Hijaab Apr 19

عشق نگر کے مسافر(قسط ۶)

ندا حسنین

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

ماریانہ اپنی ماں صوفیہ سے مل کر بے حد خوش ہوتی ہے اور اپنی محرومیوں کا تذکرہ کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی ہے ایسے میں صوفیہ اسے اپنے ماضی اور مجبوریوں سے آگاہ کرلیتں ماریانہ کو اپنی محبت کا یقین دلانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ ماریانہ یہ خوشی کی خبر اپنی دوست میا سے شیئر کرتی ہے کہ آج کل اس کا زیادہ وقت اپنی ماں صوفیہ کے ساتھ گزرتا ہے اور یہ وقت اس کے لیے بے حد حسین ہے۔ میا بھی اسے اپنی جاب اور ارسل سے لفٹ لینے والی بات بتا کر ہنسنے پر مجبور کردیتی ہے۔ صوفیہ کے گھر ارسل کی آمد ماریانہ کو حیران کردیتی ہے جب ہی وہ صوفیہ سے اس کی بابت سوال کرتی ہے، دوسری طرف صوفیہ بھی ان دونوں کی دوستی کے متعلق جاننا چاہتی ہیں۔ صوفیہ کے گھر ہونے والی یہ ملاقات ماریانہ اور ارسل کو ایک دوسرے کے مزید قریب کردیتی ہے۔ صوفیہ کو بھی ارسل کا منفرد انداز بے حد پسند آتا ہے۔ صبیحہ اور یاور بخت کے تعلقات بے حد کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ یاور بخت کی بے وفائی صبیحہ کو بے چین و بے قرار کیے رکھتی ہے۔ اس دکھ میں وہ بیمار پڑ جاتی ہیں تو یاور بخت کو ان کی حالت پر بے حد شرمندگی محسوس ہوتی ہے وہ صبیحہ سے معافی مانگتے ہیں اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کی بات کرتے ہیں جس پر صبیحہ نہایت مشتعل انداز میں ان کی محرومی کا تذکرہ کرتی ہیں۔ یاور بخت اپنی محرومی کو جاننے کے بعد عجیب کیفیات سے دوچار ہوتے ہیں اور اپنی بے وفائی تسلیم کرکے آئندہ صبیحہ کا بھرپور خیال رکھنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ صبیحہ ان کی باتوں کا مان رکھتے ہوئے انہیں معاف کردیتی ہیں۔ حماد شبنم کی سالگرہ کے موقع پر ماریہ کو بھی اپنے گھر مدعو کرنا چاہتا ہے اور بابا سے اجازت طلب کرتا ہے۔ وہ حماد کو بخوشی اجازت دے دیتے ہیں۔ خان اپنی بیوی رضیہ کو کام کے سلسلے میں بیگم صاحبہ سے ملواتا ہے تو وہ اس کی گود میں چھوٹی بچی کو دیکھ کر حیرت سے سوال کرتی ہیں رضیہ اس بچی کا نام شبنم بتاتی ہے اور اپنی نواسی کی حیثیت سے اس کا تعارف کراتی ہے

(اب آگے پڑھیے)

’’میں نے کچھ دن قبل خان سے کہا تھا کہ مجھے ایک قابل اعتبار‘ سمجھدار خاتون کی بطور مددگار ضرورت ہے۔ خان نے تمہارا ذکر کیا رضیہ۔ خان تو فیروز کے پاس کافی عرصے سے ڈرائیوری کررہا ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی‘ آنکھ بند کرکے بھروسہ کرتے ہیں خان پر‘ میں اُمید کرتی ہوں رضیہ‘ تم بھی ہمارے بھروسے کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤ گی۔‘‘ بیگم صاحبہ نے مسکراتے ہوئے رضیہ کو دیکھ کر کہا۔
’’آپ کا بھروسہ سر آنکھوں پر بیگم صاحبہ… ہم دونوں میاں بیوی آپ کے گھرانے کے ہمیشہ خاص وفادار رہیں گے‘ کبھی شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔‘‘ رضیہ نے خوش سے کہا۔ گھر کا ماحول اور بیگم صاحبہ کا رویہ‘ دونوں ہی اسے اچھے لگے۔ خان تو ویسے بھی ہمیشہ دونوں میاں بیوی کی خوب تعریف کرتا رہا تھا‘ یہاں آکر وہ بھی کافی مطمئن تھی۔
’’ہاں ایک بات اور رضیہ… تم مجھے بیگم صاحبہ نہیں‘ شاہینہ باجی کہو گی تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا‘ اب ایسا کرو اپنے کوارٹر میں جاکر آرام کرو۔ فی الوقت تو ایسا کوئی کام نہیں۔ شام میں فیروز آئیں گے تو پھر کچن کا رخ کرنا ہوگا اور تمہیں میرا ہاتھ بٹانا ہوگا۔‘‘ شاہینہ نے نومولود شبنم کو رضیہ کے حوالے کرتے ہوئے ساری بات سمجھائی۔ رضیہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی‘ کوارٹر کی طرف جانے لگی کہ شاہینہ کی اچانک پکار پر پلٹی۔
’’شبنم کو کسی ڈاکٹر وغیرہ کو دکھایا‘ اس کی ویکسی نیشن وغیرہ کروائی ہے رضیہ؟‘‘ شاہینہ نے متفکر انداز میں پوچھا۔
’’نہیں شاہینہ باجی‘ وہ جی بس موقع ہی نہیں ملا‘ بیٹی کی اچانک موت کا دھچکا اور پھر یہاں آگئے تو…‘‘ رضیہ نے بات بنائی۔ ویسے بھی ان لوگوں کی اتنی حیثیت ہی کہاں تھی کہ نومولود کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے۔
’’چلو ٹھیک ہے‘ فیروز آجائیں تو چلتے ہیں ڈاکٹر کے پاس۔‘‘ وہ پُرسوچ انداز میں بولیں۔ رضیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
شاہینہ اتنا کہہ کر اپنے کمرے کی جانب آگئیں جبکہ رضیہ کوارٹر میں آگئی۔ کوارٹر صاف ستھرا اور کشادہ تھا۔ ضرورت کی ہر چیز وہاں موجود تھی۔ وہ اللہ کا صد شکر ادا کرتی‘ وہاں موجود بستر پر بیٹھ گئی۔ شبنم کو آتے وقت وہ فیڈر پلاکر آئی تھی‘ اسی لیے وہ اب تک سکون سے سو رہی تھی۔ خود اس کے حواسوں پر بھی نیند سوار ہونے لگی تو وہ بھی وہیں بستر پر ڈھے گئی تھی۔
خ…ز…خ
کانفرنس ہال میں میٹنگ جاری تھی۔ اینا پاؤل کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے‘ جس میں اسے برانڈ ایمبسیڈر منتخب کرنے کا اعلان بھی کیا جانے والا تھا‘ کے انتظامات تقریباً مکمل تھے۔ آج کی میٹنگ میں ارسل کی زیر نگرانی تمام انتظامات کا مکمل جائزہ لیا گیا تھا۔ ارسل، پیڈرو اور اس کی ٹیم کے کام سے کافی خوش تھا اور آئندہ کے لائحہ عمل کو ترتیب دے رہا تھا۔ میٹنگ میں شامل سب ہی ارکان اس تقریب کے حوالے سے کافی پُرجوش تھے کیونکہ اینا پاؤل کا کمپنی کے لیے برانڈ ایمبیسیڈر بننا ان سب کی بہت بڑی کامیابی تھی۔
’’سینور… میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘ میا نے ارسل کو مخاطب کیا۔
’’جی میا…‘‘ پیڈرو سے گفتگو میں مصروف ارسل نے چونک کر میا کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
’’سینور… میرا خیال ہے کہ سوشل میڈیا پر ابھی تجسس برقرار رکھنا چاہیے ہماری برانڈ ایمبیسیڈر کے حوالے سے بلکہ کچھ ایسے کلپس بنائے جائیں جس میں ہمارے پروڈکٹس کا استعمال تو دکھایا جائے مگر استعمال کرنے والا پردے میں رہے۔ یوں لوگ مزید پُرتجسس رہیں گے۔‘‘ میا نے اپنے خیال کا اظہار کیا۔
وہ آج کچھ زیادہ ہی نک سک سے تیار ہوکر آفس آئی تھی۔ پیڈرو نے بڑی دلچسپی سے اس کی جانب دیکھا‘ آسمانی رنگ کے لباس میں ملبوس نٹ کھٹ اور نک چڑھی میا اسے اچھی لگی‘ جب سے اس نے آفس جوائن کیا تھا‘ اس کی اوّلین ترجیح ارسل تھا۔ وہ بہانے بہانے سے اس کے نزدیک جانے کی کوشش کرتی۔ اپنی باتوں میں ذہانت کا رنگ شامل کرکے اسے متاثر کرنے کی کوشش کرتی اور ان سب سے بھی بات نہیں بنتی تو اپنی اداؤں سے رجھانے کی کوشش کرتی۔ ارسل مزید چڑ جاتا اور اسے پیڈرو سے ہدایت لینے کی تلقین کرتا۔ وہ جلے بھنے انداز میں پیڈرو کے ماتحت کام کرتی اور پیڈرو اس کی دلی کیفیت سمجھتا‘ اس کی حالت سے خوب لطف اندوز ہوتا۔ اس کے چہرے پر پھیلی شریر سی مسکراہٹ اکثر میا کو بری طرح زچ کر دیتی تھی۔
’’میا… یہ بات تو پہلے ہی زیر غور آچکی ہے۔ آپ ایک کام کیجیے، ان آئیڈیاز پر کام کیجیے جن پر کلپس تیار کی جائیں۔ پیڈرو انہیں اپنی کرایٹو ٹیم میں شامل کرو۔ میں اس بار میا کی جانب سے بے حد پُرامید ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ کرایٹو ٹیم میں شامل ہوکر میا شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی۔‘‘ ارسل نے میا کو پہلی بار ذمہ داری سونپی تھی۔ وہ خوش ہوئی مگر پیڈرو کی ماتحتی میں پھر سے کام۔
’’یہ بھوری آنکھوں والا پیڈرو اپنی ذہانت و فراست پر کچھ زیادہ ہی گھمنڈ کرتا ہے‘ اس کا گھمنڈ تو توڑنا ہوگا میا‘ تب ہی اس کی جگہ لے سکو ںگی۔ اس کی جگہ ہی تمہیں ارسل کے قریب کرسکتی ہے… تمہیں اپنی ذہانت کا اس بار بہترین مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘‘ وہ دل ہی دل میں منصوبے بنا رہی تھی۔ اس کی سوچ اس کے پُرکشش چہرے سے عیاں تھی اور پیڈرو کی نگاہیں ہر تھوڑی دیر بعد اس کے چہرے کی طرف اٹھتیں اور اس کے لبوں پر شریر سی مسکراہٹ پھیل جاتی۔
’’سینور… یہ تقریب میں شامل مہمانوں کی فہرست۔‘‘ میٹنگ میں شامل ایک رکن نے ارسل کے دریافت کرنے پر فہرست اس کے سامنے پیش کی۔ ارسل نے ایک طائرانہ نگاہ اس فہرست پر ڈالی۔ یک دم ذہن میں ایک خیال کوندا۔
’’کیا اس فہرست میں کچھ ناموں کا مزید اضافہ ہوسکتا ہے؟‘‘
’’جی سر بالکل۔‘‘ اُس رکن نے جواب اثبات میں دیا۔
’’دعوت نامہ کب تک تیار ہوکر آجائے گا؟‘‘ ارسل نے اگلا سوال پیڈرو کی جانب دیکھتے ہوئے کیا۔
’’بس چند دنوں میں سینور۔‘‘ پیڈرو مؤدبانہ انداز میں گویا ہوا۔
’’چند دعوت نامے اینا پاؤل تک بھی پہنچا دینا۔ یقینا وہ بھی اپنے کچھ خاص لوگوں کو تقریب میں مدعو کرنے کی خواہش مند ہوگی اور چند ایک دعوت نامے میرے لیے بھی مختص رکھنا۔‘‘ میٹنگ کے اختتام پر ارسل نے پیڈرو کو خاص ہدایت کی تو بیڈرو نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
آج وہ آفس سے جلدی نکل آیا تھا۔ ماریانہ کے ساتھ شبنم کے تحائف کی خریداری کے لیے بازار جانا تھا۔ اس کے دل نے خواہش کی تھی کہ شبنم کے تحائف کی خریداری میں ماریانہ اس کی مدد کرے اور اس کی یہ خواہش کسی بن مانگی دعا کی طرح پوری ہوگئی تھی۔
خ…ز…خ
وہ مائنڈ ٹیکنالوجی کی بلند عمارت سے باہر نکلی تو سامنے ہی ارسل گاڑی کے دروازے سے پشت ٹکائے اس کا انتظار کررہا تھا۔ اسے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر وہ ہولے سے مسکرایا۔ ماریانہ بھی جواباً مسکراتے ہوئے اس کی جانب بڑھی۔
’’بیونس نو جیس (شام بخیر)۔‘‘ ماریانہ نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے رسمی کلمات ادا کیے۔
’’بین ونیرو (خوش آمدید)۔‘‘ ارسل نے ڈرائیونگ نشست سنبھالتے ہوئے رسمی کلمات کے ساتھ ماریانہ کا استقبال کیا۔
’’ویسے خریداری کے لیے کس بازار کا رخ کرنا ہے؟‘‘ ماریانہ نے اس کے سراپے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے استفسار کیا۔ وہ ڈارک بلیو شرٹ اور سرمئی ڈریس پینٹ میں ملبوس نہایت باوقار اور پُرکشش لگ رہا تھا۔ ماریانہ دل ہی دل میں اسے سراہے بنا نہ رہ سکی۔
’’کون سے بازار جانا ہے‘ کیا خریداری کرنی ہے‘ کس برانڈ کو مدنظر رکھنا ہے‘ ان تمام فیصلوں کا اختیار سینورا، آپ کو سونپا گیا ہے۔ میں تو بس آپ کا ساتھ دینے کے لیے یہاں موجود ہوں۔‘‘ ارسل نے اپنی گہری نگاہیں ماریانہ کے دلکش چہرے پر ٹکاتے ہوئے جواب دیا۔ وہ اس دن زرد لباس میں سنہرے رنگ کو مات دے رہی تھی تو آج گلابی میکسی میں گلاب کے حسن کو پھیکا کررہی تھی۔ ارسل چاہ کر بھی اس کے چہرے سے نگاہیں ہٹا نہ سکا۔
’’تو پھر گاربیرا چلتے ہیں‘ مجھے یقین ہے وہاں سے کی جانے والی خریداری آپ کو بے حد پسند آئے گی۔‘‘ ماریانہ نے پُرسوچ انداز میں اپنے خیال کا اظہار کیا اور ارسل نے گاڑی آگے بڑھائی۔
’’کہتے ہیں کسی بھی انسان کی شخصیت کا پڑنے والا پہلا تاثر آخری ہوتا ہے مگر آپ نے اپنا پہلا تاثر بہت خوب صورتی سے بدل ڈالا۔‘‘ ماریانہ نے گاڑی میں چھائی خاموشی کو توڑتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔ اس کی نگاہیں ارسل کے چہرے پر جمی تھیں۔ پہلی بار جب اس نے ارسل کو دیکھا تھا‘ تب اس کے چہرے پر تناؤ تھا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت کے سائے تھے اور لب بھینچے ہوئے تھے۔ گو کہ وہ ایک مہربان کی صورت اسے ملا تھا مگر جب اس نے ماریانہ کو اپنے ساتھ چلنے کا کہا تھا‘ تب اسے اس کے ساتھ سے‘ اس کی ذات سے خوف محسوس ہوا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات اس وقت بے حد عجیب تھے۔ ان تاثرات سے ماریانہ کو جو خوف اُس پل محسوس ہوا تھا‘ اس کا احساس آج بھی اس کے اندر باقی تھا۔
’’پہلا تاثر…؟ میں جاننا چاہوں گا اس تاثر کے بارے میں جو میں نے بے حد خوب صورتی سے تبدیل کر ڈالا۔‘‘ ارسل نے ایک نظر ماریانہ کو دیکھا اور دلچسپی سے سوال کیا۔
’’تاثر خوش گوار نہ تھا… جان کر کہیں برا نہ لگ جائے آپ کو۔‘‘ ماریانہ نے اس کی چہرے کے تاثرات کو بغور جانچتے ہوئے کہا۔
’’یعنی میری اُس دن‘ نیک نیتی سے مدد کرنے کی کوشش آپ کی نگاہوں میں میرا تاثر خراب کر گئی تھی؟‘‘ وہ اتنا جان کر ہی برا مان گیا۔ ایک خفگی سے بھرپور نگاہ ماریانہ کے چہرے کی نذر کرتا گویا ہوا۔
’’میں نے یہ تو نہیں کہا۔‘‘ ماریانہ جزبز ہوئی۔
’’مگر آپ کے الفاظ تو یہی کہہ رہے ہیں۔‘‘ خفگی ہنوز اس کے لہجے سے جھلک رہی تھی۔
’’ہوسکتا ہے لفظوں نے کچھ اور کہا ہو اور آپ نے کچھ اور سن لیا ہو۔‘‘ ماریانہ اسے دیکھتے ہوئے ذومعنی انداز میں گویا ہوئی۔
’’اچھا…! تو پھر ایسا کیا کہا تھا آپ کے لفظوں نے جو میں سمجھ نہ سکا۔‘‘ ارسل نے اس بار بھرپور نگاہوں سے ماریانہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کی نگاہوں سے خفگی کا عنصر غائب تھا اور شوخی جھلک رہی تھی۔ ماریانہ ارسل کی آنکھوں میں کھو سی گئی۔ ان چند ملاقاتوں میں اس نے اس شخص کی گہری سیاہ آنکھوں میں کئی رنگ دیکھے تھے۔ ان رنگوں میں کئی احساسات چھپے تھے‘ جو عیاں ہونے سے گریزاں تھے مگر چھپائے نہ چھپتے تھے مگر آج ارسل کی پُرشوخ نگاہیں پُراعتماد ماریانہ کو جزبز کر گئیں۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ آج پوچھے گی کہ اس رات اسے ان غنڈوں سے بچانے کے بعد بھی اس کے حواسوں پر وحشت کیوں طاری تھی۔ نہ تو وہ غنڈے لوٹ کے آئے تھے‘ نہ ہی مزید کوئی پریشانی کی بات مزید واقع ہوئی تھی‘ پھر وہ کس بات سے اس حد تک خوف زدہ تھا کہ مہربانی کا ارادہ رکھنے کے باوجود وہ اس کے ساتھ بے حد تلخ و کرخت رویہ اختیار کیے ہوئے تھا۔
’’لگتا ہے شاید آپ بھی اپنے لفظوں کی زبان سمجھ نہیں پائیں‘ تب ہی کھو سی گئی ہیں۔‘‘ اس کی نیلی آنکھوں میں براہ راست جھانکتے ہوئے اس نے کہا۔ اس کی بات پر ماریانہ چونکی اور بے ساختہ نظریں چرا گئی۔ گاڑی گاربیرا کے سامنے آرکی تھی۔ ارسل‘ ماریانہ کی ہمراہی میں مال کے اندر داخل ہوا۔
’’آپ یقینا یہاں پہلی مرتبہ آئے ہوں گے۔‘‘
’’بالکل‘ پہلی مرتبہ۔‘‘ اس نے اس تین لفظی جملے کو بے حد ٹھہر ٹھہر کر ادا کیا۔ اس کی نگاہیں مال کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔ آج جس لڑکی کی رفاقت میں وہ یہاں مال میں آیا تھا‘ پچھلی مرتبہ اسی لڑکی کے تعاقب میں یہاں موجود تھا۔
’’آپ کی بہن کا نام کیا ہے؟‘‘ ماریانہ نے ملبوسات کی ایک دکان میں داخل ہوتے ہوئے اچانک پوچھا۔
’’شبنم…!‘‘ ارسل ایک سفید رنگ کی میکسی کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’بہت منفرد نام ہے۔‘‘ ماریانہ بھی نام کو سراہتے ہوئے اس میکسی کی جانب متوجہ ہوئی۔ ارسل نے اس توصیف کے جواب میں فقط مسکرانے پر اکتفا کیا۔
’’بہت خوب صورت میکسی ہے۔ میں نے شبنم کو دیکھا تو نہیں مگر پھر بھی کہہ سکتی ہوں کہ یہ لباس اس پر خوب جچے گا۔‘‘ ماریانہ ایک لیموں کے کلر کی میکسی اُٹھا لائی اور توصیفانہ نگاہوں سے اس لباس کو دیکھتے ہوئے اپنی رائے دی۔
’’میکسی تو بلاشبہ بے حد خوب صورت ہے مگر شبنم کو دیکھے بنا یہ دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ یہ لباس اس پر خوب جچے گا۔‘‘ ارسل نے لباس اس کے ہاتھوں سے تھامتے ہوئے دلچسپ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’جب بھائی اتنا شاندار ہے تو بہن بھی کچھ کم تو نہ ہوگی۔‘‘ ماریانہ نے ہنستے ہوئے دلیل دی۔ ارسل اس کی دلیل پر بے ساختہ ہنس دیا۔
’’آپ کے اس بیان کو میں درپردہ اپنی تعریف سمجھوں؟‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’چلیں اس درپردہ تعریف کی وجہ سے آپ ہنسے تو سہی۔‘‘ ماریانہ کی نگاہیں اس کے رخسار پر پڑنے والے بھنور میں جا اُلجھیں۔ ماریانہ کی بات سن کر ارسل کی ہنسی اگلے ہی لمحے تھم گئی۔ اس کے چہرے کا رنگ لمحہ بھر کے لیے متغیر ہوا مگر فوراً سے پیشتر وہ سنبھل گیا۔ ماریانہ کی گہری نگاہوں سے وہ لمحہ چھپ نہ سکا‘ جس میں ارسل کی ذہنی حالت انتہائی مختصر دورانیے کے لیے ہی سہی مگر بدلی ضرور تھی اور اس کا اثر اتنا گہرا تھا کہ اس کے چہرے پر بھی چند ثانیے کے لیے انتہائی مدھم نقوش چھوڑ گیا تھا۔ ماریانہ کی متلاشی نگاہوں نے وہ لمحہ کھوج لیا تھا۔ اتنا تو وہ جان چکی تھی کہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ارسل کی ذات سے جڑی ہے جو اس کی خواہش کے باوجود مکمل طور پر اسے خوش نہیں ہونے دیتی۔
’’کچھ تو بات ہے تم میں ارسل جو مجھے تمہاری جانب کھینچتی ہے۔ شاید تمہاری ذات کے بھید ہیں جو مجھے آواز دیتے ہیں‘ پکارتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں کھوج لوں اور میں کھوج لوں گی تمہاری ذات کے سارے راز ارسل… میں تمہیں کھوج لوں گی۔‘‘
ارسل میکسی کی قیمت ادا کرکے دکان سے باہر نکل آیا‘ ماریانہ اس کی ہمراہی میں قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے خود سے عہد میں مشغول تھی۔ ارسل نے کچھ کہنے کے لیے اچانک اس کی جانب رخ پھیرا مگر اسے خیالوں کے سمندر میں ڈوبا دیکھ کر بے ساختہ مسکرا اُٹھا۔
’’پاگل سی گلابی لڑکی… کاش اتنی بے نیازی سے کبھی تم مجھے بھی سوچو۔‘‘ وہ ماریانہ کے خیالوں سے بے خبر تھا۔ اس کے دل میں اچانک یہ ننھی سی خواہش جاگی تھی۔
خ…ز…خ
’’سردیوں کی خنک راتوں کو مزیدار بنانے کے لیے آگئی ہیں گرما گرم‘ سوندھی سوندھی خوشبوؤں والی مونگ پھلیاں۔‘‘ دیوار پر نصب اسکرین پر انگریزی ایکشن مووی چل رہی تھی‘ جس کے ایک منظر میں ٹام کروز ایک قدرے اونچی عمارت سے ٹارزن کی طرح چھلانگ لگتا ہوا ولن کو اپنے آہنی بازو میں جکڑنے والا ہی تھا کہ شبنم کے بہ آواز بلند اعلان نے لاؤنج میں بیٹھے حماد اور فیروز حسن کا ارتکاز توڑ ڈالا۔
’’واہ بھئی، مزہ آگیا۔ شبنم تم نے بھونی ہیں مونگ پھلیاں؟‘‘ فیروز حسن سب سے پہلے شبنم سے مخاطب ہوئے۔ انہیں سرما کی سرد راتوں میں مونگ پھلیاں کھانا بے حد پسند تھا۔
’’نہیں بابا جانی… اماں بی نے بھونی ہیں۔ میں تو بس آپ سب کے ساتھ مل کر انہیں کھانے کے لیے یہاں موجود ہوں۔‘‘ شبنم نے شرارت سے کہا تو فیروز حسن اس کی بات پر مسکرا اُٹھے۔
’’کچھ تم بھی سیکھ لو اماں بی سے… تمہارے ہی کام آئے گا۔‘‘ حماد صوفے سے اتر کر کاؤچ پر آبیٹھا۔ ایک ہلکی سی چپت شبنم کے سر پر لگائی اور مونگ پھلیوں سے بھری رکابی میں سے مونگ پھلی نکال کر چھیلتے ہوئے شبنم کو چھیڑا۔ شبنم نے اس بے وقت کی چپت پر اسے گھور کر دیکھا اور پھر پٹر پٹر بولنا شروع کیا۔
’’حماد بھائی‘ اس کی آپ فکر نہ کریں… جو کام مجھے کرنا ہے‘ وہ میں سیکھی سیکھائی پیدا ہوئی ہوں۔ جیسے کام اماں بی کرتی ہیں ناں‘ ویسے کام کرنے کا شوق مجھے بالکل بھی نہیں۔‘‘ ہمیشہ کی طرح شبنم آج بھی اپنی ترنگ میں بنا سوچے سمجھے بولے گئی۔ قہوے کی پیالیاں ٹرے میں سجائے لاؤنج میں داخل ہوتیں رضیہ بی بی‘ شبنم کی بات سن کر وہیں ٹھٹھک کر رک گئیں۔
’’جو کام شوق سے کیے جاتے ہیں اُن کا پیمانہ کچھ اور ہوتا ہے۔ اماں بی جیسی محنت‘ مشقت شوق نہیں‘ مجبوری اور ضرورت کرواتی ہے۔ ویسے وہ کون سے کام ہیں جو تم سیکھی سیکھائی پیدا ہوئی ہو؟‘‘ حماد کو شبنم کا انداز اچھا نہیں لگا۔
اس کی بات پر چونکے تو فیروز حسن بھی تھے مگر جب حماد اسے سنجیدگی سے سمجھانے لگا تو وہ خاموشی سے مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے ان کی باتیں سننے لگے۔ حماد کا شبنم سے پوچھا گیا سوال دلچسپ تھا‘ اس کا جواب وہ بھی سننا چاہتے تھے اور دروازے پر ٹرے اُٹھائے کھڑی رضیہ بی بی بھی۔
’’ارے… وہ تو وقت آنے پر پتا چلے گا ناں آپ لوگوں کو… ابھی سے کیوں سرپرائز خراب کروں۔‘‘ شبنم نے اپنے ازلی لاپروا انداز میں کہا تو دروازے پر کھڑی رضیہ بی بی نے اس کی عقل پر خوب ماتم کیا۔ فیروز حسن نے ایک گہری نگاہ شبنم کے سادہ سے حلیے اور چہرے پر ڈالی اور پھر نگاہوں کا زاویہ بدلا۔ نگاہوں کا زاویہ بدلا تو سامنے رضیہ بی بی ٹرے اُٹھائے کھڑی نظر آئیں۔ وہ ان کے چہرے پر چھائے گمبھیر تاثرات جانچ کر ساری بات سمجھ گئے۔
’’آجائیں رضیہ بی بی… قہوہ سب کو بعد میں پلائیے گا پہلے مونگ پھلیاں تو کھالیں۔‘‘ وہ انہیں ہلکے پھلکے انداز میں مخاطب کرتے ہوئے بولے۔
رضیہ بی بی ان کی بات پر سر اثبات میں ہلاتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئیں۔ حماد نے ان کے ہاتھوں سے ٹرے لی اور میز پر رکھ دی۔
’’شبنم اُٹھو… اور قہوہ دو سب کو۔‘‘ رضیہ بی بی نے حکمیہ انداز میں اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’اماں بی‘ پہلے مونگ پھلیاں تو کھالینے دیں‘ پھر کردوں گی سرو سب کو قہوہ۔‘‘ شبنم نے منہ بناکر جواب دیا اور ساتھ ہی مونگ پھلیاں چھیلنے لگی۔
’’شبنم…!‘‘ رضیہ بی بی نے اس بار پُررعب انداز میں اسے پکارا تو اس نے چونک کر رضیہ بی بی کو دیکھا۔
’’جو کام پہلے کہا ہے‘ وہ کام کرو۔ بڑے صاحب اور چھوٹے صاحب کو قہوہ پیش کرو۔‘‘ رضیہ بی بی بے لچک لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’چھوٹے صاحب‘ بڑے صاحب…! اماں بی‘ پہلے تو آپ نے بابا جانی اور بھائی کو صاحب بولنے کا نہیں کہا‘ پھر آج کیوں؟‘‘ شبنم ٹھٹکی اور اپنی حیرت کا اظہار کیے بناء رہ نہ پائی۔ ان دونوں کی گفتگو فیروز حسن اور حماد بھی بغور سن رہے تھے۔ حماد نے کچھ کہنا چاہا مگر فیروز حسن نے اشارے سے اسے کچھ بھی کہنے سے روک دیا۔
’’کیونکہ آج تمہیں یاد دلانے کی ضرورت پڑگئی ہے کہ یہ ہمارے صاحب ہیں۔ میری طرح تمہیں بھی ان کی عزت و احترام کو عزیز رکھنا ہے۔ یہ ان کی محبت‘ خلوص‘ اعلا ظرفی ہے جو ہمیں خادم نہیں گردانتے‘ گھر کے افراد کا درجہ دے رکھا ہے لیکن بہت دنوں سے دیکھ رہی ہوں بیٹا کہ تم اپنی اوقات بھولتی جارہی ہو۔ آج تمہاری باتیں سن کر دل چاہا کہ تمہیں یاد دلا ہی دوں کہ میں اور تم کیا حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘ رضیہ بی بی نے کاٹ دار لہجے میں شبنم کو فرضی و خیالی دُنیا سے باہر نکال کر زمین پر لاپٹخا۔ شبنم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ زندگی میں پہلی بار وہ اہانت کے احساس سے روشناس ہوئی تھی۔ لفظ اتنے تلخ نہ تھے جتنا اماں بی کا لہجہ تلخ تھا۔ وہ برداشت نہ کرسکی۔ دوپٹے سے آنسو پونچھتی ہوئی وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی۔
’’اماں بی… آپ نے ایسی باتیں کیوں کہیں آج شبنم سے‘ آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ میں اور بابا جانی آپ کو اور شبنم کو کبھی بھی گھر کے ملازم کا درجہ نہیں دیتے‘ پھر اس طرح کیسے سوچ لیا آپ نے اور ضرورت کیا تھی شبنم سے یہ سب کچھ کہہ کر اس کا دل دُکھانے کی؟‘‘ شبنم کے وہاں سے جاتے ہی حماد‘ رضیہ بی بی پر برس پڑا۔
’’حماد صحیح کہہ رہا ہے رضیہ بی بی… آپ کو یہ سب باتیں کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہمارے خلوص و محبت میں کہاں کمی دیکھی جو بے کار میں اس معصوم کا دل دُکھا دیا۔‘‘ فیروز حسن بھی اپنی ناراضی جتائے بناء نہ رہ سکے۔
’’صاحب… ضروری تھا‘ بے حد ضروری تھا۔ شبنم میں بہت عجیب سی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ وہ ہر وقت فضول خیالوں‘ خوابوں میں کھوئی رہتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں کہ اس معاشرے میں اس کی کیا حیثیت ہے‘ کیا پہچان ہے اور جب کوئی اپنی حیثیت‘ اپنی پہچان کو بھلا کر جینے کی کوشش کرتا ہے تو صرف زمانے کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ شبنم بہت لااُبالی لڑکی ہے۔ اسے زمانے کی کچھ خبر نہیں۔ میں نہیں چاہتی صاحب کہ وہ کوئی ٹھوکر کھائے۔‘‘ رضیہ بی بی نے نم لہجے میں اپنے کٹیلے لہجے کی وضاحت دی۔
’’پھر بھی اماں بی… یہ ساری باتیں آپ اسے پیار سے بھی سمجھا سکتی تھیں۔ اتنا تلخ لہجہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کی سختی سے اس کی لااُبالی فطرت میں ٹھہراؤ آسکتا ہے؟ نہیں اماں بی‘ اس طرح تو وہ مزید ضدی ہوتی چلی جائے گی۔ آپ جانتی تو ہیں اس کے مزاج میں جذباتیت کس حد تک غالب ہے۔‘‘ حماد نے اماں بی کی فکر کو سمجھتے ہوئے انہیں رسان سے سمجھایا۔
’’پھر میں کس طرح سمجھاؤں اسے‘ تم ہی بتاؤ بیٹا جی۔ تم نہیں جانتے‘ وہ آج کل سارا دن آئینے کے سامنے کھڑی خود سے باتیں کرتی رہتی ہے۔ نہ جانے کیا کیا الٹے سیدھے منصوبے بناتی رہتی ہے اور تو اور آپ سے مہنگے موبائل کی فرمائش بھی کرچکی۔ ارسل بیٹے سے بھی نہ جانے کیا کچھ منگوایا ہے۔ شبنم پہلے ایسی نہیں تھی بیٹا‘ مگر نہ جانے کیوں اسے اب ان مادّی چیزوں کی ہوس ہوتی جارہی ہے۔ اس کے یہ انداز و اطوار مجھے اندر ہی اندر ہولا رہے ہیں حماد۔‘‘ رضیہ خدشات کا شکار ہورہی تھیں۔ حماد کو ان کے اندیشے کافی حد تک درست محسوس ہوئے تھے۔ کچھ عرصے سے وہ بھی شبنم میں رونما ہونے والی تبدیلیاں محسوس کررہا تھا۔
شبنم چلبلی‘ شرارتی تھی مگر خود غرض نہیں تھی۔ زمانے کی ہوا اسے نہیں لگی تھی۔ اس گھر کے لوگ ہی اس کی کل کائنات تھے۔ وہ ان سب سے بے حد محبت کرتی تھی۔ محبتوں کے مقابلے میں وہ ہمیشہ سے بے حد جذباتی رہی تھی مگر کچھ عرصے سے وہ بھی محسوس کررہا تھا کہ شبنم کی شوخیوں میں غرور کا رنگ گھلنے لگا ہے۔ اس کی باتوں میں ضد شامل ہوتی جارہی ہے‘ خاص طور پر وہ اماں بی کی نصیحتوں کو ناک سے مکھی کی طرح اُڑا ڈالتی ہے۔ وہ صاف گو ضرور تھی مگر اب منہ پھٹ ہوتی جارہی تھی۔ وہ ان باتوں کو محسوس کرنے کے باوجود بھی نظر انداز کرتا رہا… مگر آج اماں بی کی باتوں نے اسے بھی شبنم کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔
’’وہ پہلے ایسی نہیں تھی بیٹا جی… پہلے وہ صاحب جی کی‘ آپ کی عزت کیا کرتی تھی‘ احترام کیا کرتی تھی‘ مگر اب عزت و احترام کے ساتھ ساتھ برابری بھی کرنے لگی ہے۔ پالنے والے سے برابری کون کرتا ہے صاحب جی… رزق دینے والی ذات اللہ کی ہے‘ اسی نے وسیلہ بنایا آپ کو‘ ہمارا سہارا بنایا آپ کو‘ سہارا دینے والے کا مقابلہ کرنا تو بدبختی کی علامت ہے بیٹا جی۔ وہ سہانے خواب دیکھے‘ یہ منظور ہے مگر اونچے اونچے خواب دیکھنا‘ بعد میں اسے بے حد تکلیف دے گا۔‘‘ رضیہ بی بی کہتی رہیں جبکہ حماد سر جھکائے بغور انہیں سنتا رہا۔ دفعتاً اس کا موبائل بج اُٹھا۔ کال فاریہ کی تھی۔ وہ معذرت کرتا ہوا‘ وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ حماد کے جانے کے بعد رضیہ بی بی نے ایک نظر فیروز حسن کو دیکھا۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہے تھے۔ رضیہ بی بی نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور دوپٹے سے آنسو صاف کرتی وہاں سے اُٹھ کر جانے لگیں۔
’’ٹھہریے رضیہ بی بی…‘‘ کب سے خاموش بیٹھے فیروز حسن یک دم اُن سے مخاطب ہوئے۔ رضیہ کے بڑھتے قدم وہیں تھم گئے۔ انہوں نے تھکے تھکے انداز میں پلٹ کر فیروز حسن کی جانب دیکھا اور آہستگی سے گویا ہوئیں۔
’’جی صاحب جی۔‘‘
’’بیٹھ جائیے۔‘‘ فیروز حسن نے انہیں سامنے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’اب اطمینان سے بتائیے کہ کیا صرف یہی بات ہے جو آپ اس قدر پریشان ہیں یا کوئی اور بھی بات ہے؟‘‘ فیروز حسن نے ان کے چہرے پر چھائے تفکر کا بغور جائزہ لیتے ہوئے دریافت کیا۔
’’صاحب جی‘ میں نے شبنم کو جنم نہیں دیا مگر ماں بن کر پالا ضرور ہے۔ اس دُنیا میں مجھ سے زیادہ اسے کوئی نہیں جان سکتا۔ اس کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ اس کی ذہنی رُو نامحسوس انداز میں بھٹک رہی ہے۔ وہ مقابلے اور برابری کی باتیں کرنے لگی ہے۔ نہ جانے کس طرح کی پہچان بنانے کی کوشش کررہی ہے وہ۔‘‘ رضیہ بی بی پریشانی کے عالم میں جو کچھ محسوس کرچکی تھیں، بتانے لگیں۔
’’رضیہ بی بی‘ آپ کچھ زیادہ ہی محسوس کررہی ہیں۔ آپ جو بھی باتیں بتارہی ہیں‘ وہ صرف آپ کے اندیشے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اگر شبنم اس گھر کے لوگوں کے برابر خود کو سمجھتی ہے تو یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ میں تو خود یہ چاہتا ہوں کہ آپ اور شبنم خود کو اس گھر کا فرد سمجھیں۔ میں نے اور میرے بچوں نے آپ دونوں کو کبھی اس گھر سے الگ نہیں سمجھا۔ شاہینہ کے چلے جانے کے بعد آپ نے اس گھر کو‘ میرے بچوں کو جس طرح اپنی محبت سے سنبھالا ہے‘ اپنے فرائض جس ذمہ داری‘ دیانت اور وفاداری سے پورے کیے ہیں‘ ان سب باتوں کے بعد تو آپ کا حق اور ہمارا فرض بنتا ہے کہ آپ کو یہ عزت اور احترام دیں۔ ویسے بھی آپ بخوبی جانتی ہیں کہ شبنم کے حوالے سے جن دو ہستیوں سے میں نے وعدے کر رکھے ہیں‘ وہ مجھے کتنے عزیز ہیں۔‘‘ فیروز حسن نرم لہجے میں انہیں اپنی بات سمجھاتے سمجھاتے لحظہ بھر کو رُکے۔
رضیہ بی بی کے خاموش چہرے پر ایک نگاہ کی اور پھر اپنی بات کا آغاز وہیں سے کیا‘ جہاں سے سلسلہ منقطع کیا تھا۔
’’آپ اتنے اندیشے نہ پالیں رضیہ بی بی۔ شبنم مکمل طور پر میری ذمہ داری ہے اور میں لمحہ بھر کو بھی اپنی ذمہ داری سے کوتاہی نہیں برتوں گا۔ شبنم کو میں تعلیم دلوا رہا ہوں تو یقینا میں نے اس کے مستقبل کے لیے بہت کچھ سوچ رکھا ہوگا۔ پھر بھی آپ کی تسلی کے لیے میں چند ایک دنوں میں شبنم کو اپنے پاس بلا کر سمجھاؤں گا‘ اس سے دریافت کروں گا کہ وہ زندگی میں کیا کرنا چاہتی ہے۔ آپ تسلی رکھیں‘ مجھ پر اعتبار کریں اور خود کو ان بے کار کے اندیشوں سے دُور رکھیں۔‘‘ فیروز حسن متانت سے انہیں سمجھا رہے تھے۔ اپنی بات مکمل کرکے وہ خاموش ہوگئے مگر رضیہ بی بی ہنوز تفکرات میں گھری رہیں۔
’’ایسی بات نہیں ہے صاحب جی… مگر نہ جانے کیوں اب جب بھی میں شبنم کی جانب دیکھتی ہوں‘ میرا دل خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ ایک ہی ڈر ہے‘ جو مجھے ہولائے رکھتا ہے۔‘‘ رضیہ بی بی عجیب سی کیفیت کا شکار تھیں۔
’’کیسا ڈر رضیہ بی بی…؟‘‘ فیروز حسن پوچھے بنا نہ رہ سکے۔
’’شبنم کا ماضی پہلے ہی اس گھر کی‘ ہم سب کی خوشیوں کو نگل چکا ہے۔ کہیں اس کا حال اس گھر پر پھر سے نحوست کا باعث نہ بنے۔‘‘ رضیہ بی بی میکانکی انداز میں گویا ہوئیں۔ فیروز حسن اُن کی بات سن کر ششدر رہ گئے تھے۔
خ…ز…خ
’’کیا حال ہے جناب کا…‘‘ حماد گھر کے باغیچے میں چہل قدمی کرتے ہوئے موبائل کان سے لگائے فاریہ سے بات کرنے میں مشغول تھا۔
’’حال، الحمدللہ بہت اچھا ہے۔ آپ جناب اپنے احوال سنائیں۔‘‘ فاریہ بھی خوش گوار موڈ میں گویا ہوئی۔ چند دن قبل شبنم کے تحفے کی خریداری کے موقع پر ہونے والی خفگی کا شائبہ بھی اب ان دونوں کے لہجے میں نہیں تھا۔ حماد کی یہی عادت تو فاریہ کو پسند تھی کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو طول نہیں دیتا تھا۔ جو بات جہاں ہوئی‘ وہیں ختم کردی۔ اگلے دن فاریہ نے اپنے لہجے اور لفظوں کی کڑواہٹ پر اس سے معذرت کرلی تھی تو وہ بھی بات وہیں ختم کرچکا تھا۔
’’حال تو ہمارا ہمیشہ کی طرح شاندار ہے۔ ویسے کیا بات ہے آج تم بہت خوش دکھائی دے رہی ہو۔ لگتا ہے کوئی خاص بات ہے۔‘‘ وہ اس کے لہجے کی شوخی کو محسوس کرتے ہوئے استفسار کرنے لگا۔
’’بالکل صحیح جانا آپ نے‘ بات تو خاص ہے بہت۔‘‘ فاریہ نے چہکتے ہوئے کہا۔ وہ اس وقت اپنے کمرے سے منسلک گیلری لکڑی کے بڑے سے جھولے میں بیٹھی تھی۔
’’اچھا… ایسی کیا خاص بات ہے جو مسکراہٹ تمہارے لبوں سے نہیں ہٹ رہی؟‘‘ اس نے اسے تصور میں دیکھتا ہوئے پوچھا۔
’’تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں مسکرارہی ہوں۔‘‘ فاریہ حیران ہوئی۔
’’کیونکہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں… تمہارے بال کھلے ہیں اور سمندر کی نم ہوائیں ان سے اٹکھیلیاں کررہی ہیں اور تم مسکرا رہی ہو مگر تمہاری آنکھوں میں تحیر پھیلا ہے۔‘‘ وہ آنکھیں موندے اسے اپنے خیالوں میں دیکھ رہا تھا اور جیسی وہ اسے نظر آرہی ہو‘ ویسی ہی تفصیل وہ بڑے ہی رومانوی انداز میں اسے سنا رہا تھا۔
’’سچ بتاؤ حماد… تم اس وقت کہاں ہو‘ کہاں سے دیکھ رہے ہو مجھے تم… جلدی بتاؤ۔‘‘ فاریہ ہڑبڑا کر جھولے سے اُتر کر گیلری کے ریلنگ سے بے قراری کے عالم میں جھانکنے لگی مگر باہر کوئی نہ تھا‘ بس تھوڑی سی دُور سمندر پرسکون سا نظر آرہا تھا۔
’’میں اپنے گھر میں ہی ہوں فاریہ۔ تمہیں دیکھنے کے لیے بس مجھے اپنی آنکھیں بند کرنا ہوتی ہیں اور تم سامنے ہنستی مسکراتی آجاتی ہو۔‘‘ حماد کے لہجے میں چاہت ہی چاہت تھی۔ فاریہ اس کی چاہتوں کی بارش میں بھیگتی ہوئی سرشار سی واپس جھولے میں آبیٹھی۔ تب ہی عقب سے آتی آواز نے فاریہ کو بے ساختہ پیچھے پلٹنے پر مجبور کردیا۔ ملازمہ دادی کا پیغام لے کر آئی تھی۔
’’اوہ… دادی!‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’کیا دادی… کم آن یار‘ میری اتنی خوب صورت باتوں کے جواب میں کم از کم دادی تو نہ کہو۔ اللہ کی قسم آج تک کسی دادی نے اپنی پوتی سے یوں رومانوی انداز میں گفتگو نہ کی ہوگی۔ نہ جانے میں کیوں تمہیں دادی‘ دادی سا محسوس ہورہا ہوں۔‘‘ حماد نے فاریہ کے دادی کہنے پر ٹھیک ٹھاک برا مانتے ہوئے کہا۔
’’اوہو حماد… میں تم سے کچھ دیر بعد، بات کرتی ہوں۔ دادی مجھے بلا رہی ہیں۔‘‘ فاریہ نے جلدبازی میں کہتے ہوئے کال منقطع کردی۔
’’اف… یہ تمہاری دادی بھی کبھی تسلی سے بات نہیں کرنے دیتیں۔‘‘ وہ منہ ہی منہ میں بدبداتا ہوا‘ موبائل کی اسکرین پر جھلملاتی ہوئی فاریہ کی تصویر کو گھورتا ہوا اندر جانے کو مڑا ہی تھا کہ اسے کسی کی سسکیوں کی مدھم آواز سنائی دی۔ اس نے اس سمت نگاہ کی تو دور ایک ہیولا اندھیرے میں بیٹھا دکھائی دیا۔ وہ بخوبی جان چکا تھا کہ یہ ہیولا کس کا ہوسکتا ہے۔
’’اتنی ہچکیوں کے ساتھ ساتھ بلک بلک کر رونے کی وجہ جان سکتا ہوں چھوٹی؟‘‘ وہ اس کے ساتھ آبیٹھا اور اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔ شبنم نے پہلے چونک کر حماد کی جانب دیکھا اور پھر ناراضی سے منہ پھیر لیا۔
’’اف… اتنی ناراض ہے میری بہن کہ بات کا جواب دینا بھی گوارا نہیں بھائی کو۔‘‘ حماد نے اس کے اس انداز پر اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔
’’نہیں ہوں میں آپ کی کوئی بہن‘ نہ ہی آپ میرے بھائی ہیں۔‘‘ شبنم نے خفگی سے کہا۔
’’اچھا… میں بھائی نہیں ہوں‘ تم بہن نہیں ہو‘ پھر کیا رشتہ ہے ہم دونوں کا‘ خود بتادو۔‘‘ اس نے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ چھوٹے صاحب ہیں اور میں آپ کے گھر کی ملازمہ۔ بس یہی رشتہ ہے ہمارا۔‘‘ وہ منہ پھلائے آنسو بہاتی‘ ہچکیوں کے درمیان روتی ہوئی بولی۔ حماد کی بے اختیار ہنسی چھوٹی اس کے اندازِ شکوہ پر۔
’’ہاں ہنسیے ہنسیے… آپ بھی ہنسیے… یہی کسر رہ گئی تھی کہ اس گھر کے لوگ اب شبنم پر ہنسیں۔‘‘ شبنم چہکوں پہکوں رونا شروع ہوگئی۔ حماد نے بہ مشکل اپنی ہنسی روکی مگر شبنم کو رونے سے نہ روکا۔ وہ چھم چھم اشک بہاتی رہی اور ہر تھوڑی دیر بعد کن اکھیوں سے حماد کے چہرے کو دیکھتی اور پھر خوب زوروشور سے رونا دھونا شروع کردیتی۔ حماد بڑی دلچسپی سے لبوں پر مسکراہٹ سجائے‘ چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالوں میں ٹکائے اس کے رونے دھونے کے شغل کو ملاحظہ کررہا تھا۔
’’ویسے ایک راز کی بات بتاؤں تمہیں شبنم…‘‘ بہت دیر تک رونے دھونے کا مشغلہ جاری رہا تو حماد نے انتہائی دوستانہ انداز میں اسے ٹوکا۔ شبنم رونا دھونا بھول کر حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔
’’کون سی راز کی بات؟‘‘
’’تمہارا نام اماں بی نے بالکل ٹھیک رکھا ہے۔ شبنم…! بالکل اداکارہ شبنم کی طرح بھرپور جذباتی اداکاری کرتی ہو تم۔‘‘ حماد نے اس کے رونے دھونے کی جانب اشارہ کیا مگر شبنم نے اسے کسی اور ہی پیرائے میں لیا۔
’’ہائے واقعی… میں بہت اچھی اداکاری کرتی ہوں۔‘‘ وہ خوشی سے چہک اُٹھی۔ رونے دھونے کا مشغلہ ترک کردیا۔
’’ہاں بہت اچھی اداکاری… آسکر ایوارڈ وِننگ اداکاری ہوتی ہے تمہاری۔‘‘ حماد اس سے اب چھیڑخانی کررہا تھا۔
’’ہائے سچی حماد بھائی… مگر آپ کو کیسے علم ہوا؟‘‘ شبنم اس کے ہر بیان کو سچ سمجھ کر خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔
’’دیکھی ہے ناں یار میں نے تمہاری اداکاریاں… واہ مان گیا میں تو… بے مثل اداکارہ ہو تم۔‘‘ حماد اسے عرش پر چڑھا رہا تھا۔
’’حماد بھائی، مجھے پتا تھا… مجھے پتا تھا کہ ایک آپ ہی ہیں جو میری صلاحیتوں کے معترف ہوسکتے ہیں۔ آپ ہی ہیں وہ گوہر شناس جو ہیرے کی پہچان رکھتے ہیں۔‘‘ وہ خیالی تصور میں کھوئی پُرجوش لہجے میں کہہ رہی تھی۔ حماد‘ جو اب تک اس سے مذاق کررہا تھا‘ اس کے اندازو کیفیت اور باتوں پر بری طرح ٹھٹھکا۔ کچھ نیا تھا شبنم کے انداز میں‘ اس کی باتوں میں… وہ اس کا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے اس کی باتیں سننے لگا۔
’’ہونہہ… تو یہ کس ہیرے کی پہچان کر ڈالی میں نے؟ تفصیلات پر ذرا روشنی ڈالیں گی محترمہ۔‘‘ وہ اب اسے کریدتے ہوئے پوچھنے لگا۔
’’میری پہچان… شبنم کی پہچان… میری سہیلیاں کہتی ہیں کہ شبنم تم اتنی حسین ہو‘ باکمال ہو‘ تم فلم انڈسٹری میں کیوں نہیں قسمت آزماتیں۔ تم ایک دفعہ انڈسٹری میں قدم رکھ دو تو اچھے اچھوں کی چھٹی ہوجائے۔‘‘ شبنم اب کھل کر حماد کو ساری روداد سنارہی تھی اور حماد کو شبنم کے بدلے ہوئے تیور اور اماں بی کی فکر کی وجہ اب بہت اچھی طرح سمجھ آنے لگی تھی۔
’’اچھا اب میں سمجھا… کہ آج کل تم ان اچھے اچھوں کی چھٹی کرانے کے خیال میں کھوئی رہتی ہو۔ تب ہی میں کہوں کہ میری بہن آج کل اتنی گم صم کیوں رہنے لگی ہے۔‘‘ وہ اس کے چہرے کے پل پل بدلتے تاثرات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے بولا۔
’’حماد بھائی‘ ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی پہچان بنائے۔ میں بھی اپنے حق کا استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ میری بھی کوئی پہچان ہو‘ میں ساری زندگی ملازمہ کا ٹھپہ لگاکر جینا نہیں چاہتی۔‘‘ شبنم کے لہجے میں یاسیت تھی۔ حماد اس کی باتیں بغور سنتا رہا۔ وہ آج شبنم کے دل و دماغ میں پنپتے ہر خیال سے بخوبی آگاہ ہونا چاہتا تھا۔
’’مجھے اچھا نہیں لگتا کہ جب میں کالج آپ کے ساتھ گاڑی میں جاؤں یا گھر کی باتیں بتاؤں تو میری سہیلیاں میرا مذاق اُڑائیں۔‘‘ اس نے افسردگی سے کہا تو حماد چونکا۔
’’کس بات پر اور کیوں مذاق اڑاتی ہیں تمہاری سہیلیاں؟‘‘
’’وہ کہتی ہیں کہ کچھ بھی کرلو، تم رہوگی تو نوکرانی کی بیٹی‘ تمہارے مالک اگر ہمدردی کے ناطے یا ترس کھا کر تمہیں پڑھا لکھا رہے ہیں تو خود کو تم اُن جیسا نہ سمجھنا شروع کردو۔‘‘ وہ آج اپنی ساری بھڑاس نکال رہی تھی۔ کالج لائف کے دو سالوں میں اب تک وہ جس طرح کے جملے‘ فقرے سنتی آئی تھی‘ وہ سب بتارہی تھی۔ ان ہی جملوں‘ لہجوں اور رویوں کی وجہ سے وہ منہ پھٹ‘ بدتمیز اور بددماغ ہوتی جارہی تھی۔
’’ہونہہ… اور کیا کیا کہتی ہیں تمہاری سہیلیاں؟‘‘ وہ اس کی ہر بات پر غور کرتا‘ مزید استفسار کررہا تھا۔
’’انیلا ہمیشہ طعنہ مارتی ہے‘ حسد کا شکار رہتی ہے۔ کہتی ہے نوکرانی کے یہ ٹھاٹ باٹ۔ پہلے میں اس کی باتیں سن کر افسردہ ہوا کرتی تھی مگر اب میں اسے کچھ کہنے سے پہلے ہی سنا ڈالتی ہوں۔ بس شازیہ اور فائزہ ہیں‘ جو میری پکی سہیلیاں ہیں۔ وہ دونوں ہر دَم میرے ساتھ رہتی ہیں۔ اُن دونوں ہی نے تو میرے دل میں احساس جگایا کہ مجھے اپنی پہچان بنانی چاہیے۔ میں اتنی حسین ہوں تو مجھے اپنے حسن کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہیے۔‘‘ حماد کو آج کافی دنوں بعد پہلے والی شبنم دکھائی دی۔ سب کچھ سادگی سے کہہ جانے والی‘ بڑ بولی اور تھوڑی سی معصوم‘ تھوڑی سی شریر۔
’’اچھا تو حسن کو اپنے حق میں کیسے استعمال کرنا چاہیے؟‘‘ اس نے مزید کریدا۔
’’فلم انڈسٹری میں قدم رکھ کر۔ بتایا تو تھا آپ کو اور آپ نے خود ہی تو ابھی بتایا کہ میں اداکاری میں ماہر ہوں۔ اب تو آپ کی طرف سے بھی مجھے سرٹیفکیٹ مل گیا حماد بھائی۔‘‘ وہ خوشی خوشی حماد کو اپنا سارا منصوبہ بتارہی تھی اور حماد کے ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔
’’شازیہ کہہ رہی تھی کہ ایک مشہور پروڈکشن ہاؤس نئے چہروں کے لیے آڈیشن بھی لے رہا ہے۔ وہ کہہ رہی تھی کہ اسے علم ہے یہ آڈیشن کہاں دیے جارہے ہیں۔ وہ مجھے اس جگہ لے کر بھی جاسکتی ہے۔‘‘ شبنم اپنے تمام ارادوں پر سے پردہ اُٹھا رہی تھی اور حماد دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کررہا تھا کہ آج شبنم کے دل و دماغ میں پکتی کھچڑی کا اسے بروقت علم ہوگیا تھا۔
خ…ز…خ
’’کبھی اپنی دادی کے لیے بھی وقت نکال لیا کرو میری جان‘ میرے پاس بھی آبیٹھا کرو۔‘‘ فاریہ ان کے کمرے میں بیٹھی‘ میڈیسن باکس میں سے ان کو دوائیاں نکال کر دے رہی تھی اور وہ بستر پر تکیے سے پشت لگائے اس کے چہرے کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’دادی، وقت ہی کہاں دیتی ہیں آپ مجھے۔ سارا دن تو آپ کا جائے نماز پر نماز‘ قرآن اور تسبیحات پڑھنے میں گزرتا ہے‘ نہ آپ نے کبھی سوچا‘ نہ پاپا نے کہ آپ دونوں کے بغیر میں اتنے بڑے محل نما گھر میں کیسے اکیلے وقت گزارتی ہوں۔‘‘ سائیڈ ٹیبل سے جگ اُٹھا کر گلاس میں پانی اُنڈیلتے ہوئے ان کے شکوے کا جواب شکوے سے دیا۔
’’ٹھیک ہی کہہ رہی ہو تم… میں ہی بھول جاتی ہوں کہ اس محل نما گھر میں بسنے والے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے اگر کچھ ہے تو وہ صرف گلے شکوے ہیں۔‘‘ وہ خود پر استہزائیہ انداز میں ہنستے ہوئے بولیں۔ پانی کا گلاس ان کی جانب بڑھاتی‘ فاریہ نے اُن کی بات پر چونک کر انہیں دیکھا۔
’’ایسے کیوں کہہ رہی ہیں دادی۔ آپ پلیز ایسا نہ سوچا کریں۔ آپ نہیں جانتیں کہ میرے دل میں آپ کے لیے کتنی عزت‘ محبت ہے۔ آج میں جو بھی ہوں‘ آپ ہی کی بدولت ہوں۔‘‘ فاریہ گلاس واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے نرمی سے سمجھانے لگی۔ دادی اس کی بات پر دھیرے سے مسکرا دیں۔
’’اچھا چلیں‘ اب یہ ساری باتیں چھوڑیں اور دوائیں لیں۔ یہ بلڈ پریشر کی‘ یہ شوگر کی‘ یہ وٹامنز کی اور یہ نیند کی۔‘‘ وہ ایک ایک کرکے ان کی ہتھیلی پر ٹیبلیٹس رکھتے ہوئے بولی۔
’’نہیں‘ آج نیند کی نہیں کھاؤں گی۔‘‘ دادی نے باقی ساری ٹیبلیٹس کھانے کے بعد نیند کی گولی کھانے سے قطعیت سے انکار کرتے ہوئے کہا۔
’’مگر کیوں دادی‘ پھر نیند نہیں آئے گی آپ کو۔ ساری رات جاگیں گی تو طبیعت خراب ہوگی۔ سر میں درد ہوجائے گا شدید… آپ کو پتا ہے ناں آپ کے لیے رات کی نیند لینا کتنا ضروری ہے۔‘‘
’’لیکن میری جان‘ آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ بہت دیر تک اپنی گڑیا رانی سے باتیں کروں۔ کچھ تمہاری سنوں‘ کچھ اپنی سناؤں… تمہارا دل نہیں چاہتا کبھی اپنی دادی سے کچھ پوچھنے کا یا پھر کچھ بتانے کا؟‘‘ انہوں نے نیند کی گولی اسے واپس لوٹاتے ہوئے کہا تو فاریہ بے اختیار مسکرا اُٹھی۔
’’دل تو بہت چاہتا ہے مگر روز روز میری دادی اماں اتنے اچھے موڈ میں نہیں ہوتیں ناں‘ ورنہ میرا دل تو چاہتا ہے کہ آپ سے ڈھیروں باتیں کروں‘ اَن گنت سوال جو میرے دل میں ہیں‘ وہ سب پوچھوں۔‘‘ اس نے ان کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا۔ ساتھ ہی کمبل کھول کر اپنے ساتھ ساتھ دادی کو بھی اوڑھایا اور ان کے شانوں پر سر رکھ کر ان کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔
’’تو پوچھو ناں میری جان؟ میری گڑیا… جو من میں آئے وہ سوال پوچھو‘ تمہیں روکا کس نے ہے۔‘‘ دادی نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے‘ چمکارتے ہوئے کہا۔
’’میری اماں کیسی تھیں دادی‘ دیکھنے میں‘ بولنے میں‘ بات کرنے میں… مزاجاً، فطرتاً وہ کیسی تھیں؟‘‘ فاریہ نے وہ سوال کیا‘ جو بچپن سے وہ پوچھتی آئی تھی مگر شاید دادی اماں کے جواب اسے اب تک مطمئن نہیں کرسکے تھے‘ تب ہی موقع ملتے ہی آج اس نے پھر سے وہی سوال کیا۔ دادی اس کے سوال پر مسکرا دیں۔
’’میں جانتی تھی تم اپنی ماں کے حوالے سے ہی سوال کروگی۔ تمہاری ماں، بیٹا بہت نیک عورت تھی۔ بہت شریف اور پاکیزہ روح والی‘ صابر‘ شاکر… میرے ماموں زاد بھائی کی بیٹی تھی وہ۔ مجھے بیٹیوں جیسی عزیز تھی‘ بس ایک شکوہ تھا اس سے… زندگی بہت مختصر لکھوا کر لائی تھی وہ۔‘‘ دادی جیسے تصور کی نگاہوں سے فاریہ کی ماں کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’پاپا بہت محبت کرتے تھے ناں اُن سے؟‘‘ اس نے اپنی ماں کی چند ایک تصاویر ہی دیکھی تھیں۔ ماں کو لے کر بچپن کی کوئی یاد اس کے حافظے میں محفوظ نہ تھی۔ وہ بھی دادی کی طرح اپنے ماں باپ کو خیالوں میں ایک ساتھ دیکھ کر مسکراتے ہوئے استفسار کررہی تھی۔
’’تمہارے پاپا نے تو جس سے محبت کی‘ اسے بھی بے فیض رکھا اور جس سے محبت نہ کی‘ اسے تو بے فیض رکھا ہی رکھا۔‘‘ وہ آنکھوں میں چھائی ہلکی سی نمی کو انگلی کے نرم پوروں میں سمیٹتے ہوئے بولیں۔
’’تو پاپا نے محبت کی کس سے دادی؟‘‘ اس نے گردن موڑ کر دادی کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’تمہارا باپ ہمیشہ سے اپنی ذات کی محبت میں مبتلا رہا‘ اپنے علاوہ اگر اس نے کسی اور سے محبت کی ہے تو وہ تم ہو فاریہ۔ میں نے اس سے پہلے یوں فکرمند اور حساس تمہارے باپ کو کبھی نہیں دیکھا‘ جیسا وہ تمہارے لیے ہوتا ہے۔‘‘ دادی نے اس کے معصوم چہرے کو اپنے جھریوں زدہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرتے ہوئے پیار سے کہا تو فاریہ مسکرادی۔
’’اور آپ کتنی محبت کرتی ہیں پاپا سے…؟‘‘ فاریہ نے اگلا سوال کیا۔
’’محبت ہی کی ہے تو اسے اس مقام تک پہنچایا ہے ناں میری جان۔‘‘ وہ مسکرا کر بولیں۔
’’قمر جہاں کیسی لگتی ہے آپ کو؟ جب پاپا نے ان سے شادی کا فیصلہ کیا تھا‘ تب غصہ تو آیا ہوگا ناں آپ کو۔‘‘ وہ انہیں کرید رہی تھی‘ کیونکہ قمر جہاں اس سے چند سال ہی بڑی تھیں اور اتنی کم عمر لڑکی سے شادی کرنے پر اسے کافی اعتراضات تھے اور ان کا اظہار اس نے اپنے باپ سے کیا بھی تھا‘ مگر زندگی میں پہلی بار انہوں نے اپنی جان سے عزیز بیٹی کے اعتراضات کو ناک سے مکھی کی طرح اُڑا دیا تھا‘ جس پر فاریہ کو بے حد دُکھ بھی پہنچا تھا۔
’’نہیں‘ غصہ نہیں آیا۔ قمر جہاں کو دیکھا ہے میں نے‘ وہ اچھی عورت ہے۔ اس کی آنکھوں میں‘ میں نے تمہارے لیے اچھے جذبات دیکھے ہیں۔ چند ایک بار ہی اس سے بات ہوئی‘ مگر اس کی گفتگو سے مجھے اس کی اچھی فطرت کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے۔ تم بھی اس عورت کے ساتھ بنا کر رکھنا بیٹا‘ کوئی بغض نہ پالنا‘ اس کی زندگی مشکل نہ بنانا‘ مشکل بنانے کے لیے تو تمہارا باپ ہی کافی ہے۔‘‘ دادی نے آخری جملہ ہنستے ہوئے ادا کیا۔
’’پاپا تو قمرجہاں کو سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھتے ہیں دادی اور آپ کہہ رہی ہیں کہ وہ اس کی زندگی مشکل بنادیں گے۔ میں تو نہیں مانتی‘ ناممکن سی ہے یہ بات۔‘‘ فاریہ قطعیت سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔
’’وہ ایسا ہی ہے۔ پل میں دل میں بسانے والا‘ پل میں دل سے نکالنے والا۔‘‘ دادی کسی یاد میں گم سی ہوگئیں۔
’’دادی ایک بات پوچھوں؟‘‘ فاریہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’بیٹا‘ اتنی دیر سے سوال ہی پوچھ رہی ہو… ایک نہیں‘ دس سوال پوچھو۔ تمہاری دادی نے تمہارے سوالات پر ٹیکس تھوڑی عائد کر رکھا ہے۔‘‘ دادی ہنستے ہوئے بولیں۔
’’پوچھنے کو تو پوچھ لوں مگر کہیں آپ کو برا نہ لگ جائے۔‘‘ فاریہ کو اندیشہ ہوا۔
’’نہیں لگے گا برا… آج سے پہلے کبھی تمہاری کوئی بات بری لگی ہے تمہاری دادی کو؟‘‘ دادی نے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے جواب دیا۔ فاریہ نے مسکرا کر ان کے مہربان وجود کو دیکھا۔ وہ ایسی ہی تھیں‘ جب اس کے ساتھ ہوتیں تو اپنی ڈھیروں محبتیں‘ اپنی ممتا اُس پر نچھاور کرتیں اور کبھی تو پوری دُنیا سے بے نیاز ہوکر‘ حتیٰ کہ اس سے بھی‘ صرف اللہ سے لَو لگا بیٹھتیں۔
’’دادی‘ آپ ہمیشہ پاپا سے اتنی خائف کیوں رہتی ہیں؟ کبھی اُن کے حوالے سے مثبت بات نہیں کرتیں‘ نہ اُن کے حوالے سے کبھی اچھے تاثرات کا اظہار کرتی ہیں‘ جبکہ پاپا آپ کی قدر کرتے ہیں‘ آپ کا خیال بھی رکھتے ہیں مگر آپ کے جذبات اُن کے لیے ہمیشہ سرد مہری کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں؟‘‘ بالآخر فاریہ نے کب سے دل میں دبے اس سوال کو اُن کے آگے رکھا۔
’’ایسا نہیں ہے فاریہ… میں ماں ہوں اس کی اور ماں بھلا اولاد سے کیوں برا رویہ اختیار کرے گی۔ بس اس کی رگ رگ سے واقف ہوں‘ اس لیے زیادہ اُمیدیں وابستہ نہیں رکھتی اس سے۔‘‘ وہ صاف دامن چھڑانے والے انداز میں گویا ہوئیں۔ ساتھ ہی انہیں نیند کی گولی بھی یاد آگئی۔
’’فاریہ بیٹا‘ اب نیند کی گولی بھی مجھے دے ہی دو ورنہ تو باتوں باتوں میں ساری رات گزر جائے گی۔ نہ جانے نیند کب آئے اور رات بھر سوؤں گی نہیں تو صبح طبیعت ہی نہ خراب ہوجائے۔‘‘ فاریہ سمجھ چکی تھی کہ اب وہ مزید کسی موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کی یہ بات دراصل ایک واضح اشارہ تھا کہ اب وہ آرام کرنا چاہتی ہیں۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا‘ جس موضوع پر انہیں بات نہیں کرنا ہوتی تھی‘ وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتیں‘ جس طرح آج انہوں نے نیند کی گولیوں کا بہانہ بنایا تھا۔ فاریہ انہیں نیند کی دوا کھلا کر شب بخیر کہتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی۔ موبائل ٹٹولا تو وہاں حماد کا بھی کوئی پیغام اس کی راہ نہیں دیکھ رہا تھا۔
’’سوگیا ہوگا حماد بھی۔ رات بھی اچھی خاصی گزر گئی ہے۔‘‘ وہ سوچتے ہوئے اپنے بستر پر دراز ہوگئی۔ بستر کی نرم آغوش میں جاتے ہی وہ نیند کی وادی میں جا اُتری تھی۔
خ…ز…خ
’’شبنم‘ یہ تم نے بالکل صحیح کہا کہ ہر انسان کو اپنی پہچان بنانے کا حق حاصل ہے اور تم بھی اپنی پہچان بنانے کی کوشش کررہی ہو اور میں تمہاری ہر اُس کوشش میں تمہارا بھرپور ساتھ دوں گا جو تمہارا نام‘ تمہاری پہچان بناسکے۔‘‘ حماد‘ شبنم کے دل کی ساری بات جان چکا تھا اور اب وہ اسے نرمی سے سمجھا رہا تھا۔
’’آپ واقعی میرا بھرپور ساتھ دیں گے حماد بھائی؟‘‘ شبنم کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی۔
’’بالکل دوں گا۔ کیوں نہیں دوں گا؟ میری بہن اپنی صلاحیتوں اور قابلیت سے اگر اپنی پہچان بنانے کی خواہش مند ہے تو پھر میرا فرض ہے کہ میں اپنی بہن کا بھرپور ساتھ دوں‘ مگر میری ایک شرط ہے۔‘‘ حماد نے اس کا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’شرط…! کیسی شرط حماد بھائی؟‘‘ شبنم کو لفظ شرط پر اچنبھا ہوا۔
’’ہاں شرط… ارے ڈرو نہیں‘ شرط مشکل نہیں بہت آسان ہے۔‘‘ حماد نے اسے ہنستے ہوئے تسلی دی۔
’’اچھا بتائیں‘ پھر کیسی شرط؟ مشکل بھی ہوگی تو مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے۔‘‘ وہ حماد پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی۔
’’ہوں… گڈ گرل… مجھے تم سے یہی اُمید تھی۔ شبنم تمہیں اپنی ہر بات مجھ سے شیئر کرنا ہوگی۔ حتیٰ کہ اپنا ہر ارادہ‘ ہر خیال… ہر سوچ تمہیں مجھ سے شیئر کرنا ہوں گی۔‘‘ حماد اس کے چہرے پر نگاہ گاڑے‘ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ شبنم اس کی بات پر سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’یہ شرط اس لیے ہے تاکہ میں تمہارے خیالات اور ارادوں سے واقفیت رکھنے کی بناء پر تمہاری رہنمائی کرسکوں۔ کیا سمجھیں۔‘‘ وہ اس کی سوالیہ نگاہوں کا جواب دے کر اسے مطمئن کررہا تھا۔
’’اوہ اس لیے… ڈن حماد بھائی۔ میں آپ سے اپنے دل کی ہر بات شیئر کروں گی اور کیا شرطیں ہیں آپ کی؟‘‘ وہ ایک شرط مان کر اگلی شرط کی جانب بڑھی۔
’’اگلی شرط یہ ہے کہ تمہیں فی الوقت اپنی پڑھائی پر توجہ دینی ہے۔ اپنی کسی سہیلی کی باتوں پر نہیں۔‘‘ وہ اپنی بات کہہ کر شبنم کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لینے لگا۔
’’مگر…‘‘ شبنم کشمکش میں مبتلا ہوئی۔ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ حماد نے ٹوکتے ہوئے اسے سمجھانا شروع کیا۔
’’دیکھو شبنم‘ میری بات غور سے سنو اور سمجھو۔ بابا جانی تمہیں تعلیم یوں ہی نہیں دلوا رہے۔ تعلیم کی اہمیت و افادیت کو سمجھو‘ یہی تعلیم کل تمہاری کامیابی کی راہیں متعین کرے گی‘ تمہاری پہچان بننے میں مددگار ثابت ہوگی۔ تعلیم کو اہمیت دو‘ اپنی تعلیم مکمل کرو اور پھر خود پر غور کرو کہ تمہاری قابلیت‘ تمہاری صلاحیت کیا ہے۔ کس طرح تم ان سے فائدہ حاصل کرسکتی ہو۔‘‘ وہ اسے سنجیدگی مگر نرمی سے سمجھارہا تھا۔ شبنم خاموشی سے اس کی بات سنتی رہی۔
’’شبنم‘ میں نے اور بابا جانی نے تمہارے لیے بہت کچھ سوچ رکھا ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ تم خود ہمت کرو‘ ہمارا ساتھ دو‘ تعلیم مکمل کرو‘ اپنی پہچان اور وقار بنانے کے لیے۔‘‘ اس نے اس کے ہاتھوں کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ شبنم اس کی بات پر مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگی۔
’’ایک بات اور اپنے دل اور ذہن سے نکال دو کہ ہم تمہیں گھر کی ملازمہ سمجھتے ہیں۔ خود کو احساسِ کمتری سے نکال لو‘ ورنہ دوسرے تمہارے ذہن و دل میں زہر بھرتے رہیں گے اور اماں بی کا احترام کیا کرو شبنم‘ ان سے جڑے رشتے کو تم گلے کا طوق نہ سمجھو۔ اپنی پہچان سے منہ نہ پھیرو‘ آج تم اگر خود کو کچھ سمجھتی ہو تو اس کی وجہ اماں بی ہیں۔ انہیں پریشان کرنا‘ زچ کرنا چھوڑ دو۔‘‘ حماد کافی دیر تک اسے زندگی کی‘ رشتوں کی اہمیت کا احساس دلاتا رہا۔ شبنم اس کی بات سنتی‘ خاموشی سے سر ہلاتی رہی۔
’’اچھا ایک بات تو بتاؤ یار…‘‘ وہ اچانک لہجہ بدل کر چھیڑ خانی کے ارادے سے بولا۔
’’کون سی بات حماد بھائی؟‘‘ شبنم نے ناسمجھی سے حماد کی جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’یار، تمہاری سہیلیاں تمہیں اتنے مفید مشوروں سے نوازتی ہیں‘ وہ بھی مفت میں‘ کتنی اچھی لڑکیاں ہیں ناں۔ اب دیکھو ناں‘ آج کے زمانے میں کوئی ایسے ہی کسی کے لیے کہاں کچھ کرتا ہے‘ مگر تمہاری سہیلیاں تو…‘‘ وہ اس کی سہیلیوں کی تعریف میں رطب اللسان تھا کہ شبنم اس کی بات کاٹتے ہوئے بولنا شروع ہوئی۔
’’ایک منٹ‘ ایک منٹ حماد بھائی… اتنی اچھی بھی نہیں ہیں وہ۔ روز بریانی‘ چھولے چاٹ کھلاتی ہوں میں‘ تب ہی تو میرے بارے میں اتنا سوچتی ہیں۔‘‘ شبنم پٹر پٹر بولتی‘ اپنی سہیلیوں کی باتوں کی قلعی کھولتی چلی گئی۔ حماد کا ایک بلند قہقہہ فضا میں گونجا۔
’’آپ مذاق اڑا رہے ہیں میرا…‘‘ اس نے خفگی سے منہ پھلائے کہا۔
’’بالکل بھی نہیں پاگل لڑکی۔ میں تمہارا مذاق کیوں اُڑاؤں گا۔ ویسے ایک اور فتور تمہارے دماغ سے نکالوں۔‘‘ اس نے اس کی ناک دباتے ہوئے شرارت سے کہا۔
’’آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کہ میرے دماغ میں فتور بھرا ہوا ہے۔‘‘ وہ برا مانتے ہوئے بولی۔
’’ہاں‘ بس ایک آخری فتور بچا ہے۔ پوچھو گی نہیں کہ کیا ہے وہ فتور؟‘‘ اس نی ہنستے ہوئے‘ ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
’’اچھا چلیں بتائیں کہ وہ آخری فتور کیا ہے؟‘‘ وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی۔
’’وہ فتور یہ ہے کہ تمہاری خوب صورتی‘ تمہاری شخصیت کا حصہ ہے‘ اسے پُروقار بناؤ‘ کامیابی کی سیڑھی نہیں۔ جو لوگ اپنی خوب صورتی کو استعمال کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں‘ نہ تو وہ کبھی کامیاب ہوپاتے ہیں نہ ہی باوقار انداز میں اپنی پہچان بنا پاتے ہیں۔ کامیاب ہونا چاہتی ہو تو ذہانت‘ صلاحیتوں اور قابلیت کو آزماؤ اور اپنی سہیلیوں پر اپنی پاکٹ منی لٹانا بند کرو‘ تاکہ وہ اپنے انتہائی احمقانہ مشوروں سے تمہیں نوازنا بند کریں۔‘‘ وہ اپنی بات مکمل کرکے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ شبنم بھی اس کی بات کو سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’بات سمجھ میں آئی چھوٹی؟‘‘ اس نے اس کے کان کھینچتے ہوئے پوچھا۔
’’بالکل آگئی بھائی۔‘‘ شبنم کھلکھلا کر ہنسی۔ حماد سے آج اپنے دل کی ساری بات کہہ کر وہ خود کو بے حد ہلکا پھلکا محسوس کررہی تھی۔
’’اچھا‘ اب جاؤ اور جاکر آرام کرو اور اماں بی سے اپنے غلط رویے کی معذرت ضرور کرنا۔‘‘ وہ اسے ہدایت کرنا نہ بھولا۔
شبنم سر ہلاتی کوارٹرز کی جانب بڑھ گئی۔ اسے کوارٹر کے اندر داخل ہوتا دیکھ کر اس نے فیروز حسن کی لائبریری کا رُخ کیا۔ شبنم کے حوالے سے ان سے بات کرنا بے حد ضروری تھا۔ اماں بی کے خدشات‘ آج شبنم سے بات کرکے کافی حد تک سچ ثابت ہوئے تھے۔ وہ سوچ چکا تھا کہ وہ اب شبنم سے اس طرح تفصیلی گفتگو وقتاً فوقتاً کرتا رہے گا اور اب مزید کسی بھی طرح کے غلط قسم کے خیالات اس کے دل و دماغ میں پنپنے نہ دے گا۔
خ…ز…خ
لباس کے بعد ماریانہ نے ارسل کی ہمراہی میں کچھ جیولری اور کاسمیٹکس کا سامان بھی خریدا اور اب وہ دونوں خریداری کرکے گاربیرا سے نکل رہے تھے۔
’’ویسے ایک بات پوچھوں؟‘‘ ماریانہ نے ارسل کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اجازت لیے بنا بھی آپ پوچھ سکتی ہیں سینورا۔‘‘ ارسل نے خوش دلی سے جواب دیا۔
’’میں نے آپ کی بہن کے لیے جو تحفے خریدے‘ وہ آپ کو پسند تو آئے ہیں ناں؟ میرا مطلب ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ مروتاً میری پسند پر سر ہلا رہے ہوں اور حقیقتاً آپ کو میری پسند سمجھ میں نہ آرہی ہو۔‘‘ ماریانہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ ایسا نہ سوچیں۔ آپ کی پسند آپ کی طرح منفرد ہے۔‘‘ ارسل نے مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ ماریانہ لاجواب ہوگئی اور پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
’’یہ کیسے سیکھا آپ نے؟‘‘
’’کیا…؟‘‘ ارسل نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’انتہائی مختصر سے جملے سے کسی کو لاجواب کر ڈالنا۔‘‘ ماریانہ نے مسکراتے ہوئے ارسل کی آنکھوں میں جھانکا‘ ارسل ان توصیفی کلمات پر ہنس دیا۔ ماریانہ نے اس بار اس کی ہنسی پر ٹوکنے سے گریز کیا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ارسل کے لبوں سے اس کی ہنسی جدا ہو۔
’’تو آپ اس مختصر سے جملے سے متاثر ہوگئیں۔‘‘ اس بار ارسل نے اس کی نیلی آنکھوں میں جھانکا۔
’’آپ کا جملہ متاثر کن تھا۔‘‘ ماریانہ نے اعتراف کیا۔
’’بہت سادہ مزاج ہیں آپ۔ بہت جلدی متاثر ہوجاتی ہیں۔‘‘ وہ کہے بنا نہ رہ سکا۔
’’خود کو مشکل بناکر جینا میری پسند کبھی بھی نہ رہا۔ سادہ انسان ہونا بھی آج کے زمانے میں خاص بات ہے۔‘‘ اس نے جتایا۔
’’اس بار آپ نے مجھے لاجواب کر ڈالا۔‘‘ ارسل نے مسکرا کر اعتراف کیا۔
’’کسی قہوہ خانے میں چلیں؟‘‘ ارسل نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے ماریانہ کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا۔
’’ضرور… مگر کیا اس بار بھی میزبانی کا فریضہ مجھے ہی نباہنا ہوگا؟‘‘ ماریانہ نے فرنٹ سیٹ سنبھالتے ہوئے مسکرا کر دریافت کیا۔
’’ہرگز نہیں۔ اس بار میزبانی کے فرائض میں نبھاؤں گا اور بے فکر رہیے‘ میں آپ کی پسند ناپسند کو مدنظر رکھتے ہوئے کھانے کا اہتمام کروں گا۔‘‘ ارسل نے مسکرا کر اسے جتایا۔ ارسل کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور کچھ ہی دیر میں وہ ایک قہوہ خانے میں موجود تھے۔
’’لاکھ میدا سینور۔‘‘ ویٹر اس کے سامنے مینیو کارڈ لیے کھڑا تھا۔ ارسل نے مسکرا کر ماریانہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کھانے کے انتخاب کا اختیار اسے دے دیا تھا۔
’’سینورا…‘‘ ارسل کے اصرار پر ماریانہ نے کھانے کا آرڈر اپنی پسند سے منتخب کیا۔
’’گراسیا…‘‘ ویٹر کے جانے کے بعد ماریانہ نے ارسل کا شکریہ ادا کیا۔
’’کھانے کا انتخاب آپ کے سپرد کرنا‘ یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ مشکور ہوجائیں۔‘‘ ارسل نے اسے ٹوکا۔
’’یہ شکریہ بھی کھانے کو لے کر نہیں ادا کیا میں نے۔‘‘ ماریانہ نے اس کی سوچ کی نفی کرتے ہوئے کہا۔ اس پل اس کی نگاہیں میز پر گڑی تھیں‘ جہاں ایک خوب صورت شمع دان میں قندیل روشن تھی۔
’’پھر کس لیے…؟‘‘ ارسل نے تعجب سے پوچھا۔
’’زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے ایک رشتے کو ذہن میں مدنظر رکھ کر خریداری کی۔ میں نے وہ لباس‘ جیولری‘ کاسمیٹکس سب کچھ یہ تصور کرکے لیا‘ جیسے اپنی بہن کے لیے خریدا ہو۔ چند ساعتوں کے لیے ہی صحیح مگر میں نے اپنی بہن کے وجود کو حقیقتاً محسوس کیا اور یقینا اس احساس بلکہ خوب صورت احساس کے پیچھے آپ ہیں۔ میں نے آپ کا شکریہ اس لیے ادا کیا۔‘‘ وہ نظریں قندیل پر جمائے‘ میز کے شیشے کی سطح پر انگلیاں پھیرتی‘ دھیمے لہجے میں کہہ رہی تھی۔ البتہ آخری جملہ اس نے ارسل کے چہرے کو دیکھتے ہوئے مسکراکر ادا کیا تو ارسل بے اختیار مسکرا اُٹھا۔
’’تمہیں اچھا لگا…‘‘ ارسل نے تکلف کی دیوار گراتے ہوئے نیلے ساگر میں جھانکتے ہوئے استفسار کیا۔
’’بہت… بہت اچھا لگا۔‘‘ ماریانہ کو تکلف کی گرتی دیوار بھی بھلی لگی۔
’’کیا تم شبنم کو دیکھنا چاہوگی؟‘‘ ارسل نے اپنے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے پوچھا۔
’’ضرور…‘‘ اس نے اثبات اور خوشی سے سر ہلایا۔
’’یہ ہے میری بہن شبنم…‘‘ ارسل نے موبائل میں سے ایک تصویر نکال کر دکھاتے ہوئے کہا۔
ماریانہ کی نگاہیں موبائل کی اسکرین پر ٹھہر گئیں۔ وہ ایک بے انتہا حسین لڑکی تھی‘ جو کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔ اس کی ہنسی میں بے فکری تھی۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں خوشیوں کے دیپ روشن تھے۔
’’بہت پیاری ہے شبنم۔‘‘ وہ بے ساختہ کہہ اُٹھی۔
’’وہ فطرتاً بھی بہت اچھی ہے۔ زندہ دل‘ شرارتوں سے بھرپور اور سب کا خیال رکھنے والی۔‘‘ ارسل‘ ماریانہ کو شبنم کے بارے میں بتارہا تھا۔ ماریانہ اس کی بات سنتی‘ مسکراتی رہی۔ ارسل اب اسے مزید تصاویر دکھا رہا تھا۔ اگلی تصویر میں شبنم کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر شخص اور ایک خوبرو نوجوان تھا‘ ماریانہ دلچسپی سے تصویر دیکھنے لگی۔
’’یہ میرے بابا جانی ہیں اور یہ میرا چھوٹا بھائی حماد۔‘‘ وہ اُن دونوں اشخاص کے حوالے سے اسے آگاہ کررہا تھا۔ ماریانہ نے اس پل اس کے چہرے پر نگاہ کی۔ اس کا چہرہ اُس پل ان رشتوں کی محبتوں کی روشنی سے دمک رہا تھا۔ ماریانہ کی آنکھیں بے ساختہ مسکرا اُٹھیں۔ کتنی خوب صورت ہوتی ہے یہ کیفیت کسی کو اپنے بے حد انمول رشتوں سے فخریہ انداز میں متعارف کرانا۔
’’میرے بابا جانی مشہور سرجن ہیں اور یہ میرا بھائی بھی بابا کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ ابھی ایم بی بی ایس مکمل کیا ہے اس نے‘ عنقریب اس کی ہاؤس جاب کا آغاز ہوگا۔‘‘ ارسل اُن سب کا تعارف بڑی محبت سے کروارہا تھا۔ اس پل اسے ارسل بے حد اچھا لگا تھا‘ اپنا اپنا سا۔
’’تمہارے بابا جانی کی شخصیت بے حد باوقار ہے اور تمہارا بھائی بالکل تمہارے جیسا ہے۔‘‘ اس نے اُن شخصیات کے حوالے سے ارسل کو اپنے جذبات سے آگاہ کیا۔
اگلی تصویر میں ایک خاتون شامل تھیں‘ انتہائی سادہ سے حلیے میں سر پر دوپٹہ اوڑھے‘ سانولی رنگت کی حامل سیدھی سادھی سی خاتون۔
’’یہ یقینا تمہاری والدہ ہیں…‘‘ ماریانہ نے ان کی تصویر بغور دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’نہیں… یہ اماں بی ہیں۔ انہوں نے میری اور حماد کی پرورش کی۔ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔ ہمارے گھر کو سنبھالا۔ ہم سب کے لیے بہت محترم ہیں اماں بی۔‘‘ ارسل کے لہجے میں اماں بی کے لیے احترام و تعظیم کی چاشنی گھلی ہوئی تھی۔ ماریانہ اس کی بات بغور سن رہی تھی۔ ارسل نے اسے اپنے والد کے حوالے سے بتایا‘ بھائی کے حوالے سے‘ حتیٰ کہ اماں بی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا مگر ماں… ماں کے حوالے سے اب تک اس نے نہ کچھ بتایا تھا‘ نہ ہی کوئی تصویر دکھائی تھی۔ کیوں؟ ذہن میں سوال کلبلانے لگا تو وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
’’اور تمہاری والدہ ارسل… وہ کہاں ہیں؟ ان کی کوئی تصویر نہیں دکھائی تم نے؟‘‘ ماریانہ کے سوال پر ارسل کا چہرہ لمحے بھر کو بجھ سا گیا۔
’’اُن کا انتقال ہوچکا ہے۔‘‘ ارسل کا لہجہ بھی بجھا ہوا تھا۔ ماریانہ کو لمحہ لگا اس کے لہجے میں چھپے دُکھ کو پہچاننے میں… وہ چاہ کر بھی کچھ کہہ نہ پائی۔
’’ماما کے انتقال کے بعد ہی اماں بی نے ہم سب کو سنبھالا۔ وہ ہماری محسن ہیں۔ ہم سب کے دلوں میں اُن کے لیے اسی لیے بے حد احترام ہے۔‘‘ وہ خود کو کمپوز کرتا اسے تفصیل سے بتارہا تھا۔
’’یقینا تمہاری اماں بی بہت مہربان ہوں گی‘ بالکل میری گرینی کی طرح۔‘‘ اس نے اسے دُکھ کی کیفیت سے نکالتے ہوئے کہا۔ ارسل نے چونک کر ماریانہ کی جانب دیکھا۔
’’تمہاری گرینی بھی ہیں…‘‘ اس نے اچنبھے سے پوچھا‘ حالانکہ سب جانتا تھا مگر ماریانہ نہیں جانتی تھی کہ وہ سب کچھ اس کے حوالے سے جانتا ہے۔
’’ہاں گرینی… وہ بہت مہربان خاتون ہیں۔ بہت شفیق‘ ملنسار… جانتے ہو ارسل‘ میرے ہر مسئلے کا حل ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔ وہ یوں چٹکی بجاکر مجھے ہر مشکل اور گمبھیر صورت حال سے نکال لیتی ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جس طرح سینڈریلا کی کہانی میں فیری گاڈ مدر تھی‘ اسی طرح میری زندگی کی کہانی میں میری گرینی میری فیری گاڈ مدر ہیں۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے گرینی کے حوالے سے ارسل کو بتارہی تھی۔ ارسل بے حد دلچسپی سے اس کے پُرجوش چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
’’تو اپنی زندگی کی فیری گاڈ مدر سے ملواؤ گی نہیں مجھے؟‘‘ ارسل خواہش کا اظہار کیے بنا نہ رہ سکا۔
’’تم ملنا چاہو گے میری گرینی سے…!‘‘ ماریانہ کو ارسل کی بات نے ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔
’’بالکل ملنا چاہوں گا۔ کیا خبر تمہاری گرینی میری زندگی کی بھی فیری گاڈ مدر بن جائیں۔‘‘ وہ بڑی معصومیت سے اپنی خواہش کا اظہار کرگیا تھا۔ ماریانہ اس کی بات پر کھلکھلا کر ہنس دی۔ ارسل نے اس کی ہنسی کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔
اجنبیت کی دیوار کے بعد‘ تکلف کی دیوار بھی دھیرے سے ان کے درمیان سے ہٹ گئی تھی۔ آج انہوں نے ایک دوسرے سے اپنی خوشیاں بانٹی تھیں۔ ایک ساتھ مسکرائے تھے‘ ہنسے تھی… یہی تو ابتدا تھی دوستی کی۔ اُن کے دلوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا تھا۔ آج خوشیاں بانٹی تھیں‘ کل غم بانٹتے… ایک دوسرے کے ہمدرد‘ غم گسار بن جاتے… ایک ساتھ چلنے کے لیے دونوں نے ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا۔

گفتگو اچھی لگی‘ ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا!

خ…ز…خ
’’کس قدر خوب صورت اور نظروں کو خیرہ کردینے والی ہے یہ جگہ۔‘‘ صبیحہ نے گرینڈ کنال کی گلیوں میں بہتی سبز آبی سڑکوں کے شیشے جیسی صاف چمکتی سطح پر اپنے اُبھرتے ہوئے خوب صورت عکس کو دیکھتے ہوئے پُرمسرت لہجے میں کہا۔ وہ یاور بخت کے ہمراہ ان آبی گلیوں میں تیرتی کشتی پر سوار تھیں۔
’’وینس کی ان گلیوں کا حسن ہر زمانے میں یکتا رہے گا۔‘‘ گرینڈ کینال کی آبی بھول بھلیوں کے دونوں اطراف پستہ قد عمارتیں‘ قطار در قطار کھڑی تھیں۔ سادہ اور دلکش‘ ان تمام عمارتوں کی بناوٹ ایک ہی طرز کی حامل تھیں۔ حتیٰ کہ ان گیلریوں کے محرابی دروازے‘ ان کی دیواروں کے نقش و نگار بھی ایک جیسے تھے۔ جدا تھا تو صرف رنگ‘ ان عمارتوں کے رنگ اُجلے اور دیدۂ زیب تھے۔ زرد‘ گلابی‘ سفید اور بسکٹی رنگ کی عمارتیں‘ مسکراتے ہوئے اپنی سبز بانہوں میں تیرتی کشتیوں کو دیکھ رہی تھیں۔
’’مجھے ماننا پڑے گا صبیحہ کہ تمہارا سب سے پہلے وینس کی سیاحت کا فیصلہ خوب صورت ترین فیصلہ تھا۔‘‘ یاور بخت‘ وینس کے حسن کے بعد اب صبیحہ کے فیصلے کو سراہ رہے تھے۔ صبیحہ نے مسکرا کر یاور بخت کی جانب دیکھا۔
’’صبیحہ نے زندگی میں کبھی کوئی غلط فیصلہ کیا ہی نہیں۔‘‘ اس نے فخریہ انداز اپنائے ہوئے کہا۔
’’اور تمہارا سب سے خوب صورت فیصلہ میری زندگی میں قدم رکھنے کا فیصلہ تھا۔‘‘ یاور بخت اُن کی بات کو قبول کرتے ہوئے خوش کن انداز میں اُن کا ہاتھ تھامتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’کتنا خوب صورت فیصلہ‘ یہ تو اب آپ نے ثابت کرنا ہے یاور جی۔‘‘ صبیحہ نے مسرور سے انداز میں اُن کے کاندھے پر اپنا سر ٹکا دیا۔
’’مرتے دَم تک ثابت کرتا رہوں گا میری زندگی۔‘‘ یاور بخت نے اُن کے کامنی سے وجود کو اپنے مضبوط حصار میں قید کرتے ہوئے کہا۔ صبیحہ مطمئن سی ان نظاروں میں کھوتی چلی گئیں۔ اُن کی کشتی ایک سنگی برج کے نیچے سے گزر رہی تھی۔ اس طرح کے سنگی برج ہر تھوڑے فاصلے پر بنے ہوئے تھے۔ ان کا مقصد دونوں جانب کی عمارتوں میں بسنے والے لوگوں کے لیے آمدورفت آسان کرنا تھا۔ یہ پیڈسٹرین برج کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ وہ لوگ چند ہی ثانیوں میں اس برج کی بدولت چھا جانے والے اندھیرے سے باہر نکل آئے۔ ملاح اپنے مخصوص انداز میں چپو چلاتے ہوئے کشتی کو اس کی منزل سے قریب تر کرتا چلا جارہا تھا۔
یاور بخت، ملاح سے وینس میں ان دنوں منعقد ہونے والے کارنیوال کے حوالے سے دریافت کررہے تھے۔ ان دنوں وینس میں کارنیوال کا سالانہ فنکشن منعقد کیا جارہا تھا۔ کارنیوال میں شرکت کے لیے لوگ جوق در جوق ایک خاص مقام پر جمع ہورہے تھے۔ کارنیوال کے لیے مرد‘ خواتین‘ بوڑھے‘ بچے‘ غرض ہر کسی نے مخصوص لباس زیب تن کر رکھا تھا اور ان سب کے چہروں پر مکھوٹے تھے اور مکھوٹے کی آڑ میں انہوں نے اپنے ہر غم‘ دُکھ‘ درد اور اذیت کو چھپالیا تھا۔ اُن کے لباس‘ اُن کے خوابوں کے آئینہ دار تھے‘ جو وہ زندگی میں خواہش رکھنے کے باوجود نہ بن پائے تھے۔ آج کے دن انہوں نے ان سپنوں کا‘ خواہشوں کا روپ دھار لیا تھا۔ کارنیوال اُن کے لیے بے انتہا خوشیاں لے کر آتا تھا۔ چند دن کے لیے ہی سہی مگر ان دنوں وینس کے لوگ خود کو ہر غم سے آزاد سمجھتے تھے۔
ملاح، یاور بخت کو کارنیوال کے حوالے سے کافی کچھ بتارہا تھا۔ اس سے گفتگو کے دوران یک دم اُن کی نگاہ صبیحہ کے چہرے کی طرف اُٹھی۔ صبیحہ گم صم بیٹھی تھیں اور ان کی نگاہیں کچھ فاصلے پر موجود سبز پانی کی چمکیلی سطح پر تیرتی کشتی پر جمی ہوئی تھیں۔ یاور بخت نے اُن کی نگاہوں کے تعاقب میں اس کشتی میں بیٹھے نفوس کو دیکھا‘ وہ دو میاں بیوی تھے اور ان کی گود میں دو سال کی عمر کا بچہ تھا۔ اُن تینوں نے کارنیوال میں شرکت کے لیے خاص لباس زیب تن کررکھا تھا۔ مرد نے کسی شہزادے کا شاہی لباس پہن رکھا تھا تو اس کی بیوی نے سنہری گھونگھریالے بالوں والی شہزادی کا روپ دھار رکھا تھا اور اس ننھے منے گول مٹول سے بچے کے وجود کو مستقبل کے بادشاہ سے تعبیر کرتے ہوئے شاہی گاؤن اور تاج پہنا رکھا تھا۔ وہ بچہ اس شاہی لباس میں نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا۔ اس کے ماں باپ بار بار اسے اپنی بانہوں میں بھرتے‘ اس کی زبان میں باتیں کرتے‘ اسے پیار سے سینے سے لگاتے‘ اس کے چہرے پر بوسہ دیتے۔ یقینا وہ بچہ اُن دونوں کی زندگی کا محور تھا۔ صبیحہ یک ٹک اس منظر کو دیکھتی چلی گئیں۔ اُن کی آنکھوں میں حسرت‘ تڑپ اور خواہش تھی‘ جو نمی بن کر جھلک رہی تھی۔
یاور بخت کو ایک لمحہ لگا تھا صبیحہ کی دلی کیفیت سمجھنے میں‘ اُن کی آنکھوں سے جھلکتی نمی اُنہیں سب کچھ سمجھا چکی تھی۔ انہوں نے دھیرے سے صبیحہ کے سرد پڑتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔ یاور بخت کے ہاتھوں کا پُرحرارت لمس محسوس کرتے ہی صبیحہ بُری طرح چونک اُٹھیں۔ کب سے وہ اس جوڑے کے روپ میں خود کو اور یاور بخت کو اُس معصوم بچے کے ساتھ ہنستا‘ مسکراتا‘ کھلکھلاتا دیکھ رہی تھیں مگر یاور بخت کے چھوتے ہی وہ سپنوں کی اس دُنیا سے نکل کر واپس اپنی دُنیا میں لوٹ آئیں۔ انہوں نے چونک کر یاور بخت کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’میں جانتا ہوں ہماری زندگی میں اولاد کی کمی ہے مگر میں ہماری خوشیوں کے اس ادھورے پن کو اب ختم کردوں گا۔‘‘ یاور بخت فیصلہ کن لہجے میں کہہ رہے تھے۔ صبیحہ ٹھٹھک کر انہیں متحیر نگاہوں سے دیکھنے لگیں۔
’’ایسا کیا کریںگے آپ یاور جی؟‘‘ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکیں۔
’’صبیحہ قسمت کھیل بھی تو کھیلا کرتی ہے۔ کچھ جوڑوں کو بے اولاد رکھ کر آزماتی ہے تو کچھ ننھی جانوں کو لاوارث بناکر اُن آزمائے ہوئے والدین کی راہ تکتی ہے۔ ہم خود کو اب محروم نہیں رکھیں گے۔ ہم کسی یتیم‘ لاوارث کو اپنالیں گے‘ اپنا نام دیں گے‘ اسے اپنا وارث بنائیں گے۔‘‘ یاور بخت نے مضبوط لہجے میں کہا اور صبیحہ یک ٹک انہیں دیکھتی رہیں۔
’’اپنے ادھورے پن سے واقف ہونے کے بعد کتنا بدل گیا تھا یہ شخص۔‘‘ وہ دل ہی دل میں سوچ کر رہ گئیں مگر بہرحال… یاور بخت کا فیصلہ انہیں بھی پسند آیا تھا۔ اُن کے دل کو لگا تھا۔
’’وعدہ کریں یاور جی… اپنی کہی گئی بات سے پھریں گے نہیں…!‘‘ وہ اُن سے عہد لینا نہ بھولیں۔
’’تم سے نہیں صبیحہ… یہ وعدہ میں خود سے کرتا ہوں۔ اب نہ تمہیں‘ نہ خود کو محروم رکھوں گا۔ اب ہم دونوں مل کر سہارا بنیں گے کسی معصوم ننھی جان کا۔‘‘ انہوں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا اور صبیحہ کو ان کے لفظوں میں صداقت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنے محبوب کے وعدے پر اعتبار کرلیا تھا۔
خ…ز…خ
آسمان سرمئی بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ درخت‘ پتے‘ پھول‘ پودے بُت بنے‘ ساکت تھے۔ ہوا کا نام و نشان نہ تھا۔ شدید حبس تھا۔ امکان تھا کہ دن ڈھلتے ہی سرمئی بادل برس پڑیں گے مگر گمان فی الحال شاید پر اٹکا ہوا تھا۔ وہ بڑی سی سیاہ چادر میں لپٹی کچن میں داخل ہوئی تو کچن کی حالت زار دیکھ کر لمحہ بھر کے لیے اس کا سر بری طرح چکرا گیا۔ سبزیوں کے چھلکے بے ترتیب سے انداز میں کاؤنٹر پر پھیلے ہوئے تھے۔ ایک بڑے سے تسلے میں گوشت دُھلنے کے لیے اس کی راہ دیکھ رہا تھا۔ برتنوں کا پہاڑ سنک میں اس کی توجہ کا منتظر تھا۔ چولہے پر طرح طرح کے پکوان کے داغ دھبے بھی اس کا منہ چڑا رہے تھے۔ کونے میں پڑا ڈسٹ بن اس حد تک کچرے سے لبریز تھا کہ اپنی حدود سے نکل کر چھلکنے کو بے تاب تھا۔ وہ بجھے دل سے آگے بڑھی کہ اس کا دایاں پاؤں بری طرح پھسلا۔ اگر بروقت وہ کاؤنٹر کو پکڑ کر خود کو نہ سنبھالتی تو بری طرح کچن کے چکنے فرش پر گرتی۔ سنبھل کر اس نے فرش پر نگاہ کی تو پانی پھیلا ہوا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس بھر کر سب سے پہلے فرش پر پھیلے پانی کو صاف کیا‘ پھر کاؤنٹر سے سارا کچرا سمیٹ کر وہ سنک کی جانب بڑھی۔ برتن دھوکر اس نے تسلے میں رکھے گوشت کی صفائی کی اور پھر کوڑے دان کا سارا کچرا پھینکتے ہوئے وہ سوچے بنا نہ رہ سکی۔
اس گھر میں ملازموں کی فوج موجود ہے مگر جب سے وہ یہاں آئی تھی‘ تب سے تمام ملازموں کے ہاتھوں میں مہندی لگ گئی تھی اور گھر کے سب کاموں کی ذمہ داری اسے سونپ دی گئی تھی۔ ایسا کیوں تھا… کیا وہ بطور ملازمہ اس گھر میں آئی تھی؟ ہرگز نہیں‘ وہ اس گھر میں بطور ملازمہ تو نہیں آئی تھی۔ وہ تو امانت تھی… یاور بخت کی امانت۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ صاحب نے واضح الفاظ میں اپنے دوست کو تاکید کی تھی۔
’’عزیز… سجل کا بے حد خیال رکھنا‘ میں جلد لوٹوں گا اپنی امانت تم سے لینے۔‘‘ سجل کی سماعت میں آج بھی صاحب کا جملہ گونج رہا تھا۔ پھر کیسے عزیز اپنے دوست کی امانت کے ساتھ یہ سلوک روا رکھ سکتا تھا۔ اسے ملازمہ بناکر رکھا ہوا تھا اپنے گھر میں۔ کیا وہ جانتا نہیں کہ صاحب کو اگر اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا علم ہوگیا تو کتنے خفا ہوںگے وہ مگر عزیز ایسا کیوں کررہا ہے… ٹھیک ہے اگر اس کی بیوی کو اپنے گھر میں اس کی آمد کچھ خاص پسند نہ آئی تھی‘ وہ اس سے اُکھڑے ہوئے لہجے میں بات کرتی تھی۔ پھر بھی… پھر بھی وہ گھر کی ملازمہ قرار دینے کی مستحق نہ تھی۔ اسے عزیز سے بات کرنا چاہیے۔ ویسے بھی کتنے دن ہوگئے، صاحب نے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا۔ وہ آج عزیز سے ضرور بات کرے گی اور صاحب کا نمبر بھی لے گی۔ ان ہی سوچوں میں گھری وہ کچن کا سارا کام سمیٹ کر عزیز سے بات کرنے کی غرض سے اس کے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔ قبل اس کے کہ وہ بند دروازے پر دستک دیتی‘ اندر سے آنے والی آوازوں نے اسے ساکت کردیا تھا۔
’’عزیز، کب تک مجھے اس ناگن کے ناپاک وجود کو اپنے گھر میں برداشت کرنا پڑے گا؟‘‘ بیگم عزیز زہرخند لہجے میں بولیں۔
’’کیا ہوگیا ہے یار… بتایا تو تھا بس کچھ دن اور یاور کو آجانے دو‘ پھر چلی جائے گی وہ۔‘‘ عزیز نے اُکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
’’ہونہہ… یاور کو آجانے دو۔ وہ تو اپنی بیوی کے ساتھ ملک سے باہر سیر سپاٹوں میں مصروف ہے اور ہم اس کا دردِ سر لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ بیگم عزیز کا غصہ ہنوز قائم تھا۔ غصے میں کہی جانے والی اس کی بات سے سجل کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔
’’تو صاحب ملک میں ہے ہی نہیں… اپنی بیوی کے ساتھ باہر گھومنے گیا ہوا ہے۔‘‘ یہ سوچ کر ہی اس کا دل برا ہونے لگا۔
’’اف بیگم‘ ہر بات کو سر پر سوار کرلینا تمہاری عادت بنتی جارہی ہے۔ وہ کہاں سر درد بنی ہوئی ہے۔ سارا دن تو گھن چکر بنی گھر کا کام کرتی رہتی ہے‘ پھر کیوں روز مسئلہ ہوجاتا ہے تمہیں اُس بے چاری سے؟‘‘ اس بار عزیز بھی بری طرح جھنجھلا اُٹھے۔
’’اوہ…! تو وہ اب بے چاری بن گئی ہے آپ کی نظر میں۔ بس یہی کسر رہ گئی تھی۔ ایک ہمدردی آپ کے دوست نے کی تھی اور تب سے اب تک موصوف منہ چھپائے پھر رہے ہیں اور اب آپ کو اس گناہ کی پوٹلی سے ہمدردی کا بخار چڑھا ہے… دوست کے انجام سے کچھ سیکھا نہیں آپ نے۔ صبیحہ بھابی تو بہت جگر والی ہیں‘ جو یاور بھائی کے کرتوت جان کر بھی اُنہیں معاف کر گئیں مگر میں معاف تو درکنار‘ وہ حال کروں گی آپ کا کہ آئندہ کبھی اس جیسی عورت کے لیے مجھ سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔‘‘ عزیز کی جھنجھلاہٹ پر بیگم مزید طیش میں آگئیں۔
’’اف تم بھی ناں… کون سی بات کو پتا نہیں کہاں لے جاتی ہو۔ یار… میرا نہ ہی کوئی ایسا مطلب تھا نہ ہی مقصد اور ایسی عورتیں دل تو بہلائے جانے کے کام آتی ہیں گھر بسانے کے لیے نہیں۔ تم خفا نہ ہو‘ کرتا ہوں میں اس کا انتظام کچھ۔‘‘ عزیز کا لہجہ فوراً ہی مدھم ہوا تھا۔ غالباً بیگم سے بگاڑنا ان کے حق میں بھی اچھا نہ تھا۔
سجل کے دل پر تازیانے کی طرح لگا تھا عزیز کا جملہ…
’’ایسی عورتیں دل تو بہلانے کے کام آتی ہیں گھر بسانے کے لیے نہیں۔‘‘ وہ بھاری قدموں سے سرونٹ کوارٹرز کے چھوٹے سے کمرے میں آگئی۔ یہی کمرا دیا گیا تھا اسے ٹھہرنے کے لیے۔
’’سجل بہت بُرا پٹی ہے تو۔ قسمت نے بڑا ہی بُرا کھیل کھیلا ہے تیرے ساتھ۔‘‘ کسی نے اسے اس کے اندر سے بری طرح دھتکارا تھا۔ دیوار پر شیشے کا ایک ٹکڑا نصب تھا۔ وہ شکست خوردہ سی اس نامکمل شیشے میں اپنا ادھورا عکس دیکھ رہی تھی۔ آج شیشہ بھی اسے آئینہ دکھارہا تھا۔ حسن اتنی بڑی دلیل نہیں کہ دل تسخیر ہوجائے۔ بعض اوقات یہ بے انتہا خوب صورتی گالی بھی بن جاتی ہے۔ زندگی کی پاک دامنی کو داغ دار کرجاتی ہے۔ وہ بھی داغ دار سی کھڑی آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔ آنسو قطار در قطار اس کے رخساروں پر بہتے چلے گئے۔
’’صاحب‘ تم نے مجھے کیا سے کیا بنا ڈالا…؟ حقیر بنا ڈالا مجھے زمانے کی نگاہ میں…‘‘ کتنی دیر تک وہ اپنی کم مائیگی پر آنسو بہاتی رہی‘ پھر ذہن میں خدشے ستانے لگے۔
’’یہ گھر عارضی پناہ ہے۔‘‘
’’یہاں سے وہ کہاں جائے گی… کس پر اعتبار کرے اب وہ؟‘‘
’’کیا واپس اپنے گاؤں لوٹ جائے وہ…‘‘
نہیں‘ نہیں… وہاں تو اس کے خلاف نہ جانے کیا کیا جھوٹی کہانیاں گھڑی جاچکی ہوں گی۔ وہ گاؤں واپس لوٹے گی تو اس کے اپنے ہی اسے اپنانے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔‘‘
’’تو یہاں کون ایسا بچا ہے جسے وہ اپنا کہے‘ جس انسان کو مہربان سمجھا‘ محبوب سمجھا‘ وہ تو ساتھ چھوڑ گیا۔ اب کس کے آسرے پر‘ کس جواز پر وہ یہاں قیام کرے۔‘‘
’’تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ تمہارا صاحب تمہارا ساتھ چھوڑ گیا۔ کیا وہ کہہ کر نہیں گیا تھا کہ تم اس کا انتظار کرنا‘ وہ ضرور لوٹ کر آئے گا اور تم کیا کررہی ہو بے وقوف لڑکی۔ اس کے دوست اور اس کی بیوی کی جذباتی باتیں سن کر اپنے محبوب کو دغا باز سمجھ رہی ہو۔ احمق لڑکی‘ تم بات کرو اس سے‘ اپنے صاحب کو بتاؤ کہ تم اس کی منتظر ہو۔ تم رابطہ کرو اس سے۔ یوں بدگمانی نہ پالو من میں…‘‘ سجل کے اندر ایک جنگ چھڑ چکی تھی۔ عقل و دل‘ ضمیر سب ہی اپنی اپنی بولی بول رہے تھے مگر دل نے آخری بات دلیل کے ساتھ کی تھی اور سجل کے من کو لگی تھی۔ وہ تہیہ کرچکی تھی کہ یوں خود کو بے مول جان کر ہار نہیں مانے گی‘ وہ صاحب سے بات ضرور کرے گی۔ اس کی علاوہ کسی اور کی بات پر قطعاً بھروسا نہیں کرے گی۔
’’میں عزیز سے کہوں گی کہ مجھے یاور جی کا نمبر دیں‘ میں خود بات کروں گی اپنے صاحب سے۔‘‘ سجل نے خود سے عہد کرتے ہوئے آنسوؤں کو بے دردی سے رگڑا۔

جب تجھے میری چاہ تھی جاناں
بس وہی وقت تھا کڑا میرا!

خ…ز…خ
’’تو آج طے ہوا کہ ہمارے درمیان دوستی کا خوب صورت رشتہ بن چکا ہے۔‘‘ ارسل نے گاڑی ماریانہ کے گھر کے سامنے روکتے ہوئے پُریقین انداز میں ماریانہ کی جانب دیکھا۔
’’اس طے شدہ رشتے کی یقین دہانی اور کتنی بار کرو گے ارسل۔‘‘ ماریانہ نے شرارت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ ارسل ہنس دیا۔ ماریانہ دلچسپی سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کی ہنسی تھمی تو نگاہ ماریانہ کے مسکراتے چہرے پر ٹھہر سی گئی۔
’’مجھے تمہارا ساتھ اچھا لگتا ہے۔ تمہاری باتیں‘ تمہاری ہنسی… مجھے بے حد اچھی لگتی ہے۔‘‘ ارسل کی نگاہوں نے دھیرے سے کہا۔
’’تم مجھ سے جب جب ملے ہو… بہت انوکھے رنگوں میں رنگے ہوئے ملے ہو ارسل اور تمہارا ہر رنگ مجھے پچھلے رنگ سے زیادہ انوکھا اور خوب صورت لگتا ہے۔‘‘ ماریانہ کی نیلی آنکھوں نے بھی چپ کا قفل دھیرے سے توڑا۔
’’میرا دل خواہش کرتا ہے کہ میں تم جیسا بن جاؤں… اپنا آپ بھلا دوں۔ تم میری زندگی کی واحد لڑکی ہو‘ جس نے میرے دل میں خود کو بدلنے کی اُمنگ بغیر کسی کوشش کے جگا دی۔‘‘ وہ اس سے اپنا گہرا راز بیان کررہا تھا۔
’’تم سے مل کر مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں خود سے مل رہی ہوں۔ بس میرا اپنا آپ تھوڑا تھوڑا روٹھا روٹھا‘ خفا خفا سا ہے۔‘‘
’’میں جلد آؤں گا… تمہاری گرینی سے ملنے۔‘‘ نظروں کی گفتگو ختم ہوئی تو ارسل نے اس سے وعدہ کیا۔
’’میں اور گرینی تمہارا انتظار کریں گے ارسل۔ مجھے یقین ہے کہ گرینی سے مل کر تمہیں بے حد خوشی حاصل ہوگی۔‘‘ ماریانہ نے اس کے وعدے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
’’خوشی تو مجھے تم سے مل کر بھی ہوئی ہے۔‘‘ ارسل بے اختیار سا کہہ گیا۔ ماریانہ کھلکھلا کر ہنس دی اور ارسل اس کے یوں ہنسنے پر جھینپ سا گیا۔
’’وہ… میرا مطلب تھا کہ…‘‘ وہ برجستگی میں کہی جانے والی بات کی وضاحت کے لیے پَر تولنے لگا۔
’’ایک بات کہوں ارسل…‘‘ ماریانہ نے اسے وضاحت دینے سے روکتے ہوئے دریافت کیا۔
’’کہو…‘‘
’’بُرا تو نہیں مانو گے؟‘‘ ماریانہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
’’اگر برا مان بھی گیا تو منانے کا آپشن تمہارے پاس یقینا ہوگا۔‘‘ ماریانہ اس کی بات پر لاجواب ہوگئی۔
’’جب تم مجھے پہلی مرتبہ ملے تھے‘ تب بے حد اکھڑ‘ کھڑوس اور عجیب سے لگے تھے۔‘‘ ماریانہ نے رُک رُک کر کہا۔ ارسل برا مانے بغیر بغور اس کی بات سنتا رہا۔
’’تمہاری آنکھوں میں‘ میں نے اُس پل خوف دیکھا تھا‘ وحشت دیکھی تھی۔‘‘ ماریانہ نے اس کے چہرے کے تاثرات بغور دیکھتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر کہا۔ ارسل کے مسکراتے چہرے پر اچانک تناؤ پھیلا۔ ماریانہ کی نگاہوں نے وہ تنا ہوا تاثر دیکھ لیا‘ اگلے ہی لمحے وہ بات کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ بدل گئی۔
’’مگر جب تم مجھے دوسری بار ملے تو تمہاری آنکھوں میں‘ میں نے تھوڑی سی اپنائیت‘ تھوڑی سی فکر‘ تھوڑی سی جھنجھلاہٹ دیکھی۔‘‘ ارسل کے چہرے سے تناؤ یک دم کم ہوا۔ اب اس کی آنکھوں میں دلچسپی کا عنصر نمایاں تھا۔ ماریانہ اس کی آنکھوں میں چھپی دلچسپی بھانپ گئی تھی۔
’’اور جب مما کے گھر تیسری بار ملے تو تمہاری آنکھوں کے رنگ اور تھے…‘‘ ماریانہ کی بات ابھی مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ ارسل بول پڑا۔
’’ہر ملاقات کی بات چھوڑو… اتنا بتاؤ کہ اس وقت تم میری آنکھوں میں کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘ اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا پوچھا اور ماریانہ کو ماننا پڑا کہ سامنے بیٹھا شخص اتنی آسانی سے اسے اپنا کھوج لگانے نہیں دے گا۔
’’اس وقت تمہاری آنکھوں میں‘ میں نیند کا خمار دیکھ رہی ہوں۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی تو وہ بھی مسکرا دیا۔
’’ایک بات کہوں ماریانہ… برا تو نہیں مانو گی؟‘‘ اس بار ارسل نے اُسی کا انداز اپنایا۔
’’برا مانوں گی تو مجھے یقین ہے‘ تم مجھے منانے کا آپشن ضرور استعمال کرو گے۔‘‘ ماریانہ نے بھی اسی کا انداز اپنایا۔
’’جب تمہاری آنکھیں میرے چہرے اور آنکھوں میں احساسات کھوج رہی ہوتی ہیں تو میرے سامنے بھی تمہارا چہرہ کسی کھلی کتاب کی طرح عیاں ہوتا ہے۔‘‘ وہ ذہانت کا دل سے قائل ہونے کے بعد اب اپنی بات سے اسے مرعوب کررہا تھا۔
’’مجھے جاننے کی کوشش کرو ماریانہ… کھوجنے کی کوشش نہ کرو۔ میں تمہیں اشارہ دیتا ہوں‘ تم مجھے جان جاؤ گی تو کھوج بھی لوگی مگر کھوجنے کی کوشش میں کبھی بھی جان نہ پاؤ گی۔‘‘ اس نے مسکراتا ہوا کہا اور ماریانہ دنگ سی اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’میں جلد گرینی سے ملنے آؤں گا… مجھے یقین ہے تمہاری گرینی کو مجھ سے مل کر اچھا لگے گا۔‘‘ وہ جانتا تھا کہ ماریانہ اس کی بات کا کوئی جواب نہ دے پائے گی‘ تب ہی وہ اپنے دوبارہ آنے کی نوید سناکر موضوع بدل گیا۔
’’یقینا…‘‘ ماریانہ مسکراتے ہوئے اتنا کہہ کر اس کی گاڑی سے نیچے اُتر گئی۔ ارسل نے اسے گھر کے اندر داخل ہوتا دیکھ کر مطمئن سے انداز میں گاڑی آگے بڑھادی۔
ماریانہ اس کی باتوں کو سوچتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئی۔ سامنے لاؤنج میں گرینی اس کے انتظار میں آنکھیں موندے بیٹھی تھیں۔ ماریانہ انہیں یوں اپنا منتظر دیکھ کر شرمندگی سے دوچار ہوئی تھی۔
خ…ز…خ
’’ارسل بابا… آپ کے کپڑے میں نے استری کردیے‘ اب جلدی سے آپ غسل کرلیں۔ شاہینہ باجی کہہ کر گئی تھیں کہ وہ جب مارکیٹ سے لوٹیں تو آپ مکمل طور پر تیار ہوں۔‘‘ رضیہ استری شدہ کپڑے ہاتھ میں تھامے کمرے میں داخل ہوتے ہی ارسل سے مخاطب ہوکر ہدایت دینے لگیں مگر ارسل ان کی بات کو یکسر نظر انداز کرتا ہوا‘ اپنی کتابوں کی سیٹنگ میں مصروف رہا۔ تین سالہ حماد‘ جو وہیں بیٹھا اپنے کھلونوں سے کھیلنے میں مصروف تھا‘ اس نے گردن موڑ کر پہلے بک ریک میں کتابوں کو ترتیب دیتے‘ خود سے تقریباً تین سال بڑے بھائی کو دیکھا اور پھر رضیہ کی جانب رُخ پھیر کر دیکھنے لگا۔ ارسل کی بے نیازی رضیہ بھی محسوس کرچکی تھی۔ وہ اس کے کپڑوں کو ہینگر میں لٹکا کر مسکراتے ہوئے اس کی جانب بڑھیں۔
’’ارسل بابا…!‘‘ وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو نرمی سے تھام کر بستر پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔ ارسل نے جواب میں انہیں خفا خفا سی نظروں سے دیکھا۔
’’اپنی اماں بی سے ناراض ہے میرا بیٹا؟‘‘ وہ نہایت پیار سے اس سے دریافت کررہی تھیں۔
’’اماں بی سے ناراض کیوں ہوں گا میں۔‘‘ ارسل نے منہ پھلا کر جواب دیا‘ اپنا کھیل بھلائے حماد ان دونوں کی بات بغور سن رہا تھا۔ اس کی نگاہیں ان دونوں کے چہروں پر مرکوز تھیں۔
’’پھر کس سے ناراض ہو؟‘‘ رضیہ بی نے اس کے نرم‘ ریشمی بالو ںکو ماتھے سے ہٹاتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔
’’مما جانی سے… انہوں نے رات میں مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر جائیں گی بازار‘ مگر وہ خود اکیلی چلی گئیں۔ انہیں پتا بھی ہے کہ مجھے ان کے ساتھ جانا اچھا لگتا ہے‘ پھر بھی وہ مجھے چھوڑ گئیں۔‘‘ وہ روٹھے ہوئے لہجے میں اپنی ماں کی وعدہ خلافی پر احتجاج بلند کررہا تھا۔
وہ ایسا ہی تھا‘ اپنی ماں کا سب سے بڑا پرستار‘ اس کی نظر میں اس دُنیا کی سب سے عظیم ہستی اس کی ماں کے علاوہ کوئی اور تھی ہی نہیں۔ وہ جہاں جاتیں‘ ارسل ان کے ہمراہ ہوتا۔ وہ کوئی کام کرتیں‘ ارسل ہاتھ بٹانے کو ساتھ ہوتا۔ غرض یہ کہ وہ اپنی ماں کا سایہ تھا اور رضیہ بی ان چند ماہ میں یہ بات بخوبی جان چکی تھیں کہ ارسل اپنی ماں کے حوالے سے بہت حساس ہے جبکہ حماد من موجی تھا۔ ویسے بھی وہ ابھی چھوٹا تھا مگر چھوٹا ہونے کے باوجود وہ سب کے ساتھ گھل مل جاتا تھا۔ ارسل نے اسے ماں سے اتنا قریب نہ ہونے دیا‘ جس کی وجہ سے وہ فیروز حسن کی قربت کا عادی بن گیا تھا مگر جب سے رضیہ بی اس گھر میں آئی تھیں‘ تب سے وہ ان سے بے حد مانوس ہوچکا تھا۔ رضیہ بی کو وہ اپنی متبادل ماں کی حیثیت دینے لگا تھا۔ حتیٰ کہ وہ چند ماہ کی شبنم کو بھی بے حد پیار کرنے لگا تھا۔ اس کا بے حد خیال رکھتا۔ جب شاہینہ اور اماں بی مصروف ہوتیں تو وہ شبنم کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتا۔ کاٹ میں لیٹی گڑیا جیسی معصوم سی شبنم بھی اس کو دیکھ کر خوب ہاتھ پیر چلاتی۔ شاہینہ‘ رضیہ کے آجانے سے بے حد مطمئن تھیں۔ سب سے زیادہ خوشی انہیں حماد کی جانب سے ہوئی تھی۔ ان کے دل میں ایک کسک رہتی تھی کہ ارسل کی وجہ سے وہ حماد کو وہ وقت اور ساتھ نہ دے پاتی تھیں‘ جس کا وہ مستحق تھا مگر اب رضیہ کے آجانے سے‘ حماد کو خوش دیکھ کر وہ بے حد مطمئن تھیں۔
خ…ز…خ
شام میں وہ لوگ چائے نوش کرتے ہوئے ٹی وی پر نشر ہوتیں خبروں سے بھی لطف اندوز ہورہے تھے۔ رضیہ اسی وقت کچن سے گرما گرم سموسوں کی پلیٹ لے کر لاؤنج میں داخل ہوئی تھیں‘ جب ایک نیوز چینل پر مہرو عظیم بڑے دبنگ انداز میں قتل کی ایک لرزہ خیز واردات کا ذکر کررہی تھی۔ وہ ثبوت اور دلائل کے ساتھ اس قتل میں ایک مشہور انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے خاندان کو ملوث قرار دے رہی تھی۔ اسکرین پر کچھ تصاویر بھی دکھائی جارہی تھیں۔ رضیہ بی کی نگاہ جیسے ہی اسکرین پر پڑی‘ اُن کی اوپر کی سانس اوپر رہ گئی۔ لب ہولے سے سرگوشی کے سے انداز میں پھڑپھڑائے۔
’’صاحب…!‘‘ کتنے دنوں بعد وہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔ وہ آج بھی بالکل ویسا ہی تھا۔ خوبرو… اس کی آنکھوں میں آج بھی ویسی ہی چمک تھی‘ جو دلوں کو لوٹ لیتی تھی مگر رضیہ کو ان نگاہوں سے خوف محسوس ہوا۔ اس کا دل بیٹھنے لگا۔
’’اوہو بھئی‘ شبنم میری جان… کیوں رو رو کر خود کو ہلکان کررہی ہو۔‘‘ شاہینہ‘ شبنم کو سنبھالتے ہوئے پچکارنے لگیں۔
’’مما جانی‘ شبنم آپ سے چپ نہیں ہورہی تو اماں بی کو دے دیں۔‘‘ ارسل نے ماں کو شبنم کے لیے ہلکان ہوتا دیکھ کر جھٹ سے مشورہ دیا۔ اسے ویسے بھی شاہینہ اپنے ناز نخرے اُٹھاتی اچھی لگتی تھی۔
’’نہیں مما جانی‘ یہاں لٹادیں… میں کھلاؤں گا شبنم کو۔‘‘ حماد نے جلدی سے اپنے دل کی بات کہی۔
رضیہ اُن سب کی گفتگو سے بے خبر‘ بے نیاز بنی اسکرین پر نظر آتی اس تصویر میں کھو سی گئی تھی۔ پھر اچانک تصویر بدل گئی‘ اب اس صنعت کار کی جگہ مقتولہ کی تصویر دکھائی جارہی تھی۔
’’کتنی خوب صورت عورت تھی۔ کتنا ظالم ہے یہ شخص‘ جس نے اس بے چاری کو قتل کر ڈالا۔‘‘ شاہینہ نے اس عورت کی تصویر دیکھ کر افسردگی سے کہا تھا۔ رضیہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے تھے۔ تصویر ایک بار پھر بدل چکی تھی۔
اب اسکرین پر وہ تصویر نظر آرہی تھی‘ جو مقتولہ کی قتل کے وقت کی تھی۔ سفید بے رنگ چہرہ اور ماتھے کے عین وسط پر گولی کا نشان۔
’’آہ…!‘‘ رضیہ بری طرح کراہ کر رہ گئی۔ شاہینہ نے اس کے یوں آہ بھرنے پر چونک کر دیکھا تھا۔ رضیہ بی کو لڑکھڑاتا دیکھ کر وہ بے اختیار اس کی جانب بڑھی تھیں۔ ان کی گود میں ریں ریں کرتی شبنم اچانک چپ ہوگئی تھی۔ رضیہ صوفہ تھامے نڈھال سی بیٹھتی چلی گئی تھیں۔

(باقی آئندہ ماہ ان شاء اللہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close