Aanchal Sep-16

یاد گار لمحے

جویریہ سالک

ایک بات
ایک ہندو نے مسلمان سے کہا ’’ہم مُردوں کو جلاتے ہیں اور تم دفناتے ہو‘ بتائو کیوں؟‘‘
مسلمان نے سنہری الفاظ میں جواب دیا۔
’’خزانہ دفنایا جاتا ہے اور کچرا جلایا جاتا ہے۔‘‘
سائرہ خان… محمد پور دیوان
دو دلوں کا ملن
zمحبت کے بغیر زندگی نامکمل ہے کیونکہ محبت ایک ایسا پھول ہے جو کسی کو مل جائے تو زندگی اس کی خوشبو سے نکھر جاتی ہے۔
z محبت ایک لازوال جذبہ ہے جو محبت لفظوں کی محتاج ہوتی ہے وہ ہر گز محبت نہیں ہوسکتی۔ محبت ہر شے‘ ذات‘ نسل‘ امیری سے بالاتر ہوتی ہے۔
zمحبت وہ شے نہیں جس کو خریدا جاسکے‘ یہ تو دو دلوں کا ملن ہے۔ یہ دکھوں کی سرز مین اور آنسوئوں کا سمندر بھی ہے۔
zمحبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو ذاتی انا سے بے نیازکردیتی ہے یہ کبھی کبھی ایسا روگ بھی بن جاتی ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے۔
zمحبت کرنی ہو تو زندگی بھر کے لیے کرو محض چند دن کے لیے کسی کے احساسات و جذبات سے نہ کھیلو۔
zمحبت میں اگر جذبے سچے ہو تو رکاوٹ کم ہی بنتی ہے
سرور فاطمہ بنی… صوابی‘ خیبرپختونخوا
دو چیزیں
عزت اور نیک اعمال… اگر اس دنیا میں خوش رہنا چاہتے ہو تو اپنی عزت کا خاص خیال رکھو۔
اگر جنت کی امید رکھتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی بندگی کرکے نیک اعمال بنائو۔
اگر ان دو چیزوں کی پابندی نہیں ہے تو سوچو کیا ہم انسان ہیں۔
فوزیہ واحد… راجن پور
گزارش
تم سے یہ گزارش ہے
بس اتنی سی خواہش ہے
کہ اے پرنس…
اس عید پر تم
عرصہ سے دیدار یار کی
متلاشی چشم کو
جھلک اپنی دکھا جانا
روز عید تم…
مجھ سے ملنے آجانا…!!
شمع مسکان… جام پور
بے چارہ شوہر
رہے گھر میں اگر تو ملتی ہے ماں سے جھڑکیاں
رہے گھر سے باہر تو ہو بیوی سے جھگڑا
رہے گھر میں تو کہتی ہے ماں پڑا رہتا ہے بیوی کے پہلو میں بس
رہے گھر سے باہر اگر تو کرتی ہے بیوی شک
بے چارہ شوہر اگر جائے تو جائے کہاں آخر
سونی علی… ریشم گلی مورو
اقوال زریں
vموت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کی دوا ہے۔
vبہادر کا ہاتھ کبھی کمزور پر نہیں اٹھتا۔
vجلد بازی کا نتیجہ اکثر ناکامی میں ہے۔
vحالات انسان کو نہیں انسان حالات کو سنوارتا ہے۔
vطاقت کھانے میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔
vماں باپ اور استاد سے کبھی شکایت نہ کرو۔
لاڈو رانی… ٹوبہ ٹیک سنگھ
گوہر آبدار
vکہانی میں نام اور تاریخ کے سوا سب کچھ سچ ہوتا ہے
اور تاریخ میں نام اور تاریخ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا
vسانس کا سفر ختم ہوجاتا ہے لیکن آس کا سفر باقی رہتا ہے یہ ہی تو وہ سفر ہے جو انسان کو متحرک رکھتا ہے اور متحرک ہونا زندگی کی علامت ہے۔ یہ علامت رگوں میں خون کی طرح دوڑتی رہے تو انسان مایوس نہیں ہوتا‘ چاہے سانس کا سفر ختم ہی کیوں نہ ہوجائے۔
vگزرا ہوا واقعہ گزرتا ہی تو نہیں ہے بلکہ وہ یاد بن کر بار بار گزرتا ہے۔
vمحبت اور بارش ایک جیسی ہوتی ہے‘ دونوں ہی یادگار ہوتی ہیں‘ فرق صرف اتنا ہے کہ بارش ساتھ رہ کر جسم بھگوتی ہے اور محبت دور رہ کر آنکھیں بھگو دیتی ہے۔
vکبھی کبھی خلوص‘ خون سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔
vکوشش کرو کہ تم دنیا میں رہو‘ دنیا تم میں نہ رہے کیونکہ کشتی جب تک پانی میں رہتی ہے‘ خوب تیرتی ہے لیکن جب پانی کشتی میں آجاتا ہے تو وہ ڈوب جاتی ہے۔
vنقصان وہ نہیں جو آپ کو ذاتی دکھ سے ہمکنار کرے نقصان وہ ہے جو آپ کو کسی کی نظر میں گرادے۔
vڈھونڈنے میں ملنے کی شرط نہیں ہوتی بلکہ امید ہوتی ہے اور امید سے جھگڑا نہیں کرتے۔
نوشین اقبال نوشی… گائوں بدر مرجان
انسان
میں ایک انسان ہوں
جسے مٹی سے تراشا گیا ہے
مٹی جس کی کوئی پہچان نہیں
جس کی کوئی اوقات نہیں
لیکن جب سے تیری آنکھوں میں
خود کو دیکھا ہے مجھے لگتا ہے
کہ میری ہے پہچان کوئی
میرا نام بھی ہے اوقات بھی ہے
میری اُجلی سی ذات بھی ہے
مٹی سے نہیں ہیرے سے تراشا ہے مجھ کو میرے رب نے
طیبہ نذیر… شادیوال
قانون فطرت
جب کسی انسان کے آگے روشنی ہوتی ہے تو اس کا سایہ پیچھے آتا ہے اور جب روشنی پیچھے ہوتی ہے تو اس کا سایہ آگے آتا ہے۔دین روشنی ہے اور دنیا سایہ… دین کو آگے رکھو گے تو دنیا آپ کے پیچھے آئے گی اور دین کو پیچھے رکھو گے تو دنیا آپ سے آگے بڑھے گی۔
(یہ ہی قانون فطرت ہے)
صائمہ ذوالفقار… چکمنبر
جنت اور دوزخ
اللہ عزوجل نے جنت اور دوزخ کو بنایا اور جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ انہیں دیکھو آپ نے دیکھا اور عرض کی۔ ’’اے اللہ عزوجل! تیری عزت کی قسم کوئی ایسا نہ ہوگا جو تیری جنت میں داخل نہ ہونا چائے۔‘‘ اور دوزخ کو دیکھ کر بولے۔
’’اللہ عزوجل تیری عزت کی قسم! کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس میں داخل ہونا چاہے۔‘‘ پھر اللہ عزوجل نے جنت کو مشقتوں اور دوزخ کو دنیاؤی لذتوں سے گھیر کردیا اور پھر جبرئیل علیہ السلام کو دیکھنے کا حکم دیا‘ جنت دیکھ کر بولے
’’اے اللہ تیری عزت کی قسم! شاید ہی کوئی اس میں داخلے ہوسکے۔‘‘ اور دوزخ دیکھ کر بولے۔
’’اے اللہ عزوجل تیری عزت کی قسم! شاید ہی اس میں داخل سے کوئی بچ سکے۔‘‘
اللہ تعالیٰ دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے اور تمام مسلمانان عالم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے‘ آمین۔
امہانی نور محمد… کراچی
افسانچہ
میں اپنی امی کے ساتھ جیولری شاپ پر گئی‘ وہاں میری نظر تم پر پڑی‘ تم شیشے کے پیچھے کھڑے اتنے پیارے اور خوب صورت لگ رہے تھے کہ میں تمہیں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ میری نظریں تم پر جم گئیں‘ میں من ہی من میں تمہیں چاہنے لگی ہر وقت تمہارے ہی خیالوں میں گم رہتی۔
تمہیں پانے کی خواہش دن بہ دن میرے دل میں بڑھتی گئی‘ میں چاہتی تھی کہ جلدی سے تم میری بانہوں میں آجائو اور پھر میں تمہیں کبھی بھی اپنے سے جدا نہ کروں۔ میں تمہاری چاہت میں پاگل ہوئی جارہی تھی میں دوبارہ دکان پر گئی تو تم وہاں پر نہیں تھے۔ تمہیں وہاں نہ پاکر میں پریشان ہوگئی‘ تمہاری جدائی مجھ سے برداشت نہ ہوسکی۔
آخر کار میں نے تمہارے بارے میں دکان کے مالک سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے وہ خوب صورت کنگن لاکر میں رکھ دیا ہے‘ میں نے پیسے دے کر تمہیں خرید لیا۔ تمہیں پاکر میں بہت خوش ہوئی‘ اب میں اس خوب صورت کنگن کو ہر وقت اپنی کلائی میں پہنے رکھتی ہوں۔
اب کبھی بھی مجھ سے جدا نہ ہونا اے میرے پیارے کنگن!
بشریٰ افضل… بہاولپور
قہقہہ
ایک بوڑھا سڑک کے کنارے اپنے بچے کو گود میں لے کر کھڑا تھا‘ سامنے سے بس آرہی تھی اس نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا‘ بس رک گئی تو کنڈیکٹر نے پوچھا۔
’’جی کہاں جانا ہے؟‘‘
بوڑھے نے کہا۔ ’’جانا کہیں نہیں بس میرا بیٹا رو رہا ہے تھوڑی دیر پوں پوں کردے۔‘‘
سعدیہ رمضان سعدی… 186 پی
تم یاد کرنا
لمحوں میں دل ٹوٹ جانا
رگوں کا تن سے کھینچ جانا
خوابوں کا مسمار ہونا
جسم و جاں پر تھکن اترنا
سانسوں کا رک رک کے آنا
نیندوں کا آنکھوں سے روٹھ جانا
اپنی بے قدری پہ پہروں رونا
پھر سوچ کے محبوب کو مسکرانا
احساسات کا ٹھکرائے جانا
جذبات کا تیز لو دینا
پھر یکدم ہی سرد پڑنا
پل میں تعمیر ہونا
پھر بکھرنا…
کبھی جو پیار کرنا جاناں…
مجھے پھر تم یاد کرنا
عظمیٰ جبیں… لانڈھی‘ کراچی
آکسیجن
میڈیکل ریسرچ کے مطابق زندہ رہنے کے لیے ایک انسان روزانہ تین سلنڈر کے برابر آکسیجن استعمال کرتا ہے جس کی قیمت تقریباً 3780 روپے بنتی ہے یعنی ایک عام آدمی سالانہ 13 لاکھ 79 ہزار 700 روپے کی آکسیجن استعمال کرتا ہے اور 50 سال اوسط عمر تک تقریباً 6 کروڑ 89 لاکھ 85 ہزار روپے کی آکسیجن استعمال کرت ہے‘ کیا ہم عام طور پر خود اس کا انتظام کرسکتے ہیں؟
نہیں… بالکل نہیں…
’’پس تم اپنے بر کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے۔‘‘
لاریب عندلیب… خیرپور‘ ٹامیوالی
مسکراہٹ کے پھول
ایک لڑکا دوسرے لڑکے سے…
’’میں تمہاری جان نکال دوں گا‘ اس کی انگریزی بتائو؟‘‘
لڑکا: ’’ارے انگریزی کی ایسی کی تیسی تو مجھے ہاتھ لگاکے دیکھ۔‘‘
نمرہ آزاد… خیرپور‘ ٹامیوالی
اپنی پیاری امی اور آنٹی شگفتہ کے نام
سکھی رکھنا میری ماں کو اے خدا
میرے لب پر رہتی ہے بس ایک یہ دعا
اس کی دعا سے ہوں میں سرخرو
اس کی بھلائی میری آرزو
ملے گی نہ جہاں میں ماں جیسی چیز
خدا کو بھی ہے اس کی ہستی عزیز
اے میری ماں اے میری پیاری ماں تجھے سلام
صبا الیاس… ماہندر
مہکتے الفاظ
vاللہ کو پاکر کبھی کسی نے کچھ نہیں کھویا اور اللہ کو کھوکر کبھی کسی نے کچھ نہیں پایا۔
vمجھے وہ دوست پسند ہے جو محفل میں میری غلطیاں چھپائے اور تنہائی میں میری غلطیوں پر تنقید کرے۔
vاگر تم اسے نہ پاسکو جسے تم چاہتے ہو تو اسے ضرور پالینا جو تمہیں چاہتا ہے کیونکہ چاہنے سے چاہے جانے کا احساس زیادہ خوب صورت ہوتا ہے۔
vکسی کا عیب تلاش کرنے والے کی مثال اس مکھی کی سی ہے جو سارا خوب صورت جسم چھوڑ کر صرف زخم پر بیٹھتی ہے۔
vدو طرح سے چیزیں دیکھنے میں چھوٹی نظر آتی ہیں ایک دور سے دوسرا غرور سے۔
vحیا اور ایمان دو ایسے پرندے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک اڑ جائے تو دوسرا خود بخود اڑ جاتاہے۔
vخوش نصیب وہ نہیں جس کا نصیب اچھا ہے بلکہ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے۔
پروین افضل شاہین… بہاولنگر
خوب صورت موتی
zزمین انسان کو رزق دیتی ہے لیکن جب انسان مرتا ہے تو پھر وہ اسے اپنا رزق بنالیتی ہے۔
zپرندہ زندہ ہو تو چیونٹیاں کھاتا ہے مگر جب پرندہ مرجاتا ہے تو چیونٹیاں اسے کھاتی ہیں۔
zوقت کبھی بھی بدل سکتا ہے ایک درخت ایک لاکھ ماچس کی تیلی بناسکتا ہے مگر ماچس کی ایک تیلی ایک لاکھ درخت جلاسکتی ہے۔
zانسان بزدل اتنا ہے کہ سوتے ہوئے خواب میں بھی ڈر جاتا ہے اور بے وقوف اتنا کہ جاگتے ہوئے بھی ’’اﷲ‘‘ سے نہیں ڈرتا۔
شگفتہ خان… بھلوال
سچی دوستی
باپ: ’’رات کو کہاں تھے؟‘‘
بیٹا: ’’دیر ہوگئی تھی دوست کے گھر رُک گیا تھا۔‘‘
باپ نے اسی وقت فون اٹھایا اور اس کے دس دوستوں کو کال کی‘ چھ دوستوں نے کہا۔
’’ہاں انکل وہ رات میرے پاس ہی سورہا تھا۔‘‘
تین نے کہا… ’’انکل وہ سورہا ہے آپ کہیں تو اٹھادو۔‘‘
ایک نے تو حد کردی‘ کہنے لگا۔ ’’جی ابو جی… بولیں۔‘‘
سمیرا سواتی… بھیرکنڈ
روٹی ‘ کپڑا اور انسانیت ڈے
سبھی رشتوں کے لیے دن منائے جاتے ہیں‘ کاش کوئی روٹی ڈے بھی ہوتا‘ بھوکے لوگ پیٹ بھرکے روٹی کھاتے۔ کاش کوئی کپڑا ڈے بھی ہوتا تو ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے غریب لوگ بھی کپڑے پہنتے۔ کاش کوئی انسانیت ڈے بھی ہوتا تو لوگوں کو سمجھ آتی کہ انسانیت کیا ہوتی ہے۔
عائشہ اے بی… جھڈو
باپ کا پیار
کبھی باپ کا پیار کسی نے محسوس کیا؟ نہیں مگر میں نے محسوس کیاجو گرمی ہو یا سردی… اپنے بچوں کی ضرورت پوری کرنے کی فکر میں ہر وقت پریشان رہتا ہے۔
آئو آج مل کر اس عظیم ہستی کے لیے بھی دعا کریں‘ اے اللہ پاک ہمت اور طاقت عطا فرما‘ اس والد کو جو اپنے بچوں کے لیے بہت محنت کرتا ہے۔
مغفرت فرما ان کی جو اس فانی دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو حیات ہیں ان کو لمبی عمر‘ صحت کامل‘ کامیابی اور اولادکی طرف سے سکون نصیب فرما اور میرے والدین کا سایہ ہمیشہ قائم و دائم رہے آمین ‘ آئی لو یو مائے فادر۔
نورین انجم… کراچی
بیش بہا گہر
zجلد سے جلد تجربہ کار ہونے کے لیے ایک اصول یاد رکھیں زبان بند مگر آنکھیں اور کان کھلے رکھیں۔
zمشکلات کو دور کرنے‘ خواہشات کو دبانے اور تکالیف برداشت کرنے سے انسان کا کردار مضبوط اور پاکیزہ ہوتا ہے۔
zمحتاط لوگ عموماً کم غلطیاں کرتے ہیں۔
zخامیوں کا احساس کامیابیوں کی کنجی ہے۔
z احسانکی خوبی اس کے نہ جتلانے پر منحصر ہے۔
zکانٹوں سے بھری ہوئی ٹہنی کو ایک پھول پرکشش بنادیتا ہے۔
zمحنتی کے سامنے پہاڑ کنکر ہیں اور کاہل کے سامنے کنکر پہاڑ۔
ارم کمال… فیصل آباد
انمول موتی
]وقت کی روانی میں غموں کی شدت کم پڑنے لگتی ہے۔
]اپنے ظاہر اور باطن کو ہم آہنگ کرلو‘ دنیا سے بے نیاز ہوجائو گے۔
]خوشیوں کو صرف کامیابیوں سے مشروط مت کر‘و کامیابیاں مقدر کا کھیل ہیں جبکہ خوشیاں خود کشید کرنی پڑتی ہیں۔
]خوشحالی کا دارو مدار مال پر ہے‘ مال اگر شاندار ہو تو بدنما ماضی اپنا اثر کھونے لگتا ہے جبکہ مال اگر الجھا ہوا ہو تو خوشگوار ماضی کے رنگ بھی زندگی پر مدہم پڑنے لگتے ہیں۔
]اللہ پر توکل رکھنے والے دل میں مایوسیاں اور خدشات رکھ کر دعائیں نہیں مانگا کرتے۔
مدیحہ اکرم… ہری پور
آج کی خاص بات
انسان کا اپنا کیا ہے؟
اہمیت دوسروں نے دی۔
تعلیم دوسروں نے دی۔
رشتہ بھی دوسروں سے جڑا۔
کام کرنا بھی دوسروں نے سکھایا۔
پیار بھی دوسروں سے کیا۔
اور تو اور آخر میں قبر بھی دوسروں نے کھودی اور قبرستان بھی دوسرے ہی لے کر گئے۔
انسان کا اپنا کیا ہے؟
کچھ بھی تو نہیں…
پھر اے انسان! اگر تجھے غرور ہے تو آخر کس بات پر؟
نجم انجم اعوان… کراچی
سکون
پریشان ہونے والوں کو کبھی نہ کبھی سکون مل ہی جاتا ہے لیکن پریشان کرنے والا ہمیشہ سکون کی تلاش میں ہی رہتا ہے۔
مدیحہ نورین مہک… گجرات
ماں
[ماں موتی ہے جس کی قیمت دنیا کے ہر موتی سے زیادہ ہے۔
[ماں وہ ہیرا ہے جو ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔
[ماں کے بغیر زندگی نامکمل ہے۔
[ماں کے بغیر گھر ویران ہے۔
[ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔
[جس گھر میں نیک ماں موجود ہے اس گھر میں اللہ کی خاص رحمت ہے۔
[ماں کا دل کبھی بھی مت دکھائو۔
وثیقہ زمرہ… سمندری

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close