Aanchal May 15

کام کی باتیں

حنا احمد

پانی صاف کرنے کے طریقے
شیشے کے گلاس میں بھرے ہوئے صاف پانی کو جس سے آپ اپنی پیاس بجھانے والے ہیں پینے سے پہلے ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچ لیجیے کہ یہ بظاہر صاف شفاف نظر آنے والا پانی واقعی پینے کے قابل ہے یا نہیں؟ عین ممکن ہے کہ یہ صفائی کے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترتا ہو اور اس میں ہزاروں لاکھوں پیتھوجن یعنی (Pathogens) انسان کو بیماریوں میں مبتلا کرنے والے بیکٹیریا‘ وائرس‘ پروٹوزو اور قسم قسم کے دوسرے مہلک جراثیم موجود ہوں۔ یہ جراثیم اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ صرف ایک اچھے خوردبین سے ہی نظر آسکتے ہیں لیکن یہ پانی میں تیزی سے پھیلتے پھولتے ہیں اور انسانی جسم میں پہنچ کر بہت سی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
یہ تو وہ پانی ہے جو آپ کو ایک باقاعدہ واٹر سپلائی کے نظام کے تحت صاف ہوکر اور ممکن ہے جراثیم کش ادویہ کے استعمال کے بعد گھر میں لگے ہوئے کنکشن سے مل رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں تو پانی کی صفائی کا کوئی نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ وہاں کے لوگ تو بسا اوقات کھلے جوہڑوں کا گدلا پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس قسم کا غیر صاف شدہ پانی پینے والے ہر وقت مہلک بیماریوں کی زد میں رہتے ہیں اور ان بیماریوں کا شکار ہوکر بسا اوقات موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کم عمر بچے‘ ایسے لوگ بیماریوں کے خلاف جن کی قوتِ مدافعت کم ہو اور بیماریوں کی وجہ سے کمزور رہ جانے والے لوگ ان بیماریوں کا بار بار شکار ہوتے رہتے ہیں۔
اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں 80 فیصد بیماریاں صرف غیر صاف شدہ پینے کے پانی کے استعمال کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ ان میں ہیضہ‘ ہیپاٹائٹس‘ ٹائیفائیڈ سے لے کر امراض قلب اور کینسر جیسی بیماریاں تک شامل ہیں۔ عالمی پیمانے پر اگر پینے کے آلودہ پانی کی وجہ سے بیمار ہونے والے بچوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو ہر سال چھ ملین بچے یا ہر روز بیس ہزار بچے ان مہلک بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں ان بچوں میں سے 2.2 ملین بچے ہر سال موت کا شکار ہوجاتے ہیں یا یوں سمجھئے کہ ہماری دنیا میں ہر آٹھ سیکنڈ کے بعد ایک بچہ صرف اس لیے فوت ہوجاتا ہے کہ اس کو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں ہماری ترجیحات واضح ہوجاتی ہیں‘ علاج معالجے کی ضروری سہولتوں سے بھی کہیں زیادہ بڑھ کر ہماری اولین ترجیح یہ بن جاتی ہے کہ آبادیوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے اگر ہم 80 فیصد بیماریاں کو انسان کو لاحق ہونے سے پہلے ہی روک لیتے ہیں تو پھر صحت کے دوسرے واضح فوائد کے علاوہ یہ بھی ظاہر ہے کہ علاج معالجے کی موجودہ سہولتوں پر دبائو کم سے کم ہوتا جائے گا اور ملک میں ہر شخص کو علاج کی سہولتیں باآسانی پہنچانے کے قابل ہوجائیں گے۔
پینے کے پانی کو صاف کرکے اس کو پینے کے قابل بنانے کے کئی طریقے ہیں اس میں وہ طریقے بھی ہیں جن کے ذریعے ہم پوری آبادیوں اور بڑے بڑے شہروں کی پانی کی سپلائی کو محفوظ بناتے ہیں اور وہ طریقے بھی ہیں جن کو ہم گھروں میں استعمال کرکے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہمارا پینے کا پانی ہر قسم کے مضر اجزا اور آلودگیوں سے پاک ہو۔
شہروں کو آب رسانی کے لیے بنائے جانے والے منصوبوں کے لیے عام طور پر پانی قدرتی ذرائع جیسے کہ دریائوں نہروں یا قدرتی جھیلوں سے آتا ہے۔ اس میں حل شدہ اور غیر حل شدہ دو طرح کی آلودگیاں شامل ہوتی ہیں۔ مٹی‘ ریت‘ چھوٹے نباتاتی پودے پانی میں پلنے والے حشرات الارض وغیرہ۔ ایسی آلودگیاں ہیں جو پانی میں تیرتی رہتی ہیں اور پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لیے جن کو پانی سے الگ کرنا ضروری ہے اس مقصد کے لیے پانی کے بڑے بڑے تالاب بنائے جاتے ہیں جن میں پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے بہت سی بھاری اور نہ حل ہونے والی آلودگیاں نیچے تہہ میں بیٹھ جاتی ہیں اور اوپر کا پانی قدرے صاف ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد فلٹر یشن کا مرحلہ آتا ہے جہاں پانی کو باریک جالیوں سے گزار کر باقی غیر حل شدہ آلودگیوں کو بھی دور کرلیا جاتا ہے اور پانی دیکھنے میں صاف شفاف ہوجاتا ہے۔
لیکن یہ باریک جالیاں پانی میں موجود پیتھوجن یا بیماریاں پھیلانے والے جراثیم کو نہیں روک سکتیں اور یہ مہلک جراثیم بدستور ہمارے پینے کے پانی میں ناصرف موجود رہتے ہیں بلکہ موافق ماحول کی وجہ سے ان کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ ان کو تلف کرنے کے لیے کیمیائی طریقے اپنائے جاتے ہیں جن میں ایسی جرثیم کش ادویہ استعمال کی جاتی ہیں جو ان جراثیم کو تلف کردیتی ہیں لیکن ان کے انسانی صحت پر کسی قسم کے مضر اثرات نہیں ہوتے۔ ان جراثیم کش ادویہ میں سب سے زیادہ موثر کلورین کا پائوڈر ہے جس کو پانی کے ان تالابوں میں موجود شہریوں کو سپلائی کیے جانے والے پانی میں ملادیا جاتا ہے اور یہ موثر طور پر سپلائی کیے جانے و الے پانی میں موجود مہلک جراثیم کو ختم کردیتا ہے۔
ہمارا پینے کا پانی اس عمل کے بعد استعمال کے لیے بالکل محفوظ ہوجاتا اگر پائپوں کے ذریعے پانی کی ترسیل کا نظام بری طرح ٹو ٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوگیا ہوتا۔ تھوڑی بہت لیکج پانی اور سیوریج کے اچھے سے اچھے نظام میں بھی ہوتی ہے لیکن اس کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ پانی کی لائنوں میں ہر وقت پریشر سے جانے والا پانی موجود ہوتا ہے لہٰذا اگر کہیں سے پانی کا پائپ کا جوائنٹ ٹوٹا ہوا بھی ہو تو پانی کے پریشر کی وجہ سے پانی اس میں سے باہر کی جانب ہی جاتا ہے اور باہر سے کسی قسم کی آلودگی پائپ کے اندر آکر شہریوں کو سپلائی کیے جانے والے پانی میں شامل نہیں ہوپاتی۔ دوسرا یہ کہ پانی کی لائنوںکے مقابلے میں سیوریج کی لائنیں قدرے نیچے لیول پر چل رہی ہوتی ہیں لہٰذا اس بات کا خدشہ نہیں رہتا کہ سیوریج کا پانی یا اس کی آلودگی سیوریج لائن سے اگر باہر نکل بھی جاتی ہے تو وہ کسی طرح پینے کے پانی کی لائن تک پہنچ سکے گی۔
بدقسمتی سے ہمارے شہروں میں بد انتظامی کے باعث پانی کی لائنوں میں جگہ جگہ بہت بڑی ٹوٹ پھوٹ ہوچکی ہے یہاں تک کہ کراچی جیسے شہر میں پانی کی سپلائی کا ایک تہائی اس لیکیج کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے اور ہم ہر وقت پانی کی شدید قلت کا شکار رہتے ہیں۔ اس قلت کے باعث یہ ممکن نہیں رہا ہے کہ پانی کی لائنوں میں ہر وقت پانی پریشر کے ساتھ موجود رہے اور ہمیں یکے بعد دیگرے شہر میں موجود ہر علاقے کے پانی کی سپلائی لمبے وقفوں کے لیے بند کرنی پرتی ہے۔ جب پانی کی سپلائی بند کی جاتی ہے پانی کی لائنوں کے اندر خلا پیدا ہوجاتا ہے اور یہی لائنیں بالکل کسی سکشن پمپ کے طرز میں باہر سے پانی‘ کیچڑ اور ہر قسم کی الا بلا پائپ لائنوں کے اندر کھینچنے لگتی ہیں۔ اس پر ایک اور ستم یہ کہ سیوریج کی لائنیں واٹر سپلائی کی لائنوں کے انتہائی قریب سے گزرتی ہیں اور ہیں بہت علاقوں میں ان کا لیول پانی کی لائنوں کے لیول کے اوپر ہے۔ سیوریج لائنوں سے لیک ہونے والا غلیظ پانی اور دیگر ہر قسم کی گندگی زیر زمین پانی کی لائنوں کے اطراف نا صرف جمع ہوجاتی ہے بلکہ جب پانی کا بہائو پانی کی لائنوں میں بند کیا جاتاہے تو یہ سیوریج آزادی کے ساتھ پانی کی لائنوں میں داخل بھی ہوجاتی ہے۔ جب ان لائنوں میں دوبارہ پانی چھوڑا جاتا ہے تو یہ گندگی پینے کے پانی کے ساتھ مل کر ہمارے گھریلو ٹینکوں اور نلکوں تک پہنچ جاتی ہے۔
(جاری ہے)
عائشہ سلیم…کراچی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close