Aanchal Apr 15

نیرنگ خیال

ایمان وقار

اک دعا
ایک برس کے ننھے راجکمار
ہو مبارک تجھے تیرا جنم دن
ہزار برس کا ہو تیرا جیون
شگفتہ و شاداب رہے تیرا گلشن
ہوائیں کریں عطیہ تجھے
بہاروں کا جوبن
قدرت بھی رہے تجھ پر مہربان
سدا رہے سلامت تجھ پر تیرا سائبان
درخشاں و تابندہ رہے تیرے مقدر کا ستارہ
جس سے ہوجائے روشن
زمین و آسمان…

سیدہ علیشاہ… بہاولپور

ہیپی برتھ ڈے ٹو ی و
پھول خوشبو‘ سورج‘ چاند ستارے
باد صبا‘ شفق بہار کے رنگ سارے
دیکھو آج خوش ہیں سارے
طائر بھی چہچہارہے ہیں
بادل بھی گھرِ کر آرہے ہیں
سبھی خوشی سے گنگنارہے ہیں
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
خوشیاں ہو رقصاں تیرے چار سو
غم کبھی نہ ترے پاس آئے
تُو جو بھئی چاہے وہی تجھے مل جائے
کہہ رہی ہے میرے دل کی دھڑکن
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو‘ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو

بشریٰ باجوہ… اوکاڑہ

نظم
تیرا ساتھ بادل سا
ہوا کے سنگ اڑتا ہے
پل پل روپ بدلتا ہے
گگن میں اڑتے پنچھی سا
اپنے آپ میں مگن جو رہتا ہے
چھم چھم برستی بارش سا
بن بادل جو برس جائے
تشنگی پھر بھی رہ جائے
سیب میں چھپے موتی سا
انمول چاند‘ تاروں سا
تیرا ساتھ بادل سا

صائمہ قریشی… آکسفورڈ

ساتھ
کبھی تسبیح کو دیکھا ہے؟
سبھی دانے الگ ہوکر بھی
ہردم ساتھ رہتے ہیں
یہی تعلق ہمارا ہے
بظاہر ہیں الگ لیکن
دلوں میں ساتھ رہتے ہیں
سدا اک دوسرے کے نام کی
تسبیح پڑھتے ہیں
اسی کو روح کا بندھن‘ اسی کو چاہ
کہتے ہیں
اسی کو ساتھ کہتے ہیں
عمر کی آخری سرحد اور زندگی کی آخری
سانس تک چلنے والا ’’سچا ساتھ‘‘

سباس گل… رحیم یار خان

آنچل کے لیے
کسی سحر طراز ساحرہ کے جیسے
اپنے حسن میں سموتا
مجھے بارش میں بگھوتا
بند مٹھی میں دھڑکتے
دل میں رہتا
اک مجسمۂ رعنائی کی صورت
سخت پتھر کو تراش کے
سفید مورتی میں ڈھالتا
وہ جو ذہن و دل
کے پردوں کو
اک لمحے میں چاک کرے
اس حیا کے پیکر میں لپٹے
حجاب کے نام
رنگین صفحات سے مزین
خوب صورت پیراہن میں مقید
میری شخصیت کو نکھارتے
گلاب بہاروں کے نام
اک صفحۂ قرطاس
میرے ڈئیرسٹ آنچل کے نام

مونا شاہ قریشی… کبیر والہ

غزل
میں تھا اور کٹہرا تھا
لیکن منصف بہرہ تھا
تیرے قرب میں جو بھی گزرا
وہ اک دور سنہرا تھا
اس کے روپ کو تکتے تکتے
چاند افق پہ ٹھہرا تھا
اپنوں نے جو زخم دیا
غیروں سے بھی گہرا تھا
ترے بن جو جیون گزرا
تپتی ریت کا صحرا تھا
کس سے شکوہ کرتے ہم
شہر تو سارا بہرہ تھا
جھوٹ تھا اتنا عام ندیمؔ
سچ کہنے پر پہرہ تھا
شفیق احمد ندیم… کراچی
میری جان آنچل
زندگی ایک موسم
موسم میں ایک شام
شام میں ایک یاد
یاد میں ایک آس
آس میں ایک خوشی
خوشی میں اک دعا
دعا میں اک صرف تم
ہمیشہ تم میری جان
میرا پیارا آنچل

مسکان جاوید اینڈ ایمان نور… کوٹ سمابہ

غزل
اجلا اجلا سا سماں ہے
تم سے مہکا گلستاں ہے
کچھ سمجھ آتا نہیں ہے
دل میرا جانے کہاں ہے
وہ بھی کترانے لگا ہے
کون جانے درمیاں ہے؟
وہ بھی تھا اک موسم گل
یہ بھی اک دورِ خزاں ہے
زخم دے کر مسکرانا
یہ بھی دستورِ جہاں ہے
بجلیاں ہر سو راناؔ
اور غریبِ آشیاں ہے

قدیر رانا… راولپنڈی

نظم (آنچل)
میں وہی شے ہوں جسے دل میں بساتے ہو تم
جس کو پھولوں کے زیوروں سے سجاکر اکثر
ہوٹلوں میں تو کبھی پارک میں بلاتے ہو
جس کو چندا سے کم تو تم مثال دیتے نہیں
جس کو پہلو میں سجا کر فخر بھی کرتے ہو
تمہارے دل میں تو ہوں اور تمہارے گھر میں بھی
تم جسے لفظوںکے جالوں میں جکڑ لیتے ہو
صبح سے شام گئے رابطوں میں رہتے ہو
اپنے یاروں سے بھی اس چاند کو چھپاتے نہیں
کرتے ہو کیا…؟ خیال کرتے نہیں
بہن ہوں گی‘ تمہارے گھر میں بیٹیاں ہوں گی
نہ بھی ہوں تو… ضرور ماں ہوگی
مجھ کو تو ہے عزیز عزتوں کا گہوارہ
سنو! مجھ سے میرا یہ مان مت چھینو
یہ سائبان میرا ربّ نے جو عطا کیا ہے
یہ سائبان میرا تم خدارا مت چھینو
دفن کردو تم اپنے غلط ارادے دل میں
میں بہن بیٹی ہوں سر پر میرے ہاتھ رکھو
خلوص دل سے اک ’’آنچل‘‘ کا مجھے تحفہ دو

عرشیہ ہاشمی… کوٹلی آزاد کشمیر

غزل
ارادے جن کے آہن ہوں قوی ہوں فیصلے جن کے
وہ طوفاں خیز موجوں سے بھی گھبرایا نہیں کرتے
شرارے آنکھ میں بجلی بھری ہو جن کے پیکر میں
وہ مومن مرد سچ کہنے پر پچھتایا نہیں کرتے
نگاہوں میں شرافت ہو حیا ہو آنکھ میں جن کی
وہ سوئے اور چڑھ جانے پہ کترایا نہیں کرتے
نگاہیں ان کو ڈھونڈیں گی قیامت سے قیامت تک
جو چھپ جاتے ہیں دنیا سے وہ پھر آیا نہیں کرتے
دلوں کو توڑنے والے کہاں آباد ہوتے ہیں
ہمیشہ تشنہ لب رہتے ہیں کچھ پایا نہیں کرتے
غزلؔ کیسے بھلادوں اتنے پیاروں کو جو دل میں
بنا لیتے ہیں گھر اپنا وہ پھر جایا نہیں کرتے

سلمیٰ غزل… کراچی

غزل
میں کیسے کیسے یہ امتحانوں میں آگیا ہوں
میں شہر حیرت کی داستانوں میں آگیا ہوں
خرد بھی اب تو عجیب حیرت میں مبتلا ہے
میں سوچتا ہوں یہ کن زمانوں میں آگیا ہوں
میں جانتا ہوں کہ دفن ہونا پڑے گا مجھ کو
میں دشتِ حسرت کے گلستانوں میں آگیا ہوں
اداس کمرے کی کھڑکیوں پر عجیب جالے
میں آج کیسے آشیانوں میں آگیا ہوں
جہاں پر ظلمت ہے بربریت ہے اور دھرنے
یہ دیکھ کیسے میں حکمرانوں میں آگیا ہوں
یہ حق کی خاطر تو بولتے ہی نہیں ہیں واجدؔ
مجھے تو لگتا ہے بے زبانوں میں آگیا ہوں

واجد چوہان… مظفر گڑھ

غزل
پھول یہ جتنے نیلے پیلے ہیں
سب کے سب پیار کے وسیلے ہیں
بچے گھر اور نوکری کا جواز
بھول جانے کے سارے حیلے ہیں
ان کو زندہ خدارا رہنے دو
زندہ رہنے کے جو وسیلے ہیں
یہ بہاروں کو ساتھ لائیں گے
پھول ہر سو جو پیلے پیلے ہیں
میری دھڑکن کی تال پر اے کنولؔ
جتنے نغمے ہیں سب سریلے ہیں

یاسمین کنول… پسرور

غزل
کڑے سفر کی مسافت بتاکے آیا ہوں
سلگتی یادوں کی شمعیں بجھاکے آیا ہوں
وہ دھوپ چھائوں کا موسم وہ راہ گزر اس کی
خیال و خواب کی دنیا بھلا کے آیا ہوں
جو نقش ہو نہ سکے ختم لاکھ کوشش سے
کمال یہ ہے کہ پل میں مٹا کے آیا ہوں
نہیں ہے اب کوئی باقی کسک مرے دل میں
ادھورے سپنوںکا جنگل جلا کے آیا ہوں
پہنچ نہ پائے جو منزل پر اپنی ایسے جمال
مچل رہے ہیں جو ارماں چھپا کے آیا ہوں

جمال زیدی… کراچی

میں اور تم
میرے خیالوں کی بستی میں
تیری یاد کا موسم
میرے ارادوںکی پختگی میں
تیری ذات کا حاصل
میری سوچوں کے محور میں
تیرے نام کی گردش
میرے لہجے کی روانی میں
تیری بات کا ردھم
جیسے ٹھنڈی چاند راتوں میں
چاند ستارہ میں اور تم…

سامعہ ملک پرویز… خان پور‘ ہزارہ

غزل
ہے دل تیرے لیے‘ تیرے بنا الجھا ہوا
ممکن نہیں‘ ہو عشق میں کوئی سلجھا ہوا
وفا کے قاتل لفظ تھے سارے‘ یقین جانو
روندھا گیا پیروں تلے‘ ہر موتی بکھرا ہوا
تعجب زدہ ہیں خطائیں بھی‘ وفائیں بھی
سسکتا ہے دل یہاں‘ وہاں ہے نکھرا ہوا
چاروں اطرارف سناٹا ہے‘ بکھری ہوئی تنہائی
غم میں ڈوبا ایک گوشہ ہے جیسے ہو تڑپا ہوا
عجب عشق کی داستان‘ ہے عشق معصوم
جو عشق معصوم انعمؔ‘ تو کیوں ہے یہ الجھا ہوا

انعم خان… KTS ہری پور

نظم
میرے ٹوٹے ہوئے دل کو
سکون دینے کے لیے
اپنے دل کی تشفی جو چاہی
اس نے…
اک کارڈ اور سرخ گلاب
بھیجا اس نے
جس پر لکھا تھا
فقط لفظ ’’معذرت‘‘
نہ چاہتے ہوئے بھی
میری آنکھوں سے دو
موتی نکلے اور
سرخ گلاب میں سماگئے
کتنا معصوم تھا وہ بھی
اک لفظ ’’محبت‘‘ نہ لکھ سکا
جس سے میرے سب گلے
شکوے دور ہوجاتے

مدیحہ نورین مہک… برنالی

غزل
سدا الجھے رہے ہیں جو گناہوں میں‘ ثوابوں میں
زمانہ لے گیا سبقت انہی پر انقلابوں میں
چلے جب ذکر ان لوگوں کا منزل پر جو پہنچے ہیں
ہمارا نام بھی شامل ہو ان سب باریوں میں
کتاب زیست تیرے نام کر ڈالی تو باقی کیا
تمہارے نام کر ڈالا ہے خود انتسابوں میں
اگر کچھ بھی نہیں دل میں تو کیسی ہے یہ بے چینی
جھلکتی ہے کہانی کون سی ان اضطرابوں میں
تجھے شوریدہ سر ہوکے بھلا ڈالوں تو کیا حاصل
اجارہ داریاں تو تیری ہی ہیں میرے خوابوں میں
دم رخصت بھلا کیسے نظر آتا کوئی چہرہ
ہر اک ڈوبا ہوا منظر تھا آنکھوں کے سیلابوں میں

ثناء… صادق آباد

نظم
سنو…
ان سے کہنا
کہ سامنے رہتے ہو
تو بات بھی کرلیا کرو
اتنا قریب رہ کر
خاموش رہنا
کچھ اچھا نہیں ہوتا…!

نجم انجم… کورنگی کراچی

غزل
پھر رہا ہے جہاں لیے جگنو
اب یہاں کس طرح جیے جگنو
میں نے مانگی تھی روشنی کی بھیک
اس نے ہاتھوں پر رکھ دیئے جگنو
یہ ضروری نہیں کہ سب دیکھیں
اپنے ہونٹوں کو ہے سیئے جگنو
تیری دنیا میں کردیئے ہم نے
تم نے روشن کہاں کیے جگنو
کتنے مخمور ہوگئے ہیں غزلؔ
شام ہوتے ہی بن پیے جگنو

غزالہ جلیل رائو… اوکاڑہ

نظم
کبھی کبھی
دل یہ چاہتا ہے
بہت آنسو بہائوں میں
مگر…
یہ کیسی بے بسی ہے جو
مجھے رونے نہیں دیتی
کسی کے سامنے مجھ کو
ضبط کھونے نہیں دیتی

دعائے سحر… فیصل آباد

غزل
مسئلہ خدوخال کا بھی نہیں
اور بجز اک خیال کا بھی نہیں
سرخوشی وہ تو خیر تھی ہی نہیں
اب یہ آنسو ملال کا بھی نہیں
ایک تم تھے جو میرا ماضی تھے
ایک میں ہوں جو حال کا بھی نہیں
ٹال دینا جسے نہیں آتا
وہ مرے اک سوال کا بھی نہیں
سحر جو ٹوٹنے ہی والا تھا
وہ کسی کے جمال کا بھی نہیں

عمار اقبال… کراچی

غزل
بدل دیتے ہیں رنگ عاشق مزاج اکثر
دیا کرتے ہیں جاں دے کر زمانے کو خراج اکثر
ہوا کرتا ہے سودا فصل کے پکنے سے پہلے ہی
کسانوں کے گھروں میں کم ہی پڑتا ہے اناج اکثر
نیا ہے دور قائم ہے مگر اپنی روایت پر
دلوں کے درمیاں دیوار بنتا ہے سماج اکثر
نہ جانے کس طرح مضبوط کرتے ہیں ارادوں کو
مگر وہ ٹال دیتے ہیں ہمارا احتجاج اکثر
لٹا دیتا ہے مفلس زندگی تعمیر ملت میں
رکھا جاتا ہے لیکن اہل زر کے سر پہ تاج اکثر
خیالوں میں گزر جاتی ہے یونہی رات طولانی
یونہی فکر و ترددد میں گزر جاتا ہے آج اکثر
بدل کر رہ گئے ہیں خدوخال زندگی نیئر
یہی کہتے ہوئے ملتے ہیں ہم سے ہم مزاج اکثر

نیئر رضوی… لیاقت آباد‘ کراچی

کیوں…؟
چاندنی راتوں میں
تنہا بیٹھ کر
چاند کو تکنا اور…
اس میں کسی کا
عکس تراشنا اچھا لگتا ہے

رشک وفا… گجرات

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close