چکروں میں رہتا ہے‘ تمہارے نکاح کے فوراً بعد یہ کہہ کر نکلا تھا کہ ابھی آرہا ہے لیکن دیکھو بارہ بج گئے ہیں اور اس کا کوئی پتہ نہیں‘ حالات ویسے ہی ٹھیک نہیں رہتے‘ ہزار بار کہا ہے شام کے بعد گھر سے نہ نکلا کرو لیکن سنتا ہی نہیں۔‘‘ پھر ایک دم خاموش ہوکر سامنے دیکھنے لگی‘ پتہ نہیں اسے اپنے ساتھ ہونے والے المیے کا احساس ہی نہیں تھا یا اس نے پہلے سے ہی ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر رکھا تھا کہ اس کے چہرے پر ’’اب میں کیا کروں؟‘‘ کے علاوہ اور کوئی تاثر نہیں تھا‘ رخشی کو حیرت ہوئی‘ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’تمہیں پتہ ہے تمہارے ساتھ کیا ہورہا ہے۔‘‘ اس نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا تو رخشی اپنے لہجے پر زور دے کر بولی۔
’’ظلم اور تم کیسی لڑکی ہو کہ سارے ظلم چپ چاپ سہہ رہی ہو‘ کیا تمہیں دکھ نہیں ہوتا؟‘‘ اس کا انداز نہ سمجھنے والا تھا۔
’’اب تمہیں کرنا تو یہ چاہیے کہ اسی وقت امی‘ ابو کے سامنے جا کھڑی ہو کہ ان کے بیٹے نے تمہیں کمرے سے نکال دیا ہے اور ان سے پوچھو کہ اب تمہارے لیے کیا حکم ہے‘ لیکن نہیں‘ میں جانتی ہوں کہ وہ ساری ذمہ داری تمہارے سر ڈالیں گے‘ الٹا تمہیں ہی الزام دیں گے۔‘‘
’’رخشی آپا! آپ کیسی باتیں کررہی ہیں‘ میں نے تو کچھ نہیں کیا یقین کریں ابرار بھائی…‘‘
’’اوں ہوں۔‘‘ رخشی ٹوکتے ہوئے بے ساختہ مسکرائی۔ ’’اب وہ تمہارے شوہر ہیں‘ ٹھہرو میں ان سے پوچھ کر آتی ہوں کہ…‘‘
’’نہیں رخشی آپا۔‘‘ وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولی۔ ’’آپ نہ جائیں‘ وہ اس وقت بہت غصے میں ہیں۔‘‘
’’پتہ بھی تو چلے کہ کس بات کا غصہ ہے۔‘‘
’’اس وقت نہیں۔‘‘ اس کی عاجزی دیکھ کر رخشی نے کندھے اچکائے پھر وارڈ روب کی طرف بڑھ گئی‘ ایک سوٹ نکال کر اس کے سامنے پھینکتے ہوئے بولی۔
’’یہیں سو جائو‘ صبح دیکھیں گے‘ امی کیا کہتی ہیں۔‘‘ وہ بیڈ پر رخشی کے لیے کافی جگہ چھوڑ کر خود کنارے پر سکڑ سمٹ کر لیٹ گئی اور آنکھوں پر بازو رکھ لیا‘ تب رخشی لائٹ آف کرکے اس کے برابر لیٹ گئی۔
ظ… ژظژ…ظ
حسب معمول صبح اٹھتے ہی وہ اماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے کچن میں جا پہنچی تو انہوں نے حیران ہوکر اسے دیکھا‘ اس کی آنکھوں میں اتری لالی‘ رت جگے کی غماز ضرور تھی لیکن اس میں شب زفاف کی کسی ہلکی سی شوخی کا ہلکا سا عکس بھی نہیں تھا‘ تب ان کے ہونٹوں سے آہ کی صورت سانس خارج ہوئی تو وہ نظریں چراتے ہوئے بولی۔
’’آپ ہٹیں اماں میں ناشتہ بناتی ہوں۔‘‘
’’نہیں تم اپنا اور ابرار کا ناشتہ لے جائو‘ باقی میں کرلوں گی۔‘‘ اماں نے ٹرے اٹھا کر اس کے ہاتھوں میں تھمائی تو وہ سٹپٹا گئی‘ سمجھ میں نہیں آیا کیا کرے‘ ابرار کا سامنا کرنے کی ہمت بالکل نہیں تھی۔
’’کیا ہوا… ابرار سو رہا ہے کیا؟‘‘
’’ہیں۔‘‘ اس نے چونک کر دیکھا اور کوئی جواب دیئے بغیر کچن سے نکل آئی‘ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ابرار کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ کھڑکی کے پاس بیٹھے غالباً صبح کی تازہ ہوا سے لطف اندوز ہورہے تھے‘ اس کی آمد پر اس کی طرف متوجہ ہوئے تو ان کے انداز سے نہ تو یہ ظاہر ہوا کہ وہ ان کے ساتھ ایک نئے بندھن میں بندھ چکی ہے اور نہ ہی رات کی تلخی کا شائبہ تھا بلکہ ناشتے کی ٹرے دیکھ کر حیرت سے بولے۔
’’یہ تم ناشتہ یہاں کیوں لے آئی ہو‘ جائو ٹیبل پر رکھو‘ میں وہیں سب کے ساتھ کروں گا۔‘‘ وہ اسی خاموشی سے پلٹ آئی اور ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اسی کمرے میں آگئی جہاں وہ شروع سے اماں کے ساتھ رہتی آئی تھی اور جب یہیں رہنا تھا تو پتہ نہیں رات اچانک ایک ناٹک کیوں رچایا گیا تھا‘ یہ حقیقت ہے کہ اس نے ایک بار بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی شادی ایک معذور شخص کے ساتھ کی جارہی ہے البتہ اس شخص کے رویے نے اسے دکھ پہنچایا تھا‘ اچانک اسے بے پناہ گھٹن کا احساس ہونے لگا تو وہ برآمدے میں نکل آئی‘ طلوع ہوتے سورج کی روپہلی کرنیں درختوں کے سروں کو چھو رہی تھیں‘ وہ ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی اور اس کی نظریں نیلے آسمان کے پار دیکھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اندر سے شور کی آوازیں آنے لگیں‘ اس نے جلدی سے آنکھوں میں اتری نمی دوپٹے میں جذب کی اور اٹھ کر اندر چلی آئی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے سامنے سے آتی رخشی کو دیکھ کر پوچھا۔
’’ابرار بھائی تمہیں بلا رہے ہیں۔‘‘ رخشی کے لہجے میں ہلکا سا طنز اور تمسخر تھا۔ ’’کہہ رہے ہیں ٹیبل پر ان کی بیوی موجود کیوں نہیں ہے۔‘‘
’’آپ بھی چلیں۔‘‘
’’نہیں تم جائو۔‘‘ رخشی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی اور اسے ڈائننگ روم میں آنا پڑا۔
’’کہاں تھیں؟‘‘ تائی جی نے اسے دیکھتے ہی ناگواری سے پوچھا۔
’’بیٹھ جائو۔‘‘ اس کے جواب دینے سے پہلے ہی ابرار نے اسے بیٹھنے کا حکم دیا پھر اپنے سامنے سے انڈا اور سلائس اٹھا کر اس کے آگے رکھتے ہوئے بولے۔
’’ناشتہ کرو۔‘‘ پھر جیسے سب کو سنا کر بولے۔ ’’تم میری بیوی ہو‘ اس گھر کی بڑی بہو اور اس ناطے یہاں سب سے زیادہ حق تمہارا ہے‘ یہاں پر ہر شخص اپنی من مانی کرتا ہے لیکن میں تمہیں من مانی کی اجازت نہیں دوں گا‘ البتہ حکمرانی کرسکتی ہو۔‘‘
’’لو بھئی رابعہ! تمہارے عیش ہوگئے۔‘‘ فراز نے ہنس کر کہا تو ابرار نے فوراً اسے سرزنش کی۔
’’یہ تمہاری بڑی بھاوج ہے اور آئندہ اسی حساب سے احترام دینا۔ سمجھے تم۔‘‘
’’سمجھ تو گیا ہوں لیکن یہ بات ہضم نہیں ہورہی۔‘‘ وہ شروع سے ہی بدتمیز تھا اور تائی جی اس کی طرف داری میں بولیں۔
’’رابعہ اس سے زیادہ بڑی نہیں ہے۔‘‘
’’میری بیوی ہونے کے ناطے اب یہ سب سے بڑی ہے۔‘‘ ابرار کے دوٹوک لہجے پر تائی جی خاموش تو ہوگئیں لیکن جن نظروں سے اسے دیکھا‘ اس سے وہ دہل کر رہ گئی تھی۔
ظ… ژظژ…ظ
ابرار کا رویہ اس کی سمجھ میں بالکل نہیں آیا تھا کہ کسی دوسرے کا اس سے ذرا سی اونچی آواز میں بات کرنا بھی برداشت نہیں کرتے تھے جبکہ خود زیادتی پر زیادتی کررہے تھے‘ نہ تو اسے اپنے کمرے میں آنے دیتے اگر اچانک سامنا ہوجاتا تو ناگواری سے منہ موڑ لیتے‘ ناشتے‘ کھانے وغیرہ کے دوران سب کی موجودگی میں کبھی مہربان اور کبھی انتہائی نامہربان اور تائی جی جنہیں یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ ابرار کی من چاہی بیوی بن کر کہیں سچ مچ وہ حکمرانی کے خواب نہ دیکھنے لگے۔
بیٹے کے رویے سے ناصرف مطمئن ہوئیں بلکہ اس کے لیے ان کے انداز میں اب تحقیر بھی سمٹ آئی تھی کیونکہ اب وہ صرف تائی جی نہیں‘ اس کی ساس بھی تھیں اور ساس بہو کو اہمیت اسی صورت دیتی ہے جب اسے بیٹے کے ہاتھ سے نکل جانے کا خدشہ ہو اور یہاں یہ خدشہ نہیں تھا اور کچھ بھی تھا‘ وہ بہرحال حیران تھی ازخود ہی اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتی کہ آخر ابرار نے اس کے ساتھ شادی کیوں کی‘ جب کوئی واسطہ ہی نہیں رکھنا تھا اور جب اس کا وجود ایسا ہی ناقابل برداشت تھا تو پھر انہوں نے منع کیوں نہیں کیا تھا‘ اس کا دل چاہتا وہ کسی وقت جاکر اس سے پوچھے‘ بارہا ان کے دروازے تک آئی بھی لیکن خود سے اندر داخل ہونے کی ہمت نہیں کرسکی۔
ادھر اماں تھیں کہ اسے ابرار کا دل جیتنے کے سو طریقے بتاتیں جنہیں وہ سنتی توجہ سے ضرور تھی لیکن عمل کرنے کے تصور سے ہی پریشان ہوجاتی۔
٭…٭…٭
اس شام اس کے خالہ زاد عبید نے آکر اسے نانا کی تشویش ناک حالت کے بارے میں بتایا تو وہ پریشان ہوگئی۔ اماں سے پوچھا کہ کیا وہ نانا کو دیکھنے چلی جائے تو انہوں نے خود کو معذور ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی تائی جی سے پوچھ لو اور تائی جی گھر پر نہیں تھیں‘ وہ بھاگتے ہوئے رخشی کے پاس آئی۔
’’رخشی آپا! میرے نانا بہت بیمار ہیں‘ میں انہیں دیکھنے چلی جائوں۔‘‘
’’ضرور جائو۔‘‘ رخشی نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا پھر ایک دم روک کر بولیں۔ ’’سنو ابرار بھائی کو بتادو۔‘‘
’’وہ منع تو نہیں کریں گے؟‘‘
’’میرا خیال ہے‘ انہیں منع کرنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ وہ کچھ الجھتے ہوئے ابرار کے کمرے تک آئی اور دروازے پر دستک دے کر انتظار کرنے لگی‘ جب آجائو کی آواز آئی تب اندر داخل ہوئی۔
’’ارے…‘‘ جانے وہ کس موڈ میں تھے کہ اسے دیکھ کر ہنس پڑے۔
’’یعنی اب تم دستک دے کر اندر آئوگی‘ اس کا مطلب ہے مجھے دل کے دروازے پر بھی تمہاری دستک کا انتظار کرنا چاہیے۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ حیران ہوکر دیکھنے لگی۔
’’کہو کیا بات ہے؟‘‘
’’میرے نانا بیمار ہیں‘ میں انہیں دیکھنے جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے فوراً اصل بات کہی۔
’’مجھ سے پوچھنے آئی ہو‘ یعنی اجازت لینے‘ کیوں؟‘‘
’’میرے خدا۔‘‘ وہ پریشان ہوگئی۔ آخر یہ شخص ہر اس بات کی وضاحت کیوں مانگتا ہے جس کا اس کے پاس جواب ہی نہیں ہوتا۔
’’کس کے ساتھ جائوگی؟‘‘ شاید انہیں رحم آگیا تھا۔
’’عبید آیا ہے۔ اس کے ساتھ۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ چلی جائو اور ہاں میری طرف سے بھی انہیں پوچھ لینا۔‘‘ وہ سر ہلا کر جلدی سے ان کے کمرے سے نکل آئی پھر اماں کو بتا کر عبید کے ساتھ نانا کے گھر آگئی۔ وہاں اس کے ماموں اور دوسری خالائیں وغیرہ بھی آئی ہوئی تھیں۔ افشاں کی زبانی وہ سب سے غائبانہ تعارف حاصل کرچکی تھی اور اب مل پہلی بار رہی تھی۔ وہ سب بھی نانا کو دیکھنے آئے تھے اور نانا کی حالت خاصی تشویشناک تھی۔ مسلسل غنودگی میں تھے‘ کسی کسی وقت اپنی اولاد میں سے کسی کو پکار لیتے‘ دو تین بار ان کی زبان پر اس کی امی آسیہ کا نام بھی آیا تھا اور پہلی بار اسے شدت سے احساس ہوا کہ وہ کس قدر تنہا ہے۔
ظ… ژظژ…ظ
رات میں سب اپنے اپنے گھروں کوچلے گئے لیکن اس نے اپنا جانا ملتوی کردیا‘ نانا کے سرہانے بیٹھی کبھی ان کا چہرہ چھو کر دیکھتی اور کبھی ان کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ دیتی۔ ایک ایسا لمس جو اسے یاد نہیں تھا‘ وہ اب محسوس کررہی تھی۔
امی‘ اپنی امی کو اس چہرے میں کھوجتے ہوئے اس کی آنکھیں جل تھل ہوگئیں اور پھر وہ اس شدت سے روئی کہ افشاں اور خالہ بھاگی چلی آئیں۔ نانا کو دیکھا جو شاید اس کی فریاد لے کر اس کی امی کے پاس جاپہنچے تھے۔
صبح تائی جی آئیں‘ کچھ دیر بیٹھیں اور پھر جاتے ہوئے سرسری انداز میں اسے ساتھ چلنے کے لیے کہا اور وہ ابھی جانا بھی نہیں چاہتی تھی‘ اس لیے سہولت سے منع کردیا کہ سوئم کے بعد آئے گی پھر تائی جی مزید اصرار کیے بغیر چلی گئیں۔
’’بہت ظالم ہیں تمہارے گھر والے۔‘‘ اس رات افشاں اس کے برابر لیٹی تو کہنے لگی۔ ’’حیرت ہے تم اتنے ستم کیسے سہہ لیتی ہو‘ تمہاری جگہ اگر میں ہوتی تو ایک ایک زیادتی کا حساب لیتی۔‘‘
’’نہیں افشاں‘ میرے ساتھ کسی نے کیا زیادتی کرنی ہے‘ بس ساری خرابی میرے اپنے نصیب کی ہے۔‘‘ وہ سیاہ آسمان پر جگمگاتے ستاروں میں جانے کیا تلاش کرتے ہوئے بولی تو افشاں نے دانت پیسے۔
’’نصیب کو الزام مت دو رابعہ‘ تمہارے نصیب میں صرف ماں باپ سے محرومی لکھی تھی‘ اس کے بعد ساری محرومیاں بخشی ہوئی تمہارے اپنوں کی ہیں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ دکھ سے ہنسی۔ ’’ابتدا تو نصیب سے ہی ہوئی ناں‘ نہ ماں باپ مجھے چھوڑ کر جاتے‘ نہ اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا۔‘‘
’’تم نے یہ سلسلہ چلنے ہی کیوں دیا؟ یہ صحیح ہے کہ تم خدا سے نہیں لڑ سکتی لیکن بندوں سے اپنے حق کے لیے لڑا جاسکتا ہے پھر تم نے ہر مقام پر ہتھیار کیوں ڈالے۔‘‘ اس نے بے بسی سے دیکھا تو تاسف سے بولی۔
’’مجھے ہرگز معلوم نہیں تھا کہ اس گھر میں تمہارے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے‘ لیکن تمہاری شادی سے میں نے ازخود بہت ساری باتیں جان لیں۔‘‘
’’کیسی باتیں؟‘‘
’’یہی کہ تمہیں اس گھر میں وہ مقام نہیں دیا گیا جو تمہارا حق تھا بلکہ انہوں نے تو تمہارے سارے حقوق پامال کرکے اپنے معذور بیٹے کے پلے باندھ کر ایک طرح سے تم پر احسان بھی کردیا۔‘‘
’’افشاں پلیز‘ ابرار کے لیے ایسے الفاظ مت استعمال کرو۔‘‘ اس کے عاجزی سے ٹوکنے پر افشاں نے مزید حیرت کا اظہار کیا۔
’’ارے… یعنی تمہیں اس شخص سے ہمدردی ہے جو تمہاری جھولی میں سوائے خوشامد اور جھوٹی آس کے کچھ بھی نہیں ڈال سکتا۔‘‘
’’خوشامد‘ جھوٹی آس‘ نہیں افشاں‘ ابرار نے میری جھولی میں ایسا کچھ نہیں ڈالا۔‘‘
’’اچھا…‘‘ افشاں طنز آمیز ہنسی کے ساتھ کہنے لگی۔ ’’میں یقین سے کہوں گی کہ جسے تم ابرار کی سچی محبت سمجھتی ہو‘ وہ صرف اور صرف خوشامد ہے اور وہ ایسا کرنے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے بغیر اس کی زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی۔‘‘
’’اتنے یقین سے کچھ مت کہو جبکہ میں نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ ابرار مجھ سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ اس نے ذرا سی گردن موڑ کر افشاں کو دیکھا پھر بڑے آرام سے اسے حیرتوں کے ساگر میں دھکیل دیا۔
’’وہ تو میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ کتنی دیر بعد افشاں بول سکی۔ ’’کیا کہا تم نے‘ ابرار تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتے۔‘‘
’’ہاں یہی کہا میں نے اور شادی سے پہلے ہی انہوں نے مجھ پر جتا دیا تھا کہ وہ مجھے بے حساب دکھ دیں گے اور میں کیا کرتی‘ خوشی دیکھی نہیں تھی جبکہ دکھوں سے ناطہ ایک عمر کا تھا‘ مجھے خدشہ ہوا کہیں ایک ان دیکھی شہ کی آرزو میں یہ ناطہ نہ ٹوٹ جائے‘ بس اسی کو مضبوط کرلیا۔‘‘
’’تم…‘‘ افشاں کا بس نہیں چل رہاتھا کیا کر ڈالے‘ تکیے پر زور سے مکا مارتے ہوئے بولی۔ ’’تم یقینا پاگل ہو‘ جب وقت کی لگامیں تمہارے ہاتھوں میں آنے کو تھیں تو تم نے ہاتھ باندھ دیئے چہ…چہ۔‘‘
’’مجھے افسوس نہیں ہے افشاں اور نہ کوئی پچھتاوا ہے البتہ اس وقت ضرور دکھ ہوتا اگر جو میں کوئی خواب سجاتی اور خوشیوں کی آس لے کر کسی دوسرے گھر کا رخ کرتے ہوئے یہ بھول جاتی کہ میری سیاہ بختی دروازے پر کھڑی ہوگی۔‘‘ پھر اسے دیکھ کر بولی۔ ’’تم نہیں سمجھوگی۔‘‘
’’واقعی‘ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں تم سے ہمدردی کروں یا تمہیں شوٹ کردوں۔‘‘
’’یہ فیصلہ تو ابرار بھی نہیں کرسکے تھے۔‘‘ اس نے سوچا اور پھر ستاروں کے جھرمٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ ’’چھوڑو یہ سب اور دیکھو وہ ستارے آپس میں کیا باتیں کررہے ہیں۔‘‘
’’وہ سب مل کر تمہاری عقل پر ماتم کررہے ہیں۔‘‘ افشاں نے جل کر کہا تو وہ گہرے دکھ کے احساس میں گھرنے کے باوجود ہنس پڑی۔
ظ… ژظژ…ظ
چوتھے دن شام میں وہ گھر آئی تو گیٹ سے داخل ہوتے ہی تایا جی سے سامنا ہوگیا‘ وہ غالباً کہیں جارہے تھے۔ وہیں کھڑے کھڑے اس کے نانا کا افسوس کیا اور باہر نکل گئے۔ تب وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اماں موجود نہیں تھیں‘ پہلے اس نے سوچا ان کے پاس کچن میں چلی جائے لیکن پھر کسی خیال کے تحت وہیں بیٹھ گئی۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ابرار کی چیئر کی آواز آنے لگی‘ اس نے گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھا ہی تھا کہ وہ کھلتا چلا گیا اور ابرار اندر آگئے۔
’’مجھے بلا لیتے۔‘‘ وہ یونہی کہہ گئی۔
’’کیوں‘ کیا میں یہاں نہیں آسکتا۔‘‘ وہ ہونٹوں تک آئی گہری سانس کو دوبارہ سینے کے اندر اتار کر دوسری طرف دیکھنے لگی تو وہ پتہ نہیں کیا سمجھ کر بولے۔
’’آئی ایم سوری‘ مجھے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ وہ خاموش رہی۔
’’کیا ناراض ہو؟‘‘
’’نہیں میں کیوں ناراض ہوں گی۔‘‘
’’اب آگے یہ مت کہہ دینا کہ میرا آپ سے ناطہ ہی کیا ہے۔‘‘ اس نے چونک کر دیکھا تو فوراً بات بدل گئے۔
’’تمہارے نانا کا افسوس ہوا‘ میں وہاں آنا چاہتا تھا لیکن…‘‘
’’تائی جی کہاں ہیں؟‘‘ وہ انہیں احساس محرومی میں گھرنے سے بچانے کی خاطر فوراً بول پڑی۔
’’اپنے کمرے میں پڑی سوگ منا رہی ہیں۔‘‘ ان کے لہجے میں اچانک تلخی گھل گئی۔
’’کیا! کس بات کا؟‘‘ وہ سچ مچ پریشان ہوگئی۔
’’فرحی کی شادی کا۔‘‘
’’فرحی کی شادی…!‘‘ وہ الجھنے لگی اور ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھتے ہوئے بولی۔ ’’کیا کہہ رہے ہیں ابرار آپ‘ میری سمجھ میں بالکل نہیں آرہا۔‘‘
’’اس میں نہ سمجھنے والی کون سی بات ہے۔‘‘ وہ کوشش کے باوجود اپنے لہجے کو نارمل نہیں رکھ سکے۔ یوں بتانا چاہا جیسے معمول کی کوئی بات ہو لیکن لہجے میں تاسف اور چہرے پر کرب چھپائے نہ چھپے۔ ’’فرحی نے اپنے کلاس فیلو زبیر کے ساتھ کورٹ میرج کرلی ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ اس کے صرف ہونٹ نیم وا ہوئے اور غیر یقینی سے انہیں دیکھے گئی تو وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولے۔
’’یہ کوئی ایسی غیر متوقع بات تو نہیں ہے جو تم اتنی حیران ہورہی ہو‘ کیا تم نہیں جانتیں کہ یہاں ہر شخص اپنی من مانی کرتا ہے۔‘‘ پھر ذرا سا جھکے اور ایک دم اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کو بولے۔
’’من مانی تم نے کیوں نہیں سیکھی۔‘‘
’’ابرار…‘‘ تکلیف کی شدت سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا‘ پتہ نہیں وہ اچانک دیوانے ہوکر سنگ دلی کی انتہا کیوں کر جاتے تھے۔
’’اگر شروع سے اس گھر کے اصول اپنا لیتیں تو آج ایک اپاہج کے رحم وکرم پر نہ ہوتیں‘ اب بھی و قت ہے جائو بھاگ جائو۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ اس نے ہاتھوں سے چہرہ چھپانا چاہا لیکن ہمیشہ کی طرح انہوں نے فوراً روک دیا۔
’’خبردار جب میں مر جائوں تب ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونا۔‘‘
’’خدا کے لیے ابرار‘ ایسی باتیں مت کریں۔‘‘
’’مجھے تم سے شدید نفرت ہے رابعہ‘ اس لیے کہ اس گھر پر ٹوٹنے والی ساری قیامتیں تمہارے وجود کی مرہون منت ہیں۔‘‘ انہوں نے ایک جھٹکے سے اس کے بالوں کو چھوڑا تو وہ پیچھے جاگری۔
’’ہاں‘ میں منحوس ہوں۔‘‘ اس نے روتے ہوئے اعتراف کیا۔
’’منحوس نہیں تم…‘‘ پتہ نہیں کیا کہنے جارہے تھے کہ ہونٹ بھینچ گئے اور کرسی کے ہتھے پر زور زور سے ہاتھ مارنے لگے‘ جیسے خود پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہوں پھر کسی حد تک اپنی کوشش میں کامیاب ہوکر بولے۔
’’پتہ نہیں‘ تم کب سمجھوگی‘ ایسا کرو جاکر ا پنی تائی جی کو مبارک باد دو‘ ان کے سامنے اونچے اونچے قہقہے لگا کر ان کا مذاق اڑائو۔‘‘ اسے ان کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا۔
’’تم کیا سمجھ رہی ہو‘ میں پاگل ہوگیا ہوں۔‘‘ وہ پل میں اس کے تاثرات جان گئے۔
’’نہیں۔‘‘
’’تو پھر جائو جیسا میں کہہ رہا ہوں‘ ویسا کرو۔‘‘ وہ اتنی زور سے دہاڑے کہ وہ فوراً کھڑی ہوئی اور اس سے کہیں زیادہ تیزی سے کمرے سے نکل آئی لیکن تائی جی کے پاس جانے کے بجائے رخشی کے کمرے میں آکر دروازہ اندر سے بند کرلیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’ارے۔‘‘ رخشی نے حیران ہوکر اسے دیکھا۔ ’’کیا ہوا رابعہ؟‘‘
’’رخشی آپا…‘‘ وہ رخشی کے سامنے آبیٹھی۔
’’ابرار پتہ نہیں کیسی باتیں کررہے ہیں۔‘‘
’’ابرار بھائی تو بس۔‘‘ رخشی بڑبڑاتے ہوئے اٹھی اور اس کے لیے پانی لے آئی۔ گلاس اس کے ہونٹوں سے لگا یا پھر باقی پانی ہاتھ میں لے کر اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’تمہیں پتہ تو ہے ابرار بھائی کا پھر خوامخواہ ان کی باتوں پر کیوں کڑھتی ہو‘ کیا تمہارے نانا کے گھر رہ جانے پر خفا ہورہے ہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’فرحی باجی کی شادی کا بتایا پھر مجھے الزام دینے لگے کہ اس گھر پر ساری قیامتیں میری وجہ سے ٹوٹتی ہیں۔‘‘ وہ تواتر سے بہتے ہوئے آنسوئوں کو مسلسل دوپٹے سے صاف کرتے ہوئے بولی۔ ’’شاید وہ مجھے منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘
’‘’نہیں ایسا مت کہو۔‘‘
’’پھر رخشی آپا وہ مجھے کیوں الزام دے رہے ہیں جبکہ میں تو یہاں تھی ہی نہیں۔‘‘ اس کی سادگی سے پوچھنے پر رخشی کچھ دیر تک اسے دیکھتی رہی پھر گہری سانس لے کر بولی۔
’’وہ تمہیں الزام نہیں دے رہے اور سچ پوچھو رابعہ تو میں بھی یہی کہوں گی کہ اس گھر پر ساری قیامتیں تمہاری وجہ سے ٹوٹتی ہیں۔‘‘
’’رخشی آپا… آپ…‘‘ وہ رونا بھول گئی‘ تاسف سے بولی۔ ’’آپ بھی مجھے منحوس کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’بیوقوف ہو تم‘ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔‘‘
’’کہا نہیں‘ سمجھتی تو میں ہوں اگر میری وجہ سے آپ سب پریشان ہیں تو میں یہاں سے چلی جاتی ہوں لیکن کہاں جائوں‘ اب تو نانا بھی نہیں رہے۔‘‘
’’رابعہ… رابعہ۔‘‘ رخشی زچ ہوکر بولی۔ ’’اب میں تمہیں کیا کہوں کیسے سمجھائوں تمہیں‘ چلو اٹھ کر منہ ہاتھ دھو‘ میں چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘
’’آپ بیٹھیں رخشی آپا‘ چائے میں لے آتی ہوں۔‘‘
’’نہیں تم منہ ہاتھ دھو۔‘‘ رخشی اسے باتھ روم کی طرف دھکیل کر کمرے سے نکل گئی تو اس نے جلدی جلدی منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور تولیے سے صاف کرکے دوبارہ کمرے میں آبیٹھی۔ رخشی چائے لے کر آئی تو وہ اپنی پیشانی انگلیوں سے دبا رہی تھی۔
’’کیا سر میں درد ہورہا ہے؟‘‘
’’جی‘ اگر آپ کے پاس کوئی ٹیبلٹ ہو تو…‘‘
’’ہاں یہ لو۔‘‘ رخشی نے دراز میں سے ٹیبلٹ نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھی پھر چائے کا مگ اسے تھما کر بولی۔
’’ذرا ذرا سی بات پر رویا مت کرو اور تمہیں ابرار بھائی سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے‘ وہ ایک بار چیخیں تم دس بار چیخ لیا کرو۔ خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے بلکہ وہ ٹھیک ہی ایسے ہوں گے۔‘‘
’’نہیں میں ان کے سامنے نہیں چیخ سکتی۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اس طرح تو رخشی آپا‘ انہیں اپنی معذوری اور محرومی کا احساس اور زیادہ ہونے لگے گا کہ میرے چلانے پر وہ اٹھ کر میرے منہ پر تھپڑ بھی نہیں مار سکتے۔‘‘ خشی یوں سناٹے میں آئی کہ اس پر سے نظریں ہٹانا بھول گئی۔
’’کیا میں غلط کہہ رہی ہوں؟‘‘ وہ رخشی کی نظروں سے گھبرا کر بولی۔
’’نہیں۔‘‘ رخشی نے نہیں کی صورت گہری سانس لی پھر بیڈ کی پٹی پر سر رکھتے ہوئے بولی۔
’’تمہاری یہی ادائیں تو ہمیں مارے ڈال رہی ہیں رابعہ‘ تم جھک کر بھی اونچے مقام پر کھڑی ہو اور ہم سر اٹھا کر بھی پاتال میں دھنسے جارہے ہیں۔‘‘
’’رخشی آپا۔‘‘ اس نے حیران ہوکر رخشی کی آنکھوں میں اترتی نمی دیکھی جسے چھپانے کی خاطر ہی وہ پلکیں موند گئی تھیں۔
ظ… ژظژ…ظ
اسے اب سچ مچ اس گھر سے وحشت ہونے لگی تھی جہاں ہر دم سناٹوں کا راج ہوگیا تھا۔ ابرار زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہتے‘ رخشی نے کسی ایڈورٹائزنگ کمپنی میں جاب کرلی تھی اور صبح کی گئی شام کو لوٹتی‘ گو کہ تائی جی نے بہت مخالفت کی تھی لیکن وہ شاید گھر بیٹھے بیٹھے بور ہوگئی تھی اور فراز تو ویسے بھی گھر میں کم ہی ٹکتا تھا‘ میٹرک میں دوبارہ فیل ہونے کے بعد اس نے پڑھائی چھوڑ دی تھی پھر تایا جی نے بہت کوشش کی کہ وہ ان کے ساتھ آفس جایا کرے تاکہ کچھ تجربہ حاصل کرسکے لیکن خود اس کا کہنا تھا کہ ابھی اس کے کھیلنے کھانے کے دن ہیں‘ وہ زندگی کو انجوائے کرنا چاہتا ہے‘ جب وقت آئے گا تب آفس بھی سنبھال لے گا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ زندگی کو کس طرح انجوائے کررہا ہے‘ صبح کا گیا رات میں گھر آتا تھا اور کبھی تو وہ دو دو دن نظر نہیں آتا تھا۔
تایاجی اور تائی جی اسے سمجھانے میں ناکام ہوگئے تو دونوں ایک دوسرے کو الزام دینے لگے تھے‘ سارا دن وہ ہوتی اور اس کی تنہائیاں‘ کبھی اماں کے ساتھ کام میں ان کا ہاتھ بٹاتی لیکن اب پتہ نہیں کیوں اس کا کسی کام میں دل نہیں لگتا تھا‘ بہت جلد اکتا کر اپنے کمرے میں آبیٹھتی یا پھر برآمدہ اس کا منتظر ہوتا جہاں بیٹھ کر وہ ایک ایک کے بارے میں سوچتی اور اب بھی اسے سب پر رحم آتا۔
وہ فرحی کے بارے میں بھی ضرور سوچتی تھی جو ماں باپ کو رسوائیاں بخش کر خود نئی دنیا آباد کر بیٹھی تھی۔ اس کا دل چاہتا وہ کسی دن چپکے سے جاکر اس کی دنیا میں جھانک آئے کہ وہ کتنی خوش ہے‘ پھر وہ اس کی خوشی کے لیے دعا بھی ضرور کرتی اور جب وہ ایک ایک کو سوچ لیتی تو آخر میں اسے اپنا خیال آتا۔
پتہ نہیں میرے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہی‘ شاید رخشی آپا کی طرح میں بھی اپنی دشمن خود ہوں‘ میں نے کیوں ابرار سے شادی کے لیے ہامی بھرلی۔ میں منع بھی تو کرسکتی تھی اور شاید ابرار بھی یہی چاہ رہے تھے کہ میں منع کردوں پھر؟ اس تمام عرصے میں پہلی بار وہ اپنا محاسبہ کرنے بیٹھی تھی کہ اماں نے پکار لیا۔
’’کیا بات ہے اماں؟‘‘ اس نے اندر آکر پوچھا۔
’’ابرار بلارہا ہے تمہیں۔‘‘
’’مجھے…!‘‘ اسے حیرت ہوئی کیونکہ اس روز کے بعد سے انہوں نے اس سے بات ہی نہیں کی تھی‘ کچھ دیر سوچنے کے بعد ان کے کمرے کی طرف آئی تو پہلے دروازے پر دستک دی‘ اندر سے کوئی جواب نہیں آیا پھر دوبارہ اور سہ بارہ دستک پر بھی خاموشی رہی۔ تب اس نے ذرا سا دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو ابرار نا صرف سامنے بیٹھے بلکہ نظریں بھی دروازے پر جمی ہوئی تھیں اور ظاہر ہے دروازہ کھلا تو نظروں کی گرفت میں وہ آگئی‘ جبھی وہیں سے پلٹ جانا ممکن نہیں رہا‘ فوراً سنبھل کر اندر آئی اور محض خود پر سے ان کا دھیان ہٹانے کی غرض سے بولی۔
’’آپ نے دستک کا جواب نہیں دیا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ وہ کسی خیال سے محظوظ ہوکر بولے۔ ’’میں دیکھنا چاہتا تھا تمہاری دستک میں کتنا اثر ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ بالکل نہیں سمجھی۔
’’مطلب یہ کہ دستک تم وہاں دو اور دروازہ میرے دل کا کھلے۔‘‘
’’جن دروازوں پر قفل لگے ہوں‘ وہ صرف دستک سے نہیں کھلتے۔‘‘ وہ پتہ نہیں کیسے کہہ گئی۔
’’شاید تم ٹھیک کہتی ہو اور تم کھڑی کیوں ہو‘ بیٹھ جائو۔‘‘
’’آپ نے کسی کام سے بلایا ہے؟‘‘ وہ ان کی بات نظر انداز کرکے پوچھنے لگی۔
’’نہیں بس یونہی تم سے باتیں کرنا چاہ رہا تھا اگر تمہیں کوئی کام نہ ہو تو بیٹھ جائو۔‘‘ وہ خاصے تکلف سے بیٹھی‘ تو وہ ٹوک کر بولے۔
’’آرام سے بیٹھو‘ میں تمہیں کھا نہیں جائوں گا۔‘‘
’’آپ سے کچھ بعید بھی نہیں۔‘‘ اس نے سوچا اور قدرے آرام دہ حالت میں بیٹھ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’کیا کررہی تھیں؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں بلکہ اب تو کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ سارا دن یونہی فراغت میں گزر جاتا ہے۔‘‘
’’کیا کرنا چاہتی ہو؟‘‘
’’میں…‘‘ وہ اپنے آپ پر ذرا سا ہنسی لہجے میں تاسف بھی اپنی ذات کے لیے تھا۔ ’’میں کیا کرسکتی ہوں‘ اپنی اب تک کی زندگی میں جب یہ ہی نہیں جان سکی کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوتا رہا ہے یا ہورہا ہے‘ اس میں میرا دوش کتنا ہے‘ آپ کہتے ہیں اس گھر میں ٹوٹنے والی قیامتوں کی ذمہ دار میں ہوں‘ رخشی آپا سے کہا تو انہوں نے بھی آپ کی تائید کردی اور میں اس روز سے الجھ رہی ہوں کہ میں نے تو کبھی کسی کے لیے غلط انداز سے سوچا تک نہیں‘ کبھی شکوہ نہیں کیا پھر آپ نے کیسے میرے سر الزام رکھ دیا‘ مجھے بتائیں ابرار کیوں۔‘‘
’’کیوں کا جواب تم خود کھوجو رابعہ‘ خود۔‘‘ انہوں نے ایک بار پھر یہ ذمہ داری اس پر ڈال دی پھر پوچھنے لگے۔ ’’اور کیا کیا سوچا کرتی ہو‘ میرامطلب ہے جب فراغت ہی فراغت ہو تو ذہن مختلف خیالات کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔‘‘
’’ہاں لیکن آپ جانتے ہیں کہ میری دنیا اس چار دیواری کے اندر تک محدود ہے اور میری سوچیں بھی اس سے باہر نہیں نکلتیں۔‘‘
’’تب تو تمہیں منفی انداز سے سوچنا چاہیے کیونکہ یہاں کوئی بھی تم سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔‘‘ اس کے خاموش رہنے پر کہنے لگے۔ ’’تم سب کے رویوں کو سرے سے محسوس ہی نہیں کرتیں‘ یا قصداً نظرانداز کردیتی ہو۔‘‘
’’نظر انداز کرنا میری مجبوری ہے۔‘‘ اس کی صاف گوئی پر انہوں نے چونک کر دیکھا۔
’’کیا مجبوری ہے؟‘‘
’’آپ سمجھ سکتے ہیں‘ یہاں میری طرف داری میں بولنے والا کون ہے‘ کوئی بھی نہیں۔ میں اگر سب کے رویوں کے جواب میں ویسا ہی رویہ اختیار کرلوں تو کون برداشت کرے گا۔ آپ…؟‘‘ اس نے براہ راست ان کی آنکھوں میں دیکھا پھر نفی میں سر ہلا کر بولی۔ ’’نہیں بلکہ آپ تو سب سے پہلے مجھے یہاں سے نکل جانے کا حکم سنائیں گے اور پھر میں کہاں جائوں گی‘ میرا تو کوئی بھی نہیں ہے‘ ایک اماں ہیں جنہیں اب تک اپنی حیثیت نہیں بھولی‘ اور میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ جب انہوں نے مجھے اپنی بیٹی بنا لیا تھا تو پھر مجھے رشتوں کی پہچان کیوں دی‘ کیا ہی اچھا ہوتا جو میں ایک آیا کی بیٹی بن کر آپ سب کا تحقیر آمیز سلوک برداشت کرتی اور دل ہی دل میں سب کو گالیاں بھی دیتی۔‘‘
’’کیا اب گالیاں نہیں دیتیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیا میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ کیوں کا جواب آپ خود کھوجیں۔‘‘ وہ ہلکی سی بے ساختہ مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلانے لگے تو اس نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ وہ اچانک کسی بات پر غصے میں آجائیں‘ اسے ان کے سامنے سے ہٹ جانا چاہیے‘ فوراً پوچھنے لگی۔
’’میں جائوں۔‘‘
’’نہیں‘ جب تمہیں اور کوئی کام ہی نہیں ہے تو یہیں بیٹھی رہو۔‘‘ وہ ذرا سا پہلو بدل کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی‘ شام گہری ہوکر رات میں ڈھلنے لگی تھی۔ ہوا بالکل ساکت تھی‘ باہر کی فضا میں کوئی ہلچل نہیں تھی‘ اونچے اونچے درخت خاموش کھڑے تھے‘ اسے ایک دم گھٹن کا احساس ہونے لگا‘ گہری سانس لے کر ابرار کی طرف دیکھا۔ وہ سگریٹ سلگانے میں مصروف تھے‘ پھر ڈھیر سارا دھواں اس کی طرف اچھال دیا تو کچھ دیر کو وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
’’میرا خیال ہے تمہیں میری باتیں بور کرتی ہیں۔‘‘ جیسے ہی دھند چھٹی وہ اسے دیکھ کر بولے تو اسے کہنا پڑا۔
’’نہیں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انہوں نے تعجب سے دہرایا پھر ذرا سے کندھے اچکا کر رہ گئے۔
’’آپ سارا دن کمرے میں بند رہ کر بور نہیں ہوتے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ اس کے انداز میں بولے تب وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اماں اکیلی کچن میں ہیں‘ مجھے ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔‘‘
’’یونہی کہہ دو کہ جانا چاہتی ہو۔ بہانا ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘
’’اگر آپ نہیں چاہتے تو میں نہیں جاتی۔‘‘
’’نہیں جائو۔‘‘ وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی تو اچانک پکار کر بولے۔
’’سنو میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا لیکن وقت تمہیں ضرور بتائے گا کہ تم کبھی بھی تنہا نہیں تھیں۔‘‘ وہ ان کی بات پر رک کرا نہیں دیکھنے لگی پھر کمرے سے نکلی تو افسردہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی۔
ظ… ژظژ…ظ
ابرار احمد‘ اپنے کمرے میں آکر اس نے سوچا۔
’’جب دل ہر بات سے سمجھوتہ کرکے ٹھہر سا گیا ہے تو تم بہلانے کی بات کرتے ہو ورنہ حقیقت تو تم بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ کوئی اور تو کیا تم بھی میرے نہیں ویسے حیرت ہے کہ آج تمہیں کسی بات پرغصہ نہیں آیا۔
’’رابعہ!‘‘ اماں نے اندر آکر آہستہ سے پکارا تو وہ چونک کر دیکھنے لگی‘ تب اماں آواز دبا کر سرگوشی میں بولیں۔
’’فرحی آئی ہے‘ زبیر کے ساتھ دیکھو اب کوئی ہنگامہ نہ اٹھ کھڑا ہو۔‘‘
’’فرحی باجی…‘‘ وہ فوراً کھڑی ہوئی اور اماں کے منع کرنے کے باوجود کمرے سے نکل کر لائونج میں آئی تو فرحی اور زبیر اجنبیوں کی طرح کھڑے نظر آئے۔ تائی جی اور رخشی پتہ نہیں کہاں تھیں‘ وہ خود ہی بڑھ کر فرحی کے گلے لگی۔
’’یہ میری بھابی ہے۔‘‘ فرحی نے زبیر سے اس کا تعارف کرایا تو وہ سلام کرنے کے بعد بولی۔
’’آپ بیٹھیں ناں۔‘‘
’’امی کہاں ہیں؟‘‘ فرحی ادھر ادھر دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’اپنے کمرے میں ہوں گی۔‘‘
’’تو پہلے ان سے پوچھ آئو کہ ہمیں بٹھانا ہے یا دھکے دے کر نکالنا ہے۔‘‘ فرحی نے زبیر کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنسنے لگا اور اس کی سمجھ میں نہیں آیا کیا کرے پھر سوچ کر بولی۔
’’میں رخشی آپا کو بلاتی ہوں۔‘‘
’’ضرور بلائو‘ لیکن بیٹھیں گے ہم امی ابو کی اجازت سے۔‘‘ اپنی بات کہہ کر فرحی بڑے آرام سے ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی تو وہ جلدی سے رخشی کے کمرے میں آئی لیکن وہ ابھی تک آفس سے نہیں لوٹی تھی‘ تائی جی کے پاس جانے کی اس میں ہمت نہیں تھی تب کچھ سوچ کر ابرار کے کمرے میں آگئی‘ اور ظاہر ہے کچھ بدحواس اور کچھ جلدی میں تھی‘ اس لیے بنا دستک دیئے ہی اندر داخل ہوگئی۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ وہ اس کے چہرے پر گھبراہٹ دیکھ کر پوچھنے لگے۔
’’پہلے وعدہ کریں‘ آپ خفا نہیں ہوں گے۔‘‘
’’ایسی کیا بات ہے؟‘‘
’’وہ… فرحی باجی آئی ہیں‘ ان کے ساتھ زبیر بھائی بھی ہیں۔‘‘ ’’آپ پلیز تائی جی کو بتادیں اور ان سے یہ بھی کہیں کہ وہ ان دونوں پر خفا نہ ہوں۔‘‘ وہ جلدی جلدی بتا رہی تھی اور اسی طرح ان کی پیشانی پر شکنیں بڑھتی گئیں‘ جیسے ہی وہ خاموش ہوئی‘ ناگواری سے بولے۔
’’کیوں آئی ہے وہ؟‘‘
’’آپ سب سے ملنے۔‘‘
’’لیکن ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
’’نہیں ابرار…‘‘ وہ بے اختیار ان کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی۔ ’’تعلق توڑنے کی بات نہ کریں وہ اگر خوش ہیں تو آپ ان کی خوشی میں خوش ہوجائیں‘ پلیز ابرار میری خاطر۔‘‘
’’رابعہ۔‘‘ اسی کی طرح بے اختیار ہوکر انہوں نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔ ’’امی کو سمجھانا بہت مشکل ہے۔‘‘
’’آپ کوشش تو کریں۔‘‘
’’اچھا تم چلو میں آتا ہوں۔‘‘
’’میرے ساتھ چلیں۔‘‘ اس نے ان کی چیئر پر ہاتھ رکھے اور دھکیلتی ہوئی لائونج میں آئی تو وہ دونوں اسی طرح کھڑے تھے۔
’’یہ ابرار بھائی ہیں۔‘‘ فرحی نے زبیر سے کہا تو وہ انہیں سلام کرکے اسے دیکھنے لگا اور اس کی نظروں میں اپنے لیے تاسف اور رحم محسوس کرکے اسے بڑا عجیب سا لگا‘ بالکل غیر محسوس طریقے سے کرسی چھوڑ کر پیچھے ہٹی پھر اپنے کمرے میں آگئی‘ اس کے بعد اس نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آیا تائی جی اور تایا جی نے ان دونوں کو گلے لگایا یا نکال باہر کیا۔ جب کھانے کے لیے خاص طور سے اس کا بلاوا آیا تب ٹیبل پر ان دونوں کو دیکھ کر وہ ازخود جان گئی کہ تائی جی لاکھ خفا ہوئی ہوں پھر بھی معاف کرچکی ہیں۔ بہرحال بڑے دنوں بعد سب اچھے موڈ میں نظر آئے‘ تایاجی‘ زبیر سے اس کی جاب وغیرہ کے بارے میں پوچھتے رہے پھر شاید وہ کافی حد تک مطمئن ہوگئے تھے۔ کھانے کے بعد ابرار اپنے کمرے کی طرف جارہے تھے کہ زبیر اس سے کہنے لگا۔
’’بھابی آپ جائیں ابرار بھائی کو آپ کی ضرورت ہوگی۔‘‘ اس نے ابرار کے پیچھے نظر دوڑائی اور اس کی بات ان سنی کرکے برتن سمیٹنے لگی۔
’’کیا حادثہ ہوا تھا ابرار بھائی کے ساتھ؟‘‘ زبیر ہمدردی جتاتے ہوئے پوچھنے لگا۔ اس نے قصداً جواب دینے سے گریز کیا کہ ہوسکتا ہے کوئی کسی فرضی حادثے کی داستان سنائے لیکن رخشی نے سچ بول دیا۔
’’کوئی حادثہ نہیں ہوا‘ ابرار بھائی پیدائشی ایسے ہیں۔‘‘
’’کیا؟‘‘ زبیر کے منہ سے حیرت بھری آواز نکلی تو تائی جی آہ بھر کر بولیں۔
’’بس اللہ کی مرضی۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے آنٹی لیکن…‘‘ وہ بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا تو وہ جلدی سے ٹرے اٹھا کر کچن میں آگئی اور پھر فرحی اور زبیر کے جانے کے بعد ہی وہاں سے نکلی۔
ظ… ژظژ…ظ
کتنی عجیب بات تھی کہ جو اپنے تھے انہیں کبھی احساس ہی نہیں ہوا تھا اور جو غیر تھا اسے نہ صرف خود احساس ہوا بلکہ اسے بھی احساس دلایا گیا تھا پھر بھی وہ خود پر اس احساس کو طاری نہیں کرنا چاہتی تھی‘ اس لیے جب بھی زبیر کی بات یاد آتی تو فوراً سر جھٹک دیتی اور خود کو کسی نہ کسی کام میں مصروف کرلیتی۔ اس وقت کوئی کام نہیں تھا تو وہ ٹی وی کھول کر بیٹھ گئی گو کہ کوئی خاص پروگرام نہیں آرہا تھا لیکن وہ محض اوٹ پٹانگ خیالات سے بچنے کی خاطر بڑی توجہ سے دیکھنے لگی‘ رخشی آفس سے آئی تو وہ بھی وہیں بیٹھ گئی۔ خاصا ڈھیلا ڈھالا انداز تھا اس کا چند لمحے اسکرین پر دیکھ کر اس سے بولی۔
’’کیا بور پروگرام دیکھ رہی ہو۔‘‘
’’اسے اور کام ہی کیا ہے؟‘‘ تائی جی سنتی ہوئی آگئیں‘ فوراً ٹی وی بند کردیا۔ اس وقت فون کی بیل بجنے لگی تو رخشی نے ہاتھ بڑھا کر ریسیور اٹھا لیا۔ دوسری طرف جانے کون تھا اور کیا کہہ رہا تھا کہ وہ جو ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیٹھی تھی‘ فوراً سیدھی ہوئی اور توجہ سے سننے لگی پھر فون بند کرکے تائی جی کو دیکھا اور صوفے کی پشت پر سر ٹکا دیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ تائی جی کا جیسے ماتھا ٹھنکا تھا۔
’’آپ کا لاڈلا سپوت فراز کار چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔‘‘ رخشی کا چہرہ اور لہجہ بالکل سپاٹ تھا۔
’’کیا…؟‘‘ تائی جی یقین کرنے پر تیار نہیں ہوئیں۔
’’کس کا فون تھا اور کیا کہہ رہا تھا؟‘‘
’’وسطی تھانے کا انسپکٹر حامد اور اس کا کہنا ہے کہ فراز پہلے بھی ایسی وارداتیں کرچکا ہے‘ آج وہ اور اس کے ساتھی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔‘‘
’’نہیں…!‘‘ تائی جی سینے پر ہاتھ رکھ کر وہیں ڈھے گئی تو وہ جلدی سے گلاس میں گلوکوز گھول لائی۔
’’جلدی سے اپنے ابو کو فون کرو۔‘‘ تائی جی نے کہا اور پھر خود ہی اٹھ کر نمبر ملانے لگیں۔ ادھر وہ نمبر ملا رہی تھیں کہ تایاجی آگئے‘ ان کی آواز سن کر انہوں نے سلسلہ منقطع کیا اور جیسے ہی پلٹیں‘ وہ گلاس ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔ اس سے ٹکرا گئی۔
’’منحوس تو تو سامنے سے ہٹ۔‘‘ اتنی زور سے اسے دھکا دیا کہ وہ دور جاگری‘ گلاس فرش پرگر کر چور چور ہوگیا اور اس کا ہاتھ کانچ پر جا پڑا تھا‘ پل میں اس کی ہتھیلی سرخ ہوگئی لیکن اسے پروا نہیں تھی۔ وہ فراز کے بارے میں جاننا چاہتی تھی‘ اس لیے وہیں بیٹھے بیٹھے تائی جی کی بات سننے لگی‘ وہ تایا جی سے کہہ رہی تھیں۔
’’میرا بچہ ایسا نہیں ہے‘ وہ تو بہت معصوم ہے‘ پتہ نہیں کن لڑکوں کے چکر میں پڑگیا ہے‘ آپ فوراً پتہ کریں بلکہ جاکر لے آئیں اسے۔‘‘ تائی جی باقاعدہ رونے لگیں اور اسے ہمیشہ ان پر رحم آیا کرتا تھا‘ اپنے ساتھ کی گئی ہر زیادتی بھلا کر وہ ان کے لیے کڑھتی تھی‘ ابھی بھی اگر وہ خود پر نظر ڈالتی تو اطراف میں کانچ ہی کانچ تھے‘ لیکن اسے وہ کانچ نظر نہیں آرہے تھے۔ بس ہر طرف تائی جی کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو تھے پھر اس نے تایا جی کی طرف دیکھا جو غالباً کسی منسٹر سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے تھے اور ان کے برابر بیٹھی رخشی‘ اس کے چہرے پر اب بھی کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں تھا۔ پھر تایا جی نے مایوس ہوکر ریسیور رکھ دیا تو تائی جی بے تابی سے پوچھنے لگیں۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’کوئی نہیں مل رہا‘ وزیر مشیر سب۔‘‘ تایاجی نے اسی قدر کہا تھا کہ رخشی اسی پرسکون انداز میں بولی۔
’’کوئی نہیں ملے گا ابو‘ اس وقت سب دروازے بند ہوچکے ہیں‘ آپ لاکھ کوشش کرکے دیکھ لیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ سارے اختیار آپ کو یا وزیروں ‘ مشیروں کو ہی حاصل ہیں اور اس زمین پر جو چاہے کرتے پھریں گے‘ اس بااختیار ہستی کو کیوں بھول گئے جس کے سامنے ہماری حقیقت ایک ذرے سے بھی کمتر ہے۔ اس لڑکی کو دیکھیں۔‘‘ اس نے رابعہ کی طرف اشارہ کیا تو تائی جی بول پڑیں۔
’’یہ منحوس ابھی تک…‘‘
’’منحوس نہیں امی‘ مظلوم کہیے۔‘‘ رخشی ٹوک کر بولی۔ ’’کیا آپ کو معلوم نہیں کہ خدا اور مظلوم کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا‘ اس کی آہ اور فریاد عرش تک کو ہلا دیتی ہے اور یہ تو ایک گھر ہے معمولی سا گھر۔‘‘
’’کیا کہنا چاہتی ہو تم؟‘‘
’’میں آپ سے صرف یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کبھی آپ نے سوچا کہ اتنی حکمت عملی کے باوجود آپ دونوں زندگی میں اس بری طرح ناکام کیوں ہیں‘ اولاد کا دکھ‘ حالات کی گردش‘ کچھ دن نہیں گزرتے کہ ایک نئی مصیبت کھڑی ہوجاتی ہے‘ آخر کیوں؟‘‘
’’آپ نہیں بتاسکتے لیکن میں بتاسکتی ہوں‘ اس لیے کہ اس یتیم اور مظلوم لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھنے کی بجائے آپ نے اس کا حق مارا ہے۔‘‘
’’نہیں رخشی آپا۔‘‘ اس نے بے حد دہل کر گھٹنوں میں منہ چھپا لیا۔
’’یہی بات ہے۔‘‘ وہ زور دے کر بولی۔ ’’آپ بتائیے ابو آپ نے شہزاد چچا کے گھر اور کاروبار پر کس حساب سے اور کس نیت سے قبضہ کیا اگر رابعہ اس وقت چھوٹی تھی تو آپ اس کے سرپرست بن سکتے تھے اور اس وقت بھی آپ کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ اس کے مال سے آپ خود پر اور اپنے اہل وعیا ل پر خرچ کرتے۔ آپ نے تو حد ہی کردی کہ جو مالک تھی اسے کنارے ڈال دیا اگر اپنی اولاد کے برابر درجہ دیتے‘ تب بھی بخشش کی گنجائش نکل سکتی تھی لیکن آپ مسلسل اپنے لیے آگ خریدتے رہے کہ وہ وقتاً فوقتاً آزمائش میں ڈال کر تنبیہہ کرتا ہے کہ اپنے اعمال درست کرلو اور یہ ہماری نادانی ہے کہ سمجھتے نہیں۔‘‘ قدرے توقف کے بعد کہنے لگی۔
’’ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو طاقوں میں سجا کر رکھ دیا ہے‘ پڑھتے بھی ہیں تو سمجھتے نہیں‘ سمجھتے ہیں تو عمل نہیں کرتے یہ ہم مسلمان ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب ہمارا کام مذہب کے نام پر صرف لڑنا رہ گیا ہے۔ مذہب ہمیں کن باتوں کی ترغیب دیتا ہے اور کن باتوں سے روکتا ہے‘ یہ جاننے کی ہم ضرورت ہی نہیں سمجھتے‘ کیوں ابو؟‘‘ اس نے باری باری اپنے ماں باپ کو دیکھا جو اچانک اپنا محاسبہ کیے جانے پر سناٹے میں آگئے تھے‘ تب وہ کہنے لگی۔
’’قرآن پاک میں ہے کہ جو خود یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں‘ وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور یہ کہ یتیموں کو ان کے مال دو اور ستھرے کے بدلے گندا نہ دو اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر نہ کھائو‘ بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔ اور ہم ایک خدا‘ ایک رسول کو ماننے والے‘ ان کے نام پر جان قربان کرنے کی صرف باتیں کرتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے‘ ہم جھوٹے ہیں‘ منافق ہیں۔‘‘
’’کیا کہہ رہی ہو رخشی۔‘‘ وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی تھی کہ تائی جی بول پڑیں۔
’’تمہارا مقصد کیا ہے‘ کیا تم ہمیں غاصب اور گناہ گار ثابت کرنا چاہتی ہو‘ یہی گناہ ہے ناں ہمارا کہ اپنا گھر بار چھوڑ کر اس کے پاس آرہے‘ دو مہینے کی تھی یہ جب اس کے ماں باپ کا انتقال ہوا اگر اس وقت ہم بھی اوروں کی طرح تین دن سوگ میں شریک ہوکر اپنے گھر جابیٹھتے تو کون دیکھتا اسے‘ کیا یہ گھر‘ یہ کاروبار اسی طرح سلامت رہتا‘ ہرگز نہیں۔ اور پھر ہم نے کون سے اس پرظلم توڑے ہیں‘ کھانے پینے میں کمی کی‘ پڑھایا لکھایا نہیں‘ شادی نہیں ہونے دی۔‘‘
’’ہاں سب کیا آپ نے لیکن اس طرح بھی نہیں جس طرح کوئی کسی پر ترس کھا کر کرتا ہے‘ میرا مقصد آپ کو گناہ گار ثابت کرنا نہیں ہے لیکن میں یہ ضرور چاہتی ہوں کہ آپ اپنی غلطی تسلیم کرلیں۔‘‘
’’بیٹا!‘‘ تایا جی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنے ساتھ لگانا چاہا لیکن وہ مچل کر پیچھے ہٹ گئی۔
’’ابھی بھی وقت ہے ابو‘ توبہ کے دروازے بند نہیں ہوئے‘ آپ امی کو سمجھائیے کہ اس لڑکی کو اس کا اصل مقام دیں‘ یقین کریں آپ کی اولاد پر آئی گردشیں آپ ہی آپ دور ہوجائیں گی ورنہ ہم ہمیشہ بھٹکتے رہیں گے‘ میں‘ ابرار بھائی‘ فراز‘ فرحی۔‘‘
’’رخشی آپا‘ خدا کے لیے بس کریں۔‘‘ وہ سر اٹھا کرکے عاجزی سے بولی‘ پھر تایا جی کے چہرے پر ندامت دیکھ کر کٹ کر رہ گئی‘ ایسا تو اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی اس کے سامنے نادم ہو اور تائی جی کی نظروں میں جانے کیا تھا‘ وہ راہ فرار ڈھونڈنے لگی۔ وہاں سے اٹھنے کی خاطر جیسے ہی کسی سہارے کے لیے ہاتھ اونچا کیا‘ ابرار جانے کب وہاں آگئے تھے اسے خبر ہی نہیں ہوئی تھی‘ انہوں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’میرے ساتھ آئو۔‘‘ اس کے چونکنے اور حیران ہوکر دیکھنے پر انہوں نے آہستہ آواز میں کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرکے اسے اٹھنے میں مدد دی۔
’’رابعہ!‘‘ تائی جی نے پتہ نہیں کیسے پکارا لیکن ابرار فوراً بول پڑے۔
’’اس کے ہاتھ سے بہت خون بہہ رہا ہے امی‘ میں اس کی بینڈیج کردوں۔‘‘ وہ اسے لے کر اپنے کمرے میں آگئے اور بیڈ پر بیٹھنے کا کہہ کر خود دراز میں سے بینڈیج‘ روئی اور جانے کیا کچھ نکال کر اس کے سامنے رکھتے گئے پھر بہت نرمی سے اس کی ایک انگلی تھام کر ہتھیلی اپنے سامنے کی تو پوچھنے لگے۔
’’کیا ہوا تھا؟‘‘
’’گلاس ٹوٹ گیا اور اس کا کانچ…‘‘ وہ اسی قدر کہہ سکی۔
’’میں تمہارے گرنے کی آواز سن کر ہی وہاں آیا تھا‘ کیسے گری تھیں؟‘‘
’’وہ صوفے سے ٹھوکر لگ گئی تھی۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ انہوں نے ایک اچٹتی نظر اس کے چہرے پر ڈالی پھر روئی میں اسپرٹ لگا کر اس کی ہتھیلی صاف کرنے لگے‘ وہ اتنے انہماک سے مصروف تھے جیسے دنیا میں بس یہی ایک کام ہو‘ اسی دوران وہ کبھی ان کے چہرے کو دیکھتی‘ کبھی بالوں کو اور کبھی نظریں ان کے ہاتھوں پر ٹھہر جاتیں‘ پھر انہوں نے سارا سامان واپس دراز میں رکھا اور واش روم سے ہاتھ دھونے آئے۔
’’میں جائوں؟‘‘ وہ جیسے ہی آئے اس نے پوچھا۔
’’کہاں؟‘‘
’’تائی جی کچھ کہہ رہی تھیں۔‘‘
’’ہاں لیکن ابھی تم یہیں بیٹھو۔‘‘ وہ اسے بیٹھے رہنے کا کہہ کر اپنی رائٹنگ ٹیبل کے پاس چلے آئے اور اس کی دراز میں جانے کیا تلاش کرنے لگے‘ کتنی دیر ہوگئی اسے الجھن ہونے لگی ۔ تائی جی کا خیال کرکے اٹھنا چاہتی تھی کہ وہ وہیں سے پکار کر بولے۔
’’سنو کیا تم نے جان لیا ہے کہ میں ہر واقعے کا ذمہ دار تمہیں کیوں ٹھہراتا رہا ہوں؟‘‘ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں یا کیا کہنے چاہتے ہیں‘ چپ چاپ ان کی طرف دیکھے گئی تو انہوں نے دراز بند کرکے اپنی چیئر کا رخ اس کی طرف موڑا پھر کہنے لگے۔
’’شاید تمہیں یاد ہو‘ میں نے تم سے کہا تھا کہ یا تو تم بہت سادہ ہو یا پھر انتہائی مکار اور میرے پوچھنے پر تم نے کہا تھا کہ جو میرا دل چاہے سمجھ لوں اور میں تو تمہیں بہت پہلے سے سمجھتا تھا رابعہ اور بہت حیران ہوتا تھا کہ بنانے والے نے جانے کس مٹی سے تمہارا خمیر اٹھایا ہے کہ تم اپنے ساتھ کی گئی زیادتیوں کو محسوس کرنے کے بجائے زیادتی کرنے والے کے حق میں دعا کرتی ہو‘ مجھے بتائو‘ اس گھر میں تمہیں کیا ملا؟‘‘ اس نے پہلے سر جھکایا پھر ان کی طرف سے ذرا سا رخ بھی موڑا۔
’’تم ہمیشہ خاموش کیوں رہیں رابعہ‘ کبھی کسی مقام پر تو احتجاج کرتیں‘ یہاں تک کہ مجھ جیسے ناکارہ وجود کے ساتھ تمہیں باندھا گیا تب بھی تم خاموش رہیں آخر کیوں؟‘‘ کچھ دیر رک کر اس کے جواب کا انتظار کیا پھر کہنے لگے۔
’’ہاں‘ یاد آیا تم نے کہا تھا نظر انداز کرنا تمہاری مجبوری ہے‘ اس لیے کہ کوئی تمہارا ساتھ دینے والا نہیں میں‘ رخشی‘ فرحی اور فراز‘ ہم سب تمہارے ساتھ تھے لیکن ہم چاہتے تھے کہ احتجاج میں پہل تمہاری طرف سے ہو کیونکہ مقابل کوئی غیر نہیں ہمارے ماں باپ تھے‘ یاد کرو کس کس مقام پر ہم نے تمہیں کس کس طرح اکسایا لیکن تم…‘‘ دکھ‘ تاسف‘ کی کیفیت انہیں بے بس کررہی تھی۔
’’ہمارے ماں باپ نہیں سمجھ سکے لیکن ہم جان گئے تھے کہ جب جب تمہارے ساتھ زیادتی ہوتی ہے‘ اوپر والا بدلے میں ہم پر آزمائش یا مصیبت ڈال دیتا ہے‘ جب ہی میں نے تم سے کہا کہ اس گھر پر ٹوٹنے والی قیامتوں کی ذمے دار تم ہو اور میں نے غلط نہیں کہا تھا‘ مجھے سچ مچ کبھی کبھی تمہاری معصومیت پر بہت رحم آتا اور کبھی میرا دل چاہتا تمہیں اتنی اذیت دوں کہ تم سسک سسک کر مر جائو… جب رخشی کو طلاق ہوئی… جب فراز بری صحبت میں پڑ کر پڑھنا لکھنا چھوڑ بیٹھا… جب فرحی اس گھر کی ناموس کو اپنے پیروں تلے روند گئی… اور اب فراز جرم کرتے ہوئے جیل تک جا پہنچا۔ ان ساری باتوں کی ذمہ دار تم ہو اور تمہاری خاموشیاں‘ تم اپنا معاملہ اوپر والے پر چھوڑ کر کتنے اطمینان سے ہوگئیں اور وہ تو بڑا منصف ہے۔ جہاں تم پر کوئی زیادتی ہوئی‘ اس نے بدلے میں ہمارے مقدروں پر سیاہی پھیر دی‘ اس لیے کبھی کبھی میر ادل چاہتا تمہارے وجود کو ختم کر ڈالوں تاکہ ایک ہی بار سب ختم ہوجائے۔‘‘
’’ابرار…!‘‘ وہ رو پڑی۔ ’’خدا گواہ ہے کہ میں نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔‘‘
’’میں جانتا ہوں اور اسی لیے تو ہم زیادہ گرفت میں آئے۔ اگر تم برا چاہتیں‘ احتجاج کرتیں‘ انصاف مانگتیں تب تو کہیں حساب برابر ہوتا‘ تم نے تو انجانے میں سب کچھ ہمارے کھاتے میں ڈال دیا۔‘‘ ان کی ہنسی میں دکھ تھا۔
’’بس کریں ابرار۔‘‘ اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپایا اور پہلی بار انہوںنے اسے روکا نہیں‘ چلائے نہیں‘ چپ چاپ اسے روتے ہوئے دیکھتے رہے‘ یہاں تک کہ وہ خود ہی چپ ہوگئی۔ دوپٹے سے چہرہ صاف کرتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں بولی۔
’’یہ بھی میرا جرم ہے کہ میں خاموش ہوں۔‘‘
’’میرے نزدیک۔‘‘
’’پھر تو اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ آپ کو کم از کم یہ خوف تو نہیں تھا کہ کوئی آپ کو گھر سے نکال دے گا‘ اس کے برعکس اپنی بات منوانا بھی جانتے تھے پھر مجھ سے شادی کے وقت آپ نے خاموشی کیوں اختیار کرلی جبکہ مجھ سے نفرت بھی کرتے ہیں۔‘‘ بات کے اختتام پر اس نے براہ راست ان کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ ہونٹ بھینچ کر سر جھکا گئے‘ تب وہ کہنے لگی۔
’’یقین کریں مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں رہا‘ اب بھی نہیں ہے‘ لیکن ایک ہی بات شدت سے کھٹکتی ہے کہ آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی؟‘‘
’’تو میں توڑ دیتا ہوں اس نام نہاد بندھن کو ابھی اسی وقت۔‘‘
’’کیا…!‘‘ وہ ایک دم سناٹے میں آگئی۔
’’ہاں‘ بشرط کہ تم خود کو دوسروں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑو گی۔ سنجیدگی سے اپنے بارے میں سوچ کر دیکھو‘ تم کسی طرح بھی رخشی‘ فرحی سے کم نہیں ہو بلکہ ان سے بہت بہتر ہو‘ ہر لحاظ سے اور تمہیں بہت اچھا ساتھی مل سکتا ہے۔‘‘
’’ابرار…‘‘ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی سی چیخ نما آواز نکلی۔
’’میں ٹھیک کہہ رہا ہوں رابعہ‘ میں تمہیں اپنے ساتھ باندھ کر نہیں رکھنا چاہتا‘ اتنی طویل زندگی مجھ اپاہج کے سہارے کیسے گزارو گی‘ جائو میں تمہیں آزاد…‘‘
’’نہیں ابرار۔‘‘ وہ پوری قوت سے چیخی اور ان کے سامنے سے بھاگ جانے کے ارادے سے اٹھی تھی لیکن دو قدم کے بعد ہی اوندھے منہ جا گری۔
جس وقت اسے ہوش آیا‘ اس نے دیکھا وہ ابرار کے کمرے میں ان کے بیڈ پر لیٹی ہے‘ تایاجی اور تائی جی اس کے سرہانے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ رخشی اور اماں سامنے کھڑی تھیں جبکہ اس ستم گر تک اس کی نظریں رسائی حاصل نہیں کرسکیں۔
’’کیسی ہو بیٹا؟‘‘ تائی جی نے اس پر جھک کر پوچھا اور سماعتوں نے کب ایسا شہد آگئیں لہجہ سنا تھا‘ پل میں آنکھیں یوں پانیوں سے لبریز ہوئیں کہ وہ خود کو کسی طرح نہیں روک سکی‘ ان کی گود میں منہ چھپا کر یوں مچل مچل کر روئی کہ سب پریشان ہوگئے۔
’’تائی جی! ابرار سے کہیں کہ اپنے ہاتھوں سے میرا گلہ گھونٹ دیں لیکن مجھے خود سے جدا نہ کریں۔‘‘ اور وہ جو اس کے رونے کے باوجود سنگ دلی سے انجان بنے بیٹھے تھے‘ اس کی بات پر چونک کر حیران ہوکر اسے دیکھا پھر پہیوں پر ہاتھ مارتے ہوئے چیئر بیڈ کے قریب لے آئے۔
’’کیا کہا ہے تم نے اس سے؟‘‘ تایاجی نے پوچھا تو انہوں نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا پھر رخشی کو جانے کیا اشارہ کیا کہ وہ کہنے لگی۔
’’ابو! آئیے ہم فراز کا پتہ کرتے ہیں‘ رابعہ کو ابرار بھائی دیکھ لیں گے۔‘‘
’’تائی جی! آپ نہ جائیں۔‘‘ وہ بہت ڈر رہی تھی۔
’’امی کو اور بھی بہت کام ہیں۔‘‘ انہوں نے ڈپٹ کر کہا تو اس نے جلدی سے تائی جی کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
’’ڈرو مت‘ میں یہیں ہوں۔‘‘ تائی جی نے جھک کر اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے تو اس کی مانگ میں چپکے سے دو ستارے آن سجے اور ابھی وہ ان ستاروں کی جھلملاہٹ میں خود کو دیکھنے کی کوشش کررہی تھی کہ پہلے تائی جی اور ان کے پیچھے سب کمرے سے نکل گئے۔ اچانک خاموشی کا احساس ہوا تو اس نے چونک کر دیکھا‘ ابرار اس پر نظریں جمائے بیٹھے تھے‘ دوسری طرف کروٹ بدلتے ہوئے بولی۔
’’مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘
’’لیکن میں تمہیں سونے نہیں دوں گا۔‘‘ وہ کچھ نہیں بولی۔ ’’ادھر دیکھو میری طرف۔‘‘ انہوں نے رعب سے کہا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
’’اچھا دیکھو مت‘ لیکن میری بات ضرور سنو۔‘‘
’’مجھے پتہ ہے آپ کیا کہیں گے۔‘‘ وہ روٹھے لہجے میں بولی۔
’’خیر اتنی عقل مند تو تم نہیں ہو جو بنا سنے سمجھ جائو‘ تمہیں تو ایک بات کو دس بار سمجھانا پڑتا ہے۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘ وہ بلا ارادہ ان کی طرف پلٹ کر بولی۔
’’بعض باتیں آپ ہی آپ سمجھ میں آجاتی ہیں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ اس کی شدت گریہ سے سرخ آنکھوں میں دیکھ کر ذرا سا ہنسے۔ ’’ذرا بتائو تو ابھی میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔‘‘
’’آپ اپنی صفائی بیان کرنا چاہ رہے ہیں ابرار احمد کہ آپ نے مجھ سے شادی اس لیے کی کہ آپ مجھے اس گھر میں میرا مقام دلانا چاہتے تھے لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ احساس بھی تھا کہ میں ایک معذور شخص کے ساتھ کیسے زندگی گزاروں گی‘ اس لیے مجھ سے نفرت کا اظہار کرتے رہے تاکہ میں آپ کی محبت میں گرفتار نہ ہوسکوں‘ اس کے برعکس آپ سے متنفر ہوکر اپنے لیے نئی راہیں تلاش کروں‘ مجھے یاد ہے آپ نے مجھے یہاں سے بھاگ جانے کا مشورہ بھی دیا تھا‘ چہ… چہ…‘‘ اس نے باقاعدہ تاسف کا اظہار کیا اور وہ اس قدر حیران تھے کہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکے‘ یہاں تک کہ اس پر جمی آنکھیں تک ساکت ہوگئی تھیں۔
’’یہی سب بتانا چاہ رہے ہیں ناں آپ مجھے۔‘‘ وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرا کر بولی تو وہ گہری سانس لے کر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
’’اس وقت مجھے آپ پر رحم آرہا ہے ابرار احمد اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر بعد میں آپ کو اذیت دینے کا سوچنے لگوں۔‘‘ وہ ان کی خجالت پر دل ہی دل میں محظوظ ہوکر بولی۔
’’کسی اور سے نہیں لیکن آپ سے میں ہر زیادتی کا حساب ضرور لوں گی‘ کہیے گنوانا شروع کروں‘ آپ کی زیادتیاں۔‘‘
’’نہیں… اس میں وقت ضائع کرنے کے بجائے سیدھے سیدھے سزا سنادو۔‘‘ وہ اس کی طرف نہیں دیکھ پارہے تھے حالانکہ دل میں یہ خواہش مچل رہی تھی کہ ان آنکھوں میں خوشیوں کے رنگ اترتے دیکھیں جن میں ہمہ وقت اداسیوں کا موسم بسیرا کیے رہتا تھا۔
’’سزا بھی سنائوں گی‘ پہلے آپ اعتراف تو کریں کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔‘‘
’’اور اگر میں یہ اعتراف نہ کروں تب؟‘‘
’’تب بھی میری محبت میں کوئی کمی نہیں آئی گی اور ابرار احمد محبت بھی کہیں چھپتی ہے‘ آپ لاکھ اس کے گرد نفرتوں کی دیواریں کھڑی کردیں‘ اس کی مہک اپنے زندہ ہونے کا پتہ دیتی ہے اور میں نے بہت پہلے اس مہک کو پالیا تھا پھر بھی خواب سجانے سے ڈرتی رہی اور اب آپ کی سزا یہ ہے…‘‘ وہ ایک جذب کے عالم میں بولتے ہوئے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئی اور ابرار احمد اپنی سزا سننے کے لیے پوری جان سے اس کی طرف متوجہ ہوگئے‘ کس قدر پرسکون ہوکر پلکیں موندھتے ہوئے وہ کہہ رہی تھی۔
’’حسین تعبیر کا وعدہ دے کر میری آنکھوں میں خواب سجادو۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close