Hijaab Apr 19

اک ذرا سی بات

راشدہ رفعت

ثانیہ نے بہت دل لگا کر کوفتے پکائے تھے۔ یہ احمد کی فرمائش تھی اور احمد کبھی کبھار ہی کسی خاص چیز کی فرمائش کرتے تھے۔ ورنہ وہ بنا نخرہ کیے سب کچھ رغبت سے کھا لیتے تھے دال، سبزی‘ گوشت، چاول، ثانیہ کا جو جی چاہتا پکا لیتی اگر کچھ نہیں بھی پکاتی تو فریج میں سے باسی سالن گرم کرکے احمد کے سامنے رکھ دیتی۔ احمد صبر شکر کرکے وہ بھی کھا لیتے۔
’’ایسے سیدھے سادھے شوہر کی قدر کیا کرو ثانیہ۔ قسمت والوں کو ملتے ہیں ایسے شوہر۔‘‘ میکے میں ماں، بہنیں ثانیہ کی زبانی احمدکی باتیں سن کر اسے نصیحت کرتیں۔
’’قدر بھی کرتی ہوں آپا اور شکر بھی۔‘‘ وہ مسکرا کر بڑی بہن کو جواب دیتی۔
ثانیہ بھرے پرے سسرال میں بیاہی گئی تھی، لیکن نوکری کی وجہ سے احمد گھر سے دور رہتے‘ شادی کے دو ہفتے بعد ہی ثانیہ بھی احمد کے ہمراہ آگئی تھی۔ میکہ اور سسرال ایک ہی شہر میں تھا۔ دو چار ماہ بعد وہاں کا چکر لگتا ہاں ٹیلی فون پر روزانہ ہی سب سے گپ شپ ہوجاتی۔ سسرال میں چھوٹی نندوں سے بھی اس کی خوب دوستی ہوگئی تھی۔ امی اور بہنوں سے تو دن میں دو بار بھی بات ہوجاتی۔ یوں تنہائی اور اکیلے پن کا احساس کم ہوجاتا۔
احمد تو صبح کے گئے شام ڈھلے گھر لوٹتے تھے۔ جب احمد گھر آتے تو کھانا بھی تیار ہوتا اور ثانیہ بھی۔ احمد تعریف کرنے میں بخل سے کام نہ لیتے۔ نک سک سے تیار بیوی کی بھی تعریف کرتے اور اگر ثانیہ کھانے پر کوئی خاص اہتمام کرتی تو ذائقہ دار کھانا پکانے پر بھی ثانیہ کو سراہتے۔
آج ثانیہ نے کوفتے پکائے تھے اور ساتھ میٹھے میں فیرنی بھی بنا رکھی تھی۔ احمد آفس میں لنچ نہیں کرتے تھے۔ ثانیہ بھی دوپہر کو کچھ ہلکا پھلکا کھا لیتی تھی۔ لہٰذا احمد کی آفس سے واپسی پر دونوں اکٹھے کھانا کھاتے تھے۔ آج احمد گھر لوٹے تو ان کے فریش ہونے کے بعد ثانیہ نے دسترخ وان لگانا چاہا۔
’’یار مجھے فی الحال بھوک نہیں۔ ذرا دیر پہلے ہی ایک کولیگ نے زبردستی سموسے کھلا دیے۔ تم کھانا کھالو، تمہیں تو بھوک لگ رہی ہوگی۔ میں بعد میں کھانا کھالوں گا۔‘‘ احمد نے رسان بھرے لہجے میں ثانیہ کو مخاطب کیا۔
’’آج تک ایسا ہوا ہے جناب کہ میں نے آپ کے بغیر کھانا کھایا ہو۔ کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ اتفاق سے آج مجھے بھی کوئی خاص بھوک نہیں، دوپہر کو ساتھ والوں نے پلائو بھیجا تھا۔ گرم گرم مزے کا پلائو تھا۔ میں فوراً چٹ کر گئی۔ آپ کے لیے بھی نہیں بچایا۔‘‘ اس نے مسکرا کر احمد کو آگاہ کیا۔
’’بہت اچھا کیا۔‘‘ احمد نے ہنستے ہوئے اس کی ناک پکڑ کر دبائی۔ ’’پھر یوں کرتے ہیں تم فی الحال ٹی وی دیکھ کر دل بہلائو۔ مجھے لیپ ٹاپ پر آفس کا کچھ کام کرنا ہے۔ پھر فارغ ہوکر ڈنر کریں گے، اس کے بعد آرام کریں گے۔‘‘ احمد نے کہا۔ ثانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ احمد لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گئے اور ثانیہ ٹی وی تو کیا دیکھتی اس نے بڑی آپا کو کال ملالی۔ دوپہر کو ان کا فون آیا تھا تو ثانیہ کچن میں مصروف تھی۔ اس نے جب تو ان سے کہہ دیا تھا کہ وہ بعد میں فون کرے گی اور انہیں فون کرنا اب یاد آیا تھا۔
فون آپا کے بجائے اس کی آٹھ سالہ بھانجی ابیہا نے اٹھایا۔ بھانجے، بھانجیوں میں ثانیہ کی جان تھی۔ وہ ابیہا سے ہی پیار بھرے لہجے میں باتیں کرنے لگی۔ ابیہا اور اس سے ایک سال چھوٹے ریان کے پاس آج کل گفتگو کا ایک ہی موضوع تھا۔ طلحہ، ان کے چھوٹے چاچو کا نومولود بیٹا۔ دونوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی بار اپنے گھر میں اتنا چھوٹا بچہ دیکھا تھا۔ چھوٹے طلحہ سے دونوں ہی خوب پیار کررہے تھے۔ ثانیہ کو بھی انہوں نے طلحہ کی ڈھیروں تصویریں بھیجی تھیں۔ ابیہا کی زبانی طلحہ کے سونے، جاگنے اور رونے کے قصے سننے کے بعد اسے آپا سے بات کرنے کا موقع ملا۔
’’آپ کے بچے تو طلحہٰ کے دیوانے ہی ہوگئے ہیں آپا۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے آپا کو مخاطب کیا۔
’’ان دونوں کا بس چلے تو رات کو بھی منے کو اپنے پاس سلائیں۔ دونوں کا شوق دیکھ کر محسن بھی مجھے اکثر ہنس کر چھیڑتے ہیں کہ اب تیسرے کا ارادہ باندھ لو۔‘‘ آپا نے ہنستے ہوئے بتایا تو وہ بھی ہنس دی۔ آپا اور محسن بھائی بچے دو ہی اچھے والے مقولے پر عمل کرنے والوں میں سے تھے۔ آٹھ سالہ ابیہا، سات سالہ ریان کے بعد انہوں نے تیسرے بچے کے بارے میں سوچا تک نہ تھا۔ ابیہا اور ریان اپنے چھوٹے بہن بھائی کی کمی چاچو کے بیٹے سے پوری کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
’’مجھے ابیہا نے تصویریں بھیجی تھیں منے کی۔ کالا کلوٹا سا بچہ ہے پھر بھی آپ کے بچے اس پر فدا ہوئے جارہے ہیں۔ ویسے آپا یہ منا گیا کس پر ہے۔ آپ کا دیور تو شکل و صورت میں ٹھیک ٹھاک ہے۔ دیورانی کی رنگت بھی صاف ہے اور نین نقش بھی تیکھے ہیں۔ جب کہ بچے کی ناک تو بالکل چپٹی ہے۔ رنگ بھی بہت دبتا ہوا ہے۔ میں تو اس کی تصویریں دیکھ کر سوچ میں پڑگئی تھی کہ آخر یہ بچہ گیا کس پر ہے؟‘‘ ثانیہ نے آپا سے پوچھا۔
’’اپنے ننھیال پر ہے۔ اپنے بہن بھائیوں میں صرف نوشین کی رنگت صاف ہے باقی تو سب ایسے ہی ہیں۔‘‘ آپا نے اپنی دیورانی کے گھر والوں کے بارے مین رائے زنی کی۔
’’ارے ہاں یاد آیا آپا۔ آپ کے دیور کے ولیمے میں جب اس کے سسرال والے فوٹو سیشن کے لیے اسٹیج پر آئے تھے تو ہم سب مانی کی بات پر کتنا ہنسے تھے۔ یاد ہے ناں، مانی نے کیا تبصرہ کیا تھا۔ کہہ رہا تھا یوں لگ رہا ہے ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے اسٹیج پر ہلہ بول دیا ہے۔‘‘ ثانیہ کو چھوٹے بھائی کی بات یاد کرکے نئے سرے سے ہنسی آگئی تھی۔ آپا بھی ہنس دیں۔ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نگاہیں جمائے احمد نے ذرا کی ذرا نگاہ اٹھا کر بیوی کو دیکھا۔ پھر دو بارہ کام کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ثانیہ نے مزید آدھا گھنٹہ آپا سے گپ شپ کی۔ جب احمد کا کام ختم ہوا تو اس نے بھی آپا کو اللہ حافظ کہہ دیا۔
’’کھانا لگا لو یار۔ اب بھوک محسوس ہورہی ہے۔‘‘ احمد کے کہنے پر وہ مستعدی سے دستر خوان لگانے اٹھی۔
کھانے کے دوران اس کی سماعت احمد کی جانب سے کسی تعریفی جملے کی منتظر رہی، لیکن احمد خاموشی سے کھانا کھاتے رہے۔
’’کوفتے مزے کے پکے ہیں ناں احمد؟‘‘ آخر اس نے خود ہی پوچھ لیا۔
’’ذرا سے سخت ہیں، نمک بھی کچھ تیز لگ رہا ہے۔‘‘ احمد نے جواب دیا۔ ثانیہ کو لگا اس کی آج کی محنت اکارت چلی گئی۔ احمد کے جواب سے اسے قدرے افسوس ہوا تھا۔
’’اچھا آپ یہ میٹھا ٹرائی کریں۔ میں نے آج فیرنی بھی بنائی ہے۔‘‘ اس نے فیرنی کا ڈونگہ احمد کے آگے کیا۔ احمد نے پیالی میں فیرنی نکالی۔
’’فیرنی تو پسند آگئی آپ کو یا اس میں بھی کوئی کمی بیشی ہے۔‘‘ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
’’سالن میں نمک کی طرح تم نے فیرنی میں چینی بھی زیادہ ڈال دی۔ اتنی زیادہ مٹھاس بھی اچھی نہیں لگتی۔‘‘ احمد نے رسان بھرے لہجے میں اسے مخاطب کیا۔ ثانیہ کا چہرہ اتر گیا۔
’’میں تو ہمیشہ ہی اتنا میٹھا ڈالتی ہوں، آپ نے پہلے تو کبھی کسی چیز پر نکتہ چینی نہیں کی، آج آپ کو نہ سالن پسند آیا نہ سوئیٹ ڈش۔ میں نے اتنا دل لگا کر کھانا پکایا تھا۔ آپ نے کھانے میں خامیاں نکال کر میرا دل ہی توڑ دیا۔‘‘ وہ شکوہ کیے بنا نہ رہ سکی۔ احمد بنا کچھ کہے اسے خاموشی سے دیکھنے لگے۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اس نے خفگی بھرے انداز میں پوچھا۔
’’میں صرف یہ سوچ رہا ہوں ثانیہ کہ جب ایک عورت اپنے ہاتھ سے پکائے جانی والے کھانوں پر کسی کی تنقید برداشت نہیں کرتی بلکہ اگر کوئی مین میکھ نکالے تو اسے برا لگتا ہے تو وہ جو تمام انسانوں کا رب ہے اپنی کسی بھی تخلیق پر تنقید کب اس کی ناراضی کا باعث نہ بنتی ہوگی۔ ہم انسانوں کو اللہ کی خفگی کی پروا کرنی چاہیے یا نہیں۔ میں بس یہ ہی سوچ رہا تھا۔‘‘ احمد سادہ سے انداز میں بولے۔ ثانیہ فوراً ان کی بات کی تہہ تک پہنچی اور شرمندہ سی ہوگئی۔
’’میری بات کا وہ مطلب نہیں تھا احمد‘ میں تو بس ویسے ہی آپا سے پوچھ رہی تھی کہ ان کے دیور کا بیٹا ماں اور باپ دونوں سے مختلف ہے۔ آخر اس کی شکل کس پر گئی ہے؟‘‘ اس نے بودے سے انداز میں صفائی پیش کی۔
’’میرا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں ہے ثانیہ۔ میں بس تمہیں احساس دلانا چاہتا تھا کہ کسی کے رنگ روپ، شکل و صورت، نین نقش کا مذاق اڑانا درحقیقت امر الٰہی پر تنقید ہے۔ بے شک کوئی بھی انسان دانستہ ایسا نہیں کرتا، لیکن غیر ارادی طور پر یہ اللہ کی تخلیق پر تنقید کے زمرے میں ہی آتا ہے۔‘‘ احمد اسے نرمی سے سمجھا رہے تھے۔ ثانیہ اس بار کچھ بول نہ پائی۔ وہ واقعی بری طرح شرمندہ ہورہی تھی۔ اسے یاد آیا، ابھی دو دن پہلے احمد کے سامنے ہی اس کی چھوٹی نند رابین کی ویڈیو کال آئی تھی۔ رابین اور ثانیہ کی بہت دوستی تھی۔ دونوں نند، بھاوج نے کتنی دیر تک شمسہ ممانی کی نئی نویلی بہو کی شادی کی تصویروں پر کس مزے سے تبصرے کیے تھے۔ لائبہ کے چھوٹا قد اور چپٹی ناک کا مذاق اڑایا تھا۔ احمد نے یقینا اس دن کی باتیں بھی سنی تھیں، جب ہی آج اسے سمجھانے کا فیصلہ کیا تھا۔
’’میں جانتا ہوں ثانیہ کہ تم بہت سلجھی ہوئی عادات کی مالک ہو۔ نماز روزے کی پابند ہو۔ پردہ کرتی ہو۔ صدقہ خیرات بھی کرتی ہو۔ خود سے وابستہ رشتوں کو مثالی انداز میں نباہتی ہو تو اتنی ڈھیروں خوبیاں رکھنے والی میری بیوی کسی ایک، آدھ خراب عادت کی وجہ سے رب کی ناراضی مول لے یہ مجھے گوارا نہیں۔ بس آج اسی لیے تمہاری اس عادت کی نشاندہی کی ہے۔ آئندہ رب کی بنائی گئی کسی بھی صورت میں نقعیب نکالنے سے پرہیز کرنا۔‘‘ احمد نے نرم لب و لہجے میں بات مکمل کی۔
بات درست تھی۔ سمجھانے کا انداز مؤثر سمجھانے والا اس کا محبوب شوہر۔ ثانیہ کو بھلا بات کیوں نہ سمجھ آتی۔
’’ان شاء اللہ آپ آئندہ میرے منہ سے ایسی کوئی بات نہیں سنیں گے احمد۔‘‘ اس نے مسکرا کر احمد کو یقین دلایا تو وہ بھی مسکرادیا۔
’’اچھا چھوڑو یہ باتیں اور ذرا فیرنی کا ڈونگہ تو پکڑائو۔ فیرنی واقعی لاجواب بنائی ہے تم نے۔ میں اور لوں گا۔‘‘ احمد کے کہنے پر ثانیہ نے پہلے تو شوہر کو گھورا پھر کھلکھلا کر ہنستے ہوئے ڈونگہ احمد کی جانب بڑھا دیا۔ دل ہی دل میں ایک بار پھر ارادہ باندھا کہ آئندہ نہ تو احمد کو شکایت کا موقع دے گی نہ اپنے رب کی ناراضی مول لے گی۔ بلکہ احمد کے ہی انداز میں وہ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کرے گی۔ بے دھیانی میں کی گئی کوئی چھوٹی سی بات پروردگار کو خفا کرنے کا باعث بن سکتی ہے تو ایسی بات سے احتراز ہی بھلا۔ ثانیہ کو خود یہ نکتہ بہت اچھی طرح سمجھ آگیا تھا اور اب اسے دوسروں کو بھی یہ ہی سمجھانا تھا۔

٭…٭…٭

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close