Hijaab Apr 19

بےحیثیت

ثمینہ فیاض

بچوں اور شوہر کو ناشتہ دے کر اسکول و آفس کے لیے روانہ کرنے کے بعد وہ اب ان بچوں کے بچے ہوئے پراٹھے چائے کے ساتھ کھا رہی تھی۔ یہ اس کا تقریباً روز کا ہی معمول تھا۔ مومنہ جاگ گئی تو وہ اسے بھی ساتھ بٹھا کر اس کے لیے بھی پراٹھا اور انڈا لے آئی۔ میرب اس کے سوال پر حیران ہوئی جو چیز آج تک اس کا شوہر نہ جان سکا تھا وہ معصوم بچی پوچھ رہی تھی۔
’’ماما… ایک بات بتائیں۔ آپ بھیا اور اپیا کا جھوٹا کیوں کھاتی ہیں؟‘‘ مومنہ نے اپنی توتلی زبان میں پوچھا۔
’’اس لیے میری گڑیا کیونکہ اگر میں یہ نہیں کھائوں گی تو یہ ضائع ہوجائے گا اور پھر ہم سب کو اس رزق کو ضائع کرنے کا گناہ ملے گا۔ رزق برباد کرنا تو اچھی بات نہیں ہوتی ناں۔‘‘ دو سالہ مومنہ نے بڑی معصومیت سے گردن ہلائی۔ جیسے اسے ماما کی ساری بات سمجھ میں آگئی ہو۔
ء…ض…ء
آفس جاتے ہوئے ساحل کی موٹر سائیکل راستے میں خراب ہوگئی تھی۔ وہ مکینک کے پاس کھڑا تھا مگر جیب میں ہاتھ ڈالتے ہی اسے احساس ہوا کہ وہ اپنا والٹ گھر بھول آیا ہے۔ وہ ادھر ادھر نظریں دوڑا رہا تھا کہ اب کیا کرے؟ گھر کیسے جائے؟ بغیر پیسوں کے بائیک کیسے ٹھیک کرائے؟ اسی لمحے اس کی نظر اس چمچاتی کالی گاڑی پر پڑی۔ اسے حیرت اور خوش گواری کا ایک جھٹکا لگا۔ یہ اس کے بچپن کا دوست عبدالحنان تھا، اس کی تو شان ہی اور ہوگئی تھی۔ چمچاتی گاڑی کے ساتھ بہترین لباس، امپورٹڈ جوتے اور پرفیوم میں بسا کوئی خاندانی رئیس لگ رہا تھا۔ ساحل ابھی حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہی تھا کہ عبدالحنان نے اس کے پاس گاڑی لاکر روک دی۔ اس نے سلام کیا اور مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
’’السلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السلام… عبدالحنان یار یہ تم ہی ہو، میں تو پہچانا ہی نہیں۔‘‘ ساحل نے اس کی گاڑی اور حلیہ دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ عبدالحنان نے ساحل کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے خود بھی اس سے سوال پوچھا۔
’’کیا کرنا ہے یار… پھر خراب ہوگئی ہے یہ بائیک، اسے ہی ٹھیک کروا رہا ہوں۔‘‘
’’کتنا ٹائم لگے گا؟‘‘
’’تین سے چار گھنٹے تو لگ ہی جائیں گے۔‘‘
’’اف… چلو پھر تم میرے ساتھ میری گاڑی میں چلو۔ ویسے کہاں جانا ہے تمہیں۔‘‘
’’جانا تو آفس ہی تھا مگر اب گھر جانا ہے۔‘‘
’’گھر چلو۔‘‘ ساحل نے کہا۔ ’’یہاں سے قریب ہی ہے۔‘‘
’’چلو…‘‘ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر ساحل کے گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔
’’عبدالحنان یہ کیا ہے یار…؟ تم تو بالکل ہی بدل گئے ہو۔‘‘ ساحل نے ایک بار پھر جاننا چاہا۔
’’ہاں یار… بس قسمت بہت اچھی ہے میری… میں نے ایک امیر زادی سے جو اکلوتی بھی تھی لو میرج کرلی۔ اب ان کا سب میرا ہی تو ہے۔ سارے بزنس پر میرا راج چلتا ہے۔ بس یار، لائف سیٹ ہوگئی ہے۔‘‘ عبدالحنان نے ڈرائیو کرتے ہوئے بے نیازی سے کہا۔
’’واہ… تیری تو لاٹری ہی کھل گئی۔ ایک ہماری قسمت ہے یار، بیوی بھی ہم جیسی ہی غریب ہے، کوئی آسرا نہیں۔ تمہیں تو پتا ہی ہے اس پھول سی جاب میں گزارا کرنا مشکل ہے، پھر تین بچوں کا ساتھ، ہر چیز خود یاد رکھو۔ اب دیکھو والٹ لانا ہی بھول گیا۔ یہ تو تم مل گئے ورنہ ابھی خوب خواری ہوجاتی۔‘‘ ساحل نے اس پر رشک کرتے ہوئے کہا۔
’’ہاہاہا… بس یار ہر ایک کا نصیب میری طرح تو نہیں ہوتا اور سنائو کیا جاب کرتے ہو؟‘‘
’’کہاں کرنی ہے یار… وہیں لگا ہوا ہوں پرائیوٹ فرم میں جہاں پہلے تھا۔ لگی بندھی تنخواہ‘ اوپر سے مہنگائی… کچھ بچتا ہی نہیں‘ ہماری بیگم تمہاری بیگم کی طرح امیر یا تعلیم یافتہ ہوتی تو بچانے کا کوئی ہنر آتا۔ سب آدھے مہینے میں ہی ختم کردیتی ہے۔ سوچ رہا ہوں اگلے مہینے سے گھر کا خرچا اس کے ہاتھ سے لے لوں۔ خود ہی یہ ذمہ داری بھی اٹھالوں۔‘‘ ساحل نے دکھ سے کہا۔
’’یہ تو ہے۔ عورتیں ہوتی بہت فضول خرچ ہیں۔ آئے دن تو ان کی پارٹیز چلتی رہتی ہیں، پھر نوکروں کے نخرے اٹھاتی ہیں کہ بھاگ جائیں گے۔ کبھی کسی سہیلی کی سالگرہ ہے تو کبھی اسٹیس کی فکر، کبھی کچھ تو کبھی کچھ… حالانکہ یہ عورتیں اپنی عمریں چھپاتی ہیں مگر سالگرہ منانے کا شوق سب کو ہوتا ہے۔ کوئی وش نہ کرے تو جان کو آجاتی ہیں۔‘‘ جب کہ ساحل دل میں سوچ رہا تھا کہ میرب تو گھر کے سارے کام خود کرتی ہے۔ کوئی نوکر نہیں اور کسی پارٹی وارٹی میں بھی نہیں جاتی، نہ ہی اس کی کوئی سہیلی ہے۔
ء…ض…ء
ساحل اپنی ایکسٹرا چابی سے دروازہ کھولتا ہوا گھر کے اندر آیا، عبدالمنان کو بھی اپنے ساتھ اندر لے آیا اور ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا۔ گھر میں رکھا سامان پرانا ضرور تھا مگر اس کی چمک اب بھی برقرار تھی۔ فرش سے لے کر فرنیچر تک ہر چیز چمک رہی تھی۔ جو میرب کے سلیقے کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ بیٹھک کی طرف بڑھتے ہوئے ساحل کے قدم اچانک رک گئے۔ ریحانہ، میرب سے کچھ کہہ رہی تھی۔
’’چلو ناں یار… گرمی بڑھ گئی ہے۔ لان کے نئے پرنٹس بھی مارکیٹ میں آگئے ہیں۔ شاپنگ کرنے چلتے ہیں۔‘‘
’’ارے‘ میں جاکر کیا کروں گی۔ الماری بھری پڑی ہے، کپڑوں سے، مرنے کے بعد حساب بھی دینا ہے اتنے کپڑوں کا۔‘‘
’’بس رہنے دو تم‘ مجھے سب پتا ہے کتنے کپڑے ہیں تمہارے پاس، گنتی کے دو چار جوڑے ہیں جن کے رنگ تک اڑ چکے ہیں اور یہ جو تم جوڑا پہنے ہوئے ہو یہ بھی کئی جگہ سے رفو کرکے پہنا ہوا ہے۔ ایسے میں کیا خاک الماری بھری ہوگی۔ تمہیں تو اوڑھنے پہننے کا کوئی شوق ہی نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں ایسی بات تو نہیں ہے‘ کپڑوں کا کس عورت کو شوق نہیں ہوتا۔ ہر عورت کو بننا سنورنا اچھا لگتا ہے مگر بس ابھی نہیں جارہی، کسی دن ان کے ساتھ جا کر لے آئوں گی ان کی چوائس بہت اچھی ہے۔‘‘
’’ہنہ… پیسے ہوں گے تو لینے جائوں گی ناں۔‘‘ ریحانہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ ریحانہ کی بات سن کر میرب کو غصہ آگیا۔
’’ریحانہ مانا کہ تم ہماری پڑوسن ہو، میری سب سے اچھی دوست بھی ہو لیکن ہمارے پرسنل معاملات میں بولنے کا تمہیں کوئی حق نہیں‘ تمہیں جانا ہے تو جائو میں نہیں جائوں گی اور ہاں میرے شوہر کی آمدنی کم ضرور ہے مگر جو بھی کماتے ہیں حق حلال کی کماتے ہیں۔ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ سکون کی نیند سوتے ہیں۔ وہ میرا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ آمدنی کم ہے تو کیا ہوا۔ ہمارے نصیب میں ہوگا تو پیسہ بھی مل جائے گا۔ ہمارے دن بھی پھر جائیں گے۔‘‘
’’خیال رکھتے ہیں‘ ہر دوسرے دن تو ساحل بھائی کے چیخنے کی آوازیں آرہی ہوتی ہیں۔ تمہیں کم عقل اور جاہل کہتے ہیں کہ آدھے مہینے میں ہی سارا پیسہ خرچ کردیتی ہو۔ کون سمجھائے انہیں کہ آمدنی آٹھ آنے اور خرچ روپیہ ہو تو ایسا ہی ہوتا اور اس میں گزارا کرنا کتنا مشکل ہے۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی تو کب کی بھاگ گئی ہوتی۔‘‘
’’وہ تو ظاہر ہے انسان جب سارا دن کا تھکا ہوا گھر آئے گا اور پھر سامنے مسائل اژدھے کی طرح منہ کھولے کھڑے ہوں گے تو غصہ تو آئے گا ہی۔ اس کے باوجود وہ ہمارا بہت خیال کرتے ہیں۔‘‘ میرب نے ایک بار پھر صفائی دینے کی کوشش کی۔
’’میرب…!‘‘ ساحل کی آواز دونوں کو چونکا گئی۔
’’اچھا میں چلتی ہوں۔‘‘ ریحانہ نے تو جانے میں ہی عافیت جانی اور میرب کے پیاز کاٹتے ہاتھ رک گئے۔
’’جی آئی۔‘‘
’’کھانے میں کیا پکا رہی ہو؟‘‘ ساحل نے ریحانہ کو جاتے دیکھ کر پوچھا۔
’’دال چاول۔‘‘ میرب ڈر رہی تھی کہ دال چاول کا نام سن کر بھڑک ہی نہ جائیں۔
’’کبھی کچھ اچھا بھی پکا لیا کرو یار… خیر گوشت کا کوئی سالن یا قورمہ وغیرہ پکالو، میرا دوست آیا ہوا ہے۔‘‘
’’لیکن ساحل‘ گوشت تو ہے ہی نہیں۔ وہ تو جو آپ لائے تھے ہفتہ بھر پہلے ابھی چار دن پہلے پکالیا تھا، اب تو صرف آلو رکھے ہیں۔ آلو کے پراٹھے پکالوں۔ ساتھ کچھ اچار چٹنی اور رائتہ بھی بنا دیتی ہوں۔‘‘
’’تم تو بس یہ ہی کرسکتی ہو… اب کٹوا دینا میری ناک۔‘‘
’’آپ فکر نہ کریں۔ میں دیکھتی ہوں اور کیا کرسکتی ہوں۔‘‘ میرب نے ساحل کو تسلی دی۔
وہ دونوں اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے۔ عبدالحنان ساحل کو اپنے ورلڈ ٹور کے قصے سنا رہا تھا۔ تین گھنٹے کیسے گزرے ساحل کو معلوم ہی نہ ہوسکا۔ اس کے دماغ پر عبدالحنان کی دولت کی چمک کا نشہ سوار ہورہا تھا جب کہ اپنی زندگی کسی مصیبت سے کم نہیں لگ رہی تھی۔
میرب نے دستر خوان کو دال چاول کے ساتھ آلو کے پراٹھے، چٹنی اچار اور کسٹرد سے سجا دیا تھا۔ ساحل کو کوفت ہونے لگی مگر اب کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔ عبدالحنان کھانے کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’یار آج بہت دن بعد ایسا کھانا کھایا ہے۔ بھابی کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے مگر تم کہاں یہ سادہ کھانا کھاتے ہوگے۔ اب تو بس مرغن کھانے یا کونٹینینٹل، چائنیز چلتے ہوں گے اور وہی اچھے بھی لگتے ہوں گے۔‘‘
’’یار… اچھے تو لگتے ہیں مگر جو مزا جو لطف اس سادہ سے کھانے میں ہے، وہ دنیا کے کسی کھانے میں نہیں، کسی مرغن غذا میں نہیں۔ زندگی بھی ان کھانوں کی طرح ہی ہے۔ مرغن کھانے دور سے تو بہت اچھے لگتے ہیں مگر روز روز کھانے سے بہت سی بیماریاں جڑ پکڑ لیتی ہیں۔ زندگی اگر سادہ ہو تو آسان ہوجاتی ہے۔ تم خوش نصیب ہو کہ تمہاری زندگی سادہ ہے جس کی وجہ سے تم بہت سی پریشانیوں سے محفوظ ہو۔‘‘
’’کیا یار تم بھی۔‘‘ ساحل ابھی کچھ کہنے ہی جا رہا تھا کہ اس کے سیل کی بیل بج اٹھی۔ موٹر مکینیک نے بائیک بنادی تھی۔
’’اچھا آرہا ہوں۔‘‘ اور وہ دونوں ایک بار پھر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔
’’مجھے ایک قابل اعتماد شخص کی ضرورت ہے۔ سوچ رہا ہوں اگر تم مجھے جوائن کرلو پھر تمہاری تنخواہ سے تو زیادہ ہی دوں گا اور ہاں نئی بائیک بھی دوں گا۔ اس کھٹارا سے تو جان چھوٹے گی تمہاری۔‘‘
’’ارے سچ میں…! یہ تو بہت اچھا ہوجائے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر تم میرے ساتھ میرے آفس چلو۔ میں باقی اسٹاف سے بھی ملوا دیتا ہوں۔ کچھ فارمیلیٹیز ہیں، وہ بھی پوری کرلیتے ہیں۔ تم کل ہی مجھے جوائن کرلو۔‘‘
’’اوکے باس۔‘‘ ساحل کی آواز میں خوشی جھلک رہی تھی۔
اگلے دن ہی ساحل نے عبدالحنان کا آفس جوائن کرلیا۔ اب وہ بہت خوش تھا۔ ابھی اسے آفس جوائن کیے دو دن ہی ہوئے تھے کہ مسز عبدالحنان آفس آگئیں اور پھر عبدالحنان کے کیبن سے لڑائی کی ایسی آوازیں آئیں کہ سارا آفس ہی ان کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔ چپڑاسی نے آکر ساحل کو عبدالحنان کے آفس میں بلایا۔ ساحل دستک دے کر اندر داخل ہوا۔
’’جی سر بلایا آپ نے۔‘‘ مسز عبدالحنان نے تیز اور تلخ لہجے میں سوال کیا۔
’’کیا کولیفیکیشن ہے آپ کی؟‘‘
’’جی گریجویٹ کیا ہے۔‘‘ ساحل نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’فلاحی ادارہ سمجھ رکھا ہے اسے، کہیں نوکری نہیں ملی تو یہاں چلے آئے۔ اسے تو ذرا عقل نہیں ہے۔ ہر ایرے غیرے کو رکھ لیتا ہے۔‘‘ اب اس کا رخ عبدالحنان کی جانب ہوا۔ ’’آج ہی فارغ کرو اسے اور کسی ڈھنگ کے بندے کو رکھو۔‘‘
’’جی…!‘‘ عبدالحنان سر جھکائے نظریں نیچے کیے کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہ اپنا پرس اٹھا کر دندناتی ہوئی آفس سے چلی گئی۔
ساحل‘ عبدالحنان کی حالت دیکھ رہا تھا۔ وہ کسی بھیگی بلی سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی بے عزتی کا شدید احساس تو تھا مگر وہ عبدالحنان سے سننا چاہتا تھا جو ساکت کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ عبدالحنان ساحل کے پاس آیا۔
’’سوری یار… تم استعفیٰ دے دو۔ میں بھی مجبور ہوں۔ اس کے باپ کا بزنس ہے۔ وہ ٹھیک ہی کہتی ہے، مجھے سوچ سمجھ کر کسی کو اپائنٹ کرنا چاہیے۔‘‘ ساحل خاموشی سے اپنی جگہ پر آکر اپنا سامان اٹھانے لگا۔ وہ دل میں سوچ رہا تھا کہ اس کا دوست تو بہت باتیں کرتا تھا کہ وہ سارے بزنس پر راج کرتا ہے۔ آج اس کی یہ حیثیت دیکھ کر اس کی حقیقت کھل گئی۔ وہ اداس دل کے ساتھ اپنی اسی کھٹارا موٹر سائیکل پر گھر کی جانب بڑھ گیا۔ گھر آیا تو میرب اس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر سمجھ گئی کہ کوئی پریشانی ہے۔ اس نے کمرے کا پنکھا آن کیا اور ساحل کے لیے ٹھنڈا پانی لے آئی۔ نہانے کا پانی گرم کیا اور ساحل کے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے اور کچن میں چٍلی گئی۔ اس نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ آپ اتنی جلدی کیوں آگئے۔ ساحل نہا کر سکون سے بیٹھا تب میرب نے پوچھا۔
’’کیا بات ہے… آپ پریشان لگ رہے ہیں؟‘‘
’’ہاں پریشان تو ہوں۔ نوکری چلی گئی۔‘‘ اداس لہجے میں کہتے ہوئے وہ بہت مایوس لگ رہا تھا۔
’’کیسے؟‘‘ میرب نے اپنی حیرت اور اداسی پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
میرب ہمیشہ ہی اپنے جذبات اور زبان کو قابوں میں رکھنے کی عادتی تھی۔ اسی لیے ساحل کم پریشان ہوتا تھا مگر اب بات ہی پریشانی کی تھی۔ ساحل نے بتانا شروع کیا کہ عبدالحنان کے چکر میں لگی بندھی نوکری بھی ہاتھ سے چلی گئی اور اب اس کی بیوی نے جو سارے بزنس کی مالک ہے مجھے نوکری سے بڑی بے عزتی کرتے ہوئے نکال دیا۔
’’مجھے تو عبدالحنان پر غصہ ہے۔ ایک لفظ نہیں بولا وہ… میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘‘ وہ ایک بار پھر اداسی کی دلدل میں دھنسنے لگا۔
’’آج میں خود کو کتنا بے بس اور کمزور محسوس کررہا ہوں۔ تمہیں کیا بتائوں۔ اب اگر نوکری نہیں رہی تو کیا کریں گے؟ کہاں سے یہ اخراجات برداشت کریں گے؟ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ کس کے آگے ہاتھ پھیلائیں گے؟‘‘ میرب نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا…
’’کوئی بات نہیں، ایک در بند ہوتا ہے تو وہ مالک و رزاق سو در کھول دیتا ہے۔ آپ کو بھی کوئی نہ کوئی اچھی نوکری مل ہی جائے گی۔ بس آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘ میرب کی باتوں سے اسے حوصلہ تو ملا مگر دل پر بوجھ اب بھی تھا۔
’’ہاں تم ٹھیک کہتی ہو نوکری تو مل ہی جائے گی لیکن اس مہینے تو میں نے تمہیں گھر خرچ کے پیسے بھی نہیں دیے، اب تم کیسے پورا مہینہ گزارہ کروں گی؟‘‘
’’آپ پریشان نہ ہوں اس کا انتظام ہوجائے گا۔‘‘ میرب پر سکون تھی۔
’’کیسے اور کہاں سے؟‘‘ ساحل اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
’’میں نے پڑوس میں ایک کمیٹی ڈالی تھی۔ دو مہینے پہلے کھلی تھی۔ سوچا تھا آپ کو سرپرائز دوں گی۔ پورے پچاس ہزار کی ہے۔ سوچا تھا آپ کے لیے ایک نئی موٹر سائیکل لے لیں گے لیکن خیر ہم دو مہینے تو آرام سے اس میں گزارہ کرلیں گے۔ ہمیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اور پھر اس عرصے میں آپ کو کوئی نہ کوئی نوکری تو مل ہی جائے گی۔‘‘ ساحل کو اب احساس ہوا وہ کتنا امیر ہے۔ جب کہ عبدالحنان اتنی دولت ہوتے ہوئے بھی کتنا غریب کیونکہ اس کی اپنی بیوی کی نظر میں کوئی حیثیت ہی نہیں کسی کے سامنے بھی بے عزت کردیتی ہے۔ اس سے کتنا متاثر تھا مگر وہ تو ایک بے حیثیت انسان ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ وہ مطمئن ہوکر نوکری کی تلاش میں اپنے دوستوں کو فون ملانے میں مصروف ہوگیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close