Aanchal Apr 15

دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

معروف محقق علامہ زمخشریؒ نے اپنی کتاب کشاف میں جنت کے ناموں کو اس ترتیب سے لکھا ہے۔دارالخلد۔دارالمقام ۔دارالسلام۔جنتِ عدن۔دارالقرار۔ جنتِ نعیم۔جنت الماویٰ‘ جنت فردوس۔ علامہ نے سورۃ الزاریات کی تفسیر میں ان جنتوں کے بارے میں لکھا ہے۔
(۱)عدن۔ اسے سبز زمرد سے بنایا گیا ہے۔ اس میں سخی‘ عادل‘ نمازی‘زاہد اور آئمہ مساجد رہیں گے۔
(۲)جنت الماویٰ۔ اسے نور سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ مقام شہید حقیقی خیرات کرنے والے‘ غصہ برداشت کرنے والے‘ تقصیروں کو معاف کرنے والوں کا ہے۔
(۳)فردوس۔ اس کی تعمیر جلالِ کبریائی کے نور سے ہوئی ہے۔ اس میں انبیاء علیم السلام رہیں گی‘ اس کے درمیان ایک غرفہ (کمرہ) نورِ رضا سے بنایا گیا ہے۔ اسے مقام محمود کہتے ہیں اس مقام ِخاص پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھیں گے۔
(۴)نعیم۔ اس کی تعمیر سبز زبرجد(زمرد) سے کی گئی ہے۔ اس میں شہید حکمی اور موذن رہیں گے۔
(۵) دارالقرار۔ اس کو مروارید روشن سے بنایا گیا ہے اس میں عام مومن رہیں گے۔
(۶) دارالسلام۔ اس کی تعمیر سرخ یاقوت سے کی گئی ہے اس میں فقیر‘ صابر‘ اس امتِ آخر کے رہیں گے۔
(۷)دارالجلال۔ اسے زرسرخ سے بنایا گیا ہے۔ اس کو درالمقام بھی کہتے ہیں اس میں امت کے اغیناء وشاکر رہیں گے۔
یہ لفظ جنت قرآن کریم میں مختلف صورتوں میں ایک سو انچاس مرتبہ آیا ہے بعض جگہ اضافتوں کے ساتھ بھی آیا ہے۔ قرآن حکیم میں جنت کے لئے فردوس‘ روضہ‘ دارالخلد‘ دارالمقامہ اور دارالسلام بھی استعمال ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں آخرت کے بعد نئی زندگی جو دائمی ہوگی جو کبھی ختم ہی نہیں ہوگی اُس زندگی کے دائمی اور غیر فانی گھر کو جو ہر قسم کی پریشانیوں ‘دکھوں‘ تکلیفوں سے قطعی آزاد ہوگا کو جنت کہا ہے۔ جنت کی اہمیت وحیثیت کو واضح کرنے کے لئے ان لوازمات کا بھی ذکر کیا گیاہے جن سے انسان اس مادی دنیا کی زندگی میں مانوس وآشنا ہے۔
مثلاً باغ‘مرغ زار‘آب رواں ‘ گل وثمر‘ مشروبات‘ ملبوسات‘ وغیرہ تاکہ انسان اس کی اہمیت سے پوری طرح واقف ہو کر اسے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرسکے۔
حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ ان کی حقیقت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان آخروی چیزوں کو دنیاوی چیزو اور الفاظ سے ادا کرنے کی خاص وجہ ہے کہ ان کی نسبت سے انسان ان کے بارے میں جان سکے کہ وہ کیاہیں کیسی ہیں جبکہ حقیقت تو ان الفاظ سے کہیں بلند تر اور زیادہ ہوں گی۔
جنت کاجو تعین علمائے کرام نے قرآنی آیات سے کیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ عام طور پر بلند ترین آسمان کے اوپر اور عرشِ الٰہی کے نیچے ہے‘ جنت کے مختلف طبقات ومقامات تک پہنچنے کے لئے آٹھ بڑے دروازے ہیں ہر طبقہ اپنی جگہ کئی کئی طبقوں میں منقسم ہے بلند ترین درجے کوجوساتویں آسمان پر یااس سے قریب کو عدن اور فردوس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ جنت کے دروازے کھولنے کی چابی کے تین دندانے ہیں‘ جو ایک حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔(۱)توحید کااقرار(۲)اطاعت الٰہی(۳)تمام غیر شرعی کاموں سے احتراز ۔
قرآنِ حکیم میں جنت کی منظر کشی ربِّ رحیم وکریم نے اس طرح فرمائی ہے۔
ترجمہ:۔یہ لوگ(اہل جنت) سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر۔ ایک دوسرے کے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ ( لڑکے ) رہیں گے‘ آمدورفت کریں گے۔ آب خورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے لبریز ہو گے۔ جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فتور آئے۔ اور ایسے میوے لئے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں گے(جسے چاہیں چن لیں) اور پرندوں کا گوشت جو انہیں مرغوب ہوں۔ اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔جو چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔ یہ صلہ ہے ان اعمال کا۔ نہ وہاں کوئی بے ہودہ بات یاگناہ کی بات سنیں گے۔ وہاں صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی۔ اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے۔ وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں اور۔ تہ بہ تہ کیلوں۔ اور لمبے لمبے سایوں۔ اور بہتے ہوئے پانیوں۔ اور بکثرت پھلوں میں۔ جو نہ ختم ہوں نہ روک لئے جائیں۔ اور اونچے اونچے فرشوں میں ہوں گے۔ ہم نے ان کی (بیویوں کو)خاص طور پر بنایا ہے۔ اور ہم نے انہیں کنواریاں بنادیاہے۔ محبت والی‘ اورہم عمر ہیں۔ (الواقعہ۔۱۵ تا۳۷)
تمام آیات خود ہی اپنی تفسیر ہیں ۔یہ جنت اور اہلِ جنت کی وہ منظر کشی ہے جو ربِّ کائنات نے قرآن کریم میں فرمائی ہے ایسی ہی منظر کشی جنت کی اہلِ ایمان کو ترغیب ورغبت دلانے کے لئے سورۃ الدھر میں بھی کی گئی ہے ان آیات ِمبارکہ سے اہلِ ایمان بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ دنیا کی زندگی کی بظاہر مشکلات آخرت کی کیسی پربہار اور پرآسائش زندگی کاباعث ہوں گیں اور جنت کے عیش وآرام جو دائمی اور کبھی ختم نہیں ہوں گے دنیا کی چند روزہ زندگی کی مشکلات وپریشانی کے مقابلے میںنہ کچھ اہمیت رکھتی ہیں نہ کوئی حیثیت رکھتی ہیں۔ سورہ ٔالدھر میں ارشاد ہو رہا ہے۔
ترجمہ:۔ اور ان کے صبر کے بدلے میں انہیں جنت او رریشمی لباس عطا کرے گا۔ وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی بھڑ‘ جنت کی چھائوں ان پر جھکی ہوئی سایہ کررہی ہوگی‘ اور اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے۔(جس طر ح چاہیں انہیں توڑلیں۔)ان کے آگے چاند ی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جارہے ہوں گے۔ شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہوں گے اور ان کو (منتظمین جنت نے)ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسی شراب کے جا م پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہاجاتا ہے۔ ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے دوڑتے پھررہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیردیئے گئے ہیں۔وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالوگے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان تمہیں نظر آئے گا۔ ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس او راطلس وزیبا کے کپڑے ہوں گے۔ ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ (الدھر۔۱۲ تا۲۱)
جنت کی اس الٰہی منظر کشی کے بعد مزید کسی تشریح وتفصیل کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہئے۔
جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے پہلے سردار الانبیاء اللہ کے محبوب نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے ان کے بعد انبیاء کرام علیہ السلام ۔ فرشتے نہایت ہی عمدہ اور سریلے نغموں سے اہل جنت کااستقبال کریں گے جنت میں داخل ہونے پر پہلے سب کی ضیافت ہوگی‘ احادیث میں ایک ایک کھانے کا حال بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے‘ کھانے کے بعد ہر کوئی اپنے لئے مقرر کئے گئے ٹھکانوں کی طرف چلاجائے گا جو سب کے لئے حسبِ مراتب پہلے سے تیار ہوں گے۔ جنت میں ہی اہلِ جنت کو د یدارِ حق تعالیٰ نصیب ہوگا۔
ایک حدیث شریف حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بن صامت سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہشت کے سو درجے ہیں اور ہر درجے کی مسافت ارض وسماء کی مسافت کے برابر ہے۔ بہشت کے درمیان سے چار نہریں جاری ہورہی ہیں۔ جب تم اللہ سے سوال کرو(دعا مانگو) تو فردوس کا سوال کرو‘اس لئے کہ یہ بہشت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔
انسان اپنے مادہ تخلیق کی وجہ سے جنت کا مستحق نہیں ہے بلکہ اس کے اعمال واوصاف ہی اسے جنت کا حق دار بناتے ہیں۔ اطاعتِ الٰہی احکامِ الٰہی کو تسلیم کرنا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تمام ہدایات وتعلیمات کو ویسے ہی تسلیم کرنا یا نہ کرناہی ہرانسان کو جنت یادوزخ کی طرف لے جائے گا۔ جنت کاحصول صرف اطاعتِ الٰہی اور اطاعتِ رسول کریم پرمنحصر ہے۔ اس کی راہ کڑی‘ آزمائشوں والی ضرور ہے لیکن وہی سلامتی کا گھر بھی ہے۔ سورۃ الزمر میں اہلِ جنت کومیدانِ حشر سے حساب کتاب ہوجانے کے بعد جب جنت کی طرف لے جایا جائے گا اس کیفیت کو اللہ نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے۔
ترجمہ:۔اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتے تھے انہیں گروہ درگروہ جنت کی طرف لے جایاجائے گا‘ یہاں تک جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور دروازے کھول دیئے جائیں گے تو وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو‘ تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لئے چلے جائو۔ (الزمر۔۷۳)
آیتِ کریمہ میں اللہ جل شانہ نے جنت میں داخل ہونے کی منظر کشی فرمائی ہے ۔ اہلِ ایمان ‘ اہلِ تقویٰ کے گروہ درگروہ درجہ بدرجہ جو ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہوں گے جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔ سب سے ٖپہلے مقربین یعنی انبیاء علیم السلام ان کے ساتھ صدیقین وابرار اور شہدا اپنے ہم مرتبہ کے ساتھ داخل ہوں گے علما اپنے اقران کے ساتھ۔ یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس سے مثل کے ساتھ ہوگی۔ (ابن کثیر)
حدیث شریف میں آیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں‘ ان میں سے ایک ریان ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔(بخاری و مسلم)
ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابر ہوگی اس کے باوجود وہ بھرے ہوئے ہوں گے۔(مسلم)
سب سے پہلے جنت کا دروازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھٹکھٹاینگے۔(مسلم)
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہوں گے اور دوسرے گروہ کے چہرے آسمان پر چمکتے ستاروں میں سے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے‘ جنت میں سب اہل جنت تھوک ‘بلغم‘ بول وبراز سے قطعی پاک ہوں گے‘ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ پسینہ کی بو کستوری ہوگی اُن کی آنگیٹھیوں میں خوش بودار لکڑی ہوگی‘ ان کی بیویاں حورالعین ہوں گی‘ ان کا قد حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ساٹھ ہاتھ کاہوگا۔(بخاری)
صحیح بخاری ترمذی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں ہرمومن اہل جنت کو دوبیویاں ملیں گی‘ ان کے حسن وجمال کا یہ حال ہوگا کہ ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔(بخاری کتاب بدرالخلق) بعض نے کہا کہ یہ دو بیویاں حوروں کے علاوہ دنیا کی عورتوں میں سے ہوں گی‘ ہر جنتی کی کم از کم حور سمیت دوبیویاں ہوں گی اللہ جس کو چاہے زیادہ بھی ممکن ہوں۔(فتح الباری)
دوزخ کی طرح جنت کے بھی سات طبقات ہیںہر طبقے کی الگ الگ کیفیت اور درجے ہیں ‘ہر طبقے کے اہل لوگوں کو اس طبقے میں پہنچایاجائے گا اور ہر طبقے میں بھی حسب مراتب درجے ہوں گے جنت کے تمام طبقات کی کیفیات کو سمجھنے کے لئے قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(۱)جنت عدن کے معنی ہیں رہنے سہنے کے باغات‘ ایسی جنتیں جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں‘ جو لوگ علم رکھتے ہیں وہ اس کو جنت میں ایک خاص مقام کا نام بتاتے ہیں۔ ابن مردویہ حضرت ابو الدردارضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’عدن حق تعالیٰ کا بنایا ہو اگھر ہے جس کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھااور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال آیا۔ اس میں انبیاء(علیہ السلام) صدیقین اور شہدا ان تینوں کے علاوہ اور کوئی نہ رہنے پائے گا عدن کا ذکر قرآن حکیم میں تقریباً گیارہ بار ہوا ہے۔
ترجمہ:۔ان کے لئے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں‘ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی‘ وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز رنگ کے نرم وباریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں گے‘ وہاں اونچی مسندوں پر تکئے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ کیا بہترین اجرہے اور کس قدر اعلیٰ درجے کی قیام گاہ ہے۔ (الکہف۔ ۳۱)
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close