Hijaab Apr 19

پھر یوں ہوا

اسرأصغیراحمد

رات ایسا ہوا
میرے بستر کی سب سلوٹیں
ان میں لپٹی ہوئی
بے چین سی وہ سبھی کروٹیں
میری آنکھوں کے کونوں میں دبکے ہوئے
چند سہمے ہوئے وہ میرے خواب میں
اور ہونٹوں کی دہلیز پر
میری اکھڑی سانس کی پنکھڑی
میرے قدموں سے لپٹی ہوئی
زندگی کی رمق
اور مٹھی میں جو آخری رات تھی
وہ تم لے گئے
سنو…!
وہ سب تم لے گئے ہو…!

اس نے اپنی آنکھوں کے بھیگے کنارے صاف کیے‘ اس کی آنکھیں شب بیداری کی وجہ سے بوجھل اور سرخ ہورہی تھیں۔
’’تم صرف میری ہو۔‘‘ کہیں دور سے آواز آئی مگر آواز بالکل صاف تھی‘ لیکن اس کے آس پاس اس کی تنہائی کے سوا کچھ نہیں تھا۔
}…{٭}…{
عجیب الجھا ہوا کیس ملا تھا اس بار، بہت کوششوں کے بعد بھی اسے گتھی سلجھتی ہوئی دکھائی دے نہیں رہی تھی۔ مخالف وکیل کے دلائل اور ثبوتوں نے اس بار اسے خاموش ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ حالانکہ اس کا ریکارڈ بہت شان دار تھا۔ وہ لاجواب کرنے والوں میں سے تھی مگر تاریخ میں یہ بھی لکھا جانا تھا کہ زنجبیل بھی کبھی لاجواب ہوئی تھی۔ کچھ مخالف پارٹی کا کیس مضبوط تھا کچھ ان کا وکیل بھی بہت خود اعتماد تھا مگر مسئلہ سارا ثبوت نہ ہونا تھا۔ قتل ایک مشہور زمانہ شخصیت کا ہوا تھا اور اتنی صفائی سے کیا گیا تھا کہ انگلی کا نشان بھی کہیں سے نہ مل رہا تھا۔ زنجبیل تھک گئی تھی ذہنی طور پر… سوچ سوچ کر مگر کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اپنے چیمبر کی طرف بڑھ گئی۔
’’مس زنجبیل…‘‘ آواز انجان تو نہ تھی‘ اس نے مڑ کر دیکھا مخالف وکیل ملیح احمد بیگ کھڑے تھے۔
’’جی۔‘‘ اسے حیرت ہوئی اس کا اس طرف کیا کام بھلا؟
’’آج آپ بہت ڈسٹرب لگیں مجھے… از ایوری تھنگ اوکے…‘‘
’’نہیں احمد صاحب‘ ایسا تو نہیں ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر پروفیشنل مسکراہٹ تھی۔
’’لیکن مجھے ایسا ہی لگا‘ ورنہ آپ اتنی جلدی لاجواب ہونے والوں میں سے نہیں۔‘‘ ایسا لگتا تھا جیسے اسے بہت دکھ ہوا تھا اس کے لاجواب ہونے پہ۔
’’آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔‘‘ اسے حیرت ہوئی۔
’’میں وکیل ضرور ہوں خود غرض نہیں… مجھے مزہ تب آتا ہے جب سامنے والا بھی چاروں شانے چت کرنا جانتا ہو… یہ کیس لینے کی وجہ آپ کی ہستی ہے‘ آپ کو بہت بار دلائل دیتے دیکھا ہے‘ آپ کے پاس ثبوت نہ ہوں تب بھی آپ خاموش ہونے والی نہیں‘ پھر آج آپ کی خاموشی کو میں سمجھ نہیں سکا؟‘‘ وہ خاصا خائف تھا۔ کوئی اس حد تک جانچ چکا تھا اور اس کو خبر بھی نہیں ہوئی تھی۔
’’مجھے دیر ہورہی ہے احمد صاحب‘ میں چلتی ہوں اب۔‘‘ بہت حیران کن بات تھی مگر وہ زیادہ سوچنا نہیں چاہتی تھی اسے ضرورت بھی نہیں تھی۔
’’جواب تو دیا نہیں آپ نے؟ چلیے پھر کبھی سہی‘ اللہ حافظ۔‘‘ وہ زیرلب مسکرا دیا۔
مگر زنجبیل کی آنکھوں میں کچھ چبھنے لگا تھا۔
}…{٭}…{

وہ مجھ سے ملا اور مل کے بچھڑ گیا
بس اتنی سی ہے کہانی میری…!

’’مجھے گھر والے فورس کررہے شادی کے لیے‘ تم ہی بتائو میں کیا کروں؟‘‘ ایک صور تھا جو پھونکا گیا تھا۔
’’تو تم شادی کرلو گے؟‘‘ کسی کا دل سہما معصوم بچے کی طرح۔
’’تم جانتی ہو اماں جان بیمار رہتی ہیں ان کی ضد ہے کہ بہو ان کی زندگی میں گھر آجائے۔ میں انہیں تمہارے گھر بھیجنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ سنجیدہ تھا۔
’’مگر میرے گھریلو حالات تمہارے سامنے ہیں صائم۔‘‘ آواز میں بے چارگی و بے بسی تھی۔
’’اب میں کیا کروں زونی؟‘‘ وہ سراپا سوال تھا۔
’’تھوڑا انتظار…‘‘ وہ سراپا گزارش بن گئی۔
’’انتظار لاحاصل ٹھہرا تو…؟‘‘ وہ مشکوک تھا۔
’’ضروری تو نہیں…‘‘
’’کتنا…؟‘‘ مطمئن ہوگیا تھا شاید۔
’’دو سے تین سال…‘‘ آنکھوں میں دیپ جلے۔
’’میں کرلوں گا مگر… میری ماں شاید نہ کرسکے‘ ان کو اس انتظار کی سولی پر مت لٹکائو۔‘‘ دیوں کی لو مدہم پڑی تھی۔ سینے کے اندر کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا تھا۔
’’پھر تم شادی کرلو۔‘‘
’’میرے بغیر رہ لو گی؟‘‘ اسے شبہ ہوا۔
’’تم بھی تو رہوگے۔‘‘ اس نے خود کو یقین دلایا۔
’’مشکل ہوگا۔‘‘
’’ناممکن تو نہیں… تمہارے لیے۔‘‘ وہ یہ کہہ نہ سکی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ شاکی ہوا۔
مگر وہ مطمئن تھی‘ اس ستون کے سہارے کب تک کھڑی رہتی جو خود کمزور تھا مگر یہ سکون بھی کبھی کبھی بے سکون کردیتا ہے جو روح میں سرایت کر جائیں وہ آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتے۔
}…{٭}…{
’’تمہاری آنکھوں میں ٹھہری اداسی‘ تمہارے ہونٹوں پہ بکھری مسکراہٹ کا ساتھ کیوں نہیں دیتی؟ میں نے دیکھا ہے حزن وملال کو‘ تمہیں اتنا شاک کیوں لگا میری باتوں کا؟ کیا میں غلط کہہ رہا تھا یا تمہیں چوری پکڑے جانے کا ڈر تھا؟ میں اندازہ نہیں لگا پایا… لوگ مجھے بہت شارپ اور اسمارٹ سمجھتے ہیں اور مجھے دیکھو دو آنکھوں کی زبان نہیں سمجھ پاتا ہر بار ہار جاتا ہوں۔‘‘ لفظوں میں اداسی اور بے بسی بین کررہی تھی۔
}…{٭}…{

جب بھی بھیگو گے تم بارش میں
ہم تمہیں یاد بے حساب آئیں گے

آج خوب بارش ہوئی تھی لیکن گیلی مٹی کی سوندھی خوشبو بھی اس کی آنکھوں کی ویرانی نہ مٹا سکی تھی‘ کبھی اس موسم میں وہ بے طرح کھلکھلاتی پھرتی تھی مگر اب وقت بدل گیا تھا اور اب حالات بھی تو بدل گئے تھے ناں۔
}…{٭}…{
اسٹڈی ٹیبل پر قانون کی موٹی سی کتاب کھلی رکھی تھی۔ شاید کوئی پڑھ رہا تھا مگر اب اس کی توجہ کا مرکز کتاب نہیں تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ سامنے رکھی کتاب بند کرے یا زندگی کی اس کتاب کو جو اس کے شعور کے دریچوں میں کھل گئی تھی۔
’’ملیح احمد بیگ… صحیح کہتے ہو تم‘ میرا دھیان کیس میں نہیں تھا ورنہ یہ کوئی اتنا پیچیدہ کیس بھی نہیں جب میرا حریف میرے ہارنے سے خائف ہے تو میں کیوں نہیں؟ مجھے سوچنا ہوگا‘ ہر نکتے پر… مجھے اپنا کیریئر بچانا ہے۔‘‘ اس نے تمام سوچوں کو جھٹکا اور سارا ذہن کیس پر لگا دیا تھا۔
}…{٭}…{
’’ویل ڈن… مس زنجبیل… کمال کردیا آپ نے تو۔‘‘ وہ ملیح احمد تھا‘ وہ بنا دیکھے بھی کہہ سکتی تھی اور وہ ٹھیک ہی کہتی تھی۔
’’کچھ ایسا بھی نہیں اب۔‘‘
’’اب ایسا بھی نہ کہیے کمال تو بہرحال آپ نے کیا ہے۔ اگر آپ اس طرح سوچ لیتی تو آپ بہت پہلے جیت جاتی‘ میں تو حیران ہوں اس پوائنٹ پہ آپ نے پہلے کیوں نہیں سوچا؟‘‘ وہ خود بھی تو یہی سوچ رہی تھی۔
’’اس لیے کہ میں صرف وکیل تھی پہلے۔‘‘ ایک مسکراہٹ ہونٹوں پہ آئی تھی سورج کی پہلی کرن جیسی۔
’’جاسوس کل رات کو بنی ہوں۔‘‘ ایک زور دار قہقہہ گونجا تھا پارکنگ ایریا میں۔
’’آئی لائک اٹ… مس جاسوس۔‘‘ وہ شوخ ہوا اور ایک دم سورج کی کرنیں ماند پڑگئی تھیں یا پھر ملیح احمد کو ایسا لگا تھا۔
}…{٭}…{

مہمان چار دن کے اور گھر سمجھ لیا
ہم نے سراب کو ہی منظر سمجھ لیا…!

’’صائم…‘‘ بے حد پیار بھرا انداز تھا۔
’’ہوں…‘‘ وہ مدہوش ہوا۔
’’اک بات پوچھوں؟‘‘ اجازت کی ضرورت تو نہیں تھی۔
’’دو پوچھ لو۔‘‘ وہ مہربان ہوا۔
’’اگر کبھی میں تم سے بچھڑ جائوں تو کیا کروگے تم؟‘‘ خدشات واضح تھے۔
’’بکواس نہ کیا کرو… تمہیں مجھ سے کوئی الگ نہیں کرسکتا زونی۔‘‘ مدہوشی کے بادل چھٹ گئے۔
’’ارے غصہ تو مت کرو… میں نے تو یونہی بات کی تھی۔‘‘ وہ خوف زدہ نظر آئی۔
’’آئندہ ایسی بات کرنا تو دور سوچنا بھی نہیں۔‘‘ حکم ہوا تھا۔
’’اچھا جیسا تمہارا حکم۔‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح تابعدار ہوا۔
چاندنی بھی مسکرا اٹھی تھی دونوں کو مسکراتا دیکھ کر… مگر وہ بچھڑ گیا… سراب تھا ناں… ملا ہی نہیں کبھی…!
منظر بدلا… موسم نے انگڑائی لی… وقت کی گرد سے سارے منظر دھندلا گئے… اس کی شادی کی خبر وصول ہوئی تھی اسے اور اس خبر کے بعد ہر دکھ چھوٹا لگنے لگا تھا۔ یادوں کے موتی سنبھال سنبھال کر رکھ رہی تھی۔ آنکھوں کے پانی سے روز انہیں سینچتی تھی۔

تمہارا شکریہ اے دل!
ہمیں برباد کرنے کا
بہانہ خوب ڈھونڈا ہے
ہمیں دل شاد کرنے کا
جو سوچا ہے کبھی ہم نے
چلو فریاد کرتے ہیں
تو ملا ہے مشورہ ہم کو
دل فولاد کرنے کا
عداوت ہی عداوت ہے
محبت بھول بیٹھا ہوں
چلو رشتہ کوئی تو ہے
کسی کو یاد کرنے کا

وہ باغ کی روش پر بھاگ رہی تھی اور ان آوازوں سے پیچھا چھڑانا چاہ رہی تھی مگر ناکام تھی۔ اچانک اس کی نظر اس باغ میں نصب مورتیوں پر ٹھہر گئی‘ کچھ عورتیں ہاتھ میں مٹکے لیے یوں کھڑی تھیں جیسے سامنے کھڑی بھیڑ بکریوں کو پانی پلانا چاہتی ہیں مگر بے بس تھیں پانی پلا نہیں سکتی تھیں۔
’’میں بھی تو ان جیسی ہوں… ایک مورتی… ایک کٹھ پتلی… جس نے جب چاہا جیسے چاہا استعمال کرلیا…‘‘ ایک تلخ سوچ اور مسکراہٹ نمودار ہوئی‘ ایک سرد لہر دوڑ گئی تھی اس کے تن بدن میں… وہ پھر سے بھاگنے لگی… سرپٹ‘ جیسے خود کو بھی پیچھے چھوڑ جانا چاہتی ہو… وہ بھاگ بھاگ کر تھک گئی تھی مگر خیالات اس کے ساتھ چمٹ گئے تھے کسی آسیب کی طرح… وہ روش سے ہٹ کر سامنے موجود بینچ پر جابیٹھی… کرب سے لب بھینچ لیے تھے اس نے۔
’’جن کے لیے قربانیاں دیں انہوں نے کیا کیا میرے ساتھ؟ مجھے صرف مشین سمجھ لیا‘ جس سے جب چاہا اپنی مرضی کی رقم نکلوالی… ابو کے چلے جانے کے بعد تو جیسے سب نے اپنی ہی دنیا بسالی… جس میں زنجبیل حسن کی کوئی جگہ نہیں تھی۔‘‘ دو موتی ٹوٹ کر گرے جو اس نے بے دردی سے رگڑ دیئے۔ اس نے سر ہاتھوں میںگرالیا‘ وہ خود کو پرسکون رکھنا چاہتی تھی۔
’’لگتا ہے آپ بھاگتے بھاگتے تھک گئی ہیں؟‘‘ کوئی بہت پاس کھڑا تھا۔
’’تھک ہی تو گئی ہوں۔‘‘ اچانک اس کے زبان سے پھسلا۔
’’تو اپنی تھکن مجھے دان کردیجیے مس جاسوس اور آپ آرام سے پانی پئیں۔‘‘ وہ بھی تو ملیح احمد تھا لفظوں کا جادوگر۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی مگر زنجبیل کو اس وقت پانی کے سوا کسی چیز کی طلب نہیں تھی۔
’’شکریہ۔‘‘ وہ آدھی بوتل پی گئی تھی۔
’’لگتا ہے بہت پیاس لگی تھی آپ کو؟‘‘
’’جی بہت۔‘‘ اس نے تسلیم کیا۔
’’کچھ زیادہ ہی واک کرلی میں نے آج۔‘‘
’’واک…! مجھے لگا آپ بھاگ رہی ہیں۔‘‘ اس نے آنکھیں گھمائی۔
’’شاید۔‘‘ اس نے آنکھیں چرائیں۔
’’کس سے بھاگ رہی ہیں آپ؟‘‘ وہ آنکھوں کے بھید پانا چاہتا تھا۔ وہ چونکی‘ کون تھا وہ شخص؟ پھر اتنا غور سے کیوں دیکھتا تھا اسے‘ اس کے اردگرد دھواں پھیلنے لگا۔ وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی اور اسے بھاگنا تھا۔ وہ اس سوال کا سامنا کرنے کا حوصلہ کب رکھتی تھی؟ وہ بس بھاگ سکتی تھی اور وہ بس بھاگ ہی رہی تھی۔
}…{٭}…{
’’بیٹا تم سے ایک بات کہنی ہے۔‘‘ اس کی ماما اس کے کمرے میں آئیں یقینا کوئی بڑی بات ہی ہوگی۔
’’جی میں سن رہی ہوں۔‘‘ وہ مؤدب ہوئی۔
’’میرا خیال ہے اب تمہاری شادی کردی جائے زنجبیل‘ ماشاء اللہ ستائیس برس کی ہوچکی ہو تم۔‘‘
’’آپ کو یہ خیال کیوں آیا؟‘‘ اسے حیرت نہیں ہوئی تھی مگر عجیب ضرور لگا تھا۔ بھلا ان لوگوں کے پاس وقت کب تھا کہ اس کے بارے میں سوچیں؟
’’ارے بیٹا… شادی تو تمہاری کرنی ہے ناں‘ بیٹیاں ایک نا ایک دن پرائی ہوہی جاتی ہیں۔ تمہارا بھائی بھی فکرمند ہے‘ وہ تمہاری بھابی کا کزن ہے ناں‘ ناصر اس کا رشتہ آیا ہے تمہارے لیے۔‘‘ تو آخر تھیلے سے بلی باہر نکل ہی آئی تھی۔
’’آپ لوگوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں‘ شادی میں نے کرنی ہے آپ لوگوں نے نہیں‘ اپنا لائف پارٹنر میں خود چن سکتی ہوں بچی نہیں ہوں۔‘‘ اسے حیرت اب بھی نہیں ہوئی تھی۔ وہ اس کے لیے کوئی ایسا ہی بندہ منتخب کرسکتے تھے جو ہمیشہ ان کے تلوے چاٹتا رہے۔
’’تم اپنا اچھا برا کب سے سمجھنے لگی؟‘‘ ان کی آواز میں غصہ واضح ہوا۔
’’جب سے آپ لوگ صرف اپنا اچھا دیکھنے لگے ہیں۔‘‘ وہ متاثر نہیں ہوئی تھی۔
’’تم سے کچھ کہنا ہی فضول ہے۔‘‘ وہ غصے سے تن فن کرتی باہر نکل گئیں۔ وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی تھی۔
}…{٭}…{
تین سال گزر گئے تھے… پورے تین سال… ان گنت دن ان گنت راتیں…! وہ آج مشہور و معروف وکیل تھی… پیسے کی فراوانی تھی‘ تین سال پہلے اور آج میں بہت فرق تھا۔ وہ والد جن کے لیے تین سال پہلے جب وہ قانون کی طالبہ تھی‘ بہت پریشان رہتی تھی‘ آج وہ ان کے ساتھ نہ تھے… وہ زندگی سے ناطہ توڑ چکے تھے… بس ان کی کمی تھی ایک ادھوری محبت کی خلش… اک خلا بن گیا تھا جو پُر نہ ہورہا تھا… باقی سب بہت شاندار تھا‘ اس نے آنکھیں رگڑ ڈالیں۔ اس کا انتظار آج ختم ہوگیا تھا۔ بغیر کسی حاصل کی جستجو میں بھی اس نے اپنا وقت‘ جو اس کے لیے تھا‘ اس نے پورا کیا تھا… آج وہ پُرسکون تھی کہ وہ سرخرو رہی… اس انتظار لاحاصل میں۔
}…{٭}…{
کورٹ سے چھٹیاں ہوئیں اس کی دوستوں نے نادرن ایریا کا ٹور پلان کیا… وہ بھی چلنے کو تیار تھی۔ اسے صرف جھیل سیف الملوک دیکھنا تھی‘ جہاں پریاں اترتی تھیں‘ ہاں وہ پریوں اور پربت کی دیوانی لڑکی… جو کچھ عرصے کے لیے کھو گئی تھی۔ اب واپس اپنی جون میں آنا چاہتی تھی۔
}…{٭}…{
کاغان کے قریب‘ ناران میں واقع جھیل‘ وہ بچپن سے ہی اس کی دیوانی تھی۔ وہ تو یہ بھی چاہتی تھی کہ کبھی وہ وہاں جائے اور اس کا شہزادہ اسے وہاں ہی مل جائے۔ اس کو بگھی میں بٹھائے اور اپنے ساتھ لے جائے‘ اپنے دیس۔ وہ اپنی ایک ساتھی کو یہ خیالات سنا کر بہت ہنسی تھی۔
اپنی آنکھوں سے اس جھیل کو دیکھ کر وہ حیران ہی تو رہ گئی تھی۔ اس کی توقعات سے بھی زیادہ خوب صورت جھیل تھی۔ دریائے کنہار میں گرتا نالا یوں شور مچاتا تھا جیسے دریا چلتا ہی اس کے بل بوتے پر ہے اور جھیل کے حسن کو چار چاند لگاتی ملکۂ پربت کسی ملکہ کی طرح سفید پوشاک پہنے پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھی۔ نظر پڑتے ہی وہ نظر ہٹانا بھول گئی تھی۔ یہاں آکر وہ ایک بار پھر معترف ہوئی تھی۔
’’اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے۔‘‘
}…{٭}…{
اپنے سامنے آتے شخص پہ اسے کسی شہزادے کا گمان ہوا۔ اونی بلیک کوٹ پہنے‘ ہلکی ہلکی شیو کے ساتھ وہ بہت دلکش نظر آرہا تھا۔ وہ بغور دیکھے گئی۔ وہ شہزادہ قدم قدم چلتا اس کے پاس آرہا تھا مگر یہ کیا… یہ تو بیرسٹر ملیح احمد بیگ تھے۔ جو اس کے قریب آرہے تھے… وہ میرون شال لپیٹے اونی ٹوپی پہنے کھڑی اس حسین منظر کا حصہ ہی تو لگ رہی تھی۔
’’آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی مس جاسوس…‘‘ وہ کھلکھلایا۔
’’اور مجھے حیرت…!‘‘ وہ ہنسی۔
’’وہ کیوں؟‘‘ اس نے آنکھیں گھمائیں۔
’’آج آپ مجھے جاسوس معلوم ہورہے ہیں۔‘‘ وہ سوال نظر انداز کر گئی۔
’’ہاہاہاہا‘ بہت خوب‘ ویسے یہ کہنا بے جا نہیں… ہمیں پتا لگا تھا کہ آج یہاں پریاں اتر رہی ہیں تو ہم نے بھی ادھر کا رخ کرلیا۔‘‘
’’کتنے دن رہنا ہے ادھر؟‘‘ وہ دلچسپی سے اس کو دیکھ رہا تھا۔
’’ہمیشہ…‘‘ وہ بے ساختہ بولی۔
’’کس کے ساتھ؟‘‘ وہ متجسس ہوا اور وہ چونک گئی… یہ سوال تو آج تک اس کے ذہن میں نہیں آیا تھا۔
’’ہمم… آپ یہاں کب تک ہیں؟‘‘ اس نے موضوع بدلا۔
’’ویسے تو ایک ہفتہ مگر یہاں آکر دل کرتا ہے ہمیشہ یہیں رہ جائوں۔‘‘ وہ پرجوش انداز میں بولا۔
’’آہم… کس کے ساتھ؟‘‘ اس نے بدلہ چکانے میں دیر نہیں کی۔
’’ہاہاہا… آپ کے ساتھ۔‘‘ وہ جواب سوچ چکا تھا۔
’’ایسا مذاق نہیں کرتے احمد صاحب۔‘‘ اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
’’میں سنجیدہ ہوں زونی… آج سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
’’آپ… کچھ نہیں جانتے میرے بارے میں۔‘‘ اس نے ٹھہر ٹھہر کر جملہ مکمل کیا۔
’’میں جاننا بھی نہیں چاہتا۔ آپ کی آنکھوں میں ٹھہرے حزن وملال نے بہت متجسس کیے رکھا‘ میں پوری پوری رات آپ کی آنکھوں کے رنگ پہچاننے کی کوشش کرتا تھا مگر کبھی کامیاب نہ ہوسکا۔‘‘ وہ سانس لینے کو رکا جبکہ مدمقابل سانس روکے ہوئے تھا۔
’’مگر میں نے آپ کی ذات پر طاری جمود کو ٹوٹتے دیکھا ہے‘ آپ کو خوش رہنے کی کوشش کرتے دیکھا ہے اور اس کوشش میں آپ کا ساتھ دینا چاہتا ہوں… آپ کی محنت رائیگاں ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔‘‘
’’یہ سب اتنا آسان نہیں۔‘‘ وہ مطمئن نہیں تھی۔
’’یقینا… مگر ناممکن بھی تو نہیں۔‘‘ یقین قابل دید تھا۔
’’آئیں… آپ کو ملکۂ پربت کی سیر کروائوں۔‘‘ وہ مشکوک تھی شاید۔
’’پرامس… آپ کو گرنے نہیں دوں گا۔‘‘ وہ اس کا ڈر بھانپ گیا تھا۔
’’اپنا وعدہ آپ کو ہر حال میں یاد رکھنا ہوگا۔‘‘ ہاتھ تھام لیا تھا۔
’’یہ میرا وعدہ ہے محترمہ…! میں اپنا وعدہ ہرحال میں یاد رکھوں گا۔‘‘ وہ مسکرائی‘ کھلکھلائی… یوں لگا دور کھڑی پریاں بھی ان کے سنگ مسکرا اٹھی ہوں۔
}…{٭}…{

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close