Aanchal May 15

کاش آنکھیں پڑھا کرے کوئی

عائشہ ناز علی

جس نے تیری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی
وہ لاکھ کہے اس نے محبت نہیں دیکھی
آئینہ تجھے دیکھ کر گلزار ہوا تھا
شاید تیری آنکھوں نے وہ رنگت نہیں دیکھی

وہ چھ برس کی تھی نیلوفر خالہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ ان کے گھر آئی تھیں۔ وہ انہیں بہت پیاری لگی تھیں‘ امی جی کے برعکس وہ زیادہ حسین اور ہنس مکھ تھیں اسے گود میں لیے چٹا چٹ پیار کرتے ہوئے اپنے بیگ میں سے ڈھیروں چاکلیٹس نکال کر اسے دیں تھی۔ اس کے اور ماریہ کے لیے بہت سارے گفٹس بھی لائی تھیں۔ انہی تحائف میں ایک سبز آنکھوں والی خوب صورت سی گڑیا بھی تھی۔ اسے سارے گفٹس میں یہی گڑیا سب سے زیادہ پسند آئی تھی جو وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کی عادی تھی۔ دوسری بار نیلی خالہ تب آئیں جب وہ آٹھ سال کی تھی۔ تب زیدی انکل ان کے ساتھ نہیں تھے۔ صرف عبداللہ تھا۔ اس نے نوٹ کیا کہ نیلی آنٹی پہلے کی طرح ہنس بول نہیں رہی تھیں۔ وہ کمزور لگ رہی تھیں اور ان کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بھی تھے۔ عبداللہ بہت شرارتی اور باتونی بچہ تھا‘ مگر وہ بھی چپ چاپ سا لگ رہا تھا۔ نیلی آنٹی کی باتوں سے اسے پتہ چلا کہ زیدی انکل اب دنیا میں نہیں رہے تھے۔ اسے عجیب سا لگا تھا۔ کسی کے دنیا سے چلے جانے کا غم کیا ہوتا ہے‘ وہ اتنی چھوٹی تھی کہ محسوس نہیں کرسکتی تھی اور محسوس کر بھی لیتی تو بیان نہیں کرسکتی تھی۔ زیدی انکل اسے یاد تھے‘ وہ بہت خوب صورت‘ اونچے لمبے اور ہنس مکھ ہونے کے باوجود اسے ناپسند تھے‘ اسے ان کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات یاد آئی‘ جب وہ پاپا جی کی انگلی تھامے پانی کی بوتل گلے میں لٹکائے لالی پاپ کھاتے ہوئے داخل ہوئی تھی۔ ماریا اس سے پہلے ہی بھاگتی دوڑتی اندر جاچکی تھی۔ وہ پاپا جی سے اپنے کسی من پسند کھلونے کو خریدنے کی فرمائش کررہی تھی اور نہ صرف فرمائش بلکہ وہ کھلونا دلوانے پر بضد تھی۔ پاپا جی اس سے وعدہ کررہے تھے۔
’’تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے گھر میں…‘‘ وہ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوئے بولے۔
’’اچھا کیا… کیا ٹیڈی؟‘‘ وہ اشتیاق سے پوچھنے لگی اور پھر خود ہی بوجھنے لگی۔
’’نہیں… اس سے بھی اچھا۔‘‘ فیضان علی مسکرائے۔
’’اس سے بھی اچھا!‘‘ وہ سوچ میں پڑگئی‘ ٹیڈی سے اچھی تو ڈول ہوسکتی ہے۔ اس نے خود ہی اندازہ لگایا‘ اور جب وہ لائونج میں آئی تو نیلی آنکھوں اور سیاہ گھنگھریالے بالوں والی گوری چٹی حسین سی جیتی جاگتی گڑیا کو دیکھا۔
’’تمہاری نیلی خالہ۔‘‘ فیضان علی نے جھک کر اس کے کان میں کہا۔ نیلی خالہ کو وہ تصویروں میں دیکھ چکی تھی اور وہ اپنی خوب صورتی کی وجہ سے اسے بہت پسند تھیں۔ وہ انہیں دیکھ کر حیرت سے ٹھٹکی‘ نیلوفر‘ سمیہ اور فاطمہ کے ساتھ ہنس ہنس کر گپیں مار رہی تھیں۔ ہنستے ہوئے ان کے انار کے دانوں کی طرح سفید دانت موتیوں کی طرح جگمگا رہے تھے۔ ان کی نیلی آنکھوں کی وجہ سے شاید نانی نے ان کا نام نیلوفر رکھا تھا۔ ان کے برابر ہی صوفے پر بے حد حسین مرد بیٹھا تھا۔ وہ اتنا خوب صورت تھا کہ نیلی خالہ کے ساتھ نہایت ہی ہم آہنگ لگ رہا تھا۔ دوسرے صوفے پر ایک صحت مند سرخ وسپید بچہ بیٹھا ہوا تھا‘ جو کہ ماریہ کا ہم عمر لگ رہا تھا۔ یہ عبداللہ تھا‘ نیلی خالہ اور زیدی انکل کا اکلوتا بیٹا اور جتنا خوب صورت یہ کپل تھا اتنا ہی حسین ان کا بیٹا بھی۔ وہ وہیں ٹھٹک کر تینوں کو دیکھنے لگی۔
’’ارے… حور… یہ حوریہ ہے نا؟‘‘ نیلی خالہ کی نظر اس پر پڑی تو چونکیں۔
’’جی آپا‘ آئو حور! اپنی نیلی خالہ سے ملو۔‘‘ سمیہ نے ہاتھ کے اشارے سے بیٹی کو بلایا۔ اس نے پاپا کی طرف دیکھا۔ انہوں نے مسکرا کرا سے جانے کا اشارہ کیا‘ حوریہ جھجکتی‘ شرماتی نیلوفر کی طرف بڑھی۔
’’مائی گڈنیس‘ سمی! یہ تو جیتی جاگتی گڑیا ہے۔ جو تصویریں تم نے میل کی تھیں وہ تو کچھ بھی نہیں۔ ادھر آئو حور جانی! اپنی خالہ کے پاس آئو۔‘‘ انہوں نے اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ وہ ان کی بانہوں کی شفقت میں سما گئی۔ نیلی خالہ بہت حسن پرست تھیں اور حوریہ تو حسن کا جیتا جاگتا شاہکار تھی۔ اس کے نین نقش نیلوفر کی طرح تھے مگر بال اور بالوں کی رنگت نانی کی طرح تھی۔ وہ بھوری آنکھوں پر گھنی پلکوں کی جھالر‘ موتی کی طرح رنگت‘ بے حد تیکھے نین نقوش‘ ریشمی سرخی مائل سنہری بال‘ اس پر سمیہ جو ڈریسنگ اسے کراتی تھیں وہ نہایت خوب صورت لگتی تھی۔
’’مما! شی از لائیک اے دول۔‘‘ عبداللہ نے ماں کو مخاطب کیا مگر دلچسپی سے اسے دیکھا۔
’’یس مائی ڈارلنگ! شی از…‘‘ وہ محبت سے بولیں۔
’’مما! ڈارلنگ آپ نے کس کو کہا مجھے یا حور کو…؟‘‘ عبداللہ نے شرارتی انداز میں پوچھا۔ وہ بے حد خود اعتماد اور بولڈ بچہ تھا سبھی مسکرادیئے۔
’’ماشاء اللہ! عبداللہ بہت حاضر دماغ ہے۔‘‘ سمیہ نے محبت سے بھانجے کو دیکھا۔
’’یہاں آئو ہمارے پاس گڑیا…‘‘ انکل زیدی نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔ اسے ان کا لمس اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ کسمسائی اور خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔ انکل زیدی نے اس کے گال کو چوم کر اسے چھوڑ دیا۔ وہ ناگواری سے اپنے گال صاف کرتے ہوئے پاپا جی کی گود میں چھپ گئی۔ اسے نجانے کیوں زیدی انکل کا لمس‘ ان کی نظر‘ ان کا پیار کرنا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔ نیلوفر‘ سمیہ سے چار پانچ سال بڑی تھیں۔ ان کی شادی لندن میں ہوئی تھی۔ حسن زیدی لندن ہی میں رہتے تھے وہاں ان کی بہت اچھی جاب تھی‘ عبداللہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ لوگ شادی کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان آئے تھے۔ زیدی انکل کی لاہور میں بہن کی بیٹی کی شادی تھی‘ انہوں نے ایک دن رک کر لاہور چلے جانا تھا۔
’’حور! جائو بیٹا یونی فارم چینج کرو۔‘‘ سمیہ نے کہا اور ساتھ ہی سب کو کولڈ ڈرنکس سرو کرتی ملازمہ کو اشارہ کیا۔
’’پینو! جائو حور کے کپڑے نکال دو۔‘‘ حوریہ پینو کے ساتھ اپنے بیڈروم کی طرف بڑھ گئی۔
’’سمیہ! آپ کی بیٹی بہت پریٹی ہے۔‘‘ حسن زیدی نے ایک نظر جاتی ہوئی حوریہ کی پشت پر ڈالی اور کہا۔
’’تھینکس زیدی بھائی! بس اللہ نصیب اچھے کرے۔‘‘ وہ مسکرا کر ممتا بھرے انداز میں بولیں۔
’’ہاں سمی! شکل اچھی ہونے سے کیا ہوتا ہے‘ نصیب اچھے ہونے چاہیے۔ نصیب اچھے ہوں تو بڑی بڑی عام شکل وصورت کی لڑکیاں شہزادیوں جیسی زندگی گزارتی ہیں‘ ورنہ تو پری چہرے بھی حالات کی دھول مٹی میں اٹ کر پھیکے پڑ جاتے ہیں۔‘‘ نیلوفر نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’لیکن آپ کیوں ایسا کہہ رہی ہیں؟ آپ تو پری چہرہ بھی ہیں اور اچھے مقدر والی بھی۔ آپ کو ہم جو ملے۔‘‘ حسن زیدی نے مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے بیوی کو گہری نظروں سے دیکھا۔
’’جنرل بات کررہی ہوں‘ آپ پرسنلز مت ہوجائیے۔‘‘ نیلوفر مسکرائیں۔
’’بھائی صاحب آپ کی فیملی کچھ زیادہ مختصر نہیں ہے؟ میرا مطلب ہے کہ عبداللہ اکیلا بور نہیں ہوتا ہوگا؟‘‘ سمیہ نے موضوع بدلا۔
’’بھئی… ہم تو چاہتے ہیں کہ فیملی میں کچھ اضافہ ہو‘ کم از کم کرکٹ ٹیم تو بننی چاہیے مگر آپ کی بہن صاحبہ کو اپنی بیوٹی کا اتنا خیال ہے‘ کہتی ہیں کہ بچوں کی پیدائش کی وجہ سے فگر خراب ہوجاتا ہے۔ بھئی ہم تو وہی کرتے ہیں جو یہ کہتی ہیں‘ کیوں نیلو؟‘‘ حسن زیدی نے نیلوفر کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔
’’جی ہاں‘ دراصل ہم دونوں ہی جاب کرتے ہیں‘ بے بی کے لیے ٹائم نکالنا خاصا دقت طلب کام ہے‘ سوچ رہی ہوں ایک آدھ سال بعد اپلائی کیا جائے۔‘‘ نیلوفر نے سر ہلاتے ہوئے نپے تلے انداز میں جواب دیا۔
’’ہاں بھئی‘ یہ تو عبداللہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ناں‘ ایک اور بھائی یا بہن تو ہونا چاہے۔‘‘ فاطمہ نے گفتگو میں حصہ لیا۔
’’اور تمہیں ضرورت بھی کیا پڑی ہے نوکری کرنے کی؟ بھئی ماشاء اللہ تین ہی تو لوگ ہو‘ زیدی کی اچھی خاصی ملازمت ہے‘ گھر کرائے پر اٹھا رکھا ہے پھر سائیڈ بزنس بھی ہے‘ تم گھر اور بچے کو وقت دو۔ اللہ نے اتنا کچھ دے رکھا ہے‘ کیا اس میں پورا نہیں پڑتا؟‘‘ فاطمہ نے بیٹی سے پوچھا اور دیکھا داماد کی طرف۔
’’یہ سو فیصد ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ میری طرف سے تو یہ اپنے ہر فیصلے اور عمل کے لیے آزاد ہیں۔‘‘ حسن زیدی نے پہلی فرصت میں خود کو کلیئر کرتے ہوئے سارا وزن بیوی پر ڈال دیا۔ نیلوفر نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا۔
’’پیسوں کی بات نہیں ہے اماں جان! دراصل زیدی سارا دن کام میں بزی ہوتے ہیں‘ عبداللہ کی بھی اسکولنگ اور اس کے بعد مختلف کلاسز ہوتی ہیں۔ میں سارا دن اکیلی بور ہوجاتی تھی‘ سوچا کہ جاب کرلیتی ہوں‘ کچھ وقت گزر جائے گا اور یوں بھی عبداللہ کے اسکول میں ہی جاب کرتی ہوں۔ اس کے ساتھ جاتی ہوں‘ واپسی اسی کے ساتھ آجاتی ہوں۔ مشکل تو کوئی نہیں ہوتی۔ اب جاب صرف ضرورت کے تحت ہی تو نہیں کی جاتی ہے ناں… میں نے اپنی ڈگری کو کام میں لانا ضروری سمجھا اور وہاں تو ہر کوئی ہی جاب کرتا ہے‘ سب آزاد ہیں‘ وہاں کی لائف اسٹائل اور یہاں کے لائف اسٹائل میں بہت فرق ہے۔‘‘ نیلوفر نے ماں کی تسلی کرانا مناسب سمجھا تھا۔
’’اچھا سسٹم ہے ناں‘ پاکستان اور انڈیا میں تو کمانے والے کے ساتھ کولہو کے بیل سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا جاتا ہے‘ ایک کمانے والا اور بے شمار لوگ کھانے والے۔ بہت بوجھ ہوتا ہے کمانے والے فرد پر۔‘‘ حسن زیدی نے کہا۔
’’بھئی ہمیں تو اسی نظام میں تحفظ اور راحت کا احساس ملتا ہے۔ کم از کم ایک اپنائیت‘ ایک خاندان ہونے کا احساس تو ہوتا ہے۔ اس سٹم میں یہ تو نہیں لگتا کہ بندہ اپنے ہی گھر اور خاندان میں پے انگ گیسٹ کے طور پر رہ رہا ہے یا سروائیو کررہا ہے۔ فارن کنٹریز میں‘ انفیکٹ اب تو انڈیا جیسے ملک میں بھی یہی ٹرینڈ چل پڑا ہے۔ فیملی سسٹم کا رواج تو ختم ہی ہوتا جارہا ہے۔‘‘ فیضان علی بولے۔
’’ہاں اور اس کا نقصان کس قدر ہورہا ہے‘ خود ہی دیکھ لو۔ گھر ٹوٹتے ہی چلے جارہے ہیں‘ بچے اپنے کلچر‘ اپنی ہسٹری سے ناواقف ہیں‘ یہی رسم ورواج‘ یہی مل جل کر رہنا‘ یہی تو خاندان بناتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شمولیت سے ہی جذبے زندگی پاتے ہیں۔ جب سب اپنا اپنا کمائیں اور اپنا اپنا کھائیں کے اصولوں پر چلیں گے تو نہ خاندان رہے گا نہ روایات۔‘‘ فاطمہ نے کہا۔
’’مگر یہ بھی تو زیادتی ہے ناں کہ ایک اکیلے بندے پر زمانے بھر کا بوجھ ڈال دیا جائے۔‘‘ حسن زیدی نے ان کی بات سے اختلاف نہیں کیا مگر اتفاق بھی ظاہر نہیں کیا۔
’’ہاں یہ غلط ہے… حسب توفیق اور حسب ضرورت جو جو کمائی کی راہ پر نکلنا چاہے اسے روکنا نہیں چاہیے۔ بس یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ راستہ کون سا ہے اور کس منزل پر پہنچاتا ہے اور اس سے ہمارا خاندان اور گھرانہ بکھرے نہیں۔ کچھ اصول بنالینے چاہئیں اور ان کو فالو کرنا چاہیے۔‘‘ فاطمہ نے نرم لہجے میں جواب دیا۔
’’اور جب مرد کمانے کو موجود ہو تو عورتوں کو گھروں میں ہی اپنی مصروفیت ڈھونڈنی چاہیے ناکہ محض وقت گزاری کے لیے کمانے کے راستے پر باہر نکلیں۔‘‘ فاطمہ نے نیلوفر کو دیکھا۔
’’مگر اماں جان! جب اتنی پڑھائی کرلینے کے بعد اس سے فائدہ نہ اٹھائیں تو ڈگریوں کا فائدہ کیا؟‘‘ نیلوفر نے پوچھا۔
’’مرد ڈگری لیتا ہے کہ اچھی ذرائع آمدنی ڈھونڈ پائے اور عورت ڈگری لیتی ہے کہ مستقبل کے لیے بہترین معمار کی تربیت کرکے انہیں معاشرے میں پیش کرے۔ مرد کا علم بھی صرف آمدنی کے حصول کو لے کر محدود نہیں ہونا چاہیے۔ مرد کو اپنی تعلیم سے سیکھنا چاہیے۔‘‘
’’مگر بیٹی! عورت کو تو معاشرے کے لیے بہترین انسان کی تراش خراش کرنی ہوتی ہے۔ اچھی تعلیم یافتہ عورت اپنی اولادوں کی بہترین تربیت کرکے ان کے سانچے کو مضبوط بناسکتی ہے‘ ہمارے معاشرے میں اسی لیے تو اتنے بگاڑ آگئے ہیں کہ اب بچے کی پہلی درس گاہ ماہ کی گود نہیں‘ ملازمہ یا آیا کی گود ہوتی ہے‘ جو کہ ظاہری بات ہے بچے کی کیا تربیت کرے گی کہ وہ خود تربیت کے ہجے بھی نہیں جانتی۔ اسے تو خود تربیت کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کے بچے کو کیا سکھا پائے گی۔‘‘ فاطمہ نے اپنے تجربات اور سمجھ داری کو لفظوں کی شکل دی۔ حسن زیدی ان کی بات پر ماضی کی کھائی میں جاگرے تھے۔
ان کی والدہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ وہ بزنس وومین تھیں‘ حسن زیدی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے آخری نمبر پر تھے۔ بہن بھائی سب اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔ باپ اور ماں کی اپنی مصروفیات تھیں۔ ماں نے پیدائش کے بعد انہیں آیا کی گود میں ڈال دیا اور آیا نے انہیں ماں بن کر نہیں بلکہ آیا بن کر ہی پالا تھا۔ وہ گھنٹوں بھوک سے بلکتے رہتے اور آیا موبائل پر اپنے میل دوستوں کے ساتھ گپوں پر مصروف رہتی۔ جب چھوٹے تھے تو وہ منہ میں فیڈر کی بوتل ٹھونس دیا کرتی تھی۔ ذرا بڑے ہوئے تو ہاتھ میں بسکٹ یا روٹی کا ٹکڑا تھما دیتی تھی۔ سات سال کی عمر میں انہوں نے اپنے بیڈروم میں آیا اور اس کے بوائے فرینڈ کو نہایت قابل اعتراض حالت میں دیکھا تھا۔ ننھا ذہن تھا‘ غلط عمر میں غلط چیز کو غلط انداز کے ساتھ دیکھا تھا۔ بارہ سال کی عمر میں ان کی اسی آیا نے ان کے ہی بیڈروم میں ان کے ساتھ جنسی تعلقات بنائے تھے اور ان کی ماں کو ہوش ہی نہیں تھا۔ پندرہ سال کی عمر سے وہ باقاعدہ گرل فرینڈز بنانے لگے تھے‘ جن کے ساتھ ان کے ہر طرح کے تعلقات تھے اور انہیں اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں تھی کہ ان کے گھر والے اس بات کو جان لینے کے بعد کیا اور کس قسم کا ردعمل ظاہر کریں گے۔ ان کی ماں نے نیلوفر کو پاکستان میں کسی فنکشن میں دیکھا تھا۔ انہیں وہ پہلی نظر میں اپنے بیٹے کے لیے پسند آگئی تھیں۔ لندن میں رہتے ہوئے وہ اپنے بیٹے کے کرتوتوں سے واقف تھیں۔ انہیں اپنے بیٹے کے لیے نیلوفر جیسی مشرقی لڑکی کی ہی ضرورت تھی جو کہ ان کے عیاش بیٹے کا گھر اور نسل سنبھال سکے۔ نہ صرف سنبھالے بلکہ ان کی نسل کی بہترین تربیت کرے۔ نیلوفر بے حد حسین عورت تھیں اور حسن زیدی حسن پرست۔ بظاہر رشتہ بہت اچھا تھا‘ فاطمہ نے چھان پھٹک کروا کر بڑی بیٹی کے ہاتھ پیلے کردیئے اور نیلوفر حسن زیدی کے ساتھ لندن چلی گئیں۔ یہاں آکر پہلی رات ہی ان پر حسن زیدی کا پول کھل گیا تھا۔ مگر انہوں نے جھگڑا بڑھانے اور رشتہ توڑنے کے بجائے صبر اور ہمت سے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی تھی۔ انہوں نے خود کو ضائع نہیں ہونے دیا اور نہ ہی خود کو تماشہ بنوایا انہوں نے عبداللہ کی پیدائش سے پہلے تک زیدی کو سدھارنے اور سمجھانے کی کوششیں کیں‘ دو سال بعد جب عبداللہ پیدا ہوا تب انہوں نے حسن زیدی کو سدھارنے کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا اور پوری توجہ بیٹے کی جانب مبذول کرلی۔ حسن زیدی کو بیٹے سے فطری محبت تھی اور وہ کبھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ عبداللہ کا بچپن ان کی طرح گزرے۔ نیلوفر نے عبداللہ کے لیے کوئی آیا وغیرہ نہیں رکھی تھی‘ البتہ حسن زیدی نے اس کی سہولت کے لیے ایک ملازمہ کا انتظام کردیا تھا جو کہ تین گھنٹوں کے لیے آتی تھی‘ تین گھنٹوں بعد اگر اسے کسی کام کے لیے روکا جاتا تو وہ اس کے ایکسٹرا پیسے چارج کرتی تھی۔ اپنی بہت ساری خامیوں کے باوجود حسن زیدی کو وہ نہیں چھوڑ سکتی تھیں کیونکہ وہ ان کی زندگی میں آنے والا پہلا اور آخری مرد تھا جس سے انہوں نے محبت کی تھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ نیلوفر پر ان کی ذات کی پرتیں کھلتی چلی جارہی تھیں۔ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ حسن زیدی کو نفسیاتی مسائل درپیش ہیں جو کہ بچپن سے تعلق رکھتے ہیں۔ دل کے کسی گوشے میں حسن زیدی کے لیے ہمدردی بھی موجود تھی‘ باوجود ان کی اتنی ساری خرابیوں اور خامیوں کے‘ حسن زیدی کی سب سے بڑی کمزوری شراب نوشی تھی‘ وہ صرف رات کے وقت ہی ڈرنک کرتے تھے اور جب وہ ڈرنک کے زیر اثر ہوتے تو اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھتے تھے۔
’’تعلیم یافتہ ہونا تو اچھی بات ہے‘ ہمارے مذہب میں حصول علم کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن اس علم کا صحیح استعمال ہی اس علم کو کارآمد بنا سکتا ہے۔‘‘ حسن زیدی چونک کر ماضی سے باہر نکلے۔ انہوں نے اپنی پڑھی لکھی‘ روشن خیال باوقار ساس کو دیکھا۔
’’آپ نے بھی تو جاب کی تھی اماں جان۔‘‘ وہ بے ساختہ بول پڑے۔
’’جی بیٹا مگر وہ مجبوری تھی۔ نیلو کے اباجی مجھے اور ان دونوں بچیوں کو تنہا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملے تھے۔ میں نے باپردہ حالت میں کالج میں لیکچرر شپ کی تھی۔ کیونکہ مجھے اپنی اور اپنی بیٹیوں کی کفالت باعزت طریقے سے کرنی تھی۔ وہ جاب میری ضرورت تھی‘ شوق نہیں۔‘‘ بہت ہی سلجھے ہوئے انداز میں فاطمہ نے جواب دیا تھا۔
حسن زیدی کو اپنی بے حد ماڈرن ممی کا خیال آگیا۔ وہ بھی بیوہ تھیں مگر وہ فاطمہ کی طرح نہیں تھیں۔ وہ لندن میں اسکرٹ بلائوز پہنتی تھیں‘ پارٹیز وغیرہ میں سلیولیس اور بیک لیس ڈریسز کا انتخاب کرتی تھیں۔ فل ٹائم کٹ میں رہتی تھیں‘ ان کے لیے حسن زیدی کے والد نے بہت جائیداد چھوڑی تھی کہ باقی کی زندگی وہ صرف کھاتی رہتیں تو کم نہ پڑتا‘ مگر پھر بھی وہ آفس جاتی تھیں۔ بہت سوشل تھیں‘ ان کے بہت سارے مردوں سے تعلقات بھی تھے‘ یہ تعلقات کس نوعیت کے تھے حسن زیدی کو اس سے دلچسپی نہیں تھی‘ کیونکہ انہیں اپنی ماں میں دلچسپی نہیں تھی۔ نیلوفر کی ماں کو دیکھ کر وہ عجیب سے کومپلیکس میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ انہیں وہ خاتون بہت متاثر کرتی تھیں مگر وہ انہیں ایک عجیب سے احساس محرومی اور احساس کمتری میں بھی مبتلا کردیتی تھیں‘ یہ سب ان کی خود ساختہ سوچیں تھیں۔
’’عورت تو گھر کی سجاوٹ کی چیز ہے‘ باہر کی دنیا سے اس کا کیا واسطہ؟ گھر بیٹھے بھی وہ معاشرے اور ملک کی ترقی کی حصہ دار بن سکتی ہے‘ پردے میں رہ کر بھی حکومت کرسکتی ہے۔‘‘ بحث کی ابتداء کہاں سے ہوئی تھی اور بات کہاں آپہنچی تھی۔
’’میرے خیال میں کھانا لگا دیا جائے۔ بچوں کو بھی بھوک لگ رہی ہوگی۔‘‘ فیضان علی نے زیدی کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ لیے تھے۔ انہوں نے سلیقے سے بحث سمیٹی۔
ظ …ژظ ژ…ظ
حسن زیدی لاہور کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔ نیلوفر اور عبداللہ کو ایک ہفتے بعد جانا تھا۔ وہ ایک ہفتے اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارنا چاہتی تھیں۔ ویسے بھی شادی میں ابھی پورے نو دن باقی تھے۔ بچوں کی گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوچکی تھیں‘ لہٰذا ماریہ اور حوریہ بھی گھر پر تھیں۔ عبداللہ ان کے ساتھ کھیل رہا تھا‘ فیضان علی آفس چلے گئے تھے۔ فاطمہ‘ سمیہ اور نیلوفر لائونج میں بیٹھی تھیں۔
’’سیمی! گھر بہت اچھا ڈیکوریٹ کیا ہے تم نے اور لان تو بہت ہی اچھا ہے۔ گراس مجھے انگلش معلوم ہوتی ہے۔ اچھی خاصی محنت کی ہے تم نے لان پر۔‘‘ نیلوفر آم کے کٹے ہوئے ٹکڑے کانٹے سے کھاتے ہوئے تعریف کررہی تھیں۔
’’فیضان نے اور میں نے مل کر اس گھر کو سجایا ہے آپا۔ یہ میرا گھر نہیں جنت ہے۔ کونہ کونہ میں نے اپنے ہاتھوں سے سجایا ہے اور جہاں تک لان کا تعلق ہے تو یہ ڈیپارٹمنٹ اماں جان نے سنبھال رکھا ہے‘ آپ تو جانتی ہیں کہ اماں جان کو گارڈنگ کا کتنا شوق ہے۔‘‘ سمیہ کے چہرے پر نیک تمنائوں اور محبت کا نور چمک رہا تھا۔ نیلوفر نے اپنی بہن کی طرف غور سے دیکھا۔ سیاہ آنکھیں‘ گندمی مگر پرکشش چہرہ‘ خوب صورت سلونے سے نقوش‘ بھرا بھرا جسم‘ سمیہ‘ نیلوفر جتنی حسین نہیں تھی مگر اس کے باوجود ان کے چہرے پر جو ٹھہرائو اور آنکھوں میں جو سکون تھا وہ انہیں منفرد بنا رہا تھا۔ وہ یقینا اپنی گھرہستی سے بہت مطمئن تھیں اور یہی اطمینان ان کے گھر کے گوشے گوشے سے جھلک رہا تھا۔ نیلوفر نے دل ہی دل میں بہن کو ماشاء اللہ کہا۔
’’تم پورا دن گھر میں ہی مصروف رہتی ہو!‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’گھرہستی تو فل ٹائم جاب ہے آپا۔ یہی میری مصروفیت ہے اور میں اس میں بہت خوش ہوں۔‘‘ سمیہ نے جواب دیا۔
’’تم بھی ملازمت چھوڑو اور فیملی کو کچھ بڑھائو نیلو‘ صرف ایک ہی بچہ… عبداللہ بھی تو تنہائی محسوس کرتا ہوگا۔‘‘ فاطمہ بہت دیر سے یہ بات کہنا چاہ رہی تھیں۔
’’بچے تو ازدواجی زندگی کو مضبوطی سے جوڑے رکھنے کی کڑی ہوتے ہیں۔ یہی کڑیاں مل کر زنجیر بنا کرتی ہیں جو میاں بیوی کو باندھ کر رکھتی ہیں۔ خاندان اسی طرح سے مضبوط ہوتے ہیں بیٹی۔ عبداللہ اب خاصا بڑا ہوگیا ہے ماشاء اللہ سے‘ تم دونوں کو اگلے بچے کے لیے سوچنا چاہیے۔‘‘ فاطمہ نے سمجھایا۔
’’اماں جان! زیدی نہیں مانتے۔ کہتے ہیں کہ ایک ہی کافی ہے۔ دوسرے بچے میں انٹرسٹڈ ہی نہیں ہیں۔‘‘ نیلوفر نے آہستگی سے کہا۔
’’نیلی! بیٹا‘ تم دونوں کے درمیان سب ٹھیک تو چل رہا ہے ناں۔‘‘ فاطمہ نے گہری نظروں سے بیٹی کو دیکھا‘ جیسے ان کے اندر کچھ پڑھنے کی کوشش کررہی ہوں۔
’’سب ٹھیک ہے اماں جان‘ آپ وہم نہ کریں۔ بس ہر شخص کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ زیدی کو بچے پسند نہیں۔ ان کی توجہ واحد مرکز عبداللہ ہے‘ وہ اس مرکز سے اپنی توجہ ہٹانے پر راضی نہیں ہیں۔ کہتے ہیں ایک بچے کو ہی ہم ٹھیک طرح سے توجہ دے کر پال لیں یہی بہت ہے۔‘‘ نیلوفر نے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
’’لو… بھلا یہ کیا بات ہوئی‘ عجیب ہیں یہ زیدی بھی۔‘‘ انہیں خاصا برا لگا۔
’’چھوڑیں ناں اماں جان‘ زیدی بھائی کو وہ بہتر سمجھتے ہوں گے۔ یوں بھی ہر انسان کا اپنا مزاج اور اپنا انداز فکر ہوتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ کسی دوسرے بچے کو اس میں شریک نہیں کررہے۔‘‘ سمیہ نے ماں کو درمیان میں ٹوکا اور جیسے غیر ارادی طور پر بہن کی مشکل آسان کردی۔ نیلوفر نے شکریے کی ایک نظر ان پر ڈالی۔
’’تم بتائو سیمی‘ آج کیا پکا کر کھلا رہی ہو! تمہارے ہاتھ کے پکوان میں وہاں بہت یاد کرتی تھی اور اماں جان! آپ کے ہاتھوں کا پکا اسٹو تو بہت ہی مس کرتی ہوں۔ اب آپ مجھے اسٹو پکا کر کھلائیں گی۔‘‘ نیلوفر نے موضوع بدلا۔
’’بالکل! اپنی بیٹی کے لیے پکائوں گی۔ بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ دوپہر میں اسٹو پکا لیتے ہیں‘ رات کو کچھ اور پکا لینا۔‘‘ فاطمہ نے سمیہ کی طرف تائید بھری نظروں سے دیکھا۔
’’ٹھیک ہے‘ جیسا آپ کہیں۔‘‘ سمیہ نے تابعدادی سے سر ہلایا۔
ظ …ژظ ژ…ظ
فاطمہ بی بی ایک پڑھے لکھے‘ روشن خیال‘ رکھ رکھائو والے متمول خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد بہت اچھی پوسٹ پر سرکاری ملازم تھے اور ہمیشہ حلال کی کمائی سے ہی گھر چلاتے تھے۔ میز کے نیچے کی کمائی کی طرف دیکھنا بھی گناہ سمجھتے تھے۔ فاطمہ بی بی چار بھائیوں کی اکلوتی اور سب سے چھوٹی بہن تھیں۔ سرور علی ان کے فرسٹ کزن تھے۔ ان کی فیملی بہت مختصر تھی۔ ماں باپ اور تین بھائی‘ بیٹی کوئی نہیں تھی۔ خوش قسمتی سے یہ لوگ بھی بہت اچھے تھے۔ دولت زیادہ نہیں تھی مگر شرافت وعزت بہت تھی۔ فاطمہ بی بی کے سسر اور ساس کی شہر میں بڑی عزت تھی۔ ان کے سسر کا اپنا کاروبار تھا جو کہ ان کے بڑے دونوں بیٹے چلارہے تھے۔ فاطمہ بی بی کے شوہر سرور علی گورنمنٹ میں اچھے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں شروع ہی سے بزنس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی اپنی دلچسپیاں اور ترجیحات تھیں۔ فاطمہ بی بی کو ان کا ہم مزاج شوہر مل گیا تھا۔ ساس مزاج کی ذرا سخت تھیں‘ مگر باقی لوگ بہت اچھے تھے۔ فاطمہ سے سب محبت سے ہی پیش آتے تھے۔ فاطمہ بی بی نے اپنے مزاج کی نرمی اور خدمت سے ان سب کے دل جیتے تھے۔ فاطمہ اور سرور علی کی صرف دو ہی بیٹیاں تھیں۔ نیلوفر اور سمیہ۔ دو بیٹیوں کے بعد ایک مس کیرج ہوا تھا جس کے بعد سرور علی نے مزید اولاد کی خواہش ختم ہی کردی۔ فاطمہ بی بی کو بیٹے کی خواہش ہوئی تو سرور علی نے صاف صاف کہہ دیا۔
’’مجھے بیٹے سے زیادہ تمہاری زندگی کی چاہ اور خواہش ہے۔ میری یہ دوبیٹیاں ہی میرے بیٹے ہیں۔ تم ان کی تربیت میں کوئی کسر مت چھوڑنا۔ مجھے یہ بیٹیاں بیٹوں سے زیادہ پیاری ہیں۔‘‘ سرور علی کی باتوں نے فاطمہ کے دل میں شوہر کی عزت ومرتبہ بڑھا دیا تھا۔ انہوں نے جاہل مردوں کی طرح بیٹوں کے شوق میں بیوی کو تختہ مشق نہیں بنایا تھا بلکہ الٹا فاطمہ بی بی کو مورلی اور سائیکلوجیکل سپوٹ دی تھی۔ فاطمہ بی بی کو ساس سے خطرہ تھا کہ وہ لوگوں کی باتوں میں آکر کچھ ایسا نہ کر بیٹھیں جو ان کی گرہستی کے لیے خطرہ اور ان کے شوہر کے درمیان میں دیوار بن جائے مگر خاموشی کی زبان میں ہی سہی ان کا یہ خوف سرور علی کی والدہ تک پہنچ گیا تھا۔ ایک دو مرتبہ خاندان کی خواتین اور ملنے جلنے والیوں نے ان سے سرور علی کی دوسری شادی کے بارے میں کہا بھی مگر ان کا یہی جواب ہوتا تھا۔
’’بیٹا اور بیٹی اللہ کی دین ہیں‘ کیا فرق ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی۔ ہیں تو دونوں اللہ کی نعمتیں۔ ہم کفران نعمت کریں اور بیٹے کی چاہ میں بیٹیوں کی بھی قدر نہ کریں۔ اللہ کو ناراض کرنے والی بات ہوئی یہ تو۔ جب ہمارے نبی سرکارﷺ نے بیٹیوں کو اتنی چاہ اور عزت بخشی تو ہماری کیا اوقات۔ جب آپﷺ نے خنداں پیشانی سے بیٹی کا استقبال فرمایا تو ہماری کیا مجال ہے۔ رحمت کی آمد پر سوگ طاری کرلیں۔ اللہ نے رحمت بھیجی ہے اور دو دو… ہم کفران نعمت نہیں کرسکتے۔ سرور کو بیٹا ہونا ہوا تو فاطمہ سے ہی ہوجائے گا ورنہ ہمیں بیٹے کی چاہ میں اپنی بہو کی بددعا لینے کا شوق نہیں۔‘‘ وہ ٹکا سا جواب دے دیتیں اور جو کہنے والے پوچھتے کہ سرور علی کی نسل آگے کیسے بڑھے گی؟ تو بھی بڑا نپا تلا جواب ملتا۔ اللہ نے سرور کے نام کو بڑھانا ہوگا تو اپنی بیٹیوں کو ذریعہ بنا دے گا ورنہ یہ ابھی تو دیکھا ہے کہ لوگوں کی نسل بیٹوں کے ہونے کے باوجود بھی آگے نہیں بڑھتی۔‘‘ غرض کہ جتنے منہ ہوتے ہیں اتنی ہی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ فاطمہ اپنی ساس کی دل وجان سے گرویدہ ہوگئی تھیں۔ فاطمہ بی بی کو ان سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا تھا۔ وہ اپنی ساس کی پہلے سے زیادہ خدمت کرنے لگی تھیں۔ بس ان کے ایک اشارے کی منتظر ہوتی تھیں۔ انہوں نے اپنی بچیوں کی تربیت میں اپنی ساس کے علم کو بھی شامل کیا تھا۔ وہ جو جو کچھ اپنی ساس سے سیکھتی گئیں اپنی دونوں بیٹیوں میں بھی وہی انڈیلتی گئیں۔ دونوں بیٹیاں زرخیز زمین تھیں‘ گیلی مٹی کی طرح سارا سکھایا پڑھایا اپنے اندر جذب کرتی رہیں۔ وقت آخر فاطمہ نے اپنی ساس کی بے حد خدمت کی تھی۔ وہ ان سے دعائوں کے اس خزانے کی طلب گار تھیں جو آگے ان کی اولاد کی زندگیاں سنوارنے کے کام آتا اور وہ خزانہ انہیں ملا۔
ظ …ژظ ژ…ظ
نیلوفر اور سمیہ کے مزاج میں بہت فرق تھا۔ نیلوفر شکل وصورت‘ عادات واطوار میں بالکل اپنی دادی کی طرح تھیں۔ وہی شکل وصورت‘ ویسا ہی رکھ رکھائو اور انداز۔ وہ بہت شوخ‘ ہنس مکھ اور چنچل تھیں۔ جس محفل میں جاتیں‘ سب کی نظریں انہی پر گڑ جاتیں۔ جبکہ سمیہ میں اپنے ماں اور باپ کی جھلک تھی۔ وہ بھی خوب صورت تھی مگر نیلوفر جتنی نہیں۔ ان کے مزاج میں ٹھہرائو اور سادگی تھی۔ وہ خاموش طبع اور حساس طبیعت تھیں۔ ان کے شوق اور ان کی دنیا مختصر تھی۔ دونوں بہنوں کے طور طریقوں میں بھی فرق تھا اور قسمتوں میں بھی۔ نیلوفر کے حصے میں حسن زیدی آئے اور سمیہ کے نصیب فیضان علی سے جڑ گئے۔ حسن زیدی ایک کامیاب انسان تو تھے مگر ایک شکستہ اور کمزور شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی اس شخصیت پر ایک بے حد کامیاب اور قابل آدمی کا نقاب چڑھا ہوا تھا۔ وہ اپنے پیرنٹس اور فیملی کے ساتھ لندن میں رہتے تھے‘ عرصہ دراز سے ان کا گھرانا وہیں سیٹل تھا۔ لندن میں حسن زیدی کی پیدائش ہوئی تھی مگر مقدر ان کا نیلوفر کے ساتھ لکھا ہوا تھا‘ جو انہیں پاکستان لے آیا۔
فیضان علی‘ سمیہ کے تایا زاد تھے۔ سمیہ شروع ہی سے فیضان علی کو پسند تھیں۔ وہ اپنی اس پسند کا اظہار اپنی ماں سے بہت پہلے کرچکے تھے۔ وہ سیدھے سادے‘ بے حد شریف اور مناسب شکل وصورت کے مالک تھے۔ انہیں اپنے والد کے کاروبار میں انٹرسٹ نہیں تھا‘ ان کا شوق سرور علی کی طرح اعلیٰ سرکاری آفیسر بننے کا تھا جو کہ انہوں نے پورا کرکے ہی دم لیا۔ نیلوفر اور سمیہ کی شادیاں اکٹھی ہی کردی گئی تھیں۔ ایک بیاہ کر دیار غیر چلی گئی‘ دوسری سمندر کنارے آگئی۔
فاطمہ بی بی کو داماد کے گھر رہنا گوارا نا تھا تب فیضان علی نے بہت منت سماجت کے بعد انہیں سمجھا بجھا کر راضی کرلیا۔ وہ بھی اس شرط پر راضی ہوئیں کہ ان کے شوہر کا گھر کرائے پر اٹھا دیا جائے کیونکہ وہ اس عمر میں کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھیں‘ اس گھر کو چھوڑنا ان کے لیے بہت مشکل تھا جہاں ان کی زندگی کے قیمتی دن اور انمول یادیں تھیں۔ مگر وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے‘ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھیں‘ تنہا نہیں رہ سکتی تھیں‘ کوئی ایمان دار‘ قابل بھروسہ ملازم یا ملازمہ مل نہیں رہی تھی‘ جو کل وقتی ان کے ساتھ رہتی‘ بیٹی اور داماد کے آگے انہوںِ نے ہتھیار ڈال دیئے اور ان دونوں کے ساتھ آکر رہنے لگیں۔ شادی کے دوسرے سال سمیہ کے یہاں ماریا کی پیدائش ہوئی اور انہی دنوں عبداللہ کی پیدائش کی خوش خبری بھی آگئی۔ ماریا کے بعد حوریہ بھی آگئی۔
فیضان علی نے چاہت کے باوجود کبھی سمیہ سے بیٹے کی خواہش ظاہر نہ کی تھی مگر سمیہ کے اندر یہ خواہش شدید ہوتی جارہی تھی۔ وہ کبھی شوہر سے اس خواہش کا اظہار کرتیں تو وہ جواب دیتے۔
’’ہمارے یہاں بیٹا پیدا ہونا ہوا تو ہوجائے گا‘ ورنہ ہمارے داماد ہی ہمارے بیٹے ہوں گے۔‘‘ وہ بات ہی ختم کردیتے تھے مگر سمیہ یہ خواہش اپنے اندر سے نہ نکال پاتیں اور حوریہ کی پیدائش کے بعد تو یہ خواہش بڑھتی ہی گئی مگر قسمت کو منظور نہیں تھا اور قسمت پر کوئی زور چلا نہیں سکتا۔
سمیہ کی سب ہی کزنز اور سہیلیوں کے بھائی تھے اور خاصی وافر مقدار میں۔ تین سے کم کی تو تعداد کسی کی نہیں تھی وہ اکثر ان لڑکیوں کو ان کے بھائیوں سے لڑتے‘ مذاق کرتے‘ ہنستے اور اکڑتے دیکھتی تھی۔ ان کی صرف ایک بہن تھی جو انہی کی طرح لڑکی تھی۔ مگر انہیں بھائی چاہیے تھا۔ وہ بہت چھوٹی سی تھیں جب فاطمہ نے سامنے والے کریانہ اسٹور پر انہیں کچھ سامان لانے بھیجا تھا۔ وہ سامان لے کر واپس جارہی تھی کہ ایک اونچے لمبے سے مرد نے اسے آگے بڑھ کر گود میں اٹھا لیا۔ وہ بچی ہی تو تھی‘ بے حد گھبرا کر چیخ پڑی‘ سامان کے تھیلے اس کے ہاتھ سے گر چکے تھے‘ اور سارا سودا سڑک پر بکھر چکا تھا۔ وہ سمجھی تھیں کہ وہ آدمی اسے اغوا کرنے لگا ہے۔ انہوں نے چیخ و پکار مچادی۔ اسی پل انہیں اپنے ابا نظر آئے جو اس آدمی کے ساتھ ہی کھڑے تھے۔ وہ چیخ مار کر ان کی طرف لپکی تھیں۔
’’سوری یار میں نے تمہاری بیٹی کو ڈرا دیا۔ آئم ویری سوری۔‘‘ وہ مرد شرمندگی سے سمیہ کو نیچے اتارتے ہوئے سرور علی سے کہہ رہا تھا۔
’’اٹس اوکے! سمی نے تمہیں پہچانا نہیں ہے شاید۔‘‘ سرور علی نے سمیہ کو گود میں اٹھا لیا۔
’’سیمی بیٹا! یہ آپ کے فراز چاچو ہیں۔ بھول گئیں؟ کچھ دن پہلے ان کے بیٹے کی برتھ ڈے میں ہم آپ کو اور آپا کو لے گئے تھے۔‘‘ سرور علی نے ان کی پشت تھپتھپاتے ہوئے نرمی سے کہا تھا۔ مگر وہ اتنی خوف زدہ تھیں کہ اپنے ابا کے گلے میں بانہیں ڈال کر ان کے سینے میں منہ چھپا لیا تھا۔ یہ اس خوف کی شروعات تھی جو بیج کی صورت اس نرم زمین میں دب گیا تھا۔ پھر اس خوف کو سمیہ بجائے اپنے اندر سے نکالنے کے اسے سینچتی گئیں۔ رفتہ رفتہ وہ خوف ان کے اندر جڑیں پھیلاتا گیا۔ انہیں بارہا ایسا لگتا تھا کہ اگر ان کا کوئی جوان مضبوط لمبا چوڑا بھائی ہوتا تو وہ بالکل محفوظ ہوجاتیں۔ ان کے ابا درمیانے قد کے منحنی سے جسم والے عام سے انسان تھے‘ جن کے چہرے سے شرافت کی آبشاریں بہتی تھیں۔ وہ ابا سے بے حد محبت کرنے کے باوجود ان پر بھروسہ نہیں کرسکی تھی‘ بھروسہ اس بات کا کہ اس کے ابا اسے مشکل وقت پڑنے پر بچالیں گے‘ عدم تحفظ کا یہ احساس ان کی عمر کے ساتھ بڑھتا گیا تھا‘ دوسرا واقعہ جس نے اس احساس کو مزید ہوا دی تھی‘ وہ اس کے بعد سے اپنے آپ کو نفسیاتی طور پر سنبھال نہ سکی تھیں۔ وہ دسویں کلاس میں پڑھتی تھیں ان کا اسکول پانچ منٹ کی واک پر تھا۔ وہ روزانہ اپنی سہیلی کے ساتھ اسکول آتی جاتی تھیں۔ ان کی سہیلی صفیہ خاصی بولڈ اور بہادر تھی۔ امتحان قریب تھے جب ان کے راستے میں ایک لفنگا ٹائپ لڑکے نے آنا شروع کردیا۔ وہ کمبخت روزانہ چھٹی کے وقت کہیں سے نمودار ہوجاتا اور اسکول سے لے کر سڑک کے دوسرے کونے تک ان کے پیچھے سایہ بن کر چلتا رہتا۔ کبھی سیٹی بجاتا‘ کبھی فلمی گانے گنگناتا‘ صفیہ تو اس کی پٹائی کرنے والی تھی مگر سمیہ ہر بار اسے روک لیتی تھی۔
’’تمہاری یہ بزدلی کسی دن کوئی رنگ دکھائے گی‘ مگر وہ رنگ بہت بد رنگ ہوگا۔ ابھی دو جوتے لگا دیتی تو منحوس پھر شکل نہ دکھاتا۔‘‘ صفیہ اس روز بھی کڑھ رہی تھی۔ اس روز تو وہ لفنگا ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا۔
’’دفع کرو‘ دیکھتی نہیں اسے‘ ہم لڑکیاں بھلا اس کا مقابلہ کرسکتی ہیں؟‘‘ سمیہ نے سہیلی کا ہاتھ دبایا۔
’’ہاں بس تم ڈر ڈر کر مرو‘ یہ اور اس طرح کے جتنے بھی ہیں کمبخت اسی لیے تو شیر بنے دندناتے رہتے ہیں۔‘‘ صفیہ ان سے ناراض ہوگئی تھی۔ ایک دوپہر تو اس لڑکے نے حد ہی کردی تھی۔ سڑک پر سمیہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ صفیہ نے تو اپنا جوتا اتار ہی لیا تھا‘ مگر سمیہ کا چہرہ دہشت سے زرد ہوگیا تھا جیسے اب بے ہوش ہوکر گرجائے گی۔ وہ تو غنیمت ہوا کہ صفیہ کا اونچا لمبا سا مضبوط قد کاٹھ کا بھائی وہاں معجزاتی طور پر آگیا۔ اس نے اس لڑکے کی حرکت دیکھ لی تھی۔ اس نے ا س لڑکے کو پکڑ کر خوب مرمت کی‘ اس رو ز کے بعد سے صفیہ کا بھائی چھٹی کے وقت ان دونوں کو اسکول لینے آتا تھا اور صبح کے وقت سرور علی ان دونوں کو اسکول چھوڑ دیتے تھے۔ وہ لڑکا تو پھر نظر نہ آیا مگر سمیہ اب اپنے اندر سے اس خوف کو کم نہ کر پائی تھیں۔ وہ کافی عرصے بعد نارمل ہوئی تھیں۔ حالانکہ نیلوفر انہیں بہت سمجھاتی تھی‘ وہ نیلوفر کو حسرت سے دیکھتی تھی‘ وہ بہت بے خوف‘ نڈر اور بولڈ تھی۔ ان جیسی دبو اور ڈرپوک نہ تھی۔ اس سے ملتا جلتا حادثہ شادی کے بعد ان کے ساتھ ہوا تھا۔ جب وہ فیضان علی کے ساتھ ہنی مون منانے مری گئی تھیں۔ وہاں مال روڈ پر چند لڑکوں نے انہیں چھیڑا تھا۔ وہ کالج کے ان شرارتی لڑکوں کا ٹولہ تھا جو محض فقرے بازی تک اپنی چھیڑ خانی کو محدود رکھتے ہیں۔ مگر وہ فیضان علی کی خاموشی کو ان کی بزدلی سمجھی تھیں‘ انہوں نے سوچا کہ وہ چار پانچ لڑکے ہیں اور فیضان علی اکیلے… وہ ان کا مقابلہ کر بھی کیسے کرسکتے ہیں‘ اگر فیضان علی بہادر ہوتے تو یقینا ان لڑکوں کو جواب دیتے‘ ایک شکوہ سا ان کے اندر ابھرا تھا جبکہ ان کے برعکس فیضان علی سوچ کر مسکرا رہے تھے کہ یہی تو موج مستی کی عمر ہے‘ وہ ان لڑکوں کو بچہ سمجھ کر ان کی باتوں سے محفوظ ہورہے تھے کیونکہ ان کی ذہنی اپروچ سمیہ سے زیادہ میچور تھی۔ جس کی ایک وجہ ان دونوں کی عمروں میں آٹھ سال کا فرق تھا۔ اس خوف کے ساتھ ہی ان کے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش ان کا کوئی بیٹا ہو مگر بیٹیوں کی پیدائش نے ان کے خوف کو کہر کی طرح ان کے اندر باہر لپیٹ لیا تھا اور حوریہ کی پیدائش کے بعد جو حادثہ ہوا تھا‘ نہ صرف ان کی بلکہ ان کی بیٹی کی شخصیت کو بھی بری طرح متاثر کیا تھا۔
’’حور! بیٹا قاری صاحب آئے ہیں‘ اچھی طرح سے دوپٹہ اوڑھ کر جائو‘ پینو! جائو تم بھی ساتھ جاکر بیٹھو۔ کام بعد میں کرلینا۔‘‘ سمیہ نے کرتے کی ترپائی کرتے ہوئے بیٹی سے کہا اور ساتھ ہی ڈسٹنگ کرتی پینو کو بھی ہدایت دی۔ ننھی منی سی حوریہ نے اپنے قد سے بھی بڑ ادوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔
’’ارے‘ میرے پاس آئو جانو‘ خالہ ٹھیک سے اوڑھا دیں دوپٹہ۔‘‘ نیلوفر نے اس گڑیا کو دیکھا جو فیروزی لباس میں دوپٹے سے نبرد آزما ہورہی تھی۔ نیلوفر نے اسے نماز کی طرح دوپٹہ اوڑھا کر پیار کیا اور جانے کا اشارہ کیا۔
’’سمی! تم حوریہ کے لیے کچھ اوور پوزیسو نہیں ہو؟ میں جب سے آئی ہوں نوٹ کررہی ہوں‘ ایکچولی ماریہ کے لیے بھی ہو مگر حور کے لیے زیادہ لگتی ہو‘ کیا میں نے صحیح آبزرو کیا؟‘‘ انہوں نے بہن سے پوچھا۔ بائی فوکل گلاسز لگائے سمیہ اپنے کرتے کی ترپائی کرتے کرتے یک دم ٹھٹکیں مگر پھر سر جھٹک کر اپنا کام شروع کردیا۔
’’نہیں آپا! آپ نے صحیح آبزرو کیا ہے۔ میں حور کے لیے زیادہ پوزیسو ہوں۔‘‘ انہوں نے بہن سے جھوٹ نہیں بولا۔
’’کیوں؟‘‘ وہ حیران ہوئیں۔
’’آپ کو پتہ تو ہے آپا…‘‘ انہوں نے بہن کی طرف ایک نظر دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئیں۔
’’ڈونٹ ٹیل می سیمی! تم ابھی تک اس حصار سے باہر نہیں آئی ہو؟‘‘ انہیں جیسے صدمہ ہوا۔ سمیہ خاموش رہیں۔ ترپائی ختم ہوچکی تھی۔ انہوں نے سوئی کو دھاگے میں اٹکا کر ڈبے میں رکھا اور قمیص کو تہہ لگانے لگیں۔
’’تم جانتی ہو تم حوریہ کے ساتھ کیا کررہی ہو؟ تم اسے بھی اپنے ساتھ اسی حصار میں قید کررہی ہو۔‘‘ وہ ناراضگی سے بولیں۔ سمیہ چپ رہیں۔ ’’ماریہ کا مزاج حوریہ کے برعکس ہے۔ اس پر تمہاری باتوں اور اس نفسیاتی کیفیت کا اثر نہیں ہوتا جو حوریہ پر ہوچکا ہے۔ میری بات سمجھ رہی ہو نا تم؟‘‘ وہ اب انہیں ڈانٹنے والے انداز میں کہہ رہی تھیں۔
’’دنیا کمزوروں کی نہیں ہے‘ دنیا میں جینا ہے تو بہادر بن کر رہنا پڑتا ہے۔ تم اسے کمزور بنا رہی ہو۔‘‘ نیلوفر نے خاصی ناراضگی سے کہا۔
’’میں کیا کروں آپا؟ مجھ سے اب کچھ نہیں ہوتا۔‘‘ وہ دبے دبے لہجے میں بولیں۔ ان کے ادھورے فقرے میں پوشیدہ معنی نیلوفر جانتی تھیں۔
’’سیمی! بچی کے ساتھ دشمنی مت کرو۔ اسے مضبوط بنائو‘ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا سکھائو۔‘‘ نیلوفر اٹھ کر بہن کے پاس چلی آئی۔ یہ ایک بے اختیاری کی سی کیفیت تھی‘ جو بلاارادہ ان سے سرزد ہوئی تھی۔ وہ جذباتی طور پر بہن کو سہارا دے رہی تھیں۔
’’آپا! میرے پاس جو تھا وہ میں نے اپنی اولاد کو دے دیا۔‘‘ سمیہ نے ایسی نظروں سے انہیں دیکھا کہ دکھ سے ان کا دل کٹنے لگا۔
’’تم بہت اچھی ہو سیمی! تم نے اپنی اولاد کو بہت کچھ اچھا دیا ہے مگر اس اچھے کے ساتھ انجانے میں جو دشمنی تم حوریہ سے کر بیٹھی ہو Iam realy scared میں نے ایک دن میں جو اس کے اندر دیکھ لیا‘ کمال ہے تم ماں ہوکر نہیں دیکھ سکیں۔‘‘ نیلوفر دھیمے اور نرمی سے سمجھا رہی تھیں۔ اسی وقت عبداللہ وہاں آگیا۔
’’مام! لک ایٹ دس‘ آئی میڈ اٹ بائی مائی سیلف۔‘‘ عبداللہ نے کاغذ سے بنایا ہوا روبوٹ اسے دکھایا۔ دونوں بہنیں اس کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
’’اچھا… شومی۔‘‘ نیلوفر نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ عبداللہ نے مختلف کاغذوں کے ٹکڑوں کو جوڑ کر چھوٹا سا ایک روبوٹ نما کھلونا بنایا تھا۔
’’ویری نائس‘ یہ تو بہت اچھا ہے۔‘‘ نیلوفر نے محبت سے اس کا رخسار چھوا۔
’’آپ ہمارے پاس آئیں جناب اور بتائیں کہ آپ کو پاکستان آکر کیسا لگا؟‘‘ سمیہ نے صحت مند سے عبداللہ کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور گود میں بٹھا لیا۔
’’ابھی میں نے پاکستان دیکھا ہی کب ہے۔‘‘ وہ بڑی سنجیدگی و متانت سے بولا تو نیلوفر مسکرادیں اور سمیہ کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔
’’ہم آپ کو آج باہر لے چلیں گے اور کراچی کی سیر کروائیں گے۔ ہوپ سو یوول انجوائے۔‘‘ سمیہ نے کہا۔
’’یہ تو سیر کرنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔‘‘ عبداللہ نے بولڈلی جواب دیا۔
’’اچھا یہ بتائو لندن میں قرآن پاک کون پڑھاتا ہے‘ کیا قاری صاحب آتے ہیں گھر؟‘‘ سمیہ کو اس سے باتیں کرکے بڑا مزہ آرہا تھا۔ وہ اردو بہت اچھی بول لیتا تھا جو کہ نیلوفر کی تربیت کا حصہ تھا مگر اس کا لہجہ غیر ملکیوں جیسا ہی تھا جو کہ یقینا وہاں کے ماحول کا اثر تھا۔
’’وہاں قاری صاحب نہیں آتے‘ ہماری پے انگ گیسٹ ہیں آنٹی فہمیدہ‘ وہ مجھے نماز اور قرآن پاک پڑھاتی ہیں اور سیمی آنٹی! مجھے عربی بولنا بھی آتی ہے۔‘‘ عبداللہ نے بڑے فخر سے بتایا۔
’’اچھا… ایکسلنٹ اور کون کون سی لینگویج بولنا آتی ہے؟‘‘ وہ شوق سے اس سے باتیں کررہی تھیں اور نیلوفر صوفے سے ٹیک لگائے بہن کو دیکھ رہی تھی۔ سمیہ کی آنکھوں میں جو چمک عبداللہ کو دیکھ کر آتی تھی وہ اس چمک کو سمجھتی تھیں اور جانتی بھی مگر وہ بے بس تھیں‘ وہ اپنی بہن کے لیے وہ نہیں کرسکتی تھیں جو اس کے اندر کے اس حصار کو توڑ سکے۔
’’فرنچ اور تھوڑا تھوڑا چائنیز بھی۔ میرا ایک فرینڈ ہے چائنیز…‘‘ عبداللہ کی بیٹری چارج ہوگئی تھی۔
’’تھوڑا تھوڑا نہیں‘ تھوڑی تھوڑی۔‘‘ سمیہ نے اس کی تصحیح کی۔
’’ابھی بھی گرامیٹکل مسٹیکس نکلتی ہیں۔‘‘ نیلوفر نے ٹکڑا جوڑا۔
’’آنٹی! آپ کی بیٹی ہیں‘ بیٹا نہیں ہے؟‘‘ اس نے یک دم پوچھا۔ سمیہ لمحہ بھر کو چپ ہوگئی۔
’’تم جو ہو میرے بیٹے۔‘‘ وہ بولیں۔
’’میں تو آپ کا Nephew (بھانجا) ہوں۔ آئی مین ٹو سے‘ حوریا ز برادر؟‘‘ اس نے بڑوں کی طرح انہیں سمجھانا چاہا۔
’’نو مائی ڈیئر۔‘‘ سمیہ یوں آہستگی سے بولیں جیسے کسی جرم کا اعتراف کررہی ہوں۔ ’’تم میرے بیٹے بن جائو۔‘‘
’’اٹس ناٹ پاسبل… میری مام تو یہ ہیں۔‘‘ اس نے نیلوفر کی طرف اشارہ کیا۔
’’آپا! آپ کا بیٹا امیزنگ ہے‘ ماشاء اللہ… اللہ اسے اپنی امان میں رکھے۔‘‘ وہ بے ساختہ ہنس پڑی تھی۔ عبداللہ سے باتوں کے دوران انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ بہت حاضر دماغ بچہ ہے اور بہت ذہین بھی۔
اتنے میں حوریہ اور ماریہ ڈرائنگ روم سے باہر آگئیں۔ عبداللہ ان کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’جائو بہنوں کے ساتھ کھیلو۔‘‘ سمیہ نے عبداللہ سے کہا۔
’’یہ میری بہن نہیں کزنز ہیں۔‘‘ عبداللہ سمیہ کی گود سے اترتا ہوا بولا۔
’’بہنیں اور کزنز ایک جیسی ہی ہوتی ہیں بیٹا۔‘‘ وہ اس کی بات کا جواب دے رہی تھیں مگر نیلوفر کو دیکھ رہی تھیں۔ نیلوفر کی نظریں بہن پر ہی مرکوز تھیں مگر انہوں نے ان سے نگاہیں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
’’مام نے تو کہا تھا کہ الگ ہوتی ہیں۔‘‘ وہ حیران سا کچھ الجھ کر بولا۔ سمیہ نے اس بار الجھ کر نیلوفر کو دیکھا۔
’’جائو عبداللہ! حور اور ماریہ کے ساتھ کھیلو اور دیکھو حور تم سے چھوٹی ہے اس کا خیال رکھنا۔‘‘ وہ انگریزی میں اس سے مخاطب تھیں‘ عبداللہ ان دونوں بہنوں کے ساتھ ذرا پرے ہٹ کر کھیلنے لگا تو سمیہ نے نیلوفر کی طرف دیکھا۔
’’جانتی ہوں تم کیا پوچھنا چاہتی ہو۔‘‘ ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی نیلوفر بولیں۔ سمیہ چپ رہیں۔
’’ہمیں اپنے بچوں کو حقیقت اور سچائی کے ساتھ ہر بات کی آگاہی دینی چاہیے‘ انہیں دوغلے پن سے جینا تو ہم خود ہی سکھاتے ہیں۔ یہ تمہاری کزن‘ تمہاری بہن ہے‘ یہ تمہاری ساس تمہاری ماں جیسی ہے‘ یہ فلاں تمہارے بھائی جیسا ہے‘ ماموں‘ چچا تمہارے باپ جیسا ہے فلاں فلاں اور فلاں… ربش… یہی ساری باتیں مل کر فساد برپا کرتی ہیں۔ رشتوں کو ان کے اصل سے ہٹا کر ہم ملاوٹ زدہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی حالتوں کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیتے ہیں۔ بچپن سے جس کو بھائی یا آپا یا بہن کہتے کہتے بچہ جوان ہوجاتا ہے‘ اس کی اسی سے شادی کردی جاتی ہے پھر رشتہ کیا اور اس کا تقدس کیا اور اس کا بھرم کیا…؟‘‘
’’سیمی! میں یہ باتیں تمہیں سنا نہیں رہی ہوں۔ تم میری بہن ہو‘ میری ماں جائی ہو‘ یہ سب سے بڑی حقیقت ہے اور مضبوط ترین رشتہ ہے۔‘‘ وہ بولتی ہوئی سمیہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے ہلکے سے ان کے ہاتھ کو دبا کر جیسے اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلارہی تھیں۔
’’سیمی! ہمیں اپنے بچوں کے یقین مضبوط بنانے ہیں۔ ہمیں ان کے ذہنوں کی اتنی مضبوط نشوونما کرنی ہے کہ بھائی اور بہن کے ناموں کی جو بائونڈریز ہم ان کے گرد بنا دیتے ہیں اور وہ کبھی کبھی ان حدود کے اندر ہی سڑ گل جاتے ہیں… وہ ایسا نہ کرسکیں… انہیں حقیقت بتا کر سب کچھ اچھے طریقے سے سمجھا کر ان کو فیصلہ کرنے کا اختیار دینا چاہیے۔ ہم لوگ لاشعوری طور پر اپنے بچوں کے ذہنوں میں اپنی مرضی کے خاکے بنانا شروع کردیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ جو دوغلی چالیں اور جھوٹی حکمت عملیاں چلتے ہیں اس کا رزلٹ بگاڑ اور دوہری ذہنیت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ حوریہ اور ماریہ عبداللہ کی خالہ زاد ہیں تو یہی ان کا پہلا تعارف ہونا چاہیے۔ وہ خالہ زاد بہنیں ہیں یہ تعارف دوسرا ہوگا۔ سوچ کا فرق انہی دو باتوں سے آجاتا ہے جب بچہ‘ باشعور انسان‘ بنتا ہے۔ امید ہے تمہیں میری باتیں بری لگنے کے باوجود سچی لگی ہوں گی۔‘‘ نیلوفر نے آخری جملہ مسکرا کر کہا۔
’’ہاں آپا تھوڑی کڑوی ضرور ہیں مگر آپ کی باتیں سچی ہیں۔‘‘ وہ مسکرادی۔ ’’میں کوشش کروں گی کہ بچوں کو آپ کی طرح مضبوط اور مثبت سوچ دے سکوں۔‘‘ نیلوفر نجانے کس سوچ میں ڈوب گئی تھیں‘ انہوں نے بہن کی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔
٭…٭…٭
وہ آٹھ سال کی تھی جب اس نے ایک بار پھر نیلوفر خالہ اور عبداللہ بھائی کو دیکھا تھا۔ مگر اس بار دونوں میں ہی خاصی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ اس کی خوب صورت سی صحت مند گوری چٹی سرخ سرخ گالوں والی نیلی خالہ بہت ہی کمزور ہوگئی تھیں۔ ان کی گوری رنگت میں زردیاں گھلی ہوئی تھیں اور خوب صورت آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کوئی زیور بھی نہیں پہنا تھا‘ اور نہ ہی میک اپ کر رکھا تھا۔ ان کا لباس قیمتی مگر بہت سادہ تھا۔ وہ مسکرا بھی نہیں رہی تھیں۔ عبداللہ اب بڑا ہوگیا تھا‘ اس کا قد خاصا لمبا تھا اور اس نے اپنا ہیئر اسٹائل بھی بدل لیا تھا۔ وہ بہت سنجیدہ لگ رہا تھا اور بہت چپ چپ سا بھی۔ وہ اس سے سنجیدگی سے ملا تھا البتہ نیلوفر نے اسے گلے سے لگا کر پیار کیا تھا۔ اس نے امی جی اور نانی جان کی آنکھیں بھیگی دیکھی تھیں۔ پاپا جی بھی بہت خاموش اور افسردہ سے تھے۔
’’حور! عبداللہ کو روم میں لے جائو۔ گیمز وغیرہ لگا لو کمپیوٹر پر۔‘‘ سیمی جیسے بچوں کو وہاں سے ہٹانا چاہ رہی تھیں۔ ماریہ ان لوگوں کے لیے فروٹ چارٹ بنا کر لائی تھی۔ سمیہ کے کہنے پر وہ فروٹ چارٹ روم میں ہی لے گئی‘ باقی سب کو چاٹ پینو نے سرو کی تھی۔
’’جائو پینو! تم رات کے کھانے کی تیاری کرو۔‘‘ فاطمہ نے اسے بھی ٹالا۔
’’اب کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘ کچھ دیر کے توقف کے بعد فاطمہ بی بی کی آواز نے ماحول کے سناٹے کو توڑا۔
’’سوچنا کیا ہے اماں جان! فون پر تو سب حال بیان کر ہی دیا تھا میں نے…‘‘ نیلوفر تھکے تھکے انداز میں بولیں۔ ’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ زیدی اتنا انتہائی قدم اٹھا لیں گے۔ ایک ذرا سا جھگڑا ہی تو ہوا تھا اماں جان… میں نے انہیں کتنی بار کہا تھا کہ شراب نوشی چھوڑ دیں مگر وہ مانتے ہی نہیں تھے‘ نشے میں انسان اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھتا ہے۔‘‘ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے‘ انہیں آئے ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ لندن سے حسن زیدی کی ماں کا فون آگیا تھا۔ انہوں نے جو لرزا دینے والی خبر سنائی تھی‘ سب کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی تھی۔
’’بھائی صاحب! آپ نے میری ٹکٹ کروا دی؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’ہاں‘ تمہاری فلائٹ کنفرم ہے۔ مگر عبداللہ کو کیا جواب دوگی… کیا کہوگی اسے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’وہ میرا بیٹا ہے‘ بھائی صاحب بہت سمجھدار ہے وہ‘ اپنی عمر سے بھی زیادہ‘ سمجھالوں گی اسے۔‘‘ انہوں نے آنسو صاف کرتے ہوئے جواب دیا۔ انہوں نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ آج… اس پل نہیں… بہت پہلے۔ حسن زیدی نے خود کو شوٹ کرلیا تھا اور یہ تب ہوا جب وہ پاکستان آرہی تھیں۔ ان کے سیل پر کالز کی گئیں مگر ظاہر ہے جہاز میں ہونے کی وجہ سے سیل آف تھا۔ حسن زیدی کی ماں نے فیضان علی کے گھر پر اطلاع کردی تھی اور تاکید بھی کہ نیلوفر کو واپس لندن بھیجا جائے‘ وہاں حسن زیدی کی خودکشی والے معاملے کی تحقیق چل رہی تھی۔ اس حادثے سے پہلے ایک حادثہ اور اسی گھر کی چار دیواری میں ہوچکا تھا۔ نیلوفر عبداللہ کو اچھی طرح سے سمجھا کر واپس جاچکی تھیں۔ سب گھر والے اس واقعے کی وجہ سے بہت پریشان تھے‘ سوائے ایک ہستی کے…
’’نانی جان! عبداللہ بھائی اب ہمارے ساتھ رہیں گے؟‘‘ وہ نانی کے پیروں پر زیتون کے تیل کا مساج کرتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
’’ہاں بیٹا… شاید۔‘‘ فاطمہ نے سوچ میں ڈوبے ہوئے جواب دیا۔
’’شاید کیوں! ڈیفی نیٹلی کیوں نہیں نانی جان؟ میں بھائی کو اب جانے نہیں دوں گی۔‘‘ وہ ان کے مبہم سے جواب پر ننھی سی ناک چڑھا کر بولی۔
’’اس کا فیصلہ تو نیلوفر نے کرنا ہے ناں۔‘‘ وہ دھیرے سے بولیں۔
’’عبداللہ بھائی میرے بھائی ہیں ناں؟‘‘ اس نے پھر سوال کیا اور ساتھ ساتھ ننھے ننھے نازک ہاتھوں سے ان کے پیر دبانے لگی۔
’’ہوں…‘‘ فاطمہ کا دھیان کہیں اور تھا۔ ’’ہوں‘‘ پر ہی ٹرخا دیا۔ ’’تو پھر امی جی اور ماریہ اور پینو بھی یہ کیوں کہتے ہیں کہ عبداللہ بھائی میرے کزن برادر ہیں۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’کیونکہ وہ تمہارا کزن برادر ہی ہے‘ بھائی نہیں ہے۔ رئیل برادر وہ ہوتا ہے جو ایک ماں سے پیدا ہو۔ تم اپنے ذہن سے یہ خیال نکال دو حوریہ کہ وہ تمہارا سگا بھائی ہے۔‘‘ وہ نیلوفر کی وجہ سے بے حد پریشان تھیں۔ حوریہ کے سوال درسوال نے انہیں غصہ دلادیا۔ حوریہ دم بخود سی ہوگئی۔ فاطمہ نے اسے یک دم سے چپ ہوتے دیکھا تو انہیں اپنے آپ پرغصہ آیا۔ انہوں نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر قریب کیا اور گلے سے لگا لیا۔
’’سوری بیٹا! نانی کچھ پریشان ہیں۔ جائو جاکر عبداللہ کے ساتھ کھیلو۔ وہ loneliness فیل کررہا ہوگا۔‘‘ انہوں نے اسے پچکار کر باہر بھیجا اور خود تسبیح پر دانے گھمانے لگیں۔ ’’یااللہ میری بچی کی مشکل آسان فرما۔‘‘ ان کے دل سے دعا نکلی۔
جب ہی نیلوفر کا فون آیا تھا۔ وہ فاطمہ بی بی سے تفصیلاً بات کررہی تھیں۔ تقریباً ایک‘ سوا ایک گھنٹہ دونوں کے درمیان بات چیت ہوتی رہی۔ فاطمہ بی بی نے جب فون بند کیا تو ان کے چہرے پر تفکرات کا جال بچھا ہوا تھا۔ وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے وہیں کرسی پر بیٹھ گئی تھیں۔غنیمت تھا کہ گھر پر فیضان علی اور سمیہ دونوں نہیں تھے۔ نیلوفر نے انہیں جس راز کا شریک بنایا تھا وہ بوجھ بہت زیادہ تھا‘ مگر انہیں اٹھانا تھا۔
ظ …ژظ ژ…ظ
’’عبداللہ بھائی! چلیں سائیکل چلاتے ہیں۔‘‘ حوریہ اس سے ضد کررہی تھی۔
’’میرا موڈ نہیں ہے۔ تم ماریہ کے ساتھ چلی جائو۔‘‘ اس نے انکار کردیا۔
’’دیکھیں ناں امی جی! عبداللہ بھائی جب سے آئے ہیں بس اسی طرح چپ چاپ ہیں۔ نہ کھیلتے ہیں نہ بولتے ہیں۔ ان سے کہیں ناں کہ میرے ساتھ چلیں۔‘‘ وہ ماں سے ضد کرنے لگی۔
’’بیٹا! اس کا موڈ نہیں ہے تو تنگ مت کرو۔ تم چلی جائو۔‘‘ انہوں نے نرمی سے کہا۔ فیضان علی نے بغور اس چھوٹے سے بچے کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کے بے حد حسین چہرے پر برف کی سی سرد مہری جمی ہوئی تھی۔ انہیں عجیب قسم کا احساس گھیرنے لگا تھا۔ جس میں ہمدردی بھی تھی دکھ بھی اور تیسری کیفیت وہ تھی جس کو وہ کوئی نام نہیں دے سکتے تھے۔
’’اٹھیں ناں عبداللہ بھائی۔‘‘ وہ اب اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ رہی تھی۔
’’چلو عبداللہ! ہم لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں۔ حور! جائو آپی کو بھی بلا لائو۔‘‘ فیضان علی نے اٹھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی پینو کو کار کی چابی لانے کو کہا۔ حوریہ خوشی خوشی اندر بھاگی۔ عبداللہ چپ چاپ اٹھ کر جوتے پہننے کے لیے باہر کی طرف چلا گیا۔
’’نیلوفر کی آج رات چار بجے کی فلائٹ ہے۔ میں اسے پک کرلوں گا۔ تم ساتھ چلی چلنا۔ آپ بچوں کے پاس رک جائیے گا۔‘‘ فیضان علی آہستگی سے بیوی اور ساس سے مخاطب ہوئے۔
’’میں نے ابھی عبداللہ سے ذکر نہیں کیا ہے۔ نیلوفر نہیں چاہتی تھی کہ عبداللہ کو ابھی پتہ چلے ورنہ وہ ائرپورٹ جانے کی ضد کرتا۔‘‘ فیضان علی مزید گویا ہوئے۔
’’میں ان بچوں کو باہر گھما کر لاتاہوں‘ بعد میں باقی باتیں ہوں گی۔‘‘ وہ خدا حافظ کہہ کر باہر نکل گئے۔ گھر میں اب دونوں ماں بیٹی اور پینو رہ گئے تھے۔
’’میری بچی کس مشکل میں پڑ گئی ہے سیمی…؟ نیلو میری سب سے پیاری بچی۔ اتنی ہمت اور صبر والی ہے وہ‘ جتنی حسین صورت ہے اس کی اتنی بری قسمت۔‘‘ فاطمہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں‘ سمیہ بھی رونے لگیں۔ عبداللہ کی وجہ سے ان دونوں نے اپنے اوپر برداشت کے پہرے بٹھا رکھے تھے‘ عبداللہ کے جاتے ہی وہ برداشت بھی ختم ہوگئی تھی۔
ظ …ژظ ژ…ظ
نیلوفر عدت میں بیٹھ چکی تھیں۔ وہ جب سے آئی تھیں کسی نے نہ ان سے کچھ پوچھا تھا نہ ہی انہوں نے خود سے کچھ بتایا تھا۔ وہ وہاں تقریباً ایک ماہ رہیں تھیں‘ نہ انہیں عدت کا ہوش تھا اور نہ ہی مستقبل کا پتہ۔ وہ تقریباً روزانہ ہی عبداللہ سے اسکائپ پر بات کرتی تھیں‘ یا پھر ای میلز بھیجتی تھیں‘ نیلوفر کے کہنے پر ہی فیضان علی نے عبداللہ کا ایڈمیشن ایک بہت اچھے کانونٹ اسکول میں کروادیا تھا۔ نیلوفر نے اس کے پرانے اسکول کی T.C اور تمام اکیڈمک ریکارڈ اسکول کی انتظامیہ کو میل کردیئے تھے۔ عبداللہ ایک آئوٹ اسٹینڈنگ اسٹوڈنٹ تھا۔ عبداللہ کی اسکولنگ شروع ہوگئی تھی۔ ان حالات میں اس کا مصروف ہوجانا بہت ضروری تھا۔ اس کا اسکول حوریہ اور ماریہ کے اسکول کے راستے میں آتا تھا۔ نیلوفر لندن کے معاملات نمٹا رہی تھیں۔ اس بنگلے میں ہونے والے پے درپے حادثات نے بہت سارے سوالات کھڑے کردیئے تھے۔ نیلوفر نے ان تمام حادثات سے لاعلمی ظاہر کی تھی اور ان کی لاعلمی ثابت ہو بھی گئی تھی۔ نیلوفر کسی الزام کی زد میں نہیں تھیں۔ انہوں نے پہلی فرصت میں اس بنگلے کو فروخت کیا پھر انہوں نے لندن میں موجود باقی کی پراپرٹی بھی بیچ دی۔ حسن زیدی کے تمام اکائونٹس اور اپنے اکائونٹس کی تمام رقم وہ پاکستان میں موجود اپنے بینک اکائونٹ میں ٹرانسفر کرواچکی تھیں۔ تمام جیولری انہوں نے ساتھ رکھ لی تھی اور بھی جو جو ضروری کاغذات ودستاویزات تھے اور جو ضروری سامان تھا انہوں نے وہ پیک کرلیا۔ وہ آخری رات جو انہوں نے ائرپورٹ پر گزاری تھی‘ اس تمام رات وہ ویٹنگ لائونج میں بیٹھی روتی رہی تھیں۔ ان کی فلائٹ اگلی صبح کی تھی اور بنگلہ بیچنے کے بعد ان کے پاس رات گزارنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ حسن زیدی کی ماں نے بیٹے کی موت کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ڈال دی تھی۔ وہ ان کی اور عبداللہ کی صورت دیکھنے کی بھی روادار نہ تھیں۔ اس شہر میں وہ بہت سارے خوب صورت خواب اپنی حسین آنکھوں میں سجائے آئی تھیں مگر وقت کے بے رحم حملے یکے بعد دیگرے ان کی آنکھوں سے خواب نوچتے گئے اور ان کی آنکھوں میں کرچیاں بھر دیں… فاطمہ بی بی کی باتیں انہیں یاد آرہی تھیں۔
’’بہت کٹھن وقت ہے بیٹی…! مگر حوصلہ کرنا ہوگا‘ میرا خدا تمہارے ساتھ ہے۔ تم باہمت اور باحوصلہ بچی ہو… میرا فخر ہو‘ میرا غرور ہو۔ بس حوصلوں کو پست مت کرنا۔‘‘ اور اتنی پریشانیوں میں ماں کی دعائوں نے ہی ان کے حوصلے بلند رکھے تھے۔ انہیں عبداللہ کی خاطر خود کو پھر سے زندہ کرنا پڑا تھا… عبداللہ… جو ان کی واحد اولاد تھا‘ ان کی تمنائوں کا واحد مرکز… ان کا سب کچھ… ان کی ساری عمر کی جمع پونجی‘ وہ اب اسے لندن میںنہیں رکھ سکتی تھیں۔ وہ اس کے ساتھ تنہا بھی نہیں رہ سکتی تھیں‘ انہیں اب ایک عجیب سے خوف نے آن گھیرا تھا۔ عبداللہ ابھی بہت چھوٹا تھا‘ اس کے جوان ہونے تک انہیں اس کی ڈھال بننا تھا۔ زندگی میں پہلی بار انہیں اپنے بے پناہ حسن سے خوف محسوس ہوا تھا۔ زندگی میں پہلی بار انہیں مرد ذات سے خوف محسوس ہوا تھا اور یہ ساری باتیں ان پر اس رات ائرپورٹ کے ویٹنگ لائونج میں کھل رہی تھیں۔ وہیں بیٹھے بیٹھے انہوں نے بہت ساری باتوں پر غور کیا اور کچھ فیصلے کیے۔ پھر وہ نشست سے ٹیک لگا کر جہاز کے فلائنگ آورز گننے لگیں۔
ظ …ژظ ژ…ظ
’’حوریہ کو تم نے پھر عبداللہ کے ساتھ بائیک پر بھیج دیا۔ میں نے تمہیں کتنی بار منع کیا ہے کہ کار کی بات اور ہے مگر اسے عبداللہ کے ساتھ بائیک پر مت بھیجا کرو۔‘‘ فاطمہ بی بی ان پر ناراض ہورہی تھیں۔
’’اماں جان! آج کالج وین مس ہوگئی تھی۔ یہ جلدی ہی چلے گئے تھے۔ عبداللہ روز اسی راستے سے یونیورسٹی جاتا ہے‘ اب میں اس کے لیے اسپیشلی کار منگواتی‘ ان سے ڈانٹ سنتی اور پھر اس میں حرج ہی کیا ہے۔‘‘ سمیہ ماں کے سامنے ناشتہ لگاتے ہوئے وضاحت کررہی تھیں۔
’’سمجھنے کی کوشش کرو سیمی‘ بچے اب بچے نہیں رہے۔‘‘ فاطمہ بی بی نے جھنجلا کر کہا۔
’’اچھا اماں جان! آئندہ خیال رکھوں گی۔ آپ ناشتہ تو کرلیں۔‘‘ انہوں نے کہا اور ساتھ ہی اپنے لیے چائے کپ میں نکال کر بیٹھ گئیں۔
’’نیلی آپا کے اسکول میں آج کوئی فنکشن ہے‘ کہہ رہی تھیں کہ دیر ہوجائے گی‘ تو پینو سے کہہ کر عبداللہ کے کمرے کی صفائی کروانی ہے۔ آپ کو تو پتہ ہے کہ عبد اللہ کو گندگی کتنی بری لگتی ہے۔‘‘ انہوں نے موضوع بدلا۔
’’ہاں تو ساتھ میں ماریہ یا حور کو بھیج دینا کہ ٹھیک سے صفائی کرلے‘ بلکہ باقی کا کام بھی کروالینا۔‘‘
’’اماں جان! کل کی بات لگتی ہے جب نیلی آپا‘ عبداللہ کو لے کر آئی تھیں۔ کیا قیامت کی گھڑیاں تھیں‘ کیا طوفان تھے‘ لگتا تھا کہ بس سب کچھ ختم ہی ہوگیا ہے مگر خدا نے نیلی آپا کو بہت حوصلہ دیا ہے۔ انہوں نے یہاں آکر بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ گھر خرید لیا‘ چلتا ہوا پارلر اور اسکول خرید لیا‘ پھر دن رات جیسے مشین کی طرح کام کرنے میں جت گئیں۔ آج ماشاء اللہ سے ان کے اسکول اور پارلر کی کئی برانچز اس شہر میں بھی ہیں اور دوسرے شہروں میں بھی۔ اللہ نے ان کا بہت ساتھ دیا اور آج ان کا نام پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی پہچانا جاتا ہے۔‘‘ سمیہ بولیں۔
’’ہاں… میری بچی نے بہت ہمت دکھائی مگر یہ بھی سچ ہے کہ فیضان علی اور تم نے بھی اس کا بہت ساتھ دیا ہے۔ اسے کمزور پڑتے دیکھ کر سہارا دینے کے لیے آگے آجاتے تھے ورنہ کیسے کیسے الزام تراشیوں سے میری پھول سی بچی کو لوگوں نے زخمی کیا تھا۔‘‘ فاطمہ بی بی کی بوڑھی آنکھوں میں نمی آگئی۔
’’وقت کیسا بھی ہو اماں جان گزر ہی جاتا ہے۔ زندگی نے بہت کچھ سکھادیا ہے۔‘‘ سمیہ رنجیدگی سے بولیں۔
’’اب تو ماضی‘ بھولی بسری یاد بن گیا… بس اب تو پرانی زمینوں پر نئی عمارتوں کی بنیاد ڈالنی ہے۔ تعمیر نو کا سلسلہ تو شروع ہوچکا ہے‘ بس اسے تمام کرنا ہے۔‘‘ فاطمہ بی بی معنی خیز انداز میں بولیں تو سمیہ چونکیں۔
’’اماں جان کس بات کی طرف اشارہ ہے آپ کا؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’ماریہ کا رشتہ تو تم دونوں میاں بیوی نے کردیا۔ فواد بہت اچھا لڑکا ہے‘ دیکھا بھالا خاندان ہے‘ فیضان میاں کے قریبی رشتے دار ہیں۔ برسوں سے جانتے ہیں انہیں۔ شکر الحمدللہ‘ یہ پھول سا وزن ہلکا ہوا‘ بس اب حور کی فکر کرو۔‘‘ وہ مدعے پر آئیں۔
اماں جان! مگر کوئی اچھا لڑکا بھی تو ہو جو اپنی حور کے قابل ہو‘ آپ کی نظر میں کوئی ہے تو بتائیں۔‘‘ وہ انہیں دیکھنے لگیں۔
’’ہے تو… مگر پتہ نہیں فیضان علی مانے یا نہ مانے۔‘‘ انہوں نے جھجکتے ہوئے بیٹی کو دیکھا۔
’’کون… کس کی بات کررہی ہیں اماں؟‘‘ انہوں نے حیرت اور کچھ الجھے ہوئے انداز میں ماں سے سوال کیا۔
’’عبداللہ… مجھے شروع سے ہی حوریہ کے لیے یہ بچہ بہت پسند ہے۔‘‘ انہوں نے عبداللہ کا نام لیا تو سمیہ چپ سی ہوگئیں۔
’’سیمی! کیا ہوا بیٹی… چپ کیوں ہوگئی ہو… کیا عبداللہ تمہیں پسند نہیں؟‘‘ انہوں نے بغور بیٹی کا چہرہ دیکھا جیسے ان کے ذہن پر لکھی تحریر پڑھ رہی ہوں۔
’’عبداللہ مجھے بے حد پسند ہے اماں جان! وہ اس عمر میں بھی اتنا سلجھا ہوا‘ سمجھدار اور متوازن شخصیت کا مالک ہے کہ میرا جی چاہتا تھا ہمیشہ سے کہ حوریہ کا رشتہ اسی سے ہو مگر…‘‘ وہ کہتے کہتے رکیں جیسے سوچ رہی ہوں کہ کہیں کہ نہ کہیں۔
’’مگر کیا؟‘‘
’’اپنے منہ سے رشتے کی بات کرنا اچھا نہیں لگتا‘ آپ سے اگر آپا نیلو کوئی بات کریں تو پھر بات آگے بڑھائی جاسکتی ہے اور پھر عبداللہ کی رائے بھی تو معنی رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’میں موقع دیکھ کر نیلو سے بات کرلوں گی۔ تم اس کی فکر مت کرو۔‘‘ فاطمہ نے تسلی دی۔
’’مگر حوریہ کا کیا کریں اماں؟ وہ تو صاف کہتی ہے کہ عبداللہ اس کا بھائی ہے‘ احمق کہیں کی۔‘‘ سمیہ نے کوفت بھرے انداز میں کہا۔
’’اسی دن کے لیے تمہیں کہتی تھی کہ بھائی بھائی کی پٹی اسے نہ پڑھائو‘ بچے کا دماغ کچا ہوتا ہے‘ جو لکھ دو ساری عمر کے لیے رہ جاتا ہے۔ جب میں اسے سمجھاتی تھی تب تمہیں برا لگتا تھا۔ میرے سمجھانے کا مقصد عبداللہ سے رشتے والی بات نہیں تھا‘ اس وقت تو کوئی واضح بات ذہن میں نہیں تھی مگر بیٹی! وہ عمر بنیاد ڈالنے کی ہوتی ہے۔ عبداللہ کی بنیاد مضبوط ہے‘ ماریہ بھی سمجھدار ہے‘ مگر حوریہ کی بنیاد تم نے کمزور کردی۔ اس کی نفسیات جانے بغیر‘ اس کو سمجھے بغیر‘ یہ تو ننھے ذہنوں سے کھیلنے والی بات ہوگئی۔ اس طرح کی تربیت میں والدین خود ہی بچوں کے اندر ببول بو دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ بچہ خود بھی زخمی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ چلنے والا بھی لہولہان ہوتا ہے۔‘‘ فاطمہ بی بی نے ٹھہرے ٹھہرے سے انداز میں بیٹی کو اس کی کوتاہی یاد دلائی۔
’’اماں جان! میں ڈری ہوئی تھی۔‘‘
’’اور تم نے اپنے اس ڈر کی وجہ سے حوریہ کو کانچ کا سامان بنا دیا۔ اس کی غیر ضروری احتیاط شروع کردی۔‘‘ فاطمہ نے ان کی بات کاٹی۔
’’میں اس حادثے سے خوف زدہ ہوگئی اماں جان۔‘‘ ان کی آواز اتنی آہستہ تھی کہ جیسے سرگوشی کررہی ہوں۔
’’حادثے ہو کر گزر جاتے ہیں بیٹی! انہیں بھول جانا چاہیے ورنہ زندگی کا روگ بن جاتے ہیں اور پھر آج کل کا تو زمانہ ایسا ہے کہ لڑکیاں خود اپنے لیے بر ڈھونڈ لیتی ہیں۔ زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے‘ بس ہمیں صرف بچوں کی سوچ کے زاویے کو مثبت رکھنا چاہیے۔ تم نے شروع سے ہی مردوں کو ہوا بنا رکھا تھا۔ وہی چیز تم نے بچی کے ذہن میں ڈال دی۔‘‘ فاطمہ بی بی کی باتیں تلخ تھیں‘ مگر سچ تھیں۔ وہ اپنا احتساب کرنے بیٹھ گئیں۔
ظ …ژظژ…ظ
’’چھٹی میں بھی آپ مجھے پک کر لیجیے گا۔‘‘ وہ بائیک سے اترتے ہوئے بولی۔
’’تمہاری وین آئی تو ہے۔‘‘ عبداللہ نے ایک طرف کھڑی کالج وین کی طرف اشارہ کیا۔
’’مجھے وین میں نہیں جانا‘ آپ امی جی سے کہہ کر یہ وین کا جھنجٹ ختم کرائیں۔‘‘ اس نے بیگ شولڈر پر ڈالتے ہوئے کہا اور دوپٹہ ٹھیک طرح سے سر پر جمایا۔ عبداللہ نے سن گلاسز اتارتے ہوئے گہری نظر اس پر ڈالی اور پھر ایک نظر بغور وین ڈرائیور پر ڈالی۔ موٹا تازہ ڈرائیور وین سے ٹیک لگائے ہوئے دوسری وین ڈرائیور سے باتیں کررہا تھا‘ مگر درمیان میں اچٹتی سی نگاہ حوریہ اور دوسری لڑکیوں پر بھی ڈال لیتا تھا۔
’’تم نے وین جان بوجھ کر مس کی تھی آج؟‘‘ عبداللہ نے سنجیدگی سے سوال کیا۔ حوریہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر گردن ہلادی۔
’’ہائے حوریہ…‘‘ حوریہ کی کوئی کلاس فیلو تھی۔
’’تم چلو میں آتی ہوں۔‘‘ حوریہ نے لڑکی کو وہاں سے ٹالا جو بڑی دلچسپی سے عبداللہ کو دیکھ رہی تھی۔ نہ صرف وہ بلکہ اردگرد کالج کے گیٹ سے داخل ہوتی ہوئی لڑکیاں بھی اشتیاق بھری نظریں عبداللہ پر ڈالتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں۔
’’ٹھیک ہے‘ میں آجائوں گا تم اندر جائو۔‘‘ اس نے سن گلاسز لگاتے ہوئے کہا اور جب تک حوریہ کالج گیٹ سے اندر نہ چلی گئی وہ اسے دیکھتا رہا۔ اس کے اندر جانے کے بعد عبداللہ نے اطمینان سے وین ڈرائیور پر ایک نظر ڈالتے ہوئے بائیک زن سے آگے بڑھادی۔
ظ …ژظژ…ظ
’’کون تھا وہ ہینڈسم ہیرو؟‘‘ زرقا نے قلم گھسیٹتی ہوئی حوریہ سے پوچھا۔ ادھر انگلش کی مس لیکچر دے رہی تھیں۔ اوپر سے حوریہ کا پین اچانک لکھتے لکھتے رک گیا تھا۔ اس پر زرقا نے یہ سوال پوچھ کر اس کی جان کھالی تھی۔
’’پین دو جلدی سے۔‘‘ اس نے دانت کچکچا کر پین مانگا۔
’’لو مرو… مگر اب تو بتادو۔‘‘ زرقا نے دوسرا پین نکال کر اس کے رجسٹر پر پٹخا۔ ’’ا ب تو بکو۔‘‘
’’بھائی ہے۔‘‘ وہ عجلت میں بولی۔
’’جھوٹ… میں جانتی ہوں تم صرف دو بہنیں ہو۔‘‘ زرقا نے اس کے منہ پر اسے جھوٹا کہا تھا۔
’’کزن برادر ہے اسٹوپڈ۔ اب بک بک بند کرو ورنہ میڈم روبی نے دوونوں کو کلاس سے آئوٹ کردینا ہے۔‘‘ وہ اسے گھورتی ہوئی سرگوشی میں بولی۔
’’اچھا ہے‘ ان کے بورنگ لیکچر سے اچھا ہے کہ بندہ باہر کی ہوا کھائے۔‘‘ وہ بھلا کب چپ بیٹھنے والی تھی۔
’’تم اسے پسند کرتی ہو؟‘‘ زرقا نے اس سے پوچھا۔
’’نو… میں اسے پیار کرتی ہوں کیونکہ وہ میرا اچھا بھائی ہے۔‘‘ وہ محبت سے بولی۔
’’کم آن… کس کو بے وقوف بنا رہی ہو تم؟ بھائی وائی کوئی نہیں ہوتا۔‘‘ زرقا نے ہاتھ مکھی اڑانے کے سے انداز میں ہلایا۔
’’شٹ اپ زرقا! سگے نہیں ہیں تو کیا ہوا میں انہیں بھائی ہی سمجھتی ہوں۔‘‘ وہ برا مان گئی۔
’’سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔ سمجھنے کو تو میں بھی نجانے کیا کیا سمجھ لوں۔‘‘ زرقا پر مطلق اثر نہ ہوا تھا یوں بھی وہ اپنی رائے کا اظہار کرنے کی عادی تھی۔
’’شادی سے پہلے سبھی بھائی ہوتے ہیں یار۔‘‘ زرقا ہنسی تو باقی سہیلیاں بھی ہنس پڑیں۔ ان کے اس گروپ میں ایک دو لڑکیاں اس کی اسکول کے زمانے کی دوستیں تھیں۔ زرقا سے اس کی دوستی کالج میں آکر ہوئی تھی۔
’’نہیں یار شی از رائٹ… عبداللہ بھائی کو یہ بھائی ہی سمجھتی ہے۔‘‘ اس کی بھرائی ہوئی آنکھیں دیکھ کر اس کی پرانی دوست مینا جلدی سے بولی۔
’’اوکے… پھر آج سے ہم سب بھی اپنے اپنے کزنز کو صرف ’’بھائی‘‘ سمجھیں گی مگر شادی سے پہلے والا بھائی۔‘‘ زرقا پھر بولی اور خود ہی ہنسنے لگی‘ باقی لڑکیاں زیرلب مسکرانے لگیں۔ صرف مینا تھی جو حوریہ کے احساسات سمجھ رہی تھی۔
’’شٹ اپ‘ مجھ سے اب کبھی بات مت کرنا۔‘‘ حوریہ یک دم رونے لگی اور روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
ظ …ژظژ…ظ
چھٹی کے وقت حسب وعدہ عبداللہ آچکا تھا مگر زرقا نے اسے دیکھ کر بھی منہ سے کوئی کمنٹس پاس نہ کیے بلکہ حوریہ کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکراتی ہوئی اپنی وین کی طرف بڑھ گئی۔ مینا بھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھی۔ عبداللہ سے اس کی علیک سلیک تھی۔ اس نے دور سے ہی سر کے اشارے سے عبداللہ کو سلام کیا۔ عبداللہ نے بھی اسے سر کے اشارے سے جواب دیا۔ حوریہ نے بائیک پر اسٹائل سے بیٹھے عبداللہ کو دیکھا۔ سفید شرٹ اور بلیک جینز میں ملبوس‘ بلیک سن گلاسز لگائے قدرے آگے کی طرف جھک کر بیٹھا ہوا تھا۔ دراز قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا‘ مضبوط کسرتی جسم اور بے حد حسین نین نقش‘ وہ پہلی نظر میں فارنر لگتا تھا مگر فارنرز اتنے پرکشش نہیں ہوتے۔ وہ بے حد پرکشش بھی تھا۔ دیکھنے والی نظریں بار بار اس کا طواف کرنے پر مجبور ہوجاتی تھیں۔ بلاشبہ وہ بے حد خوب صورت مرد تھا۔ حوریہ اس کے قریب پہنچ کر مسکرائی۔
’’بہت ڈیشنگ لگ رہے ہیں۔ سب لڑکیاں آپ کو دیکھ رہی ہیں۔‘‘ وہ شوخی سے بولی۔ ’’اپنی نظر اتار لیجیے گا گھر جاکر۔‘‘ اس نے پھر چھیڑا۔ حوریہ کو بہت اچھا لگتا تھا‘ جب صنف نازک مڑ مڑ کر عبداللہ کو دیکھتی تھیں۔ اس کے لیے جیسے یہ ایک دلچسپ کھیل تھا۔ عبداللہ نے بائیک کو کک لگائی اور ایک جھٹکے سے بائیک کو مصروف شاہراہ پر ڈال دیا۔
’’مجھے میک کھانا ہے۔‘‘ اس نے جھٹ فرمائش کی۔
بالکل نہیں‘ دیر ہوجائے گی اور نانی جان سے ڈانٹ مجھے سننی پڑے گی۔‘‘ عبداللہ نے صاف منع کردیا۔
’’پلیز پلیز‘ مجھے بھوک لگی ہے‘ بریک میں نے لنچ بھی نہیں کیا اور میک تو وہ سامنے رہا۔‘‘ اس نے دائیں جانب بنے میک ڈونلڈ کے آئوٹ لٹ کی طرف ندیدے پن سے اشارہ کیا۔ ’’ گھر کا راستہ بیس منٹ کا اور میک ہم بیس سکنڈز میں پہنچ جائیں گے۔‘‘ اس نے اپنا منہ عبداللہ کے کان کے قریب کرتے ہوئے تقریباً چلا کر کہا۔
’’کان مت کھائو میرے بلی‘ اگر نانی کو پتہ چل گیا ناں کہ ان کی لاڈلی کو بھری دوپہر میں برگر کھلوانے لے گیا ہوں تو کورٹ مارشل کردیں گی۔‘‘ عبداللہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔
’’کچھ نہیں ہوتا‘ میں بتائوں گی نہیں اور ظاہر ہے آپ بھی خود اپنی شکایت نہیں کریں گے۔‘‘
’’تم بہت چالاک ہوتی جارہی ہو۔‘‘ عبداللہ نے بائیک میکڈونلڈ کی طرف موڑی۔
’’اور پیسے کون دے گا؟‘‘ اس نے پارکنگ میں بائیک کھڑی کی۔
’’میرے پیارے سے بھائی کی جیب میں خاصا مال جمع رہتا ہے‘ وہ کس دن کام آئے گا۔‘‘ وہ شوخی سے بولی۔
’’تمہارا بھائی بے چارہ جاب لیس ہے ابھی۔‘‘ اس نے یاددہانی کرائی۔
’’مگر امیر کبیر ہے۔‘‘ اس نے درمیان میں ہی عبداللہ کا جملہ اچک لیا۔ اندر جاکر اس نے اپنے لیے برگر آرڈر کیا۔ عبداللہ نے صرف ملک شیک آرڈر کیا تھا۔ ’’تم نے لنچ کیوں نہیں کیا؟‘‘ عبداللہ نے اس سے پوچھا۔
’’زرقا سے لڑائی ہوگئی تھی میری‘ غصے میں لنچ بھی نہیں کیا۔‘‘
’’کس بات پر جھگڑا ہوا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’یونہی اسٹوپڈ سی بات تھی۔‘‘ اسے زرقا کی بات یاد آگئی‘ اس نے عبداللہ سے نظریں چراتے ہوئے برگر کا بائٹ لیا۔
’’آپ میری وین والا پرابلم حل کریں‘ میرا پک اینڈ ڈراپ آپ اپنے ذمہ لے لیں۔‘‘ اس نے صبح والی بات کو دہرایا۔
’’کیوں… اس وین میں کیا پرابلم ہے اور مجھے کیا تم پک اینڈ ڈراپ کی فیس دوگی؟‘‘ وہ بے رخی سے بولا۔
’’عبداللہ بھائی! کیا بہن سے بھی فیس مانگیں گے؟‘‘ اس نے منہ پھلا لیا۔
’’تم میری بہن نہیں ہو صرف دوست ہو۔‘‘ عبداللہ نے ہمیشہ کی طرح ٹکا سا جواب دیا۔
’’اور یہ میری بات کا جواب نہیں ہے۔ وین کیوں چھوڑنا چاہتی ہو؟‘‘ وہ مدعے پر آیا۔
’’وہ جو ہمارا موٹا وین ڈرائیور ہے ناں… وہ مجھے پسند نہیں ہے‘ گھورتا رہتا ہے۔‘‘ اس نے دانت کچکچا کر کہا۔
’’تو تم اس کی شکل نہ دیکھو۔‘‘ عبداللہ نے اس کی بات کا کوئی رسپانس نہ دیا۔
’’میں کب دیکھتی ہوں اس کی شکل۔ وہ گھورتا ہے۔‘‘
’’اس نے کبھی کوئی نازیبا حرکت کی یا کبھی تم سے بدتمیزی سے پیش آیا؟‘‘ عبداللہ نے سنجیدگی سے پوچھا تو اس نے نفی میں سرہلایا۔ ’’صرف تمہیں دیکھتا ہے یا سبھی لڑکیوں کو؟‘‘ عبداللہ نے وکیلوں کی طرح جرح شروع کردی۔
’’سبھی کو دیکھتا ہے۔‘‘ اس نے سوچ کر جواب دیا۔
’’بس تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے‘ بھئی یہ اس کی عادت ہے۔ بے چارہ گھورنے والی عادت کے ہاتھوں مجبور ہے۔ میں نے صبح اسے دیکھا تھا‘ ایسی ویسی کوئی بات مجھے اس میں نظر نہیں آئی‘ تمہیں وہم کرنے کی عادت ہے۔‘‘ عبداللہ نے اسے سمجھایا۔
’’آپ کو کیا پتہ؟‘‘ وہ برامان گئی‘ ایک واحد عبداللہ ہی تھا جس سے وہ مان بھی جاتی تھی اور بات بے بات روٹھتی بھی تھی۔‘‘
’’اس لیے کہ میں تمہیں آج سے نہیں تب سے جانتا ہوں جب تم اتنی سی تھیں۔‘‘ عبداللہ نے ہاتھ کے اشارے سے کہا۔ ’’تم کچھ دن مینج کرلو میں نانی سے بات کرلوں گا۔‘‘ اس کے منہ پر بارہ بجتے ہوئے دیکھ کر وہ بولا۔
’’سچ۔‘‘ وہ یک دم کھل گئی۔
’’اب چلو… آل ریڈی اتنے لیٹ ہوگئے ہیں۔‘‘ وہ کھڑا ہوگیا۔
’’آپ نے کچھ کھایا نہیں۔‘‘
’’گھر جاکر جو کھانا تمہیں کھانا تھا وہ بھی میں نے ہی کھانا ہے۔ تین تین افراد کا کھانا نہیں کھا سکتا میں۔‘‘ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے باہر بھاگی۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ جب سے عبداللہ نے بائیک لی تھی اس کے مزے ہوگئے تھے۔ ضد کرکے بائیک پر اس کے ساتھ بیٹھ جاتی۔ اسے لانگ ڈرائیو کا کریز تھا پھر نانی سے خوب ڈانٹ کھانے کو ملتی مگر وہ باز نہ آتی۔ عبداللہ اس کے نخرے شروع سے اٹھاتا رہا تھا۔ عبداللہ سے اسے ڈانٹ بھی پڑتی تھی مگر وہ مانتی بھی صرف اسی کی تھی۔
وہ گھر پہنچے تو کھانے کی میز سجی ہوئی تھی مگر سمیہ‘ فاطمہ اور ماریہ کھانا کھا چکی تھیں۔ لیٹ آنے پر استفسار کیا گیا تو ٹریفک کا بہانہ بنایا گیا۔ تھوڑی سی ڈانٹ فاطمہ سے کھانے کے بعد دونوں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے۔ سمیہ گرم روٹی اور سالن لانے کا کہہ کر اندر کچن میں چلی گئی تھیں۔ اس نے عبداللہ کو اشارہ کیا تو اس نے صبر سے بیٹھے رہنے کا جوابی اشارہ کیا۔
’’آنٹی! جلدی سے کھانا لائیں ورنہ آپ کی بیٹی مجھے کھا جائے گی۔‘‘ عبداللہ نے وہیں بیٹھے بیٹھے ہانک لگائی۔
’’میں جان سے مار دوں گی آپ کو۔ میرا نام کیوں لیا؟ اتنا پیٹ بھرگیا ہے‘ اب تو گھونٹ پانی کی بھی گنجائش نہیں۔‘‘ وہ دانت بھینچ کر دبے دبے لہجے میں بولی۔
’’اچھا ہے ناں زیادہ کھائو گی تو جان بنے گی اس موٹے وین ڈرائیور کی طرح۔ پھر کسی سے بھی نہیں ڈروگی۔‘‘ وہ اس کی جان جلاتے ہوئے اطمینان سے بولا اور گاجر کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھا۔ پینو گرم سالن اور گرم روٹی لاکر میز پر رکھ رہی تھی۔ ان کی نوک جھونک پر مسکرائی اور کچن کی طرف مڑ گئی۔ عبداللہ نے اس کی پلیٹ میں چاول اور اپنی پلیٹ میں ذرا سا سالن نکالا‘ حوریہ اس کی حرکتیں دیکھ رہی تھی۔ عبداللہ نے جلدی جلدی اس کی پلیٹ سے چاولوں کے چمچے بھر بھر کر منہ میں رکھنے شروع کردیئے۔ اسے ہنسی آگئی۔
’’ہنس لو ہنس لو۔ یہ ہنسی بھی میری وجہ سے ہے‘ ورنہ ابھی ڈانٹ سے پیٹ بھر رہی ہوتی۔‘‘ عبداللہ نے احسان جتایا۔ اس کی پلیٹ صاف کرکے جب وہ اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوا تو ماریہ نمودار ہوگئی۔
’’یہ کیا ڈرامہ چل رہا تھا؟ بلکہ چل رہا ہے‘ تم پھر باہر سے کھانا کھا کر آئی ہو؟‘‘ ماریہ بیٹھتے ہوئی بولی تو اسی پل سمیہ کچن سے نمودار ہوئیں۔ حوریہ نے ان سے نگاہ بچا کر ہاتھ جوڑ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
’’اوکے مگر میرا حصہ…‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’کیا بھتہ خوروں میں پھنس گیا‘ مل جائے گا چٹوری۔‘‘ عبداللہ نے اس کی لمبی سی چوٹی پکڑ کر کھینچی تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
’’تمہارے فواد میاں کو لگائوں گا تمہاری شکایتیں۔‘‘ اس نے ماریہ کو اس کے منگیتر کے نام سے چھیڑا۔
’’ارے یاد آیا‘ بھئی وہ فواد کے گھر والے آرہے ہیں آج شادی کی تاریخ لینے۔ تم گھر پر رہنا اور نیلو آپا کو تو میں نے صبح بتادیا تھا مگر تم انہیں یاددہانی کرا دینا۔‘‘ سمیہ کو اچانک فواد کے نام سے یاد آیا۔
’’جی بہتر‘ کوئی کام ہے ابھی تو بتادیں۔ ورنہ شام کو تو میں ہوں گا ہی۔‘‘ اس نے مؤدبانہ پوچھا۔
’’ڈنر وہ لوگ یہیں کریں گے‘ سوچ رہی ہوں کیٹرنگ آرڈر کردوں۔ ایک دو ڈشز گھر پر بنا لوں‘ آٹھ دس افراد ہیں مرد اور عورتیں ملاکر۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’اب کیا کہہ سکتا ہوں‘ آپ بہتر سمجھتی ہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’آپا اسے بھی مشورہ کرلوں گی۔ تم ایسا کرنا ان سے کہنا کہ آج وہ جلدی آجائیں۔‘‘ وہ ذہنی طور پر کچھ اپ سیٹ لگ رہی تھیں یا پھر گھر کی پہلی شادی تھی اس لیے نروس تھیں۔
ظ …ژظژ…ظ
ماریہ کو پڑھائی وغیرہ کا اتنا شوق نہیں تھا۔ انٹر کرنے کے بعد اس نے مختلف کورسز کیے تھے اور گھر پر ہی وقت گزار رہی تھی۔ منگنی تو اس کی تب ہوگئی تھی جب وہ آٹھویں کلاس میں تھی۔ اس کا منگیتر فواد اس کا رشتے کا کزن تھا اور اسے پسند بھی تھا۔
نیلوفر تو دوپہر تین بجے ہی ان کے گھر آگئی تھیں۔ ان کا گھر بالکل برابر میں ہی تھا۔ صرف ایک دیوار کا فاصلہ تھا۔ وہ بھی نماز ادا کرنے کے بعد کالج کا ہوم ورک کرکے فارغ ہوگئی تھی اور بجائے ماں اور خالہ کا ہاتھ بٹانے کے وہ خود کو سجانے سنوارنے میں لگ گئی۔ وہائٹ کلر کی لانگ فراک‘ فیروزی کلر کے پائجامے اور وہائٹ کلر کے بڑے سے دوپٹے (جس کے پلوئوں پر فیروزی رنگ کی نازک سی بیل بنی تھی) کھول کر گلے میں ڈالے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے سے ڈائمنڈ کے ٹاپس اس کے کانوں میں جگمگا رہے تھے۔ ریشمی گھنے بالوں کی اس نے ہائی پونی ٹیل بنائی ہوئی تھی اور میک اپ کے نام پر صرف آئی لائنز اور پنک کلر کی لپ گلوز استعمال کیے تھے۔ وہ تیار ہو کر باہر نکلی تو نیلوفرکی نظر اس پر پڑی۔
’’ارے واہ! یہ باربی ڈول کہاں سے آگئی… ماشاء اللہ۔‘‘ انہوں نے اپنی آنکھ کے کاجل کو انگلی پر لگا کر اس کے رخسار پر لگا دیا۔ وہ جھینپ گئی۔
’’خالہ! اچھی لگ رہی ہوں؟‘‘ اس نے اپنی نئی فراک گول گھوم کر انہیں دکھائی۔
’’بالکل پری لگ رہی ہو۔‘‘ وہ انہیں ہمیشہ سے بہت عزیز تھی۔ ’’اچھا گڑیا! اب میرا ایک کام کردو۔ عبداللہ کو جاکر بولو کہ کیٹرنگ والے کو فون کردے۔ میں عبداللہ کا سیل ٹرائی کررہی ہوں مگر آف جارہا ہے۔‘‘ نیلوفر نے کہا۔ وہ خراماں خراماں لان کی طرف چلی آئی۔ نیلوفر کی سہولت کی خاطر فیضان علی نے دونوں گھروں کی وہ دیوار جو لان کے بچوں بیچ تھی‘ اسی میں ایک لکڑی کا دروازہ بنوالیا تھا۔ اس طرح دونوں فیملیز میں سے جس کو بھی ایک دوسرے کے گھر آنا ہوتا یہی دروازہ استعمال کرتے تھے جو کہ آسان راستہ تھا اور محفوظ بھی۔ وہ خراماں خراماں نیلوفر کے گھر چلی آئی عبداللہ کا بیڈروم فسٹ فلور پر تھا‘ نیلوفر کا بیڈروم گرائونڈ فلور پر جو کہ انہوں نے اپنی سہولت کی وجہ سے رکھا تھا۔ عبداللہ کے کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا وہ بے تکلفی سے اندر آگئی مگر جھجک کر وہیں رک گئی۔ عبداللہ کے ساتھ کمرے میں کوئی اور بھی تھا۔ دونوں کمپیوٹر کے سامنے کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ شاید کسی پروجیکٹ پر کام کررہے تھے۔ ان کی ڈسکشن حوریہ کی اچانک آمد کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے رک گئی تھی۔ حوریہ کی نظریں پہلے اجنبی پر اور پھر عبداللہ پر آکر رک گئی تھیں جبکہ اجنبی کی نظریں صرف اسی پر ٹکی ہوئی تھیں۔ وہ بہت دلچسپی سے سجی سنوری حوریہ کو دیکھ رہا تھا۔
’’وہ… سوری… مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ بزی ہیں۔‘‘ وہ کچھ شرمندہ سی ہوگئی۔
’’کوئی بات نہیں‘ بولو کچھ کام ہے؟‘‘ عبداللہ نے اس کے بنے سنورے کومل سے روپ پر ایک تفصیلی نظر ڈالی اور دوسری نگاہ اپنے دوست پر‘ جو کہ اب بھی حوریہ کو دیکھ رہا تھا۔ عبداللہ بات کرتے کرتے شعوری طور پر اس طرح سے حوریہ اور اپنے دوست کے درمیان آکر کھڑا ہوگیا تھا کہ اس کی نگاہ حوریہ پر نہ پڑسکے۔
’’آپ کا سیل فون آف ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’او… ہاں… بیٹری کی چارجنگ ختم ہوگئی تھی میں نے چارجنگ پر لگایا ہے۔ ابھی آن کرتا ہوں۔‘‘ عبداللہ کو یک دم خیال آیا کہ آج تو گھر میں مہمانوں کو آنا تھا اور کوئی ضروری کام پڑسکتا تھا۔ حوریہ نے نیلوفر کا پیغام اسے دیا۔
’’ٹھیک ہے تم جائو… میں کرلوں گا فون۔ ان لوگوں نے تو سات بجے تک ہی آنا ہے ناں۔‘‘ انداز میں اتنی عجلت تھی کہ جیسے چاہتا ہو کہ وہ جلد سے جلد یہاں سے چلی جائے۔ وہ دروازے سے ہی پلٹ گئی۔
’’یہ محترمہ کون تھیں؟‘‘ محب نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’کزن ہے… تم بتائو کیا کہہ رہے تھے؟‘‘ عبداللہ کا انداز لٹھ مار تھا۔ گویا اسے حوریہ کے تعارف کرانے میں کوئی بھی اشتیاق نہ ہو۔ اس نے محب کو باتوں میں الجھالیا تھا۔
ظ …ژظژ…ظ
ماریہ اور فواد کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوگئی تھی۔ وہ خوشی خوشی کچن میں خالہ کے ساتھ مصروف تھی۔
’’بس… سب ریڈی ہے۔ اب صرف پینو سے کہہ کر سرو کروا لینا۔ میں ذرا مہمانوں کے پاس بیٹھوں۔‘‘ نیلوفر اسے سمجھا کر کچن سے نکل گئیں۔ وہ برتنوں کا جائزہ لینے لگی۔
’’تم ناک کرکے نہیں آسکتی تھیں؟‘‘ عبداللہ کی آواز سن کر وہ ہڑبڑا گئی۔ گلاس ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔
’’کیا ہے …ڈرا ہی دیا‘ مجھے کیا پتہ تھا کہ موصوف کے کمرے میں اور بھی کوئی ہے۔‘‘ وہ خفت مٹانے کو بولی۔
’’اور تمہیں ڈنر سب کے ساتھ کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ تم ماریہ کے ساتھ کھانا کھا لینا۔‘‘ عبداللہ کی بات پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
’’کیوں… سب کے ساتھ کھانے میں کیا مضائقہ ہے؟‘‘
’’تم سوال بہت کرتی ہو‘ چپ چاپ بات کیوں نہیں مان لیتی؟‘‘ وہ جھلا کر بولا اور باہر نکل گیا۔ وہ اسے یہ نہیں بتاسکا تھا کہ فواد کا بھائی آیا ہوا تھا اس کی نظریں حوریہ سے ہٹ نہیں پارہی تھیں اور اس کا حوریہ کو اس طرح سے دیکھنا عبداللہ کو سخت ناگوار گزر رہا تھا۔
’’پہلے محب اور اب جواد… عبداللہ کو پتہ نہیں آج کیوں عجیب سی کوفت ہورہی تھی۔ ڈنرکے وقت اس نے حوریہ کو غائب پایا اور بڑے اطمینان سے کھانا کھایا۔
ظ …ژظژ…ظ
فاطمہ نے فیضان علی سے مشورہ کرنے کے بعد اور ان کی رضامندی کے بعد نیلوفر سے عبداللہ اور حوریہ کے رشتے کی بات کی تھی۔ وہ بہت خوش تھیں۔
’’مگر بیٹا پہلے عبداللہ سے پوچھ لو شادی تو لڑکے اور لڑکی کی باہمی رضامندی سے ہی طے پائی جائے گی۔‘‘ فاطمہ کے لیے بیٹی کی خوشی کے ساتھ عبد اللہ کی رضا مندی بھی ضروری تھی۔ نیلوفر کو یقین تھا کہ عبداللہ اس شادی کے لیے حامی بھر لے گا۔
وہ لیپ ٹاپ لیے بیڈ پر نیم دراز تھا۔ اس کی انگلیاں تیزی سے لیپ ٹاپ کی بورڈ پر تھرک رہی تھیں۔ وہ بے حد منہمک تھا جب ہلکی سی دستک کے ساتھ نیلوفر نے آدھ کھلے دروازے سے اندر قدم رکھا۔ اس نے سر نہیں اٹھایا بس نگاہوں کو تھوڑا سا اونچا کیا۔
’’ہائے مام! آج اس غریب کے کمرے میں کیسے آنا ہوا؟‘‘ وہ کام کرتے کرتے ذرا سا سیدھا ہوکر بیٹھا اور مسکرا کر جیسے ماں کو چھیڑا۔ یہ سچ تھا کہ کتنے کتنے دن وہ عبداللہ کے کمرے میں نہیں آتی تھیں اور اس کی واحد وجہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات تھیں۔
’’ماں پر طنز نہیں کرتے۔‘‘ وہ بیڈ کی طرف بڑھیں اور مسکرائیں۔
’’طنز نہیں‘ مذاق۔‘‘ اس نے تصحیح کرتے ہوئے اپنے پاس ان کے لیے جگہ بنائی۔
’’مصروفیات ہی اتنی ہوتی ہیں بیٹا‘ تمہیں پتہ تو ہے اسکول‘ پارلرز ان سب میں کتنا وقت نکل جاتا ہے۔ پھر آئے دن کے کوئی نہ کوئی فنکشنز کی انوٹیشنز۔‘‘ انہوں نے مختصراً جواب دیا۔
’’تو آپ یہ سلسلہ وائنڈ اپ کریں نا۔ ایٹ لیسٹ پارلر والا سلسلہ ختم کریں۔ مجھے یوں بھی یہ فیلڈ پسند نہیں ہے۔ اسکولز تک ٹھیک ہے۔‘‘ وہ کام روک کر ان سے مخاطب ہوا۔
’’اچھا… سوچتے ہیں اس بارے میں بھی۔ میں بھی اب اتنی بھاگ دوڑ نہیں کرسکتی۔ تمہیں بالکل وقت نہیں دیتی۔‘‘ وہ محبت سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اعتراف کرنے لگیں۔ اس نے فٹ رضامندی ظاہر کی۔ ’’کیا کام کررہے تھے؟‘‘ نیلوفر نے پوچھا۔
’’بس یہ پروجیکٹ ہے‘ نیکسٹ فرائیڈے تک پریزنٹیشن دینی ہے۔ آپ بتائیں کیسے آنا ہوا؟‘‘
’’ہاں کام میرا نہیں تمہارا ہے۔‘‘ وہ ذومعنی انداز میں بولیں۔ عبداللہ نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا مگر کچھ بولا نہیں۔ ’’یہ بتائو کہ اگزیمز کے بعد کیا کرنا ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’مام! میں نے کچھ پلان کیا ہے۔ اسٹڈیز تو بس سمجھیں ختم ہی ہونے والی ہیں۔ میں اپنا کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ کھولنا چاہتا ہوں۔ اس کی بہت ویلیو ہے آج کل۔ میری پلاننگ اتنی لمبی چوڑی نہیں ہے۔‘‘ اس نے مختصراً بتایا۔
’’گڈ… یہ ٹھیک ہے۔ کمپیوٹر انسٹیٹوٹ کا جو بھی بجٹ ہوگا وہ تم مجھے بتا دینا اور دراصل میں ایک خاص کام کے لیے آئی ہوں۔‘‘ اب وہ اصل بات کی طرف آرہی تھیں۔ ’’حور کیسی لگتی ہے تمہیں؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’کیا مطلب کیسی لگتی ہے؟ اچھی لگتی ہے… بہت اچھی لگتی ہے۔‘‘ وہ ناسمجھنے والے انداز میں ہنس پڑا۔
’’میں اسے ہمیشہ کے لیے اس گھر میں لانا چاہتی ہوں۔‘‘ نیلوفر نے کہا۔
’’کیا… مام! آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ ہائو اٹ ازپاسبل؟‘‘ وہ تقریباً اچھل ہی پڑا۔ اس کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ نیلوفر اس سے یہ بات کرنے والی ہیں۔
’’کیوں امپاسبل بات کیا ہے؟ کزن ہے وہ تمہاری‘ تم پسند کرتے ہو اسے‘ پھر اتنا ری ایکٹ کرنے کی کیا بات ہے؟‘‘ وہ سنجیدگی سے بولیں۔
’’ری ایکٹ نہیں مام… شاکڈ ہوں میں۔ میں نے کبھی اس کے بارے میں ایسا سوچا ہی نہیں۔‘‘
’’تم کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو؟‘‘ نیلوفر نے گہری نظروں سے بیٹے کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی۔
’’آف کورس ناٹ مام۔ یو نو ویری ویل ابائوٹ می‘ حوریہ کو میں نے ہمیشہ دوست کی حیثیت سے پسند کیا ہے۔ شادی کے بارے میں کبھی گمان تک نہیں آیا۔‘‘ وہ سنجیدہ ہوا۔ چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی۔
’’تو اب سوچ لو۔ وہ شروع ہی سے مجھے تمہارے لیے بہت پسند رہی ہے۔ میں کون سا ابھی جواب مانگ رہی ہوں‘ تم ٹائم لے لو۔ میں انتظار کرسکتی ہوں۔‘‘
’’مام! مجھے ابھی اپنی اسٹڈیز کمپلیٹ کرنی ہیں‘ بزنس سیٹ کرنا ہے‘ دوسال تک تو میں شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘ اس نے صاف لفظوں میں کہا۔
’’تو میں کون سا ابھی شادی کرنے کا کہہ رہی ہوں‘ تم دوکیا تین سال لے لو۔ ہم ابھی صرف منگنی کردیتے ہیں۔ حوریہ اتنی اچھی ہے کہ اس کا رشتہ کہیں بھی ہوسکتا ہے کسی بھی اچھی اور اونچی فیملی میں۔ میں اسے کھونا نہیں چاہتی۔ وہ میرا خون ہے‘ گھر آئے گی تو میرا گھر اور بیٹا دونوں محفوظ رہیں گے۔ کسی دوسری لڑکی کا پتہ نہیں کیسی ہو؟ تم میرے اکلوتے بیٹے ہو عبداللہ! شادی کے بعد اچھے اچھوں کو بدلتا دیکھا ہے میں نے۔ حور جیسی لڑکی ہی میری آئیڈیل ہے۔ وہ تمہیں مجھ سے کبھی الگ نہیں کرے گی۔ اس سے اچھی کوئی لڑکی ہوہی نہیں سکتی۔ یوں سمجھ لو کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی اور اہم خواہش ہے۔ میری خوشی ہے۔ انکار مت کرنا عبداللہ!‘‘ نیلوفر اس کا مضبوط ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ یہ وہ عورت تھی جس نے بیٹے کی خاطر ساری زندگی تنہا کاٹ دی تھی۔ جس نے اپنی ہر خوشی… آرام‘ سکھ سب کچھ بیٹے پر قربان کردیا تھا۔ عبداللہ کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس عظیم اور دکھی عورت کو منع کرکے ناراض کردے۔
’’ٹھیک ہے مام‘ جیسا آپ چاہیں۔‘‘ اس نے اپنا دوسرا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھا۔
’’تھینکس اے لوٹ مائی ڈیئر۔‘‘ نیلوفر نے محبت سے اس کی کشادہ پیشانی پر بوسہ دیا۔ وہ تو جاچکی تھیں مگر عبداللہ ڈسٹرب ہوگیا تھا۔ اس نے دوبارہ اپنا کام شروع کیا مگر ذہنی طور پر وہ اتنا منتشر تھا کہ اپنا کام جاری نہ رکھ سکا۔
ظ …ژظژ…ظ
و ہ شاکڈ سی ماریہ کی شکل دیکھ رہی تھی۔
’’ امپاسبل… ‘‘ حوریہ کے منہ سے بس یہی نکلا تھا۔
’’تمہاری منگنی ہے سنڈ ے کو پاگل۔‘‘ ماریہ خوشی سے سرخ چہرہ لیے اسے گلے سے لگاتے ہوئے بول رہی تھی اور اس کے کان سائیں سائیں کررہے تھے۔
’’عبداللہ کے ساتھ منگنی… اس نے ہامی کیسے بھر لی؟ وہ تو… وہ تو…‘‘ وہ آگے نہ سوچ سکی۔ اس کو اتنا جھٹکا لگا کہ فی الوقت سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہوگئی تھیں۔ اس نے کئی بار عبداللہ سے ملنے کی‘ بات کرنے کی کوشش کی مگر اس کی ہمت ہی نہیں پڑی۔ اسی شش وپنج میں ایک سادہ سی تقریب میں عبداللہ کے نام کی انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنا دی گئی اور وہ بت بنی رہ گئی۔
ظ …ژظژ…ظ
اسے عبداللہ پر بے حد غصہ تھا اور دکھ بھی۔ وہ اس سے اتنی ناراض تھی کہ اس کی صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کی منگنی کی خبر اس نے اپنی دوستوں کو بھی نہیں دی تھی۔ اس خیال نے اس کی زبان پکڑلی تھی کہ عبداللہ سے منگنی کی خبر سن کر وہ کیسا ری ایکٹ کریں گی‘ کتنا مذاق اڑائیں گی وہ… اس نے نیلوفر کے گھر جانا بالکل ہی ترک کردیا تھا۔ اب وہ عبداللہ سے بھی نہیں ملتی تھی۔ اس نے وین میں جانا پھر سے شروع کردیا تھا۔ اسی موٹے ڈرائیور والی وین میں۔ وہ خاموش طبع تو پہلے بھی تھی اب تو گم صم ہوگئی تھی۔ وہ جیسے سب سے ہی شاکی ہوگئی تھی۔
عبداللہ کو اس نے آج تک جس نظر سے دیکھا تھا اب یک دم ہی کسی اور رشتے میں ڈھلا دیکھنا اور محسوس کرنا بہت تکلیف دہ لگ رہا تھا۔ سمیہ اور نیلوفر اس روز ماریہ کے ساتھ بازار گئی تھیں۔ اس کی شادی کے کپڑے لے کر درزی کو دینے تھے‘ فاطمہ بی بی پڑوس میں ہونے والی قرآن خوانی میں شرکت کرنے گئی تھیں۔ پینو حسب معمول اپنے کاموں میں سر دیئے بیٹھی تھی۔ وہ اکنامکس کی بک ہاتھ میں لیے لان میں آگئی۔ موسم بہت اچھا ہورہا تھا۔ اسے اپنے ٹیسٹ کی تیاری کرنی تھی مگر دل پڑھنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ وہ کتاب گود میں رکھ کر خالی خالی نظروں سے گھاس کو دیکھنے لگی۔ اولین بہار کے دن تھے۔ گہرے سرمئی بادلوں سے آسمان ڈھکا ہوا تھا۔ لان میں لہلہاتے رنگ برنگے پھولوں کی مہک ہر جھونکے کے ساتھ اٹھتی اور… جاں کو معطر کر جاتی‘ ساحل سمندر ان کے گھر سے صاف نظر آتا تھا‘ وہاں سے آنے والی ہوائوں کے جھونکے بار بار اس کے کھلے ہوئے گیسوئوں کو بکھیر دیتے مگر وہ اپنی بکھری زلفوں کو سمیٹنے کی تکلیف نہیں کررہی تھی۔ آسمان سے چند موتی گرے اور اس کی گھنیری زلفوں اور صبیح چہرے پر شبنم کی طرح اٹک گئے۔ عبداللہ اسے لان کے بیچوں بیچ بیٹھا ہوا دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ بڑا ہی دل فریب منظر تھا۔ سبزے اور پھولوں کے درمیان گہرے رنگوں کے پھول دار لباس میں‘ اپنی کھلی ہوئی حسین اڑتی لہراتی زلفوں کے ساتھ وہ اتنی حسین اور مکمل تصویر لگی جس میں ’’زندگی‘‘ ہو… وہ نجانے کن سوچوں میں گم تھی۔ منگنی کے بعد سے وہ اسے آج دیکھ رہا تھا۔ رشتہ بدلا تو دیکھنے اور سوچنے کا انداز بھی بدل گیا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر دلکشی سے مسکرایا۔
’’کیا گراس پر ریسرچ ہورہی ہے؟‘‘ وہ قریب پہنچ کر اچانک بولا تو وہ اچھل ہی پڑی تھی۔ عبداللہ کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس نے نظریں چرائیں۔ ’’ناراض ہو؟‘‘ وہ نرمی سے بولا۔
’’میں اندر جارہی ہوں۔‘‘ وہ کتاب اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔
’’شرما رہی ہو؟‘‘ اب اس نے چھیڑا۔
’’میں کبھی آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی‘ نہ ہی آپ کی شکل دیکھنا چاہتی ہوں۔ آپ نے یہ کیا کردیا؟‘‘ وہ جیسے پھٹ پڑی۔ آنسو ایک روانی سے پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ نکلے تھے۔ وہ اندر بھاگتی ہوئی چلی گئی اور عبداللہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کی سماعتوں میں حوریہ کے الفاظ سیسہ بن کر اترے تھے۔ وہ لب بستہ رہ گیا تھا۔
ظ …ژظژ…ظ
’’حوریہ! تم نے عبداللہ سے کیا کہا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ جب تک حوریہ دل سے اس رشتے کے لیے راضی نہیں ہوگی وہ شادی نہیں کرے گا۔‘‘ سمیہ بہت غصے میں تھیں۔ انہوں نے سب کے سامنے ہی اس سے پوچھ لیا تھا۔ حوریہ نے کچھ نہ کہا‘ بس لب کاٹتی رہ گئی۔
’’بولو ناں… کیا بکواس کی تم نے اس سے؟‘‘ سمیہ غصہ میں اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھی تھیں۔
’’آرام سے بات کرو سمیہ۔‘‘ فیضان علی نے بیوی سے کہا۔
’’اتنا اچھا لڑکا اور اچھا رشتہ ملا ہے اور یہ مہارانی ہیں… ساتویں آسمان پر اس کا دماغ رہتا ہے اور وجہ صرف اور صرف آپ ہیں۔ آپ کی شہہ پر یہ اتنا اکڑتی ہے۔‘‘ سمیہ بے حد ناراض تھیں۔ عبداللہ نے نیلوفر کی زبانی صاف صاف کہلوا دیا تھا کہ اگر حوریہ اس رشتے پر راضی نہیں تو وہ کبھی بھی زبردستی یہ شادی نہیں کرے گا۔ سمیہ کا غصہ اور ناراضگی بجا تھے۔
’’کیا تم کسی اور…‘‘ سمیہ نے یکلخت کسی خیال کے تحت پوچھا۔
’’اسٹاپ اٹ امی جی… بس چپ ہوجائیں میں کسی اور میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں۔‘‘ اس کی حسیات اتنی شارپ ہوچکی تھیں کہ ماں کی بات درمیان ہی میں اچک لی تھی۔
’’آپ جاننا چاہتی ہیں ناں کہ میں اس رشتے پر کیوں راضی نہیں ہوں تو اس کی وجہ آپ ہیں۔‘‘ وہ گویا پھٹ پڑی۔
’’میں… میں کس طرح؟‘‘ سمیہ شاکڈ سی اس کی شکل دیکھ رہی تھیں۔
’’آپ نے ہی بچپن سے میرے دماغ میں ڈالا اور وظیفہ کی طرح پھر دہراتی ہی رہیں کہ عبداللہ تمہارا بھائی ہے۔ میرے ذہن نے انہیں صرف اسی روپ… اسی رشتے کے حوالے سے قبول کیا‘ آپ کہتیں کہ عبداللہ میرا بھائی ہے‘ نانی‘ ماریہ‘ پاپا حتیٰ کہ میری فرینڈز‘ وہ سب کہتیں کہ عبداللہ میرا سگا بھائی نہیں ہے‘ صرف خالہ زاد بھائی ہے۔ میں بھائی اور خالہ زاد بھائی کی چکی میں پستی گئی۔ مجھے کبھی یہ سمجھ ہی نہیں آیا کہ بھائی اور خالہ زاد بھائی میں کیا فرق ہے۔ بس اسی وجہ سے میرا ذہن انہیں اس رشتے‘ اس حیثیت سے قبول نہیں کر پارہا۔‘‘ وہ جیسے پھٹ پڑی تھی۔ آنسوئوں سے تر چہرے کے ساتھ وہ بولتی ہی چلی گئی۔ ’’آپ لوگوں کی دوغلی اور ریا کی ماری ہوئی سوچ کی بھینٹ میں چڑھ گئی امی جی… میں کسی بھی مرد‘ کسی بھی لڑکے میں انٹرسٹڈ ہو بھی کیسے سکتی تھی‘ میں‘ میں تو…‘‘ مزید اس سے نہ بولا گیا۔ وہ روتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ لائونج میں موجود نفوس پر گویا جمود طاری ہوگیا تھا۔ سب ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے جو پتھر حوریہ ان کو مار کر گئی تھی اس کی چوٹ دل تک پہنچی تھی۔ اس کے کرب اور ذہنی تکلیف کا اندازہ اب سب کرسکتے تھے جو بات ان سب کے لیے آسان تھی وہ اس کے لیے پل صراط پار کرنے کے مترادف تھی۔
اس دن کسی نے اسے کچھ نہ کہا‘ اس کا کھانا بھی ماریہ نے اسے کمرے میں ہی پہنچا دیا تھا کیونکہ وہ باہر آنے پر راضی نہ تھی۔ مگر اس نے کھانا کھانے سے انکار کردیا تھا۔ دن سے رات ہوگئی اور اس نے پانی کا ایک گھونٹ تک نہ پیا… بس روتی ہی رہی تھی۔ باری باری سب گھر والے اسے منانے آرہے تھے اور تھک کر چلے جاتے‘ رات کے وقت اس کے کمرے کے دروازے پر ایک بار پھر دستک ہوئی وہ رو رو کرنڈھال ہوچکی تھی۔ اس نے دروازے کی سمت دیکھا مگر پھر اندر آنے والے وجود کو دیکھ کر منہ موڑ لیا۔
’’بھئی کھانے سے کیسی ناراضگی۔ اب تک تو پیٹ میں ہاتھی اور چوہے کی ریس شروع ہوکر ختم ہوچکی ہوگی۔ ماریہ نے بتایا کہ تم آج بھوک ہڑتال پر ہو۔‘‘ عبداللہ اس کے قریب آتے ہوئے لہجے میں بشاشت پیدا کرتے ہوئے بولا۔
’’جائیں یہاں سے‘ مجھے کسی سے بات نہیں کرنی۔‘‘ وہ یک دم پھر رو پڑی۔
عبداللہ اس کے پاس بیٹھ گیا‘ مسلسل رونے اور بھوکا رہنے کی وجہ سے چند گھنٹوں میں ہی اس کا پھول سا چہرہ کملا گیا تھا۔ آنکھیں سوجی ہوئی اور متورم تھیں۔ ناک سرخ ہورہی تھی۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ عبداللہ کو اسے اس طرح بے ترتیب دیکھ کر بہت دکھ ہورہا تھا۔
’’چلو ڈرائیو پر چلتے ہیں‘ میں نے نئی کار لی ہے اور تم نے مجھے مبارک باد تک نہیں دی۔‘‘ عبداللہ نے اصرار کیا۔
’’نہیں جانا ہے مجھے۔‘‘ وہ ہاتھ چھڑاتی ہوئی بولی۔
’’میں نے فیضی انکل سے اجازت لے لی ہے‘ پلیز کچھ دیر کے لیے چلو میرے ساتھ۔‘‘ اس نے ملتجی لہجے میں کہا۔ عبداللہ کے سامنے وہ یوں بھی کمزور پڑ جاتی تھی۔
’’منہ تو دھولو۔‘‘ اس کو اٹھتے دیکھ کر وہ بولا تو حوریہ نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا۔
’’اچھا اچھا… سمجھ گیا شیر منہ نہیں دھوتے‘ چلو ایسے ہی…‘‘ اور وہ اسے گھورتی ہوئی باہر نکل گئی۔ عبداللہ نے اس کے پسندیدہ ریستوران کے پاس کار روک کر اس کا من پسند کھانا آرڈر کیا۔
’’پہلے کھا لو تاکہ لڑنے کی طاقت پیدا ہو۔ خالی پیٹ لڑائی کا مزہ نہیں آتا۔‘‘ اسے منہ کھولتے ہوئے دیکھ کر وہ فوراً بولا۔ وہ آرڈر دے چکا تھا۔ عبداللہ نے کن اکھیوں سے اس کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی دیکھی۔ ڈائمنڈ کی انگوٹھی ہنوز موجود تھی۔ اس نے بات شروع کی۔
’’تو پھر… انکار کی وہی وجہ ہے جو تم نے خالہ کو بتائی یا کوئی اور بھی بات ہے؟‘‘ اس نے گہری نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
’’اور کیا بات ہوسکتی ہے؟‘‘ حوریہ نے نظر چرائی۔
’’حور! میں تم کو آج ایک راز کی بات بتانا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا۔
’’جب میں نے تمہیں بچپن میں دیکھا تھا تو تم مجھے ام مریم کی طرح لگی تھیں۔‘‘ اس نے بات کا آغاز کیا۔
’’ام مریم… ہو از؟‘‘ وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھی۔
’’میرا ماضی! جس سے انتہائی کربناک اور خوف ناک یادیں جڑی ہیں۔‘‘ اس نے گہری سانس لی۔ حور پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’ام مریم میری دوست تھی‘ وہاں لندن میں… اس دن جب میں نے تمہیں دوسری مرتبہ دیکھا تھا تو تم مجھے ام مریم کی طرح لگی تھیں۔ لندن میں ہمارا بہت بڑا بنگلہ تھا۔ جس کے دو حصے تھے‘ ایک حصے میں میں مام اور ڈیڈ رہتے تھے اور دوسرے پورشن کو ہم نے کرائے پر دے رکھا تھا کیونکہ مام سے اتنا بڑا گھر اکیلے نہیں سنبھالا جاتا تھا اور وہ اکیلے ڈرتی بھی تھیں۔ وہ مصری فیملی تھی‘ میاں بیوی اور ایک بیٹی ام مریم‘ ہزبینڈ مصری تھے اور وائف عربی‘ ام مریم میری ہی ہم عمر تھی مگر بے چاری ذہنی طور پر ڈس ایبل تھی‘ پاگل نہیں تھی صرف اس کا ذہن چار پانچ سال کے بچے کا ذہن تھا۔ فہمیدہ آنٹی بہت پریٹی تھیں اور بے حد نیک اور باحیا خاتون تھیں۔ وہ لانگ ڈریس نما کچھ پہنتی تھیں اور سر پر ہمیشہ حجاب لیے رہتی تھیں‘ میں نے کبھی انہیں گھر کے اندر بھی بغیر حجاب کے نہیں دیکھا تھا۔ میں ان کے پاس قرآن اور نماز سیکھنے جاتا تھا۔ ام مریم سے میری دوستی وہیں ہوئی۔ وہ بے حد خوب صورت بچی تھی‘ فرشتوں کی طرح معصوم۔ انکل عبدالسلام ڈاکٹر تھے‘ فہمیدہ آنٹی ہائوس وائف تھیں۔ مجھے یہ فیملی بہت پسند تھی۔ میں فری آورز میں ان کے پورشن میں کھیلنے چلا جاتا تھا۔ کبھی کبھی اسے میں اپنے گھر بھی لے آتا تھا۔ ہم اکثر اپنے بینگلو کے گارڈن میں کھیلتے تھے۔ ہمارا لان بہت بڑا اور بے حد حسین تھا۔ وہاں پر درخت بھی تھے۔‘‘ ویٹر کے آجانے کی وجہ سے وہ کچھ دیر کے لیے چپ ہوا۔
’’کھائو…‘‘ اس نے اشارہ کیا‘ حوریہ نوڈلز کھانے لگی اور وہ ملک شیک پینے لگا۔
’’ڈیڈ بہت کامیاب اور امیر آدمی تھے‘ بظاہر وہ بہت نائس لگتے تھے‘ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے‘ مگر ان کی ایک بہت خراب عادت تھی‘ کہ وہ ڈرنک بہت کرتے تھے اور جب وہ ڈرنک کرتے تو آئوٹ آف کنٹرول ہوجاتے تھے۔ آنٹی فہمیدہ سے سنا تھا‘ کسی حدیث کی تفسیر بتاتے ہوئے انہوں نے سمجھایا تھا کہ شراب نوشی کرنے والے پر شیطان حاوی ہوجاتا ہے اور یہ تمام نشوں میں سب سے زیادہ خطرناک نشہ ہے۔ وہ مجھے دین سے متعلق کافی باتیں سمجھاتی تھیں۔ وہ باتیں آج بھی میرے لیے مشعل راہ بنی ہوئی ہیں۔‘‘ وہ کہتے کہتے رکا۔ حوریہ کھانے کے دوران پوری توجہ سے اسے سن اور دیکھ رہی تھی۔ عبداللہ کے چہرے پر ناقابل فہم تاثرات تھے۔ آنٹی فہمیدہ کی فیملی سے پہلے بھی ہمارے اس پورشن میں کچھ فیملیز آکر ٹھہرتی تھیں مگر یہ فیملی مجھے بہت زیادہ پسند تھی۔ کبھی کبھار مام ان لوگوں کو اپنی طرف انوائیٹ کرلیتی تھیں‘ کبھی لنچ‘ کبھی بریک فاسٹ پر‘ کبھی وہ ہمیں انوائیٹ کرلیتے تھے‘ مام نے کبھی ان لوگوں کو ڈنر پر انوائیٹ نہیں کیا تھا۔ وہ پتہ نہیں کیوں ڈرتی تھیں ڈیڈ کو ڈنر کے بعد ڈرنک کرنے کی عادت تھی اور ڈرنک کے بعد وہ اکثر آپے سے باہر ہوجاتے تھے۔ دوسری بری عادت ڈیڈ کی یہ تھی کہ وہ کینہ پرور تھے‘ دل میں جس کے لیے جو ٹھان لیتے وہ پوری کرکے دم لیتے‘ مجھے ٹھیک سے یاد تو نہیں کہ ہوا کیا تھا مگر اتنا یاد ہے کہ اس رات ہم انکل عبدالسلام اور فہمیدہ آنٹی کے یہاں ڈنر پر مدعو تھے‘ میں اور ام مریم لائونج میں کھیل رہے تھے‘ مام اور آنٹی کچن میں کھانا کا دیکھ رہی تھیں جب ڈیڈ اور انکل کے جھگڑنے کی آوازیں آئیں۔ مام اور آنٹی بھاگ کر لائونج میں آئی تھیں اور ڈیڈ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔ انکل اور ڈیڈ ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے۔
’’حرام زادے…‘‘ انکل عبدالسلام کے منہ سے نکلنے والی گالی پر ڈیڈ آپے سے باہر ہوگئے۔
’’میں تمہیں حرام زادے کا مطلب عملاً سمجھائوں گا۔‘‘ ڈیڈ نے جاتے جاتے انہیں دھمکی دی تھی۔ مام بمشکل انہیں لے کر باہر نکلی تھیں اور میں اور ام مریم بہت خوف زدہ تھے۔ میرے پوچھنے پر بھی مام نے مجھے کچھ نہ بتایا تھا۔ اگلے روز ڈیڈ کے چلے جانے کے بعد مام نے فہمیدہ آنٹی کو فون کیا تھا تاکہ معاملے کا پتہ چلا سکیں۔ میں ان کے پاس ہی کھڑا تھا۔ مام کے چہرے کے تاثرات آج بھی مجھے یاد ہیں حوریہ… میری ماں نے میرے باپ جیسے آدمی کے ساتھ اپنی زندگی کے بدترین دن گزارے تھے۔‘‘ وہ کہتے کہتے رکا حوریہ کھانا کھانا بھول چکی تھی۔ ’’مجھے وہ بھیانک رات آج بھی یاد ہے‘ مام نے اس رات زندگی میں پہلی بار خود سے ڈیڈ سے لڑائی کی تھی۔ بات کا پتہ نہیں مگر موضوع وہی تھا‘ اس رات ان کا عبدالسلام انکل سے جھگڑا مام غصے میں روتی ہوئی کار کی چابی لے کر باہر نکل گئیں تھیں۔ ڈیڈ نے مجھے ڈانٹ کر کمرے میں بھگا دیا تھا خود ڈرنک کرنے لگے تھے اور میں روتے روتے سوگیا تھا۔ رات کا جانے کون سا پہر تھا جب میری آنکھ کسی آواز سے کھلی تھی۔ پتہ نہیں کون سا پہر تھا رات کا‘ میں گھبرا کر اٹھا۔ لندن کی سردی جما دینے والی ہوتی ہے‘ میں نے صرف ایک گرم سوئیٹر پہنا ہوا تھا اور ننگے پیر میں کمرے سے نکل کر باہر آگیا۔ رات کے مہیب سائے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھے۔ اتنا سناٹا اور اس قدر جمود سا محسوس ہورہا تھا فضا میں کہ میں لمحہ بھر کو ٹھٹک سا گیا۔ مجھے بچپن سے ہی ایسی ٹریننگ ملی تھی کہ میں کسی چیز سے نہیں ڈرتا تھا‘ مگر اس رات‘ اس سناٹے میں ایک چیخ نے مجھے دہلا دیا تھا۔ میں نے غور کیا تو چیخ کی آواز فہمیدہ آنٹی کے گھر سے آئی تھی۔ میں ٹیرس میں کھڑا تھا۔ ان لوگوں کے گھر کا دروازہ بند نہیں تھا‘ اتنے اندھیرے میں گھر کے اندر کی روشنی اس دروازے کی جھری سے باہر آرہی تھی۔ میں نے چیخ کی آواز پھر سنی… مگر اس بار ایک ننھی سی چیخ بھی اس چیخ میں مدغم تھی۔ میں سمجھا کہ ان کے گھر کوئی ڈاکو گھس آیا ہے۔ چوری کی وارداتیں اس علاقے میں بہت کم ہوتی تھیں‘ مگر ہوا کرتی تھیں۔ میں ڈیڈ کے روم کی طرف بھاگا‘ ڈیڈ کے کمرے کا دروازہ پٹ کھلا ہوا تھا۔ میں نے کمرے کی ہلکی نیلی روشنی میں بیڈ کی طرف دیکھا۔ وہاں مام سو رہی تھیں‘ میں ان کی طر ف بھاگا مگر بستر پر صرف کمبل تھا‘ مام نہیں تھیں… نہ ہی ڈیڈ تھے۔ میں بدحواس ہوگیا تھا تو میں نو‘ دس سال کا بچہ ہی… میرے اعصاب چٹخ سے گئے۔ اتنے میں دل خراش چیخ نے مجھے پھر ہلادیا۔ میں تیزی سے فہمیدہ آنٹی کے پورشن کی طرف بھاگا۔ میں ننگے پائوں تھا… میں ابھی فہمیدہ آنٹی کے گھر سے کچھ ہی قدم کے فاصلے پر تھا کہ میں نے ان کے گھر کا دروازہ کھلتے اور اس کے اندر سے ایک شخص کو نکلتے دیکھا۔ میں خوف زدہ ہو کر وہیں ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ وہ مرد جھوم رہا تھا‘ اور ڈور لائٹ کے نیچے کھڑے اس مرد کو دیکھ کر میں جیسے سکتے میں آگیا تھا وہ اور کوئی نہیں… ڈیڈ تھے۔ وہ شراب کے نشے میں جھوم رہے تھے۔ ان کی شرٹ کے تمام بٹن کھلے تھے اور ان کے چہرے پر وحشت چھائی تھی۔ وہ مجھے آدمی نہیں خون آشام درندہ نظر آرہے تھے۔ وہ ہمارے پورشن کی طرف بڑھ گئے تھے۔ میں اندھیرے میں اور درخت کی اوٹ لینے کی وجہ سے ان کو نظر نہیں آیا تھا۔ ڈیڈ گھر کے اندر جاچکے تھے۔ میں لرزتے کانپتے وجود کے ساتھ دہشت زدہ سا یہ سوچتا ہوا فہمیدہ آنٹی کے گھر کی طرف بڑھنے لگا کہ وہ چیخیں کس کی تھیں اور ڈیڈ اتنی رات کو یہاں کیا کرنے آئے تھے۔ دروازہ پٹ کھلا ہوا تھا مگر میرے اندر دہلیز عبور کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ اندر کا منظر اتنا خوف زدہ کردینے والا تھا کہ میرے پیروں سے جان ہی نکل گئی تھی۔ اس روز میں نے خوف کے اصل معنی جانے تھے۔ ام مریم بے لباس کارپٹ پر بے سدھ پڑی تھی‘ پتہ نہیں اس کا لباس کہاں تھا؟ وہ زندہ تھی یا نہیں؟ اس سے کچھ فاصلے پر فہمیدہ آنٹی نیم جان حالت میں گری ہوئی تھیں‘ ان کے سر پر حجاب نہیں تھا‘ ان کا لباس بھی غائب تھا… ان کی دونوں کلائیاں اور پیر رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ وہ نیم بے ہوشی میں تھیں۔ میری آنکھوں سے وہ منظر نہیں جاتا ہے حوریہ… میں نے اس باپردہ اور باحیا عورت کو جس حالت میں دیکھا تھا میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں ڈیڈ کا مرڈر کردوں‘ اللہ نے اس رات اس بچے کو ایک بڑے مرد جتنی طاقت اور حوصلہ دیا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر ام مریم پر وہی حجاب کھول کر ڈالا جو اس کی ماں اپنے سر کے بالو ں کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ پھر میں نے آنٹی فہمیدہ کے ہاتھوں کی رسیاں کھولنے کی کوشش کی‘ مگر مجھ سے نہ کھل سکیں۔ مجھے خیال آیا کہ پہلے فہمیدہ آنٹی پر چادر ڈالنی چاہیے‘ میں نے ادھر ادھر سے ڈھونڈ کر چادر نما کپڑا ان پر ڈالا اور ان کے ہاتھوں اور پیروں کی رسیوں کو چھری کی مدد سے کاٹا۔ فہمیدہ آنٹی نے ادھ کھلی آنکھوں سے مجھے دیکھا تھا۔ میں ان آنکھوں کا تاثر آج بھی یاد رکھے ہوئے ہوں… میں رو رہا تھا۔ فہمیدہ آنٹی ہاتھوں کے آزاد ہوتے ہی اپنے چہرے کو ڈھانپ کر رونے لگیں۔ ان کی چیخوں سے دہل کر میں الٹے قدموں واپس باہر بھاگا اور پھر سیدھا اپنے بیڈروم میں بستر پر ہی آکر گرا تھا۔ اس رات خوف ودہشت سے میری چیخیں اندر ہی گھٹ گئی تھیں‘ مجھے نہیں پتہ تھا کہ مام کہاں چلی گئی تھیں… بس میری آنکھیں بند ہوتی گئی اور میں مام کو چیخ چیخ کر پکارنا چاہتا تھا مگر میری آواز گھٹ کر رہ گئی تھی۔ مجھے جب ہوش آیا تھا تو میں ہاسپٹل کے کمرے میں تھا۔ مجھے شدید نروس بریک ڈائون ہوا تھا۔ میں تقریباً ایک ماہ تک ہاسپٹل میں رہا جہاں میرا ذہنی اور نفسیاتی دونوں علاج چل رہے تھے۔‘‘ وہ کچھ لمحہ ٹھہرا اور حوریہ نے زندگی میں پہلی بار اس کی آنکھیں میں نم دیکھی تھیں۔
’’وہ حادثہ میری زندگی کا بدترین حادثہ تھا۔ مام کی زبانی پتہ چلا تھا کہ اس رات کسی نے ام مریم اور اس کی مما کا مرڈر کردیا تھا اور یہ صرف میں جانتا تھا کہ انہوں نے خودکشی کی اور ام مریم کی جان لی تھی۔ اس ذلت کو وہ برداشت بھی کیسے کرسکتی تھیں۔ انکل عبدالسلام اس رات ہاسپٹل میں نائٹ ڈیوٹی پر تھے‘ انہیں پتہ چلا تو انہیں برین ہمبرج ہوگیا۔ وہ تین لاشیں ایک ہی گھر سے نکلی تھیں… مما اس رات ڈسٹرب تھیں اور اپنی ایک فرینڈ کے گھر چلی گئی تھیں۔ صبح جب وہ آئی تو ڈیڈ مجھے ہاسپٹل لے جاچکے تھے۔ مام کو کچھ باتوں پر شک تھا‘ انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں کچھ نہ چھپا سکا۔ میں نے انہیں آنکھوں دیکھا سارا حال بیان کردیا۔ مام نے اس وقت خود کوکیسے سنبھالا تھا‘ مجھے یاد نہیں… مگر وہ دن ہمارا اس گھر میں آخری دن تھا۔ مام اور میں گھر چھوڑ کر مام کی ایک فرینڈ کے خالی اپارٹمنٹ میں آگئے تھے‘ جو کہ ان دنوں شہر سے باہر تھیں‘ مام نے ڈیڈ سے ڈائیورس مانگی تھی۔ وہ اب ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھیں‘ ڈیڈ نے پانچ زندگیوں کا خون کیا تھا‘ تین جسم قبر کی مٹی میں اترے تھے اور دو چلتی پھرتی لاشیں۔ مجھے اس شخص سے گھن آتی ہے جسے میں اپنا باپ کہنے پرمجبور ہوں۔ اس رات میں نے جانا تھا کہ جب آدمی شیطانیت پر اترتا ہے تو پھر شیطان بھی اس سے پناہ مانگنے لگتا ہے۔ شائد فرشتوں نے اسی خوف کے سبب خدا سے پوچھا تھا کہ تو انسان کو پیدا کرے گا تو وہ زمین پر فساد برپا کرے گا۔ خون وانتشار پھیلائے گا۔ مام اور میرے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہوگیا تھا کہ اس واقعے کا ذکر ہم اپنے آپ سے بھی نہیں کریں گے‘ پھر مام نے لبوں کو سی لیا۔ بہت سارے الزام اپنے اوپر برداشت کیے کہ سبھی‘ جو بھی اس حادثے کی ’’اصل‘‘ سے ناواقف تھے‘ وہ مام کو ڈیڈ کی موت کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ جس روز ہم نے پاکستان کے لیے فلائی کرنا تھا‘ مام ڈیڈ سے ملی تھیں اور انہیں بتایا تھا کہ ان کے بیٹے نے ان کی وحشت ودرندگی کا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ پھر ہم پاکستان آگئے‘ باقی کے حالات تمہارے سامنے ہیں… میں نے تمہاری آنکھوں میں مردوں کے لیے وہ خوف دیکھ لیا تھا جو آنٹی فہمیدہ کی ان نیم وا آنکھوں میں تھا… جب ڈیڈ تمہیں گود میں لینے لگے تھے تب تمہارے چہرے پر وہی خوف تھا مگر تب مجھے اس کا مطلب معلوم نہیں تھا‘ پھر جب ہم ہمیشہ کے لیے پاکستان آگئے تب مجھے تمہارے اندر کے خوف کے مطلب و معنی اچھی طرح معلوم ہوگئے تھے‘ جو حادثہ ام مریم کے ساتھ ہوا تھا‘ وہی حادثہ تمہارے ساتھ ہوا تھا۔‘‘ عبداللہ نے اس کی طرف دیکھا‘ وہ سخت جھٹکے میں تھی‘ عبداللہ کی بات پر وہ جیسے رکتی ہوئی سانس کے ساتھ اس کو دیکھتی چلی گئی۔ ’’جب تمہاری امی جی اور مام باتیں کررہی تھیں‘ اس رات میں سویا ہوا نہیں تھا‘ صرف لیٹا ہوا تھا‘ آنکھیں بند کرکے‘ دونوں بہنیں ایک دوسرے کی سامنے دل کا بوجھ ہلکا کررہی تھیں۔ میں اس رات سے ان کے اس راز میں شریک بن گیا تھا۔ یہ بات آج صرف تمہیں بتارہا ہوں…‘‘ عبداللہ نے اس کی بھیگی آنکھوں کو دیکھا اور اس کا ننھا سا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے لیا۔
’’حالات میں فرق سہی‘ مگر ایک جیسے کرب سے گزرے ہیں ہم دونوں۔ شکلیں مختلف سہی مگر سچ ہے کہ آگ کے دریا کو ہم دونوں نے ہی پار کیا ہے۔ نوعیت الگ الگ سہی… مگر تکلیف کی کیفیت ایک ہی تھی۔ میں تمہاری نفسیات اس لیے سمجھتا تھا اور ہوں کہ میں نے وہ عذاب خود پر جھیلا ہے‘ جس عذاب نے تمہاری زندگی میں تبدیلیاں پیدا کیں‘ ہم دونوں ایک دوسرے کے کیا لگتے ہیں… ہمارا رشتہ کیا ہے؟ دنیا کو پہنانے دو معنی‘ جو انہیں لگتا ہے لگنے دو۔ میں اور تم جانتے ہیں کہ ہم ’’ایک‘‘ ہیں‘ دو نہیں‘ ہمارا تعلق کسی لفظ‘ کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ بھائی اور کزن کیا ہوتے ہیں؟ رشتے جو اللہ نے بنا کر اتارے وہی ہوتے ہیں۔ ہم زنگ کھائے ہوئے ادھوری سوچ رکھنے والے نامکمل انسان… ہم رب کے اتارے ہوئے احکامات سے ہٹ کر اپنی لاجک پیش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بھائی اور بہن وہی ہوتے ہیں جن کی تصدیق قرآن پاک میں وضاحت کے ساتھ کردی گئی ہے۔ ہم اس حکم اور علم کے اندر ترمیم کرکے اپنے ناقص اور نامکمل علم کو درمیان میں لے آتے ہیں۔ بگاڑ وہیں سے پیدا ہوتا ہے‘ جہاں سے ہم اپنے اصل کو چھوڑ کر دوسری سمتوں میں دوڑنے لگتے ہیں‘ اصل کیا ہے؟ وہی تو ہے… صراط مستقیم کا راستہ… حکم آتو گیا ہے وضاحت کے ساتھ۔ قرآن کی واضح تشریح‘ حدیث کی صورت… پھر بھی ہم جان بوجھ کر راستہ بھٹکنا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ کرب سے کہہ رہا تھا۔
’’ڈیڈ فہمیدہ آنٹی کو ’’بہن‘‘ کہتے تھے… اس رشتے کے تقدس کا انہیں احساس تک نہیں تھا۔ مقام فکر ہے حور! تم بھی راہ بھٹک رہی تھیں‘ حالانکہ میں نے بے شمار مرتبہ تمہیں باور کرایا۔‘‘ وہ لمحہ بھر کو چپ ہوا۔
’’تو کیا آپ کے ذہن میں…؟‘‘ اس نے جملہ ادھورا چھوڑا۔
’’نہیں… تمہارے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں نے تم سے وہ والی محبت نہیں کی تھی۔ میں نے تم سے صرف محبت کی ہے اور اسے کوئی نام دینے کی کوشش نہیں‘ جبکہ تم نے اپنی محبت کو نام دینے کی کوشش میں اس کی شکل ہی بدل ڈالی۔ ایک بار خود سے سچ بولو… سوچو اور جان جائوگی کہ تم کیا چاہتی ہو‘ کسی کی سوچ کے دبائو سے اپنے آپ کو آزاد کرکے فیصلہ کرو۔‘‘ عبداللہ نے نرمی سے کہا۔ ’’اور یقین رکھو کہ میں تمہارے ہر فیصلے کا احترام کروں گا۔‘‘ عبداللہ نے نرمی سے کہا اور ویٹر کو بل ادا کرنے لگا۔ حوریہ کو فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگی تھی۔ عبداللہ اس کی کشتی کا ایسا جفاکش ملاح تھا جو اس کی نیا پار لگانے کی اہلیت رکھتا تھا۔ حوریہ نے مطمئن ہوکر عبداللہ کے مضبوط ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close