Aanchal Jan-07

یادگار لمحے

جویریہ طاہر

حدیث
فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے’’قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر درود زیادہ پڑھے گا۔‘‘
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :’’ہر چیز کی صفائی ہوتی ہے اور دل کی صفائی اللہ کی یاد ہے اور ذکر سے زیادہ کوئی چیز اللہ کے عذاب سے بچانے والی نہیں۔ بہترین ذکر لا اللہ الا اللہ ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کا ہمسایہ اس کے مکرو فریب سے محفوظ نہیں۔‘‘
(نرگس جمروز خان‘ کراچی )
حدیث
ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟
رسول اللہ نے فرمایا :’’تمہاری ماں کا۔‘‘
اس شخص نے پھر سوال کیا کہ مجھ پر زیادہ حق کس کا ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا :’’تمہاری ماں کا۔‘‘
اس شخص نے جب تیسری مرتبہ بھی یہی سوال دہرایا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’تمہاری ماں کا۔‘‘ جب اس نے چوتھی مرتبہ یہی سوال پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’تمہارے باپ کا۔‘‘
(لولی فرینڈز‘ کراچی )
حضور پاک ؐ نے فرمایا
مجھے بچوں کی یہ عادتیں بہت پسند ہیں۔
1 ۔وہ رو رو کر مانگتے ہیں اور اپنی بات منوالیتے ہیں۔
2۔وہ مٹی میں کھیلتے ہیں یعنی غرور و تکبر کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔
3۔ آپس میں لڑتے جھگڑے ہیں اور پھر صلح کرلیتے ہیں یعنی دل میں حسد نہیں رکھتے۔
4۔ مٹی کے گھر بناتے ہیں اور پھر گرادیتے ہیں یعنی بتاتے ہیں کہ یہ دنیا بقاء نہیں بلکہ مقام فنا ہے۔
تو آئیں ہم سب بچوں کی طرح رو رو کر اللہ تعالیٰ سے اپنی اپنی بات منوائیں اور اپنے غرور اور تکبر کو خاک میں ملائیں۔لڑائی اور جھگڑے سے پرہیز کریں اور اپنے ابدی مقام کے لئے کچھ نہ کچھ بچا کر لے جائیں۔
(سمیرا کوثر‘ گائوں سمن پنڈی)
جواب
شیطان نے فرعون کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آواز سن کر فرعون نے پوچھا’’ کون ہے؟‘‘شیطان اندر آگیا اور کہنے لگا۔
’’لعنت ہے تم پر اور تمہاری خدائی پر کہ دعویٰ تو تم خدائی کا کرتے ہو اور یہ تک نہیں جانتے کہ دروازے پر کون ہے؟‘‘
(سمیرا کوثر‘ گائوں سمن پنڈی )
نئے سال میں
آئو کریں یہ وعدہ نئے سال میں
خوشیاں بانٹیں زیادہ نئے سال میں
رنجشوں کو بھلائیں اور مسکرائیں ہم
محبت بڑھائیں زیادہ نئے سال میں
(دیویاسونی‘ ٹنڈو الہیار)
دعا کیجئے
ایک شخص نے زندگی میں پہلی مرتبہ روزہ رکھا۔ دن بڑی مشکل سے گزارا۔ شام کو جب افطار کا وقت ہونے لگا تو مولوی صاحب نے کہا۔’’آج رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہے اور افطار کے وقت آپ جو دعا مانگیں گے قبول ہوگی۔‘‘ وہ شخص فوراً بولا۔’’ مولوی صاحب دعا کیجئے کہ کل عید ہو۔‘‘
(ریحانہ‘ چوٹالہ جہلم )
اقوال زریں
٭دوسروں کے معاملات میں دلچسپی لیں اور اپنے آپ کو بھول جائیں۔
٭ہر روز ایک اچھا کام کریں‘ جس سے دوسرے کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگے۔
٭اپنی نعمتوں کو گنیں‘ تکلیفوں کا حساب نہ لگائیں۔
٭اگرتقدیر آپ کو لیموں دے تو اس کا شربت بنانے کی کوشش کریں۔
٭خوش ہو کر سوچیں اور کام کریں‘ اپنے آپ کو خوش محسوس کریں گے۔
٭یاد رکھیں ! زندگی اتنی مختصر ہے کہ حقیر نہیں ہوسکتی۔
٭مصروف رہیں تاکہ مایوسی آپ پر حاوی نہ ہو۔
(زاہدہ رشید علوی‘ راولپنڈی سٹی )
مجنوں
مجنوں ایک نمازی کے آگے سے گزر گیا۔ نمازی نے نماز توڑ کر مجنوںکو دو تین تھپڑ رسید کردیئے۔ تونے نہیں دیکھا میں نماز پڑھ رہا تھا۔ تو میرے آگے سے کیوں گزرا؟
مجنوں نے کہا مجھ سے غلطی ہوگئی میں نے تمہیں نہیں دیکھا۔ نمازی نے کہا کیوں نہیں دیکھا؟ کیا تو اندھا ہے؟
مجنوں نے کہا۔ اے نمازی میں اندھا نہیں ہوں۔ میں تو ایک عورت کے عشق میں اتنا محو ہو کر جارہا تھا کہ تجھے نہ دیکھ سکا۔ مگر تم یہ بتائو کہ تم نے اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر مجھے کس طرح دیکھ لیا۔ کیا یہی تمہاری نماز ہے؟
(صدف ہاشمی‘ ملتان)
دو چیزیں
انسان اپنی طرف سے پوری کوشش‘ پوری تدابیر اختیار کرتا ہے اور جب کامیابی اس کے قریب جاپہنچتی ہے تودو چیزیں اس کے اور کامیابی کے درمیان حائل ہوجاتی ہیں۔ ایک موت اور دوسری تقدیر۔
(فرح طاہر‘ حسین آگاہی )
اخلاقی جواہر پارے
mمحبت سب سے کرو‘ اعتباد چند ہستیوں کا اور بدی کسی کے ساتھ بھی روا نہ رکھو۔
mفوراً معافی دینا شرافت کی نشانی ہے اور بدلہ لینے میں جلدی کرنا کمینگی کی علامت۔
mبول میں ایسی تاثیر پیدا کرو کہ دلوں میں اترتے چلے جائو ورنہ چپ رہو۔
mایک چھوٹی سی نیکی ایک بڑے ارادے سے بہتر ہوتی ہے۔
mامن چاہتے ہو تو کان اور آنکھ کھلی رکھو جبکہ زبان بند رکھو۔
mہمیں اپنی مدد آپ کرنی چاہئے۔ دوسروں کی مدد ہمیں اچھی طرح فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
(ناجیہ ملک‘ چناری آزاد کشمیر)
روشن تحریریں
mدوسروں کی تلخی کو نظر انداز کردیجئے کیونکہ تلخی پیدا کرنے والے حالات ہوتے ہیں۔ حالات کو معاشرہ جنم دیتا ہے اور معاشرے کی تشکیل ہم کرتے ہیں۔
mہر انتظار کرنے والے کی آنکھوں میں ایک امید ہوتی ہے۔ کوشش کریں کہ امید ختم ہونے سے پہلے انتظار ختم ہوجائے۔
mاگر آپ سب کچھ کھو چکے ہیں تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جو سب کچھ کھو دیتا ہے اس کے پاس پانے کے لئے پوری دنیا ہوتی ہے۔
mدھوکا ہو یا دکھ تب ان کا صدمہ زیادہ اور حملہ شدید ہوتا ہے جب انسان ذہنی طور پر تیار نہ ہو۔ کئی تو اس صدمے کے نتیجے میں جان ہی ہار جاتے ہیں۔
(زیبا رحمان‘ کراچی )
حکمت کی باتیں
l دنیا کا غم تاریکی پیدا کرتا ہے جبکہ آخرت کا غم دل میں نور پیدا کرتا ہے۔
l جیسی محبت آپ اپنے ماں باپ سے کریں گے ویسی محبت آپ سے آپ کی اولاد کرے گی۔
l جو لوگ اپنا غم چھپا کر مسکراتے ہیں وہ عظیم ہوتے ہیں۔
l ضمیر ہمارے اندر اس آواز کا نام ہے جو ہمیں خبر دار کرتی ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔
(شبانہ عطا لغاری‘ ڈیرہ غازی خان )
باتوںسے خوشبو آئے
٭کوئی بھی کام کرنے سے پہلے سوچ لو کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
٭دوست کو اس کی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرو۔
٭کسی کو اتنا مت چاہو کہ اس کی جدائی برداشت نہ کرسکو۔
(صفیہ نذیر‘ آزاد کشمیر)
لفظ بولتے ہیں
lمذاق ضرور کیجئے‘ مگر اتنا دھیان رکھنا چاہئے کہ مذاق کرنے اور مذاق اڑانے کا فرق آپ کو ضرور معلوم ہو۔
lدوستوں کی چھوٹی چھوٹی خامیاں نظر انداز کردیا کریں ہوسکتا ہے وہ آپ کی بڑی بڑی خامیاں نظر انداز کرتے ہوں۔
lبہترین انسان وہ ہے جب اس کی تعریف کی جائے تو وہ شرمندہ ہو اور جب برائی کی جائے تو وہ خاموش رہے۔
lہمارے خیالات اور سوچیں ایک دوسرے سے اتنے ہی مختلف ہیں جتنے ہمارے چہرے۔ اس لئے دوسروں سے یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ جو کچھ ہم سوچ رہے ہیں دوسروں کی سوچ بھی ویسی ہی ہو۔
(فاقہہ فردوس‘ بہاولپور )
یادگار لمحے
٭خوشیوں پر اس وقت غور نہ کرو جب وہ تمہارا دامن تھام رہی ہوں ان پر اس وقت غور کرو جب وہ تمہارا ساتھ چھوڑ رہی ہوں۔
٭ہم جو خوشیاں اپنے لئے حاصل کرتے ہیں ان سے اکتا جاتے ہیں لیکن جو خوشیاں دوسروں کو دیتے ہیں ان سے کبھی نہیں اکتاتے۔
٭جو کچھ بھی تم سنو اس پر یقین نہ کرو اور نہ وہ سب کچھ کسی کو بتائو جو تم جانتے ہو۔
٭ہم دولت سے نرم بستر تو حاصل کرسکتے ہیں مگر نیند نہیں۔
٭خدا کی قسم وہ شخص ایمان نہیں رکھتا جس کا پڑوسی اس کی ایذا رسانیوں سے محفوظ نہ رہے۔
٭دولت پر گھمنڈ کرنے اور ترجیح دینے والے کبھی بھی دنیا اور آخرت میں سرشار نہیں ہوسکتے۔
٭مسجد سے محبت رکھنے والا شخص قیامت کے روز عرش الٰہی کے سائے میں ہوگا۔
(مسز نگہت غفار‘ کراچی )
زندگی کیا ہے؟
زندگی بندگی ہے‘ جسے کھلنے اور مرجھانے میں دیر نہیں لگتی۔
زندگی کتاب ہے جس کے ورق پلٹنے اور بند ہونے میں وقت نہیں لگتا۔
زندگی شمع ہے‘ جو جلتے جلتے آخر کار بجھ جاتی ہے۔
زندگی قلم ہے جس کی سیاہی ختم ہوجاتی ہے۔
زندگی چاند ہے‘ جو موت کی آغوش میں چھپتی ہے۔
زندگی سایہ ہے‘ موت کا۔
زندگی امانت ہے‘ خدا کی۔
زندگی پانی ہے‘ جسے ہوا کی طرح موت لے اڑتی ہے۔
زندگی سمندر ہے جس کی گہرائی موت ہے۔
زندگی نیند کے بعد ہونے والی بیداری ہے۔
زندگی کھانا ہے‘ موت کے پیٹ میں ہضم ہونے والا۔
(چندا مثال‘ ضلع قصور )
پانچ اندھیرے پانچ چراغ
یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ پانچ اندھیرے ہیں اور پانچ ان کے چراغ ہیں۔
دنیا کی محبت اندھیرا ہے‘ تقویٰ اس کا چراغ ہے۔
گناہ اندھیرا ہے‘ توبہ استغفار اس کا چراغ ہے۔
قبر اندھیرا ہے‘ لا الہ الا للہ اس کا چراغ ہے۔
پل صراط اندھیرا ہے‘ یقین اس کا چراغ ہے۔
آخرت اندھیرا ہے‘ نیک اعمال اس کا چراغ ہیں۔
(عالیہ کنول‘ صادق آباد )
فائدہ
کروڑ پتی خاتون اپنے گھر میں بہت بڑی پارٹی دے رہی تھیں۔ بدقسمتی سے ان کی مخصوص بتیسی کوئی بھی ڈینٹسٹ صحیح طور پر فٹ نہیں کرسکا تھا۔ زیادہ باتیں کرتے وقت وہ ڈھیلی ہو کر منہ سے باہر آنے لگتی تھی۔ انہوں نے سوچا کہ پارٹی میں خفت نہ اٹھانی پڑے۔ چنانچہ ایک ملازم کو ہدایت دی۔
’’تم میرے منہ پر نظر رکھنا اور جونہی بتیسی کا اوپر والا حصہ ڈھیلا ہوتا نظر آئے تو مجھ سے کہنا کہ سلطان صاحب گیٹ پر آچکے ہیں۔ میں خبردار ہوجائوں گی اور منہ بند کرکے پہلے بتیسی کو صحیح کرلوں گی۔‘‘
پارٹی کے دوران جب وہ عورتوں سے مصروف گفتگو تھیں تو نوکر نے دو مرتبہ انہیں خبردار کیا۔’’سلطان صاحب گیٹ پر آچکے ہیں۔‘‘
لیکن انہوں نے سنا ہی نہیں۔ کچھ دیر بعد۔ انہیں خیال آیا تو نوکر سے پوچھا۔’’تم کچھ کہہ رہے تھے۔‘‘
’’جی ہاں بیگم صاحبہ !‘‘ نوکر نے جواب دیا۔’’میں کہہ رہا تھا کہ سلطان صاحب گیٹ پر آچکے ہیں لیکن اب کوئی فائدہ نہیں۔ اب تو وہ شوربے کے ڈونگے میں گرچکے ہیں۔‘‘
(نادیہ جہانگیر اینڈ ثوبیہ جہانگیر‘ آزاد کشمیر)
میری بھی تو سنو !
تین افراد آپس میں بیٹھے ہوئے اپنے اپنے دکھوں کی داستان سنا رہے تھے۔ پہلا بولا۔’’میں تین سال افریقہ کے جنگلوں میں رہا ہوں۔‘‘ دوسرے نے کہا۔
’’میں پانچ سال عرب کے صحرا ئوںمیں رہا ہوں۔‘‘
تیسرا روہانسا ہو کر بولا۔’’میری بھی تو سنو میں بیس سال سے اپنی بیوی کے ساتھ رہ رہا ہوں۔‘‘
(نوشین اقبال‘ گائوں بدر مرجان )
دل
دل جذبات کا مسکن ہے‘ محبت کا گھر‘ تمنائوں کا ڈیرہ‘ آرزوئوں کا چمن‘ مگر دل حسرتوں کا مزار بھی تو ہے۔ نفرت کا طوفان بھی تو یہیں سے اٹھتا ہے۔ اس دل میں ہر چیز کا ٹھکانہ ہے۔ نیکی‘ نگاہ‘ محبت‘ نفرت‘ آس اور پاس‘ کبھی دل مجسم نیکی ہے تو کبھی یہ گناہ کاروپ کبھی محبت کے چشمے ابلتے ہیں تو کبھی نفرت کا لاوا کبھی امیدوں کے کنول کھلتے ہیں تو کبھی حسرتوں کے زرد پتے جھڑتے ہیں۔ ایک دل میں ان گنت جذبات اور میں نے ایک بات یہ بھی جانی ہے کہ دل درد بھی ہے اور راگ بھی۔
دل سونا گلشن ہنستا پھول … دل عشق بھی ہے اور ذات بھی۔ دل گیت‘ غزل اور نغمہ بھی۔
(ارم گل‘ آزاد کشمیر )

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close