Aanchal May 15

محبت دل کا سجدہ(قسط نمبر3)

سباس گل

جس کو معلوم نہیں منزل مقصود اپنی
کتنا بے کار ہے اس شخص کا چلتے رہنا
ہم نئے خواب بنیں گے نئے منظر لے کر
نئے سورج سے کہو روز نکلتے رہنا

(حصہ دوم کا خلاصہ)
رابیل نگین کے ساتھ یونیورسٹی جاتی ہے جہاں نگین کی دوست زریں رابیل کو جاوید کی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے۔ ساتھ ہی رابیل اور زریں جاوید کو اس کے انجام تک پہنچانے کا منصوبہ بھی بناتی ہیں۔ وہاب احمد نگین کو یونیورسٹی جانے سے منع کرتے ہوئے اس پر جاوید کی حقیقت بھی آشکار کرتے ہیں جسے سن کر وہ ششدر رہ جاتی ہے۔ نوفل رابیل سے اپنے گستاخانہ رویہ کی معافی مانگتا ہے۔ رابیل کی بدولت اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ کرن ذوالنون کے محتاط رویے کو دیکھ کر اپنی چاہت پر بند باندھ لیتی ہے اور ذوالنون کے اپنی طرف لوٹ آنے کی منتظر رہتی ہے۔ نگین اس دن کے بعد سے اپنے کمرے میں بند ہوکر رہ جاتی ہے اسے رہ رہ کر اپنی کم عقلی پر غصہ آرہا ہوتا ہے ایک فلرٹ شخص کے لیے اپنے جذبات اس شخص پر آشکار کیے اور اپنے گھر والوں کی عزت دائو پر لگانے کا احساس اسے ندامت میں مبتلا کرتا ہے۔ علی چند دن کے لیے اپنے گھر جاتا ہے رابیل اس کے جانے سے اداس ہوگئی ہے کیونکہ ’’وہاب لاج‘‘ میں ایک علی ہے جس سے وہ بات کرتی ہے۔ وہاب احمد ایک دن کے لیے کراچی جاتے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں نوشین بیگم گھر میں پارٹی رکھتی ہیں جس میں مرد و خواتین دونوں شامل ہوتے ہیں۔ وہاب احمد کی آمد رات میں کسی وقت متوقع ہے اور نوشین احمد کو اندازہ ہے کہ وہاب احمد عموماً رات کے سفر کو ملتوی کرکے اگلی صبح کی فلائٹ لیتے ہیں۔ نوشین پارٹی کی وجہ سے رابیل کو علی کے کمرے میں سونے بھیج دیتی ہیں۔ علی فون پر ان کو اپنی واپسی کا بتا چکا ہوتا ہے مگر نوشین بیگم رابیل کو بدنام کرنا چاہتی ہیں۔ اس لیے علی کی آمد کی بات چھپا جاتی ہیں۔ علی جب واپس آتا ہے تو اپنے کمرے میں رابیل کو دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے۔ نوشین بیگم علی کے کمرے میں رابیل کی موجودگی پر واویلا مچا دیتی ہیں مگر وہاب احمد ان کا یقین نہیں کرتے۔ وہاب احمد کو معلوم ہے کہ نوشین بیگم اس طرح کی حرکت ضرور کریں گی۔ اس لیے وہاب احمد علی سے مشورہ کرکے رابیل اور علی کا نکاح کردیتے ہیں۔ ذوالنون گھر جانے کی تیاری کررہا ہوتا ہے اس نے نگین اور نوفل کے ساتھ رابیل کے لیے بھی گفٹ خریدے ہوتے ہیں۔ وہاب لاج میں بہت عرصے بعد اتنی پر رونق اور خوش گوار عید منائی جارہی تھی۔
(اب آگے پڑھیے)
ژ ظ …ژ…ظ ژ
’’ہاں‘ ہاں میں عشق! ساری خطائیں میری
مجھے نبھانے والو! تم تو سب فرشتے ہو‘‘
کرن کا بجھا ہوا شعر پڑھ کر وہ بے ساختہ ہنس پڑا۔
ذوالنون نے بھی جواب میں شعر ٹائپ کیا۔
ذرا آنکھوں سے اوجھل ہونا اے عشق!
مجھے کچھ دیر سونا ہے…!!
کرن نے ایس ایم ایس پڑھا اور سیل آف کرکے تکیے میں منہ چھپا کر رونے لگی۔
ذوالنون نہیں چاہتا تھا کہ کرن یا خود اس کے ماں باپ کو ان کی طرف سے کوئی الٹی سیدھی خبر ملے۔ وہ گھر سے دور تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل بنانے‘ سنوارنے گیا تھا‘ نہ کہ عشق کے چکروں میں پڑنے کے لیے۔ ذوالنون کو جذبات سے زیادہ حالات اور دوسروں کے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانے کی عادت تھی۔
ادھر علی بھی بے کلی اور بے قراری کے عالم میں اپنے بیڈ روم میں ٹہل رہا تھا۔ عید کا پہلا دن گزرگیا تھا‘ شب دھیرے دھیرے بیت رہی تھی۔ مگر وہ ابھی تک جاگ رہا تھا‘ اس کی عید کچھ اچھی نہیں گزری تھی‘ کیونکہ ایک تو امینہ نے علی کو رابیل سے نکاح کے معاملے میں بہت کچھ سنایا تھا اور اسے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ وہ فوراً اسے طلاق دے ورنہ وہ ساری زندگی اس کی شکل نہیں دیکھیں گی۔ نوشین نے جانے کس انداز میں امینہ کو رابیل کے خلاف کردیا تھا کہ وہ علی کی کوئی بات سننے کو ہی آمادہ نہیں تھیں۔ علی کے والد عثمان عزیز نے صرف اتنا کہا تھا کہ…
’’مجھے علی پر مکمل بھروسہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ علی جو بھی فیصلہ کرے گا بہت سوچ سمجھ کر اور دل سے کرے گا‘ میرا بیٹا کبھی کچھ غلط کر ہی نہیں سکتا۔‘‘
اور امینہ کو شوہر کی اس بات پر خاموش ہونا ہی پڑا تھا مگر علی کے لیے ایک بہت بڑی مشکل کھڑی ہوگئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں اب اتنی آسانی سے رابیل کو قبول نہیں کریں گی۔
رابیل صرف اس کی منکوحہ نہیں تھی بلکہ اب اس کی محبت بھی تھی پہلی بار دل کے دروازے پہ پیار کی دستک کو‘ پیار کی خوش بو کو اس نے روح کی گہرائیوں تک محسوس کیا تھا‘ وہ اس انوکھے اور دلنشیں احساس سے واقف ہوا تو زندگی ایک دم سے ہی اسے بہت حسین لگنے لگی تھی۔ وہ کیسے اپنے ہاتھوں سے اپنی محبت کو اپنی زندگی سے بے دخل کردیتا؟ اس نے اپنی ڈائری کھولی تو اس میں رکھا ہوا سفید گلاب علی کی توجہ کا مرکز بن گیا‘ اسے وہ حسین صبح یاد آگئی جب وہ رابیل سے پہلی بار ملا تھا اور اس نے تازہ سفید گلاب اسے تحفتاً دیا تھا اور وہ اس ہی لمحے میں قید ہوکر رہ گیا تھا۔ جانے کیسا طلسم تھا ان لمحوں میں کہ رابیل کی معصومیت اور خوب صورتی نے علی کا دل موہ لیا تھا۔ ایک بجلی سی کوندی تھی دل کے ایوانوں میں‘ ایک رنگ سا اترا تھا روح کے گلستانوں میں‘ ایک جلترنگ سا بج اٹھا تھا اس کے وجود کے ریگستانوں میں‘ ہر طرف پھول ہی پھول کھل اٹھے‘ اس لمحے اور وہ اس خوب صورت احساس کو اس سے‘ خود سے‘ سب سے چھپائے ہوئے تھا اب تک اور تقدیر نے اس کی محبت خودبخود اس کے ہاتھ میں تھما دی تھی۔ اب محبت بھری نعمت کی حفاظت اور قدر تو اسی کو کرنا تھی‘ جو اسے اتنی آسانی سے مل گئی تھی وہ اسے اگر جان جوکھوں میں ڈال کر بھی بچانی پڑے تو وہ دریغ نہیں کرے گا۔ وہ اسے کسی قیمت پر نہیںگنوا سکتا‘ یہ اس نے سوچ لیا تھا اور خود سے عہد بھی کرلیا تھا۔ یہ جاننا بھی اس کے لیے بہت ضروری اور بے حد اہم تھا۔
عید کا دوسرا دن بھی مصروف رہا‘ وہ چاہ کر بھی رابیل سے فون پر بات نہ کرسکا‘ اس کا سیل نمبر بھی اس کے پاس نہیں تھا۔ دن بھر سوچتا رہا تھا کہ موقع ملتے ہی وہاب لاج کال کرے گا‘ رابیل سے بات کرے گا مگر…!
دن بھر سوچا کہ
عید مبارک کہنا ہے
ڈیوٹی کرتے عید گزرگئی
’’عید مبارک‘‘
وہی روایتی انداز
وہی روٹین کا جملہ
دن بھر اپنے آپ سے الجھتا رہا
نہ الفاظ ملے‘ اور نہ پتھر سوچوں سے
عید کے لیے کوئی جملہ تراش پایا
یہاں تک کہ رات نے دھرتی پر
اپنے تنبو تان لیے…!
علی سوکھے ہوئے سفید گلاب کو دیکھتا رہا‘ سونگھتا رہا‘ اس میں رابیل کی خوش بو کو محسوس کرتا رہا اور عید کی شب کا لمحہ لمحہ گزرتا رہا۔
ژ ظ …ژ…ظ ژ
ذوالنون کو نوفل کی زبانی گھر کے تمام حالات واقعات کا علم ہوچکا تھا‘ نوشین کی زیادتیوں پر وہ بہت شرمندہ تھا‘ رابیل سے اور نگین کی بے وقوفی نے بھی اسے ہلا کے رکھ دیا تھا۔ علی سے رابیل کے نکاح کا جواز ضرور برا لگا تھا مگر وہ خوش تھا کہ رابیل کا نکاح علی جیسے نفیس اور سلجھے ہوئے شخص سے ہوا ہے اور اب اس کی شدید خواہش تھی کہ نگین کی شادی بھی جلد از جلد ہوجائے‘ وہ سب لائونج میں بیٹھے گپ شپ کررہے تھے۔
’’نگی‘ بس اب تم امور خانہ داری میں دلچسپی لو کوکنگ سیکھ لو‘ تاکہ یونیورسٹی سے فارغ ہوتے ہی تمہاری شادی کردی جائے۔‘‘ ذوالنون نے نگین کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’مجھے فی الحال شادی نہیں کرنی۔‘‘ نگین نے کافی کا مگ اٹھاتے ہوئے افسردگی سے کہا۔
’’ڈونٹ وری اللہ نے تمہارے لیے بہت اچھا رائٹ مین منتخب کر رکھا ہوگا‘ وہ ضرور تمہیں ملے گا‘ گزری غلطیاں بھلا کر آنے والی زندگی کو خوش گوار گزارنے کے لیے خود کو تیار کرو مایوس کبھی نہ ہونا ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ ذوالنون نے اس کا ہاتھ تھام کر مسکراتے ہوئے کہا۔
’’رابیل آئی ایم سو ہیپی فار یو علی بھائی بہت نائس آدمی ہیں کسی کی بات پر کان مت دھرنا‘ انہیں اپنا بنا کے ہی رکھنا سمجھیں۔‘‘ ذوالنون نے رابیل سے راز دارانہ لہجے میں کہا تو وہ ہنس کر بولی۔
’’علی کی مرضی کے بنا تو نہیں نا۔‘‘
’’علی بھائی سے مجھے کسی بے وقوفی کی توقع تو نہیں ہے پھر بھی اگر وہ مام کی باتوں میں آکر یہ نکاح ختم کرنے کی بات کریں تو مجھے بتانا میں انہیں سمجھائوں گا کہ میری بہن کوئی معمولی لڑکی نہیں ہے اگر اسے آپ نے گنوا دیا تو ساری زندگی پچھتائوگے اور اگر میری بہن کو کوئی دکھ دیا تو میرے ہاتھوں سے بچ کر کہاں جائوگے؟‘‘ ذوالنون نے برادرانہ شفقت ومحبت سے پر لہجے میں بڑے اسٹائل سے کہا تو وہ ہنستی چلی گئی۔ وہاب احمد کو ذوالنون پر بے تحاشہ پیار آیا جو رابیل کو بھی اتنی ہی محبت اور اہمیت دے رہا تھا اس کے لیے بھی اتنا ہی فکرمند تھا جتنا کہ نگین کے لیے فکرمند تھا۔
عید کے تیسرے دن وہ سب زاہد اور عابد ماموں کے گھر ماجد ہائوس گئے‘ واپسی شام تک ہوئی تھی‘ ان سب کی‘ اور رات کو ذوالنون خوش گوار یادوں کے ساتھ کوچ میں سوار ہوگیا تھا اس کی چھٹی بس تین دن کی ہی تھی اسے واپس اسلام آباد پہنچنا تھا۔
ژ ظ …ژ…ظ ژ
علی صبح فلائیٹ سے لاہور پہنچ گیا تھا۔ وہاب لاج میں خاموشی چھائی تھی۔ اس کی نگاہیں رابیل کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ بواجی کی زبانی معلوم ہوا کہ رابیل ‘ نگین کے ساتھ اس کی سہیلی ذرین کے گھر عید ملن پارٹی میں گئی ہے۔ نوفل کالج میں تھا۔ نوشین اپنے کمرے میں سو رہی تھیں۔ وہاب احمد فیکٹری گئے تھے۔ وہ اپنا سامان گیسٹ روم میں رکھنے کے بعد باہر لان میں آبیٹھا۔ وہ کافی پریشان اور بے چین تھا۔ آتے وقت امینہ بیگم نے اسے رابیل کو طلاق دینے کا حکم دیا تھا۔ وہ بھی نوشین کی زبان پر یقین کرکے انہی کی زبان بول رہی تھیں۔
’’علی‘ تم نے جس خاموشی سے رابیل سے نکاح کیا تھا‘ اسی خاموشی سے اسے طلاق دے کر یہ رشتہ ختم کردینا ورنہ میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی اور میری حکم عدولی کرکے تم مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔‘‘ امینہ کے کہے ہوئے الفاظ کسی لاوے کی طرح اس کی روح میں سرایت کر گئے تھے‘ اور بار بار ان الفاظ کی بازگشت اسے انگاروں پر گھسیٹ رہی تھی۔ وہ بے چینی کے عالم میں کبھی بیٹھ جاتا اور کبھی پھر سے اٹھ کر ٹہلنے لگتا۔ اس کا وجود آگ کی طرح دہک رہا تھا۔ علی نے خود کو کبھی اتنا بے بس اور مجبور محسوس نہیں کیا تھا۔ جتنا بے بس اور مجبور وہ آج محسوس کررہا تھا۔ ایک طرف اس کے دل کی خوشی‘ اس کی محبت‘ اس کی رابیل تھی۔
اور دوسری طرف اس کی ماں تھی‘ جس کے قدموں تلے اس کی جنت تھی‘ وہ ماں کا ایسا حکم کیسے مان سکتا تھا جو اس کے دل کی دنیا اور ایک لڑکی کی زندگی تباہ کردے۔ وہ دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں کھونا چاہتا تھا اور نہ ہی وہ ان دونوں میں سے کسی کو دکھ پہنچانا چاہتا تھا۔ اسے اپنے اللہ پر بھروسہ تھا کہ وہ ضرور ان کا دل رابیل کی طرف سے صاف کردے گا اور ممانی کو ہدایت کی راہ دکھائے گا ان شاء اللہ۔
رابیل اور نگین جلد ہی آگئی تھیں۔ رابیل نے علی کو دور سے ہی دیکھ لیا تھا۔ اس کے دل کی دھڑکنیں ایک دم تیز ہوگئی تھیں۔ علی اسے بہت غم زدہ دکھائی دے رہا تھا۔ بواجی نے اسے بتایا کہ وہ جب سے آیا ہے اسی طرح گم صم اور پریشان سا بیٹھا ہے۔ رابیل بے قرار ہو کر لان کی طرف چلی آئی۔ وہ ٹھوڑی کو ہاتھ سے پکڑے کسی سوچ میں گم بیٹھا تھا۔
’’اٹھیں آپ اندر چلیں۔‘‘ وہ تیزی سے بولی اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’کوئی دیکھ لے گا تو کیا کہے گا کہ اتنے بڑے مرد ہوکر آپ رو رہے ہیں۔‘‘
’’مجھے اکیلا چھوڑ دو رابیل۔‘‘
’’ہرگز نہیں‘ میں آپ کو کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ رابیل اس کے قریب ہی کرسی پر بیٹھ گئی‘ اس نے ابھی تک علی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور اس پر اب گرفت اور مضبوط کرلی تھی۔
’’کیا کروگی میرے ساتھ رہنے کے لیے؟‘‘
’’میں آپ سے محبت کرتی ہوں اور آپ کو اتنا پیار دوں گی کہ آپ مجھے کبھی کہیں گے ہی نہیں کہ مجھے اکیلا چھوڑ دو‘ اور آپ مجھے کبھی بھی خود سے جدا کر ہی نہیں پائیں گے‘ بولیں کریں گے‘ مجھے خود سے الگ؟‘‘ وہ اپنی سادگی اور معصومیت میں اپنے پیار کا اظہار کرتی مان بھرے انداز میں اس سے پوچھتی اسے بے خود کررہی تھی‘ دیوانہ بنا رہی تھی۔
’’تمہیں پتا ہے تمہاری خالہ نے یہ رشتہ کس طرح ہونے دیا اور کب تک وہ اس رشتے کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں؟‘‘
’’سب پتا ہے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولی۔
’’مجھے آپ کی بات کی پروا ہے خالہ کی نہیں‘ آپ کی رائے میرے لیے اہمیت رکھتی ہے‘ آپ کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ چھوڑ دیں گے مجھے… یہ نکاح ختم کردیں گے ؟ خود سے جدا کردیں گے مجھے… یہ رشتہ ختم کردیں گے کیا؟ آپ طلاق دے دیں گے مجھے؟‘‘ رابیل نے بے چینی سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’نہیں رابیل ‘ یہ لفظ سوچ کر میری روح کانپ اٹھتی ہے‘ تم بیوی ہو میری‘ بے شک یہ رشتہ جیسے بھی حالات میں ہوا ہے‘ میں اس رشتے کو رسوا نہیں ہونے دوں گا‘ دیکھتا ہوں کون تمہیں مجھ سے جدا کرکے لے جاتا ہے۔‘‘ وہ بولتے بولتے کھڑا ہوگیا۔
’’میں آپ کو چھوڑ کے کہیں نہیں جائوں گی۔‘‘ اس نے خوشی اور محبت سے بھیگتے لہجے میں کہا۔
رابیل بھی اس سے پیار کرتی ہے اور اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے‘ اس رشتے کو قائم رکھنا چاہتی ہے یہ احساس علی کے لیے بہت مسرور کن اور اطمینان بخش تھا‘ اب وہ اپنے اور رابیل کے لیے‘ اپنی محبت کے لیے پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ حالات اور مخالفتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھا۔
ژ ظ …ژ…ظ ژ
’’آگئے ہو خیر سے چھٹیاں گزار کے۔‘‘ کرن نے ذوالنون کو صبح کالج میں دیکھتے ہی مسکرا کے کہا۔
’’جی الحمدللہ۔‘‘ اس کے انداز میں بے پروائی تھی۔
’’میری چاہت نے تمہیں خاص بنایا ہے ورنہ تم میں تو کوئی بات نہیں۔‘‘ کرن نے بھی اس کی بے پروائی اور بے نیازی کا منہ توڑ جواب دیا۔
’’یس‘ یہی تو میں چاہتا ہوں کہ تم ایسا ہی سوچو اور پڑھو لکھو آگے بڑھو‘ اس عشق‘ محبت کے لیے تو عمر پڑی ہے۔‘‘
’’میں تمہیں ڈاکٹر بن کے دکھائوں گی دیکھ لینا تم۔‘‘
’’دیکھ تو رہا ہوں۔‘‘ وہ گہری شوخ نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا۔ تو وہ تیزی سے اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی۔
ذوالنون نے خود بھی اپنی کلاس روم کی جانب قدم بڑھا دیئے۔
ژ ظ …ژ…ظ ژ
صبح کے نو بج رہے تھے۔ رابیل تیار ہوکر اپنے کمرے سے باہر نکلی تو عمیر‘ اویس‘ مسز ہمدانی‘ مسز بیگ کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ یہ لوگ اتنی صبح کیسے آگئے۔ ان کی تو صبح ہی دس بجے ہوتی تھیں۔
’’السلام علیکم! رابیل نے ان سب کو دیکھتے ہوئے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام! کیسی ہو رابیل؟‘‘ مسز بیگ نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا تو اس نے اخلاقیات نبھاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
’’جی میں ٹھیک ہوں‘ آپ سب کیسے ہیں؟‘‘
’’ہم بھی ٹھیک ہیں‘ آپ کے آنے سے اور بھی ٹھیک ہوگئے ہیں۔ آپ تو ہماری کمپنی سے دور بھاگتی ہیں اور ہم آپ کو اپنی کمپنی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ عمیر نے اٹھ کر اس کے پاس کھڑے ہوکر اس کے دلکش سراپے کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ ایک دم سے اس سے دو قدم دور ہٹ گئی۔
’’رابیل‘ مجھے تو تم بہت پسند آئی ہو‘ میں نے نوشی سے کہا ہے کہ وہ تمہیں لے کر آئے میرے گھر‘ میرے بیٹے سے بھی تم مل لینا‘ بھئی اگر تم میرے بیٹے کو پسند آگئیں تو میں تمہیں اپنی بہو بنالوں گی۔‘‘ مسز بیگ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو اویس نے کمینگی سے کہا۔
’’ہائے مسز بیگ‘ پھر ہمارا کیا بنے گا‘ ہم تو انہیں دیکھتے ہی رہ جائیں گے بس۔‘‘
’’تم کھڑی کیوں ہو ڈارلنگ‘ آئو ہمارے پاس بیٹھو نا۔‘‘ عمیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بٹھانے کی کوشش کی تو اس نے غصے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
’’ڈونٹ ٹچ می۔‘‘ وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’ارے دیکھو ذرا لندن پلٹ لڑکی کا یہ حال ہے‘ یہاں تو ہر لڑکی آسانی سے کسی بھی مرد کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھما دیتی ہے اور یہ نیک پروین‘ ہونے کا ڈرامہ کررہی ہے۔‘‘ عمیر نے ہنستے ہوئے کہا تو رابیل بہت ضبط کرتے ہوئے بولی۔
’’آپ ہر لڑکی کو برا اور بکائو مال سمجھنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ لڑکیاں اپنی عزت کروانا جانتی ہیں‘ آپ نجانے آج تک کن لڑکیوں سے ملتے رہے ہیں‘ میں رابیل تیمور حسن ہوں کوئی ٹشو پیپر نہیں ہوں کہ جسے آپ استعمال کرکے پھینک دیں۔‘‘ رابیل غصے سے کہتی کچن میں چلی آئی۔
’’بواجی! یہ مہمان آج اتنی صبح کیسے آگئے؟‘‘
’’بیٹا! یہ عید ملن پارٹی کا ہی حصہ سمجھو‘ یہ لوگ ناشتے کی دعوت پر آئے ہیں۔‘‘
’’یہ ویسے تو اتنے ماڈرن بنتے ہیں اور اب اتنے ہیوی ناشتے کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں۔‘‘ سنجیدگی سے کہتے وہ علی کے روم میں آگئی۔
علی واش روم میں نہا رہا تھا‘ رابیل کو پانی گرنے کی آواز سے اندازہ ہوگیا تھا‘ وہ کچھ دیر تو بیٹھی ان تینوں کی باتوں پر سلگتی رہی‘ پھر خود کو ٹھنڈا کیا اور اٹھ کر علی کی چیزیں دیکھنے لگی۔ واش روم کا دروازہ کھلنے اور علی کے باہر آنے کی آہٹ پاکر رابیل نے پلٹ کر دیکھا تو مارے شرمندگی کے فوراً ہی رخ پھیر لیا علی نے شرٹ نہیں پہنی تھی۔ وہ تولیے سے بال خشک کرتا اسے اپنے کمرے میں اس وقت دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
’’کیوں میں یہاں نہیں آسکتی کیا؟‘‘ رابیل نے اس کی طرف دیکھے بنا اس کی آئی پیڈ کو اٹھا کر دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’ہوں‘ آسکتی ہو تم‘ مالک ہو اس گھر کی‘ تمہارا جہاں دل چاہے تم آجا سکتی ہو۔‘‘ وہ تو لیے کو اپنے بالوں میں رگڑتے ہوئے نرمی سے بولا۔
’’آپ کو برا لگا کیا‘ میں آپ کے کمرے میں آئی؟‘‘ اس نے ذرا سی نگاہ اٹھا کر پوچھا تو وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولا۔
’’ارے نہیں مجھے کیوں برا لگے گا بھلا؟ مجھے تو بہت اچھا لگ رہا ہے کہ تم میرے کمرے میں آئی ہو‘ میرے تو بھاگ جاگ گئے آج۔‘‘
’’واٹ بھاگ؟‘‘ رابیل نے نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔
’’بھاگ‘ مطلب نصیب‘ قسمت۔‘‘ وہ ہنس کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف جاتے ہوئے مطلب سمجھا رہا تھا۔
’’اوہ اچھا!‘‘ رابیل نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر اس کے سیل فون کو چیک کرنے لگی‘ وہ بالوں میں برش پھیرتے ہوئے اسے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں واضح دیکھ رہا تھا۔
’’کیا سوچ رہی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ رابیل نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کسی نے کچھ کہا ہے؟‘‘ علی بغور اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ وہی جواب تھا اس کا۔
’’میں تمہارا کیا لگتا ہوں؟‘‘ سوال بہت تیزی سے کیا تھا اور جواب بھی اسی روانی سے آیا تھا۔
’’کچھ نہیں… مگر… سب کچھ۔‘‘
’’تو وہ سب کچھ بتادو مجھے جو تمہیں پریشان اور خوف زدہ کیے ہوئے ہے۔‘‘
’’کیا مجھے سب کچھ علی کو بتا دینا چاہیے‘ اگر انہیں غصہ آگیا تو؟ پتا نہیں یہ میری بات کا یقین کریں گے بھی کہ نہیں… اگر غصے میں آکر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا تو؟‘‘
’’نہیں…‘‘ یہ نہیں اس کی زبان سے باآواز پھسلا تھا۔
’’نہیں چھوڑوں گا‘ تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا اور تم پہ کبھی غصہ بھی نہیں کروں گا اور یقین رکھو مجھے رب کے بعد اگر کسی پر یقین ہے تو وہ تم ہو‘ رابیل صرف تم۔‘‘ علی نے اس کے چہرے سے اس کی پریشانی اس کے دل کا خوف پڑھتے ہوئے بہت محبت سے کہا تو فرط مسرت وتشکر سے وہ اس کے گلے سے لگ گئی۔ اس کے یہ معصوم اور بے ساختہ انداز ہی تو علی کو پل پل اس کا اسیر کررہے تھے۔ یکایک رابیل کو اپنی اس حرکت کا احساس ہوا تو ایک دم سے اس سے الگ ہوئی علی نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
’’سوری…‘‘ وہ نظریں جھکا کر اپنی اس حرکت پر معذرت کررہی تھی وہ ہنس کر اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔
’’سوری تو کسی غیر سے کی جاتی ہے ہسبنڈ سے تو نہیں۔‘‘
’’آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘ وہ علی کے گلے میں چمکتا لاکٹ جس پر علی کے نام کا اے کندہ تھا ہاتھ میں پکڑ کر دیکھنے لگی۔ جب کہ وہ بس اسے دیکھ رہا تھا محسوس کررہا تھا اس کے مہکتے وجود کی نرمی اور گرمی اسے مدہوش بنا رہی تھی۔
’’اچھا لگ رہاہے یہ لاکٹ۔‘‘ علی نے اس سے پوچھا۔
’’ہوں…‘‘ وہ شرماتے ہوئے بولی۔
’’تو تمہیں پہنا دوں۔‘‘
’’نہیں… بس آپ نے پہنا ہوا ہے تب ہی تو بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘‘
’’تم پہنوگی تو اور زیادہ اچھا لگے گا تمہاری خوب صورت گردن میں تو سج جائے گا۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنے گلے سے لاکٹ اتار لیا۔
’’مگر…‘‘ رابیل جھجک رہی تھی اور علی نے اپنا لاکٹ اس کی گردن میں پہنا دیا۔ رابیل چھوئی موئی کی طرح سمٹ گئی۔ چہرے پر حیا کے‘ مسرت وانبساط کے سارے رنگ اتر آئے تھے۔ نظریں جھکی جھکی سی‘ گال دہکتے ہوئے‘ ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور کومل وجود کی سندرتا‘ خوب صورتی اور حسن‘ معصومیت اور سادگی میں بھی قیامت کا نظارہ پیش کررہی تھی وہ… علی کو بے خود کررہی تھی‘ علی کو اس پر اپنے حق کا احساس دلا رہی تھی۔
’’علی…‘‘ لب خودبخود اس کا نام لے اٹھے۔
’’جان علی‘ بتائونا کیا بات ہے جو تمہیں پریشان کررہی ہے… کسی سے خوف زدہ ہو تم… بتائو مجھے‘ میں ہوں نا اب تمہارا محرم‘ تمہارا محافظ۔‘‘ علی نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر نرمی سے پوچھا تو اس نے عمیر‘ اویس اور مسز بیگ کی تمام باتیں اس کے گوش گزار کردیں۔
’’بس اسی لیے میں آپ کے کمرے میں چلی آئی کہ وہ یہاں تو نہیں آئیں گے۔‘‘ و ہ سنجیدگی سے بولی۔
’’اچھا کیا جو یہاں چلی آئیں‘ تمہاری جگہ ادھر ہی ہے میرے کمرے میں۔‘‘ علی نے سنجیدگی سے کہا اویس اور عمیر کی بے باکی پر وہ سلگ اٹھا تھا۔
’’اور اویس اور عمیر کو تو میں دیکھ لوں گا ان کی جرأت کیسے ہوئی تمہارے ساتھ بدتمیزی کرنے کی۔‘‘
’’تم اب یہاں اکیلی نہیں ہو‘ میں ہوں تمہارے ساتھ تمہارا شوہر۔‘‘ علی نے اس کے شانوں کو تھام کر اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ میرے شوہر ہیں مگر میرے ساتھ نہیں ہیں‘ ساتھ ہوتے تو میرے ساتھ یہ سب نہ ہورہا ہوتا۔‘‘
’’ہوں… میں سمجھ رہا ہوں تمہاری بات‘ جب تک سب کے سامنے ہماری شادی ڈکلیئر نہیں ہوجاتی ایسا کچھ تو ہوگا… یہ رشتہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔‘‘ علی نے اٹل لہجے میں کہا۔
’’کھیل سمجھا ہے انہوں نے نکاح کو‘ ہماری زندگی کو جب ان کا دل چاہا ایک ڈرامہ رچا کر ہمارا نکاح کروا دیا اور جب چاہیں گی ختم کرادیں گی۔‘‘ رابیل اس کا احساس‘ اس کی سوچ اور رویہ ہی جانچنا چاہتی تھی اپنے حوالے سے اس رشتے کے حوالے سے سو اس کی باتیں سن کر مطمئن ہوگئی تھی اور سکون سے بیٹھ گئی۔
ژ ظ …ژ…ظ ژ
جاوید کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ خبر اخبار کے ذریعے نگین تک پہنچی تو ایک بار پھر اسے اپنی سنگین غلطی اور بے وقوفی پر رونا آگیا۔ وہ اپنے آپ پر شدید برہم تھی۔ آخر وہ کیوں اس بے ایمان آدمی کی چکنی چپڑی باتوں میں آگئی تھی اور رابیل نے کب‘ کیسے جاوید کی حقیقت کو سمجھا اور اسے بے نقاب کردیا۔ اسے گرفتار کروا دیا‘ اس کی وجہ سے وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا اور خود نگین ایک اندھے کنویں میں گرنے سے بچ گئی۔ وہ تہہ دل سے رابیل کی شکر گزار تھی اور اب تو وہ نماز بھی باقاعدگی سے پڑھنے لگی تھی۔ رابیل نے نگین کو افسردہ دیکھا تو کہنے لگی۔
’’نگی آپی! اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھا اور محفوظ رکھا۔ برے کام کا انجام تو برا ہی ہوتا ہے نا‘ کتنی لڑکیوں کی زندگی خراب ہونے سے بچ گئی۔‘‘
’’ہاں ٹھیک کہا تم نے اس کی منگیتر کے گھر والوں نے اسے معاف نہیں کیا اور وہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا چند روز تک۔‘‘
’’وہ کیا کہتے ہیں خس کم جہاں پاک۔‘‘
’’آپ کو پتا ہے مما پاپا‘ ایک ہفتے تک واپس آجائیں گے۔‘‘ رابیل نے فوراً ہی موضوع بدل دیا۔
’’رئیلی‘ پھر تو بہت مزا آئے گا‘ کتنے برسوں بعد ہم سب ملیں گے ان سے‘ ساتھ کتنے دن بتائیں گے‘ گپ شپ کریں گے۔‘‘ نگین نے بھی خوشی سے پرجوش لہجے میں کہا۔
’’آنے دو ذرا اپنے مما پاپا کو بہت خوش خوش آرہے ہوں گے نا حج کی سعادت حاصل کرلی اور اب اپنوں سے اپنے وطن میں ملنے کی دوہری خوشی کا احساس انہیں ہوائوں میں اڑا رہا ہوگا‘ ان کی خوشی کے غبارے سے تو میں ایسی ہوا نکالوں گی کہ ساری زندگی یاد کریں گے مجھے۔‘‘ نوشین کے کان میں رابیل کی بات جو پڑی تھی تو غصے سے دل میں سوچا۔ نجانے وہ اب کیا کرنے والی تھی۔
رابیل کو بھی صرف نوشین کے عزائم سے خطرہ تھا‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کے مما پاپا کو علی سے اس کے نکاح کی کیا کہانی سنائیں گی۔ وہاب احمد اور علی کی اسے تسلی سے اور ان کے ساتھ سے کافی ڈھارس ہوئی تھی مگر دل کے کسی کونے میں ایک بے کلی سی اب بھی موجود تھی۔
’’رابیل۔‘‘ علی نے اسے لان میں پھولوں‘ پودوں کو پانی دیتے دیکھ کر آواز دی۔ تو اس کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔
’’جی…‘‘ اس نے پانی کا پائپ کیاری میں چھوڑتے ہوئے کہا۔
’’میں کل یہاں سے اپنے نئے بنگلے میں شفٹ ہورہا ہوں۔‘‘ وہ اس کے قریب پہنچ کر بولا۔
’’آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔‘‘
’’شکریہ ہنی‘ لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم بھی میرے ساتھ چلو۔‘‘
’’مگر میں ایسے کیسے آپ کے ساتھ جاسکتی ہوں؟‘‘
’’میری بیوی کی حیثیت سے اور کیسے؟‘‘
’’لیکن فی الحال یہ مناسب نہیں ہوگا کیونکہ مما پاپا کو ہمارے ریلیشن شپ کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اور آپ کے مما بابا بھی پتا نہیں کیا سمجھیں کیا چاہیں؟ بنا ان سب کی مرضی کے میں آپ کے ساتھ آپ کے گھر نہیں جاسکتی‘ آئی ہوپ آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں؟‘‘ رابیل نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ سمجھ رہا ہوں میری سمجھدار منکوحہ میں بھی ایسا ہی چاہتا ہوں کہ تم سب کی خوشی‘ مرضی اور دعائوں میں رخصت ہوکر میرے گھر آئو۔ مجھے فخر ہے کہ تم میری شریک زندگی ہو۔ میں تو صرف یہ چاہ رہا تھا کہ تم میرے ساتھ میرے نئے گھر کو دیکھنے چلو جہاں ان شاء اللہ تعالیٰ تم بہت جلد رخصت ہو کر آئوگی۔ میری خواہش ہے کہ اس گھر میں پہلا قدم تم رکھو۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے سنجیدہ مگر نرم لہجے میں کہا۔
’’آپ کی خواہش سر آنکھوں پر مگر میرا جواب اب بھی وہی ہے‘ میں نوشین آنٹی کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتی کہ وہ میرے بارے میں پھر سے کوئی نئی کہانی گھڑ لیں‘ پلیز مائنڈ مت کیجیے گا۔‘‘ رابیل نے فکرمند اور محتاط لہجے میں کہا۔
’’ڈونٹ وری ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا‘ کچھ بھی ہوجائے یہ یقین رکھنا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ علی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر خلوص دل سے کہا۔
اگلے دن علی اپنے نئے بنگلے میں شفٹ ہوگیا۔ اس نے ان سب کو بھی اپنے نئے گھر کی خوشی میں دعوت دی تھی۔ رابیل کو خاص طور سے کہا تھا کہ وہ ان سب کے ساتھ اس کے گھر ضرور آئے‘ نہیں تو وہ اس سے ناراض ہوجائے گا اور رابیل اسے کسی صورت ناراض نہیں کرسکتی تھی۔ سو وہ بھی ان سب کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ آج اس نے نگین کی پسند کا ڈریس پہنا تھا‘ ہلکے سرمئی رنگ کے چوڑی دار پاجامے پر بڑا سا کامدار فراک جس پر سلور کلر کا بہترین کام کیا گیا تھا اور سلور گرے کلر کے ہی ہیل والی جوتی پہنی تھی۔ کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس اور کلائی میں برسلیٹ پہنے بالوں کا خوب صورت اسٹائل بنائے خوشبوئوں سے مہکتی رابیل اپنے بے پناہ حسن کے ساتھ نگاہوں کو خیرہ کررہی تھی‘ جاتے ہوئے تو رابیل نے خود کو بڑی سی چادر میں ڈھانپ لیا مگر جونہی وہ گلشن علی میں داخل ہونے کے بعد گاڑی سے باہر نکلی اپنی چادر اتار کر تہہ لگانے لگی تو نوشین کو اس کی تیاری دیکھ کر پتنگے لگ گئے۔ اسے خون خوار نظروں سے دیکھتے ہوئے تیز لہجے میں بولی۔
’’علی نے ہمیں کھانے کی دعوت دی ہے شادی پر نہیں بلایا تھا۔ تم اتنی سج دھج کے یہاں آئی ہو۔‘‘
’’تو کیا ہوا مام! شادی کے بعد پہلی بار دلہن اپنے دلہا کے گھر آئی ہے تو سج دھج سے ہی آنا چاہیے تھانا۔‘‘ نگین نے رابیل کے شانوں کے گرد اپنا بازو حمائل کرکے مسکراتے ہوئے کہا تو رابیل شرم سے آب آب ہوگئی جب کہ نوشین کو مزید آگ لگ گئی۔
’’السلام علیکم‘ خوش آمدید۔‘‘
علی نے رابیل کو دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے پیار بھرا سلام کیا‘ کتنا مسرور تھا وہ رابیل کے آنے سے اس کے چہرے پر بکھری تازگی‘ روشنی اور ہنسی سے ظاہر ہورہا تھا‘ اس کے اظہار محبت اور علی کے اپنے لیے خاص جذبات کا ادراک رابیل کو شرمانے پر مائل کیے ہوئے تھا۔
’’علی سے تو ایسے شرما رہی ہے جیسے نئی نویلی دلہن ہو۔‘‘ نوشین نے طنزیہ لہجے میں کہا تو رابیل کی بجائے نگین نے فٹ سے جواب دیا۔
’’اس میں کیا شک ہے نئی نویلی دلہن تو ہے ہی بلکہ نو زائیدہ دلہن‘ کیونکہ ابھی تو صرف نکاح ہوا ہے‘ ان شاء اللہ جلد ہی رابیل رخصت ہوکر دلہن بن کر اس گھر میں آجائے گی۔‘‘
’’نگی… پاگل ہوئی ہو تم ادھر آئو۔‘‘ نوشین اس کی بات پر غصے سے اس کا بازو پکڑ کر ایک طرف لے گئی۔
’’کیا ہوا مام؟‘‘
’’تم پاگل تو نہیں ہوگئیں‘ میں علی کے ساتھ تمہاری شادی کی پلاننگ کررہی ہوں اور تم ان دونوں کی شادی کی باتیں کررہی ہو۔ تم علی کو اپنی طرف متوجہ کرو۔‘‘
’’مام پلیز‘ مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا میں نے توبہ کرلی ہے مزید حماقتوں حسد اور بغـض سے‘ آپ بھی کرلیجیے اور جینے دیں رابیل اور علی کو ایک دوسرے کے ساتھ پلیز۔‘‘ نگین نے نہایت سنجیدگی سے اس کی بات کاٹ کر کہا اور اندر چلی گئی۔
’’بے وقوف سبھی میری لٹیا ڈبونے پر کمر بستہ ہیں دیکھ لوں گی میں سب کو‘ ہوگا وہی جو میں چاہتی ہوں افشین اور تیمور حسن کی بیٹی علی کے دل اور اس کے گھر پر راج کرے ایسا تو میں ہونے نہیں دوں گی۔‘‘ نوشین نے پیج وتاب کھاتے ہوئے دل ہی دل میں کہا اور علی کے ساتھ ہولی وہ سب کو اپنا گھر دکھا رہا تھا‘ سب بہت خوش تھے۔ رابیل تو بہت زیادہ حیران بھی تھی کہ ایسا گھر تو اس نے سپنوں میں بھی دیکھا تھا اور آج وہ گھر سپنوں کا محل اس کے سامنے تھا‘ اس خوب صورت محل میں وہ کھڑی تھی شہزادے کی ہمراہی میں اس محل کا جائزہ لے رہی تھی۔
’’ہیلو نگی۔‘‘ زاہد ماموں کے بیٹے خرم نے نگین کو لان میں ٹہلتے دیکھا تو وہیں چلا آیا۔ اسے علی نے ہی فون کرکے بلایا تھا۔ علی سے اس کی دوستی اور بے تکلفی تھی‘ خرم ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کررہا تھا۔
’’ارے خرم بھائی آپ یہاں آپ کو بھی علی بھائی نے انوائیٹ کیا ہے؟‘‘ نگین نے اسے دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں‘ انہوں نے مجھے فون کیا تھا کہ آپ لوگ آگئے ہیں‘ تو میں بھی چلا آیا ویسے میں دعوت کھانے نہیں آیا۔‘‘
’’تو گھر دیکھنے آئے ہیں؟‘‘
’’نہیں میں تمہیں دیکھنے آیا ہوں۔‘‘ خرم نے اس کے دلکش چہرے پر نگاہیں مرکوز رکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’مم… مجھے کیا ہوا ہے؟ اچھی بھلی تو ہوں۔‘‘ وہ گھبرائی۔
’’اسی لیے تو دیکھنے آیا ہوں کہ تم اچھی بھلی تو ہو اور کیا چاہیے؟‘‘ وہ معنی خیز بات اور لہجے سے اسے کنفیوز کررہا تھا۔
’’کسے کیا چاہیے؟‘‘
’’مجھے ایک لڑکی پسند آگئی ہے میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میں اس قابل ہوں کہ کوئی تم جیسی پیاری لڑکی مجھے اپنا جیون ساتھی بنانے کے لیے ہاں کردے۔‘‘ خرم نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا تو وہ دھیرے سے ہنس کر پوچھنے لگی۔
’’آپ کو اپنی قابلیت پر شک کیوں ہے؟‘‘
’’شک تو نہیں ہے پھر بھی تم ایک لڑکی ہو‘ لڑکوں کے ساتھ پڑھتی بھی ہو تمہیں زیادہ پتا ہوگا ناکہ ایک لڑکی کیسے لڑکے کو پسند کرتی ہے۔ کیا خوبیاں ہونی چاہیں ایک لڑکے میں‘ کہ اسے کوئی لڑکی اپنا جیون ساتھی چن لے؟‘‘
’’ہوں تو یہ بات ہے۔‘‘ نگین ہنس پڑی۔
’’ہاں بتائو نا‘ میں کیسا ہوں؟‘‘ نگین نے اس کا سر سے پائوں تک جائزہ لیا‘ گندمی رنگت‘ اونچا لمبا قد‘ دلکش نین نقش کا مالک تھا خرم‘ مونچھوں کے ساتھ تو اس کی شخصیت خاصی سوبر اور بارعب دکھتی تھی۔
’’آپ خاصے ہینڈسم اور گڈ لکنگ ہیں‘ بظاہر تو آپ کو ریجیکٹ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہاں اگر بات خوبیوں کی ہو تو ایک مرد میں شوہر میں اتنی جرأت‘ طاقت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو تحفظ دے سکے‘ کسی دوسری لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی نہ دیکھے ورنہ…‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی‘ خرم جو اسے بڑی محبت سے دیکھ اور سن رہا تھا اس کے خاموش ہونے پر چونک کر بولا۔
’’ورنہ کیا؟‘‘
’’اگر میرا شوہر ایسی حرکت کرے گا تو میں تو اس کی آنکھیں پھوڑ دوں گی۔‘‘ نگین نے تیزی سے جواب دیا۔
’’اور اگر تمہارا شوہر صرف تمہاری طرف ہی دیکھتا رہے تو پھر۔‘‘
’’پھر تو میں اللہ کا شکر ادا کروں گی کہ اس نے مجھے اتنا لونگ ہسبنڈ دیا۔ آپ بتائیں کون ہے وہ لڑکی کیسی ہے؟ کیا میں اسے جانتی ہوں؟‘‘ نگین نے مسکراتے ہوئے پوچھا وہ دونوں چلتے ہوئے اندر کوریڈور میں آگئے تھے۔
’’ہاں تم اسے جانتی بھی ہو پہچانتی بھی ہو اور وہ لڑکی بہت اچھی ہے‘ مجھے تو بہت خوب صورت لگتی ہے۔‘‘
’’لگتی ہے کیا مطلب؟ وہ خوب صورت ہے نہیں مگر چونکہ آپ اس لڑکی کو پسند کرتے ہیں اس سے محبت کرتے ہیں اس لیے وہ آپ کو خوب صورت لگتی ہے؟‘‘ نگین نے اسی تیزی سے کہا تو وہ ہنس پڑا۔ وہ اب کوریڈور کے انٹرنس پر لگے وال مرر کے سامنے کھڑے تھے۔
’’نہیں وہ خوب صورت ہے میرا انتخاب کوئی ایسا ویسا تو نہیں ہوسکتا نا۔‘‘ وہ اتراتے ہوئے بولا تو نگین ملتجی ہوئی۔
’’اوہو… تو اتنا اعتماد ہے اپنے انتخاب پر تو ہمیں بھی دکھائیں ناں ہم بھی تو دیکھیں وہ کون سی حور پری ہے جس نے آپ کا دل چرایا ہے۔‘‘
’’میں جانتا تو ہوں پھر بھی چاہتا ہوں کہ…
تم آئینہ دیکھ کے بتائو‘ میرا انتخاب کیسا ہے!‘‘
خرم نے اسے دیکھتے ہوئے آئینے کی طرف اس کا رخ کرکے یہ شعر پڑھا تو اس پر جیسے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے‘ وہ آئینے میں کبھی اپنی صورت دیکھ رہی تھی اور کبھی خرم کی شکل کو تک رہی تھی۔ کیا کوئی شخص اسے یوں بھی چاہ سکتا ہے؟ کیا وہ اس قابل تھی کہ اسے یوں چاہا جاتا‘ اتنا مان دیا جاتا؟ وہ سوچوں میں گم تھی جب ہی خرم نے دوبارہ پوچھا۔
’’بتائو میرا انتخاب کیسا ہے؟‘‘
’’لاجواب… زبردست… خوب صورت ہے آپ کا انتخاب۔‘‘ رابیل اور نوفل کی آواز ایک ساتھ ان دونوں کے کانوں میں پڑی تو وہ دونوں ہی سٹپٹا گئے تھے۔
’’اف… ٹھہر جائو تم دونوں‘ ڈرا کے رکھ دیا مجھے۔‘‘ نگین نے انہیں جھانکتا دیکھ کر کہا‘ خرم کو نگین کے ڈرنے اور دل تھام کر اس طرح انہیں ڈپٹنے پر ہنسی آگئی۔ وہ دونوں بھی ہنس دیئے۔
’’بتائو نا نگی پلیز‘ ٹرسٹ می‘ میں تمہیں کبھی دھوکہ نہیں دوں گا‘ کسی دوسری لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھوں گا۔ جب بھی دیکھوں گا تمہاری اجازت سے دیکھوں گا پرامس۔‘‘ خرم نے پھر سے اسے دیکھتے ہوئے ملتجی اور محبت بھرے لہجے میں کہا تو نگین کا دل اس کی باتوں پر یقین کرلینے کو چاہا۔ اس کے آخری جملے پر تو وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
’’تو پھر میں تمہاری طرف سے ہاں سمجھوں۔‘‘
’’کس سلسلے میں؟‘‘ نگین نے ہنسی روکتے ہوئے اسے دیکھا۔
’’میں تمہارے ساتھ اپنی ساری زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھ سے شادی کروگی؟‘‘
’’اس کا فیصلہ ڈیڈی کریں گے‘ آپ ان سے بات کریں۔‘‘ نگین نے مشرقی لڑکیوں کی طرح نظریں جھکا کر کہا۔
’’ان سے تو امی ابو بات کریں گے ہی‘ میں تمہاری مرضی جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ خرم نے سنجیدگی سے کہا۔
’’میری مرضی وہی ہوگی جو میرے ڈیڈی کی مرضی ہوگی۔‘‘ نگین نے بہت صاف گوئی اور سنجیدگی سے اسے جواب دیا اور رابیل کی طرف بڑھ گئی۔
’’فیصلہ تو نگی جی میں کرچکا ہوں شادی ہوگی اور تم ہی سے ہوگی۔‘‘ خرم نے اسے جاتے دیکھ کر دل میں کہا۔ اسے نگین کا یہ انداز بہت اچھا لگا تھا کہ اس نے اپنے ڈیڈی سے بات کرنے کا کہہ کر اپنی مشرقیت کا ثبوت دیا تھا۔ وہ وہاب احمد سے مل کر واپس چلا گیا۔
’’ہمارے گھر میں ہم سے ہی پردہ اٹس ناٹ فیئر مائی ڈیئر۔‘‘ علی نے رابیل کو اسٹڈی روم میں اکیلے دیکھتے ہی گلہ کیا۔
’’وہ میں آپ کا گھر دیکھ رہی تھی ماشاء اللہ بہت پیارا ہے۔‘‘ رابیل نے اسے دیکھتے ہوئے قدرے جھجکتے اور شرمیلے لہجے میں کہا۔
’’یہ گھر میرا نہیں تمہارا ہے‘ میں نے اس گھر کے پیپرز تیار کروالیے ہیں یہ گھر قانونی طور پر تمہارے نام کردیا ہے‘ وکیل آنے والا ہے تم پیپرز پر سائن کردینا۔‘‘ علی نے اسے تفصیل بتائی تو وہ اتنی محبت‘ پذیرائی مان اور احترام واہمیت ملنے پر رب کے حضور شکر بجا لائی۔
’’میرے نام کیوں کیا؟‘‘
’’تمہیں اپنا بنا لیا ہے‘ اپنے نام کرلیا ہے شرعاً وقانوناً تو اپنا سب کچھ تمہارے نام کیوں نہ کروں؟ رابیل جان! میرا جو کچھ بھی ہے اب تمہارا ہے۔‘‘ وہ محبت سے بولا۔
’’علی…‘‘ رابیل نے بے اختیار آگے بڑھ کر اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے ہالے میں لیا اور پھر اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر سر اس کے کشادہ اور محبت بھرے سینے پر رکھ کر خوشی سے رو دی۔
’’تمہارا یہ بے اختیارانہ‘ معصوم اور پیار بھرا انداز مجھے پاگل اور بے خود کردیتا ہے رابیل‘ لو یو سو مچ… سوئیٹ ہارٹ۔‘‘
’’آپ اتنے اچھے کیوں ہیں‘ مجھ سے اتنا پیار کیوں کرتے ہیں؟ مجھ پر اتنا اعتبار کیوں کرتے ہیں؟‘‘
’’اچھا اس لیے ہوں کہ تم سے پیار کرتا ہوں‘ تم پہ اعتبار کرتا ہوں‘ یہ جو تمہارا خوب صورت پیارا سا چہرہ ہے نا اس میں بلا کی معصومیت ہے‘ یہ خودبخود انسان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اس چہرے کی پاکیزگی اور معصومیت میں جو کشش ہے یہ آپ ہی آپ تمہارا اعتبار قائم کرنے لگتی ہے۔ تمہاری آنکھوں میں جب بھی دیکھتا ہوں ڈوبنے لگتا ہوں۔‘‘ علی نے اس کی آنکھوں کو چوم لیا‘ رابیل کے روم روم میں آگ سی سرایت کررہی تھی۔ دل پورے بدن میں دھڑکتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔
’’اف…! آپ تو بہت رومینٹک ہیں۔ میں تو سمجھتی تھی کہ آپ بہت غصے والے اور خشک مزاج‘ ان رومینٹک پرسن ہیں مگر آپ تو…‘‘ وہ شرماتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ کر ہنس دی وہ بھی ہنس دیا۔
’’مجھ پر بھی یہ انکشاف تم سے مل کر ہی ہوا ہے کہ میرے اندر اتنا پیار بھرا ہے اور میں اتنا رومینٹک بھی ہوسکتا ہوں‘ یہ تو مجھے خود کو بھی نہیں معلوم تھا‘ تمہارے ساتھ ہوتا ہوں تو میں ساری دنیا کو بھول جاتا ہوں۔‘‘ وہ اس کے چہرے کو نرمی سے چھوتے ہوئے شہد آگئیں لہجے میں بولا۔
’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ میرا دل کہہ رہا ہے کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔‘‘ وہ ایک دم سے افسردہ ہو کر بولی۔
’’برا کس کے ساتھ؟‘‘
’’شاید میرے ساتھ۔‘‘ رابیل نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا تو علی نے نفی میں سرہلاتے ہوئے اسے اپنے وجود میں سمو لیا جیسے وہ اسے ہر آفت سے بچانا چاہتا ہو‘ ہر طوفان سے محفوظ رکھنے کی کوشش کررہا ہو شاید… مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ جو طوفان آنا ہو‘ آکے رہتا ہے‘ پھر کوئی بند‘ کوئی آڑ‘ کوئی رکاوٹ اس طوفان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
ژ ظ …ژ…ظ ژ
’’افشین اور تیمور حسن آرہے ہیں بہتر ہے کہ علی اور رابیل کی جو زبردستی کی پیپر میرج ہوئی تھی وہ ختم کردی جائے۔‘‘ نوشین نے وہاب احمد کو لائونج میں اکیلے بیٹھے دیکھ کر بات شروع کی۔ نوفل‘ نگین اور رابیل لان میں بیڈمنٹن کھیل رہے تھے۔
’’یہ شادی ختم نہیں ہوگی۔‘‘ وہاب احمد نے ٹی وی چینل پر نیوز دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ ان کا اطمینان بلا کا تھا۔
’’کیا مطلب‘ ختم نہیں ہوگی؟‘‘ وہ شادی وہ نکاح وقتی اور عارضی تھا۔ زبردستی اس رابیل کو آپ نے علی کے سر منڈھ دیا تھا اور مجبوراً علی نے یہ نکاح کرلیا تھا آپ کی عزت کے لیے۔‘‘ نوشین نے تیز اور سپاٹ لہجے میں کہا تو وہ اسی اطمینان سے بولے۔
’’علی اور رابیل یہ رشتہ ختم کرنا نہیں چاہتے۔ علی کو رابیل سے علیحدگی نہیں چاہیے‘ میں نے دیکھا ہے وہ رابیل کے ساتھ بہت خوش رہتا ہے۔‘‘
’’علی بے چارہ تو مروت میں مارا گیا وہ رابیل کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتا وہ اسے اچھی طرح جانتا ہے۔‘‘
’’یہی تو! وہ رابیل کو اچھی طرح جانتا ہے اسی لیے وہ اسے کبھی نہیں چھوڑے گا۔‘‘ وہاب احمد نے سنجیدگی سے کہا۔
’’کیسے نہیں چھوڑے گا؟ میری شروع سے ہی خواہش تھی کہ علی میرا داماد بنے‘ میری نگی اس کی دلہن بنے۔‘‘
’’علی تمہارا داماد بن گیا ہے اگر سمجھو تو رابیل بھی تمہاری ہی بیٹی ہے اور نگی کے لیے ایک دو بہت اچھے رشتے ہیں میری نظر میں‘ اس کی تم فکر مت کرو۔‘‘
’’کیسے فکر نہ کروں؟‘‘ نوشین نے غصیلے لہجے میں کہا۔
’’اور رابیل میری بیٹی نہیں ہے میں کیوں سمجھوں‘ ہاں بہو ضرور بنالوں گی علی اسے طلاق دے گا تو اپنے بیٹے ذوالنون سے بیاہ لائوں گی اسے اور اس پر تو افشین اور تیمور کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘
’’سنو! مام ڈیڈی رابیل کی بات کررہے ہیں۔‘‘ نوفل اندر پانی پینے آرہا تھا ان کی گفتگو سن کر رابیل اور نگین کو بھی چپکے سے بلا لایا۔ رابیل کا تو دل گھبرا رہا تھا‘ یہ سوچ کر کہ اس کے بارے میں نوشین آنٹی کیا کرنے کا پلان بنا رہی ہیں؟
’’مگر مجھے اعتراض ہے۔‘‘ وہاب احمد نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔
’’اور یہ وقتی اور عارضی شادی کیا ہوتی ہے؟ یہ کوئی گڑیا‘ گڈے کا کھیل نہیں ہے کہ آج گڑیا کسی ایک آدمی کے ہاتھ میں تھمادی تو کل کسی اور کے ہاتھ میں دیدی جائے۔ شرعاً اور قانوناً رابیل اور علی آپس میں میاں بیوی ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ماشاء اللہ بہت خوش ہیں۔‘‘
’’مگر میں خوش نہیں ہوں اور مجھے یہ شادی‘ یہ نکاح ہر صورت ختم کرانا ہے۔‘‘ نوشین نے سپاٹ اور تیز لہجے میں کہا۔ رابیل کا دل کانپ گیا‘ نگین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے حوصلہ دیا۔
’’یہ نکاح تم نے ہی زبردستی کروایا تھا ایک ڈرامہ ایک تماشا کری ایٹ کرکے یاد ہے۔‘‘ وہاب احمد نے اسے یاد دلایا۔
’’مجھے سب یاد ہے۔‘‘
’’تو بس یہ بات اب یہیں ختم کردو‘ علی رابیل کو طلاق کبھی نہیں دے گا۔‘‘ وہاب احمد نے فیصلہ سنادیا۔
’’خدانخواستہ اگر ایسا ہوا بھی تو بھی تم ذوالنون سے رابیل کی شادی نہیں کرسکو گی‘ میں ایسا نہیں کرنے دوں گا تمہیں۔‘‘
’’مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ چلا کر بولیں۔
’’نوشین بیگم! بات میری اجازت کی نہیں ہے‘ مذہب کی اجازت کی ہے‘ اور ہمارا مذہب ایک بھائی کی شادی اس کی بہن سے کردینے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔‘‘ وہاب احمد کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ نوفل‘ نگین اور رابیل کے سر پہ ایٹم بم کی طرح پھٹے تھے‘ تینوں ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے جبکہ نوشین مزید تائو کھا رہی تھیں۔
’’کیا… کیا کہا آپ نے؟ رابیل اور ذوالنون بہن بھائی…‘‘
’’ہاں بہن بھائی۔‘‘ وہاب احمد نے ٹی وی ریموٹ کنٹرول سے آف کردیا۔
’’وہ کزن ہیں خالہ زاد بہن بھائی ہیں‘ سگے بہن بھائی نہیں ہیں‘ آپ کے دل میں تو رابیل کی محبت شروع سے ہی رہی ہے اور ہوگی بھی کیوں نہیں؟ آخر کو وہ اس افشین کی اولاد ہے جسے آپ اپنی بیوی بنانے کی خواہش پوری نہ کرسکے۔‘‘ نوشین نے بہت تلخ اور طنزیہ لہجے میں کہا تو وہاب احمد اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور نوشین کے غصے سے تپے چہرے کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ اور سپاٹ لہجے میں بولے۔
نوشین بیگم! آپ میں سننے کی تاب ہو تو کچھ عرض کروں؟‘‘ جواب میں نوشین کچھ بولی نہیں بلکہ الجھن آمیز اور استفہامیہ نظروں سے ان کا چہرہ تکنے لگی‘ چند لمحے وہ چھت کو دیکھتے رہے جیسے خود کو کمپوز کررہے ہوں۔ وہ ماضی کی کتاب کھول کر کچھ اوراق پڑھ کر نوشین کو سنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے گہرا اور طویل سانس لبوں سے خارج کیا اور پھر سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہنے لگے۔
’’تمہیں یاد ہے تم اپنی سگی بہن افشین سے کس قدر جیلس تھیں کیونکہ وہ تم سے زیادہ خوب صورت تھی‘ ذہین‘ سگھڑ‘ سلیقہ مند اور بااخلاق بھی‘ خاندان بھر میں سب اس کی تعریف کرتے تھے اور اسے اپنے گھر کی بہو بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔‘‘
’’ہاں اور ایسا ہی ایک خواب آپ نے بھی دیکھا تھا۔‘‘ نوشین نے طنز کا نشتر چلایا تو وہ ایمان داری سے بولے۔
’’ہاں دیکھا تھا مگر میں خوابوں کی دنیا میں رہنے کا قائل نہیں ہوں‘ حقیقت پسند آدمی ہوں اور راضی بہ رضا رہنے کی کوشش کرتا ہوں‘ اسی لیے جب امی ابو نے افشین کی بات تیمور سے طے ہوتے دیکھی تو میرے لیے انہوں نے تمہارا رشتہ مانگ لیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں ان کی دونوں بھانجیاں ایک جیسی تھیں‘ انہیں تو اپنی بہن کے گھر بیٹے کا رشتہ کرنا تھا پھر وہ لڑکی افشین ہوتی یا نوشین انہیں اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا تھا‘ اور میں نے بھی ان کے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا تھا۔ تقدیر کے لکھے کے سامنے سر جھکا دیا تھا اور تمہیں دل سے اپنی زندگی میں شامل کرلیا تھا مگر بہت جلد ہی تم نے مجھے اپنے رویے سے سمجھا دیا تھا کہ تم تیمور حسن سے شادی کرنا چاہتی تھیں بلکہ شاید تمہیں یاد ہو تم نے خود مجھے بتایا تھا کہ تمہیں افشین پر غصہ ہے کیونکہ اس نے تمہاری پسند اور محبت کو اپنا شریک سفر بنالیا تھا۔ حالانکہ اس میں افشین کا کوئی عمل دخل نہیں تھا بات بڑوں کے بیچ طے ہوئی تھی اور سب سے بڑھ کر اوپر والے نے ان دونوں کا جوڑا بنا رکھا تھا‘ پھر بھلا انہیں ایک ہونے سے کون روک سکتا تھا؟‘‘
’’مگر تمہاری سمجھ میں یہ بات آج تک نہیں آئی اور تم آج تک غصے‘ بدلے‘ احساس محرومی اور انتقام وحسد کی آگ میں جل رہی ہو اور رابیل کی صورت میں تمہیں افشین اور تیمور کو دکھ دے کر ان سے انتقام لینے کا موقع مل گیا ہے… ہے نا یہی بات۔‘‘ وہاب احمد نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو انہوں نے نگاہیں پھیر لیں۔ وہاب احمد نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں نے اپنی محبت اور توجہ سے تمہیں اپنا بنانے کی ہرممکن کوشش کی لیکن ناکام رہا کیونکہ تم نے دل سے کبھی مجھے شوہر کا درجہ ہی نہیں دیا تھا‘ شوہر کی حیثیت سے مجھے قبول ہی نہیں کیا تھا تو پھر بھلا تم مجھے محبت اور عزت کیسے دیتیں؟ تم نے اپنی توجہ گھر سے باہر مرکوز کرلی۔ مجھ پر توجہ دینے کی تمہیں کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی اور تم نے ایک شادی شدہ عورت ہونے کا‘ بیوی ہونے کا احساس کبھی نہیں کیا اپنا فرض کبھی نہیں نبھایا‘ میں نے بھی صبر کرلیا تھا کہ میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں‘ رشتے تو دل سے نبھائے جاتے ہیں‘ بے دلی سے نہیں۔ یہ بھی قسمت کی مہربانی تھی کہ اس نے مجھے باپ بننے کا شرف بخشا اور یہ اولاد نہ ہوتی تو میں تو کب کا تنہائی کا زہر پیتے پیتے مرگیا ہوتا… افشین کے ہاں پہلی اولاد بیٹا پیدا ہوا اور تمہیں اللہ نے نگین کی صورت میں خوب صورت سی بیٹی سے نوازا تھا‘ نگین نبیل سے دو ماہ چھوٹی ہے۔ اللہ نے بیٹی کی صورت میں ہمیں اپنی رحمت سے نوازا تھا اور تم نے اللہ کی اس رحمت پر خوش ہونے اور اللہ کا شکر بجا لانے کی بجائے گھر میں موت جیسا سوگ پھیلا دیا تھا۔ اپنی بچی کو ٹھیک سے دیکھا تک نہیں تھا‘ اسے فیڈ تک کرانے سے انکار کردیا تھا اور دوسری بار تمہیں چیک اپ اور ٹیسٹ وغیرہ کرانے پر معلوم ہوا کہ تم دوسری بار بھی بیٹی کو جنم دینے جارہی ہو تو تمہاری بے کلی اور بے بسی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اور تم نے ایک گھنائونا کھیل کھیلنے کی پلاننگ کی…‘‘
’’کیسا کھیل کہنا کیا چاہ رہے ہیں آپ؟‘‘ نوشین نے سٹپٹا کر پوچھا ادھر وہ تینوں دم سادھے کھڑے سن رہے تھے کہ یہ کیسے کیسے انکشافات ہورہے تھے آج ان پر جو انہیں گہرے دکھ اور کرب میں مبتلا کررہے تھے۔
’’سنتی جائو آج اگر تم نے مجھے مجبور کر ہی دیا ہے تو سب کچھ سننا پڑے گا تمہیں۔ آج تمہیں آئینہ دکھانے کا وقت آگیاہے نوشین بیگم! وہاب احمد نے سنجیدہ اورسپاٹ لہجے میں کہا تو وہ بے چینی سے پہلو بدلنے لگیں‘ ان کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک رنگ جارہا تھا۔
’’تم نے اپنے گھنائونے کھیل کے لیے ہاسپٹل کی ایک نرس کو اعتماد میں لیا اور اسے پچاس ہزار روپے دینے کا لالچ دے کر یہ طے کیا کہ جب تمہارے ہاں بیٹی پیدا ہو تو وہ بڑی ہوشیاری اور راز داری سے تمہاری بیٹی کو کسی کے نومولود بیٹے سے بدل دے۔‘‘
’’یہ کیا بکواس کررہے ہو تم؟‘‘ نوشین غصے اور خوف سے چلائیں۔
’’یہ بکواس نہیں ہے نوشین بیگم! یہ وہ حقیقت ہے جو پچھلے انیس سال سے میں نے سب سے چھپا رکھی تھی۔ تم اپنی بہن سے حسد میں اس حد تک چلی گئیں کہ تمہیں اس پر بھی غصہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بیٹے سے کیوں نواز دیا؟ اور تم اتنی بے حس اور پتھر دل ہوگئیں کہ تمہیں یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ تم نے اپنی جنم دی ہوئی بچی جسے تم نے نو ماہ تک اپنی کوکھ میں رکھا‘ تکلیف جھیل کر اسے پیدا کیا‘ اسے تم بنا دیکھے کسی غیر کی جھولی میں ڈالنے جارہی ہو‘ وہ بھی ہمیشہ کے لیے۔‘‘
’’اوہ مائی گاڈ…!‘‘ نگین نے سر پکڑ لیا۔
’’مام از ویری کروئل۔‘‘ نوفل نے صدمے سے کہا۔
’’وہ بچی کون ہے؟‘‘ رابیل کی زبان سے پھسلا۔
’’وہ تو قدرت کی مہربانی تھی کہ میں نے تمہاری باتیں سن لیں‘ تمہارے ارادے بھانپ گیا تھا اور میں نے اس نرس سے بھی سارا سچ اگلوا لیا تھا اور نرس کو تمہاری بات ماننے سے باز رکھا تھا‘ پولیس کی دھمکی پر وہ ایسا کچھ نہیں کرسکی تھی۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے ذوالنون میرا بیٹا ہے اسے میں نے جنم دیا تھا۔‘‘ نوشین کو اپنی ساری پلاننگ یاد تھی اور اب یہ انکشاف اسے عجیب سی خوشی بھی دے رہا تھا کہ اس نے ہی ذوالنون کو جنم دیا ہوگا۔
’’ہرگز نہیں۔‘‘ وہاب احمد نے اس کی بات کی نفی کرتے ہوئے مزید حیرت انگیز انکشافات کیا۔
’’تمہاری اس بے حسی کے پیش نظر میں نے افشین اور تیمور بھائی سے مدد لی‘ خدا کا شکر ہوا کہ وہ دونوں ہی معاملے کی نزاکت اور سنگینی کو سمجھ گئے اور انہوں نے اپنا بیٹا جو اسی دن پیدا ہوا تھا یاد ہے نا ایک ہی دن تم دونوں بہنوں نے بچوں کو جنم دیا تھا۔ افشین نے اپنا بیٹا تمہاری جھولی میںڈال دیا اور ہماری بیٹی کو انہوں نے اپنی آغوش محبت میں سمو لیا۔ وہ رابیل جسے تم نفرت سے دیکھتی ہو‘ جسے تم ذلیل کرنے اور دکھ پہنچانے کے منصوبے بناتی ہو وہ معصوم رابیل تمہاری سگی بیٹی ہے۔ اسے تم نے جنم دیا تھا۔ نوشین بیگم! تم ہو اس معصوم بچی کی سگی ماں۔‘‘
’’یہ سب جھوٹ ہے‘ بکواس ہے میں نہیں مانتی‘ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ نوشین کے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے پیروں تلے سے زمین بھی کھسک گئی تھی۔ وہاب احمد کے اس انکشاف کو سن کر‘ اس کی بازی اسی پر کیسے پلٹ سکتی تھی۔ یہ وہ ماننے کو تیار نہیں تھیں۔
’’یہی سچ ہے‘ تیمور اور افشین آئیں گے تو بے شک ان سے پوچھ لینا‘ چاہو تو رابیل کا اور اپنا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروا لینا اور بھی ثبوت ہیں ہمارے پاس جو اس حقیقت کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرسکتے ہیں۔‘‘
’’نہیں… میں اپنی مما کی بیٹی ہوں۔‘‘ رابیل پر تو ان انکشاف نے صدمات کے پہاڑ تو دیئے تھے وہ بے دم سی ہو کر گرنے لگی تھی۔ نوفل اور نگین اسے پکڑ کر وہیں لے آئے۔ وہاب احمد انہیںدیکھ کر سمجھ گئے کہ وہ ساری باتیں سن چکے ہیں۔ انہوں نے دکھ سے رابیل کو دیکھا اور نگین سے کہا۔
’’بہن کو سنبھالو‘ رابیل بیٹھ جائو۔‘‘ نگین اور نوفل نے رابیل کو صوفے پر بٹھا دیا۔ نوفل اس کے لیے پانی لے آیا۔ رابیل نے بمشکل دو گھونٹ پیے‘ وہ دونوں بھی اس کے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔
’’نوشین بیگم! تم نے بے حسی اور بے نیازی کی انتہا کردی‘ تمہیں اتنے برسوں میں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ تم نے اپنی بچی کو کسی غیر کی جھولی میں ڈالنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ کتنا غلط تھا۔ یا وہ بچی جو تمہارے وجود کا حصہ تھی کہاں ہے… کس حال میں ہے… کبھی بھی خیال نہیں آیا تمہیں؟ احساس کا کوئی پل نہیں گزرا تمہاری زندگی کے ان انیس برسوں میں؟ ممتا کا لمس نہیں جاگا کبھی اس معصوم بچی کے لیے تمہارے دل میں؟ تم نے تو کبھی یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ معصوم بچی کیسی زندگی گزار رہی ہوگی؟ وہ زندہ بھی ہوگی یا… افسوس صد افسوس! تم اچھی بیوی بن سکیں اور نہ ہی اچھی ماں ثابت ہوئیں۔ تم تو عوت کہلائے جانے کے لائق بھی نہیں ہو۔ تمہاری بے پروائی‘ غیر ذمے داری اور عدم دلچسپی اور فضول ایکٹویٹیز کی وجہ سے نگین اور نوفل بھی بگڑ گئے۔ غلط راستے پر چل نکلے‘ جس پر انہوں نے اپنی ماں کوچلتے دیکھا تھا۔ تم نے اپنی بہن سے حسد میں‘ ایک معمولی سی بات کے پیچھے اپنی ہی زندگی بے سکون کرلی‘ اپنی ہی اولاد کو آوارہ اور گمراہ کردیا۔ اپنا ہی گھر خراب کرلیا۔ شکر ہے اللہ کا کہ اس بچی ’رابیل‘ کی بدولت ہی آج تمہارے گھر کی عزت بچی ہوئی ہے۔ آج تمہاری بیٹی اور بیٹا راہ راست پر آگئے ہیں۔ صحیح‘ غلط کا فرق سمجھ گئے ہیں۔ اپنی غلطیوں پر شرمسار ہیں اور اب صحیح سمت چل پڑے ہیں اور شکر الحمدللہ کے ذوالنون تمہارے نقش قدم پر نہیں چلا‘ شاید اس لیے کہ وہ بچپن سے ہی افشین اور تیمور کے زیر سایہ رہا۔ اس پر ان کی تربیت کا‘ محبت وشفقت کا اثر ہے ورنہ اگر وہ بگڑ جاتا تو میں افشین اور تیمور بھائی سے کبھی نظریں نہ ملا پاتا اور یہ بھی شکر ہے کہ میں نے رابیل کو افشین کی گود میں دے دیا تھا۔ آج ماشاء اللہ یہ ایک سلجھی ہوئی‘ سمجھدار اور نیک سیرت بچی کے روپ میں ڈھل کر ہمارے سامنے آئی ہے۔‘‘
’’اوہ اب سمجھی کہ آپ نے رابیل کو اتنا سر پہ کیوں چڑھایا؟ اور یہ آپ کو ڈیڈی کیوں کہتی ہے ہمیشہ سے؟‘‘ نوشین نے حیرت‘ صدمے اور شرم سے چوری پکڑے جانے کے احساس و غصے سے کانپتی آواز میں کہا۔
’’ہاں میں نہیں چاہتا تھا کہ میری بیٹی مجھے انکل کہے۔‘‘ وہاب احمد نے رابیل کے سر پر دست شفقت رکھ کر جواب دیا۔ رابیل کا ضبط اور حوصلہ جواب دے گیا تھا۔ وہ ان سب کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی سو وہاں سے اٹھی اور تیزی سے بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف گئی۔
’’رابیل!‘‘ نگین اور نوفل بھی اس کے پیچھے دوڑے۔
’’افسوس! تمہاری بے حسی کی وجہ سے آج مجھے اپنی بیٹی کو دکھی کرنا پڑا۔ اسے کتنا شاک لگا ہوگا یہ جان کر کہ اس کی سگی ماں نے اسے انتقام کا نشانہ بنایا‘ اس کے کردار کو داغدار کرنے کی کوشش کی‘ میری بیٹی کے لیے یہ دکھ کم نہیں ہوگا۔ تمہاری خود غرضی اور بے حسی کی وجہ سے مجھے آج یہ سب کچھ بتانا پڑا تاکہ تم بہن بھائی کی شادی کا شوشہ چھوڑ دو‘ ذوالنون کے دل میں ایسا کوئی خیال ڈال کر گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھو‘ اور جس بیٹے پر تمہیں فخر ہے‘ ناز ہے وہ تمہاری اس بہن کی اولاد ہے جسے تم حسد‘ نفرت اور غصے کی نگاہ سے دیکھتی ہو۔ جس کے لیے تمہارے دل میں خوامخواہ کا حسد بغض اور انتقام بھرا ہے۔ کبھی سوچا ہے تم نے کہ یہ سب کرکے تمہیں کیا ملا؟‘‘ وہاب احمد نے تاسف اور دکھ سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ وہ غصے میں ساڑھی کا پلو ہاتھ پر لپیٹ رہی تھیں۔
’’بتائو نوشین بیگم! کون سے تمغے اور میڈل سجا لیے تم نے اپنے سینے پر؟ کامیابی کے کون سے جھنڈے گاڑھے ہیں تم نے؟ خود ساختہ انا‘ بے جاحسد اور اندھے انتقام کی اس جنگ میں کہاں فتح نصیب ہوئی ہے تمہیں… کیسی جنگ تھی یہ تمہاری کہ جس میں دوسرے فریق کو خبر ہی نہیں ہے کہ وہ تمہارا مقابلہ کرنے کی تیاری کرے کیونکہ تم اسے اپنا حریف اور دشمن سمجھتی ہو؟ کس کے ساتھ لڑتی رہیں تم؟ اپنی ہی بہن سے وہ بہن جو تمہارے لیے اپنے دل میں محبت اور خلوص کے خزانے رکھتی ہے اور اس شخص کو نہ پانے کا غصہ نکالتی رہیں تم‘ ہم سب پر جو کبھی تمہارا تھا ہی نہیں‘ جس نے کبھی تمہاری طرف دیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ جسے چاہتا تھا جس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا تھا‘ وہ تو ماشاء اللہ آج تک اس کے ساتھ خوش ہے‘ اس کی ہمراہی میں ایک خوش گوار اور پرسکون کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہا ہے۔ تمہاری دشمنی تو یک طرفہ تھی نوشین بیگم! انہوں نے تو تمہیں کبھی اپنا دشمن سمجھا ہی نہیں‘ سوچو! جو محبت میں تمہاری بیٹی کو اپنی بیٹی بنا کر رکھ سکتے ہیں‘ اسے ہم سے زیادہ محبت اور اچھی تربیت دے سکتے ہیں سوچو ذرا کہ اگر وہ دشمنی نبھانے پر آجائیں گے تو کیا کریں گے؟ رابیل کے ساتھ یہاں کیا ہوا انہیں یہاں آکر سب پتا چل جائے گا‘ پھر ان کا ردعمل دیکھنا تم اور اپنے اعمال دیکھنا۔ تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آیا‘ نوشین بیگم‘ تمہارے ہاتھ آج بھی خالی ہیں‘ اس سارے کھیل میں تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آیا‘ سوائے اکیلے پن اور پچھتاوے کے… تم نے خود ہی یہ کھیل شروع کیا اور پھر خود ہی یہ کھیل تم ہار بھی گئیں اور اکیلی رہ بھی گئیں۔ اوپر والے کی پلاننگ نے تمہاری پلاننگ کو کیسا ناکام کیا ہے دیکھ لیا تم نے۔ تمہاری ناشکری اور حسد کی عادت نے ہمیں کیا دن دکھائے‘ مجھے بزنس میں نقصان ہوا‘ گھر بیچنا پڑگیا‘ اللہ نے تو تمہیں خبردار کیا تھا کہ حسد اور غرور سے باز آجائو‘ مگر تم نہیں مانیں‘ تمہیں سمجھ نہیں آئی‘ جس سے دشمنی اور نفرت ہے تمہیں پچھلے ڈھائی برس سے تم اسی کے گھر میں مہا رانی بن کر رہ رہی ہو‘ یہ جو عیش ہورہے ہیں یہ اسی افشین اور تیمور کی محبت اور مہربانی ہے کہ انہوںنے نہ صرف ہمیں اپنا گھر رہنے کو دیا بلکہ مجھے بزنس میں بھی سہارا دیا اور ایک پیسہ بھی واپس نہیں مانگا۔ نوشین بیگم وہ تمہارے دشمن نہیں ہیں‘ تمہارے محسن ہیں‘ تم تو مر کے بھی ان کا قرض نہیں چکا سکتیں‘ تم تو اتنی بدنصیب ماں ہو کہ اپنی بیٹیوں کو اپنے دودھ کا واسطہ بھی نہیں دے سکتیں‘ یہ فرض بھی افشین نے ادا کردیا تھا‘ اسی افشین نے جسے تم نے کبھی خوش دیکھنے کی تمنا نہیں کی ہوگی‘ ایک سراب کے پیچھے تم نے اپنی‘ ہم سب کی زندگی خراب کردی اور اب تم عذاب جھیلو گی پچھتائوں کے عذاب‘ پچھتائوں کے اس عذاب سے اگر تم بچنا چاہتی ہو تو اللہ سے معافی مانگ لو‘ پہلے تو تم نے کبھی کچھ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ میرا خیال ہے کہ اب تو تمہیں سمجھ آجانی چاہیے۔ اس سے پُہلے کہ معافی اور توبہ کا وقت بھی گزر جائے‘ تمہیں اپنا احتساب کرلینا چاہیے‘ گزرے وقت کی کہانی اور موجود حالات کو مدنظر رکھو اپنا احتساب اورتجزیہ ایمان داری سے کروگی تو تمہیں اپنا قصور‘ اپنی غلطی اور بے حسی صاف نظر آجائے گی‘ معافی مانگ لو رب سے نوشین بیگم! اور یہ حقیقت مان لو کہ رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں‘ اللہ کی مرضی بھی کوئی چیز ہے اور اللہ کی رضا اور عطا پر راضی رہنا‘ اس کی چاہ پر اپنا سر جھکا دینا ہی ایک انسان کی اللہ سے محبت اور فرماں برداری کا تقاضا ہے۔‘‘ وہاب احمد نے بہت سنجیدہ اور تھکے تھکے لہجے میں آج آخری بار اسے سمجھایا تھا اور اذان کی پکار سن کر نماز کی ادائیگی کے لیے اٹھ گئے تھے۔
میری عمر بھر کی جو خطائیں تھیں
میرے سامنے وہی آگئیں
قدم قدم پہ جو سازشوں کے
میں نے جال بنے تھے وہی جال
اب…!
میرے جسم وجاں سے لپٹ گئے
میری روح کیا‘ میرا جسم کیا‘
میرے قلب و نظر‘ میرے بال و پر
گناہ کی گرد میں اٹ گئے
میں خود پسندی کے خول میں
انا کے جھوٹے ڈول میں
بدگمانی کی راہ پر
سر کشی پہ یوں اتر گیا
کے میرے پاس کچھ بھی نہیں رہا
میں گنوا کے اپنی محبتیں
میں لٹا کہ اپنی چاہتیں
تہی داماں اب ہوں کھڑا ہوا
وہی نفرتیں‘ وہ حسد کی ساری بدلیاں
جو میں نے اپنے ہی آسمان پہ تان دی تھیں
وہی آج مجھ پہ برس پڑیں
میں اپنی جلائی آگ میں
خود ہی جل گیا
میرے ہاتھ کچھ بھی نہ آسکا
بس ایک عمر رائیگاں کا ملال ہے
میں کس قدر خود غرض تھا‘ بے رحم تھا
بچا ہے جو اب‘ وہ اپنی ہی پستی وکم مائیگی کا خیال ہے!
میں اپنے سارے گناہ لے کر…
کہاں پہ جائوں؟
میں کیسے ان پچھتائوں کے زہریلے سانپوں سے
نجات پائوں؟
میرے خدایا…!
تیرا ہی در ہے‘ جہاں سے
بخشش ہے سب کو ملتی
میری خطائیں‘ میری جفائیں
میرے عیب سارے معاف کردے
میری سازشیں‘ میری نفرتیں
میرے جھوٹ‘ جلن کے عذاب سارے
معاف کردے
تیرے در پہ آخر میں آگیا ہوں
مجھے گناہوں سے پاک کردے
میرے آنسوئوں کو قبول کرلے
مجھ سی عاصی کو معاف کرنا
تیرے تو اختیار میں ہے
کیا مجھ پہ نظر کرم نہ ہوگی؟
تیری رحمتوں سے سوال ہے؟
ماضی کا ہر پل فلم کی طرح چل رہا تھا۔ وہ اس وقت ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ جس کے پاس ہارنے‘ لٹانے کو مزید کچھ بھی نہیں بچا تھا‘ آنسو آنکھوں کے سوکھے چشموں کو سیراب کررہے تھے۔ وہ دل ہی دل میں رب کے حضور سجدہ ریز تھیں۔ رو رہی تھیں‘ گڑگڑا رہی تھیں‘ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی تھیں‘ وہ ایک اچھی ماں نہیں بن سکی تھیں‘ ماں کا رشتہ تو ہر رشتے کی جدائی اور دکھ بھلا دیتا ہے۔ ماں تو اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنی آغوش کی نرمی اور گرمی دے کر پروان چڑھاتی ہے‘ ماں تو ہر دکھ‘ ہر پریشانی سے موسم کے سرد‘ گرم سے اپنے بچوں کو بچا کر اپنی ممتا کی آغوش میں رکھتی ہے… میں خود کیسی ماں تھی؟ اپنے وجود کے حصے کو‘ اپنے ہی خون کو خود سے الگ کردیا تھا‘ کسی انجان اور غیر آدمی کی گود میں ڈالنے کی منصوبہ بندی کرلی تھی اور اسے گنوا کر بھی کبھی دل میں یہ خیال نہیں ابھرا تھا کہ وہ معلوم تو کرے کہ اس کی بچی کہاں ہے… کس کے پاس ہے… کس حال میں ہے؟ وہ بہت بے حس اور خود پسند‘ خود غرض عورت تھی‘ جس نے اپنی انا کے لیے اپنی خود ساختہ آن کے لیے اپنی ہی بیٹی قربان کردی تھی اور قدرت کیسے اسے اسی کے گھر میں اس کے سامنے لے آئی تھی اور وہ اس پر یہ سوچ کر ظلم کرتی رہی کہ وہ اس کی بہن کی بیٹی ہے جس نے اس کی پسند‘ اس کا پیار‘ تیمور حسن اس سے چھین لیا تھا‘ قدرت کے فیصلے کو اس نے افشین کی چالاکی اور خود غرضی سمجھ لیا اور اسے اپنا دشمن اول بن الیا۔ محض افشین کو اپنی بہن کو‘ اس کے شوہر کو دکھ پہنچانے اور پریشان کرنے کے لیے ان کی بیٹی کو اپنے انتقام کا نشانہ بناتی رہی‘ وہ بیٹی جو درحقیقت اس کی اپنی بیٹی تھی اور آج اس انکشاف پر وہ خود ہی اپنی نظروں میں گر گئی تھی۔
وہ خود اب کسی سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔ خاص طو پر رابیل سے‘ تو وہ خود کو بات کرنے کے قابل بھی نہیں پارہی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ رابیل معصوم ہے اور وہ اسے اپنے انتقام کی خاطر بے کردار ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھیں‘ رابیل کا صبر اور حوصلہ اسے شرم سے زمین میں گاڑھ رہا تھا۔
’’نوشین بیگم! تم کسی رشتے کے قابل نہیں ہو‘ نہ اچھی بیٹی بن سکیں‘ نہ تم اچھی بہن ثابت ہوئیں‘ نہ اچھی بیوی ہونے کا حق ادا کیا اور نہ ہی تم نے ایک اچھی ماں ہونے کا فرض ادا کیا۔ وہ ماں جس کے پیروں تلے جنت ہوتی ہے اور تم کیسی ماں ہو کہ تم اپنی ہی بیٹی کی زندگی جہنم بنا کے رکھ دینا چاہتی ہو‘ وہ بیٹی جس نے تمہارے بگڑے بیٹے کو صحیح راہ دکھائی‘ تم تو رابیل کے احسانات تلے اتنی دبی ہوئی ہو کہ اس کی ساری زندگی بھی شکرگزار رہو محبتیں نچھاور کرتی رہو تب بھی اس کا حق ادا نہ کر پائوگی۔‘‘
نوشین کے دل ودماغ اسے ہر طرح سے آئینہ دکھا رہے تھے۔ سب کی نظروں میں رسوا ہونے اور ان کی آنکھوں میں اپنے لیے متوقع نفرت کے خیال سے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ نوفل نے نوشین کو اس طرح روتے دیکھا تو بہت ضبط سے بولا۔
’’مام! ہم وہی بنے جو آپ نے ہمیں سکھایا‘ بنایا‘ اب آپ وہ بنیں جو آپ کی ماں نے آپ کو سکھایا تھا جس کی تربیت آپ کی ماں نے آپ کو دی تھی‘ وہ نہیں جو آپ بن گئیں بدل لیں خود کو مام اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے‘ خود کو بدل لیں… جیسے میں نے اور نگی آپی نے اپنی غلطیوں کو مانتے ہوئے خود کو بدل لیا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ایسا کرنے میں ہمیں ہماری اپنی بہن رابیل نے مدد دی۔ اس نے ہمیں بے راہ روی کے اندھے کنویں اور بدنامی کے اندھیرے غار میں گرنے سے بچایا ہے۔ ہمیں اپنی بہن پر فخر ہے‘ ہم بہت لکی ہیں کہ رابیل ہماری اپنی ہے۔ ہم رابیل کے بھائی‘ بہن ہیں اس پر ہمیں ناز ہے۔ پتا ہے مام! گھپ اندھیرے اور شدید تاریکی میں روشنی کی ایک کرن بھی بہت ہوتی ہے جو ہمیں راستہ دکھاتی ہے اور منزل کی طرف لے جانے میں رہنما کا کام کرتی ہے۔ رابیل بھی ہمارے لیے روشنی کی وہ کرن ہے جس نے ہمیں ہماری اصل منزل کا راستہ دکھایا اور ہمیں اندھیروں میں بھٹکنے سے بچایا ہے۔ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے مام۔‘‘
’’نوفل ٹھیک کہہ رہا ہے مام۔‘‘ نگین بھی اس کے ساتھ ہی کھڑی تھی نوفل کی بات مکمل ہونے پر کہنے لگی۔
’’دل تو نہیں چاہتا آپ کو مام کہنے کو کیونکہ آپ ماں کبھی بنی ہی نہیں‘ بس آپ تو ہمیں جنم دینے کی خطا وار ہیں‘ شرم آرہی ہے ہمیں یہ سوچ کر کہ ہم آپ کی اولاد ہیں۔ آپ نے ایسا کیسے کرلیا مام؟ کیسا دل تھا آپ کے سینے میں کہ اپنی معصوم بچی تک کو بیچ دیا۔ خدا کا کرنا دیکھ لیا نا پھر آپ نے۔ رابیل نے ہی ہمیں معاف کرنا‘ صبر اور در گزر کرنا سکھایا ہے اس لیے مزید کچھ نہیں کہنا آپ سے‘ ہاں اگر آج کے بعد رابیل کو کوئی نقصان پہنچا اور اس کی وجہ آپ ہوئیں تو اپ اپنی اس بیٹی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔ ہم آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘‘ نگین نوشین پر ایک تاسف بھری نگاہ ڈال کر چلی گئی اور نوشین دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
ژ ظ …ژ…ظ ژ
علی بہت مسرور تھا‘ اس خیال سے کہ وہ رابیل کو بہت جلد اپنی دلہن کے روپ میں اپنے گلشن علی میں دیکھے گا‘ اس کے ساتھ رہے گا‘ آج وہ مارکیٹ گیا تھا خاص طور پر رابیل کے لیے کچھ تحائف خریدنے‘ لیڈیز شاپنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا پھر بھی اس نے رابیل کے لیے کافی چیزیں خریدی تھیں۔ جن میں ایک ڈائمنڈ رنگ‘ گولڈ کا ایک لاکٹ سیٹ‘ پرفیومز‘ دو ریڈی میڈ ڈریسز اور میچنگ چوڑیاں‘ ایک لیڈیز پرس اور شولڈر بیگ بھی خریدا اور جب گھر آکر اس نے ساری شاپنگ دیکھی تو اپنی بے خودی اور محبت پر خود ہی ہنس پڑا۔ اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ رابیل کو ابھی اپنے پاس لے آئے۔
علی کا سیل فون بجا تو وہ رابیل کے خیالوں سے باہر آیا اور کال اٹینڈ کی۔ امینہ کا فون تھا۔
’’السلام علیکم امی کیسی ہیں آپ؟‘‘
’’وعلیکم السلام‘ میں ٹھیک ہوں بیٹا تم سیٹ ہوگئے اپنے گھر میں۔‘‘
’’جی امی! ہوگیا سیٹ‘ ایک خانساماں رکھ لیا ہے‘ ملازم ہے جو گھر کے اندر باہر کے کام کرلیتا ہے۔ بس ایک خاتون خانہ کی کمی ہے۔‘‘ علی نے مسکراتے ہوئے بتایا تو وہ کہنے لگیں۔
’’خاتون خانہ بھی آجائے گی‘ میں نے بہت اچھی‘ بہت ہی پیاری لڑکی پسند کی ہے تمہارے لیے۔‘‘
’’میرے لیے لڑکی‘ امی میں آپ کو بتاچکا ہوں کہ میں رابیل ہی کے ساتھ اپنی زندگی گزار نا چاہتا ہوں‘ وہ بہت اچھی اور نیک سیرت لڑکی ہے‘ ممانی نے آپ کو اس کے بارے میں جو بھی بتایا ہے سب غلط ہے‘ جھوٹ ہے‘ ممانی کو تو اس سے خدا واسطے کا بیر ہے ناحق اس کی کردار کشی پر اتری ہوئی ہیں۔ وہ بہت اچھی نیچر کی مالک ہے امی۔‘‘ علی نے سنجیدگی سے کہا تو وہ ناراض لہجے میں بولیں۔
’’پتا نہیں کیا جادو کردیا ہے اس جادو گرنی نے تم پر‘ لیکن میں کہے دے رہی ہوں علی‘ میں اس کے جادو میں آنے والی نہیں ہوں۔‘‘
’’امی! آپ ایک بار اس سے مل تو لیں‘ آپ خودبخود اس کی ایسر ہوجائیں گی‘ وہ ہے ہی اتنی پیاری۔‘‘
’’خاک پیاری ہے جس نے تم جیسے مرد کو الو بنالیا وہ بہت شاطر اور چالاک لڑکی ہی ہوسکتی ہے۔‘‘ امینہ نے غصے سے کہا تو علی کو ان کا رابیل کے لیے شاطر اور چالاک جیسے لفظ استعمال کرنا بہت برا محسوس ہوا۔
’’امی پلیز رابیل کے لیے ایسے الفاظ استعمال مت کریں‘ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ آپ بھی ممانی کی ہی زبان بولنے لگیں‘ خدا کا واسطہ ہے‘ رحم کریں اس معصوم لڑکی پر وہ کیا سوچتی ہوگی کہ برسوں بعد اپنوں میں لوٹی تو اپنوں نے غیروں سے بھی بدتر سلوک کیا اس کے ساتھ۔‘‘ علی نے تڑپ کر کہا۔
’’وہ اسی سلوک کی مستحق ہے‘ اسی برتائو کے قابل ہے اور تم کان کھول کر سن لو علی‘ تمہیں رابیل سے رشتہ ختم کرنا ہوگا‘ میں ایسی بے باک اور بدکردار لڑکی کو اپنی بہو ہرگز نہیں بنائوں گی۔‘‘ علی نے بے بسی سے موبائل کو دیکھا۔
’’یااللہ! میری مام اور ممانی کو نیکی کی ہدایت دے۔‘‘ علی نے بآواز دعا مانگی‘ امینہ کی باتیں اسے پریشانی میں مبتلا کررہی تھیں۔ اس نے وہاب احمد سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
ژ ظ …ژ…ظ ژ
رابیل اس جاں گسل انکشاف پر صدمے سے ڈھے سی گئی تھی۔ رو رو کر بھی تھک چکی تھی۔ نگین اور نوفل بھی اسے چپ کراتے ہوئے روتے رہے تھے۔ انہیں کتنا شاک لگا تھا‘ اپنی ماں کی حقیقت جان کر‘ کتنی بھیانک تصویر سامنے آئی تھی ان کی ماں کی‘ اس پر ان کی ماں کا رابیل پر ظلم وستم وہ تو شرمندہ اور بے بس محسوس کررہے تھے خود کو۔ رابیل کے دکھ کا انہیں بخوبی احساس تھا‘ تب سے رابیل نے کچھ نہیں کھایا تھا‘ بواجی کو نوشین کے مزاج کا تو علم تھا‘ رابیل پر زیادتیوں سے بھی بخوبی واقف تھیں مگر اس نئے انکشاف پر تو وہ بھی اندر سے ہل کے رہ گئی تھیں۔
’’میں نوشین آنٹی کی بیٹی نہیں ہوں‘ میں اپنے مما پاپا کی بیٹی ہوں۔ نبیل بھائی کی بہن ہوں‘ مجھے یہاں نہیں رہنا‘ مجھے واپس جانا ہے‘ ڈیڈی سے کہیں‘ میری ٹکٹ بک کرادیں۔ مجھے لندن واپس جانا ہے۔‘‘ بہت دیر بعد رابیل بولی تو یہ سن کر نگین‘ نوفل اور بواجی پریشانی سے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے۔
’’میری بیٹی کہیں نہیں جائے گی‘ اپنے ڈیڈی کے پاس رہے گی۔‘‘ وہاب احمد کی آواز سن کر چاروں نے دروازے کی سمت دیکھا۔ وہ نجانے کب آگئے تھے‘ رابیل کی بات سن کر نرمی سے کہا۔
’’مجھے لندن جانا ہے مما پاپا کے ساتھ رہنا ہے۔‘‘ رابیل نے دل گیر لہجے میں کہا تو وہاب احمد اس کے پاس بیٹھ گئے۔
’’میں بھی تو آپ کا ڈیڈی ہوں‘ بیٹی آپ اپنے ڈیڈی کے ساتھ نہیں رہوگی۔ میں جانتا ہوں آپ کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ ہے‘ آپ کو بہت دکھ پہنچا ہے لیکن بیٹی میں نے تو آپ کو کبھی بھی دکھ نہیں دیا۔ کیونکہ میں اپنی گڑیا کو کھونا نہیں چاہتا تھا‘ بچانا چاہتا تھا‘ اچھا ماحول اور تربیت دینا چاہتا تھا‘ اسی لیے افشین اور تیمور کی گود میں دے دیا تھا آپ کو… ورنہ تمہیں جنم دینے والی عورت سے تو ایسی کوئی توقع نہیں تھی مجھے کہ وہ تمہیں محبت اور ممتا کی آغوش دے گی۔ میں نے ہمیشہ آپ سے پیار کیا ہے بیٹا‘ اس لیے کہ آپ میری بیٹی ہو‘ میرے وجود کا حصہ ہو‘ میں آپ کو کیسے کسی غیر کی جھولی میں ڈال دیتا‘ اگر آپ یہاں رہتیں تو آپ کو ماں کی ممتا اور محبت سے محروم ہونا پڑتا‘ میں نے تو آپ کی بہتری کی خاطر آپ کو افشین اور تیمور کی سر پرستی میں دے دیا تھا اور میرا یہ فیصلہ غلط نہیں تھا بیٹی۔ انہوں نے آپ کو ہم سے زیادہ پیار دیا۔ بہت اعلیٰ تربیت دی ہے۔ مجھے افسوس ہے بیٹی کہ میں تمہیں تمہاری جنم دینے والی ماں کے ظلم سے نہیں بچا سکا‘ میری بیٹی پہلی بار اپنے ڈیڈی کے گھر رہنے آئی اور… مجھے معاف کردو بیٹی۔‘‘
’’مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے ڈیڈی‘ پلیز آپ معافی مت مانگیں۔ بس مجھے واپس جانا ہے‘ مجھے واپس بھیج دیں۔‘‘ رابیل نے ان کی باتیں سننے کے بعد پرنم لہجے میں دھیمی آواز میں کہا۔
’’نہیں سسٹر‘ اب آپ ہمارے گھر رہوگی‘ ہم آپ کو بہت محبت سے رکھیں گے۔‘‘ نوفل نے بے کل ہوکر کہا۔
’’ہاں! رابیل ہم تمہیں کبھی دکھ نہیں دیں گے‘ پرامس تم تو ہماری گڑیا ہو ہم تمہارے بغیر اداس ہوجائیں گے‘ پلیز مت جانا۔‘‘ نگین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر خلوص دل سے کہا۔
’’مما پاپا اور نبیل بھائی بھی تو میرے بغیر اداس ہوجائیں گے‘ میں نے ان کی بیٹی کی حیثیت سے ان کے ساتھ اتنی عمر گزاری ہے اور اب ایک دم سے انہیں چھوڑ دوں‘ ہرگز نہیں‘ میں انہیں دکھی نہیں کرسکتی‘ وہ مجھ پر جان چھڑکتے ہیں‘ میرے ماں باپ ہیں وہ… میں کیسے ان سے الگ رہ سکتی ہوں۔‘‘ رابیل نے بھیگتے لہجے میں کہا تو وہاب احمد نے خوشی سے بھیگتی آنکھوں سے اسے دیکھا اور محبت سے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
’’جیتی رہو بیٹی‘ اللہ تم جیسی بیٹی ہر ماں باپ کو دے۔ تم نے دل خوش کردیا‘ یہ بات کہہ کر کہ یہ افشین اور تیمور کی محبتوں کا اثر ہے کہ تم انہیں اپنا ماں باپ سمجھتی ہو انہیں دکھی نہیں دیکھ سکتیں‘ اچھی اولاد ماں باپ کا فخر ہوتی ہے۔ آئی ایم پرائوڈ آف یو مائی چائلڈ۔‘‘ وہاب احمد نے مسکراتے ہوئے بھیگتے لہجے میں کہا تو خوشی سے اس کی آنکھیں ایک بار پھر اشک بار ہوگئیں۔
علی نے کئی بار رابیل کا نمبر ٹرائی کیا تھا مگر ہر بار اس کا سیل آف مل رہا تھا‘ وہ نوفل یا نگین سے بھی فون کرکے اس کی خیریت معلوم نہیں کرسکتا تھا‘ کیونکہ وہ رابیل کے لیے اپنی بے قراری و بے تابی ان پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اور دوسرا وہ ریزرو طبیعت کا مالک تھا‘ یہ ان سب کو معلوم تھا اور وہ اپنا یہ امیج قائم رکھنا چاہتا تھا۔
نوشین نے تو خود کو کمرے میں بند کرلیا تھا‘ نگین اور نوفل نے آج کالج اور یونیورسٹی سے چھٹی کرلی تھی‘ ان کی حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ وہ پڑھائی پر دھیان دے سکتے‘ ذہنی اور قلبی طور پر وہ دونوں بھی بہت ہرٹ ہوئے تھے۔ بہت ڈسٹرب تھے۔ وہاب احمد بھی آج فیکٹری نہیں گئے تھے۔ رابیل نے صبح بمشکل ناشتہ کیا تھا۔ نوفل اور نگین کے اصرار پر اور اب شاور لے کر نکلی تھی۔
’’رابیل! جلدی سے تیار ہوکر باہر آجائو ہم تینوں آج آئوٹنگ پر جارہے ہیں خوب مزا کریں گے۔‘‘ نگین نے اس کے کمرے میں آکر کہا تو وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’سوری نگی آپی! میرا دل نہیں چاہ رہا کہیں جانے کو۔‘‘
’’لو یہ کیا بات ہوئی؟ ہم نے تو آپ کی وجہ سے آج کالج بنک کیا ہے‘ چلیں ناں اس ٹینشن سے تو باہر نکلیں‘ کچھ دل بہل جائے گا‘ دھیان بٹ جائے گا۔‘‘ نوفل بھی آن ٹپکا تو وہ دھیرے سے مسکرادی۔
’’اور کیوں نہ علی بھائی کو بھی بلالیں۔‘‘ نگین نے شوخ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا سیاہ ٹرائوزر دوپٹے اور مہرون کامدار شرٹ میں وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی۔
’’علی کو کیوں؟‘‘ رابیل نے ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے۔
’’لو اور سنو! ادھر وہ جان دینے کو تیار ہیںبیٹھے ہیں‘ ادھر کسی کو خبر ہی نہیں۔‘‘ نوفل نے معنی خیز جملہ کہا‘ رابیل کا ذہن اس وقت کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا کیونکہ نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ روتے‘ سوچتے دماغ اور دل دونوں ہی تھک چکے تھے‘ ہلکان ہوچکے تھے۔ اس کے اندر خوشی کی ہلکی سی بھی رمق باقی نہیں رہی تھی۔ صرف دکھ اور درد بھرا تھا اس وقت۔
’’وہ کیوں اپنا کام چھوڑ کر آنے لگے؟‘‘
’’تم کہوگی تو آبھی جائیں گے۔‘‘
’’مگر میں کیوں کہوں گی؟‘‘
’’اف! یار یہ گلے میں پہنی ہوئی زنجیر بھی تمہیں ان کے دل سے نہیں باندھ سکی کیا؟‘‘ نگین نے اپنا سر پیٹ کر کہا اس کا اشارہ علی کے لاکٹ کی طرف تھا۔ جو اب رابیل کی گردن میں چمک رہا تھا۔
’’اچھا! یہ…‘‘ رابیل نے گلے میں پہنی زنجیر کو پکڑ کر دیکھا اور ہنس دی۔
’’ہنسی اور پھنسی۔‘‘ نوفل شوخی سے بولا۔
’’یہ تو انہوں نے ویسے ہی پہنا دی تھی۔‘‘
’’اوہو… پہنا دی تھی‘ یعنی اپنے مبارک ہاتھوں سے پہنائی تھی تو پھر ویسے ہی تو نہ ہوئی نہ۔ پیار سے پہنائی ہوگی۔ علی بھائی بھی چھپے رستم ہیں آخر کو‘ ان کی چوری پکڑی گئی نا۔‘‘ نگین نے شوخ وشریر لہجے میں کہا تو وہ ہنس پڑی اور وہ دونوں تو اسے ہنستے دیکھ کر ہی خوش ہوگئے۔
’’تو کیا خیال ہے فون کروں علی بھائی کو؟‘‘ نوفل نے پوچھا۔
’’ہاں فون کرو مگر علی کو نہیں خرم بھائی کو کیونکہ وہ بھی ہماری نگی آپی کو پیار سے انگوٹھی پہنانا چاہتے ہیں۔‘‘ رابیل نے بھی توپوں کا رخ نگین کی طرف کرتے ہوئے کہا تو وہ بوکھلا گئی۔
’’تمہیں کیسے پتا؟‘‘ نگین نے اسے گھورا۔
’’بس پتا ہے میری اپنی سی آئی ڈی ہے اور پتا ہے ڈیڈی کو بھی خرم بھائی پسند ہیں‘ بس نوشین آنٹی سے بات کرنا باقی ہے۔ آنٹی مان جائیں گی نا ان کے تو بھائی…‘‘ رابیل بولتے بولتے ایک دم سے چپ ہوگئی وہ دونوں اسی کو دیکھ رہے تھے وہ نوشین کو اب بھی آنٹی کہہ رہی تھی اور اس بات کا احساس خود رابیل کو بھی ہوگیا تھا‘ جبھی دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی اور وہ خاموش ہوگئی تھی۔
’’تو اب چلیں۔‘‘ نوفل نے دھیان بٹایا۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close