Aanchal Jul 15

مجھے رنگ دے

صدف آصف

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو
مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک اٹھیں میرے خال و خد
مجھے اپنے رنگ میں رنگ لو، میرے سارے رنگ اتار دو

رات کا تاثر دھیرے دھیرے دھند لانے لگا، جیسے کسی نے سرمئی رنگ کی مہین سی چادر منظر سے کھینچ کر ہٹادی ہو، صبح کی شفاف سفیدی افق سے نمایاں ہونے لگی، دن کا اجالا زمین کی طرف لپکا۔ اس نے کھڑکی پر پڑا بھاری پردہ ہٹایا اور گہری سانس لینے لگی، تازگی کی لہر پورے وجود میں سرایت کرتی چلی گئی۔ وہ پلٹی تو نگاہ دیوار پر موجود اپنے پاپا کی تصویر کے اسکیچ سے جا ٹکرائی۔ سورج کی کرنیں، شیشے کے فریم سے منعکس ہوکر تصویر کے گرد سنہری ہالہ بنا رہی تھیں۔ اس کے کانوں میں اپنے پاپا کی دل کش ہنسی گونجی، وہ اپنے زمانے کے ہیرو سمجھے جاتے تھے، مگر انتقال سے قبل خزاں رسیدہ پتے کی طرح ہوگئے تھے۔ کبھی کبھی پرانی باتیں ذہن میں تسلسل سے گردش کرنے لگتی ہیں۔
’’پاپا دنیا کی ایک انگلی بھی آپ پر نہ اٹھ سکی میں نے اپنا وعدہ نبھا دیا۔‘‘ رمان بیگ باپ کی تصویر سے زیرلب مخاطب ہوئی‘ اسے محسوس ہوا جیسے پاپا مسکرائے ہوں۔
رمان کی ساری سستی، تکان اور کسملندی لمحوں میں دور ہوگئی۔ وہ کچن کی طرف بڑھی، پہلے نل کھولا ساس پین میں ایک کپ چائے کا پانی بھرا اور ہلکی آنچ پر بوائل ہونے کے لیے رکھ دیا پھر استری اسٹینڈ سے رات کو پریس کیے ہوئے کپڑے اٹھائے اور واش روم میں چلی گئی۔
موسم گرما ہو چاہے سرد، رمان کا معمول تھا کہ وہ بینک جانے سے قبل شاور ضرور لیتی۔ اس کے بعد سادہ مگر متوازن ناشتہ کرتی۔ اب بھی اس نے اپنے معمول کے حساب سے ٹرے میں چائے کا بھاپ اڑاتا کپ رکھا پھر ایک پیالے میں دودھ نکال کر اس میں چھوٹا چمچہ شہد کا ملایا۔ وہ اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے لیے ہفتے میں دو بار صرف پورج کھاتی تاکہ ڈائٹ پر کنٹرول رکھ سکے۔ پورج کا ڈبہ ٹرے میں رکھ کر ٹیبل کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے ناشتہ کے دوران اخبار کی شہ سرخیوں پر بھی تیزی سے نگاہ دوڑائی۔
’’رمان بیٹی! کیا آج دیر سے دفتر جائو گی؟‘‘ ماں کی آواز پر اس نے چہرے کے سامنے سے اخبار ہٹایا، عطیہ دونوں ہاتھوںسے سفید بالوں کا جوڑا بناتیں، اس کے پاس آکر کھڑی ہوئیں۔
ممی نے پاپاکے بعد خیال رکھنا بالکل چھوڑ دیا تھا‘ کتنی جلدی اپنی ہم عمر خواتین سے بڑی لگنے لگی تھیں‘ رمان نے ماں کا بغور جائزہ لیا مگر منہ سے ایک لفظ نہ نکالا۔
’’جائوں گی‘ ممی! ابھی دس منٹ بعد نکلوں گی۔ ویسے آج آپ اتنی جلدی کیوں اٹھ گئیں؟‘‘ رمان نے چائے کے سپ لیتے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’بس‘ نیند ہی نہیں آرہی تھی۔ عجیب سی بے چینی ہورہی تھی۔ پتا نہیں اس اختلاج کے مرض سے کب جان چھوٹے گی؟‘‘ انہوں نے افسردگی سے کہا۔ عطیہ نیند کی گولی لیتی تھیں، عموماً بیٹی کے آفس جانے کے بعد اٹھتیں‘ مگر آج ان کی آنکھ جلدی کھل گئی دراصل انہیں رمان سے بہت ضروری بات کرنی تھی۔
’’آپ کے لیے چائے بنا دؤں؟‘‘ رمان بیگ نے نرمی سے پوچھا تو انہوں نے انکار میں سر ہلایا اورکرسی سے کمر ٹکا کر آنکھوں پر ہاتھ پھیرنے لگیں۔ اس نے ناشتہ ختم کرکے نیپکن سے منہ صاف کیا۔
’’بیٹا! شام کو جلدی فارغ ہوجانا، شیری تم کو عید کی شاپنگ کے لیے لے جانا چاہتا ہے۔‘‘ عطیہ نے اسے دیکھ کر جھجکتے ہوئے کہا۔
’’ممی! پلیز یہ کیا فضولیات ہیں۔ منگنی ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ میری کوئی ذاتی زندگی ہی نہیں رہی۔ جب دل چاہے وہ پروگرام بنا بیٹھیں اور میں ہاتھ باندھ کر پیچھے چل پڑوں۔‘‘ رمان بھنا اٹھی۔ آج ویسے بھی اسے کئی اہم امور نمٹانے تھے، رمضان شروع ہونے سے قبل وہ اپنے بہ دنوں سے ملتوی سب کام نمٹانا چاہتی تھی۔
’’چندا! یہ فضولیات نہیں دستور زمانہ ہے۔‘‘ عطیہ بیگم نے بیٹی کے پیچھے جاتے ہوئے سمجھایا۔
’’ممی! ابھی رمضان شروع نہیں ہوئے‘ ان لوگوں کو عیدی کی کیا جلدی پڑی ہے؟‘‘ اس نے بھنا کر شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر برش ہاتھ میں لیا۔
’’بس چندا! سب کے اپنے اپنے رواج ہوتے ہیں۔ میں ثریا کو شروع سے جانتی ہوں وہ رمضان سے پہلے ہی عید کی ساری شاپنگ ختم کرلیتی ہے تاکہ اس بابرکت مہینے میں بازاروں چکر لگانے کی بجائے یکسوئی سے عبادت کی طرف راغب رہا جاسکے۔ اب یہ ہی اس کی تینوں بہوئوں کا معمول ہے۔ اسی نسبت سے اس نے تمہاری عیدی کی تیاری بھی قبل از وقت کرانے کی اجازت مانگی۔‘‘ عطیہ نے رسانیت سے سمجھایا۔
’’اچھا ابھی تو مجھے بینک پہنچنا ہے۔ واپسی پر بات کرتے ہیں۔‘‘ رمان نے ماں کو ٹالا۔
’’شیری شام کو تمہیں آفس سے پک کرلے گا۔ اس کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کرنا۔‘‘ عطیہ نے بیٹی کے پیچھے کھڑے ہوکر فیصلہ سنانے کے ساتھ تنبیہ بھی کی۔
’’او ممی! آج مجھے پہلے ہی بہت کام ہیں۔ اب یہ ایک نئی مصیبت۔‘‘ وہ اپنے بھورے بالوں میں جلدی جلدی برش چلاتے ہوئے جھنجلای ہوئی بولی۔
’’اے مالک! میری بچی کا کیا بنے گا؟ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اتنا مان سمان ملنے پر زمین پر پائوں نہیں دھرتی۔‘‘ عطیہ نے شکوہ کیا۔
’’اچار کا تو پتا نہیں ہاں پر میری چٹنی بہت مزہ دار بنے گی۔‘‘ اس کی ہنسی پھوٹ پڑی۔
’’آج کل کی لڑکیوں والی ایک بھی بات نہیں۔ زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ کیا فیشن میں ان ہے کیا آئوٹ؟ تمہیں کچھ خبر بھی ہے۔ گھر سے دفتر‘ دفتر سے گھر… اب طور طریقے بدلو ورنہ شادی کے بعد بہت مشکل ہوجائے گی۔‘‘ عطیہ کے چہرے پر تشویش پھیل گئی۔
’’ممی! میں جو ہوں‘ جیسی ہوں ویسی ہی ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ بے پروائی سے جوڑا بناتی بولی۔
’’بیٹا! شہریار اچھا لڑکا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ تم اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے اسے کھو بیٹھو۔‘‘ عطیہ نے انگلیوں سے بیٹی کے بال سنوارتے ہوئے سمجھایا۔
’’ممی! آپ ان لوگوں سے کچھ زیادہ ہی مرعوب نہیں؟‘‘ رمان نے مڑ کر ماں کو کاندھے سے تھام کر پیار سے دیکھا۔
’’مرعوب ہونے کی کوئی بات نہیں جو بات سچ ہے وہ ہے۔ پتا بھی ہے ثریا کو تمہاری شاپنگ کا کتنا ارمان تھا، تم آخری بہو بننے جارہی ہو۔ پر شہریار نے صرف تمہارے خیال سے منع کردیا کہ تم اپنی پسند سے ساری چیزیں خرید سکو۔‘‘ عطیہ نے ہونے والے داماد کی تعریف کی۔
’’اوہ! پھر تو انہیں بڑی مایوسی ہوگی۔ آپ کو تو میرا پتا ہے نا۔‘‘ وہ ایک دم ہنستے ہوئے ماں سے چمٹ گئی۔ دنیا کے لیے چاہے وہ پتھر بن گئی ہو پر ماں کے لیے اس کے اندر گداز ہی گداز تھا۔
’’شہریار لینے آئے گا۔ ٹائم پر نیچے اتر آنا۔‘‘ عطیہ نے ماں ہونے کا حق استعما ل کیا۔
’’ممی! آپ میری ہیں یا شہریار کی؟‘‘ رمان نے جوڑے میں پن لگاتے ہوئے ماں سے سوال کیا تو عطیہ نے بیٹی کو پیار سے دیکھا اور وہ ہینڈ بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی۔
ژ…ژ…ژ
رمان، عطیہ اور انیق بیگ کی اکلوتی اولاد تھی۔ اپنے خول میں سمٹی ہوئی، زمانے سے جدا ایک مختلف سی لڑکی‘ سر وقد، دلکش ناک نقشہ، شربتی آنکھیں، اس کی سفید دودھیا سی رنگت پر بہت سوٹ کرتیں، سنہری مائل بھورے بال جنہیں وہ ہمیشہ باندھ کر رکھتی۔ دیکھنے والی نگاہیں اس کے رعب حسن سے متاثر ہوجاتیں، مگر وہ عام لڑکیوں کی طرح اپنی خوب صورتی پر فخر کرنے کی جگہ خود سے بے پروائی برتتی یا شاید اسے ان باتوں کا ادراک ہی نہیں تھا۔ ہر قسم کا ناز نخرہ یا ادائیں اس کی نشست و برخاست سے خارج تھیں۔ وہ بس تعلیم اور ذہانت کو اپنا اثاثہ تصور کرتی آئی تھی۔ اس نے فنانس میں ایم بی اے کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی تھی۔
وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کم عمری کے باوجود مقامی بینک میں فنانس کے شعبے میں ایک بڑے عہدے تک جا پہنچی تھی۔ رمان کے باس ناصر علوی اس کے کام کو ہر میٹنگ میں سراہتے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔ اسے مزید ترقی کی خواہش تھی اسی لیے وہ بینکنگ کے حوالے سے سرٹیفکیٹ کورسز کرتی رہتی۔ ان حالات میں رمان کے پاس شادی کے بارے میں سوچنے کا ٹائم ہی نہیں بچا، تاہم عطیہ ماں ہونے کی وجہ سے بڑی پریشان رہتی‘ شوہر کے بعد رشتے داروں سے بھی ملنا ملانا رسمی سارہ گیا تھا۔ ایک دن اپنی سہیلی ثریا سے دل کی بات کہہ ڈالی۔ ان کے پرانے تعلقات میں ابھی بھی وضعداری قائم تھی، عطیہ دوست کی مشکل سمجھ گئیں، اسی لیے اپنے چھوٹے بیٹے شہریار کے لیے رمان کا ہاتھ بڑی محبت سے مانگ لیا۔ عطیہ کی آنکھیں بھیگ گئیں، وہ شروع ہی سے بہت چھوٹے دل کی تھیں، خوشی ہو یا غم دونوں سنبھالے نہیں جاتے تھے۔
شہریار ایک کمپیوٹر انجینئر تھا اور بڑے اعلی سافٹ وئیر ہائوس میں ’’ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ‘‘ کے طور پر کام کررہا تھا، لمبے چوڑے، خوبرو سے شہریار کی آنکھوں میں شرارت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ عطیہ جو بیٹی کے معمولات زندگی سے خفا رہتی تھیں، رسماً بھی چھان بین کے لیے وقت نہیں مانگا اور سہیلی کو ہاں کردی۔ رمان نے بھی بیوہ ماں کا مان رکھا اور بغیر کوئی گرم جوشی دکھائے شہریار کے نام کی انگوٹھی اپنی انگلی میں پہن لی۔
ژ…ژ…ژ
رمان فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر ڈھیلے ڈھالے انداز میں گاڑی میں آبیٹھی۔ شہریار نے ایک ٹھنڈی سانس خارج کی۔ اس کو رسمی مسکراہٹ سے نوازا، محترمہ پورے پندرہ منٹ انتظار کروانے کے بعد عمارت سے برآمد ہوئیں مگر مجال ہے جو سوری کا ایک لفظ بھی منہ سے نکلا ہو۔
’’مما! آپ نے مجھے۔ یہ کس مشکل میں ڈال دیا ہے، اپنی دوستی نبھانے میں بیٹے کی پسند ناپسند کا تھوڑا سا تو خیال رکھا ہوتا۔‘‘ شہریار نے برابر والی سیٹ پر بیٹھی رمان کو دیکھ کر سوچا۔ دھلا ہوا صاف ستھرا چہرہ، خاکستری رنگ کی شرٹ، بلو ٹرائوزر، گلے میں اسکارف، بالوں کو کھینچ کر پیچھے لے جاکر جوڑے کی شکل دی ہوئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا وہ دونوں کسی آفیشل میٹنگ میں جانے والے ہیں۔
’’ایسے میں کیا بات کروں؟ اتنا سنجیدہ منہ بنا کر بیٹھی ہے ایسا لگ رہا ہے کہ میں اپنی منگیتر کے ساتھ نہیں کسی استانی کے ساتھ شاپنگ پر جارہا ہوں۔‘‘ شہریار اپنی سوچ میں گم تھا۔
’’ایک بار مسکرا دو‘ ایک بار مسکرا دو…‘‘ اس نے خاموشی توڑنے کے لیے ریڈیو آن کیا۔ حسب حال گانا سن کر ہنسی چھوٹنے لگی۔
’’تمہیں میوزک سے کوئی لگائو ہے؟ یہ پرانا گانا اچھا ہے نا؟‘‘ شہریار نے بے تکلف ہونے کی کوشش کی لیکن وہ سپاٹ چہرہ لیے بیٹھی رہی۔
’’کاش میری کسی بات سے‘ ایک دلکش مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آجائے۔ ہم راستے میں دو چار پیار بھری باتیںکرلیں، یہ شرما کر نظریں جھکائے، چہرہ سرخ، گال گلاب ہوجائیں۔‘‘ شہریار کے دل میں خواہش ابھری۔ وہ بھی منی بیگم کے ساتھ ساتھ گنگنانے لگا۔
’’آپ مجھے صرف یہ گانا سنوانے کے لیے اتنی دور لائے ہیں یا شاپنگ کا بھی کوئی ارادہ ہے؟‘‘ رمان نے طنز کیا تو وہ جل کر خاک ہوگیا۔
’’ارادہ ہے نا…‘‘ شہریار نے مصنوعی خوش اخلاقی برتتے ہوئے خون کے گھونٹ پیئے۔
’’تو پھر چلیں‘ دیر ہورہی ہے۔‘‘ رمان نے چڑ کر ہاتھ میں بندھی گھڑی کی جانب اشارہ کیا۔ شہریار نے سر ہلا کر گاڑی کی رفتار تیز کردی۔
’’اس ہٹلر کے ساتھ زندگی کیسے گزرے گی؟‘‘ ویسے اس کی بدذوقی اپنی جگہ مگر ہے بہت حسین۔‘‘ وہ دونوں شاپنگ پلازہ کے داخلی دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے تو شہریار نے اسے دیکھ کر سوچا جو اپنے چہرے کو ٹشو سے پونچھ رہی تھی۔
کئی گھنٹے شاپنگ مال میں گھومنے کے باوجود وہ عید پر پہننے کے لیے ڈھنگ کا ایک سوٹ سلیکٹ نہ کرسکے۔ شہریار شیفون کے کھلتے رنگوں کے کامدار لباس کی طرف لپکتا، مگر رمان کاٹن کے ایسے سوٹ نکلواتی جنہیں پہن کر بندہ دفتر تو جاسکتا ہے مگر عید نہیں منا سکتا۔
’’سمجھ میں نہیں آتا کہ اس جوان لڑکی میں کون سی بوڑھی روح سمائی ہوئی ہے۔‘‘ شہریار چڑا۔ دونوں میں خوب نوک جھونک ہوئی‘ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین ثابت ہوا۔
’’آج آخری دفعہ ہے۔ دوبارہ ان محترم کے ساتھ کبھی شاپنگ پر نہیں آئوں گی۔‘‘ رمان پیر پٹخ کر گاڑی میں آبیٹھی۔
’’کیا میرے ساتھ کچھ غلط ہوگیا ہے؟‘‘ شہریار واپسی میں پورے راستے یہ ہی بات سوچ سوچ کر پاگل ہوتا رہا۔
ژ…ژ…ژ
شہریار نے جب بھی ذہن میں شریک زندگی کا خاکہ بنایا وہ، سولہ کیا اٹھارہ سنگھار سے مزین، بات بات پر گھبرانے والی، شرم سے چھوئی موئی بنی خالصتاً مشرقی قسم کی لڑکی کا عکس ہوتا۔ دراصل اس کے گھر کا ماحول بھی کچھ ایسا ہی تھا، تینوں بھابیاں، سجی سنوری، پیارے پیارے رنگوں کے لباس زیب تن کیے شوہروں کی منظور نظر بنی رہتیں خاص طور پر فرحین بھابی جن سے اس کی خوب بنتی تھی، ہر فن مولا تھیں۔ اپنے ارد گرد رنگین آنچل لہراتے دیکھ کر اس پر بھی کچھ ایسا ہی خمار چھایا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ مما بھی بڑھاپے میں بالوں اور دسوں انگلیوں کو مہندی سے رنگے پان کی لالی ہونٹوں پر رچائے، ہلکے گلابی، آسمانی یا سبز رنگ کے کپڑوں میں بہت پیاری لگتیں۔ شہریار کے ابا، موج میں آکر بیگم کو چھیڑتے تو لجا جاتی، ایسے لڑکے کے لیے رمان جیسی خشک مزاج منگیتر سے نبھانا کچھ مشکل ہورہا تھا۔ منگنی سے قبل جب بھابیوں نے لڑکی کے حسن کہ قصیدے پڑھے تو وہ خود کو دنیا کا خوش نصیب انسان سمجھتے ہوئے ہوا کے سنگ اڑنے لگا۔ رمان رسم والے دن گرے پرپل بھاری کامدار انگرکھے سوٹ میں حسن کو چار چاند لگانے والے تمام لوازمات سے آراستہ، بغیر کسی رکاوٹ کے دل کے چاروں خانوں میں براجمان ہوگئی، وہ مسلسل اسے تکے جارہا تھا، جبکہ رمان سنجیدگی سے چہرہ جھکائے، اپنے پاپا کی کمی کو شدت سے محسوس کررہی تھی۔ شہریار کی محویت پر بھابیوں نے خوب ریکارڈ لگایا، بھائیوں نے ٹہوکے مارے مگر وہ اسے دھڑلے سے دیکھتا رہا۔
ژ…ژ…ژ
’’ماشااللہ‘ دلہن تو بہت پیاری ہے۔‘‘ چھوٹی خالہ نے اسٹیج پر رمان کی بلائیں لینے کے بعد شہریار کا کاندھا تھپکا تو وہ ہنس دیا۔
’’ثریا! بھئی کہاں سے ڈھونڈی اتنی گوری چٹی لڑکی؟‘‘ بڑی پھپو کی خوب صورتی کا معیار یہ ہی تھا، بھتیجے کے برابر میں بیٹھ کر تصویر کھنچواتے ہوئے بھاوج سے سوال کیا۔
’’واہ! میک اپ بہت اچھا ہے، کہاں سے کروایا ہے۔‘‘ شہریار کی بڑی بھابی نے تعریفی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تو دلہن بنی رمان منہ دیکھتی رہ گئی۔
سب کی تعریفوں کا کریڈٹ بٹورنے والی رمان کیا بولتی کہ اسے تو اپنی تیاری کا ہوش ہی نہیں تھا، وہ منگنی سے ایک دن پہلے بھی معمول کی طرح آفس جانے کے لیے تیار ہورہی تھی کہ عطیہ نے ہنگامہ مچادیا۔ اپنی بھتیجی روفینہ کو کال کرکے بلوایا جسے جدید فیشن اور رائج ٹرینڈز کی اچھی خاصی سد بدھ تھی۔ وہ اسے پکڑ کر پارلر لے گئی، مہندی لگوانے کے بعد اسکن ٹریٹمنٹ کروایا اور دوسرے دن بھی لے جاکر زبردست قسم کا میک اپ کروادیا، یوں درحقیقت اس کا پیارا لگنا ماموں زاد بہن کے مرہون منت تھا۔
شہریار کا سینہ خاندان والوں کی طرف سے رمان کو ملنے والی تعریفی سند پر پھول کر کپا ہوگیا‘ مگر یکلخت ساری ہوا نکل گئی جب دو ایک بار وہ رمان سے ملنے پہنچ گیا۔ اس کے انداز پر بھونچکا رہ گیا۔ وہ کسی خاص تیاری سے بے نیاز، عام سے برائون سوٹ میں، دھلے دھلائے چہرے کے ساتھ اس کے سامنے آکر بیٹھ گئی، عطیہ ہی ہونے والے داماد کے آگے پیچھے ہوتی رہی۔ اس کے بعد ایسے جھٹکے لگتے رہے، ان کا جب بھی سامنا ہوتا، وہ شہریار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے اعتماد سے باتیں کرتی جیسے منگیتر سے ملنا کوئی معمول کی بات ہو۔ شہریار کی کوششوں کے باوجود ان کے بیچ میں رومانس کا ہلکا پھلکا چھینٹا بھی نہیں پڑا، نہ روٹھنا نہ منانا، نہ ہی شرمانا لجانا… نہ اس کی آنکھوں میں کاجل نہ ہونٹو ںپر لالی نہ ہی چوڑیوں کی کھنک۔ اس کے ارمان بین کرنے لگے۔
ژ…ژ…ژ
’’کیا کروں؟ کس طرح اس کا خشک مزاج بدلوں؟‘‘ شہریار نے اپنی بھابی کم دوست کے سامنے دہائی دی۔ فرحین اسے ناشتے کے لیے بلانے آئی تھی۔
’’شیری! ہوا کیا ہے؟‘‘ فرحین نے مسکرا کر دیورکے برابر بیٹھتے ہوئے پوچھا، جو اداس شکل بنائے نرم تکیہ کو توڑ مروڑ رہا تھا۔
’’رمان میں لڑکیوں والی کوئی بات ہی نہیں۔ اس سے تو مذاق کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے، اتنی سنجیدہ شکل بنا کر رکھتی ہے۔‘‘ شہریار نے اپنی الجھن بتائی۔
’’دیور جی‘ ابھی صرف منگنی ہوئی ہے، کچھ اور سوچا جاسکتا ہے۔‘‘ فرحین نے اس کو آزمایا۔
’’نہں بھابی! ہم خاندانی لوگ ہیں، زبان دے کر پھرنے والوں میں سے نہیں۔‘‘ شہریار نے بڑی متانت سے کہا۔
’’اگر بات صرف زبان کی ہے تو میں اس معاملے کو ہینڈل کرلوں گی، تم بے فکر ہوجائو۔‘‘ فرحین نے اس کے تاثرات کا جائزہ لیا۔
’’ایک اور مشکل ہے۔ وہ روم روم میں بس چکی ہے۔ میں نے جب رمان کو منگنی والے دن اپنے برابر میں بیٹھا دیکھا تو یوں لگا جیسے سارے جہان کی خوشیاں میری مٹھی میں سما گئی ہوں، اس کا ساتھ کیا ملا میں زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا، بادلوں میں تیرنے لگا، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ بس ایک دھکے کی کسر ہے اور میں منہ کے بل گرنے والا ہوں۔‘‘ شیری کی سرخ آنکھوں سے پتا چل رہا تھا کہ رات سے اب تک وہ لمحہ بھر بھی نہیں سویا ہو۔
’’مجھے نہیں پتا تھا‘ اتنے فلمی ہو توبہ… توبہ۔‘‘ بھابی نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’بھابی! یہ فلمی نہیں میرے دل کی باتیں ہیں۔ میں رمان کو ناپسند نہیں کرتا۔ آپ جانتی ہیں نا کہ مجھے شروع سے رنگ و خوش بو سے عشق ہے۔‘‘ شہریار نے اسے کچھ سمجھانا چاہا۔
’’ہاں‘ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ تم اپنے بھائیوں سے بھی زیادہ ارمان بھرے ہو۔‘‘ فرحین نے دیور کو چھیڑا۔
’’بس آپ یوں سمجھیں کہ رمان میری ایک ایسی فیورٹ تصویر ہے، جو بے رنگ ہے۔‘‘ شیری نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے انداز میں تشریح کی۔
’’آ… ہا… تو پھر کیا چاہتے ہو؟‘‘ فرحین کا ذہن تیزی سے دیور کے خیالات پڑھنے لگا تھا۔
’’میں اسے اپنے پسند یدہ رنگوں سے مزین دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ شہریار نے آنکھیں بند کرکے کہا۔
’’ہاں‘ اتنی چھوٹی سی بات پر اتنا پریشان ہورہے ہو۔‘‘ فرحین نے چھوٹے دیور کے منتشر بالوںکو پیار سے سنوارا۔
’’بھابی، یہ بات آپ کی نظر میں معمولی ہوگی مگر میری پوری زندگی کا معاملہ ہے۔‘‘ وہ منہ بگاڑ کر بولا۔
’’زندگی ایک پر ختم تو نہیں ہوتی۔‘‘ فرحین نے اس کے جذبوں کو آخری ضرب لگائی۔
’’شاید ہوتی بھی ہو‘ پیار میں کوئی ایک ہی تو ’’سب کچھ‘‘ بن جاتا ہے۔‘‘ وہ سرہلاتے ہوئے جذب کے عالم میں بولا۔
’’اوکے سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ فرحین نے اس کے کاندھے تھپک کرتسلی دی۔ شہریار کو تھوڑا سکون حاصل ہوا، دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوتا محسوس ہوا۔
’’چلو اٹھو‘ کیا آفس نہیں جانا؟‘‘ اس نے ایک انگڑائی لے کر لیٹنا چاہا تو فرحین نے تکیہ اٹھا کر اس کے منہ پر دے مارا۔
’’بھابی! ایک درخواست ہے‘ میں نے جو کچھ بھی شیئر کیا، اس کی خبر کسی اور کو نہ ہو‘ میں نہیں چاہتا رمان اس گھر میں قدم رکھنے سے قبل ہی ایک متنازع شخصیت بن جائے۔‘‘ شہریار نے اتنے خلوص سے بھابی سے درخواست کی انہوں نے سر ہلا کر حامی بھرلی۔
اب آئے گا مزہ۔ فرحین نے دیور کے پیچھے جاتے ہوئے سوچا، اس کے چہرے پر کھویا کھویا سا تاثر ابھرا۔
…٭٭٭…
’’آنٹی! اندر آجائوں؟‘‘ عطیہ نے دروازہ کھولا تو فرحین کا ہنستا مسکراتا چہرہ دکھائی دیا۔
’’ارے آئو نا بیٹا‘ تمہیں اجازت کی کیا ضرورت؟ یہ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔‘‘ عطیہ نے بیٹی کی ہونے والی جٹھانی کا ہاتھ تھام کر خوش دلی سے کہا۔
’’بیٹا! حلیہ ٹھیک کرکے ڈرائنگ روم میں آجائو۔ فرحین تم سے ملنے آئی ہے۔‘‘ رمان آفس سے آکر آرام کررہی تھی، اسے اطلاع دے کر وہ ڈرائنگ روم میں لوٹ آئیں۔
’’آپ تو جانتی ہیں ہم لوگ رمضان سے قبل عید کی شاپنگ کرنا چاہتے تھے‘ مگر یہ کام ہو نہیں سکا۔ خیر ممی نے مجھے بھیجا ہے کہ رمان کی ناپ کی چیزیں لے آئوں تاکہ جلد از جلد عید کی شاپنگ مکمل ہو جائے۔‘‘ فرحین نے مدعا بیان کیا تو عطیہ شرمندہ سی ہوکر سامنے بیٹھی بیٹی کو گھورنے لگیں، جس نے اس دن واپسی پر ماں کو خود ہی اپنی اور شیری کی ان بن کا احوال سنادیا تھا۔ بیٹی کی حرکتوں پر انہوں نے ماتھا پیٹ لیا، وہ ڈرتی رہیں کہ ثریا کا فون آگیا۔
’’عطیہ! میں کیا کہوں‘ اس لڑکے کو کچھ پسند نہیں آیا، بلاوجہ بچی کا وقت برباد کیا۔ اب کہہ رہا ہے بھابی اور آپ ہی رمان کی شاپنگ کرلیں۔‘‘ ثریا نے معذرت کی تو عطیہ نے سکون کا سانس لیا۔ رمان نے تو ان کی ناک کٹوا کر رکھ دی تھی شکر ہے شیری نے ساری بات اپنے اوپر لے لی، ورنہ نیا نیا معاملہ تھا، کتنی شرمندگی اٹھانی پڑتی۔
’’آپ ناپ دے رہی ہیں نا؟‘‘ فرحین نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کہا تو وہ خیالوں کی دنیا سے لوٹ آئیں۔
اچھا میں ابھی لاتی ہوں۔ جب تک تم یہ کیک کھائو، میں نے خود بیک کیا ہے۔‘‘ عطیہ نے حامی بھرنے کے ساتھ مہمان نوازی نبھائی اور اٹھ آئیں۔
’’چلو اچھا ہوا‘ آنٹی ہمیں تنہائی کا موقع دے کر چلی گئیں۔ مجھے ایک ضروری بات کرنی تھی۔‘‘ فرحین نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا اور بغور فان رنگ کے ڈھیلے سے کرتا شلوار میں ملبوس رمان کو دیکھا۔
’’جی‘ میں سمجھی نہیں؟‘‘ رمان اس کے انداز پر چونکی، وہ فرحین کے مسلسل دیکھنے پرپزل ہونے لگی۔
’’اچھی خاصی شخصیت کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے۔‘‘ فرحین کا دیوار سے سر مارنے کو دل چاہا۔ اس نے بات شروع نہیں کی۔
’’بھابی! یہ چائے ٹھنڈی ہورہی ہے۔‘‘ رمان نے اس کے پراسرار انداز سے پریشان ہوکر آداب میزبانی نبھائی۔
’’چلو بی بی‘ آپ سے ہوجائیں زرا دو‘ دو ہاتھ۔‘‘ فرحین نے مسکرا کر سوچا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے برابر میں آبیٹھی۔ جبکہ رمان حیران رہ گئی۔
…٭٭٭…
’’مگر بھابی۔‘‘ فرحین کے انکشافات پر رمان کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔
’’دیکھو تم بھی جانتی ہو میرا سسرال ہے۔ یہ بات نکلنی نہیں چاہیے، ورنہ میرے ساتھ اچھا نہیں ہوگا۔‘‘ فرحین نے التجائیہ انداز میں کہا۔
’’مجھے آپ یہ سب کیوں بتارہی ہیں؟‘‘ وہ نروٹھے پن سے بولی۔
’’تمہیں صرف اس لیے بتایا ہے کہ سپنا اور شہریار کی زندگی خراب ہونے سے بچ جائے۔‘‘ فرحین نے کیک کا پیس منہ میں رکھا۔
’’اپنے دیور کو کہیں‘ میں اس سلسلے میں کیا کرسکتی ہوں؟‘‘ رمان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس سچوئشن کو کیسے ہینڈل کرے۔
’’وہ بے چارہ ممی کی وجہ سے مجبور ہے‘ خیر وعدہ کرو تم کسی سے یہ بات نہیں کہوگی۔‘‘ فرحین نے ٹھنڈی آہ بھر کر اس کا ہاتھ لجاحت سے تھاما۔
وہ کوئی جواب بھی نہ دے سکی ٹکر ٹکر ہونے والی جٹھانی کا چہرہ دیکھتی رہی۔ پورے جسم میں آگ سی پھیل گئی، اگر شہریار سامنے ہوتا تو، شاید اپنی شخصیت کے رکھ رکھائو کو پرے رکھ کر غصے میں اس کا سر پھاڑنے سے بھی اجتناب نہ برتتی۔
’’محبت فرحین بھابی کی چچا کی لڑکی سے اور شادی مجھ سے۔‘‘ رمان کا غم و غصے سے براحال ہورہا تھا۔ فرحین کب ناپ کے کپڑے سینڈل اٹھا کر چلی گئی اسے خبر بھی نہ ہوئی‘ بس اپنی جگہ بیٹھی دانت کچکچاتی رہی۔
…٭٭٭…
وہ شروع سے ماں کے مقابلے میں اپنے پاپا سے اٹیچڈ تھی۔ بھائی بہن کوئی تھا نہیں۔ بس اپنے پاپا کی لاڈلی بنی رہتی۔ اسکول کے قصے، دوستوں کی باتیں، پڑھائی کی الجھنیں۔ اس کی دنیا اپنے پاپا سے شروع ہوکر ان پر ہی ختم ہوتیں۔
رمان نے باپ کے جانے کا بہت زیادہ اثر لیا تھا، ان کے بعد خود پر سنجیدگی کا ایک آہنی خول چڑھا لیا تھا۔ حلقہ احباب محدود کرتی چلی گئی، کچھ لڑکوں نے دوران تعلیم اس کی خوب صورتی، سادگی اور ذہانت سے متاثر ہوکر پرپوز بھی کیا مگر وہ ٹال گئی۔ کسی سے فالتو بات نہ بلاوجہ کا ہنسی مذاق۔ اپنے گرد ایک ایسا دائرہ کھینچ لیا تھا جس میں کسی کا داخل ہونا آسان نہ تھا۔
وہ باپ کے بعد اپنی ماں کے سارے ارمان پورے کرنے کی خواہاں تھی، خود کو مشین سمجھ لیا اور باپ سے کیا ہوا عہد نبھانے میں وہ اپنے آپ کو بے رنگ کرتی چلی گئی۔
’’مجھے کیا‘ کرتا رہے کسی سپنا سے پیار۔‘‘ اس نے کاندھے اچکا کر بات کو ایزی لینا چاہا، مگر سب کچھ اتنا آسان نہیں رہا۔
منگنی کے بعد اسے شہریار کے نام کے ساتھ اپنا نام سننے کی عادت سی ہوگئی تھی، اب جو دل پر چوٹ لگی تو وہ بکھر بکھر گئی۔
’’جس طرح کی بیوی شہریار کو چاہیے، تم اس سے مختلف ہو۔‘‘ اس دن کی باتیں دل کو کچوکے لگا رہی تھیں۔ فرحین کے منہ سے سپنا کا نام سنتے ہی اس کے پورے وجود میں جیسے شرارے سے دوڑنے لگے تھے۔
’’یہ احساس کتنا اذیت ناک ہے۔ آپ جس کے سب کچھ بننے والے ہوں۔ وہ آپ کوکچھ نہیں سمجھتا ہو۔‘‘ رمان نے منگنی کے بعد پہلی بار شہریار کے لیے اس انداز سے سوچا۔ جذبات میں آکر انگلی سے رنگ اتار دی تو ایک کمی کا احساس من میں جاگا۔
’’مسٹر شہریار! الگ ہونے سے قبل خود کو آپ کی نظروں میں منوانا پڑے گا۔‘‘ اس نے خالی انگلی کو دیکھتے ہوئے سوچا، پتھر میں جونک لگ ہی گئی۔ وہ بہت بے چین تھی، جب بھی آنکھیں بند کرتی، شہریار کا ہنستا مسکراتا چہرہ سامنے آجاتا۔ اس نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی۔ آج اسے فیس ٹریٹمنٹ کے لیے جانا تھا، اپائنمنٹ کا ٹائم ہوچکا تھا۔ وہ تیزی سے گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گئی۔
…٭٭٭…
آسمان پر چودھویں کا چاند پوری آب وتاب سے روشن تھا، دودھیا ماحول چاندنی کو اپنے اندر سموئے نمایاں ہونے لگا۔ کیاری میں لگی رات کی رانی کی خوش بو نے دماغ کو معطرکیا۔ رمان شب خوابی کے سفید لباس میں ماحول کا حصہ بنی بیٹھی، پڑوسیوں کے گھر سے چھن چھن کر آتی روشنی کی گڈمڈ لکیروں کو تک رہی تھی۔ ایسے پرسکون ماحول میں اسے ایک پل کو قرار نہیں تھا‘ دماغ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھا۔
’’آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ میں جس سے پیار کروں وہ ہی مجھ سے دور چلا جاتا ہے پہلے پاپا اور اب شہریار۔‘‘ فرحین کی باتوں نے اس کے اندر کی برسوں سے سوئی ہوئی حساس اور جذباتی لڑکی کو جگا دیا۔ شہریار سے الگ ہونا سوہان روح لگ رہا تھا، چہرے پر نمی کا احساس ہوا، اس نے اپنی انگلیاں گالوں پر پھیریں تو آنکھوں سے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر گر نے لگے۔ ضبط و برداشت کا یارا نہ رہا تو وہ ہچکیوں سے رونے لگی، آج کتنے سالوں بعد ان آنکھوں میں برسات کی جھڑی لگی تھی۔
آخری بار وہ باپ کے سامنے روئی تھی، اس کا دل کتنے سالوں بعد گداز ہوا تھا، جس میں سے شہریار کی محبت کے سوتے پھوٹ رہے تھے، رمان نے نم پلکیں اٹھا کر اوپر دیکھا، آسمان پر چمکتے تنہا چاند کو دیکھ کر دل کو کچھ ہوا۔ چاند کی نورانی لہریں اس کے ساتھ بہتی ہوئی ماضی کے سفر پر روانہ ہوگئیں۔
…٭٭٭…
انیق بیگ جنہیں اپنی بیٹی کو ترقی کرتا دیکھنے کی بڑی آرزو تھی بہت جلدی دنیا سے منہ موڑ گئے تھے۔ رمان جب او لیول میں آئی تو سگریٹ نوشی کی بری لت نے ان کے پھیپھڑوں کو ناکارہ کردیا اور وہ کینسر جیسے جان لیوا مرض میں مبتلا ہوگئے۔ جب انہیں اپنی بیماری کی سنگینی کا احساس ہوا، اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق انیق بیگ کے پاس وقت تھوڑا رہ گیا تھا۔ وہ یہ سن کر پہلے تو گھبرا اٹھے پھر بیوی اور معصوم بیٹی پر نگاہ پڑی تو برداشت سے کام لیا، سب سے پہلے ان دونوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کا سوچا۔ کاروبار سے سارا پیسہ نکلوایا‘ بڑا سا مکان خریدا، ایک خطیر رقم بینک میں بیٹی کی تعلیم اور بیوی کے خرچے کے لیے ڈیپازٹ کروائی۔ گھر میں بگڑی کھانسی کا بتا کر اپنا علاج شروع کروایا مگر کچھ خاص بہتری ہوتی دکھائی نہیں دی۔
انیق بیگ نے بیوی سے تو موذی مرض کی بات چھپالی، جانتے تھے کہ عطیہ کتنے چھوٹے دل کی عورت ہے۔ یہ خبر سنتے ہی خود صاحب فراش ہوجائے گی، مگر بیٹی کو اشاروں کنایوں میں آنے والے برے وقت کے لیے تیار کرنا ضروری تھا۔
’’میرے بچے‘ آپ کو اپنے پاپا کے بغیر رہنا پڑ جائے تو حالات کا مقابلہ کرنا۔ اپنی ماں کو سنبھالنا‘ اس گھر کا مرد بننا۔‘‘ وہ انتقال سے چند روز قبل بیٹی کے روم میں چلے آئے اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
’’کھو… کھو… کھو۔‘‘ ایک دم زور کی کھانسی اٹھی۔ رمان اٹھ کر بیٹھ گئی، باپ کی پیٹھ سہلائی۔ تھوڑی دیر بعد آرام آیا۔
’’پاپا! کیا آپ کہیں جارہے ہیں؟‘‘ رمان نے ان کا زرد چہرہ بغور تکتے ہوئے پوچھا۔
’’بچے‘ زندگی کا کچھ بھروسا نہیں۔ انسان کو ہر اچھے برے وقت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘ انیق بیگ نے منہ پھیرا۔ درد کی ایک لہر سی اٹھی، آنکھ میں بہت سارا پانی بھر آیا۔
’’پاپا! سچ بتائیں میرا دل گھبرا رہا ہے‘ آپ ڈاکٹر کے پاس گئے تھے۔ رپور ٹ خراب آئی ہے نا؟‘‘ اس نے باپ کا منہ اپنی جانب موڑا۔ ان کی آنکھوں میں ابھرنے والے موتیوں کو اپنی پوروں میں سمو لیا۔
’’ہاں بیٹا‘ رپورٹ کا فی خراب آئی ہے۔‘‘ انیق بیگ نے نگاہ چرائی۔
’’پاپا…!‘‘ رمان نے بمشکل اپنی چیخ کو روکا۔
’’اپنی ماں کو کچھ نہ بتانا، ورنہ وہ پریشان ہوجائیں گی۔‘‘ انیق بیگ نے مزید سمجھایا۔ رمان متوحش نگاہوں سے باپ کو تکنے لگی۔
’’ایک وعدہ کرو میرے بعد دنیا والوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں دینا کہ انیق بیگ نے اپنی بیٹی کی تربیت اچھی نہیں کی۔ تم میرا مان ہو‘ عزت ہو۔‘‘ انیق بیگ نے بیٹی کا ماتھا چوم کر اپنا چوڑا مردانہ ہاتھ پھیلایا تو رمان نے باپ کا ہاتھ تھام کر عہد دھرایا۔
رمان باپ سے آنکھیں نہیں ملارہی تھی، مگر ان سے بیٹی کے آنسو چھپے نہ رہ سکے۔ آنکھوں میں موجود آنسوؤں کی زبانی سب معاہدے طے ہوگئے تھے بولنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں تھا۔ برداشت ختم ہونے لگی تو وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر تیزی سے کمرے سے چلے گئے۔ باپ کے کمرے سے جانے تک رمان نے ضبط کیا، اس کے بعد تکیہ میں منہ دے کر اس قدر پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ کمرے کی ایک ایک شے اس کے ساتھ رو دی‘ وہ آخری بار روئی۔ اس کے بعد باپ کی میت دیکھ کر بھی صبر نہیں توڑا۔ ماں کو سنبھالنے میں لگی رہی جو بار بار غش کھا کر گر رہی تھیں۔
’’پاپا! آپ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جایا کریں۔ آپ کے بغیر ٹائم پاس نہیں ہوتا۔‘‘ انیق بیگ دو دن کے لیے شہر سے باہر گئے تو ان کی واپسی پر رمان نے گلے لگ کر لاڈ سے کہا تھا۔ وہ باپ کے بغیر ایک دن بھی نہیں گزارتی تھی۔
ایک دن وہ اسے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ ایسے ہی جیسے ہاتھ سے ریت پھسلتی چلی جاتی ہے۔ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے۔ مرنے والے کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔ زندگی آگے کی جانب رواں دواں ہی رہتی ہے۔ بس تمام عمر کے لیے دل میں خلش چھوڑ جاتی ہے۔ اسے کبھی کبھی محسوس ہوتا کہ ایسی بہت ساری باتیں دل میں گھٹن پیدا کررہی ہیں جو صرف پاپا سے شیئر کرنی تھیں۔
اپنی ماں کے لیے اس نے خود کو پتھر کا بنا لیا کام اور صرف کام۔ باپ کے بعد وہ دن بہ دن تنہائی پسند ہوتی چلی گئی۔
…٭٭٭…
رمان دوپہر کو ہی دفتر سے اٹھ کر ساحل سمندر پر آگئی تھی۔ اب بے چینی کے عالم میں گیلی ریت پر ٹہل رہی تھی۔کبھی مڑ کر دیکھتی، کبھی سیل فون سے کھیلتی اور کبھی اسکرین چیک کرتی، کہیں شہریار نے کوئی ٹیکسٹ نہ کیا ہو۔
قدرت نے رمان کو حسن کے ساتھ جو ذہانت عطا کی تھی اسی کو استعمال کرتے ہوئے وہ شہریار سے مل کر ’’سپنا‘‘ والا معاملہ صاف کرنے کی خواہاں تھی تاکہ بڑھتی ہوئی الجھنوں کے جال سے نکلا جاسکے۔ وہ سوچوں میں مگن ساحل پر چہل قدمی کرنے لگی۔ گیلی ریت سے تلووں میں گدگدی سی ہوئی۔ وہ بچوں کی طرح کھکھلا کر ہنسی۔ اسے شیری کی مسکراہٹ، شرارت، آنکھوں میں بسے جذبے، سب کچھ یاد آنے لگے۔
’’شیری کے بغیر رہنا مشکل ہوگا۔‘‘ رمان نے اپنی ہارکا اعتراف کرلیا۔ ایک چمکیلی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیلتی چلی گئی۔ اپنے بالکل پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو خوف سے پلٹ کر دیکھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ شہریار اس کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے کھڑا نہایت ترو تازہ نظر آرہا تھا۔
’’وعلیکم سلام! شکر ہے محترم آپ آگئے۔ پورے پندرہ منٹ لیٹ ہیں۔‘‘ اس کے لبوں سے شکوہ نکلا مگر شہریار کی نگاہیں تو اس کے سراپا میں الجھی ہوئی تھیں۔ وہ تو بس حیرت زدہ سا ہی دیکھتا رہا۔
’’ہیلو… کیا ہوا؟‘‘ رمان نے خود پر شہریار کی جمی نگاہوں سے محظوظ ہوتے ہوئے پوچھا۔ وہ بلیک جینز پر، ایپل گرین اسکوپ نیک کی فلیئرڈ شرٹ پہنے، ہلکے پھلکے میک اپ میں، کانوں میں اسٹائلش ٹاپس، ہاتھوں میں کنگن اور کھلے بالوں پر برائون سن گلاسز ٹکائے اس کے ہوش اڑائے دے رہی تھی۔
’’کچھ نہیں‘ بس ہارٹ اٹیک کی کمی رہ گئی ہے۔‘‘ وہ شوخی سے سینے پر ہاتھ بندھ کر اس کی جانب جھکا تو رمان کے چہرے پر شرم و حیا کی قوس و قزح پھوٹ پڑی۔
’’محترمہ! کیا یہاں بلانے کا مقصد جان سکتا ہوں؟‘‘ شہریار نے کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سرشاری سے پوچھا۔
’’دراصل شیری‘ مجھے آپ کو کچھ واپس کرنا تھا۔‘‘ رمان نے اسے پہلی بار بے تکلفی سے پکارا۔ وہ تو شاک پر شاک دیے جارہی تھی۔
’’شروعات کے ساتھ ہی اختتام، زندگی کا یہ کیسا تضاد ہے۔ کاش ایسا نہ ہوتا۔‘‘ خود پر اس کی پرشوق نگاہوں کی گرفت محسوس کرکے وہ اذیت کا شکار ہونے لگی، دل بے ایمانی پر آمادہ ہوا‘ مگر دماغ دوبارہ ’’سپنا‘‘ پر جا اٹکا۔
’’واہ… ہمارے ایسے نصیب کہاں؟ کون سا خزانہ واپس کرنا ہے۔‘‘ وہ اب تک نہیں سمجھا تھا شوخی سے بولا۔ ہاف سلیوز
ٹی شرٹ پر بلیو ڈینم پہنے آنکھوں پر سن گلاسز چڑھائے، بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
’’آر یا پار۔‘‘ رمان کے ذہن میں بس یہی تکرار تھی۔ شیری ہمہ تن گوش ہوا۔ اس نے اپنے لیدر کے قیمتی برائون بیگ سے نازک سی ڈائمنڈ رنگ نکالی اور اس کی طرف بڑھائی۔
’’یہ کون سا مذاق ہے۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ وہ غصے سے گیلی ریت پر پائوں مار کر نشان بنا رہا تھا، جسے پانی کی تیز لہریں مٹاتی جارہی تھیں۔
’’یہ مذاق نہیں‘ حقیقت ہے۔‘‘ رمان نے سنجیدگی اختیار کی جبکہ اس کا دل پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
’’کیا میں اس انکار کی وجہ جان سکتا ہوں؟‘‘ وہ رمان کی واپس کی گئی رنگ کو کس کر تھامے خود بھی سنجیدہ ہوگیا تھا۔
’’ایک ہو تو بتائوں۔‘‘ رمان طنزیہ انداز میںگویا ہوئی۔
’’اوہو… چلو جتنی بھی ہیں سب بتادو۔‘‘ شہریار نے اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی مگر رمان نے پیچھے کھینچ لیا۔
’’میں اس شخص کی بیوی نہیں بن سکتی‘ جس کی میں آئیڈیل نہیں ہوں۔ ہم دونوں کے مزاجوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔‘‘ رمان نے انگلیوں پر گنوانا شروع کیا اور لحظہ بھر رک کر اسے دیکھا۔
’’ویسے ان دونوں باتوں کا ازالہ تو آج آپ کی تیاری نے کردیا۔ چلو بات ختم ہوگئی۔ اب انگلی میں انگوٹھی پہن لو۔ سمندر کے کنارے منگنی… ہائو رومینٹک۔‘‘ شہریار نے دلکشی سے دیکھا اور ہاتھ بڑھایا، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
’’اونہہ…‘‘ رمان نے نفی میں سر ہلاکر اس کی محبت کو نظر انداز کیا۔ وہ پھیکا پڑ گیا۔
’’چاہتی کیا ہو؟‘‘ شہریار برابر میں کھڑی دشمن جاں کا ذہن پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔
’’ایک منٹ ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی۔‘‘ رمان نے سرخ ہونٹوں کو کاٹتے ہوئے خلائوں میں گھورا۔
’’اب کیا رہ گیا ہے جان؟‘‘ شہریار نے محبت سے کہا۔ وہ من پسند رنگوں سے مزین ہوکر کچھ زیادہ ہی دلربا ہوگئی تھی۔
’’سب سے بڑی بات تو رہ گئی ہے جو میرے لیے نا قابل برداشت ہے۔‘‘ رمان اب اس کے چہرے کے تاثرات جانچ رہی تھی۔
’’کیا قسطوں میں جان نکال رہی ہو ایک بار ہی بتادو اور مسکرادو‘ ایک بار مسکرادو۔‘‘ وہ دوبارہ شوخ ہو اور زور زور سے گانے لگا۔
’’چپ ہوکر میری بات سنیں یہ بات بہت غلط ہوگی کہ آپ کی زندگی میں تو میں ہوں اور دل میں کوئی اور۔‘‘ رمان نے سنجیدگی سے اسے خاموش کرایا۔ اس کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ نے شہریار کے ارد گرد کئی دھماکے کر ڈالے۔ رمان کی بات سے وہ کچھ دیر کے لیے شاک میں چلا گیا۔
’’اتنا بڑا الزام تم مجھے کیا منافق سمجھتی ہو۔ جس کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہو۔‘‘ وہ پہلی بار شدید غصے میں دکھائی دیا۔
رمان کے تو حواس ساتھ چھوڑنے لگے وہ تو سوچ رہی تھی کہ شیری شرمندہ ہوکر صفائی دے گا۔
’’نہیں میرا مطلب یہ تھا کہ…‘‘ رمان اس کے بپھرنے پر ذرا گڑبڑا کر بولی، سب کچھ الٹا ہوگیا۔
’’نہیں میڈم میں کوئی موم کا گڈا نہیں جو لوگوں کے کہنے پر مڑتا چلا جائوں۔ میں اپنے ذہن سے کام کرتا ہوں اور میری اپنی بھی مرضی ہے۔‘‘ شہریار بھنا کر بولا۔ اس پر غم و غصے کی کیفیت طاری ہوگی تھی۔
’’میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگا رہی… بس جو حقیقت ہے وہ ہی بیان کررہی ہوں۔‘‘ رمان نے ڈھیٹ بننے میں عافیت جانی۔
’’محترمہ! میرے اند ر اتنی غیرت اور اخلاقی جرأت باقی ہے کہ اگر کسی دوسری لڑکی سے پیار کرتا تو اسے ڈنکے کی چوٹ پر اپناتا۔ یوں چھپ چھپاتے آپ سے منگنی نہ کرلیتا۔‘‘ وہ ایک دم چیخا پھر رمان کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں دکھائی دیں تو نرمی سے گویا ہوا۔
’’کہیں مجھے کوئی غلط فہمی تو نہیں ہوئی؟‘‘ پل بھر کو تو رمان کو خود پر بھی شبہہ ہوا، مگر فرحین نے اسے جس سچائی سے آگاہ کیا تھا، اس کو جھٹلانا مشکل تھا۔
’’ہاں تم سی ایک بات ضرور کہوں‘ میری محبت کا مرکز بس ایک ہی لڑکی ہے، وہ ہی میرا سب کچھ ہے‘ سمجھیں۔‘‘ شہریار نے اسے ہراساں دیکھا تو مسکرا کر یقین دلایا۔ وہ بینک کے معاملات چاہے کتنی بھی مہارت سے سنبھالتی تھی، مگر زندگی کو برتنے میں ابھی کوری تھی۔
’’اچھا تو پھر یہ سپنا کون ہے؟‘‘ رمان کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو اس نے اپنے بال نوچ ڈالے۔
’’نہیں جان‘ میری زندگی میں کوئی اچھا یا برا سپنا نہیں۔ میری محبت صرف میری رمان ہے۔‘‘ شہریار نے اس کی جانب جھنجھلا کر انگلی سے اشارا کیا۔ رمان کو شیری کی آنکھیں شفاف اور لہجہ سچائی کا غمازی لگا۔
’’ویسے بائی دا وے تمہارے دماغ میں یہ ’’سپنا‘‘ کا فتور کہاں سے آیا؟‘‘ شہریار نے سمندر لہروں کو اٹھکیلاں کرتے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ رمان نے اس کی محبت دل سے محسوس کی۔
’’کہیں ایسا تو نہیں کہ تم مجھے سے پیچھا چھڑانے کے لیے جھوٹے الزامات کا سہارا لے رہی ہو؟‘‘ شہریار بھی ایک مرد تھا، فورا ذہن میں شک سمایا۔
’’کیا…! آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے؟ وہ تو فرحین بھابی نے بتایا کہ…‘‘ شیری اس کی بات پر اچھل پڑا اور کھا جانے والی نگاہوں سے گھورتے ہوئے، فرحین کی ساری باتیں اس سے اگلوائیں اور جب رمان کو احساس ہوا کہ تو وہ ہک دک سی رہ گئی۔
’’ہا… ہا… ہا… آئی لو یو بھابی۔‘‘ شہریار نے پہلے تو سنجیدگی سے ساری باتیں سنی پھر ایک دم ہنستا ہوا پیٹ کے بل جھک گیا۔
’’کیا ہوا؟ میں نے ایسا کون سا لطیفہ سنایا ہے جو ہنسی پر قابو ہی نہیں ہو پا رہا۔‘‘ رمان نے پہلے حیران ہوکر اسے گھورا پھر ناراضگی دکھائی۔
’’اچھا تو میں بھابی کی کزن سپنا کو چاہتا ہوں کیوں کہ وہ میری آئیڈیل ہے اور اسے شوخ رنگ میک اپ‘ چوڑی بالی اور شوخی و شرارت پسند ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم بورنگ ہو، میرے ٹکر کی نہیں ہو۔ یہ سب باتیں تم سے فرحین بھابی نے کی تھیں؟‘‘ شہریار نے مسکراتے ہوئے اس کی باتیں دہرا کر سوال کیا تو رمان نے معصومیت سے سر ہلایا۔
’’تمہیں پتا ہے فرحین‘ بھابی نے تمہاری شاپنگ میں مما کی سب سے زیادہ ہیلپ کی کہ رمان پر یہ اچھا لگے گا‘ یہ رنگ اٹھے گا، یہ چپل سوٹ کرے گی، یہ جیولری ٹھیک رہے گی۔‘‘ شہریار نے دلکشی سے فرحین کی پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کی۔ دل سے ایک بڑا بوجھ اتر گیا تھا، سمجھ گیا کہ بھابی نے رمان کا دماغ ٹھیک کرنے کے لیے یہ جھوٹا کھیل رچایا تھا۔
’’اچھا مگر اس دن تو فرحین بھابی ایسا ظاہر کررہی تھی جیسے وہ سپنا کا مقدمہ لڑنے آئی ہوں۔ میں کسی بھی طرح یہ منگنی توڑ دوں۔‘‘ رمان نے نہ سمجھ میں آنے والے انداز میں کہا۔
’’چلو اگر ایسا ہے بھی تو کیا تمہاری نگاہ میں میری کوئی وقعت نہیں۔ ہمارے اس پیارے سے بندھن نے تمہارے اندر کوئی انوکھا جذبہ نہیں جگایا، جو تم قربانی کی دیوی بنی مجھے بڑے آرام سے کسی اور کے حوالے کرنے پر تل گئی؟‘‘ شہریار کا گمبھیر شکایتی لہجہ، اس کے ہوش اڑانے لگا۔ ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا، ہونٹ کپکپائے، آنسو چھلکنے کو بے تاب ہوئے۔
’’پلیز جان‘ اب رونا نہیں۔‘‘ شہریار نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے، وہ آنکھوں کی نمی چھپانے کے لیے ساحل کی طرف دیکھنے لگی۔
’’کیا میں نے جو خود میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں اس بات کا ثبوت نہیں کہ میں آپ کے رنگ میں رنگنا چاہتی ہوں۔ پتا ہے منگنی کے بعد پہلی بار ایک بیوٹی ایکسپرٹ سے اپائنمنٹ لیا، اپنا مکمل میک اوور کرایا‘ صرف آپ کے لیے پر جب پتا چلا کہ آپ تو کسی اور کے ساتھ انوالو ہیں توسب کچھ بیکار لگا۔‘‘ رمان جوش میں سب کہہ گئی۔
’’وہی ناز نخرہ، سرخ چہرہ، سجا سنورا روپ۔ اب تصویر مکمل ہوگئی۔ ’’ویسے آپ کی خود پر کی گئی محنت قابل تعریف ہے۔‘‘ شہریار نے اسے سراہتی نگاہوں سے دیکھا۔
’’میری ایک بات پر یقین رکھنا کہ میری پہلی اور آخری محبت صرف تم ہو۔ فرحین بھابی نے ہمیں اپنے نئے رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اچھا موقع دیا ہے۔‘‘ شہریار کی نگاہوں سے سچے جذبے چھلک اٹھے تو رمان کے سرخ لبوں پر نقرئی مسکراہٹ در آئی اور معدوم ہوگئی۔
’’اوہ مگر وہ بھابی کی چچازاد بہن۔ سپنا کا کیا ہوگا؟‘‘ رمان نے افسردگی سے سر جھکا کر کہا۔ فرحین کا نام سنتے ہی اسے سب یاد آگیا، جوش و خروش ٹھنڈا پڑگیا۔
’’اف پھر سپنا چلو اسے صرف ایک برا سپنا سمجھ کر بھول جانا۔ اصل میں بھابی جانتی تھیں کہ تم کیسی ٹیڑھی لڑکی ہو اگر وہ سیدھے سادے انداز میں آکر سمجھاتیں‘ تمہیں ان چیزوں کی جانب راغب کرتی جو مجھے پسند ہیں تو تم انا کا مسئلہ بنا لیتی۔ انہوں نے تمہارے دل میں میری محبت جگانے کے لیے ’’جیلسی‘‘ کا آزمودہ نسخہ آزمایا جو تیر بہدف ثابت ہو۔‘‘ شہریار نے اس کے سامنے تمام سچائی بیان کی۔
’’اور وہ جو میری جان نکال کر رکھ دی اس کا ازالہ کون کرے گا؟‘‘ رمان نے ریلکس ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’جان! میں ہوں نہ۔‘‘ شہریار نے اتنے پیارے انداز میں کہا کہ وہ شرم سے سرخ یاقوت بن گئی۔
’’یعنی اس ڈرامے میں آپ بھی شامل تھے؟‘‘ وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی۔
’’قسم سے بھابی کی پلاننگ میں بالکل شامل نہیں تھا، ہاں انہیں اس بات کی خبر ضرور تھی کہ میں تمہیں کس روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ ایک دم سر پر ہاتھ رکھ کر بولا تو رمان نے طمانیت سے سر ہلادیا۔
’’اب گھر کی طرف بھاگو۔ عطیہ آنٹی اکیلے لگی ہوں گی۔ افطار کے بعد گاڑی بھر کر مما اور ساری بھابیاں بڑی زور وشور سے تمہاری عیدی پہنچنانے آرہی ہیں۔‘‘ شہریار کو کچھ یاد آیا تو ایک دم کھڑا ہوا اور گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے چہک کر ایک نئی اطلاع دی۔
’’اچھا‘ جب ہی ممی مسلسل فون کرکے جلدی آنے پر اصرار کررہی ہیں۔‘‘ رمان کی آنکھوں میں خوشیوں کے سارے رنگ ابھر آئے، شہریار دلچسپی سے دیکھتا رہ گیا۔
’’جان! ایک مزے کی بات بتائوں؟‘‘ شہریار نے بھورے بالوں پر سے سن گلاسز اتار کر اس کی آنکھوں پر لگاتے ہوئے سرگوشی کی۔
’’جی…‘‘ رمان نے اس کے استحقاق بھرے انداز کو انجوائے کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ دنوں نم ریت پر چلتے ہوئے ساحل عبور کرکے اپنی اپنی گاڑیوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔
’’فرحین بھابی کے کوئی سگے چچا ہیں ہی نہیں۔ ان کے ابو یعنی انکل طاہر اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے ہیں۔‘‘ وہ چہکا تو رمان کو اپنی بے خبری پر ہنسی آگئی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close