Aanchal Apr 19

آئینِ وفا (حصہ ۱)

شبانہ شوکت

مجھے عزیزانِ من محبت کا کوئی تجربہ نہیں ہے
میں اس سفر میں نیا نیا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا
مجھے کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے تابش
میں عادتاً سب سے کہہ رہا ہوں دعاؤں میں یاد رکھنا

انشراح نے لابی میں پہنچ کر سانس بحال کی۔ آج وہ ٹھیک ٹھاک لیٹ ہوگئی تھی۔ اپنے کیبن میں داخل ہوتے ہوئے اس نے چور نظروں سے سر محتشم کے آفس کے گلاس ڈور پر نظر ڈالی۔ وہ موجود تھے‘ اس کا آدھا خون خشک ہوگیا۔ اب آئی شامت‘ وہ تیزی سے اپنی میز تک آئی‘ ابھی ٹھیک سے بیٹھی بھی نہیں تھی کہ انٹرکام کا بزر گونجا۔ ’اف‘ اس نے جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے ریسیور کان سے لگایا۔
’’مس انشراح آپ اندر تشریف لائیں۔‘‘ یقینا گوشمالی کا ارادہ تھا۔ انشراح کچھ پریشانی سے اندر آئی۔
’’السلام علیکم سر۔‘‘
’’وعلیکم السلام‘ تشریف رکھیے۔‘‘
’’جی سر؟‘‘
’’اتنے لیٹ آنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟‘‘
’’جی سر‘ میں گائوں گئی ہوئی تھی اپنے گھر‘ کل دیر سے واپس آئی تو صبح اٹھنے میں دیر ہوگئی۔‘‘ انشراح کے لہجے میں شرمندگی تھی۔
’’یہ پرسنل پرابلمز ہیں‘ انہیں آفیشل نہیں بننا چاہیے۔‘‘ محتشم کے لہجے میں سختی اور تنبیہہ بھی تھی۔ وہ خفیف ہوئی۔
’’آئندہ ایسا نہیں ہوگا سر۔‘‘
’’اوکے‘ یہ ڈاکومنٹس‘ میں نے آپ کو میل کردیے ہیں ان کے پرنٹس نکال کر مجھے لادیں‘ فائل بناکر۔‘‘
’’جی سر۔‘‘ وہ اٹھ کر اپنی سیٹ پر آئی‘ سارے ڈاکومنٹس کے پرنٹس نکال کر ایک فائل میں لگائے اور اندر آگئی۔ اس نے بغور ساری فائل دیکھی اور مطمئن ہوکر سر ہلا دیا۔
’’اوکے۔‘‘ وہ سکون کا سانس لیتی ہوئی باہر اپنے آفس میں آگئی۔ یہ بہت بڑی کنسلٹنگ فرم تھی۔ شہر کے بڑے فلائی اووز اور بلڈنگز کے ٹھیکے ان ہی کے طفیل پایہ تکمیل کو پہنچے تھے‘ اس لیے یہاں ملازمت کرنا آسان نہیں تھا۔ ہر دم متحرک رہنا پڑتا تھا۔
محتشم کے والد احتشام تبریز اس فرم کے مالک تھے اور وہ اسی بلڈنگ کے دوسرے آفس میں ہوتے تھے۔ دونوں باپ بیٹا بہت محنتی اور ذہین انجینئر تھے اور ملازمین بھی ایسے ہی چاہتے تھے۔ یہ نہیں کہ کوئی ست اور کام چور ہو اور ان کی فرم میں بھی موجود ہو‘ سو سارے ورکرز بہت پھرتیلے تھے۔
خ…ز…خ
عانیہ کی دوست کی منگی تھی‘ تو عانیہ کو تیاری کے لیے ظاہر ہے بہت وقت درکار تھا۔ وہ کافی دیر سے تیار ہونے کے لیے پارلر گئی ہوئی تھی۔ جب تیار ہوکر آئی تو بلاشبہ بے انتہا حسین لگ رہی تھی۔ آتے ہی اس نے انشراح سے چلنے کے لیے کہا‘ وہ کب سے تیار بیٹھی تھی‘ اس کی تیاری ہی کیا تھی‘ ایک شیفون کا برانڈڈ سوٹ‘ میچنگ سینڈل‘ جیولری اور ہلکا سا میک اپ‘ سوٹ اور سینڈل عانیہ نے ہی دلوائے تھے جبکہ جیولری اسے شازیہ نے تحفے میں دی تھی۔ یعنی اس وقت جو کچھ بھی اس نے سر سے پائوں تک پہنا ہوا تھا وہ تحائف کی شکل میں اسے ملا تھا۔ خود سے کچھ نہیں خریدا تھا۔ اسے خود ہی ہنسی آرہی تھی۔
’’کیسی لگ رہی ہوں میں؟‘‘ عانیہ نے ناز سے اٹھلا کر پوچھا تو انشراح محبت سے مسکرائی۔
’’بہت حسین۔‘‘
’’چلیں پھر؟‘‘ اس کے پوچھنے پر وہ اٹھ گئی۔
تقریب بڑے پیمانے پر تھی اور زبردست بھی‘ عانیہ تو وہاں گھل مل گئی‘ انشراح ایک کونے میں رکھی میز کی طرف آگئی۔ ہینڈ بیگ سے فون نکال کر دیکھا تو سکندر کی تین مسڈ کالز تھیں۔
’’اوہ…‘‘ اس نے فوراً سکندر کا نمبر ملایا‘ اسے اپنی مصروفیت کا بتایا۔
’’ہاں معلوم ہے مجھے‘ خوب مزے کرتی ہو عانیہ بی بی کے ساتھ‘ بہرحال مجھے یہ بتانا تھا کہ اتوار کی شام شازیہ کی منگنی ہے‘ تم بھی آکر شریک ہوجائو‘ بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘
’’اتوار کی شام؟‘‘ اس کی آواز بے ساختہ اونچی ہوئی۔ ’’ہفتے کی شام رکھتے تو اگلے دن اتوار کو میں واپس بھی آجاتی‘ اب اگر اتوار کو آئوں تو واپسی پیر کو‘ مطلب چھٹی اور چھٹی کا تو سوال ہی پیدا نہیںہوتا‘ کام ہی اتنا…‘‘
’’اتنی تقریر کیوں کررہی ہو‘ صاف منع کردو۔‘‘ سکندر نے ترشی سے بات کاٹی۔
’’ایک تو یہ ہر بات میں لڑکیوں کی طرح ناراض ہونا چھوڑ دو۔ اتنا تو سوچتے کہ کس دن میں سہولت سے آجا سکتی ہوں تو وہ دن تقریب کے لیے رکھ لیتے۔‘‘ انشراح نے رسان سے کہا۔
’’ہاں جی بالکل‘ اماں‘ ابا مجھ سے پوچھ کر ہی تو ہر کام کرتے ہیں۔‘‘ وہ چڑ کر بولا۔
’’اب تم ہی بتائو‘ میں کیا کروں؟‘‘
’’جو تم کرنا چاہو‘ تمہاری مرضی۔‘‘
’’بس اب ناراض ہوجائو‘ ہمیشہ یہی کرتے ہو‘ میرے مسائل تو کوئی سمجھتا ہی نہیں‘ سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔‘‘ وہ بھی جھلائی۔
’’اچھا اللہ حافظ۔‘‘ سکندر نے فون بند کردیا‘ مطلب واقعی ناراض ہوگیا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش فون کان سے لگائے بیٹھی رہی پھر عانیہ کے پکارنے پر چونکی‘ وہ اس کے پاس کھڑی تھی۔
’’آئو نتاشہ سے ملوائوں۔‘‘ انشراح اٹھ کر اس کے ساتھ گئی اور کچھ ہی دیر میں ہنگامے‘ میوزک اور سب کی کھلکھلاہٹوں میں دھیان بٹ گیا اور دل پر دھرا بوجھ بھی کم ہوگیا تھا۔
خ…ز…خ
انشراح کا تعلق چھوٹے سے گائوں سے تھا‘ جہاں اماں‘ ابا اور اس کے دو بھائی حیدر اور ظفر تھے۔ سکندر اس کے بڑے چاچا کا بیٹا تھا۔ وہ بھی تین تھے۔ ایک سکندر اور دو بہنیں‘ نازیہ اور شازیہ۔ بچپن سے سکندر اور انشراح کی بات بڑوں کے درمیان طے تھی اور گائوں والوں کی مخصوص عادت کے مطابق کھسر پھسر کے ذریعے سکندر اور انشراح کے علم میں بھی آچکی تھی۔ انشراح کو شروع سے پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ شاہ جی (عانیہ کے والد) اپنی فیملی کے ساتھ گائوں آیا کرتے‘ عانیہ اتنی خوب صورت تھی اور پھر خوب صورت ملبوسات میں انگریزی نظمیں پڑھتی اتنی پیاری لگتی کہ انشراح کا دل چاہتا وہ فوراً ویسی بن جائے۔ عانیہ نے اس کی دلچسپی دیکھ کر اسے اپنی بہت سی کتابیں گفٹ کردیں۔ وہ انشراح سے اتنی محبت کرتی تھی کہ جب تک گائوں میں ہوتی‘ اس کے ساتھ ساتھ رہتی۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہورہی تھیں ویسے ویسے یہ دوستی بھی بڑھ رہی تھی۔ انشراح میٹرک میں تھی‘ جب عانیہ نے اس سے پکا وعدہ لیا کہ وہ آگے ضرور پڑھے گی‘ انشراح کو اس کی کوئی امید نہیں تھی لیکن وہ عانیہ شاہ تھی‘ خادم حسین شاہ کی بیٹی‘ میٹرک کا زرلٹ آتے ہی شاہ جی اور بی بی جی سمیت انشراح کے گھر آپہنچی۔
وہ غریب تو انہیں دیکھ کر ایسا بوکھلائے کہ شاہ جی‘ بیوی‘ بچوں سمیت ان کے گھر آئے ہیں۔ کہاں بٹھائیں اور کیا کھلائیں‘ بہرحال اپنی طرف سے ایک بہترین طعام کا اہتمام کیا اور ان کی تواضع کی‘ کھانے کے بعد شاہ جی نے ان سے اپنا مدعا بیان کیا کہ وہ انشراح کو ساتھ لے جانے کے لیے آئے ہیں کہ وہ عانیہ کے ساتھ داخلہ لے سکے۔ اباجی کی بوکھلاہٹ قابل دید تھی‘ بھلا ان کے ہاں پڑھنے پڑھانے کا رواج کہاں؟ اور شاہ جی کے گھر انشراح کا قیام‘ برادری کا منہ کون بند کرتا‘ لیکن شاہ جی کے حکم سے سرتابی کی مجال بھی نہیں تھی‘ پھر ہزاروں اندیشوں اور وسوسوں کے ساتھ اسے ان کے ساتھ رخصت کردیا گیا تھا۔
وہاں آتے ہی عانیہ نے اس کا داخلہ اکیڈمی میں کروا دیا کہ جب تک وہ لوگ کالج میں جائیں اس سے پہلے انشراح کی انگلش بہتر ہوجائے‘ اس کے لیے بہترین ملبوسات تیار کروائے‘ اسے گھمانے پھرانے لے گئی۔ انشراح کی تو زندگی ہی بدل گئی تھی‘ ایک ماہ بعد گائوں گئی تو پہچانی نہیں جارہی تھی۔ وہ جب جب گائوں جاتی‘ حیدر اور ظفر کو بٹھا کر سمجھاتی کہ تعلیم کتنی ضروری ہے اور اچھی تعلیم سے ملازمت بھی کتنی بہترین ملتی ہے۔ شہر میں لوگ کیسے مزے سے رہتے ہیں اور کتنا روپیہ خرچ کرتے ہیں‘ جو انہوں نے اچھی نوکری سے کمایا ہوتا ہے۔ وہ دونوں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کی باتیں سنتے۔
شہری زندگی کی اپنی خوب صورتی تھی لیکن اسے اپنا گائوں بہت یاد آتا تھا۔ صبح صبح چڑیوں کی چہچہاہٹ‘ اماں کی مدھانی کی گھرر گھرر‘ لہلہاتے کھیت اور سکھیاں سب بہت یاد آتے۔ دل تو لگتے لگتے ہی لگتا‘ پھر سال پر سال گزرتے رہے‘ اس نے ماسٹرز کرکے اس فرم میں جاب کرلی تھی۔ ساری تنخواہ وہ ابا کو بھجوا دیتی تھی کہ حیدر اور ظفر کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے۔ چاچا چاچی کئی بار شادی کے لیے کہہ چکے تھے لیکن وہ سکندر کو کسی نہ کسی طرح منا لیتی کہ کچھ عرصہ اور بس حیدر کچھ بن جائے اور اب شازیہ‘ سکندر کی چھوٹی بہن کی منگنی ہورہی تھی کہ جس میں جانا انتہائی ضروری تھا۔ وہ ہمت کرکے محتشم کے آفس چلی آئی۔
’’سر مجھے ایک دن کی رخصت چاہیے۔‘‘ محتشم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’کس لیے؟‘‘
’’وہ سر کزن کی انگیجمنٹ ہے‘ وہاں جانا ہے۔‘‘
’’یہ اتنا ضروری فنکشن تو نہیں‘ کام کا برڈن ہے‘ اس لیے آپ اسے اسکپ کردیں گی تو بہتر رہے گا۔‘‘ انشراح چپ ہوگئی۔ محتشم کے لیے یقینا یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اس کے لیے مسئلہ بن سکتا تھا لیکن وہ کیا کرسکتی تھی۔
’’آپ پریشان ہوگئی ہیں؟‘‘ بڑی تیز نظر تھی‘ ایک لمحے میں اس کے تاثرات بھانپ لیے تھے۔
’’وہ سر‘ فیملی فنکشن ہے‘ اسکپ کرنے سے ناراضی کا ڈر ہے۔‘‘ اس نے انگلی اور انگوٹھے سے کان کی لو مسلی۔
’’کس کی ناراضی کا ڈر؟‘‘ برجستہ سوال‘ وہ سٹپٹا گئی۔
’’کزن کی ناراضی اور چچا‘ چچی کی ناراضی۔‘‘
’’کزن… ہی اور شی۔‘‘ اس سوال نے تو انشراح کے چودہ طبق روشن کردیے۔
’’جی سر‘ میری چچا کی بیٹی۔‘‘
’’آپ کی پریشانی سے تو لگتا ہے کہ کزن کوئی بہت خاص ہستی ہے‘ جس کی ناراضی آپ سے برداشت نہیں۔ اینی وے آپ کرلیں چھٹی لیکن آئندہ کے لیے احتیاط کیجیے گا۔‘‘ وہ ہلکا سا مسکرایا تو انشراح حیرت کے سمندر میں غوطے کھا نے لگی۔
آج اتنی باتیں بھی کرلیں اور خلاف توقع چھٹی بھی دے دی ورنہ وہ بڑی بے دلی سے چھٹی طلب کرنے آئی تھی کہ اجازت تو ملے گی نہیں۔ آفس سے آتے ہی وہ عانیہ کے ساتھ شازیہ کے لیے گفٹ لینے چلی گئی‘ واپسی پر سیدھی گائوں روانہ ہوگئی جب وہاں پہنچی تو تقریباً رات کے دس بج رہے تھے۔
’’انشراح…!‘‘ چاچی برآمدے سے صحن میں ہی تھیں‘ سامنے سے آتی انشراح کو دیکھ کر جگ ان کے ہاتھ سے گر گیا۔
’’شازیہ‘ نازیہ‘ سکندر باہر آئو‘ دیکھو کون آیا ہے۔‘‘ انشراح بیگ وہیں رکھ کر ان سے لپٹ گئی۔ اندر سے وہ تینوں نکل آئے‘ خوشی سے کھلتے چہروں کے ساتھ‘ وہ مسکراتی ہوئی ان سے ملنے لگی‘ وہ شاید اس کے آنے سے مایوس ہوچکے تھے۔ اس لیے اس کی آمد سب کے لیے ایک سرپرائز تھی۔
’’تم نے تو منع کردیا تھا کہ چھٹی نہیں ملے گی۔‘‘ سکندر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’بس کیا کروں‘ مجبوراً آئی ہوں۔‘‘ اسے شرارت سوجھی۔
’’کس نے مجبور کیا تمہیں؟‘‘ حسب توقع وہ بگڑا۔
’’شازیہ کی محبت نے۔‘‘ اس کے برجستہ جواب نے ہر طرف ہنسی بکھیر دی۔ سکندر بھی اپنی مسکراہٹ روک نہیں سکا۔ وہ سب کے ساتھ وہیں بیٹھ گئی۔ خوب رونق لگی‘ محفل جمی‘ اس نے شازیہ کے گفٹس اس کے حوالے کیے اور کافی دیر بعد گھر لوٹ گئی۔
خ…ز…خ
’’السلام علیکم سر۔‘‘ محتشم کے اندر داخل ہوتے ہی انشراح نے سلام کیا تو وہ رک گیا۔
’’وعلیکم السلام‘ تو آگئیں آپ؟‘‘
’’جی سر۔‘‘
’’آپ کی غیر حاضری بہت محسوس ہوئی۔‘‘ وہ ہلکا سا مسکرایا۔
’’تھینکس سر۔‘‘ وہ محجوب ہوئی۔
’’بہت اچھی لگ رہی ہیں۔‘‘ بہت دھیمی آواز میں کہتے ہوئے اس کے سامنے رکھی فائل اٹھا کریوں دیکھنے لگا جیسے اسی لیے وہاں ٹھہرا ہو۔
انشراح کا دل دھک سے رہ گیا‘ گھبرا کر اس نے سامنے دیکھا‘ عاطف اور ہادیہ اسی کو دیکھ رہے تھے۔ اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر ہلکے سے مسکرائے اور اپنے اپنے پی سی کی طرف متوجہ ہوگئے۔ محتشم بلیک ٹو پیس میں ہمیشہ کی طرح منفرد نظر آرہا تھا۔ اتفاق تھا کہ وہ بھی اس وقت بلیک اور مسٹرڈ سوٹ میں ملبوس تھی۔ ہلکی سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا‘ وہ فائل رکھ کر اپنے آفس چلا گیا۔ وہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ کچھ دیر بعد معمول کے مطابق اس کے آفس گئی تو وہ کسی فائل پر کچھ لکھ رہا تھا‘ اسے آتا دیکھ کر پین ہولڈر میں لگایا‘ کام سے متعلق ضروری بات کرلینے کے بعد جب وہ اٹھنے لگی تو اس نے پوچھا۔
’’ہوگیا فنکشن؟ جس کے لیے چھٹی لی تھی آپ نے۔‘‘
’’جی سر… لحمدللہ۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’آپ کی کزن کی انگیجمنٹ تھی ناں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’جی سر۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’اور آپ کی؟‘‘ عجیب سے لہجے میں انتہائی غیر متوقع سوال۔
’’کیا میری؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’انگیجمنٹ؟‘‘ بڑے اطمینان سے وضاحت کی۔ ’’آپ کی ہوگئی یا ابھی ہونی ہے؟‘‘ انشراح جزیر ہوئی‘ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
’’اوہ… تو آپ شرما جاتی ہیں چھوڑیں کوئی اور بات کرتے ہیں۔‘‘ اتنے میں اس کا فون بجنے لگا‘ وہ فون پر بات کرنے لگا اور انشراح باہر آگئی‘ اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ محتشم اس کا باس‘ اتنا لیے دیے رہنے والا‘ اسے کیا ضرورت آن پڑی کہ ایسے سوال کرنے لگا۔ وہ ابھی سوچ کر اور جانے کتنی دیر ہلکان ہوتی کہ مارکیٹنگ منیجر اکرام صاحب آگئے‘ ان سے فائلیں لیتے‘ ڈسکس کرتے سب بھول گئی تھی۔
خ…ز…خ
’’پی سی میں میٹنگ ہے… ہوں‘ اوکے۔‘‘ محتشم نے فون بند کیا اور انشراح سے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔
اکرام صاحب اور مسز یمنیٰ بھی ساتھ جارہے تھے۔ پہلے لنچ اس کے بعد میٹنگ شروع ہوئی‘ مہمانوں میں موجود ایک نوجوان کی نظر بھٹک بھٹک کر انشراح کے چہرے کا طواف کررہی تھی پہلے تو وہ چونکہ نوٹس بنانے میں مگن تھی تو اندازہ نہیں ہوا‘ جیسے ہی فارغ ہوکر سر اٹھایا تو اس کی نظروں کی تپش نے اسے متوجہ کیا اور واضح ناگواری اس کے چہرے سے جھلکی ساتھ ہی اس نے رخ پھیر لیا تھا۔ مجبوری تھی ورنہ وہ مزید ایک منٹ کے لیے بھی نہ بیٹھی… محتشم نے کچھ کہنے کے لیے اس کی طرف دیکھا تو چونک گیا۔
’’آپ کو کیا چیز متاثر کررہی ہے؟‘‘ ہلکی سی‘ مدھم آواز میں اس نے پوچھا۔
’’میں کچھ دیر کے لیے لابی میں چلی جائوں؟‘‘ انشراح نے پوچھا۔ محتشم نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ اٹھ کر لابی میں آگئی۔
’’توبہ… کیسا لیچڑ بندہ ہے‘ شہد کی مکھی کی طرح اس کی نظریں چپکی جارہی تھیں۔‘‘ غصے سے سوچتے ہوئے سیل فون نکال کر کال اور ٹیکسٹ چیک کرنے لگی۔
’’یہاں اتنی خوب صورت پائی جاتی ہے‘ پہلے معلوم ہوتا تو میں کب کا یہاں آچکا ہوتا۔‘‘ اپنے اتنے قریب اجنبی مردانہ آواز سن کر وہ اچھل پڑی۔ وہی نوجوان جس کی نظروں سے بچ کر وہ یہاں لابی میں آئی تھی وہ اس کے قریب کھڑا اس سے مخاطب تھا۔ وہ بھنا کر پیچھے ہوئی۔
’’میں ایک ضروری کال کرنے یہاں آئی ہوں‘ آپ اپنی معلومات میں اضافہ کہیں اور جاکر کریں۔‘‘ تلخی سے کہتے ہوئے اس نے فون کی طرف اشارہ کیا اور ساتھ ہی عانیہ کا نمبر بھی ملادیا۔ وہ اس وقت اپنی دوست علشبہ کے ساتھ پارلر میں تھی۔
’’ہاں انشی‘ کیا ہورہا ہے؟‘‘
’’بس پی سی میں ہوں‘ میٹنگ ہے باس کی‘ میں فری ہوئی تو سوچا خیریت معلوم کرلوں‘ کیسی ہو؟‘‘
’’بالکل ٹھیک‘ کوئی ضروری بات کرنی ہے؟‘‘ اس کے انداز میں موجود عجلت سے انشراح نے اس کے مصروف ہونے کا اندازہ لگایا اور مایوسی سے فون کو کان سے ہٹا کر دیکھا۔ ’’نہیں۔‘‘
’’اوکے پھر شام کو گھر پر ملتے ہیں۔‘‘
’’بائے۔‘‘ اس نے فون بند کرتے ہوئے کن اکھیوں سے دیکھا‘ وہ وہیں کھڑا تھا۔ اسے فون بیگ میں رکھتے دیکھ کر آگے بڑھا‘ اسی اثناء میں قریب ہی محتشم کی آواز ابھری۔
’’چلیں مس۔‘‘ انشراح نے دیکھا محتشم کے ساتھ مسز یمنیٰ اور اکرام صاحب بھی تھے۔ اس نوجوان سے دونوں مردوں نے الوداعی مصافحہ کیا اور آگے بڑھ گئے۔ انشراح‘ مسز یمنیٰ کے ساتھ ان کے پیچھے چل دی تھی۔
خ…ز…خ
’’عانیہ…‘‘ وہ اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آئی اور مبہوت رہ گئی۔ سامنے نقرئی اور زنگاری رنگ کے امتزاج کا خوب صورت سوٹ عانیہ پہنے کھڑی تھی‘ اس پر اس کا میک اپ‘ جیولری‘ سفید ہنس جیسی گردن کے گرد لپٹا ہوا چاندی کا گلوبند جس کے موتی تانبے کے رنگ کے تھے‘ اس کے ساتھ کانوں میں لٹکتے آویزے مخروطی انگلیوں میں میچنگ انگوٹھیاں‘ لباس کی چمک دمک‘ عانیہ کے جگمگاتے حسن کے سامنے ماند پڑرہی تھی۔ ہر وقت مغربی لباس پہننے والی عانیہ آج پریوں کو مات دے رہی تھی۔ انشراح کی خود پر جمی ستائشی نظروں کو بھانپ کر فخریہ مسکرائی۔
’’کیسی لگ رہی ہوں میں؟ تم بھی چلو ناں‘ انجوائے کرو گی۔‘‘
’’نہیں یار‘ لیٹ نائٹ فنکشن کی وجہ سے صبح آنکھ نہیں کھلتی اور آفس تو وقت پر جانا ہوتا ہے ناں۔‘‘ انشراح‘ ان کی فیملی میں ہونے والی دعوتوں میں جانے سے گریز کرتی تھی‘ اپنا آپ بہت غیر مناسب لگتا تھا وہاں‘ اب ان دنوں عانیہ کے کزن کی شادی تھی لیکن انشراح کسی فنکشن میں شریک نہیں ہوئی‘ صرف ولیمہ میں شرکت کا ارادہ تھا اس کا۔
’’ہاں یہ بھی ہے۔‘‘ عانیہ ایک بار پھر قد آدم آئینے میں خود کو ہر زاویے سے جانچنے لگی تھی۔
خ…ز…خ
انشراح کافی دیر سے آفس میں بیٹھی محتشم کو آج کے ملاقاتیوں اور دیگر مصروفیات سے آگاہ کرنے کے بعد اس کی دی گئی فائلز لے کر اٹھنے لگی تھی کہ اس کی سنجیدہ ٹھہری ہوئی آواز نے اسے پھر سے بٹھا دیا۔
’’ایک بات کلیئر کردیں۔‘‘
’’جی سر؟‘‘
’’آفس آنے کے لیے لیڈیز کا میک اپ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کیا؟‘‘
’’نہیں سر۔‘‘ اس نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’تو میک اپ کرنے سے ان کی خوب صورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے کیا؟‘‘ ایک اور سوال۔
’’خوب صورتی میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں لیکن بے رنگ سے چہرے پر کچھ فریش نیس ضرور آجاتی ہے۔‘‘ ہر چند کہ وہ اندر سے بہت حیران تھی کہ یہ کیسے سوال پوچھے جارہے ہیں لیکن جواب تو دینا ہی تھا سو مناسب سا جواب سوچ کر دیا تھا۔
’’تو پھر یہ فریش نیس صنف مخالف کو نوٹس لینے پر مجبور کرے تو لیڈیز کو برا کیوں لگتا ہے؟‘‘ انشراح نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’جی سر…؟‘‘
’’آپ سمجھ گئی ہیں کہ میں نے کیا کہا ہے‘ آئندہ کوشش کریں کہ یہ سب فیس پر نہ لگائیں اور کہیں میٹنگ میں بھی جانا ہو تو اور زیادہ احتیاط کریں۔‘‘ اس کے لہجے میں تنبیہہ تھی یا تادیب‘ اس نے انشراح کو سن ضرور کردیا تھا۔ وہ لمحے سے پہلے سمجھ گئی کہ اس نے کیا جتایا ہے۔ وہ غافل نہیں تھا‘ اس نوجوان کی انشراح میں دلچسپی اور جواباً اس کا جزبز ہونا سمجھ چکا تھا۔ اسے لگا اس کے جسم کا سارا خون اس کے چہرے پر سمٹ آیا ہو۔
’’اوکے سر‘ آئندہ کم از کم میرے چہرے پر آپ کو میک اپ نظر نہیں آئے گا۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں ہمیں خود دھیان رکھنا چاہیے۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔‘‘
’’میں جائوں سر؟‘‘ اس کے سر ہلانے پر وہ باہر آگئی‘ اب ہادیہ یقینا پوچھتی کہ لپ اسٹک ایسے کیسے غائب ہوگئی‘ لیکن صد شکر وہ اپنی سیٹ پر نہیں تھی‘ انشراح نے واش روم میں جاکر چہرہ اچھی طرح دھویا ‘ ہادیہ سے کہہ دیا کہ الرجی ہورہی تھی‘ وہ اسے نرمی سے سمجھانے کا ارادہ رکھتی تھی کہ وہ بھی ہلکا سا نیچرل میک اپ کیا کرے لیکن یہ اتنا نمایاں نہ کرے۔
خ…ز…خ
انشراح اپنے کام میں اتنی منہمک تھی کہ پاس کوئی آکر کھڑا ہوا تب بھی اسے علم نہیں ہوا‘ آنے والا کچھ پل کے لیے اس کی توجہ کا منتظر رہا پھر ہلکا سا کھنکھار کر ’’السلام علیکم‘‘ کہا۔ انشراح نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور ساکت رہ گئی۔
’’سلام کیا ہے میں نے‘جواب تو دے دو۔‘‘ اس کے جتانے پر وہ ہڑبڑا کر حواسوں میں آئی۔
’’وعلیکم السلام… سکندر تم اچانک؟‘‘
’’ہاں کچھ کام تھا یہاں تو تم سے ملنے آگیا‘ کیسی ہو؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں الحمدللہ‘ تم سنائو سب کیسے ہیں؟‘‘ اس نے بے تابی سے پوچھا۔ وہ سامنے کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔
’’سب ٹھیک ہیں اور یہاں سب خیریت ہے؟‘‘
’’ہاں شکر ہے‘ سب ٹھیک ہے۔‘‘
’’چاچی پریشان تھیں کہ بہت دنوں سے انشراح نہیں آئی نہ ہی کوئی اس سے ملنے گیا‘ میری بچی کا پتا نہیں کیا حال ہے؟‘‘ اس نے باقاعدہ اماں کی نقل اتاری‘ انشراح کھلکھلا کر ہنس دی۔
’’روز رات کو بات تو کرتی ہوں اماں سے پھر بھی…‘‘
’’ہاں پھر بھی‘ ایسا کرو ویڈیو کال کرلیا کرو‘ اس سے کچھ افاقہ ہوگا۔‘‘ سکندر کے مشورے پر اس نے برا سا منہ بنایا۔
’’تو کوئی اماں کو وہ فون لے کر دے اور استعمال سکھائے تب ناں‘ اس دن حیدر تمہارے فون پر بات کروانے لگا تو اماں کبھی ماتھے پر فون لے جاتیں تو کبھی کان سے لگا لیتیں کہ آواز نہیں آرہی پھر گال سے چپکا لیا تو وہ میوٹ ہی ہوگیا‘ تم لوگوں کو اتنا وقت نہیں ملتا کہ اماں کو ٹچ فون کا استعمال ہی سکھا دو۔‘‘
’’وہ سیکھیں تو تب ناں۔‘‘ وہ ہنس دیا۔ ’’شیطانی ڈبا کہتی ہیں اسے‘ میری اماں کو ہی د یکھ لو‘ مجال ہے وہ اسمارٹ فون پر بات کرلیں‘ وہی ڈیجٹ والا فون چاہیے انہیں۔‘‘ ابھی اور بات کرتا کہ عاطف فائلوں کا پلندا لے کر آگیا۔
’’پلیز انشراح ان سب کا ڈیٹا بنا دو‘ سر محتشم کا آرڈر ہے۔‘‘
’’اففف…‘‘ اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ ’’اتنی ساری…‘‘
’’جی اتنی ساری‘ مجھے بھی اتنا سارا کام دیا ہے کہ میں تو چکرا گیا ہوں۔‘‘ وہ دھم سے سکندر کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھا اور پھر چونک کر سیدھا ہوا۔ ’’ہیلو… آپ؟‘‘
’’سکندر… انشراح کا کزن۔‘‘ سکندر نے سنجیدگی سے تعارف کروایا۔ وہ الرٹ ہوگیا۔
’’السلام علیکم‘ کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’الحمدللہ…‘‘ وہ ہلکا سا مسکرایا۔
’’کچھ لیں گے آپ چائے‘ کافی یا کولڈ ڈرنک؟‘‘ عاطف کے پوچھنے پر انشراح کو شرمندگی ہوئی‘ یہ تو اسے پوچھنا چاہیے تھا۔ سکندر نے منع کرنا چاہا مگر عاطف نے چپڑاسی کو چائے کے لیے کہہ دیا‘ اتنے میں ہادیہ بھی آگئی۔
’’انشراح‘ یار میری یو ایس بی میں کچھ خرابی ہوگئی ہے تمہارے پاس اگر کوئی ایکسٹرا ہے تو دے دو‘ بہت سارا ڈیٹا بنانا ہے مجھے۔‘‘ انشراح نے اپنی مقفل دراز کھولی اور ایک یو ایس بی نکال کر ہادیہ کے حوالے کی۔
’’ہادیہ… یہ سکندر ہیں انشراح کے کزن۔‘‘ آج انشراح کی شرمندگی کا دن تھا۔ اس کے کرنے والے کام عاطف کررہا تھا۔ ہادیہ نے مسکرا کر سکندر کو سلام کیا‘ جواباً وہ تعظیم سے کھڑا ہوگیا۔
’’بیٹھیے پلیز۔‘‘ ہادیہ مسکرائی‘ معاً دروازہ کھلا اور محتشم اندر داخل ہوا۔
’’اسی کی کسر رہ گئی تھی۔‘‘ بے اختیار انشراح نے سوچا۔ اس کی میز کے گرد موجود اتنے لوگوں کو دیکھ کر اس کی بھویں ناگواری سے سمٹیں۔
’’میرا خیال تھا آج کام بہت زیادہ ہے تو سب مصروف بھی بہت ہوں گے لیکن یہاں تو باقاعدہ گروپ بنا کر گپیں ہانکی جارہی ہیں۔‘‘ اس نے تیز نظر سب پر ڈالی‘ سکندر پر نظر ٹھٹکی اور پھر وہ تیزی سے اپنے آفس میں چلا گیا۔
’’یہ بے عزتی تو نہیں کہلائے گی ناں؟‘‘ عاطف نے پہلے لمبی سانس فضا کے سپرد کی پھر بڑی معصومیت سے انشراح سے پوچھا۔
’’کہلاتی تو یہ بہت کچھ ہے لیکن ساری بات سمجھنے کی ہے کہ ہم اسے کیا سمجھتے ہیں اور ہم اسے ہرگز‘ ہرگز بے عزتی نہیں سمجھیں گے۔‘‘ انشراح سے پہلے ہادیہ نے جواب دیا اور ماحول کو زعفران زار کردیا۔ سکندر مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
’’تم کام نمٹائو‘ میں ابھی بازار جارہا ہوں‘ پھر شام کو بی بی جان کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوجائوں گا۔‘‘
’’آج رکو گے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں شام تک واپسی ہے۔‘‘ وہ باہر چلا گیا‘ عاطف اپنی سیٹ پر اور انشراح فائلوں پر جھک گئی۔
خ…ز…خ
’’یہ کون تھے جو آپ کے سامنے بیٹھے تھے؟‘‘ محتشم کے اچانک سوال نے اسے چونکایا۔
’’کون سر؟‘‘
’’نیا چہرہ تھا‘ آفس کے تو نہیں تھے۔‘‘ وہ الجھی پھر یاد آیا۔
’’جی سر وہ سکندر‘ میرا کزن۔‘‘
’’صرف کزن؟‘‘
’’جی؟‘‘ وہ الجھی۔ وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا۔
’’کزن کچھ اور بھی بن جاتے ہیں ناں؟‘‘ انشراح کا دل دھک سے رہ گیا۔ جواباً کچھ کہا بھی نہیں گیا۔ وہ ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔ انشراح نے تھوک نگلا۔
’’جی بالکل بن جاتے ہیں اگر بنایا جائے۔‘‘ اس کے گول مول جواب پر اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
’’چلیں چھوڑیں‘ یہ بتائیں بغیر میک اپ کے آفس آنے جانے سے آپ کی شخصیت میں کوئی فرق تو نہیں آیا ناں؟‘‘ انشراح نے چونک کر اسے دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر پھیلی شریر مسکراہٹ دیکھ کر جھینپ گئی۔
’’نہیں سر۔‘‘
’’آپ کو تو ان ایڈیشنل چیزوں کی ویسے بھی کوئی خاص ضرورت نہیں‘ بڑی فرصت سے بنایا ہے آپ کو بنانے والے نے۔‘‘ محتشم کی آواز آخر میں بالکل ہلکی ہوئی اور انشراح کی پلکیں اتنی ہی بھاری کہ اوپر اٹھانا مشکل‘ اس کے لیے تعریف کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ وہ جہاں جاتی تھی ہر نظر اسے سراہتی تھی‘ اس کے سامنے عانیہ کا حسن بھی کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ وہ اپنی کشش سے اچھی طرح واقف تھی اور اپنی حدود سے بھی لیکن آج پہلی بار اتنے خوب صورت مرد کے منہ سے اپنے لیے تعریفی کلمات سن کر اس کا دل کسی اور لے پر دھڑکا تھا‘ چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
’’ایسا کریں ابھی آئینہ دیکھیں۔ نیچرل میک اپ ہوچکا ہے آپ کے چہرے پر۔‘‘ اس کی شریر آواز پر وہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔
’’اوکے سر‘ میں چلتی ہوں۔‘‘
’’ضرور چلیں‘ اچھا ہوتا ہے صحت کے لیے۔‘‘ مڑتے ہوئے اس کی بات سن کر اس کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی۔ اپنی سیٹ پر بھی کام کے بجائے دھیان کی رو بھٹکتی رہی‘ اتنے بدمزاج سے سر محتشم کا ایسے اس کی تعریف کرنا‘ اسے بہت اچھا لگا تھا۔ یہ وہ اعتراف تھا جو وہ خود سے کرتے ہوئے بھی ڈر رہی تھی کہ اسے سر محتشم اچھے لگتے ہیں اور ان کی طرف سے کی گئی تعریف بہت ہی اچھی‘ انوکھا احساس تھا جس کے زیر اثر وہ بے اختیار مسکرا رہی تھی۔
خ…ز…خ
دن بہ دن وہ اس سے بے تکلف ہوتا جارہا تھا۔ ہلکی پھلکی باتیں‘ ہنسی مذاق‘ انشراح کو یہ سب اتنا اچھا لگتا کہ اپنے احساسات سے خود ہی خوف زدہ ہوجاتی‘ یہ سب ٹھیک نہیں تھا‘ محتشم کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اس کے لیے مسائل ہی مسائل‘ سب سے بڑی بات وہ سکندر کی پابند تھی‘ اس کے علاوہ کسی کے لیے سوچنا بھی گناہ تھا اور وہ اس گناہ کی مرتکب ہورہی تھی۔ اس دن محتشم نے اسے بلایا‘ خاصی دیر میٹنگ ہوئی۔ پھر اس نے سائیڈ پر رکھے صوفوں کی طرف اشارہ کیا۔
’’آئیں‘ لنچ کرتے ہیں۔‘‘
’’نہیں سر‘ بہت شکریہ۔‘‘ اس نے تکلف برتا۔
’’پلیز نو مینشن‘ آپ آئیں میری مام نے اسپیشل لنچ بھجوایا ہے آج‘ آپ بھی شیئر کریں۔‘‘ وہ ہینڈ بیگ اور فون وہیں میز پر رکھ کر اس کے سامنے آبیٹھی۔ چکن منچورین‘ فرائیڈ فش اور ایگ فرائیڈ رائس تھے۔ اس نے تھوڑا سا کھا کر ہاتھ کھینچ لیا۔ محتشم نے اصرار بھی کیا لیکن اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’اندر جاکر ہاتھ دھولیں۔‘‘ اس نے ملحقہ واش روم کی طرف اشارہ کیا‘ وہ اٹھ کر واش روم میں ہاتھ دھونے چلی گئی۔ واپس آکر بیگ اور فون اٹھا کر باہر اپنی سیٹ پر آگئی‘ لنچ بریک تھا۔ وہ اپنی سیٹ پر بیٹھی تو چپڑاسی چائے لے آیا۔
’’صاحب نے بھجوائی ہے۔‘‘ انشراح کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔
رات کو وہ اپنے کمرے میں آئی تو حسب معمول فون اٹھایا کہ اماں سے بات کرکے سوئے تو وہاں اجنبی نمبر سے میسج اور مسڈ کال تھی۔ اس نے میسج کھولا۔
’’ہیلو…‘‘ انشراح نئے نمبر سے کم ہی کال اٹینڈ کرتی تھی‘ میسج کو بھی نظر انداز کرکے وہ کال کرنے ہی لگی کہ ایک اور میسج آیا۔
’’ہائو آر یو انشراح؟‘‘
’’اسے میرانام بھی پتا ہے؟‘‘ وہ حیرت سے بت بن گئی۔ معاً اسکرین روشن ہوئی۔
’’آئی ایم محتشم۔‘‘
’’اوہ…‘‘ اس نے لمبی سانس خارج کی۔ ’’مگر سر کے پاس اس کا نمبر کیسے؟ کبھی ایسی ضرورت ہی پیش نہیں آئی تھی کہ وہ اس سے نمبر معلوم کرتا۔ ویسے تو مسز یمنیٰ‘ ہادیہ اور عاطف کے پاس اس کا نمبر تھا۔‘‘ بہرحال اس نے فوراً جواب دیا۔
’’میں ٹھیک ہوں سر‘ آپ کیسے ہیں؟‘‘
’’فائن…‘‘ فوراً جواب آیا۔ ’’کیا ہورہا ہے؟‘‘
’’بس سونے کی تیاری۔‘‘ وہ دل میں جتنی حیرت زدہ تھی اس کا اظہار کرنے کے بجائے معمول کے جواب ٹائپ کررہی تھی۔
’’اتنی جلدی؟‘‘
’’جی سر‘ بارہ بج رہے ہیں‘ کافی ٹائم ہوگیا۔‘‘
’’صبح کس وقت اٹھتی ہیں؟‘‘
’’نماز کے لیے اٹھتی ہوں‘ پھر سو جاتی ہوں بعد میں‘ ساڑھے سات یا آٹھ تک اٹھ جاتی ہوں۔‘‘ اسے بھی باتیں کرنے میں مزہ آنے لگا۔ اسے محتشم کی ہر بات‘ ہر انداز اچھا لگنے لگا تھا۔
’’اس کے باوجود آئے دن لیٹ ہوجاتی ہیں۔‘‘ انشراح کو ہنسی آگئی‘ صرف دوبار اسے دیر ہوئی تھی اور سر نے مذاق بنا لیا تھا۔
’’آپ کو میرا نمبر کیسے ملا؟‘‘
’’جب آپ ہاتھ دھونے گئی تھیں۔‘‘ اسمائلی ایموجی کے ساتھ جواب۔ انشراح اس کی چالاکی پر ہنس دی۔
’’اچھا سونے سے پہلے کیا سوچتی ہیں؟‘‘
’’کچھ بھی‘ جو بھی خاص بات اس دن ہوئی ہو۔‘‘
’’اوہ… اس سے بہتر ہے میرے بارے میں سوچ لیا کریں۔‘‘ انشراح کو تو سچ مچ سانس لینا بھی بھول گیا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ سوال‘ وہ جھٹکا دے کر اس کا نتیجہ جاننا چاہ رہا تھا۔
’’کیا سوچوں آپ کے بارے میں؟‘‘
’’یہ کہ میں کتنا خوب صورت‘ متاثر کن اور شان دار ہوں۔‘‘
’’یہ سب کس نے کہہ دیا آپ سے؟‘‘ انشراح کو بھی شرارت سوجھی۔
’’بڑی لمبی لسٹ ہے۔‘‘ وہ اتنی جلدی جواب بھیج رہا تھا کہ انشراح اس کے لکھنے کی رفتار پر حیران ہوئی۔
’’اوہ تو مجھے بھی اس لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔‘‘ اس نے بھی شرارت سے ٹائپ کیا۔ پہلے تو ہنستے ہوئے ایموجیز آئے پھر جواب۔
’’نہیں آپ کے لیے الگ بندوبست…‘‘ انشراح کتنی دیر ہنستی رہی۔ باس کے روپ میں اتنا سنجیدہ بندہ اس وقت کتنا فرینڈلی اور ہنس مک لگ رہا تھا۔
’’کتنی لسٹیں بنانے کا ارادہ ہے؟‘‘
’’میں کب بناتا ہوں یار‘ یہ تو خود ہی بنتی چلی جاتی ہیں۔‘‘ بے چارگی ومعصومیت‘ وہ ہنستی رہی‘ جب اس کی یہ خوش گوار گفتگو ختم ہوئی تو اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہوچکی تھیں اور وہ بالکل بھول چکی تھی کہ نہ اس نے سکندر کو کال کی‘ نہ ہی اماں کو اور یہ بھی کہ اس کے رابطہ نہ کرنے پر وہ لوگ کتنے پریشان ہوئے ہوں گے۔
خ…ز…خ
پھر یہ گفتگو روزانہ کا معمول بن گئی۔ آفس میں وہ اپنا معمول کا کام کرتی‘ دونوں اجنبی بن کر رہتے۔ ہر رات کو مخصوص وقت پر وہ بپ بجتی تھی اور اس کے انتظار میں اس کی بے چینی عروج پر ہوتی کہ کچھ ایسا نہ ہوجائے کہ وہ اس میں پھنس جائے اور محتشم اسے ٹیکسٹ کر کرکے مایوس ہوجائے۔ دوسرے کسی کام کے لیے دماغ ہی حاضر نہیں ہوتا تھا۔ اس کے حواسوں پر محتشم سوار ہوچکا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اسے اپنے سحر میں جکڑتا جارہا تھا اور وہ خوشی سے جکڑتی جارہی تھی۔ سب بھول کر کہ اسے اماں جان کے پاس بیٹھنا ہوتا تھا۔ عانیہ کو کمپنی دینا ہوتی تھی‘ اماں اور سکندر سے فون پر بات کرنا ہوتی تھی‘ سب بھول رہی تھی وہ‘ یاد تھا تو صرف محتشم‘ اس کی باتیں‘ اس کی شخصیت‘ وہ شگفتہ مزاج کہیں پہلی نظر سے ہی اچھا لگا تھا‘ خوب صورت‘ مغرور‘ اسی لیے غالباً وہ اتنی جلدی اس سے بے تکلف ہوگئی تھی‘ انشراح کو خود اپنے احساسات سمجھ میں نہیں آرہے تھے یا وہ جان بوجھ کر سمجھنا نہیں چاہتی تھی کہ وہ رفتہ رفتہ اس جذبے کی اسیر ہورہی ہے جو انسان کو اپنا بھی نہیں رہنے دیتا۔ وہ سمجھ بھی کیسے سکتی تھی جبکہ وہ بچپن سے سکندر کے ساتھ منسوب تھی۔ سکندر کو ہی اس کی سوچوں پر قابض ہونا چاہیے تھا مگر وہ اس کی سوچ کی پرچھائیں میں بھی نہیں تھا۔ وہ تو ہر دم ہر پل محتشم کے خیالوں میں کھوئی سکندر سے دور ہوتی جارہی تھی۔ اس دن وہ اسی کے پاس بیٹھی تھی‘ کام ختم کرکے اٹھی تو وہ بھی اٹھ گیا‘ کوٹ کا بٹن بند کرکے وہ اس کے سامنے آر کھڑا ہوا۔ انشراح نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ مسکرا دیا۔
’’اب تو ہم فرینڈز بن چکے ہیں ناں؟‘‘
’’جی سر…‘‘ وہ محجوب مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’اوکے ڈن۔‘‘ محتشم نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا‘ گلابی ہتھیلی صاف وشفاف ہاتھ انشراح سٹپٹائی۔ اس نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ محتشم کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
’’شیک ہینڈ کرنے سے کوئی پرابلم ہوجائے گی؟‘‘
’’نہیں سر۔‘‘ اسے لگا وہ ناراض ہو جائے گا‘ اس نے جھجکتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ محتشم نے نرمی سے اسے دبایا اور چھوڑ دیا۔ پل دو پل کی بات تھی‘ پر انشراح کو ایسے لگا کہ اس کا دل اس کے سارے احساسات اسی پل میں چلے گئے ہیں۔ اس کا لمس اپنی ہتھیلی پر محسوس کرکے اس کی حالت ہی عجیب ہوگئی تھی۔
’’اپنی فرینڈ شپ کو سیلبریٹ کریں‘ لنچ کسی ریسٹورنٹ میں کرکے؟‘‘ محتشم نے پیشکش کی۔
’’نہیں سر پلیز۔‘‘ اس بار انشراح نے دو ٹوک انکار کیا۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر دلکشی سے مسکرایا۔
’’اوکے… لیٹس گو۔‘‘ وہ تیزی سے باہر آئی‘ وہ خود بھی چند لمحوں کے بعد نکل کر باہر چلا گیا تھا۔
خ…ز…خ
’’انشراح مجھے ایک پارٹی سے میٹنگ کرنے جانا ہے سو آپ کو بھی چلنا ہے‘ اپنا کام جلدی ختم کیجیے۔‘‘ انٹرکام پر محتشم کی آواز گونجی‘ انشراح کے ہاتھ اور تیزی سے چلنے لگے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ گاڑی میں تھی‘ محتشم نے ایک شاندار کاٹیج کے سامنے گاڑی رکوائی۔ ڈرائیور کے ہارن بجانے پر ایک چوکیدار نے گیٹ کھولا۔ ڈرائیور گاڑی اندر لے گیا۔ انشراح حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ آج کی میٹنگ ہوٹل کے بجائے اس جگہ ہونے والی تھی؟ گاڑی سے اترے تو محتشم نے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ اندر سٹنگ روم بہت زبردست انداز میں آراستہ تھا‘ ابھی تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا‘ فی الحال وہ دونوں ہی وہاں تھے۔
’’دوسرے لوگ کب آئیں گے سر؟‘‘ وہ ایک صوفے پر بیٹھتی ہوئی پوچھنے لگی‘ وہ سامنے بیٹھ گیا۔
’’کون لوگ؟‘‘
’’وہ پارٹی جس سے میٹنگ ہونی ہے۔‘‘ انشراح نے حیرت سے اسے دیکھا‘ وہ بڑی دلکشی سے مسکرایا۔
’’سامنے تو بیٹھی ہے وہ۔‘‘
’’جی…؟‘‘ وہ حیرت سے جامد رہ گئی۔
’’ہاں صحیح کہہ رہا ہوں‘ کسی کو نہیں آنا‘ بس آپ اور میں۔‘‘ وہ مسلسل مسکرا رہا تھا اور انشراح کو تنہا اس کے ساتھ بیٹھنا ہی اتنا عجیب لگ رہا تھا‘ اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔
’’آپ نے تو کہا تھا…‘‘
’’کم آن انشراح‘ یہ بتائیں یہ کاٹیج کیسا لگ رہا ہے آپ کو؟‘‘
’’بہت اچھا۔‘‘ اس نے مختصر جواب دیا۔
’’یہ میں نے آپ کے لیے خریدا ہے۔‘‘ کتنے آرام سے اس نے انشراح کے سر پر بم گرایا۔
’’مم…! میرے لیے؟‘‘ انگلی سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی آواز گلے میں ہی پھنس گئی۔ وہ بے اختیار ہنس دیا۔
’’آپ اتنی حیران کیوں ہورہی ہیں‘ میں آپ کو کچھ گفٹ کرنا چاہتا تھا‘ سو یہ لے لیا اور اب آپ کو ہینڈ اوور کرنا ہے۔ دیٹس اٹ…‘‘ اس نے کندھے اچکا کر ایسے کہا جیسے کوئی چاکلیٹ ہو جو وہ گفٹ میں دے رہا ہو۔ وہ متحیر سی بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی۔ احساسات بھی منجمد ہوگئے تھے کہ حیرت تعجب کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا۔
’’یہ کیسی باتیں کررہے ہیں آپ‘ میں کیوں ایسا گفٹ لوں گی؟‘‘ بالآخر اس کا جمود ٹوٹا‘ محتشم کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔
’’گفٹ کیوں دیتے اور لیتے ہیں؟‘‘
’’میں اتنا بڑا گفٹ نہیں لے سکتی سر، پلیز اب چلیں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ بھی اٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں سے الجھن مترشح تھی۔
’’ہم دونوں فرینڈز ہیں ناں؟‘‘
’’یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ مجھے فرینڈ سمجھتے ہیں لیکن میں ایسا گفٹ افورڈ نہیں کرسکتی‘ جس کے لیے میں ہمیشہ شرمندہ رہوں۔ میں ایسا گفٹ لوں گی جیسا واپس لوٹا سکوں۔‘‘
’’گفٹ نہ لینے سے آپ گفٹ دینے والے کو ہرٹ بھی تو کررہی ہیں ناں؟‘‘ اس کی بات نے انشراح کی پیشانی عرق آلود کردی۔
’’پلیز سر‘ آئی ایم سوری اگر آپ ہرٹ ہوئے تو۔‘‘ وہ ہلکا سا مسکرایا۔
’’اٹس اوکے‘ آپ ابھی نہ لیں‘ میں بھی اسے فی الحال جوں ہی رہنے دیتا ہوں‘ پھر کسی اسپیشل اوکیشن پر گفٹ کردوں گا۔‘‘ انشراح نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا‘ وہ شرارت سے مسکرا دیا۔
’’آپ کی شادی کا اسپیشل اوکیشن۔‘‘ انشراح کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ وہ رخ موڑ کر دروازے کے پاس رکھے ایکوریم کو دیکھنے لگی‘ محتشم کو اس پر ترس آگیا۔
’’اوکے آئیں چلتے ہیں۔‘‘ اس رات انشراح نے نیند کا بہانہ کرکے اس سے ٹیکسٹ پر بھی زیادہ بات نہیں کی۔ اس کے اندر دور کہیں سائرن بج رہے تھے کہ جو ہورہا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ وہ خود تو غلط سمت جا رہی تھی ساتھ محتشم کی بھی غلط رہنمائی کررہی تھی۔
وہ بہت مضبوط زنجیروں سے بندھی ہوئی تھی۔ اسے بس اتنی ڈھیل دی گئی تھی کہ وہ کچھ سنگ میل عبور کرلے لیکن وہ توبہت آگے جارہی تھی‘ وہ اس کا خمیازہ بھگتنے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتی تھی۔ ایک بار اگر ایسا ہوجاتا تو جانے مزید کتنا عرصہ گائوں کی لڑکیوں کی مزید تعلیم پر پابندی لگ جاتی۔ اس کا دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اٹھایا گیا ایک قدم ان سب لڑکیوں کا مستقبل اندھی کھائی میں پھینک دیتا‘ اسے یہ سخت فیصلہ کرنا ہی تھا۔ اگرچہ وہ جانتی تھی یہ اتنا آسان نہیں لیکن اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا تو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جاتا‘ اب اسے کسی طرح محتشم کو بتانا تھا کہ وہ اس کی منگنی ہوچکی ہے اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ محض دوستی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ بہت دیر کے بعد‘ بہت مشکل سے نیند آئی تھی۔ نتیجہ یہ کہ صبح اٹھنے پر سر بھاری ہورہا تھا۔
’’جنت پلیز ایک کپ چائے اور صرف ایک سلائس لادو مجھے۔‘‘ وہ کھانے کی میز پر آبیٹھی‘ اماں جان اور بابا جان نے اسے مکمل طور پر گھر کے فرد کی حیثیت دے رکھی تھی۔ محبت‘ احسان‘ قدر دانی‘ کیا کہا جائے ان کے رویے کو‘ انشراح تو ان کی ہمیشہ کے لیے مقروض ہوچکی تھی۔ وہ گھونٹ گھونٹ چائے پیتی گہری سوچ میں گم تھی کہ اماں جان چلی آئیں۔ اس نے سلام کیا تو وہ مسکراتی ہوئی پاس آبیٹھیں۔
’’اتنا سا ناشتہ؟‘‘
’’جی اماں جان‘ بالکل بھی خواہش نہیں۔‘‘
’’چلو دفتر میں کچھ کھا لینا۔‘‘ وہ شفقت سے مسکرائیں۔
’’جی اماں جان۔‘‘ اس نے سعادت مندی سے سر ہلایا۔
’’پرسوں ولیمے میں مسز افتخار نے ایک فیملی سے تعارف کروایا‘ ان کا ارادہ تھا کہ میں عانیہ کے لیے ان کا لڑکا دیکھ لوں تو وہ وہاں بھی عانیہ کا تذکرہ کریں‘ لڑکا بڑا ہی خوب صورت تھا اور فیملی بھی بہت زبردست‘ مجھے پہلی بار عانیہ کی دلچسپی بھی محسوس ہوئی‘ تم ذرا اس سے پوچھو اپنے طور پر‘ اگر ہاں کرتی ہے تو میں مسز افتخار سے بات کروں اور وہ بات آگے بڑھائیں۔‘‘ انشراح کو اپنی ساری پریشانی ہی بھول گئی تھیں۔
’’آپ کو کیسے پتا چلا کہ عانیہ کی بھی وہاں دلچسپی ہے؟‘‘وہ ہنس دیں۔
’’اس لڑکے سے خود سے بات کرتی رہی ورنہ تو کسی کی بات کا جواب ہی نہیں دیتی۔‘‘
’’جی جی…‘‘ انشراح کو خوش گوار حیرت ہوئی تھی۔ عانیہ اصل میں اپنے کزن عمر کو پسند کرتی تھی اور وہ بھی لیکن اماں جان اکلوتی بیٹی کی شادی اسی شہر میں کرنا چاہتی تھیں اور عمر شہر تو کیا ملک سے بھی باہر آئرلینڈ میں رہتا تھا۔ وہاں بیٹی دینے کا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھیں‘ تو عانیہ اسی لیے کہیں اور رضامند نہیں ہوتی تھی یوں یہ معاملہ لٹکا ہوا تھا لیکن اب اگر وہ کہیں دل چسپی دکھا رہی تھی‘ تو اس کا مطلب تھا پارٹی زور دار تھی۔ اس نے تہہ دل سے عانیہ کی خوشیوں کی دعا کی تھی۔
خ…ز…خ
’’ایک تو گفٹ لینے سے منع کردیا پھر رات کو بات بھی نہیں کی محترمہ نے‘ ناراض مجھے ہونا چاہیے‘ الٹا آپ کا موڈ خراب دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ محتشم نے اسے چپ دیکھ کر چھیڑا۔
’’نہیں سر‘ ایسی بات نہیں۔‘‘ اس نے دھیمے سے کہا۔
’’پھر کیا بات ہے؟‘‘
’’میری اماں کا فون آیا تھا کہ میری کزن کے سسرال والے شادی کی تاریخ مانگ رہے ہیں۔‘‘ وہ چپ ہوگئی۔
’’تو… آپ کو چھٹیاں چاہیں؟‘‘
’’نہیں‘ نہیں وہ دراصل…‘‘ وہ ہچکچائی۔ محتشم نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’میرے چاچا کے بیٹے سکندر سے میری بچپن سے نسبت طے ہے اور شازیہ‘ سکندر کی بہن ہے تو اس کی اور سکندر کی ایک ساتھ شادی کا پروگرام ہے تو مجھے یہ جاب بھی چھوڑنا پڑے گی اور واپس ہمیشہ کے لیے گائوں جانا پڑے گا۔‘‘ بات کے اختتام پر اس نے محتشم کی طرف دیکھا‘ وہ ساکت بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ اسے اپنی طرف دیکھتے پاکر اس کا سکتہ ٹوٹا۔
’’آپ انگیجڈ ہیں؟‘‘
’’جی… بچپن سے۔‘‘
’’تو کیا ضروری ہے آپ وہیں شادی کریں؟‘‘
’’ظاہر ہے سر‘ بڑوں کی زبان کی پاسداری تو کرنی ہے۔‘‘
’’صرف بڑوں کی زبان کی پاس داری کے لیے؟ دل مانے یا نہ مانے اس کی خیر ہے۔‘‘ انشراح خاموش رہی۔
’’آپ اس شادی سے انکار کردیں‘ یہ کیا لاجک ہے کہ بچپن کی منگنی‘ شادی ساری عمر کا معاملہ ہے جو سوچ سمجھ کر اور پسند کرنے کے بعد طے پانا چاہیے اور اس کے لیے آپ اتنے میچور تو ہوں کہ صحیح فیصلہ کرسکیں‘ کون آپ کے لیے بہتر رہے گا۔‘‘ وہ جو کہہ رہا تھا اور کہنا چاہتا تھا‘ انشراح سب سمجھ رہی تھی لیکن اس کو سب پہلے سے پتا تھا اور وہ محتشم کو یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ وہ مجبور ہے۔
’’یہ باتیں ہمارے ہاں کوئی نہ کرتا‘ نہ کسی کو کرنے کی اجازت ہے بہرحال مجھے کچھ عرصے میں یہ جاب چھوڑنی ہے‘ آپ کوئی اور ورکر دیکھ لیں۔‘‘
’’آپ جاب کیوں چھوڑ رہی ہیں… اسے جاری رکھیں۔‘‘ وہ بے ساختہ بولا تو انشراح کچھ ثانیے بول ہی نہیں پائی۔
’’بات کروں گی اما‘ ابا سے اگر انہوں نے اجازت دی تو…‘‘ وہ اٹھی تو محتشم بھی اٹھ کر اس کے پاس آگیا۔
’’آپ میرے لیے بھی سوچ سکتی ہیں‘ آئی مین اگر میں آپ کو پروپوز کروں؟‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ اس کے قریب کھڑا تھا۔ اس کی خوشبو‘ اس کے حواسوں پر چھا رہی تھی لیکن اسے دماغ سے فیصلہ کرنا تھا اور جو کہا تھا اس پر قائم بھی رہنا تھا‘ سو مضبوطی سے بولی۔
’’آپ میرے باس ہیں اور میں آپ کی ایمپلائی‘ بس یہ کافی ہے‘ پلیز میری وجہ سے میرے والدین کا سر کبھی نہیں جھکے گا۔‘‘ وہ خاموشی سے پیچھے ہوگیا۔ انشراح باہر آگئی۔ کرسی پر گر کر‘ اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔ اتنا بڑا معرکہ کتنی آسانی سے مار لیا تھا لیکن دل پر بے پناہ بوجھ آن پڑا تھا۔ دراصل یہ وہ راستہ ہی نہیں تھا جو منزل کو جاتا تھا وہ بھٹکی بلکہ بھٹکنے ہی لگی تھی کہ ہوش آگیا اور وہ وہاں سے پلٹ آئی۔ اسے رونا آرہا تھا وہ اٹھ کر واش روم چلی آئی اور واش بیسن پر جھکی پانی کے ساتھ آنسو بھی بہاتی رہی تھی۔
خ…ز…خ
عانیہ کا رشتہ وہیں سے آیا تھا جہاں وہ چاہ رہی تھی۔ اماں جان اور بابا جان نے رسمی وقت لیا‘ ورنہ لڑکے والے بہت اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ عانیہ بہت خوش تھی اور اپنی خوشی انشراح کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی تھی لیکن انشراح کا رویہ ہی سمجھ میں نہیں آرہا تھا‘ الجھی الجھی‘ سوچوں میں گم‘ پکارنے پر دیکھتی تو اس کی آنکھوں کی ویرانی دیکھ کر عانیہ گھبرا جاتی۔
’’تمہیں کیا ہوا ہے انشی‘ کیوں ایسی کھوئی کھوئی رہنے لگی ہو؟‘‘
’’پتا نہیں یار ڈپریشن لگتا ہے۔‘‘ وہ بے زاری سے کہتی۔ دو دن بعد گائوں سے فون آیا کہ اماں چھت پر جاتے ہوئے سیڑھیوں سے گر گئیں‘ انشراح فوراً گائوں گئی چلی۔ اماں کی دائیں ٹانگ شدید مضروب ہوئی تھی اور پسلیاں بھی متاثر ہوئی تھیں۔ وہ بابا جان کی گاڑی میں اماں کو شہر لے آئی اور اچھے ہڈی والے ہسپتال میں داخل کروا دیا۔ حیدر ساتھ آیا تھا‘ تین دن یوں گزرے کہ کچھ ہوش ہی نہیں تھا۔ ہادیہ کے فون نے اسے چونکایا تھا‘ وہ اس کے لیے پریشان تھی‘ انشراح نے اسے تسلی دے کر فون بند کیا اور حیدر کو سب سمجھا کر گھر چلی آئی۔ اماں جان سے ملی‘ وہ اماں کی طبیعت پوچھ رہی تھیں دوبار ہاسپٹل بھی جاچکی تھیں۔ اس نے انہیں اماں کے متعلق بتایا اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔ آفس جانے کے لیے کپڑے نکالے اور بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں‘ بغیر بتائے تین چھٹیاں کرنے پر سر محتشم کا جانے کیا ردعمل ہو‘ اس نے ہونٹ بھینچے اور خود کو ڈھیلا چھوڑ کر سونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔
خ…ز…خ
’’آپ نے کس خوشی میں اتنی چھٹیاں کیں؟‘‘ محتشم کے تیور کڑے تھے۔ اس نے آتے ہی انشراح کو اندر بلوایا۔
’’میری اماں چھت سے گر گئی تھیں تو میں ایمرجنسی میں گائوں چلی گئی‘ آئی ایم سوری کہ میں نے اطلاع نہیں دی۔‘‘
’’صرف سوری کہہ دینے سے سب ٹھیک ہوگیا… واہ۔‘‘ اس نے ہاتھ اوپر کرکے ہلکی سی تالی بجائی۔
’’آپ کی اچانک غیر حاضری سے کتنی مشکلات مجھے فیس کرنا پڑیں‘ سب چیزوں کو کیسے ہینڈل کیا گیا‘ آپ کو اس سے کیا‘ آپ نے سوری کہہ دیا اور بس۔‘‘ اس کا لہجہ بہت تلخ تھا۔
’’ابھی اماں مکمل ٹھیک نہیں ہوئیں اور ہاسپٹل میں ہی ہیں لیکن میں آفس آگئی ہوں‘ احساس تھا تب ہی ناں۔‘‘ انشراح کی آواز کچھ اور دھیمی ہوئی۔ محتشم نے اسے دیکھا اور ڈھیلا پڑگیا۔
’’اوکے جائیں۔‘‘ وہ اپنی سیٹ پر بیٹھی کتنی عجیب کیفیت سے گزر رہی تھی۔ بہت مختصر عرصے کی دوستی ہوئی تھی محتشم کے اور اس کے درمیان اور انشراح نے خود اس دوستی کا گلا گھونٹا تھا لیکن کچھ ہی دنوں میں اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ دوستی محض دوستی نہیں رہی تھی‘ کوئی اور ہی رنگ اختیار کرچکی تھی۔ محتشم کو دیکھ کر‘ اس کے دل کو جیسے کچھ لگتا تھا۔ نہ اس کے ٹیکسٹ آتے‘ نہ وہ اسے دیکھ کر مسکراتا۔ ظاہر ہے مسکراتا بھی کیوں لیکن انشراح کو لگتا کہ اسے محتشم کی عادت ہوگئی ہے۔ ایسی عادت جو نشے کی طرح اس کی رگوں میں سرائیت کرچکی تھی۔ وہ اعتراف سے ڈرتی تھی کہ اسے محتشم سے محبت ہوگئی تھی۔ شدید محبت‘ وہ اس کی طرف سے بھی غالباً محبت کی متقاضی تھی خود اسے منع کرنے کے بعد بھی‘ اسی لیے اس کا یہ رویہ اسے بہت تکلیف دیتا تھا۔
خ…ز…خ
عانیہ کی منگنی ہوچکی تھی‘ انشراح کی شرکت کے بغیر کیونکہ وہ اماں کے ساتھ اسپتال میں اتنی مصروف تھی کہ اس نے عانیہ سے معذرت کرلی تھی۔ صبح آفس‘ شام میں ہاسپٹل‘ وہ گھن چکر بن چکی تھی۔ اماں بہتر تو تھیں لیکن ابھی انہیں لمبا عرصہ بیڈ پر ہی رہنا تھا‘ پیچھے ابا اور بھائیوں کے کھانے پینے وغیرہ کا سارا انتظام چاچی نے سنبھالا ہوا تھا۔ اماں کو ہسپتال میں بھی پیچھے کی فکر لاحق تھی۔ یہ کام‘ وہ کام‘ انشراح جھلا جاتی۔
’’گولی ماریں سب کاموں کو‘ اپنی صحت پر دھیان دیں۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کردیا ورنہ خدانخواستہ ہڈی نہ جڑتی تو ان کاموں کا کیا ہوتا‘ آرام سے‘ سکون سے ریسٹ کریں تاکہ جلد از جلد ٹھیک ہوجائیں۔‘‘
’’تو تھک گئی ہوگی‘ میری خدمت‘ دفتر کا کام؟‘‘ وہ اس کے چہرے پر تھکاوٹ ڈھونڈنے لگیں۔ اس نے زبردستی کی بشاشت اپنے چہرے پر طاری کی اور مسکرائی۔
’’اماں پلیز اپنی ماں کے کاموں سے کون تھکتا ہے؟ اور دفتر میں بھی بیٹھ کر بس کمپیوٹر پر کام کرنا ہوتا ہے، کون سا ہل چلاتی ہوں جو تھک جائوں گی۔ آپ خوامخواہ پریشان نہ ہوں‘ میں وہاں سے آپ کا دھیان بٹاتی ہوں‘ آپ یہاں کی فکر کرنے لگتی ہیں۔‘‘
’’کیا کروں‘ یہاں بیٹی ہے اور وہاں بیٹے بھی اور سر کا سائیں بھی۔‘‘ وہ اداس ہوئیں۔ انشراح نے ان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں دبا کر انہیں تسلی دی۔
’’اماں بس کچھ دن اور پھر آپ بالکل ٹھیک ہوجائیں گی ان شاء اللہ۔‘‘
’’ان شاء اللہ۔‘‘ وہ پژمردگی سے مسکرائیں‘ وہ انہیں بہلانے کو یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگی تھی۔
خ…ز…خ
عانیہ کی شادی کی شاپنگ شروع ہوچکی تھی۔ بڑے بڑے ڈیزائنر سے رابطے ہورہے تھے۔ زیورات اور جوتوں کے لیے وہ دبئی گئی تھی ایک ہفتے کے لیے۔ اماں جان نے بضد اصرار اماں کو گھر لانے پر انشراح کو مجبور کیا تھا۔ دو دن اماں وہاں رہیں اور بالآخر واپس گائوں چلی گئیں۔ بھلا گائوں کی عورتوں کا شہر سے کیا تال میل‘ ان کا تو اماں جان کو دیکھ دیکھ کر دل ہولتا تھا۔
’’بھلا سارا دن وہ گھر میں بند‘ ہر ہرکام کے لیے ملازمین کی محتاج‘ توبہ توبہ‘ وہاں گائوں میں ہر کام خود کرکے پھر سارا دن یہاں‘ وہاں ہو آئو‘ توبہ میں تو دو دن میں ہی مفلوج ہوجائوں۔‘‘ جو کچھ یہاں تعیشات کے زمرے میں آتا تھا‘ وہ اماں کے نزدیک محتاجی تھا‘ صد شکر کہ وہ ٹھیک ہوکر چلی گئیں ورنہ تو ایسے ہی ہولتی رہتیں۔ ان کے جانے کے بعد انشراح معمولات زندگی کی طرف لوٹ آئی‘ جس میں اس کے لیے محتشم کا لیا دیا رویہ ذہنی اذیت کا باعث تھا تو خُود اسے بھی یہی انداز اپنانا پڑتا تھا۔ وہ بہت سنجیدہ ہوتی جارہی تھی۔
اسے اپنی سوچوں میں گم اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ عانیہ کی زندگی کے اتنے بڑے موقع پر اس طرح کا رویہ اپنا کر اسے کتنا بد دل کرتی رہی ہے۔
’’یار تم نے میرے ڈریسز‘ جیولری کچھ بھی نہیں دیکھا بلکہ تم تو کسی قسم کا انٹرسٹ ہی میری شادی میں شو نہیں کررہی ہو۔‘‘ انشراح‘ عانیہ کے کمرے میں آئی ہی تھی کہ اس نے دہائی دی۔
وہ حقیقت میں شرمندگی کے پاتال میں اتر گئی تھی‘ عانیہ نے اس سے بہنوں جیسا سلوک کیا تھا بلکہ انشراح کو یہاں تک پہنچانے میں سراسر اسی کا ہاتھ تھا‘ وہ اس کی محسن تھی‘ بچپن کی دوست تھی اور اس کی اتنی بڑی خوشی کے موقع پر وہ کیا کررہی تھی۔ اپنی ہی الجھنوں میں گرفتار دوسرے رشتے کے تقاضے صحیح معنوں میں نبھا نہیں پارہی تھی۔ ابھی بھی زبردستی کی بشاشت لہجے میں بھری تھی۔
’’ہاں دکھائو ناں‘ وہی دیکھنے تو آئی ہوں۔‘‘ سب کچھ بہترین تھا‘ انشراح نے دل کھول کر تعریف کی تھی۔
’’اب یہ کچھ محتشم کے ڈریسز بھی دکھا دوں… اس کی ڈریسنگ بہترین سے بھی بہترین ہوتی ہے تو میں نے اسی حساب سے سب شاپنگ کی ہے۔‘‘ انشراح ٹھٹکی۔
’’محتشم…! کون محتشم؟‘‘
’’واٹ ڈو یو مین‘ کون محتشم؟‘‘ عانیہ نے ناراضی سے اسے دیکھا۔ ’’ظاہر ہے میرا فیانسی ہے۔‘‘ انشراح نے پوچھا۔
’’کرتے کیا ہیں؟‘‘
’’کنسٹرکشن فرم ہے۔‘‘ عانیہ نے فرم کا نام بھی لیا۔
’’کوئی تصویر ہے ان کی؟‘‘ انشراح پتا نہیں کیا جاننا چاہ رہی تھی۔ عانیہ نے بھرپور قہقہہ لگایا۔
’’کوئی تصویر؟ میرے فون کی گیلری ہی اس کی پکس سے بھری ہوئی ہے۔‘‘ اس نے اپنا فون اٹھایا اور اس کے سامنے کردیا‘ کوئی شک‘ کوئی ابہام باقی نہیں رہا‘ وہ دشمن جان ہر روپ میں سامنے تھا‘ انشراح کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔
’’کیسا ہے؟‘‘ عانیہ نے یوں پوچھا جیسے کوئی اپنی ایجاد کردہ چیز کے متعلق پوچھتا ہے کہ کیسی لگی؟ انشراح کو کچھ پل لگے تھے خود پر قابو پانے میں۔
’’بہت اچھے‘ زبردست ماشاء اللہ۔‘‘ اس کے دل پر جو بھی بیت رہی تھی۔ وہی جانتی تھی‘ اس کے ساتھ تو کسی نے زیادتی کی نہ دھوکا دیا جو کچھ بھی ہوا‘ خود اس نے اپنے ساتھ کیا۔ محتشم کی اچھی شکل وصورت‘ شخصیت نے اسے اتنا بہکا دیا کہ وہ اپنی بچپن کی نسبت اور اپنے سے وابستہ ہر چیز بھلا کر اس کی محبت میں مبتلا ہوگئی اور یہ محبت اس کے لیے ایک جرم کی حیثیت رکھتی تھی‘ جس کی وجہ سے وہ ہر ایک کے سامنے شرمندہ تھی اور آج عانیہ سے بھی نظر ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔ محتشم، عانیہ کا شوہر بننے جارہا تھا‘ اس سے اب زندگی بھر کا ملنا‘ ملانا تھا۔ آفس میں تو وہ خود پر ایک خول چڑھا لیا کرتی تھی لیکن اصل امتحان تو اب شروع ہونے والا تھا‘ جب محتشم‘ عانیہ کے شوہر کے روپ میں سامنے آتا۔
اس نے جھرجھری لی تھی۔
خ…ز…خ
کچھ دنوں میں آفس تو کیا پوری بلڈنگ میں ہی محتشم کی شادی کے کارڈز بانٹے گئے تھے۔ ہادیہ انشراح کے پاس آئی تھی۔
’’یار سر کی شادی ہے‘ چلیں گے ضرور۔‘‘
’’ہاں دیکھتے ہیں۔‘‘ اس نے مصروف انداز میں جواب دیا۔
’’دیکھتے ہیں؟‘‘ ہادیہ کو صدمہ ہوا۔ ’’یار کنفرم بات کرو‘ اسی بہانے ان کی دلہن بھی دیکھ لیں گے ورنہ کیسے دیکھیں گے؟‘‘ ہادیہ نے اسے جیسے لالچ دیا‘ انشراح کو ہنسی آگئی۔
’’تمہیں کیوں اتنا شوق ہورہا ہے ان کی دلہن دیکھنے کا۔‘‘
’’یار اتنے شاندار بندے کی بیوی بھی تو کتنی خوب صورت ہوگی ناں‘ دیکھنا تو چاہیے۔‘‘ اس کی آواز میں حسرت تھی انشراح نے گھور کر دیکھا۔
’’ہوتی رہے‘ تمہیں کیا؟‘‘
’’مجھے ٹینشن ہوتی ہے اگر کپل اچھا نہ ہو۔‘‘
’’اللہ کو مانو ہادیہ۔‘‘ انشراح کو ہنسی آگئی۔ ہادیہ اس سے کتنی ہی دیر اسی موضوع پر بات کرتی رہی تھی۔
خ…ز…خ
بہت بڑے پیمانے پر عانیہ کی شادی کے فنکشنز شروع ہوئے تھے۔ اماں جان اور بابا جان بیک وقت خوش بھی تھے اور اداس بھی۔ اکلوتی بیٹی کے فرض کی اداگئی کی خوشی تھی تو اس کی جدائی اداس کردیتی تھی۔ مایوں والے دن گائوں سے اماں‘ سکندر‘ شازیہ اور نازیہ آئے تھے۔ عانیہ نے آتشی گلابی اورینج اور سرمئی رنگ کے امتزاج کی قمیص آتشی گلابی غرارہ اور دوپٹا جس پر گرین گوٹا تھا بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔
صوفہ نما جھولے کو پھولوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ روز میری گولڈ اور بیلا کے پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی۔
محتشم نے سفید کرتا‘ شلوار اور مہرون پٹکا شانی پہ ڈالا ہوا تھا۔
عانیہ کی دوستیں اور کزنز اسٹیج کے دائیں طرف نیچے قالین پر اور محتشم کی کزنز بائیں طرف آمنے سامنے ڈھولکیاں‘ ڈفلی وغیرہ لے کر بیٹھی تھیں۔ گانوں کا مقابلہ ہورہا تھا۔ پھر عانیہ اور محتشم جھولے میں بیٹھے تھے‘ مہندی لگائی جانے لگی‘ سب باری باری جاکر پاس بیٹھتے مہندی‘ تیل لگا کر مٹھائی کھلاتے کہ اماں جان نے پکارا۔
’’انشراح آئو ناں، بہن کی رسم کرو۔‘‘ انشراح کا اٹھنا دوبھر ہوگیا تھا‘ کتنی مشکل سے خود کو سنبھالنے بیٹھی تھی وہی جانتی تھی۔ یہ اندازہ بھی ان ہی دنوں ہوا تھا کہ وہ محتشم کی محبت میں کس بری طرح مبتلا ہوچکی ہے۔
’’جائو انشی‘ بی بی جان بلا رہی ہیں۔‘‘ اماں سمجھیں اس نے سنا نہیں تو اس کا ہاتھ ہلا کر متوجہ کیا۔ اس نے بھی چونکنے کی اداکاری کی اور دھندلائی ہوئی آنکھوں سے سامنے دیکھا‘ جہاں اماں جان اسے قریب آنے کا اشارہ کررہی تھیں۔ انشراح کے نام پر محتشم نے چونک کر دیکھا۔ مرے مرے قدم اٹھاتی اس کے سامنے آرہی تھی۔ اس کا دماغ ایک پل کے لیے مائوف ہوگی تھا۔
’’یہ کون ہیں اور یہاں کیسے؟‘‘
’’میری کزن ہی سمجھ لو۔‘‘ عانیہ نے گول مول جواب دیا۔
’’میں سمجھ لوں‘ میرے سمجھنے سے یہ رشتہ بنے گا؟‘‘
’’میرے بابا جان کے کزن کی بیٹی ہے‘ ہمارے پاس ہی رہتی ہے‘ میری بہترین دوست ہے۔‘‘ محتشم کے ہونٹ بھینچ گئے۔ انشراح قریب آئی تو اماں جان نے خود اسے عانیہ کے پاس بٹھایا۔ انشراح نے کانپتے ہاتھوں سے چمچ میں کیک لیا اور عانیہ کی طرف بڑھایا‘ اس نے تھوڑا سا منہ کھول کر چھوٹا سا نوالہ لیا اور ہاتھ سے محتشم کی طرف اشارہ کیا کہ اسے کھلادے‘ انشراح نے وہی چمچ محتشم کی طرف بڑھایا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’سوری عانیہ‘ یار میں فیڈ اپ ہوچکا ہوں اور نہیں کھا سکتا۔‘‘ اس کے جملہ مکمل کرنے سے بھی پہلے انشراح نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔
’’کیا بات ہے انشی‘ تم کیوں اتنی بے زار لگ رہی ہو؟‘‘ شازیہ نے اس سے پوچھا تو وہ گڑبڑائی۔
’’نہیں‘ ایسا تو کچھ نہیں ہے۔ تمہیں پتا نہیں کیوں ایسا لگ رہا ہے؟‘‘
’’مجھے لگ رہا ہے؟‘‘ شازیہ نے مسکرا کر دہرایا۔ ’’یہاں ہر دوسرا بندہ پوچھ رہا ہے کہ انشراح کو کیا ہوا ہے؟‘‘

’’غالباً عانیہ کی شادی کا سوچ کر اداس ہے انشراح۔‘‘ نازیہ نے کہا۔
’’ہاں شاید۔‘‘ وہ دھیرے سے کہتی ہوئی بیٹھ گئی۔
شادی اتنی ہی شاندار ہوئی تھی جتنی کہ لوگ توقع کررہے تھے۔ عانیہ ہلکے گلابی اور اودے رنگ کی میکسی میں اپسرا لگ رہی تھی۔ محتشم نے ہلکی گلابی شیروانی‘ جس کے کالر کی پٹی اودے رنگ کی تھی اور سر پرکلاہ بھی اودا تھا‘ پہنے عانیہ کے ساتھ بیٹھا تھا‘ چاند سورج کی جوڑی مکمل تھی۔
انشراح نے گہرے نیلے اور آتشی گلابی رنگ کے امتزاج کا سوٹ پہنا تھا۔ عانیہ زبردستی اسے اپنے ساتھ پارلر لے گئی تھی اور وہیں سے اسے تیار کروایا تھا۔ سو اس وقت وہ بلا مبالغہ اگر سامنے چلی جاتی تو عانیہ کے روپ کی جگمگاہٹ بھی ماند پڑجاتی۔ وہ دانستہ پیچھے پیچھے ہی رہی تھی‘ سوائے ایک بار کے اور محتشم کی نگاہیں اس پر جم کے رہ گئی تھیں۔

(جاری ہے)

سالگرہ مبارک

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close