Aanchal Jul 15

موم کی محبت(قسط نمبر12)

راحت وفا

عجب ہیں راستے میرے کہ چلنا بھی نہیں ممکن
ذرا ٹھوکر جو لگ جائے سنبھلنا بھی نہیں ممکن
تعلق ٹوٹ جانے سے امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں
دلوں میں حسرتیں لے کر بہلنا بھی نہیں ممکن

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
عارض آغاجی کو سمجھانے کی حتی الامکان کوشش کرتا ہے مگر وہ عارض کی کوئی بات سنے بغیر اس سے ناراض ہوکر پاکستان آجاتے ہیں۔ عارض دکھ کی کیفیت میں خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے اسے اس بات کا افسوس ہے کہ آغاجی اس سے پہلی بار ناراض ہوکر پاکستان چلی گئے‘ مگر وہ فی الحال پاکستان جا کر انہیںمنانے سے قاصر تھا۔ زیبا صفدر کو اپنی محبت سے آگاہ کرنا چاہتی ہے مگر صفدر کی تلخی اسے کچھ بھی کہنے سے باز رکھتی ہے۔ ننھی بھی زیبا کو مسلسل سمجھاتی ہے کہ وہ صفدر کو تھوڑا وقت دے تاکہ عبدالصمد کو تسلیم کرے۔ مگر صفدر اسے ماضی کے عشق کے طعنے دے کر اسے اپنے گھر سے چلے جانے کو کہتا ہے۔ عارض کئی بار آغاجی سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ اس کا فون ریسیو نہیں کرتے۔ سنجنا عارض کے گھر کے بعد اس کے آفس بھی پہنچ جاتی ہے اور اسے اپنی باتوں سے پریشان کرتی ہے۔ عارض سنجنا کی آفس آمد پر بھونچکا رہ جاتا ہے اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس لڑکی کے ساتھ کیا سلوک کرے جبکہ وہ اب اس کے سامنے اپنی محبت کا دم بھرتی ہے۔ زینت آپا نے آفس میں سالانہ بونس کی تقسیم کے بعد لنچ کا اہتمام کیا تھا لیکن اچانک ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے تو شرمین انہیں اپنے روم میں لے آتی ہے۔ ساتھ ہی ڈاکٹر کو بلا کر بوبی کو بھی اطلاع دیتی ہے۔ ڈاکٹر چیک اپ کے بعد ایک دو ٹیسٹ لکھ کر آرام کا مشورہ دیتا ہے۔ صفدر کو اپنے ہیڈ آفس کی طرف سے پروموشن لیٹر ملتا ہے تو وہ یہ خوشی سب سے پہلے اپنے بچپن کے دوست عارض سے شیئر کرنا چاہتا تھا مگر کچھ سوچ کر ارادہ ملتوی کردیتا ہے۔ گھر آکر صفدر جہاں آرا بیگم کو اپنی ترقی کا بتانے کے ساتھ آفس کی طرف سے ملنے والی کوٹھی میں شفٹ ہونے کا کہتا ہے تو وہ انکار کردیتی ہیں مگر صفدر ضد پر آجاتا ہے۔ صفدر کی بات پر جہاں آرا کو صدمہ پہنچتا ہے وہ یہ گھر چھوڑنے پر بالکل بھی آمادہ نہیں ہوتیں اس گھر میں وہ بیاہ کر آئی تھیں اور اب وہ چاہتی ہیں کہ ان کا پوتا عبدالصمد اپنے داد کے گھر میں ہی پروان چڑھے۔ ننھی اور زیبا بھی صفدر کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر وہ اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے۔ زینت آپا بہت سوچنے کے بعد شرمین سے بوبی کے حوالے سے بات کرتی ہیں اور ماں ہونے کے ناطے شرمین کے آگے بوبی کا پروپوزل رکھ دیتی ہیں۔ شرمین کو اندازہ تھا کہ زینت آپا اسی حوالے سے بات کریں گی۔ شرمین بوبی سے اس حوالے سے بات کرتی ہے کہ جب تک میں اپنے دل میں تمہارے لیے محبت کے جذبات محسوس نہیں کروں گی جب تک تم اپنی بچکانہ محبت سے مجھے عاجز نہیں کرو گے لیکن بوبی کے لیے یہ خوشی ہی کم نہیں کہ شرمین اس سے شادی کے لیے تیار ہے جبکہ شرمین نے بوبی کے بچکانہ فیصلے کو اب قسمت کا فیصلہ سمجھ لیا تھا۔
(آب آگے پڑھیں)
ژ…ظظ…ژ
بزنس کمیونٹی ڈنر تھا۔ اس کے مطلب کا نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی ماحول دل پسند تھا۔ شہر کی بزنس کلاس مدعو تھی۔ انڈین، پاکستانی بزنس مین کثیر تعداد میں موجود تھے۔ گفتگو اور باہمی دلچسپی کے بہت سے بہانے تھے مگر اس کا قطعاً موڈ نہیں تھا وہ تو صرف منیجر صاحب کے اصرار پر اور بابا کی ناراضگی کے ڈر سے آگیا تھا ورنہ ایسے ماحول سے اسے نفرت تھی۔ اس نے فروٹ سلاد کے دو تین چمچ لے کر پلیٹ رکھی ہی تھی کہ معید صاحب نے کان کے قریب آکر سرگوشی کی۔
’’سر، لابی میں مس سنجنا آپ کا ویٹ کررہی ہیں۔‘‘
’’وہاٹ…‘‘ وہ آواز دبا کر چیخا۔
’’میں نے بہت کوشش کی مگر وہ بضد ہیں کہ آپ کے ساتھ سال گرہ سلیبریٹ کرنی ہے۔‘‘
’’اوہ ایڈیٹ… چلتا کرو اسے۔‘‘
’’مشکل ہے‘ یہاں آکر کوئی تماشا نہ بنا دیں‘ بہت سے لوگ ہماری زبان سمجھتے ہیں آپ باہر چل کر سمجھا دیں۔‘‘ معید صاحب کا مشورہ مناسب لگا، وہ بڑے سلیقے سے باہر نکلا اور دائیں ہاتھ مڑ کر لابی میں آگیا وہ وہاں آخری کونے پر کھڑی تھی اسے دیکھ کر مسکرائی اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں رہنے کا اشارہ کیا معید صاحب بھی پیچھے ہی رک گئے۔
’’کیا پرابلم ہے، کیوں آئی ہو؟‘‘
’’کیونکہ آپ یہاں ہیں۔‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘
’’کب تک شٹ اپ کہہ کر اپنا دل جلائو گے۔‘‘
’’مس! پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو۔‘‘ اس نے غصہ ضبط کیا۔
’’سوچوں گی فی الحال تو ہم نے کیک کاٹنا ہے میرا جنم دن ہے۔‘‘ وہ بولی۔
’’توکاٹو اپنے گھر جا کر‘ اپنی فیملی کے ساتھ۔‘‘
’’اگر کوئی نہ ہو تو۔‘‘ وہ اداس ہوگئی۔
’’کیوں، کہاں ہے تمہاری بہن اور بہنوئی۔‘‘
’’وہ، ہاں وہ بھی مجھ سے ناخوش رہتے ہیں۔‘‘
’’یہ تمہاری پرابلم ہے‘ او کے نائو یوکین گو۔‘‘ وہ یہ کہہ کر مڑنے لگا تو وہ آبدیدہ سی ہو کر سامنے آگئی۔
’’مسلمان کا یہ دھرم نہیں ہوتا کہ وہ کسی کا دل دکھائے۔‘‘
’’اے محترمہ یہ دین دھرم کی باتیں بند کرو‘ اپنے دھرم کے لوگوں پر وقت لگائو، شاید کچھ فائدہ ہو، بلاوجہ میرے گلے نہ پڑو۔‘‘ وہ جس حد تک بدتمیز ہوسکتا تھا اتنا ہوگیا۔ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھا اور کیک کا ڈبہ اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈال دیا۔
’’اوہ… یہ کیا، کیا؟ تمہیں یہ دھرم نے نہیں سکھایا کہ رزق کی بے حرمتی نہیں کرتے۔‘‘ اسے شدید غصہ آگیا یہ کہہ کر قدم اٹھائے تو وہ چلائی۔
’’ہنہ بڑے آئے اسلام کی بات کرنے والے ارے مسٹر تم دو نمبر مسلمان ہو۔‘‘ عارض کے تن بدن میں شعلے بھڑک اٹھے۔ ہاتھ لہرایا اور سنجنا کے رخسار پر نشان چھوڑ گیا وہ ہکا بکا رہ گئی۔
’’تمہاری اتنی جرأت مجھے دو نمبر مسلمان کہو۔‘‘
’’تو ثبوت دو نا۔‘‘ وہ رقت بھری آواز میں بولی۔
’’میں تم سے کوئی تعلق واسطہ نہیں رکھنا چاہتا۔ آئندہ میرے مذہب پر اس طرح بات نہیں کرنا۔‘‘
’’ایسا چاہتے ہو تو اپنے رویے سے ثابت کرو۔‘‘
’’مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ کہہ کر واپس چل دیا۔ جبکہ پشت سے اس کی بڑبڑاہٹ سنائی دے رہی ہے۔
’’کاش تم دیکھ سکتے میں کس محبت سے آئی تھی۔‘‘ عارض نے غصے سے سر جھٹکا اور نظر انداز کرگیا‘ اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ یہ لڑکی سچ مچ کیوں اس کے قریب آنا چاہ رہی ہے۔ اس کے عزائم کیا ہیں؟ وہ بے زار سا واپس ہال میں پہنچا۔ جہاں بزنس چیمبر کے پریزیڈنٹ اسپیچ آف تھینکس کررہے تھے۔ اس نے ذہنی بے زاری کے ساتھ کچھ سنی اور کچھ نہیں سنی۔ بس معید صاحب کو چلنے کا اشارہ کیا۔
ژ…ظظ…ژ
پلازہ ہوٹل سے کافی آگے نکلنے کے بعد بے دھیانی میں منہ سے نکلا۔
’’اس احمق لڑکی کو کس نے بتایا تھا کہ میں ہوٹل آیا ہوں۔‘‘
’’یہی تو حیرت کی بات ہے اس لڑکی کو آپ منع کردیں یہی مناسب ہوگا۔‘‘ معید صاحب نے کہا۔
’’آپ کا مطلب ہے کہ میں نے اس لڑکی کو یہاں آنے کو کہا تھا۔‘‘
’’سر… بات یہ ہے کہ اسے اپنے سے دور کریں‘ وہ آخر کیوں آپ کے پیچھے پڑی ہے؟‘‘ معید صاحب نے کہا۔
’’میں شرمندگی محسوس کررہا ہوں۔‘‘
’’کس بات کی؟‘‘
’’میں بہت سختی سے پیش آیا کیک ڈسٹ بن میں پھینک دیا اس نے۔‘‘
’’چھوڑیں سر۔‘‘
’’آخر اسے پتا کیسے چلا کہ میں پلازہ ہوٹل میں ہوں۔‘‘ اس کا ذہن الجھا ہوا تھا۔
’’اسی لیے تو آغا صاحب بہت فکر مند ہیں کچھ نہ کچھ ہے۔‘‘
’’خیر… بے وقوف سی لڑکی ہے اور مجھے سائیکو لگتی ہے یا پھر اس کے گھریلو حالات۔‘‘ اس نے کچھ ہمدردانہ انداز میں کہا تو معید صاحب نے فوراً کافی سخت الفاظ استعمال کیے۔
’’سر… پلیز آپ مجھے تو ملازمت سے فارغ کردیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ چونکا۔
’’سر… آپ کے دل اس غیر مسلم لڑکی کے لیے ہمدردی محسوس کررہا ہے۔‘‘ معید صاحب نے گاڑی کی رفتاری کافی کم کردی تھی۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے میں تو اس کے حالات پر غور کررہا تھا۔‘‘
’’مت کیجیے اور آپ پاکستان جانے کا فوری فیصلہ کیجیے۔‘‘
’’منیجر صاحب! آپ اس قدر خوف زدہ ہیں ایک لڑکی سے۔‘‘
’’حالات و واقعات ایسا سوچنے پر مجبور کررہے ہیں۔‘‘
’’مت گھبرائیں۔ آج کے بعد وہ یقیناً نہیں آئے گی۔‘‘
’’آئے بھی تو آپ نے ہرگز نہیں ملنا۔‘‘
’’اچھا… بابا کو کچھ نہ بتانا۔‘‘
’’جی، ٹھیک ہے لیکن پلیز سر۔‘‘
’’اوکے… میں کون سا اسے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ تھکا ہوا سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر بولا۔ مگر ضمیر میں خلش تھی کسک تھی اپنے سخت رویے کا پچھتاوا تھا۔ کچھ بھی تھا ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ کیا سوچ کر آئی ہوگی؟ نہیں عارض تمہیں ایسی بداخلاقی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔
’’سر پلیز۔‘‘ اپارٹمنٹ کی بیسمنٹ میں گاڑی کھڑی تھی معید صاحب نے بتایا تو وہ جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا۔
’’سوری۔‘‘
’’سر میں جائوں۔‘‘
’’شیور، گاڑی لے جائو۔‘‘ اس نے کہا تو معید صاحب نے پوچھا۔
’’کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟‘‘
’’نہیں، صبح جلدی آئیے گا اور میں نے جلد واپس جانا ہے۔ انتظامات کیجیے۔‘‘ اس نے چند لمحے سوچ کر اپنا ارادہ ظاہر کیا۔ معید صاحب کے چہرے پر اطمینان کی لہر پیدا ہوئی۔ وہ آگے بڑھ گیا اور معید صاحب گاڑی نکال لے گئے۔
’’ان کے ذمے یہ ہی مشن تھا کہ وہ یہاں سے جائیں مگر خدشہ تھا کہ سنجنا اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑنے والی۔ وہ ضرور آئے گی رابطہ کرے گی کیونکہ یا تو وہ محبت کرنے لگی ہے یا پھر اس کا منصوبہ کچھ اور ہے۔‘‘ وہ گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل سنجنا کے متعلق ہی سوچتے رہے۔
ژ…ظظ…ژ
اس کا خیال سچ تھا۔ وہ وہاں آئی تھی اس سے پہلے کیسے کس طرح؟ دروازے پر دو چٹس چسپاں تھیں۔ اس نے دونوں اتار کر دروازہ کھولا اور پھر اندر سے لاک کرنے ہی والا تھا کہ ڈور بیل بجی۔ اس نے سوچا کہیں منیجر صاحب کسی کام سے نہ آئے ہوں جلدی سے دروازہ کھول دیا مگر خلاف توقع وہ کھڑی تھی وہ کچھ کہنا چاہتا تھا کہ وہ اندر گھس آئی۔
’’مس سنجنا سوری مگر آپ نے مجبور کردیا میرا جواب اب بھی وہی ہے۔‘‘
’’کچھ کھانے کو ہے تمنا تھی کہ مل کر کیک کھائیں گے۔‘‘ وہ نارمل سے انداز میں کہتی ہوئی اور اندر آگئی۔
’’کچھ خاص نہیں ہوگا۔ کیوں کہ میں اکیلا ہوتا ہوں۔‘‘ وہ انکار نہ کرسکا کچن میں گیا۔ بسکٹ، فروٹ سلاد اور ایک پیسٹری نظر آئی۔ تینوں چیزیں ٹرے میں رکھ کر جوس پیک کھول کر گلاس میں ڈالا باہر آتے ہوئے خیال آیا کہ معید صاحب نے منع کیا تھا پھر وہ اس کی خاطر مدارت میں کیوں لگ گیا؟ اسے گھر میں گھسنے بھی کیوں دیا۔ وہ سوچتا ہوا کچھ ناگوار سا منہ بنا کر آیا تو وہ بولی۔
’’اگر کچھ کھلانے کو دل نہیں چاہ رہا تو بتا دو۔‘‘
’’دیکھو جو بھی میں نے آج کیا اس کے لیے معذرت لیکن اس سے زیادہ آپ سے میل جول نہیں رکھ سکتا۔ آئندہ رابطہ نہ کرنا۔‘‘ اس نے ٹرے سینٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔ لہجے میں بدتہذیبی نہیں تھی صاف ستھرا سیدھا سا جواب تھا۔
’’ہنہ… یمی، آئی لو اٹ۔‘‘ وہ اس کی بات یکسر نظر انداز کرکے تیزی سے فروٹ سلاد کھاتے ہوئے بولی۔ اسے تعجب سا ہوا حیرت سے اس کو دیکھا تو سچ مچ پر اسرار سی لگنے لگی یا تو بہت چالاک یا پھر بہت معصوم بے ضرر۔
’’کیا سوچنے لگے؟‘‘ وہ بولی۔
’’آپ ذرا جلدی جائیے مجھے ضروری ٹیلی فون کال کرنی ہے۔‘‘
’’تو کرلیں… میں کوئی غیر تو نہیں۔‘‘
’’جی…‘‘ اسے شاک لگا۔
’’مطلب، میں کچھ اور سوچ رہی تھی۔‘‘ وہ بوکھلائی۔
’’کیا؟‘‘
’’آپ پاکستان میں کہاں رہتے ہیں؟ فیملی میں کون اور کتنے لوگ ہیں۔‘‘ اس نے پیسٹری کا بائٹ لیتے ہوئے کہا۔
’’آپ پرسنل نہ ہوں اور اب اٹھیے جائیے۔‘‘ اسے ایک دم ہی کوفت سی ہوئی۔
’’ویسے مجھے سب پتا ہے۔‘‘
’’کیا پتا ہے؟‘‘
’’اینی وے، آپ چاہتے ہو میں جائوں۔‘‘
’’آف کورس۔‘‘
’’اوکے! اس کا مطلب رات سرد ہوا کے ساتھ باہر گزارنی پڑے گی۔‘‘ اس نے ہینڈ بیگ کندھے پر ڈالا اور کچھ اداس لہجے میں کہا۔
’’باہر کیوں؟‘‘
’’میرے جیجو کو مجھ سے بیر جو ہے۔‘‘
’’یہ آپ کا پرسنل میٹر ہے۔‘‘ اس نے کھرے انداز میں کہا اور اجنبی بن گیا۔
’’اوکے اب میں چلتی ہوں۔‘‘ وہ مایوس ہوکر آگے بڑھی دروازے تک پہنچی اور پھر پلٹ کر دیکھا۔
’’دروازہ اس طرح کھلتا ہے۔‘‘ دروازہ کھولتے ہوئے اس نے کافی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔ وہ چند لمحے دیکھنے کے بعد دکھی سی مسکرائی اور باہر نکل گئی۔ دروازہ کھلنے پر سرد ہَوا اندر آئی۔ اسے خیال آیا مگر پھر سر جھٹک کر دروازہ لاک کیا اور پلٹا تو ٹشو ریک پر دو چٹیں رکھی تھیں اس نے جلدی سے اٹھائیں اور دونوں کو پڑھنے کے بعد چلا اٹھا۔
’’او شٹ، صبیح احمد، میں تو کب سے تمہارا منتظر تھا۔ کاش، کاش ہماری ملاقات ہوجاتی۔‘‘ دکھ اور افسوس سے وہ چٹس کو گھورنے لگا۔ گھنٹے کے وقفے سے صبیح احمد آئے اور پھر فلائٹ ٹائم کی وجہ سے چلے گئے۔ تاسف سے وہ خود کو ہی ملامت کرنے لگا۔ کوئی رابطہ نمبر کوئی اتاپتا کچھ نہیں تھا یقیناً وہ اپنے معائنے کے لیے آئے ہوں گے اس نے سوچا۔
’’صبیح احمد آپ نہیں جانتے میرا آپ سے ملنا کتنا ضروری ہے؟ آپ کے لیے شرمین کے لیے میں نے اپنی محبت کا خون کیا ہے مجھے آپ کی گواہی درکار ہے تاکہ میں سرخرو ہوسکوں ضمیر کی عدالت میں بابا شرمین اور صفدر کے سامنے۔‘‘
ژ…ظظ…ژ
رات آخری پہر اس کی آنکھ لگی تھی کہ صبح موبائل فون چیخنے لگا۔ اس نے بمشکل تمام آنکھیں کھولیں فون اسکرین پر معید صاحب کا نمبر تھا فون اٹینڈ کیا۔
’’سر پلیز اوپن دا ڈور۔‘‘ منیجر صاحب نے بڑی تیزی سے کہا۔
’’اوکے… ویٹ۔‘‘ اس نے کہا اور کمبل سے باہر نکلا حیرت سی ہورہی تھی کہ وہ اس وقت کیوں آئے ہیں؟ جونہی دروازہ کھولا تو وہ اندر آگئے۔
’’گڈ مارننگ۔‘‘
’’گڈ مارننگ خیریت تو ہے۔‘‘ اس نے جواب میں کہا تو انہوں نے ہاتھ میں پکڑے نیوز پیپرز اس کی طرف بڑھائے۔
’’نیوز پیپرز۔‘‘ اس نے کہا۔
’’سر، سنجنا راٹھور کی شدید زخمی حالت میں تصویر چھپی ہے اور ساتھ میں اس کے شوہر اشوک ورما کی فوٹو ہے اشوک ورما کو پولیس نے بیوی پر شدید تشدد کے جرم میں گرفتار کرلیا ہے۔‘‘ معید صاحب اخبار کھول کر تصویروں پر تبصرہ کرتے بول رہی تھے اور وہ قوت گویائی سے محروم سا ہوگیا۔ اخبار سچ کہہ رہے تھے۔
’’سر، خدارا آپ سے کوئی پوچھے تو بالکل لاتعلقی کا اظہار کیجیے گا اور میں آج ہی آپ کی سیٹ اوکے کراتا ہوں۔‘‘ معید صاحب نے کہا۔
’’مگر اس نے جھوٹ کیوں بولا؟‘‘
’’چھوڑیں اس بحث کو رات دیر سے گھر پہنچی تو نشے میں دھت شوہر نے بری طرح مارا پیٹا۔‘‘
’’معید صاحب، وہ تو خود کو ان میریڈ کہتی رہی۔‘‘ وہ شدید حیرت میں تھا۔
’’جھوٹ بولا… جانے کیا مقاصد تھے؟‘‘
’’لیکن ہم اس کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟‘‘
’’کچھ نہیں، جو کرنا ہے یہاں کی پولیس کرے گی آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
’’اور اگر سنجنا نے میرا نام لے دیا تو۔‘‘
’’تو آپ انکاری ہوجائیں گے۔‘‘
’’سنجنا کو جھوٹ بولنے کی ضرورت کیا تھی؟‘‘
’’سر کوئی اور گھٹیا منصوبہ بندی بھی ہوسکتی ہے آپ پلیز اپنے آپ کو بچائیں بلاوجہ پوچھ گچھ میں آجائیں گے۔‘‘
’’بہت عجیب سا لگ رہا ہے۔‘‘ وہ اخبار پر نظریں جمائے صوفے پر بیٹھ گیا۔
’’اسی لیے آغا صاحب فکر مند تھے۔‘‘
’’خیر… میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘‘
’’بہرکیف آپ محتاط اور لاتعلق رہیں میں چلتا ہوں۔‘‘
’’اوکے… میری سیٹ کنفرم کرادیں۔‘‘
’’کوشش کرتا ہوں۔‘‘ معید صاحب یہ کہتے ہوئے چلے گئے۔ اس نے اٹھ کر دروازہ لاک کیا اور پھر اخبار لے کر اپنے کمرے میں آگیا۔ ذہن مائوف سا تھا دوبارہ بستر میں گھس گیا۔ ایک سرد سی لہر ریڑھ کی ہڈی سے نکل کر اسے کپکپا گئی کمبل سر تک کھینچ لیا۔
’’میرے خدا مجھے کسی مشکل میں نہ ڈالنا، میرا اس لڑکی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تو‘ تو جانتا ہے میں نے تو اس کے جھوٹ کو سچ مانا اور نہ اس سے کوئی غرض رکھنی چاہی۔ کیا منصوبہ تھا اس کا میں نے تو یہ بھی نہیں جاننا چاہا پھر سنجنا نے مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کیوں کی اس کا ارادہ کیا تھا آخر میرا انتخاب ہی کیوں کیا؟ بابا کو پتا چلا تو کس قدر ناراض ہوں گے۔ وہ تو پہلے ہی بہت فکرمند تھے ان کا کہا سچ ثابت ہوگیا۔‘‘ زندگی نے کیسا رخ اختیار کیا تھا بات سے بات نکلی اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی نہ صبیح احمد ملتے نہ اسے شرمین کے لیے ایسا فیصلہ کرنا پڑتا۔ نہ یہاں رکنا پڑتا۔‘‘
’’جھوٹ… جھوٹ ہے یہ عارض تم نے تو صبیح احمد کے ملنے سے پہلے ہی شرمین کو چھوٹی سی بات پر بڑی سی سزا دے دی تھی۔ شاید شرمین کو دکھ دے کر تم ساری عمر خوش نہ رہ سکو۔‘‘ اس نے ہلچل مچاتی سوچ کو ذہن سے نکالنے کے لیے کروٹیں بدلیں مگر بے سود۔
’’مجھے شرمین نے جانے کتنی بددعائیں دی ہوں۔‘‘ اس کے لبوں سے یہ جملہ نکلا تو بے کل سا ہوگیا۔
’’اوہ… صبیح احمد تم مجھ سے ملے بغیر کیوں چلے گئے؟‘‘ آخری تان صبیح احمد پر ہی ٹوٹی وہ خود کو کوسنے لگا۔
ژ…ظظ…ژ
اس کا موڈ سخت آف تھا۔ نہ ناشتا کیا نہ ڈھنگ سے بات کی دفتر سے بھی لیٹ آیا۔ بس اپنا سامان الٹ پلٹ کرتا رہا ڈھیر کتابیں، فائلیں میز پر جمع ہوگئیں تھیں۔ جہاں آرا جانتی تھیں کہ وہ ہر صورت گھر سے جا کر رہے گا۔ مگر ان کا ارادہ اپنے لیے بھی مستحکم تھا کہ وہ تنہا اسی گھر میں رہیں گی۔ اب ایک بار بھی مخالفت کا اظہار نہیں کریں گی۔ جانے سے نہیں روکیں گی۔ بلکہ اسے بیوی بچے کے ساتھ جا کر رہنے کی اجازت دیں گی۔ مگر اس کی طرف سے بالکل الٹ ثابت ہوا۔ واضح الفاظ میں زیبا کے ساتھ جا کر رہنے کے لیے انکار کردیا تھا۔
’’مجھے کسی کو ساتھ نہیں لے جانا۔‘‘ جوتوں کے تسمے باندھتے ہوئے بولا۔
’’کسی سے کیا مطلب؟‘‘ جہاں آرا چڑ گئیں۔
’’اگر آپ میرے ساتھ جانے کو تیار نہیں تو میں تنہا جائوں گا۔‘‘ وہ کچھ سنبھل کر بولا۔
’’تو نہ جائو میرے ساتھ رہو۔‘‘
’’امی اچھی تبدیلی قبول کرنی چاہیے نئی گاڑی ہمارے گھر میں نہیں آسکتی پرانی عارض کی ہے اب مسلسل پرابلم کرتی ہے اور میرے آفس کی ضرورت ہے کہ میں پوش ایریے میں رہوں۔‘‘ وہ بولا۔
’’پھر پرانی ماں بھی بدل لو۔‘‘ وہ برا مان گئیں۔
’’ماں… ماں ہوتی ہے۔‘‘ اس نے محبت سے کہا۔
’’ہنہ… نہ ماں سے محبت رہی نہ بیوی کا خیال اور نہ اپنے بچے کا احساس۔‘‘
’’آپ ہیں نہ ان کا خیال مجھ سے زیادہ رکھنے والیں۔‘‘
’’میں تو رکھوں گی۔‘‘ انہوں نے بیڈ پر کھیلتے عبدالصمد کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہی تو مجبوری ہے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’کیا کہا؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’زیبا تیار ہو جائے تو ساتھ لے کر جانا۔‘‘ انہوں نے تحکم سے کہا۔
’’میں لیٹ ہورہا ہوں۔‘‘
’’تو ہوتے رہو، زیبا کو اس کی امی کے پاس چھوڑتے ہوئے جانا۔‘‘ وہ یہ کہہ کر عبدالصمد کو اٹھا کر کمرے سے چلی گئیں۔ وہ تلملا کر صوفے پر گر گیا۔ آنکھیں موند لیں۔
کمرے میں آہٹ ہوئی تو دیکھا وہ الماری سے کپڑے نکال کر واش روم میں گھس گئی۔
’’کیا مصیبت ہے اب یہ تیار ہوگی اور میں بیٹھا دیکھتا رہوں گا۔‘‘ وہ غصے میں بڑبڑایا۔ مگر خلاف توقع زیبا بڑی تیزی سے شاور لے کر چینج کرکے باہر آگئی گیلے بالوں کو تولیے سے خشک کرنے کے بعد لپ اسٹک لگائی کاجل کی سلائی آنکھوں میں پھیری، فالسہ کلر کے کرتا شلوار پر سفید کڑھائی تھی۔ اسی مناسبت سے سفید موتی والے آویزے کانوں میں پہن کر گیلے بال برش کرنے لگی وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے مسلسل دیکھ رہا تھا۔ وہ سچ مچ نکھری نکھری سی بہت حسین لگ رہی تھی اور اس کے دل میں یک دم سے ہلچل سی مچ گئی تھی۔ اس نے گیلے لمبے بال سلجھا کر پشت پر چھوڑ دیے اور پلٹی تو اس کی نگاہوں کی چوری پکڑی گئی۔ وہ لجا سی گئی۔ جبکہ وہ دوبارہ اپنی سرد مہری کی طرف لوٹ گیا۔
’’اب اور کتنی دیر بنائو سنگھار ہوگا۔‘‘
’’اسے بنائو سنگھار کہتے ہیں کیا؟‘‘ اس نے سینڈل پیروں میں پہنتے ہوئے کہا۔
’’اور کرلو۔‘‘ وہ جل کر بولا۔
’’کاش… کوئی سراہنے والا ہوتا تو…‘‘ وہ بات مکمل کرتے کرتے رک گئی۔
’’تو اسے ہی بلا لو جس کو کبھی سج بن کر لبھاتی رہی ہو۔‘‘ وہ کڑے طنز سے باز نہ آیا۔
’’ایسا کچھ نہیں تھا۔‘‘ وہ جل کر بولی۔
’’تو کیسا تھا۔ سج بن کر ملتی ہوگی تب ہی تو وہ حد سے گزر گیا۔‘‘ وہ طنزیہ مسکرا کر بولا۔
’’صفدر پلیز بس کریں۔‘‘ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
’’کیوں؟‘‘
’’آپ جائیں مجھے نہیں جانا۔‘‘ وہ رو دی۔
’’یہی تو تمہارا منصوبہ ہے کہ کہیں نہیں جانا۔‘‘
’’میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ نہیں جانا۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر یہ تو یاد ہی ہوگا کہ سامان سمیت جانا ہے۔‘‘ اس نے پھر اوچھا وار کیا۔
’’ہاں بس ایک بات یاد رکھیے گا۔‘‘ وہ ہکلائی لہجے میں آنسو تھے۔
’’کیسی بات؟‘‘ وہ روبرو کھڑا ہوا۔
’’کچھ ہوجائے مجھے یا عبدالصمد کو لوٹ کر کبھی نہیں آنا۔‘‘ اس نے دل مضبوط کرکے وہ بات کہہ دی جس کو کہنے کے لیے شاید اس کا دل نہیں چاہتا تھا۔ یہ جملہ کہہ کر کٹے ہوئے درخت کی مانند صوفے پر گر گئی۔
’’جائو گی تو ایسا کرو گی۔‘‘ وہ یہ تیر چلا کر اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر چلتا بنا اور وہ اس سفاکی و بے حسی پر دھاڑیں مار مار کر رو دی۔ اپنا آپ جیسے اختیار سے باہر ہوگیا تھا۔
’’اتنے کٹھور اور ظالم ہو تم، یہ جانتی تھی میں، پر یقین نہیں تھا۔ مجھ سے میرا گھر چھین کر تم بھی خوش نہیں رہ پائو گے۔ میں، میں مرتی مر جاؤ پر اب نہیں آئوں گی… سن لو، تم ترسو گے تڑپو گے مگر میں نہیں آئوں گی۔ عبدالصمد کی جھلک بھی نہیں دکھلائوں گی۔‘‘ وہ بولتے بولتے پھر سسکیوں کے ساتھ رونے لگی سارا کاجل آنکھوں سے نکل کر رخساروں پر پھیل گیا تھا۔
ژ…ظظ…ژ
ننھی کی غیر متوقع آمد پر جہاں آرا کچھ متعجب ہوئیں۔ انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ ننھی کو زیبا نے فون کرکے بلایا ہے کہ آکر لے جائے۔ سامان زیادہ ہے بچہ ہے تنہا نہیں آسکتی سو ننھی آفس سے چھٹی لے کر اسے لینے آگئی۔ جہاں آرا نے ننھی سے وجہ جان کر ندامت سے زیبا کو مخاطب کیا۔
’’صفدر نے انکار کیا تھا تو مجھے کہا ہوتا‘ تم ہماری ذمہ داری ہو۔‘‘ انہیں زیبا کا فون کرنا اچھا نہیں لگا تھا۔
’’خالہ جان! کیسی ذمہ داری، صفدر بھائی نے کبھی زیبا کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے کیا؟‘‘ ننھی نے زیبا کی جگہ کہا۔
’’چھوڑیں امی، اب تو ننھی آگئی ہے۔‘‘ زیبا نے سوٹ کیس میں کپڑے رکھتے ہوئے بات کاٹی۔
’’اتنا سامان؟‘‘ جہاں آرا کی نظر سوٹ کیس اور عبدالصمد کے بیگ تک جا کر پلٹی۔
’’جی ضروری سب سامان رکھا ہے۔‘‘ زیبا نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
’’مگر دو تین روز کے لیے اتنا سامان؟‘‘
’’وہ… وہ امی میں زیادہ دنوں کے لیے جا رہی ہوں۔‘‘
’’نہیں بھئی دو تین روز‘ زیادہ سے زیادہ ہفتہ رہنا، ہمارا عبدالصمد کے بنا جی نہیں لگتا۔‘‘ جہاں آرا نے کہا۔
’’تو خالہ جان اب عادت بدل لیں۔‘‘ ننھی نے ٹکڑا لگایا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ بولیں۔
’’کچھ نہیں امی اس کا مطلب ہے چند دن کی تو بات ہے۔‘‘ زیبا نے ٹالا۔
’’زیبا تم سچ کیوں نہیں بتاتیں؟‘‘ ننھی نے کافی سنجیدگی سے کہا۔
’’کیسا سچ؟‘‘
’’ننھی تم پلیز چپ رہو۔‘‘
’’زیبا اب وقت آگیا ہے خالہ جان کو پتا ہونا چاہیے کہ انہیں عادت بدلنی ہے۔‘‘ ننھی نے پھر کہا تو جہاں آرا پھٹ پڑیں۔
’’ارے بھئی صاف صاف کیوں نہیں بتاتی ہو؟‘‘
’’خالہ جان صاف بات یہ ہے کہ صفدر بھائی چاہتے ہی نہیں کہ زیبا یہاں رہے۔‘‘ ننھی نے آخر کو دل کی بات کہہ دی۔
’’ننھی! دراصل وہ نئے گھر شفٹ ہونے کا کہہ رہے ہیں۔‘‘ زیبا نے جہاں آرا کے چہرے پر پھیلتے تشویش کے سائے دیکھ کر بات کو پھر سے بدلا۔
’’وہ لاکھ کہتا رہے میں تو یہیں رہوں گی اور باقی رہ گئے اس کی بیوی بچہ تو یہ بے شک اس کے ساتھ جا کر رہیں۔‘‘
’’امی… میں تو آپ کے ساتھ رہوں گی۔‘‘ زیبا نے ان کی تسلی کی خاطر کہا۔
’’تو پھر دل میں وہم نہ لائو دو چار دن رہ آئو بس۔‘‘ جہاں آرا نے کہا۔ دراصل وہ چاہتی ہی نہیں تھیں کہ وہ اس سے زیادہ دیر دور رہے۔
’’جی بہتر…‘‘ زیبا نے مردہ دلی سے کہا۔
’’میں ظہر کی نماز پڑھ لوں‘ اب تم لوگ کھانا کھا کر جانا۔‘‘
’’جی اچھا، میں چپاتی پکاتی ہوں۔‘‘ اس نے جواب دیا وہ جونہی باہر گئیں تو ننھی نے غصے سے کہا۔
’’آخر کب تک تم صفدر بھائی کی سفاکی چھپائو گی کیوں نہیں بتایا انہیں؟‘‘
’’ذرا غور کرو، قابل رحم حالت ہے ان کی کیسے سچ بول دوں؟‘‘
’’بس پھر بے عزت سہتی رہو۔‘‘
’’چلو جا کر کہہ دوں گی‘ پھر صفدر خود اپنی امی کی صحت کے ذمہ دار ہوں گے۔‘‘ زیبا نے دھیرے سے کہا۔
’’بس میری تو عقل جواب دے گئی ہے۔‘‘
’’فی الحال‘ تم عبدالصمد کا خیال رکھو میں کھانا لگوا کر آتی ہوں۔‘‘ زیبا نے کہا۔
’’اور پھر اسی وقت میں وہ ہٹلر صاحب آجائیں گے۔‘‘
’’نہیں وہ لیٹ آتے ہیں ہم پہلے چلے جائیں گے۔‘‘
’’دل تو چاہتا ہے کہ کھری کھری سنا کر جائوں۔‘‘
’’چھوڑو، جس گاؤں نہیں جانا وہاں کے کیا کوس گنا؟‘‘ زیبا اپنی نرم خو طبیعت کے ہاتھوں مجبور تھی۔ یا صلح پسندی کے تقاضے نبھا رہی تھی۔
’’اب جلدی کرو۔‘‘ ننھی نے کہا تو وہ باہر چلی گئی۔
ژ…ظظ…ژ
عموماً وہ دوپہر کے کھانے کے لیے گھر نہیں آتی تھی۔ مگر آج بوبی کے اصرار پر اسے آنا پڑا کیونکہ وعدے کے مطابق وہ اب تک زینت آپا کو اوکے کا سگنل نہیں دے پائی تھی۔ بوبی نے بڑی مشکل سے اتنا وقت گزارا تھا۔ گھر پہنچے تو زینت آپا ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھیں۔ کھانا تیار تھا۔ بوبی کو بھوک بھی بہت لگی تھی۔ کچن میں بھولی کھیرا چھیل رہی تھی سرمہ آنکھوں میں ٹھاٹھیں مار رہا تھا بالوں میں تیل تھا کپڑے بھی میلے تھے اسے ایک دم ہی غصہ آگیا۔
’’یہ سلاد خود کھانا خبردار جو میز پر رکھی۔‘‘
’’کیا ہوا چھوٹے صاحب۔‘‘ وہ بھولپن سے بولی۔
’’بہت ڈھیٹ ہو کتنی بار منع کیا ہے کہ ایسا حلیہ نہ بنایا کرو۔‘‘ وہ چلایا شرمین اس کی آواز سن کر کچن میں آگئی۔
’’کیا ہوا، تم کچن میں کیوں آگئے؟‘‘
’’شرمین، اس لڑکی کو یا انسان بنائو یا نکالو یہاں سے۔‘‘ وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ شرمین کو حیرت تھی کہ وہ تو بہت خوش گوار موڈ میں آیا تھا۔
’’بھولی، کون سی زبان سمجھتی ہو؟‘‘
’’میں روز کام کرکے کپڑے بدلتی ہوں۔‘‘ وہ منمنائی۔
’’ٹھیک ہے لیکن کام کرتے ہوئے بھی تو کپڑے، ہاتھ سب صاف ستھرے ہونے چاہیے۔‘‘ شرمین نے کہا۔
’’آپ لوگ شام میں آتے ہو تو۔‘‘
’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم گندی بن کر رہو کتنی گندی بو ہے تیل کی کتنی مرتبہ منع کیا ہے، یہ بابا، حمیدہ اور خانساماں کہاں ہیں؟‘‘ اس نے خالی کچن دیکھ کر پوچھا۔
’’ماما جی بازار گئے ہیں‘ حمیدہ خالہ نہیں آئیں۔‘‘ اس نے رونی صورت بنا کر کہا۔
’’اوہ… کھانا تو تیار لگ رہا ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’چلو پھر لگوائو۔‘‘
’’نہیں، چھوٹے صاحب ڈانٹیں گے۔‘‘
’’چلو جائو جا کر حلیہ تبدیل کرو، میں خود دیکھتی ہوں۔‘‘ شرمین نے اسے بھیج دیا خود کھانا نکالنا ہی چاہ رہی تھی کہ خانساماں نے آکر اس کی مشکل آسان کردی۔
’’بی بی، آپ میز پر چلیں میں لاتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے، پلیز سلاد اور بنادیں بوبی صاحب یہ نہیں کھائیں گے۔‘‘ وہ کہتی ہوئی باہر آگئی تو باہر ٹی وی لائونج میں بوبی منہ پھلائے ریموٹ سے ٹی وی کے چینلز بدل رہا تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے سرسری سے انداز میں پوچھا تو وہ پھٹ پڑا۔
’’اگر فرصت مل گئی ہو تو ماما کو بتا دو۔‘‘
’’بتا دوں گی، ابھی جلدی کیا ہے؟‘‘ اس نے چھیڑا۔
’’تمہیں جلدی نہیں۔‘‘ وہ حیرت سے بولا۔
’’بوبی، ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے۔‘‘
’’ہوتا ہوگا، پر یہ کام سب سے ضروری ہے۔‘‘
’’بوبی اپنا مزاج بدلو پلیز۔‘‘ شرمین یہ کہتی ہوئی زینت آپا کے پاس جانا چاہتی تھی کہ وہ سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا۔
’’شرمین تم انڈر اسٹینڈ ہی نہیں کرتیں کہ میرے لیے نہ صرف تم خاص ہو تم سے جڑی یہ خوشی بھی میرے لیے بہت خاص ہے چلو میرے ساتھ ابھی ماما کو کہو۔‘‘ وہ ایک دم ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا لے گیا۔
شرمین کو اس کی بے تابی پر ہلکی سی مسرت ہوئی مگر زینت آپا اسے دیکھ کر استہفامیہ نظروں سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا بات ہے؟
’’آپ کی نگاہوں کا سوال یہی ہے کہ میں کیا کہنے آئی ہوں؟‘‘
’’شرمین! تمہارے اتنے احسانات ہیں کہ میں تو کچھ پوچھنے اور کہنے کی گنجائش ہی نہیں سمجھتی۔‘‘ شرمین نے ان کو مسکراتی نظروں سے دیکھا اور کہا۔
’’آج جو بات کہنے آئی ہوں اس کو احسان نہیں سمجھیے گا میرا احساس تشکر جان کر قبول کرلیجیے گا۔‘‘
’’شرمین بوبی کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کے زیر بار نہ ہونا۔‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہے‘ میری ذات بوبی کے جذبوں کے سامنے چھوٹی پڑ گئی ہے‘ اس کے لیے مثبت سوچنا میرا اپنا فیصلہ ہے‘ آپ کی وجہ سے نہیں۔‘‘
’’مطلب…؟‘‘ زینت آپا نے کہا۔
’’زینت آپا بوبی کی بات میں نے مان لی ہے۔‘‘ اس نے مختصراً کہا اور نظریں جھکالیں۔
’’ادھر میری طرف دیکھو؟‘‘ انہوں نے اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے کہا تو اس کی آنکھوں میں اترا ساون شور مچاتا باہر آگیا۔ وہ پریشان ہوگئیں۔
’’شرمین! بوبی کو مت دیکھو تم آزاد ہو، کوئی رشتہ پرانا ہے تو اس کو نظر انداز مت کرو۔‘‘
’’چھوڑیں پرانے رشتوں کو وہ حنوط شدہ ہیں۔‘‘ اس نے دل کڑا کرکے توانا لہجے میں کہا۔
’’پھر تم خوش کیوں نہیں ہو؟‘‘
’’زینت آپا! میں نا خوش نہیں ہوں۔‘‘
’’ناخوش اور خوش میں فرق ہوتا ہے۔‘‘
’’خوشی کیا ہوتی ہے؟‘‘ اس نے الٹا سوال داغا۔
’’تمہارے لہجے میں کھنک ہوتی، تمہارے رخسار گلابی پڑ جاتے، خوشی ملنے کا احساس تمہیں کھلا دیتا۔‘‘ زینت آپا کی تجربہ کار نگاہوں کو جانچنے کا قرینہ تھا۔
’’زینت آپا! یہ خوشی بھی کتنی عجیب شے ہے ملتی ہے تو آنسوئوں کے ساتھ نہ ملے تو قہقہوں کا انتظار‘ اس کا فریب کھائو تو نادان، اس کو دھوکہ دو تو بدنام، نادان کو اپنا ضمیر مارتا ہے اور بدنام کو زمانہ سنسار کرتا ہے کیا بہتر نہیں کہ انسان غم کی پائیدار رفاقت قبول کرلے یقیناً یہی بہتر فیصلہ ہے۔‘‘ شرمین نے دھیرے دھیرے بات مکمل کی زینت آپا بے کل سی ہوکر بولیں۔
’’نہیں، یہ بہتر فیصلہ نہیں کیونکہ اسے مجبوری کہتے ہیں تم مجبور نہیں ہو۔‘‘
’’اور مجبوری کسے کہتے ہیں کہ کوئی راستہ نہیں۔‘‘ وہ کرب سے مسکرائی۔
’’شرمین! میں خود غرض بن کر قطعاً یہ نہیں کہوں گی کہ تم بوبی یا میری وجہ سے قربانی دو اگر تمہیں لگتا ہے کہ عارض یا صبیح احمد میں سے کوئی لوٹ سکتا ہے تو راستہ کھلا رکھو۔‘‘ زینت نے بڑی اپنائیت سے کہا۔
’’ہنہہ، عارض یا صبیح احمد جنہوں نے محبت کے نام پر میری زندگی مذاق بنا دی۔ وہ کس منہ سے اور کیونکر لوٹ سکتے ہیں؟‘‘ اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔
’’صبیح احمد کو چھوڑو عارض سے تو رابطہ بحال ہوسکتا ہے۔ اس کی غلط فہمی دور ہوسکتی ہے۔‘‘
’’زینت آپا عارض کی غلط فہمی اب کوئی دور نہیں کرسکتا۔‘‘
’’پھر بھی شرمین۔‘‘
’’آپا کیا آپ کو میرا فیصلہ پسند و قبول نہیں۔‘‘ اس نے ان کی بات کاٹ کر کہا۔
’’ارے نہیں میری جان یہ تو میرے لیے بہت بڑا خوشی کا فیصلہ ہے میرا بوبی تم سے بے پناہ محبت کرتا ہے اس کو تم مل جائو تو اور کیا چاہیے؟‘‘ زینت آپا نے اسے بانہوں میں بھر کے پیار کرتے ہوئے کہا۔
’’تو آپ یہ خوشی جی بھر کر منائیے۔‘‘ اس نے بہت اپنائیت سے کہا تو زینت آپا سو جان سے اس پر فدا ہوگئیں۔ اپنے ہاتھ سے جڑائو کنگن اتار کر اس کی کلائی میں پہنا دیا اور اس کی پیشانی چوم لی۔
’’تم خوش ہو نا۔‘‘ انہوں نے پھر پوچھا۔
’’جی…‘‘ وہ دھیرے سے کہہ کر باہر آگئی۔
ژ…ظظ…ژ
’’او مائی ڈیئر شرمین آئی لو یو سو… سو مچ۔‘‘ اس کے باہر نکلتے ہی بوبی اس کی کمر کے گرد بازو ڈال کر جھوم اٹھا۔ شرمین اس اچانک عمل کے لیے تیار نہیں تھی وہ شاید زینت آپا کے کمرے کے باہر کھڑا اس کے باہر نکلنے کا انتظار کررہا تھا۔
’’بوبی… بوبی پلیز ہوش کے ناخن لو چھوڑو مجھے۔‘‘ بھولی اس طرف آرہی تھی شرمین نے بمشکل خود کو آزاد کرایا۔
’’میری جان تمہیں کیسے بتائوں کہ اس وقت میں کتنا خوش ہوں؟‘‘ وہ عالم شوق میں بولا۔
’’خوشی کا یہ اظہار مناسب نہیں۔‘‘
’’میرا تو دل چاہ رہا ہے کہ نجانے کیا کچھ کر ڈالوں؟‘‘
’’کچھ نہ کرو فی الحال کھانا کھائو ٹھنڈا ہورہا ہے۔‘‘ شرمین نے کہا۔
’’ارے چھوڑو کھانا وانا میرا دل قابو میں نہیں ہے۔‘‘
’’بوبی! بچپنا چھوڑو اور آئو۔‘‘
’’اب ہم منگیتر ہیں‘ بچپنا کیسا؟‘‘
’’تو ڈھول گلے میں ڈال کر پیٹو۔‘‘
’’شرمین پلیز آئو باہر چلیں لنچ بھی کریں گے۔‘‘ وہ پیار سے بولا۔
’’ہرگز نہیں‘ مجھے گھر میں زینت آپا کے ساتھ کھانا ہے آپ جہاں مرضی جائو۔‘‘ اس نے صاف انکار کیا تو وہ اڑ گیا۔
’’تمہیں چلنا ہوگا یہ میری خوشی ہے۔‘‘
’’تمہاری ایک احمقانہ بات مان لی ہے نا اب مزید پریشان نہ کرو۔‘‘ اس کا اشارہ ہاں کہہ دینے کی طرف تھا۔
’’میں تم سے بے پناہ پیار کرتا ہوں تم اسے احمقانہ بات کہہ رہی ہو؟‘‘
’’تو اور کیا کہوں۔ تم میں اور بھولی میں کیا فرق ہے، بولو۔‘‘
’’تمہارے ساتھ باہر جانا بری بات ہے کیا؟‘‘
’’میں نہیں جائوں گی اب مزید کچھ نہ کہنا۔‘‘ وہ بولی۔
’’تھوڑی دیر کے لیے پلیز۔‘‘ وہ منت پر اتر آیا۔
’’بھولی جائو بیگم صاحبہ کو کھانے کے لیے بلائو۔‘‘ اس نے باتیں سننے کی کوشش میں مصروف بھولی کو کہا۔
’’میرے جذبات کا ذرا پاس نہیں۔‘‘ وہ منہ پھلا کر وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔
’’دیکھو مجھے سمجھو خالی پیار سے ہمارا نیا رشتہ مضبوط نہیں ہوسکتا مجھے کچھ چیزیں پسند نہیں، میرا اپنا مزاج ہے اپنے سے چھوٹے کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ اپنے ساتھ کھلی جنگ کے بعد کیا ہے۔‘‘ وہ بہت سنجیدگی کے ساتھ کہہ کر ڈائننگ روم کی طرف بڑھ گئی وہ ہونق سا اسے جاتا دیکھتا رہا۔
بھولی واپس آئی تو پوچھ بیٹھی۔
’’آپ بھی کھانا کھائیں گے۔‘‘
’’نہیں، زہر کھائوں گا۔‘‘ وہ کھا جانے کو دوڑا۔
’’ہائے نہیں، ابھی تو آپ کی شادی ہونی ہے۔‘‘ وہ ہنسی۔
’’خاک ہونی ہے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’شرمین باجی تو بہت اچھی ہیں۔‘‘ بھولی نے اپنی دانست میں اطلاع دی۔
’’جانتا ہوں مگر بہت ضدی ہیں۔‘‘
’’میں آپ کی شادی پر خوب ناچوں گی۔‘‘ وہ بھولپن سے بولی تو بوبی کو اس کی معصومانہ سی خواہش پر بے اختیار ہنسی آگئی۔
’’اچھا۔‘‘
’’ہنہہ۔‘‘
’’رہنے دو، تمہاری شرمین باجی کو یہ بھی اچھا نہیں لگے گا۔‘‘ اس نے برا سا منہ بنایا۔
’’وہ بڑی باجی ہیں نا۔‘‘ بے اختیار ہی اس کے منہ سے نکلا۔
’’بھولی جائو جا کر اپنا کام کرو۔‘‘ زینت اپا نے اس کا جملہ آتے ہوئے سنا تو غصے سے کہا، وہ بھاگ گئی تو وہ بوبی سے مخاطب ہوئیں۔
’’آپ کو زیب دیتا ہے گھر کی ملازمہ سے اتنی ذاتی گفتگو کرو۔‘‘
’’تو کس سے کروں؟‘‘
’’اس کا مطلب آپ کا کوئی اسٹینڈرڈ نہیں۔‘‘
’’شرمین کو اتنا کہا کہ باہر چلے مگر وہ…‘‘
’’بوبی اب یہ بے وقوفی چھوڑ دو ابھی اس نے اقرار کیا ہے اور تم اسے تنگ کرنے لگے۔‘‘ دبے لفظوں میں انہوں نے ہوشیار کیا۔
’’ماما… سیلیبریشن تو بنتی ہے نا۔‘‘
’’ہزار طریقے ہیں چلو اب فضول تکرار چھوڑو، چل کر کھانا کھائو۔‘‘ وہ سختی سے کہہ کر آگے بڑھ گئیں تو اسے بھی پیچھے آنا پڑا۔
ژ…ظظ…ژ
جہاں آرا کے کہنے پر اس نے سامان کم کرکے صرف ایک بیگ بنا لیا عبدالصمد کو تیار کرکے جہاں آرا بیگم کو دیا ننھی بھی وہیں ان کے کمرے میں تھی۔ وہ سفید اور ہلکا آسمانی سوٹ نکال کر واش روم میں گھس گئی۔ کچھ دیر بعد باہر آئی تو صفدر آچکا تھا کچھ تھکا تھکا سا آڑا ترچھا بیڈ پر دراز تھا۔
’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تمہارے جانے کے بعد بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘ اس نے تلخ سی جواب دیا۔
’’اچھا ہے میں کب چاہتی ہوں کہ آپ ٹھیک نہ ہوں۔‘‘ اپنے بالوں کی چٹیا بناتے ہوئے وہ دھیرے سے بولی۔
’’میں نے آپ کی امی کو فی الحال نہیں بتایا۔‘‘ وہ بولی تو وہ اٹھ بیٹھا۔ اس کو دیکھا وہ معصوم پاکیزہ سی اپنے خشک لبوں پر لپ اسٹک کی تہہ جما رہی تھی اسے دیکھنا بہت اچھا لگا۔
’’کیا سوچنے لگے؟‘‘ شیشے میں اس کی محویت دیکھ کر بولی تو وہ ٹھٹکا۔
’’بتا دو کہ تم جا رہی ہو۔‘‘
’’ہاں لیکن ایک شرط پر۔‘‘ وہ پلٹی۔
’’کہ…‘‘
’’کہ میں اور میرا بیٹا اب کبھی نہیں آئیں گے۔‘‘ اس نے دل کڑا کرکے کہا تو پہلی بار اسے بھی ہلکا سا دھچکا لگا۔
’’مطلب۔‘‘
’’یہی کہ مجھے آپ سے طلاق چاہیے۔‘‘ وہ برجستہ کہہ گئی۔
’’اگر نہ دوں تو۔‘‘
’’بے کار بحث کا وقت گزر گیا۔‘‘
’’اس کے لیے تو تم جا کر سوچنا۔‘‘ وہ طنزیہ بولا۔
’’اپنی زندگی کا یہ باب ختم کرکے جا رہی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’میرا کچھ سامان بعد میں بجھوا دیجیے گا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’آپ کی امی نے منع کیا تو چھوڑ کر جارہی ہوں۔‘‘
’’میں تمہارا نوکر نہیں ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ پھر میں خود منگوالوں گی۔‘‘
’’ہاہاہا کتنی چالاک ہو تم‘ جاتی ہو اور پھر سامان کے بہانے آنا چاہتی ہو۔‘‘ وہ ہنسا اور پھر بولا۔
’’آپ کی بھول ہے‘ آپ نے جو میرے ساتھ کیا اس کے بعد یہاں رہنا سراسر ذلت ہے۔‘‘ اس نے دراز کھولی اس میں سے اپنی جیولری نکالی کچھ عبدالصمد کی دوائیوں کے نسخے دیگر کاغذات اور اپنا سیل فون سب اکٹھے کیے فون پرس میں رکھا اور باقی سب اشیا اسی بیگ میں رکھ لیں۔
’’سنو، نکاح نامہ بھی لے جائو۔‘‘ اس نے طنزیہ کہا۔
’’ٹھیک ہے دے دیجیے۔‘‘
’’رکو، دیتا ہوں۔‘‘ وہ تیزی سے اٹھ کر اپنی الماری کی درازوں میں ٹٹولنے لگا لیکن نہیں ملا کچھ کہنے کو پلٹا تو جہاں آراء وہیں آگئیں۔
’’صفدر جائو تم انہیں چھوڑ آئو عبدالصمد سو گیا ہے رکشے میں پریشان ہوگا۔‘‘ انہوں نے بات کا رخ ہی بدل دیا۔
’’جی بہتر۔‘‘ وہ ان سے الجھا نہیں۔
’’پہلے نکاح نامہ دے دیجیے۔‘‘ زیبا کو بھی غصہ آگیا جان بوجھ کر جہاں آرا کے سامنے کہا۔
’’نکاح نامہ؟‘‘ جہاں آرا نے تعجب سے دونوں کی طرف دیکھا۔
’’وہ… نکاح نامہ مل نہیں رہا۔‘‘ وہ سٹپٹا گیا۔
’’اس وقت اس کی کیا ضرورت پڑ گئی؟‘‘
’’ویسے ہی اس کے ساتھ ضروری کاغذات تھے۔‘‘ وہ بہانہ بنا کر الماری بند کرکے ان کے سامنے آگیا۔
’’چلو بھئی اب جائو ننھی کو دیر ہورہی ہے۔‘‘ جہاں آرا یہ کہہ کر چلی گئیں تو وہ پنجے جھاڑ کر اس پر حملہ آوار ہوا۔
’’بہت ہوشیار ہو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تمہیں تو ہزار ہا طریقے آتے ہیں میری ماں کو بے وقوف بنانے کے۔ تمہاری معصوم شکل دیکھو تو یقین نہیں آتا کہ تم اتنی چالاک ہوسکتی ہو، مجھے پھنسانے کے سب گر آتے ہیں مگر اب واپسی نہیں۔‘‘
’’مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے‘ اسے گھر نہیں جہنم بنا کر رکھا ہے آپ نے۔‘‘
’’ظاہر ہے تمہارے منصوبے تو اور ہوں گے مگر یہ مت بھولو کہ تمہارے متعفن وجود کو اس جہنم میں ہی پناہ ملی ہے۔‘‘
’’بس کردیں پلیز۔‘‘ وہ رو دی۔
’’ہنہہ۔‘‘ وہ ہنکارتا ہوا باہر نکل گیا اور ہتک کے باعث اس کی آنکھوں کے کٹورے چھلک پڑے ’’کیسا ستمگر ہے نہ جینے دیتا ہے نہ مرنے۔‘‘ وہ سوچ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ژ…ظظ…ژ
خاموش نگاہوں سے وہ گاڑی چلاتے ہوئے کئی بار بیک ویو مرر میں اس کا آنسوئوں سے دھلا چہرہ دیکھ چکا تھا عبدالصمد اس کی گود میں سویا ہوا تھا وہ باہر دیکھ رہی تھی خالی خالی نظروں کے ساتھ، جس کے پاس اب کچھ نہیں بچا تھا گھر کے نام پر جو گھر اس کو ملا تھا آج وہ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جارہی تھی۔ اپنے دامن میں صرف اور صرف اپنے پیارے عبدالصمد کو لے کر جو اب اس کی کل کائنات تھا بہت تکلیف دہ مرحلہ تھا جب مختصر سامان کے ساتھ پوری کی پوری زندگی لے کر وہ جہاں آرا کو خدا حافظ کہہ کر نکلی تھی ان سے جھوٹ بول کر غلط بیانی کرکے مگر یہ سب اس نے مجبوری کے تحت کیا تھا بے حد اور بے حساب توہین کے بعد کیا تھا شریک سفر نے ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکال دیا تھا وہ کیسے انہیں بتاتی کہ کس قدر بے آبرو ہوکر جارہی ہے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔
’’سب چابیاں تکیے کے نیچے رکھی ہیں۔‘‘ وہ دھیرے سے بولی۔
’’امی کو بتانا تھا بلکہ ان کے گھر کی چابیاں انہیں ہی دے کر آنی تھیں۔‘‘ وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تو اس کی روح تک بلبلا اٹھی شدت دکھ سے اس کی آنکھیں پھر بھر آئیں۔
’’مجھے معلوم ہے میرا کوئی گھر نہیں تھا میں مسافر خانے میں تھی۔‘‘
’’ہنہ شکر کرو مسافر خانے میں کوئی لٹیرا نہیں تھا۔‘‘ اس نے دبی آواز میں مزید طنز کیا۔
’’لٹیرے‘ لٹیرے میں بھی تو فرق ہوتا ہے۔‘‘
’’اسی لیے لوٹ کر جارہی ہو۔‘‘ وہ ذومعنی نظروں سے گھور کر بولا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’چھوڑو، گھر آگیا ہے تمہارا۔‘‘ اس نے گاڑی بالکل ان کے دروازے کے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو اس نے گردن گھما کر باہر دیکھا دروازہ کھولا اور شکست خوردہ سی باہر نکل گئی ننھی پچھلی سیٹ سے سامان اٹھا کر باہر نکلی وہ دیکھتا رہا ننھی کچھ سوچ کر اس کی طرف گئی کھڑکی پر جھک کر بولی۔
’’صفدر بھائی! رشتہ تو ٹوٹ ہی گیا شاید‘ مگر بھرم ٹوٹنے میں تو کچھ وقت لگتا ہے۔ زیبا کی امی سے اخلاقاً ہی مل لیں۔‘‘ وہ شرمندہ سا انگوٹھے کا ناخن چباتا رہا‘ پھر کچھ سوچ کر باہر نکلا‘ بیگ اٹھایا گھر کے اندر داخل ہوا۔ زیبا اور ننھی پیچھے پیچھے تھیں۔ حاجرہ بیگم انہیں دیکھ کر باغ باغ ہوگئیں۔
’’السلام علیکم۔‘‘ صفدر نے پہل کی۔
’’وعلیکم السلام… جیتے رہو۔‘‘ حاجرہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا پھر زیبا کو گلے لگا کر ماتھا چوما۔
’’خالہ، پہلے اپنے خاص مہمان سے تو ملیں۔‘‘ ننھی نے عبدالصمد کی طرف اشارہ کیا تو حاجرہ کھل اٹھیں۔
’’ارے ہاں لائو میرے جگر گوشے کو تو مجھے دو۔‘‘
’’خالہ! مجھے اجازت دیجیے۔‘‘ صفدر نے جلدی سے دانستہ بچے پر سے نظریں ہٹائیں۔
’’ارے واہ، بیٹا ایسا کیسے ہوسکتا ہے‘ میں نے کھانا تیار کیا ہے۔‘‘ حاجرہ نے کہا۔
’’نہیں، کھانا تو ہم کھا کر آئے ہیں شام کے چار بج رہے ہیں۔‘‘
’’بیٹھو، چائے تو ہمارے ساتھ پیئو۔‘‘ انہوں نے کہا تو ننھی کچن کی طرف چلی گئی وہ مجبوراً بیٹھ گیا۔
’’زیبا‘ لو بچے کو سنبھالو میں آتی ہوں۔‘‘ حاجرہ بھی شاید ننھی کی مدد کے لیے باورچی خانے کی طرف چلی گئیں۔
’’شکریہ۔‘‘ زیبا نے اسے کہا۔
’’کس بات کا؟‘‘
’’آپ نے امی کو سلام کیا۔‘‘
’’بعد میں نہیں آئوں گا تو فرق بھی تمہیں ہی پڑے گا۔‘‘
’’بعد کی اللہ جانے جو سر پر پڑتا ہے اسے برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘
’’یہ تو ہے۔‘‘ اس نے گہری بات کی۔
’’تاہم آپ کا شکریہ کہ آپ نے اتنے عرصہ مجھے برداشت کیا۔‘‘
’’میری مجبوری تھی مگر تم نے تو اپنی ضد پوری کی بچہ پیدا کرکے رہیں اب اسے پالتی رہنا۔‘‘
’’میری خوش قسمتی ہے یہ بس۔‘‘
’’نہ آزادی ملے گی اور نہ نام۔‘‘
’’یہ دھونس ہے۔‘‘
’’ضد ہے۔‘‘ وہ بولا وہ کچھ کہتی کہ ننھی چائے کی ٹرے اٹھائے اسی طرف آرہی تھی لہٰذا وہ چپ ہی رہی۔
ژ…ظظ…ژ
وہ میل چیک کررہا تھا۔
ریسیپشن سے کال آئی اس نے ریسیو کی۔
’’سر پاکستان سے کال ہے۔‘‘
’’جی…‘‘ اس نے اوکے کا سگنل دیا۔
’’عارض تم کسی بڑی مصیبت میں پڑ جائو گے اس سے پہلے فوراً آجائو۔‘‘ آغاجی کی بھاری تحکمانہ آواز میں بہت سنجیدگی تھی۔
’’بابا کیا ہوا؟‘‘ وہ دانستہ انجان بن گیا۔
’’انجان مت بنو وہ لڑکی جھوٹ فراڈ نکلی نا۔‘‘
’’تو… میرا کیا لینا دینا؟‘‘
’’بیٹا آپ امریکا میں بیٹھے ہو‘ پولیس انوالو ہے‘ وہ ضرور پوچھ گچھ کریں گے‘ کیوں اپنے اور میرے دشمن بنے رہے ہو؟‘‘
’’آپ کے خوف اور خدشے پر مجھے حیرت ہے۔‘‘
’’وہ لڑکی شادی شدہ نکلی شوہر نے تشدد کیا‘ وہ پولیس کو کوئی بھی اسٹیٹ منٹ دے سکتی ہے‘ یار فضول چکر سے نکل آئو۔‘‘
’’بابا وہ کیوں ایسا کرے گی؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم‘ میں نے معید صاحب کو کہہ دیا ہے کہ فوراً ہی تمہیں روانہ کریں۔‘‘
’’بابا میں خود بھی آہی رہا ہوں۔‘‘
’’ڈیئر سن! میں بہت پریشان ہوگیا ہوں اس لڑکی نے تم سے جھوٹ کیوں بولا؟‘‘ آغاجی سچ مچ بہت فکر مند ہورہے تھے۔
’’ملے گی تو پوچھوں گا۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
’’اس کا شوہر اچھا نہیں ہے اسی لیے وہ شاید…‘‘
’’جھوٹ بولتی پھرتی ہے۔‘‘ آغاجی نے اس کا جملہ کاٹا۔
’’بابا اس کی مجبوری ہوگی میں کون سا اس میں انوالو ہوں۔‘‘
’’یہ تو آپ کہہ رہے ہو؟‘‘
’’اچھا آپ فکر نہ کریں بس میں آرہا ہوں۔‘‘
’’میں شرمین کو بتادوں؟‘‘
’’شرمین آپ کو اب تک یاد ہے۔‘‘ وہ ایک دم دکھی ہوکر بولا۔
’’ہاں۔‘‘
’’نہیں اس کا اب کوئی امکان نہیں۔‘‘
’’اچھا خیر آئو گے تو بات ہوگی۔‘‘
’’ہنہہ۔‘‘
’’عارض ٹیک کیئر پھر کہہ رہا ہوں احتیاط کرنا۔‘‘
’’بابا پلیز‘ میں دودھ پیتا بچہ نہیں ہوں۔‘‘ وہ چڑا۔
’’فی امان اللہ۔‘‘ انہوں نے کہہ کرر لائن آف کردی۔
’’کیا مصیبت ہے ہر بات بابا کو بتا دی جاتی ہے۔‘‘ وہ غصے سے بڑبڑایا اور سر تھام کر رہ گیا۔ پھر منیجر صاحب کو انٹرکام پر کھری کھری سنائیں۔
وہ چپ چاپ سنتے رہے۔ شاید یہی ان کی آغا صاحب سے وفاداری کا تقاضا تھا یا پھر امریکہ میں رہنے کی وجہ سے وہاں کے قاعدے قانون سے اچھی طرح واقف تھے سو اس لیے زیادہ متفکر تھے۔ عارض ان کے نزدیک ناتجربہ کار تھا یہاں رہنے سے اتنی جلدی کچھ جان نہیں سکا تھا اس کی مکمل حفاظت معید صاحب کی پہلی ذمہ داری تھی جسے وہ بحسن طریقے سے نبھا رہے تھے۔
ژ…ظظ…ژ
اس کے کندھوں میں بہت کھنچائو تھا۔
کیمسٹ سے جیل لے کر معید صاحب اسے اپارٹمنٹ چھوڑنے آئے اس کی کل دن کی فلائٹ تھی لہٰذا وہ گاڑی ساتھ لے کر جاتے مگر آغا صاحب کا سچ بالکل ان دونوں کی نظروں کے عین سامنے موجود تھا۔ شدید سردی میں زخمی، سنجنا تھرتھر کانپ رہی تھی۔ دروازے سے چپکی اس کی منتظر تھی۔ معید صاحب نے گاڑی ریورس کرکے یہاں سے پلٹنا چاہا مگر عارض نے ان کا کندھا دبا کر منع کیا۔
’’سر مشکل میں پڑ جائیں گے۔ کل آپ کی فلائٹ ہے۔ یہ لڑکی مسائل کھڑے کردے گی۔‘‘ معید صاحب جذباتی ہوگئے۔
’’بات تو کرنے دیں اسے شرمندہ تو کرنا ہے۔‘‘ عارض نے اصرار کیا۔
’’آپ کی مرضی۔‘‘ معید صاحب نے ہتھیار پھینک دیے۔
’’آپ جائیں بے فکر ہوکر۔‘‘ اس نے انہیں بھیج دیا۔
’’اگر کوئی کام ہو تو فون کردیجیے گا۔‘‘ معید صاحب یہ کہہ کر گاڑی نکال لے گئے وہ چل کر دروازے تک پہنچا چابی سے دروازے کا لاک کھولا اور وہ جلدی سے اس کے ساتھ ہی اندر داخل ہوگئی۔
’’کوئی اور جھوٹ رہ گیا تھا کیا؟‘‘ اس نے بنا اس کی طرف دیکھے اطمینان سے کہا۔
’’پلیز مجھے پہلے گرم چائے یا کافی دو۔‘‘ اس کی حالت خاصی خراب ہورہی تھی۔
’’کیوں، یہ کیفے یا کافی شاپ ہے؟‘‘ وہ انتہائی تلخ ہوگیا۔
’’عارض آپ غلط سوچ رہے ہیں۔‘‘
’’مجھے غلط اور صحیح کچھ نہیں سوچنا، آپ جاسکتی ہیں۔‘‘ اس نے بہت تلخی سے کہا۔
’’وہ… میں مجبور تھی میری حالت دیکھو، اشوک نے مجھے کتنا مارا ہے؟‘‘ وہ روتے ہوئے بتانے لگی۔
’’مجھے کیوں بتا رہی ہو؟‘‘ وہ چڑ کر بولا۔
’’کیونکہ تم کو بتانا ضروری ہے‘ میرا مطلب تمہیں نراش کرنا نہیں تھا۔‘‘
’’تمہارا جو بھی مطلب تھا مجھے کچھ نہیں لینا دینا۔ میں تمہیں جانتا ہی نہیں۔‘‘
’’میں نے اشوک سے محبت کی‘ شادی کی۔ اپنا گھر بار چھوڑا یہاں آئی مگر اشوک نے مجھے کھود (خود) کی جگہ کمانے کا ذریعہ بنالیا وہ شراب پیتا ہے کلبوں میں ناچتا ہے۔‘‘ وہ سانس لینے کو رکی۔
’’مجھے کیوں سنا رہی ہو، چلی جائو یہاں سے پلیز۔‘‘ وہ پیشانی پر ہزار ہا سلوٹیں ڈال کر بولا۔
’’مجھے پناہ چاہیے میں اسپتال سے بھاگ کر آئی ہوں۔‘‘
’’مس سنجنا فار گاڈ سیک میرے لیے پرابلمز کری ایٹ نہ کرو میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘
’’مجھے اپنے ساتھ رہنے دو۔‘‘
’’اپنے ساتھ؟‘‘ اس کو جھٹکا سا لگا۔
’’میں اب اشوک کی تپنی (بیوی) نہیں ہوں۔‘‘
’’او گاڈ، یہ نئی کہانی ہے اب۔‘‘ اس نے چلا کر کہا۔
’’مجھ سے ہمدردی تو کرسکتے ہو‘ مجھے کسی پر وشواس نہیں میں ساری عمر تمہارے قدموں میں گزار دوں گی داسی بن کر مجھے محبت کے نام پر جو گنوانا پڑا ہے اس کا انجام یہی ہے کہ بھارت گئی تو میرا خون کردیں گے۔‘‘ وہ رونے لگی۔
’’تو… تو میں کیا کروں۔‘‘
’’مجھے پناہ دے دو۔‘‘
’’میں جارہا ہوں یہاں کوئی نہیں ہوگا، اب تم جائو۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’کہیں بھی اپنے گھر۔‘‘
’’کوئی گھر نہیں ہے اشوک مجھے مار ڈالے گا۔‘‘
’’اف تو میں کیا کروں؟‘‘
’’رات تو رہنے دو پلیز۔‘‘
’’پولیس یہاں آئے گی اور میں کسی مصیبت میں پڑنا نہیں چاہتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے تو میں چلی جاتی ہوں۔‘‘
’’سمجھنے کی کوشش کرو اخبارات تمہاری کہانی سنا رہے ہیں میرا تم سے کوئی تعلق نہیں تو اس قصے سے مجھے دور رکھو۔‘‘
’’اگر مجھے اشوک نے مار دیا تو۔‘‘
’’اشوک اگر تمہارا شوہر نہیں ہے تو پھر کیوں مارے گا؟‘‘
’’وہ جانتا ہے کہ میں یہاں اس کی آمدنی کا ذریعہ ہوں میرے پاس واپسی کا راستہ نہیں۔‘‘
’’دیکھو تم سچ سچ پولیس آفیسرز کو بتا دو، پھر تمہیں اشوک کچھ نہیں کہہ سکے گا۔‘‘
’’تم اشوک کو نہیں جانتے۔‘‘
’’اوہ… بھاڑ میں جائو تم اور اشوک‘ پلیز جائو یہاں سے۔‘‘ وہ شدید غصے میں چلا اٹھا۔
’’ٹھیک ہے‘ تمہیں میری محبت کی قدر نہیں‘ میں تو یہ جانتی تھی کہ محبت میں دین دھرم، خطے اور ملک کوئی اہمیت نہیں رکھتے میں پاکستان جانا چاہتی تھی۔‘‘ اس نے روتے روتے نیا انکشاف کیا تو وہ حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگا۔
’’محبت… پاکستان۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے دوبارہ اثبات میں گردن ہلائی۔
’’تو جائو، پاکستان میں نے کب روکا ہے، لوگ آتے جاتے ہیں۔‘‘
’’تو لے چلو مجھے اپنے ساتھ۔‘‘
’’وہاٹ۔‘‘
’’ہاں نا، عارض پلیز مجھے دھرم چھوڑنے کو کہو گے تو میں چھوڑ دوں گی۔‘‘
’’اپنا کام کرو‘ میرا دماغ خراب ہے کیا؟‘‘
’’عارض میں تمہارے سنگ جینا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ اس کی کلائی تھام کر بولی۔ تو وہ پتھر کا بن گیا۔
’’دماغ چل گیا ہے تمہارا‘ کس قدر بے باک ہو چھوڑا میرا بازو۔‘‘ وہ بری طرح جھڑکتے ہوئے اپنا بازو چھڑانے لگا۔
’’عارض مجھے محبت چاہیے پلیز۔‘‘ وہ بلکنے لگی۔
’’جائو اپنی راہ لو تمہارا میرا کیا تعلق ہے؟‘‘
’’محبت کا سمبندھ ہے۔‘‘
’’میں نے کب کہا، بولو خود گلے پڑ گئی ہو۔‘‘
’’محبت خود محسوس کرلیتی ہے محبت کی گنجائش کو۔‘‘
’’او مس، کوئی گنجائش نہیں ہے میرے ہاں‘ تمہارے پیچھے پولیس یہاں تک پہنچنے والی ہے۔‘‘ اس نے فاصلے پر کھڑے ہو کر کورا سا جواب دیا۔
’’مطلب مجھے محبت نہیں ملے گی‘ تم میری محبت کو سوئیکار نہیں کرو گے۔‘‘
’’ہاں ہرگز نہیں۔‘‘
’’تو پھر یہ طے ہے کہ تم سوئیکار کرنے پر مجبور ہوجائو گے۔ میں زندہ رہی تو صبح ملاقات ہوگی۔‘‘ وہ یہ کہہ کر دروازے کی طرف بڑھی۔
’’رکو، یہ ساتھ لے جائو۔‘‘ اس نے انسانی ہمدردی کے تحت اپنی شارٹ باڈی جیکٹ اٹھا کر اس کی طرف بڑھائی کیونکہ وہ صرف اسپتال کے کپڑوں میں آئی تھی۔ باہر بہت سردی تھی۔
’’شاید یہی میری کامیابی ہے۔‘‘ وہ جیکٹ پہنتے ہوئے بولی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی دروازہ کھلتے ہی سرد ہَوا کا جھونکا اندر آیا تو وہ دروازہ بند کرنے کے لیے آگے بڑھا۔
ژ…ظظ…ژ
بوبی کی ضد اور تکرار کے سامنے زینت اور شرمین نے تھک ہار کر شکست تسلیم کرلی اور منگنی کی تیاریاں شروع کردیں۔ شرمین تو تھی ہی سادگی پسند اس کو تیاریوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر بوبی نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا تھا اس کو اور کوئی نہ ملتا تو بھولی تو تھی نا‘ اس کے ساتھ الٹے سیدھے پروگرام بنانے لگا۔ یوں کریں گے یہ کریں گے۔ زینت آپا مسکرا کر دیکھتیں پھر خاموش ہوجاتیں شرمین نے ان کو سمجھایا۔
’’آپا آپ بھی کمال کرتی ہیں‘ بھولی حلق پھاڑ پھاڑ کر گانے گا رہی ہے اور کوئی اس کو منع نہیں کررہا۔ بوبی کو پہلے تو بہت بری لگتی تھی‘ مگر اب وہ میز بجا رہا ہے۔‘‘
’’ہاہاہاہا، شرمین اتنی بڑی خوشی اس گھر میں طویل صبر آزما انتظار کے بعد آئی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ لیکن ایسی بھی حرکتیں کیا۔‘‘
’’تم یہ بتائو کہ دل سے خوش ہونا۔‘‘ انہوں نے اپنی گود میں رکھے اس کے سر میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا تو وہ اندر کی کیفیت پر سختی سے ضبط کا انگوٹھا رکھتے ہوئے مسکرا دی۔
’’آپ کو یقین کیوں نہیں آرہا؟‘‘
’’دراصل تم نے بڑی مشکل سے بوبی کو قبول کیا ہے اور تم نے خود بھی تو عارض کو چاہا، اسے سوچا۔‘‘
’’اس بات کو تو گزرے کافی وقت ہوگیا آپ پلیز اس کا ذکر نہ کیا کریں۔‘‘ وہ ایک دم سنجیدہ سی ہوگئی۔
’’مجھے بے حس نہ سمجھو‘ محبت کا ملنا ہی دل کی خوشی ہوتی ہے‘ عارض اگر رہتا تو میرے لیے یہ زیادہ خوشی کی بات ہوتی۔‘‘
’’آپا! پلیز اس کا ذکر نہ کریں۔‘‘
’’ شرمین یہ بھی تو سچ ہے کہ تم نے بوبی سے محبت نہیں کی۔‘‘
’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘
’’خیر، اب تھوڑا سا بوبی کی جذباتی حرکتیں برداشت کرلو، اس نے مجھ سے خاص طور پر تمہیں ساتھ لے جا کر شاپنگ کرنے کی منت کی ہے منگنی کا ڈریس اس کی پسند سے لے لو۔‘‘
’’زینت آپا اس کی کیا ضرورت ہے اور ہمارے رشتے دار ہیں ہی نہیں۔ پھر کس وجہ سے یہ سب کریں۔‘‘
’’بیٹا بوبی کے دوست تو ہیں اس کو شوق ہے اور چھوٹے سے ہال کی بکنگ کرائی ہے۔‘‘
’’اف… بوبی کی بچوں والی حرکتیں ہیں۔‘‘ وہ بولی۔
’’بھولی کو بھی ساتھ لے جانا اس نے خوشی سے ایک جوڑے کی فرمائش کی ہے۔‘‘ زینت آپا نے اپنے پرس سے کریڈٹ کارڈ نکال کر اسے دیا۔
’’اس کی ضرورت نہیں‘ ہیں میرے پاس۔‘‘
’’ارے نہیں، یہ میری طرف سے خریدنے ہیں۔‘‘ زینت آپا نے اسے کارڈ دیتے ہوئے کہا تو وہ چپ ہوگئی۔
’’اور ہاں تم نے جس کو بھی بلانا ہو…‘‘
’’کس کو بلانا ہے بس صفدر بھائی کو کہہ دوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب تیار ہوکر اس کے ساتھ چلی جائو۔‘‘
’’جی بہتر‘ لیکن کچھ آرام کرلوں پھر۔‘‘ اس نے وہیں لیٹے لیٹے آنکھیں موند لیں۔ زینت آپا نے محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگیں کچھ ہی دیر میں وہ سو گئی۔
ژ…ظظ…ژ
مغرب کی نماز پڑھ کر مصلیٰ تہہ کررہی تھیں کہ صفدر آگیا۔ وہ سیدھا ان کے پاس آکر تخت پر لیٹ گیا۔ وہ وہیں اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
’’عبدالصمد ٹھیک تھا؟‘‘ انہوں نے پہلا سوال ہی پوتے سے متعلق پوچھا وہ چپ رہا۔
’’صفدر، میں نے کچھ پوچھا ہے۔‘‘
’’امی ابھی انہیں گئے کتنی دیر ہوئی ہے وہ ٹھیک ہی ہوگا۔‘‘ وہ کچھ اکتایا سا بولا۔
’’مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ جانے کب سے گیا ہوا ہے‘ گھر سونا سونا ہوگیا ہے۔‘‘ جہاں آرا اداس تھیں۔ صفدر نے انہیں دیکھا اور بولا۔
’’امی کیا ایک ڈیڑھ ماہ کا بچہ آپ کے لیے اتنا اہم ہوگیا؟‘‘ وہ حیران سی پہلے تو اس کی صورت دیکھتی رہیں اس حیرت میں واضح نظر آرہا تھا کہ وہ اس کے لیے غیر اہم ہے۔
’’کیا تمہیں بیٹے کی کمی محسوس نہیں ہورہی، بیوی کو تو رہنے ہی دو۔‘‘
’’ابھی چھوڑ کر آیا ہوں‘ کیسی کمی؟‘‘
’’صفدر میں تو سخت پریشان ہوتی ہوں تمہارا بیوی بچے کے ساتھ رویہ دیکھ کر، جانے میری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی۔‘‘
’’او ہو امی مسئلہ کیا ہے، کیا بیوی بچے کی فوٹو گلے میں ڈال کر پھروں۔‘‘ وہ جھنجلا گیا۔
’’اونچی آواز میں بات نہ کرو‘ اتنی اچھی بیوی مقدر سے مل گئی مگر تمہیں قدر نہیں‘ اب تو مجھے یقین ہو چلا ہے کہ تم کسی اور چکر میں ہو۔‘‘ وہ شدید غصے میں آگئیں تو وہ نرم پڑ گیا۔
’’امی آپ غلط سوچتی ہیں‘ آپ کو حقیقت معلوم ہی نہیں کہ آپ کی بہو کس چکر میں ہے؟‘‘
’’کیسا چکر، کچھ بتائو تو۔‘‘
’’بس وہ یہاں رہنا نہیں چاہتی مجھے جس دن غصہ آگیا طلاق دے دوں گا۔‘‘ اس نے کمال ہوشیاری سے انہیں چوکنا کردیا تو متحیر غصے سے سرخ پڑ گئیں۔
’’کیا بک رہے ہو، ایسی بری بات تمہارے منہ سے کیسے نکلی؟‘‘
’’نہ مانیے وہ ایسا ہی مطالبہ آپ سے کردے گی۔‘‘
’’صفدر خرافات سے گریز کیا کرو اس کو میں نے کبھی ایسا کچھ کرتے نہیں دیکھا۔‘‘
’’آپ کو کیا کرکے دکھاتی، کہتی تو مجھ سے ہے۔‘‘
’’میں ابھی جا کر پوچھتی ہوں۔‘‘
’’اوہو، ابھی اسے رہنے دیں جلدی کیا ہے اور ویسے بھی ہمیں نئے گھر شفٹ ہونا ہے میں چاہتا ہوں آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کریں۔‘‘ اس نے موضوع گفتگو بدلا۔
’’صفدر میں یہاں رہوں گی۔‘‘
’’امی پلیز! آپ کو میری خوشی سے کوئی مطلب نہیں کیا؟‘‘
’’اس گھر کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘
’’امی کچھ نہیں ہوا‘ میری ملازمت کا تقاضا ہے۔‘‘
’’کل کو ماں، بیوی سب بدل لینا۔‘‘ وہ رقت آمیز لہجے میں بولیں۔
’’ٹھیک ہے آپ رہیں یہاں میں چلا جائوں گا۔‘‘ وہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف آگیا کیونکہ انہیں سمجھانا بہت مشکل تھا۔
ژ…ظظ…ژ
شاپنگ مال سے باہر آتے ہوئے ایک دم سے ہی آغاجی اس کے سامنے آگئے تو وہ خوشی سے مسکرا دی۔
’’السلام علیکم بابا۔‘‘ اس نے اتنی اپنائیت سے کہا کہ انہوں نے بے ساختہ اس کا ماتھا چوم لیا۔ بوبی نے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگز ڈرائیور کو تھمائے بھولی کو گاڑی کی طرف بھیجا اور خود شرمین کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’بوبی یہ آغاجی ہیں۔‘‘ شرمین نے جلدی سے تعارف کرایا۔
’’بوبی…‘‘ آغاجی نے کچھ یاد کرتے ہوئے پوچھا تو بوبی نے لمحہ بھی ضائع نہیں کیا جلدی سے اپنے بارے میں بتایا۔
’’میں بوبی ہوں انکل ان کا منگیتر۔‘‘ شرمین شرمندہ سی نظریں چرانے لگی اور آغاجی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا دل جیسے ڈوبنے لگا۔
’’منگیتر…؟‘‘
’’جی فرائیڈے کو شام پانچ بجے ہماری منگنی ہے‘ آپ بھی ضرور آئیے گا۔‘‘ بوبی نے تو ایک ہی سانس میں تقریب کا دن، وقت اور دعوت سب ساتھ دے ڈالے۔ آغاجی کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا۔ آنکھوں میں اضطراب بھر گیا۔ بڑی بے یقینی کی سی کیفیت میں انہوں نے شرمین کی طرف دیکھا۔
’’جی بابا، آپ ضرور آئیے گا۔‘‘ شرمین نے انہیں یقین سے کہا تو وہ بولے۔
’’شرمین ہم کہیں بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں؟‘‘
’’جی بابا۔‘‘
’’تو آئو ساتھ چلو میرے۔‘‘
’’بابا… ابھی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں انکل پھر سہی، ہمیں ابھی جیولری بھی لینی ہے۔‘‘ بوبی کو فکر لاحق ہوگئی تو اس نے جلدی سے کہا۔
’’بس تھوڑی دیر کے لیے۔‘‘ آغاجی نے شرمین کو پرامید نگاہوں سے دیکھا۔
’’بوبی آپ گھر جائو میں کچھ دیر میں آتی ہوں پھر جیولر کے پاس چلیں گے۔‘‘ شرمین نے ان کی منت آمیز نگاہوں کو سمجھ کر بوبی سے کہا مگر بوبی تو گویا تڑپ اٹھا۔
’’شرمین یہ انکل ہمارے گھر آجائیں رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں مگر اس وقت تو نہیں۔‘‘
’’بیٹا پھر دیر ہوجائے گی۔‘‘ آغاجی نے بوبی سے کہا۔
’’لیکن…‘‘ بوبی ہکلایا۔
’’بوبی میں جلدی آجائوں گی‘ پلیز آپ جائو۔‘‘ شرمین نے پھر اسے کہا۔
’’شرمین کون ہیں یہ‘ جو تم اس قدر بے تاب ہورہی ہو۔‘‘ بوبی نے کچھ تلخی سے کہا۔ آغاجی شرمندہ سے ہوگئے جلدی سے بولے۔
’’ٹھیک ہے شرمین آپ جائو شاپنگ کرو، خود وقت نکال کر آجانا۔‘‘
’’جی، ٹھیک ہے میں آجائوں گی، سوری۔‘‘ شرمین نے کہا وہ واپس اپنی گاڑی کی طرف پلٹ گئے تو شرمین نے بوبی کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’بوبی… وہ میرے لیے بہت اہم ہیں‘ بزرگ ہیں‘ تمہیں کچھ سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔‘‘
’’شرمین اس وقت میرے لیے صرف تم اہم ہو، ہماری منگنی اہم ہے۔‘‘ وہ بڑے لاابالی پن سے کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ تو شرمین سلگ اٹھی۔ اسے بوبی کے ایسے کج رویوں سے ہی چڑ تھی‘ جو چیزیں اس کے لیے اہم تھیں ان سے وہ الرجک تھی اسے بڑا دکھ سا ہوا آغاجی کے خیال سے اس کا دل دکھی ہوگیا۔ مردہ دلی سے شکستہ قدموں کے ساتھ وہ بھی گاڑی کی طرف آگئی بوبی کو اندازہ ہوگیا کہ وہ برہم ہوگئی ہے۔
’’شرمین، آئس کریم کھائیں پہلے۔‘‘
’’نہیں، تم اپنے بچکانہ شوق پورے کرو، شاپنگ کرو۔‘‘ وہ سختی سے کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔
’’شرمین… سوری۔‘‘ وہ منمنایا۔
’’بوبی میرے لیے یہ ضروری ہے کہ تم مجھے سمجھو بھی اور مجھے عزت بھی دو۔‘‘ اس نے اس طرح کہا کہ وہ شرمسار ہوگیا۔
ژ…ظظ…ژ
برا اسے ماننا چاہیے تھا لیکن منہ پھلا کر سیدھا کمرے میں وہ گھس گیا شرمین نے نوٹس نہیں لیا بھولی ساری خریداری والے بیگز زینت آپا کے کمرے میں لے گئی وہ سیدھی کمرے میں آئی فریش ہو کر باہر نکلی تو وہ دندناتا ہوا سامنے آگیا اور بولا۔
’’شرمین… کون ہیں وہ انکل تم انہیں ملنے کو بے تاب کیوں ہو؟‘‘
’’بوبی یہ آپ کو بتانا میرے لیے ضروری نہیں۔‘‘ وہ آگے بڑھی لیکن وہ پھر سامنے آگیا۔
’’شرمین، میں اتنا فضول ہوں تمہارے لیے۔‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘ وہ بے زار ہوگئی۔
’’یو مین ہوں۔‘‘
’’بوبی میں جلدی میں ہوں۔‘‘
’’ابھی شام ہے اور تمہیں رات کے کھانے پر بلایا ہے۔‘‘
’’ابھی میں زینت آپا کے پاس جا رہی ہوں چائے پی کر جائوں گی۔‘‘
’’اور کچھ چیزیں جو ابھی لینی ہیں۔‘‘
’’کوئی دنیا ختم نہیں ہورہی کل لے لیں گے۔‘‘
’’شرمین ہم نے پلان کرنا ہے۔‘‘
’’بوبی مقصد کیا ہے تمہارا۔‘‘
’’کہ تم ان انکل سے ملنے نہ جائو۔‘‘ وہ بولا۔
’’بوبی مجھ پر یہ حکم نہیں چل سکے گا۔‘‘ اس نے سختی سے کہا اور زینت آپا کے کمرے میں داخل ہوگئی وہ وہیں آگیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ زینت شرمین کا خراب موڈ دیکھ کر بولیں۔
’’آپا بوبی نے طے کر رکھا ہے کہ یہ مجھے نہیں سمجھے گا۔‘‘ وہ یہ کہہ کر ایک طرف بیٹھ گئی۔
’’بوبی…‘‘ زینت آپا نے پکارا۔
’’ماما وہ انکل۔‘‘
’’پلیز بوبی۔‘‘ وہ بولی۔
’’بوبی اپنے کمرے میں جائو۔‘‘ زینت آپا نے سختی سے کہا تو وہ غصے میں چلا گیا۔ زینت آپا نے شرمندہ سی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’آغاجی ملے تھے انہوں نے بات کرنی تھی بوبی نے ان کا لحاظ نہیں کیا اور اب مجھے ان سے ملنے جانا ہے تو…!‘‘ وہ بولتے بولتے رک گئی۔
’’آغاجی سے؟‘‘ زینت کے لہجے میں تجسس سا آگیا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے آپا۔‘‘ اس نے ان کا مطلب بھانپ کر کہا۔
’’نہیں اگر کوئی بہتری ہے تو شرمین مجھے خود غرض نہ سمجھو۔‘‘ انہوں نے خوش دلی سے کہا تو وہ بہت نرمی سے بولی۔
’’بہتری کا فیصلہ تو ہوچکا وہ بذات خود ایک شفیق بزرگ ہیں اور ان کا کسی خرابی میں حصہ نہیں ہے‘ اس لیے ان سے ملنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘
’’عارض آگیا؟‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘
’’اگر…؟‘‘
’’اگر کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے آپا۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر بھی کوئی مناسب بات کریں تو تحمل سے سننا۔‘‘ دوسرے لفظوں میں زینت آپا نے اس کے لیے محبت کا دروازہ کھولا تھا۔
’’کون سی مناسب بات۔ باتوں کا وقت گزر گیا ہے یہ سامان دیکھا آپ نے یہ بوبی کی اوٹ پٹانگ فرمائش اور خواہش ہے بھولی سے مشاورت کرکے خریدنا ایسا لگتا تھا کہ بھولی کی پسند حلول کر گئی ہے اس میں۔‘‘ شرمین نے سلیقے سے موضوع ہی بدل ڈالا۔ زینت آپا بوبی کے تصور سے مسکرا دی۔
’’یہ ریڈ، ہاٹ ریڈ ڈریس میں ہرگز نہیں پہن سکتی۔‘‘
’’شرمین پلیز اس کی خوشی کی خاطر…‘‘
’’اچھا دیکھوں گی۔‘‘ وہ نیم راضا مند ہوگئی۔
ژ…ظظ…ژ
آغاجی بڑی بے چینی کے ساتھ اس کا انتظار کررہے تھے وہ پہنچی تو انہوں نے گرم جوشی کا اظہار کیا دست شفقت اس کے سر پر رکھا اور اپنے کمرے میں ہی بٹھایا۔ وہ ان کے لیے سرخ گلاب کا گلدستہ بنوا کر لائی تھی۔ انہوں نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھے واز میں پھول سجائے اور پھر آنکھوں میں آئی نمی کی لکیر انگلی کی پور سے صاف کرتے ہوئے بولے۔
’’میرے لیے اس ویران چمن میں آپ کی حیثیت ایسے پھولوں جیسی ہے۔‘‘
’’یہ آپ کی محبت ہے بابا۔‘‘
’’شرمین بیٹا‘ مجھے ایسا لگتا تھا کہ آپ شاید نہ آئو۔‘‘ انہوں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
’’آپ کے بلانے پر نہ آنے کی وجہ کوئی نہیں تھی۔‘‘
’’شرمین عارض آرہا ہے صرف دو دن کے بعد۔‘‘ انہوں نے کچھ ہنستے، کچھ روتے اپنی خوشی سے گویا اسے آگاہ کیا مگر اس پر قطعاً اثر نہیں ہوا نہ وہ چونکی نہ متعجب ہوئی اور نہ متجسس ہوئی۔
’’آپ کے لیے اچھی بات ہے بابا۔‘‘
’’اور آپ کے لیے۔‘‘
’’میرے لیے کچھ نہیں۔‘‘
’’بیٹا عارض نے ابھی تک وجہ نہیں بتائی لیکن وہ آئے گا تو سب غلط فہمی دور ہوجائے گی۔‘‘
’’بابا میں نے تو کبھی نہیں کہا کہ کوئی غلط فہمی ہے۔‘‘ ملازم جوس لے آیا تو اس نے خود ایک گلاس آغاجی کو تھمایا اور ایک خود لے کر ہلکے ہلکے سے سپ لینے لگی۔
’’میں عارض کی طرف سے شرمسار ہوں لیکن اب وہ آرہا ہے تو…!‘‘
’’بابا! اب مجھے فرق نہیں پڑتا۔‘‘ وہ بڑی دھیمی آواز میں کہہ گئی۔
’’رشتے آسانی سے نہیں ٹوٹتے، بدگمانی، غلط فہمی کے باعث کملا جاتے ہیں لیکن انہیں پانی دے کر نئے سرے سے پروان چڑھایا جاسکتا ہے میں کل سے صدمے سے دو چار ہوں۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ بوبی کے ساتھ شادی کرو گی۔‘‘ وہ گہرے دکھ اور کرب سے دوچار ہوکر بولے۔
’’بابا‘ بوبی کے ساتھ شادی کا فیصلہ ہوچکا ہے اور رہ گئی بات رشتے کی تو وہ عارض نے بنایا تھا محبت کا، جنوں کا پھر اسی نے اس معتبر رشتے کے لباس کو اپنے فیصلے کی گرم استری سے جلا ڈالا۔ سب شکنیں دور کردیں محبت کی کوئی سلوٹ رہنے نہیں دی۔‘‘ جوس کا خالی گلاس تپائی پر رکھتے ہوئے وہ قطرہ قطرہ چھلکی۔
’’جانتا ہوں‘ مگر بیٹا تم دونوں نے ایک دوسرے سے محبت کی۔‘‘
’’نہیں، میں نے کبھی محبت کو مقام دیا تھا مگر وہ لڑکپن کی عمر تھی عارض کے تو الفاظ پر غور ہی کررہی تھی کہ اس نے چار لفظوں کا میسیج کردیا۔‘‘
’’وہ آرہا ہے اس کے ساتھ۔‘‘
’’پلیز بابا‘ میں یہاں آپ کے پاس صرف آپ کے لیے آئی ہوں۔‘‘ اس نے ٹوکا۔
ملازم نے کھانے کے تیاری کی اطلاع دی تو انہوں نے اسے کھانا لگانے کی اجازت دے دی۔
’’بابا! اپ سے تو میں ملتی رہوں گی بلکہ آپ نے جمعہ کی شام ضرور آنا ہے۔ میں کارڈ لانا بھول گئی۔‘‘
’’نہیں بیٹا کارڈ کی ضرورت نہیں، میں آ نہیں سکوں گا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اپنے چراغ سے کسی اور کے گھر میں اجالا کرنا۔‘‘ وہ افسردگی سے بولے۔
’’بابا یہ چراغ بجھ چکا تھا‘ اسے بڑی مشکل سے دوبارہ جلایا ہے۔‘‘ اس نے ان کے چہرے پر پھیلے زرد سائے دیکھ کر کہا۔
’’جانتا ہوں‘ بہت بے وقوفی کر بیٹھا۔‘‘
’’بابا اب وقت گزر گیا نہ مجھے شکوہ ہے نہ شکایت۔‘‘
’’تو یہ منگنی۔‘‘
’’جی میری مرضی سے ہورہی ہے۔‘‘
’’اوکے… اللہ آپ کو خوش رکھے، آئو کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ آغاجی نے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
ژ…ظظ…ژ
میری آنکھوں کے رستے سے میرے دل میں نہیں اترا
گزر گاہوں میں پانی تھا‘ وہ بزدل ڈر گیا ہوگا
دل مضبوط کو لاکھ روکنے کے باوجود وہ روک نہ سکی۔ آنکھیں بھیگ گئیں بابا سے مل کر عارض کی یاد نے ضبط کی دیواروں میں جیسے زلزلہ پیدا کردیا وہ بڑی مدت کے بعد پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
’’بابا، کاش، وقت پر کسی کا اختیار ہوتا مجھے صدمہ ہے کہ میں آپ کے دکھ اور اضطراب کی کیفیت کو بڑھا آئی… آپ کی ہر لمحے کی اذیت آپ کے چہرے سے عیاں تھی مگر میرے پاس کچھ نہیں بچا تھا عارض نے تو سب کچھ تہہ و بالا کردیا اس کے آنے اور جانے سے بھی اب کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ محبت کے احساس نے دوبار سولی پر چڑھایا ہے میری توہین کی ہے اب میں اپنے پندار کی مزید ٹھیس برداشت نہیں کرسکتی تھی بوبی کے ساتھ اب چلنا ہے اس کے سوا کوئی خواب اب میری آنکھوں میں نہیں آسکتا۔‘‘ اس نے بابا سے گویا بات کی دل کا بوجھ ذرا سا کم ہوا تو بھولی کمرے میں آگئی، اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ تھیں۔
’’شرمین باجی۔‘‘
’’ہنہ…‘‘
’’بڑی بیگم صاحبہ کہہ رہی ہیں کہ آپ بوبی کو سمجھائیں انہوں نے غصے میں کھانا نہیں کھایا۔‘‘
’’کس بات کا غصہ؟‘‘
’’جب آپ گئی تھیں وہ بہت ناراض ہوئے، گلاس بھی توڑ دیا تھا۔‘‘ بھولی نے بتایا۔
’’کیا…؟‘‘ اسے حیرت ہوئی۔
’’ہاں۔‘‘
’’تو میں کیا کروں؟‘‘ اسے غصہ آگیا۔
’’پھر کیا کہوں؟‘‘
’’کچھ نہیں، صبح بات کروں گی، اس وقت میرے سر میں بہت درد ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ بھولی نے کہا اور باہر چلی گئی۔ وہ دوپٹا تکیے کے دائیں طرف رکھ کر سیدھی ہو کر لیٹ گئی۔ چند لمحے گزرے تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور ساتھ ہی دروازہ کھول کر وہ اندر آگیا۔
’’بوبی، تم اس وقت…؟‘‘ شب خوابی کے لباس میں اس کا موڈ شدید خراب تھا۔
’’شرمین تم ان سے ملنے کیوں گئی تھیں؟‘‘
’’یہ کیسا سوال ہے؟‘‘
’’کون ہیں وہ۔‘‘
’’عارض کے والد۔‘‘
’’عارض…‘‘
’’ہاں وہی عارض جس کی انگوٹھی میرے ہاتھ میں تھی۔‘‘
’’مطلب… وہ عارض۔‘‘
’’ہاں لیکن اس سے اب میرا کوئی رابطہ نہیں۔‘‘
’’اور اس کے والد صاحب سے؟‘‘ اس نے طنزاً کہا۔
’’وہ بزرگ ہیں ان سے کیوں تعلق نہ رکھوں۔‘‘
’’اب نہ رکھو۔‘‘ اس کے لہجے میں تحکم تھا۔
’’کیا…؟‘‘
’’ان سے ملاقات کی خاطر تم نے میری خوشی برباد کردی۔‘‘
’’کیسی خوشی۔‘‘
’’ہم نے شاپنگ کے لیے جانا تھا باہر کھانا کھانا تھا۔‘‘
’’کیا اب یہ موقع پھر نہیں آئے گا‘ مجھے تمہارے چھوٹے ہونے کا اسی وجہ سے افسوس ہوتا ہے۔‘‘ وہ بولی۔
’’میں تم سے جتنی محبت کرتا ہوں‘ اس میں تمہارے سوا کچھ نہیں۔‘‘
’’پلیز بوبی، جائو میں اس وقت یہ بے کار باتیں نہیں سن سکتی۔‘‘
’’اب میری باتیں بے کار ہیں‘ رو رو کے اس کی جدائی میں آنکھیں لال کرنے کا اتنا شوق ہے تو کھل کر روئو کہو کہ تمہارا پرانا عاشق آگیا ہے۔ مجھ سے چھیننے کے لیے جس سے مل کر تمہیں قرار نہیں آیا۔‘‘ بوبی کی میٹھی زبان پر گویا کریلوں کی فصل تیار تھی۔ وہ سر تا پیر سلگ اٹھی۔ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ بوبی کی ذہنیت اتنی پست بھی ہوسکتی ہے۔ وہ حیران سی اٹھ کھڑی ہوئی اور فقط اتنا ہی بولی۔
’’بوبی اس سے پہلے کہ میں اجنبی بن جائوں اپنا احساس تک لے کر ہمیشہ کے لیے میرے کمرے سے نکل جائو۔‘‘
’’میں نے کیا غلط کہا ہے؟‘‘ اس نے مزید کہا۔
’’آئی سے گیٹ آئوٹ۔‘‘ وہ چلائی‘ جب کہ وہ بھاری قدموں سے باہر نکل گیا۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close