Aanchal Apr 19

یادگار لمحے

جویریہ سالک

یادگاروں کی تعمیر

ترجمہ:’’ کیا تم لوگ تعمیر کرتے ہو ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار، عبث کام کرتے ہو۔‘‘اور تم بناتے ہو ایسے شاندار محل کہ شاید تمہیں ہمیشہ (ان میں) رہنا ہے‘‘ (سورۃ الشعراء۔ آیت نمبر ۱۲۹۔۱۲۸)
لوگ بغیر کسی مقصد اور افادیت کے جگہ جگہ بڑی بڑی عمارتیں محض اپنی یادگاروں کے طور پر تعمیر کردیتے ہیں۔ یہ فضول ریت‘ ہر تمدن اور ہر قوم میں رہی ہے۔ ہر دور کے امراء اور حکمران زرِ کثیر خرچ کرکے بڑی بڑی عمارتیں محض اس لیے تعمیر کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا میں ان کی یادگاروں کے طور پر قائم رہیں۔ اہرام مصر اور تاج محل ان یادگاروں کی مثالیں ہیں جن پر اپنے اپنے زمانے میں کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر انسانیت کے لیے ان کی افادیت کچھ بھی نہیں ہے۔ قوم عاد کے امراء بھی ایسی یادگاریں بنانے کے شوقین تھے۔
ایسی یادگاریں اور ایسے محلات تو بعد میں قائم رہتے ہیں مگر انہیں بنانے والے باقی نہیں رہتے۔ جیسے غرناطہ اور قرطبہ کے محلات تو اب بھی موجود ہیں مگر ان کے مکینوں کا آج کہیں نام و نشان نہیں۔ بہر حال ان محلات کو تعمیر کروانے والوں نے تو انہیں ایسے ہی بنایا تھا جیسے انہیں ہمیشہ ان میں رہنا ہے۔

ذرہ برابر نیکی

سیدنا ابوہرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
ترجمہ: ’’راستے پر پڑی ایک ٹہنی کے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا تو اس نے کہا۔ قسم بخدا! میں اسے مسلمانوں سے دور کردوں گا تاکہ یہ انہیں نقصان نہ پہنچاسکے۔ اس عمل سے وہ جنت میں داخل کردیا گیا۔‘‘
کسی یتیم کے آنسو پونچھنا، کسی غریب کو کھانا کھلانا، کسی ضرورت مند کے ساتھ تعاون کرنا، مسلمان سے مسکراتے چہرے سے ملنا اور بھی اس قسم کے بے شمار کام ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ایسے نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں، چاہے یہ کام ہماری نگاہ میں معمولی ہوں۔

اقوال زریں

-1 لوگوں سے یاد نہ کرنے کا شکوہ مت کرو کیونکہ جو انسان اپنے رب کو بھول سکتا ہے، وہ سب کو بھول سکتا ہے۔
-2 جو شخص تم پر غصہ بھی کرے مگر پھر بھی تعلق نہ ختم کرے، وہ برے وقت میں تمہارا سچا ساتھی ہے۔
-3 زندگی کی خوب صورتی یہ نہیںکہ آپ کتنے خوش ہیں، بلکہ اصل خوب صورتی یہ ہے کہ دوسرے آپ سے کتنا خوش ہیں۔
-4 مجھے عبادت میں دو چیزیں بہت پسند ہیں، (1) سردیوں میں فجر کی نماز (2) گرم موسم میں رمضان کے روزے۔
-5 ہمیشہ سچ بولو تاکہ تمہیں قسم کھانے کی ضرورت نہ پڑے۔
-6 ذلت اٹھانے سے بہتر ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ۔
-7 کسی شخص کو تم سچے دل سے چاہو اور وہ تمہیں ٹھکرا دے تو یہ اس کی بدنصیبی ہے، تمہاری نہیں۔
-8 اگر تم پانی میں ڈوب رہے ہو اور تمہیں یاد آجائے کہ نماز کا وقت ہے تو نماز کی نیت کرلو۔

(سحر تبسم سحری… مغل پورہ)

عدل و احسان

خلیفہ منصور عباسی کے سامنے دو مجرم پیش کیے گئے۔ دونوںکا ایک ہی جرم تھا، ان میں سے ایک کو سزائے موت سنائی گئی تو دوسرا بول اُٹھا۔
’’اے امیرالمؤمنین! اللہ نے عدل و احسان دونوں کا حکم دیا ہے۔ آپ نے میرے ساتھی کے ساتھ عدل کیا، اب میرے ساتھ احسان فرمادیجیے۔‘‘
خلیفہ اس بات پر جھوم اُٹھا اور دونوں کو معاف کردیا۔

(ابیہا رضوان… کراچی)

تالیاں

کامریڈ اسٹالن کا زمانہ تھا کہ کمیونسٹ پارٹی کی ایک کانفرنس ماسکو میں منعقد ہوئی۔ اسٹالن بھی اس میں شریک تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر تمام لوگ اپنی نشستوں سے اٹھے اور زوردار تالیاں بجاکر اسٹالن کو خراجِ تحسین پیش کرنے لگے۔ مسلسل دس منٹ تک تالیاں بجتی رہیں، کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ تالیاں روکنے میں پہل کرے۔ بالآخر کاغذ بنانے والی ایک فیکٹری کے مالک کو خیال آیا کہ بہت ہوگیا، اب بیٹھ جانا چاہیے۔ اس کی دیکھا دیکھی تالیوں کا زور تھما اور باقی لوگ بھی بیٹھ گئے۔
کانفرنس کے بعد اسی شام فیکٹری کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا اور اسے کسی جعلی مقدمے میں دس سال قید کی سزا دے کر جیل بھیج دیا گیا۔ تفتیش کی دوران اس غریب سے نہ صرف اعترافِ جرم کروایا گیا بلکہ ایک کاغذ پر دستخط بھی لیے گئے‘ جس میں اس نے اپنا ’’گناہ‘‘ قبول کیا۔ اس سارے عمل کے بعد تفتیشی افسر نے اس سے ایک بات کہی۔
’’کسی کو بھی تالیاں ختم کرنے میں پہل نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
(یہ واقعہ نوبل انعام یافتہ لکھاری الیگزینڈر سولینستین نے اپنی تاریخی کتاب The Gulag Archipolago میں لکھا ہے۔)

(ثناء جویریہ… کراچی)

واصف علی واصف

٭ اس اندھے کا کیا علاج‘ جو قدم قدم پر ٹھوکر کھاتا ہے اور خود کو اندھا بھی نہیں مانتا۔
٭ عزت اور ذلت کوشش کے درجے نہیں‘ نصیب کے مقامات ہیں۔
٭ ہمارے پیشے‘ ہمارے مرتبے‘ ہمارے مال‘ ہمارے اثاثے‘ ہماری فطرت نہیں بدل سکتے۔ کمینہ‘ کمینہ ہی ہوگا‘ خواہ کہیں بھی فائز ہو۔ سخی‘ سخی ہوا‘ خواہ وہ غریب ہی ہو۔
٭ یادداشت میں محفوظ رہنے والا علم عارضی ہے۔ یادداشت خود دیرپا نہیں‘ سب سے اچھا علم وہ ہے جو دل میں اُتر کر عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔
٭ زندگی سے محبت موت کا خوف پیدا کرتی ہے۔ مقصد کی محبت موت کے خوف سے آزاد کردیتی ہے۔

(تبسم بشیر حسین… ڈنگہ)

National Language

ڈیئر فرینڈز‘ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اردو ہماری نیشنل لینگویج ہے اور اس کی ریسپیکٹ کرنا ہمارا فرض ہے۔ مطلب ہم میں سے زیادہ ترپیپل اردو میں انگلش ورڈ یوز کرتے ہیں جوکہ ایک بیڈ ویکٹر ہے۔ بے شک آپ انگلش لرن کریں لیکن پلیز اردو میں انگلش کے ورڈ یوز نہ کریں۔ ہمیں چاہیے کہ اس میسج کو عام کریں اور اپنی نیشنل لینگویج کا بیڑا غرق نہ کریں۔
نفرت مجھے ان ینگسٹرز سے ہے
جو اردو میں انگلش ایڈ کرتے ہیں

(عابدہ مقبول چوہدری)

بھول

جب انسان پر اچھا وقت آتا ہے تو وہ بھولنے والی چیزوں میں سب سے پہلے اپنی اوقات بھولتا ہے۔

(سدرا فجر… ہری پور جہلم)

آپ بھی سنیں…

چوہوں کی فوج تلواریں لے کر بھا گ رہی تھی۔ شیر نے پوچھا: ’’کیا ہوا‘ مجھے تو بتاؤ؟‘‘
چوہا بولا: ’’ہاتھی کی بیٹی کو کسی نے آئی لو یو کہا اور نام ہمارا آیا ہے۔ خدا کی قسم لاشیں بچھادیں گے لاشیں۔‘‘

(گل مینا خان اینڈ حسینہ ایچ ایس… مانسہرہ)

تربیت

ہمارے معاشرے میں بچوں کی بجائے والدین کی تربیت ہونی چاہیے کیونکہ تقریباً آدھے سے زیادہ والدین نہیں جانتے کہ بچوں کی تربیت کس طرح کی جانی چاہیے۔
سکون
ہمیشہ خوش رہا کرو کیونکہ پریشان ہونے سے کل کی مشکل دُور نہیں ہوتی‘ بلکہ آج کا سکون بھی چلا جاتا ہے۔
عادی
ہم لوگ مصنوعی زندگی کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اگر کبھی کوئی چیز خالص ملے تو ہضم نہیں ہوتی ‘چاہے وہ خالص دودھ ہو‘ گھی ہو یا محبت!
کمائی
یاد رکھیے‘ جائز کمائی انسان کھاتا ہے لیکن ناجائز کمائی انسان کو کھا جاتی ہے۔
میٹھے الفاظ
لوگوں سے ہمیشہ میٹھے الفاظ بولا کرو تاکہ کبھی اپنے الفاظ واپس لینا پڑیں تو کڑوے نہ لگیں۔
بلند
جو اللہ کے لیے جھکتا ہے‘ اللہ اسے بلند کرتا ہے۔ؔ

(مدیحہ نورین مہک… گجرات)

بچھڑے ساتھی

مسکراتے تھے پھول جہاں
وہاں اب خزاں ہے
یادوں کا دُھواں ہے
پوچھتے ہیں روک روک کر
سُونے راستے
جو ہم قدم تھا
وہ ہمسفر کہاں ہے؟

(فصیحہ آصف خان… ملتان)

موت کیا ہے؟

میں نے بارہا اس موضوع پر غور کیا کہ ’’موت‘‘ کیا ہے؟ اس سے زندگی کا کیا رشتہ ہے؟ ایک دفعہ میں نے ایک سمندری جہاز دیکھا‘ جب وہ ساحل سے دُور ہوا اور نظروں سے اوجھل ہوگیا تو لوگوں نے کہا کہ ’’چلا گیا۔‘‘ میں نے سوچا دُور ایک بندرگاہ ہوگی‘ وہاں یہی جہاز دیکھ کر لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ ’’آگیا‘‘ شاید اسی کا نام موت ہے‘ ایک پرانی زندگی کا خاتمہ اور نئی زندگی کی ابتدا۔
(خلیل جبران)

(طیبہ خاور سلطان… وزیر آباد)

سنہری باتیں

٭خوش رہنے کا سب سے اچھا اصول یہ بھی ہے کہ جہاں لگے کہ آپ کی جگہ نہیں‘ وہاں سے خاموشی سے دور ہوجائو۔
٭جہاں ہر بار اپنی باتوں کی صفائی دینی پڑجائے‘ وہ رشتے کبھی گہرے نہیں ہوتے۔
٭ اے اللہ مجھے تیرے کسی بندے سے کوئی شکایت نہیں‘ بس تو مجھے اتنا اچھا بنادے کہ تیرے کسی بندے کو بھی مجھ سے کوئی شکایت نہ رہے۔
٭ اے میرے خدا‘ میرے وہ تمام گناہ معاف فرمادے جو میری دعاؤں کو قبول نہیں ہونے دیتے۔
٭ انسان کو بولنا سیکھنے میں دو سال لگتے ہیں لیکن کون سا لفظ کہاں بولنا ہے‘ یہ سیکھنے میں پوری زندگی گزر جاتی ہے۔
٭حساس لوگوں کو حساسیت اور سنگ دلوں کو ان کا غرور مار دیتا ہے۔

(نجم انجم اعوان… کراچی)

مرد

ایک ہاتھی نے رومینٹک موڈ میں ایک چیونٹی کو چھیڑا۔ چیونٹی غصے میں ہاتھی کی بیوی کے پاس گئی اور بولی۔ ’’دیکھو بہن‘ اپنے آوارہ شوہر کو سمجھاؤ ورنہ مرد ہمارے بھی ہیں اور باہر تم بھی نکلتی ہو۔‘‘

(رحمہ ثانی… کراچی)

محبت

محبت ہم بھی کرلیں گے
یہ غلطی تم بھی کرلینا
چلو تم سے ہی کرلیں گے
کسی سے تم بھی کرلینا
تمہیں ہم دوست کہتے ہیں
تو اچھا مشورہ دیں گے
محبت تم نے کرنی ہے
سنو! ہم سے ہی کرلینا

(صبا زرگر‘ ذکاء زرگر… جوڑہ)

آئو

آئو یہ زمین کھودیں
اور اس میں اپنے دل بو دیں
کریں سیراب اس کو آرزوئوں کے سپنے سے
کہ اس بے رنگ جینے سے
نہ میں خوش ہوں
نہ تم خوش ہو
نہ ہم خوش ہیں

(انتخاب: عثمان عبد اللہ)

سوال

ایک دن سمندر نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ تم اپنی ماں کا ساتھ کب تک چاہتی ہو؟
اس سوال پر میں نے سمندر میں ایک آنسو گرادیا اور کہا کہ جب تک تم اسے ڈھونڈ نہ لو۔

(اقصیٰ حفیظ… چکوال)

سالگرہ مبارک

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close