Naeyufaq Nov-17

یاجوج ماجوج

ایم زیڈ شیخ

’’آبی‘‘ اور ’’تابی‘‘ یہ ان دو شیطان کے چیلوں کے نام تھے جموں و کشمیر کے سرحدی علاقے چکوٹھی (آزاد کشمیر) کے قریبی ایک قصبہ کے باسی یہ دو کزنز پورے قصبے میں ’’یاجوج ماجوج‘‘ کے نام سے مشہور تھے شرارتیں کرنے میں پی ایچ ڈی تھے بابا کریم ہو یا چچا پھتا انکل ساجد ہوں یا پھوپھی کلثوم، کریانہ والا ہو یا رکشے والا ہر شخص ہی ان دونوں سے پناہ مانگتا تھا۔
بابا کریم کے ساتھ جو چار سال پہلے کی شرارت تھی دونوں کو اب تک یاد تھی گو کافی حد تک بے ضرر تھی پر پھر بھی شکایت پر امی سے خاصی ’’گوشمالی‘‘ ہوئی تھی۔
بابا کریم کا محلے میں کھو کھا تھا، جس پر چند کھانے پینے کی اشیا موجود ہوتی تھیں بابا کریم اگر چہ کافی حد تک خوش اخلاق بزرگ تھے پر ایک دن انہوں نے کسی بات پر آبی اور تابی کو ڈانٹ پلا دی، بس پھر کیا تھا آبی اور تابی کو ایک مشن مل گیا ’’بابا جی‘‘ کی مٹی پلید کرنے کا پلان بنایا اور بابا جی پر اس کا اطلاق کر دیا گرمیوں کے دن تھے بابا کریم نے دوپہر کے کھانے پر مکئی کی روٹی اور پودینے کی چٹنی کے ساتھ ساتھ دو گلاس لسی کے بھی اپنے ’’پیٹ شریف‘‘ کو عنایت کردیے تھے دیسی دودھ کی بنی لسی ہو اور وہ بھی دو گلاس تو سمجھ لیجیے کہ آپ ’’ٹن‘‘ ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔ خمار اور نیند تو یوں دوڑی آتی ہے جیسے پہلی تاریخ کی شام اْدھار دینے والے دوکاندار گھروں کی طرف دوڑے آتے ہیں۔ قصہ مختصر کہ بابا جی ’’ٹن‘‘ ہونے لگے ہلکا ہلکا سا خمار پیٹ کے رستے آنکھوں میں اترا تو وہ سر عقبی دیوار سے لگا کر جمائیاں لینے لگے پھر آنکھ لگنے کی دیر تھی کہ ’’یاجوج ماجوج‘‘ کی جوڑی نے درخت سے نیچے چھلانگ لگائی اور آہستہ آہستہ بابا کریم کے ’’کھوکھے‘‘ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ قریب آکر آبی نے آہستہ سے پکارا پر بابا جی نے ہلکی سی ہنہہ… کر کے ’’خراٹا خوانی‘‘ جاری رکھی اْن کے خراٹوں سے ٹریکٹر چلنے کی آواز نکل رہی تھی. تابی نے محلے کی طرف منہ کرکے چوکنے انداز میں پہرہ دینا شروع کر دیا کہ کوئی آ نہ جائے جبکہ آبی نے مشن کی تکمیل کا آغاز کردیا… نسوار کی پڑیا جو آبی ساتھ لایا تھا. چپکے سے ہتھیلی پر ڈال کر اْن کے چہرے کے قریب کی. اب منظر یہ تھا کہ ہر “خراٹے” کی آوازکے ساتھ ہی سانس اندر کھینچتے ہوئے وہ نسوار کی کچھ مقدار ناک کے ذریعے اندر کھینچ رہے تھے… تھوڑی دیر بعد وہ پڑیا ساری کی ساری “بابا جی” کی ناک شریف کے راستے اندروِن خانہ منتقل ہو چکی تھی. دونوں نے وکٹری کا نشان بنا کر “مشن سکسیسفل” کا اعلان کیا اور بھاگ کر سامنے سڑک کے کنارے بیٹھ کر “چڑی اڈی” کھیلنے لگ گئے. اب اْنہوں نے انتظار کرنا شروع کردیا کہ کب کوئی گاہک آکر “بابے” کو جگائے اور وہ تماشہ دیکھیں. بظاہر گردو نواح سے بے نیاز وہ دونوں ہر طرح سے گردوپیش کی خبر رکھے ہوئے تھے. دوپہر کا وقت تھا کوئی بھی باہر نکلنے کو تیار نہیں تھا سب کھا پی کر آرام کر رہے تھے. ایسے میں “کالو ماسی ” کی نسوار ختم ہونا اْن کے لیے راحت جاں ثابت ہوا. یہ راحت جاں گو کہ بعد میں کافی مضر صحت ثابت ہوا مگر اْس وقت” کالو ماسی” کی آمد پر انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں جشن منایا… اب اْن کی نظروں کا محور فقط “بابا کریم” کا کھوکھا تھا. اْن کے بھرے ہوئے بارود نے اپنا کام دکھانا تھا…
جوں ہی “کالو ماسی” نے آوازیں لگا کر “بابا جی” کو جگانا شروع کیا تو آبی اور تابی کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی.. پکی نیند والے لوگوں کو اکثر جھنجوڑ کر جگانا پڑتا ہے پس “کالو ماسی” نے بھی ہاتھ بڑھا کر اْنہیں جھنجوڑا تو وہ اٹھ بیٹھے اور پھر ایک یا ڈیڑھ سیکنڈ کے بعد ہی “دھماکے”شروع ہو گئے. منہ کھول کر پہلی ہی سانس لیتے ہی “بابا جی”کے وجود نے زلزلہ کردیا اور چھینکیں ایک طوفان کی صورت میں ان کے وجود سے ٹپک پڑیں. آ چھی…. آچھی… چھی… چھی… آچھی….. آنچھ….. آنچھ…… ایک طوفان برپا تھا چھینکوں کا اور نسوار اْن کے منہ سے “کالو ماسی” کے منہ پر “نظرانہ عقیدت” پیش کرنے لگی پر ایک اور دھماکہ ہوا…. لسی اور نسوار کے خمار نے چھینکوں کے ساتھ مل کر انہیں دھڑام سے گرنے پر مجبور کردیا اور وہ کالو ماسی کے اوپر گرے اور اْنہیں لیتے ہوئے کھوکھے سے باہر آگرے… اب اوپر “بابا جی” اور نیچے محلے کی” چنگیزی خالہ” نیچے گرتے ہی کالو ماسی نے اپنے اوپر سے “ریسلر” کی طرح سے بابا جی کو اچھال پھینکا.بابا جی کے اچھلنے کا انداز ایسا تھا جیسے کسی ہتھنی نے مینڈک کو اچھال دیا ہو… وہ جاکر ساتھ ہی بہتے گندے نالے میں گرے. وہ دونوں تو ہنس ہنس کر بے حال ہونے لگے… مگر پھر اْن کی بدقسمتی کہ اْن دونوں کی مائیں جو کسی فوتگی پر گئی ہوئی تھیں واپس اْسی راستے آکر رکشے پر اتر کر گھر جانے لگیں.. مگر پھر کالو ماسی کی ہائے فریاد سن کر دونوں نے اْن کی طرف دوڑ لگا دی… اب اِن دونوں کو بھی ہوش آیا کہ یہ تو برا ہوگیا… دونوں اپنی اپنی امی کی طرف آئے اور انجان بن کر بابا جی کو اٹھانے لگے بابا جی کا چھینکوں سمیت سارا نشہ ختم ہو چکا تھا اور وہ اْن کے اٹھانے سے اْٹھ بیٹھے. اتنے میں کالو ماسی بھی اْن دونوں بہنوں کے ساتھ واویلا کرتے کرتے بابا جی کے سر پر پہنچ آئی تھی اور ایک بار پھر بابا جی کا گریبان پکڑ لیا..
“ٹھرکی بڈھے مجھے چھیڑتا ہے تیری بیٹی کی عمر کی ہوں عمر دیکھ اور کام دیکھ محلے کی بہو بیٹیوں پر بری نظر رکھتا ہے تیری تو…….” کالو ماسی کے منہ میں جو آرہا تھا وہ کہے جارہی تھی مگر اْن دونوں بہنوں نے بمشکل چھڑا کر کالو ماسی کو پیچھے کیا ہوا تھا. شور سن کر قریبی گھر سے” ماسٹر جمیل صاحب” بھی پہنچ آئے تھے اور جب انہوں نے ساری بات سنی تو بابا کریم سے جرح کرنے لگے اور ساتھ ہی ساتھ حیرت سے اْن کی ناک سے بہتے مواد کو بھی دیکھنے لگے کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ بابا جی نے جب نسوار کا ذائقہ منہ میں محسوس کیا تو تھوک کر ناک صاف کی اور پھر غور سے نسوار دیکھنے کے بعد آبی اور تابی کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ان دو “شیطانوں” کی شرارت ہوگی… آبی نے اپنی صفائی دینی چاہی تو ماسٹر صاحب نے اسے چپ کروا دیا اور پکڑ کر اْن دونوں کے ہاتھ چیک کرنے لگے… ہاتھ چیک کرنے کے بعد اْن کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور پھر انہوں نے دونوں بہنوں کو اپنے اپنے بیٹے کی شرارت سے آگاہ کیا… دونوں نے اپنے اپنے بیٹے کی کلائی پکڑی بابا کریم سے معافی مانگی اور “یاجوج ماجوج” کو لے کر اکٹھی گھر کی طرف روانہ ہو گئیں…
دونوں بہنوں کے شوہر بھی آپس میں بھائی تھے. یعنی آبی، تابی کا چچا زاد بھائی بھی تھا اور دوسری طرف دونوں کی مائیں آپس میں سگی بہنیں بھی تھیں. گھر آکر دونوں کی خوب دھنائی ہوئی “ہائے امی” ہائے مر گیا”… “امی قسم کھاتا ہوں آج کے بعد کوئی شرارت نہیں کروں گا”….” امی توبہ کرتا ہوں “… یہ وہ رٹے رٹائے جملے تھے جو ہر بار وہ کہتے تھے مگر پھر اگلے دن نئے ولولے اور جوش کے ساتھ” تیِغ شیطانی” لے کر کسی پر وار کردیتے تھے…
“امی اگر نہ آتی تو اور بھی مزے کا ڈرامہ ہوتا ہے نا. “؟ ابراہیم (آبی) نے خوبانی کھاتے ہوئے ہنس کر کہا.
“نہیں یار! کافی سزا مل گئی تھی کھڑوس بابے کو اب دوبارہ اپن سے پنگا نئی لے گا”تابش(تابی) نے بھی شاپر سے خوبانی نکال کر منہ میں ڈالی اور باقی بچی ہوئی خوبانیوں میں سے ایک نکال کر دور بیٹھے کوے کا نشانہ لیا۔
” یار غلیل کہیں سے نکال کے لاو امی کی الماری سے.کتنا مزا آتا تھا جب ہم کوووں اور چڑیوں کو مارتے تھے۔”
” امی کی الماری تو سمجھو میوزیم ہے ہمارے کارناموں کی کئی مثالیں وہاں کی چیزوں سے عیاں ہیں”
“اور یاد ہے آبی وہ ایک بار میں نے ایک کوئے کا نشانہ لے کر اسے پتھر مارا اور پھر….. “
دونوں اْس واقعہ پر دیر تک دانتوں تلے انگلی دبائے ہنستے رہے اور پھر اگلی بار کے لیے پلاننگ کرتے رہے۔
” یار وہ “جمعے کاکے” کی شادی ہے نا اس ہفتہ، اتوار کو اْس پر ہی کچھ کریں گے فی الحال ہفتے میں دو بار امی کی مار کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں” آبی نے کہا تو تابی ہنستے ہوئے بولا۔
“ْتو تو ڈرپوک ہے. مجھے دیکھ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ابھی کالو ماسی کے گھر کے پیچھے سے یہ” شاپر” بھر کر لایا ہوں”
تابی درختوں پر چڑھنے کا ماہر تھا اور آس پاس کے گھروں کے پھل دار درختوں سے ہر پھل کی” بوہنی” وہی کرتا تھا. پکڑے جانے پر امی سے حسب دستور” پھینٹی” کھا کر توبہ کرلیتا تھا. اسکول میں دونوں ابھی چھٹی جماعت کے طالب علم تھے. بچپنا تو تھا اوپر سے دونوں کے ابو سعودی عرب ہوتے تھے. تو اکثر دونوں بہنیں بھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتیں اْن کی شرارتوں سے۔
…//٭٭//…
تمنا صاحب کی یہ دوسری ملاقات تھی حسینہ سے… حسینہ اسم مسمی تھی اْس علاقے میں اس سا حسین شاید ہی کوئی تھا. مغرور بھی مشہور تھی اور ایک دو لڑکوں کی ٹھکائی بھی کروا چکی تھی. اْس محلے کے سارے ہی لڑکے حسینہ کو دور ہی سے دیکھ کر آہیں بھرتے تھے. مگر تمنا صاحب کی تو ایسی قسمت جاگی کہ خود حیران رہ گئیے. خود ہی حسینہ نے سب سے پہلے اظہار محبت کیا اور پھر پہلی ملاقات بھی کرلی. یہ دوسری ملاقات تھی اور اب تمنا صاحب نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ ایسے نہیں ملیں گے. کسی نے دیکھ لیا تو پورے محلے میں بدنامی ہوگی. تمنا صاحب محلے کے شریف ترین جوانوں میں شمار ہوتے تھے اور حسینہ کا کردار بھی بے داغ تھا… اظہار محبت اور دو ملاقاتوں میں ہی دنوں طرف محبت کی آگ شعلوں میں بدل گئی. حسینہ کے گھر رشتہ بھیجا گیا تو اْس کے گھر والوں نے تمنا صاحب سے لڑکی کے لیے الگ گھر کی ڈیمانڈ رکھ دی. الگ گھر کا مسئلہ نہیں تھا بن بھی جاتا مگر تمنا صاحب کی امی نے مخالفت کردی کہ شرائط پر رشتے داری نہیں ہو سکتی… پر محبت تو شرائط سے مبرا ہوتی ہے. اسے نہیں فرق پڑتا کہ اماں مانی یا ابا ناراض ہیں گھر بنانا ہے یا بہن پہلے بیاہنی ہے…. محبت تو مقناطیس اور لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہوتی ہے جو کھینچتی ہے اپنی طرف بس ذرا سا ایک بار قریب لانے کی دیر ہوتی ہے پھر چاہ کر بھی کوئی نہیں روک سکتا… وہ تمنا ہی کیا جو حسن سے بے نیاز ہو اور وہ حسینہ ہی کیا جس کی تمنا نہ کی جائے… تمنا صاحب شاعر تھے اور الفاظ کے داو پیچ میں خوب ملکہ حاصل تھا. اب زمانے بھر کے” عشاق”کی طرح اْن دونوں کے درمیان بھی خط و کتابت ہی اظہار اور جذبات بتانے کا ذریعہ تھا. چنانچہ محبت کی کھیتی کو آب و دانہ ملتا رہا. تمنا صاحب الفاظ کے داو پیچ سے یوں دلوں کے تار چھیڑتے کہ حسینہ کا دل” گارڈن گارڈن “ہو جاتا…
حسینہ نے اپنے لیے آنے والا ہر رشتہ ٹھکرا دیا. وجہ اب گھر والوں کو پتہ تھی اور اْس نے بھی صاف صاف بتا دیا تھا کہ اگر شادی ہوئی تو تمنا سے ورنہ کسی سے نہیں. گھر والوں نے لاکھ سمجھایا مگر “زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد” دوسری طرف تمنا صاحب کا بھی وہی حال تھا. وہ اپنی پسند سے ایک اِنچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے. اْن کے ذہن میں اکثر خیال آتا کہ کاش وہ بھی بچے ہوتے اور” آبی” اور “تابی” والا حربہ استعمال کرتے. آبی یا تابی کو جب بھی گھر سے کسی کام کرنے کی پابندی لگائی جاتی تو وہ ترکیب نمبر چار استعمال کیا کرتے تھے. ایک بار آبی کو گھر سے” کارٹون” دیکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی.تو وہ شام کے کارٹون لگتے وقت مکان کی چھت پر چڑھ گیا اور اْونچی آواز میں پکارنے لگا کہ” میں یہاں سے کوْدنے لگا ہوں اگر مجھے ٹی وی نہیں دیکھنے دی گئی تو میں ذندہ نہیں رہوں گا میں چھت پر سے کود کر اپنی جان دے دوں گا” آخر گھر والوں نے جب پابندی اٹھائی اور “کارٹون بحالی” کا عندیہ دیا تو موصوف نیچے اْترے. تمنا صاحب کی بھی خواہش تھی کہ کاش وہ بھی ایسے ہی چھت پر چڑھ جائیں اور خودکشی کی دھمکی دیں اور تب تک نہ اْتریں جب تک” حسینہ ” کو حاصل نہ کرلیں. یہی سوچ کر اْن کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ایسی ہی کوئی شرارت بلکہ ایک ڈرامہ کیا جائے جس کا مقصد “متوقع سسرال” کو رام کرنا ہو. حسینہ کے خط کا جواب بھی دینا تھا تو اْسی کے جواب میں اْنہوں نے “سکرپٹ” بھی لکھ ڈالا… خط بھی کچھ اِسی قسم کا تھا. حسینہ نے لکھا تھا… “تمناکی تمنا کرنا ہر کسی کی تمنا ہوتی ہے. مگر تمنا کو حاصل کرنا کسی کسی کے بس میں ہوتا ہے. آجکل پتہ نہیں کیوں میری عادات بچوں سی ہو گئی ہے. بلکہ عادات کیا سوچ بھی بچوں سی معصومانہ ہو گئی ہیں . سوچتی ہوں کتنی عجیب بات ہے کہ لوگ محبت میں” لب و رخسار”، گلے ملنے اور چومنے کی باتیں کیوں کرتے ہیں. محبت تو ایک احساس لگتا ہے مجھے. بس کسی کی یاد میں کھو جانا کسی کو دیکھتے رہنا کسی کو سوچتے رہنا. اس کو اگر بچگانہ محبت کہا جائے تو بہتر ہے کیونکہ بالکل بچوں جیسے احساسات ہیں میرے میں الفاظ میں تو شاید کبھی اپنی کیفیت تحریر نہ کر سکوں لیکن مجھے آپکے خطوط سے بھی یہی لگا ہے کہ جیسے ہم دونوں میں بھی کہیں کہیں “آبی” اور “تابی” سی روح موجود ہے. مگر یہ بھی یاد رکھیے گا کہ میں صرف آپ کی ہوں. میرے جسم سے لے کر میری روح تک صرف آپ کا ہی نام لکھا ہے میں نے. میری آرزو, تمنا, حسرت اور خواہش سب آپ سے شروع ہو کر آپ پر ختم ہوتی ہیں. اب آپ ہی بتائیں میں کیا کروں؟ “مزید کچھ باتوں کے بعد خط کا جواب جلد از جلد دینے کی تاکید بھی تھی. تو جواب میں تمنا صاحب نے بھی لکھا کہ…
” تمنا کی ہر تمنا پر فقط ناِم سرکار ہے. زندگی میں شاید ہی کوئی ایسی خواہش ہو جو پوری نہ ہوئی ہو مگر اِس بار شاید زندگی امتحان لے رہی ہے. اور وہ محبت ہی کیا جس میں حاِل دل میں تضاد ہو. جو کچھ ایک طرف ہے وہی دوسری طرف بھی موجود ہے. محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے. اور اْس جذبے میں ہوس اور ملاپ جیسی شرائط کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا. اور بچوں والی سوچیں تو شاید محبت کی ہی کرامات ہوتی ہیں. مجھے خود کبھی کبھی شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ کاش ہم دونوں بھی “آبی” اور “تابی” ہوتے. ہر جگہ اکٹھے شرارتیں کرتے. سردیوں کے دنوں میں لوگوں کی چھتوں پر پتھر مار کر بھاگ جاتے… گرمیوں کی دوپہروں میں گھروں کی گھنٹی بجا کر بھاگ جاتے اور کسی دن کسی کے درخت پر سے پھل چوری کرتے اور گھنٹوں بیٹھ کر ہنس ہنس کر باتیں کرتے اور اپنی” محنت” سے چرائے ہوئے پھل کھاتے. مگر یہ دنیا کے رسم و رواج اور بندشیں ہمیں ایسا نہیں کرنے دیتی کیونکہ ہم بڑے ہو چکے.. مگر میرا دل کہتا ہے کہ اس کے باوجود ہم اپنی راہیں ہموار کرنے کے لیے کچھ “بچگانہ” حرکتیں کر سکتے ہیں کچھ ڈرامے کرنے ہوں گے ہمیں. صرف چند دن کے لیے ہمیں بھی “آبی” اور “تابی” بننا ہوگا”….
کچھ دن بعد ہی دونوں نے اپنے پلان پر عمل کرنا شروع کر دیا… حسینہ بالکل چپ چپ سی رہنے لگی. کبھی کبھی دورہ بھی پڑ جاتا گھر والوں کی لاڈلی تھی. تعلیم یافتہ گھرانا تھا. علاج وغیرہ کروایا گیا مگر اْس نے دوا کھانے سے انکار کردیا. پورے محلے میں آہستہ آہستہ بات پھیل گئی کہ لڑکی پر جن عاشق ہو گیا ہے پورے محلے میں ہر جوان لڑکا اْس سے پہلے سے زیادہ ڈرنے لگا. لڑکیوں نے بھی ملنا چھوڑ دیا۔
رشتہ مانگنے والوں نے بھی گھر کا رخ کرنا چھوڑ دیا. یوں رشتے آنے بند ہوئے تو دوسری طرف سے تمنا صاحب نے گھر والوں کو اصل بات بتائی ہوئی تھی کہ ڈرامے کا اسکرپٹ اْس کا اپنا لکھا ہوا ہے. یوں اْن کے گھر والوں نے دوبارہ رشتہ لینے کہ غرض سے حسینہ کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو گھر والوں نے گرمجوشی سے استقبال کیا. تمنا صاحب قصبے کے اْن جوانوں میں سے تھے جن پر محلے کے لوگوں کو فخر تھا. دوبارہ دونوں خاندانوں میں قربت بڑھی تو یہ واضح طور پر طے پایا کہ شادی شرائط کے بغیر ہوگی کیونکہ شرائط سودے بازی کے لیے رکھی جاتی ہیں…
حسینہ کے گھر والوں نے اْس کی بیماری کا صاف

صاف بتایا تو تمنا صاحب کی بڑی بہن نے کہا۔
“آنٹی! بیماری تو خدا کا حکم ہے اور یہ تو انسانوں کے ساتھ لگا ہی رہتا ہے. یہ ہم جانتے ہیں کہ حسینہ کی صورت میں ہم اتنی اچھی لڑکی لے کر جائیں گے کہ لوگ ہماری قسمت پر رشک کریں گے. البتہ امی کی بات درست ہے کہ نہ ہم اپنی طرف سے کسی قسم کی جہیز کی ڈیمانڈ کا تقاضہ کریں گے نہ کسی ایسی ویسی فضولیات کا…اور امید کرتے ہیں کہ آپ کی طرف سے بھی پیار محبت سے غیر مشروط رشتہ داری ہوگی… باقی ہمارے اکلوتے بھائی کے پاس عزت و دولت سب کچھ ہے چھوٹی بہنوں کی شادی کے بعد سارا گھر آپ کی بیٹی کا ہوگا. ہمارا بھائی الحمدللہ برسِر روزگار ہے.آپ کی بیٹی کے لیے اِس قصبے میں اِس سے بہتر رشتہ شاید ہی کوئی مل سکے.
بیٹی! بات تو تمھاری بھی ٹھیک ہے البتہ میں نے یہ سوچ کر الگ گھر کا تقاضہ کیا تھا کہ کہیں اکٹھے رہنے میں نندوں سے جھگڑے ہی رہتے ہیں اکثر. خیر ہم اب قسمت میں اگر ایسا ہی لکھا ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں ہماری طرف سے “ہاں” ہی سمجھیے…
جب یہ خبر دونوں “پریمی پنچھیوں” تک پہنچی تو اْن کو پہلے تو یقین نہ آیا پھر یوں لگنے لگا کہ جیسے یہ سب خواب ہے اور جلد ہی آنکھ کھْل جائے گی. چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والی بات ہوئی اور چند دن بعد ہی دونوں کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں… تین چھوٹی اور ایک بڑی بہن کا اکلوتا بھائی ہو اور دھوم دھام سے شادی نہ ہو یہ کیسے ممکن تھا… دوسری طرف حسینہ بھی ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی.دونوں گھروں میں شادی سے پہلے ہی شادی کا سا سماں ہو گیا تھا. حسینہ نے سب سہیلیوں کو اصل بات بتا دی تھی کہ بیماری اور دورے سب ڈرامہ تھے. یوں رات کو محلے کی تقریبًا ساری ہی نوجوان لڑکیاں اْس کے گھر جمع ہوتیں اور ڈھولک کی تھاپ پر شادی بیاہ اور مہندی کے گیت گاتیں… ساجن کی یاد میں اْن گیتوں کو سن کر حسینہ پر عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی. کبھی کبھی حسینہ کو لگتا تھا کہ کسی غیبی طاقت نے اْسے وہ خوشیاں دے دی ہیں جن کو پاکر وہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی محسوس کرتی تھی. تمنا صاحب کی حالت بھی کچھ ایسی تھی. انھیں بھی کبھی کبھی ایسا لگتا تھا کہ کوئی ایسا راز ضرور ہے جو اْن کی نظر سے اوجھل ہے.اِسی کشمکش میں شادی کے دن قریب آگئے. پورے محلے میں شادی کا چرچہ تھا. نوجوانوں کے لیے یہ “لو میرج” ایک مشعل راہ کی سی حثیت رکھتی تھی. گوکہ بیماری اور دورے پڑنے کا چرچہ اپنی جگہ پر تھا مگر جو پریمی جوڑے کے ملن کی داستان تھی وہ کمال تھی. آخر کار ملن کی وہ گھڑی بھی آگئی. خواب، خواب نہ رہا حقیقت کا روپ دھارنے لگا…
شادی کے بعد تمنا صاحب اور حسینہ کے درمیان محبت کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا. جی بھر کے خوشیاں سمیٹی گئیں اور پھر ہر سال ایک “کائناتی حسن” کا شاہکار اْن کے آنگن کی زینت بنتا رہا. دو سال بعد دو پھولوں کو جنم دینے کے بعد بھی حسینہ کے حسن کی آب و تاب میں کوئی کمی نہ آئی اور نہ ہی تمنا صاحب کی محبت میں. بلکہ شاید محبت کی دو مضبوط ترین زنجیروں نے اْن دونوں کو اپنے حصار میں لے لیا تھا. گزرے دو سالوں میں تمنا صاحب کی دو بہنوں کی شادی بھی ہو چکی تھی اور اب صرف ایک چھوٹی بہن گھر میں موجود تھی. گھر پر حسینہ نے محبت کی طاقت سے قبضہ جما لیا تھا. ہر زباں اْس کے بارے میں تعریفی کلمات ہی بیان کرتی. اکثر حسینہ کو محسوس ہوتا کہ اْس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی “گرہ” ایسی ہے جو ابھی تک نہیں کھل پائی… اور پھر ایک دن حسینہ کے دل و دماغ میں سمائی وہ گرہ اچانک ہی کھْل کر سامنے آگئی. یہ بڑی عید سے کچھ دن پہلے کی بات ہے جب کپڑوں کی دھلائی کا کام جاری تھا مگر حسینہ کو ایک واسکٹ نہیں مل رہی تھی وہ واسکٹ ڈھونڈنے کے لیے تمنا صاحب کی الماری کھولنے لگی. الماری کی چابیاں اْس کے اوپر ہی رکھی ہوتی تھیں واسکٹ تو الماری سے مل گئی مگر پھر حسینہ کو یاد آیا کہ اْس نے تمنا صاحب کے اصرار پر اپنا ایم اے کا داخلہ بھیجنا تھا. اور ڈاکومنٹس کے ساتھ اْسکا “بی اے” کا رزلٹ کارڈ بھی لگنا تھا. اور وہ رزلٹ کارڈ اْس نے تمنا صاحب کو دیا تھا اور یقینًا تمنا صاحب کی خاص الماری میں ہی موجود ہونا تھا. اْس نے رزلٹ کارڈ نکالنے کے لیے اندر موجود تمام اوراق کے پلندے دیکھنے شروع کر دیے.. اور پھر اچانک ایک ورق پر اسکی نظر پڑی اور وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی. تحریر پڑھتے پڑھتے اْسکے چہرے کا رنگ بدل گیا اور پھر آہستہ آہستہ وہ نارمل ہونے لگی.. اْس کے دماغ میں بنی کئی گرہیں کھلنے لگی. اتنا عجیب و غریب معاملہ تھا یہ وہ کیا سمجھ رہی تھی اور یہاں کیا نکلا…اتنا بڑا فراڈ “ْاس نے سوچا”…..
“آبی” اور “تابی” نے چند دن اپنی تمام شرارتوں کو بریک لگائی. اور شادی کے دن تک صبر سے کام لیا. اْن دونوں کا اگلا ٹارگٹ “ماسٹر جمیل صاحب” تھے. جمیل صاحب اْن دونوں کو اسکول میں نہیں پڑھاتے تھے اور پڑھاتے بھی ہوتے کونسا اْن دونوں نے ڈر جانا تھا. ہاں ایک شخصیت ایسی تھی جس کو دیکھ کر یا نام ہی سن کر اْن دونوں سمیت قصبے کے ہر لڑکے کی روح فنا ہو جاتی تھی. وہ تھے قاری عزیز صاحب. قاری صاحب کی قصبے میں وہ دہشت تھی کہ جس راستے سے وہ گزرتے تھے اْس راستے کے سامنے سے آنے والا طالب علم اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بدقسمت انسان سمجھتا تھا. ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ قصبے کے ایک لڑکے نے قاری صاحب کو کسی سے باتیں کرتے دیکھ لیا اور جب تک قاری صاحب کی نظر اْس پر پڑتی وہ پاس ہی موجود دوکانوں میں سے ایک دوکان میں گْھس گیا. اب اْس کی قسمت کہ اندر دھکتا تندور تھا اور اْس لڑکے نے آو دیکھا نہ تاو سیدھا تندور میں گْھس گیا. یہ تو خوش قسمتی تھی اْس کی کہ تندور والے نے فوتگی کے سبب کئی دنوں بعد تندور جلانا تھا اور ابھی صرف لکڑیاں ہی ڈالی تھی. بصورت دیگر قاری صاحب کے ڈر کے سبب وہ لڑکا جلتے تندور میں ہی گْھس جاتا. یہی حال آبی اور تابی کا بھی تھا. امی کا صرف ایک جملہ ہی کافی تھا” قاری صاحب کو بتاتی ہوں جا کر” اور یہ جملہ پورے قصبے کی ماوں کا ناقابل شکست ہتھیار تھا…
خیر بات ہورہی تھی ماسٹر جمیل صاحب کی. تو “بابا کریم مشن” میں امی کو ساری بات بتانے اور چھترول کروانے والے جمیل صاحب نے شاید سوچا بھی نہ تھا کہ یہ “نیکی” اْن کے گلے بھی پڑ سکتی ہے…
” یاجوج ماجوج ” سے پنگا لے کر وہ تو بات ہی بھول گئے تھے مگر دوسری طرف جنگی طیاروں کا رخ اب بے چارے جمیل صاحب کی طرف تھا. جمعے کاکے کی شادی تھی اور جمیل صاحب لڑکی والوں کے عزیز تھے. اس لیے لڑکی والوں کے گھر کے کام میں ہاتھ بٹا رہے تھے… یہ دونوں بھی لڑکی والوں کے گھر موجود تھے اور موقعے کی تلاش میں تھے اْن کا پلان تھا کہ جمیل صاحب کے کپڑوں پر سالن سے کسی طرح “نقش و نگار” بنائے جائیں. اور یہ کام کھانا کھانے کے دوران کسی وقت کیا جا سکتا تھا. کیونکہ اکثر کھانا کھلانے والوں میں ماسٹر صاحب پیش پیش ہوتے تھے…
اْن دونوں نے کھانا کھایا مگر اچانک ہی خوش قسمتی سے ماسٹر صاحب کو کسی کام سے باہر جانا پڑا. اور جب…اْن کی جوڑی کھانا کھا کر چھت پر ڈھول بجانے والوں کے پاس پہنچی تو ماسٹر صاحب واپس آتے نظر آئے… وہ دونوں افسوس سے ہاتھ ملتے رہ گئے. “زندگی میں پہلی بار مشن فیل ہوا ہے” آبی نے افسوس سے کہا۔
“لگتا ہے ماسٹر کی قسمت اچھی ہے.اور اِس بار ہمیں ناکامی ہی ہوگی اس لیے کسی اور پر توجہ دینی ہوگی” تابی نے جوابًا کہا تو آبی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا “ہو ہی نہیں سکتا” ٹارگٹ ” تو یہی رہے گا البتہ طریقہ کار میں تبدیلی لانا ہوگی… اب کوئی اور حل سوچنا ہوگا” دونوں نے سر جوڑ لیے اور پلان بنانے لگے. رات کی تاریکی میں کوئی کام کرنے کا خیال بھی رد کرنا پڑا کیونکہ ابھی اْن دونوں کی واپسی تھی. اور پھر تھوڑی دیر بعد ان دونوں نے گھر واپسی کا سفر شروع کیا. چند قدموں کا یہ سفر بھی ان دونوں نے اپنی اپنی امی سمیت کیا اِس لیے چپ چاپ واپس گھر آگئے… دوسرے دن کی دعوت جمعے کاکے کی طرف سے تھی. یعنی ولیمہ تھا. “یاجوج ماجوج” کی جوڑی سخت غصے میں تھی. کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں. شادی کے موقع پر اگر کوئی شرارت نہ کی تو پھر کیا فائدہ ایسی زندگی کا. راستے میں چلتے چلتے اچانک ایک گھر کی چھت پر “تابی” کی نظر پڑی اور اْس کے شیطانی دماغ نے جھٹ سے فیصلہ کردیا کہ “یہ ہو جائے تو مزہ ہی آجائے” اْس نے آبی کو تازہ ترین “آئیڈیا” کے بارے میں بتایا تو آبی نے بھی گرم جوشی سے تائید کردی… شادی کا کھانا کھا کر دونوں اپنے ایک کزن کے پاس پہنچ گئے. کزن کی منت سماجت کر کے اْسے تھوڑی سی مدد پر آمادہ کیا اور پھر انتظار کرنے لگے. سہ پہر کے وقت اْنہوں نے جب درخت کی چھائوں میں کھڑے ماسٹر صاحب کو دیکھا تو اسی وقت ایکشن میں آنے کا فیصلہ کرلیا دونوں طرف “حملہ” کیا گیا اور پھر نتائج کا انتظار کرنے لگے. یہ بہت بڑا زلزلہ تھا اور اس کے اثرات بہت دیر پا تھے. نتائج کے لیے اگلے دن کا انتظار کرنا تھا. اور وہ انتظار کرنے لگے.
اِس شرارت کے اثرات واقعی دیرپا ثابت ہوئے…..اتنے دیرپا کہ جسکا اندازہ کسی کو بھی نہ تھا…
اتنا بڑا فراڈ… بلکہ شاید فراڈ تو نہیں شرارت کہنا زیادہ بہتر ہوگا. اْس نے پڑھنا شروع کیا. لکھا تھا….
“زندگی تو انسان گزار لیتا ہے مگر زندگی اپنے آئیڈیل کے ساتھ نہ گزرے تو انسان کی بدقسمتی کی انتہا ہے. میں نے زندگی میں اگر کسی کو اپنا” آئیڈیل” سمجھا ہے تو وہ آپ ہیں” تمنا صاحب ” میں آپ سے بے انتہا محبت کرتی ہوں اور اگر آپ آج رات مجھ سے ملنے آسکتے ہیں تو میں سمجھوں گی کہ آپ نے میری محبت کو قبول کرلیا ہے اور اگر نہ آ سکے تو میں یہی سمجھوں گی کہ میں آپ کے “قابل” ہی نہیں. میں اپنی چھت پر آپ کا انتظار کروں گی… اور ہاں مجھ سے ملاقات کرنے کی صورت میں اِس خط کا تذکرہ مجھ سے نہ کیجئے گا کیونکہ شاید سامنے آکر میں ایسی بات کا اقرار نہ کر سکوں. اسی لیے آپ کی پیٹھ پیچھے تحریری شکل میں اظہار کردیا ہے اب اس خط کا ذکر کر کے مجھے شرمندہ نہ کیجئے گا” نیچے نام کوئی بھی نہیں لکھا گیا تھا. اور پھر حسینہ دوڑتے ہوئے اپنی جہیز کی الماری کی طرف گئی اور تھوڑی دیر بعد وہاں سے ڈھونڈ کر وہ خط نکال لیا…
بالکل وہی تحریر…وہی لکھائی… اور وہی انداز …البتہ فرق صرف یہ تھا کہ ایک طرف مونث اور دوسری طرف مذکر کا صیغہ تھا. اور ساتھ ہی لکھا گیا تھا کہ” میں آپ کے مکان کی چھت پر آپ کا انتظار کروں گا” اور نیچے نام لکھا ہوا تھا “ماسٹر جمیل احمد تمنا”
ماسٹر جمیل صاحب کو تابی جبکہ حسینہ کو آبی نے وہ خط جا کر دیا تھا مقصد یہ تھا کہ اگلے دن پورے قصبے میں خبر پھیلی ہونی تھی کہ ایک بار پھر حسینہ کے ہاتھوں اْس کے عاشق کی پٹائی اور اِس بار عاشق ہونے والی ہستی قصبے کے ہر دلعزیز جوان اور اردو کے استاد کی تھی آبی اور تابی نے اپنے کزن سے دو خطوط لکھوا لیے تھے ایک حسینہ کی طرف سے جمیل صاحب کے لیے اور دوسرا جمیل صاحب کی طرف سے حسینہ کے لیے دونوں میں اظہار محبت کیا گیا تھا اور جب حسینہ نے یہ خط پڑھنا تھا تو توقع کی جا سکتی تھی کہ ماسٹر صاحب برے پھنسیں گے دونوں نے بیک وقت دو طرفہ وار کیا تھا کامیابی کا پورا یقین تھا مگر گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ کچھ بھی نہ ہوا چند دن بعد وہ ماسٹر صاحب کو بھول گئے کیونکہ دونوں بھائی(ْان کے پاپا) واپس آرہے تھے اور آبی اور تابی نے اپنے اپنے پاپا کی آمد کا سن کر کچھ دن شرارتوں کو بریک لگا دی تھی…
تمنا صاحب گھر میں داخل ہوئے تو حسینہ صوفے پر بیٹھی وہ خطوط پڑھ رہی تھی اور بار بار پڑھنے کے بعد حیران تھی. جب تمنا صاحب داخل ہوئے تو اْن کے سلام کرنے پر چونک پڑی. پھر جواب دے کر انہیں وہ خط دکھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟
“ارے یہ کیوں نکال لیا. یہ تو تمھارے محبت ناموں کے ساتھ ہی تھا. باقی کدھر ہیں؟” اْنہوں نے پوچھا.” یہ خط آپکو کس نے دیا تھا اور کیا کہہ کر؟”
“یہ تو تمھارا پہلا خط ہے نا بھول گئیں خود ہی تو اظہار محبت کیا تھا؟” تمنا صاحب نے بتایا تو حسینہ نے پھر پوچھا “اچھا یہ بتائیں کہ اِس خط کی لکھائی اور ہے اور میرے دوسرے خطوط کی اور. تو کبھی آپ نے اِس پر غور نہیں کیا کیا؟ “
” ارے ارے! یہ آج پولیس والی تفتیش کیوں شروع کر دی بھئی… ظاہر ہے بندہ پہلی بار بدنامی کے اور پکڑے جانے کے ڈر سے اکثر خط اپنے کسی” رازدار” دوست یا سہیلی سے لکھواتا ہے کہ اگر کبھی پکڑا بھی جائے تو لکھائی نہ پہچانی جائے… خیر تمھیں آج یہ خیال کیسے آگیا جان جہاں ” تمنا صاحب نے شوخ انداز سے پوچھا تو حسینہ نے دوسرا خط تمنا صاحب کے ہاتھ میں پکڑا دیا اور خود صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی.
” ارے باپ رے! یہ کیا ہے؟ یعنی کے یعنی کے…؟ ” تمنا صاحب حیرت سے کبھی خط کو اور کبھی حسینہ کو دیکھنے لگے.
“جی حضور! یہ خطوط ہمارے پاس پہنچائے گے تھے اور ساتھ ہی تاکید بھی کہ اِس بارے میں بات نہیں کرنی. میں سوچتی رہی کہ بے چارا ماسٹر میری محبت میں آس پاس کے گھروں پر سے کودتا ہوا ہماری چھت پر پہنچے گا اور میری نظِر کرم پا کر خوشی سے پاگل ہو جائے گا… اور دوسری طرف “ماسٹر صاحب” کو یہ پتہ چلا کہ کوئی اْن کا دیوانہ رات کو اپنے گھر کی چھت پر اْن کا انتظار کر رہا ہے. مردانگی کا بھرم رکھنا ہے تو ڈرنے کے بجائے آجائے”حسینہ نے منہ بنا کر کہا تو تمنا صاحب بے اختیار ہنس پڑے.
” یعنی کہ میں سوچتا رہا یہ “اظہاِر محبت” تمھاری طرف سے ہے اور تم سوچتی رہی کہ ماسٹر سرکاری نوکری لگتے ہی آسمان پر پہنچ گیا ہے.اور اصل بات یہ تھی کہ “یاجوج ماجوج” نے اِس بار میرا بیڑا غرق کرنا تھا اور کر بھی دیا” حسینہ سر پکڑے بیٹھی تھی. تمنا صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اْس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولے.
“ْان دونوں کی شرارتوں سے تو سارا قصبہ آج بھی تنگ ہے اور سچ بتاؤں تو مجھے بھی اکثر اْن کی شرارتوں سے غصہ آتا تھا. پر کبھی کبھی شرارت ہی شرارت میں تقدیر کے فیصلے بھی ہوجاتے ہیں. اْن کے لیے تو یہ ایک کھیل تھا پر وہ اگر جمعے کاکے کی شادی پر یہ شرارت نہ کرتے تو آج یہ ہاتھ میرے ہاتھوں میں شاید نہ ہوتا.” تمنا صاحب کی بات سن کر حسینہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے. پاگل! اِس میں رونے کی کیا بات ہے بچے ہیں بچوں کا کام ہی شرارتیں کرنا ہے. اگر بچوں نے بھی شرارتیں کرنا چھوڑ دیں تو شاید دنیا میں ہر گھر ماتم کدہ محسوس ہوگا. اس لیے بچوں کی شرارتوں کا برا نہیں مناتے. ویسے کتنی عجیب بات ہے نا! ایک چھوٹی سی شرارت کا اتنا بڑا نتیجہ نکلا ہے کہ آج ہماری اپنی دو شرارتیں موجود ہیں” تمنا صاحب کی بات سن کر حسینہ مسکرانے لگی اور پھر منہ بناتے ہوئے بولی
” یاجوج ماجوج” دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close