Hijaab Apr 19

دل پر نقش

عائشہ نور محمد

’’امائم…‘‘ سارہ کی آواز پر اس کی بند ہوتی آنکھیں بمشکل کھلیں۔
’’ہوں…؟‘‘
’’پہلے پیپر کی وجہ سے ماما نے میرا تم سے ملنا بند کر رکھا تھا اور کل سے تمہاری نیند پوری نہیں ہورہی… میں اتنی جدائی تمہاری کیسے سہوں آخر؟‘‘ اس نے چڑ کر کہا تو وہ مسکرادی۔
’’بس تھکن ہورہی ہے اور کچھ نہیں…‘‘ وہ بمشکل اٹھ کر بیٹھی۔
’’تھکن دور کرنے کے لیے تم نہالو‘ میں نے تمہاری دعوت کا اہتمام کر رکھا ہے۔‘‘
’’میری دعوت…! وہ کیوں…؟‘‘ وہ چونکی۔
’’پورے اٹھارہ دن کی باتیں بتانا ہیں تمہیں‘ تو اس دوران بھوک بھی تو لگے گی ناں۔‘‘ سارہ نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا۔
وارڈروب سے ایک سوٹ نکالا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ سارہ نے لان میں چائے کا انتظام کر رکھا تھا اور ساتھ میں دیگر لوازمات بھی تھے جو یقینا سب کے سب سارہ کے لیے تھے۔ اس نے پہلے چائے پی اور پھر سارہ کی باتیں سنتے سنتے نیچے گھاس پر لیٹ گئی۔ سارہ کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ بے چاری پر یہ دن کتنے بھاری گزرے تھے۔
’’تم اس مسئلے کا حل سوچو امائم…‘‘ سارہ کے رونے میں کچھ ہی وقت تھا‘ دل تو اس کا بھی بوجھل ہوگیا تھا مگر سارہ کی طرح نہ تو اس کے پاس اس مسئلے کا حل تھا اور نہ ہی اس سے نظر چرا نے کا حوصلہ اور نہ ہی وہ سارہ کی طرح رو سکتی تھی وہ اس معاملے سے الگ رہنا چاہتی تھی۔
’’امائم… تم سن رہی ہو ناں۔‘‘ سارہ نے اس کا کندھا ہلایا تو وہ اٹھ بیٹھی۔
’’سارہ تم نے تو کہا تھا کہ تم یہ فروٹ چاٹ میرے لیے لائی ہو۔‘‘ اس نے خالی ڈش سارہ کے آگے کی سارہ اچھل پڑی۔
’’میں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا اسے۔‘‘ دونوں نے ادھر ادھر دیکھا مگر ان دونوں کے علاوہ وہاں کوئی نہ تھا… امائم نے اسے خفگی سے دیکھا۔
’’یار پلیز میرا یقین کرو… تم جانتی تو ہو میں فروٹ چاٹ نہیں کھاتی اور جو چیز مجھے پسند نہیں وہ میں کیسے کھا سکتی ہوں؟‘‘
’’پھر کس نے کھائی؟‘‘
’’میں نے…‘‘ ایک بے حد بھاری آواز ان کے قریب سے ابھری مگر بولنے والا نظر نہیں آیا۔
’’میں… میں کون…؟‘‘ امائم نے نگاہ ادھر ادھر دوڑائی جبکہ سارہ جو اس کے سامنے بیٹھی تھی آگے بڑھ کر اس سے لپٹ گئی۔
’’آپ کا عاشق…‘‘ جواب نے دنوں کے چودہ طبق روشن کردیے۔
’’بھائی ذرا دیدار تو کرائیں۔‘‘
’’اے گستاخ حسینہ… بھائی کہہ کر تم نے میرے دل کا خون کردیا ہے۔‘‘ غضب ناک آواز آئی۔ ساتھ ہی ایک قطرہ خون کا سارہ کے ہاتھ پر گرا‘ اس کی چیخ نکلی اور امائم بھی سہم گئی۔
’’اٹھو یہاں سے چلتے ہیں۔‘‘ سارہ نے گھبرا کر کہا۔
’’میں جانے دوں گا تب یہاں سے جائو گی حسین لڑکیو…‘‘ قہقہہ لگایا گیا۔
’’عالیان…‘‘ قہقہہ کی آواز جن صاحب بھاری کرنا بھول گئے تھے۔ اس نے درخت پر سے چھلانگ لگائی اور ان کے قریب گرا۔
’’گدھے اگر میں مر جاتی تو…‘‘ سارہ نے اسے دھموکا جڑتے ہوئے بے ہوشی کا ارادہ موقوف کیا۔
’’تو پھر مجھے جھوٹ بولنا پڑتا کہ مرحومہ بڑی نیک خاتون تھیں اور مجھ سے تو بے حد محبت اور عقیدت تھی انہیں۔ کبھی ان کے منہ سے نازیبا الفاظ ادا نہیں ہوئے۔‘‘ وہ مزے لے لے کر بولا‘ امائم مسکرائی۔
’’مریں میرے دشمن۔‘‘ وہ جل کر اٹھی۔
’’سوچ لو، رمشہ کو خراش بھی آئی تو بھائی سے برداشت نہیں ہوگا۔‘‘
’’رمشہ کا کیا ذکر…‘‘ اس کی تیوری چڑھ گئی۔
’’بھئی گھنٹے بھر سے تمہارے مسائل سن رہا ہوں۔ جن کا تعلق رمشہ کی ذات سے تھا۔‘‘ اس نے تھرماس سے کپ میں چائے ڈالی۔
’’کیوں تمہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے؟‘‘
’’ہے کیوں نہیں مگر مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ وہ بھائی کو بہت عزیز ہے۔‘‘ امائم نے بسکٹ اور کباب کی پلیٹیں اس کے آگے کیں اور اپنے لیے بھی چائے نکال لی۔
’’کچھ ایسا کرتے ہیں کہ وہ بھائی کی نظر سے گر جائے‘ ان کے دل سے اتر جائے۔‘‘
’’شرم کرو سارہ۔‘‘ دونوں کے منہ سے نکلا۔
’’ٹھیک ہے‘ میں مانتی ہوں کہ یہ غلط ہے مگر رمشہ جیسی کے ساتھ یہی ہونا چاہیے۔‘‘
’’تم کب آئے عالیان…؟‘‘ امائم نے موضوع بدلا۔
’’جب آپ لوگ غیبت میں مصروف تھیں۔‘‘ یہ سن کر سارہ نے پیر پٹخے اور اٹھ کر چلی گئی۔
’’شادی کیسی رہی تمہارے دوست کی؟‘‘
’’زبردست، لاہور اتنا اچھا شہر ہے مجھے معلوم نہ تھا‘ وہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں۔‘‘
’’کہتے ہیں جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا؟‘‘ وہ مسکرا کر کہتی ہوئی اٹھی۔
’’اور جس نے کراچی نہیں دیکھا وہ…‘‘
’’وہ تو پھر کبھی بڑا نہیں ہوسکتا…‘‘ اس کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنسا پھر وہ دونوں بھی گھر کے اندرونی حصے کی طرف چلے گئے۔
خ…ز…خ
’’سارہ کا موڈ اتنا خراب کیوں ہے بھئی؟‘‘ مما عصر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
’’السلام علیکم…‘‘ عالیان کی آواز پر وہ چونکیں۔
’’وعلیکم السلام… تم کب آئے؟‘‘
’’نہ آتا تو بہتر تھا… دیکھیں مجھے دیکھتے ہی سارہ کا موڈ آف ہوگیا۔‘‘ وہ دھپ سے ان کے برابر میں بیٹھا۔
’’فضول بکواس نہ کیا کرو۔‘‘ سارہ جو وہاں اکتائی سی بیٹھی تھی، غصے سے بولی۔
’’سارہ… عصر کی نماز پڑھ لی تم نے؟‘‘ امائم نے جلدی سے کہا وہ نہیں چاہتی تھی کہ ماما کے سامنے رمشہ نامہ کھلے اور خود بھی تیزی سے کمرے کی طرف بڑھ گئی‘ سارہ بھی سر جھٹک کر اس کے پیچھے کمرے میں آگئی۔
’’کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ بھائی اس کا خیال دل سے نکال دیں۔‘‘ رات کو غنودگی میں ڈوبتے ہوئے بھی سارہ کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔ امائم گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔
خ…ز…خ
’’السلام علیکم!‘‘ روٹیاں پکاتی امائم نے کرنٹ کھا کر مڑ کے دیکھا تو دروازے پر سمیر کھڑا تھا۔
’’تم یہاں…؟‘‘
’’سلام کا جواب اب یہ ہوگیا ہے کیا؟‘‘ وہ مسکرایا‘ امائم کے لب بھینچے۔
’’وعلیکم السلام اور مما لائونج میں ہیں۔‘‘ اس نے رکھائی سے جواب دیا۔
’’ایک کپ چائے تو بنادو۔‘‘ وہ اندر آکر کرسی پر بیٹھ گیا‘ امائم اسے سلگتی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔
’’میں اندر لارہی ہوں‘ تم مما کے پاس جائو۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب آیا۔ ’’مجھ سے اتنا خائف کیوں رہتی ہو تم؟‘‘
’’میں تم سے کیوں خوف زدہ رہوں گی۔‘‘ اس نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
’’پھر تم مجھے یہاں سے بھیجنے کے درپے کیوں ہو؟‘‘ وہ ذرا اور قریب ہوا۔
’’امائم…‘‘ اچانک عالیان کچن میں داخل ہوا۔ سمیر اس پر نظر ڈالتا باہر نکل گیا۔
’’چکن کڑاہی دیکھ کر بھوک بڑھ گئی ہے… پلیز میرے لیے کھانا لگادیں‘ مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘ اس نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔ وہ باہر چلا گیا۔ اس نے ایک گہرا سانس لے کر خود کو پرسکون کیا‘ سمیر ان لوگوں میں سے تھا جو عورت کو نگاہوں سے ہی نگلنے کی کوشش کرتے ہیں‘ کوئی احترام نہیں، کوئی رشتے کی پہچان نہیں۔
’’اس کا تو کچھ کرنا پڑے گا مجھے۔‘‘
’’تم نے سنا کیا ہوا…؟‘‘ اسی پل سارہ اندر داخل ہوئی۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ وہ ٹرے میں عالیان کے لیے کھانا رکھتے ہوئے مڑی۔
’’آج فاخرہ نہیں آئی۔‘‘
’’تو…؟‘‘
’’تو مما کا آرڈر ہے کہ آج میں اپنے ہاتھوں کو تکلیف دوں۔‘‘
’’کافی کی بوتل کہاں ہے؟‘‘ تب ہی رمشہ اندر داخل ہوئی۔ سارہ چپ رہی۔ امائم سے تو خود رمشہ بھی بات نہیں کرتی تھی۔
’’سارہ… یہ کیا بدتمیزی ہے؟‘‘ رمشہ نے چبھتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’میں نے کیا کیا ہے…؟‘‘ سارہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’کافی کی بوتل کہاں رکھی ہے تم نے؟‘‘
’’میں کیوں رکھنے لگی کہیں؟‘‘
’’تم…‘‘ وہ مزید کچھ کہتی لیکن امائم نے کافی کی نئی بوتل نکالی اور رمشہ کی طرف بڑھائی۔
’’وہ ختم ہوگئی تھی میں نئی نکالنا بھول گئی۔‘‘ امائم نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا تو رمشہ نے سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھا اور چولہے کی طرف بڑھ گئی۔ امائم نے ٹرے اٹھائی اور عالیان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
’’بھائی کے لیے ہی رمشہ کو بخش دو۔‘‘ سارہ کچھ دیر بعد کمرے میں داخل ہوئی۔
’’تو چغلی لگادی تم نے…‘‘ سارہ نے غصے سے اسے دیکھا۔
’’یہ حرکت کرنے کی ضرورت کیا تھی بھلا…؟‘‘ امائم نے بھی خفگی سے دیکھا۔
’’میں نے بھائی سے کہا کہ آج وہ ہمیں ڈنر کے لیے باہر لے چلیں‘ تو یہ رمشہ…‘‘ اس نے دانت یوں پیسے گویا وہ اس کے دانتوں تلے آگئی ہو اور اب کچلنا اس پر واجب ہے۔
’’فٹ سے بولی… سارہ ذرا تو خیال کیا کرو اپنے بھائی کا‘ اتنا تھک جاتے ہیں وہ پورے ہفتے کام کرکے۔ ایک دن آرام کا ملتا ہے اس میں بھی وہ زیادہ تر مصروف ہی رہتے ہیں‘ رات کو تو جلدی سونے دو انہیں‘ تم بچی تو نہیں ہو اور پرسوں ہی تو تم لوگ ڈنر پر باہر گئے تھے۔‘‘
’’بھائی نے کیا جواب دیا؟‘‘ عالیان کی آنکھیں ماتھے پر چڑھیں۔
’’بھائی…‘‘ سارہ نے غصے سے اسے دیکھا۔ ’’وہ ان کے سامنے بولتے کب ہیں‘ شادی سے پہلے یہ حال ہے تو شادی کے بعد نجانے کیا ہوگا۔‘‘ امائم نے ایک ایک نظر دونوں پر ڈالی۔ سارہ تو غصہ دکھا رہی تھی لیکن عالیان کے بھنچے جبڑے اور کنپٹی کی ابھرتی رگیں کہہ رہی تھیں کہ وہ کتنا برداشت کررہا ہے‘ اس نے کھانے کی ٹرے پیچھے کردی تھی۔
’’ہم پرسوں گئے تھے تو سارہ‘ تم کیوں آج پھر جانا چاہتی تھیں۔ اتنی جلدی تو مما بھی اجازت نہ دیں گی۔‘‘ امائم نے افسوس سے کھانے کی ٹرے کو دیکھا اور پھر سارہ کو گھورا۔
’’تم کھانا کھائو عالیان۔‘‘ سارہ کو یک دم جیسے ہوش آیا۔
’’بس کھالیا۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب آیا۔
’’نہیں تم نے تو بس ابھی شروع کیا تھا اور میں… میں بہت بری ہوں۔ ہر وقت بھائی کے لیے کڑھتی رہتی ہوں اور تم سے لڑٹی رہتی ہوں لیکن تم دیکھو کتنے اچھے ہو میرے لیے کھانا چھوڑ رہے ہو لیکن بتادوں کہ ابھی لنچ کا ٹائم ہے اور مجھے آج ڈنر باہر کرنا ہے۔‘‘ اس نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس بٹھایا اور نوالہ بنا کر اس کے منہ میں دیا۔
’’مت کڑھا کرو سارہ، مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔‘‘ عالیان نے نوالہ بہ مشکل حلق سے اتارا۔
’’وعدہ نہیں کرتی لیکن کوشش کروں گی۔‘‘ بھائی کے پیار پر سارہ کی آنکھیں بھر آئیں تو امائم کی آنکھیں بھی جھلملا گئیں۔ ’’لیکن تم بدل مت جانا عالیان۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں نے بھائی کو کھودیا ہے رمشہ نے انہیں مجھ سے چھین لیا ہے۔‘‘
’’پاگل ہو کیا؟ میں بھلا کیوں بدلنے لگا اور سچ بتائوں تو بھائی بھی نہیں بدلے۔ وہ ہمارے ہی بھائی ہیں۔ رمشہ کچھ بھی کرلے وہ اس کے بھائی نہیں بن سکتے۔‘‘ عالیان نے کہا تو امائم بے اختیار مسکرائی۔ سارہ نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر سمجھ میں آنے پر کھلکھلا کر ہنس دی۔
’’اللہ کرے بن جائیں وہ اس کے بھائی۔‘‘
’’تمہیں صفائی کرنی ہے آج… کچھ ایسا ہی اعلان کیا تھا تم نے کچھ دیر پہلے۔‘‘ امائم نے اسے توجہ دلائی اور وہ سر پر ہاتھ مارتی باہر نکل گئی۔ عالیان کا کھانا ختم ہوا تو امائم بھی ٹرے لے کر باہر آئی لیکن سمیر کو لائونج میں دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی۔
’’امائم، تم نے ابھی تک مجھے چائے لاکر نہیں دی۔‘‘
’’دونوں بہن بھائی انتہا درجے کے ذلیل ہیں۔‘‘ اس کے دل سے کراہ نکلی۔
’’اف امائم… تم کیا سارہ جیسی باتیں کرنے لگی ہو۔‘‘ وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔
’’امائم… ذرا یہ پھول چینج کرنے میں ہیلپ کردو۔‘‘ سارہ کی آواز آئی تو وہ اس کی طرف آگئی۔
’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ اچانک رمشہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو سارہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’پھول چینج کررہی تھی۔‘‘ امائم کے جواب بلکہ مودبانہ انداز پر اس کے لب بھینچے۔
’’یہاں…‘‘ رمشہ نے دروازے کے ادھر ادھر دیکھا جہاں دور تک کہیں گلدان نہ تھا۔
’’رمشہ آپی، یہاں کھڑے ہونا کیا جرم ہے؟‘‘ سارہ فوراً لپک کر قریب آئی۔
’’نہیں… لیکن اذان اہم کام کررہے ہیں اگر وہ ڈسٹرب ہوئے تو…‘‘
’’ہم یہاں ڈھول تاشے نہیں بجارہے ہیں آپی۔‘‘
’’میں صرف ان کے خیال سے ایک بات کہہ رہی ہوں۔ تم پتا نہیں کیوں اتنا برا مان جاتی ہو۔‘‘
’’اپنے بھائی کا خیال ہمیں بھی ہے، آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں اور اتنا خیال اگر آپ اپنے ماں باپ کا کرلیں تو بہت ثواب ملے گا۔‘‘
’’سارہ یہ کس طرح بات کرتی ہو تم۔ میں تم سے بڑی ہوں۔‘‘ رمشہ نے حیرت سے کہا تو وہ پیر پٹختی آگے بڑھ گئی۔
’’تم تو سمجھدار ہو، اسے سمجھاتیں کیوں نہیں۔‘‘
’’کیا سمجھائوں…؟‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’تم لوگوں کو ذرا بھی اذان کی پروا نہیں۔‘‘ امائم کی آنکھیں اس الزام پر پھیل گئیں۔
’’اور میرا خیال کرنا بھی تم لوگوں کو پسند نہیں۔‘‘ امائم ساکت رہ گئی جبکہ رمشہ اسے چبھتی نظروں سے دیکھتی آگے بڑھ گئی۔
’’یہ خیال ہے یا حکمرانی…؟‘‘ وہ غصہ ضبط کرکے دل ہی دل میں بولی۔
’’تمہاری سب سے اچھی بات یہ ہے کہ تم غصہ پی جاتی ہو۔‘‘ اس کے قریب آکر اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے وہ اس کے چاروں طرف برف کی سی ٹھنڈک اتار گیا تھا‘ ساری جلن سارا غصہ سب ہوا میں تحلیل ہوگیا‘ اس کا روم روم کھل اٹھا تھا۔
’’میں یہ سوچ کر غصہ پی جاتی ہوں کہ غصہ بہانے کے لیے تم ہو ناں…‘‘
’’غصہ بہانے… مطلب…!‘‘ وہ اسے جھولے پہ بٹھا کر جھولا دینے لگا۔
’’پانی پیتے ہیں، پانی بہاتے ہیں تو غصہ پیتے ہیں تو غصہ بہاتے بھی ہوں گے۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’غصہ بہاتے نہیں نکالتے ہیں۔‘‘ وہ مسکرا کر اس کی تصحیح کرنے لگا۔
’’اچھا… جو بھی ہو یہ طے ہے کہ تمہیں دیکھتے ہی میرا غصہ اڑن چھو ہوجاتا ہے۔‘‘
’’یہ میری خوش قسمتی ہے۔‘‘ وہ خود پر نازاں ہوا۔
’’نہیں یہ میری خوش قسمتی ہے ہلال حسن کہ تم…!‘‘
’’کھٹ۔‘‘ دروازہ کھلنے کی آواز نے اسے برف کی وادی سے نکال کر کسی نے واپس اس کمرے کے سامنے لاپٹخا وہ ہک دک کھڑی رہ گئی۔ کمرے سے بے خیالی میں نکلتا اذان جنید ٹھٹک کر رکا۔ امائم نے بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھا۔ لمحوں میں اس کی آنکھوں میں پانی بھرا تھا۔
’’ہلال…‘‘ اس کے کپکپاتے لبوں سے بے آواز نکلا تھا۔ اذان کے لب بھینچے۔ اس کی تکلیف اس کی اذیت اس کا درد اسے یوں اپنے حصار میں لے چکا تھا کہ اس سے نکالنے کی ہر کوشش بے کار تھی۔ وہ آگے بڑھتی چلی گئی۔ اذان باہر کھڑا بند کیے جانے والے دروازے کو تکتارہ گیا تھا۔
’’تم یوں اچانک آکر مجھے خوشی سے بے حال کردیتے ہو۔‘‘ وہ آگے بڑھ کر اس سے لپٹا۔
’’پھر تو مجھ پر واجب ہوا یوں اچانک آجانا۔‘‘
’’اچانک آجائو ہلال‘ کہاں جاچھپے ہو؟‘‘ اسے اپنے گلے میں تکلیف محسوس ہوئی‘ وہ امائم کی طرح رو نہیں سکتا تھا‘ مگر ہلال سے محبت وہ بھی کچھ کم نہیں کرتا تھا اور یوں بھی کچھ لوگ چاہے جانے کے لیے پیدا کیے جاتے ہیں‘ تو ہلال حسن ان ہی میں سے ایک تھا۔
’’آجائو پلیز یار…‘‘ دروازے کے باہر کھڑا وہ دل میں پکار رہا تھا۔
’’آجائو… ہلال پلیز…‘‘ اندر دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھی وہ تڑپ اور سسک رہی تھی۔
ژ…٭…ژ
’’امائم…‘‘ سارہ کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا اور پھر سارہ اور افرحہ کے ساتھ ایک نیا چہرہ دیکھ کر وہ ایک گہرا سانس لیتی ان کی طرف آئی‘ وہ دونوں افرحہ سے ملنے اس کے گھر آئی تھیں۔
’’یہ مزمل ہے میرا کزن‘ امریکہ سے آئے اسے ایک مہینہ ہو گیا ہے۔‘‘
’’السلام علیکم!‘‘ اس نے مزمل کو دیکھا۔ بے حد خوبرو نوجوان اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
’’وعلیکم السلام…‘‘ اس کے سلام پر بھی اسے حیرت ہوئی تھی۔
’’جب میں نے نیچے سے آپ کو دیکھا تو مجھے لگا چھت پر کوئی پری آسمانوں سے اتر کر آکھڑی ہوئی ہے۔‘‘ وہ بری طرح سے چونکی۔
’’میں بے حد دھیرے دھیرے چلتا اوپر آیا‘ مجھے لگا اگر اسے میری موجودگی کا احساس ہوا تو کہیں وہ اڑ نہ جائے…‘‘ اس نے مسکرا کر کہا‘ اس کے لب بھنچے یہ سارہ اور افرحہ مسکرائیں۔ ’’پھر جب اوپر سارہ اور افرحہ کو دیکھا تو مجھے لگا پری نے اپنے پہرے دار بٹھا رکھے ہیں لیکن شکر ہے ان میں سے ایک میرا رشتے دار تھا۔‘‘ افرحہ کھلکھلا کر ہنسی۔ سارہ بھی ہنس دی۔
’’گھر چلیں؟‘‘ وہ اسے ناگواری سے دیکھتے ہوئے سارہ کی طرف مڑی۔
’’اوہ پلیز امائم‘ یہ تو جوکر ہے۔ تم اس کی بات کا برا مت مانو۔‘‘ افرحہ سارہ کی دوست تھی اور سارہ پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے یہاں موجود تھی امائم دس پندرہ منٹ تو ان کے ساتھ بیٹھی رہی پھر ٹیرس سے نیچے جھانکنے لگی۔ اس کا ذہن بھٹکا اور سمیر کی طرف چلا گیا… وہ اسے سخت ناپسند تھا‘ اس کے دیکھنے کا اندازہ بولنے کا انداز‘ اس کا جی چاہتا تھا کہ سمیر کا گلا دبا دے لیکن قصور سمیر کا نہیں تھا۔ اسے اب مزمل کی نگاہیں بھی تو تک رہی تھیں۔ بلاشبہ مزمل کی نگاہیں سمیر کی آنکھوں سے مختلف تھیں مگر دیکھ تو اسے ہی رہی تھیں ناں۔
’’کوئی تم پر نظر ڈالے مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا۔‘‘ وہ ان لڑکوں کو دو دو گھونسے مار کر اس کے قریب آیا تھا جو اسے کافی دیر سے دیکھ رہے تھے۔
’’یہ کیا پاگل پن ہے؟ تمہیں پتا ہے کہ میں ہوں ہی خوب صورت لڑکوں کو چھوڑو مجھے تو لڑکیاں بھی دیکھ کر مہبوت رہ جاتی ہیں۔‘‘
’’خوب صورت ہونے کا مطلب ہے کہ اس شے کو نگاہوں سے ہی کھا جائو… میں ایسی ہر آنکھ پھوڑ دوں گا۔‘‘ وہ غصے سے بولا تھا۔
’’اس سے تو بہتر ہے میں برقعہ پہن کر تمہارے ساتھ چلا کروں۔‘‘ وہ گھور کر اسے دیکھ رہی تھی۔
’’ہاں یہ ٹھیک ہے ورنہ میں تو ایسے ہی لوگوں کو پیٹوں گا…‘‘ وہ ہنس دیا‘ تب اسے وہ برا لگتا تھا لیکن اب… اب کسی کا بھی اپنی طرف دیکھنا برا لگتا تھا۔
’’سارہ ہم گھر چلیں۔‘‘
’’آئی ایم سوری امائم… میری بات بری لگی ہو تو میں…‘‘ مزمل یکلخت کھڑا ہوتے ہوئے بولا۔ ’’اصل میں مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ کو برا لگے گا‘ بس جو آپ کے بارے میں محسوس کیا وہ کہتا چلا گیا۔ آپ بیٹھیں پلیز میں چلا جاتا ہوں۔‘‘ وہ فوراً پلٹ گیا۔
’’امائم وہ تو مذاق کررہا تھا۔‘‘ سارہ نے خفگی سے کہا تو وہ بس سارہ کو دیکھ کر رہ گئی۔ یہ مذاق اس کے لیے کہیں مصیبت نہ بن جائے… وہ اب یہاں لمحہ بھر کے لیے بھی رکنا نہیں چاہتی تھی سو ایک منٹ مزید رکے بغیر وہ سارہ کو زبردستی گھر لے آئی تھی۔
آج اتوار تھا۔ رمشہ اور سمیر کا ان کے گھر آنے کا دن… وہ ان کے چچا کے بچے تھے اور رمشہ کو پاپا نے اذان کے لیے پسند کرلیا تھا لیکن سارہ کو وہ ناپسند تھی اور امائم کو سمیر‘ سو ان دونوں کے آنے پر وہ دونوں یا تو کمرے میں بند رہتیں یا پھر گھومنے نکل جاتیں‘ ماما سارہ کی ایسی حرکتوں کے خلاف تھیں لیکن امائم کا معاملہ انہیں معلوم نہ تھا۔
’’تم نے صبح مجھے ڈنر کے لیے کہا تھا۔‘‘ وہ جونہی اندر داخل ہوئیں، اذان نے ٹی وی کی آواز کم کرتے ہوئے سارہ کو دیکھا تو وہ دونوں چونکیں۔
’’پانچ منٹ میں مما اور عالیان کو لے کر باہر آجائو۔‘‘ وہ ٹی وی بند کم کرتا باہر کی جانب چلا گیا‘ سارہ چند لمحے تو بت بنی کھڑی رہی۔
’’بھائی اتنے بھی رمشہ کے نہیں ہوئے ابھی…‘‘ اس سے سرگوشی میں کہتی ہوئی وہ بھائی کے پیچھے نکل گئی عالیان اور مما کو بلانے کی ذمہ داری اس کی ٹھہری تھی۔
خ…ز…خ
’’کیا ہوا…؟‘‘ وہ جیسے ہی نہا کر نکلی، سارہ دوڑتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور اس سے لپٹ گئی۔ وہ بری طرح سے گھبرائی۔
’’خیریت… سارہ کیا ہوا تمہیں؟‘‘
’’وہ… وہ امائم… پتا ہے وہ…‘‘ سارہ سے پھولی سانسوں کے ساتھ بولنا مشکل ہوا۔
’’کیا… کیا ہوا، پلیز بولو تو سہی۔‘‘
’’وہ اعظم ہے ناں اس نے… وہ…‘‘
’’الٰہی خیر… کیا ہوا اعظم کو؟‘‘ وہ افرحہ کا بھائی تھا۔
’’خیر ہی ہے یار اس کا رشتہ آیا ہے میرے لیے۔‘‘ اگلے پل وہ شرماتے ہوئے بولی۔
’’واٹ…!‘‘ عالیان کی آواز پر دونوں چونک کر مڑیں۔
’’دماغ تو درست ہے ان کا۔‘‘ عالیان کا چہرہ ناپسندیدہ قرار دے رہا تھا۔ سارہ کی جان پر بنی… اعظم کب دل کے نہاں خانوں میں سمایا اسے خبر ہی نہ ہوئی۔
’’کیا انہیں معلوم نہیں کہ تم…‘‘
’’میں کیا…؟‘‘ سارہ کو اچانک خدشہ ہوا کہ اس کی بات کہیں بچپن میں نہ طے ہوگئی ہو جس کے متعلق عالیان جانتا ہوگا۔
’’یہی کہ تم دنیا کی سب سے کاہل لڑکی‘ پھوہڑ ہو اور کام کے نام سے تمہاری جان جاتی ہے۔‘‘ امائم رخ پھیر کے مسکرائی اور سارہ منہ کھولے اسے دیکھتی رہی۔
’’امائم کیا خیال ہے انہیں جاکر بتایا نہ جائے کہ بھائی دل تھام کے سنو۔ بظاہر جو موم کی گڑیا نظر آتی ہے وہ درحقیقت بم کا گولہ ہے۔‘‘
’’وہ بھی ایٹم…‘‘ امائم نے مسکرا کر کہا۔
’’بدتمیز رک تجھے تو میں ابھی بتاتی ہوں‘ ابھی میرا ہارٹ فیل ہوجاتا، یہاں مری پڑی ہوتی میں۔‘‘
’’بھئی میں تو تمہارے کفن کا انتظام ایدھی والوں سے کرواتا۔ سنا ہے کم پیسوں میں…‘‘ سارہ تو سارہ تھی امائم کو بھی کرنٹ لگا۔
’’دیکھو… دیکھو ذرا اس کمینے کے خیالات بہنوں کے متعلق…‘‘
’’جمع کا صیغہ استعمال کرکے تم خوامخواہ امائم کو میرے خلاف کرنے کی کوشش نہ کرو۔ میں صرف تمہاری بات کررہا ہوں۔‘‘ وہ ڈھٹائی سے بولا۔
’’شرم کرو عالیان۔‘‘ امائم نے خفگی سے دیکھا۔
’’چلیں شرم بھی کرلیتا ہوں اور ساتھ ہی اعظم کی آئی سائٹ بھی چیک کروا لیتا ہوں۔‘‘ وہ مسکرا کر کہتا باہر نکل گیا۔ سارہ نے اسے خفگی سے دیکھا‘ امائم کی طرف مڑی۔
’’ویسے اس کی آئی سائٹ تو مجھے بھی چیک کروانا ہوگی کہ تمہارے ہوتے ہوئے اس نے مجھے کیسے پسند کرلیا؟‘‘ امائم کے ہاتھ ساکت ہوئے پھر اس نے ایک خفگی بھری نظر سارہ پر ڈالی بال سلجھا کر جب تک وہ تیار ہوئی تھی افرحہ اندر آچکی تھی۔
’’سارہ ہم تمہیں آج رخصت کروانے نہیں آئے۔‘‘ افرحہ نے کہا تو سارہ نے اسے گھورا۔ وہ واقعی یوں تیار تھی گویا منگنی کی دلہن ہو۔ وہ افرحہ کے ساتھ چلی گئی جبکہ امائم کچن میں چلی آئی مما وہ بے حد گھبرائی ہوئی تھیں۔
’’یہ لوگ اچانک چلے آئے انہیں پہلے انفارم کرنا چاہیے تھا‘ ہماری تو کوئی تیاری نہیں ہے۔‘‘
’’ریلیکس مما آپ اندر جائیں‘ میں انتظام کرتی ہوں۔‘‘ اس نے فاخرہ کو ساتھ لگایا جب وہ اندر گئی تو ماحول بے حد خوش گوار تھا‘ افرحہ کی ممی نے سارہ کو اپنے پاس بٹھا رکھا تھا۔ اس کے نمبر پر عالیان کا میسج آیا۔
’’سارہ یہ تمہاری ساس کا دکھاوا ہے ایسے جیسے قربانی کرنے والے جانور کو لپٹایا جاتا ہے۔‘‘ سارہ کے میسج کی ٹون بجی اور میسج پڑھ کر اس نے عالیان کو گھور کے دیکھا‘ امائم مسکرادی۔
’’ادھر آئو بیٹا…‘‘ ایک اجنبی خاتون نے اسے اپنے پاس بلایا تو وہ چونکی۔
’’یہ میری پھپو ہیں، مزمل کی مدر۔‘‘ افرحہ نے جلدی سے کہا تو اس کے مسکراتے لب سمٹے وہ ان کے قریب آگئی۔
’’ماشاء اللہ جیسا سنا تھا اس سے کہیں بڑھ کر ہو تم۔‘‘ اس نے افرحہ کو دیکھا۔
’’کس نے تعریف کی؟‘‘ عالیان نے چونک کر پھپو کی جانب دیکھا۔
’’افرحہ کی باتوں میں نہ آئیں آنٹی، یہ تو بس ایسی ہی ہے۔‘‘ وہ جھینپ گئی۔
’’بھئی بھابی‘ اب تو مجھ سے ایک لمحہ کا بھی صبر نہیں ہوتا‘ آپ بسمہ اللہ کریں۔‘‘ پھپھو نے اشارہ کیا تو اعظم و افرحہ کی ممی کو۔
’’بھئی ہم اصل میں مزمل کا بھی پرپوزل لائے ہیں امائم کے لیے‘ یہ میری نند ہیں امریکہ سے آئی ہیں۔‘‘ ان کی بات پر وہاں موجود سب ہی لوگ چونک گئے تھے۔
خ…ز…خ
’’کیا ہوگیا ہے امائم… مما نے تمہیں ان کے ساتھ ہی رخصت کردیا ہے کیا؟‘‘ جب سے وہ لوگ گئے تھے وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی اور اب سونے کا ارادہ تھا۔
’’اٹھ جائو یار… روٹی پکا لو ورنہ عالیان کھانا نہیں کھائے گا۔‘‘ سارہ کی آخری بات پر وہ چونکی‘ رات کے نو بج رہے تھے۔ گھر میں کھانا ساڑھے نو بجے تک لگایا جاتا تھا۔ وہ تیزی سے بستر سے اتری۔ اس کی سوجی ہوئی نگاہوں سے سارہ نے نظر چرائی تھی۔ اس کے درد کا مداوا بھلا ان کے پاس کہاں تھا؟ کھانے کے بعد عالیان اور سارہ نے مووی لگالی۔ یہ ایک کوشش تھی کہ وہ بہل جائے۔
’’کافی…‘‘ آواز پر ان تینوں نے سر اٹھایا اور چونک گئے۔
’’دیکھو نکمیوں‘ میری ماں میرے لیے کافی بنا کر لائی ہے۔‘‘ عالیان نے مما کے ہاتھ سے ٹرے لے کر میز پر رکھی۔ سارہ نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی کی آواز بند کردی۔ عالیان نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر اذان کو آتا دیکھ کر خاموش ہوگیا۔
’’جی مما… خیریت؟‘‘ اذان نے اپنا کپ اٹھاتے ہوئے مما کی طرف دیکھا۔ ان تینوں نے چونک کر مما کو دیکھا یعنی اسے مما نے بلایا تھا۔ امائم کے لب بھنچے‘ مما اس سے کیا کہنے والی تھیں وہ تینوں سمجھ گئے تھے۔
’’اعظم کی مما آئی تھیں سارہ کا پرپوزل لے کر۔‘‘ مما نے کہا تو وہ یک دم چونکا پھر اس نے آنکھیں سکیڑ کر سارہ کو دیکھا‘ سارہ کا سانس رکا۔
’’اعظم… وائو…‘‘ اگلے پل وہ خوشگوار لہجے میں بولا۔ ’’پھر مما آپ نے کیا جواب دیا انہیں؟‘‘
’’جواب تو تم بتائو… کیسا لڑکا ہے وہ‘ کیسا چال چلن ہیں اس کا‘ کیسی کمپنی ہے اس کی‘ کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے؟‘‘ مما بولتی چلی گئیں۔ وہ کھل کر مسکرایا۔
’’مما ہم اسے اور اس کی فیملی کو کافی عرصے سے جانتے ہیں۔ اچھا لڑکا ہے‘ وہ نیا نیا وکیل بنا ہے مگر بے حد قابل ہے اور وکیل بھی اچھا اور سچا قسم کا ہے۔ آپ سارہ سے پوچھیں اس کی کیا مرضی ہے اور باقی اعظم کی طرف سے بے فکر رہیں۔ وہ بہت اچھا ہے۔‘‘ سارہ نے یک ٹک اسے دیکھا۔ آج کتنے عرصے بعد اسے لگا تھا کہ وہ اس کا بھائی ہے۔ وہی بھائی جو اس کا دوست ہوا کرتا تھا۔ جو جانے کہاں کھو گیا تھا۔
’’اچھا سارہ… تم بتائو تمہارا کیا فیصلہ ہے اس بارے میں؟‘‘ وہ اس کی طرف گھوما۔
‘‘جو آپ کی اور مما کی مرضی ہو۔‘‘ سارہ نے فرماں برداری کے سارے ریکارڈ توڑے وہ دھیمے سے ہنس دیا۔
’’میں ہاں کرنے والا ہوں‘ سوچ لو…‘‘
’’آپ پھانسی پر بھی چڑھائیں تو میں خوشی خوشی چڑھ جائوں۔‘‘
’’واٹ ربش…‘‘ اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی اور اس نے خفگی سے اسے دیکھا۔
’’مجھ سے پوچھیں بھائی… دل میں تو اس کے لڈو پھوٹ رہے ہیں بظاہر یہ آپ کی فرماں بردار بنی ہوئی ہے۔‘‘ عالیان نے اس کی چوٹی پکڑ کر کھینچی وہ بھی جواباً بری طرح چیخی۔
’’ارے… چھوڑو اسے‘ یہ کیا بچپنا ہے؟‘‘ اس نے خفگی سے دیکھا۔
’’اور بھائی مجھے تو لگتا ہے اعظم کی آئی سائٹ چیک کروانا پڑے گی‘ اسے اس موٹو میں نظر کیا آگیا؟‘‘ عالیان نے کہا تو وہ بے اختیار مسکرایا۔
’’ہماری سارہ لاکھوں میں ایک ہے۔ اعظم بے حد خوش قسمت ہے کہ اس نے سارہ کا انتخاب کیا۔‘‘ مسکرا کر کہا‘ پھر وہ مما کی طرف متوجہ ہوا جو ابھی تک اسے یک ٹک دیکھ رہی تھیں۔
’’کیا بات ہے مما… اینی پرابلم؟‘‘ مما نے ایک گہری سانس لی اور امائم کو دیکھا۔
’’مزمل سے ملے ہو تم؟‘‘
’’مزمل…؟‘‘ وہ چونکا۔ ’’ہوں ملاقات ہوئی ہے اس سے بھی۔‘‘
’’اس کی امی بھی آئی تھیں پرپوزل لے کر۔‘‘ مما رکیں اور اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ الجھ کر انہیں دیکھنے لگا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ ایک ہی گھر سے سارہ کے دو پُرپوزل کیسے آگئے۔
’’امائم کے لیے…‘‘ اسے جھٹکا لگا وہ سیدھا ہوا‘ اس نے بے یقینی سے مما کو دیکھا۔
’’جی مما… کیا کہا آپ نے؟‘‘ اسے اپنی سماعت پر شبہ ہوا۔
’’بیٹا… مزمل اچھا لڑکا ہے۔‘‘
’’اعظم کے لیے آپ جو چاہیں جواب دیں مگر مزمل کو صاف انکار کردیں۔‘‘ وہ ایک اچٹتی نگاہ امائم پر ڈالے بغیر وہاں سے اٹھ گیا تھا۔
خ…ز…خ
’’تم…!‘‘ وہ اپنے آفس میں تھا کہ اندر داخل ہوتے مزمل کو دیکھ کر چونکا۔
’’کیوں انکار کیا ہے آپ نے؟‘‘ مزمل نے بیٹھنے کا بھی تکلف نہیں کیا۔
’’بیٹھو…‘‘ اس نے میز کے اس پار رکھی کرسی کی جانب اشارہ کیا۔
’’میں یہاں بیٹھنے نہیں آپ کے انکار کی وجہ جاننے آیا ہوں۔‘‘
’’دیکھو مزمل جیسے کہیں بھی پرپوزل بھیجنا تمہارا حق ہے ایسے ہی کسی کو منع کردینا ہمارا حق ہے اور اپنے حق کو استعمال کرنے کی تمہیں کیا وجہ بتائوں۔‘‘
’’مجھ میں کوئی برائی ہے؟‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ فوراً بولا۔
’’میرا امریکہ میں بزنس ہے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں واپس وہاں نہ جائوں تو میں اپنا بزنس وائنڈ اپ کرلیتا ہوں۔ پاکستان شفٹ ہوجاتا ہوں۔‘‘
’’ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے مزمل۔‘‘
’’تو کیا مسئلہ؟ آپ مجھے وہ مسئلہ بتادیں۔‘‘ وہ بضد ہوا‘ اذان جنید کے لب بھینچے‘ اسے گھبراہٹ بھی ہوئی۔ وہ کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس جاکھڑا ہوا اور باہر دیکھنے لگا۔ سامنے سڑک پر دنیا کی ساری رونقیں تھیں مگر یہ رونقیں بہت پہلے اس کی دنیا سے رخصت ہوچکی تھیں کب…؟ زیادہ پہلے کی بات نہیں تھی۔
’’اذان…‘‘ وہ چونکا۔ مڑ کر دیکھا تو مزمل جواب کے لیے کھڑا تھا۔
’’گیٹ آئوٹ۔‘‘ وہ تلخی سے بولا۔ مزمل دنگ رہ گیا۔
’’آپ…‘‘
’’گیٹ آئوٹ۔‘‘
’’جواب لیے بغیر تو میں بھی چین سے نہیں بیٹھوں گا۔‘‘ وہ بھی ہٹ دھرمی سے کہتا باہر نکل گیا تھا۔
خ…ز…خ
’’مما پلیز آپ مزمل کی فیملی سے بات کریں۔ اس نے میرا جینا دوبھر کرکے رکھ دیا ہے۔‘‘ آٹھویں دن وہ جھنجلایا ہوا مما کے سامنے آکھڑا ہوا۔ مزمل صبح اس کے گھر سے نکلنے کے بعد اس کے پیچھے ہوتا اور واپس گھر آنے پر ہی اس سے جان چھوٹتی‘ وہ کچھ کہتا یا زبردستی اس کے قریب آنے کی کوشش کرتا تو وہ اس کی شکایت کرتا اسے اب تک جیل بھجوا چکا ہوتا مگر اس کی خاموشی اسے جھنجلاہٹ میں مبتلا کررہی تھی۔
’’اس کی مما روز یہاں چکر لگاتی ہیں‘ میں ان کے اصرار پر شرمندہ ہوجاتی ہوں۔ میں ان سے مزمل کی بات کیسے کروں؟‘‘ مما نے خفگی سے اسے دیکھا۔
مزمل کو امائم کے لیے انکارکرنا انہیں تو بے وقوفی ہی لگ رہا تھا اور وہ اس بے وقوفی میں اس کا ساتھ نہیں دینا چاہتی تھیں۔ وہ بے حد خوبصورت اور اچھا لڑکا تھا اور دولت میں بھی ان سے بڑھ کر ہی تھا پھر امائم سے محبت کا بھی باقاعدہ اعلان کررہا تھا۔
’’یہ تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی مما‘ ہم انکار کرسکتے ہیں‘ وہ ایسے ہمارے پیچھے نہیں لگ سکتے۔‘‘ وہ ناگواری سے بولا۔
’’مزمل اتنا اچھا لڑکا ہے تو پھر ہم کیوں انکار کررہے ہیں میری تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘ مما نے یک دم کہا تو وہ چونک کر مما کو دیکھنے لگا… مما کافی کے کپ اٹھا کر باہر جانے لگیں۔
’’مزمل بہت اچھا لڑکا ہے مگر…‘‘
خ…ز…خ
’’کیا تمہیں پتا ہے بھائی کے انکار کی وجہ؟‘‘ وہ چپ رہی۔ کیا کہے اس کے کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ ’’تمہیں پتا ہے ناں… بلکہ آئی ہوپ یہ انکار بھائی کی طرف سے نہیں تمہاری طرف سے ہے۔‘‘ سارہ مشکوک ہوئی۔
’’بھائی مجھ سے اعظم کے لیے پوچھ سکتے ہیں تو تم سے پوچھے بغیر کیسے منع کرسکتے ہیں۔‘‘ سارہ کو اتنے دن بعد اس بات کاخیال آیا تھا۔ وہ خاموشی سے لیٹی رہی۔
’’امائم… بتائو ناں کیوں انکار کررہی ہو مزمل کو؟‘‘ اس کی دائیں آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا مگر اس نے کمبل سے چہرہ باہر نہیں نکالا۔
’’میں دنیا کی ہر تکلیف سہہ سکتا ہوں مگر تمہارے آنسو نہیں سہہ سکتا۔‘‘ آنسو خودبخود بہہ نکلے وہ رو تھوڑی رہی تھی اس نے کبھی نہ رونے کا عہد لیا تھا مگر اپنے عہد پر قائم رہنا مشکل تھا۔
’’مزمل، بھائی کو منالے گا۔‘‘ سارہ نے اطلاع دی اور اس کے سینے پر اس پل بھاری بوجھ آگرا تھا۔
’’مزمل کو تو کیا کسی کو بھی ہاں کرنے کے متعلق سوچا بھی گیا تو میری سانسیں رک جائیں گی۔‘‘ اس نے بے بسی سے سوچا۔
’’ویسے اتنے سال میں یہ سمجھتی رہی کہ بھائی تم سے بالکل ہی لاتعلق ہوگئے ہیں۔‘‘ وہ سارہ کی اس نئی بات پر چونک گئی۔
’’لاتعلق بھلے ہی ہوں… لاعلم نہیں ہیں۔‘‘ اس کی سانسیں ساکت ہوئیں۔
خ…ز…خ
’’زہے نصیب، آپ نے مجھ سے ملنا چاہا۔‘‘ وہ دونوں اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں موجود تھے اور یہاں وہ امائم کی خواہش پر آئے تھے۔
’’تم انکار کا مطلب نہیں سمجھتے کیا‘ یوں فیملی کو ٹارچر کرنا اچھا لگتا ہے کیا؟‘‘
’’مجھے انکار کی وجہ چاہیے اور سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے انکار سننا ہی نہیں ہے۔‘‘
’’تم زبردستی کیسے کرسکتے ہو؟‘‘
’’وہ تم سے پوچھ کر انکار کرتے۔ انہوں نے تم سے نہیں پوچھا۔ وہ تمہارے مالک نہیں ہیں۔‘‘
’’وہ مجھ سے کیا پوچھتے؟‘‘ امائم کی برداشت انتہا کو پہنچی۔ ’’کیا پوچھتے وہ مجھ سے؟ سنو مزمل… وہ نہیں جانتے میرے جنون کو‘ ان کو ذرا سی بھنک بھی نہیں ہے اس بارے میں جو مجھ پر بیت رہی ہے۔ ہر صبح‘ ہر شام‘ میرا پاگل پن بڑھتا جارہا ہے۔ وہ سب بے خبر ہیں…‘‘ مزمل کا غصہ غائب ہوا اب وہ الجھ گیا تھا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’میں کسی سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ وہ چونکا۔ ’’وہ میرے روم روم میں یوں بسا ہے جیسے میری روح…‘‘ مزمل کا دل ڈوبا۔ ’’اس سے محبت میں میں نے کیا کیا قربان کیا یہ کوئی نہیں جانتا… میرا سب کچھ تباہ کردیا اس محبت نے۔‘‘ وہ رونا نہیں چاہتی تھی۔
’’اس محبت نے میری قسمت میں آنسو لکھ دیے ہیں۔ ہر بار یہ مجھے رلاتی ہے‘ برباد کرتی ہے‘ ہر بار قربانی پر قربانی طلب کرتی ہے اور تم مزمل… تم اس کی نئی آزمائش ہو۔‘‘ اس نے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے۔ مزمل یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔
’’لیکن اس بار قربان کرنے کے لیے میرے پاس صرف میری جان بچی ہے۔‘‘ مزمل اندر تک دہل گیا‘ کتنی سفاکی تھی اس کے لہجے میں‘ مزمل کو اس کی طرف دیکھنا مشکل ہوا۔
’’وہ کہاں ہے؟‘‘ وہ بمشکل پوچھ سکا‘ وہ اسے دیکھتی رہی۔
’’میرے پاس، میرے ساتھ ہر جگہ ہے سوائے قسمت کے۔‘‘ کچھ دیر بعد وہ بولی تو مزمل کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔
’’وہ تمہارے ساتھ نہیں ہے‘ تمہارے پاس نہیں ہے اور تم…‘‘ مزمل کو جھٹکا لگا۔
’’میں خوش ہوں اس محبت سے اور میں چاہتی ہوں تم میری فیملی کو ٹارچر کرنا بند کردو… کیونکہ اگر تمہارے دبائو میں آکر ہاں کرنے کا سوچا بھی گیا تو یہ آخری تاوان ہوگا جو میں ادا کروں گی اس محبت کا۔‘‘ وہ ابھی تک اسے صدمے سے دیکھ رہا تھا۔
’’اپنی سانسوں سے ناطہ توڑ کر۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے دھیرے سے بولی۔
’’گھر میں سب بے خبر ہیں تمہارے اس جنون سے۔‘‘ وہ یک دم بولا۔ اس نے اثبات میں سر ہلا کر اپنا پرس اٹھایا۔
’’کیا اذان بھی…؟‘‘ وہ چونک گئی۔
’’بھائی تم سے لاتعلق ہیں، لاعلم نہیں۔‘‘ سارہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجی۔
خ…ز…خ
’’اعظم کی ممی چاہتی ہیں دو تین ماہ میں شادی ہوجائے سارہ کی۔‘‘ اس نے حیرت سے مما کو دیکھا جو یہ خبر برہمی سے دے رہی تھیں۔
’’وائو یہ تو بہت خوشی کی خبر ہے۔‘‘
’’خوشی کی خبر…‘‘ مما نے اسے گھور کے دیکھا‘ وہ جزبز ہوا۔ بہن کی شادی بہرحال اس کے لیے تو خوشی کی خبر تھی۔ اب مما کیوں غصہ میں تھیں یہ سمجھ سے باہر تھا۔
’’سارہ ہمارے گھر کا تیسرا بچہ ہے۔‘‘ مما نے بلی تھیلے سے نکالی۔
’’اوہ……‘‘ اس کے لب بھینچ گئے۔
’’تمہیں اور امائم کو چھوڑ کر اس کی شادی کردوں۔ سارے خاندان والے کیا کہیں گے؟‘‘ وہ لب بھینچے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں جکڑ کے بیٹھا رہا۔
’’تمہاری چچی بھی کتنی بار اشاروں کنایوں میں کہہ گئی ہیں کہ انہیں رمشہ کی فکر ہے، رمشہ کے بعد ہی وہ سمیر کی شادی کرنا چاہتی ہیں۔‘‘
’’چچی کو رمشہ کی فکر کیوں ہے؟‘‘ وہ چونکا۔
’’وہ سارہ سے تین سال بڑی ہے‘ آٹھ سال ہوگئے ہیں اس کے اور تمہارے رشتے کو اور پچھلے تین سال سے تم مسلسل شادی کو ٹال رہے ہو۔‘‘
’’مما مجھے کچھ وقت چاہیے…‘‘ وہ بے بسی سے بولا۔
’’کتنا وقت اذان…؟ یہ کہتے ہوئے بھی تمہیں دو سال ہو رہے ہیں۔ میں تمہاری چچی اور چچا کے آگے شرمندہ ہوتی ہوں۔‘‘ مما کی ناراضی شدید ترین تھی وہ لب بھینچے بیٹھا رہا۔ کتنے اچھے تھے وہ دن جب وہ ان کا پیارا لاڈلا اور فرماں بردار ہوا کرتا تھا۔ وہ اس سے کبھی خفا نہیں ہوتی تھیں اور اب تو جیسے وہ اس کی ہر بات پر ناراض ہونا فرض سمجھتی تھیں۔
’’مما پلیز بس کچھ وقت اور… سارہ کی شادی کے بعد میں آپ کو جلد ہی کوئی جواب دوں گا۔‘‘ وہ ملتجی انداز میں بولا‘ وہ ان کا بڑا بیٹا تھا ان کا لاڈلہ وہ کبھی کچھ غلط نہیں کرتا تھا۔ وہ اس سے لاکھ خفا ہوجائیں مگر اس بات کا انہیں یقین تھا اس لیے وہ ہر بار یوں ہی چپ ہوجاتیں مگر اس کا غصہ اور جھنجلاہٹ ان پر کافی دن سوار رہتا تھا۔
خ…ز…خ
’’لو یہ جیولری سنبھالو۔‘‘ مما نے امائم کی طرف ڈبے بڑھائے۔
’’مما کیوں اس کا کیا کریں گے ہم؟‘‘ سارہ نے اس پرانے فیشن کے زیورات کو حیرت سے دیکھ کر پوچھا۔
’’تمہارے لیے نیو فیشن میں ڈیزائن کروانے کے لیے نکالی ہے۔‘‘
’’وائو…‘‘ وہ شوق سے دیکھنے لگی۔
آج کل گھر میں جیسے خوشیوں نے پر پھیلا دیے تھے۔ مما سارہ اور امائم کا روز بازار کا چکر لگتا اور لڑکوں کے برعکس عالیان بھی شوق سے بازار جاتا تھا اور ایسی ایسی چیزیں پسند کرتا کہ ان کا بس چلتا تو وہ اسے لے کر کبھی نہ جاتیں۔
’’میں سوچ رہی تھی کہ رمشہ سے پوچھ کر اس کی پسند کے ڈیزائن بھی ابھی بنوا لوں۔‘‘ امائم اور سارہ نے چونک کر انہیں دیکھا۔
’’مما میں رمشہ کو پسند نہیں کرتی۔‘‘ اب کے امائم اور مما نے چونک کر سارہ کو دیکھا۔
’’پہلی بات یہ کہ وہ تم سے بڑی ہے عمر میں بھی اور رشتے میں بھی اور بائی دا وے تم اسے کیوں ناپسند کرتی؟‘‘
’’مما وہ مجھے ہرٹ کرتی ہے بات بے بات۔‘‘
’’وہ مجھے عالیان کو یا امائم کو کیوں نہیں ہرٹ کرتی۔‘‘ مما نے استفسار کیا۔
’’آپ سے کیسے نازیبا سلوک کرسکتی ہے اور امائم‘ عالیان کو وہ کسی گنتی میں نہیں رکھتی رہ گئی میں تو میرا بھائی سے گھلنا ملنا، فرمائشیں کرنا اسے سخت ناپسند ہے۔‘‘
’’عالیان اور امائم کو وہ کسی گنتی میں کیوں نہیں رکھتی۔‘‘ مما جیسے چونکیں۔
’’یہ دونوں بھائی سے بات کب کرتے ہیں۔‘‘ امائم گڑبڑائی۔ ’’بھائی ان سے سال میں ایک سوال کرتے ہیں… پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟‘‘
’’ٹھیک…‘‘
’’پیپر کب ہیں؟‘‘
’’اگلے مہینے…‘‘
’’ہر سال ہونے والے ان دو جملوں کا تبادلہ بھلا رمشہ کو کیوں ناگوار گزرنے لگا۔‘‘
’’ادھر آئو میرے پاس۔‘‘ مما نے زیورات ہٹاتے ہوئے اس کی جگہ بنائی۔ ’’اب تمہاری شادی ہونے والی ہے‘ مجھے بھی احساس ہے کہ رمشہ کے اندر ایسا اخلاص نہیں ہے جیسا کہ ہم اپنی بڑی بہو سے ایکسیپکٹ کرتے ہیں مگر پھر بھی وہ اچھی ہے اس لیے کہ وہ ہمارے بیٹے کو پسند ہے۔ آپ کی شادی کے بعد امائم اور عالیان کی شادی بھی ہوجائے گی۔ ہر لڑکی سسرال میں یوں مصروف ہوجاتی ہے کہ میکے کا رخ کم ہی کرتی ہے۔ ایسے میں اذان پر زبردستی کرکے رمشہ کے بجائے کہیں اور شادی کروا دی جائے اور ہماری خوشی کے لیے وہ خود پر ایک ناپسندیدہ انسان کو مسلط کرلے تو یہ سب تمہیں اچھا لگے گا کیا؟‘‘ مما نے اس کے بال پیار سے سمیٹ کر اس کا چہرہ دیکھا۔
’’وہ سب ٹھیک ہے مما‘ لیکن ابھی جب ہمارا حق رمشہ سے برداشت نہیں ہوتا تو پھر وہ ہمیں کبھی کبھی آنے کا حق کیا دیں گی۔ مجھے تو پکا یقین ہے کہ وہ آنے سے پہلے ہی الگ گھر کا مطالبہ کریں گی۔‘‘ وہ قدرے روہانسی ہوئی۔
’’اذان ایسا نہیں کرے گا‘ اس پر یقین ہے۔‘‘ مما نے کہا تو سارہ نے امائم کو دیکھا۔ وہ زیورات میں الجھی ہوئی تھی ایسے بہت سے مواقع سارہ کو یاد آنے لگے جس میں اسے لگتا کہ اذان کو اس ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن اذان نے خاموشی اختیار کی‘ جس سے رمشہ کو شہہ ملی تھی۔ وہ برا دل لیے وہاں سے اٹھ گئی‘ تو اس کی خاموشی اور اس کے چہرے پر پھیلی افسردگی نے ماما کو بھی پریشان کردیا۔
’’ریلیکس ماما، سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ اس نے مما کا ہاتھ تھام کر انہیں تسلی دی۔
خ…ز…خ
’’اذان…‘‘ وہ ناشتے کے بعد لائونج میں آکر اسپورٹس چینل لگا کے بیٹھا تھا کہ مما کی آواز آئی۔
’’جی مما…‘‘
’’بیٹا ڈرائیور کا فون تھا‘ گاڑی خراب ہوگئی ہے اور وہ ابھی تک ورکشاپ پر ہے‘ امائم کو یونی سے پک کرنا ہے اور اسے جیولر کے پاس بھی جانا ہے۔‘‘ وہ مما کو بس دیکھتا رہا۔
’’تو بیٹا ذرا جلدی اٹھ جائو۔ گاڑی نہ پاکے وہ پریشان ہوجائے گی۔‘‘ آج کل مما اس سے مخاطب ہی نہ ہوتی تھیں وجہ تھیں چچی چچا کے آگے ہونے والی شرمندگی۔
چچی رمشہ اور اذان کی شادی پر اصرار کررہی تھیں مگر اذان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے امی کل بھی شرمندہ ہوئی تھیں اور اس کے نتیجے میں انہوں نے اس سے بات کرنا کم کردیا تھا۔
’’مما عالیان کہاں ہے؟‘‘ مما نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’عالیان ہوتا تو میں تمہیں یہ تکلیف نہیں دیتی۔ وہی اب تک اس شادی کے تمام کام کرواتا آرہا ہے‘ تمہاری طرح لاتعلق ہوکر نہیں بیٹھا۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا‘ اپنے کمرے سے کار کی چابی لے کر فوراً نکل گیا۔ یونیورسٹی کے باہر کھڑے اسے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ امائم آتی نظر آئی‘ امائم نے ایک نظر حیرت سے اس پر ڈالی پھر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
تین سال پہلے وہ اسی طرح یونیورسٹی آیا تھا۔ وہ سمجھی تھی کہ اسے لینے آیا ہے مگر اس نے نخوت سے بتایا تھا کہ رمشہ کو لینے آیا ہے۔ اس لیے آج وہ اسے دیکھ کر نظر انداز کرنے لگی۔
’’امائم…‘‘ اس کی پکار پر وہ چونکی اس نے دروازہ کھولا تو وہ لمحہ بھر کو سن ہوئی اور پھر آگے بڑھی۔
’’جیولر کے پاس جانا ہے۔‘‘ اس نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا تو انہوں نے سر اثبات میں ہلا دیا۔ دکان میں داخل ہونے تک ان کے بیچ خاموشی تھی پھر امائم دکان دار سے بات کرنے لگی تھی جبکہ وہ چپ چاپ بیٹھا رہا‘ اچانک وہ چونکا دروازہ کھول کر مزمل اندر داخل ہوا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر امائم پر اس کی نظر رکی اور اگلے پل وہ سیدھا اس کی طرف آیا۔
’’لنچ کرلیا تم نے۔‘‘ امائم نے چونک کر دیکھا‘ اس کے چہرے کا سنجیدہ ساتاثر اڑنچھو ہوا، وہ مسکرائی نہیں لیکن کھل ضرور اٹھی تھی۔
’’ابھی تو نہیں… بس گھر پہنچتے ہی میں پہلے لنچ کروں گی۔‘‘
’’تمہیں یقین ہے کہ بنا لنچ کیے بازار میں گھوم کر تم گھر پہنچ پائوگی۔‘‘ جواباً اس نے اسے گھورا‘ وہ بازار میں اکثر مل جاتا تھا‘ افرحہ وغیرہ کو شاپنگ کروانے کی ذمہ داری اس کی تھی۔ بہت گہری دوستی تو نہیں ہوئی تھی ان کے بیچ لیکن ایک دوستانہ تعلق ضرور بن گیا تھا۔
’’افرحہ اور باقی سب کہاں ہیں؟‘‘
’’شادی میں پندرہ دن رہ گئے ہیں‘ اب بازاروں کے چکر ختم، گھر کی ڈیکوریشن شروع…‘‘ وہ مسکرا کر بولا‘ تو وہ سر ہلا کر رہ گئی۔
’’اوکے ہم چلتے ہیں۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’ایک منٹ پلیز‘ یہ بتادو کہ سامنے ریک میں لگی سب سے خوبصورت جیولری کون سی ہے؟‘‘ مزمل نے اچانک پوچھا۔ وہ چونکی اور پھر سامنے دیکھنے لگی۔
خ…ز…خ
’’وائو کتنا حسین لگ رہا ہے۔‘‘ امائم کے ساتھ وہ لائونج میں داخل ہوا تو ٹھٹک کر رکا۔ سارہ کے ہاتھ میں ایک سفید موتیوں کا نیکلس تھا۔ اس کا چونک جانا اس نیکلس کے حسین ہونے پر نہیں تھا بلکہ یہ وہی نیکلس تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے امائم نے مزمل کو بتایا تھا۔ اس دکان کا سب سے خوبصورت نیکلس۔
’’امائم یہ آپ کے لیے گفٹ آیا ہے۔ دینے والے نے اپنا نام نہیں لکھا۔‘‘ عالیان نے ایک کارڈ اس کی طرف بڑھایا۔
’’مزمل نے بھیجا ہے۔‘‘
’’تمہیں کیسے پتا…؟‘‘ سارہ چونک گئی۔
’’وہ ابھی بازار میں ملا تھا۔‘‘ پھر وہ تفصیلی بتانے لگی۔
’’یہ بہت مہنگا ہے، تم واپس کردو۔‘‘ وہ فوراً ہاتھ دھو کر کھانے کی میز پر آبیٹھی۔ سارہ نے وہیں لائونج میں اسے کھانا لادیا تھا۔
’’تم پاگل ہوچکی ہو سارہ… گفٹ بھی بھلا واپس کیے جاتے ہیں۔‘‘ مما خفگی سے بولیں۔ سارہ اور اذان نے انہیں چونک کر دیکھا۔
’’اور ویسے بھی یہ اتنا مہنگا نہیں ہے جتنا امائم نے مہنگا گفٹ انہیں دیا ہے۔‘‘ عالیان نے منہ بسورا سارہ اور اذان پھر چونکے۔
’’بات مہنگے اور سستے کی نہیں ہے، دینے والے کے خلوص کی ہے۔‘‘ مما فوراً بولیں۔
’’ویسے اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ میرے لیے پسند کروا رہا ہے تو میں اور مہنگے گفٹ پر ہاتھ رکھتی۔‘‘ وہ شرارت سے کہتی اپنا کھانا ختم کرچکی تھی۔
’’ہاں پرنسز آف ہنزہ کی آنکھ میں یہ گفٹ کہاں سما رہا ہوگا۔‘‘ سارہ ہنس کر بولی۔
امائم نے چونک کر اسے دیکھا‘ اذان نے بھی سارہ کو دیکھا اور پھر دونوں کے لب بھینچ گئے۔
خ…ز…خ
’’ماشاء اللہ آج تو نظر ہٹانے کا دل ہی نہیں چاہ رہا ہے تم پر سے۔‘‘ وہ چونک کر مڑی اور سمیر کو دیکھ کر اس کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ آج سارہ کی مہندی تھی اور باہر لان میں تمام ڈیکوریشن کی گئی تھی۔ سارا انتظام وہیں تھا۔ وہ اندر کسی کام سے آئی اور سمیر جو نجانے کب سے اس پر نظر رکھے ہوئے تھا اس کے پیچھے اندر چلا آیا۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے؟ سامنے سے ہٹو۔‘‘
’’ابھی بدتمیزی شروع کب کی ہے میں نے…‘‘
’’سمیر میں تمہاری شکایت کردوں گی۔‘‘ اس کا دل بری طرح سے گھبرایا۔
’’اچھا… مگر کیا کہو گی کیا کیا ہے میں نے۔‘‘ وہ ایک ہفتے سے یہاں تھا اور پورا ہفتہ اس نے اس سے بچنے کی کوشش میں ہی صرف کیا تھا۔ سارہ کی شادی تھی۔ وہ خبیث انسان بار بار اس کے اردگرد گھومتا اسے عاجز کیے ہوئے تھا۔ جس انسان کی نگاہوں میں عزت نہ ہو۔ وہ درندہ ہوتا ہے اور وہ ایک درندہ ہی تھا جو موقع کی تلاش میں تھا۔
’’سمیر پلیز راستہ چھوڑو میرا۔‘‘ اپنی بے بسی پر اسے رونا آنے لگا‘ کہاں گیا وہ جو کہتا تھا۔ ’’کوئی تم پر نظر ڈالے یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔‘‘
’’کہاں ہو ہلال؟ پلیز آجائو۔ دیکھو میں کتنی مشکل میں ہوں۔‘‘
’’سنو جان من مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے… اور میں…‘‘
’’ہاں فہد… کہاں ہے یار تو اب تک آیا کیوں نہیں۔‘‘ سمیر چونک کر پیچھے ہوا۔ وہ بھی چونک گئی‘ وہ اندر داخل ہو رہا تھا‘ فون پر کسی سے باتیں کرتا ہوا… سمیر تیزی سے باہر نکل گیا جبکہ وہ بت بنی وہیں کھڑی رہ گئی۔
’’ہلال…‘‘ اگلے پل وہ وہیں بیٹھتی چلی گئی‘ فون بند کرکے وہ جونہی پلٹا اسے بیٹھا دیکھ کر چونکا۔
’’امائم… آر یو اوکے۔‘‘ وہ زمین پر ایسے کیوں بیٹھی تھی۔ وہ پریشان ہوا‘ وہ جواباً بنا کچھ بولے منہ نیچے کیے بیٹھی رہی۔ کیسے سر اٹھا کر اسے اپنی آنکھوں کے آنسو اسے دکھاتی۔
’’امائم‘ کیا ہوا… تم ٹھیک ہو ناں؟‘‘ وہ بے چین ہوا۔
’’میرا… میرا پیر مڑگیا۔‘‘ وہ بمشکل کہہ سکی۔
’’اوہ… مگر کیسے… کیا موچ آگئی؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے کھڑا ہونا چاہا تو اس نے سہارے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن وہ نظر انداز کرتی اٹھ گئی۔ کیونکہ اس کی طرف ہاتھ بڑھانا اس کا بے اختیار عمل تھا اور وہ سارہ نہیں تھی‘ جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر دکھی ہوجاتی۔ اسے تو بڑی بڑی باتیں چاہیے تھیں خوش ہونے کے لیے۔
’’تم ٹھیک سے چل پائوگی یا ڈاکٹر کے پاس چلیں؟‘‘ وہ اس کی چال کو جانچ رہا تھا۔ وہ بنا کچھ کہے باہر نکل گئی تھی۔
خ…ز…خ
’’باہر کوئی سمیر صاحب آپ کو لینے آئے ہیں۔‘‘ کائونٹر گرل کے فون نے اسے چونکایا۔
’’اس کے علاوہ اور کوئی نہیں بچا تھا گھر پر۔‘‘ اسے غصہ آیا۔
’’ان سے کہو ابھی دلہن تیار نہیں ہوئی۔‘‘ پارلر میں تیار ہوکر ایک طرف بیٹھی سارہ نے چونک کر اسے دیکھا‘ لڑکی نے بھی سارہ کو دیکھا مگر پھر بنا کچھ کہے چلی گئی۔ آج سارہ کی بارات تھی کچھ دیر بعد وہ لڑکی پھر آئی۔
’’کوئی مزمل صاحب آپ کو لینے آئے ہیں۔‘‘
’’چلو۔‘‘ اس نے لپک کر سارہ کو اٹھایا۔ سارہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’سمیر آیا ہوا ہے پھر مزمل کے ساتھ جانے کی کیا تک بنتی ہے۔‘‘ وہ بہرحال اس کا سسرالی ہی تھا لیکن وہ اسے تقریباً گھسیٹتی ہوئی باہر لائی۔
’’گاڑی اس طرف ہے۔‘‘ سمیر نے اسے مزمل کی گاڑی کی طرف بڑھے دیکھ کر کہا۔
’’ہم مزمل کے ساتھ جارہے ہیں۔‘‘ اس نے سارہ کو پچھلی سیٹ پر دھکیلا۔
’’یہ کیا حرکت ہے سارہ کے اس سسرالی کو کیوں بلایا تم نے؟‘‘ وہ تلملایا۔
’’وہ صرف سارہ کا سسرالی نہیں میرا بھی دوست ہے۔‘‘
’’دوست یا عاشق…‘‘ وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے بیٹھتے رکی‘ سارہ اور مزمل نے بھی چونک کر سمیر کو دیکھا۔
’’تمہاری مرضی جو چاہے سمجھو۔‘‘ اگلے لمحے وہ سرتاپا ہلال حسن میں ڈھل گئی‘ ہر بات سے لاپروائی ہر بڑی سے بڑی بات کو چٹکیوں میں اڑانا۔
’’چلو مزمل…‘‘ مزمل نے ایک سلگتی نگاہ سمیر پر ڈالی اور کار آگے بڑھادی۔ پیچھے سمیر اپنی بے عزتی کی آگ میں جھلس کر رہ گیا تھا۔
خ…ز…خ
’’ارے یہ کیا…؟‘‘ رمشہ کی آواز پر اذان نے مڑ کر دیکھا۔ مزمل کی کار سے اترتی امائم اور سارہ نے اسے حیران کردیا تھا۔
’’سمیر لینے گیا تھا ناں تمہیں تو…؟‘‘ رمشہ نے آگے بڑھ کر سارہ کو دوسری طرف سے تھاما۔
’’اوکے امائم…‘‘ مزمل نے کہا تو اس نے سارہ کو چھوڑ کر مڑ کر اسے دیکھا پھر اس کے قریب چلی آئی۔
’’تھینک یو۔‘‘ چند اور لڑکیاں بھی قریب آگئیں سارہ کو انہوں نے بھی سہارا دیا۔
’’اٹس اوکے۔‘‘ وہ چلا گیا۔ اذان بنا کسی تاثر کے بس اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے نگاہوں کا رخ پھیرا اور سارہ کے پیچھے چلی گئی۔ رخصتی تک اسے سمیر نظر نہیں آیا۔
’’واپسی پر بھی میرے ساتھ چلنے کا ارادہ ہے۔‘‘ پیچھے سے مزمل کی شرارتی آواز پر وہ مڑی اور دھیرے سے مسکرائی۔ نفی میں سر ہلایا۔
’’چلنا ہے تو چلو‘ غلام کو یہ خدمت انجام دے کر خوشی ہوگی۔‘‘
’’تھینک یو…‘‘ وہ مما کے ساتھ گھر آئی گھر آتے ہی اس نے فاخرہ کے ساتھ مل کر کافی بنائی‘ سب کو پیش کررہی تھی اور پھر خاندان کی لڑکیوں کے گروپ کی طرف آگئی۔
’’کیا بات ہے بنو، سب خیریت تو ہے ناں؟‘‘
’’جی بالکل…‘‘ وہ ایک رشتے کی بھابی تھیں۔
’’اگر کہو تو اذان کو منائیں ہم۔‘‘
’’کس لیے…‘‘ وہ چونک گئی۔
’’بھئی مزمل کے لیے… سنا ہے سمیر بھائی لینے گئے تھے لیکن تم نے مزمل کو کال کرکے بلایا تھا۔‘‘ اس کے لب بھینچے۔
’’اور یہ بھی سنا ہے کہ وہ آج تمہارا گفٹ کیا سوٹ پہنا ہوا تھا۔‘‘وہ سارہ کی کزن تھی۔ اس نے خون کا گھونٹ بھرا۔
’’ہم نے تو سنا تھا کہ وہ تمہارے پیچھے پاگل ہے مگر یہاں تو لگتا ہے آگ دونوں طرف برابر لگی ہے۔‘‘ وہ طنز نہیں تھے بس مذاق تھا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ ان سب کی باتیں سن کر اور اب اسے اذان کا دیکھنا یاد آیا‘ وہ تو سمیر سے بچنے کے لیے مزمل کے ساتھ آئی تھی۔ جب یہ سب اس طرح کہہ سکتی ہیں تو اذان بھی ایسا سوچ سکتا ہے۔
’’اف خدایا… میں کیا کروں؟‘‘ وہ اپنے کمرے کی طرف آگئی‘ دوسرے دن ولیمے میں بہت سے مہمان ہال سے ہی لوٹ گئے تھے اور ان میں سمیر بھی تھا۔ اس نے سکون کا سانس لیا۔ شادی کے تیسرے دن سارہ اور اعظم ہنی مون پر چلے گئے تھے۔
خ…ز…خ
’’آج روٹی کس نے پکائی۔‘‘ عالیان نے روٹی دیکھتے ہی کہا۔
’’شیف نے۔‘‘ مما نے جواب دیا۔
’’امائم نے کیوں نہیں پکائی، آپ کو معلوم ہے ناں میں ان کے علاوہ کسی کے ہاتھ کی روٹی نہیں کھاتا۔‘‘ اذان نے خاموشی سے اپنی پلیٹ میں سالن نکالا۔
’’اس کی طبیعت خراب ہے‘ اتنا تیز بخار ہورہا ہے اسے۔‘‘ دونوں کا ہاتھ رکا اور دونوں نے چونک کر مما کو دیکھا۔
’’دوا لی انہوں نے؟‘‘ عالیان نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’لے لی ہے اور تم بیٹھے رہو۔ ذرا سی آہٹ سے آنکھ کھلتی ہے اس کی‘ ابھی سوئی ہے دوا لے کر…‘‘ مما نے کہا تو وہ جو اس کے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ سر ہلاتا واپس بیٹھ گیا۔
’’ویسے مما جب امائم اس گھر سے جائیں گی تب میں بہت دن تک کھانا نہیں کھاسکوں گا۔‘‘ اس نے اپنی پلیٹ میں چاول نکالے جو ممانے بنوائے ہی اسی خدشے کے تحت تھے کہ عالیان روٹی کے بجائے چاول سے سالن کھانا پسند کرے گا۔ اذان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اسے اسلام آباد جانا تھا اور پھر کچھ دیر بعد وہ بھی چلا گیا‘ گھر میں ایک دم سے سناٹا ہوگیا‘ اذان تو خیر گھرمیں ہی کم ہوتا تھا اور ہوتا بھی تو زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی رہتا۔ البتہ سارہ کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی اور وہ بھی اس صورت میں کہ امائم بستر سے ہی نہیں نکل رہی تھی اس کا بخار تھا کہ کم ہی نہیں ہورہا تھا اور پھر موسم بھی مسلسل بارشوں کا تھا۔ تو دل اور طبیعت دونوں بوجھل سے تھے۔ اس دن اس کی طبیعت بہتر تھی اور بارش بھی کچھ وقت کے لیے جیسے تھم گئی تھی۔ وہ اور مما اسکائپ پر سارہ سے باتیں کررہے تھے جو مری کی برفباری کو انجوائے کررہی تھی۔ تبھی خالہ کا خون آیا ان کی جٹھانی کا انتقال ہوگیا تھا‘ مما اسی وقت عالیان کے ساتھ چلی گئیں۔
’’میں عالیان کو فوراً بھیج دوں گی‘ تم اکیلی ہو اور تمہاری طبیعت بھی خراب ہے۔‘‘
’’اٹس اوکے مما آپ عالیان کو ان کے جنازے میں شرکت کرنے دیں۔‘‘ اس نے کہا تو انہوں نے یک دم اسے گلے لگایا۔
’’میری بیٹی تو بہت بہادر ہے۔‘‘ اس کی آنکھ سے آنسو نکلے اور ان کے کندھے میں جذب ہوگئے۔ وہ چلی گئیں اور وہ پھر لائونج میں آبیٹھی۔ کچھ دیر سارہ سے باتیں کرکے اس نے پورے گھر کا بے مقصد چکر لگایا اوراس میں ہی وہ تھکن محسوس کرنے لگی تھی بارش بھی پھر سے شروع ہوگئی تھی۔
’’ارے ابھی تو مما ان کے گھر بھی نہیں پہنچی ہوں گی۔‘‘ اس نے بارش کو کوفت سے دیکھا۔ مما نے وہاں پہنچتے ہی اسے فون کیا تھا اپنی خیریت کا بتا کر۔ شیشے کی دیوار سے لگی لان میں برستی بارش کو دیکھنے لگی تھی۔
’’تمہیں پتا ہے ہلال یہ بارش کیسے ہوتی ہے۔‘‘
’’کیا مطلب… یہ تو سائنس نے بچے بچے کو بتادیا ہے کہ بارش کیسے ہوتی ہے؟‘‘
’’میرا مطلب ہے ہلال کہ میں اوزان کی تہہ سے اوپر اٹھ کر دیکھنا چاہتی ہوں کہ بارش زمین پر برستی کیسی لگتی ہے۔‘‘
’’اگر تم کچھ دیر اس قسم کی بات نہ کرتیں تو سچی میں تمہارا چیک اپ کروا کے تمہیں چھٹی دلوا کے گھر لے جانے والا تھا۔‘‘
’’کہاں سے چھٹی…‘‘‘ وہ چونکی۔
’’پاگل خانے سے اور کہاں سے…‘‘
’’تم…‘‘ اس نے اس پر ساری برف اچھال دی۔
’’میں…‘‘ وہ ہنستا ہوا اس کے قریب چلا آیا۔
’’میں تمہیں چاند پر لے چلوں۔‘‘
’’شکریہ۔‘‘ وہ واپسی کے لیے مڑی۔
’’یا پھر چاند کو تمہارے آنچل میں ٹانگ دوں۔‘‘ وہ بلبلا کے پلٹی۔
’’ہلال، ٹانگ نہیں ٹانک۔‘‘ اس نے خفیف ہوکر اپنا ٹوپا درست کیا تھا۔
’’اچھا… کیا فرق ہوتا ہے دونوں میں؟‘‘ وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
’’دھڑ دھڑ… دھڑ دھڑ…‘‘ وہ اچھل پڑی‘ اس شور نے اسے پھر برف کی وادی سے نکال کر حال میں لاپٹخا تھا کیونکہ دروازہ بہت تیزی سے بج رہا تھا۔
’’الٰہی خیر… یہ اتنی بارش میں کون آگیا؟‘‘ اس نے لپک کر دروازہ کھولا اور سمیر کو دیکھ کر اس کا سانس ہی بند ہوگیا۔ اتنی برستی بارش میں چوکیدار اپنے کمرے میں تھا اور چچا کا گھر قریب تھا۔ سمیر اندر آنے کے ہر طریقے سے واقف تھا۔
’’گھر پر کوئی نہیں ہے۔‘‘ جتانے والے انداز میں کہہ کر اس نے دروازہ بند کرنا چاہا جسے وہ دھکیل کر اندر آگیا۔
’’تم اکیلی ہو‘ اسی لیے تو آیا ہوں تاکہ تمہیں ڈر نہ لگے۔‘‘
’’مجھے ڈر نہیں لگ رہا‘ تم یہاں سے جاسکتے ہو۔‘‘ وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ وہ ہنسا۔
’’شادی میں تو بڑی بہادر بنی ہوئی تھیں۔ اپنی فیملی کو بتائے بغیر اپنے عاشق کے ساتھ گلچھرے اڑا رہی تھیں۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ مما کو سب پتا تھا۔‘‘ وہ غصے سے بولی۔
’’یو شٹ اپ… اب اگر مجھے ذرا بھی اکڑ دکھائی تو اچھا نہیں ہوگا۔ اسی لیے شرافت سے چلو میرے ساتھ۔‘‘ وہ اسے گھسیٹ کر اندر لے جانے لگا‘ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا‘ بیماری کی وجہ سے کمزوری اس لمحے غالب آنے لگی‘ اس کی ٹانگیں بے جان ہوئی تھیں۔
’’چھوڑو مجھے… چوکیدار… چوکیدار گارڈ…‘‘ وہ چلائی لیکن چوکیدار گارڈ تو پچھلی طرف بنے سرونٹ کوارٹر میں تھے۔
’’بکواس بند کر سمجھی…‘‘ وہ اسے لائونج میں لے آیا‘ اس کا دوپٹا راستے میں گر گیا تھا۔ اس کے بازو پر سمیر کی گرفت مضبوط تھی اور اس کے بدن پر جیسے چیونٹیاں رینگنے لگی تھیں۔
’’اللہ…‘‘ اس کے منہ سے نکلا اور پھر وہ روتی چلی گئی‘ کہاں گئے وہ لوگ جو اس کی جان وعزت کے محافظ تھے کوئی نہیں تھا اس کے پاس جو اسے بچا سکتا لیکن وہ ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ وہ بہت کچھ لٹا چکی تھی‘ اس عزت کے لیے… اس نے پوری طاقت لگائی سمیر سے خود کو چھڑانے میں مگر ناکام رہی۔
’’یا اللہ میری مدد کر…‘‘ وہ تڑپ کر اپنے رب کو پکارنے لگی۔
’’اپنی مدد بھیج مولا… بچا مجھے اس ظالم سے۔‘‘ وہ بن پانی کی مچھلی بنی سمیر کے ہاتھوں سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی۔
’’مجھ سے دور بھاگے گی سالی… اب بھاگ ناں۔‘‘ وہ اس پر جھکا ہی تھا کہ ہلکی سی آہٹ ہوئی‘ وہ اچھل کر پلٹا اور پھر اس کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔
’’اذان…!‘‘ وہ پوری قوت سے چلائی اور وہ جو بے دھیانی سے اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا چونک کر مڑا‘ بنا دوپٹے کے روتی امائم نے اس کی روح کھینچ لی تھی‘ سمیر کی گرفت اس پر ہلکی ہوئی تو وہ بھاگتی ہوئی اذان سے آلپٹی۔
’’اذان… اذان مجھے اس سے بچالو اذان۔‘‘ امائم کی آواز نے اس کا دماغ ہی مائوف کردیا تھا۔
’’اذان میں نے شادی میں صرف اس سے بچنے کے لیے مزمل کے ساتھ آنا جانا رکھا تھا مگر یہ… اذان… یہ…‘‘ وہ سن کھڑا تھا۔ وہ کچھ محسوس نہیں کررہا تھا نہ سمیر پر غصہ نہ ہی امائم کے لیے کوئی اور جذبہ… اس کی سانس تک رک گئی تھی بس ایک خیال تھا۔
’’میں ہلال کی بلی کی حفاظت نہیں کرسکا‘ میں امائم کی حفاظت نہیں کرسکا۔‘‘ اس کے دل نے چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
’’یار اذان میری بات سن، اس نے خود مجھے فون کرکے بلایا یار یہ…‘‘
’’اذان یہ جھوٹ بول رہا ہے۔‘‘ وہ تڑپی اس الزام پر اور اذان… اسے لگا اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔
’’یہ جھوٹ بول رہا ہے اذان۔‘‘ وہ اپنی بے گناہی کا یقین دلا رہی تھی۔ اذان نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑا اور تابڑ توڑ اس پر مکے برسانے لگا۔
’’مگر تم غلط سمجھ…‘‘
’’اینف… اینڈ آئوٹ۔‘‘ وہ چلایا‘ امائم کے رونے کی شدت بڑھی‘ وہ محفوظ تھی اسے یقین نہ آیا۔
’’اچھا ہوتا کہ میں مر جاتی۔‘‘ وہ اس کے سینے سے آلگی۔
کئی دنوں کا غبار آنسوئوں کے ذریعے اذان کے سینے میں منتقل کررہی تھی اور وہ اس بوجھ تلے دبا جارہا تھا۔ جانے وہ کب سے اذیت میں مبتلا تھی۔ وہ مجرم تھا جو عہد اٹھائیں وہ ایسے بے خبر کیسے رہ سکتے ہیں؟ وہ سزا کے لائق تھا۔ امائم کی ہچکیاں اب سسکیوں میں بدل رہی تھیں مگر وہ یوں ہی ساکت وصامت کھڑا تھا۔
’’ٹرن…‘‘ موبائل کی بیل بجی تو وہ دونوں چونکے۔
’’جی مما۔‘‘
’’اذان میں امائم کے نمبر پر کال کررہی تھی مگر فون نہیں اٹھایا اس نے۔‘‘
’’وہ سو رہی ہے مما۔‘‘ امائم نے چونک کر اسے دیکھا اور اپنا سانس بھی روک لیا مبادا اس کے سانس کی آواز مما کو پہنچے اور وہ اسے غلط سمجھیں اور ذرا سا پیچھے کو ہٹ گئی اپنے رونے پر تو نہیں البتہ بنا دوپٹے اس کے سینے پر سر رکھ لینے سے وہ ضرور شرمندہ ہوئی تھی۔ اس کے حواس بحال ہوئے اور اب وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔
’’جی مما آپ بے فکر رہیں، میں ہوں گھر پر۔‘‘ وہ گھر کے قریب ہی تھا جب پہلے مما کا فون آیا اور مما نے خالہ کی جٹھانی کے انتقال کی خبر دی۔ اس کا ارادہ کپڑے بدل کر وہاں جانے کا تھا مگر… اندر ایسا کچھ ہوگا اسے گمان بھی نہ تھا۔
’’مجھے بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ فون بند کرکے وہ بولا تو وہ چونکی۔ وہ اس حال میں ایسا کچھ کہے گا، وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ وہ کچن کی طرف بڑھ گیا۔
’’کیا بنائوں…؟‘‘ وہ راستے میں پڑا اپنا دوپٹا اٹھا کر کچن میں چلی آئی۔
’’جو جلدی سے بن جائے۔‘‘ وہ اطمینان سے کرسی گھسیٹ کر جوس پی رہا تھا‘ وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔ اس نے تو محض مروتاً پوچھا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اسے منع کردے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا تو مجبوراً اس نے آگے بڑھ کر فریج سے کبابوں کا قیمہ نکالا۔
’’روٹی نہیں پکانا۔‘‘ وہ چونک کرمڑی۔ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر رخ موڑ گئی۔ وہ ہلال حسن نہیں تھا اذان جنید تھا۔ وہ دونوں الگ تھے ا ور ان کا انداز بھی الگ تھا۔ اس نے ساتھ ہی چائے بھی بنالی اور بسکٹس بھی لاکر اس کے آگے رکھ دیئے تھے۔
’’چائے اپنے لیے بھی لائو۔‘‘ وہ صرف ایک کپ چائے رکھتا دیکھ کر چونکا تو اس نے مڑ کر اپنے لیے بھی چائے کپ میں ڈالی… وہ جانتی تھی کہ وہ اس سے کچھ پوچھنا چاہتا ہے لیکن کیا۔
’’سمیر تمہیں تنگ کررہا تھا تو تمہیں مجھے بتانا تھا۔‘‘
’’میں نے کبھی ہلال کو بھی نہیں بتایا۔‘‘ جواباً وہ اسے جتائے گی ضرور کہ وہ اس سے غافل ہے۔
’’کھائو…‘‘ اس نے دعوت دی‘ وہ اس کے کہے کو کبھی رد نہیں کرسکتی تھی، اس نے کباب کھاتے ہوئے سوچا۔ وہ اسے جان سے گزر جانے کو بھی کہہ دے تو وہ ہنسی خوشی جان دے دے گی۔ یہ طے تھا… وہ چائے ختم کرچکا تو وہ برتن سمیٹ کر اٹھی۔
’’مزمل اچھا لڑکا ہے ناں۔‘‘ اسے کرنٹ لگا اور وہ جھٹکا کھا کے پلٹی۔
’’جی…‘‘ اسے لگا اسے سننے میں دھوکا ہوا ہے ورنہ اذان ایسا نہیں کہہ سکتا لیکن وہ پھر کچھ نہیں بولا بس میز کی سطح کو دیکھتا رہا۔ اس نے برتنوں کو سلیپ پر پٹخنے کے انداز میں رکھا اور لمحہ بھر میں وہاں سے چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی اس کے چہرے سے سارے سکون کے رنگ اڑ گئے اس کا جی چاہا وہ ابھی جاکر سمیر کو قتل کر آئے لیکن سمیر سے زیادہ قصور وار تو وہ خود تھا جو امائم سے غافل ہوگیا تھا‘ وہ کیوں سمیر کو نہ پہچان سکا۔
’’سمیر کی شکل سے کس قدر کمینہ پن جھلکتا ہے۔‘‘
’’واٹ…‘‘ وہ ہلال حسن کے اس تبصرے پر اچھل پڑا تھا۔
’’یہ گھروں میں بے تکلفی سے آنے جانے والا انسان نہیں ہے اذان احتیاط برتو اس سے۔‘‘
’’وہ میرے چچا کا بیٹا ہے بس ذرا چھچھورا سا ہے۔‘‘ ہلال کیا سمجھانا چاہ رہاتھا کاش وہ سمجھ لیتا۔
خ…ز…خ
وہ شام سے پہلے گھر چلا آیا اور گھر پہنچ کر لان میں سمیر کی گاڑی دیکھ کر وہ غصہ ضبط کرتے اندر آیا لیکن ساکت رہ گیا‘ خاندان کا ہر بڑا بزرگ جس کے دبائو میں مما آجاتیں سمیر لے کر آیا تھا لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ امائم کی زندگی کے فیصلے مما کے نہیں اذان کے ہاتھ میں تھے۔ مما کے پاس اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق ہوتا تب بھی وہ سمیر کو ہرگز نہ چنتیں یہ بھی طے تھا پھر بھی سمیر آیا تھا۔ چچا‘ چچی‘ رمشہ‘ تائی‘ پھپو‘ بڑے پھپا اور تایا کے بڑے بیٹے بہو۔
’’یہ لوگ سمیر کا رشتہ لے کر آئے ہیں امائم کے لیے۔‘‘ مما نے اسے سرد وسپاٹ لہجے میں کہا۔ گویا اس مقصد کے لیے ان کی آمد مما کو پسند نہیں آئی تھی یا پھر وہ مما سے اتنا کچھ کہہ چکے تھے کہ مما کی برداشت ختم ہوگئی تھی‘ عالیان بھی سنجیدہ سا وہیں بیٹھا تھا۔
’’ہماری طرف سے انکار ہے۔‘‘ وہ کہہ کر آگے بڑھنے لگا۔
’’اپنی طرف سے انکار مت کرو… امائم سے پوچھ لو۔‘‘ پھپو نے کہا تو وہ چونک کر مڑا۔
’’امائم کو میرے فیصلے پر کیا اعتراض…؟‘‘
’’ہاں دیکھا تھا ہم نے پہلے تم نے مزمل کو انکار کیا تھا اور امائم پوری شادی میں اس کے ساتھ ہی گھومتی پھرتی نظر آئی تھی۔‘‘ بھابی بولیں تو اس نے سلگتی نگاہ سمیر پر ڈالی۔
’’سمیر اگر دنیا کا آخری انسان بھی ہوا تو میں اسے رد کرتا ہوں اور اس موضوع پر مجھے آپ سے مزید کوئی بات نہیں کرنی۔‘‘
’’مجھے اس کی دولت نہیں چاہیے اذان… تم اس لیے اس کے آئے رشتوں کو ٹھکرا رہے ہو کہ تمہیں اس کی دولت سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے لیکن مجھے امائم کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔‘‘ اذان نے اس کی بکواس بمشکل ضبط کی۔
’’کمینہ انسان…‘‘
’’کیا تم زندگی بھر اس کی شادی نہیں کرو گے؟‘‘ تائی نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’ایسی بات نہیں ہے تائی لیکن کیا آپ سمیر کو اس قابل سمجھتی ہیں؟‘‘
’’اور مزمل میں کیا برائی تھی…؟‘‘ بڑے پاپا یک دم بولے۔ اسے لگا وہ ان لوگوں کے آگے نہیں جیت پائے گا۔ سمیر کی اصلیت وہ کھول نہیں سکتا تھا‘ اس طرح امائم کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھتیں جو اسے کسی طور گوارہ نہیں تھی۔
’’کیوں نہیں سمجھا رہی تم اذان کو کیوں دولت کے لالچ میں اندھا ہو کر یہ اس کی زندگی برباد کررہا ہے۔‘‘ ان سب کا بس یہی کہنا تھا کہ وہ اور مما لالچی ہوگئے ہیں۔
’’اینف…‘‘ وہ لب بھینچے کھڑا تھا اور مما سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
’’میری شادی نہ کرنے میں اذان کا لالچ نہیں بلکہ مجبوری آڑے آتی ہے۔‘‘ وہ اندر داخل ہوئی تو سب نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’کیسی مجبوری…؟‘‘
’’میں نکاح شدہ ہوں۔‘‘ اس نے جیسے ہر شخص کی سماعت پر بم گرایا۔
’’امائم…‘‘ مما جھٹکے سے اٹھیں۔ ’’یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ وہ بوکھلا کر اس کی طرف بڑھیں۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر وہ رو رہی تھی۔ عالیان اٹھ کر اس کے قریب آیا۔
’’امائم کچھ نہیں ہوگا‘ بھائی سب سنبھال لیں گے۔ سمیر کی کیا اوقات ہے آپ کے آگے کہ ہم اسے ہاں کہنے پر مجبور ہوں اور اگر یہ خاندان ہمیں چھوڑنا چاہتا ہے تو ایسے دس خَاندان آپ پر قربان… آپ بالکل ٹینشن مت لیں اور کوئی جھوٹ مت بولیں۔‘‘ امائم نے عالیان کو دیکھا۔ کتنی محبت‘ کتنی اپنائیت تھی کیسا اعتبار تھا اور جب اسے یقین آئے گا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے تب… وہ آگے کا سوچ کر خوف زدہ ہوئی۔ وہ یہ بات مرکر بھی نہ کہتی مگر وہ خاندان والوں کو یوں مما کو بے عزت کرتا بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔
’’یہ سچ ہے…‘‘ بے پناہ اذیت سے اس کا چہرہ سرخ تھا اور آنسوئوں سے تر… عالیان اور مما کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اذان نے شیشے کی دیوار سے باہر دیکھا‘ رات اپنے پر پھیلا رہی تھی ایک اور تکلیف دہ رات۔
’’کب…؟‘‘ مما نے حیرت سے پوچھا۔
’’بابا نے میرا نکاح کردیا تھا۔‘‘
’’کس سے کہاں ہے وہ…؟‘‘ عالیان نے بے یقین سے پوچھا۔
’’گم ہوگیا مجھ سے…‘‘ اذان نے چونک کر مڑ کر، اسے دیکھا۔
’’اس رات میرا سب کچھ کھو گیا عالیان… سب کچھ۔‘‘ اس نے اپنے آنسوئوں کو صاف کیا۔
’’جھوٹ… بالکل جھوٹ…‘‘ سمیر اٹھ کر بولا لیکن عالیان سن کھڑا تھا۔ اس کا نکاح کس سے ہوسکتا تھا؟ رمشہ اور مما نے چونک کر اذان کو دیکھا… وہ اذیت آنکھوں میں لیے امائم کو یک ٹک دیکھ رہا تھا… مما کی یادداشت میں کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا جب اذان نے امائم کی طرف نظر ڈالی ہو اور وہ بھی ایسی نظر… رمشہ کے قدموں تلے زمین کھسکی تھی۔
’’اس کا کوئی نکاح نہیں ہوا یہ صرف اذان کا ساتھ دینے کے لیے جھوٹ بول رہی ہے۔‘‘ سمیر بھڑک اٹھا۔ امائم نے عالیان کو دیکھا جس کے چہرے پر سرخی نمایاں تھی وہ لب بھینچے کھڑی رہی۔
’’تم اپنے شوہر کو ابھی بلائو۔‘‘ تائی کے ساتھ سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے‘ اس نے بے بسی سے انہیں دیکھا وہ کہاں سے بلاتی وہ تو اسے کھو چکی تھی۔
’’کوئی ثبوت دکھائو اپنے نکاح کا۔‘‘ چچا نے کہا۔
’’یہ جھوٹ بول رہی ہے کوئی نکاح نہیں ہوا اس کا‘ کوئی شوہر نہیں ہے اس کا۔‘‘ سمیر کو یقین اور رمشہ بس یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی جو لب بھینچے امائم کو دیکھ رہا تھا۔
’’بتائو لڑکی کون ہے وہ؟‘‘ وہ سب اس پر چڑھائی کرنے لگے۔
’’وہ کھو گیا مجھ سے…‘‘ کی گردان کررہی تھی۔
’’اذان کیا یہ سچ کہہ رہی ہے؟‘‘ رمشہ کی آواز نے سب کو چونکایا۔
’’بلائو اس کے شوہر کو اذان…‘‘ وہ ابھی بھی یک ٹک امائم کو دیکھ رہا تھا۔ جو اب خوف زدہ ہوکر اسے دیکھ رہی تھی۔ رمشہ نے آگے بڑھ کراس کا رخ اپنی طرف موڑا۔
’’کون ہے اس کا شوہر…؟‘‘ مما اور رمشہ نے بیک وقت سوچا کہ جو ان کا دل کہہ رہا ہے وہ اذان کی زبان نہ کہے۔
’’میں…‘‘ اس ایک لفظی جواب سے اس نے وہاں موجود ہر شخص کے پیروں سے زمین کھینچ لی تھی۔
خ…ز…خ
’’اذان جنید خوب صورتی میں یکتا و بے مثال ہے۔‘‘
’’مغرور بھی ہے۔‘‘ اس کے دوستوں کی فہرست میں دو سے تین لوگ تھے اور وہ بھی خود آگے بڑھے تھے جن میں ایک رمشہ تھی۔ وہ بہت کم بولتا تھا۔ مما پپا کا بے حد فرماں بردار تھا‘ ذہانت میں لاثانی۔ خاندان کے سب لڑکوں کو اس کی ہرہر بات کی مثال دی جاتی تھی۔ وہ سب کا پسندیدہ تھا‘ حالانکہ وہ لیے دیے رہنے والا تھا۔ بہت کم کسی سے مخاطب ہوتا البتہ رمشہ کی بات الگ تھی وہ بہت اچھی تھی مگر یہ بھی بس ایک کزن ہونے کے ناطے۔ رمشہ کو اس نے کبھی شریک حیات کے طور پر نہیں سوچا تھا مگر پاپا نے انیس سال کی عمر میں اسے اٹھارہ سالہ رمشہ سے جوڑ دیا۔ پپا کی کسی بات سے اختلاف تو اس کے لیے ممکن ہی نہیں تھا اور رمشہ پر اعتراض ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ بیس سال کا تھا جب اچانک پاپا کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ ان سب کو روتا بلکتا چھوڑ گئے تھے۔ پاپا ایک کمپنی پر جی ایم کے عہدے پر تھے۔ وہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ ایسی جاب کر پاتا لیکن اب جاب اس کی مجبوری بن گئی تھی کیونکہ پاپا نے سالوں سے جو بچت کی تھی مما کو وہ گھر میں خرچ کرنا پڑی۔ مما نے ان دنوں ایک اسکول میں جاب شروع کردی تھی۔ رشتے داروں نے اس برے وقت میں ان کا بے حد ساتھ دیا لیکن مما نے کسی سے روپے پیسے کی مدد لینا گوارانہ کی تھی۔ وہ بھی مختلف ٹیوشنز پڑھا کر سارہ اور عالیان کی پڑھائی کا خرچہ خود اٹھانے لگا ہاں ان دنوں اس نے پاپا کی کار کو گیراج میں بند کردی تھی۔ تین سال گزرے تو اسے ڈگری کے ساتھ ہی جاب مل گئی تھی۔ فہد اس کا دوست اسے اپنے پاپا کی کمپنی میں لے آیا تھا۔
’’ہم لوگ بلاشبہ ناتجربہ کار ہیں لیکن آپ کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔‘‘ اس کی بات پر اس کے پاپا قہقہہ لگاکر ہنسے اور اسے خوشی سے رکھ لیا۔ وہاں تنخواہ اچھی تھی اور اس نے پپا کی کار کو گیراج سے نکال لیا۔ پپا کی کار کو دو سال بعد ڈرائیو کرتے وہ بے حد خوش تھا۔
’’لنچ کریں۔‘‘ فہد نے اس کے کیبن میں جھانکا۔
’’ہوں۔‘‘
’’چلو آج کہیں باہر چلتے ہیں۔‘‘ فہد اسے لے کر ایک قریبی ہوٹل میں آگیا۔ کھانا لگنے سے پہلے ہی فہد کی بہن کا فون آگیا وہ آسٹریلیا سے اچانک آگئی تھیں۔ فہد اس سے معذرت کرتا اٹھ گیا۔ وہ بھی چلا جاتا مگر وہ کھانے کا آرڈر کرچکے تھے۔
’’صرف ایک فرد کا کھانا لگائو۔ میرا دوست چلا گیا۔‘‘
’’رہنے دو۔‘‘ ویٹر کھانے کے برتن اٹھانے لگا کہ اس کی آواز آئی۔ ویٹر کے ساتھ اذان بھی چونکا۔ وہ اذان کے قریب والی کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا۔
’’میرا نام ہلال حسن خان ہے‘ میں ہنزہ کے ایک گائوں کا رہنے والا ہوں‘ کراچی میں ایم بی اے کررہا ہوں‘ ایک کرائے کے کمرے میں رہتا ہوں اور پارٹ ٹائم جاب کرتا ہوں اور اس کھانے کا بل میں ہی پے کروں گا۔ تم ٹینس مت ہو۔‘‘ اذان نے اپنی زندگی میں اس قدر بے تکلف انسان آج تک نہیں دیکھا تھا جو کسی اور کی میز پر یوں آکر ایک اجنبی سے اپنی ہسٹری بیان کرے۔
’’ظاہر ہے اپنے کھانے کا بل تم خود ہی پے کروگے۔‘‘ اس نے شانے اچکائے اور لنچ شروع کردیا۔
’’ویسے تم بہت خوب صورت ہو۔‘‘ اذان کا ہاتھ درمیان میں رکا اور اس نے چونک کر نظر اٹھائی۔
وہ کھانا نہیں کھا رہا تھا بلکہ دونوں ہاتھوں کی کہنیاں ٹیبل پر ٹکائے ہتھیلیوں پر چہرہ رکھے فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اذان کو پھندا لگا۔
’’ارے… ارے۔‘‘ اس نے تیزی سے گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
’’تم تو لڑکیوں کی طرح شرما رہے ہو یار۔‘‘ وہ بے حد دلکشی سے مسکرایا۔
’’واٹ ربش۔‘‘ اس نے نخوت سے اسے دیکھا اور باقی لنچ چھوڑ دیا۔ اپنے لنچ کے پیسے اس نے وہیں میز پر رکھے اور کھڑا ہوگیا۔
’’یہ میرا کانٹیکٹ نمبر ہے۔ میں آپ سے پھر ملنا چاہوں گا۔‘‘ اس نے ایک چٹ اس کی طرف بڑھائی تھی‘ عجیب انسان تھا خوامخواہ گلے پڑ رہا تھا۔ وہ اس کا ہاتھ نظر انداز کرتا ہوا باہر نکل آیا… تیسرے دن کی بات تھی وہ گھر آیا تو سارہ کو زورو شور سے روتا ہوا پایا۔
’’کیا ہوا سارہ خیریت…؟‘‘
’’آج کچھ بدتمیز لڑکوں نے سارہ کا راستہ روکا تھا؟‘‘
’’کیا…! کون تھے وہ لوگ؟ تم میرے ساتھ چلنا پھر دیکھتا ہوں میں انہیں۔‘‘ اسے غصہ آیا۔
’’اب وہ لوگ آپ کو منہ دکھانے کے قابل ہی نہیں رہے بھائی۔‘‘ عالیان نے کہا۔
’’سارہ اب تم بھی بس کردو۔ ان کا حلیہ بگاڑ دیا اس نے اور تمہارا رونا ہی بند نہیں ہورہا… بیٹا اللہ نے تمہاری مدد کی ہے ناں۔‘‘ مما نے سارہ کو ڈپٹا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ اذان چونک کر انہیں دیکھنے لگا۔
’’مطلب یہ کہ ایک لڑکے نے سارہ کی مدد کی۔‘‘ مما نے بتایا۔
’’بھائی اس کا نام ہلال حسن ہے‘ ہنزہ سے آیا ہے۔‘‘ عالیان نے کہا تو وہ چونکا۔
’’ایم بی اے کررہا ہے اور ایک کرائے کے کمرے میں رہتا ہے۔‘‘ مما نے بتایا۔
’’پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں۔‘‘ سارہ نے کہا۔
’’اور اپنا نمبر بھی دے کر گیا ہوگا۔‘‘
’’آپ کو کیسے پتا…؟‘‘ وہ تینوں چونکے۔
’’تین دن پہلے مجھے ملا تھا۔‘‘ پھر اس نے ان سے اپنی ملاقات کی تفصیل سنائی۔
’’بہت اچھا اور ملنسار لڑکا ہے۔‘‘
’’بھائی آپ کو انہیں فون کرکے تھینکس کہنا چاہیے انہوں نے میری مدد کی…‘‘
’’بالکل کرنا چاہیے… جبکہ وہ تم سے خود بھی ملا ہے اور اتنے اچھے طریقے سے ملا ہے۔‘‘ مما نے کہا۔
’’لیکن اس کا نمبر…‘‘ عالیان نے اس کا نمبر ملایا اور دوسری طرف چند منٹ لگے تھے کال ریسیو کرنے میں۔
’’السلام علیکم…‘‘ دوسری طرف سے کہا گیا۔
’’وعلیکم السلام…‘‘
’’میں اذان جیند بات کررہا ہوں۔‘‘
’’جی میں ہلال حسن ہوں‘ فرمائیے…‘‘
’’میں سارہ کا بھائی… اصل میں میں آپ کا شکریہ ادا…‘‘
’’اٹس اوکے مسٹر اذان جنید… کوئی بات نہیں… یہ میرا فرض تھا اس جگہ میری بہن ہوتی تو میں تب بھی ایسے ہی کرتا…‘‘
’’مما نے بتایا کہ آپ کو چوٹ لگی ہے۔ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’بھئی معمولی سی چوٹ ہے آپ ان تکلفات میں نہ پڑیں۔‘‘ وہ فون بند کرنے کے لیے پر تولنے لگا تھا۔ اذان کو مزہ آیا۔ پرسوں وہ کمبل ہورہا تھا اور اذان کو جان چھڑانے کی پڑی تھی اور آج وہ بھاگ جانے کو تیار تھا۔
’’اچھا میں اپنی کوچنگ کلاس میں ہوں۔ آپ سے رخصت چاہوں گا۔‘‘ پھر ملنے کی کوئی بات نہیں، اذان چونکا یعنی حسن ہر کسی سے دوستی نہیں کرنا۔
’’پرسوں آپ ملے تھے تو آپ نے کہا تھا کہ آپ پھر مجھ سے ملنا چاہیں گے۔‘‘ دوسری طرف چند لمحے کے لیے خاموشی چھائی۔
’’آپ…‘‘ اس نے دھیرے سے کہا۔
’’آپ تو اس روز مجھے اپنا نام بتائے بغیر چلے گئے تھے‘ میرا کانٹیکٹ نمبر بھی نہیں لیا آپ نے۔‘‘ وہ افسردگی سے بولا۔ ’’لیکن میں جانتا ہوں کہ ہم غریبوں سے آپ جیسے امیر لڑکے کبھی دوستی نہیں کرتے آپ کو یہی لگتا ہے کہ ہم آپ کو لوٹ لیں گے…‘‘
’’ارے…!‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’اور آپ ابھی بھی اس لیے ملنا چاہتے ہیں کہ میں نے آپ کی بہن کی ہیلپ کی۔‘‘ کچھ دیر قبل تو ہلال حسن جلدی میں تھا لیکن اب سارے جہاں کی فرصت مل گئی تھی۔
’’آپ گلاس لے لیں پھر میں آپ سے اسی ہوٹل میں ملتا ہوں۔‘‘
’’کلاس تو کب کی آف ہوگئی ہے۔‘‘ بھولپن سے کہا تھا۔
’’اب ہلال حسن ہر کسی کے لیے تو فارغ نہیں ہوسکتا۔‘‘ قدرے اترا کر شوخ لہجے میں کہا تھا اور اذان جنید بے اختیار مسکرایا تھا۔ وہ اس دن پہلی بار ملے تھے۔
’’تمہیں کس بات سے لگا کہ میں ایک امیر لڑکا ہوں۔‘‘
’’تمہارے پاس کار ہے ناں؟‘‘
’’تو اس کا مطلب ہے میں بہت امیر ہوں اور تم جیسے غریب لڑکے سے بات نہیں کروں گا اور دوستی تو دور کی بات ہے۔‘‘
’’ہاں ناں… جن کے پاس کار ہو، وہ دوسروں کو بے کار سمجھتے ہیں۔‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘ پھر وہ اسے پہلی ملاقات میں اپنے بارے میں کھل کر بتا رہا تھا۔ کچھ بتانے سے رہ جاتا تو ہلال حسن سوال کرلیتا… ایک لمحہ کے لیے تو اسے لگا وہ اس کا انٹرویو لے رہا ہو مگر اس نے سر جھٹک دیا۔ وہ ایک اچھا وقت اس کے ساتھ گزار کر واپس آیا تھا۔
پھر یہ دوستی گہری ہوگئی اور وہ روز ملنے لگے۔ ہلال حسن ہوٹل میں ہیڈ ویٹرکی جاب بھی کررہا تھا۔ وہ بے حد غریب تھا۔ اسے بہت سا پیسہ کمانا تھا اور ہنزہ میں اپنے خاندان کی کفالت بھی کرنا تھی۔ اذان کو لگتا کہ وہ پندرہ بیس دن میں اس کے اتنا قریب آگیا‘ جتنا چھ سات سالوں میں فہد اور بچپن سے سمیر بھی اس کے قریب نہیں آسکے تھے۔ ہلال اس دوران تین مرتبہ گھر بھی آچکا تھا اور مما عالیان سارہ تینوں اس کے گرویدہ ہوچکے تھے۔ اس دن بھی وہ اس کے گھر آیا تھا‘ وہ کبھی کمرے میں اس کے ساتھ نہیں بیٹھتا تھا بلکہ اکثر کچن میں چلا جاتا، مما کے ساتھ کام کرواتا۔ مما کو تو وہ ایک ماہر شیف لگا کرتا تھا۔ سارہ اور عالیان بھی اس کے ساتھ بہت اچھا محسوس کرتے تھے۔ یک دم اس کا فون بجا اور اس نے پشتو زبان میں کچھ باتیں کرکے فون بند کردیا لیکن ان چاروں نے محسوس کیا کہ وہ پریشان ہوگیا ہے۔
’’بیٹا خیریت… کیا بات ہے؟‘‘ مما نے کہا تو وہ یک دم چونکا۔
’’جی آنٹی خیریت ہے بس ایک دوست سے کچھ کام کہا تھا تو وہ بتا رہا تھا کہ میرا کام نہیں ہوا‘ تو بس اسی لیے پریشان ہوگیا۔‘‘ اگلے پل وہ ہشاش بشاش بولا۔
’’کام کیا تھا، آپ تو بہت پریشان لگ رہے ہیں۔‘‘ سارہ نے پوچھ تھا۔
’’کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی…‘‘ وہ مسکرانے کی کوشش میں بھی اپنی پریشانی نہیں چھپا سکا۔
’’ہلال کے مالک مکان نے دو دن پہلے اپنا کمرہ خالی کروا لیا ہے اور وہ دو دن سے ہوٹل میں ہے جس کے اخراجات یہ بہرحال برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘ اذان نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا تو سب کے ساتھ ہلال بھی چونکا تھا۔
’’کیا…! کیا کہہ رہے ہو۔ تمہیں کس نے بتایا؟‘‘
’’میں ہندکو سمجھتا ہوں۔‘‘ اذان نے کہا تو وہ گڑبڑایا۔
’’مجھے لگا میں تمہارا اچھا دوست بن گیا ہوں مگر میں غلط تھا۔‘‘
’’ارے یار، یہ کوئی ایسی بات تو نہیں ہے کہ میں تمہیں پریشان کرتا… تم کہاں ایک کمرے کا گھر ڈھونڈتے میرے لیے‘ جو میں کسی کے ساتھ شیئر کرتا۔‘‘
’’مجھے ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے‘ میرے پاس پہلے ہی موجود ہے۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘ وہ چونکا۔ ’’اس کا مطلب ہے میں نے غلطی کی تم سے نہ کہہ کے۔‘‘
’’تم نے مجھے اپنا دوست جو نہیں سمجھا۔‘‘
’’کیسی باتیں کررہے ہو‘ بس میں نے تمہیں پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اب ایسے جذباتی ڈائیلاگ نہ بولو بلکہ مجھے وہ کمرہ دکھائو۔‘‘
’’چلو تمہارا سامان لے آتے ہیں۔‘‘
’’مگر کمرہ تو دکھائو… پتا نہیں میں اس کا کرایہ ادا کرسکوں گا یا نہیں؟‘‘
’’کرایہ یہ ہے کہ مجھے فجر میں اٹھانا ہوگا۔‘‘ ہلال حسن کی ایک نمایاں بات یہ تھی کہ وہ کبھی نماز نہیں چھوڑتا تھا‘ اور اس کی صحبت میں وہ بھی نماز کا پابند ہونے لگا تھا۔
’’مطلب…؟‘‘
’’مطلب تم میرے کمرے میں شفٹ ہورہے ہو۔‘‘ اس نے کہا تو وہ رکا۔
’’نہیں اذان میں تمہارا احسان…‘‘
’’انکار کیا تو دوستی ختم…‘‘ وہ ہلال کی کمزوری سے واقف ہوگیا تھا پھر وہ اسے لاکھ منع کرنے پر بھی گھر لے آیا تھا۔
خ…ز…خ
’’سچ بتانا، پھوپا کو کون سے لطیفے سنا رہے تھے۔‘‘
’’لطیفے کیوں سنائوں گا، ہم باتیں کررہے تھے۔‘‘ وہ حیران ہوکر بولا۔
’’اچھا یہ باتیں تھیں۔ اپنے بچپن سے لے کر آج تک میں نے انہیں زیادہ مسکراتے نہیں دیکھا اور وہ تمہارے ساتھ گفتگو میں قہقہے لگا رہے تھے اور تم کہہ رہے ہو کہ تم انہیں لطیفے کیوں سنائو گے‘ امپریسڈ یار… تمہارے ساتھ بور سے بور بندہ بھی کتنا خوش رہتا ہے۔ یہ ہنر مجھ میں نہیں ہے۔‘‘ وہ جیسے ہلکی سی جلن لیے بولا تو ہلال نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
’’تمہارے خیال سے بھی کسی کی خوشی انتہا تک پہنچ جاتی ہے تم کیا جانو یار۔‘‘ ہلال کے لہجے میں کچھ تو ایسا تھا کہ وہ چونک کر مڑا… اس کی نگاہیں جیسے کوئی راز اگلنے کو بے تاب نظر آئیں مگر وہ انہیں دوسری سمت موڑ گیا۔ وہ سن کھڑا رہ گیا کیا تھا۔ کیا ہلال اس سے اس قدر محبت کرتا تھا… اسے اچھا لگا تھا۔
خ…ز…خ
تایا کے بڑے بیٹے کی شادی تھی اور ہلال ان چار دنوں کی تقریب میں خاندان کے ہر فرد کو اپنا گرویدہ بنا چکا تھا۔ حتیٰ کہ شادی کے بعد ان کے گھر سالوں سے نہ آنے والے پھپا خود ہلال سے ملنے آئے تھے۔
’’میں یہاں سے گزر رہا تھا سوچا بچوں سے مل لوں۔ آج کل کے ریٹائرڈ بوڑھوں کے لیے تو ان نوجوانوں کے پاس وقت نہیں ہوتا۔‘‘ بچوں میں وہ خصوصی بچہ کون تھا۔ یہ چند منٹ میں ہی نظر آنے لگا۔ وہ دو گھنٹے بیٹھے مگر ان کا مخاطب ہلال کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ وہ تو ہلال ہی تھا جس نے سارہ اور عالیان کو برابر اپنی گفتگو میں شریک رکھا تھا۔ اذان کو اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ دلکش گفتگو پر عبور رکھتا ہے۔ لفظوں کی جادوگری سے وہ عرصے تک لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں رہتا تھا۔ سارہ کی چھوٹی چھوٹی کئی پریشانیوں کا حل تو عالیان کے ساتھ مختلف گیمز کھیل کر، وہ اذان سے زیادہ ان کے قریب ہوگیا تھا۔
’’اذان… تمہیں معلوم ہے تمہارا یہ دوست بالکل اچھا نہیں ہے۔‘‘ رمشہ کی بات پر وہ چونکا تھا۔
’’پورے خاندان میں سب اس کے گرویدہ ہیں رمشہ۔‘‘
’’مگر مجھے پسند نہیں اور تمہیں معلوم ہے مجھے دیکھتے ہی اس کے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں۔‘‘
’’اچھا…؟‘‘ وہ واقعی حیران ہوا۔ اس نے اس رات ہی اس سے پوچھا اور جواباً وہ ہنس دیا تھا۔
’’رمشہ اچھی ہے جو فیل کرتی ہے وہ تم سے کہہ دیتی ہے لیکن ہر کسی کی یہ عادت نہیں ہوتی۔ تم ذرا آنکھیں کھلی رکھا کرو ناں…‘‘ وہ کوئی کتاب پڑھنے میں مگن تھا۔
’’مگر یار تم رمشہ کو کیوں ناپسند کرتے ہو؟‘‘
’’تم رمشہ کو پسند کرتے ہو؟‘‘ وہ اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’ہاں…‘‘
’’تو پھر میں کیسے پسند کرسکتا ہوں۔‘‘ وہ اس کے جواب پر چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
’’اگر تم لڑکی ہوتے تو مجھے تمہاری یہ جلن سمجھ میں آجاتی مگر اب سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔‘‘ وہ جھنجلایا تھا۔
’’تمہیں پتا ہے تم رمشہ کو نظر انداز کرنے لگے ہو۔‘‘
’’کس وجہ سے…؟‘‘
’’میری وجہ سے… اور وہ اسی لیے میرے متعلق یہ باتیں تم سے کررہی ہے۔‘‘
’’تم کوئی لڑکی نہیں ہو… کہ وہ تم سے جلن محسوس کرے یا میں اسے چھوڑ کر تم سے محبت کرنے والا ہوں۔‘‘ اسے ہلال کی بات پسند نہیں آئی تھی۔
’’کیا تم رمشہ سے محبت کرتے ہو؟‘‘ وہ چونکا اور پھر ہلال کو دیکھتا رہا تھا۔
’’کیا تم سارہ سے محبت کرتے ہو؟‘‘ ہلال نے جواب لیے بغیر ایک نیا سوال کیا۔ وہ چونکا تھا۔
’’تمہیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ دوسرے سوال کا بھی جواب لیے بغیر اس نے اسے مشورہ دیا تھا۔ وہ اسے کیا سمجھانا چاہ رہا تھا وہ نہیں سمجھا تھا۔ رمشہ، پپا کی پسند تھی۔ ان کے بھائی کی بیٹی محبت کا تو پتا نہیں لیکن اسے بہرحال ایک کزن ہونے کے ناطے اس سے انسیت ضرور تھی۔
خ…ز…خ
’’میں ہنزہ جارہا ہوں کچھ ایمرجنسی ہوگئی ہے۔‘‘ وہ آفس میں تھا جب اس کا میسج آیا۔
’’ایسے اچانک…؟‘‘ اس نے کہا لیکن جواباً میسج نہیں آیا‘ وہ گھر پہنچا تو مما نے بتایا کہ ہلال سامان لے کر نہیں گیا تو اسے تسلی ہوئی‘ چلو وہ آئے گا۔
’’ہلال وہاں خیریت سے پہنچ گیا ہے۔‘‘ دوسرے دن صبح مما نے بتایا تو وہ چونکا۔
’’آپ کو کیوں فون کیا اس نے مجھے کیوں نہیں کیا…؟‘‘
’’کیونکہ میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ جب پہنچ جائے تو مجھے خیریت کی اطلاع دے۔‘‘ مما نے کہا تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔ اس نے ہلال کو کال کی مگر اس کا نمبر بند تھا‘ اسے جھنجلاہٹ ہوئی۔ جھنجلاہٹ نے دوسرے دن بے چینی کا روپ دھارا اور تیسرے دن تو وہ جیسے اسے فون کرتے کرتے پاگل ہی ہونے لگا تھا… اس نے مما، عالیان سارہ کو دیکھا‘ کوئی بھی اس کی طرح بے قرار نہیں تھا پھر اسے کیا ہوا تھا؟
’’السلام علیکم…‘‘ تیسرے دن رات کو اس نے کال آتی تھی۔
’’وعلیکم السلام… تم کب واپس آرہے ہو؟‘‘
’’خیریت…‘‘ وہ چونکا۔
’’تم کل واپس آجائو۔‘‘
’’خیریت تو ہے ناں… تم کچھ بتاتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ گھبرایا ہوا بولا تھا۔
’’سب ٹھیک ہے یار بس میرا دل نہیں لگ رہا تمہارے بغیر۔‘‘ اس نے بے اختیار کہا تھا۔ دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی تھی۔
’’میری منگیتر یہ بات سن لیتی تو جانتے ہو وہ مجھے کبھی نہیں آنے دیتی۔‘‘
’’تمہاری کوئی منگیتر بھی ہے، تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔‘‘ وہ چونکا تھا۔
’’ہوگی تو بتائوں گا ناں… لیکن یہ تم کیوں میری منگیتر والا رول ادا کررہے ہو۔‘‘
’’بس یار تمہاری بہت یاد آرہی ہے اور میرا دل نہیں لگ رہا تمہارے بنا۔‘‘
’’ایسا ڈائیلاگ تم نے کبھی رمشہ سے بھی بولا ہے؟‘‘ اس نے چھیڑا تھا۔
’’تم واپس کب آئو گے؟‘‘
’’یار میں تو خود ابھی نہیں آنا چاہتا تھا لیکن ایمرجنسی تھی آنا پڑا…‘‘
’’اوکے تم اپنا فون بند مت کرنا۔‘‘
’’اوکے…‘‘ وہ مسکرایا تھا… ہلال کے نہ ہونے پر اس نے محسوس کیا کہ گھر میں سب اداس تھے۔
خ…ز…خ
’’پاپا آپ نے بلایا؟‘‘ فہد اور وہ آفس میں داخل ہوئے تو پاپا نے چونک کر انہیں دیکھا تھا۔
’’ہاں آئو فہد۔‘‘ پاپا نے ایک فائل اس کے سامنے رکھی تھی۔
’’یہ ایک انٹرنیشنل پلازہ ہے میں چاہتا ہوں اس کا کانٹریکٹ ہمیں ملے لیکن خان ہماری کمپنی کو ریجیکٹ کرچکا ہے۔‘‘
’’واٹ…!‘‘ فہد اچھلا تھا۔ ’’وہ ایسا کیسے کرسکتا ہے ‘ ہمارے اتنے برسوں سے تعلقات ہیں میرا دوست ہوکر وہ…‘‘
’’تمہارا دوست ہے غلام نہیں۔‘‘ پاپا نے فہد کے غصے کو ناگواری سے دیکھا تھا۔
’’پاپا…‘‘
’’اس کے کچھ ایشوز ہیں تم اس کی تسلی کروا دو۔ وہاں دوست بن کر مت جانا صرف بزنس مین بن کر جانا… اذان کو بھی ساتھ لے جائو یہ تم سے بہتر بول سکتا ہے۔‘‘
’’اوکے…‘‘ وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
’’میں ابھی جاکر اس سے ملتا ہوں۔‘‘
’’وہ ابھی امریکہ میں ہے… کل صبح واپس آئے گا۔ تمہیں فوراً اس سے ملنا ہوگا۔‘‘
’’اوکے…‘‘ فہد باہر آگیا تھا۔
’’تمہیں پتا ہے اذان یہ کتنا امیر بندہ ہے۔ اسے خود اپنی دولت کا اندازہ نہیں ہوگا‘ اتنا خوب صورت اتنا پرائوڈ اتنا نخرے والا لیکن اس کے بابا کے ساتھ اسے دیکھو تو تمہیں لگے گا اس سے زیادہ خوش اخلاق، خوش اطوار کوئی نہیں‘ ویسے پاپا کہتے ہیں وہ دولت پر ناز نخرے کرنے والوں کے ساتھ ہی ایسا ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ یہ بندہ باکمال ہے۔ تمہیں یقین نہیں ہوگا وہ صدقے کے نام پر لوگوں کو اتنا دیتا ہے جتنا پاپا سال میں زکوۃ نکالتے ہیں۔‘‘ اسے دیکھنے کا شوق اذان کے اندر بیدار ہوا تھا۔
’’اور اس کے بابا اتنے ہنس مکھ، ملنسار اور ہمدرد ہیں جس کی کوئی حد نہیں۔ بس ان لوگوں سے مل کر یوں لگتا ہے جیسے وہ آپ کے سب سے بڑے چاہنے والے ہوں ان کے ہاں غریبوں کو بہت نوازا جاتا ہے پھر بھی دولت کی کمی نہیں ہوتی۔ ایک روز میں نے بابا صاحب سے پوچھ ہی لیا… جواب میں وہ مسکرائے اور بولے تھے… ’اللہ کی راہ میں ایک دو تو وہ ستر لوٹاتا ہے… تو بچے میں تو اس کی راہ میں ایک ہی دے رہا ہوں۔‘‘ وہ بے حدمرعوب ہوا تھا سن کر اور دیکھ کر تو اسے لگا وہ کسی خوابوں کی دنیا میں آگیا ہے۔ سب کچھ ایک خواب لگ رہا تھا‘ حقیقت سے کہیں دور… اتنی بڑی کمپنی کہ آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ اٹھارہ منزلوں پر پھیلا اس کا آفس اتنی شاندار عمارت کہ وہ مرعوب ہوتا گیا تھا پہلا دروازہ کھلا تھا۔
ایک سوٹڈ بوٹڈ لڑکا انہیں ایک کمرے میں لے گیا… اذان کے پورے گھر سے بھی بڑا وہ کمرہ تھا‘ کمرے میں اے سی کی خنکی پھیلی ہوئی تھی۔ ایک سرد لہر اذان کی ریڑھ کی ہڈی میں ابھری تھی… بڑی سی آفس ٹیبل کے پیچھے کرسی خالی تھی۔
’’السلام علیکم فہد۔‘‘ وہ دائیں طرف سے آگے بڑھا اور فہد سے گلے ملا‘ اذان سانس نہ لے سکا… اتنا شاندار بندہ اس نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ایک اچٹتی نگاہ بھی اذان پر نہ ڈالی اور نہ ہی اذان کا ہاتھ اٹھا اس سے مصافحہ کے لیے… فہد کچھ کہہ رہا تھا مگر اذان کی سماعت پر قفل لگ گیا تھا بس اس کی آنکھیں تھیں جو اس طلسم کدے کے جادو گر پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس کا ہاتھ اٹھا، دائیں طرف موجود سوٹڈ بوٹڈ بندے نے فائل پکڑائی بائیں طرف والے نے پیچ کھولے۔ پیچھے والے نے لیپ ٹاپ آگے کیا۔ فہد سے باتیں کرتے اس نے گھڑی دیکھی تو چیئر کی قریب کھڑے دو بندے اس کا کوٹ لے آئے‘ اسے پہنایا اور اس پر سے نادیدہ گرد جھاڑی وہ جانے کیے لیے تیار تھا اس کے پاس ان کے لیے اور وقت نہیں تھا۔
’’تم مان جائو گے میں پاپا کو تسلی دے دوں گا۔‘‘ فہد بولا تو وہ مسکرایا۔
’’اوکے چلتا ہوں۔‘‘ فہد نے کہا اس نے سرہلایا۔
’’گڈ بائے… ہلال حسن خان۔‘‘ اس نے چباتے ہوئے الفاظ ادا کیے اور وہ جو اسے دانستہ نظر انداز کیا ہوا تھا چونکا پھر اس کے لبوں پر ہلکی سی افسردہ سی مسکراہٹ ابھری تھی۔ کتنا بڑا دھوکا ہوا تھا اس کے ساتھ… کتنا جھوٹا تھا وہ اور جھوٹے لوگوں سے اسے شدید نفرت تھی۔
’’مجھے گھر ڈراپ کردو۔‘‘ اس نے فہد سے کہا۔
’’واپس آفس نہیں چلو گے؟‘‘ فہد نے چونک کر پوچھا تھا۔
’’میری طبیعت خراب ہورہی ہے۔‘‘
’’کیا ہوا ڈاکٹر کے پاس چلیں کیا؟‘‘ وہ پریشان ہوا‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو چونکا‘ ان کے چھوٹے سے لان کے ڈرائیووے میں جو گاڑی کھڑی تھی وہ ان کے پورے خاندان میں کسی کے پاس نہ تھی وہ سمجھ گیا کہ وہ گاڑی کس کی ہے۔
اس کے خون میں ابال اٹھا تھا۔ وہ اندر آیا تو مما سارہ‘ عالیان بے حد چپ سے بیٹھے تھے۔ شاک کے عالم میں اور شیشے کی دیوار کے پاس وہ کھڑا تھا۔ ہلال حسن خان‘ جس کے پاس رہنے کے لیے ایک کمرہ نہیں تھا اور جسے اپنی دولت کا خود اندازہ نہیں تھا‘ وہ جاکر لائونج کے دروازے پر کھڑا ہوگیا تھا۔
’’اذان…‘‘ عالیان، سارہ اسے دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ مما کی آواز پر وہ مڑا اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ وہ اپنے غصے کو قابو کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’اذان…‘‘ وہ دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب آیا تھا۔
’’آئی ایم سوری میں نے تمہیں ہرٹ کیا۔‘‘ وہ لب بھینچے خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔ ’’میرے پاس بہت دولت ہے لیکن دوست ایک بھی نہیں جو ہیں انہیں میری دولت سے زیادہ لگائو ہے۔ فہد کو ہی دیکھ لو، دعویٰ میرے دوست ہونے کا ہے اور مجبور مجھے اس کام کے لیے کررہا ہے جس میں اس کا فائدہ زیادہ ہے۔‘‘ اس نے سر جھٹکا۔ ’’تمہیں دیکھا تو شدت سے خواہش ابھری کہ کوئی میرا دوست ہو جو مجھ سے محبت کرے‘ کسی مطلب و مقصد کے بنا۔‘‘ وہ رکا اسے دیکھا اس کی نگاہوں میں شعلوں کی لپک تھی۔ ہلال حسن کا دل ڈوب گیا تھا۔
’’اور پھر میں نے آکر تم سے جھوٹ بولا…‘‘ اذان کی مٹھیاں بھنچی تھیں۔ ’’تم نے مجھ سے رابطہ ہی نہیں کیا مجھے لگا اگر میں بزنس ٹائیکون ہلال حسن خان بن کر تم سے ملا ہوتا تو تم ضرور مجھ سے پھر ملتے… تم نے دو دن بعد مجھے کال کی لیکن بات وہی تھی مقصد کے لیے… پھر تم ملے اور ملنے لگے ان سب دنوں میں تمہارا کوئی مقصد نہ تھا‘ تمہارے لیے میری ذات اہم تھی اور میری دولت کا تمہیں پتا تک نہ تھا۔‘‘
’’آئوٹ…‘‘ وہ یک دم بولا۔ وہ چاروں چونکے تھے۔
’’اذان…‘‘ وہ بے چارگی سے بولا تھا۔
’’آئوٹ…‘‘ وہ پھر سے چلایا تھا۔
’’ہم پھر ملیں گے…‘‘ وہ ہر بار کی طرح بولا اور باہر کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’مجھے تمہاری شکل نہیں دیکھنی۔‘‘ وہ پیچھے سے چلا کر بولا‘ ہلال کے قدم رکے اور پھر وہ سر جھٹک کر آگے بڑھتا چلا گیا اور پھر اس کے بعد اسے نجانے کیا ہوگیا تھا‘ وہ دیوانہ ہوگیا تھا‘ کسی کام میں اس کا دل وذہن تب لگتا جب وہ سب اسے نظر آتا تھا۔
’‘تم چھٹی کرلیتے آج…‘‘ فہد نے دو گھنٹے بعد اسے کہا تھا وہ اسے ایک فائل چیک کرنے کو دے گیا تھا جسے اس نے لاتعداد غلطیوں کے باوجود اوکے کردیا تھا‘ فہد نے پھر آکر اس کے آگے فائل رکھی تھی۔
’’تم پریشان ہو… خیریت…؟‘‘
’’نہیں…‘‘
’’بتانا نہیں چاہتے تو الگ بات ہے مگر مجھ سے جھوٹ مت بولو‘ تمہاری صورت دیکھ کر تو کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ تم پریشان ہو۔‘‘ وہ لب بھینچے بیٹھا رہا تھا۔ وہ اتنا بے بس ہوگیا تھا کہ وہ ہلال حسن کو اس کی طرف سے ملنے والی اذیت کو اپنے اندر دبا نہیں پارہا تھا‘ وہ سب کو نظر آرہا تھا۔ فہد تو ہلال حسن کو اس کی زندگی میں جانتا تک نہیں تھا پھر بھی وہ جان گیا تھا کہ اذان کسی کے لیے بے چین وبے قرار ہے۔ گھر آتے ہی وہ کمرے میں بند ہوجاتا اور آفس میں بھی اس کا دل نہیں لگتا وہ وہاں سے بھاگ جاتا تھا‘ وہ ان جگہوں کو مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتا جہاں کبھی وہ ہلال کے ساتھ وقت گزرا تھا اور دل سے جھگڑ کر تھک جاتا تو ان سڑکوں پر گھنٹوں پیدل چلتا تھا۔
کتنا جھوٹا تھا اور جھوٹ بول کر بھی کتنا بھولا اور معصوم لگتا تھا‘ وہ گھر آیا تو پھپو اور تائی بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ بے تکان بولنے والوں میں سے نہیں تھا مگر وہ یوں بنا سلام کیے گزر جانے والوں میں سے بھی نہیں تھا لیکن آج کل تو وہ دنیا ومافیہا سے بے نیاز تھا۔
’’اذان نیچے تمہاری پھپو‘ تائی بیٹھی ہیں اور تم سلام کیے بنا اوپر آگئے۔‘‘ وہ چونک کر مڑا مما غصے سے کھڑی تھیں۔
’’میں نے دیکھا نہیں…‘‘ وہ شرمندہ ہوا تھا۔
’’کیوں… آنکھیں گروی رکھ دی ہیں کیا؟‘‘ مما نے اسے دیکھا اس کا رواں رواں کہہ رہا تھا صرف آنکھیں ہی نہیں وہ پورا کا پورا گروی ہوچکا ہے ہلال حسن کا۔
’’اسے منا لو…‘‘
’’ہلال کا نام مت لیں مما۔‘‘ وہ تڑپ کر پلٹا تھا۔
’’میں ہلال کی نہیں رمشہ کی بات کررہی ہوں۔‘‘ مما اسے گہری نگاہوں سے دیکھتی بولیں۔ تو وہ انہیں دیکھتا رہ گیا تھا۔
’’پتا ہے اذان بعض اوقات وقت گزرنے پر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ لوگ اتنے قصور وار نہیں تھے جتنی شدت سے ہم ان سے ناراض ہوئے۔ وقت کو مت گزرنے دو اذان…‘‘ مما افسردگی سے کہتی باہر نکل گئی تھیں۔
’’میں جس طرح تمہارے پیچھے اپنا وقت برباد کررہا ہوں اپنی فیملی سے کٹ گیا ہوں امید ہے کہ تمہیں میں یاد بھی نہیں ہوں گا ہلال حسن بزنس ٹائیکون کے پاس اتنی فرصت ہی کہاں ہوگی کہ کسی اذان جنید کو سوچا جائے۔‘‘ وہ تلخی سے سوچ رہا تھا۔ دوسرے دن اس نے خود کو سنبھالا۔ بہت دن ہوئے تھے بہت یاد کرلیا تھا اس نے ہلال حسن کو بس اب اور نہیں۔
’’آج لگ رہے ہو پہلے جیسے اذان…‘‘ فہد مسکرایا‘ وہ کام میں مگن رہا تھا۔
’’تمہاری مسکراہٹ کہاں کھو گئی ہے اذان؟‘‘ اس نے چونک کر فہد کو دیکھا تھا۔
’’فہد پلیز کام کرنے دو۔‘‘
’’اوکے…‘‘ فہد ہنستا ہوا چلا گیا اور وہ نڈھال سا کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ وہ کام میں مگن تھا۔ جب فہد اس کے پاس آیا۔
’’یار مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے‘ میری کار خراب ہوگئی ہے۔‘‘ اس نے خاموشی سے اپنی کار کی چابی اس کی طرف بڑھائی۔ ’’تم بھی آجائو بس ٹائم ہونے ہی والا ہے۔‘‘
’’چلو مجھے گھر ڈراپ کردینا۔‘‘ اس نے کہا لیکن فہد نے اسے گھر ڈراپ نہیں کیا تھا۔
’’تمہیں یہاں آنا تھا؟‘‘ وہ ہلال حسن انڈسٹری دیکھ کر چونکا… فہد اسے جواب دیے بغیر اتر کر اندر چلا گیا تھا۔
’’مجھے فہد سے سلام دعا بھی ختم کرنا ہوگی۔‘‘ وہ کار سے نکل کر ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا تھا۔
’’اذان…‘‘ کی آواز پر وہ چونکا‘ ہلال حسن تھا‘ اسے دیکھ کر حیران سا… اس نے رخ پھیر لیا اور وہ اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ تب ہی فہد تقریباً بھاگتا ہوا آیا تھا۔
’’اندر سے معلوم ہوا تم ابھی باہر نکلے ہو مجھے لگا میں تمہیں مس نہ کردوں۔‘‘ وہ اپنی سانس بحال کرتے ہوئے بولا تھا۔
’’بابا صاحب سے بات کیوں نہیں کررہے ہو تم۔‘‘ دونوں نے چونک کر فہد کو دیکھا۔
’’بابا صاحب کا فون آیا تھا پاپا کے پاس کہ تم اپنے حصے کی ساری جائیداد کسی پارٹنر کے نام کررہے ہو… وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارا شکریہ ادا کردیا جائے کہ تم نے انہیں اطلاع دینا گوارا کی۔‘‘ اذان نے چونک کر ہلال حسن کو دیکھا‘ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
’’میرے ساتھ تو تم چند پرسنٹ کا نقصان سہنے کے متحمل نہ تھے اور اب فقیر ہوجانا چاہتے ہو‘ کون ہے وہ پارٹنر؟‘‘
’’کوئی میری دولت کی وجہ سے مجھ سے دور ہوگیا ہے اسے قریب لانے کے لیے…‘‘ اذان جنید کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔
’’تم… تم کسی لڑکی کے لیے یہ سب کررہے ہو۔‘‘ فہد چلا اٹھا وہ اذان کو دیکھتا شرارت سے مسکرایا۔
’’چلو اذان یہ پاگل ہوگیا ہے… اپنے بابا صاحب سے بات کرلینا۔‘‘ وہ گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے بولا تھا۔
’’پھر ملیں گے…‘‘ وہ مسکرایا… اذان کے بدن میں پھریری سی دوڑ گئی وہ کیا کررہا تھا‘ وہ خو کو تباہ کررہا تھا مگر کیوں…؟ وہ مائوف دماغ کے ساتھ گھر پہنچا تھا اور لان میں پھر وہ گاڑی… وہ بنا کسی تاثر کے دیکھتا اندر چلا آیا… سارہ عالیان کے ساتھ نیچے کارپٹ پر بیٹھا وہ چائے پی رہا تھا مما اوپر بیٹھی تھیں۔ اسے دیکھ کر عالیان اور سارہ جلدی سے کھڑے ہوگئے تھے۔
’’مجھے لگا ابھی تم کچھ دیر سڑکوں پر مارچ کرو گے۔‘‘ اپنی چائے کے آدھے کپ کو اس نے افسوس سے دیکھا تھا۔
’’کمینہ…‘‘ اذان کے دل سے نکلا۔
’’سارہ یہ چائے کا کپ مجھے اٹھا دو۔‘‘ اس کے رکھے گئے کپ کی طرف اشارہ کرتے اس نے سارہ سے کہا تھا۔ ان سب کے چہروں پر چمک بڑھی تھی… سارہ نے فوراً چائے کا کپ اسے اٹھا دیا تھا۔ وہ اس سے اور کیا ناراض ہوتا جو اس کے لیے خود کو تباہ کررہا تھا۔
’’تم مجھ سے آئندہ کوئی جھوٹ نہیں بولو گے۔‘‘ اس نے جیسے وارننگ دی تو وہ دھیرے سے ہنس دیا تھا۔
خ…ز…خ
’’اذان میں ہنزہ جارہا ہوں۔‘‘ وہ ایک کتاب پڑھتے پڑھتے بولا تھا۔
’’ابھی کچھ دن پہلے تو گئے تھے تم۔‘‘
’’تب میں امریکہ گیا تھا۔‘‘ اذان نے اسے گھور کر دیکھا۔ ’’اگر میں تب تمہیں امریکہ جانے کا بتاتا تو…‘‘
’’تو میں تمہیں کھا جاتا ناں…‘‘ اس نے سر جھٹکا‘ وہ ہنس دیا تھا۔
’’واپس کب آئوگے…؟‘‘
’’پتا نہیں…‘‘
’’پتا نہیں سے کیا مراد ہے؟‘‘ وہ چونکا تھا۔
’’کسی عقل مند بندے نے کہا ہے کہ زندگی کا ہر سفر یوں کرو کہ جیسے وہ تمہارا آخری سفر ہو۔‘‘
’’عقل مند بندے بکواس نہیں کرتے…‘‘ اس نے اسے گھورا‘ وہ مسکرا دیا تھا۔
’’تم چلو گے میرے ساتھ؟‘‘ چند لمحوں کے بعد وہ سرسری سا بولا تھا۔
’’کیا تم لے کر چلو گے…؟‘‘ وہ جانے کو تیار تھا۔ ہلال نے کئی لمحے تک اسے دیکھا تھا۔
’’تمہیں لینے ہی تو آیا ہوں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’میں کل صبح چلا جائوں گا۔‘‘
’’اتنی جلدی؟ میری تو تیاری بھی نہیں ہے…‘‘
’’تمہیں کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہے‘ تمہارا بیگ میں پیک کروا چکا ہوں۔‘‘ وہ پھر سے اپنی اس کتاب میں گم ہوگیا اور اذان ایک گہرا سانس لے کر رہ گیا تھا۔
’’اسے عادت ہے چونکانے کی اور اب یہ عادت مجھے خود کو ڈالنا ہوگی۔‘‘
خ…ز…خ
جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو عصر کا وقت ہورہا تھا۔
’’اتنے زیادہ لوگ کیا کوئی تقریب ہے تمہارے یہاں…‘‘ اسے ہلال پر پھر غصہ آیا جس نے اسے کچھ نہیں بتایا تھا۔
’’یہ بابا صاحب کے عقیدت مند ہیں اور ان سے بابا صاحب ہر وقت گھرے رہتے ہیں۔‘‘ سفید قمیص شلوار میں عمامہ باندھے، سادگی ان کے ہر انداز سے جھلک رہی تھی‘ ہلال انہیں سلام کرتا جا لپٹا تھا۔ کتنی دیر تک انہوں نے اسے سینے سے لگائے رکھا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ ہلال ہٹا تو اس نے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ ان کی نظریں بے حد سنجیدہ سی اسے دیکھ رہی تھیں‘ بالکل ویسی نظریں جب ہلال اس سے کچھ چھپا رہا ہوتا تھا لیکن وہ اسے جیسے کچھ بتارہے تھے۔ ہلال پھر اور لوگوں سے ملنے کے لیے آگے بڑھ گیا جبکہ انہوں نے اس کے لیے اپنے برابر میں جگہ بنائی تھی۔ وہ ان کے برابر میں بیٹھنے سے قدرے جھجک رہا تھا۔
’’ہماری کمپنی بھی پچاس فیصد بابا صاحب کی وجہ سے چلتی ہے۔‘‘ فہد کی آواز آئی وہ گھبراتا تھا بابا صاحب سے وہ ایسے ہی بارعب تھے تو اذان کی بھی ہمت نہیں ہورہی تھی۔
’’ہلال اچھا دوست ہے تمہارا۔‘‘
’’جی…‘‘
’’تم ہلال کے آفس کیوں نہیں جاتے۔‘‘
’’میں اپنی دوستی کے درمیان حیثیت کو نہیں لانا چاہتا۔‘‘
’’مطلب ہلال کے سب سے اچھے اور مخلص دوست کا ٹیلنٹ ہمارے بزنس رقیبوں کو ملتا رہے… اذان اسے تم ہلال سے خلوص سمجھتے ہو۔‘‘
’’ہلال کے پاس مجھ سے زیادہ ٹیلنٹڈ لوگ موجود ہیں بابا صاحب۔‘‘ وہ احترام سے بولا تھا۔
’’اور مخلص لوگ…‘‘ انہوں نے اسے دیکھا۔ وہ انہیں دیکھتا رہا‘ بنا کچھ بولے۔
’’مخلص لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے ہلال کے پاس مگر…‘‘ وہ رکے اور اسے دیکھا۔
’’ان میں کوئی اذان نہیں ہے۔‘‘ مغرب کی اذان ہونے لگی تو وہ اٹھ گئے تھے۔ وہ بھی ان کے ساتھ نماز پڑھنے آیا تھا‘ مسجد ہلال کی اس بڑی سی حویلی کے اندر ہی ایک طرف تھی اور بہت شاندار تھی‘ نماز کے بعد ہلال نے تلاوت قرآن کی تو وہ حیرت زدہ رہ گیا تھا۔
’’تم حافظ قرآن ہو اور تم نے مجھے بتانے کے قابل نہیں سمجھا۔‘‘
’’بس یار اللہ کی رحمت ہے، اب اس پر میں کیا اتراتا…‘‘ وہ مسکرا دیا تھا۔
’’اور تم نے بابا صاحب سے کہا کہ وہ مجھے کنوینس کریں تمہارے آفس آنے کے لیے۔‘‘
’’کیوں بابا صاحب کے پاس اپنا دماغ نہیں ہے کیا اور پتا ہے مجھ سے زیادہ قابل ہیں وہ۔ بندے کو یوں پچھاڑتے ہیں کہ وہ اٹھنے کے قابل نہیں رہتا۔‘‘ وہ ہنسا۔ اسے یقین ہوا کیونکہ تجربہ اسے ہوگیا تھا۔
’’بابا صاحب، میں اندر جارہا ہوں۔‘‘ اس نے بابا صاحب کو متوجہ کیا وہ مسکرائے۔
’’یقینا اب تک تو پنجے ونجے تیز کرلیے گئے ہوں گے ہتھیار تیار ہوں گے مجھ ناتواں پر حملے کے لیے، آج بلی کا نجانے کیا پلان ہوگا۔‘‘
’’ہلال…‘‘ انہوں نے تنبیہہ کی۔ ’’بڑے ہوگئے ہو بہن کو بلی کہنا بند کردو۔‘‘ اذان نے چونک کر اسے دیکھا پھر اس نے لب بھینچے… وہ اسے لے کر بگھی میں آبیٹھا جو اس کی حویلی کے رہائشی حصے کی طرف بڑھنے لگی تھی۔
’’تم اب یقینا مجھ سے اس بات پر بھی ناراض ہوگے کہ میں نے تمہیں اپنی بہن کے متعلق کیوں نہیں بتایا۔‘‘ وہ چہرے کا رخ اس کی طرف سے پھیرتے ہوئے بولا تھا‘ ہلال نے لطف لینے والے انداز میں کہا تو اس نے گھور کے دیکھا تھا۔
’’تم نے مجھ سے میری فیملی کے متعلق کچھ پوچھا ہی نہیں۔‘‘ الٹا اطمینان سے اس پر الزام لگایا تھا۔
’’تم…!‘‘ اس کا بس نہ چلا کہ وہ اس کا کیا حشر کر ڈالے‘ ہلال مسکراتا رہا تھا۔
’’اچھا سنو… بابا صاحب سے مل کر کیسا لگا؟‘‘
’’کہ وہ تم جیسے جھوٹے انسان کے باپ کیسے ہوسکتے ہیں؟‘‘ وہ فوراً بولا تو ہلال ہنستا چلا گیا تھا۔
’’ٹھیک ہے اگر ایسا لگا تو آگے کے معاملات تمہیں بتا دیتا ہوں۔‘‘ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا تھا۔
’’اصل میں وہ میری اور بابا صاحب کی بہت لاڈلی ہے اور بہت نازو نعم سے پالا ہے ہم نے اسے‘ تو وہ بہت نخرہ والی ہے تم اسے حقیقت میں مغرور بھی کہہ سکتے ہو‘ اصل میں اگر وہ پڑھ لیتی تو یقینا کچھ بہتر ہوتی مگر اس کی تعلیم بس ان دیواروں کے اندر ہی ہوسکی جہاں سب اس کے باپ کے مشفقانہ رویے کے باوجود خود کو ان کا غلام سمجھتے ہیں اور وہ خود کو بے تاج بادشاہ مطلب شہزادی تو اس کا رویہ…‘‘ بگھی رک گئی تھی، وہ دونوں اتر گئے تھے۔
’’تم دل پر مت لینا… وہ شہزادی ہے سب اس کے غلام… تم اس کے غلاموں کی فہرست میں نہیں آسکتے… مگر اس کے رویے کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا…‘‘ اس نے جوں ہی دہلیز پر قدم رکھا، اس پر پھول برسے۔ وہ بری طرح چونکا ہلال مسکرادیا۔ وہ اندر بڑھنے لگے اور اذان چاہ کر بھی خود کو متاثر ہونے سے نہ روک پایا تھا۔ ہلال یہاں رہتا تھا تو پھر کیسے وہ اس کے چھوٹے سے گھر میں رہ سکا… اس کا دو سو گز پر پھیلا گھر ہلال کے گھر کے ایک کمرے کے برابر تھا۔ وہ جیسے کسی جادو نگری میں آیا تھا یا پھر کسی پرانے دور کے کسی بادشاہ کے حرم میں۔
’’امائم…‘‘ اور اس بادشاہی دور کی شہزادی مجسم اس کے سامنے تھی‘ بے حد حسین جھولے پر بیٹھی وہ واقعی پرانے دور کی شہزادیوں کی طرح سجی سنوری ہوئی تھی۔ وائٹ رنگ کے لہنگے میں وہ اپسرا لگ رہی تھی۔ اس کے لباس میں جیسے ہیرے جڑے تھے۔ سر پر ہیروں کا تاج لگائے وہ ثابت کررہی تھی کہ وہ ہلال حسن خان جیسے سادہ بندے کی بہن ہرگز نہیں ہے۔
’’السلام علیکم…‘‘ وہ اس کے سلام کرنے سے بھی متاثر ہوا۔
’’وعلیکم السلام…!‘‘ دونوں نے ساتھ کہا‘ پیچھے دو لڑکیاں کھڑی اس کے جھولے کو ہلکے ہلکے ہلا رہی تھیں۔
’’آپ نے آنے کی زحمت کیسے گوارا کرلی؟‘‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر ایک شاہانہ انداز میں پیچھے کھڑی لڑکی کو روکا تھا۔
’’میرے پاس تو فرصت نہیں تھی لیکن اذان نے کہا اسے ہنزہ دیکھنا ہے۔‘‘ ہلال نے مسکرا کہا تھا۔
اس نے ہلال کے جھوٹ پر اسے گھورا نہیں کیونکہ وہ اس شہزادی کو دیکھ رہا تھا جسے اب ایک لڑکی ہاتھ تھام کر نیچے اترنے میں مدد دے رہی تھی۔ اس ملازمہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دھرتے ہوئے اس کے ہاتھ میں بھی ایک نزاکت تھی۔ بہت سی لڑکیاں اس کے آگے پیچھے کھڑی تھیں جیسے اس کی باندیاں ہوں۔
’’پھر ہمیں اس مہمان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔‘‘
’’بالکل…‘‘
’’سائرہ مہمان سے کھانے میں ان کی پسند پوچھو اور ان کی کمرے تک رہنمائی کرو تاکہ وہ آرام کرسکیں۔‘‘
’’جی پرنسز۔‘‘
’’یہ تم جو مجھے یہاں لاکر اس پر احسان کرچکے ہو اس کا بدلہ ہے۔‘‘ ہلال نے سرگوشی کی تو وہ مسکرایا تھا۔
’’یہ ہماری روایات ہیں۔‘‘ وہ ہلال کو سخت نظروں سے دیکھتی مڑ کر چلنے لگی۔ اتنی اونچی ہیل پر لہنگا اذان کو لگا وہ کہیں گر نہ پڑے لیکن پرنسز کو اس طرح چلنے میں مہارت تھی۔
’’تمہاری بہن کیسے تمہارے آگے پیچھے گھومتی ہے اور میری بہن کو دیکھو…‘‘ ہلال نے کہا تھا۔
’’وہ شاید کہیں جارہی ہیں۔ تم دیکھو ناں کتنی تیار ہیں شاید ہم نے آکر انہیں ڈسٹرب کردیا ہے۔‘‘ اس نے ہلال کا طریقہ اپنایا وہ بھی تو سارہ کی ہی سائیڈ لیتا تھا مگر وہ جھٹکے سے پلٹی اور ہلال کھلکھلا کر ہنس دیا تھا۔ آگے پیچھے کھڑی تمام لڑکیاں مسکرانے لگی تھیں۔
’’ہم ایسے ہی رہتے ہیں سجے سنورے۔‘‘ وہ خفگی سے بولی تو وہ شرمندہ ہوا اور وہ آگے بڑھتی چلی گئی تھی۔
’’اوہ میں نے شاید انہیں ناراض کردیا۔ اصل میں ہمارے یہاں تو لڑکیاں شادی یا دوسری کسی تقریبات میں یوں تیار ہوتی ہیں اور…‘‘
’’وہ یہاں کی شہزادی ہے۔‘‘ ہلال مسکرایا تو وہ بھی مسکرا دیا تھا۔
’’سوری میں نے…‘‘
’’مہمانوں سے ناراض ہونا اس کی عادت نہیں ہے اور سوری جیسا لفظ تو اس محل میں بالکل مت کہنا۔ شہزادی کو یہ لفظ نہیں پسند…‘‘ ہلال ہنستے ہوئے بتایا تھا۔
’’اوکے…‘‘ وہ مسکرادیا تا۔ ’’میں خیال رکھوں گا اب کوئی ایسی بات نہ کروں۔‘‘
’’خیر تمہیں تو سات خون معاف ہیں۔‘‘ ہلال پھر اسی نظر سے اسے دیکھتا ہوا بولا جس سے اسے الجھن ہوتی تھی۔
’’اذان کو کمرے میں لے جائو۔‘‘ اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو ہلال نے کہا وہ کمرے میں آگیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک لڑکا فون لے آیا تھا۔
’’چھوٹے صاحب کہہ رہے ہیں آپ گھر پر فون کرلیں۔‘‘ اسے یاد آیا اس نے فوراً مما کو کال ملائی تھی۔
’’مما آپ کو معلوم ہے ہلال کی ایک بہن بھی ہے۔‘‘ سلام و خیریت کے بعد اس نے بتایا تھا۔
’’امائم… اور وہ ان کے محل کی شہزادی بھی ہے۔‘‘ دوسری طرف سے سارہ نے کہا تھا۔
’’تمہیں پتا ہے؟‘‘ وہ چونکا تھا۔
’’میں نے پوچھا تھا ان سے تو انہوں نے بتایا تھا۔‘‘ سارہ نے بتایا تھا یعنی اس نے نہیں پوچھا اسی لیے ہلال نے اسے نہیں بتایا تھا۔
’’تمہیں مجھے بتانا تو تھا ناں‘ میں اس کے لیے کوئی گفٹ لے آتا۔‘‘ اسے افسوس ہورہا تھا۔
’’بھائی مجھے خیال نہیں رہا۔ ہلال بھائی نے اتنا اچانک پروگرام بنایا کہ…‘‘
’’اوکے… میں یہیں سے کچھ لے لوں گا‘ ویسے اسے ضرورت نہیں ہوگی ہمارے گفٹس کی۔‘‘ اسے وہ ہیروں سے سجی لڑکی یاد آئی پھر کچھ دیر بعد بات مکمل کرکے اس نے فون رکھا اور پھر وہ سیدھے کھانے کی ٹیبل پر آیا تھا۔ ٹیبل پر بہت سے کھانے رکھے ہوئے تھے۔
’’یہ سب اسپیشلی تمہارے لیے ہے۔‘‘ ہلال نے بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔ امائم اور بابا پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہلال نے پہلے بابا صاحب کے لیے کھانا نکالا تھا اور پھر اس کے لیے۔
’’بیٹا کیسا لگا آپ کو یہاں آکر…؟‘‘
’’بابا اسے یہاں صرف سردی لگ رہی ہے‘ باہر برف اور اندر برف جیسے لوگ…‘‘ ہلال نے یک دم کہا اور امائم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
’’برف جیسے لوگوں سے کیا مراد… کیا کسی سے کوئی کوتاہی ہوگئی ہے اذان…‘‘
’’ارے نہیں نہیں…‘‘ اذان جلدی سے بوکھلا کر بولا تھا اور ہلال کو گھورا۔
’’اذان تمہیں لگ رہا ہے ناں کہ تم کسی بادشاہی دور کا ڈراما دیکھ رہے ہو؟‘‘ اگلے پل وہ اذان کی طرف مڑا تھا۔ ’’جس کی شہزادی یہاں ہے۔‘‘ اس نے امائم کی طرف اشارہ کیا۔
’’ہلال بہن کو تنگ کرنا بند کرو۔‘‘ بابا صاحب نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا جو کھا جانے والے انداز میں ہلال کو دیکھ رہی تھی۔
’’تمہیں پتا ہے اذان میری تائی اسے سفید روح کہتی ہیں اور کیوں نہ کہیں ہر وقت جب سفید رنگ پہنے رہے گی… مجھے تو لگتا ہے جیسے برسوں سے میری بہن نے کپڑے ہی نہیں بدلے۔‘‘
’’ہلال…‘‘ بابا صاحب نے اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کی تھی وہ اسے مزید ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔
’’تائی مجھے سفید روح نہیں بد روح سمجھتی ہیں۔ پتا نہیں کس دل سے آئی ہوں گی وہ یہ رشتہ لے کر۔‘‘ وہ سلگ اٹھی اور ہلال چونک اٹھا تھا۔
’’کون سا رشتہ…؟‘‘ بابا صاحب کے لب بھینچے اور امائم کا رنگ فق ہوگیا تھا۔ وہ کیا کہہ گئی ہے اسے دیر سے احساس ہوا۔
’’ہم بعد میں آپ سے اس بارے میں بات کرتے ہیں۔‘‘ بابا صاحب نے اذان پر ایک نظر ڈالی تھی گویا اس کے سامنے وہ بات کرنا مناسب نہیں سمجھ رہے تھے۔
’’مجھے یہ بتائیے ان کی ہمت کیسے ہوئی…؟ اپنے بیٹے کی تیسری شادی کے لیے ہمارے گھر کی دہلیز پار کرنے کی۔‘‘ امائم اور بابا صاحب نے لب بھینچ لیے تھے۔
’’میں تھکن محسوس کررہا ہوں۔ تھوڑا آرام کرلوں…‘‘ اچانک اذان نے کہا اور ہلال سمیت سب نے اسے چونک کر دیکھا تھا۔
’’بیٹا آپ تسلی سے کھانا کھائیں۔‘‘ انہوں نے ہلال کو گھور کر دیکھا تھا۔
’’آپ کی سب سے بری عادت ہے آپ غصہ جلدی ہوجاتے ہیں۔‘‘ بابا خفگی سے بولے تھے۔
پھر کھانا خاموشی سے کھایا گیا اذان وہاں سے فوراً جانا چاہتا تھا مگر بابا صاحب نے اسے جانے نہیں دیا تھا۔
’’آپ ہلال کے واحد دوست ہو جس کے لیے ہلال نے ہم سب سے کہا ہے کہ آپ کو ہلال جیسا نہیں ہلال ہی سمجھا جائے۔‘‘ بابا صاحب نے اس کی طرف خود کافی کا مگ بڑھایا تو وہ جیسے شرمندہ ہوگیا تھا۔
’’اور تم سن لو کہ میں نے انہیں انکار کردیا ہے‘ اگرچہ انہوں نے میرے انکار کو اہمیت نہیں دی اور جرگہ بلالیا ہے اور سرپنچ چونکہ تمہارے تایا ہیں اسی لیے انہیں لگتا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا لیکن پنچائیت کے باقی ممبران مظفر خان کو پسند نہیں کرتے۔ ’’وہ امائم سے بہت بڑا ہے اور دو شادیاں بھی کرچکا ہے۔‘‘
’’میری بہن کی شادی کا فیصلہ کرنے والا یہ جرگہ کون ہوتا ہے؟‘‘ وہ سلگ کر بولا تھا۔
’’ہم چیونٹیاں ہیں جو اپنے گروہ سے نکل جائے تو اکیلی سروائیو نہیں کرسکتی۔‘‘
’’بابا یہ میری بہن کی زندگی کا سوال ہے۔‘‘ وہ تڑپ اٹھا تھا۔
’’وہ میری بھی بیٹی ہے۔‘‘
’’آپ دے سکتے ہیں اس کی زندگی کا فیصلہ کسی اور کے ہاتھ میں‘ مگر میں نہیں دے سکتا۔‘‘ اس نے کافی کا کپ دور اچھالا تھا۔ امائم اور بابا کے ساتھ اذان بھی چونکا تھا۔
’’اذان… آپ صبح ہلال کے ساتھ جانا… دیکھنا کہ یہ کتنا خوب صورت حصہ ہے ہمارے ملک کا۔‘‘ بابا صاحب یک دم کھڑے ہوتے ہوئے بولے تھے۔
’’جی… میں تو حیران تھا کہ یہ بھی پاکستان کا ہی حصہ ہے یا پھر میں کسی دوسرے براعظم میں پہنچ گیا ہوں۔‘‘ وہ ہلال کا ذہن بٹا رہے تھے اور وہ ان کا ساتھ دے رہا تھا مگر سب بے کار رہا تھا۔ ہلال کے خون میں ابال اٹھ رہے تھے۔ وہ چلے گئے تھے۔
’’آپ ریلیکس کریں‘ بابا صاحب کہہ رہے ہیں کہ وہ سنبھال لیں گے تو…‘‘
’’میں اس مظفر خان کی جان لے لو گا عرصے سے مجھے خبریں مل رہی ہیں کہ وہ اسلحے کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہے لیکن میں نے اسے نظر انداز کیا ہوا تھا …پر اب نہیں بچے گا یہ میرے ہاتھوں سے۔‘‘
’’ہلال آپ مجھ سے وعدہ کریں کچھ ایسا نہیں کریں گے جو بابا صاحب کی مشکلوں کو بڑھا دے۔‘‘
’’جرگہ کون ہوتا ہے ہمارے ذاتی معاملات کا فیصلہ کرنے والا؟‘‘ وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھتا چلا گیا‘ امائم لب بھینچے وہیں کھڑی رہی پھر اذان پر نظر پڑی تو چونک گئی تھی۔
’’انہیں ان کے رو م میں لے جائو۔‘‘ اس نے قریب میں موجود لڑکی کو کہا تھا‘ وہ لب بھینچتا اس لڑکی کے پیچھے چل دیا تھا۔
خ…ز…خ
’’تم اذان کو یہاں کی سیر کروانے لے جائو…‘‘ نماز فجر کے بعد بابا نے اس سے کہا اور وہ فرماں برداری سے اذان کو لے کر نکل آیا تھا لیکن آدھے گھنٹے بعد اس نے جیپ کا رخ واپسی کے لیے موڑ دیا تھا۔
’’تم مجھے گھمانے نہیں لے جارہے ہو مگر کیوں؟‘‘ وہ لب بھینچے گاڑی ڈرائیو کررہا تھا‘ اس نے اذان کی بات کا جواب نہیں دیا۔ گاڑی کسی عمارت میں لے جا کر روک دی تھی۔ اتر کر وہ آندھی طوفان کی طرح اندر گیا تھا۔ ایک نظر میں اذان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ جرگہ جیسی محفل ہے‘ اس کے لب بھینچ گئے تھے۔
’’معافی چاہتا ہوں سردار لیکن یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے سو اس میں آپ سب کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
’’ہلال…‘‘ بابا صاحب کے لب بھینچے تھے۔
’’تمہارے بابا صاحب کے انکار پر یہ جرگہ بلایا گیا ہے کیونکہ خاندان میں اور کوئی اس لڑکی کے لیے مناسب نہیں ہے عمر میں بھی اور دولت میں بھی۔‘‘
’’مجھے اس خاندان میں اپنی بہن کی شادی کرنی ہی نہیں ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’کیا قبیلے سے باہر لڑکی دو گے اپنی… کیا غیرت گنوا چکے ہو؟‘‘ سردار بھڑک اٹھے اور پنچایت جو پہلے سوچ میں ڈوبی تھی وہ یک دم ہلال حسن کے خلاف ہوگئی تھی۔
’’جب ہی تم سے کہا تھا کہ بچوں کو شہر کی ہوا نہ کھلائو‘ دیکھ رہے ہو کیسے تمہارے بیٹے نے شرم وحیا بھلا دی ہے‘ کیسی بے غیرتی کی باتیں کررہا ہے۔ بس اب فیصلہ ہوگیا لڑکی کی شادی یا تو مظفر خان سے ہوگی یا پھر کبھی نہیں ہوگی۔‘‘ بابا صاحب کے لب بھینچ گئے تھے۔
’’آپ لوگ ہوتے کون ہیں میری بہن کی زندگی کا فیصلہ کرنے والے۔ اس کی شادی ہوگی اور وہ بھی کل مگر اس خاندان میں ہرگز نہیں۔‘‘ وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بولا تھا اور اذان کا ہاتھ تھام کر باہر نکل آگیا تھا۔
’’مجھے لگتا ہے کہ تم نے صحیح نہیں کیا… بابا صاحب آرام سے ان سب کو قائل کرسکتے تھے۔‘‘
’’ہونہہ…‘‘ وہ سر جھٹک کر رہ گیا تھا۔
خ…ز…خ
اذان کھانا کھاتے ہی کمرے میں چلا آیا تھا‘ رات کا ایک بجا رہا تھا مگر گائوں اور سردی کی وجہ سے آدھی رات لگ رہی تھی‘ باہر کوئی شُور تھا جس کی وجہ سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ کمرے سے نکل کر باہر آیا۔ ہال میں آکر وہ چونکا۔ بابا صاحب ایک صوفے پر بیٹھے تھے‘ ان کے چہرے کا رنگ زرد تھا اور وہ برسوں کے بیمار لگ رہے تھے۔ امائم بھی متفکر تھی جبکہ ہلال طیش کے عالم میں تھا۔
’’ہلال…‘‘ اس کے یوں پکارنے پر وہ تینوں بری طرح چونکے تھے۔
’’اوہ اذان…‘‘ وہ اس کے قریب چلا آیا تھا۔
’’مظفر خان اور اس کے آدمیوں نے حملہ کردیا ہے۔ وہ میری بہن کی زندگی کا فیصلہ کرنے آیا ہے۔‘‘ وہ زخمی لہجے میں بولا تھا۔
’’رئیس! اذان کے لیے وہ گاڑی نکالو جسے مظفر ہماری گاڑی کے طور پر شناخت نہ کرسکے اور اسے یہاں سے لے جائو۔‘‘
’’جی چھوٹے صاحب۔‘‘ وہ آدمی باہر نکل گیا تھا۔
’’یہاں کے ملازمین کو ہم خفیہ راستے سے محفوظ مقام پر منتقل کررہے ہیں‘ باہر میرے آدمی ان کا مقابلہ کررہے ہیں مگر وہ اس اسلحہ کے بیوپار سے جیت نہیں سکتے‘ میں نے اپنے کرنل دوست کو کال کی ہے، وہ یہاں ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچیں گے تب تک ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ جدید اسلحہ سے لیس ہوکر آیا ہے۔‘‘
’’صاحب چلیں۔‘‘ وہ دونوں چونکے تھے۔
’’جائو اذان اس کے ساتھ…‘‘
’’اور تم…‘‘ وہ حیران ہوا تھا۔
’’میں… میں کیسے جاسکتا ہوں۔‘‘ وہ بھی حیران ہوا تھا۔
’’تو میں کیسے چلا جائوں۔‘‘ وہ پہلے سے زیادہ حیران ہوا۔
’’تم یہاں سے فوراً چلے جائو اذان‘ یہاں تمہاری جان کو خطرہ ہے۔‘‘
’’اور تمہاری جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیا؟‘‘
’’تم…‘‘
’’تم ہمیشہ ایسے ہی حکم چلاتے ہو پہلے تمہیں مجھ سے دوستی کرنا تھی سو جھوٹ بول کر تم نے اپنا کام کروایا مجھ پر تمہاری حقیقت کھلی تو بھی تم اپنی من مانی کرتے میرے گھر آتے رہے اور میرے لیے خود کو تباہ کرنے لگے‘ تم صرف اپنی بات منوانا جانتے ہو لیکن آج میں تمہارے بغیر یہاں سے کہیں نہیں جائوں گا۔‘‘ وہ چلا اٹھا تھا‘ ہلال کے لب بھینچ گئے تھے۔
’’چھوٹے صاحب آپ پرنسز اور بڑے صاحب کو لے کر یہاں سے چلے جائو ہم ان کا مقابلہ نہیں کر پارہے ہیں۔‘‘ اچانک ایک بندہ اندر داخل ہوا تھا۔
’’تمہارا مطلب کیا ہے…؟ کیا میں بزدلوں کی طرح یہاں سے بھاگ جائوں۔‘‘ وہ بھڑکا تھا۔
’’نہیں تم بہادروں کی طرح لڑتے ہوئے اپنی جان دے دو۔ اگر وہ مجھے بھی زندہ رکھے گا تب میں تمہارے لیے تمغہ جرأت مندی ضرور حاصل کروں گی۔‘‘ وہ غصے سے بولی تھی‘ وہ چونکا‘ پھر وہ اس کے قریب آیا تھا۔
’’آئی ایم سوری… اگر کل میں غصے میں نہ آتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔‘‘ وہ شرمندہ تھا اس نے ہاتھ بڑھایا تو وہ بھی ہاتھ کا سہارا لے کر نیچے اتری تھی۔
’’بہنیں تو اپنے بھائیوں کے لیے کیا کچھ نہیں کرتی ہیں اور مجھے تو صرف شادی کرنی ہے وہ کسی سے بھی ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں اس سے شادی کے لیے تیار ہوں۔‘‘ اس نے کہا تو اذان نے چونک کر اسے دیکھا۔ ہلال یکلخت جھکا اور اپنی پنڈلی سے بندھا چاقو نکالا تھا۔
’’میں اگر تم سے پہلے مر جائوں تو تم اس انسان کو خود پر کبھی بھی قابو حاصل نہ کرنے دینا‘ اگر تمہیں بچانے والا کوئی نہ رہے تو اپنی جان لے لینا۔‘‘ اس نے ہلال حسن کی آنکھوں میں دیکھا۔ جہاں مظفر خان سے نفرت کے علاوہ اور کوئی جذبہ نہ تھا۔
’’ان لوگوں کو واپس بلالو جو وہاں لڑ رہے ہیں۔‘‘
’’نہیں چھوٹے صاحب… آپ پرنسز کو لے کر جائیں‘ اگر یہاں خاموشی چھا گئی تو وہ سمجھ جائیں گے کہ آپ پرنسز کو لے گئے ہیں‘ آپ زیادہ دور نہیں جاسکیں گے اور وہ لوگ ہمارے سروں پر پہنچ جائیں گے۔‘‘
’’لیکن ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔‘‘
’’ہم اپنی پرنسز کے لیے ہنسی خوشی جان دیں گے بس آپ انہیں محفوظ جگہ پر پہنچادیں فوج تو آتی ہوگی پھر ہم انہیں دیکھ لیں گے۔‘‘ اور اب ہلال وہ گاڑی ڈرائیو کررہا تھا۔
’’چھوٹے صاحب جو لوگ اندر مقابلہ کررہے تھے وہ سب مارے گئے۔‘‘ دس منٹ بعد یہ لرزانے والی اطلاع ملی تھی۔
’’اناللہ واناالیہ راجعون…‘‘
’’وہ لوگ ہمارے پیچھے ہیں۔‘‘ مزید پانچ منٹ بعد اس اطلاع نے بابا صاحب کو توڑ دیا تھا۔
’’مجھے معاف کردیں بابا صاحب… یہ اتنی درد بھری رات آپ کو میری وجہ سے دیکھنا پڑ رہی ہے۔‘‘ ہلال نے گاڑی روک دی‘ وہ تینوں چونکے تھے۔ پھر وہ گہری سانس لیتا اذان کی طرف مڑا تھا۔
’’اذان میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کسی سے کچھ مانگوں گا اور وہ بھی تم سے۔‘‘ وہ اذیت سے بولا۔ ’’اذان… امائم کو یہاں سے لے جائو۔‘‘
’’اور تم…؟‘‘ اذان کے دل کو کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا تھا۔
’’وہ جانتے ہیں کہ میں امائم کے لیے اپنے سائے پر بھی اعتبار نہیں کرتا اسی لیے وہ صرف اس گاڑی کا پیچھا کریں گے جس میں میں انہیں نظر آجائوں۔‘‘ بابا اور امائم نے تکلیف سے اسے دیکھا تھا۔
’’ہم نکل جائیں گے ہلال‘ تم مت جائو۔‘‘ اذان نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
’’میری بلی کا خیال رکھنا اذان۔‘‘ وہ اترا تو بابا اور امائم کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا۔
’’وعدہ کرتا ہوں تم سے اپنی آخری سانس تک تمہاری حفاظت کروں گا اور مر جائوں تو معاف کردینا۔‘‘ وہ پچھلی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ دو منٹ وہ ان کے پیچھے آیا اور پھر وہ سب گاڑیاں غائب ہوگئیں۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک وہ مسلسل تیز ڈرائیو کرتا رہا پھر فجر کی اذان نے چونکایا چار بج رہے تھے۔
’’فجر کی اذان کی آواز…‘‘ باباصاحب چونکے‘ وہاں قریب میں مسجد تھی۔
’’گاڑی روک دو اذان۔‘‘
’’جی بابا صاحب۔‘‘ وہ انہیں اندر لے گیا امائم بھی اتر آئی تھی۔ وہ نماز پڑھ کے باہر آیا تو امائم سیٹلائٹ فون سے کال ملا رہی تھی۔ بہت دیر کے بعد بالآخر امائم کی کال لگ گئی تھی۔
’’ہلال…‘‘ بابا صاحب جو بالکل نڈھال ہوگئے تھے ان میں جیسے زندگی دوڑ گئی تھی۔
’’بابا…‘‘ اس کی بہت دھیمی آواز تھی جیسے وہ کسی تکلیف میں بمشکل بول رہا ہو۔
’’کہاں ہو تم…؟‘‘ اذان اڑ کر وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔
’’تم سے دور… بہت دور…‘‘
’’مجھ سے وعدہ کرو اذان… امائم کی حفاظت کرو گے۔‘‘
’’ہلال…‘‘ وہ تڑپا‘ بابا صاحب کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’مجھ سے… مجھ سے وعدہ کرو۔‘‘ اس کی ڈوبتی آواز ان تینوں کو شل کررہی تھی۔
’’وعدہ کرتا ہوں میں… میں امائم کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کروں گا۔‘‘
’’میں تمہارا احسان…‘‘
’’ہلال… تم مجھے دوست کب سمجھو گے۔‘‘ وہ رو دیا تو دوسری طرف خاموشی چھا گئی تھی۔
’’بابا سوری…‘‘ بابا صاحب کا دل ڈوبا تھا۔
’’بلی…‘‘ اور پھر خاموشی چھا گئی تھی‘ نجانے امائم سے کیا کہنا تھا اسے۔
’’ہلال…‘‘ اذان یوں چیخا جیسے اس کی چیخیں ہلال کو واپس لے آئیں گی۔
’’اذان…‘‘
’’بابا صاحب…‘‘ ان کی دھیمی سی آواز پر وہ چونکا۔ وہ بے دم ہوکر سیٹ پر ڈھے گئے تھے‘ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ اب وہ اپنے لخت جگر کو پھر کبھی نہیں دیکھیں گے‘ ان کی حالت بگڑ رہی تھی۔ اذان بوکھلایا۔ انہیں فوراً ہاسپٹل لے جانا تھا۔
’’کیا تم امائم سے نکاح کرو گے؟‘‘ وہ چونکا تھا۔
’’بابا صاحب‘ پلیز سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ہلال آجائے گا۔ ہم کسی محفوظ جگہ پہنچ جائیں گے اور… اور سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ اس سے تسلی نہیں مانگ رہے تھے اور جو مانگ رہے تھے وہ۔
’’مولوی صاحب سے کہو کہ…‘‘ وہ پھر مسجد کے اندر گیا۔ وہیں نکاح اور گواہوں کا بندوبست کیا اور ان کے نکاح کے بعد پھر ہلال کو کال ملائی تھی بیل بجتی رہی ان لوگوں کی امید دم توڑتی رہی‘ وہ دن طلوع ہورہا تھا جس میں اس کے بھائی نے اس کی شادی کا وعدہ کیا تھا‘ اس کی شادی ہوگئی لیکن کیسے…؟
’’بابا صاحب…‘‘ امائم کی آواز پر وہ چونک کر پیچھے مڑا گاڑی کچھ دور چلی تھی۔
’’بابا صاحب…‘‘ اس نے ان کا ہاتھ تھاما جو سرد ہورہا تھا۔
’’امائم کا خیال رکھنا اذان… وہ… ہلال… میری…‘‘ یہ تھا اس کی شادی کا دن‘ باپ اور بھائی دونوں اس کے ساتھ نہ رہے تھے۔
’’امائم…‘‘ وہ بے ہوش ہوکر گاڑی کی سیٹ پر لڑھک گئی تھی۔
وہ گاڑی اڑاتا ہوا باقی سفر طے کرکے ہوسپٹل پہنچا تھا۔ وہ کومے میں چلی گئی تھی۔ اس کے پاس تو اتنے پیسے نہیں تھے لیکن گاڑی میں ایک بریف کیس تھا جس میں لاکھوں روپیہ تھا۔ اس نے امائم کو اسپتال میں داخل کرا کے بابا کی تدفین کا بندوبست کیا امائم کی حالت خراب تھی۔ اگلے دن وہ اسے کراچی لے آیا وہ کوما میں چلی گئی تھی۔ امائم کو تین ماہ ہوگئے تھے کومے میں گئے اس نے ہلال کو ڈھونڈنے میں زمین آسمان ایک کردیا تھا۔ وہ ساری پراپرٹی جو ہلال نے اپنے پارٹنر کے نام کی تھی‘ اس کا نوٹس آیا تو وہ دم بخود رہ گیا وہ پراپرٹی جو ہلال کا حصہ تھا وہ سب اس نے اذان کے نام کردیا تھا۔
’’شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے وہ سب امائم کے نام ہوگا۔‘‘
’’کون امائم…؟‘‘ وکیل نے حیران ہوکر پوچھا تھا۔
’’ہلال حسن کی بہن۔‘‘
’’ان کی بہن سے ہم لاعلم ہیں۔‘‘ اور اس بار وہ حیران رہ گیا تھا۔ وہ روز اسپتال کا چکر لگاتا مگر… خاندان میں ہلال کے متعلق یہ سب سن کر سب کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔ اس نے صرف نکاح کے علاوہ ماما کو ہر بات سچ بتادی تھی۔ ساڑھے چار ماہ بعد ہلال کی بلی کو ہوش آیا تھا۔ وہ اس روز اپنے بھائی اور باپ کو نہ رو سکی تھی مگر ہوش میں آنے کے بعد وہ کتنے دن تک روتی ر ہی تھی۔
’’اذان… امائم کو کسی ہوسپٹل سے ہائوس جاب کروا دو‘ وہ مصروف ہوگی تو کم سے کم اس طرح سے تو نہیں روئے گی۔‘‘
’’ہائوس جاب…؟‘‘ وہ چونک اٹھا‘ ہلال نے تو کہا تھا کہ وہ حویلی سے کبھی باہر نہیں نکلی۔
’’ہاں… وہ اسلام آباد سے ایم بی بی ایس کررہی تھی ناں…‘‘ اس بار اسے ہلال کی غلط بیانی پر غصہ نہیں آیا تھا۔
’’اوکے مما…‘‘ اس نے اسے ہوسپٹل میں جاب دلوا دی اور ہلال کی تمام جائیداد اس کے نام ٹرانسفر کروا دی پھر وہ امائم سے بالکل لاتعلق ہوگیا تھا۔
خ…ز…خ
’’بیٹھے بٹھائے تم تو ارب پتی بن گئے۔‘‘ یار اس روز فہد اس سے ملنے آیا تھا‘ وہ اس کمپنی کو چلا رہا تھا۔
’’یہ سب ہلال کا ہے اور اس کے بعد امائم کا میں صرف نگران ہوں فہد۔‘‘ وہ غصے سے بولا تھا۔
’’مگر اس لڑکی کو کیا پتا تم بھرتے رہو اپنے بینک اکائونٹ‘ میری مانو تو اسے منظر پر لے آئو۔ یہ تو صرف اس کی جائیداد کا ایک حصہ ہے تین گنا تو وہیں ہنزہ میں رہ گیا ہوگا۔‘‘
’’امائم کو منظر پر لانے کا مطلب ہے کہ اس کی زندگی برباد کرنا… تم مجھے ایسا مشورہ کیسے دے سکتے ہو فہد۔‘‘ اسے تاسف نے گھیرا تھا لیکن اس روز وہ پہلی بار امائم سے مخاطب ہوا تھا۔
’’تم آفس سنبھالو آکر۔‘‘
’’مجھے اس بارے میں کچھ پتا نہیں ہے بزنس میری لائن نہیں ہے۔‘‘
’’تو بنائو اسے اپنی لائن۔‘‘ وہ حیران رہ گئی تھی۔ پھر اس کی کچھ سمجھ میں آیا کہ وہ کیوں اتنا چڑچڑا ہورہا تھا۔ اس نے بھی کل سنا تھا کہ پھپو مما کی خوش بختی پر باتیں کررہی تھیں۔
’’وہ معمولی سا نظر آنے والا دوست اتنی بڑی جائیداد اذان کے نام کر جائے گا‘ بھلا کس کو پتا تھا بھابی اب آپ گھر بدل لو۔‘‘
’’وہ سب امائم کا ہے‘ ہمارا اس پر کوئی حق نہیں کہ ہم گھر بدلتے پھریں۔‘‘ مما کو برا لگا تھا اور اسے بھی برا لگا‘ مما کے خلوص پر شک کرنا۔
’’ٹھیک ہے میں پہلے ایم بی اے کرنا چاہوں گی۔‘‘ دوسرے دن اس نے اس سے کہا تھا۔ ’’لیکن اس دوران آپ مجھے آفس نہیں بلائیں گے۔‘‘
’’اوکے…‘‘ دو سال لگتے لیکن وہ مان گیا اور امائم نے سکون کا سانس لیا تھا۔
مما کی بھی وہ بہت اچھی بیٹی بن گئی تھی‘ ان کی زندگی پہلے جیسی تو نہ ہوسکی‘ ہلال اور بابا کی کمی کون پوری کرسکتا تھا لیکن اسے جیسے صبر آگیا تھا‘ وہ محفوظ ہے یہ یقین آگیا تھا‘ اس نے مما سے گھر کے کام بھی سیکھ لیے تھے اور خوش دلی سے انہیں کرتی بھی تھی۔ مزمل کے پرپوزل کو رد کرکے اذان نے اور احسان کیا تھا۔ وہ جب گھر میں ہوتا تو اسے بالکل ڈر نہ لگتا۔ سمیر سے بھی ڈر نہ لگتا اور وہ کہیں چلا جاتا تو اس کا جی چاہتا گھر میں کوئی تہہ خانہ ہو جہاں وہ چھپ جائے۔ کہیں اس کے قبیلے کے لوگ نہ پہنچ جائیں اس تک… اس کی زندگی بالکل بدل گئی تھی۔ وہ بھی بدل گئی تھی‘ کبھی وہ کچن میں کام کررہی ہوتی یا سارہ کے ساتھ صفائی کروا رہی ہوتی کبھی کپڑوں کا ڈھیر استری کررہی ہوتی تو اذان منجمد رہ جاتا تھا۔ اس نے اسے شہزادیوں کی طرح زندگی گزارتے دیکھا تھا۔
خ…ز…خ
’’اتنے عرصے تم نے ہم سے اس بات کو چھپائے رکھا… مگر کیوں؟‘‘ چچا بگڑے۔
’’میری بہن کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا…‘‘ سمیر نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑا۔
’’چھوڑو اسے…‘‘ بڑے پھپا غصے سے بولے۔ ’’جن حالات میں یہ نکاح ہوا اس میں اذان مجبور تھا۔‘‘
’’اور اتنے سال جو اس نے ہمیں بتایا نہیں اس میں کیا مجبوری تھی۔‘‘ چچی غصے سے بولیں۔
’’میں امائم کے لیے کوئی اچھا لڑکا دیکھنا چاہتا تھا‘ جو اس کی حفاظت کرسکے۔‘‘ مما اور عالیان نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’مزمل اچھا لڑکا تھا وہ اسے لے کر امریکا چلا جاتا۔‘‘ بھابی کو سمیر سے بہتر مزمل لگا تھا۔ ’’تمہیں امائم سے پوچھے بغیر اس کے بارے میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے ایک نظر امائم پر ڈالی جو غلطی نہ ہونے پر بھی مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔
’’میں مما اور امائم سے آج یہ بات کرنے آیا تھا۔‘‘ سب کے لب بھنچے‘ عالیان تیزی سے مڑ کر کمرے سے نکل گیا‘ اس کے پیچھے امائم بھی باہر نکل گئی تھی۔
’’عالیان…‘‘
’’انیف…‘‘ وہ یک دم چلایا اذان سمیت سب نے مڑ کر دیکھا۔
’’میں آپ کا کچھ نہیں ہوں۔‘‘ وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ امائم سن کھڑی رہ گئی۔ مما بھی ایک سلگتی نظر اذان پر ڈال کر اپنے کمرے میں چلی گئیں تھیں۔ مما اور عالیان نے مکمل طور پر ان دونوں سے بات چیت بند کردی تھی۔
’’تم اب اس مسئلے کو حل کرو۔ رمشہ کی شادی مزید روکنا اچھا نہیں۔‘‘ بڑے پھپا نے کہا اور سب ان کی تائید کرتے چلے گئے۔ گھر میں اب بس وہ چاروں رہ گئے تھے۔
اس نے رات کھانا لگایا اور مما اور عالیان کو بلانے گئی مگر دونوں نے انکار کردیا۔ دوسرے دن بھی یہی معاملہ رہا۔ وہ مجرم نہیں تھی سزا پھر بھی اسے مل رہی تھی۔ شام کو ہی سارہ آگئی تھی لیکن اس نے بھی کوئی بات نہ کی۔ وہ چاروں ڈنر کے لیے باہر چلے گئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’امائم…‘‘ اس نے چونک کر سر اٹھایا اور اذان کو دیکھ کر اس نے ہونٹ کاٹے سارہ کے ساتھ مما ڈھیر سارے شاپرز اٹھائے اندر داخل ہوئیں اور اذان کو امائم کے سر پر کھڑا دیکھ کر ٹھٹک کر رکیں۔
’’میں نے ڈائیورس پیپرز تیار کروالیے ہیں…‘‘ امائم کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
’’مزمل اچھا لڑکا ہے اور…!‘‘
’’میری زندگی کا فیصلہ طلاق تک آپ کے ہاتھ میں ہے‘ لیکن آگے میں خود طے کروں گی۔‘‘ اذان کے لب بھینچے۔ اس کے انداز ولہجے میں بے پناہ نخوت تھی۔
’’مزمل کے ساتھ تم محفوظ رہوگی۔ وہ بہت کیئرنگ ہے میں تمہیں ایسے غیر محفوظ کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولا۔
’’کیا آپ یہ گھر مجھے بیچ دیں گے۔‘‘ وہ چونکا۔
’’اس گھر میں ہلال رہتا تھا اور اس گھر کے علاوہ میرے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں میں ہلال کو محسوس کرسکوں آپ جتنی چاہیں رقم…!‘‘
’’بھائی کے کمرے میں شفٹ ہوجائو۔‘‘ وہ دونوں چونک کر مڑے۔
’’ہلال بھائی وہیں رہتے تھے۔‘‘
’’سارہ…‘‘ مما نے سارہ کو گھورا اور آگے بڑھنے لگیں۔
’’آئی ایم سوری مما‘ میں اس روز مجبور تھا۔‘‘ وہ ان کے سامنے آیا۔
’’تین سال تک مجھے بتانے میں کیا مجبوری آڑے آتی رہی۔‘‘ وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔ امائم نے اسے دیکھا وہ اس کی وجہ سے مشکل میں تھا۔
’’ہلال اور بابا مجھے امریکہ بھیجنا چاہتے تھے۔‘‘ ان سب نے مڑ کر اسے دیکھا۔
’’آپ میرے وہاں جانے کا انتظام کردیں۔‘‘ وہ آگے بڑھتی ہوئی ان سب کے قریب آئی۔ ’’آئی ایم سوری مما میرے بابا مجبور تھے ورنہ آپ ایسے ہرٹ نہ ہوتیں۔‘‘
’’تم امریکہ جانا چاہتی ہو؟‘‘ مما نے متعجب ہوکر اسے دیکھا۔
’’آپ کی ناراضی نہیں سہہ سکتی اور اس گھر سے نکل کر میں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہوں۔ ملک بدل جائے گا تو… ‘‘ وہ ناچاہتے ہوئے بھی روتی چلی گئی۔
’’میں کیوں ناراض تم سے… جب میں اپنی بہو کی چیزیں رمشہ کے لیے رکھتی تھی تو کیوں نہ کہا کہ مما اس پر میرا حق ہے۔‘‘ مما کی آواز پر وہ ٹھٹکی۔
’’اور ناراض ہونے کا حق تو مجھے ہے میں کتنا پریشان ہوتی تھی کہ رمشہ بھائی کو ہم سے چھین لے گی‘ کیوں نہیں بتایا کہ رمشہ کی کیا مجال جو بھائی پر نظر بھی ڈالے۔‘‘ دونوں نے چونک کر سارہ کو دیکھا۔ مما نے اسے گلے لگایا۔
’’اور میں بھی اسی لیے ناراض ہوں کہ جب میں نے کہا کہ آپ گھر سے چلی جائیں گی تو میں کتنے دن کھانا نہیں کھا سکوں گا تو مجھے تسلی کیوں نہ دی‘ مجھ سے کیوں نہیں کہا کہ عالیان تمہیں روٹی ہمیشہ میرے ہاتھ کی ملے گی۔‘‘ عالیان بھی قریب چلا آیا۔
’’اور تمہیں پتا ہے ہم جو اکیلے اکیلے شاپنگ کرنے گئے ہیں تو وہ اس لیے کہ ہم اچھے سسرال والے نہیں ہیں جو اپنی بھابی کی پسند کو مد نظر رکھیں اور انہیں ساتھ لے جائیں‘ ہم سب کچھ اپنی پسند کا لائے ہیں اپنی بھابی کے لیے۔‘‘ وہ حیرت سے سارہ کو دیکھتی رہی۔
’’اب تم جلدی سے تیار ہوجائو۔ مما کے مہمان بس آتے ہی ہوں گے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام کر لے گئی۔
’’چلو… عالیان بھائی کو بھی تیار کرتے ہیں۔‘‘ اعظم مسکرا کر بولا۔
’’مما…!‘‘ وہ ہڑبڑا کر مما کی طرف بڑھا۔
’’مجھ سے بات مت کرو تم‘ میری ساری ناراضی تم سے ہے۔ وہ تو اجنبی ماحول میں گھبرائی ہوئی پریشان تھی لیکن تم نے بھی اپنی ماں کو بتانا گوارا نہیں کیا۔‘‘
’’مما میں بہت کنفیوز تھا۔‘‘
’’شاباش بچے… تم تین سال تک کنفیوز ہی رہے؟‘‘
’’مما میں امائم پر کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے ہلال سے وعدہ کیا تھا کہ…‘‘
’’اس پر جو زبردستی کی وہ اس کے حالات نے کی‘ تم بے فکر رہو…‘‘ وہ آگے بڑھ گئیں‘ کچھ دیر میں گھر مہمانوں سے بھرنے لگا۔ چچی‘ چچا‘ رمشہ کے علاوہ سب آئے تھے۔ مما نے ان سے معذرت کرلی تھی۔ وہ اذان اور امائم کا رشتہ ختم نہیں کرسکتی تھیں۔ چچی نے مما کو لالچی کہہ دیا تھا جو کہ امائم کی دولت کی وجہ سے رمشہ کو اپنی بہو نہیں بنارہی تھیں۔
کچھ دیر بعد سارہ امائم کو تیار کرکے لے آئی‘ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ جس نے دیکھا وہ دیکھتا رہ گیا اسے اذان کے برابر میں بٹھا دیا گیا۔ عالیان مووی بناتے ایک ایک پر کمنٹ بھی کررہا تھا کہ کون جلدی میں کیسا تیار ہوا ہے۔
’’ہاں… ہاں ہمیں معلوم ہے ہم کیسے تیار ہیں۔ تم پورا دھیان صرف امائم پر دو کیونکہ آج خوبصورت لگنے کا صرف اس کا دن ہے۔‘‘ سارہ نے کہا۔
’’بھابی… بھا… بی…‘‘ عالیان نے جتایا۔
’’وہ تم کہو…‘‘ سارہ کون سی کم تھی سب مسکرا دئے تھے۔
خ…ز…خ
’’جب ہلال تھا تب یہ پکچر یہاں تھی۔‘‘ وہ کمرے میں داخل ہوا تو چونکا وہ اس کی اور ہلال کی ایک تصویر کو جو خاصے بڑے فریم میں تھی دیوار سے اتار چکی تھی۔
’’نہیں…‘‘ وہ نظریں چراتا ہوا بولا۔
’’کیا اس کی کوئی چیز یہاں موجود ہے۔‘‘ وہ اس کی تصویر کو سینے سے لگا چکی تھی۔ وہ آگے بڑھا اور وارڈروب کھول کر ہینگر نکالا اور اس کی طرف بڑھایا۔ وہ چونک گئی‘ وہ سفید اور نیلی دھاریوں کی شرٹ تھی۔ اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔ وہ کھلی ہوئی وارڈروب سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ وہ لب بھینچے اس کی شرٹ کو تکلیف سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا اور ہلال کی شرٹ پر گرا۔ اس نے جیب سے ہاتھ ڈال کر ایک پلاسٹک میں پیک گھڑی نکالی‘ بلیک اسٹرپ اور وائٹ ڈائل کی یہ گھڑی اس نے کئی بار اذان کو اس میں ٹائم دیکھتے دیکھا تھا اور اکثر سوچا تھا وہ اسے باندھتا کیوں نہیں ہے۔
’’یہ ہلال کی ہے۔‘‘
’’آپ جیسی محبت تو نہیں کرسکتا لیکن ہلال سے محبت تو مجھے بھی ہے۔‘‘ امائم نے ہلال کی شرٹ واپس لٹکائی‘ وہ ہلال کی پرنسز تھی اور اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا اسے محال لگ رہا تھا۔
’’میں نے مما کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے سمجھنا ہی نہ چاہا۔‘‘ وہ مڑتے ہوئے چونک کر رکی۔
’’میں… میں تم پر ایسی کوئی زبردستی نہیں چاہتا تھا مگر مما…‘‘
’’مزمل نے گفٹ میں ہمیں دبئی کے ریٹرن ٹکٹ دیئے ہیں۔‘‘ وہ چونکا۔ وہ تصویر واپس لٹکا رہی تھی۔ ’’میں دبئی سے واپس نہیں آئوں گی۔‘‘ وہ الجھ کر اسے دیکھنے لگا۔
’’آپ مما سے کہہ دینا کہ ایک حادثے میں میری جان چلی گئی اور پھر رمشہ سے شادی کرلیجیے گا۔‘‘ وہ سن ہوگیا۔
’’ہلال اس کمرے میں کہاں سوتا تھا؟‘‘ وہ بے حد سکون سے اس کا سکون تباہ کر گئی تھی۔ وہ اسے حیرت سے دیکھتا رہا کچھ بولنا تو وہ بھول ہی گیا تھا۔
’’ہلال اس کمرے میں کہاں سوتا تھا؟‘‘ اس نے پھر پوچھا۔
’’میں تمہیں اتنا خود غرض لگتا ہوں۔‘‘
’’خود غرض نہ ہونے کا مطلب یہ کب سے ہوگیا کہ جو جی میں آئے مسلط کردو آپ جیسے بے غرض لوگوں پر…؟‘‘
’’امائم…‘‘ وہ بے یقین نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ ’’کیا تم خود کو مجھ پر بوجھ سمجھتی ہو‘ کیا تم مجھ پر زبردستی مسلط کردی گئی ہو؟‘‘
’’بوجھ نہ سمجھوں تو کیا سمجھوں…؟‘‘ وہ کاٹ کھانے والے لہجے میں بولی۔
’’تم میری ذمہ داری ہو۔‘‘
’’زبردستی کی…‘‘ وہ استہزائیہ سی ہنسی۔
’’امائم…‘‘ اس نے بے بسی سے کہا۔ ’’میرا اللہ گواہ ہے میں نے تمہیں کبھی بھی خود پر زبردستی مسلط کیا جانے والا بوجھ نہیں سمجھا بلکہ میں تو شرمندہ ہوں جیسی تمہاری حفاطت مجھے کرنا چاہیے تھی میں نہیں کرسکا…‘‘
’’میں یہاں خود کو محفوظ سمجھتی ہوں۔‘‘ وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے رائٹنگ ٹیبل کی کرسی اٹھا کر اس کے سامنے رکھی اور بیٹھ گیا۔
’’تم اس نفسیاتی دبائو سے باہر نکلو۔‘‘
’’نفسیاتی دبائو…!‘‘ وہ متعجب ہوکر اسے دیکھنے لگی۔
’’تم محفوظ ہو… ہر جگہ‘ ہر مقام پر… تم نے ہلال اور بابا صاحب کے بعد خود کو صرف اس گھر میں دیکھا۔ تم دبائو میں آگئی ہو۔ تمہیں لگتا ہے یہاں سے باہر جاکر تم کہیں محفوظ نہیں ہو… جبکہ ایسا نہیں ہے۔‘‘ وہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
’’ہلال اور بابا صاحب ہوتے تو تم یہاں نہیں ہوتیں اور میں چاہتا ہوں کہ تم اسی مقام پر رہو جہاں تم ان کی زندگی میں ہوتیں…‘‘ وہ چپ اسے دیکھتی رہی لیکن وہ ٹھٹکا۔
’’ہلال…‘‘ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
’’بالکل ایسے ہی مجھے ہلال بھی دیکھتا تھا‘ جب وہ مجھ سے کچھ چھپاتا تھا۔‘‘ امائم نے سٹپٹا کر نظریں نیچے کیں۔ وہ خود سے بول رہا تھا وہ الجھ گیا تھا۔
’’تم مجھ سے کیا چھپا رہی ہو…؟‘‘ وہ سیدھا ہو بیٹھا‘ وہ لب بھینچ کر رہ گئی۔
’’امائم… تم مجھ سے کیا چھپا رہی ہو؟‘‘
’’میں آپ سے بھلا کیا چھپائوں گی۔‘‘ وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ ہلال بھی جو چھپا رہا ہوتا تھا وہ کب بتاتا تھا۔ بھلے ہی اسے کتنی بھی الجھن ہوجائے‘ تو پھر مائم… وہ بھی اسے کیوں کچھ بتانے لگی۔
’’آپ رمشہ سے شادی کرلیں وہ آپ سے بے حد محبت کرتی ہیں۔‘‘ جب وہ امائم حسن خان تھی جب وہ ہنزہ کی شہزادی تھی تب اس نے سوچا نہیں تھا کہ وہ اپنے عروسی لباس میں اپنے شوہر کے منہ سے اپنی تعریف سننے کے بجائے اپنے شوہر کو دوسری شادی کے لیے قائل کرے گی۔
’’وہ تو میں کرہی لوں گا مگر…‘‘ امائم کو جھٹکا لگا۔ اسے لگا وہ کہے گا کہ… ’’یہ تو اب ناممکن ہے…‘‘
’’مگر امائم میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتا… مما کو میں پہلے ہی اتنا ناراض کرچکا ہوں مزید انکار مجھ سے نہیں ہوسکا لیکن میں جانتا ہوں یہ تمہاری صحیح جگہ‘ صحیح مقام نہیں ہے۔‘‘
’’کیوں نہیں ہے‘ یہ میری صحیح جگہ صحیح مقام؟‘‘
’’یہ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو؟‘‘ اس نے متعجب ہوکر اسے دیکھا۔
’’ہنزہ میں ان لوگوں نے تمہیں نہیں دیکھا تھا ورگرنہ مما اس رخصتی سے پہلے سو بار سوچتیں۔‘‘ وہ بڑبڑایا اور وہ دم بخود رہ گئی۔
’’یہ کیا سوچ رہے ہیں آپ میرے بارے میں…‘‘ وہ چونکا۔
’’کونسی مسند پر لے جاکر بٹھا رہے ہیں آپ مجھے… وہاں مجھے بیٹھنا ہی نہیں ہے‘ میں خوش ہوں جہاں ہوں۔‘‘ وہ اسے دیکھنے لگا۔ گہرے سرخ رنگ کے سوٹ میں وہ بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔
’’اذان آپ کو جو بھی فیصلہ کرنا ہے آپ کریں… مگر میری زندگی کا فیصلہ کرنے چلے ہیں تو کم از کم مجھ سے پوچھ لیں۔‘‘ وہ لب بھینچے رہ گیا۔
’’اذان لڑکی چاہے بادشاہ کی ہو یا فقیر کی… جس کے نکاح میں بندھ جاتی ہے اس سے محبت بھی کرنے لگتی ہے اور میں بھی تو ایک عام سی لڑکی ہوں ناں…‘‘ وہ اذیت سے اسے دیکھتا رہا۔ ’’آپ سے مجھے تحفظ ملا… اس گھر سے مجھے اتنا پیار ملا‘ پھر میرے بابا نے خود آپ کو میرے لیے پسند کیا تو آخر اب وہ کون سی شے رہ گئی جو مجھے امائم حسن سے امائم اذان بننے کے لیے درکار ہوگی۔‘‘ اس نے سختی سے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا۔
’’میں اپنی انا وخودداری اور اپنی شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ کر آپ سے کہتی ہوں اذان کہ میں اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ وہ جواباً اسے بے حد سخت نگاہوں سے دیکھتا رہا۔
’’گھٹن ہورہی ہے مجھے تمہاری ان باتوں سے…‘‘ اگلے پل وہ بے چینی سے اٹھ کھڑا ہوا اور وہ بھونچکا سی رہ گئی۔ اپنے منہ سے اعتراف کرنے کے بعد وہ اپنے شوہر سے جواباً یہ سن رہی تھی؟ اسے یقین نہیں آیا۔
’’ٹھیک ہے میں مانتا ہوں میری غلطی ہے۔‘‘ وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی۔
’’میں مانتا ہوں کہ میں نے تم سے لاتعلقی برت کر صحیح نہیں کیا… لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم خود کو میرے احسان تلے دبا سمجھو اور میں تم سے یہ سب سن کر خوش ہوتا پھروں۔‘‘ وہ بس پھیلی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔
’’مجھے اس اذیت میں مت ڈالو۔ ہلال حسن کی طرح نہ سہی کم از کم مزمل کی طرح تم مجھ سے سچ بولو…‘‘ وہ سن رہ گئی۔
’’ہلال جرگے میں یہ فیصلہ سنا کر آیا تھا کہ وہ دوسرے دن تمہاری شادی کردے گا… کس سے…؟‘‘ وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا اور وہ چونکی۔
’’میں نے پوچھا کس سے…؟‘‘
’’فیصلہ ہلال کا تھا اس سے ہی پوچھ لو…‘‘ اسے رونا آیا وہ کتنا بے یقین تھا۔ اس پر شک کررہا تھا کہ وہ مزمل سے سچ بولتی ہے جبکہ اس سے جھوٹ بول رہی ہے۔ چہرے پر اذیت لیے وہ اسے دیکھتا رہا… وہ یک دم اٹھی‘ اسے وحشت ہوئی تھی اپنی تیاری سے جس کے لیے یہ ساری تیاری کی تھی وہ اس قدر بدگمان تھا۔
’’وہ کون ہے امائم جس کے لیے تم بہت سی قربانیاں دے چکی ہو… جس کی محبت تم سے بس قربانیاں ہی مانگ رہی ہے؟‘‘
’’اف… یہ مزمل…‘‘ اس نے آنکھیں بند کرلیں‘ اگلے پل وہ اس کے مقابل کھڑا تھا۔
’’وہ کون ہے جو تمہاری ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں ہے؟‘‘
’’مزمل آپ کو تنگ کررہا تھا تو بس اسے ٹالنے کے لیے میں نے اس سے جھوٹ بول دیا۔ اصل میں میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ…!‘‘
’’جھوٹ تم اب بول رہی ہو۔‘‘ وہ ہر لفظ چبا کر بولا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔ اسے کیا ہوا تھا؟ وہ کیوں یقین نہیں کررہا تھا اس کا۔
’’کیا سننا چاہتے ہیں آپ مجھ سے‘ بولیں ناں کیا سن کر آپ کو لگے گا کہ میں آپ سے کوئی جھوٹ نہیں بول رہی ہوں۔‘‘ اسے غصہ آیا‘ اپنے منہ سے اعتراف محبت کرنے پر بھی وہ ناکام رہی تھی۔
’’میں تم سے کچھ سننا نہیں چاہتا۔‘‘ وہ تکلیف سے بولا۔
’’میں تمہیں صرف خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
’’میں خوش ہوں…‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
’’میں کہوں گا اس نفسیاتی دبائو سے باہر نکلو…‘‘ وہ فوراً بولا۔
’’یہ کوئی نفسیاتی دبائو نہیں ہے…؟‘‘ وہ ڈھٹائی سے بولی‘ وہ یونہی اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔
’’کیا تم بابا صاحب اور ہلال کی موجودگی میں یہاں ہوتیں؟‘‘ وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بولا تو امائم نے سٹپٹا کر نگاہوں کا رخ پھیرا۔
’’کیا تم تب خوش ہوتیں…؟‘‘ امائم کے لب بھینچے۔
’’کیا تم تب میری بیوی ہوتیں؟‘‘ اس کے ہر سوال پر امائم کی اذیت بڑھی تھی۔
’’کیا تمہیں تب مجھ سے محبت کا یہ دعویٰ ہوتا…؟‘‘
’’اگر میں کہوں ہاں تو…‘‘ یہ ڈھٹائی امائم کی مجبوری بن گئی تھی۔
’’تو…!‘‘ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ ’’تو میں یہ جاننا چاہوں گا کہ ہلال اور تم اتنے جھوٹ کیسے بول لیتے ہو۔‘‘ امائم نے تڑپ کر اسے دیکھا۔
’’آپ کو کیا ہوگیا ہے اذان…؟ میرا آپ کی زندگی میں آنا ایسے ہی لکھا تھا تو جو ہوا نہیں اسے لے کر آپ کیوں اتنا پریشان ہیں؟‘‘
’’کیونکہ میں شرمندہ ہوں۔‘‘ وہ چونکی۔ ’’ہلال نے مجھے تمہاری ذمہ داری سونپی تھی اور تمہارا اس وقت یہاں ہونا مجھے اپنی خود غرضی لگ رہی ہے۔‘‘ وہ تکلیف سے بولا اور وہ اسے دیکھتی رہی۔
’’میں نے ہلال سے بے غرض دوستی کی تھی۔ اس نے مجھے تمہیں بطور امانت دیا تھا اور… میں… میں اس امانت کا مالک بن بیٹھا۔ یہ کیسی دوستی ہے میری‘ میں اس سے کبھی نظر نہیں ملا سکوں گا۔‘‘ وہ دروازہ کھول کر ٹیرس پر نکل گیا تھا۔ امائم وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
’’اف ہلال… یہ کیا…؟‘‘ وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی پھر ہلال کی تصویر کے آگے آکر کھڑی ہوگئی اور مسکرا کر اس کی تصویر کو دیکھا۔
’’دیکھ لیا اپنے بے غرض دوست کو… اسے ایک زندہ سلامت کھڑی لڑکی بلکہ اپنی بیوی کے احساس کی پروا نہیں ہے تمہاری دوستی کے آگے۔‘‘ اس نے اس کی تصویر پر ہاتھ پھیرا۔
’’ایسا ہی دوست چاہیے تھا ناں تمہیں۔‘‘ یہ خاندان میں ہونے والی ایک شادی پر لی جانے والی تصویر تھی جس میں وہ دونوں بھرپور طریقے سے مسکرا رہے تھے۔
’’اب تو خوش ہو ناں…‘‘ وہ مسکرا کر ہلال کی مسکراتی آنکھوں کو دیکھتی رہی۔ اسے اب تک اذان کی تمام باتیں بے حد بچکانہ لگ رہی تھیں۔ نہ سمجھ میں آرہی تھیں لیکن اب اس پر ٹوٹ کر پیار آرہا تھا وہ اذان جنید تھا۔ وہ ہلال کا بے غرض دوست تھا‘ ویسا دوست جس کا ہلال حسن متلاشی رہا تھا… اسے خوشی تھی کہ اس کے بھائی کی تلاش پوری ہوگئی تھی۔
’’اذان…‘‘ وہ جو گرل سے ٹیک لگائے کھڑا تھا چونک کر مڑا۔ امائم نے ٹیرس پر ایک قدم رکھا اور رکی… رات کے اس پہر کی سرد ہوا نے اسے پھریری لینے پر مجبور کردیا تھا۔ اذان نے حیرت سے اسے دیکھا… پھر وہ دھیرے دھیرے چلتی اس کے قریب آئی… بے حد قریب‘ اذان نے اپنی سانسیں بھی روک لیں کیونکہ وہ اتنا قریب تھی کہ اس کی سانسیں بھی اسے چھو رہی تھیں۔
’’اذان ہلال نے مجھے آپ کو بطور امانت سونپا اور بابا نے…‘‘ وہ الجھ کر اسے دیکھنے لگا۔
’’انہوں نے تو مجھے آپ کے سپرد کردیا تھا ناں…‘‘ اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی لیکن سکون تھا۔ اذان نے نگاہوں کا رخ پھیرا۔
’’وہ مجبور تھے…‘‘ امائم نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔
’’اوکے… آپ کا مطلب ہے کہ اگر جن حالات میں آپ ہنزہ آئے تھے ان ہی حالات میں مجھے آپ کے نکاح میں دیا جاتا۔ ہلال اور بابا ہنسی خوشی مجھے رخصت کرتے تب آپ کو کوئی اعتراض نہ ہوتا اس رشتے پر؟‘‘
’’ٹھیک کہا تم نے… اگر یہ رشتہ ہلال اور بابا اپنی مرضی سے طے کرتے تو تمہیں اپنانے میں مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا لیکن اب یہ صورت حال میرے لیے ناقابل قبول ہے۔‘‘ وہ یوں کہتا اسے سن کر گیا تھا۔
’’وہ ہوتے تو آج تم یہاں نہ ہوتیں یہ طے ہے۔‘‘ وہ جو ایک قدم دور ہوا تھا‘ واپسی وہی قدم بڑھا کر اس کی قریب آیا۔ ’’اور یہ طے شدہ بات کبھی مجھے تمہارے قریب نہیں ہونے دے گی میں ہمیشہ شرمندہ رہوں گا کہ میں نے تمہارے حالات کا فائدہ اٹھایا۔‘‘ وہ جب دور ہوتا تھا تب بھی وہ اس کی طرف کبھی نظر اٹھا کر نہ دیکھ سکی… اتنا پاس آنے پہ وہ یوں اسے دیکھ پائے گی یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔
’’میرے حالات کا فائدہ…!‘‘ وہ حیرت سے بڑبڑائی… ان سب کے بیچ اذان کا کیا فائدہ ہوا‘ اذان کے لب بھنچے اور اس کے چہرے پر اذیت بے پناہ بڑھ گئی اتنی کہ امائم کو خوف لاحق ہوا کہ اسے کچھ ہو نہ جائے۔
’’اس لیے امائم حسن کہ جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تب میں اپنے دل کے سارے اختیار کھو بیٹھا تھا۔‘‘ امائم کو جھٹکا لگا وہ نہ محسوس انداز میں پیچھے ہوئی۔
’’اپنے اور تمہارے بیچ اس قدر فرق کو دیکھ کر بھی مجھے تم سے محبت ہوگئی تھی۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا‘ امائم کو سانس لینا مشکل ہوا۔
’’میں نے اپنا اور تمہارا طلاق نامہ تمہارے ہوش میں آنے کے ایک ہفے بعد ہی تیار کروالیا تھا۔‘‘ امائم کو اپنے پیروں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔ امائم بے دم سی بیٹھتی چلی گئی۔
’’لیکن تین سال گزرنے کے بعد بھی میں اس پر ایک سائن کرنے کے لیے خود کو کبھی تیار نہ کرسکا۔‘‘ کتنے کڑے پہرے بٹھا رکھے تھے اس نے اپنے دل پر کہ امائم کو تو کیا کبھی رمشہ کو بھی اندازہ نہ ہوسکا اس کی شدتوں کا۔
’’لو بھلا رمشہ کو امائم سے کیا پرابلم ہوگی سال میں ایک بار تو وہ امائم کی پڑھائی پوچھتے ہیں۔‘‘ سارہ نے ٹھیک کہا تھا‘ امائم کے آنسو بہہ نکلے تھے‘ اسے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہوا‘ کتنی شدت سے چاہتا تھا وہ اسے کہ امائم کو کوئی اس کے حوالے سے برا سمجھے وہ خود پر اپنی نظر ودل پہ پابندی لگا چکا تھا۔ وہ پابندی بھی کیسی تھی؟
’’میں شرمندہ ہوں…‘‘ وہ چونکی۔ وہ اس محبت پر شرمندہ تھا۔
’’مجھے لگتا ہے کہ ہلال اور بابا کے ساتھ جو ہوا‘ اس کا ذمہ دار میں ہوں۔‘‘ امائم کو ایک اور جھٹکا لگا… اس نے چہرے پر سے ہاتھ ہٹاتے بے بسی سے اسے دیکھا۔
’’یہ میری محبت کی بدنظری تھی کہ ہلال اور بابا ہم سے دور ہوگئے۔ حالانکہ تب تو مجھے اس محبت سے کوئی واقفیت بھی نہیں تھی۔ اس وقت تو مجھے اس کے بچھڑنے کا خدشہ لاحق ہوا تھا نہ ہی اس سے ملنے کی دعا میں کرسکا تھا۔ مجھے تم سے محبت جرگے کا فیصلہ‘ ہلال کا غصہ اور پھر وہ رات سب آپس میں یوں گڈمڈ ہیں کہ میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ کیا چیز پہلے رونما ہوئی لیکن ان سب میں ایک بات جو طے ہے وہ یہ کہ اگر ہلال اور بابا ہوتے تو تم یہاں نہ ہوتیں اور یہ طے شدہ بات مجھے کبھی تمہارے قریب نہیں ہونے دے گی میں وہاں نہ جاتا تو…‘‘ وہ ٹھٹک کر رکا‘ امائم نے ذرا سا جھک کر اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا تھا۔ وہ سن رہ گیا۔ وہ اس کی دلہن بنی اس کے سامنے تھی اس کے بے حد قریب اس کے وجود سے اٹھتی دلفریب خوشبو اسے پرسکون کرنے کے بجائے مزید بے قرار کر گئی۔ اس کی تکلیف کم ہورہی تھی یا بڑھ رہی تھی وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ امائم کچھ جذباتی کیفیت سے باہر نکلی تو اسے خود سے شرم محسوس ہوئی۔ وہ اسے وہیں چھوڑ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
’’ہلال کو غلط مت سمجھیے، اس نے آپ سے واقعی بے غرض دوستی کی تھی مگر…‘‘ امائم کا جی چاہا کہ اسے ان دونوں کے ساتھ موت آجاتی تو اچھا ہوتا۔
وہ اس رشتے کو اتنا رو چکی تھی کہ اب آنکھیں بھی آنسو بہانے سے انکاری ہوگئیں تھیں اس نے کمبل خود پر پھیلایا اور آنکھیں بند کرلیں۔ جس کے لیے وہ اپنا سب کچھ کھو چکی تھی اور جسے پایا تھا وہ اسے اپنانا تو دور اس کا یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔
’’ہلال اس طرف نہیں سوتا تھا۔‘‘ اذان کی آواز اتنے قریب سے آئی کہ وہ چونک کر آنکھیں کھولنے پر مجبور ہوئی‘ وہ اتنی آہستہ سے اس کے قریب بیٹھا تھا اسے خبر نہ ہوسکی۔ وہ متعجب ہوئی۔ وہ پیچھے کو کھسکی مگر… اس کا دوپٹا اذان کے نیچے تھا… وہ چند انچ کے علاوہ مزید دور نہ ہوسکی۔
’’یہ کوئی گریز کی قسم ہے؟‘‘ اس نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا۔
’’آپ کو جگہ کم پڑے گی ناں۔‘‘ وہ مزید چونکا۔
’’حساب کتاب اچھا کرلیتی ہو‘ ایم بی اے کررہی ہو یا پی ایچ ڈی۔‘‘ اسے واقعی پہلے جگہ کم میسر تھی‘ سو وہ چھیڑنے لگا۔
’’ہارٹ میں اسپیشلائزیشن…‘‘ وہ الجھا۔
’’کیا… کیا مطلب؟ تم تو ایم بی اے کررہی ہو ناں؟ میں نے کہا تھا کہ تمہیں ہلال کا آفس…‘‘ وہ اچھل پڑا اور وہ اطمینان سے آنکھیں موندے ہوئے لیٹی رہی۔
’’سال میں ایک بار کچھ پوچھیں گے تو یہی ہوگا۔‘‘
’’بہن بھائی کتنے آرام سے جھوٹ بول لیتے ہیں۔‘‘ اس نے جیسے داد دی۔ ’’سامنے والے کو تو پتا ہی نہیں چلتا۔‘‘ وہ جل گیا۔
’’سامنے والا اتنا سیدھا اور سادہ کیوں ہے؟ اسے چاہیے کہ زمانے کے چلن سیکھ لے۔‘‘
’’اعتبار بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‘‘ اسے واقعی ٹھیس پہنچی تھی۔
’’آپ نے بتایا نہیں کہ آپ کو مجھ پر اعتبار ہے۔‘‘ اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو بے حد قریب تھا اور اس کی اپنے رب سے دعا تھی کہ وہ کبھی اس سے دور نہ ہو بہت کچھ کھو کر اس نے اسے پایا تھا‘ اب اسے کھو دینے کاحوصلہ اس میں نہیں تھا۔
’’تم ایک کام کرو…‘‘
’’جی…‘‘
’’جتنے بھی جھٹکے دینے ہیں وہ آج کی رات دے لو اور بھی کچھ رہ گیا تو سوچ لو۔ میں اس رات کو اپنی سہاگ رات کے بجائے دھماکہ خیز رات کے طور پر ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ جس میں مجھے اتنے جھٹکے لگے کہ لمحہ لمحہ میری دنیا تہہ وبالا ہوئی۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولا۔
’’ایک بات ہے تو مگر…‘‘ وہ رکی اور ہچکچائی۔
’’کہہ دو… کہہ دو پلیز۔‘‘
’’وہ ابھی آپ کہہ رہے تھے کہ آپ چھوٹا سا ایک گھر مجھ کو دیں گے…‘‘ وہ رک کر اسے دیکھنے لگی۔
’’تو آپ نے شاید اس کی وڈیو نہیں دیکھی۔ وہ لکڑی کا ایک ہٹ ٹائپ گھر تھا‘ میں ایسے گھر میں نہیں رہ سکتی… پلیز یہی ٹھیک ہے۔‘‘ وہ یک دم مسکرایا۔
’’وہ تو بس میں تمہیں یہ بتارہا تھا کہ میری اوقات…‘‘
’’آپ مجھے ہمیشہ ٹارچر کریں گے یہ سب کہہ کہہ کر۔‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ گڑبڑایا اور وہ مسکراہٹ چھپا گئی۔
’’ایک بات میں بھی کہوں مگر…!‘‘ وہ اپنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھ چکا تھا اس کے اس ہاتھ میں امائم کا ہاتھ بھی دبا تھا۔
’’کہہ دیں…‘‘ وہ نظریں جھکا گئی۔
’’ابھی کچھ دیر پہلے تم نے مجھے رمشہ سے شادی کی آفر کی تھی…‘‘ وہ چونکی۔
’’ہاں… تو…؟‘‘ اس کے ماتھے پر بل پڑے۔
’’تو بس پوچھنا تھا کہ وہ آفر ابھی بھی قائم ہے کیا؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔
’’نہیں محدود مدت کے لیے تھی۔‘‘ وہ اسے گھور کے رہ گئی۔
’’بالکل… یہی انداز بھاتا ہے مجھے تمہارا۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’مجھے اپنی امائم شرماتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہے مگر ایسے دیکھتی ہوئی تو بہت خوبصورت…‘‘ وہ مسکرائی کتنا عجیب تھا اسے غصہ دلانا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ وہ آنکھیں بند کر گئی تھی۔
’’ایک بات اور ہے…‘‘ وہ رکا۔
’’اب وہ بھی کہہ دیں۔‘‘
’’اب تم ہلال اور بابا کو یاد کرکے اس طرح نہیں رونا کہ تمہارا تکیہ بھیگ جائے۔‘‘ اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں‘ کیا وہ اسے ہلال اور بابا کو یاد کرنے سے روک رہا تھا۔
’’میرا کندھا حاضر ہے۔‘‘ اس کی آنکھیں رو رو کر اتنی تھک گئیں تھیں کہ اب وہ نم نہ ہوسکیں۔ بس شدت گریہ سے سوجی سوجی، سرخ سرخ تھیں۔
’’اور پتا ہے یہ آفر لائف ٹائم ہے۔‘‘ اس نے ذرا جھک کر باری باری اس کی دونوں آنکھوں کو چوما تو اس کی جلتی ہوئی آنکھوں کو یکلخت قرار آگیا تھا۔
’’ایک بات کہوں؟‘‘
’’ہوں…‘‘ اس نے اسے اپنے مزید قریب کیا۔
’’رمشہ بہت ہرٹ ہوئی ہیں ناں…‘‘ وہ چونکا۔ ’’ان کا دل دکھا ہے ناں اگر انہوں نے میرے لیے بددعا کی تو…‘‘ وہ ہراساں سی ہوکر اسے دیکھنے لگی تو وہ لب بھینچے رہ گیا۔
’’ڈونٹ وری… میں اسے سمجھا دوں گا۔‘‘ وہ محض اس کا دل رکھنے کو بولا وگرنہ وہ بھی جانتا تھا رمشہ کا دل ٹوٹا ہے اور سمجھانا مشکل تھا۔
’’لیکن…‘‘
’’یہ ہماری تقدیر تھی امائم اور اس کے آگے ہم کٹھ پتلی ہیں اشاروں پر ناچنے والے‘ میں اسے ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر قسمت میں یہی لکھا تھا۔ بس دعا ہے کہ اسے بہت اچھا جیون ساتھی مل جائے جو اس کے دل سے ان ساری باتوں کو مٹادے۔‘‘
’’آمین…‘‘
’’ایک بات اور…‘‘
’’ہوں…‘‘
’’مزمل پر میں نے اتنا اعتبار کیا آپ کو لگا ہوگا کہ آپ سے بڑھ کر…‘‘
’’ایک منٹ… مزمل کا نام نہیں۔‘‘ وہ چونکی۔
’’مزمل میری غلطی ہے‘ نہ میں تم سے اتنا لاتعلق ہوتا نہ تمہیں اس پر اعتبار کرنا پڑتا‘ نہ ہی سمیر کو اتنی شہہ ملتی اور نہ ہی تمہیں مزمل کی مدد لینی پڑتی… میں ہرٹ ہوا ہوں مگر اس لیے کہ میں تمہاری ٹھیک سے حفاظت نہیں کرسکا… حقیقت تو یہ ہے کہ جو رول سارہ کی شادی میں مزمل نے پلے کیا وہ مجھے کرنا تھا۔ تمہارا محافظ مجھے بنایا گیا مگر میں…‘‘ وہ شرمندہ ہوا اور اسے افسوس‘ اس نے کیوں مزمل کی بات کی۔
’’لیکن جب ہلال آئے گا تو میں اسے محفوظ ہی ملوں گی ناں؟‘‘ اس نے اذان کا احساس جرم ختم کرنے کے لیا کہا۔
بابا کی طرف سے تو اسے صبر آہی جانا تھا کہ انہیں اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے سپرد خاک ہوتے دیکھا تھا لیکن ہلال کے لیے تو ہر لمحہ اس کی آنکھیں دروازے پر لگی رہتی تھیں۔
’’کیا پتہ ہلال واپس آجائے۔‘‘ یہ وہ بات تھی جو وہ اذان سے کہہ نہ سکی اور ایسا اس نے جان بوجھ کر کیا وہ ہلال کا انتظار کرتے رہنا چاہتی تھی‘ وہ اپنی یہ امید کبھی مرنے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اب ہلال کبھی واپس نہیں آسکتا اسے کبھی یقین نہیں آنا تھا۔
’’میری زندگی میں آنے کا شکریہ ہلال…‘‘ اذان جنید کبھی کسی سے اتنی محبت کرے گا اسے خود نہیں پتا تھا لیکن ہاں ہلال نے اس کی زندگی کو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا۔ وہ خوش رہنے لگا تھا اور دل سے خوش رہنے لگا تھا‘ اس کی سنگت میں۔ وہ امائم سے بے پناہ محبت بھی کرلے تب بھی اسے لگتا تھا کہ ہلال کی محبت ہمیشہ ایک قدم آگے رہے گی تبھی تو وہ امائم کو کومے میں چھوڑ کر کئی بار ہلال کی تلاش میں ہنزہ گیا تھا۔ فوجیوں نے کچھ سراغ لگائے تھے‘ کچھ گاڑیاں انتہائی تیز رفتاری کے باعث کھائی میں جاگری تھیں‘ ان میں سے ایک وہ جیپ بھی تھی جسے ہلال چلا رہا تھا‘ جیپ کی حالت سے اس کے ڈرائیور کا اندازہ ہوسکتا تھا۔ تاحد نگاہ پھیلی برف میں جیپ مکمل طور پر دھنس چکی تھی۔
اس کے باپ کو چار کندھے نہ مل سکے اور اس کے بھائی کو ڈھائی گز زمین… وہ برف کا دیوانہ برف کی چادر اوڑھے سو گیا لیکن وہ یہ بات امائم کو نہیں بتانا چاہتا تھا۔ وہ اس کی امید زندہ رکھنا چاہتا تھا۔
’’ہاں…‘‘ اس نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
ایک امید ہی تو ہے جو زندہ رکھتی ہے اور وہ امائم کی زندگی ہی چاہتا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close