Hijaab Apr 19

قدرِنعمت

نسرین اختر نینا

’’فرح… فرح مائی ڈیئر‘ گیٹ ریڈی۔ یو آر گوئنگ ٹو بی لیٹ فرام اسکول۔‘‘ شیریں آفریدی نے سات سالہ فرح کو کچن سے پکارا۔
یس مام آئی ایم ریڈی۔‘‘ فرح نے بھی اونچی آواز میں جواب دیا۔
’’فرح آہستہ بولو‘ بھائی سو رہا ہے۔‘‘ شیریں نے کمرے میں داخل ہوکر کہا اور پیار سے اپنی حسین بیٹی کو دیکھا۔ جس کے پھولے پھولے سے گال قندھاری انار کی طرح سرخ ہورہے تھے۔ اگرچہ وہ سات سال کی تھی مگر قد میں اپنی عمر سے دو تین سال بڑی ہی لگتی تھی۔
’’میری بیٹی ماشاء اللہ تیزی سے بڑی ہورہی ہے۔‘‘ شیریں نے بیٹی کی نظر اتارتے ہوئے سوچا۔
’’میں نے تمہارا ناشتہ تیار کرکے ڈائننگ ٹیبل پر رکھ دیا ہے۔ لنچ باکس بھی تیار کردیا ہے۔ جلدی سے ناشتہ کرو‘ اتنی دیر میں میں کچن سمیٹ لیتی ہوں‘ پھر میں جلدی سے تمہیں اسکول چھوڑ آئوں گی۔ اتنی دیر میں نوشو بھی جاگ جائے گا۔‘‘ شیریں نے بیڈ پر سوتے ہوئے تین سالہ نوشیرواں پر نظر ڈال کر کہا۔ وہ نیند میں کسمکسایا۔ پھر اس کے چہرے پر نرم نرم سی مسکراہٹ کھیلنے لگی اور کروٹ بدل کر دوبارہ گہری نیند میں کھو گیا۔
’’مام بھائی کتنا لکی ہے۔ مزے سے سو رہا ہے۔ ایک میں ہوں بور چائلڈ جسے آپ صبح صبح جگا دیتی ہیں۔ نیند بھی پوری نہیں کرنے دیتیں۔‘‘ فرح نے سیاہ جوتوں کے تسمے باندھتے ہوئے کہا۔
’’او یو شٹ اپ سلی گرل‘ نا تم بور ہو اور ناچائلڈ پورے سات سال کی ہورہی ہو اور صبح صبح تمہیں اس لیے بیدار کرتی ہوں تاکہ تم نماز ادا کرسکو۔ کیونکہ ہمارے مذہب میں حکم ہے کہ سات سال کے بچے کو نماز پڑھنا شروع کردینا چاہیے تاکہ وہ رفتہ رفتہ نماز کا عادی ہوجائے۔ اچھا چلو آئو ناشتہ کرلو۔ لیٹ ہوگئیں تو پتا ہے ناں ٹیچرز کتنا ڈانٹتی ہیں۔ تمہارے ساتھ ساتھ مجھے بھی باتیں سننی پڑتی ہیں۔‘‘ جیسے ہی فرح ناشتے سے فارغ ہوئی۔ شیریں نے اس کا بیگ اٹھایا۔ اپارٹمنٹ کے بیرونی دروازے کو لاک کیا اور تیز تیز قدموں سے لفٹ کی جانب بڑھی۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ اس کا شوہر شہریار صبح جلدی آفس کے لیے نکل جاتا تھا اور فرح کو اسکول چھوڑنے کی ذمہ داری شیریں کی تھی۔ اسکول گھر سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔ جانے آنے میں دس پندرہ منٹ لگتے تھے۔ گھر واپس آکر شیریں چھوٹے بچے کو بیدار کرکے اسے ناشتہ کرواتی۔ پھر وہ اپنے کھلونوں سے کھیلنے لگ جاتا اور شیریں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوجاتی۔ شام کو چار بجے اسے پھر فرح کو اسکول سے لینا ہوتا تھا۔ تب وہ نوشیرواں کو بھی ساتھ لے جاتی تھی۔ کیونکہ واپسی پر گھر سے قریبی اسٹور سے انڈے‘ بریڈ اور دوسری چھوٹی موٹی خریداری کرتی تھی۔ رات کے کھانے لیے‘ کبھی سبزی گوشت لینا ہوتا تو دور کی حلال میٹ کی دوکان پر بھی جانا پڑتا تھا۔ ویسے تو ویک اینڈ پر شہریار پورے ہفتے بھر کی خریداری کرلیتے تھے جبکہ ہفتہ‘ اتوار کو شیریں ایک میڈیکل اسٹور میں کام کرتی تھی۔ اس نے فارمیسی کی ڈگری لے رکھی تھی۔ بچوں اور گھر کے کام کاج کی مصروفیات کی وجہ سے وہ پورے ہفتے میں فل ٹائم جاب نہیں کرسکتی تھی۔ ویک اینڈ کی دو چھٹیوں میں وہ اس لیے کام کرتی تھی کہ ایک تو لندن کی مہنگی رہائش کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ اضافی رقم کما سکے۔ دوسرے وہ اپنی تعلیم سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتی تھی۔ ورنہ تو اسے اندیشہ تھا کہ گھر داری کے بکھیڑوں میں الجھ کر کہیں وہ سب کچھ بھول بھال ہی نہ جائے۔
تین سال پہلے جب وہ چار سالہ فرح کے ہمراہ لندن آئی تھی تو شروع شروع میں وہ یہاں کی مشینی زندگی سے مانوس نہیں ہو پائی تھی۔ اسے اصفہان میں اپنا گھر‘ پھر اسکول اور علاقہ بہت یاد آتا تھا مگر وہاں وہ اکیلی بھی نہیں رہ سکتی تھی‘ شہر یار کے والدین اپنے بڑے بیٹے خسرو کے پاس امریکہ چلے گئے تھے۔ شہر یار بھی لندن میں پانچ سال تک اکیلے رہتے رہتے تنگ آچکا تھا۔ اس کا انجینئرنگ کا کورس بھی مکمل ہوچکا تھا۔ اسے ملازمت بھی مل گئی تھی اور اس نے اپنے لیے الگ اپارٹمنٹ بھی لے لیا تھا اور اب اس کی اتنی آمدنی تھی کہ وہ اپنی فیملی کو یہاں بلا سکے چنانچہ فرح کو لے کر شیریں لندن چلی آئی تھی۔ یہاں آنے کے ایک ماہ بعد ہی اس کے ہاں نوشیرواں پیدا ہوگیا تھا۔ اس لیے وہ فی الحال ملازمت نہیں کرسکتی تھی۔ البتہ جب نوشیرواں دو سال کا ہوگیا اور فرح کو اسکول میں داخلہ مل گیا تو شیریں کو شہر یار نے ہفتہ وار دو چھٹیوں میں پارٹ ٹائم ملازمت کی اجازت دے دی تھی۔ اس مقصد کے لیے اسے پہلے انگلش لینگویج کا کورس کرنا پڑا تھا۔ پھر فارمسٹ کا ایک کورس بھی کیا تھا۔ تب اسے شہر یار نے ایک دوست کے ڈرگ اسٹور میں پارٹ ٹائم جاب دلادی تھی۔
ہفتہ کے دونوں دن شہریار بچوں کے ساتھ گھر پر رہتا تھا۔ شاپنگ بھی بچوں کو ساتھ لے کر خود ہی کرلیتا تھا۔ البتہ اتوار کی شام کو وہ لوگ کبھی آئوٹنگ کے لیے شہر سے باہر چلے جاتے تھے‘ کبھی کسی اچھے مسلم ریستوران میں ڈنر کرلیتے تھے اور یوں ان کی زندگی ایک دائرے میں گھوم رہی تھی۔ یہاں شیریں کو گھر کے سارے کام خود ہی کرنے پڑتے تھے اور وہ بری طرح تھک جاتی تھی مگر پھر بھی خوش تھی کہ البتہ پیارے پیارے بچوں اور بے حد چاہنے والے شوہرکے کام کرتی ہے۔
اس کی یہ کوشش تھی کہ انگلینڈ کے مادر پدر آزاد معاشرے میں اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرے۔ انہیں اپنے مذہب کی تعلیمات سے روشناس کروائے۔ فرح کو اس نے نماز پڑھنے کا عادی بنادیا تھا۔ فرح نے قرآن پاک بھی ختم کرلیا تھا اور شام کو وہ اسے اور نوشیرواں کو اپنے ساتھ اسلامک سینٹر لے جاتی تاکہ وہ درس قرآن کی محفل میں شامل ہوسکیں۔ اسلامک سینٹر میں ایک ایرانی قاری تھے۔ جو فارسی میں اسلام کی تعلیمات کے بارے میں روزانہ شام کو ایک گھنٹے کے لیے درس دیتے تھے۔ فرح کو قرآن پاک بھی قاری عبد الرحمن نے ہی پڑھایا تھا۔ وہ ایک شفیق اور مہربان شخصیت کے مالک تھے جو بے جا سختی کی بجائے بے حد شفیق انداز میں قرآن پاک کی تعلیم دیتے تھے۔ اسلامک سینٹر میں ایرانی خواتین اسکالرز بھی تھیں جو اپنی ہم وطن خواتین کی راہنمائی کرتی تھیں اور اس طرح اپنے ملک اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر آنے والی خواتین کو اس مغرب کے آزاد خیال معاشرے میں اجنبیت یا کسی قسم کی الجھن محسوس نہیں ہوتی تھی۔ شیریں باقاعدہ عبایا پہنتی اور اس کا لباس اور رہن سہن ایسا ہی تھا جیسے اپنے ملک میں تھا۔ ان کی رہائش بھی ایسے ہی علاقے میں تھی۔ جہاں زیادہ تر مختلف ممالک کے مسلمان خاندان آباد تھے۔ شیریں کی بہت سی پاکستانی‘ انڈین اور عرب خواتین سے دوستی ہوگئی تھی۔ اکثر ان کی ملاقات اسلامک سینٹر میں ہوجاتی تھی۔ مہینے میں ایک آدھ بار وہ کسی نا کسی کے گھر میں گیٹ ٹو گیدر بھی کرلیتی تھیں۔ اسی طرح شہریار کے بھی کافی دوست تھے۔ ان کا بھی اپنی فیملینز کے ساتھ آنا جانا لگا رہتا تھا۔ یوں پردیس میں وقت اچھا گزر رہا تھا۔
٭…٭…٭
شیریں نے نیچے اتر کر کمپائونڈ میں کھڑی گاڑی سے کپڑا اتارا اور اسے اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر گاڑی ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ اگرچہ بلڈنگ کے چوکیدار نے بھی اس کی ہیلپ کی مگر شاید گاڑی میں کچھ زیادہ ہی خرابی ہوگئی تھی۔ شیریں نے گاڑی پر کور چڑھایا اور فرح کا ہاتھ پکڑ کر تیز تیز قدموں سے بس اسٹاپ کی جانب چل دی۔ دوسالہ نوشیروان جو ماں اور بہن کے جانے کے بعد میٹھی اور سہانی نیند کے مزے لے رہا تھا۔ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ شیریں بھی اپنے معمول کے وقت سے آج کچھ لیٹ ہوگئی تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر ماں اسے نظر نا آئی۔ جو اسے جگایا کرتی تھی۔ پیار سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیتی تھی اور پھر اسے اپنی بانہوں میں بھر کر باتھ روم لے جاتی مگر نوشیروان حیران تھا کہ آج نا ماں نے اسے جگایا نا اسے پیار کیا اور نا ہی اسے اٹھا کر باتھ روم میں لے گئی۔ پہلے تو وہ کاٹ ہی میں پڑا ماما ماما پکارتا رہا‘ جب جواب نا آیا تو ذرا آنکھیں ملتا ہوا کاٹ سے اچھل کر فرح کے بیڈ پر آگرا۔ پھر بیڈ سے اتر کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ سامنے بالکونی کا دروازہ کھلا تھا اور صبح کی نرم نرم سنہری دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتا ہوا بالکونی میں آگیا اور دلچسپی سے نیلے نیلے آسمان کو دیکھنے لگا۔ آج کافی دنوں بعد بادل غائب تھے اور آسمان صاف نکھرا ہوا نظر آرہا تھا۔ موسم بہار اپنے جوبن پر تھا۔ اپریل کے مہینے میں تو یوں بھی موسم خاصا خوشگوار ہوجاتا ہے۔ نیچے کمپائونڈ میں نیلے پیلے لال گلابی پھول کھلے ہوئے تھے مگر ننھے منے نوشیروان کو ان قدرتی مناظر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ تو بالکونی کے جنگلے پر جھکا سامنے سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا اور اپنی ماں کی راہ تک رہا تھا جو اس کی بہن کو اسکول چھوڑنے گئی تھی اور ابھی تک نہیں لوٹی تھی۔
نوشیرواں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اپنا پنک کلر کا بڑا سا بھالو جسے رات کو بھی ساتھ لے کر سوتا تھا۔ تھام رکھا تھا۔ نوشیرواں محویت کے عالم میں نیچے کمپائونڈ کی دیوار کے قریب بندھے سفید رنگ کے بڑے سے بل ڈاگ کو دیکھ رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے اس کا پیارا بھالو گر گیا اور اسے تھامنے کے لیے وہ نیچے کی جانب جھکا اور زیادہ جھکنے کی وجہ سے وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکا اور نیچے آن گرا۔ اس کے منہ سے ایک ننھی سی چیخ برآمد ہوئی اور پھر وہ بے ہوش ہوگیا۔
شیریں گھر سے کچھ فاصلے پر واقع بس اسٹاپ پر بس سے اتری اور جلدی جلدی اپنی بلڈنگ کی جانب چل دی۔ بلڈنگ سے کچھ فاصلے پر ایک ایمبولینس زور زور سے ہارن بجاتی ہوئی اس کے قریب سے گزری مگر اس نے اس کی طرف دھیان نہیں دیا۔ شیریں کا دھیان مکمل طور پر نوشیرواں کی جانب تھا۔ اس لیے اس نے بلڈنگ کے چوکیدار کی ’’ہیلو‘‘ کا جواب بھی نا دیا اور جلدی سے لفٹ میں سوار ہوکر اپنے فلور کا بٹن پش کیا اور جیسے ہی لفٹ رکی۔ سرعت کے ساتھ اپنے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ چاہے اسے بیدار کرے نا کرے۔ نوشیروان اپنے مخصوص وقت پر ہر روز بیدار ہوجاتا تھا۔ اسے بس یہی فکر تھی کہ کہیں وہ بیدار ہوکر رو نہ رہا ہو۔
اپارٹمنٹ کے سامنے رک کر اس نے جیسے ہی چابی نکال کر بیرونی دروازہ کھولا اور اپنا اوور کوٹ اتار کر اندرونی دروازہ کھولنے کے بعد لیونگ روم میں داخل ہوگئی۔ وہ تیزی سے بچوں کے بیڈ روم میں داخل ہوئی لیکن اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ کیونکہ نوشیرواں اپنی کاٹ میں نہیں تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید وہ باتھ روم میں چلا گیا ہو۔ وہ تیزی سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
’’روشو‘ روشو مائی ڈرالنگ… ماما ہیز کم… ویئر آر یو۔‘‘ وہ عموماً نوشیرواں سے انگلش میں چھوٹے چھوٹے جملے بولتی تھی تاکہ اسکول جوائن کرنے سے پہلے وہ انگلش میں سدھ بدھ حاصل کرے اور اسے اپنے کلاس کے دوسرے بچوں کے ساتھ بات چیت میں مشکل پیش نا آئے۔
جب روشو باتھ روم میں بھی نا ملا تو اس نے بچوں کے بیڈ روم کا کونا کونا چھان مارا۔ یہاں تک کہ فرح کے بیڈ اور نوشیرواں کی کاٹ کے نیچے بھی جھانک کر دیکھ لیا مگر نوشیرواں کا کچھ پتا نہ چلا۔ اچانک اس کی نظر بالکونی کے دروازے پر پڑی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ غلطی سے دروازہ کھلا چھوڑ گئی تھی۔ اچانک اس کے دل میں ایک ہولناک خیال آیا۔
’’نہیں… نہیں۔‘‘ وہ چلاتی ہوئی تیزی سے سیڑھیاں اتری اور بھاگتی ہوئی گارڈ مائیکل کے کیبن کی طرف بڑھی۔ اسے دیکھ کر مائیکل باہر آگیا۔
’’آپ نے میرے بیٹے کو تو نہیں دیکھا؟‘‘ شیریں نے مائیکل سے پوچھا۔
وہ …وہ آپ کا بیٹا ہے؟ اوگاڈ ہیو مرسی‘ اس بچے پر‘ میم آپ کا بیٹا گر گیا تھا اور اس کو ابھی ابھی ایمبولینس میں ہاسپٹل لے کر گئے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر ادھیڑ عمر مائیکل نے اپنے سینے پر کراس کا نشان بنایا اور ترحم آمیز نگاہوں سے شیریں کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا جو دوسرے ہی لمحے ایک دلدوز چیخ کے ساتھ کیبن کے دروازے ہی پر گر کر بے ہوش ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭
شیریں کو ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی اور ایک نرم چہرے والی خوب صورت سی نرس اس پر جھکی اس کے چہرے کو تھپتھپا رہی تھی۔
’’میں… میں کہاں؟‘‘ شیریں نے ہوش میں آکر غائب دماغی سے پوچھا۔
’’ٰڈونٹ وری میم… آپ معمولی سے شاک میں چلی گئی تھیں اور تھینک گاڈ کہ آپ کو جلدی ہوش آگیا۔‘‘ نرس نے ایک دلکش مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر سجا کر کہا۔
’’مگر… مگر… میں… میں شاک میں کیوں گئی‘ کیا ہوا تھا۔ وجہ… او آپ اوف میرے اللہ… میرا بیٹا میرا روشو۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’پلیز میم… آپ کی طبیعت ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں ہے۔ آپ یہیں رہیے۔ آپ کا بچہ ابھی ہوش میں نہیں آیا۔ مگر اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘‘
’’تو پھر… میرا بچہ ابھی تک بے ہوش کیوں ہے؟‘‘ شیریں نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’صرف خوف کی وجہ سے‘ مگر ڈاکٹرز ابھی اس کا تفصیلی معائنہ کررہے ہیں کہ اور تو کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘ نرس نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔
’’میں… کیا… اپنے بچے کو دیکھ سکتی ہوں؟‘‘ شیریں نے بچے کے بچ جانے پر دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے پوچھا۔
’’فی الحال وہ ایمرجنسی میں ہے۔ آپ کے شوہر وہیں ہیں۔ آپ فکر نہ کریں۔ میں اجازت لے لوں… ڈاکٹر سے پھر ہی آپ جاسکتی ہیں۔‘‘
’’پلیز… آپ جلدی سے اجازت لیں نا ڈاکٹر سے۔‘‘ شیریں نے بے چینی سے کہا۔
’’بس کچھ دیر میں ڈاکٹر صاحب آنے والے ہیں۔ ڈونٹ وری۔‘‘ شیریں بیڈ پر لیٹ گئی اور جتنی دعائیں اور قرآن پاک کی آیات یاد تھیں سب ہی زیرلب پڑھنے لگی اور گڑگڑا کر اپنے بچے کے لیے دعا مانگنے لگی۔
’’یارب کریم‘ میں نے آج اپنے بچے کو تنہا چھوڑ کر بہت بڑی کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے۔ اگر میرے بچے کو کچھ ہوا تو میں جی نا پائوں گی اور اگر مرنا سکی تو پھر ساری زندگی زندہ درگور رہوں گی۔ ہمیشہ احساس جرم میں مبتلا رہوں گی کہ اگر نوشو کو میں اس طرح اکیلا چھوڑ کر نا جاتی تو اسے کچھ نہ ہوتا یا خدا… یا اللہ ایک مرتبہ میرا بچہ ٹھیک ہوجائے میں وعدہ کرتی ہوں کہ کبھی بھی اسے ایسے اکیلا نا چھوڑوں گی۔ شریں کا رواں رواں گویا دعا کررہا تھا۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی مالا بہہ رہی تھی۔ اسے کسی کل چین نہیں آرہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسی وقت بھاگ کر اپنے بچے کے پاس پہنچ جائے۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا۔ دن کے ساڑھے تین بج رہے تھے۔
’’میرے خدا… فرح کا اسکول ٹائم بھی ہورہا ہے۔ اسے کون پک کرے گا۔ شہریار تو یہیں ہیں۔‘‘ ممتا کی ماری ماں کو اب اپنی معصوم بچی کی فکر ہورہی تھی۔ اس کے پاس فون بھی نہیں تھا کہ وہ شہریار سے رابطہ کرلیتی اور اسے فرح کو اسکول سے پک کرنے کو کہتی مگر پھر نوشیرواں کے پاس کون رہتا۔ اف پریشانی سی پریشانی تھی۔
’’سسٹر؟‘‘ شیریں نے کچھ فاصلے پر بیٹھی فائل ورک کرتی نرس کو مخاطب کیا۔
’’یس… میم؟‘‘ نوجوان نرس فوراً اپنا کام چھوڑ کر اس کے پاس آگئی۔
’’وہ… وہ… سسڑ‘ میری بیٹی کا اسکول ٹائم ہوگیا ہے۔ اسے پک کونا ہے۔ کیا میں جاسکتی ہوں…؟‘‘ شیریں نے پریشان لہجے میں کہا۔
’’جسٹ اے منٹ…‘‘ نرس نے کہا اور پھر اس نے اپنے سیل پر ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور شیریں کا مسئلہ اس سے ڈسکس کرنے لگی۔
’’میم ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپ چونکہ کافی دیر تک بے ہوش رہنے کے بعد ہوش میں آئی ہیں۔ اس لیے آپ بھی نہیں جاسکتیں۔ البتہ آپ اسکول کا فون نمبر اور ایڈریس دے دیجیے۔ وہ آپ کی بچی کو آپ کے گھر پہنچادیں گے۔‘‘
’’مگر گھر… میں تو کوئی نہیں۔‘‘ انہیں کہیں کہ وہ لینڈ لیڈی مسز بلیک کے پاس بچی کو چھوڑ دیں۔‘‘ شیریں نے نرس کے دیئے گئے پیپر پر اپنا اور بچی کا نام‘ اسکول کا نام پتہ اور اپنے اپارٹمنٹ کا نمبر اور مسٹر بلیک کے اپارٹمنٹ کا نمبر لکھ کر دے دیا۔
اور پھر تقریباً آدھے گھنٹے بعد نرس نے اسے بتایا کہ بچی کو ان کے بتائے گئے ایڈریس پر اسکول انتظامیہ نے پہنچادیا۔ اس پر شیریں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ شام کو ڈاکٹرز نے شیریں کو ڈسچارج کردیا اور وہ بے چین ہوکر ایمرجنسی کے انتہائی نگہداشت وارڈ کی جانب چل پڑی۔ جہاں نوشیرواں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ شہریار کو دیکھ کر شیریں ضبط ناکرسکی اور اس کے کندھے پر سر رکھ کر سسکنے لگی۔
’’ڈونٹ وری… ڈیئر ہمارے بچے کو کچھ نہیں ہوگا وہ ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ شہریار نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’مگر… وہ ہوش میں کیوں نہیں آرہا؟‘‘ شیریں نے شدت گریہ سے متورم اور سرخ آنکھوں سے سامنے بے حس و حرکت بے بس لیٹے اپنے معصوم بچے کو والہانہ انداز میں دیکھ کر کہا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اپنے بچے کو اپنی ممتا بھری آغوش میں لے کر اسے پیار کرنا شروع کردے۔ کئی گھنٹے ہوچکے تھے۔ اسے اپنے جان سے زیادہ عزیز بچے سے بات کیے۔ اسے اپنی گود میں اٹھائے۔
’’تم نے کچھ کھایا ہے کہ نہیں؟‘‘ شہریار نے شیریں کے دکھ اور صدمے سے پیلے ہوتے چہرے کو تشوش بھری نظروں سے دیکھ کر پوچھا۔
’’مجھے کچھ کھانے پینے کی خواہش ہی نہیں ہے۔ بس میرا بچہ ٹھیک ہوجائے… اللہ میری کوتاہی کی مجھے کوئی ایسی سزا نہ دینا کہ میں اسے برداشت نہ کرسکوں۔‘‘ شیریں نے دونوں ہاتھ خدا کے حضور پھیلاتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں کیسے پتہ چلا؟‘‘ شیریں نے شہریار سے پوچھا۔ ’’مجھے مسز بلیک کا فون آیا تھا۔ انہیں مائیکل نے بتایا تھا کہ تمہیں بھی ہاسپٹل بھیجنے کے لیے مسز بلیک ہی نے ایمبولینس منگوائی تھی۔‘‘ شہریار نے جواب دیا۔
’’اچھا…‘‘ شیریں نے کمزور لہجے میں کہا۔
’’میرا خیال ہے شیریں کہ تم گھر چلی جائو… میں ہوں ناں یہاں… فرح اکیلی پریشان ہورہی ہوگی۔ صبح سے پتہ نہیں اس نے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں۔‘‘ شہریار نے شیریں سے کہا۔
’’نہیں… شہریار مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر میں چلی گئی تو خدا نا کرے میرے میرے بچے کو کچھ ہوجائے۔‘‘ شیریں نے پرنم آنکھوں سے کہا۔
’’کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ سے بس دعا کرو۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم انسان تو بس دعا کرسکتے ہیں۔ سو وہ کررہے ہیں اور تم گھر جاکر زیادہ سکون سے عبادت کرکے دعا کرسکو گی۔ فرح بھی ننھی منی سی بچی ہی ہے ناں… اور اس وقت اسے بھی سنبھالنا اور تسلی دلاسہ دیکھنے کے لیے ہم دونوں میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے۔‘‘ شہریار نے شیریں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرم لہجے میں کہا تو بات اس کی سمجھ میں آگئی اور وہ بوجھل قدموں سے نوشیرواں کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھ کر ہاسپٹل سے باہر آگئی اور کیپ لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔
مسز بلیک نے فرح کو کھانا کھلاکر سلادیا تھا۔
’’او… مسز بلیک میں آپ کی اس مہربانی کا کس طرح شکریہ ادا کروں؟‘‘ شیریں نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا۔
’’او… نو… نو نیڈ فار تھینک… یہ میرا فرض تھا۔‘‘ ادھیڑ عمر کی اور نرم چہرے والی مسز بلیک نے پرسکون لہجے میں کہا۔
’’ہائو… از یور سن نائو؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’بس… مسز بلیک دعا کیجیے۔‘‘
’’ہاں… گاڈ اس پر رحم فرمائے گا۔‘‘ مسز بلیک نے اپنے سینے پر کراس کا نشان بناکر کہا۔ تھوڑی دیر بعد فرح جاگ گئی تو شیریں اسے لے کر اپنے اپارٹمنٹ میں آگئی۔
اپارٹمنٹ میں آکر فرح یونیفارم تبدیل کرکے کوئی اسٹوری بک لے کر لیونگ روم کے صوفے پر بیٹھ کر پڑھنے لگی۔ جب کہ شیریں نے وضو کیا‘ مغرب کی نماز ادا کی اور پھر سجدے میں سر رکھ کر رو رو کر دعاکرنے لگی۔
’’یا پروردگار مجھے معاف کردیجیے۔ میں نے جو دکھ اور صدمے کی کیفیت میں اس دن گستاخانہ الفاظ ادا کیے یا اللہ میں نے ناشکرے پن کا مظاہرہ کیا تھا۔ اسی لیے مجھے اس بات کی سزا ملی ہے۔ میں نے آپ کی عطا کردہ نعمت کی قدر نا کی۔ اف… میں… اس قدر سفاک ہوگئی تھی۔ جو میں نے اپنے بچے کے متعلق ایسے الفاظ ادا کرکے اپنے رب کو ناراض کرلیا۔ یا اللہ مجھ سے راضی ہوجا… میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں۔ مجھے میرا بچہ واپس لوٹا دے۔ وہ جیسا بھی ہے میں اسے جان سے زیادہ عزیز رکھوں گی۔ کبھی بھی ناشکرے پن کا مظاہرہ نا کروں گی۔ یا اللہ مجھے میری بدزبانی کی ایسی کڑی سزا نہ دیجئے‘ میرا بچہ سلامت رکھیے۔‘‘ وہ رو رو کر التجائیں کررہی تھی‘ اللہ تعالیٰ سے معافیاں مانگ رہی تھی۔ اس کی ممتا بے حد بے قرار تھی۔ اسے کسی پل چین نہیں آرہا تھا۔ رہ رہ کر اپنے کچھ روز قبل کے کہے گئے الفاظ اس کے ذہن میں گونج رہے تھے اور وہ سر سے پائوں تک کانپ رہی تھی۔
٭…٭…٭
نوشیرواں جب پیدا ہوا تھا تو بے حد صحت مند اور خوب صورت بچہ تھا۔ اس کی دو سال کی عمر تک گروتھ نارمل بچوں سے بھی بڑھ کر تھی۔ سال ڈیڑھ سال کی عمر میں اس نے کئی الفاظ بولنے سیکھ لیے تھے۔ گیارہ ماہ کی عمر میں چلنا شروع کردیا تھا۔ انتہائی تیز و طرار اور پھرتیلا بچہ تھا۔ مگر پھر جب دو ڈھائی سال کا ہوا تو قدر سست رہنے لگا۔ کھانا پینا بھی کم کردیا تھا اور وہ بھی مرضی کی چیزیں کھاتا تھا۔ بے حد چڑچڑا اور غصیلا ہوگیا تھا اور روز بہ روز کمزور ہوتا جارہا تھا۔ اگر اس کی مرضی کے بغیر کوئی چیز کھلانے کی کوشش کی جاتی تو قے کردیتا۔ ڈاکٹرز کو دکھاتے تو وہ یہی کہتے کہ اس عمر میں بچے ایسے ہی ری ایکٹ کرتے ہیں۔ ٹھیک ہوجائے گا مگر جب تین سال کی عمر میں بھی بہ مشکل دو سال کا لگتا‘ جب کہ اس کے مقابلے میں فرح کا قد بھی تیزی سے بڑھ رہا تھا اور اس کی صحت بھی بے حد اچھی تھی اور وہ ہر چیز کھا لیتی تھی۔ ضد بھی نہیں کرتی تھی اور پڑھائی میں بھی بہت بہتر تھی۔ جب کہ شیریں جب نوشیرواں کو ابتدائی حروف وغیرہ پڑھانے کی کوشش کرتی تو وہ اول تو عدم توجہ کا مظاہرہ کرتا یا پھر اگر پڑھتا تو جلدی ہی بھول جاتا۔
ایک روز شیریں اور شہریار اسے ایک چائلڈ اسپیشلسٹ کے پاس لے گئے۔ اس نے کئی ضروری ٹیسٹ کیے اور جب رپورٹس آئیں تو یہ انکشاف ہوا کہ نوشیرواں گروتھ ہارمونز کی قلت کے مرض میں مبتلا ہے۔ جس سے بچے کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ نارمل بچوں کی طرح گروتھ نہیں ہوتی اور وہ ذہنی طور پر بھی پسماندہ رہ جاتے ہیں اور اس بیماری کا علاج اگر ہے بھی تو وہ گروتھ ہارمونز کے انجیکشن ہیں۔ مگر ان کے سائیڈ ایفیکٹس بے حد شدید ہوتے ہیں۔ یہ سب معلوم ہونے پر شیریں بہت روئی تھی اور پھر بے اختیار اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل پڑے ’’یا اللہ اگر ایسا ابنارمل بچہ دینا تھا تو اس سے اچھا تھا کہ تو نادیتا۔‘‘ پتہ نہیں وہ قبولیت کی کون سی گھڑی تھی کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے الفاظ پسند نا آئے بلکہ اس کے شوہر نے بھی اسے سمجھایا تھا۔
’’شیریں پلیز ایسے مت بولو۔ اس میں بچے کا کیا قصور۔ یہ بیماری اگرچہ عام نہیں ہے مگر ڈاکٹر بتا رہا تھا کہ وہ کئی ایسے والدین کو جانتا ہے جن کا کوئی نہ کوئی بچہ اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور والدین نہایت ہمت اور حوصلے سے ایسے بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ اب ہم اس اسٹیج پر اسے گروتھ ہارمون کے انجکشن لگوانا شروع کردیتے ہیں تو وہ الٹا اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ میڈیکل سائنس اس قدر ترقی کررہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس بیماری کا کوئی محفوظ علاج دریافت ہوجائے۔ ہم انگلینڈ جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہتے ہیں۔ ہم ہر لمحہ ڈاکٹرز سے رابطے میں رہیں گے۔ تب تک ہمیں اس بجے کو قدرت کا انمول عطیہ سمجھ کر سنبھالنا اور پالنا ہے کہ نارمل بچوں کو تو ہر کوئی آسانی سے پال لیتا ہے اصل کام تو ایسے بچوں کی پرورش ہے۔ اگر قدرت نے ہمیں یہ بچہ عطا فرما کر ہماری آزمائش میں ڈالا ہے تو ہمیں اس آزمائش میں پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘
مگر شیریں شہریار کی اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئی تھی اور اکثر اللہ سے گلہ شکوہ کرتی رہتی تھی۔ اگر کبھی نوشیرواں کوئی ضد کرتا‘ کھانا کھانے یا دودھ پینے سے انکار کرتا تو شیریں غصہ میں آکر کہتی۔
’’تم تو پیدا ہوکر میرے لیے عذاب بن گئے ہو۔ اولاد ہو ورنہ میرا دل چاہتا ہے کہ تمہیں کہیں پھینک آئوں۔‘‘ شیریں کی اس طرح کی باتیں سن کر شہریار کو بہت غصہ آتا اور وہ اسے ڈانٹ بھی دیتا اور آج اس کا بچہ اس سے چھینا جا رہا تھا۔ موت کا بے رحم پنجہ اسے دبوچ لینا چاہا تھا۔
’’نہیں… میرا بچہ… مجھے چھوڑ کر نہیں جائے… نوشو… نوشو… تمہاری ماں شرمندہ ہے تم سے۔ لوٹ آئو میرے بچے… میری گود خالی مت کرنا۔‘‘ وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی۔ چلا رہی تھی۔ اسی وقت دروازے پر کال بیل ہوئی مگر شیریں نے سجدے سے سر نہیں اٹھایا۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا پتا نہیں شہریار کیا خبر لے کر آیا ہو۔
’’ارے بھئی شیریں کہاں ہو‘ یہ لو… سنبھالو اپنے جمپ مارنے کے شوقین بیٹے کو۔‘‘ شہریار کی خوشی سے بھرپور آواز لیونگ روم سے آئی۔ تو شیریں بے اختیار سجدۂ شکر بجا لائی اور پھر روتے روتے ہنس دی اور تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی اور نوشو کو گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close