Aanchal May 15

انمالاعمال باالنیات

سویرا فلک

دل و نگاہ میں جھگڑا بھی منفرد تھا مگر
جو فیصلہ ہوا وہ بھی بڑے کمال کا تھا
یہ اور بات کہ بازی اسی کے ہاتھ رہی
وگرنہ فرق تو لے دے کے ایک چال کا تھا

’’جو لوگ اپنے مال کو خرچ کرتے ہیں‘ رات دن‘ پوشیدہ اور کھلم کھلا‘ ان کے لیے ان کے ربّ کے پاس ثواب ہے اور قیامت کے دن‘ نہ ان کو کوئی غم ہوگا نہ وہ مغموم ہوں گے۔‘‘ (سورۃ بقرہ آیت ۳۸)
’’باجی جی! سارا کام ہوگیا ہے‘ میں جائوں اب۔‘‘ میں ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی تو صغراں اپنے دھلے ہوئے ہاتھ‘ اپنے میلے دوپٹے سے پونچھتی ہوئی آگئی۔
’’آں… ہاں… جائو فریج کے اوپر کھانا باندھ کر رکھا ہے وہ بھی لیتی جائو۔‘‘ اسے جواب دے کر میں پھر ٹی وی کی جانب متوجہ ہوگئی‘ مذہبی چینل سے میرے پسندیدہ اسکالر کا پروگرام آرہا تھا۔
’’سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۹۲ میں ربّ باری تعالیٰ فرماتا ہے‘ اے مسلمانو! تم (کامل) نیکی کو حاصل نہ کرسکو گے‘ یہاں تک کہ اس چیز کو خرچ نہ کرو جو تم کو خوب محبوب ہو۔‘‘
’’باجی جی… وہ… ایک کام تھا جی آپ سے۔‘‘ صغراں نے مجھے پھر مخاطب کیا تو میں چونکی۔
’’بولو کیا کام ہے؟‘‘
’’باجی جی! میری لڑکی کی شادی ہے تین ماہ بعد تو اگر کچھ کپڑے وغیرہ ہوں تو…‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا۔
’’امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ پہلے لوگ اس کو بُرا سمجھتے تھے کہ کوئی دن صدقہ کرنے سے خالی ہو‘ چاہے ایک کھجور یا روٹی کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے‘ میں نکال دوں گی۔‘‘ میں نے ٹی وی اسکرین پر ہی نظریں جمائے اسے جواب دیا۔ صغراں کی بار بار مداخلت سے میرے پروگرام کا تسلسل ٹوٹ رہا تھا۔
’’وہ باجی ایک بات اور… صدقہ خیرات نکالیں تو مجھے یاد رکھا کریں۔ گھر میں کام کرنے والیوں کا پہلا حق ہوتا ہے۔‘‘
’’اوہو…‘‘ میں جھنجلا گئی۔ ’’یہ کام والیاں بھی مانگنے والیوں سے کم نہیں ہوتیں۔ عادت جو پڑ جاتی ہے مانگ کر کھانے پہننے کی‘ یہاں سے سمیٹ کر لے جائیں گی تو کل کسی اور دروازے پر کھڑی نظر آئیں گی۔‘‘ مجھے غصہ آگیا مگر اسے ٹالا۔
’’اچھا اچھا ٹھیک ہے‘ میں سوچوں گی۔‘‘ صدقہ‘ خیرات اور فطرہ زکوٰۃ کے لیے ہمارے گھر بندھے ہوئے تھے۔ پہلا حق تو رشتے داروں کا ہوتا ہے اس کو جانے کیسے پتا چل گیا تھا۔
’’بہت بہت شکریہ! اللہ آپ کو بہت دے‘ سلام جی۔‘‘ وہ دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی تو میرا دھیان دوبارہ ٹی وی کی طرف چلا گیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’آدمی ایک ٹکڑا دیتا ہے اور وہ اللہ جل شانہ کہ یہاں اس قدر بڑھتا ہے کہ اُحد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔‘‘
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ’’انصار میں سب سے زیادہ کھجور کے درخت حضرت ابو طلحہؓ کے پاس تھے اور ان کا ایک باغ تھا جس کا نام بیر حاء تھا۔ وہ ان کو بہت زیادہ ہی پسند تھا یہ باغ مسجد نبوی ؐکے سامنے ہی تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور اس کا پانی نوش فرماتے جو بہت ہی بہترین پانی تھا۔ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حق تعالیٰ یوں ارشاد فرماتے ہیں اے مسلمانو! تم کامل نیکی حاصل نہ کرسکو گے یہاں تک کہ اس چیز کو خرچ نہ کرو‘ جو تم کو خوب محبوب ہو۔‘‘ مجھے ساری چیزوں میں بیر حاء سب سے زیادہ محبوب ہے۔ میں اس کو اللہ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے اجر و ثواب کی اللہ سے امید رکھتا ہوں آپ جہاں مناسب سمجھیں‘ اس کو خرچ فرمادیں۔‘‘ میں نے ٹی وی کا والیم بڑھادیا جو صغراں سے بات چیت کے دوران کم کردیا تھا۔
’’روایتوں سے ثابت ہے کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ صدقہ کرتا ہے اس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو ریا کاری کرتا ہے تو اس کے عمل کی قبولیت کی کوئی صورت نہیں اور سود سے دنیا اور آخرت دونوں ہی تباہ و برباد…‘‘
بجلی بے موقع دغا دے گئی ورنہ معمول کی تو میں عادی ہی تھی۔ پروگرام کا تسلسل ایک بار پھر ٹوٹ گیا میں نے جی بھر کر بجلی والوں کے محکمے کو کوسا۔ صد شکر یو پی ایس تھا ورنہ گرمی کا عذاب بھی جھیلنا پڑتا۔ بچوں کے اسکول سے واپس آنے میں دو گھنٹے باقی تھے‘ صفائی ماسی کرگئی تھی‘ کھانا رات کا بچا ہوا تھا اتفاقاً موبائل میں بیلنس بھی نہیں تھا وگرنہ یہ فارغ وقت خوش گپیوں میں ہی گزر جاتا پھر میرا دھیان الماری کی طرف چلا گیا۔ الماری کی ترتیب بہت دنوں سے بگڑی ہوئی تھی سوچا کہ الماری بھی سیٹ ہوجائے گی اور لگے ہاتھ ماسی صغراں کے لیے کچھ کپڑے بھی نکال لوں گی۔
اسی بہانے صدقہ خیرات بھی نکل جائے گا میرے ذہن میں پروگرام کا اثر ابھی باقی تھا۔ یہ خیال آتے ہی الماری کھول کر بیٹھ گئی سب سے پہلے تمام کپڑوں کو گرمی اور سردی کے کپڑے علیحدہ کرلیے پھر فارمل‘ سیمی فارمل اور گھریلو استعمال کے کپڑوں کو علیحدہ کرکے الماری میں دوا چھڑک کر خاکی کاغذ بچھادیا۔ ساتھ ہی ایک بڑا شاپر بھی رکھ لیا تاکہ صغراں کو دیئے جانے والے کپڑے اس میں رکھتی جائوں‘ آہستہ آہستہ تہہ کرنا شروع کیے اور ترتیب وار جمانا شروع کیا۔
پھر گرم شالیں اور پرانے سوئٹرز الگ کرکے استعمال کے قابل اوپر سے دوسرے خانے میں جما دیئے پھر خاص موقعوں یعنی شادی اور پارٹیز وغیرہ میں پہنے جانے والے کپڑوں کی چھانٹی کی۔ جن کے ڈیزائن پرانے ہوگئے تھے انہیں صغراں کے شاپر میں ڈال دیا جبکہ دیگر تیسرے خانے میں جما دیئے سب سے آخر میں روزمرہ پہنے جانے والے کپڑوں میں سے پھٹے پرانے اور بدنما و بدرنگ کپڑے علیحدہ کرکے چند قابل استعمال حالت والے جوڑے سب سے نچلے خانے میں جما دیئے۔ الماری سیٹ کرکے میں نے صغراں کا شاپر باندھنے کے لیے ہاتھ میں لیا تو یکایک خیال آیا کہ ایک بار دیکھ لوں کہ مبادا کوئی کام کی شے غلطی سے نہ چلی گئی ہو کیونکہ کبھی کبھار میں جلدی میں کپڑوں کے درمیان کاغذات اور پیسے بھی رکھ دیتی تھی سوچا کہ بعد میں پوچھوں گی تو صغراں کو لگے گا کہ باجی شک کررہی ہیں۔
شاپر میں ہاتھ ڈالا تو بچوں کے دو گرم سوئٹر ہاتھ میں آگئے۔ سوئٹر سے فرش کا پونچھا اچھا لگ جاتا ہے اکثر صغراں بھی پونچھے کے لیے پرانے سوئٹر لانے کو کہتی۔ لنڈے میں چھوٹے سائز کا سوئٹر بھی سو پچاس سے کم کا نہیں۔ ان ہی سے کام چلالوں گی خیال آتے ہی میں نے وہ سوئٹر علیحدہ کرلیے۔ اس کے نیچے ایک کاٹن کا میرا پسندیدہ نیلے رنگ کا اور دوسرا لان کا چنری پرنٹ کا سوٹ نظر آیا جو اَب بدرنگ و بدنما ہوچکے تھے۔
’’اتنے مہنگے مہنگے سوٹ بنائو‘ ذرا سے استعمال سے کچھ ہی دھلائیوں کے بعد کیسے بدنما ہوجاتے ہیں۔‘‘ میں نے ان کے دوپٹے شانوں پر پھیلا کر دیکھے۔ دوپٹے ابھی بھی بہتر حالت میں تھے آج کل تو دوپٹہ بھی تین ساڑھے تین گز کا ہوتا ہے۔ ان کی تو آرام سے قمیص بن جائیں گی اور سفید و سیاہ شلوار دوپٹے تو ہیں ہی میرے پاس گرمی میں کپڑے بھی زیادہ چاہیے ہوتے ہیں۔ بازار میں تو لان کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی ہے‘ کل بچت بازار سے بھی مشکل سے دو ہی سوٹ لے پائی۔ کیا خاک پوری گرمی گزرے گی‘ کل ہی رشیدہ درزن کو دے دوں گی‘ لیس لگا کر سی دے گی تو کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ دوپٹے سے قمیص بنائی ہے۔‘‘ یہ خیال آتے ہی میں نے دوپٹے علیحدہ کرلیے تاکہ ان کی میچنگ بیلیں خرید سکوں۔
اب خالی سوٹ دیکھ کر تو صغراں کا منہ بن جائے گا اور مجھے پہنے دیکھے گی تو سمجھ جائے گی کہ باجی نے دوپٹے روک لیے تھے‘ چلو ان سوٹوںکو کاٹ پیٹ کر ڈسٹنگ وغیرہ میں استعمال کرلوں گی۔ میں نے دونوں سوٹ شاپر سے باہر نکال لیے۔ کاٹن کے سوٹوں کے نیچے میرے جہیز کا پرانے ڈیزائن کا بنارسی سوٹ تھا۔
’’اللہ… میں کتنی پاگل ہوں‘ اپنا پسندیدہ سوٹ دے رہی ہوں۔ انگرکھا تو میں نے کتنی ضد کرکے امی سے بنوایا تھا‘ آج کل تو ایسا کپڑا آنا ہی بند ہوگیا ہے۔ فیشن کا کیا ہے وہ تو پلٹ کر واپس آتا ہے۔‘‘ نقصان سے بچنے پر میں نے شکر ادا کرتے ہوئے میرون اور فیروزی کنٹراس والا سوٹ نکال کر دل سے لگا لیا۔ اس میں سے میکے کی مہک جو آرہی تھی۔ امی‘ ابو سب گھر والے یاد آنے لگے‘ میرا دل مسوسنے لگا۔ میکے سے جڑی یادیں پلکیں نم کرنے لگیں۔
یکایک خیال آیا کہ بچے آنے والے ہیں‘ کام کو جلدی سمیٹنا ہے۔ شاپر بند کرنے لگی کہ سبز شیفون کی ستاروں والی ساڑھی پر نگاہ پڑگئی۔ میں نے سر پیٹ ڈالا اور جھپٹ کر ساڑھی باہر نکالی‘ ساڑھی کے گولڈن ستارے گو کہ ماند پڑنے لگے تھے مگر ساڑھی سے جڑی یادیں آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ میرے ذہن میں روشن تھیں۔ یہ میرے پیارے شوہر نامدار کی طرف سے ہماری شادی کی پہلی سالگرہ کا گفٹ تھا۔ یادیں بھی کیسی عجیب شے ہیں‘ کبھی ہنساتی ہیں‘ کبھی رلاتی ہیں۔ میں اپنی فلسفیانہ سوچ پر خود ہی ہنس پڑی۔ اسی اثناء میں گھڑی نے ایک بجنے کا الارم دے دیا۔
بچوں کے لیے کھانا گرم کرنا تھا‘ شاپر میں آخری سوٹ بجا تھا‘ میں نے جلدی سے اسے ٹٹولا۔ وہ میری بری کا سوٹ تھا‘ سبز آرگنزا پر مروڑی کا کام کالا پڑنے لگا تھا۔ میں نے شاپر بند کردیا اور کچن کی طرف چلی گئی۔ فریج سے سالن نکال کر پتیلی چولہے پر گرم کرنے کے لیے رکھی ہی تھی کہ لائٹ آگئی میں نے شکر ادا کیا۔ لائٹ آنے پر ٹی وی دوبارہ کھل گیا‘ میں شاید مین سوئچ بند کرنا بھول گئی تھی۔ مولانا صاحب کی آواز بتا رہی تھی کہ پروگرام ابھی باقی تھا یعنی لائٹ پون گھنٹے بعد ہی آگئی تھی۔ میں نے چاول چن کر پکنے کے لیے چڑھا دیئے ٹی وی کی آواز کچن تک آرہی تھی۔ میں پروگرام کا اختتام سورۃ آل عمران کی اس آیت مبارکہ سے کررہا ہوں تاکہ بیان کا مقصد مکمل طور پر واضح ہوجائے۔
’’اور دوڑو اس بخشش کی طرف جو تمہارے ربّ کی طرف سے ہے۔ دوڑو اس جنت کی طرف جس کا پھیلائو آسمان اور زمین ہے جو تیار کی گئی ہے ایسے متقی لوگوں کے لیے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ فراخی میں اور تنگی میں بھی اور غصہ کو ضبط کرنے والوں اور لوگوں کی خطائوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ جل شانہ محبوب رکھتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘
’’ناظرین اب اجازت دیجیے اگلے پروگرام میں کسی اور موضوع کے ساتھ حاضر ہوں گا‘ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔‘‘
یک دم میرے قدم جیسے ٹھٹک گئے تھے یوں لگا جیسے دل و دماغ پر منوں بوجھ آگیا ہو شاید میرے اس عمل کے پیچھے چھپی نیت کا پردہ چاک ہوا تھا جس میں اخلاص نہ تھا۔ وہ علم بھی کس کام کا جس میں عمل نہ ہو اور عمل ہو تو اس میں کھوٹ شامل ہو۔ مجھے اپنا آپ آئینہ دکھا گیا تھا اور میں زمین میں اندر ہی اندر دھنستی چلی جارہی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close