Aanchal Jun 15

لیبرڈے

مہر گل

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تیری منتظر روزِ ملاقات

’’صاحب میرے بیٹے کو گولی لگی ہے اس کا دایاں بازو اور سینے کے اعضاء مفلوج ہوگئے ہیں ڈاکٹر کہتے ہیں زہر پھیل گیا ہے اس کے علاج کے لیے تیس ہزار کی اشد ضرورت ہے میں آپ کو ہر ماہ تنخواہ میں سے کٹوادوں گا۔‘‘ بوڑھا مالی کرم دین ہاتھ جوڑ کر سیٹھ منظور الٰہی سے مخاطب تھا جن کے سوٹ کے ساتھ ساتھ گردن بھی کلف شدہ (اکڑی ہوئی) تھی۔ وہ اس وقت رہائشی عمارت سے نکل کر پورچ کی طرف جا رہے تھے ابھی بوڑھے کرم دین کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ سیٹھ منظور کا دایاں ہاتھ اٹھا اور زناٹے سے کرم دین کے گال پر پڑا اس افتاد پر وہ ضعیف آدمی لڑکھڑا کر گر گیا۔
’’ڈیم فول، جاہل آدمی، تم جانتے ہو کہ میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے آدھے گھنٹے بعد میری فلائٹ ہے اور تم سفر پر جاتے وقت اپنی رونی صورت لے کر بھیک مانگنے اور بدشگونی کرنے پہنچ گئے۔‘‘ ان کی زور دار آواز پر تمام ملازمین ہی سرونٹ کوارٹرز سے نکل آئے تھے اور خود دار کریم دین تو جیسے زمین میں گڑھ گیا تھا۔
’’ہونہہ، پہلے اپنے بچوں کو نشئی اور آوارہ بناتے ہو پھر جب وہ کسی واردات میں زخمی ہوتے ہیں تو ان کے علاج کے لیے بھیک مانگتے ہو ایسی اولاد کو تو مرجانا چاہیے۔‘‘ سیٹھ منظور نے سفاکی سے کہا تو کرم دین بے ساختہ تڑپ اٹھا۔
’’ناں صاحب جی، اللہ کے واسطے اسے کوسو مت، میرا بچہ ایسا نہیں ہے میرا راشد تو بارہ جماعتیں پاس ہے کمپنی میں کام کرتا ہے وہ واپس آرہا تھا کہ نامعلوم افرا دکی فائرنگ کا شکار ہوگیا آپ نے مدد نہیں کرنی تو مت کرو صاحب مگر اسے بد دعا تو مت دو۔‘‘ بوڑھے کرم دین کے آنسو اس کے جھریوں زدہ چہرے پر بہتے داڑھی میں جذب ہو رہے تھے۔ تمام ملازم اسے ترحم بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے وہ جانتے تھے کہ کرم دین سچ کہہ رہا ہے مگر وہ سیٹھ منظور کی رعونت سے بھی واقف تھے کچھ بول کر وہ برا نہیں بننا چاہتے تھے سیٹھ منظور نے سر جھٹکا، رسٹ واچ پر نظر دوڑائی اور بڑبڑائے۔
’’دو ٹکے کے لڑکے کی وجہ سے میرے دس منٹ برباد کردیے۔‘‘ نہایت کروفر سے کہتے اپنی سیاہ مرسڈیز کی طرف بڑھ گئے جہاں ڈرائیور دروازہ کھولے منتظر کھڑا تھا اور پیچھے کرم دین روتا رہ گیا۔
/…ؤ …/
’’برکتے میں نے تم سے کہا ہے ناں کہ لڑکی کام پھرتی سے کرنے والی ہو اور عمر میں سولہ سے کم ہو۔‘‘ بیگم عثمانی نے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اپنے ہیئر اسٹائل کا جائزہ لیتے ہوئے مڑ کر ڈسٹنگ کرتی نوکرانی سے کہا۔
’’بیگم صاحبہ اتنی چھوٹی دھی کو پنڈ والے چھوڑتے نہیں ہیں۔‘‘ وہ منمنائی۔
’’اچھا اور جوان لڑکیوں کو کام کرنے بھیج دیتے ہیں تمہارے غیرت مند پنڈ والے تاکہ نو عمر لڑکوں کو پھانس سکیں۔‘‘ بیگم عثمانی نے کاٹ دار لہجے میں برکتے سے کہا۔
’’ناں جی ناں! بی بی جی یہ تو کم بخت غریبی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ دوسروں کے گھروں کے برتن مانجھنے پڑتے ہیں ورنہ بھلا کون ایسا چاہتا ہے۔‘‘ برکتے تڑپ کر بولی۔ وہ پچھلے سال کام میں ہاتھ بٹانے کو اپنی جوان بھتیجی کو لائی تھی مگر مسز عثمانی کے اوباش بیٹے سرمد خان کی نظر اس پر پڑ گئی اور جب وہ اپنے نفس کی تسکین کی خاطر اٹھارہ سالہ زرتاشیہ کو بہانے سے کمرے میں لے گیا تو زرتاشیہ نے شور مچا ڈالا مسز عثمانی نے اپنے بیٹے کو کچھ کہنے کے بجائے دو تھپڑ زرتاشیہ کے منہ پر مارے اور کہا۔
’’نمک حرام میرے بیٹے پر الزام لگاتی ہے اپنی جھوٹی ادائوں کا جال تو… تو ہی اس پر ڈالتی تھی۔‘‘ چٹیا سے پکڑ کر اسے گھر سے نکال دیا اس وقت وہ اپنا ایٹی ٹیوڈ اور مینرز سب بھول گئی تھیں برکتے بوڑھی ہوچکی تھی اس سے اکیلے کام کاج نہیں ہوتا تھا اور مسز عثمانی اب جوان لڑکی کو رکھنے کی غلطی دہرانا نہیں چاہتی تھی۔
’’کوشش کروں گی بی بی جی کہ اپنی بہن کی پوتی کو لے آئوں دس بارہ سال کی ہے مگر ہے پھرتیلی۔‘‘ برکتے پر سوچ لہجے میں بولی۔
’’ٹھیک ہے لے آئو اسے۔‘‘ مسز عثمانی نے ڈن کردیا۔
/…ؤ …/
’’صاحب جی ورکرز تنخواہ بڑھانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔‘‘ اکائونٹ منیجر ایاز نے ہچکچاتے ہوئے معین صاحب سے کہا۔
’’واٹ ربش، ہر وقت تنخواہ میں اضافے کا رونا کیا سمجھتے ہو تم لوگ نوٹ درختوں پر اگتے ہیں؟‘‘ انہوں نے تلخ لہجے میں کہا۔
’’مگر صاحب جی پچھلے دو سالوں سے تنخواہ بالکل نہیں بڑھی کسی کی وہ سال کی بنیاد پر اضافے کی ضد کر رہے ہیں۔‘‘ منیجر نے مؤدبانہ انداز میں کہا۔
’’ہوں۔‘‘ معین صاحب سوچ میں پڑ گئے۔
’’کتنے ورکرز ہیں جنہیں کام کرتے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں۔‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’جناب ڈھائی تین سو ہوں گے۔‘‘ منیجر نے فائل دیکھ کر بتایا۔
’’ان سب کو فارغ کردو اور نیا اسٹاف بھرتی کرو اور کوشش کرنا لڑکے اٹھارہ سال سے کم عمر ہوں تاکہ انہیں تنخواہ کم دی جاسکے اور اب ہر سال پرانے اسٹاف کی جگہ نیا اسٹاف بھرتی کرو۔‘‘ معین صاحب نے آرڈر جاری کیا۔
’’جی…‘‘ اس حکم پر ایاز صاحب کا منہ حیرت سے کھل گیا مگر معین صاحب کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ ’’اوکے سر، جیسا آپ کا حکم۔‘‘ کہتے ہوئے پلٹ گئے کہ کہیں اسے بھی نوکری سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔ معین صاحب کا سیل بجا ان کے بیٹے کی کال تھی وہ کہہ رہ اتھا کہ مرسیڈیز پرانی ہوگئی ہے نئے ماڈل کی بی ایم ڈبلیو کے لیے پچاس لاکھ کی اشد ضرورت ہے اور معین صاحب نے فورا چیک کاٹ دیا۔
/…ؤ …/
آج کا سیمینار بہت اہم تھا، پورے شہر کی مشہور شخصیات لیبر ڈے یعنی مزدوروں کے عالمی دن پر شرکت کے لیے بطور خاص آئی تھیں۔ چیئرپرسن منظور الٰہی نے سمینار کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔
’’مزدور ہماری ریڑھ کی ہڈی ہیں ان کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ ان کے حقوق سب سے مقدم ہیں۔‘‘ پھر وائس چیئرمین مسز عثمانی نے اور ایم ڈی معین الدین نے چائلڈ لیبر کی پر زور مذمت کی اور ان لوگوں کو سخت برا بھلا کہا جو بچوں کے ہاتھوں سے کھلونے اور قلم چھین کر اوزار پکڑا دیتے ہیں اور ان کو بچپن میں ہی بڑھاپے اور محرومی کا احساس سونپ دیتے ہیں۔ یہاں سیمینار کی تقریب اپنے عروج پر تھی اور اس سے بے خبر دس سالہ سدرہ مسز عثمانی کے گھر برتن دھو رہی تھی اور بوڑھا کرم دین اپنے جوان بیٹے کے جنازے کے سرہانے بیٹھا تھا جو سیٹھ منظور سے تیس ہزار نہ ملنے پر آپریشن نہ کرا پایا اور چل بسا۔ معین صاحب کی لیدر فیکٹری کے دو سو ملازمین بغیر کسی وجہ کے نکالے جانے پر حیران پریشان تھے کوئی کہتا۔ ’’ایسا مت کرو تنخواہ نہیں بڑھانا تو مت بڑھائو مگر مجھے نوکری سے مت نکالو۔ اگلے ماہ میری بیٹی کی شادی ہے کسی کی گھر والی پورے وقتوں سے ہوتی اور اسے رقم کی اشد ضرورت ہوتی مگر ایاز صاحب نے سب کو برخاست کردیا یہ کہہ کر کہ ’’یہ بڑے صاحب کا آرڈر ہے۔‘‘ فیکٹری کے تمام مزدور روتے ہوئے گیٹ سے نکل رہے تھے اور شہر کے امراء سیمینار ہال میں ’’لیبر ڈے‘‘ منا رہے تھے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close