Aanchal Mar 15

ہمدردی وبال جان

سحرش فاطمہ

یہ چراغ بے نظیر ہے، یہ ستارہ بے زباں ہے
ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے
کبھی پا کے تجھ کو کھونا، کبھی کھو کے تجھ کو پانا
یہ جنم جنم کا رشتہ تیرے میرے درمیاں ہے

میری زندگی کوئی انوکھی نہیں تھی اپنی مرضی کی گزار رہی تھی جو من بھاتا کرتی پہنتی اوڑھتی مجھے گھر والوں نے بھی نہیں ٹوکا پر آج میں جو کچھ بھی ہوں اس ایک حادثے کی وجہ سے ہوں میں نے کس طرح اپنے آپ کو دلدل سے بچایا میں ہی جان سکتی ہوں۔‘‘
ایک معروف ٹی وی چینل پر میزبان اپنی مہمان سے سوال جواب میں لگی ہوئی تھی اور اس کی زندگی کا نیا بدلاؤ کیسے آیا وہ کیا تھی اور اب کیا ہے اس پر گفتگو ہورہی تھی۔
’’کبھی کبھی میں سوچتی ہوں اگر میں بچ گئی تو اس میں میرے اللہ ہی کی حکمت تھی اس کا ساتھ تھا جو میں سنبھل گئی مجھے ہدایت دی اس نے۔‘‘ مہمان نے گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر چپ رہ کے وہیں سے جوڑا… میزبان اس دوران چپ بیٹھی رہی… اسٹوڈیو میں خاموشی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ یا تو وہاں کوئی بھی نہ ہو یا سب کو ہی سانپ سونگھ گیا ہو۔
’’اب تم کیا سمجھتی ہو جو بدلاؤ تم میں آیا ہے وہ اب برقرار رہے گا؟ ایسا کیا ہوا تھا ہمیں بتاؤگی؟ تاکہ آج کی جو ہماری نسل ہے وہ جانیں اور سبق لیں۔‘‘ میزبان نے چپ کا روزہ توڑا۔
’’مجھ میں ہمت نہیں یہ سب کہنے کی کیا ہوا میرے ساتھ۔‘‘ مہمان نے کہا اور رونا شروع کردیا۔
’’اف یہ کیا صبح صبح ڈرامہ لگا دیا تم نے۔‘‘ رامش نے نرمین سے ریموٹ چھینا۔
’’یہ ڈرامہ تھا آنکھیں ہیں یا بٹن؟ یہ مارننگ شو تھا۔‘‘ نرمین نے واپس ریموٹ لینے کی کوشش کی۔
’’تو یہ بھی کسی ڈرامے سے کم ہوتے ہیں کیا؟ ایسا لگتا ہے تھیٹر ہورہا ہو وہیں ناچ گانا وہیں رونا دھونا اور پھر شادیاں کرادو انہیں کی پہلے سے شادی شدہ ہیں اور کسی کی نقلی شادیاں۔‘‘ رامش خائف تھا ان مارننگ شوز سے۔
’’ارے تو ہمارا ٹائم پاس ہوجاتا ہے اور ضروری نہیں سب ڈرامہ کررہے ہوں اس لڑکی کو دیکھو تم۔‘‘ نرمین ریمورٹ لینے میں کامیاب ہوگئی اور وہی مارننگ شو لگا دیا۔
’’مجھے صبح صبح تو ناشتہ اچھے سے کرنے دیا کرو بیگم صاحبہ۔‘‘
’’اچھا تم بیٹھ کے سیاسی دڑامے دیکھو اور میں بقول تمہارے مارننگ شو والے دڑامے نہ دیکھوں کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔‘‘ نرمین نے ریمورٹ رامش کے حوالے کیا اور باورچی خانہ میں ناشتہ لینے چلی گئی۔ دونوں نے ساتھ بیٹھ کے ناشتہ کیا۔
’’یاد ہے نرمین جب تم شادی ہوکر آئی تھیں تمہیں چائے تک بنانی نہیں آتی تھی۔‘‘ رامش نے نرمین کو چھیڑا۔
’’ہاں جیسے تمہیں بہت اچھی آتی تھی نا بنانی چائے۔‘‘ نرمین نے زبان چڑائی۔
’’بھئی میں کیوں بنانے لگ گیا تمہیں رکھا کیوں تھا اپنے پاس پھر؟‘‘ رامش اب اسے مزید چھیڑا۔
’’کیا مطلب میں کیا نوکرانی ہوں؟ مجھے تم نے رکھا ہے؟ شادی کی ہے نکاح کیا ہے آئی سمجھ۔‘‘ نرمین نے کھانے والے چمچے کے ساتھ کانٹے کو رامش کی جانب کرکے کہا۔
’’اوہ بیگم صاحبہ کیا مار ڈالنے کا ارادہ ہے؟‘‘ رامش نے دونوں ہاتھ اوپر کرلیے۔
’’چپ چاپ ناشتہ کرو ورنہ ایسا نہ ہو تم پر میں کیس کرادوں اور مارننگ شو میں لے جاؤں اور پھر دکھیاری بن جاؤں۔‘‘ نرمین نے چائے کی چسکی بھر کے آنکھ گھماتے کہا…
رامش ہنستا رہ گیا… اسی نوک جھونک میں ناشتہ کیا اور وہ دفتر روانہ ہوگیا…
’’باجی ایک بات تو بتائیں۔‘‘ اب اس نے نرمین کو مخاطب کیا۔
’’ہاں پوچھو۔‘‘ نرمین اسے اندر لے آئی اس کے لیے چائے نکال کے رکھی۔
گیارہ بجے نرمین کی کام والی آئی اسے دیکھ کر نرمین کی چیخ نکل گئی۔
’’یہ کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘ نرمین نے اپنی کام والی شکراں سے پوچھا۔
’’بی بی بس کیا بتاؤں میرے مرد نے تحفہ دیا ہے۔‘‘ کام والی نے آہ بھری۔
’’باجی ایک بات تو بتائیں۔‘‘اب اس نے نرمین کو مخاطب کیا۔
’’ہاں پوچھو۔‘‘نرمین اسے اندر لے آئی اور اس کے لیے چائے نکال کے رکھی۔
’’باجی آپ جو یہ صبح صبح ٹی وی پر دیکھتی ہو جس میں ہم جیسی عورتیں آتی ہیں کیا وہ سچ ہوتی ہیں؟ میں بھی وہاں جاؤں گی اپنے مرد کے خلاف آواز اٹھاؤں گی۔‘‘ نرمین اس کی بات سن کر ٹھٹک گئی۔
’’تم پوری دنیا کے آگے رونا روگی؟‘‘
’’باجی باقی لوگ بھی تو کرتے ہیں۔‘‘ شکراں نے انگلی ٹھوڑی پر رکھ کہا۔
’’دوسرے لوگ جو کریں گے وہ تم بھی کروگی یہ لوگ بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں پوری دنیا کے سامنے اپنا ہی مذاق اڑاتے ہیں۔‘‘ نرمین اب اسے سمجھا رہی تھی۔ جسے خود مارننگ شو اچھے لگتے تھے۔
’’بس باجی ہم کیا ہماری اوقات کیا ادھر کام کرکے گھر جاؤ ادھر شوہر بھرا بیٹھا ہوتا ہے ہم جائیں تو کہاں جائیں؟‘‘ نرمین کو کوفت ہونے لگی کہ کام شروع کرنے کے بجائے اس کے دکھڑے کون سنے… کیا واقعی صبح کے شوز میں ڈرامے ہی ہوتے ہیں؟
’’اچھا اب آرام ہوگیا نا اب تھوڑا بہت کام پر بھی نظرِکرم کردو۔‘‘
’’خود تو باجی کمرے میں مزے سے لیٹی رہتی ہے ہائے ہماری قسمت…‘‘ شکراں بڑبڑاتی کام پر لگ گئی۔
…٭٭٭…
’’ہیلو جی جی میں ثمن بات کررہی ہوں اوہ اچھا کب سے مار رہا ہے وہ اپنی بیوی کو اچھا اچھا آپ اس کی کیا لگتی ہیں؟ اچھا اچھا آپ کے ہاں وہ کام کرتی ہیں دیکھیں آپ انہیں کسی دن یہاں لے آئیں ہم پہلے تو ان کی تفصیلات لیں گے پھر اس پر کام کریں گے… ہاں جی وہ کیا ہے نا ہم پورا سین بناتے ہیں جن کی کہانی کور کررہے ہوتے ہیں اس کو اپنے لفظوں میں لکھتے ہیں پھر جن کی کہانی ہوتی ہے انہیں بتاتے ہیں سمجھاتے ہیں کب کیسے کیا بولنا ہے کہاں رونا ہے وغیرہ وغیرہ… اچھا چلیں ٹھیک ہے آپ بتا دیجئے گا… اﷲ حافظ۔‘‘ نرمین نے اسی مارننگ شو میں کال ملائی تھی جس کے نتیجے میں اسی میزبان لڑکی نے اس کے سوالات کے جواب دیئے۔
’’رامش صحیح کہتے تھے یہ لوگ واقعی ڈرامے تو نہیں کرتے اللہ کی پناہ ویسے آزمانے میں حرج کیا ہے؟‘‘ نرمین خود ہی سوچتی اور پلان بنانے لگ گئی کیسے شکراں کو لے جائے گی اور کہانی بتائے گی ظالم شوہر کی۔
کچھ دن گزر جانے کے بعد اسے تاریخ مل جاتی ہے وہ شکراں کو چلنے کے لیے تیار کراتی ہے۔
’’باجی ہمیں وہاں کرنا کیا ہوگا؟‘‘
’’وہاں گانا گاؤگی تالیاں بجاؤگی۔‘‘ نرمین شکراں کے سوال پر تپ گئی۔
’’ظاہر ہے وہ تم سے سوال جواب کریں گے تمہارے بارے میں پوچھیں گے اور کیا؟ اب چپ چاپ چلو کوئی بات کی تو رستے میں ہی چھوڑ جاؤں گی۔‘‘ شکراں نے اپنی بتیسی دکھائی اور سر اثبات میں ہلایا۔
وہ لوگ اس ٹی وی چینل کے دفتر پر پہنچے تو پہلے ہی اتنا رش اور گہما گہمی لگی ہوئی تھی ثمن کا پوچھ کر اس کے کمرے کی طرف چلے‘ لیکن انہیں انتظار کرنے کو کہا گیا تھا۔
’’آپ لوگ یہاں بیٹھیں وہ ابھی آتی ہوں گی جب تک میں آپ کے لیے کچھ لے آؤں چائے یا کچھ ٹھنڈا؟‘‘ ایک لڑکی نے ان سے پوچھا… نرمین کو وہ لڑکی دیکھی دیکھی سی لگی… سوچنے لگی کہاں دیکھا ہے؟
’’جی آپ چائے لے آئیں ہمارے لیے ہم انتظار کرتے ہیں۔‘‘ نرمین کے بتانے پر وہ لڑکی چلی گئی پر نرمین سوچتی رہی اس نے کہاں دیکھا ہے اسے؟
’’السلام علیکم کیسے ہیں آپ لوگ؟‘‘ ثمن آگئی تھی اور بڑے تپاک سے ملی۔
’’ہم ٹھیک ہیں آپ بتائیں۔‘‘ نرمین نے جواب دیا اور ساتھ ہی چائے اور دیگر لوازمات بھی آگئے اور وہی لڑکی آئی۔
’’مجھے آپ دیکھی سی لگ رہی ہیں کہاں پر یاد نہیں آرہا۔‘‘ نرمین نے سوال کیا۔
’’سنو تم جاؤ اب۔‘‘ ثمن نے اس لڑکی کو جانے کا کہا۔
’’آپ اس لڑکی کو چھوڑیں اپنا مسئلہ بتائیں۔‘‘ ثمن نے نرمین کے ساتھ بیٹھی شکراں کی طرف اشارہ کیا۔
’’جی وہ میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ اس کا شوہر اسے…‘‘
’’اچھا اچھا ٹھیک ہے میں سمجھ گئی آگے کا کام آپ ہم پر چھوڑ دیں… ممکن ہو تو اسے دو‘ تین روز صبح چھڑوا دیا کریں تاکہ ہم اس سے اکیلے میں بات چیت کریں۔‘‘
’’چلیں ٹھیک ہے ویسے ابھی بھی آپ چاہیں تو اسے اکیلے لے جاسکتی ہیں اور کچھ پوچھنا ہو تو پوچھ سکتی ہیں۔‘‘ نرمین نے ثمن کی بات کا جواب دیا۔
’’چلیں ٹھیک ہے آپ انتظار کریں ٹی وی دیکھیں میں انہیں لے جاتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے شکراں تم جاؤ ان کے ساتھ۔‘‘ شکراں چپ چاپ اٹھی اور ثمن کے ساتھ چل پڑی۔
نرمین ٹی وی دیکھ کر وقت گزارنے لگی پھر وہی لڑکی اندر آگئی۔
’’ارے سنو ذرا۔‘‘ نرمین نے اسے پکارا۔
’’جی…‘‘
’’تمہیں کہاں دیکھا ہے‘ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ نرمین نے اب اسے ساتھ بٹھایا۔
’’باجی دیکھو کسی کو بتانا نہیں۔‘‘ وہ لڑکی ہاتھ جوڑ کے کہنے لگی۔
’’کیا مطلب کھل کے بولو۔‘‘ نرمین تشویش میں مبتلا ہوگئی۔
’’وہ باجی اصل میں‘ میں یہاں کام کرتی ہوں تو یہ ثمن میڈم ہیں انھوں نے کہا تھا کہ وہ مجھے ٹی وی پر لائیں گی اور اداکاری کروائیں گی۔‘‘
’’اچھا تو کروایا کیا؟‘‘ نرمین مزے سے اس کی بات سننے لگی۔
’’ہاں جی باجی صبح کے وقت جو آتا ہے نا جی اس میں ابھی کچھ دن پہلے ہی تو…‘‘
’’اچھا اچھا تم وہی ہو نا جس نے کہا تھا کہ میں بدل گئی ہوں کچھ ہوا تھا میرے ساتھ ایسا‘ یاد آگیا واقعی تم نے تو اچھا کام کیا تھا۔‘‘ نرمین نے اس کی بات کاٹ کر اپنی بات کی۔
’’جی باجی ویسے آپ کے ساتھ جو آئی ہے وہ بھی کام کرے گی یہاں کیا؟‘‘ اس لڑکی نے معصومیت میں پوچھا۔
’’ہاں نا تبھی تو لائی ہوں ثمن کو ضرورت تھی۔‘‘ نرمین نے بھی اس لڑکی کی طرح اپنی کام والی کو اداکاری کرنے والی کا بتایا۔
’’ہاں جی اور پیسے بھی ملتے ہیں۔‘‘ اس لڑکی نے تو ساری بات بتا دی اور بچا کیا؟
’’ارے تم یہاں کیا کررہی ہو جاؤ اپنا کام کرو۔‘‘ اچانک ثمن اور شکراں آگئے تو ثمن نے اس لڑکی کو جانے کا کہا۔
’’جی میڈم۔‘‘ وہ لڑکی چلی گئی لیکن نرمین کا دل ضرور خراب کرگئی۔
’’اچھا تو ہم بھی چلیں؟‘‘ نرمین وہاں سے جانا چاہ رہی تھی۔
’’جی جی بالکل اور یاد سے اسے تین دن بھجواتے رہیے گا جیسے ہی یہ تیار ہوجائے گی ہم اس کا شو کرادیںگے۔‘‘ ثمن نے ہنستے مسکراتے بات کی… دونوں نے ایک دوسرے سے اجازت لی اور نرمین شکراں کو لیے نکل گئی۔
…٭٭٭…
شکراں روز گھر آتی جلدی جلدی کام کرکے ثمن کے دفتر روانہ ہوجاتی… نرمین بھی پوچھتی نہیں کہ وہاں کیا ہوتا ہے اور نہ شکراں کچھ کہتی…
’’بیگم صاحبہ۔‘‘ رامش نے اچھے موڈ میں پکارا۔
’’جی۔‘‘ نرمین نے بے زاری سے جواب دیا۔
’’کیا بات ہے خیر تو ہے نا؟‘‘ رامش نے نرمین کے اس انداز پر چونک کے پوچھا۔
’’کچھ نہیں بس ایسے ہی شاید سر میں درد ہورہا ہے۔‘‘ نرمین کو کچھ سوجھا نہیں تو سر درد کا کہہ گئی۔
’’اس نالائق سر درد کی تو… لیکن یہ تو بتاؤ تمہیں یقین ہے کہ شک کہ سر درد ہے؟‘‘ رامش پھر چڑانے والے موڈ میں آگیا۔
’’اف آپ بھی نا ادھر سر درد سے پھٹا جارہا ہے اور آپ ہیں کے بس۔‘‘ نرمین نے چڑ کر جواب دیا۔
رامش نے قہقہ لگایا اور شرارت سے اس کی ناک کو چھوا۔
’’نہ کریں رامش۔‘‘ نرمین کا موڈ آف ہوگیا۔
’’معاف کردیں بیگم صاحبہ‘ چلیں آئس کریم کھانے چلتے ہیں موڈ بحال ہوجائے گا۔‘‘ رامش کو پتا تھا نرمین کا موڈ آئس کریم کا سن کر ہی کھل جائے گا۔
’’اچھا اب اتنا کہہ ہی رہے ہیں تو ٹھیک ہے۔‘‘ نرمین نے بھنویں اچکا کے کہا۔
’’ہائے ابھی تو ایک ہی دفعہ کہا تو یہ ادا‘ یہ ناز یہ انداز آپ کا دھیرے دھیرے پیار کا…‘‘ رامش شوخ ہورہا تھا نرمین نے پاس رکھا کشن دے مارا اور تیار ہونے چلی گئی۔
اگلے دن شکراں کا شو تھا… ثمن نے نرمین کو بھی بلایا تھا لیکن اس کا سین بعد میں آنا تھا وہ آرام سے بھی جاتی تو مسئلہ نہ تھا۔
’’آج کہیں جانا ہے کیا؟‘‘ رامش نے اسے تیار ہوتے دیکھ کر پوچھا۔
’’جی وہ دوست سے ملنے جاؤں گی۔‘‘ نرمین نے بہانہ گھڑا۔
’’اچھا ٹھیک ہے دھیان سے جانا۔‘‘ رامش نے ہدایت دی اور دفتر کے لیے روانہ ہوا۔
نرمین بھی ٹی وی اسٹیشن پہنچ گئی۔
’’آج جو ہماری مہمان ہے اس کے لیے مجھے بے انتہا افسوس ہے… اس کے ساتھ سب نے ظلم کیا… کب کیسے ہوا یہ ظلم‘ آئیں ہم ان سے ہی پوچھتے ہیں۔‘‘ شکراں کی تین دن کی پریکٹس تھی ذرا سا بھی نہ گھبرائی۔
’’کیا نام ہے آپ کا۔‘‘ ثمن نے پوچھا۔
’’جمیلہ۔‘‘
’’ہیں اس کا نام جمیلہ کب سے ہوگیا؟‘‘ نرمین دور کہیں بیٹھی ہوئی تھی۔
’’جمیلہ مجھے بتاؤ کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ؟‘‘ ثمن کی آواز میں درد تھا نرمین اب شکراں کے جواب کی منتظر تھی۔
’’میں کیا بتاؤں بی بی جی ساس الگ مجھے مارتی رات میں جب میرا مرد آتا ہے وہ بھی مارتا ہے نشے کی حالت میں۔‘‘ شکراں نے یہ کہا اور رونا شروع کردیا۔
’’ہیں اس کی ساس بھی مارتی ہے؟ اس نے تو کبھی نہیں بتایا۔‘‘ نرمین نے دل میں سوچا۔
’’تو تم ان کا یہ ظلم کیوں سہتی ہو؟‘‘ ثمن نے سوال کیا۔
’’کیا بتاؤں بی بی جی… میں کماتی ہوں اپنے بچوں کے لیے میاں کوئی خرچ نہیں دیتا۔‘‘ شکراں نے ڈوپٹے سے آنسو پونچھے۔
’’ہیں اس کی شادی کو تو دو تین ماہ ہوئے ہیں بچے کہاں سے آگئے؟‘‘ نرمین تماشا دیکھ رہی تھی۔
’’تم نے بتایا تھا جہاں تم کام کرتی ہو وہ بھی تم پر ظلم کرتے ہیں؟‘‘ ثمن کے اس سوال نے تو نرمین کو بوکھلا کے رکھ دیا اس نے کب ظلم کیا؟
’’بی بی جی وہ بھی میرا خیال نہیں رکھتیں بس کام کرالو خدمتیں لے لو پر تنخواہ بہت دن بعد دیتی ہیں کبھی کوئی غلطی ہوجائے تھپڑ مارنے سے بھی نہیں چوکتی۔‘‘
’’استغفراللہ! میں نے کب ایسا کیا اس کے ساتھ اور یہ اتنا جھوٹ کیوں بول رہی ہے؟‘‘ نرمین کو اب بھی یقین نہیں آرہا تھااور اس کا بس نہیں چل رہا تھا واقعی اب تھپڑ لگا ہی دے۔
’’ایک کالر ہیں ہمارے ساتھ بات کرتے ہیں ان سے جی السلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السلام۔‘‘
’’کون ہیں ہمارے ساتھ؟‘‘
’’میں جمیلہ کی جاننے والی ہوں بلکہ اس کی مالکن کی پڑوسن ہوں۔‘‘
’’جی جی کیا کہیں گی آپ…؟‘‘
’’اس بے چاری پر واقعی بہت ظلم ہوتا ہے نرمین رامش نام ہے پڑوسن کا۔ اسے سمجھاتی بھی ہوں لیکن آج اس بے چاری کو یہاں دیکھ کے افسوس ہوا۔‘‘ نرمین بوجھل قدموں سے اٹھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے سب جھوٹ بول رہے تھے اب تو اس کا نام بھی آگیا تھا گو کہ ضروری نہیں تھا کہ وہی نرمین ہو لیکن جاننے والے تو جانتے تھے کہ یہ اسی کے ہاں کام کرتی ہے۔
اس کا دل بری طرح مجروح ہوا کہاں وہ یہ دیکھنا چاہتی تھی واقعی یہ سب ڈھونگ رچاتے ہیں کہاں اس کے ساتھ ہی دھوکہ ہوگیا…
شکراں کی تو اس نے اگلے دن کلاس لگائی اسے کام سے ہی نکال دیا اور اس مارننگ شو کی لت سے خود کو آزاد کیا رامش وہ تو اب سکون میں تھا صبح صبح وہ اسے اب بھی چھیڑتا ہے مارننگ شو نہ دیکھنے پر… پر جانتا نہیں کہ نرمین نے دیکھنا کیونکر چھوڑا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close