Aanchal May 15

ذرا سی بات

عتیقہ ملک

ہمیشہ حلقہ نا مہرباں میں رہتے ہیں
جو حق پہ ہوتے ہیں ہمیشہ امتحاں میں رہتے ہیں
حسد کی آگ سے کس کس کا گھر جلائو گے
کہ اہلِ عشق تو سارے جہاں میں رہتے ہیں

مہندی لگے گی تیرے ہاتھ
ڈھولک بجے گی ساری رات
جاکر تم ساجن کے ساتھ
بھول نہ جانا یہ دن رات
کھنکتی آوازوں‘ شوخ فقروں اور چنچل قہقہوں‘ خوشبوئوں میں بسے ماحول میں علیزے کو نیچے اسٹیج پر لے جانے کا مرحلہ درپیش تھا۔
’’ہائے سبز دوپٹہ کدھر ہے؟‘‘ کسی چنچل آواز نے شور مچایا اور سبز دوپٹے کی ڈھونڈیا مچ گئی مگر سبز دوپٹہ جو سسرال والوں کی طرف سے آنا تھا ندارد تھا۔
دلہا والے کتنے نکمے نکلے ایک دوپٹہ لانا بھول گئے پہلے ہی امتحان میں فیل ہوگئے۔ دلہن کی سہیلیوں نے دھائی دی۔ چلو باہر چلتے ہیں دلہا والوں میں سے جس کے پاس سبز دوپٹہ ہوگا لے اڑیں گے‘ ہنستی کھلکھلاتی ہم جولیوں کو نیا مذاق سوجھا مگر واہ ری قسمت کہ سبز دوپٹہ کسی کے پاس نہ تھا۔ البتہ دلہا کی والدہ گولڈن سوٹ کے اوپر گرین اور گولڈن کمبنیشن کا دوپٹہ لیے ہوئے تھیں۔ ان سے مستعار لینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے بخوشی دوپٹہ عنایت کیا اور کندھوں پر ڈالی ہوئی خوب صورت شال سر پر اوڑھ لی تھی۔
ڈھولک کی تھاپ پر بنی سنوری مایوں کی دلہن زرتار دوپٹے میں سہج سہج قدم اٹھاتی ہم جولیوں کے جھرمٹ میں اسٹیج پر پہنچی اور اسٹیج پر بیٹھتے ہوئے ذرا سی نظر اٹھانے پر اس کی نظر تمام تر محفل کا سرسری جائزہ لے چکی تھی۔ اس ایک نظر نے اسے چونکا دیا تھا۔ مہندی لے کر آنے والوں کے ساتھ آیا وہ لڑکا جواب مووی میکر کے ساتھ کھڑا اسے ہدایت دے رہا تھا۔ وہ کون تھا؟ دلہن کے ذہن میں کچھ کلک ہوا مگر کیا؟ وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔
ظ…ظ…ظ
’’مونی تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ میرا بھائی تھوڑے سے انتظار پر جان کو آجاتا ہے اور تم ابھی تک یہ میلا بوتھا لے کر بیٹھی ہو۔‘‘ علیزے نے اندر داخل ہوتے ہی اپنا پرس صوفے پر پھینکا اور اس کی کلاس لینے لگی۔
’’آرام سے‘ بحرالکاہل کا طوفان مت بنو‘ میں روفی سے کہتی ہوں اندر آکر بیٹھے اور میری تیاری کون سا زیادہ وقت لینے والی ہے‘ بس چینج کرنا ہے۔‘‘ منزہ نے فریج سے پیپسی کی بوتل اور گلاس لیا اور ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔ جبکہ علیزے اپنا دوپٹہ اتار کر سامنے لگے مرر میں اپنا جائزہ لینے لگی تھی۔
’’وائو کیا زبردست فٹنگ ہے۔ تم تو کتنے اچھے کپڑے سلائی کرنے لگی ہو آئندہ میں بھی تم سے سلائی کروائوں گی۔‘‘ منزہ روفی کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اندر آئی تو بغیر دوپٹے کے اس کا دلکش سراپا دیکھتے ہوئے ستائشی انداز میں بولی۔
’’میں اتنی سگھڑ کب سے ہونے لگی‘ یہ تو زرنگار ٹیلر کا کمال ہے۔‘‘ علیزے اس کی بات پر مسکرا کر دوبارہ اپنا عکس دیکھنے لگی۔
’’چلو اب نکلو…‘‘ منزہ نے ایک چھوٹی پرچی پر لکھا نمبر اپنے موبائل میں سیو کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ کس کا نمبر ہے جو اتنی احتیاط سے سیو کیا جارہا ہے۔‘‘
’’یہ بہت اسپیشل لوگوں کا نمبر ہے۔‘‘ منزہ نے قدرے اٹھلا کر کہتے ہوئے بیگ اٹھایا۔ علیزے کا تجسس کے مارے برا حال تھا۔
’’آخر بتائو تو سہی کس کا نمبر ہے یہ؟‘‘ گاڑی سے اتر کر بیگ گھسیٹتے ہوئے اس نے منزہ کا سر کھا لیا۔
’’میں نہیں بتاتی مجھے شرم آتی ہے۔‘‘ منزہ نے انگلی دانتوں میں دبا کر ایکٹنگ کی۔
’’کیوں؟ تمہارا ہونے والا دلہا ہے جو بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔‘‘
’’ہائے تجھے کیسے پتا چلا؟‘‘ منزہ نے آنکھیں پٹپٹا کر سوال کیا۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ بیگ کو بھی گھسیٹ رہی تھیں جس میں پہلے علیزے کا سامان کم نہیں تھا اور بعد میں گویا منزہ نے تو پتھر ہی ٹھونس دیئے تھے۔ چند قدم اٹھا کر چلنا محال ہورہا تھا۔ انہوںنے رک کر ایک دیوار کے نیچے سستانے کی کوشش کی تھی تب ہی قریبی دروازے سے ایک عورت باہر نکلی۔
’’ہائے ہائے بچیوں ادھر رک کر کس کا انتظار کررہی ہو؟ یوں سڑک کنارے کھڑا ہونا برا لگتا ہے۔ اندر آکر بیٹھ جائو۔‘‘ علیزے نے اس کی پیشکش پر منہ بنایا جبکہ منزہ خوش اخلاقی سے مسکرا کر کہنے لگی۔
’’نہیں آنٹی ہمیں سامنے ہاسٹل تک جانا ہے۔ بیگ بھاری ہونے کی وجہ سے رک گئے تھے‘ چلو علیزے۔‘‘ اس نے وضاحت دیتے ہوئے علیزے کو بیگ اٹھانے کا اشارہ کیا اور اپنی طرف سے بھاری بھرکم بیگ اسٹریپ تھاما۔
’’اٹھاتی ہو یا نہیں؟ تمہیں اور اسے ادھر پھینک کر میں اکیلی ہاسٹل دفعان ہوجائوں۔ ویسے بھی یہ بیگ تمہارا ہے کیا ہوا جو تھوڑا بہت سامان میں نے بھی رکھ لیا۔‘‘ منزہ کی دھمکی پر اس نے دوسری طرف سے بیگ کا اسٹریپ تھام لیا۔
…٭٭٭…
’’یہ کاشی کا نمبر ہے…‘‘ منزہ نے بیڈ پر چت لیٹی حالت میں ٹانگیں جھلاتے ہوئے بتایا تھا۔
’’وہ کون ہے تمہیں کہاں ملا اور نمبر موبائل میں رکھنے کی وجہ؟‘‘
’’تم نے میرے بھائی کا کتا دیکھا ہے نا؟‘‘
’’وہ منحوس کتا جس نے ایک دن بھونکتے ہوئے میرے پائوں پر پنجا مارا تھا۔‘‘
’’ہاں وہی…‘‘ منزہ کو اس کا حوالہ شناخت فراہم کرنے پر غصہ تو آیا مگر ضبط کرگئی۔
’’وہ بھی بھلا کوئی کتا ہے اگر ڈھنگ کا کتا ہوتا تو تلاش کرتا کوئی اپنے جیسی یا پھر تم جیسی۔‘‘
’’کیا شان دار پرسنالٹی ہے یار اس کی؟‘‘ منزہ نے اس کی بے تکی کو نظر انداز کیا۔
’’کہاں شان دار ہے اتنا چھوٹا سا تو ہے چوہے جیسا… کمال ہے تمہیں افیئر چلانے کے لیے ایک کتا…‘‘ جواباً اسے منزہ نے ایسی نظروں سے دیکھا کہ وہ سٹپٹا کر رہ گئی۔
’’کاشی کے پاس ایسی ہی اعلیٰ نسل کی کتیا ہے‘ وہ اس کے لیے پارٹنر تلاش کرتا پھر رہا تھا۔ جب اسے پتہ چلا کہ میرے بھائی کے پاس ایسا کتا ہے تو وہ اسے دیکھنے کے لیے ہمارے گھر چلا آیا تھا‘ تبھی میری اس سے ملاقات ہوئی بلکہ میں تو ایک نظر میں اسے دیکھ کر سحرزدہ رہ گئی تھی۔‘‘ منزہ بتاتے ہوئے جیسے کھو سی گئی تھی۔
ظ…ظ…ظ
دو دن سے اسائنمنٹ بنانے کے چکر میں علیزے نے اپنی نیند حرام کر رکھی تھی اور اسائنمنٹ جمع کروانے کے بعد اس کا ارادہ لمبی نیند سونے کا تھا۔ اس نیت سے اس نے کالج سے واپس آکر معتدل موسم کے باوجود کمبل اوڑھا اور گھرر گھرر کرتا پنکھا چلا کر سوگئی تاکہ پنکھے کی آواز میں باہر سے آنے والی آوازیں اسے ڈسٹرب نہ کرسکیں۔
منزہ‘ فرمان اور شازیہ نے اپنی پسند کی مووی دیکھنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ مگر نہ جانے اسے سونے میں دیر ہوگئی تھی یا پھر ا نہوں نے مووی فارورڈ کرتے ہوئے دیکھی تھی۔ اسے یوں لگا گویا اس کی آنکھ لگتے ہی دھاڑ سے دروازہ کھلا اور چند لمحوں بعد فین آف کردیا گیا تھا۔
’’علیزے…‘‘ فرمان کی آواز آئی۔
’’میڈم علیزے۔‘‘ شازیہ نے پکارا۔
’’علیزے ڈیئر‘ منزہ کی منحوس آواز اسے تپا گئی مگر اس نے کوئی جواب نہ دینے کا تہیہ کر رکھا تھا۔
’’یار لگتا ہے یہ ایکسپائر ہوگئی ہے۔‘‘ منزہ نے چند لمحوں کے سکوت کے بعد خیال ظاہر کیا۔
’’کنفرم ہے یا ڈاکٹر کو بلائیں؟‘‘ فرحان نے سوال کیا۔
’’کنفرم ہے مجھے تو لگتا ہے اب خاصی دیر ہوچکی۔‘‘
’’چلو اس کے اوپر سے کمبل اٹھائو اور چادر اوڑھا دو‘ اب تو یہ مادی ضروریات سے بے نیاز ہوچکی ہے۔‘‘ فرحان کی شرارت بھری آواز اسے تپا گئی۔
’’ہے نہیں‘ ہیں… ملک عدم چلے جانے والے لوگوں کا ذکر بصد احترام کیا جاتا ہے۔‘‘ شازیہ نے مسکراتے ہوئے فرحان کو ٹوکا۔
’’چلو کمبل اٹھائو اس کے اوپر سے۔‘‘ اگلے پل ان چاروں نے اس کے کمبل کا ایک ایک کونا پکڑ کر اٹھایا اور علیزے بی بی کرنٹ کھا کر اٹھ بیٹھی‘ اتنی ہی تیز رفتاری سے وہ تینوں کمرے کے کونے میں ہوئیں اور اب مسکین اور خوف زدہ شکلیں بنا کر اسے یوں دیکھ رہی تھیں جیسے وہ سچ مچ…
’’کیا مصیبت ہے اب بندہ تھوڑی دیر کے لیے سکون سے سو بھی نہیں سکتا۔‘‘ وہ انتہائی کوفت بھرے انداز میں بولی۔
’’اچھا بھئی زیادہ غصہ ہونے کی ضرورت نہیں‘ سو جائو تم‘ پھر ہم سے نہ کہنا…‘‘ منزہ نے رکھائی سے کہا۔
’’کیا نہ کہنا؟‘‘
’’وہ ایکچوئیکلی بات یہ ہے علیزے کہ ہمارا پارک جانے کا پروگرام ہے تو ہم نے سوچا اگر اکیلے چلے گئے تو پھر تم ناراض نہ ہوجائو۔‘‘ فرمان نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
’’آں… آں… آں…‘‘ علیزے نے بغیر آنسوئوں کے دھواں دھار رونا شروع کردیا… ’’اس فضول بات کے لیے تم لوگوں نے مجھے جگا دیا؟‘‘
’’تو کون سی قیامت آگئی؟‘‘ منزہ نے ناک چڑھا کر سوال کیا۔
ظ…ظ…ظ
’’یہ آپ لوگوں نے میڈم ساجدہ کو کون سا تربوز پیش کیا ہے جو انہوں نے اس ٹائم باہر نکلنے کی اجازت دے دی۔‘‘ ہاسٹل گیٹ کراس کرتے ہوئے علیزے نے ان تینوں سے استفسار کیا۔
’’وہی تربوز جس کا رنگ کالا اور اندر سے سرخ ہوتا ہے۔‘‘ فرمان کی نشان دہی پرعلیزے ٹھٹکی۔
’’کیا وہ تربوز آپ لوگوں نے کاٹ دیا اور مجھے خبر تک نہیں۔‘‘ علیزے غصے سے بولی۔
’’تو ہم کیا کرتے‘ اس وقت تم سو رہی تھیں اور تم نے سنا نہیں جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے اور پھر وہ تربوز تھا ہی کتنا‘ ایک حصہ ہم تینوں نے مووی دیکھتے ہوئے کھایا اور ایک میڈم ساجدہ کو دے دیا۔‘‘ شازیہ کے بتانے پر علیزے نے بے دلی سے قدم بڑھائے۔
ظ…ظ…ظ
’’ہائے یہ لوگ آج پھر ہمارے پیچھے آرہے ہیں۔‘‘ شازیہ نے کہا تو فرمان سے تھا مگر علیزے اور منزہ کی سماعتوں نے چونک کر سنا تھا۔
’’کون لوگ کیا مسئلہ ہے؟‘‘ منزہ نے پوچھا۔
’’یہ جو تین لڑکے بائیک پر کبھی آگے کبھی پیچھے آرہے ہیں یہ لڑکیوں کا پیچھا کرتے ہیں۔‘‘ فرمان اور شازیہ فورتھ ایئر میں تھیں ان کا کالج الگ تھا جبکہ علیزے اور منزہ ماس کام فائنل ایئر کی اسٹوڈنٹ تھیں۔
’’آپ لوگوں کو ان کے بارے میں کیسے پتا ہے کہ یہ…؟‘‘ علیزے نے قدم اٹھاتے ہوئے توجہ ان دونوں کی طرف مبذول کی۔
’’یہ کالج سے واپسی پر روز…‘‘ شازیہ بتاتے بتاتے رکی۔
’’سبحان اللہ یہ سلسلہ کب سے چل رہا ہے۔‘‘ منزہ نے پوچھا۔
’’کافی دنوں سے صرف ہمیں ہی نہیں کالج کی اور لڑکیوں کو بھی شکایت ہے۔‘‘
’’اچھا… میرا خیال ہے واپس چلیں۔‘‘ علیزے ایک بک اسٹال پر کتاب اٹھا کر دیکھتے ہوئے ان تینوں سے پوچھنے لگی۔ پارک کی سیر کا پروگرام کینسل کردیا گیا۔ البتہ علیزے نے ذرا سا رخ موڑ کر بائیک کا نمبر ذہن نشین کرلیا تھا۔
ظ…ظ…ظ
’’آج میں نے کاشی کو کال کی تھی۔‘‘ منزہ تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ دھپ سے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بتا رہی تھی۔
’’کیا کہا۔ کس نے کس کو کال کی؟‘‘ علیزے اپنے خیال سے چونکی۔
’’کہاں گم ہو یار… علیزے؟‘‘ منزہ خفا سے انداز میں پوچھنے لگی۔
’’یار میں سوچ رہی ہوں یہ جن لڑکوں نے بائیک پر لڑکیوں کا پیچھا کرنے کا مشغلہ اپنا رکھا ہے ان کو ایسا سبق ملنا چاہیے کہ یاد رکھیں زندگی بھر… خیر تم بتائو تم کیا کہہ رہی تھیں۔‘‘
’’میں یہ کہہ رہی تھی کہ میں نے کاشی سے بات کی ہے۔‘‘
’’واقعی… کیا بات کی تم نے؟‘‘
’’یار ان کا لوکل نیوز پیپر ہے نا اس میں خبر تھی کہ پبلک سروس کمیشن کی ایڈ آنے والی ہے میں نے فون کرکے کنفرم کیا کہ کب تک آئے گا اور کیا یہ خبر ٹھیک ہے؟‘‘
’’پھر اس نے کیاکہا؟‘‘
’’اس نے کیا کہنا تھا یہ تو مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ نیوز پیپر اس کے فادر کا ہے‘ ظاہر سی بات ہے اس نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے یہی بات دہرائی کہ اس نے بھی نیوز پیپر میں خبر پڑھی ہے۔‘‘
’’یہ کون سی بڑی بات ہے؟‘‘ علیزے بے زار ہوئی۔
’’ارے واہ… میں نے انتہائی معصومیت سے اسے کہا کہ چیف ایڈیٹر کا نمبر نہیں مل رہا تھا لہٰذا مجھے کنفرم کرکے بتائیں۔‘‘
’’پھر…؟‘‘ علیزے کو مزید کوفت ہوئی۔
’’پھر اس نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے کنفرم کرکے بتادے گا۔‘‘
ظ…ظ…ظ
’’یہ DPO آفس کا نمبر ہے؟‘‘ دوسری طرف لائن ملنے پر اس نے استفسار کیا۔
’’یس میڈم!‘‘ دوسری طرف مستعد آپریٹر کی آواز آئی۔
’’مجھے DPO صاحب سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’میڈم وہ تو اس وقت میٹنگ میں بزی ہیں۔ آپ کام بتائیں؟‘‘ علیزے کا دل چاہا پوچھے اتوار کے دن کون سی میٹنگ میں بزی ہیں‘ مگر بہرحال اسے کام سے مطلب تھا سو تفصیل بتانے لگی۔
’’آپ کس ایریے سے بات کررہی ہیں۔ آئی مین یہ کالج کس ایریے میں ہے؟‘‘ آپریٹر نے پوری توجہ سے اس کی بات سننے کے بعد پوچھا تھا۔
’’یہ سٹی کا مین ایریا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میڈم‘ ایسا ہے کہ میں آپ کو ایس ڈی پی صاحب کا نمبر دے رہا ہوں اے ایس پی طارق صاحب آپ ان کو تفصیل بتائیں‘ وہ اس معاملے پر کوئیک اینڈ پراپر ایکشن لیں گے۔‘‘ علیزے نے زمین پر پڑا تنکا اٹھایا اور آپریٹر کا بتایا نمبر کچی زمین پر لکھنے لگی۔
ظ…ظ…ظ
’’اچھا اتنا تو بتادیں کہ آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟‘‘ منزہ چمکتے چہرے کے ساتھ محو گفتگو تھی۔
خبر کی تصدیق تو ایک بہانہ تھی ایک دو دفعہ مزید کال کرنے پر کاشی صاحب اتنا تو جان ہی گئے لہٰذا اب گفتگو کا رخ ذاتیات کی طرف مڑ چکا تھا۔
’’ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے یہ تو پھر ایک نمبر تھا۔‘‘ منزہ نے اپنے طور پر ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنے متعلق کچھ بھی بتانے سے گریزاں تھی۔ سو ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی۔
’’اچھا ٹھیک ہے اب آپ مجھے کال مت کیجیے گا جب تک آپ مجھے یہ نہ بتادیں کہ آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟ اوکے بائے۔‘‘ دوسری طرف کال منقطع ہوچکی تھی۔
’’آج میں نے کاشی سے…‘‘
’’یار یہ کیا فرسٹ ایئر فول والی اسٹوپڈ حرکتیں ہیں تمہاری…‘‘ اس سے پہلے کہ وہ خوشی خوشی آج کی گفتگو سناتی‘ علیزے اس کی بات کاٹ کر غصے سے جھاڑتی ہوئی واش روم میں گھس گئی۔
ظ…ظ…ظ
’’آپ میرے آفس ایک درخواست لکھ کر بھجوادیں‘ جس پر سارا مسئلہ سمیت بائیک نمبر درج ہو۔‘‘ اے ایس پی صاحب قدرے تحمل سے اس کی پوری بات سن کر غنودگی سے بھرپور آواز میں کہہ رہے تھے۔ ’’ہم پوری کوشش کریں گے کہ…‘‘
’’ایکسکیوز می سر آپ ہوش میں تو ہیں یا پھر آج ہی یورپ سے تشریف لائے ہیں۔ درخواست کے اوپر نام پتہ لکھنا ضروری ہوتا ہے اور ہماری سوسائٹی ابھی اتنی فارورڈ نہیں ہوئی کہ لڑکیاں یوں کھلم کھلا ان تھرڈ کلاس لوگوں کی خاطر خود کو ایشو بنانا پسند کریں یوں بھی یہ جونیئر اسٹوڈنٹس کا پرابلم تھا میں نے مناسب سمجھا کہ یہ تھرڈ ریٹ ہیرو آپ کی ناک کے نیچے جو کچھ کرتے پھر رہے ہیں اس سے متعلق آپ کو انفارم کردوں۔‘‘
’’وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن ہر چیز کا پروسیجر…‘‘
’’بھاڑ میں گیا آپ کا پروسیجر… کمال ہے آپ نے مجھے یہ مشورہ کیوں نہیں دیا کہ آپ کے آفس کے سامنے ایک میڈیا کانفرنس کروں اس طرح یہ مسئلہ بہترین طریقے سے ہائی لائٹ ہوجائے گا اور میری تصویریں بھی بغیر کسی خرچ کے اخبار میں لگ جائیں گی۔‘‘ بھنا کر کہتے ہوئے اس نے موبائل بند کرکے بستر پر پٹخ دیا۔
ظ…ظ…ظ
’’یا خدا… آپ لڑکی ہیں یا کوئی جن‘ آپ کو میرے بارے میں اتنی انفارمیشن کہاں سے ملتی ہیں؟‘‘
’’جو چاہے آپ سمجھ لیں لیکن ایک بات تو آپ مانیں گے کہ میری معلومات سو فیصد درست ہیں۔‘‘ منزہ نے داد چاہی۔
’’ہاں بھئی واقعی‘ ورنہ میں اپنے بچپن کے اس عشق کو کب کا بھول چکا ہوں اور اس لڑکی کے تو بچے بھی جوان ہوں گے۔‘‘
’’ویسے آپ بڑے فلرٹ انسان ہیں‘ آپ باغ میں اس سے ملنے جایا کرتے تھے اور جب اس نے آپ کو کہا کہ آپ اپنے پیرنٹس کو رشتے کے لیے بھیجیں تو اس کے بعد آپ کبھی نہیں گئے۔‘‘ منزہ کی بات پر کاشی کا بلند وبانگ قہقہہ بلند ہوا تھا۔
’’ہاں تو اب نائنتھ کلاس کا اسٹودنٹ‘ پیرنٹس سے رشتے کی بات کرکے جوتے کھاتا کیا؟‘‘ اپنا قہقہہ بمشکل روک کر اس نے جواب دیا۔
’’آپ میری بنٹی سے بھی واقف ہو‘ میرے بچپن سے بھی واقف ہو آپ ہو کون؟‘‘ وہ محظوظ ہوتے ہوئے عاجز ہوکر پوچھ رہا تھا۔
’’آپ اس بات کے پیچھے کیوں پڑگئے ہیں؟‘‘
’’بالکل بھی میں اس بات کے پیچھے نہیں پڑا‘ میں نے کبھی سیریس کوشش نہیں کی ورنہ آپ کو ٹریس کرنا میرے لیے مشکل نہیں۔‘‘ علیزے کی فرمائش پر منزہ نے کاشی کے ساتھ بات کرتے ہوئے ریکارڈ کا بٹن دبا دیا تھا اوراب اس ریکارڈ کو علیزے فرصت کے ساتھ سن رہی تھی۔
’’ویسے بندہ ہے ڈیسنٹ‘ کہیں کوئی عامیانہ یا اخلاق سے گری ہوئی بات نہیں کرتا۔‘‘ علیزے نے تبصرہ کیا۔
ظ…ظ…ظ
علیزے نے موبائل کی اسکرین پر لینڈ لائن سے آنے والا نمبر چمکتے ہوئے دیکھا تو کچھ سوچ کر یس کا بٹن دبا دیا۔
’’میڈم میں ایس ڈی پی او آفس سے اے ایس پی صاحب کا ریڈر بات کررہا ہوں۔‘‘
’’جی…‘‘ علیزے ہمہ تن گوش ہوئی۔
’’میڈم آپ نے اے ایس پی صاحب سے کمپلین کی تھی‘ آپ مجھے بائیک کا نمبر نوٹ کرادیں۔‘‘ علیزے نے ذہن میں نمبر دہراتے ہوئے نوٹ کردیا۔
ظ…ظ…ظ
’’السلام علیکم! میں اے ایس پی طارق بات کررہا ہوں۔‘‘
’’جی کہیئے اے ایس پی صاحب۔‘‘
’’ہم نے ان کو دو دن تھانے میں مہمان بنا کر رکھا ہے اور خاصی خاطر تواضع کے بعد چھوڑا ہے‘ ان کے پیرنٹس کی معافی تلافی اور یقین دہانی کے بعد کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت سامنے نہیں آئے گی۔‘‘
’’بہت بہت شکریہ سر۔‘‘ وہ حقیقتاً اس کے تعاون پر مشکور ہوئی۔
’’ایکچوئیلی میں نے یہ معلوم کرنے کے لیے فون کیا تھا کہ دوبارہ تو ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔‘‘
’’نہیں سر مجھے کالج کی اسٹوڈنٹس نے بتایا ہے کہ دو تین دن سے وہ حضرات غائب ہیں۔‘‘
’’میں اس معاملے میں آپ کی سینسبلیٹی سے بہت متاثر ہوا ہوں‘ اپنا پرسنل پرابلم نہ ہونے کے باوجود آپ نے اس مسئلے کو بہت اچھی طرح حل کیا اور بہت سی اسٹوڈنٹس کی مشکل کو دور کیا۔ بہت سی لڑکیوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس قسم کے حالات میں انہیں کہاں سے مدد مل سکتی ہے۔‘‘
’’نہیں سر یہ مسئلہ بہرحال آپ کی مدد کے بغیر حل نہیں ہوسکتا تھا۔‘‘ اس نے مشکور لہجے میں سارا کریڈٹ اسے دیا۔
’’خیر پبلک کی مدد کرنا ہماری تو ڈیوٹی ہے۔ بائے داوے آپ خود بھی کالج میں پڑھتی ہیں۔‘‘ طارق صاحب نے بات بدلی تو وہ کچھ کانشس ہوئی۔
’’نہیں سر‘ یونیورسٹی میں۔‘‘
’’میں آپ کا گڈ نیم جان سکتا ہوں۔‘‘ ان کے اگلے سوال نے اسے خاصا مشکل میں ڈال دیا۔
’’م… م… ملیحہ۔‘‘ اس نے پرسوچ انداز میں اٹک اٹک کر کہا تو دوسری طرف طارق صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
’’اوکے ملیحہ میں فون بند کرتا ہوں کوئی بھی پرابلم ہو آپ ہمیں ضرور انفارم کیجیے گا۔‘‘
ظ…ظ…ظ
اے ایس پی طارق نے ریوالونگ چیئر پر‘ پرسوچ انداز میں جھومتے ہوئے ایک نمبر ڈائل کیا۔
’’زہے نصیب… آج تھانے دار بادشاہ کو ہماری یاد کیسے آگئی۔‘‘ دوسری طرف اس کا کلاس فیلو اور دوست حساس ادارے کا انسپکٹر الیاس تھا جو بغیر سلام دعا کے شروع ہوگیا تھا۔
’’بکومت‘ تھانے دار ہوگی تمہاری گھر والی‘ میں تو اے ایس پی ہوں‘ سی ایس پی آفیسر…‘‘ طارق نے ہنستے ہوئے اکڑ کر جواب دیا۔
’’ایک ضروری کام آن پڑا ہے…‘‘
’’جی… جی وہی تو‘ ہم غریبوں کو بغیر کام کے بھلا کب یاد کیا جاتا ہے۔‘‘
’’اچھا اب زیادہ مت بنو‘ یہ بتائو آج کل کہاں ڈیوٹی کررہے ہو۔‘‘
’’اسلام آباد کے علاوہ کہاں جاسکتا ہوں۔‘‘
’’ویری گڈ‘ ایسا کرو کہ میں ایک نمبر سینڈ کررہا ہوں‘ اس کا بائیو ڈیٹا اور لوکیشن پتا کرکے دو۔‘‘
’’تو یہ کام تم باضابطہ طور پر محکمانہ توسط سے بھی کرسکتے ہو۔‘‘
’’بھئی یہ کسی مجرم کا معاملہ نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر…‘‘ الیاس نے خاصا شوخ ہوکر اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے پوچھا۔
’’تو پھر تمہارا سر… کس وقت تک پتا کروگے اور ہاں لوکیشن سے میری مراد ریزیڈنسی کے بارے میں اندازہ لگانا ہے۔‘‘
’’پھر تو کل شام تک ہی ڈی ٹیل فراہم کرسکوں گا۔‘‘ الیاس نے پرسوچ انداز میں کہا۔
…٭٭٭…
’’علیزے آپ کے گیسٹ آئے ہیں۔‘‘ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
’’کون ہیں؟‘‘
’’پتہ نہیں‘ کوئی خواتین ہیں وزٹنگ روم میں بیٹھی ہیں۔‘‘ وہ حیران ہوتی ہوئی وزیٹنگ روم کی طرف آئی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ دو اجنبی خواتین کو روبرو پاکر اور زیادہ حیران ہوئی۔
’’وعلیکم السلام علیزے بیٹا؟‘‘ سلام کا جواب دیتے ہوئے ایک نے استفسار کر ڈالا تھا۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی ہنوز حیران کھڑی تھی۔
’’آئو بیٹا بیٹھو۔‘‘ وہ ناچار ان کے سامنے چیئر پر ٹک گئی۔ خاتون کے ساتھ موجود لڑکی جس کی گود میں تقریباً ایک سال کا بچہ انگوٹھا چوس رہا تھا۔ خاموش مسکراتی نظروں سے اس کا جائزہ لے رہی تھی۔
’’میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔‘‘ اس نے الجھ کر استفسار کیا۔
’’ہم پہلی بار آپ سے مل رہے ہیں تو آپ پہچانیں گی کیسے؟‘‘ جواب لڑکی نے دیا۔
’’بیٹا! دراصل ہم آپ کے والدین سے ملنا چاہتے ہیں تو سوچا آپ سے مل لیں اور کنفرم بھی کرلیں کہ آپ کہیں انگیجڈ تو نہیں؟‘‘ علیزے خاتون کی بات پر کنفیوژ ہوکر نظر کا زاویہ بدل گئی۔
’’آپ مجھے کیسے جانتی ہیں؟‘‘
’’جاننے والوں کے توسط سے ہی سنا تھا آپ کے بارے میں…‘‘ لڑکی نے قدرے ٹالنے والے انداز میں کہا۔ وہ کنفیوژ ہوتی ان کے سوالوں کے جواب دیتی رہی۔
’’چلیں آپ گیٹ تک تو ہمیں چھوڑ آئیں۔‘‘ آخر میں لڑکی کی فرمائش اسے عجیب تو لگی‘ ناچار وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
بلڈنگ سے باہر گرائونڈ میں انہیں سی آف کرتے ہوئے اس کی نظر پولیس یونیفارم میں ملبوس شخص پر پڑی جو گرے سوک سے ٹیک لگائے پرشوق نظروں سے اسے دیکھ رہا۔
’’یہ ہمارے بھائی ہیں طارق… پولیس ڈیپارٹمنٹ میں آفیسر ہیں۔‘‘ لڑکی نے شوخ انداز میں قدرے فاصلے پرکھڑے اس پولیس مین کی طرف اشارہ کیا۔
علیزے اتنی حیران ہوئی کہ ان کے الوداعی کلمات کا جواب بھی نہ دے سکی۔
ظ…ظ…ظ
اسی شام کو اے ایس پی طارق کی کال آگئی۔
وہ یقین اور بے یقینی کے درمیان ڈولتی پریشان و متضاد سوچو ں میں گم تھی۔ بھلا اے ایس پی طارق کو اس کے خاندان اور برادری میں کسی حیثیت سے دیکھا جائے گا‘ اس کا اسٹیٹس اور کیریئر شاندار تھا یہ تو کوئی بھی جان سکتا تھا۔ مگر ان کے ہاں ابھی تک برادری سے باہر شادیاں کرنے کا رواج کم تھا۔ خاص طور پر لڑکیاں تو چند ایک بیاہی گئی تھیں مگر وہ بھی والدین کی مرضی سے۔ جن کے رشتے خاندان یا برادری میں نہ مل سکے تھے۔ بال کی کھال نکال کر برادری والوں نے گویا کڑوا گھونٹ بھرکر اس نئی ریت کو بمشکل ہضم کیا تھا۔ اب اس شہر سے کوئی رشتہ جانا‘ جہاں وہ پچھلے کئی سال سے تعلیم کی خاطر ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی کسی سے چھپ نہیں سکتا تھا‘ ایسے میں اس کے کردار پر اٹھنے والی انگلیاں… ان سوچوں میں پریشان قدرے بے دھیانی سے وہ اس کی کال اٹینڈ کرگئی۔
’’کیا حال ہیں ملیحہ صاحبہ‘ کیسا لگا میرا سرپرائز؟‘‘ دوسری طرف وہ محظوظ ہوکر پوچھ رہا تھا۔ چند سیکنڈ خاموش رہنے کے بعد اسے کچھ نہ سوجھا تو اس نے کال ڈسکنکٹ کردی۔ موبائل فوراً دوبارہ سے بجنے لگا اور بج بج کر خاموش ہوگیا۔ تبھی فوراً ہی اس کا میسج آگیا۔
’’پلیز… پلیز میری کال اٹینڈ کریں۔ میں بہت پریشان ہورہا ہوں کیا آپ نے میرے اس اسٹیپ کو مائنڈ کیا ہے؟‘‘ ابھی وہ میسج پڑھ ہی رہی تھی کہ دوبارہ موبائل بجنے لگا۔
’’آج ہماری علیزے بی بی کو کون بار بار فون کررہا ہے؟‘‘ ڈائجسٹ پڑھتی شازیہ نے رخ موڑ کر کھلکھلاتے ہوئے پوچھا تو علیزے نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور پھر موبائل اٹھا کر باہر نکل گئی یہ دیکھے بغیر کہ شازیہ نے اس کے حواس باختہ تاثرات حیرت سے ملاحظہ کیے تھے۔
ظ…ظ…ظ
منزہ باتھ لینے کے لیے واش روم میں گھسی تھی اور اس کا موبائل ٹائیں ٹائیں کرتا علیزے کی نیند خراب کررہا تھا۔ کوئی ایسی منحوس ٹیون سیٹ کر رکھی تھی کہ سر پر ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی۔ تنگ آکر اس نے تکیے سے سر اٹھا کر کوفت بھری نظر موبائل پر ڈال کر ہاتھ میں لیا اور فرینڈ کالنگ چمکتا ہوا دیکھنے لگی‘ منزہ کی کسی دوست کا سوچ کر اس نے کال اٹینڈ کی تھی۔
’’فرزانہ میں کتنی دیر سے تمہیں کال کررہا ہوں۔ کہاں تھیں تم؟‘‘
’’یہ فرزانہ کا نمبر نہیں ہے۔‘‘ علیزے نے سوئی ہوئی آواز میں تردید کی۔
’’آپ… آپ کون بات کررہی ہیں؟‘‘
’’اس بات کو رہنے دیں کہ میں کون بات کررہی ہوں‘ بہرحال یہ فرزانہ کا نمبر نہیں ہے۔‘‘
’’محترمہ یہ فرزانہ کا نمبر ہے‘ میں کئی دنوں سے اس نمبر پر بات کررہا ہوں۔‘‘ دوسری طرف اپنی بات پر اصرار کیا جارہا تھا۔ علیزے موبائل آف کرکے بیڈ پر پھینکتے ہوئے بڑبڑاتے ہوئے کمبل دوبارہ اوڑھنے لگی تھی۔
’’کس کو کوس رہی ہو؟‘‘ منزہ واش روم سے نکل کر گیلے بال جھٹکتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
’’تمہارے نمبر پر کوئی موصوف فرزانہ سے بات کرنے پر اصرار کیے جارہے تھے۔ بتایا بھی ہے کہ یہ کسی فرزانہ کا نمبر نہیں…‘‘
’’ہیں‘ علیزے کی بچی… وہ کاشی کی کال ہوگی۔‘‘ منزہ نے اس کی بات کاٹ کر تیزی سے موبائل اٹھا کر آن کیا۔
’’میں نے اپنا اصل نام اسے تھوڑی بتایا ہوا ہے۔ فرزانہ کے نام سے ہی بات کرتی ہوں۔‘‘
’’یہ کیسی فضول حرکتیں ہیں تمہاری؟ فیک نام سے بات کرنے کا مطلب؟‘‘
’’پہلے میں اس کے انٹرسٹ کو اور اس کی سنسرٹی کو جج کروں گی اس کے بعد اسے اپنا ریفرنس دوں گی۔‘‘ وہ نمبر ڈائل کرکے موبائل کان سے لگاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
’’ہیلو… ہاں کاشی وہ میری دوست ہے نا علیزے اس نے کال اٹینڈ کی تھی۔‘‘ علیزے کا دل چاہا منزہ کا سر پھاڑ دے اپنا فیک نام بتا کر اس کا تعارف ایسے کروا رہی تھی جیسے وہ اس کا بچھڑا ہوا ماما ہو اور اتفاق سے آن ملا ہو۔ بے وقوف لڑکی۔ اس نے دانت پیس کر سوچا۔
ظ…ظ…ظ
ویک اینڈ پر گھر آئی تو پتہ چلا طارق صاحب نے کچھ زیادہ ہی کوئیک سروس کا مظاہرہ کر ڈالا تھا۔ ان کی بہنیں اور بڑے بھائی دو چکر لگا چکے تھے۔ علیزے کے پاپا ممتاز خان دوبئی میں ٹرانسپورٹ کا بزنس کرتے تھے۔ تین ماہ بعد چکر لگتا‘ مگر مہرین بیگم نے علیزے کی رائے لیتے ہوئے انہیں جلدی بلوانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
’’ماما ابھی اتنی جلدی کیا ہے۔ میرے ایگزام ہوجانے دیں اس کے بعد میں اس بارے میں سوچوں گی اور پاپا کو بھی ایمرجنسی میں بلوانے کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے نہ جانے کیوں انہیں روک دیا تھا۔ حالانکہ ایک طرف نہ صرف وہ لوگ اتنی چاہ سے اس کا ہاتھ مانگ رہے تھے اور دوسری طرف طارق کا پولیس فورس میں ہونا اس کے لیے بہت اٹریکشن لیے ہوئے تھا۔ وہ بہت دفعہ دوستوں سے اس بات کا اظہار کرتی تھی کہ اسے فورسز میں جاب کرنا بہت اٹریکٹ کرتا ہے اگر وہ ’’خان‘‘ فیملی سے بی لانگ نہ کرتی تو خود بھی کسی ایسی ہی فیلڈ کا انتخاب کرتی۔
ظ…ظ…ظ
آخر ایسا کیا ہے اس شخص میں‘ جو تم اتنے چیپ انداز میں اس کے پیچھے پڑ گئی ہو؟‘‘ علیزے نے بے زاری سے موبائل چارجنگ کے لیے پریشان ہوتی منزہ کو دیکھا۔
’’میں اس کی پرسنالٹی سے بہت امپریس ہوئی ہوں۔‘‘ منزہ نے اطمینان سے جواب دیا۔
کردار‘ اخلاق‘ تعلیم خاندان سے کوئی مطلب نہیں اور پرسنالٹی سے متاثر ہو کیسی سطحی لڑکی ہو تم۔‘‘ علیزے کو اور بھی برا لگا تھا۔
’’ارے واہ… چھپر پھاڑ کر اللہ نے نوازا ہے اسے۔‘‘ منزہ نے پروائوڈ سے انداز میں بتایا۔
’’ہاں تبھی تو بنٹی (کتیا) کے لیے پارٹنر تلاش کرتا پھر رہا تھا۔‘‘ منزہ کو ہنسی آگئی۔
’’وہ تو اس کا شوق ہے۔ تم اسے دیکھو تو تم بھی متاثر ہوجائو۔‘‘ منزہ کو شاید الہام ہوا تھا جیسے۔
’’اللہ بچائے۔‘‘ علیزے نے پناہ مانگی۔
اور منزہ ان دنوں کاشی کے پیچھے پڑی تھی کہ وہ اسے اپنی پکس ایم ایم ایس کرے۔
’’فرزانہ آپ نے مجھے دیکھا ہوا ہے‘ میرے بارے میں سب جانتی ہیں‘ پھر میری پکس کو لے کر کیا کریں گی۔‘‘ وہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔
’’میں نے اپنی فرینڈ کو دکھانی ہے۔‘‘ منزہ اپنی فرمائش پوری کروانے پر مصر تھی۔
’’اچھا ایسی کون سی فرینڈ ہے جسے آپ نے میری تصویر دکھا کر داد وصول کرنی ہے۔‘‘ اس نے بے پروائی سے استفسار کیا۔
’’علیزے… وہی جس نے… جو ہمارے سٹی سے بی لانگ کرتی ہے اور…‘‘
’’آئے ہائے…‘‘ منزہ کی کمر پر پڑنے والا دھموکا اتنا زور دار تھا کہ اس کی دھمک دوسری طرف کاشی کو بھی سنائی دے گئی تھی۔
…٭٭٭…
’’یہ دیکھو اور بتائو بھلا میں کیوں اس شخص سے انسپائر نہ ہوں یہ ہے ہی اتنا شاندار۔‘‘ اگلے دن منزہ موبائل ہاتھ میں لیے اس کی تصاویر دکھا رہی تھی۔
’’ارے… اس کو تو میں نے پہلے بھی دیکھا ہے‘ کہاں…؟‘‘ علیزے نے ذہن پر زور دیا۔
’’نبیہ عمر کے فادر نے اس کے ایصال ثواب کے لیے تین روزہ میڈیکل کیمپ لگوایا تھا۔ تو ہمیں انہوں نے فی میل اسٹاف کی ہیلپ کے لیے سینٹر بھجوایا تھا۔ وہاں پر… پتہ ہے جب میں نے اس بندے کو دیکھا تو میرے ذہن میں یہ بات آئی تھی کہ یہ بندہ کتنا ہینڈسم ہے لیکن تھوڑی ڈینجرس لک دیتا ہے۔ نکلتے ہوئے قد کے ساتھ‘ گندمی چہرے پر سب سے نمایاں اس کی سیاہ گھنی مونچھیں تھیں اور یہ بات اس کی ڈیسنٹ پرسنالٹی سے کچھ متضاد سی لگتی تھی۔‘‘ علیزے نے اس کی تصویر پر نظر جمائے ہوئے باآواز بلند تبصرہ کیا البتہ آخری بات صرف دل میں سوچی تھی۔
اور اس کے وہم وگمان میں نہ تھا کہ منزہ شام کو اس سے بات کرتے ہوئے علیزے کا بے لاگ تبصرہ کاشی کے گوش گزار کردے گی۔ جواباً کاشی کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
’’ہاں… میں… اس فری کیمپ میں بابا کے کہنے پر عملے کو سپورٹ کرنے کے لیے وہاں موجود رہا تھا۔‘‘ اس نے یاد کرتے ہوئے کہا۔
ظ…ظ…ظ
واپس آنے پر اے ایس پی طارق نے اسے کال کرکے نہ صرف پروپوزل کا جواب مانگا بلکہ اس کے گھر والوں کی طرف سے تاخیر کا سبب بھی جاننا چاہا۔ جواباً علیزے نے سوچا اگر اس کی براہ راست بات ہورہی ہے تو کیوں نہ وہ اسے اپنے خدشات سے آگاہ کردے۔ اور اے ایس پی صاحب نے پوری توجہ سے اس کی بات سننے کے بعد اس کے خدشات کا سدباب بھی فراہم کردیا تھا۔
’’آپ پر کوئی الزام نہ آئے یا آپ کی فیملی پر کوئی انگلیاں نہ اٹھیں میں بہت جلد یہاں سے اپنی ٹرانسفر کروا لیتا ہوں یوں بھی ہماری فیلڈ کے آفیسرز کو تعیناتی کے اسٹیشن سے مینشن کیا جاتا ہے۔ ان کا آگاہ پیچھا نہیں دیکھا جاتا اور واقعی اس نے ایسا ہی کیا۔ صرف پندرہ دن میں اس کی ٹرانسفر کے آرڈر آچکے تھے۔ مگر جانے سے پہلے وہ کوئی ایسی فرمائش کردے گا یہ تو علیزے کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ وہ اس شہر میں اپنی آخری شام علیزے کے ساتھ سلیبریٹ کرنا چاہتا تھا۔
’’کیا کہہ رہے ہیں آپ‘ یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ اس کو تو گویا کرنٹ ہی لگ گیا تھا۔
’’کیوں ممکن نہیں علیزے‘ میں آپ کو ڈیڑھ دو گھنٹے کے لیے ہاسٹل سے پک کرلوں گا۔‘‘
’’میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی میں آپ کے ساتھ کیسے جاسکتی ہوں۔‘‘
’’بھئی میں آپ کو اپنے گھر نہیں لے کر جائوں گا جب تک آپ کو باضابطہ طور پر اپنا نہیں لیتا۔ فی الحال کسی ریسٹورنٹ میں ڈنر کے بعد آپ کو ہاسٹل ڈراپ کردوں گا۔‘‘
’’آپ میری بات سمجھ نہیں رہے میں بابا یا بھائی کے ساتھ باہر جاتی ہوں‘ وہ بھی کبھی کبھار یوں کسی تھرڈ پرسن کے ساتھ باہر نہیں جاسکتی۔‘‘ کچھ غصے اور کچھ ٹینشن میں اس کے منہ سے نکلا تھا۔
’’واٹ؟ میں آپ کے لیے تھرڈ پرسن ہوں؟‘‘ اے ایس پی طارق کو گویا کرنٹ لگا تھا۔ غلطی اس کی بھی نہیں تھی۔ وہ جس ماحول سے تعلق رکھتا تھا۔ وہاں لڑکے اور لڑکیوں کا دوستی میں ٹائم گزارنا بھی کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی جبکہ یہاں تو معاملہ بھی اس سے آگے کا تھا۔ ’’تو کیا حیثیت ہے میرے اور آپ کے ریلیشن کی۔‘‘
’’حیثیت بھی بن جائے گی میں اس کے لیے قدم اٹھا تو چکا ہوں۔‘‘
’’وہ بات ٹھیک ہے مگر آپ میری بات سمجھ نہیں…‘‘
’’بات تو آپ میری نہیں سمجھ رہیں علیزے… میری بہت دل سے خواہش ہے کہ جانے سے پہلے کل کی خوب صورت سی شام کا تھوڑا وقت آپ کے ساتھ گزاروں‘ پھر تو ان شاء اللہ ہم کسی اور حیثیت سے ملیں گے بہرحال میں کل شام آپ کو ہاسٹل سے پک کرلوں گا۔‘‘
’’نہیں پلیز آپ ہاسٹل مت آئیے گا میں…‘‘
’’ٹھیک ہے اگر آپ سمجھتی ہیں کہ میرے ہاسٹل آنے سے آپ کی ریپوٹیشن خراب ہوگی تو کل شام چھ بجے میں P.C میں آپ کا ویٹ کروں گا۔‘‘ علیزے اسے منع کرنے جارہی تھی مگر طارق نے تیزی سے پروگرام فائنل کرتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر کال کاٹ دی تو وہ ہیلو ہیلو کرتی رہ گئی۔
P.C میں ریزو ٹیبل پر انتظار کرتے ہوئے اے ایس پی طارق کا انتظار اتنا طویل ہوجائے گا کہ کبھی ختم نہ ہوگا یہ تو اسے قطعی اندازہ نہ تھا۔ علیزے سر شام فون بند کرچکی تھی۔ اگلے روز وہ اسے خدا حافظ کہے بغیر یہ شہر چھوڑ کر جاچکا تھا کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔ اس کی مایوسی کی کوئی انتہا نہ تھی یا پھر وہ علیزے کو آزمانا چاہتا تھا وقت دینا چاہتا تھا۔
ظ…ظ…ظ
منزہ ان دنوں چہکتی پھر رہی تھی۔ علیزے کی زندگی میں شروع ہونے والے نئے سلسلے نے اس کی طبیعت پر خلاف معمول ایک کدورت سی طاری کردی تھی۔ کوئی اس کا اس قدر متمنی تھا کہ کسی بھی لگاوٹ کو خاطر میں نہ لائے… دنوں میں کوچ کر گیا تھا۔ یہ احساس جہاں اس کے لیے دل گداز تھا وہیں ایک چھوٹی سی بات کو انا کا مسئلہ بنا کر اس کی خاموشی نے اس کو قدرے حیران کر ڈالا تھا۔ ایسے میں اس نے منزہ کی چہچہاہٹ کا سبب جاننے کی کوشش نہ کی تا وقت یہ کہ خود ہی اس نے اگل دیا۔
’’علیزے ایک اسپیشل بات بتائوں؟ کاشی مجھ سے ملنے آرہا ہے۔‘‘
’’تو پھر؟‘‘ وہ ناسمجھی سے منزہ کا چہرہ دیکھنے لگی۔
’’پھر کیا‘ وہ میری خاطر اتنی دور سے آئے گا تو اس کا مطلب ہے وہ میرے ساتھ سینسئر ہے۔‘‘
’’کیا شمالی اور جنوبی افریقہ کے صحرا اور جنگلات پار کرکے آرہا ہے؟‘‘ علیزے نے طنز سے استفسار کیا۔
’’اچھا اس بات کو چھوڑو تم میرے ساتھ چلو گی؟‘‘
’’منزہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں تمہیں کس طرح سمجھائوں کہ تم کتنی فضول حرکتیں کررہی ہو۔ ہماری طرح بہت سی خان زادیاں اپنے گھروں سے نکل کر دوسرے شہروں میں جاکر تعلیم حاصل کرتی ہیں بلکہ اپنے ملک میں ہی نہیں انگلینڈ اور امریکہ میں ہوکر آتی ہیں‘ مگر اپنی روایات اور حدود وقیود کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتیں… ہماری زندگی کسی فلم یا ڈرامے کا سین نہیں ہے جہاں جب چاہے ہیرو کا ہاتھ تھام لو‘ جب دل چاہے سائیڈ ہیرو کے ساتھ چل پڑو۔ پتا نہیں ہمارے مقدر میں کیا لکھا ہو۔ ہمیں دوسری ریاستوں کے شہزادے لینے نہیں آئیں گے۔ کل کلاں کو یہی روایتی مرد ہمارا مقدر بنیں گے جو اپنی عورتوں کے ماضی پر کسی دوسرے مرد کی پرچھائیں بھی گوارہ نہیں کرتے جو اپنی عورت کا دوسرے مرد کے ساتھ نام سن کر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ غلطی ہمیشہ چھوٹی ہوتی ہے اس کا خمیازہ بڑا بھگتنا پڑتا ہے۔ کسی لڑکی کی ذرا سی لغزش اس کی زندگی کا امتحان بن جاتی ہے اور تم ہو کہ…!‘‘
’’خدا کے لیے علیزے بس کرو مجھے اتنے لیکچر مت دو۔‘‘
’’میں خان زادی ہوں تو تم کسی کمی کمین یا فلم میکر کی فاروڈ اولاد ہو کیا؟‘‘ علیزے کو تائو آگیا۔
’’میں…‘‘ منزہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ ’’میرے ابو خان ہیں امی ملک فیملی سے۔ سو میں ذرا درمیانی مخلوق ہوں۔ پھر ہماری فیملی تم لوگوں کی طرح بیک ورڈ نہیں ہے۔ میرے لیے اس ذرا سی بات کی گنجائش نکلتی ہے۔‘‘
’’منزہ تم تو بالکل چکنا گھڑا ہو۔‘‘ اس کے بے پروائی سے کہنے پر علیزے نے اپنا سر پیٹ لیا۔
’’چلو تم جو کہو‘ میرے ساتھ چل رہی ہو نا؟ اس سے پہلے میں اکیلی ہاسٹل سے نکلی نہیں ہوں۔ میڈم ساجدہ کانشس ہوجائیں گی ورنہ میں اکیلی ہی چلی جاتی۔‘‘
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ تمہارے ساتھ جانے کا۔‘‘ علیزے نے دو ٹوک الفاظ میں انکار کردیا۔
…٭٭٭…
’’علیزے تمہارا ریڈ ایمبرائیڈری والا سوٹ کہاں ہے۔‘‘ منزہ اس کی الماری میں سر گھسیڑے ہوئے تھی۔
’’کون سا؟‘‘ بے دھیانی میں اس نے دریافت کیا۔
’’وہی جو تمہارے پاپا نے برتھ ڈے پر تمہیں گفٹ کیا تھا۔‘‘
’’ارے… ہاں… یاد آیا… وہ… ارفع لے کر گئی تھی کہ ویسا ہی ڈیزائن بنوانا ہے پھر اس نے واپس نہیں کیا…‘‘ علیزے نے یاد آنے پر بتایا۔
’’میں لے کر آتی ہوں۔‘‘ منزہ باہر نکل گئی۔
ظ…ظ…ظ
’’کیسا لگ رہا ہے؟‘‘ منزہ اس کا وہی سوٹ شام میں پہن کر بار بار روم میٹس سے پوچھ رہی تھی۔
’’اچھا لگ رہا ہے مگر کہیں جارہی ہو۔‘‘ شازیہ نے تعریف کرتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں‘ میرا ایسا ہی بنوانے کا ارادہ تھا سوچا پہن کر ٹرائی کرلوں۔ یار میرا بی پی لو ہورہا ہے۔‘‘ تھوڑی دیر بعد اس نے منہ بسورنا شروع کیا تو واقعی اس کی طبیعت خراب معلوم ہونے لگی۔
’’پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کوئی انڈہ وغیرہ بوائل کردوں۔‘‘ فرمان متوجہ ہوکر مشورہ دے رہی تھی۔
’’ایک دوبار گھر پر ہوا تھا پھر انجکشن لگواتی تھی تو…‘‘
’’سامنے روڈ پر جو ڈاکٹر بیٹھتا ہے اس سے جاکر انجکشن لگوا لو۔‘‘ علیزے نے مشورہ دیا۔
’’ذرا میڈم سے پوچھ آئو نا اور میرے ساتھ بھی چلو اور تو کوئی فارغ نہیں ہے۔‘‘
’’انہیں ہاسٹل سے نکل کر ہاسپٹل پہنچنے میں چند منٹ لگے تھے مگر منزہ نے ہاسپٹل کے بجائے ملحق ہوٹل کی انٹرنس میں قدم رکھتے ہوئے علیزے کو چونکا دیا تھا۔ منزہ اس کے حیران نظروں سے دیکھنے پر ڈھٹائی سے مسکرانے لگی۔
’’مجھے یہاں ایک چھوٹا سا کام ہے اندر تو چلو۔‘‘ منزہ نے ایک طائرانہ نظر ہال پر ڈال کر کونے میں ٹیبل پر بیٹھے کاشی کو دیکھا اور اسے وہیں رکنے کا کہہ کر اس کی طرف بڑھ گئی۔ مجبوراً وہ قدرے فاصلے پر ایک ٹیبل پر ہونقوں کی طرح جا بیٹھی۔ اور منزہ اور کاشی کو بات چیت کرتے ہوئے دیکھنے لگی۔ ایک دوبار کاشی نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور اگلے پل منزہ اس کے پاس چلی آئی۔
’’کاشی کہہ رہا ہے کہ تمہاری فرینڈ سے کوئی بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مجھ سے کیا بات کرنی ہے اور… پلیز… منزہ جلدی کرو… چلو یہاں سے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ تمہیں پتا ہے شام کو لڑکیاں کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے منگوا لیتی ہیں۔ ایسے میں کوئی نوکر ادھر آگیا تو…‘‘
’’علیزے تم اتنی بحث کرنے کے بجائے مختصر سی بات اس کی سن لو تو… جتنی بحث ہوگی اتنا ہی ٹائم ضائع ہوگا۔‘‘ منزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے کہا تو ناچار وہ اس کی ٹیبل پر چلی آئی۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام!‘‘ کاشی نے کھڑے ہوتے ہوئے سلام کا جواب دے کر اسے بیٹھنے کا اشارہ دیا تو وہ ٹک گئی مگر ایسے جیسے ابھی اٹھ کر بھاگ جائے گی۔
’’آپ نے جو بات کہنی ہے پلیز ذرا جلدی کہیں۔‘‘ وہ خاصے گھبرائے ہوئے انداز میں بعجلت بولی۔
’’ایکچوئیلی میں آپ کی دوست کو سمجھا رہا تھا کہ مجھے کال مت کیا کریں یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ آپ بھی انہیں سمجھائیں۔‘‘
’’میں اسے سمجھائوں گی مگر آپ بھی اس چیز کا احساس کرلیں کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔‘‘
’’چلیں منزہ۔‘‘ وہ ایک بار پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ تبھی ویٹر ان کی ٹیبل پر کھڑا ہو کر آرڈر سرو کرنے لگا تھا۔
’’آپ لوگ کچھ کھائیں پھر اس کے بعد چلے جائیے گا۔‘‘
’’نہیں تھینک یو۔ ہمیں دیر ہورہی ہے۔‘‘ کاشی کی براہ راست مخاطب وہی تھی۔ لہٰذا معذرت کرتے ہوئے منزہ کو چلنے کا اشارہ کیا۔
’’اب انہوں نے اتنا کچھ منگوایا ہے تو برا لگے گا…‘‘
’’منزہ تم چل رہی ہو یا میں اکیلی چلی جائوں ہاسٹل۔‘‘ اب کے اس نے ساری شائستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی کڑے تیوروں کے ساتھ منزہ سے پوچھا۔
’’چلیں میں آپ لوگوں کو چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ اس سے پہلے کہ منزہ مزید اصرار کرتی کاشی فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور کائونٹر پر پے منٹ کرنے کے لیے بڑھ گیا۔ وہ دونوں باہر آگئیں۔ علیزے نے سامنے سے گزرتی ٹیکسی کو روکا اور تیزی سے گھس گئی ناچار منزہ کو بھی اس کی تقلید کرنا پڑی تھی۔
’’میں نے تم جیسی گھٹیا لڑکی آج تک نہیں دیکھی۔ کہنے کو تو میں نے کہہ دیا تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ مگر اس تالی میں تمہاری جیسی لڑکی کا ہاتھ ہو تو بج ہی جاتی ہے یا اپنے منہ پر یا دوسرے کے منہ پر۔‘‘ ہاسٹل میں آکر اس نے منزہ کو کتنی صلواتیں سنائی تھیں مگر منزہ کو صرف اس بات کی ٹینشن تھی کیا تھا اگر وہ کاشی کی گاڑی میں آجاتی‘ بھلا کیا سوچ رہا ہوگا کتنی بیک ورڈ لڑکیاں ہیں۔
اور اس کو تب جاکر اطمینان ہوا جب کاشی نے کال کرکے ان کے خیریت سے ہاسٹل پہنچنے کی بابت دریافت کیا۔
’’بھئی عجیب دوست ہے آپ کی‘ جیسے میں اسے کھا ہی جائوں گا۔‘‘ کاشی نے برا ماننے والے انداز میںکہا۔
’’ارے نہیں… کاشی… میں نے اسے بتایا نہیں تھا‘ میں تو اسے ڈاکٹر کے پاس جانے کا بہانہ کرکے لے آئی تھی۔ یہ ایسی ہی ہے دراصل خاصی بیک ورڈ فیملی سے بی لانگ کرتی ہے نا۔‘‘ منزہ نے اس کی صفائی دیتے ہوئے وضاحت کی۔
’’اچھا… کس فیملی سے تعلق ہے؟‘‘
’’تمہیں کچھ اندازہ ہے کاشی نے تمہاری اس حرکت کو کتنا مائنڈ کیا ہے۔‘‘ منزہ سوجھے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کے پاس چلی آئی۔
’’کاشی جائے بھاڑ میں… تم نے میرے ساتھ کتنا دھوکہ کیا ہے‘ لعنت ہے تمہاری دوستی پر۔‘‘ علیزے پہلے ہی خار کھائے ہوئے بیٹھی تھی۔ نتیجتاً دونوں کے درمیان خاصی جھڑپ چھڑ گئی تھی۔
اس روز کے بعد ان دونوں میں شدید کھنچائو پیدا ہوگیا تھا‘ یوں بھی ڈیٹ شیٹ آچکی تھی۔ اسٹوڈنٹس ہاسٹل کے کونے کھدروں میں سر گھسیڑے رہتیں‘ آخری پیپر سے ایک روز پہلے منزہ اسے گرائونڈ کے اندھیرے گوشے میں سسکتی ہوئی ملی تھی۔
’’کیا ہوا ہے منزہ‘ کیوں رو رہی ہو؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پوچھ بیٹھی۔
’’کاشی مجھ سے جان چھڑانے کے چکروں میں ہے۔ میری کال اٹینڈ نہیں کرتا‘ کبھی میسج کا جواب نہیں دیتا‘ اور آج تو خاصے روڈلی انداز میں کہہ دیا آپ کب تک یوں وقت بے وقت میرا اور اپنا ٹائم ضائع کرتی رہیں گی۔‘‘
’’تو اس بے چارے نے کیا غلط کیا ہے؟‘‘ علیزے نے انتہائی سنجیدگی سے سوال کیا۔
ظ…ظ…ظ
’’ڈھولک کی تھاپ اور سکھیوں کے سنگیت میں اسے خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کے ہاتھوں پر شوکت نیازی کے نام کی مہندی سج چکی ہے۔ اے ایس پی طارق ان کے آنگن کی بیری پر پڑنے والا وہ پہلا پتھر تھا جس کو اس کی ماما نے سنجیدگی سے لیا تھا کیونکہ اب اس کی تعلیم مکمل ہونے والی تھی اوراس کے ساتھ چند ایک پرپوزل جو حلقہ احباب سے موجود تھے ان میں سے ایک کو استخارے کے بعد فائنل کردیا تھا۔ اے ایس پی طارق کے گھر والوں کی خاموشی اگرچہ چند ہفتے علیزے کو ڈسٹرب کرتی رہی۔ مگر ماما کو اس کی کوئی خاص پروا نہ تھی کیونکہ اس طرح علیزے کو دوسرے شہر جانا پڑتا‘ بلکہ بقول ان کے شہر شہر دربدر ہونا پڑتا‘ شوکت نیازی بینک آفیسر تھا اور انہی کے شہر سے تعلق رکھتا تھا۔ علیزے کو بھی والدین کے انتخاب پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر اس کا مسئلہ کچھ کرنے‘ اپنا مقام بنانے اور زندگی میں خود کو منوانے کا تھا جس کے لیے اس نے تعلیم پر بھرپور توجہ دی تھی۔ مگر ماما نے اس کے اعتراض پر ڈپٹ دیا بھلا وہاں کیا پابندی ہوگی۔ بہت اچھے اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔ وہاں اپنے سارے شوق پورے کرنا۔‘‘ اور علیزے بے دلی سے خاموش ہوگئی تھی۔
سیج کے وسط میں بیٹھی وہ مطمئن کمرے کی ڈیکوریشن اور سیٹنگ کو سراہ رہی تھی جو موصوف کی پسند کے عین مطابق کی گئی تھی۔ ذوق تو اچھا ہے پتہ نہیں محترم خود کیسے ہوں گے۔
چونکہ شادی ایگزامز کے بعد ایک ماہ کے نوٹس پر رکھی گئی تھی۔ لہٰذا صرف رسم کے طور پر اس کی ساس نے انگوٹھی اور چند ہزار روپے دے کر علیزے کو بیٹے کے نام کرالیا تھا۔ اس کے بعد بھی کوئی ایسا خوش گوار اتفاق نہیں ہوا کہ وہ اسے دیکھ لیتی۔ سو سنی سنائی تک ہی تک بندی کی تھی۔
دروازے پر کھٹکا ہوا تو اعتماد سے بیٹھی دلہن کی نظریں خودبخود جھک گئیں مگر سلام کا جواب دیتے ہوئے اس نے ذرا سا بے ساختہ نظریں اٹھائیں تو جھکنے سے انکاری ہوگئیں۔
شوکت نیازی کے چہرے پر محظوظ کردینے والی مسکراہٹ تھی اور علیزے وہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ اس کا سامنا زندگی میں اس شخص سے کسی ایسی حیثیت میں ہوجائے گا۔
’’اب اس طرح تو مت دیکھیں‘ مانا کہ میں تھوڑی ڈینجرس لک دیتا ہوں لیکن تھوڑا ہینڈسم بھی تو ہوں۔‘‘ اپنے انجوائنگ امپریشن کے ساتھ وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔
دوسری طرف علیزے کے چہرے پر کیا کچھ نہیں تھا۔ صدمہ‘ پریشانی‘ حیرت یا پھر کوئی ایسا تاثر جس کی وضاحت کے لیے کوئی لفظ ایجاد نہ ہوا ہو۔ وہ ساکت بیٹھی سوچ رہی تھی۔ کتنا اچھا ہوتا اگر وہ ماما کی بات مان لیتی‘ جنہوں نے اسے بار بار کہا تھا کہ وہ شوکت کو کھانے پر بلا لیں گی اگر وہ دیکھنا یا ملنا چاہے‘ مگر ماما کے سامنے اسے عجیب سی ہچکچاہٹ گھیر لیتی تھی۔ ویسے بھی جب فیصلہ والدین پر چھوڑ دیا تو نصیب…
اسے مہندی کی رات جس لڑکے کو دیکھ کر بار بار کچھ کلک کررہا تھا وہ کیا تھا؟ آج اسے سمجھ آیا تھا‘ اپنی کزن سے پوچھنے پر پتہ چلا تھا وہ شوکت کا چھوٹا بھائی اشفاق نیازی تھا۔ اس کی شکل شوکت سے ملتی تھی۔ بس اس کالج بوائے کی صورت میں معصومیت تھی‘ اور… اسے اس روز یوں لگ رہا تھا جیسے کچھ یاد آتے آتے یاد نہیں آتا…!
’’آپ تو یوں بیٹھی ہیں جیسے خدانخواستہ آپ کا بہت بڑا نقصان ہوگیا ہو۔‘‘ وہ چینج کرکے فریش ہوکر واپس آیا تو وہ ہنوز اسی پوزیشن میں براجمان تھی۔
’’کیا ہوا علیزے بی ریلیکس…‘‘ شوکت نے اس کے دونوں ہاتھ گرم جوشی سے دبا کر تسلی دی۔
’’آپ… آپ تو کاشی…؟‘‘ اس کی صورت روہانسی دیکھ کر ایک بار پھر شوکت کو ہنسی آئی مگر وہ ضبط کر گیا۔
اگر میں کاشی ہوں تو اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے؟‘‘ علیزے کو سمجھ نہ آیا وہ اس بات کا کیا جواب دے‘ چینج کرتے ہوئے وہ مختلف وسوسوں میں گھری تھی۔
منزہ کتنی فضول حرکتیں کرتی رہی اور میں اس کی دوست ہوں۔ ہوٹل میں بھی اس کے ساتھ تھی۔ اتنے روایتی خاندان کا یہ شخص؟ میرا امپریشن اس پر کیا ہوگا؟ وہ واپس کمرے میں آئی تو شوکت صوفے پر بیٹھا اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے نیم دراز تھا۔ وہ بیڈ کے کونے پرٹک گئی تو وہ اس کے پاس آن بیٹھا تھا۔
’’علیزے میں آپ کی پریشانی کی وجہ جان سکتا ہوں؟‘‘ اس کے سوال پر علیزے سر جھکا کر کچھ دیر سوچتی رہی‘ اس کے انداز سے اس کا حوصلہ بحال ہورہا تھا۔
’’آپ مجھے کیسا سمجھتے ہیں؟‘‘
’’اچھا سوال ہے جسے ہم اچھا نہ سمجھتے ہوں اسے اپنے گھر میں ملازمہ بھی نہیں رکھتے۔ ویسے میں آپ کو کیسا سمجھتا ہوں اس کا جواب ذرا فرصت طلب ہے۔‘‘ استحقاق سے فاصلے مٹاتے ہوئے وہ گمبھیر انداز میں کہہ رہا تھا۔
اس کے تمام تر خدشات شوکت نیازی کے بے باکانہ جذبوں اور والہانہ شدتوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے تھے۔ وہ واقعی بہت ڈیسنٹ عادات کا مالک تھا۔ سوائے اس کے کہ اس نے ایک کتیا پال رکھی تھی اور شکار کا خاصا شوقین تھا۔ اس نے یہ بتا کر علیزے کو معتبر کردیا تھا کہ کچھ منزہ سے کرید لگا کر اور بقیہ معلومات اس کے بارے میں حاصل کرکے اس نے خود اپنے بابا مکرم نیازی سے بات کی تھی اور بندوق ان کے کندھوں پر رکھ کر بری الذمہ ہوگیا تھا۔ اس کی تمام فیملی یہی سمجھتی تھی کہ علیزے کو مکرم نیازی نے بطور بہو منتخب کیا تھا۔ جہاں تک منزہ کا تعلق تھا اس کے بارے میں شوکت نے صرف ایک دفعہ بات کی تھی اگر وہ میرے نزدیک ذرا بھی اہمیت رکھتی تو تمہاری جگہ موجود ہوتی۔ شروع میں جس طرح وہ میرے بارے میں ایک ایک بات جانتی تھی میں یہ سوچ کر حیران ہوتا کہ آخر میرے خاندان کی کون سی لڑکی ہے جو اتنی گری ہوئی حرکتیں کررہی تھی اور بعد میں اس امید پر اسے ملنے گیا تھا کہ شاید تم نظر آجائو‘ ایسا نہ ہو بعد میں تمہارے دھوکے میں کسی اور کو گھر لے آئوں۔‘‘
’’مجھے آپ کی بات پر قطعاً یقین نہیں ہے ایویں نہ پھینکیں۔‘‘ علیزے نے اٹھلا کر کہا مگر اسے شوکت کے حرف حرف پر یقین آگیا تھا۔
ایگزامز سے فارغ ہوتے ہی اس نے دو تین جگہوں پر جاب کے لیے اپلائی کردیا تھا۔ شادی کے دو ماہ بعد اسے ایک کمپنی کی جانب سے میڈیا ایڈوائزر کی جاب کے لیے انٹرویو کا لیٹر ملا جو ماما نے اس کے گھر بھجوادیا تھا۔ وہ خاصی ایکسائٹمنٹ سے ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔
’’کیا ہے؟‘‘ شوکت آفس سے واپس آیا اور اس کے ہاتھ سے لیٹر لے کر دیکھنے لگا تھا۔
’’یہ بہت اچھی کمپنی ہے اور اس کی…‘‘ اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے شوکت نے لیٹر پھاڑ کر اس کے تین چار پرزے کئے اور یہ کہتے ہوئے واش روم میں چلا گیا۔ ’’چائے لائو یار بہت تھک گیا ہوں۔‘‘ وہ فریش ہو کر نکلا تو وہ ساکت بیٹھی تھی۔
’’آپ نے لیٹر کیوں پھاڑا؟‘‘
’’اب تم اس طرح کی کمپنیوں میں جاب کے نام پر دھکے کھائو گی۔‘‘
’’آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ چبا چبا کر کہہ رہی تھی۔ جس خاندان سے اس کا تعلق تھا وہاں ہر بات اور ہر قدم گھر کے مردوں کی رضامندی سے اٹھایا جاتا تھا اور ایسے ماحول میں پرورش پانے والی علیزے جان چکی تھی کہ اس کا جاب کرنا شوکت کے حسب منشا قطعاً نہیں ہے مگر اس کے بلند مقاصد اسے بغاوت اور ضد پر اکسا رہے تھے۔ اس نے سر توڑ کوشش کر ڈالی۔ وہ لڑ جھگڑ کر بیگ اٹھا کر میکے چلی آئی تھی۔ ماما کو اس کی ضد سراسر بے وقوفی لگ رہی تھی۔ اگلے ہی ہفتے اسے مکرم نیازی لینے آگئے۔
’’بیٹے یہ کیا طریقہ ہے جو بھی ایشو ہے اس کو گھر میں نمٹائیں چلیں جلدی سے واپس گھر۔‘‘ وہ کچھ عجلت میں تھے یا پھر خوامخواہ اسے اٹھانے کے لیے شو کررہے تھے۔ وہ کئی بزنس میں شیئر ہولڈر تھے۔ سو بزی تو رہتے تھے۔ ماما کے آنکھیں دکھانے پر وہ ان کے ساتھ چل دی۔
’’بابا اپنے لاڈلے کو بتا دیجیے گا میں نے ہر صورت جاب کرنی ہے۔‘‘ اس نے راستے میں بابا سے کہا۔
’’بھئی یہ تو آپ کا اور اس کا پرسنل میٹر ہے۔ میں اس میں کس طرح انٹرفیئر کرسکتا ہوں۔‘‘ انہوں نے لاچارگی ظاہر کی صرف یہی نہیں بلکہ اس کی ساس کا بھی یہی موقف تھا اور ماما نے تو پہلے ہی دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا جو شوہر کہے وہی کرو‘ اس سے پنگا لے کر کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔
’’آپ نے تو کہا تھا جاب پر پابندی نہیں ہوگی اتنے اچھے لوگ ہیں؟‘‘ اس نے ان کی بات یاد دلائی۔
’’میری بات کون سی پتھر کی لکیر ہے اور ویسے بھی مجھے اب یاد نہیں کیا کہا تھا۔‘‘ انہوں نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لی تھیں۔
شوکت کا بینک کافی دور تھا وہ لنچ پر گھر نہیں آتا تھا مگر بابا سے علیزے کی واپسی کا سن کر لنچ پر گھر چلا آیا تھا۔ ’’اتنے اچھے لوگ اتنے دنوں بعد لوٹے ہیں اس لیے میں بھاگا چلا آیا۔‘‘ سوجے ہوئے چہرے کے ساتھ ٹیبل پر ڈشز رکھتی علیزے کو مسکہ لگاتے ہوئے وہ ماں کو بتا رہا تھا۔
’’بابا نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں جاب کرسکتی ہوں۔ تبھی واپسی آئی ہوں یہ یاد رکھیے گا۔‘‘ علیزے نے کمرے میں آکر کہا تو وہ پریشان نظر آنے لگا۔ اگرچہ وہ جانتا تھا بابا اس معاملے سے لاتعلق ہیں مگر پریشانی اس بات کی تھی کہ علیزے اپنی ضد پر قائم تھی۔
’’بابا تمہیں اجازت کیوں دیں گے؟ اپنی بیوی کو دیں ایروں غیروں کے ساتھ جاب کرنے کی۔‘‘ وہ خود پر مصنوعی بشاشت پیدا کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ’’میری بیوی کو کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ جو باہر جاکر خوار ہوتی پھرے۔‘‘
’’ہر کام زندگی میں مادی ضروریات کے لیے نہیں کیا جاتا۔‘‘ وہ بیگ سے کپڑے نکالتے ہوئے مڑ کر اس سے مخاطب ہوئی۔ میرے کچھ خواب ہیں جن کو اچیو کرنے کے لیے میں چھ سال گھر سے باہر ہاسٹل میں خوار ہوئی اس لیے کہ ایک بہترین کالج میں پڑھ سکوں۔ آپ اپنی فضول ضد کی وجہ سے ان میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔‘‘ اس کی بحث لاحاصل رہی۔ اس کا جھگڑنا‘ روٹھنا سب بے کار جاتا رہا۔ وہ پریشان ہوتا ہوا بے بسی سے اسے دیکھتا۔ اس کا موڈ آف ہونے پر اداس ہوجاتا۔ اسے بہلاتا‘ مگر پھر سے سمجھانے لگ جاتا۔ وہ اپنی بات پر اتنی سختی سے قائم تھا کہ علیزے حیران ہونے لگتی۔ ’’آپ ایسا اس لیے کررہے ہیں کہ میں منزہ کے ساتھ ہوٹل گئی تھی۔ بہت غوروفکر کے بعد اس نے ایک روز سوال کر ڈالا تھا۔ جواباً وہ کچھ تذبذب کی کیفیت میں اسے دیکھتا رہا۔
’’ہاں…‘‘ اس کے یک لفظی جواب نے علیزے پر حیرت کا پہاڑ توڑ دیا تھا۔
’’اس کا مطلب ہوا آپ مجھے خراب کردار کا سمجھتے ہیں۔ جبکہ آپ خود… خود کیسے ہیں مسٹر شوکت نیازی؟ میں سب کو آپ کی حقیقت بتائوں گی‘ یہ تو میں ہوں کہ وہ سب برداشت کرلیا‘ کوئی اور لڑکی ہوتی تو آپ کا جینا حرام کردیتی۔‘‘ وہ ہسٹریک ہونے لگی تھی۔
شوکت نے لب بھینچتے ہوئے سختی سے اس کا بازو پکڑا۔ ’’کیا بتائوگی اور تم کیا بتائو گی؟ میں خود سب کچھ بتادوں گا۔ مجھے یہ بتانے میں کوئی پرابلم نہیں کہ وہ لڑکی مجھے فون کرتی تھی۔ میرے بارے میں ساری انفارمیشن مجھے دیتی تھی۔ کیا تم یہ بتانا گوارہ کرو گی کہ تم ہوٹل میں اس کے ساتھ مجھے ملنے آئی تھیں۔‘‘ اس کی آخری بات نے علیزے کا حوصلہ پست کر ڈالا تھا۔ اگر اس کی ساس نندوں کو پتہ چلے تو کیا سوچیں گی ہوٹلوں میں گلچھرے اڑا کر وہ شوکت کی زندگی میں داخل ہوئی تھی بات سے بتنگڑ بننے میں بھلا فاصلہ ہی کتنا ہوتا ہے۔ اس کے پست انداز کو محسوس کرکے وہ خود بھی نارمل ہوگیا۔
’’میں مرد ہوں علیزے‘ رات گھر سے باہر گزار آئوں تو بس دیر ہوگئی تھی اور تم گھر سے باہر گزار لو تو تم برباد ہوگئیں۔‘‘ اس کی خاموشی پر وہ اسے سمجھا رہا تھا۔
’’آپ مجھے غلط تو سمجھتے ہیں نا؟‘‘ اس نے تصدیق چاہی۔
’’یہ بات نہیں ہے بے وقوف لڑکی۔ ہم اپنی ملازمائوں کو دیکھ کر نظریں جھکا لیتے ہیں۔ رخ موڑ لیتے ہیں۔ ایسی لڑکی کو زندگی میں کیسے شامل کرسکتے ہیں‘ جسے غلط سمجھیں۔ مگر اس واقعے سے ایک بات مجھے سمجھ آئی‘ ضروری نہیں کہ ہم غلط ہوں تو غلط کریں۔ بعض اوقات لوگ انجانے میں ہمیں غلط استعمال کرلیتے ہیں‘ جیسے میں نے تمہیں اس لیے نہیں بلوایا تھا کہ تمہاری دوست کے بارے میں بات کرنی ہے‘ میں تمہیں دیکھنا چاہتا تھا تم ایکسپلائٹ ہوئیں کچھ میری طرف سے کچھ اپنی دوست کے ہاتھوں۔‘‘
’’ایسا کرو تم کوئی ایجوکیشنل انسٹٹیوٹ کھول لو۔‘‘ کچھ سوچ کر اس نے مشورہ دیا۔
’’جی نہیں مجھے بزنس نہیں کرنا جاب کرنی ہے۔‘‘
’’اچھا… پھر کچھ اور سوچتے ہیں…‘‘ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھرنے لگی۔
’’میں ایجوکیشنل انسٹیوٹ اوپن کرتا ہوں تم وہاں جاب کرلینا۔‘‘
’’لعنت بھیجتی ہوں میں آپ کی جاب پر…‘‘ وہ غصے سے کہتے ہوئے باہر نکلی تو اپنے پیچھے اسے شوکت کا قہقہہ سنائی دیا۔
انہی دنوں جب وہ اپنے اصرار سے تھکنے لگی تھی‘ ڈاکٹر نے اسے ایک ہدایت نامہ تھما دیا اور شوکت کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کو یوں لگ رہا تھا شاید وہ اس لیے بھی خوش ہے کہ اب اس کا جاب کا پروگرام کینسل ہوسکے گا۔
مگر شوکت کے کچھ کہنے سے پہلے ہی مسز مکرم نیازی بیچ میں تشریف لے آئیں‘ جن سے علیزے کو اس دشمنی کی قطعی امید نہیں تھی۔
’’بیٹا جی کچھ عرصے کے لیے یہ جاب وغیرہ کی ٹینشن تو بالکل نہیں لینی فی الحال تو یہ ممکن نہیں‘ چلو بعد میں کوئی اچھی جاب پتہ چلی تو میں کاشی سے کہہ کر آپ کو اجازت دلوانے کی کوشش کروں گی۔‘‘ انہوں نے اسے بہلاتے ہوئے شوکت کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔ ’’اس وقت تو آپ کا اچھی خوراک کے ساتھ ٹینشن فری ہونا بھی ضروری ہے۔ ہمارے گھر میں رونق ہوجائے اللہ کے فضل سے پھر یہ جاب وغیرہ بھی دیکھ لیں گے۔‘‘
ننھے اکرام نیازی کی آمد کے ساتھ ہی علیزے خان مرگئی یا یوں کہنا چاہیے اس کے خواب‘ آئیڈیلزمز جو اپنی ذات کے بارے میں تھے دفن ہوگئے‘ بس ایک ماں پیدا ہوگئی‘ ننھے وجود سے جڑے ہزاروں توجہ طلب امور‘ اس کی پیاری سی آواز میں چہک کر ماما کہنا‘ اس کا ننھے ننھے قدم اٹھا کر چلنا پھر گرنا اور پھر دوڑنے لگ جانا تو علیزے کے قابو میں نہ آنا‘ اس کو تگنی کا ناچ نچا کر رکھ دینا‘ وہ فیڈر کے ساتھ وائپر اٹھا کر اس کے پیچھے ہوتی اور وہ دادا کے پیچھے چھپ کر کھلکھلاتا ماں کی بے بسی کا گویا مذاق اڑاتا‘ جب اس کا نرسری اسکول میں ایڈمیشن ہوا تو ان ڈھائی سالوں میں وہ ٹیپکل ہائوس وائف کا روپ دھار چکی تھی۔ مسز مکرم نیازی نے بہت سے معاملات اس کے سپرد کردیئے تھے۔ اب کچھ وقت کی گنجائش نکل سکتی تھی‘ مگر علیزے نے رونے سے چپ بھلی جانی۔
زندگی میں کوئی کمی نہ تھی۔ روپے پیسے کی فراوانی کے ساتھ اسے ایک بے حد چاہنے والا شریک سفر ملا تھا۔ مگر کبھی کبھار کوئی کسک جاگ اٹھتی‘ جب وہ کسی پروفیشنل خاتون کو بہترین لائف گزاتے ہوئے دیکھتی‘ کسی فیمس پروفیشنل لیڈی کا انٹرویو پڑھتی یا کسی فورم پر بولتے ہوئے کسی پریڈ میں فورسز کی خواتین کو دیکھتی۔
جیسے کچھ نہ ہوتے ہوئے کچھ ہو
یا سب کچھ ہوتے ہوئے کوئی کمی ہو

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close